قفا نبک ‏من ذکرى حبیب ومنزل بسقط اللواء بین الدخول فحومل ‏ فتوضح فالمقراۃ لم یعف رسمہا لما نسجتہا من جنوب وشمأل ‏ ترى بعر الآرام ‏فی عرصاتها وقیعانها كانہ حب فلفل ‏ كأني غداة البین یوم تحملوا لدى سمراۃ الحی ناقف حنظل دیکھیے بھئی کتاب پر۔ امرؤ القیس کا معلقہ ہم نے شروع کیا تھا۔ امرؤ القیس عربی زبان کا سب سے بڑا شاعر۔ تو یہ پہلا اور دوسرا شعر، کچھ تشریح ہو گئی تھی، باقی تفصیل میں بیان کر رہا تھا، لیکن درمیان میں کافی دن گزر گئے ‏اس لیے دوبارہ ذرا جلدی جلدی سارا میں مختصرًا ذکر کر دیتا ہوں۔ قفانَبکی من ذکرٰی حبیبٍ ومنزلی بسقطِ اللّوى بین الدخول فحوملی۔ قفا، میں نے بتلایا کہ یہ وقَف یَقِفُ سے امر ہے، قِفْ، قِفا، ‏تثنیہ کا صیغہ، قِفا۔ اور یہ نبکی جو ہے، یہ جوابِ امر ہے۔ قِفا، اے میرے دو ساتھیو! ٹھہر جاؤ، نبکی، تاکہ ہم رو لیں۔ اور ‏میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جوابِ امر جو ہے وہ بھی مجزوم ہوتا ہے۔ مجزوم ہوتا ہے۔ اصل میں تھا، نبکی، تاکہ ہم رو ‏لیں۔ لیکن یہ مجزوم کیوں ہوتا ہے؟ اس کی وجہ کیا ہے؟ میں نے بتلایا تھا کہ یہ جوابِ امر اس لیے مجزوم ہوتا ہے کہ ‏وہاں اِنْ محذوف ہے، اِنْ مع شرط کے، اور اِنْ کیا کرتا ہے؟ فعلِ مضارع کو جزم دیتا ہے، چاہے شرط میں ہو اور چاہے ‏جزا میں ہو۔ تو قفا‎ ‎نَبک، اے میرے دو ساتھیو! ٹھہر جاؤ۔ تو شرط محذوف کیا نکالیں گے؟ ما قبل کے فعل کو دیکھ کر آپ خود بنا لیں۔ ‏اِنْ تقفا نبکی، اگر تم دونوں ٹھہر جاؤ گے تو ہم رو لیں گے۔ قفانَبکی من ذکرٰی حبیبٍ ومنزلی، اے میرے دو ساتھیو! ٹھہر ‏جاؤ تاکہ ہم رو لیں، من ذکرٰی، میں نے بتلایا تھا یہ مِنْ کئی معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے، یہاں پر یہ علت اور وجہ ‏بتلانے کے لیے ہے، اِیْ لِأجْلِ ذکرٰی حبیبٍ ومنزلی، اے میرے دو ساتھیو! ٹھہر جاؤ تاکہ ہم رو لیں، محبوب کو اور اس ‏کے گھر کو یاد کرنے کی وجہ سے، یعنی اس کو یاد کر کے، بسقطِ اللّوى، اور وہ کہاں پر ہے؟ وہ گھر بسقطِ اللّوى، یہ با ‏بمعنی فی کے ہے، اِیْ فی سقطِ اللّوى، اور سقط یہ ہر چیز کے کنارے کو کہتے ہیں، کنارے کو۔ اسی طرح یہ یہ ریت کے ‏ٹیلے کے کنارے کو بھی کہتے ہیں، سقط بھئی۔ اور یہاں صرف یہ کنارے کے معنی میں ہے، کیونکہ ریت کے ٹیلے کا ‏خود آگے ذکر آ رہا ہے۔ اور لِوا کہتے ہیں ریت کا بل کھاتا ہوا ٹیلا بھئی۔ ریت کا بل کھاتا ہوا، ہاں، صحرا میں ہوا چلتی ‏رہتی ہے، وہ ریت کو اڑاتی ہے اور ریت جگہ جگہ پھر اکٹھی ہونے لگتی ہے، تو وہ سانپ کی طرح بل کھاتے ہوئے ‏ٹیلے بن جاتے ہیں بھئی، جن کے اوپر کا حصہ بل دار ہوتا ہے، جیسے سانپ سانپ کی طرح بل کھاتا ہوا، تو وہ ہے لِوا ‏بھئی۔ بین الدخول فحوملی، دخول اور حومل یہ جگہوں کے نام ہیں۔ اسی طرح توضِح اور مقراۃ اگلے شعر میں آ رہا ہے، یہ بھی ‏جگہوں کے نام ہیں۔ تو شاعر کہتا ہے، اے میرے دو ساتھیو! ٹھہر جاؤ تاکہ ہم رو لیں، محبوب کو اور اس کے گھر کو یاد کرکے، وہ گھر جو ‏ریت کے بل کھاتے ہوئے ٹیلے کے کنارے پر تھا، اور یہ بل کھاتا ہوا ریت کا ٹیلا کہاں پر تھا؟ دخول، حومل، توضِح اور ‏مقراۃ جگہوں کے درمیان میں تھا، درمیان میں تھا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ قِفا پر علماء نے بحث کی ہے، تو یہ تثنیہ کا صیغہ ہے۔ بعض علماء لکھتے ہیں کہ یہ امرؤ ‏القیس اپنے دو ساتھیوں سے خطاب کر رہا ہے، اور جب ساتھی دو ہیں، تو صیغہ بھی تثنیہ والا ہی ہونا چاہیے، لہٰذا یہ ‏تثنیہ کا جو صیغہ استعمال کیا، اس لیے کیونکہ مخاطب اس کے دو ساتھی ہیں، تو قِفا، اے میرے دو ساتھیو! ٹھہر جاؤ۔ ‏لیکن زیادہ تر علماء اس بات کی طرف گئے کہ ساتھی دو نہیں ساتھی ایک ہی ہے، اور اسی ایک ساتھی سے امرؤ القیس ‏خطاب کر رہا ہے، اور آگے دوسرے تیسرے شعر میں تَرَا بھی مفرد کا صیغہ آ رہا ہے بھئی، معلوم ہوا کتنے سے خطاب ‏کر رہا ہے؟ ایک ہی ساتھی سے خطاب کر رہا ہے، تو اس پر پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ساتھی ایک ہے، تو تثنیہ کا ‏صیغہ کیسے استعمال کیا عربی کے سب سے بڑے شاعر نے؟ تو جواب میں نے تین جوابات بتلائے تھے، بعضوں نے ‏جواب یہ دیا کہ عربی کے اندر یہ تثنیہ کا صیغہ مفرد اور جمع کے لیے بھی استعمال ہو جاتا ہے، یعنی مخاطب چاہے ‏مفرد ہو، چاہے تثنیہ ہو، چاہے جمع ہو، سب کے لیے تثنیہ والا صیغہ استعمال کر لیا جاتا ہے، اور اس کی مثال میں نے ‏قرآن سے بھی ذکر کی تھی، جیسے اَلْقِیَا فی جہنم، جو یہ خطاب ہے کس کو؟ مالک کو، جو داروغہ ہے، جو نگراں ہے، ‏ذمہ دار ہے جہنم کا، اب وہ ایک ہے، لیکن صیغہ کون سا ذکر کیا گیا؟ اَلْقِیَا فی جہنم، تثنیہ والا، کیونکہ قرآن عربی زبان ‏میں ہے، اور اس میں عربوں کے انداز میں کلام ہوتا ہے، اور عربی زبان میں تثنیہ کا صیغہ بھی مفرد کے لیے استعمال ‏کر لیتے ہیں اور جمع کے لیے بھی، تو یہ قِفا، اس وجہ سے یہاں تثنیہ کا صیغہ استعمال کیا، ایک جواب۔ دوسرا جواب یہ ‏کہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ قِفا کا جو الف ہے، یہ تکرارِ فعل پر دلالت کر رہا ہے، یعنی مخاطب تو ایک ہی ہے، ‏مخاطب نہیں دو، لیکن یہ فعل دو مرتبہ ہے، یعنی قِف، قِف، دو مرتبہ، اور پھر ایک قِف کو حذف کردیا، اور تکرارِ فعل پر ‏دلالت کے لیے آخر میں الف بڑھا دیا، تو یہ الف بتلا رہا ہے کہ یہ فعل دو دفعہ ہے، قِفْ، قِفْ، ٹھہر جاؤ، ٹھہر جاؤ۔ اے ‏میرے ایک ساتھی، اے میرے ساتھی، ٹھہر جا، اے میرے ساتھی، ٹھہر جا۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر فعل کا تکرار ‏کیوں کیا، دو دفعہ کیوں لائے، اس کے لانے کا کیا مقصد؟ میں نے بتلایا تھا کہ تکرارِ فعل جو ہے وہ فعل میں قوت پیدا ‏کرنے کے لیے، اس میں تاکید اور زور پیدا کرنے کے لیے فعل کو مکَرر ذکر کیا جاتا ہے، اور میں نے مثال بھی ذکر کی ‏تھی کہ ایک آپ کا ساتھی کچھ کرنے لگا، آپ اس کو روکنا چاہتے ہیں، تو ایک صورت یہ ہے آپ ایک دفعہ کہتے ہیں بس ‏کرو، اور ایک یہ کہ آپ دو دفعہ کہتے ہیں بس کرو، بس کرو، تاکید اور زور کس میں زیادہ؟ ظاہر سی بات ہے جو دو ‏دفعہ میں بہت زیادہ زور اور تاکید ہے، تو یہ جو الف ہے یہ تکرارِ فعل پر دلالت کر رہا ہے، اور اس کی مثال بھی ان ‏علماء نے قرآن سے ذکر کی، وہ فرماتے ہیں کہ قرآن میں، قرآن میں ہے، رَبِّ اِرْجِعُوْنِ، رَبِّ اِرْجِعُوْنِ، رب سے خطاب ہے ‏تو مفرد کا صیغہ ہونا چاہیے تھا، لہٰذا اِرْجِعْنِی یوں ہونا چاہیے تھا، تو یہ واو کس لیے لایا گیا؟ تو وہ علماء فرماتے ہیں کہ ‏یہ واو تکرارِ فعل پر دلالت کر رہا ہے، یہ واو بتلا رہا ہے کہ یہ فعل تین دفعہ ہے کم از کم، اصل میں کلام یوں تھا، رَبِّ ‏اِرْجِعْنِی، اِرْجِعْنِی، اِرْجِعْنِی، پھر یہ اِرْجِعْ دو دفعہ جو زائد تھا، اس کو گرا دیا، ختم کیا گیا، اور اس تکرار پر دلالت کے لیے ‏کیا لایا گیا؟ واو لایا گیا، تو یہ واو جو ہے اس فعل کے جمع ہونے پر دلالت کر رہا ہے، اس کے تکرار پر دلالت کر رہا ‏ہے، مخاطب کے جمع ہونے پر نہیں، کیونکہ مخاطب تو رب ہے، اور وہ تو ایک ہی ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ‏یہ دوسرا جواب ہوا کہ یہ الف جو ہے قِفا کے اندر یہ تکرارِ فعل پر دلالت کر رہا ہے۔ اور تیسرا جواب یہ کہ یہ قِفا کے ‏اندر جو الف ہے، یہ دراصل نونِ خفیفہ ہے، اور نونِ خفیفہ جو ہے حالتِ وقف میں الف سے بدل جاتا ہے، اصل میں تھا ‏قِفَنْ، تو ضرور رک جا، نون ہے نا نون، نونِ خفیفہ، قِفَنْ، اِضْرِبَنْ، تو قِفَنْ یہ نون ہے، اور یہ نون، نون جو ہے یہ جیسے ‏تنوین میں بھی آپ دیکھتے ہیں کہ جب اس حالتِ نصبی کے اندر جب تنوین پر آپ رکتے ہیں تو وہ تنوین الف سے بدل ‏جاتی ہے، جیسے، جیسے گردان میں آپ پڑھتے ہیں، ضَرَبَ یَضْرِبُ ضَرْبًا، یہ ضَرْبًا پر کیا ہیں؟ دو زبر ہیں، تنوین ہے، ‏اور تنوین کس کا نام؟ نونِ ساکن، اور جب آپ اس پر وقف کریں، کیسے پڑھیں گے؟ ضَرَبَ یَضْرِبُ ضَرْبَا، تو دیکھا وہ ‏نون الف سے بدل گیا، تو اسی طرح نونِ خفیفہ جو ہے وہ بھی حالتِ وقف میں کس سے بدل جاتا ہے؟ الف سے بدل جاتا ‏ہے۔ تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ یہ تو حالتِ وقف نہیں ہے، یہ تو درمیانِ کلام ہے، کلام ابھی چل رہا ہے، قِفا نَبْکی آگے ‏بات آ رہی ہے، اور وقف تو آخر میں ہوتا ہے، تو تو جواب یہ کہ بھئی بعض اوقات عربی میں ایسا کر لیتے ہیں، کہ حالتِ ‏درج کو یا حالتِ وسط کو محمول کر لیتے ہیں کس پر؟ حالتِ وقف پر بھئی، اور جیسے وقف میں کیا جاتا ہے ویسے ہی ‏کر دیا جاتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ہے تو وصل، لیکن محمول کس پر ہے؟ وقف پر بھئی، تو عربی میں وصل ‏کی حالت میں بھی بعض اوقات وقف کی طرح عمل کر لیا جاتا ہے۔ تو امرؤ القیس کہتا ہے، قِفَانَبْکی، اے میرے ساتھی، ‏ٹھہر جا تاکہ ہم رو لیں، من ذکرٰی حبیبٍ ومنزلی، محبوب کو اور اس کے گھر کو یاد کرکے، حبیب، یہ فعیل بمعنی مفعول ‏کے ہے، اور یہ مذکر اور مونث دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، محبوب کو یاد کرکے، بسقطِ اللّوى، کہاں پر؟ ریت کے ‏بل کھاتے ہوئے ٹیلے کے کنارے پر، اور یہ ریت کا ٹیلا کہاں پر تھا؟ دخول، حومل، توضِح اور مقراۃ کے درمیان ہے۔ اب آگے آیا بسقطِ اللّوى، یہ با کس معنی میں ہے؟ میں نے بتلایا فی کے معنی میں ہے، اِیْ فی سقطِ اللّوى، تو فی آتا ہے ‏ظرفیت کے لیے، تو یہ فی سقطِ اللّوى ظرف ہے، فی سقطِ اللّوى ظرف، یہ کس چیز کے لیے ظرف ہے؟ کس چیز کے لیے ‏ظرف ہے؟ تو بعضوں نے کہا یہ قِفا کے لیے ظرف ہے، اے میرے دو ساتھیو! ٹھہر جاؤ ریت کے بل کھاتے ہوئے ٹیلے ‏کے کنارے میں، ٹھہرنے کا حکم کس جگہ پر دے رہا ہے؟ کہاں پر روکو؟ کہاں پر ٹھہرو؟ ریت کے بل کھاتے ہوئے ‏ٹیلے کے کنارے میں ٹھہر جاؤ، تو یہ ظرف ہوا کس کے لیے؟ قِفا کے لیے، بعضوں نے کہا یہ ظرف ہے نبکی کے لیے، ‏اِیْ نبکی بسقطِ اللّوى، اِیْ نبکی فی سقطِ اللّوى، تاکہ ہم رو لیں ریت کے بل کھاتے ہوئے ٹیلے کے کنارے میں، اے میرے ‏ٹھہرنے کا حکم ویسے، ٹھہر جاؤ تاکہ ہم رو لیں، کہاں پر؟ ریت کے بل کھاتے ہوئے ٹیلے کے کنارے میں، فرق سمجھ ‏میں آ رہا ہے بھئی؟ ظرف کا متعلق بدل رہا ہے تو معنی بدل رہا ہے۔ اور جبکہ بعضوں نے کہا کہ یہ فی سقطِ اللّوى، اس کا تعلق منزل سے ہے، کس سے؟ منزل سے ہے، اور یہ اس کی صفت ‏ہے، اِیْ منزلٍ ثابتٍ بسقطِ اللّوى، یاد رکھیے بھئی، ترکیب کا ایک ضابطہ ذکر کر دوں، جار مجرور اگر نکرہ کے بعد ‏آئے، کس کے بعد؟ نکرہ کے بعد آئے اور وہ کسی سے جڑ نہ رہا ہو، تو وہ اس نکرہ کے لیے صفت بن جاتا ہے، کیا بن ‏جاتا ہے؟ صفت اور صفت براہِ راست نہیں بنے گا بلکہ متعلق اس کا محذوف نکالیں گے، تو ما قبل میں موصوف کون؟ ‏منزل، اور یہ جار مجرور اس کے لیے کیا بنے گا صفت، اور صفت براہِ راست نہیں بنے گا بلکہ ثابتن ساتھ نکال لیں ‏گے، ومنزلٍ ثابتٍ بسقطِ اللّوى، وہ گھر جو کہاں پر ثابت ہے، کہاں پر موجود ہے؟ ریت کے بل کھاتے ہوئے ٹیلے، اے ‏میرے دو ساتھیو! ٹھہر جاؤ تاکہ ہم رو لیں، محبوب کو اور اس کا وہ گھر، جو ریت کے بل کھاتے ہوئے ٹیلے کے کنارے ‏میں تھا، اس کو یاد کرکے۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ دیکھا فی بدل رہا ہے، فی کا متعلق تو معنی بھی بدلتا چلا جا رہا ہے، ‏بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی؟ بین الدخول فحوملی، بین آتا ہے درمیان کے لیے بھئی، اور وہ ریت کا بل کھاتا ہوا ٹیلا کہاں پر ہے؟ بین الدخول فحوملی ‏فتوضَح فالمقراۃ۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ بین آتا ہے کسی چیز کا درمیان بیان کرنے کے لیے، اور کوئی چیز، مثلاً میں ‏زید کے بارے میں بتلانا چاہتا ہوں کہ زید بکر اور خالد کے درمیان میں ہے۔ زید کس کے درمیان؟ بکر اور خالد کے تو ‏دیکھا درمیان کے لیے کم از کم دو یا زیادہ چیزیں چاہئیں، میں زید کے بارے میں بتلا رہا ہوں وہ درمیان میں ہے، تو کم ‏از کم کتنی چیزیں ہوں گی آگے؟ دو ذکر ہوں گے، بکر اور خالد، یہ ان کے درمیان ہے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور ‏اگر ایک چیز ذکر ہو، پھر تو بات ہی درست نہیں بنتی، زید بکر کے درمیان میں ہے، بات بنتی ہے؟ نہیں، تو بین جو ہے ‏یہ درمیان کے لیے آتا ہے، اور یہ تعدد چاہتا ہے کہ آگے متعدد چیزیں ذکر ہوں، کم از کم دو چیزیں تو ضرور ذکر ہوں۔ تو ‏یہاں پر تو دخول ہے، اور دخول کے بعد فا ہے بھئی، فا، اور فا تو کاٹ دیتی ہے ما قبل سے، تو یہاں تو صرف گویا ایک ‏چیز ذکر ہے، اگر ہوتا نا واو بین الدخول و حوملی دخول اور حومل، پھر تو بات ٹھیک تھی، لیکن یہ فا ہے، یہ فا، اس نے ‏تو بینا سے کاٹ دیا، الگ کر دیا، تو گویا عبارت صرف یہ رہ گئی، کہ وہ ریت کا بل کھاتا ہوا ٹیلا دخول کے درمیان ہے، ‏دخول کے پھر حومل کے درمیان ہے، پھر توضِح کے درمیان ہے، پھر مقراۃ کے درمیان ہے، تو بینا کے لیے تو تعدد ‏چاہیے یہاں تو تعدد نہیں ہے، تو علماء جواب دیتے ہیں کہ یہ جو فا ہے یہ بمعنی واو کے ہے بھئی، بین الدخول فحوملی اِیْ ‏وحوملی وتوضِح والمقراۃ، تو یہ فا بمعنی واو کے ہے۔ اور جبکہ بعض نسخوں میں تو آیا ہی واو ہے، یہ جو اشعار آپ کے سامنے لکھے ہیں اس میں تو فا ہے تینوں لفظوں پر، ‏لیکن بعض دیگر روایات میں فا کے بجائے واو ہے، اگر واو ہو پھر تو اشکال ہی کوئی نہیں، پھر تو تعدد موجود ہے، ‏اشکال صرف اس صورت پر ہوتا ہے جہاں کیا موجود ہو؟ فا تو اس کا جواب دیا بعض علماء نے کہ یہ فا کس معنی میں ‏ہے؟ واو کے معنی میں ہے، کہ وہ ریت کا بل کھاتا ہوا ٹیلا ان چار جگہوں کے درمیان ہے، دخول، حومل، توضِح اور ‏مقراۃ۔ جبکہ بعضوں نے کہا کہ نہیں فا کو واو معنی میں لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بلکہ یہاں مضاف محذوف ‏نکال لو، تو بات حل ہو جائے گی، اور وہ کیا؟ کہ دخول سے پہلے اہل کا لفظ مضاف محذوف نکال لیں، بین اہل الدخول، ‏دخول کے رہنے والے، اور دخول کے رہنے والے زیادہ ہیں کہ زیادہ نہیں ہیں؟ زیادہ ہیں تو تعدد آ گیا، تو بین اہل الدخول، ‏فاہل حوملی، فاہل توضِح، اور فاہل المقراۃ، تو مضاف محذوف نکال لیں گے۔ تو اہل کا لفظ محذوف نکال لیں گے یا اماکن، ‏اماکن۔ بین اماکن الدخول، اماکن جمع ہے مکان کی، مکان، جگہ کو کہتے ہیں۔ اردو والا مکان نہیں، اردو میں تو مکان گھر ‏کو کہتے ہیں، جگہ کو، جگہ کو کہتے ہیں عربی میں، تو اماکن جمع ہے کس کی؟ مکان، بین اماکن الدخول، وہ ریت کا بل ‏کھاتا ہوا ٹیلا دخول کی جگہوں کے درمیان ہے، اور اسی طرح حومل، توضِح اور مقراۃ کی جگہوں کے، تو لفظ مضاف ‏محذوف نکال لیں، چاہے اہل نکال لیں، چاہے اماکن نکال لیں، مسئلہ حل ہو جاتا ہے تعدد آ جاتا ہے۔ ہاں اس پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ آپ نے کہا اماکن نکال لیں یا اہل نکال لیں، تو دیکھو ذرا ترجمے پر غور کرو، وہ گھر جو ‏ہے، وہ وہ ریت کا بل کھاتا ہوا ٹیلا جو ہے، دخول کی جگہوں کے درمیان ہے، پھر حومل کی جگہوں کے درمیان ہے، ‏پھر توضِح کی جگہوں کے درمیان ہے، پھر مقراۃ کی جگہوں کے، تو سوال پیدا ہوتا ہے بھئی، ایک وقت میں تو ایک ‏جگہوں کے درمیان ہو سکتا ہے، چاروں میں تو نہیں ہو سکتا۔ اگر دخول میں ہے تو حومل میں نہیں، حومل میں ہے تو ‏دخول میں نہیں، ایک جگہ ہوگا۔ تو جواب بھئی، کہ بھئی یہ چاروں جگہیں بالکل ایک دوسرے کے قریب قریب تھیں، تو ‏جب ایک کے بیچ میں ہے، تو یوں ہی سمجھو گویا کہ سب کے بیچ میں ہی ہے، یعنی ان کے بالکل قریب ہے، ان کے ساتھ ‏ہی ہے، تو ان کے بیچ ہی میں سمجھو۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو گویا میرے دو ساتھیو! ٹھہر جاؤ تاکہ ہم رو لیں، ‏محبوب کو اور اس کے گھر کو یاد کرکے جو ریت کے بل کھاتے ہوئے ٹیبے کے کنارے میں تھا، دخول، حومل، توضِح ‏اور مقراۃ جگہوں کے درمیان۔ لم یعفر اسمہا لما نسجتہا من جنوبٍ وشمالِ۔ عفا یافو کا میں نے بتلایا مٹ جانا۔ رسم کہتے ہیں نشان کو۔ نسج کا معنی بننا، ‏لیکن یہاں اختلاف مراد ہے۔ اور جنوب، وہ جنوب کی طرف سے آنے والی ہوا، ایک ہے جنوب جیم پر ضمہ پڑھیں جنوب، ‏وہ سمت کا نام ہے، جانب کا نام ہے، اور اس طرف سے جو ہوا آئے وہ ہے جنوب، جیم کے فتحہ کے ساتھ، اور اسی طرح ‏شمال جو ہے جانب کا نام ہے اور اس طرف سے جو ہوا آئے وہ شَمْعل ہے، اور اس میں اور بھی لغات ہیں جو حاشیے میں ‏دی ہوئی ہیں۔ لم یعفر رسمہا، یہاں ضمیر میں نے بتلایا منزل کو راجع، اور کس تاویل میں ہے؟ دار کی تاویل میں۔ ایک ہی چیز کے ‏مذکر اور مونث دونوں لفظ ہوں، تو پھر اس کی طرف ضمیر کوئی بھی راجع کر دی جاتی ہے، کیونکہ اس کے لیے ایک ‏لفظ گھر کے لیے منزل ہے تو دار بھی ہے۔ منزل مونث ہے تو دار مذکر، لہٰذا اس کو کوئی بھی ضمیر راجع کی جا سکتی ‏ہے، اگر مثلاً دار ہوتا تو مذکر کی ضمیر آپ راجع کر دیں اور کیا کہیں؟ کس تاویل میں؟ منزل کی تاویل میں۔ اور منزل ‏ہے تو مونث کی ضمیر راجع کر دی اور کیا کہیں گے کس تاویل میں؟ دار کی تاویل میں، تو وہاں پھر گنجائش ہوتی ہے ‏دونوں طرح کی ضمیریں آپ لوٹا سکتے ہیں مذکر بھی اور مونث بھی، تو یہاں اسی طرح یہ ہا ضمیر راجع کی منزل کو ‏اور یہ دار کی تاویل میں ہے، لم یعفر رسمہا، اس گھر کے نشان نہیں مٹے۔ میں نے بتلایا کیوں نہیں مٹے؟ بھئی ریت کے ‏بل کھاتے ہوئے ٹیبے کے کنارے میں ہے وہ گھر، کنارے میں تھا وہ گھر، کنارے میں کیوں؟ میں نے وجہ ذکر کر دی ‏تھی، کیونکہ ریت کے اندر خیمہ مضبوطی سے نہیں لگتا، خیمہ لازمی بات ہے کوئی ذرا سخت جگہ تلاش کر کے وہاں ‏لگایا جائے گا، تو ریت کا بل کھاتے ہوئے ٹیبل، بل کھاتا ہوا ٹیلا کیا کینارہ، یعنی جہاں پر سخت زمین شروع ہو رہی ہے، ‏وہاں پر خیمہ تھا، کیونکہ عرب خانہ بدوش لوگ تھے، اور مویشی وغیرہ ان کے ساتھ ہوتے، اور جہاں پانی وغیرہ ملتا، ‏سبزہ ملتا، وہاں پڑاؤ ڈال لیتے، اور جب پانی اور سبزہ ختم ہوتا، تو وہاں سے خیمے اکھاڑتے، کسی دوسری جگہ جا کر ‏رہتے، جہاں پانی ملتا۔ تو انہوں نے ان کا وہ گھر خیمہ وہاں پر تھا، اور کہتے ہیں اس کے نشان نہیں مٹے، نشان کیا تھے ‏اس کے؟ وہ خیمے کے ارد گرد کچھ حفاظت کے لیے کچھ پتھر لگائے ہوئے تھے، وہ نشان ہوں گے، اسی طرح وہ جو ‏آگ جلاتے تھے، وہ کالے پتھر اور اس کے اس پاس کچھ لکڑیوں کے جلے ہوئے ٹکڑے یا راکھ وغیرہ ہوگی، اور اسی ‏طرح جانوروں کی مینگنیاں وغیرہ ان کی وہ وہاں موجود ہوں گی، تو کہتا ہے یہ نشانات جو ہیں ان گھروں کے نشانات ‏ابھی مٹے نہیں۔ کیوں نہیں مٹے؟ لما نسجتہا من جنوبٍ وشمالِ، ما، نسجا، نسج کا معنی ہوتا ہے بننا، بننا، جیسے کپڑے کو ‏بُنا جاتا ہے دھاگوں سے، سویٹر کو بُنا جاتا ہے اون سے، تو یہ بُنا ہے نَسْج، لیکن یہاں مراد ہے اختلاف، بھئی، اختلاف، ‏اور ما نسجتہا، اس ما سے مراد ہے ہوا ریح، بھئی ریح۔ ‏ تو ما نسجتہا، اس وجہ سے کہ ہوا جو ہے، ہوا کا اختلاف ہے، ہا اس جگہ پر، ہا ضمیر راجع لے ان چار جگہوں کو، اس ‏وجہ سے کہ ان چار جگہوں پر کیا ہے؟ ہوا کا، یا یوں ہا ضمیر راجع لے اسی منزل کو دار کی تاویل میں، کیونکہ اس ‏جگہ پر اس گھر پر کیا ہے؟ ہواؤں کا، ہوا کا اختلاف ہے، ہوائیں بدلتی رہتی ہیں، ایک رخ پہ نہیں چلتی، اور یہ ہواؤں کے ‏اختلاف کو بننے کے ساتھ ذکر کیا، کیونکہ کپڑا گنتے ہوئے بھی آپ دیکھتے ہیں ایک دھاگا لمبائی میں ہوتا ہے، ایک ‏چوڑائی میں، ایک دھاگا پہلے آتا ہے، پھر دوسرا آتا ہے، پھر پہلا، پھر دوسرا، پھر پہلا، پھر دوسرا، تو باری باری دونوں ‏طرف سے دھاگے چلتے رہتے ہیں، تو یہاں پر بھی ہوائیں کبھی ایک طرف سے چلتی ہیں کبھی دوسری طرف سے، اور ‏تو بنے جیسی ہی صورت بن گئی، تو ہواؤں کے اختلاف کو کس کے ساتھ ذکر کیا؟ نسج کے ساتھ، تو لِما، اور ما سے کیا ‏مراد ہے؟ ہوا، ریح، اس وجہ سے، کہ ہوا جو ہے نسجتہا، اس کا ان جگہوں پر اختلاف ہے، ہوا کا ان جگہوں پر اختلاف ‏ہے، اختلاف۔ اور یہ من اس کا بیان ہے۔ من اس کا بیان ہے۔ اور آپ اپنی کتابوں میں غور کرنا، خصوصاً مختصر المعانی ‏میں، جگہ جگہ عبارت اس طرح آئے گی کہ ما کے ساتھ، ما موصولہ کے ساتھ ایک چیز کو ذکر کیا جاتا ہے، ما موصولہ ‏اور صلے کے ساتھ، اور پھر اس کا معنی آگے من کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے، وہ ما نسج، ما کا کیا معنی؟ وہ چیز، وہ ‏چیز، ہوا کا کچھ پتہ چل رہا ہے آپ کو ما سے؟ نہیں، وہ چیز نسجتہا، جس کا اس پر اختلاف ہے، بھئی وہ کیا چیز ہے؟ ‏کہتے ہیں من جنوبٍ وشمالِ، یعنی شمالی اور جنوبی ہوا، تو یہ من کا ترجمہ یعنی کے ساتھ کرتے ہیں، بات سمجھ میں آ ‏رہی ہے؟ ‏ تو وہ اس چیز کی وجہ سے جس کا اس پر اختلاف ہے، یعنی کہ جنوبی اور شمالی ہوا، تو من جنوبٍ وشمالِ سے پتہ چلا ‏کہ ما سے مراد ہوا ہے، ہوا، اور یہ اکثر ایسا ہوگا وہاں پر کہ ما موصولہ، ماں کے ساتھ کسی چیز کو ذکر کیا جائے گا، ‏اور پھر آگے من کے ساتھ اس کا معنی اور مفہوم بیان کیا جائے گا کہ اس سے کیا مراد ہے۔ اور پھر ترجمہ کرتے ہوئے، ‏میں نے طریقہ بتلایا تھا، ایک تو یہ ہے کہ ترجمہ آپ اسی طرح کریں، اس وجہ سے، ماں سے مراد وہی ہوا والا ترجمہ ‏کریں، اس وجہ سے کہ ہوا کا ان جگہوں پر اختلاف ہے، اس مکان پر اختلاف ہے، یعنی کہ جنوبی اور شمالی ہوا، تو من ‏کا ترجمہ یعنی کے ساتھ کر لیں۔ اور دوسرا اور اس سے بہتر طریقہ یہ ہے، کہ یہ من جنوبٍ وشمالِ اس کو بالکل ختم کر ‏دیں، اور وہ جو ماں ہے، یہ من جنوبٍ وشمالِ یہ کس کا بیان ہے؟ ما کا تو اس ما کو اٹھا دو، اور اس کی جگہ جنوب اور ‏شمال کا ترجمہ کر دو، کیسے؟ لے، اس وجہ سے کہ، جنوبی اور شمالی ہواؤں کا اس جگہ پر اختلاف ہے، اب معنی سمجھ ‏میں آیا بھئی؟ اچھا، اب ماں موصولہ ہے یہ مذکر ہے بھئی، اور نسجت، یہ صلہ ہے، اور صلے کو موصول سے جوڑا ‏جاتا ہے، یاد رکھو اس میں موصول جو ہے، یہ مبہم ہوتا ہے، وہ چیز، وہ جو کہ، معنی پتہ چلا کچھ؟ نہیں، تو اس کے ‏لیے آگے صلہ چاہیے، صلہ بتلاتا ہے کہ اس سے کیا مراد ہے، اور صلہ ہمیشہ کیا ہوگا؟ جملہ ہوگا، جس کو اس موصول ‏سے جوڑتے ہیں، ربط دیتے ہیں، اور ربط عموماً ضمیر کے ذریعے دیا جاتا ہے بھئی، کس کے ذریعے؟ ضمیر کے ‏ذریعے، تو ماں موصولہ اور نسجتہا اس کا صلہ، تو اس کے اندر ایک ضمیر چاہیے، جو اس ماں موصولہ کو لوٹے، اور ‏ماں موصولہ مذکر ہے، اور نسجت ہا میں تو کوئی مذکر کی ضمیر نہیں، تو نسجت یہ مونث کا صیغہ ہے، اس کے اندر ہیا ‏ضمیر ہے، ضربت کون سی ضمیر ہے ضربت کے اندر؟ ہیا، تو نسجت کے اندر بھی ہیا ضمیر، اور یہ ضمیر راجع ہے ‏ماں کو، اور یہ عائد ہے، یہ جوڑ رہی ہے، ربط دے رہی ہے موصول اور صلے کے درمیان، اس پر سوال پیدا ہوتا ہے ‏کہ ماں تو مذکر ہے، تو اس کے لیے تو مذکر کی ضمیر چاہیے، تو مونث کی ضمیر سے کیسے جوڑ دیا، کیسے ربط دیا؟ ‏جواب یہ کہ معنی کا لحاظ رکھتے ہوئے، کس کا؟ کیونکہ ماں سے مراد کیا ہے؟ ریح، اور ریح کا لفظ عربی میں مونث ‏ہے، تو معنی کے اعتبار سے ماں مونث ہی ہوا، اس لیے مونث کی ضمیر راجع کر دی، جواب سمجھ میں آ گیا؟ ‏ تو کبھی ماں موصولہ میں کس کے، کس کے لحاظ رکھ لیتے ہیں؟ معنی کا لحاظ رکھا جاتا ہے، اسی کی دوسری مثال، جس ‏سے بات اور اچھی طرح آپ کو سمجھ میں آ جائے، جامی کے اندر آپ نے پڑھا ہوگا، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا ‏شعر ذکر ہے، ان الذی سمتنی أمّی حیدرۃ، ان الذی، میں وہ شخص ہوں، ان الذی، میں وہ شخص ہوں، سمتنی، کہ میرا نام ‏رکھا، أمّی، میری ماں نے، حیدرۃ، حیدر (یعنی شیر)، حیدر شیر کو کہتے ہیں، میں وہ شخص ہوں، جنگ میں مقابلے کے ‏وقت، پڑھ رہے ہیں کہ میں وہ شخص ہوں کہ میری ماں نے میرا نام شیر رکھا ہے، شیر رکھا ہے۔ ان الذی سمتنی أمّی ‏حیدرۃ، کليس الغابات کریہ المنظرۃ، جیسے کہ جنگل کا شیر ہوتا ہے خوفناک منظر والا، تو حضرت علی رضی اللہ تعالی ‏عنہ کا یہ شعر، اب دیکھیے ان الذی سمتنی، میں وہ ہوں، یہ الذی سے کون مراد ہے؟ متکلم خود مراد ہے، حضرت علی ‏رضی اللہ تعالی عنہ اپنی ذات ذکر کر رہے ہیں، ان الذی، میں وہ ہوں، سمتنی، یہ سمتنی، اب سمتنی أمّی حیدرۃ، اس کے ‏اندر ضمیر چاہیے، جو کس کے ساتھ جملے کو صلے کو جوڑ دے، کس کے ساتھ؟ الذی کے ساتھ، الذی اس میں موصول ‏ہے نا، اور سمتنی أمّی حیدرہ یہ اس کا صلہ، تو صلے کے لیے ربط چاہیے، تو یہاں ربط کیا چیز ہے؟ تو علماء فرماتے ‏ہیں کہ سمتنی، یہ جو یا متکلم کی ضمیر آ رہی ہے، یہ رابط ہے، یہ ربط دے رہی ہے۔ بھئی یہ کیسے ربط دے رہی ہے؟ ‏کیونکہ متکلم کی ضمیر تو نہیں لوٹتی، اس کا تو مرجع نہیں ہوتا، لوٹتی تو صرف کون سی ضمیر ہے؟ مرجع کس کا ہوتا ‏ہے؟ غائب کی ضمیر کا ہوتا ہے، مخاطب اور متکلم کی ضمیر کا مرجع نہیں۔ بھئی دیکھو، میں آپ سے بات کر رہا ہوں، ‏میں ہوا متکلم اور آپ ہوئے مخاطب، اور مثلاً میں زید کی بات کر رہا ہوں وہ ہوا غائب۔ تو متکلم اور مخاطب، یہ بات ‏کرنے والے یہ تو ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں، یہاں کوئی، مثلاً میں انا انا کہہ رہا ہوں، تو آپ کو کوئی شبہ ہوتا ‏ہے کہ اس انا سے پتہ نہیں کون مراد ہے؟ نہیں، ظاہر سی بات ہے جو بول رہا ہے وہ انا ہے، وہ متکلم ہے، اور میں انت ‏انت کہہ رہا ہوں، اس میں کوئی شبہ ہوتا ہے کہ کون ہے؟ تو مخاطب اور متکلم کی ضمیر میں کوئی شبہ نہیں وہ ایک ‏دوسرے کے آمنے سامنے ایک دوسرے سے بات کر رہے ہیں۔ شبہ آتا ہے صرف کس کے اندر؟ غائب ہوا میں, ہوا کہتا ‏ہوں تو مرجع چاہیے کہ ہوا سے کون مراد ہے، زید ہے، بکر ہے، خالد ہے، کون ہے؟ تو اس کے لیے مرجع چاہیے۔ تو ‏یہاں پر بھی ان الذی سمتنی أمّی حیدرہ، تو، تو یہاں پر یہ یا ضمیر جو ہے ربط دے رہی ہے، اور یہ، کس اعتبار سے ربط ‏دے رہی ہے؟ معنی کے اعتبار سے، کیونکہ الذی سے کون مراد ہے؟ متکلم، اور یا ضمیر بھی کون سی ہے؟ متکلم، تو ‏بھئی یہ اعتبار ربط آ گیا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ربط ہے معنی کے اعتبار سے، الذی کے معنی اور وہ متکلم ‏کی ذات خود مراد ہے بھئی۔ تو اس وجہ سے لم یعفر رسمہا، اس گھر کے نشان نہیں مٹے، اس وجہ سے کہ اس پر شمالی اور جنوبی ہواؤں کا اختلاف ‏ہے۔ اختلاف۔ اب کیا معنی؟ تو بعضوں نے معنی یہ کیا کہ اس گھر کے نشانات نہیں مٹے۔ اس گھر کے نشانات نہیں مٹے، ‏کیونکہ اس پر شمالی اور جنوبی ہوائیں بدلتی رہتی ہیں۔ بھئی صحرا میں جب ہوا چلتی ہے، وہ اپنے ساتھ ریت اڑاتی ہے ‏اور وہ جگہ چیزوں پر گرتی رہتی ہے ریت، تو شاعر کہنا یہ چاہتا ہے کہ شمالی ہوا چلتی ہے، اور وہ ان جگہوں پر ریت ‏ڈالتی چلی جاتی ہے، آہستہ آہستہ وہ ریت کے اندر چھپ جاتے ہیں، نشانات مٹ جاتے ہیں، لیکن پھر دوسرے وقت میں جب ‏جنوبی ہوا چلتی ہے، وہ آہستہ آہستہ اس ریت کو پھر اڑا کر وہاں سے لے جاتی ہے اور وہ نشانات پھر نظر آنے لگتے ‏ہیں۔ اسی طرح کبھی جنوبی ہوا ریت ڈال دیتی ہے، تو بعد میں شمالی ہوا چلتی ہے اور وہ اس ریت کو اڑا دیتی ہے، تو ‏ہواؤں کے اختلاف کی وجہ سے وہاں کہ اس گھر کے نشانات نہیں مٹے، تو شاعر غم کا اظہار کر رہا ہے۔ توجہ ہے؟ ‏شاعر غم کا اظہار کر رہا ہے کہ افسوس، یہ جگہ کبھی کیسی آباد تھی، یہاں میرا محبوب رہتا تھا، یہاں اس کے قبیلے ‏والے رہتے تھے، اور آج یہ جگہ اجاڑ و بیابان پڑی ہے، ہاں اس کے نشانات ابھی بھی ہیں، اور یہ نشانات اس کی یاد ‏دلاتے رہتے ہیں، تو غم کا اظہار کر رہا ہے۔ جبکہ بعضوں نے کہا، شاعر کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ، کہ اس گھر کے ‏نشانات نہیں مٹے، گھر کے نشانات نہیں مٹے، کاش اس گھر کے نشانات مٹ جاتے، تو ہو سکتا ہے آہستہ آہستہ محبوب کی ‏یاد بھی ختم ہو جاتی، لیکن میں جب یہاں سے گزرتا ہوں یہ نشانات اسی طرح باقی ہوتے ہیں، کیونکہ شمالی اور جنوبی ‏ہوائیں ان نشانات کو مٹنے ہی نہیں دیتیں، تو جب میں ان ان چیزوں کو دیکھتا ہوں، مجھے پھر محبوب کی یاد آ جاتی ہے ‏اور میرا دل پھر غم سے بھر جاتا ہے۔ تو اس صورت میں معنی کیا ہے؟ نشانات نہیں مٹے، لم یعفر رسمہا، نشانات، یعنی ‏موجود ہیں۔ جبکہ بعض نے معنی یہ بیان کیا کہ اس گھر کے نشانات مٹ چکے ہیں۔ بھئی وہ کہاں سے مٹ چکے ہیں؟ یہاں ‏تو لکھا ہے لم یعفر رسمہا، کہتے ہیں بھئی مٹ چکے ہیں۔ شاعر کہنا یہ چاہ رہا ہے، ذرا عبارت پر نظر رکھو، شعر پہ ‏بھئی، لم یعفر رسمہا، اس گھر کے نشانات نہیں مٹے ہواؤں کے اختلاف کی وجہ سے، یعنی اس گھر کے نشانات صرف ‏ہواؤں کے اختلاف کی وجہ سے نہیں مٹے، بلکہ بارشوں کا بھی اس میں دخل ہے، شب و روز کے گزرنے کا بھی اس میں ‏دخل ہے، اور بھی بہت سی چیزوں کا دخل ہے، تو صرف ہواؤں کے اختلافات کی وجہ سے اس کے نشانات نہیں مٹے، ‏بلکہ اس میں بارش اور زمانے کے گزرنے کا بھی دخل ہے، تو اس صورت میں کیا معنی ہوا کہ نشانات مٹ چکے ہیں۔ جبکہ بعضوں نے کہا، لم یعفر رسمہا، یہاں مضاف محذوف ہے، اِیْ لم یعفر رسم حبہا، میرے محبوب کی محبت کے نشان ‏میرے دل سے نہیں مٹے، لم یعفر رسم حبّہا، کہ میری عاشقہ کی محبت کے نشان نہیں مٹے، یعنی کہنا یہ چاہتا ہے کہ ‏میرے دل میں آج بھی اس کی محبت اسی طرح ہے جیسے اس زمانے میں تھی، اور لم یعفر رسم حبّہا، میرے دل سے اس ‏کی محبت کے نشان نہیں مٹے، اگرچہ ان جگہوں پر ہواؤں کا اختلاف ہے، ہوائیں بدلتی ہیں، ہوائیں ان کے نشانات کو مٹاتی ‏ہیں، لیکن میرے دل میں اس کی محبت آج بھی اسی طرح تازہ ہے بھئی۔ دوبارہ دیکھیے شعر کا ترجمہ قفانَبکی من ذکرٰی حبیبٍ ومنزلی بسقطِ اللّوى بین الدخول فحوملی، اے میرے دو ساتھیو! ٹھہر ‏جاؤ تاکہ ہم رو لیں، محبوب کو اور اس کے گھر کو یاد کرکے، جو ریت کے بل کھاتے ہوئے ٹیبے کے کنارے میں تھا، ‏دخول، حومل، توضِح اور مقراۃ جگہوں کے درمیان، اور اس گھر کے نشانات نہیں مٹے اس وجہ سے کہ اس پر ہواؤں کا ‏اختلاف ہے۔ نشانات نہیں مٹے غم کا اظہار کر رہا ہے کہ یہ جگہ کسی زمانے میں کیسی آباد تھی، اور محبوب بھی رہتا ‏تھا، اس کا قبیلہ بھی یہاں رہتا تھا۔ یا یہ کہہ رہا ہے کہ، کاش مٹ جاتے، یہ نشانات نہیں مٹے، اس لیے میرے محبوب کی ‏جو یاد ہے وہ بار بار تازہ ہوتی رہتی ہے، اور میں غمزدہ ہو جاتا ہوں۔ جبکہ بعضوں نے کہا کہ وہ نشانات مٹ چکے ‏ہیں، تو وہ نشانات صرف ہواؤں کے اختلاف کی وجہ سے نہیں مٹے، بلکہ اس میں بارش اور زمانے کے گزرنے کا بھی ‏دخل ہے۔ جی یہ اشعار پڑھیں گے آپ کو عرب کی فصاحت و بلاغت کا پتہ چلے گا، کتنی گہری باتیں وہ کرتے چلے جاتے ہیں، کہ ‏اس کو سمجھنے کے لیے بھی کتنا غور کرنا پڑتا ہے بھئی۔ اور یہ جب خود انسان اہل زبان ہوتا ہے، اردو میں بھی آپ دیکھتے ہیں کوئی اچھا شعر آپ کے سامنے پڑھا جاتا ہے، ‏انسان جھوم اٹھتا ہے بھئی، تو عربی وہ تو فصاحت و بلاغت کی انتہا پر پہنچی ہوئی ہے، تو اس کے اندر جب اشعار ہوگا ‏اور انسان کو اللہ نے ذوق دیا ہو اس زبان کا تو پڑھنے کا کتنا لطف ہوگا، یہی وجہ ہے کہ دیکھو صدیاں گزر گئیں، آج ‏بھی وہاں کے لوگ دیہاتی ان اشعار، یہ اشعار، یہ قصیدے ان کو زبانی یاد ہوتے ہیں، اور وہ موقع ہر موقع پر ان کو ‏پڑھتے ہیں۔ چلیے، باقی پھر کل کریں گے، چلیے، بس بھئی ہٰذا هو المرام واللہ أعلم بحقیقة الکلام۔