درس نمبر۔77 فَأَمَّا قَيْدُ الْإِسَامَةِ وَالْعَدَالَةِ فَلَمْ يُوجِبِ النَّفْيَ جَوَابٌ عَمَّا يَرِدُ عَلَيْنَا مِنَ النَّقْضَيْنِ، وَهُوَ أَنَّكُمْ قُلْتُمْ إِذَا وَرَدَ الْإِطْلَاقُ وَالْقَيْدُ فِي السَّبَبِ لَا يُحْمَلُ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ، وَهَاهُنَا وَرَدَ قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فِي خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ شَاةٌ، وَقَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فِي خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ السَّائِمَةِ شَاةٌ فِي الْأَسْبَابِ. بھئی، یہاں سے متن احناف پر وارد ہونے والے دو اعتراضات جو ہیں، ان کا جواب ذکر کر رہے ہیں۔ دو اعتراضات اور ان کے جواب ذکر ہیں بھئی۔ اعتراض شارح ذکر کر دیں گے، متن میں وہ جواب دے رہے ہیں بھئی۔ پہلا اعتراض احناف پر یہ ہوتا ہے کہ اے احناف، آپ نے ہمیں بتایا کہ اسباب کے اندر چونکہ کوئی تقابل نہیں، کوئی مقابلہ نہیں، لہذا اسباب کے اندر اگر ایک نص مطلق آئی ہو اور ایک مقید آئی ہو تو مطلق کو مقید پر محمول نہیں کیا جائے گا؛ جیسا کہ اس حدیث کے اندر آپ نے جو صدقۂ فطر کی حدیث تھی، اس میں ایک میں مطلق عبد جو ہے اس کو سبب بتایا بتلایا گیا تھا اور دوسری حدیث میں کیا آیا تھا؟ "مس ہر مسلمان عبد کی طرف ہر مسلمان غلام کی طرف سے آزاد ادا کرو۔" تو وہاں آپ نے کہا تھا کہ یہاں مطلق کو مقید پر محمول نہیں کریں گے کیونکہ یہ سبب ہیں، اور اسباب کے اندر تو مقابلہ نہیں، ایک چیز کے کئی سبب ہو سکتے ہیں۔ تو رأسِ مطلق بھی سبب ہو سکتا ہے صدقۂ فطر کا اور رأسِ مسلم بھی صدقۂ فطر کا سبب ہو سکتا ہے۔ یہ پہلا اعتراض۔ دوسرا اعتراض یہ کریں گے کہ بھئی اے احناف، آپ نے ہمیں بتلایا تھا کہ جب حادثے مختلف ہوں، مسألے مختلف ہوں اور ایک مسألے کے بارے میں نص مطلق آئی ہو اور دوسرے مسألے کے بارے میں مقید آئی ہو، تو اس صورت میں بھی چونکہ مسألے ہی الگ الگ ہیں لہذا مطلق کو مقید پر محمول نہیں کیا جائے گا بلکہ مطلق اپنے اطلاق پر جاری ہوگا اور مقید اپنی تقیید پر جاری ہوگا، لیکن ہم آپ کو دکھاتے ہیں کہ آپ نے مطلق کو مقید پر محمول کیا ہے بھئی۔ اعتراضات سمجھ میں آ گئے بھئی؟ دیکھیے بھئی، اب پوری تفصیل آ رہی ہے شرح کے اندر۔ جی، کہتے ہیں: فَأَمَّا قَيْدُ الْإِسَامَةِ وَالْعَدَالَةِ فَلَمْ يُوجِبِ النَّفْيَ. اسامت کا معنی ہے جانور کو چرانے کے لیے جنگل میں لے کر جانا بھئی۔ اور عدالت کا معنی ہے عادل ہونا بھئی، قابلِ اعتماد ہونا۔ کہتے ہیں: فَأَمَّا قَيْدُ الْإِسَامَةِ وَالْعَدَالَةِ فَلَمْ يُوجِبِ النَّفْيَ باقی اسامت اور عدالت کی جو قید ہے اس نے نفی کو ثابت نہیں کیا۔ جَوَابٌ عَمَّا يَرِدُ عَلَيْنَا مِنَ النَّقْضَيْنِ یہ جواب ہے اس سے جو ہم پر وارد ہوتے ہیں دو اعتراضات۔ نقض اعتراض کو کہتے ہیں۔ جو ہم پر وارد ہوتے ہیں دو اعتراضات، وَهُوَ اور وہ یہ۔ بھئی، پہلا اعتراض اب آگے ذکر کریں گے۔ وَهُوَ أَنَّكُمْ قُلْتُمْ إِذَا وَرَدَ الْإِطْلَاقُ وَالْقَيْدُ فِي السَّبَبِ کہ جب وارد ہو اطلاق اور قید سبب کے اندر، لَا يُحْمَلُ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ تو محمول نہیں کیا جائے گا ان دو میں سے ایک کو دوسرے پر۔ وَهَاهُنَا وَرَدَ قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فِي خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ شَاةٌ حضور علیہ السلام کا قول آیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: فِي خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ شَاةٌ پانچ اونٹوں کے اندر ایک بھیڑ بکری ہے۔ شاة کسے کہتے ہیں؟ بھیڑ بکری، دونوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے بھئی۔ کہ پانچ اونٹوں کے اندر ایک بھیڑ بکری ہے۔ وَقَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فِي خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ السَّائِمَةِ شَاةٌ اور دوسری حدیث ہے: وَقَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فِي خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ السَّائِمَةِ شَاةٌ کہ پانچ سائمہ اونٹوں کے اندر بھیڑ بکری ہے بھئی۔ وَفِي الْأَسْبَابِ اور یہ حدیثیں دو نص جو آئی ہیں فِي الْأَسْبَابِ، یہ کس کے بارے میں ہیں؟ اسباب کے بارے میں ہیں بھئی۔ بھئی، دیکھیے اونٹوں کی زکوٰۃ بیان ہو رہی ہے، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں ایک حدیث میں آیا: پانچ اونٹوں کے اندر، یعنی جب ان پر ایک سال گزر جائے تو ان میں ایک بھیڑ بکری دینا پڑے گی بطورِ زکوٰۃ کے۔ دوسری حدیث کے اندر آیا: پانچ سائمہ اونٹوں کے اندر جو ہے سال گزر جائے تو ایک بھیڑ بکری دینا پڑے گی بطورِ زکوٰۃ کے۔ تو ایک نص مطلق ہے، ایک مقید ہے، ایک میں سائمہ کی قید ہے۔ سائمہ وہ جانور جو سال کا اکثر حصہ باہر چر کر گزارتے ہوں بھئی۔ بھئی، کچھ تو وہ جانور ہیں جن کے لیے گھروں میں چارہ کاٹ کر لایا جاتا ہے اور وہ انھیں علوفہ کہتے ہیں، جبکہ کچھ دوسرے جانور جن جو سال کا اکثر حصہ باہر چر کر گزارتے ہیں ان کو سائمہ کہتے ہیں۔ تو ایک حدیث میں زکوٰۃ کا سبب مطلقِ ابل کو بتلایا گیا، مطلق اونٹ جو ہیں وہ زکوٰۃ کا سبب ہیں ان میں زکوٰۃ دینا پڑے گی۔ دوسری حدیث کے اندر اس سے پتہ چلا کہ جو سائمہ اونٹ ہیں، سال کا اکثر حصہ جو باہر چر کر باہر چرنے والے جو اونٹ ہیں، ان میں زکوٰۃ ہے بھئی۔ تو دونوں ایک مطلق ہے، ایک مقید ہے اور احناف، آپ نے ہمیں کیا کہا تھا؟ اسباب کے اندر کوئی مقابلہ نہیں، ایک چیز کے کئی سبب ہو سکتے ہیں۔ تو لہٰذا مطلق کو اپنے اطلاق پر باقی رکھنا چاہیے، مقید کو اپنی تقیید پر باقی رکھنا چاہیے اور دونوں پر عمل ہونا چاہیے۔ اور جب دونوں پر عمل کیا جائے گا تو ہر اونٹ کے اندر زکوٰۃ ہونی چاہیے جب اس میں سال گزر جائے تو ہر پانچ اونٹوں پر ایک بھیڑ بکری آنی چاہیے، چاہے وہ چرنے والے ہوں یا چرنے والے باہر نہ ہوں۔ لیکن اے احناف، آپ کے نزدیک سائمہ کی قید معتبر ہے، آپ کہتے ہیں باہر پانچ سال کا اکثر حصہ باہر چر کر گزارنے والے اونٹ ہیں تو پھر ان میں زکوٰۃ ہے ورنہ ان میں زکوٰۃ نہیں۔ معلوم ہوا آپ نے اسباب کے اندر بھی مطلق کو مقید پر محمول کیا ہے بھئی۔ اعتراض سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْإِبِلَ سَبَبُ الزَّكَاةِ اس لیے کہ اونٹ جو ہیں وہ زکوٰۃ کا سبب ہیں، وَالْأَوَّلُ مُطْلَقٌ وَالثَّانِي مُقَيَّدٌ اور پہلی نص جو ہے وہ مطلق ہے، اس میں سائمہ کی قید نہیں، وَالثَّانِي مُقَيَّدٌ بِالْإِسَامَةِ اور دوسری کے اندر اسامت کی قید ہے، وَقَدْ حَمَلْتُمُ الْمُطْلَقَ هَاهُنَا عَلَى الْمُقَيَّدِ اور تحقیق تم نے محمول کیا ہے، اے احناف، یہاں پر مطلق کو مقید پر، حَتَّى قُلْتُمْ یہاں تک کہ تم نے کہا ہے: لَا تَجِبُ الزَّكَاةُ فِي غَيْرِ السَّائِمَةِ کہ زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی غیرِ سائمہ کے اندر۔ جو سائمہ اونٹ نہیں ہیں، ان میں زکوٰۃ بھی واجب نہیں۔ وَأَيْضًا قُلْتُمْ إِنْ كَانَتِ اب یہ دوسرا اعتراض ذکر کر رہے ہیں۔ وَأَيْضًا قُلْتُمْ اور نیز آپ نے یہ بھی کہا ہے، اے احناف: إِذَا كَانَتِ الْحَادِثَةُ مُخْتَلِفَةً جب حادثہ مختلف ہو، لَا يُحْمَلُ الْمُطْلَقُ عَلَى الْمُقَيَّدِ تو محمول نہیں کیا جائے گا مطلق کو مقید پر، وَقَدْ حَمَلْتُمْ قَوْلَهُ قَوْلَهُ تَعَالَى اور تحقیق تم نے محمول کیا ہے اللہ تعالیٰ کے قول: وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ "اور گواہ بنا لو تم دو گواہ اپنے مردوں میں سے"۔ دیکھیے، یہ یہ نص آئی اور اس کے اندر گواہوں کے عادل ہونے کی کوئی قید ذکر نہیں کہ گواہ یہ نص کہ گواہ کیا ہونے چاہئیں؟ عادل، یہ اس نص میں ذکر نہیں، معلوم ہوا یہ مطلق ہے، چاہے گواہ عادل ہو یا عادل نہ ہو۔ اور اس اللہ کے اس قول کو اے احناف، آپ نے محمول کیا ہے عَلَى قَوْلِهِ تَعَالَى اللہ تعالیٰ کے اس قول پر: وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ "اور تم گواہ بنا لو دو عادل آدمیوں کو اپنے میں سے"۔ اور اس نص کے اندر دیکھو عدالت کی قید ہے کہ گواہ کس قسم کے بناؤ؟ عادل، یعنی گواہوں کو عادل ہونا چاہیے، عادل کا کیا معنی؟ قابلِ اعتماد بھئی، قابلِ اعتماد۔ اور تو دو قابلِ اعتماد آدمیوں کو گواہ بنا لو۔ اور یہ نصیں الگ الگ مسألے کے بارے میں آئی ہیں، پہلی نص جو آئی ہے وہ دین کے مسألے میں ہے، قرض وغیرہ جو ہے یہ اس کے اندر کیا کرو؟ دو گواہ بنا لو۔ اور دوسری نص جو آئی ہے وہ طلاق کے اندر رجوع کرنے کے بارے میں ہے کہ اس میں کیا کر لو؟ دو عادل آدمیوں کو گواہ بنا لو بھئی۔ تو ایک نص کا تعلق ایک مسألے سے، دوسری نص کا تعلق دوسرے مسألے سے، تو لہٰذا ایک مطلق ہے، ایک مقید ہے، تو ایک مطلق کو مقید پر محمول نہیں کرنا چاہیے، اے احناف، آپ کے ضابطے کے مطابق، لیکن آپ نے مطلق کو مقید پر محمول کیا ہے، چنانچہ آپ کہتے ہیں کہ گواہوں کا عادل ہونا ضروری ہے بھئی۔ معلوم ہوا آپ نے کیا کیا ہے؟ مطلق کو مقید پر محمول کیا ہے جبھی آپ کہتے ہیں کہ گواہوں کو عادل ہونا چاہیے۔ حَتَّى تو تم نے، اے احناف، تم نے محمول کیا اللہ کے اس قول وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ کو اللہ کے اس قول وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ پر، حَتَّى شَرَطْتُمُ الْعَدَالَةَ فِي الْإِشْهَادِ مُطْلَقًا یہاں تک کہ اے احناف، تم نے شرط لگائی ہے عادل ہونے کی گواہ بنانے میں مطلقاً، مَعَ أَنَّ الْأَوَّلَ وَارِدٌ فِي حَادِثَةِ الدَّيْنِ باوجود اس کے کہ پہلی نص جو ہے وہ آئی ہے دین کے مسألے میں، وَالثَّانِي فِي بَابِ الرَّجْعَةِ فِي الطَّلَاقِ اور دوسری نص آئی ہے طلاق میں رجوع کرنے کے باب میں۔ فَأَجَابَ تو جواب دیا مصنف نے: كَأَنَّ قَيْدَ الْإِسَامَةِ فِي الْمَسْأَلَةِ الْأُولَى کہ اسامت کی جو قید ہے پہلے مسألے میں، وَقَيْدَ الْعَدَالَةِ فِي الْمَسْأَلَةِ الثَّانِيَةِ اور عدالت کی جو قید ہے مسألہ ثانیہ میں، لَمْ يُوجِبِ النَّفْيَ عَمَّا عَدَاهُ كَمَا فَهِمْتُمْ اس نے نفی کو ثابت نہیں کیا اپنے علاوہ کے اندر جیسا کہ آپ سمجھے۔ اپنے علاوہ کے اندر نفی کو ثابت نہیں کیا یعنی یہاں پر نفیِ قید سے نفیِ حکم نہیں آئی اے معترض، آپ جیسا سمجھے، آپ یہ سمجھے کہ چونکہ ایک کے اندر اسامت کی قید ہے تو اسامت ہوگی تو زکوٰۃ آئے گی، اسامت نہیں ہوگی تو زکوٰۃ بھی نہیں ہوگی۔ اور ایک اسی طرح دوسری نص میں ایک میں عادل ہونے کی شرط ہے ایک میں نہیں، تو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عادل ہوگا تو گواہی قبول ہے، عادل نہیں تو گواہی بھی قبول نہیں، نہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ اس جو نص آئی ہے، اس نے نفی کو اپنے علاوہ کے اندر ثابت نہیں کیا كَمَا فَهِمْتُمْ جیسا آپ سمجھے ہیں، لَكِنَّ السُّنَّةَ الْمَعْرُوفَةَ فِي إِبْطَالِ الزَّكَاةِ عَنِ الْعَوَامِلِ. جواب یہ دیں بھئی، جواب یہ دیں گے کہ یہاں پر ایک جو اونٹوں کے زکوٰۃ کے بارے میں دو حدیثیں آئیں، یہاں ہم نے مطلق کو مقید پر محمول نہیں کیا بلکہ ایک تیسری حدیث نے آ کر بتلایا کہ وصفِ اطلاق یہاں منسوخ ہے۔ وصفِ اطلاق کیا ہے؟ منسوخ ہے تیسری حدیث کے ذریعے بھئی، تیسری حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو جانور کھیتی باڑی والے ہیں اور جو جانور باربرداری باربرداری والے ہیں اور اسی طرح وہ جانور جن کو گھروں پر چارہ لا کر کھلایا جاتا ہے، ان میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ اس حدیث نے بتلایا، اس حدیث میں کیا آیا؟ جن جانوروں کو گھر پر چارہ لا کر کھلایا جاتا ہے ان میں زکوٰۃ نہیں ہے، معلوم ہوا اس اطلاق کو اس حدیث نے منسوخ کر دیا بھئی۔ ہم نے تو مطلق کو اپنے اطلاق پر رکھا تھا، مقید کو اپنی تقیید پر رکھا تھا، لیکن اس تیسری حدیث نے کیا کیا؟ اس پہلی حدیث کے وصفِ اطلاق کو منسوخ کر دیا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دیکھیے، کہتے ہیں: لَكِنَّ السُّنَّةَ الْمَعْرُوفَةَ فِي إِبْطَالِ الزَّكَاةِ لیکن مشہور حدیث جو ہے زکوٰۃ کے باطل کرنے کے بارے میں عَنِ الْعَوَامِلِ وَالْحَوَامِلِ، عوامل جمع ہے عاملۃ کی، عاملۃ وہ جانور جس سے کھیتی باڑی کا کام لیا جاتا ہو۔ حوامل جمع ہے حاملۃ کی، وہ جانور جس سے باربرداری کا کام لیا جاتا ہو، یعنی بوجھ وغیرہ اس پر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا ہو بھئی۔ اور سنتِ معروفہ یعنی حدیثِ مشہور بھئی، لَكِنَّ السُّنَّةَ الْمَعْرُوفَةَ فِي إِبْطَالِ الزَّكَاةِ لیکن مشہور حدیث جو ہے زکوٰۃ کے باطل کرنے کے بارے میں عَنِ الْعَوَامِلِ وَالْحَوَامِلِ کھیتی باڑی والے جانوروں سے اور باربرداری والے جانوروں سے، ان کے بارے میں جو حدیث آئی ہے ان سے زکوٰۃ کے باطل کرنے کے بارے میں، أَوْجَبَتْ نَسْخَ الْإِطْلَاقِ اس حدیث نے کیا کیا یہاں پر؟ اطلاق کے منسوخ ہونے کو ثابت کیا بھئی، ثابت۔ یاد رکھیے أوجب کا لفظ جہاں آئے، واجب کرنا اس کا ہمیشہ ترجمہ نہ کریں، آپ خود غور کر لیا کریں موقع محل پر أوجب کے معنی أثبت کے بھی آتے ہیں۔ اور اسی طرح وجب کے معنی ثبت کے بھی آتے ہیں بھئی، استعمال ہوتا ہے عام کتابوں میں۔ اس حدیث نے أَوْجَبَتْ نَسْخَ الْإِطْلَاقِ ثابت کیا اطلاق کے منسوخ ہونے کو، يَعْنِي إِنَّمَا عَمِلْنَا فِي الْمَسْأَلَةِ الْأُولَى بِالسُّنَّةِ الثَّالِثَةِ یعنی ہم نے عمل کیا پہلے مسألے کے اندر تیسری حدیث پر الدَّالَّةِ عَلَى نَفْيِ الزَّكَاةِ عَنْ غَيْرِ السَّائِمَةِ جو دلالت کرنے والی ہے زکوٰۃ کی نفی پر غیرِ سائمہ سے، کہ غیرِ سائمہ پر زکوٰۃ نہیں ہے، وہ حدیث دلالت کرتی ہے۔ وَهِيَ قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ اور وہ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: لَا زَكَاةَ فِي الْعَوَامِلِ وَالْحَوَامِلِ وَالْعَلُوفَةِ. زکوٰۃ نہیں ہے کھیتی باڑی والے جانوروں میں اور باربرداری والے جانوروں میں وَالْعَلُوفَةِ، علوفہ وہ جانور جن کو گھر پر چارہ لا کر کھلایا جاتا ہو۔ یہ علف سے ہے، علف چارے کو کہتے ہیں بھئی۔ تو چارہ جن کو کھلایا جاتا ہے ان میں زکوٰۃ نہیں ہے، لِأَنَّ هَذِهِ الثَّلَاثَةَ كُلَّهَا غَيْرُ السَّائِمَةِ اس لیے کہ یہ تینوں جانور جو ہیں، تینوں قسم کے یہ غیرِ سائمہ ہیں، یعنی ان کو گھر پر چارہ کھلایا جاتا ہے، جنگل میں یہ چرنے والے نہیں ہیں۔ وَمَا عَمِلْنَا بِحَمْلِ الْمُطْلَقِ عَلَى الْمُقَيَّدِ اور ہم نے عمل نہیں کیا مطلق کو مقید پر محمول کرنے کا، یعنی ہم نے مطلق کو یہاں مقید پر محمول نہیں کیا بلکہ اس حدیث کی وجہ سے اس حدیث نے بتلایا کہ اطلاق منسوخ ہے بھئی۔ وَالْأَمْرُ بِالتَّثَبُّتِ فِي نَبَإِ الْفَاسِقِ أَوْجَبَ نَسْخَ الْإِطْلَاقِ. تثبت کا معنی ہے غور و فکر سے کام لینا، غور و فکر کرنا، اور اسی طرح تحقیق کرنا بھئی، تثبت کا کیا معنی؟ تحقیق کرنا۔ وَالْأَمْرُ بِالتَّثَبُّتِ فِي نَبَإِ الْفَاسِقِ اور جو غور و فکر کرنے کا حکم دیا گیا ہے فاسق کی خبر میں، أَوْجَبَ نَسْخَ الْإِطْلَاقِ یہ بھی نسخ لفظ ہے بھئی، فسخ نہیں۔ أَوْجَبَ نَسْخَ الْإِطْلَاقِ اس نے ثابت کیا اطلاق کے نسخ کو، کس کو ثابت کیا؟ کہ یہاں بھی وصفِ اطلاق منسوخ ہے۔ بھئی، دیکھیے دوسرا اعتراض یہ ہوا تھا کہ گواہی کے مسألے میں بعض جگہ عادل ہونے کی قید ذکر تھی، بعض جگہ عادل ہونے کی قید ذکر نہیں تھی۔ تو لیکن تو یہاں پر تو الگ واقعے تھے، اعتراض یہ ہوا تھا آپ نے دو الگ واقعے ہونے کے باوجود ایک کو مطلق کو مقید پر محمول کیا اور وہاں بھی عادل ہونے کی قید آپ لگاتے ہیں، ہر جگہ مطلقاً بھئی۔ تو جواب دے رہے ہیں کہ یہاں پر بھی جو قرآن میں ایک تیسری نص جو ہے، تیسری نص وارد ہوئی ہے جس میں حکم دیا گیا ہے کہ جب کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو، کیا کر لیا کرو؟ اس کی تحقیق کر لیا کرو، اسی طرح آگے نہ بیان کیا کرو اور دوسروں تک نہ پہنچاؤ۔ تو یہ معنی ہے: وَالْأَمْرُ بِالتَّثَبُّتِ فِي نَبَإِ الْفَاسِقِ اور جو تحقیق کرنے کا حکم ہے فِي نَبَإِ الْفَاسِقِ فاسق کی خبر کے بارے میں، أَوْجَبَ نَسْخَ الْإِطْلَاقِ اس نے اطلاق کے نسخ کو ثابت کیا۔ يَعْنِي هَكَذَا إِنَّمَا عَمِلْنَا فِي الْمَسْأَلَةِ الثَّانِيَةِ بِالنَّصِّ الثَّالِثِ اسی طرح ہم نے عمل کیا دوسرے مسألے میں بھی تیسری نص پر الْوَارِدِ فِي بَابِ التَّثَبُّتِ فِي نَبَإِ الْفَاسِقِ جو وارد ہوئی ہے فاسق کی خبر کے بارے میں تحقیق کرنے کے باب میں، وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا. "اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر آئے تمہارے پاس کوئی فاسق بنبإٍ خبر کے ساتھ"، یعنی کوئی فاسق اگر تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، فَتَبَيَّنُوا تو تحقیق کر لیا کرو۔ فَلَمَّا كَانَ خَبَرُ الْفَاسِقِ وَاجِبَ التَّوَقُّفِ جب فاسق کی خبر جو ہے واجب التوقف ہے، اس میں توقف کرنا واجب ہے بھئی، جب تک پتہ نہ چل جائے، تو توقف کرنا واجب ہے اس میں، فَلَا جَرَمَ تُشْتَرَطُ الْعَدَالَةُ فِي الْمُخْبِرِ تو یقینی طور پر شرط لگائی جائے گی عادل ہونے کی خبر دینے والے میں۔ اس نص نے آ کر بتلایا بھئی کہ کیا کرنا پڑے گا؟ غور و فکر کرنا، فاسق کی خبر میں غور و فکر کرنا واجب ہوا، تو معلوم ہوا خبر کس کی قبول کی جائے گی؟ جو عادل ہوگا بھئی۔ تو یقینی طور پر عادل ہونے کی شرط لگائی جائے گی خبر دینے والے میں۔ وَمَا عَمِلْنَا بِحَمْلِ الْمُطْلَقِ عَلَى الْمُقَیَّدِ اور ہم نے عمل نہیں کیا مطلق کو مقید پر محمول کرنے کا۔ وَقِیْلَ اور کہا گیا ہے اِنَّ الْقِرَانَ فِی النَّظْمِ قران، قرن یقرن، قران کے معنی ہوتے ہیں ملانے کے۔ اور کہا گیا ہے اِنَّ الْقِرَانَ فِی النَّظْمِ کہ نظم کے اندر ملانا۔ نظم میں ملانا۔ ھٰذَا وَجْھٌ رَّابِعٌ مِّنَ الْوُجُوْہِ الْفَاسِدَةِ یہ چوتھی وجہ ہے وجوہِ فاسدہ میں سے زَھَبَ اِلَیْہِ مَالِکٌ رَّحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی جس کی طرف امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ گئے ہیں وَھُوَ اور وہ یہ کہ اَنَّ الْجَمْعَ بَیْنَ الْکَلَامَیْنِ بِحَرْفِ الْوَاوِ کہ جمع کرنا دو کلاموں کے درمیان حرفِ واو کے ساتھ یُوْجِبُ الْقِرَانَ فِی الْحُکْمِ یہ ثابت کرتا ہے حکم میں ملانے کو۔ کس چیز کو ثابت کرتا ہے؟ حکم میں ملانے کو۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھئی۔ امام مالک رحمہ اللہ، وہ فرماتے ہیں کہ جب دو حکموں کو واو کے ساتھ نظم میں ملایا گیا ہو۔ کیا کیا گیا ہو؟ جب دو حکموں کو واو کے ذریعے نظم میں ملایا گیا ہو، تو حکم کے اندر بھی دونوں ملے ہوئے ہوں گے۔ یعنی جہاں ایک کا حکم ہوگا، وہیں دوسرے کا بھی حکم ہوگا۔ جہاں ایک کا حکم نہیں، وہاں دوسرے کا بھی حکم نہیں۔ جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ۔ أَقِيمُوا الصَّلَاةَ ایک حکم ہے، نماز قائم کرو۔ آتُوا الزَّكَاةَ دوسرا حکم ہے، زکوٰۃ ادا کرو۔ اور ان کو واو کے ذریعے ملایا گیا۔ ان جب ان کو نظم کے اندر واو کے ساتھ ملایا گیا ہے، تو ان کا حکم میں بھی یہ دونوں ملے ہوئے ہوں گے۔ یعنی جن کو یہ پہلا حکم دیا جا رہا ہے، انہی کو یہ دوسرا بھی حکم دیا جا رہا ہے اور جن کو پہلا حکم نہیں دیا جا رہا، ان کو دوسرا حکم بھی نہیں۔ معلوم ہوا جو بالغ ہے، عاقل ہے، مومن ہے، وہ اس پر نماز جیسے واجب ہے، اسی طرح اگر اس کے پاس مال، نصاب کے بقدر مال ہے تو اس پر زکوٰۃ بھی واجب۔ اور بچہ چونکہ نابالغ ہے، مکلف نہیں ہے، تو اس پر نماز واجب نہیں، جب نماز واجب نہیں، تو اس پر یہ زکوٰۃ کی ادائیگی بھی واجب نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو جب دو حکموں کو نظم میں ملایا گیا ہوگا تو وہ دونوں حکم میں بھی ملے ہوں گے۔ یعنی جو ایک حکم کے مخاطب ہیں، وہی دوسرے حکم کے بھی مخاطب ہیں بھئی۔ یہ معنی ہے، صرف متن دیکھ لیں: وَقِیْلَ اور کہا گیا ہے اِنَّ الْقِرَانَ فِی النَّظْمِ کہ نظم کے اندر ملانا بِحَرْفِ الْوَاوِ حرفِ واو کے ساتھ یُوْجِبُ الْقِرَانَ فِی الْحُکْمِ یہ حکم میں بھی ملانے کو ثابت کرتا ہے۔ کیا معنی حکم میں ملانے کا؟ اَيِ الاِشْتِرَاكَ فِيْهِ یعنی اس حکم میں اشتراک کو ثابت کرتا ہے کہ یہ دونوں مشترک ہیں بھئی، لِأَنَّ رِعَايَةَ الْمُنَاسَبَةِ بَيْنَ الْجُمَلِ شَرْطٌ اس لیے کیونکہ مناسبت کی رعایت یہ جملوں کے اندر شرط ہے بھئی۔ بھئی یاد رکھیے، یاد رکھیے بھئی! اگلے سال انشاء اللہ آپ پڑھیں گے مختصر المعانی کے اندر بھئی، بڑی نحو ہے جو۔ ایک تو ابھی تک آپ نحو پڑھتے رہے ہیں، یہ چھوٹی نحو ہے مولانا، اور وہ بڑی نحو ہے بھئی۔ اور اس میں پھر آپ کو ایک ایک نکتہ بتلائیں گے۔ واو کے ذریعے عطف کرنے میں کیا نکتے ہوتے ہیں، یہاں تو آپ کو اتنا بتاتے ہیں کہ واو کے بعد والے کا وہی اعراب ہوگا جو واو سے ماقبل معطوف علیہ کا تھا۔ وہ یہ نہیں بتائیں گے اعراب وہی ہے، نہیں، وہ اس سے گہری بات کی طرف جائیں گے، یہ واو لاتے کیوں ہیں؟ اس کا مقصد کیا ہوتا ہے بھئی؟ ثمّ کیوں لاتے ہیں؟ اس کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ صفت کیوں لاتے ہیں؟ صفت کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ اسم موصول کیوں لاتے ہیں؟ اس کے مقاصد کیا ہوتے ہیں؟ اسی طرح اسم اشارہ لاتے ہیں، اس کے مقاصد کیا ہوتے ہیں؟ یہ ساری چیزیں پھر وہ وہاں بیان کریں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ مختصر المعانی کے اندر۔ تو یہاں پر یاد رکھیے، وہاں ایک باب آئے گا فصل اور وصل کا۔ فصل اور وصل۔ بھئی یاد رکھیے، جب ایک جملے کا آپ عطف کریں دوسرے جملے پر، تو یہ آپ نے وصل کیا، ملا دیا دونوں کو۔ اور ایک ہے فصل، درمیان میں حرفِ عطف نہیں لاتے۔ جیسے اس وقت قرآن کی آیت ہے: أَقِيمُوا الصَّلَاةَ، أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ، درمیان میں واو لایا گیا، تو یہ ہے وصل۔ اگر واو نہ ہوتا، أَقِيمُوا الصَّلَاةَ اور آگے کیا ہوتا؟ آتُوا الزَّكَاةَ، تو یہ فصل ہوتا۔ دیکھو عطف نہیں کیا، معلوم ہوا دونوں کو الگ الگ کر دیا گیا بھئی۔ تو امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب دو حکموں کو آپس میں ملایا گیا ہے نظم میں حرفِ واو کے ذریعے، تو آپ جانتے ہیں وصل کہاں کرتے ہیں؟ جہاں جب دونوں جملوں میں کوئی مناسبت ہوتی ہے۔ اگر مناسبت نہ ہو، پھر وصل نہیں کرتے بلکہ کیا کرتے ہیں؟ فصل۔ اور یہاں واو لایا گیا، معلوم ہوا دونوں میں مناسبت ہے، ایک کا عطف دوسرے پر ہو رہا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں جملوں میں مناسبت ہے اور دونوں میں اشتراک ہے۔ جو ایک جملے کے مخاطب ہیں، وہی دوسرے جملے کے بھی وہی لوگ مخاطب ہیں۔ تو جن پر نماز فرض ہے، انہی پر زکوٰۃ فرض ہے۔ جن پر نماز نہیں فرض، ان پر زکوٰۃ بھی نہیں فرض بھئی۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّ رِعَايَةَ الْمُنَاسَبَةِ بَيْنَ الْجُمَلِ شَرْطٌ اس لیے کیونکہ مناسبت کی رعایت دو جملوں کے درمیان یہ شرط ہے۔ یعنی عطف کے لیے۔ فَلَا تَجِبُ الزَّكَاةُ عَلَى الصَّبِيِّ پس زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی بچے پر لِاقْتِرَانِهَا بِالصَّلَاةِ اس وجہ سے کہ زکوٰۃ ملی ہوئی ہے کس کے ساتھ؟ نماز کے ساتھ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى اللہ تعالیٰ کے اس قول میں: أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ۔ فَهُمَا جُمْلَتَانِ كَامِلَتَانِ عُطِفَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى بِالْوَاوِ پس یہ دونوں کامل جملے ہیں، پورے پورے جملے ہیں کہ عطف کیا گیا ہے ان میں سے ایک کا دوسرے پر واو کے ساتھ، فَيَقْتَضِي التَّسْوِيَةَ بَيْنَهُمَا تو اس سے یہ تقاضا کرتا ہے دونوں کے درمیان برابری کا۔ سمجھ میں آئی؟ دونوں میں برابری کا تقاضا کرتا ہے، یہ جو واو کے ذریعے عطف کیا گیا ہے۔ وَعِنْدَنَا أَيْضًا لَا تَجِبُ الزَّكَاةُ عَلَى الصَّبِيِّ ہمارے نزدیک بھی بچے پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی، لَكِنْ لَا لِأَجْلِ الْعَطْفِ مگر اس عطف کی وجہ سے نہیں، بَلْ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ بلکہ حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے: لَا زَكَاةَ فِي مَالِ الصَّبِيِّ، بچے کے مال میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ وَاعْتَبَرُوْا بِالْجُمْلَةِ النَّاقِصَةِ اور انہوں نے قیاس کیا ہے جملہ ناقصہ پر بھئی۔ کس پر؟ جملہ ناقصہ پر۔ أَيْ قَاسَهَا أُولَئِكَ الْقَائِلُوْنَ الْجُمْلَةَ الْكَامِلَةَ الْمَعْطُوْفَةَ عَلَى الْكَامِلَةِ قیاس کیا ہے ان قائلین نے جملہ کاملہ، وہ جملہ پورا جملہ جس کا عطف کیا گیا ہو دوسرے پورے جملے پر، اس کو انہوں نے قیاس کیا ہے مِثْلُ قَوْلِهِ جیسے کسی شخص کا یہ قول ہے: زَیْنَبُ طَالِقٌ وَھِنْدٌ طَالِقٌ بھئی۔ زَیْنَبُ طَالِقٌ یہ بھی پورا جملہ، اور ھِنْدٌ طَالِقٌ یہ بھی پورا جملہ۔ تو یہ ایک جملے کا جو دوسرے جملے پر عطف ہوا ہے، اس کو انہوں نے قیاس کیا ہے بِالْجُمْلَةِ النَّاقِصَةِ کس پر؟ جملہ ناقصہ پر، الْمَعْطُوْفَةِ عَلَى الْكَامِلَةِ جس کا عطف کیا گیا ہو پورے جملے پر مِثْلُ قَوْلِهِ جیسے کسی شخص کا یہ قول ہے: زَیْنَبُ طَالِقٌ وَھِنْدٌ۔ زَیْنَبُ طَالِقٌ وَھِنْدٌ، یہاں دیکھیے، زَیْنَبُ طَالِقٌ اس پر وَھِنْدٌ کا عطف کیا گیا۔ ہند کے آگے خبر نہیں، معلوم ہوا اسی طالق کے اندر وہ زینب کے ساتھ شریک ہے، دونوں کی خبر کیا ہے؟ طالق ہے بھئی۔ تو چونکہ اب ہند یہ پورا ہی نہیں ہو رہا، لہٰذا اس کے لیے لامحالہ کیا چاہیے ہمیں؟ خبر۔ اور خبر تو کہنے والے نے ذکر نہیں کی، معلوم ہوا وہی خبر ہے جو پہلے ذکر ہوئی بھئی۔ تو جیسے اس کے لیے خبر چاہیے تھی، تو یہاں جیسے دونوں خبر میں شریک ہو گئے۔ طالق جیسے زینب کے لیے خبر، اسی طرح ہند کے لیے بھی خبر۔ تو اسی طرح کہتے ہیں، جب پورے جملے کو پورے جملے پر عطف کیا جائے، تو وہاں بھی اسی طرح ہوگا، یعنی حکم میں ملے ہوئے ہوں گے۔ فَإِنَّهُمَا يَشْتَرِكَانِ فِي الْخَبَرِ لَا مَحَالَةَ پس یہ دونوں جو ہیں، ملے ہوئے ہوں گے، کون؟ زینب اور ہند، یہ دونوں شریک ہوں گے فِي الْخَبَرِ خبر کے اندر لَا مَحَالَةَ قطعی طور پر، فَكَذَا الْأُولَيَانِ اسی طرح پہلے دو جملے بھی ہیں۔ وہ جو مکمل جملے ہیں، وہ بھی اسی طرح ہیں بھئی، جس طرح یہ ناقص جملے کا عطف جو تھا، یہ جس طرح شریک تھے بھئی۔ وَقُلْنَا اور ہم کہتے ہیں کہ اِنَّ عَطْفَ الْجُمْلَةِ عَلَى الْجُمْلَةِ لَا يُوجِبُ الشِّرْكَةَ کہ ایک جملے کا عطف دوسرے جملے پر یہ ثابت نہیں کرتا شرکت کو، لِأَنَّ الشِّرْكَةَ إِنَّمَا وَجَبَتْ فِي الْجُمْلَةِ النَّاقِصَةِ لِافْتِقَارِهَا إِلَى مَا تَتِمُّ بِهِ اس لیے کیونکہ شرکت جو ثابت ہوئی ہے جملہ ناقصہ کے اندر بوجہ اس کے محتاج ہونے کے إِلَى مَا اس چیز کی طرف تَتِمُّ بِهِ جس کے ذریعے وہ پورا ہو جائے۔ بھئی، دوسرے جملے کے اندر تو ہند بھی زینب کے ساتھ شریک ہو گئی تھی طالق کے اندر، کیونکہ وہ محتاج تھا، وہ جملہ پورا ہی نہیں ہو رہا تھا اس کے بغیر بھئی۔ اس وجہ سے وہاں پر جہاں جملہ ناقصہ ہو، وہاں تو وہ محتاج ہوتا ہے خبر کا، اس لیے وہاں وہ خبر میں شریک ہو جاتے ہیں۔ لیکن یہاں تو جب دو جملے پورے ہوں، تو وہاں ایک جملہ دوسرے کا محتاج نہیں بھئی، وہاں شرکت نہیں ہوگی۔ لِافْتِقَارِهَا إِلَى مَا تَتِمُّ بِهِ اس وجہ سے کہ وہ محتاج ہوتا ہے اس چیز کا جس سے وہ پورا ہوتا ہے وَهُوَ الْخَبَرُ اور وہ کیا ہے؟ خبر ہے، اس کے ذریعے پورا ہوتا ہے، تو اس میں اس وجہ سے شریک ہوا۔ فَإِنَّ هِنْدًا كَانَ مُحْتَاجًا إِلَى طَالِقٍ اس لیے کیونکہ ہند جو ہے محتاج ہے طالق کے لفظ کی، اس کے بغیر جملہ پورا نہیں۔ فَلِهَذَا جَاءَتِ الشِّرْكَةُ اسی وجہ سے شرکت آ گئی، بِخِلَافِ الْكَامِلَةِ الْمَعْطُوفَةِ برخلاف اس کامل جملے کے جو معطوفہ ہو، فَإِنَّهَا تَامَّةٌ وہ پورا جملہ ہے، تو وہ محتاج نہیں۔ فَإِذَا تَمَّتْ بِنَفْسِهَا لَا تَجِبُ الشِّرْكَةُ إِلَّا فِيمَا تَفْتَقِرُ إِلَيْهِ پس جب وہ پورا ہو جاتا ہے خود ہی، بھئی جب دو جملوں کا پہلا جملہ پورا ہے، دوسرا ناقصہ ہے، وہ تو محتاج تھا خبر کا دوسرا ناقصہ، لیکن اگر دونوں جملے کیا ہیں؟ پورے ہیں، تو پھر اس صورت میں دوسرا جملہ پہلے کا محتاج نہیں۔ یہ معنی ہے: فَإِذَا تَمَّتْ بِنَفْسِهَا جب دوسرا جملہ خود پورا ہے، لَا تَجِبُ الشِّرْكَةُ تو شرکت ثابت نہیں ہوگی إِلَّا فِيمَا تَفْتَقِرُ إِلَيْهِ مگر اس چیز میں جس کا وہ محتاج ہو۔ ہاں، دوسرا جملہ اگر کسی چیز کا محتاج ہے، پھر وہاں پر شرکت آئے گی، اگر وہ محتاج نہیں تو پھر شرکت بھی نہیں۔ مثلاً دوسرا جملہ کس چیز کا محتاج ہے؟ مثلاً تعلیق کے اندر شرط کا محتاج ہے۔ تعلیق کے اندر؟ بھئی مثلاً ایک شخص جو ہے، وہ اپنی بیوی سے کہتا ہے: إن دخلت الدار فأنت طالق وعبدي حرّ۔ إن، اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے اور میرا غلام آزاد ہے۔ اب وعبدي حرّ، یہ عبدی حرّ پورا جملہ ہے۔ اور اس کا عطف کس پر کیا گیا؟ أنت طالق پر عطف کیا گیا، اور یہ اپنا معنی پورا ادا کر رہا ہے، لہٰذا یہ پہلے کے ساتھ شریک نہیں ہوگا۔ اس کا معنی الگ ہے، اپنا معنی پورا دے رہا ہے، یہ اپنا معنی پورا۔ ہاں، جس چیز میں محتاج ہے، اس میں اس کے ساتھ شریک ہو جائے گا اور یہاں دوسرا جملہ تعلیق میں شرط کا محتاج ہے۔ کس چیز کا؟ شرط کا محتاج ہے اور لہٰذا اس شرط میں وہ اس کے ساتھ شریک ہو جائے گا۔ چنانچہ جب وہ عورت اس گھر میں جائے گی، تو اس کو طلاق بھی ہو جائے گی اور دوسرا بھی اس کے ساتھ شریک تھا شرط میں، تو اس کا غلام بھی کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں اگر وہ خود پورا ہو تو شرکت ثابت نہیں ہوگی إِلَّا فِيمَا تَفْتَقِرُ إِلَيْهِ مگر اس چیز میں جس کے اندر وہ محتاج ہے كَالتَّعْلِيْقِ جیسے کہ تعلیق ہے فِي قَوْلِهِ کسی شخص کے اس قول کے اندر: إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ وَعَبْدِي حُرٌّ، فَإِنَّ الْجُمْلَةَ الْأَخِيْرَةَ اس پس بے شک یہ جو آخری جملہ ہے وَإِنْ كَانَتْ تَامَّةً إِيْقَاعًا اگرچہ یہ پورا ہے واقع کرنے کے اعتبار سے لَكِنَّهَا نَاقِصَةٌ تَعْلِيْقًا لیکن یہ ناقص ہے بائتبار تعلیق کے، اس کے ساتھ الگ شرط نہیں ذکر، فَصَارَتْ مُشْتَرَكَةً مَعَهَا فِي التَّعْلِيْقِ تو یہ مشترک ہو جائے گا اس کے ساتھ تعلیق میں، شریک ہو جائے گا۔ بِخِلَافِ قَوْلِهِ برخلاف کسی شخص کے اس قول کے اندر: إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ وَزَيْنَبُ طَالِقٌ۔ ایک شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے، اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے وَزَيْنَبُ طَالِقٌ اور زینب کو طلاق۔ تو فقہاء فرماتے ہیں: مخاطب جو عورت ہے، جو بیوی ہے، اس کی طلاق تو اس دخولِ دار پر معلق ہو گئی، لیکن آگے جو کہا نا وَزَيْنَبُ طَالِقٌ، یہ اسی وقت واقع ہو گئی، یہ معلق نہیں ہوگی۔ یہ معلق نہیں؟ بھئی کیا وجہ ہے، یہ کیوں نہیں معلق ہوگی؟ یہ بھی تو بعینہِ اسی پہلے جملے کی طرح ہے وَعَبْدِي حُرٌّ، جیسے وہ پورا جملہ تھا، یہ بھی کیا ہے؟ پورا جملہ۔ تو جواب دیں گے آپ کو بھئی، کہتے ہیں اس لیے کہ معلوم ہوا کہنے والا زینب کی طلاق اسی وقت واقع کرنا چاہتا ہے۔ جب وہ اس، جب مخاطبہ کی جو ہے، اس کی طلاق کو تو وہ دخولِ دار پر معلق کرنا چاہتا ہے، لیکن زینب کی طلاق ابھی واقع کرنا چاہتا ہے، بھئی کس طرح پتہ چلا ابھی واقع کرنا چاہتا ہے؟ کہتے ہیں یہ جو زینب کے بعد طالق کا لفظ لایا۔ وَزَيْنَبُ طَالِقٌ، اگر یہ زینب کی طلاق کو بھی معلق کرنا چاہتا، تو طلاق کا لفظ تو ایک دفعہ پہلے گزر چکا تھا اور صرف زینب کو ذکر کر دیتا، وہ بھی اس کے ساتھ شریک ہو جاتی اور دونوں کی طلاق دخولِ دار پر معلق ہو جاتی، لیکن یہ دوبارہ جو طالق لے کر آیا، یہ بتلا رہا ہے کہ یہ زینب کی طلاق کو معلق نہیں کرنا چاہتا، اسے فی الحال طلاق دے رہا ہے، واقع کر رہا ہے۔ بھئی اس طرح تو پچھلے جملے میں بھی ہو سکتا تھا، وہاں بھی، کہتے ہیں نہیں بھئی، وہاں نہیں ہو سکتا، کیونکہ وہاں دونوں کی خبر الگ الگ ہے۔ أنت کی خبر طالق تھی، اور عبدي کی خبر حرّ تھی، تو وہاں خبر الگ تھی، وہاں خبر کو الگ لانا ہی پڑا، مجبوری تھی۔ جبکہ یہاں تو دونوں کی خبر کیا ہے؟ طالق، تو ایک سے ہی کام چل سکتا تھا، پھر بھی اس نے الگ ذکر کیا، معلوم ہوا تعلیق وہ نہیں چاہتا یہاں بھئی۔ فَإِنَّهُ لَا يُعَلَّقُ طَلَاقُ زَيْنَبَ یہاں طلاق معلق نہیں کی جائے گی زینب کی، إِذْ لَوْ كَانَ غَرَضُهُ التَّعْلِيْقَ اس لیے کیونکہ اگر وہ خاوند کی، کا مقصد جو ہے وہ تعلیق ہوتی، وہ اس طلاق کو بھی معلق کرنا چاہتا لَقَالَ بَلْ وَزَيْنَبُ تو وہ صرف کیا کہتا؟ وَزَيْنَبُ کہتا، بِدُونِ ذِكْرِ الْخَبَرِ خبر کو ذکر کیے بغیر ہی، لِأَنَّ خَبَرَ كِلْتَا الْجُمْلَتَيْنِ وَاحِدَةٌ اس لیے کیونکہ دونوں جملوں کی خبر ایک ہی ہے، فَإِذَا أَعَادَهُ پھر جب اس نے اس کو لوٹایا، یعنی دوبارہ خبر کو ذکر کر دیا عُلِمَ أَنَّ غَرَضَهُ التَّنْجِيْزُ تو معلوم ہوا اس کی غرض اور مقصد کیا ہے؟ التنجیز، تنجیز کا معنی ہے واقع کرنا۔ ایک ہے تعلیق، ایک ہے تنجیز۔ تعلیق کا معنی معلق کرنا، تنجیز کا معنی واقع کرنا۔ وَالْعَامُّ إِذَا خَرَجَ مَخْرَجَ الْجَزَاءِ هَذَا وَجْهٌ خَامِسٌ مِنَ الْوُجُوهِ الْفَاسِدَةِ، یہ پانچویں وجہ ہے وجوہِ فاسدہ میں سے۔ کہتے ہیں: وَالْعَامُّ إِذَا خَرَجَ مَخْرَجَ الْجَزَاءِ اور عام جب وہ آئے جزا کے طور پر، جزا کے مقام میں، کہتے ہیں: هَذَا وَجْهٌ خَامِسٌ مِنَ الْوُجُوهِ الْفَاسِدَةِ یہ پانچویں وجہ ہے وجوہِ فاسدہ میں سے، أَوْرَدَهُ عَلَى خِلَافِ الطَّرْزِ السَّابِقِ یہاں اس کو مصنف لے کر آئے ہیں سابقہ طریقے کے خلاف۔ بھئی پہلے کیا تھا؟ وجوہِ فاسدہ چل رہی ہیں نا، اور وجوہِ فاسدہ میں مصنف کیا کرتے تھے؟ وجہِ فاسد کو پہلے ذکر کرتے تھے اور اپنے مذہب کو بعد میں بھئی۔ تو اصالةً وجہِ فاسد کو ذکر کرتے اور طبعاً پھر اپنے مذہب کو ذکر کرتے، یہاں مصنف نے عکس کیا۔ اپنے مذہب کو پہلے اصالةً ذکر کیا اور وجہِ فاسد کو طبعاً ذکر کیا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: أَوْرَدَهُ عَلَى خِلَافِ الطَّرْزِ السَّابِقِ یہاں اس کو لے کر آئے ہیں مصنف سابقہ طریقے کے خلاف، حَيْثُ أَوْرَدَ مَذْهَبَهُ أَصَالَةً اس حیثیت سے کہ لے کر آئے ہیں اپنے مذہب کو اصالت، اصالت کے طور پر، وَالْمَذْهَبَ الْفَاسِدَ طَبَعًا اور مذہبِ فاسد کو طبعاً لائے ہیں۔ وَتَفْصِيلُهُ اور تفصیل اس کی یہ ہے کہ أَنَّ صِيغَةَ الْعَامِّ إِذَا أُوْرِدَتْ فِي حَقِّ شَخْصٍ خَاصٍّ جب اس کو لایا جائے کسی خاص شخص کے حق میں، کسی خاص شخص کے بارے میں، فِي نَفْسِ النَّصِّ نص کے اندر أَوْ قَوْلِ الصَّحَابَةِ یا کس میں؟ قولِ صحابہ کے قول میں، فَإِنْ كَانَتْ كَلَامًا مُبْتَدَأً پس اگر وہ نیا کلام ہوا فَلَا خِلَافَ فِي أَنَّهَا عَامَّةٌ لِجَمِيعِ أَفْرَادِهَا تو اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ وہ عام ہوگا اپنے تمام افراد کے لیے، وَلَا تَخْتَصُّ بِسَبَبٍ خَاصٍّ اور وہ مختص نہیں ہوگا اس خاص سبب کے ساتھ وَرَدَتْ فِيْهِ جس میں وہ وارد ہوا ہے۔ وَأَمَّا إِذَا لَمْ تَكُنْ كَذَلِكَ اور اگر ایسا نہ ہوا، بَلْ خَرَجَتْ مَخْرَجَ الْجَزَاءِ بلکہ وہ کس طریقے پر آیا عام؟ جزا کے مقام پر آیا، یعنی جزا کے طور پر آیا، كَمَا رُوِيَ جیسے روایت کیا گیا ہے کہ أَنَّ مَاعِزًا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ زَنَى فَرُجِمَ کہ حضرت ماعز رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے زنا سرزد ہوا پس ان کو رجم کر دیا گیا۔ أَوْ سَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَجَدَ، حضور علیہ السلام سے سہو ہوا، فَقَالَتْ: تو آپ نے سجدہ کیا۔ فَإِنَّ قَوْلَهُ، پس یہ جو کہلایا بَيْنَ النَّصِّ کے اندر، إِنَّ مَاعِزًا زَنَى فَرُجِمَ. یہ رُجِمَ، اور اسی طرح آگے آیا فَسَجَدَ. یہ رُجِمَ اور سَجَدَ کے لفظ عام ہیں۔ فَإِنَّ قَوْلَهُ رُجِمَ وَسَجَدَ عَامٌّ، رُجِمَ اور سَجَدَ کے قول جو ہیں عام ہیں۔ صَالِحٌ فِي نَفْسِهِ لِكُلِّ رَجْمٍ وَكُلِّ سُجُودٍ وَوَقَعَ مَوْقِعَ الْجَزَاءِ. یہ عام ہیں، صلاحیت رکھتے ہیں اپنی ذات کے اعتبار سے ہر رجم کی اور ہر سجدے کی۔ وَوَقَعَ مَوْقِعَ الْجَزَاءِ، اور کس مقام پر آئے ہیں؟ جزا۔ بھئی، جزا سے مراد وہ نحوی جزا نہیں ہے جو شرط کے بعد لائی جاتی ہے، بلکہ یہاں مطلق مراد یہ ہے کہ یعنی کہ ما بعد ما قبل پر مرتب ہو رہا ہو۔ ما بعد کیا ہو؟ ما قبل پر مرتب ہو رہا ہو، جیسے یہاں فاء لائی گئی۔ إِنَّ مَاعِزًا زَنَى فَرُجِمَ، تو یہ رجم کس پر مرتب ہو رہا ہے؟ ما قبل پر۔ اسی طرح، سَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَجَدَ، یہ سجدہ کس پر مرتب ہو رہا ہے؟ ما قبل پر، یہ فاء بتلا رہی ہے۔ تو جزا سے وہ نحوی جزا مراد نہیں ہے جو شرط میں آئے، بلکہ کیا مراد ہے؟ کہ ما بعد کس پر مرتب ہو رہا ہو؟ ما قبل پر مرتب ہو رہا ہو بھئی۔ اب دیکھیے، یہاں رجم آیا، فَرُجِمَ. اب یہ عام ہے بھئی۔ اسی طرح آیا فَسَجَدَ، یہ بھی کیا ہے؟ عام ہے۔ بھئی، رجم رجم کیا گیا۔ ساتھ یہ نہیں ذکر: لِأَجْلِ الزِّنَى، کس کی وجہ سے؟ ہاں، بس اتنا ہے: فَرُجِمَ، کیا کیا گیا؟ ما قبل میں بے شک ذکر ہے، ہم اس کی بات نہیں کر رہے، ہم صرف فَرُجِمَ لفظ پہ ہماری نظر ہے، رُجِمَ. اس کے اندر ساتھ سبب کا ذکر نہیں، تو یہ عام ہوا۔ اسی طرح فَسَجَدَ آیا، تو سَجَدَ، لِلسَّهْوِ، یہ ساتھ ہے کوئی؟ نہیں، قید کوئی نہیں ذکر، تو یہ عام آیا۔ تو عام سے مراد آگے اپ کو بتلائیں گے، وہ عام نہیں مراد جو اپ نے بحث پڑھی تھی کہ وہ نام ہے اس چیز کا جو افراد پر بولا جائے۔ کس پر بولا جائے؟ خاص اس کو کہتے تھے نا جس میں افراد نہیں ہوتے تھے، اور عام جس میں افراد ہوتے تھے۔ کہتے ہیں وہ عام نہیں مراد۔ اس لیے کیونکہ اگر وہ عام مراد لیں، تو وہ تو نام تھا اسم کا، اور یہ تو سَجَدَ اور رُجِمَ تو فعل ہیں، یہ تو اس میں داخل ہی نہیں ہو سکتے بھئی۔ تو لہٰذا، مراد کیا ہے؟ مطلق مراد ہے، یعنی جس میں کوئی قید نہیں۔ تو یہ عام ہے اور صلاحیت رکھتا ہے اپنی ذات کے اعتبار سے ہر رجم کی، رُجِمَ، رجم کیا گیا۔ یہ صلاحیت رکھتا ہے، یہ رجم کون سا ہو سکتا ہے؟ زنا کی وجہ سے بھی، یہ رجم کس کی وجہ سے ہو سکتا ہے؟ مرتد وغیرہ ہونے کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے، یا یہ رجم کسی کو قتل وغیرہ کیا تھا، اس طریقے پر بھی، اس کے طور پر بھی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح سجدے کا ذکر آیا، سجدہ کیا۔ سہو کے لیے، یہ تو ساتھ ذکر نہیں، تو یہ سجدہ بھی عام ہوا۔ یہ سجدہ ہو سکتا ہے سہو کے لیے بھی ہو سکتا ہے، یہ سجدہ تلاوت وغیرہ کا بھی ہو سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ عام ہے۔ تو اب جب عام آئے، تو اس صورت میں دیکھیے تفصیل یہ ہے کہ عام آئے، عام کا صیغہ، یعنی مطلق کوئی لفظ آئے کہ عام کا جو لفظ آیا، وہ جزا کے طور پر ہوگا یا جزا کے طور پر نہیں ہوگا؟ جزا کے طور پر کیا معنی؟ ما قبل پر مرتب ہو رہا ہوگا یا ما قبل پر مرتب نہیں ہو رہا ہوگا؟ اگر ما قبل پر مرتب نہیں ہو رہا، پھر بالاتفاق جو ہے تو کہ یہ تمام افراد کو شامل ہوگا۔ اس میں عموم ہوگا، یہ تمام افراد کو شامل ہوگا۔ اور اگر یہ جزا کے طور پر ہوا، ایک صورت یہ، یا پھر یہ سوال کے جواب میں آیا بھئی، جواب کے طور پر آیا، کس طریقے پر؟ جواب کے طور پر آیا، تو پھر اس صورت میں یہ مستقل ہوگا یا مستقل نہیں ہوگا؟ اگر مستقل ہے، پھر اس کے اندر جواب دینے والے نے کچھ زیادتی کی سوال پر، یا سوال پر زیادتی نہیں کی؟ تو یہ چار پانچ صورتیں بن جائیں گی بھئی۔ پہلی صورت کیا؟ کہ عام آئے اور جزا کے طور پر جزا کے طور پر ہوگا یا نہیں ہوگا؟ ایک صورت ہو گئی جزا کے طور پر ہوگا۔ دوسری صورت جزا کے طور پر نہیں ہوگا۔ تو یہ جزا کے طور پر ہوگا يا جواب کے طور پر ہے؟ اگر جواب کے طور پر ہے، جواب کے بھئی، یعنی سوال کے بعد آیا ہے، جواب کے طور پر ہے، تو جواب کے اندر پھر یہ مستقل ہوگا یا مستقل نہیں ہوگا؟ مستقل نہیں، تو وہ بھی عام نہیں۔ اگر مستقل ہے، پھر اس کے اندر زیادتی کچھ کہنے والے نے کی ہوگی يا زیادتی نہیں کی ہوگی؟ اگر جزا کے طور پر آئے، کس طریقے پر آئے؟ جزا کے طور پر آئے، تو اس صورت میں بھی یہ عام نہیں ہوگا، اپنے سبب کے ساتھ مختص ہوگا۔ جزا کے طور پر ائے۔ اگر جزا کے طور پر نہیں، نئے سے جیسے کلام ہے، پھر کیا ہوگا؟ پھر عام ہوگا۔ توجہ سے سنیں بھئی، پھر عام ہوگا۔ اور اگر یہ کس طریقے پر ہے؟ جواب کے طور پر ہے، تو جواب کے اندر پھر مستقل ہوگا یا مستقل نہیں ہوگا؟ اگر مستقل نہیں، تو بھی عام نہیں۔ اگر مستقل ہے، پھر اس نے اس میں کچھ زیادتی کی ہوگی یا زیادتی نہیں کی ہوگی؟ اگر زیادتی نہیں کی، پھر اس صورت میں کہتے ہیں کہ یہ ہماری بحث سے یہ قسم خارج ہے بھئی۔ اگر مستقل ہے اور زیادتی نہیں کی، تو پھر ہماری بحث سے خارج۔ لیکن اگر مستقل ہے، اور اس نے کہنے والے نے کچھ زیادتی بھی کر دی، جس چیز کے جواب میں اس کو لے کر آیا ہے اس سے کچھ زائد لفظ بھی اس نے ساتھ ملا دیا، تو پھر اس کے اندر کہتے ہیں اختلاف ہے۔ ہمارے نزدیک یہ جو زیادتی کی ہے اس کی وجہ سے اب یہ زیادتی اپنا اثر دکھائے گی اور اس کے اندر عموم آئے گا۔ جبکہ دیگر ائمہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ یہ پھر بھی اپنے سبب کے ساتھ ہی خاص رہے گا۔ کس کے ساتھ؟ اپنے سبب کے ساتھ ہی خاص رہے گا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ عام آیا، کہاں پر آیا؟ جزا کے طور پر ہوگا یا نئے کلام کے طور پر؟ اگر نئے کلام کے طور پر ہے پھر تو عام، عام ہوگا۔ لیکن اگر یہ جزا کے طور پر ہے یعنی ما قبل پر مرتب ہو رہا ہے تو پھر یہ اپنے سبب کے ساتھ ہی خاص رہے گا۔ اور اگر جواب کے طور پر آیا ہے، تو جواب کے طور پر پھر وہ مستقل ہوگا یا مستقل نہیں ہوگا؟ اگر مستقل نہیں ہے تو بھی کیا ہے اپنے اب اپنے اپنے سبب کے ساتھ خاص ہوگا، کس کے ساتھ؟ اپنے سبب کے ساتھ خاص ہوگا۔ اور اگر مستقل ہے، پھر اس نے اس میں کچھ زیادتی کی ہوگی یا زیادتی نہیں کی ہوگی؟ اگر زیادتی نہیں کی، تو پھر اس صورت میں یہ ہماری بحث سے خارج، اور اگر اس نے کچھ زیادتی کی ہے اس کے اندر، تو پھر اس صورت میں اختلاف ہے بھئی، ہمارے نزدیک عام ہوگا اور دیگر ائمہ کے نزدیک اپنے سبب کے ساتھ خاص ہوگا۔ دیکھیے، آگے مثالیں آئیں گی اور بات واضح ہو جائے گی بھئی۔ دیکھیے، پہلے انہوں نے کہا: فَإِنْ كَانَتْ كَلاَمًا مُبْتَدَأً، اگر وہ نیا کلام ہو، فَلاَ خِلاَفَ فِي أَنَّهَا عَامَّةٌ لِجَمِيعِ أَفْرَادِهَا، تو اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ یہ عام ہوگا اپنے تمام افراد کے لیے۔ جزا کے طور پر نہیں آیا، بلکہ نئے کلام، بھئی، وَإِذَا خَرَجَ مَخْرَجَ الْجَزَاءِ کے نیچے دوسری تیسری سطر ہے۔ فَإِنْ كَانَتْ، کہ عام کا صیغہ آیا، کسی خاص شخص کے بارے میں آیا، کس کے بارے میں آیا؟ بھئی، آیا تو کسی خاص شخص کے بارے میں، لیکن لفظ عام ذکر کر دیا گیا۔ تو اب اگر یہ نئے کلام کے طور پر ہے، یعنی ما قبل پر مرتب نہیں ہو رہا، پھر تو یہ عام ہے بالاتفاق۔ ما قبل پر مرتب نہیں ہو رہا، تو پھر یہ عام ہوگا۔ لیکن اگر یہ ما قبل پر مرتب ہو رہا ہے، یہ والی صورت، اور آگے جتنی صورتیں ہیں دو تین آئیں گی، ان سب میں وہ اپنے سبب کے ساتھ خاص رہے گا، دوسری جگہ وہ حکم ثابت نہیں کرے گا بھئی۔ دوسری جگہ اگر حکم ثابت ہوگا، تو وہ پھر قیاس یا دوسری نص کے ذریعے تو ثابت ہو سکتا ہے، اسی نص کے ذریعے نہیں ثابت ہو سکتا۔ کیا آیا؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ مثالیں آئیں گی انشاء اللہ، سب واضح ہو جائیں گی یہ باتیں، لیکن ذرا یہی سمجھ لیں۔ عام آئے، صیغہ عام آیا، یا تو وہ جزا کے طور پر ہوگا یا جزا کے طور پر نہیں ہوگا۔ اگر جزا کے طور پر نہیں، تو اس میں عموم ہوگا، وہ تمام افراد کو شامل ہوگا۔ اگر وہ جزا کے طور پر ہے، تو پھر وہ اپنے سبب کے ساتھ خاص ہے، یعنی اس میں صرف اسی شخص کی بات ہو رہی ہے جس کے بارے میں یہ نص آئی ہے، کسی اور کا ذکر اس میں نہیں۔ پھر باقیوں میں اگر حکم ثابت کرنا ہے، وہ قیاس کے ذریعے ثابت کرنا پڑے گا یا کس کے ذریعے ثابت کرنا پڑے گا؟ کسی دوسری نص کے ذریعے ثابت کرنا پڑے گا، اس میں عموم نہیں۔ کیونکہ یہ تو ما قبل پر کیا ہو رہا ہے؟ مرتب ہو رہا ہے، اسی سے تعلق ہے، کسی اور سے اس کا تعلق نہیں۔ تیسری صورت، عام آیا، اور کس مقام پر آیا؟ جواب کے طور پر آیا۔ جب جواب کے طور پر آیا، پھر وہ مستقل ہوگا یا مستقل نہیں ہوگا؟ اگر مستقل نہیں ہے، جب وہ مستقل ہی نہیں ہے، تو کسی اور کیسے یہ اس صورت میں بھی کسی اور سے اس کا تعلق نہیں، اس میں عموم نہیں، بلکہ یہ کس سے خاص ہوگا؟ اپنے سبب کے ساتھ ہی خاص ہوگا، اس کا تعلق صرف اسی بات سے ہے جس کے جواب میں آیا، اور کسی چیز سے اس کا تعلق نہیں۔ اور اگر وہ مستقل ہے، پھر اس صورت میں اس میں کوئی زیادتی کہنے والا، جو بات کر رہا ہے اس نے کوئی زائد لفظ ذکر کیا ہوگا یا زائد لفظ نہیں؟ اگر زائد لفظ ذکر نہیں کیا، پھر تو ہے ہماری بحث سے خارج، اور اگر زائد لفظ ذکر کیا ہے، اس کے اندر اختلاف ہے۔ ہمارے نزدیک اس میں عموم آئے گا، دوسرے ائمہ کے نزدیک اس میں عموم نہیں آئے گا بھئی۔ تو یہ جو یہاں کہیں نہ اپنے سبب کے ساتھ خاص ہے، اس کا مطلب ہے اس میں صرف اسی کا ذکر ہے جس بارے میں یہ نص آئی ہے، اسی کی بات ہو رہی ہے۔ باقیوں کا اس میں ذکر ہی نہیں ہے۔ باقیوں کے لیے یہی حکم ثابت کرنا چاہتے ہو، تو اس نص میں تو اس کا ذکر نہیں ہے، قیاس کرنا پڑے گا۔ اگر وہ بھی اسی کی طرح ہے، تو حکم ثابت ہو جائے گا، وہ اس کی طرح نہیں تو حکم بھی ثابت نہیں۔ یا قیاس نہیں، ہو سکتا ہے اگر کسی دوسری نص میں آیا ہے، تو وہاں سے اس کا پتہ چل جائے گا۔ لیکن بہرحال، اس نص سے کسی دوسرے کا پتہ نہیں، اس نص میں صرف اسی شخص کا ذکر ہے جس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ بھئی، دیکھیے، آیت ظہار حضرت خولہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بارے میں نازل ہوئی۔ اسی طرح آیت سرقہ جو ہے، وہ بھی خاص موقع پر نازل ہوئی۔ تو بہت سی آیات جوں جوں واقعات پیش آتے تھے اس کے مطابق قرآن نازل ہوتا تھا شری احکام۔ تو اب یہ شرعی حکم تو اس خاص واقعے کے بارے میں نازل ہوا تھا، کیا ہر جگہ اسی طرح حکم ہوگا یا نہیں؟ تو یاد رکھنا، ضابطہ ابھی ذکر ہوا۔ کہ اگر کلام کیا ہو؟ نئے سرے سے مستقلاً ہو، پھر کیا ہوگا؟ عام ہوگا، کیا ہوگا؟ عام ہوگا، اور اگر یہ ما قبل پر کیا ہو رہا ہے؟ مرتب ہو رہا ہے، تو پھر اسی سبب کے ساتھ خاص ہوگا، پھر باقیوں کا حکم کس سے پتہ چلائیں گے؟ قیاس کرنا پڑے گا یا نص آخر۔ اور اگر جواب کے طور پر آیا ہے، تو پھر مستقل ہوگا یا غیر مستقل؟ اگر مستقل نہیں، تو پھر اس صورت میں بھی اسی کے ساتھ بند ہوگا، اسی سے تعلق ہوگا۔ اور اسی طرح کیا ہو اگر؟ اگر مستقل ہے، تو بحث سے خارج، اور اگر مستقل ہے اور اس پر کوئی لفظ بھی بڑھا دیا، تو اس کے مطابق ہمارے نزدیک اس میں عموم آئے گا، جبکہ باقیوں کے نزدیک عموم نہیں آئے گا بھئی۔ تو جیسے: وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا. دیکھو، یہاں کوئی فاء ذکر ہے؟ جی؟ فاء نہیں ذکر۔ فَاقْطَعُوا، السَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ، یہاں پر فاء نہیں ذکر، تو لہٰذا معلوم ہوا یہ حکم عام ہے۔ یہ حکم کیا ہے؟ عام ہے، جو بھی چوری کرے گا اس کا یہ حکم ہے۔ واقعہ تو خاص تھا، لیکن نص کیا آئی؟ مطلق آئی، عام آ گئی، معلوم ہوا سب کا یہ حکم ہے بھئی۔ حضرت خولہ رضی اللہ تعالی عنہا کا واقعہ تھا، لیکن: وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ، یہ نص کیا آ گئی؟ عام آ گئی، اور فاء کے ساتھ یہ ما قبل پر مرتب بھی نہیں ہے بھئی، معلوم ہوا یہ عام حکم ہے، جہاں بھی یہ مسئلہ آئے گا، سب کا بیان کر دیا گیا، یوں کرنا پڑے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دیکھیے، اب دوبارہ متن دیکھ لیں: وَالْعَامُّ إِذَا خَرَجَ مَخْرَجَ الْجَزَاءِ، اور عام جب جو ہے وہ جزا کے مقام میں آئے، شرح میں آگے آ رہا ہے ایک ڈیڑھ سطر بعد: وَتَفْصِيلُهُ، تفصیل اس کی یہ ہے: أَنَّ صِيغَةَ الْعَامِّ إِذَا أُورِدَتْ، جب وہ وارد کیا جائے، لایا جائے کسی خاص شخص کے بارے میں فِي نَصٍّ، نص میں، أَوْ قَوْلِ الصَّحَابَةِ، یا صحابہ کے قول میں، فَإِنْ كَانَتْ كَلاَمًا مُبْتَدَأً، اگر وہ نیا کلام ہے، یعنی ما قبل پر مرتب نہیں کیا جا رہا، فاء کے وغیرہ کے ساتھ وہ ذکر نہیں، فَلاَ خِلاَفَ فِي أَنَّهَا عَامَّةٌ لِجَمِيعِ أَفْرَادِهَا، تو اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ یہ عام ہوگا اپنے تمام افراد کے لیے، جو جن میں وہ علت ہوگی جو وہ بات وہ ان سب کا حکم اکٹھا ہی بیان کر دیا گیا بھئی۔ وَلاَ تَخْتَصُّ بِسَبَبٍ خَاصٍّ، اور وہ اپنے سبب خاص کے ساتھ مختص نہیں ہوگا، حضرت خولہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بارے میں جو وہ ظہار کا حکم اللہ نے نازل فرمایا، وہ انہی کے مسئلے کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ عام لفظ لائے گئے، تو معلوم ہوا سب کا یہی حکم ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ چنانچہ بھئی، مشہور فقہی ضابطہ ہے: الْعِبْرَةُ لِعُمُومِ اللَّفْظِ لاَ لِخُصُوصِ السَّبَبِ. الْعِبْرَةُ لِعُمُومِ اللَّفْظِ لاَ لِخُصُوصِ السَّبَبِ. اعتبار جو ہے، وہ عموم الفاظ کا ہے، خصوص سبب کا اعتبار نہیں، خاص سبب کے بارے میں نص آئی ہے اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا، بلکہ کس کو دیکھا جائے گا؟ نص کے الفاظ کو، اگر وہ عام ہیں تو سب کا یہ حکم بیان ہو رہا ہے، صرف ان کا حکم نہیں، لیکن اگر لفظ بھی خاص ہیں، پھر تو انہی کا حکم بیان ہو رہا ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وَأَمَّا إِذَا لَمْ تَكُنْ كَذَلِكَ، اور اگر ایسا نہ ہو، بَلْ خَرَجَتْ مَخْرَجَ الْجَزَاءِ، بلکہ وہ جو ہے، وہ عام جو ہے، وہ جزا کے مقام میں آیا ہے، كَمَا رُوِيَ، جیسے روایت کیا گیا ہے: أَنَّ مَاعِزًا زَنَى فَرُجِمَ. دیکھو، فاء لائی گئی۔ اگر فاء نہ ہوتی، تو پھر کیا تھا؟ عام تھا، لیکن اب کیا ہے؟ خاص ہوا اپنے سبب کے ساتھ۔ تو ان کو رجم کیا گیا، أَوْ سَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَجَدَ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سہو ہوا، تو آپ نے سجدہ فرمایا، فَإِنَّ قَوْلَهُ رُجِمَ وَسَجَدَ عَامٌّ، رُجِمَ اور سَجَدَ کا قول جو ہے، یہ تو عام ہے، صَالِحٌ فِي نَفْسِهِ لِكُلِّ رَجْمٍ وَكُلِّ سُجُودٍ، اور یہ صلاحیت رکھتا ہے ہر رجم اور ہر سجدہ کے، سجدے کی بھئی، سُجُودٍ مصدر ہے سجدہ کرنے کے۔ وَوَقَعَ مَوْقِعَ الْجَزَاءِ، اور یہ کس مقام پر آیا؟ جب جزا کے مقام پر آیا، اب یہ اپنے سبب کے ساتھ خاص ہے بھئی۔ أَوْ مَخْرَجَ الْجَوَابِ، یا وہ عام کس مقام پر آیا؟ جواب کے مقام میں آیا، وَلَمْ يَزِدْ عَلَيْهِ، اور حال یہ کہ اس شخص نے اس پر کچھ زیادتی بھی نہیں کی، بِأَنْ يَقُولَ مَنْ دُعِيَ إِلَى الْغَدَاءِ، بائیں طور کہ کہتا ہے وہ شخص جس کو دعوت دی گئی ہے چاشت کے کھانے کی، ایک آدمی کو دوسرے نے دعوت دی: آؤ بھئی، میرے ساتھ کھانا کھاؤ چاشت کا، اس نے کہا: إِنْ تَغَدَّيْتُ فَعَبْدِي حُرٌّ، اگر میں چاشت کا کھانا کھاؤں، تو میرا غلام آزاد ہے۔ اب دیکھیے۔ اگر صرف لفظوں کو دیکھا جائے تو اس نے تو کہا ہے میں اگر چاشت کا کھانا کھاؤں تو میرا غلام کیا ہے؟ معلوم ہوا یہاں کھائے، کہیں اور کھائے، اکیلا کھائے، کسی کے ساتھ کھائے، ہر جگہ اس میں غلام کو کیا ہونا چاہیے؟ لیکن یہ اس نے جواب کے طور پر کہا ہے اور کوئی لفظ زیادہ کیا؟ کوئی لفظ زیادہ نہیں کیا، جس چیز کی طرف بلایا تھا اسی کی بات کی ہے: "إن تغديت فعبدي حر"۔ ہاں اگلی مثال ایک آئے گی، اس میں کہے گا: "إن تغديت اليوم فعبدي حر"۔ اگر آج میں نے چاشت کا کھانا کھایا تو میرا غلام آزاد۔ احناف کہتے ہیں یہ جو "اليوم" کا لفظ اس نے بڑھا دیا، یہ اب اپنا اثر دکھائے گا بھئی۔ اب اس میں عموم آ جائے گا، اب یہ اپنے سبب کے ساتھ خاص نہیں۔ پہلے تو کیا تھا؟ اگرچہ کلام مستقل تھا لیکن اس نے کوئی لفظ اس میں بڑھایا نہیں تھا، جتنا اس سے کہا گیا تھا اتنا ہی اس نے جواب میں ذکر کیا اور اب اس نے کون سا لفظ بڑھا دیا؟ "اليوم"۔ اب کہتے ہیں آج کے دن میں وہ چاہے اس کے ساتھ چاشت کا کھانا کھائے، کسی اور کے ساتھ، اکیلا کھائے، ہر صورت میں غلام کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا بھئی۔ "فإنه وقع في موضع الجواب" پس یہ جو ہے واقع ہوا ہے جواب کے مقام میں، "ولم يزد على قدره" اور اس نے زیادتی بھی نہیں کی اس کی مقدار پر، یعنی کوئی لفظ نہیں بڑھایا، "ولم يستقل بنفسه" اور مستقل نہ ہو اپنی ذات کے اعتبار سے۔ "عطفا على قوله ولم يزد" یہ عطف ہے مصنف کے قول "ولم يزد" پر، "فهو قيد للجواب" تو یہ قید ہے جواب کے لیے، جیسے وہ قید تھی جواب کے لیے۔ کیا تھا؟ متن پہ دوبارہ نظر رکھو: جواب کے طور پر آئے عام "ولم يزد عليه" اور وہ اس پر کوئی زیادتی نہ کرے، ایک صورت یہ۔ "أو مخرج الجواب" وہ جواب کے طور پر آئے "ولم يستقل بنفسه" اور خود مستقل نہ ہو بھئی، یہ دوسری صورت آ گئی۔ "فهو قيد للجواب" تو یہ قید ہے جواب کے لیے، "أي خرج مخرج الجواب" یعنی وہ عام جو ہے جواب کے طور پر آیا "ولم يكن مستقلا بنفسه" اور وہ مستقل نہیں تھا اپنی ذات کے اعتبار سے، "بأن قال شخص لآخر" بایں طور کہ کہا کسی شخص نے دوسرے سے: "أليس لي عليك ألف درهم" کیا میرے تم پر ایک ہزار درہم نہیں ہیں؟ "فقال بلى" اس نے کیا کہا؟ کیوں نہیں۔ تو دیکھو، بلى، یہ کوئی مستقل کلام ہے؟ یہ مستقل ہے، کلام ہی نہیں ہے۔ "أو قال" یا کسی نے دوسرے سے کہا: "أكان لي عليك ألف درهم" کیا میرے آپ پر ایک ہزار درہم ہیں؟ "فقال نعم" اس نے کہا: ہاں۔ تو یہ دیکھو، نعم کیا ہے؟ غیر مستقل۔ اگر یوں کہتا: "لك علي ألف درهم"، اس نے کیا کہا تھا؟ پہلا سوال: "أليس لي عليك ألف درهم" کیا میرے آپ پر ایک ہزار درہم نہیں ہیں؟ اس نے غیر مستقل کلام کیا، صرف "بلى" یا "نعم" کہہ دیا۔ دونوں سوالوں کے مطابق، ایک میں جواب میں کیا کہا؟ "بلى"، دوسرے میں "نعم"۔ اگر وہ مستقل کلام کرتا، یوں کہتا: "لك علي ألف درهم"، پھر تو یہ ہماری بحث سے خارج ہوتا، غیر مستقل کی بات کی۔ "فلأنه إن كان مستقلا بنفسه" اگر یہ مستقل ہوتا اپنی ذات کے اعتبار سے، "بأن يقول" بایں طور کہ وہ یوں کہتا جواب میں: "لك علي ألف درهم" کہ تمہارے مجھ پر ایک ہزار درہم ہیں، "فهو إقرار مبتدأ" پھر یہ تو نیا اقرار ہوتا، "خارج عما نحن فيه" یہ خارج ہوتا اس بحث سے جس میں ہم ہیں بھئی۔ "يختص بسببه" ان صورتوں کے اندر یہ عام خاص ہوگا اپنے سبب کے ساتھ۔ کون سی تین صورتیں ذکر کر دیں؟ عام جب جزا کے طور پر آئے یعنی ماقبل پر مرتب ہو رہا ہو۔ دوسری صورت: جواب کے طور پر ہے لیکن مستقل نہیں ہے۔ تیسری صورت: جواب کے طور پر ہے لیکن اس میں اس نے کوئی زیادتی نہیں کی بھئی۔ تو "يختص بسببه" اس صورت میں مختص ہوگا وہ عام اپنے سبب کے ساتھ، "أي يختص العام في هذه الصور الثلاث بسبب الورود اتفاقا" عام خاص ہوگا ان تین صورتوں کے اندر اس سبب ورود کے، وارد ہونے والے سبب کے ساتھ بالاتفاق، "ولا يحتمل ابتداء الكلام قطعا" اور یہ کبھی بھی ابتدائے کلام کا احتمال نہیں رکھتا۔ تو یہ انہی کے ساتھ خاص ہوگا۔ پھر باقیوں کا حکم اگر ایسی جگہ پر ہم نے معلوم کرنا ہے، ان کا حکم کس سے پتہ چلائیں گے؟ قیاس یا دوسری نص سے پتہ چلائیں گے۔ "وإن زاد على قدر الجواب" اور اگر اس نے بڑھا دیا جواب کی مقدار پر، "بأن يقول المدعو إلى الغداء" بایں طور کہ وہ جس کو دعوت دی گئی ہے چاشت کے کھانے کی طرف وہ کہتا ہے: "إن تغديت اليوم فعبدی حر" اگر آج میں نے چاشت کا کھانا کھایا تو میرا غلام آزاد ہے، "وهذا هو القسم الرابع المتنازع فيه" اور یہ وہ چوتھی قسم ہے جس میں تنازع ہے، جھگڑا ہے، اختلاف ہے۔ "فعندنا لا يختص بسببه" ہمارے نزدیک یہ اب اپنے سبب کے ساتھ خاص نہیں رہے گی، کیونکہ اس نے لفظ کیا کر دیا؟ بڑھا دیا۔ "ويصير مبتدأ" اور یہ نیا کلام ہوا، "حتى لا تلغو الزيادة" یہاں تک کہ وہ جو اس نے زیادتی اس میں لفظ بڑھایا ہے، وہ جو زائد لفظ ہے وہ لغو نہیں ہوگا، "خلافا للبعض" بخلاف بعض علماء یا فقہاء کے، "وهو مالك والشافعي وزفر رحمهم الله تعالى" وہ امام مالک، امام شافعی اور امام زفر رحمہم اللہ تعالی ہیں۔ "فعندهم يختص بسببه أيضا" تو ان کے نزدیک یہ بھی اپنے سبب کے ساتھ خاص ہوگا، "فإن تغدى في ذلك اليوم مع غير الداعي أو وحده لا يعتق عبده" پس ان کے نزدیک اگر اس نے چاشت کا کھانا کھا لیا اس دن کے اندر، دعوت دینے کے علاوہ کسی کے ساتھ یا اکیلا، اس کا غلام آزاد نہیں ہوگا۔ "ونحن نقول" ہم کہتے ہیں: "إن فيه إلغاء القيد الزائد" کہ اس صورت میں تو وہ زائد قید کو لغو کرنا لازم آتا ہے۔ اس نے جو "اليوم" کا لفظ کہا تھا، اس کو کیا ماننا پڑے گا؟ لغو۔ اس نے تو کہا تھا آج میں چاشت کا کھانا نہیں کھاؤں گا ورنہ میرا غلام آزاد، اور آپ کہتے ہیں آج ہی کھا لے لیکن دعوت دینے والے کے ساتھ نہ کھائے، تو کیا کرنا پڑے گا؟ اس "اليوم" کے لفظ کو لغو قرار دینا پڑے گا۔ "إن فيه إلغاء القيد الزائد" زائد قید جو ہے اس کو لغو کرنا پڑے گا، "وهو قوله" بھئی زائد قید کون سی؟ کہتے ہیں وہ اس کا قول "اليوم" ہے بھئی۔ کیا ہے؟ "اليوم"۔ "فينبغي أن لا يختص بسببه" پس مناسب یہ ہے کہ یہ اپنے سبب کے ساتھ خاص نہ رہے، "بل أينما تغدى أو حيثما تغدى في ذلك اليوم" بلکہ جہاں بھی وہ چاشت کا کھانا کھا لے یا جس وقت بھی وہ چاشت کا کھانا کھا لے اس دن میں، "حيث" بھی جگہ کے لیے آتا ہے، "أينما" اور "حيثما" کا ایک معنیٰ ہے، جس جگہ بھی وہ چاشت کا کھانا کھا لے۔ لیکن ایک میں جگہ کا معنیٰ آ گیا تو "حيثما" کس معنیٰ میں کر لیں؟ وقت کے معنیٰ میں کر لیں، اس معنیٰ میں بھی یہ استعمال ہوتا ہے۔ "بل أينما تغدى أو حيثما تغدى في ذلك اليوم مع الداعي أو وحده أو مع غيره يحنث البتة" بلکہ اس نے جہاں بھی چاشت کا کھانا کھایا یا جس وقت بھی چاشت کا کھانا کھایا اس دن میں، دعوت دینے والے کے ساتھ یا اکیلے یا کسی اور کے ساتھ، تو وہ حانث ہو جائے گا قطعی طور پر، "احترازا عن إلغاء الكلام" بچتے ہوئے اس کے کلام کو لغو کرنے سے، تاکہ کہیں اس کا کلام لغو نہ ہو جائے۔ "ولكن في إطلاق العام على هذه الصيغ نوع مسامحة" لیکن عام کا اطلاق ان صیغوں پر، اس میں ایک نوع کی مسامحت، چشم پوشی ہے بھئی۔ کیا ہے؟ چشم پوشی کی گئی بھئی، ان پر عام کے لفظ کا اطلاق کر دیا گیا۔ اگرچہ عام تو اس کو کہتے ہیں جو کس پر بولا جائے؟ افراد پر، یہ وہ عام اصطلاحی تو نہیں۔ پھر بھی چشم پوشی کرتے ہوئے ان پر عام کا لفظ بول دیا گیا۔ پھر کیوں بولا گیا ان پر عام کا لفظ بھئی؟ بعض نے جوابات دینے کی کوشش کی۔ "فقيل" پس کہا گیا ہے: "إنه مع قطع النظر عما ورد تحته" کہ یہ قطع نظر کرتے ہوئے اس سبب سے جس کے تحت یہ وارد ہوا ہے، "صالح لكل رجم" یہ صلاحیت رکھتا ہے ہر رجم کی، "سواء كان للزنا أو لغيره" برابر ہے کہ وہ زنا کی وجہ سے ہو یا کسی اور وجہ سے، "وكذا لكل سجود" اسی طرح یہ صلاحیت رکھتا ہے، سجدہ جو ہے، صلاحیت رکھتا ہے ہر سجدے کی، "أعم من أن يكون للسهو أو لغيره" برابر ہے چاہے وہ سہو کے لیے ہو یا غیر سہو کے لیے، "وكذا لكل ألف من جنس هذا المال أو من غيره" اسی طرح جو "ألف" کا ذکر آیا، یہ ہر مال میں سے، اس مال کی جنس میں سے ہر "ألف" کی صلاحیت رکھتا ہے چاہے اس میں سے ہو یا اس کے علاوہ میں سے، "وكذا لكل غداء مدعو أو غيره" اور اسی طرح یہ صلاحیت رکھتا ہے ہر غداء کی جس کی طرف دعوت دی گئی ہے یا اس کے علاوہ کی طرف۔ اس اعتبار سے یہ عام ہے، اس میں کیا ہے؟ صلاحیت ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ان میں سے ہر ایک عام ہے بھئی اس اعتبار سے۔ "وقيل" اور کہا گیا ہے: "إنه أريد بالعام هاهنا المطلق" کہ یہاں پر عام سے کس کا ارادہ کیا گیا ہے؟ مطلق کا، مطلق مراد ہے یعنی جس میں قید نہ ہو، "كما هو رأي الشافعي رحمه الله" جیسے کہ یہ رائے ہے امام شافعی رحمہ اللہ کی، تو کس کا ارادہ کیا گیا؟ مطلق کا، "لا المصطلح عليه" نہ کہ وہ جس پر اصطلاح ہے، یعنی وہ اصطلاحی عام کا ارادہ نہیں کیا گیا، "فتأمل" پس آپ اس میں غور کر لیجیے۔ "وقيل الكلام المذكور للمدح أو الذم لا عموم له وإن كان اللفظ عاما" اور کہا گیا ہے کہ وہ کلام جس کو ذکر کیا جائے مدح کے لیے یا مذمت کے لیے، اس میں عموم نہیں ہوگا اگرچہ لفظ عام ہی کیوں نہ ہو۔ اگرچہ لفظ عام ہو بھئی۔ بھئی بات کیا چل رہی ہے؟ کہ عام یعنی مطلق الفاظ آ جائیں تو کہاں وہ اپنے جیسے سب کو شامل ہوگا اور کہاں وہ شامل نہیں ہوگا؟ انہی میں سے بعضوں نے کہا، بعض فقہاء کہتے ہیں: اگر کوئی کلام بطور مدح کے ذکر کیا جائے یا بطور مذمت کے، اب چاہے لفظ عام ہی کیوں نہ ہوں، یہ اوروں کو شامل نہیں ہے، جن کے بارے میں آئے ہیں وہ انہی کا حکم اس میں ہے۔ باقیوں کا حکم معلوم کرنا ہے تو قیاس سے کرنا پڑے گا یا کسی دوسری نص سے، اس نص میں ان کا ذکر نہیں۔ جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: "إن الأبرار لفي نعيم وإن الفجار لفي جحيم"۔ تو یہ کہتے ہیں جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، صرف انہی کے بارے میں بتایا گیا۔ یہ نیکی کرنے والے جو ہیں، یہ صحابہ، "لفي نعيم"، یہ کس میں ہوں گے؟ نعمتوں میں ہوں گے۔ صرف ان کا ذکر ہے اس میں۔ باقی بعد والے نیکی کرنے والے؟ نہیں بھئی، ان کا ذکر ہی نہیں ہے، یہ ان کی مدح کے طور پر اللہ نے نازل فرمائی یہ آیت بھئی، اللہ مدح فرما رہے ہیں کہ یہ نیکی کرنے والے کس میں ہوں گے؟ نعمتوں میں ہوں گے۔ اور آگے آیا: "وإن الفجار لفي جحيم" اور فاجر، بدکاری کرنے والے جہنم میں ہوں گے بھئی۔ اب وہ کہتے ہیں کہ یہ بطور مذمت کے ہے بھئی، تو یہ صرف انہی کا ذکر ہے اس میں، ہر فاجر اس میں داخل نہیں۔ پھر باقیوں کا حکم؟ کہتے ہیں باقیوں کا پتہ اور نصوص سے چلے گا یا کیا کرنا پڑے گا؟ قیاس کرنا پڑے گا، اس میں اوروں کا ذکر نہیں، جن کے بارے میں ہے انہی کا صرف ذکر ہے۔ ہم کہتے ہیں: نہیں، مدح اور ذم کے طور پر بھی اگر کوئی نص آئی ہو، اگر اس کے لفظ عام ہیں تو "إنما العبرة لعموم اللفظ" اعتبار کس کا ہے؟ عمومِ لفظ کا ہے، "لا لخصوص السبب" نہ کہ خصوصِ سبب، وہ سبب جن کے بارے میں آئی ہے صرف ان کے ساتھ خاص نہیں ہوگا یہ۔ تو کہتے ہیں: "الكلام المذكور للمدح أو الذم لا عموم له وإن كان اللفظ عاما" کہ وہ کلام جس کو ذکر کیا جائے مدح یا ذم کے طور پر، اس میں عموم نہیں ہوتا اگرچہ لفظ جو ہے وہ عام ہوں، "وهذا هو الوجه السادس من الوجوه الفاسدة" اور یہ چھٹی وجہ ہے وجوہِ فاسدہ میں سے۔ "فلا يكون عندهم قوله تعالى: إن الأبرار لفي نعيم وإن الفجار لفي جحيم" پس نہیں ہوگا ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کا یہ قول "إن الأبرار لفي نعيم وإن الفجار لفي جحيم"، "مما يستدل به على حال كل بر وفاجر" ان میں سے کہ جس کے ذریعے استدلال کیا جائے ہر نیک اور ہر فاجر کے حال پر۔ ہر نیک اور ہر فاجر کے حال پر اس سے استدلال کیا جائے بھئی، کہ دیکھو اس کا تو ذکر، نیک کا کیا حکم اللہ نے فرمایا: "إن الأبرار لفي نعيم"، وہ کہتے ہیں نہیں، ہر نیک کا حکم یہاں سے نہیں معلوم ہوتا، یہ صرف جن کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہی کے ساتھ خاص ہے۔ اور اسی طرح "وإن الفجار لفي جحيم"، جن کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہی کے ساتھ یہ حکم خاص ہے۔ تو استدلال نہیں کیا جائے گا اس کے ذریعے ہر نیک اور بدکار کے حال پر، برّ نیک کو کہتے ہیں بھئی۔ "بل على من نزلت في حقهم فقط" بلکہ صرف وہ جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے، "والباقي يقاس عليهم أو يثبت بنص آخر" اور باقی جو ہیں ان کو ان پر قیاس کیا جائے گا اور یا وہ کسی دوسری نص سے ثابت ہوں گے، "وعندنا هذا فاسد" اور ہمارے نزدیک یہ فاسد ہے، "لأن اللفظ دال على العموم" اس لیے کہ لفظ دلالت کر رہا ہے عموم پر، "فلا ينافيه دلالته على المدح والذم أيضا" تو لہذا اس کے منافی نہیں ہے دلالت کرنا مدح اور ذم پر بھی۔ ہم کہتے ہیں بھئی، مدح اور ذم کے طور پر ٹھیک ہے یہ آیت نازل ہوئی بھئی، بعضوں کی مدح ہے، بعضوں کی مذمت ہے، لیکن مدح اور ذم کے ہونے سے یہ اس کے منافی نہیں ہے کہ اور کوئی اس میں داخل ہی نہ ہو بھئی، عموم اس کے منافی نہیں ہے بھئی۔ "فلا ينافيه دلالته على المدح والذم أيضا فحينئذ يجوز أن يتمسك بعموم قوله تعالى" پس اس وقت جائز ہوگا کہ، معلوم ہوا بھئی مدح یا مذمت کے طور پر کوئی نص آئی ہو تو وہ بھی اپنے سبب کے ساتھ خاص نہیں ہوگی بشرطیکہ اس کے الفاظ کیا ہوں؟ عام ہوں بھئی۔ پس جس وقت یہ بات ثابت ہو گئی تو "يجوز أن يتمسك بعموم قوله تعالى: والذين يكنزون الذهب والفضة" کہ استدلال کیا جائے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے عموم سے: "والذين يكنزون الذهب والفضة" اور وہ لوگ جو جمع کرتے ہیں سونے اور چاندی کو، "الآية" آیت پڑھ لیجیے یا "الآية معروفة" آیت مشہور ہے۔ "على وجوب الزكاة في حلي النساء" اس کے ذریعے استدلال کیا جا سکتا ہے عورتوں کے زیور میں زکوۃ کے واجب ہونے پر، "وإن كان واردا في قوم مخصوصين" اگرچہ یہ آیت نازل ہوئی ہے، وارد ہوئی ہے ایک مخصوص قوم کے بارے میں، "كنزوا الذهب والفضة" جنہوں نے کیا کیا تھا؟ سونے اور چاندی کو جمع کیا تھا۔ معلوم ہوا یہ آیت پوری کس طرح ہے؟ اللہ کیا فرماتے ہیں: "والذين يكنزون الذهب والفضة ولا ينفقونها في سبيل الله فبشرهم بعذاب أليم"، وہ لوگ جو سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو خرچ نہیں کرتے اللہ کے راستے میں تو ان کو خوشخبری دے دیجیے دردناک عذاب کی۔ تو لہذا معلوم ہوا سونا اور چاندی جب ہو اور اس کو انسان جمع رکھے، اس کی زکوۃ ادا نہ کرے تو ان کے بارے میں اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ اگرچہ یہ آیت نازل ہوئی خاص لوگوں کے بارے میں لیکن الفاظ تو عام ہیں، معلوم ہوا یہ وعید سب کے لیے ہے، جو بھی سونا اور چاندی جمع رکھتا ہے اور اس کی زکوۃ ادا نہیں کرتا، تو اسی میں پھر عورتوں کے زیور بھی آ گئے، تو عورتوں کے زیور پر بھی معلوم ہوا کیا آئے گی؟ زکوۃ واجب ہوگی۔ "ويكون إطلاق الصيغة المذكر" اس پر اشکال ہوتا ہے کہ بھئی آپ نے عورتوں کے زیور کو اس میں داخل کر دیا حالانکہ اللہ نے تو فرمایا: "والذين" اور یہ اس میں موصول مذکر کے لیے استعمال ہوتا ہے، تو اس میں تو عورتوں کا ذکر ہی نہیں۔ کہتے ہیں بھئی: عورتوں پر بھی "الذين" کا لفظ بولا جاتا ہے تغلیباً، پیچھے آپ پڑھ چکے کہ جہاں بھی اختلاط ہو مذکر اور مؤنث دونوں کا تو وہاں مذکر کا صیغہ تغلیباً وہ شامل ہوتا ہے مؤنث کو بھی۔ وَيَكُونُ إِطْلَاقُ صِيغَةِ الْمُذَكَّرِ عَنِ الَّذِينَ عَلَيْهِنَّ تَغْلِيبًا، اور صیغہ مذکر کا اطلاق یعنی الذين جو ہے اس کا اطلاق عليهن عورتوں پر تغلیباً یہ کس طریقے پر ہوگا؟ تغلیباً ہوگا۔ كَمَا حَرَّرْتُهُ فِي التَّفْسِيرِ الْأَحْمَدِيِّ، جیسے کہ اس کو میں نے ذکر کیا ہے، تحریر کیا ہے تفسیر احمدی میں۔ وَقِيلَ الْجَمْعُ الْمُضَافُ إِلَى الْجَمَاعَةِ هَذَا وَجْهٌ سَابِعٌ مِنَ الْوُجُوهِ الْفَاسِدَةِ، یہ ساتویں وجہ ہے وجوہ فاسدہ میں سے، فَإِنَّ عِنْدَهُمْ إِذَا وَقَعَتْ مُقَابَلَةُ الْجَمْعِ بِالْجَمْعِ، بھئی! یہ ساتویں وجہِ فاسد ذکر کر رہے ہیں۔ ساتویں وجہِ فاسد یہ ذکر کریں گے کہ جب جمع کی نسبت جمع کی طرف کی جائے۔ کس کی نسبت؟ جمع کی نسبت جمع کی طرف کی جائے، تو پہلی جمع کے ہر ہر فرد کے لیے دوسری پوری پوری جمع ثابت ہو جائے گی۔ پہلی جمع کے یا یوں کہیں، پہلی جمع کے ہر ہر فرد کے لیے دوسری جمع کا ہر ہر فرد ثابت ہو جائے گا۔ کیا ضابطہ ہوا؟ پہلی جمع کے ہر فرد کے لیے دوسری جمع کا ہر فرد ثابت ہو جائے گا۔ ہمارے نزدیک یہ درست نہیں، بھئی! وَقِيلَ الْجَمْعُ الْمُضَافُ إِلَى الْجَمَاعَةِ، اور کہا گیا ہے کہ وہ جمع جس کی نسبت کی گئی ہو جماعت کی طرف، هَذَا وَجْهٌ سَابِعٌ مِنَ الْوُجُوهِ الْفَاسِدَةِ، یہ ساتویں وجہ ہے وجوہِ فاسدہ میں سے، فَإِنَّ عِنْدَهُمْ إِذَا وَقَعَتْ مُقَابَلَةُ الْجَمْعِ بِالْجَمْعِ، پس ان فقہاء کے نزدیک جب واقع ہو جائے جمع کا مقابلہ جمع کے ساتھ، حُكْمُهُ، تو اس کا حکم اس کا یہ ہے، حُكْمُ حَقِيقَةِ الْجَمَاعَةِ فِي حَقِّ كُلِّ وَاحِدٍ، جماعت کی حقیقت کا حکم ہوگا ہر ایک کے اندر، یعنی ہر ایک کے لیے وہ پوری جماعت ثابت ہو جائے گی۔ أَيْ لَا بُدَّ لِكُلِّ فَرَدٍ مِنْ أَفْرَادِ الْجَمْعِ الْأَوَّلِ، یعنی ضروری ہوگا ہر فرد کے لیے پہلی جمع کے افراد میں سے، مِنْ كُلِّ فَرَدٍ مِنْ أَفْرَادِ الثَّانِي، دوسری جمع کے افراد میں سے ہر فرد، فَفِي قَوْلِهِ تَعَالَى، پس اللہ تعالی کے اس قول کے اندر: خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً، پس آپ لے لیجیے ان مالداروں کے مالوں میں سے صدقہ۔ ان مالداروں کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجیے۔ أموال جمع آیا، آگے هم ضمیر بھی جمع کی۔ تو جمع کی نسبت جمع کی طرف ہے۔ اب یہ فقہاء فرماتے ہیں کہ جمع کی اضافت جمع کے لیے ہوئی، تو ہر غنی جو ہے، ہر مالدار جو ہے، اس کے ہر ہر مال کے اندر زکوۃ واجب ہوگی۔ ہر مالدار کے ہر ہر مال کے اندر زکوۃ واجب ہو جائے گی۔ ہم کہتے ہیں: نہیں، ہر ہر مال کے اندر زکوۃ واجب نہیں ہوگی، بھئی! فَفِي قَوْلِهِ تَعَالَى: خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً، پس اللہ تعالی کے اس قول کے اندر ”خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً“ آپ لے لیجیے ان کے مالوں میں سے زکوۃ، لَا بُدَّ فِي كُلِّ مَالٍ مِنَ السَّوَائِمِ وَالنُّقُودِ وَالْعُرُوضِ لِكُلِّ أَحَدٍ مِنَ الْأَغْنِيَاءِ أَنْ تَجِبَ الصَّدَقَةُ، ضروری ہے کہ ہر مال کے اندر، ہر مال، کیا معنی بھئی ہر ہر مال؟ کہتے ہیں: مِنَ السَّوَائِمِ یعنی کہ چرنے والے باہر، وَالنُّقُودِ اور نقدِیہ، اور نقدِیہ یعنی درہم، دنانیر، کرنسی وغیرہ، وَالْعُرُوضِ اور سامان، سب کے اندر لِكُلِّ أَحَدٍ مِنَ الْأَغْنِيَاءِ مالداروں میں سے ہر ایک کے لیے جو ہے أَنْ تَجِبَ الصَّدَقَةُ کیا واجب ہو جائے گا؟ صدقہ۔ ان کو اپنے مویشیوں میں سے بھی صدقہ دینا پڑے گا، ان کو اپنے سامان وغیرہ میں سے بھی زکوۃ دینی پڑے گی اور ان کو اپنے نقدیوں میں سے بھی زکوۃ دینا پڑے گی۔ وَنَحْنُ نَقُولُ، ہم کہتے ہیں: لَا تَجِبُ الصَّدَقَةُ فِي كُلِّ دِرْهَمٍ وَدِينَارٍ بِالْإِجْمَاعِ، کہ صدقہ تو واجب، زکوۃ تو واجب نہیں ہے ہر درہم اور دینار میں بالاجماع، مَعَ أَنَّهُمَا مِنْ أَفْرَادِ الْأَمْوَالِ، باوجود اس کے کہ یہ اموال کے افراد میں سے ہیں۔ ہم کہتے ہیں بھئی! ہر درہم اور دینار میں تو بالاجماع صدقہ واجب نہیں۔ بھئی! ہر درہم اور دینار میں صدقہ ہے؟ زکوۃ ہے؟ نصاب کے بقدر نہ ہو تو اس میں کوئی زکوۃ ہے؟ نہیں، اس میں زکوۃ نہیں، معلوم ہوا ہر درہم اور دینار میں زکوۃ نہیں۔ حالانکہ باوجود اس کے کہ یہ اموال کے افراد میں سے ہیں، فَلَا تَجِبُ فِي كُلِّ أَنْوَاعِهَا أَيْضًا، لہٰذا تمام انواع کے اندر بھی زکوۃ واجب نہیں ہوگی، عَلَى مَا ذُكِرَ فِي الْعَضُدِيِّ، جیسے کہ ذکر کیا گیا ہے کس کے اندر؟ عضدی کے اندر، جو شرح ہے اصولِ ابنِ حاجب کی، بھئی! وَعِنْدَنَا، بھئی پھر کیا کریں گے؟ وہ کہتے ہیں: وَعِنْدَنَا يَقْتَضِي مُقَابَلَةَ الْأَحَادِ بِالْأَحَادِ، یہ جو جمع کی نسبت جمع کی طرف کی گئی، یہ تقاضا کرتا ہے آحَاد کا مقابلہ آحَاد کے ساتھ ہو۔ یعنی ایک فرد کے لیے ایک فرد ثابت ہو جائے گا۔ ایک فرد کے لیے؟ آگے مثال بھی دیں گے۔ آپ کہتے ہیں: رَكِبُوا دَوَابَّهُمْ، رَكِبُوا وہ سوار ہوئے، دَوَابَّهُمْ، کیا ترجمہ کرتے ہیں؟ رَكِبُوا وہ سوار ہوئے، دَوَابَّهُمْ، اپنی اپنی سواری پر، حالانکہ دواب جمع ہے، هم ضمیر بھی جمع ہے۔ تو اس کا اگر آپ کا ضابطہ لیا جائے تو معنی تو یہ ہوگا: ان میں سے ہر ایک ہر ہر سواری پر سوار ہوا، حالانکہ یہ معنی ہوتا ہے؟ نہیں، ہر ایک اپنی اپنی سواری پر، یعنی مقابلہ الافراد بالافراد، یعنی ایک فرد کے لیے ایک فرد ثابت ہو جائے گا۔ اسی طرح آپ کہتے ہیں: لَبِسُوا ثِيَابَهُمْ، پہنے انہوں نے اپنے کپڑے۔ اگر آپ کا ضابطہ لگایا جائے، کیا معنی؟ ثیاب بھی جمع اور هم بھی جمع، کیا معنی؟ ہر ایک نے ان میں سے ہر ہر فرد نے ہر ہر کپڑے کو پہنا، حالانکہ یہ معنی ہوتا ہے؟ ہر ایک نے اپنے اپنے، ایک ہر ایک نے ایک ایک کپڑا پہن لیا، صورت سمجھ میں آئی؟ اسی طرح اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ، وجوہ جمع اور كم بھی جمع، کیا معنی؟ اگر آپ کا ضابطہ مانیں، تو ہر ایک کیا کرے گا؟ ہر چہرے کو دھوئے گا، ہر ایک اپنے اپنے چہرے کو، دیکھو دیکھو یہاں مقابلہ الافراد بالافراد ہے، بھئی! وَعِنْدَنَا يَقْتَضِي مُقَابَلَةَ الْأَحَادِ بِالْأَحَادِ، اور ہمارے نزدیک یہ تقاضا کرتا ہے آحَاد کا آحَاد سے مقابلے کا، حَتَّى إِذَا قَالَ لِاِمْرَأَتَيْهِ، یہاں تک کہا کسی شخص نے اپنی دو بیویوں سے: إِذَا وَلَدْتُمَا وَلَدَيْنِ فَأَنْتُمَا طَالِقَتَانِ، جب تم جنم دو دو بچوں کو، تو تم دونوں کو طلاق۔ إِذَا وَلَدْتُمَا وَلَدَيْنِ، جب تم دو جنم دو دو بچوں کو، ان کے نزدیک ولدتما تثنیہ ہے، ولدین یہ بھی کیا ہے؟ تثنیہ، معلوم ہوا ہر ایک کے لیے کیا ہو؟ دو دو، یعنی ہر ایک عورت ان میں سے جب دو بچوں کو جنم دے گی پھر ان کو طلاق واقع ہوگی، ہمارے نزدیک نہیں۔ وہ دو ہیں، بچے بھی دو ہیں، معلوم ہوا ہر ایک ایک ایک بچے کو کیا کرے گی؟ جنم دے دے گی تو ان کو طلاق ہو جائے گی۔ حَتَّى إِذَا قَالَ لِاِمْرَأَتَيْهِ، یہاں تک کہ کہا کسی شخص نے اپنی دو بیویوں میں سے، دو بیویوں سے کہا: إِذَا وَلَدْتُمَا وَلَدَيْنِ فَأَنْتُمَا طَالِقَتَانِ، جب تم جنم دو دو بچوں کو تو تم دونوں طلاق والی ہو، یعنی تم دونوں کو طلاق ہے، فَوَلَدَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا وَلَدًا طَلُقَتَا، جنم دیا ان میں سے ہر ایک نے ایک بچے کو تو دونوں طلاق والی ہو جائیں گی، وَلَا يَلْزَمُ أَنْ تَلِدَ كُلُّ امْرَأَةٍ وَلَدَيْنِ، اور یہ ضروری نہیں ہے کہ جنم دے ہر عورت دو بچوں کو، كَمَا قَالَ زُفَرُ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى، جیسے کہ امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ تعالی نے فرمایا ہے، وَإِطْلَاقُ الْجَمْعِ عَلَيْهَا مُسَامَحَةٌ، اور جمع کا اطلاق جو اس پر کیا گیا، بھئی متن میں آیا تھا: ”الْجَمْعُ الْمُضَافُ إِلَى الْجَمَاعَةِ“ اور مثال میں تثنیہ کو ذکر کر دیا گیا، کہتے ہیں اس پر جمع کا جو اطلاق کیا گیا مسامحةً کس طریقے پر ہے؟ چشم پوشی کرتے ہوئے، وسعت سے کام لیتے ہوئے، بِاعْتِبَارِ مَا فَوْقَ الْوَاحِدِ، کس اعتبار سے؟ ما فوق الواحد، ایک سے زیادہ یعنی جمع سے مراد لے لیا انہوں نے، ایک سے زیادہ دو ہیں تو وہ بھی گویا جمع ہو گئے، وَنَحْوُهُ، اور اسی کے مثل ہے: لَبِسُوا ثِيَابَهُمْ، انہوں نے اپنے کپڑے پہنے، وَرَكِبُوا دَوَابَّهُمْ، وہ اپنی سواریوں پر سوار ہوئے، وَقَوْلُهُ تَعَالَى: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ، اور اللہ تعالی کا یہ قول: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ تم دھو لو اپنے چہروں کو، الْآيَةَ، عَلَى مَا تَقَرَّرَ فِي الْفِقْهِ، بناء پر اس کے جو ثابت ہے کس کے اندر؟ فقہ میں جیسا کہ ثابت ہے، بھئی! چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام