درس نمبر۔48 وَالتَّاءُ لِلْقَسَمِ. جي، ڪون ڪري گا؟ چليئي بهائي، ترڪيب ڪيجيئي. وَالتَّاءُ لِلْقَسَمِ. واؤ استئنافيہ. واؤ استئنافيہ؟ ڪيوں بناتے ہو؟ جي. التَّاءُ. التَّاءُ مرفوع لفظاً مبتدا. لام جارة. لام جارة. القَسَمِ مجرور. جار مجرور، ڪونسا مجرور بهائي؟ مجرور لفظاً. جي، القَسَمِ مجرور لفظاً. جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ثَابِتَةٌ. جي، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ثَابِتَةٌ سے. ثَابِتَةٌ صيغہ اسم فاعل، هِيَ ضمير اس کا فاعل. شاباش، ثَابِتَةٌ صيغہ اسم فاعل، هِيَ ضمير مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل جو راجع ہے کس کو؟ مبتدا. مبتدا کو راجع. ثَابِتَةٌ صيغہ اپنے فاعل اور مفعول، اپنے متعلق سے مل کر جملہ اسميہ خبريہ ہو کر خبر ہوئی. اوہ! جملہ، جملہ کیسے بنا تاء؟ تاء ثَابِتَةٌ صيغہ اسم فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر. مبتدا، خبر مل کر جملہ اسميہ خبريہ ہوا. جي. وَلاَ. واؤ عاطفہ. واؤ عاطفہ. هِيَ مبتدا هِيَ مرفوع محلاً مبتدا، ضمير غائب ہے. کس کو راجع ہے؟ تاء کو. تاء کو. جي. لاَ تَدْخُلُ فعل. لاَ تَدْخُلُ فعل. هِيَ کا ضمير هِيَ ضمير اس کا فاعل. شاباش، هِيَ ضمير مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل جو کس کو راجع ہے؟ جي، شاباش، مبتدا کو راجع. ڪيونکہ يہ خبر ہے اور خبر کو کس سے جوڑا جاتا ہے؟ مبتدا سے. جي. إِلاَّ حرف استثناء. إِلاَّ حرف استثناء. عَلَى حرف، عَلَى جارة. عَلَى جارة. اسم مجرور، اسم مجرور لفظاً مضاف. شاباش، اسم مجرور لفظاً مضاف. اللهِ مجرور، لفظِ الله. لفظِ الله مجرور لفظاً ذوالحال. شاباش، لفظِ الله مجرور لفظاً ذوالحال. تَعَالَى فعل. تَعَالَى فعل. هُوَ ضمير اس کا، هُوَ ضمير مرفوع محلاً اس کا اس کا فاعل. شاباش، تَعَالَى فعل، هُوَ ضمير مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع ہے؟ ذوالحال. ذوالحال کو. جي. تَعَالَى فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعليہ خبريہ ہو کر بتاويل بتاويل مفرد حال ہوا. اوہ! مفرد، جي؟ مفرد ڪيوں بناتے ہو بهائي؟ جي؟ ہاں، بتاويل. تَعَالَى فعل اپنے فاعل کے ساتھ مل کر جملہ فعليہ ہو کر بتاويل قد يہ حال. ذوالحال اپنے حال کے ساتھ مل کر مضاف الیہ. مضاف، مضاف الیہ مل کر مجرور. مضاف، مضاف الیہ مل کر مجرور. جار مجرور مل کر متعلق ہوئے لاَ تَدْخُلُ فعل. شاباش، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے لاَ تَدْخُلُ فعل کے ساتھ بهائي. جڑ رہا ہے اس کے ساتھ بهائي؟ داخل نہیں ہوتا عَلَى اسْمِ اللهِ، اللہ کے، اسمِ اللہ پر داخل نہیں ہوتا بهائي اسمِ اللہ. فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعليہ خبريہ ہو کر خبر ہوئی. بتاويل مفرد خبر ہوئی مبتدا کی. عجیب! ڪيوں مفرد ڪيوں بناتے ہو بهائي؟ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعليہ خبريہ ہو کر خبر. مبتدا، خبر مل کر جملہ اسميہ خبريہ ہوا. جي. نَحْوُ. نَحْوُ مرفوع لفظاً مبتدا. نَحْوُ مرفوع لفظاً مضاف. جي. تَا كَسْرِيَةٌ. اوہ ہو! ڪيا کریں گے بهائي؟ مراد اللفظ. ہاں، لفظ مراد ہے بس. جیسے کہ تَاللهِ لأَضْرِبَنَّ زَيْداً. لفظ مراد ہیں، ترکیب نہیں بهائي. تَاللهِ لأَضْرِبَنَّ زَيْداً مراد اللفظ ہو کر مضاف الیہ. شاباش، تَاللهِ لأَضْرِبَنَّ زَيْداً مراد اللفظ مجرور تقديرًا يا مجرور محلاً مضاف الیہ. مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف مضاف الیہ مل کر خبر ہوئی. مضاف، مضاف الیہ مل کر خبر. کس کے لیے؟ مِثَالُهَا مبتدا. مِثَالُهَا مبتدا کے لیے. مِثَالُهَا کی ہا ضمير کس کو راجع ہے؟ یہ کس کی مثال ہے؟ تاء کی. تاء کی مثال ہے بهائي. جي، آگے کون کرے گا؟ چلیے بهائي. تَاللهِ، تَا، تَا جار. اچھا، اَب مَانَك تَاللهِ جملے کی ترکیب. جي، تَاللهِ تَا جارة قسميہ. لفظِ الله مجرور، لفظ مجرور لفظاً. لفظِ اللہ مجرور لفظاً. جار مجرور مل کر متعلق ہوئے أُقْسِمُ فعل. شاباش، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے أُقْسِمُ فعل کے ساتھ. أُقْسِمُ فعل، أَنَا اس کے اندر فاعل، اور اپنے متعلق سے مل کر جملہ فعليہ خبريہ ہو کر يہ قسم. جي، أُقْسِمُ فعل، متعلق ہوئے أُقْسِمُ فعل کے ساتھ. اس کے اندر أَنَا ضمير فاعل. فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعليہ ہو کر جملہ فعليہ انشائيہ ہوا. جي، قسم، ہو کر قسم. جي. لاَ. لاَمُ تاكيد، لاَمُ تاكيدِيَةٌ. جي. لأَضْرِبَنَّ فعل، أَنَا ضمير اس کا فاعل. لام تاکید کے لیے، لأَضْرِبَنَّ فعل بنونِ ثقيلہ اور اس کے اندر أَنَا ضمير مرفوع محلاً اس کا فاعل. زَيْداً منصوب لفظاً مفعول بہ. زَيْداً منصوب لفظاً مفعول بہ. فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعليہ خبريہ ہو کر جوابِ قسم. فعل اپنے فاعل اور مفعول کے ساتھ مل کر جملہ فعليہ خبريہ ہو کر جوابِ قسم. قسم اپنے جوابِ قسم سے مل کر جملہ قسميہ. جملہ قسميہ ہوا. جي، سمجھ میں آیا بهائي؟ جملہ قسمیہ. تو اس میں جو کہتے ہیں نا قسم انشاء ہے، یہ صرف یہ تَاللهِ ہے، أُقْسِمُ تَاللهِ، یہ انشاء ہے. جوابِ قسم جو ہے، وہ خبر بھی ہو سکتا ہے اور انشاء بھی ہو سکتا ہے، یاد رکھنا ہمیشہ بهائي. بعض پورے کو ہی بنا دیتے ہیں جملہ انشائیہ، پورا نہیں جملہ انشائیہ بهائي، سمجھ میں آیا؟ تو جوابِ قسم تو خبر بھی ہو سکتی ہے اور انشاء بھی ہو سکتا ہے. جي، کرتے جائیے. إِعْلَمْ فعل. أَنْتَ ضمير مرفوع محلاً اس کا فاعل. شاباش، فعلِ امر ہے، اس کے اندر أَنْتَ ضمير مرفوع محلاً اس کا فاعل. أَنَّ حروفِ مشبہ بالفعل. أَنَّ حرف از حروفِ مشبہ بالفعل. هَا ضمير اس کا اسم. هَا ضمير اس کا اسم. يہ کیا ہے؟ هَا ضمير اس کا منصوب محلاً اس کا اسم. شاباش، هَا ضمير منصوب محلاً اس کا اسم، یہ ضميرِ شان ہے بهائي. لاَ نفي جنس. لاَ نفي جنس. تَاءَ منصوب لفظاً اس کا اسم. جي؟ يہ مبني على الفتح ہے، لاَ نفي جنس کا اسم اگر نکرہ آئے، تو شرائط وغیرہ آپ نے پڑھی ہیں، تو پھر یہ کیا ہوتا ہے؟ مبني على الفتح ہوتا ہے. لاَ رَجُلَ فِي الدَّارِ، یہ مبنی ہے، اگر معرب ہوتا، تو پھر لاَ رَجُلاً کہتے آپ بهائي، تنوین آتی یا نہ آتی بهائي؟ جي؟ پھر تنوین آتی اس پر بهائي، اس پر تنوین، یہ نہیں ہے، یہ مبني على الفتح ہے بهائي. منصوب محلاً. لام جارة. لاَمُ جارة. قَسَمِ مجرور لفظاً. ہاں، لاَمُ جارة، القَسَمِ مجرور لفظاً. یہ جی ترکیب ذرا مشکل ہے، یہاں دو خبریں آ رہی ہیں. لِلْقَسَمِ خبرِ اول ہے، مِنَ الْجَوَابِ خبرِ ثانی ہے بهائي، سمجھ میں آیا بهائي؟ خبرِ ثانی. جي. جار مجرور مل کر متعلق ہو گئے ثَبَتَتْ فعل کے، ثَبَتَتْ فعل کے. جار مجرور مل کر کس سے متعلق ہوئے؟ ثَبَتَتْ فعل. ثَبَتَتْ فعل کے ساتھ. ثَبَتَتْ نکال لیں یا ثَابِتَةٌ نکال لیں. فعل، هُوَ ضمير منصوب محلاً اس کا فاعل. هُوَ ضمير مرفوع محلاً اس کا فاعل. جو کس کو راجع ہے؟ لاَ نفي جنس کے اسم. لاَ نفي جنس کے اسم کو. فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعليہ خبريہ ہو کر خبرِ اول. جي؟ فعل اپنے فاعل. اور متعلق سے مل کر جملہ فعليہ خبريہ ہو کر. ہاں، ثَبَتَتْ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعليہ خبريہ ہو کر خبرِ اول. ترکیب سمجھ میں آ رہی ہے بهائي؟ وہ ثَبَتَتْ فعل جو نکالا نا، وہ اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ بن جائے گا، کیونکہ فعل اپنے فاعل سے مل کر کیا بنتا ہے؟ تو یہ جملہ پھر خبرِ اول، اور آگے مِنَ الْجَوَابِ. مِنْ حرفِ جار. مِنْ جارة. الْجَوَابِ مجرور لفظاً. الْجَوَابِ مجرور لفظاً. جار مجرور مل کر متعلق ہو جائیں گے ثَبَتَتْ فعل کے. جار مجرور مل کر یہ متعلق ہوئے ثَبَتَتْ، یہ الگ ثَبَتَتْ نکالیں گے، وہی ثَبَتَتْ نہیں بهائي. جي، متعلق ہوئے ثَبَتَتْ فعل کے. ثَبَتَتْ فعل، ثَبَتَتْ فعل، هُوَ ضمير مرفوع محلاً اس کا فاعل. هُوَ ضمير. مرفوع محلاً. مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو کس کو راجع ہے؟ لاَ نفي جنس کے اسم کو. لاَ نفي جنس کے اسم کو. فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعليہ خبريہ ہو کر خبرِ ثانی. جي؟ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعليہ خبريہ ہو کر خبرِ ثانی. جي، لاَ نفي جنس، تو ثَبَتَتْ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر خبرِ ثانی. لاَ نفي جنس اپنے اسم اور خبر سے، دونوں خبروں سے مل کر جملہ اسميہ خبريہ ہوا. جملہ اسميہ خبريہ ہو کر أَنَّ أَنَّ کی خبر، أَنَّ کی خبر. جي. أَنَّ کی خبر مرفوع، مرفوع محلاً. کس کی بات کر رہے ہیں؟ أَنَّ هَا. جي، یہ جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر أَنَّ کی خبر. أَنَّ اپنے اسم اور خبر سے مل کر. مفعول بہ ہو گا. بتاويلِ مفرد بهائي. أَنَّ اپنے اسم اور خبر سے، أَنَّ کیا کر دیتا ہے؟ جملے پر داخل ہوتا ہے اور اس کو کس کے حکم میں کر دیتا ہے؟ مفرد کے حکم میں بهائي. بتاويلِ مفرد یہ مفعول ہوا، کس کے لیے؟ إِعْلَمْ کے لیے، تو یہ محلاً منصوب ہوا بهائي یہ سارا. إِعْلَمْ فعل، أَنْتَ أَنْتَ ضمير اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، اور مفعول بہ سے مل کر جملہ جملہ انشائيہ. شاباش، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعليہ فعليہ انشائيہ ہوا. جي، کرتے جائیے آگے. فَ. فَ. فَ حرفِ عطف. جي، فَ حرفِ عطف. آگے؟ إِنْ حرفِ شرط. إِنْ حرفِ شرط. كَانَ فعل من الأفعال الناقصة. كَانَ فعل من الأفعال الناقصة. جَوَابُ مرفوع لفظاً مضاف. جَوَابُ مرفوع لفظاً مضاف. هَا ضمير مجرور محلاً مضاف الیہ. هَا ضمير مجرور محلاً مضاف الیہ. کس کو راجع ہے؟ غور کرو، معنی میں غور کرو، پتہ چل جائے گا. جَوَابُهُ، کس کا جواب؟ قسم. قسم کا جواب بهائي، هَا ضمير راجع ہے قسم کو. مضاف، مضاف الیہ مل کر كَانَ کا اسم. شاباش، مضاف مضاف الیہ مل کر كَانَ کا اسم. جُمْلَةً. جُمْلَةً، يہ. منصوب لفظاً موصوف. جُمْلَةً منصوب لفظاً موصوف. إِسْمِيَّةً منصوب لفظاً صفت. إِسْمِيَّةً، يہ کیا ہے بهائي؟ صيغہ اسمِ صفت. جي، میں نے آپ کو بتلایا تھا کسی اسم کے آخر میں کبھی یائے مشدد لگاتے ہیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ اسمِ منسوب کہتے ہیں، اور مؤنث کے لیے پھر تاء بھی ساتھ آ جاتی ہے، تو یہاں جُمْلَةٌ مؤنث ہے، تو تاء بھی ساتھ لگا دی، إِسْمِيَّةٌ بهائي. تو یہ کیا ہے؟ اسمِ منسوب ہے، اور اسمِ منسوب کے اندر ہمیشہ کیا نکالتے ہیں؟ منسوب کس وزن پر ہے؟ مفعول، تو اسمِ مفعول میں کیا ہوتا ہے؟ نائب فاعل، تو یہ بھی اسی کی طرح ہوا، اس کے اندر بھی کیا نکالیں گے؟ هِيَ ضمير مرفوع محلاً اس کا نائب فاعل، جو کس کو راجع ہے؟ جملہ کو، موصوف کو راجع. تو کبھی، تو بعض اس کو منسوب اسمِ منسوب بناتے ہیں کہ اسمِ منسوب کی تاویل میں مفعول ہوا. بعض اس کو اسمِ منتسب بناتے ہیں، کیا کہتے ہیں یہ اسمِ منتسب فاعل کی تاویل میں کر لیتے ہیں بهائي، تو فاعل کی صورت میں پھر اس میں نائب فاعل ہی نہیں نکالیں گے، بلکہ کیا نکالیں گے؟ فاعل نکالیں گے بهائي. زیادہ معروف منسوب، جي. صيغہ اسمِ منسوب، منصوب. صيغہ اسمِ منسوب اپنے، اسمِ منسوب اپنے نائب فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت. شبہ جو اسمِ فاعل اسمِ مفعول اپنے نائب فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت. موصوف صفت مل کر كَانَ کی خبر. شاباش، موصوف صفت مل کر كَانَ کی خبر، تو دیکھا اسی لیے جُمْلَةً إِسْمِيَّةً آیا بهائي، دونوں منصوب لفظاً ہیں. كَانَ اپنے اسم اور خبر سے مل کر معطوف، جملہ اسميہ خبريہ، جملہ فعليہ خبريہ ہو کر معطوف علیہ. كَانَ، بهائي یاد رکھو، جملہ فعليہ خبريہ نہ کہو، یہ جو شرط ہوتی ہے، یہ خبر نہیں ہے بهائي، شرط ہے، سمجھ میں آیا؟ خبریہ سے نکل گئی یہ ش، تو یہ بهائي كَانَ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ فعليہ ہو کر شرط. سمجھ میں آیا بهائي؟ شرط. جي. شرط، معطوف علیہ. آگے اس کی جو جزا آ رہی ہے، وہ پھر شرط اور جزا مل کر مولانا جملہ شرطیہ پوری اس کی کیا بنے گا؟ بات سمجھ میں آئی بهائي؟ آگے پھر شرط اور جزا ہیں، وہ شرط اور جزا مل کر جملہ شرطیہ بنے گا، اور پھر یہ جملہ شرطیہ کیا بن جائے گا؟ جزا بن جائے گی اس پہلی شرط کی بهائي. فَ جزائيہ. جي، فَ جزائيہ. یہ دیکھا؟ پہلی شرط آئی نا، اس کے لیے تو جزا پر فَ لے آئے بهائي. إِنْ حرفِ شرط. إِنْ حرفِ شرط. كَانَتْ فعل من الأفعال الناقصة. كَانَتْ فعل من الأفعال الناقصة. هِيَ ضمير اس کا اسم. هِيَ ضمير مرفوع محلاً اس کا اسم، جو کس کو راجع ہے؟ جُمْلَةً إِسْمِيَّةً. جي، ہاں، جملے کو راجع ہے جی. مُثْبَتَةً منصوب. منصوب محلاً. مُثْبَتَةً منصوب لفظاً. موصوف. مُثْبَتَةً صیغہ کونسا ہے؟ شاباش، مُثْبَتَةً صیغہ اسمِ مفعول. هِيَ ضمير اس کا نائب الفاعل. هِيَ ضمير مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا نائب فاعل، جو کس کو راجع ہے؟ كَانَتْ کے اسم. كَانَتْ کے اسم کو بهائي، شاباش. جي. صیغہ اسمِ مفعول اپنے نائب فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر موصوف. شبہ جو اسمِ فاعل اسمِ مفعول اپنے نائب فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر. موصوف. جي؟ یہ كَانَتْ کی خبر بن گئی بهائي. آگے جزا ہے، فَإِنْ كَانَتْ مُثْبَتَةً وَجَبَ أَنْ تَكُونَ مُصَدَّرَةً بهائي. سمجھ میں آیا بهائي؟ جي، معنی میں بھی غور تھوڑا کرنا پڑے گا بهائي. اگر وہ جملہ مثبت ہو، تو واجب ہے کہ وہ شروع ہو کس کے ساتھ؟ إِنَّ کے ساتھ یا لاَمِ ابتداء کے ساتھ بهائي. إِنَّ اپنے اسم اور خبر سے مل کر. كَانَتْ اس کی خبر، كَانَتْ فعل ناقص اپنے اسم اور خبر سے مل کر. جملہ فعليہ شرط بن. جملہ فعليہ ہو کر شرط بهائي. وَجَبَ فعل. وَجَبَ فعل. هُوَ ضمير اس کے اندر فاعل. بهائي، میں نے آپ کو ضابطہ بھی تو لکھوایا تھا کہ شرط کی جزا پر فَ لاتے ہیں، کیوں لاتے ہیں یہ فَ؟ جي؟ فَ کیوں لاتے ہیں شرط کی جزا پر؟ ربط دیتے ہیں بهائي، کیونکہ شرط ایک جملہ ہے، جزا الگ جملہ ہے، تو دونوں میں ربط چاہیے. تو آپ کو میں نے بتلایا تھا اگر حرفِ شرط نے جزا کے معنی کو بدلا ہے بهائي، ماضی سے مضارع کی طرح، ماضی سے مستقبل کی طرف، تو پھر اس صورت میں تو ربط آ چکا، فَ لانے کی ضرورت إِنْ ضَرَبْتَ ضَرَبْتُ، اگر میں نے پٹائی، اگر تو نے پٹائی کی، تو میں بھی پٹائی کروں گا. تو دیکھو إِنْ ضَرَبْتَ ضَرَبْتُ، ماضی کے صیغے ہیں، لیکن آپ ترجمہ کس کا کرتے ہیں؟ مضارع مستقبل کا ترجمہ کرتے ہیں، معلوم ہوا یہ ترجمہ کس نے بدلا ہے اس کا ماضی سے مستقبل کی طرف؟ إِنْ نے، کس نے بدلا؟ إِنْ نے، تو إِنْ نے جزا کے معنی جو ضَرَبْتُ تھا، اس میں تبدیلی پیدا کر دی. جب تبدیلی پیدا کر دی، تو دونوں کے درمیان ربط آ گیا، جب ربط آ گیا تو اب ربط کے لیے فَ لانے کی ضرورت نہیں، اور اگر بهائي اس کے اندر کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی حرفِ شرط نے، تو پھر ربط نہیں آیا، ربط چاہیے، تو پھر کس کو لے آؤ؟ فَ کو لے آؤ. تو ماضی، إِنْ ماضی، إِنْ جزا جب ماضی ہو، تو پھر اس پر فَ نہیں لاتے، کیونکہ ماضی کے معنی کو یہ إِنْ کس کی طرف بدل لیتا ہے؟ مستقبل کی طرف. تو یہاں بھی وَجَبَ ماضی آیا بهائي، اور جب ماضی آئی، تو إِنْ نے اس کے معنی کو بدل دیا ہے کس کی طرف؟ مستقبل کی طرف. جب مستقبل کی طرف بدل دیا ہے، تو ربط آ چکا، جب ربط آ چکا، اب فَ نہیں لائیں گے بهائي. وَجَبَ فعل. وَجَبَ فعل. أَنْ ناصبہ. أَنْ ناصبہ. تَكُونَ. تَكُونَ فعل ناقص. تَكُونَ اب کر دیں گے بهائي، أَنْ نے تَكُونَ فعل ناقص. هُوَ. هِيَ ضمير اس کا اسم. شاباش، هِيَ ضمير اسم مرفوع محلاً اس کا اسم. جو کہ اس کو راجع ہے۔ جی؟ جملہ کو جی، شاباش! کون شروع کس کے شروع میں لایا جائے گا؟ "إنّ" اور لامِ ابتداء اس جملے کے شروع میں لایا جائے گا، جی۔ مُصَدَّرَةً مصدرۃً، یہ منصوب لفظاً۔ اسمِ منصوب؟ جی؟ مصدرۃً، منصوب لفظاً۔ بھئی منصوب کیوں کہا آپ نے اس کو؟ شاباش! یہ کَانَ، تَکُوْنُ کی خبر بنے گا، جی۔ اس کے اندر "ھی" ضمیر مرفوع محلاً اس کا نائب فاعل۔ بھئی یہ اسمِ مفعول ہے تو نائب فاعل، وہ کس کو راجع ہے؟ تَکُوْنُ کے اسم کو، کیونکہ خبر کو اسم سے جوڑا جاتا ہے، جی۔ با جارہ، با جارہ "إنّ"، "إنّ" "إنّ" معطوف علیہ، "إنّ" مجرور محلاً معطوف علیہ شاباش! "إنّ" سے لفظِ "إنّ" مراد ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ اس کے شروع... ترجمہ بھی آپ نہیں کریں گے ورنہ تو "إنّ" کا ترجمہ ہے "یقیناً" اور "بے شک" کے، لیکن آپ یہاں ترجمہ کرتے ہیں... ترجمہ نہیں کرتے، آپ کہتے ہیں اس کے شروع میں لایا جائے گا کس چیز کو؟ "إنّ" کو یا کس کو؟ لامِ ابتداء کو، ترجمہ بھی نہیں کرتے۔ لفظِ "إنّ" مراد ہے، تو یہ مجرور محلاً معطوف علیہ۔ أَوْ حرفِ عطف لامِ مجرور لفظاً مضاف الابتداءِ مجرور لفظاً مضاف علیہ مضاف، مضاف علیہ مل کر معطوف مضاف، مضاف علیہ مل کر معطوف، جی۔ معطوف علیہ، معطوف مل کر مجرور ہو گئے معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر مجرور با جارہ کے لیے۔ جار، مجرور مل کر یہ متعلق ہو گئے مصدرۃً شاباش! جار، مجرور مل کر متعلق ہوئے کس سے؟ مصدرۃً اسمِ مفعول کے ساتھ، بھئی۔ مصدرۃً اپنے نائب فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر... دیکھا، جڑ رہا ہے یا نہیں بھئی؟ "مُصَدَّرَةً" جی؟ جڑ رہا ہے بھئی۔ شروع... مصدر کا کیا معنی ہے؟ جی؟ شروع میں لانا؟ شروع کیا جانا؟ تو شروع کیا جائے گا یا شروع میں لایا جائے گا کس کو؟ "إنّ" کو یا شروع کیا جائے گا "إنّ" کے ساتھ یا لامِ ابتداء کے ساتھ، دیکھا جڑ رہا ہے "شروع کیا جائے گا"، جی۔ کَانَ فعل اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر جزا شاباش! کَانَ، تَکُوْنُ فعلِ ناقص اپنے اسم اور خبر سے مل کر... تو مصدرۃً بھئی، ہاں! "بأنّ" کو کس سے متعلق کیا؟ مصدرۃً۔ مصدرۃً اسمِ مفعول اپنے نائب فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر تَکُوْنُ کی خبر، تَکُوْنُ فعلِ ناقص اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر... عَنْ، عَنْ داخل ہوا ہے، بتأویلِ مفرد... وجَبَ کا فاعل ہاں، بتأویلِ مفرد یہ کیا ہے؟ وَجَبَ کا فاعل۔ واجب ہے، کیا واجب ہے؟ یہ مصدرۃً بـ "إنّ" اور لامِ ابتداء ہونا، یہ کیا ہے؟ یہ فاعل بن رہا ہے بھئی وَجَبَ کے لیے۔ فاعل ہوا، فعل اپنے فاعل کے ساتھ مل کر... فعلیہ خبریہ ہو کر جزا جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر جزا۔ شرط اور جزا مل کر جملہ شرطیہ... شرط اور جزا مل کر جملہ شرطیہ ہو کر پھر جزا بنا شرط کی شاباش! یہ جزا ہوئی وَجَبَ "فَإنْ کَانَتْ مُثْبَتَةً" اس شرط کے لیے۔ تو شرط جزا مل کر جملہ شرطیہ ہو کر پھر یہ جزا ہوئی کس کے لیے؟ شرط کے لیے پہلی شرط جو گزری تھی "فَإنْ کَانَ جَوَابُہٗ جُمْلَةً"، تو پھر وہ شرط اور جزا مل کر کیا ہوا؟ جملہ شرطیہ، جملہ شرطیہ ہوا بھئی۔ یاد رکھو بھئی، نحو کے اندر بھئی ایک آپ نے اسمِ موصول پڑھا ہے، ایک اسی طرح حرفِ موصول بھی ہوتا ہے بھئی۔ یہ جو حروفِ مصدر ہیں، جو ما بعد کو مصدر کے ساتھ مل کر اس کو مصدر کے معنیٰ میں کر دیتے ہیں بھئی، ان کو حروفِ... حروفِ موصولہ کہتے ہیں بھئی۔ کیا کہتے ہیں؟ حروفِ... بھئی ایک تو آپ نے اسمِ موصول پڑھا ہے: الّذی، الّذان، الّذین... وغیرہ بھئی، یہ کیا ہیں؟ مَنْ، مَا وغیرہ یہ کیا ہیں؟ اسمِ موصول ہیں۔ ایک حرفِ موصول کہلاتا ہے بھئی۔ یہ جو "عَنْ" (أنْ) ہے مصدریہ، یہ حرفِ موصول ہے۔ اسی طرح "مَا" مصدریہ ہے، یہ بھی کیا ہے؟ حرفِ موصول ہے۔ اسی طرح "أنَّ" ہے، یہ جو حروفِ مشبہ بالفعل میں سے ہے، یہ بھی کیا کہلاتا ہے؟ حرفِ... تو حرفِ موصول تین ہیں مولانا۔ ایک کیا؟ جی؟ "أنْ" "مَا" مصدریہ ہے، ایک "أنْ" مصدریہ ہے، اور ایک "أنَّ" ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جلدی لکھ لو بھئی۔ تو جی، حروفِ موصول کتنے ہوئے مولانا؟ تین۔ اول کیا ہے؟ "أنْ"، پھر کیا ہے؟ "مَا" مصدریہ، پھر؟ "أنَّ" بھئی، "أنَّ"۔ سمجھ میں آیا؟ یہ وہ حروف ہیں جو ما بعد کو کس کے معنیٰ میں کر دیتے ہیں؟ مصدر کے معنیٰ میں کر دیتے ہیں بھئی۔ "أنْ" یہ داخل ہوتا ہے فعل پر، اس کو کس معنیٰ میں کر دیتا ہے؟ مصدر کے معنیٰ میں۔ "مَا" مصدریہ بھی کس پر داخل ہوتا ہے؟ فعل پر، اس کو کس معنیٰ میں کر دیتا ہے؟ مصدر کے معنیٰ میں کر دیتا ہے، اور "أنَّ" حروفِ مشبہ بالفعل یہ ایک اسم پر داخل ہوتا ہے اور ایک خبر پر، اور ان دونوں کو ملا کے کس کے حکم میں کر دیتا ہے؟ مصدر کے۔ میں نے آپ کو طریقہ بتلایا تھا یا نہیں کہ خبر کے مصدر کو مضاف کر دیں "أنَّ" کے اسم کی طرف: "أنّ زَیْداً قَائِمٌ" یہ کس معنیٰ میں ہے؟ "قِیَامُ زَیْدٍ"۔ "أنّ زَیْداً قَائِمٌ" کیا معنیٰ؟ مصدر کیا ہے؟ خبر کیا ہے؟ "قَائِمٌ"، اس کا ذرا مصدر نکالو: "قِیَامٌ"۔ اس قیام کو "أنَّ" کے اسم کی طرف مضاف کر دو: "قِیَامُ زَیْدٍ"۔ تو "أنّ زَیْداً قَائِمٌ" یہ پورا جملہ نہیں ہے، یہ مفرد ہے مولانا! "أنَّ" نے اس کو کس کے حکم میں کر دیا ہے؟ مفرد، اور وہ مفرد کیسے بنایا جاتا ہے؟ خبر کے مصدر کو کیا کرتے ہیں؟ "أنَّ" کے اسم کی طرف مضاف کرتے ہیں تو وہ یہاں کیا بن گیا؟ "قِیَامُ زَیْدٍ"۔ تو یہ یوں ہے کلام: "زید کا قیام"، اب اس کے قیام کو کیا ہوا؟ کوئی خبر ہے؟ بات پوری ہو رہی ہے؟ نہیں بھئی، یہ بات پوری نہیں۔ تو اسی لیے مفرد بنا دیا ہے اس نے بھئی۔ تو یہ جو "أنَّ" ہے، یہ بھی حروفِ مصدر میں سے ہے بھئی، کیونکہ یہ ما بعد جملے کو... پورے جملے کو کس کے حکم میں کر دیتا ہے؟ مصدر کے حکم میں کر دیتا ہے۔ تو حروفِ مصدر تین ہیں بھئی۔ تو ابھی آج تک آپ نے اسمِ موصول تو پڑھے تھے، آج میں نے آپ کو بتایا یہ تین کیا کہلاتے ہیں نحو کی اصطلاح میں؟ حروفِ موصول کہلاتے ہیں، اور جیسے اسمِ موصول کے لیے صلہ چاہیے ہوتا ہے، حرفِ موصول کے لیے بھی کیا چاہیے؟ صلہ چاہیے، صلہ چاہیے۔ آپ دیکھتے نہیں بھئی "أنْ" ہمیشہ کس پہ داخل ہوگا؟ فعل پر، یہ فعل ہی تو اس کا صلہ ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اور اسی طرح بھئی "مَا" مصدریہ بھی کس پہ داخل ہوگا؟ فعل پر، تو یہی آگے جملہ ہے، یہ اس کا کیا ہے؟ صلہ ہے، اور "أنَّ" بھی کس پر داخل ہوتا ہے؟ ایک اسم اور ایک... مبتدا اور خبر پر داخل ہوتا ہے، تو یہ ایک اسم ہوا ایک خبر، یہ بھی کیا ہے پورا؟ صلہ ہے، یہ کیا ہے؟ صلہ ہے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ اسمِ موصول میں صلے کے اندر عائد کا ہونا ضروری، لیکن حرفِ موصول کا جو صلہ ہوتا ہے اس کے اندر عائد نہیں ہوگا بھئی۔ یہ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ جی، یہ بات یاد رکھیں۔ کئی جگہ نحو کی کتابوں میں یا ترکیب وغیرہ بتاتے ہوئے صاحبِ کتاب یہ لکھ دیں... بتاتے چلے جائیں گے کہ یہ جو ہے صلہ ہوا حرفِ موصول کا، کس کا؟ تو آپ سمجھ جائیے کہ یہ کیا ہے؟ حرفِ موصول کون کون سے مراد ہیں اور یہ صلہ کس طرح ہو رہا ہے کہ اس کو کس کے حکم میں کر رہا ہے؟ مصدر کے حکم میں کر رہا ہے بھئی۔ چلیے مولانا! چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّهُ أَعْلَمُ بِحَقِیْقَةِ الْکَلَامِ۔