درس نمبر۔46 ‏وَربَّ لِلتَّقْلِيلِ وَلَا يَكُونُ مَجْرُورُهَا إِلَّا نَكِرَةً مَوْصُوفَةً. چلو بھئی، کون کرے گا ترکیب؟ چلیے بھئی۔ واو عاطفہ۔ واو حرفِ عاطفہ، جی۔ ربَّ مرفوع محلاً مبتدا۔ شاباش! ربَّ مرفوع محلاً مبتدا۔ لام جارة۔ لام جارة۔ التقلیلِ مجرور لفظاً۔ التقلیلِ مجرور لفظاً۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ثابتۃٌ صیغہ اسمِ فاعل کے۔ شاباش! جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ثابتۃٌ صیغہ اسمِ فاعل کے ساتھ۔ ثابتۃٌ صیغہ اسمِ فاعل هي ضمیر اس کا مرفوع محلاً فاعل۔ شاباش! ثابتۃٌ صیغہ اسمِ فاعل، هي ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر، شبہ جملہ ہو کر یہ خبر۔ جی، اسمِ فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر کس کے لیے؟ ربَّ کے لیے؟ ربَّ کے لیے آپ کیسے خبر بنا رہے ہو؟ جب بھی جملہ یا شبہ جملہ کو کسی چیز سے جوڑنا ہو ربط کا ہونا ضروری۔ آپ نے کوئی ربط نہیں دیا۔ هي ضمیر، هي ضمیر جو ہے وہ ربَّ کو لوٹ رہی۔ شاباش! ثابتۃٌ کی هي ضمیر ربَّ کو لوٹ رہی تھی بھئی، اس نے ربط دیا بھئی۔ جی، تو یہ مبتدا خبر مل کر کیا ہوئے؟ جملہ اسمیہ خبریہ ہوا جی۔ آگے بھئی کرتے جاؤ۔ واو عاطفہ۔ واو عاطفہ۔ لا یکونُ فعلِ ناقص۔ لا یکونُ فعلِ ناقص۔ ہو ضمیر اس کا، اسم مرفوع محلاً۔ جی۔ لا یکونُ بھئی اسم آگے خود ظاہر آ رہا ہے، تو ضمیر نکالنے کی کیا ضرورت ہے؟ مجرورُہا مرفوع محلاً، مجرورُہا مرفوع لفظاً مضاف۔ کدھر ہے؟ جی، وَلَا يَكُونُ مَجْرُورُهَا إِلَّا نَكِرَةً جی، یکونُ فعل از افعالِ ناقصہ، مجرورُہا مرفوع لفظاً السلام علیکم! دیکھو، قاری صاحب کے پاس اگر کوئی شخص کھڑا ہوا ہے کتاب ایک اس کے ہاتھ میں، اس نے کوئی کتابیں لینی ہیں تو وہاں سے دیکھ لو قیمتوں میں، جس کا پڑھیے۔ دے دو۔ جی۔ مجرورُ مرفوع لفظاً مضاف۔ مجرورُ مرفوع، بھئی مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ یہ اسم ہے۔ اسم ہے، شاباش! کس چیز کا؟ کانَ کا، یکونُ کا۔ اور لفظاً کیوں کہا؟ یہ لفظاً ہے۔ شاباش! رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ اور مضاف کیوں کہا؟ یہ آگے ضمیر آ رہی ہے نا، اس کے ساتھ جڑی ہوئی۔ ہاں، اس سے پہلے کے ساتھ ضمیرِ متصل، ضمیرِ متصل کہو، ضمیرِ متصل آ رہی ہے اور جس اسم کے ساتھ بھی ضمیرِ متصل ہو وہاں کیا ترکیب کرتے ہیں؟ مضاف، مضاف الیہ کی۔ تو یہ مجرورُ مرفوع لفظاً مضاف۔ ہا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ۔ ہا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، مرجع بتلاؤ بھئی۔ ربَّ۔ ربَّ، شاباش! ربَّ کا مجرور، اس کی بات ہو رہی ہے، ربَّ کو راجع۔ مضاف، مضاف الیہ مل کر مضاف، مضاف الیہ مل کر یہ یکونُ فعلِ ناقص کے لیے اسم۔ شاباش! یہ اسم ہوا یکونُ کے لیے۔ آگے إلَّا حرفِ استثناء۔ إلَّا حرفِ استثناء۔ نکرۃً منصوب لفظاً موصوف۔ نکرۃً منصوب لفظاً موصوف، بھئی آپ نے اس کو منصوب کیوں پڑھا؟ یہ یکونُ کی خبر بن رہی۔ شاباش! یکونُ کے لیے کیا بنے گی؟ خبر، اور یکونُ کی خبر کیا ہوتی ہے؟ منصوب۔ تو نکرۃً منصوب لفظاً موصوف۔ موصوفۃً اس کی صفت، صفت منصوب لفظاً اس کی صفت۔ موصوفۃً صیغہ اسمِ مفعول۔ موصوفۃً صیغہ اسمِ مفعول۔ منصوب لفظاً صیغہ اسمِ مفعول۔ منصوب لفظاً صیغہ اسمِ مفعول، هي ضمیر اس کا نائب فاعل۔ هي ضمیر مرفوع محلاً اس کا نائب فاعل۔ هي ضمیر مرفوع محلاً اس کا نائب فاعل، صیغہ اسمِ مفعول اپنے نائب فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر یہ نکرۃً موصوف کی صفت۔ موصوفۃً اسمِ مفعول اپنے نائب فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر کیا بنا رہے ہیں آپ اس کو؟ صفت، اور ربط کوئی دیا نہیں، شبہ جملہ کو کیسے آپ صفت موصوفۃً میں نائب فاعل جو ہے وہ هي۔ ہا ضمیر لوٹایا کرو بھئی، ضمیر لوٹایا کرو، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، تو جی، یہ صفت ہوئی نکرہ کی، اسمِ مفعول اپنے نائب فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت نکرہ کے لیے، نکرہ موصوف اپنی صفت سے مل کر یہ خبر یکونُ فعلِ ناقص کی۔ جی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ ایسا موصوف ہے جو صفت ہے۔ موصوفۃً لفظ کی بات کر رہا ہوں بھئی، یہ ایسا موصوف ہے جو کیا ہے؟ ہاں، صفت ہے۔ لفظِ موصوف کی بات کر رہا ہوں۔ اچھا جی! آگے بھئی۔ واو عاطفہ۔ تو کیا بنا؟ یکونُ، لا یکونُ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ جملہ فعلیہ، یکونُ کیا ہے؟ فعل از افعالِ ناقصہ ہے، جس جملے کے شروع میں فعل سے شروع ہو وہ کیا کہلاتا ہے؟ جملہ فعلیہ بھئی۔ جی۔ واو عاطفہ۔ واو عاطفہ۔ لا یکونُ فعلِ ناقص۔ جی، لا یکونُ فعلِ ناقص۔ متعلقُ صیغہ اسمِ متعلقُ صیغہ اسمِ فاعل۔ متعلقُہٗ، بس اس کو صیغہ اسمِ فاعل، بس اس کا نام کیا رکھ دیا ہے ہم نے؟ متعلق بھئی، یا پھر اس کے لیے پھر موصوف محذوف نکالنا پڑے گا۔ تو اسی طرح اس کو رکھیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ جیسے آپ عالمٌ کہتے ہیں تو اس عالمٌ کے اندر بھی ایک ضمیر ہے وہ کسی کو لوٹانی پڑے گی، تو پھر موصوف نکالتے ہیں شخصٌ عالمٌ، کیا کرتے ہیں؟ تو بس اس کو ویسے ہی بنا لو بس موصوف بھئی، باقی ترکیب تو آپ کو آتی ہی، جی۔ متعلقُ مرفوع لفظاً مضاف۔ مرفوع لفظاً مضاف متعلق، متعلق کہیں بھئی، متعلق مرفوع لفظاً مضاف۔ متعلقُ مرفوع لفظاً مضاف، ہا مجرور محلاً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یکونُ فعلِ ناقص کے لیے اسم۔ جی۔ إلَّا حرفِ استثناء، فعلاً فعلاً منصوب لفظاً موصوف۔ جی، کیا کر رہے ہیں ترکیب؟ متعلقُ مرفوع لفظاً مضاف، ہا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، مضاف، مضاف الیہ مل کر یکونُ کا اسم، إلَّا حرفِ استثناء، فعلاً منصوب لفظاً موصوف، ماضياً منصوب لفظاً صفت، موصوف صفت مل کر لا یکونُ کی خبر، لا یکونُ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ربَّ تقلیل کے لیے آتا ہے مولانا، ربَّ، انشاءِ تقلیل کرتا ہے، بعض کہتے ہیں یہ تقلیل کے لیے وضع تھا، لیکن استعمال اب کس کے اندر ہوتا ہے ہمیشہ؟ تکثیر کے اندر استعمال ہوتا ہے۔ تکثیر کے اندر۔ وَ لَا يَكُونُ اور اس کا مجرور نہیں ہوگا مگر نکرہ موصوفہ، یعنی جس پر یہ جر دے گا، جس پر داخل ہوا وہ نکرہ ہوگا ہمیشہ اور موصوف ہوگا، یعنی آگے اس کی صفت آئے گی۔ اور اس کا متعلق ہمیشہ کیا ہوگا؟ فعلِ ماضی ہوگا، فعلِ ماضی، جی۔ آگے کون کرے گا؟ چلو بھئی، کیجیے۔ نحوُ مرفوع لفظاً مضاف۔ نحوُ مرفوع لفظاً مضاف۔ رُبَّ رجلٍ كريمٍ لقيتُهُ مرادُ اللفظ لقيتُهُ جی، رُبَّ نہ رُبَّ رجلٍ كريمٍ لقيتُهُ مرادُ اللفظ مضاف الیہ۔ مرادُ اللفظ مجرور تقدیراً مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر یہ خبر ہوا مثالُہا ہاں، مضاف مضاف الیہ مل کر یہ خبر ہوئی کس کی؟ مثالُہا، مثالُہا کی ہا ضمیر کس کو راجع کی آپ نے؟ رُبَّ۔ رُبَّ کو، جی۔ مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ شاباش! مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا جی۔ اگر معنیٰ کا ارادہ ہو، اس ترکیب یہ کرنی پڑے تو کیسے کریں گے؟ رُبَّ حرفِ جار، رجلٍ مجرور لفظاً موصوف، كريمٍ مجرور لفظاً اس کی صفت۔ رُبَّ رُبَّ حرفِ جار، رُبَّ جارة، رجلٍ مجرور لفظاً موصوف، رجلٍ مجرور لفظاً موصوف، كريمٍ مجرور لفظاً صفت۔ كريمٍ بھئی صفت صفتِ مشبہ۔ جی، كريمٍ مجرور لفظاً صفتِ مشبہ، هو ضمیر اس کا فاعل، کون؟ هو ضمیر اس کا فاعل۔ هو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو راجع، جو راجع ہے رجلٍ رجلٍ کو۔ موصوف کو۔ جی؟ موصوف کو راجع ہے موصوف کو۔ جو راجع ہے موصوف کو۔ موصوف اپنے صفتِ مشبہ اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر یہ صفت بنا رجلٍ کی، شاباش! كريمٍ مجرور لفظاً صفتِ مشبہ، هو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو راجع ہے موصوف کو، صفتِ مشبہ اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت، موصوف صفت مل کر یہ مجرور ہو جائیں گے ربَّ۔ موصوف صفت مل کر مجرور جی، لقيتُ فعل، تُو ضمیر اس کا فاعل، اور ہا ضمیر مجرور بھئی، یہ ربَّ کی جو ترکیب ہے نا، اس میں بڑا بڑی پیچیدگی ہے۔ یہ وہ ترکیب ہے جس سے ابھی تک مجھے بھی اطمینان نہیں ہوا پوری طرح بھئی، سمجھ میں آیا؟ ویسے تو کئی کتابوں میں ترکیبیں اس کی دیکھیں، پڑھیں، لیکن تسلّی نہیں ہوئی بھئی، تسلی جس کو کہتے ہیں، ابھی تک نہیں ہوئی اس ترکیب کی۔ تو جو عام ترکیب کرتے ہیں وہ اس طرح کرتے ہیں کہ ربَّ جارة ہے، رجلٍ كريمٍ موصوف صفت مل کر اس کا مجرور، جار مجرور کو جوڑ دیتے ہیں کس کے ساتھ؟ لقيتُهُ کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ لقيتُهُ کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں بھئی، فعلِ مؤخر کے ساتھ، سمجھ میں آیا؟ لیکن دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے بڑے ائمہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ربَّ کسی سے متعلق نہیں ہوتا، جیسے حروفِ جارة زائدہ کسی سے متعلق نہیں ہوتے، ربَّ بھی کسی سے متعلق نہیں ہوتا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو پھر، تو یہ رجلٍ كريمٍ یہ جو ہے یہ مجرور لفظاً بناتے ہیں اور مرفوع محلاً مبتدا بناتے ہیں اس کو بھئی، سمجھ میں آیا؟ جیسے بھئی با جارة زائدہ ہو، جر تو دے گا، لیکن مدخول اس کا کیا بنے گا؟ یا فاعل یا مفعول، جو بھی بن رہا ہے محل کے اعتبار سے، تو یہ بھی لفظوں کے اعتبار سے تو ربَّ نے جر دے دیا، لیکن محل کے اعتبار سے یہ کیا ہیں؟ مبتدا ہیں، یہ کیا ہیں؟ مبتدا ہیں۔ تو اور پھر کہتے ہیں یہ جڑتا نہیں ربَّ لقيتُهُ سے، لقيتُهُ سے کہتے ہیں اس لیے نہیں جڑ سکتا کہ لقيتُهُ کی ہا ضمیر کس کو راجع؟ اسی رجلِ کریم کو راجع ہے، لقيتُهُ کی ہا ضمیر کس کو راجع ہے؟ اسی رجلِ کریم بہت سے کریم شخص لقيتُهُ کہ میں نے کیا کیا ان سے؟ ملاقات، تو لقيتُهُ کی ہا ضمیر کس کو راجع؟ اسی رجلِ کریم کو، تو اگر ربَّ کو بھی اس سے جوڑ دیں تو یہی فعل، یہ اسی رجلِ کریم کو بغیر واسطہ حرفِ جر کے بھی اس کے ساتھ تعلق ہے اور بواسطة حرفِ جر کے بھی ہے اور یہ تو صحیح نہیں، ایک ہی چیز کے ساتھ دو طریقوں سے تعلق آ جائے بھئی، سمجھ میں آیا؟ لقيتُ تو کیا چاہتا ہے؟ بھئی ضربتُ زدیداً، تو بھئی، جب میں نے کہا ضربتُ زیداً، بھئی دیکھو ضربَ کیا کرتا ہے؟ زید کو نصب دے دیتا ہے، لہٰذا یہاں کوئی حرفِ جر لانے کی ضرورت ہے؟ یہ براہِ راست مفعول میں عمل کر رہا ہے، تو حرفِ جر لانے کی ضرورت نہیں۔ ایک ہے مررتُ، مررتُ بھی مفعول چاہتا تھا، آپ جملے میں لانا چاہتے ہیں، لیکن مررتُ تو مفعول نہیں چاہتا، یہ تو فعلِ لازم ہے، تو پھر آپ با کے واسطے سے لاتے ہیں مررتُ بزیدٍ، کیا کہتے ہیں؟ مررتُ بزیدٍ، تو یہ دیکھا؟ تو یہ بواسطة حرفِ جر کے آپ اس کا مفعول لے آئے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ جو مجرور ہوتا ہے، یہ بھی مفعول ہوتا ہے، لیکن یہ کہلاتا ہے مفعول بہ غیر صریح، ایک ہے ضربتُ زیداً، یہ زیداً کیا ہے؟ مفعول بہ صریح ہے، اور ایک ہے مفعول بہ غیر صریح، وہ وہ کون سا ہے جو مجرور ہے، یعنی فعل اس پر صراحۃً بھئی اس کو نصب نہیں دے سکتا تھا، تو ہم کس کے ذریعے لے آئے؟ فعل سے کے ساتھ ہم نے کس کے ذریعے جوڑ دیا؟ بواسطة حرفِ جر کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اب یہاں پر یہی لقيتُ یہ متعدی ہے، یہ مفعول چاہتا ہے بغیر حرفِ جر کے واسطے کے اس کو نصب دے دیتا ہے، جب بغیر حرفِ جر کے واسطے کے اس کو نصب دے رہا ہے، تو بواسطة حرفِ جر لانے کی ضرورت نہیں، تو اسی ہا وہ ہا ضمیر راجع ہے رجلِ کریم کو، تو اس کی ساتھ اس کا تعلق ہوا بغیر حرفِ جر کے واسطے کے بھی، اور اگر ربَّ کو جوڑ دیں تو پھر بواسطة حرفِ جر کے بھی، سمجھ میں آ رہی ہے بات؟ دیکھو نا ربَّ رجلٍ كريمٍ اس کو کس سے جوڑ رہے ہو؟ لقيتُ سے، اور یہ لقيتُ کی ساتھ جو ہا ضمیر ہے یہ کس کو راجع ہے؟ یہ بھی رجلِ کریم کو راجع ہے، تو دیکھو لقيتُ متعدی ہوا اسی رجلِ کریم کو بغیر بغیر واسطے کے بھی اور واسطے کے ساتھ بھی، تو یہ صحیح نہیں بنتا بھئی، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو اس کی ترکیب بڑی، ابھی تک تسلی نہیں ہو سکی مولانا۔ تو یہ، پھر اس کو کیا کرتے ہیں؟ رجلٍ كريمٍ کو کیا بناتے ہیں؟ مبتدا بنا دیتے ہیں، اور لقيتُهُ جوابِ ربَّ کہلاتا ہے، اس کو کیا بناتے ہیں؟ خبر، بات سمجھ میں آئی؟ علامہ رضی لکھتے ہیں جنہوں نے شا جنہوں نے کافیہ کی عظیم الشان شرح لکھی، انہوں نے کہا یہ ایسا مبتدا ہے جس کی خبر کوئی نہیں بھئی، یہ ایسا مبتدا ہے جس کی، معلوم ہوا مسئلہ پیچیدہ ہے بڑا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ لقيتُ، تو پھر اس صورت میں یا تو ایک اگر ایسا مبتدا ہے جس کی خبر کوئی نہیں، تو پھر یوں کر سکتے ہیں، رجلٍ کو موصوف بنایا جائے، كريمٍ کو صفتِ اول، لقيتُهُ کو صفتِ ثانی، اور یہ صفتِ ثانی قائم مقام خبر کے ہے، قائم مقام کس کے بنا لیں؟ خبر کے بنا لیں۔ چلیے، فی الحال تو ویسے جو عام کتابوں میں لکھی ہے وہ بعض کتابوں میں وہ ترکیب کرتے ہیں، سنیے بھئی! ربَّ جارة بھئی، رجلٍ مجرور لفظاً موصوف، كريمٍ مجرور لفظاً صفتِ مشبہ، هو ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، جو کس کو راجع؟ موصوف کو، صفتِ مشبہ اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر جی؟ صفت، موصوف صفت مل کر مجرور لفظاً اور مرفوع محلاً مبتدا، مجرور لفظاً اور مرفوع محلاً مبتدا، لقيتُ فعل بافاعل، تُو ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، ہا ضمیر منصوب محلاً جو راجع ہے کس کو؟ مبتدا کو بھئی، فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر یہ خبر بھئی، یہ خبر، مبتدا اپنی خبر سے مل کر کیا ہوا؟ جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، بس۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ جی۔ وَقَدْ تَدْخُلُ عَلَى الضَّمِيرِ الْمُبْهَمِ جی، کون کرے گا آگے ترکیب؟ چلو بھئی، کیجیے۔ واو عاطفہ۔ واو عاطفہ۔ قد حرفِ تقلیل۔ قد حرفِ تقلیل۔ تدخلُ فعلِ مضارع۔ تدخلُ فعلِ مضارع۔ هي ضمیر اس کا فاعل راجع بسوئے ربَّ۔ تدخلُ فعل، هي ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو راجع ہے ربَّ کو۔ علی حرفِ جار۔ علی جارة۔ الضمیرِ مجرور لفظاً صفت موصوف۔ الضمير مجرور لفظاً موصوف الم به، الم به مجرور لفظاً اسم مفعول صيغة مفعول، وهي هو ضمير اسكا نائب فاعل مرفوع محلاً. جي. ثم الم به صيغة اسم مفعول، هو ضمير مرفوع محلاً اسكي اندر اسكا نائب فاعل جو كس كو راجع هى بائي؟ ضمير جو موصوف كو راجع هى. اسم مفعول اپنے نائب فاعل سے مل کر شبه جملہ ہو كر صفت هى الضمير مجرور لفظاً كي. جي صفت اسم مفعول اپنے نائب فاعل سے مل کر شبه جملہ ہو كر. صفت هى الضمير موصوف. صفت ہوئی الضمير كے ليے۔ موصوف صفت مل كر. مجرور ہوئے "على" جار كے. مجرور ہوئے جار كے ليے۔ جي. "على" جار اپنے مجرور سے مل کر ظرف لغو متعلق ہوا تدخل فعل كے. جي جار مجرور مل کر مولانا ظرف لغو ہوا كس كے ليے؟ تدخل فعل كے ليے۔ تدخل فعل سے متعلق هى. تدخل فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ مفيده جملہ. جملہ فعلیہ ہوا بائي. جي، آگے بائي كرتے جائيے۔ واو حرف عطف. واو حرف عطف. لا يكون فعل ناقص. جي لا يكون فعل افعال ناقصه. تمييزه مرفوع لفظاً مضاف. تمييزه مرفوع لفظاً مضاف. ها ضمير مجرور محلاً مضاف إليه. ها ها كوه بائي، ها وه ها نام اسكا وہ لو. كيا كہتے هيں بائي؟ الف، با، تا، ثا بائي پڑھتے جائيں، كيا آرہا هى آخر ميں؟ ها، ہمزه، ها، یہ ها هى بائي ها. جي. ها ضمير مجرور محلاً مضاف إليه. ها ضمير مجرور محلاً مضاف إليه. راجع بسوئے "رب". راجع بسوئے "رب". تمييز مضاف اپنے مضاف إليه سے مل کر یہ اسم مرفوع لفظاً اسم ہوا لا يكون كى. جي تمييز مضاف مضاف إليه مل كر یہ رب يا لا يكون كى اسم. اسم. إلا حرف استثناء. إلا حرف استثناء. نكرة منصوب لفظاً موصوف. نكرة منصوب لفظاً موصوف. موصوفة صيغة اسم مفعول. موصوفة منصوب لفظاً صيغة اسم مفعول. وهي ضمير اسكا نائب فاعل. هي الضمير مرفوع محلاً اسكا نائب فاعل. كس كو راجع؟ راجع بسوئے نكرة. جو موصوف كو راجع هى. صيغة اسم مفعول اپنے نائب فاعل سے مل کر یہ صفت ہوئی نكرة موصوف كى. جي نائب اسم مفعول اپنے نائب فاعل سے مل کر شبه جملہ ہو كر صفت، موصوف صفت مل كر. یہ خبر ہوئی فعل افعال ناقص كى. جي یہ خبر ہوئی فعل ناقص كى، فعل ناقص اپنے اسم اور خبر سے مل كر. جملہ فعلیہ. جملہ فعلیہ خبریہ ہوا بائي. جي، چه كرتے جائيے۔ نحو مرفوع لفظاً، منصوب لفظاً مفعول به. نحو منصوب لفظاً مضاف. مضاف رب حرف جار. جي كيا كررهے ہو؟ مفعول به. رب رب رجل جواد. جي. یہ مراد اللفظ. شاباش "رب رجل جواداً" مراد اللفظ ہوكر یہ كيا هى مجرور. محلاً. مجرور محلاً كہہ ديں يا مجرور تقديراً كہہ ديں، جي. مجرور تقديراً یہ مضاف إليه ہوا نحو مضاف كى. جي مضاف إليه ہوا نحو مضاف كے ليے۔ نحو مضاف اپنے مضاف إليه سے مل کر یہ مفعول به ہوا أعني فعل كى. نحو مضاف اپنے مضاف إليه سے مل کر یہ مفعول به ہوا كس كے ليے؟ أعني فعل كے ليے۔ أعني فعل اور أنا ضمير اسكا فاعل. أعني فعل، أنا ضمير اسكي اندر مرفوع لا محلاً اسكا فاعل. فعل اپنے فاعل اور مفعول به سے مل کر جملہ. فعلیہ. فعلیہ خبریہ ہوا. سمجھ ميں آيا بائي؟ اور اگر تركيب معنى كا اراده ہو بائي. نحو. سمجھ ميں آيا؟ یہ مثال دے رہے هيں نا، هنا لفظ مراد ہوتا هى. مثال بائي یہ كيا ہوتا هى؟ اسكي یہ كبهى ضمير مبہم، هر جگہ اسی طرح هى، یہ ضمير مبہم پر داخل ہوتا هى، اور اسكي تمييز ہميشہ كيا ہوتی هى؟ نكرة موصوفة، جيسے ربه رجلاً جواداً. جيسے ربه رجلاً جواداً. معنى يا مراد ہی نہیں هيں، یہ لفظ مراد هيں بطور مثال كے ذكر كيا جاتا هى اسكو. ہاں، اگر معنى كا اراده ہو پھر، جي. رب مج جار. رب جار. جار ها ضمير. ها ضمير. ها ضمير مجرور محلاً یہ مبہم مميز. شاباش، ها ضمير ديكھا خود بتلايا تھا، ضمير مبہم آتی هى آگے اسكي تمييز، تو ها ضمير مجرور محلاً مبہم مميز. مميز رجلاً یہ منصوب لفظاً نكرة موصوف. رجلاً منصوب لفظاً موصوف. جواد صيغة صفت كا. جواداً جي منصوب لفظاً صيغة صفت مبالغے كى، جي اسم صفت مشبهة. صفت مشبهة. جي. هو ضمير اسكا. يا یہ مبالغے كا صيغة نہ ہو بائي؟ چليے، جي؟ مبالغة. جي مبالغے كا ہوگا، جي. جواد صيغة مبالغة هو ضمير اسكا فاعل. جي. راجع بسوئے موصوف كے. جي. تو صيغة صفت اپنے فاعل كے ساتھ مل كر كيا ہوا؟ یہ صفت ہوئی رجلاً موصوف كى. صفت شبه جملہ ہو كر صفت رجلاً كے ليے۔ موصوف اپنی صفت سے مل کر یہ تمييز ہوا هو ضمير كى. موصوف صفت مل كر یہ تمييز ہوئی هو ضمير. یہ تمييز ہوئی بائي كس كے ليے؟ ها ضمير كى. ها ضمير، جي. ها ضمير مجرور مميز اپنی تمييز سے مل كر یہ مجرور ہوئے رب جار كے. جي مبہم مميز تمييز جو ضمير جو هى، مبہم مميز اپنی تمييز سے مل كر مجرور لفظاً مرفوع محلاً مبتدأ. كيا بتلايا تھا پہلے رب رجل كريم، رجل كريم كو كيا بنایا تھا ہم نے؟ مبتدأ، هنا بھی اسی طرح كرلو. تو یہ مبہم مميز اپنی تمييز سے مل كر مجرور لفظ مجرور محلاً تھا، تو محل قريب كے اعتبار سے یہ كيا هى؟ جي؟ مجرور، اور محل بعيد كے اعتبار سے یہ كيا هى؟ مرفوع هى مبتدأ، اور آگے اسكي خبر لقيتها محذوف هى. تو یہ مبتدأ وہ خبر، مبتدأ اپنی خبر سے مل كر. جملہ اسمية خبریہ ہوا بائي، جملہ اسمية خبریہ ہوا، سمجھ ميں آيا بائي؟ جملہ انشائية نہ بنانا اسكو، بعض اسكو جملہ انشائية بناتے هيں كہ رب جو هى وہ ان تكسير كس ليے آتا هى؟ انشاء تقليل كے ليے۔ بائي وہ صرف تقليل كے اندر انشاء هى قلة كے اندر، اور یہ یہ جو لقاء كے اندر مولانا وہ انشاء نہیں كررہا، سمجھ ميں آيا؟ یہ تو خبر هى كہ آپ نے كيا كہہ رہے هيں كسی كو؟ كہ ميں نے. بہت سے سخی يا تكسير كے ليے لے ليں، يا تقليل كے ليے لے ليں، بہت كم كيا سخی آدمیوں سے ميں نے ملاقات كى هى، بہت كم ميں نے سخی آدمیوں سے ملاقات. تو یہ جو قلة بيان كررہے هيں آپ، یہ انشاء هى، اس ميں كيا هى؟ انشاء هى بائي، یہ انشاء هى بائي. اسكى خبر، یہ آپ كے ذہن ميں هى بائي، اور البتہ آگے بيان كيا كررہے هيں آپ؟ كس چيز كى خبر دے رہے هيں؟ جي؟ ملاقات ہوئی هى، اور یہ اس ملاقات كے ميں تو آپ یہ خبر دے رہے هيں، اس ميں صدق بھی ممكن هى اور كذب بھی ممكن هى، تو یہ جملہ خبریہ هى بائي. سمجھ ميں آيا بائي؟ اچھا، تو یہ ديكھا؟ یہ وہ مقام هى مولانا جہاں پر ضمير كو مرجع پر مقدم كر ديا گيا. ضمير كو مرجع پر كيا كر ديا گيا؟ آپ نے ہميشہ یہ پڑھا هى كہ غائب كى ضمير كے مرجع كا مقدم ہونا ضروری. مخاطب اور متكلم كى ضمير كا مرجع نہیں ہوتا، غائب كى ضمير كے ليے مرجع چاہيے، اور وہ مرجع مقدم ہوگا بائي. پھر یہ مقدم ہونا مرجع كا يا یہ لفظاً ہوتا هى يا معنون ہوتا هى يا حكماً ہوتا هى. لفظاً جيسے كہ لفظوں كے اندر پہلے ہی وہ لفظ گزرا ہو، جيسے كيا تھا؟ رب رجل كريم لقيته، ها ضمير كس كو راجع هى؟ رجل كو راجع هى، اور رجل كا كيا هى؟ لفظوں كے اندر بھی مقدم هى. یہ جيسے آپ كہتے هيں: زيد قام، تو زيد مبتدأ هى، قام كے اندر هو ضمير كس كو راجع هى؟ زيد، اور زيد كا ذكر مقدم ہوچكا لفظوں ميں. اور كبهى مولانا لفظوں ميں مقدم نہیں ہوتا بلكہ معنى كے اعتبار سے مقدم ہوتا هى، جيسے: اعدلوا هو أقرب للتقوى. اب اعدلوا عدل كرو تم، یہ زيادہ قريب هى. تقوى كے، تو یہ هو ضمير عدل كو راجع هى، ليکن عدل كے پہلے لفظوں كے اندر ذكر نہیں ہوا، ليکن معنون ذكر ہوچكا كيونكہ اعدلوا كے ضمن ميں كس كا ذكر آگيا؟ عدل كا ذكر آگيا، كيونكہ فعل آگيا اور فعل كے اندر كيا پایا جاتا هى؟ فعل كا مفہوم مرکب ہوتا هى تین چيزوں سے مولانا، ایک مصدر كے مصدر كى معنى اس ميں پایا جاتا هى، دوسرا اس ميں زمانہ پایا جاتا هى، تیسری اس ميں نسبة إلى الفاعل، تو فعل كے ضمن ميں مصدر آچكا تھا. تو اسكى طرف آپ نے یہ ضمير لوٹائی. سمجھ ميں آيا؟ جي. اور كبهى حكماً ہوتا هى، كيا ہوتا هى مرجع؟ حكماً ہوتا هى، جيسے یہ ربه كے اندر هى اور ضمير شان كے اندر هى، یہ چند جگہيں هيں بس جہاں. تو ضمير شان كے اندر بائي کوئی چيز تھی وہ مرجع وہ مرجع تھی اس مرجع پر دلالت كر رہی تھی، ليکن وہاں پر آپ كيا كرتے هيں كہ كيا كر ديتے هيں؟ ا. كيا كرتے هيں آپ وہاں پر؟ مر ضمير كو مقدم كر ديتے هيں، كيا كر ديتے هيں؟ ضمير كو مقدم كر ديتے هيں اس نقطے كى وجہ سے تاكہ إبهام پیدا ہو جائے. كيا پیدا ہو جائے؟ إبهام پیدا ہو جائے، بائي ديكھو جب آپ نے كہا: ربه، يا آپ نے كہا: هو زيد قائم، هو كيا هى؟ ضمير شان، زيد قائم پورا جملہ اسكى تفسير هى اسكى خبر هى بائي. تو جب آپ نے هو كہا، یہ ضمير هى اور هر غائب كى ضمير كے ليے كيا چاہيے؟ مرجع، اور اسكا مرجع تو ابھی آيا نہیں، آپ نے اسكو مرجع پر مقدم كر ديا، كس ليے؟ كہ آپ إبهام پیدا كرنا چاہتے هيں، كيا پیدا كرنا چاہتے هيں؟ بائي ضمير آگئی اور اسكا مرجع نہیں هى، تو إبهام ہوا يا نہ ہوا؟ كہ یہ كس كو راجع هى؟ تو إبهام پیدا ہوا، تو اب سامع پوری طرح متوجہ ہو گيا بائي كہ یہ كيا؟ ضمير آگئی، اسكا مرجع ابھی تک معلوم ہی نہیں هى بائي. جب اسكى پوری كامل توجہ ہو گئی، آپ نے كہہ ديا: زيد قائم، اب پوری توجہ كے بعد جب بات اسكے سامنے آئی تو اس سے ذہن ميں زيادہ اچھی طرح بیٹھ گئی بائي، سمجھ ميں آيا؟ تو یہ اس تڕ كيا، جي. تو یہاں پر بھی اسی طرح هى بائي، چليے جي. چليے مولانا، هذا هو المرام واللّه أعلم بحقيقة الكلام.