درس نمبر۔41 نحو قوله تعالى. نحو مرفوع لفظاً، مضاف۔ قول مجرور لفظاً، مصدر مضاف۔ ها ضمير مجرور محلاً، جو راجع ہے ذات باری تعالی کو، ذوالحال۔ تعالى فعل، هو ضمير مرفوع محلاً، اس کے اندر اس کا فاعل۔ فعل اپنے فاعل کے ساتھ مل کر جملہ فعلیہ، بتقدير قد، کیا ہوا؟ جملہ فعلیہ خبرية ہو کر حال۔ حال کو کس سے جوڑ رہے ہو آپ؟ ذوالحال سے اور حال ہے جملہ، اور جملے کو جب کسی چیز سے جوڑا جائے ربط چاہیے، تعالی کے اندر هو ضمير ہے، وہ راجع ہے کس کو؟ ذوالحال کو، ذوالحال کو بھئی۔ ذوالحال اپنے حال سے مل کر یہ مضاف الیہ ہوا مصدر کے لیے، جی۔ آگے چلو بھئی۔ واو عاطفه، لا ناهية، جی۔ لا تأكلوا فعل ہوا، واو ضمير مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ أموال منصوب لفظاً، مضاف۔ هم ضمير شاباش، هم ضمير مجرور محلاً، مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر یہ مفعول بہ ہوا لا تأكلوا فعل کے لیے۔ إلى جارة، أموال مجرور لفظاً، مضاف۔ كم ضمير مجرور محلاً، مضاف الیہ۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مجرور۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے، جی، فعل کے ساتھ۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ، بھئی مبدل منہ آپ بنا رہے ہیں، کس وجہ سے بنا رہے ہیں؟ آگے حرف 'أي' آ رہا ہے اور حرف 'أي' سے پہلے کیا بناتے ہیں؟ مبدل، بھئی جملہ ہو جملے کو نہیں مبدل منہ بناتے، میں نے کہا تھا جب مفرد ہو۔ کیا ہو؟ مفرد کو مبدل منہ یا معطوف علیہ بناتے ہیں اور یہ تو پورا جملہ ہے۔ ہاں، یہ جملہ انشائیہ مفسرہ ہوا۔ أي حرف تفسیر، مع منصوب محلاً، مضاف۔ مع ظروف میں سے ہے، کس میں سے ہے؟ ظروف میں سے، جی۔ مع منصوب محلاً، مضاف۔ أموال مجرور لفظاً، مضاف الیہ مضاف۔ كم ضمير مجرور محلاً، مضاف الیہ۔ شاباش، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ مضاف الیہ ہوا مع کے لیے۔ مع مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ کیا ہوا؟ جی؟ کون سا مفعول ہوا؟ جی، ظرف ہے، ابھی تو میں نے بتایا ہے، مع کیا ہے؟ ظرف کیا بنا کرتا ہے؟ مفعول فیہ، بھئی یاد رکھو، جیسے جار مجرور ہے، ایک ہے جار مجرور ظرف حقیقی ہے ایک اور ایک ہے ظرف مجازی، یہ جو اسماء ظروف ہیں، یہ ہیں ظرف حقیقی، جو زمانے کا معنی جن میں پایا جائے یا مکان کا معنی پایا جائے، یہ بھی ظروف ہیں اور ظروف حقیقی۔ اور ایک جار مجرور ہے اس کو بھی مجازاً ظرف کہہ دیا کرتے ہیں بھئی۔ اور جیسے جار مجرور کے لیے میں نے بتایا، عامل چاہیے، آٹھ چیزوں میں سے کوئی ایک، ان کسی ایک چیز کے ساتھ یہ متعلق ہوں گے۔ اسی طرح ظروف کے لیے بھی چاہیے، ظروف حقیقی جو ہیں، ان کے لیے بھی کیا چاہیے؟ عامل چاہیے اور وہ عامل بھی کیا ہوگا؟ انہی آٹھ چیزوں میں سے کوئی ایک ہوگا، تو یہاں ظرف آ گیا مع، تو اس کے لیے عامل نکالیں گے، اور عامل یہاں پر کیا کریں گے؟ وہی فعل ماقبل والا جو ہے، یہاں پر نکال لیں گے بھئی۔ تو یہ "مع أموالكم" یہ متعلق ہوا فعل محذوف 'لا تأكلوا' کے ساتھ، تو یہاں پر پھر محذوف نکالیں گے بھئی، کما يرحمكم اللہ۔ تو یہ دیکھو، 'أي' آتا ہے کبھی مفرد کی تفسیر کے لیے، کبھی جملے کی تفسیر کے لیے، یہاں جملے کی تفسیر ہوگی بھئی، جملے کی، جملے کی تفسیر کے لیے آیا بھئی۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ جملے کی تفسیر، کیوں بھئی؟ یہ جملے کی تفسیر یہاں، جب جملے، اور جملے کی تفسیر ہمیشہ کس سے ہوگی؟ اور اگر مفرد ہو، اس کی تفسیر کس سے ہوگی؟ جی، تو اس 'مع أموالكم' کو 'إلى أموالكم' کے لیے نہیں بنا سکتے بھئی، تفسیر نہیں بنا سکتے، صرف 'إلى أموالكم' کی تفسیر نہیں بنا سکتے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ میں بتانا یہ چاہ رہا ہوں یہاں ہم نے فعل نکالا بھئی 'لا تأكلوا' أموالهم، یہاں پر نکال لیں گے پورا۔ کیوں؟ کیونکہ 'أي' یہاں پر آ رہا ہے، اور 'أي' سے ماقبل ہے جملہ، تو مابعد میں بھی ہمیں کیا چاہیے؟ جملہ چاہیے۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب سوال پیدا ہوا کہ 'إلى أموالكم' کا معنی بتا رہے ہیں 'مع أموالكم'، تو اس کو 'إلى أموالكم' کی تفسیر کیوں نہیں قرار دیتے؟ پھر تو مفرد کی تفسیر کس کے ساتھ ہو جائے گی؟ یعنی جملہ نہیں ہے یہ۔ بھئی، اس لیے نہیں کر سکتے، اس لیے کہ آگے آ رہا ہے 'مع'، 'مع' ہے اسم، اور ظرف ہے، اور اس کے لیے کیا محل ہوتا ہے بھئی اعراب کا؟ اعراب کے اعتبار سے منصوب ہوگا، منصوب۔ تو ماقبل میں ہے جار مجرور، اور جار مجرور کے لیے تو کوئی محل، محل نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ ہے بھی ظرف لغو بھئی، اس کے لیے کوئی محل نہیں اعراب کا۔ اور حالانکہ اگر اس کو ہم مبدل منہ بنائیں بنانا چاہیں، یا عطف بیان بنانا چاہیں، تو کیا ہوگا؟ اس پر کوئی اعراب ہمیں چاہیے تاکہ بیان پر بھی عطف بیان پر بھی وہی اعراب جاری کریں، یا مبدل منہ بنائیں تو مبدل منہ کے لیے کوئی اعراب چاہیے تاکہ بدل پر بھی ہم کیا کریں؟ وہی اعراب، اور یہاں 'إلى أموالكم' کے لیے کوئی اعراب ہے ہی نہیں، یہ تو متعلق ہو رہا ہے کس کے ساتھ؟ جی؟ 'لا تأكلوا' فعل کے ساتھ۔ اسی لیے یہاں بھی جملہ بنانا پڑے گا، تو 'لا تأكلوا أموالهم' یہاں محذوف نکالیں گے، 'مع أموالكم' یہ 'لا تأكلوا' کے لیے مفعول فیہ بن جائے گا، تو اور فعل اپنے فاعل، مفعول بہ اور مفعول فیہ کے ساتھ مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ مفسرہ بنے گا۔ جملہ فعلیہ انشائیہ مفسرہ بن جائے گا، جی۔ آگے کون کرے گا ترکیب؟ چلو بھئی، آپ کرو۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ واو حرف عطف۔ قد بھئی، حرف تحقیق بھی ہے، تقلیل کے لیے بھی آتا ہے، تحقیق کے لیے بھی، دونوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، جی، یہاں تقلیل کے لیے۔ يكون فعل مضارع، جی، يكون فعل ناقص، فعل ناقص۔ ما شاباش، اعراب بتاؤ ما موصولہ؟ ما محلاً مرفوع بھئی، آپ نے مرفوع کیوں بنایا اس کو؟ شاباش، کان کا اسم، اور کان کا اسم کیا ہوا کرتا ہے؟ اور آپ نے محلاً کیوں کہا؟ ہاں شاباش، یہ اسم موصول ہے اور اسماء موصولہ کیا ہیں؟ مبنی ہیں، تو یہ مرفوع محلاً ہوا، جو بھی اسم آ جائے مولانا، اس کے لیے ہمیں اعراب چاہیے۔ تو یہ مرفوع محلاً اسم موصول۔ بعدُ مرفوع لفظاً، جی، بعدُ کس میں سے ہے بھئی؟ جی؟ ظرف ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ ظرف ہے، اور ظرف کے معنی کیا، کس کو کہتے ہیں ظرف؟ کس کو؟ مفعول فیہ کو کہتے ہیں نا؟ اور مفعول فیہ کا کیا اعراب ہوا کرتا ہے؟ نصب پڑھا جاتا ہے اس پر بھئی۔ بھئی دیکھو، اس کی تین حالتیں میں نے آپ کو بتائی تھیں، وہ آپ کو یاد ہی نہیں ہو رہی ہیں، دو تین دفعہ تو بتا چکا ہوں۔ بھئی، بعدُ کی، قبلُ وغیرہ کی تین حالتیں ہیں۔ ایک یہ کہ یہ تقاضا کرتے ہیں مضاف الیہ کا، بعد میں، بھئی کس کے بعد میں؟ یہ کس کا تقاضا کرتے ہیں؟ مضاف الیہ کا۔ اب ان کا مضاف الیہ یا لفظوں میں ذکر ہوگا یا تو لفظوں میں ذکر ہوگا، ایک صورت۔ دوسری صورت، لفظوں سے تو آپ نے گرا دیا لیکن نیت میں ابھی بھی موجود ہے۔ تیسری صورت، لفظوں سے بھی گرا دیا اور نیت بھی میں بھی موجود نہیں، نسیاً منسیاً ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ ایک صورت میں لفظاً و معناً موجود ہے، دوسری میں صرف معناً ہے، تیسری میں نہ لفظاً ہے اور نہ معناً۔ اچھا، پہلی صورت جس میں لفظوں میں موجود، تو یہ تقاضا کر رہا تھا مضاف الیہ کا اور آ بھی گیا آگے مضاف الیہ، ضرورت پوری ہو گئی، تو اب یہ اسی طرح معرب کا معرب رہے گا اور اس پر کیا پڑھیں گے آپ؟ نصب پڑھیں گے، کیا پڑھیں گے؟ جیسے یہاں پر اس کے بعد اس کا مضاف الیہ آ رہا ہے، اس کی ضرورت پوری ہو گئی تو اب اس پر کیا پڑھیں گے؟ نصب پڑھیں گے۔ دوسری صورت کہ آپ نے لفظوں میں تو گرا دیا، حذف کر دیا لیکن نیت میں ابھی بھی موجود ہے۔ جب نیت میں موجود لفظوں سے گرا دیا اور حالانکہ اس کو چاہیے، آپ کی نیت میں ابھی بھی موجود ہے تو آپ نے اس کا نقصان کر دیا بھئی، اور جب نقصان کر دیا تو اس صورت میں پھر جپھیرا کیا دیتے ہیں؟ کیا کرتے ہیں؟ اس کو مبنی علی الضم بناتے ہیں، کیا بناتے ہیں؟ تو یہ ضمہ کی پٹی لگا دیتے ہیں، اس بیچارے کا نقصان ہوا ہے۔ تو اس صورت میں پھر بعدُ پڑھتے ہیں، کیا پڑھتے ہیں؟ اور تیسری صورت میں مولانا نہ لفظوں میں ہے اور نہ ہی نیت میں ہے، گویا آپ کا تھا ہی نہیں، یہ نہ مضاف الیہ چاہتا ہے اور نہ ہے، جب نہ چاہتا ہے نہ ہے، تو اس کا کوئی نقصان ہوا؟ کوئی نقصان بھی نہیں ہوا، اور نقصان نہیں ہوا تو مبنی تو نہیں بنائیں گے، پٹی نہیں دیں گے ہم اس کو ضمہ کی، اور نصب آئے گا اس پر، کیا آئے گا؟ اور بعداً تنوین آ جائے گی بھئی، جی۔ بعدَ منصوب لفظاً، مضاف۔ ها ضمير مجرور محلاً، مضاف الیہ، راجع بسوئے 'إلى'۔ ہاں شاباش، ها ضمير مجرور محلاً، مضاف الیہ، جو کس کو راجع ہے؟ إلى کو بھئی۔ کس کی بات چل رہی ہے؟ إلى، ما بعدها أي ما بعد إلى، إلى کا ما بعد، جی۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ مفعول فیہ ہوا ثبتَ فعل محذوف کا۔ شاباش، دیکھا اس کے لیے بھی عامل چاہیے، مفعول فیہ ہے جیسے جار مجرور کے لیے عامل چاہیے تھا، اور یہاں تو اس کا عامل ہے نہیں، تو پھر ہم کیا کریں گے؟ وہی ثبتَ یا ثابتٌ کی طرح محذوف نکالیں گے بھئی۔ لیکن یہاں پر آپ کو ثبتَ ہی نکالنا پڑے گا، ثابتٌ نہیں نکال سکتے، کیوں؟ اس کی کیا وجہ ہے؟ صلہ بن رہا ہے، اور صلہ ہمیشہ کیا ہوا کرتا ہے؟ جملہ، لہذا اس وجہ سے میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر کہ یہ جو جار مجرور ہے، اس کا، یعنی ظرف کہہ لیں۔ ظرف جو ہے، چاہے ظرف حقیقی ہو چاہے ظرف مجازی، اس کے لیے عامل چاہیے، اور وہ عامل آپ مولانا کس میں سے نکالتے ہیں؟ افعال عامہ میں سے، اور افعال عامہ میں سے آپ جملہ بھی نکال سکتے ہیں، یعنی کہ فعل، اور آپ چاہیں تو مفرد، یعنی اسم فاعل، اسم مفعول وغیرہ کا صیغہ بھی نکال سکتے ہیں، جو چاہیں بھئی آپ، جو ترکیب کرنا چاہیں۔ البتہ اگر یہ صلہ ہوں موصول کا، موصول کا صلہ صرف ظرف ہو۔ اور تو اس صورت میں پھر فعل ہی کو نکالنا پڑے گا، مفرد کو نہیں نکال سکتے۔ اب دیکھو 'ما' موصولہ ہے اور اس کا صلہ صلہ صرف 'بعدها' آ رہا ہے۔ تو 'ما' موصولہ ہے اور صلہ صرف ظرف ہے، تو اس صورت میں پھر جملہ بنانا جملہ ہمیں یہاں پر چاہیے، مفرد نہیں، ثبتَ ہی نکالیں گے، ثابتٌ نہیں، کیونکہ پھر ورنہ تو ثابتٌ نکالیں گے تو پھر کیا خرابی لازم آئے گی؟ مفرد بن جائے گا، اور مفرد ثابتٌ کے ساتھ 'بعدها' متعلق ہوا اور ثابتٌ خود ہے مفرد، اور مفرد کے ساتھ ہزار چیزیں بھی جڑ جائیں، پھر بھی وہ کیا رہتا ہے؟ مفرد رہتا ہے، تو لہذا ثابتٌ تو پھر جملہ، یہ تو مفرد بن جائے گا صلہ، اور صلہ تو مفرد نہیں بن سکتا، تو ثبتَ نکالنا پڑے گا۔ تو ثبتَ کے ساتھ مفعول فیہ ہوا ثبتَ فعل کے لیے۔ ثبتَ فعل ماضی معلوم، اور هو ضمير اس کا فاعل، راجع بسوئے 'ما' موصولہ۔ شاباش، ثبتَ فعل، هو ضمير مرفوع محلاً، اس کا فاعل جو کس کو راجع ہے؟ ما موصولہ کو، یہی عائد ہے، یہی عائد ہے بھئی۔ ثبتَ فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبرية ہو کر صلہ ہے ما موصولہ کا۔ شاباش، ثبتَ فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبرية ہو کر صلہ۔ موصول اپنے صلے سے مل کر یہ اسم ہوا يكون کا۔ شاباش، موصول اپنے صلے سے مل کر اب اسم ہوا کس کے لیے؟ میں نے بتایا تھا، موصول کو کچھ بھی بنانا چاہیں آپ، اس کے لیے کیا چاہیے؟ اب صلہ مل گیا، اب موصول صلہ مل کر یہ اسم بن گیا، اسم موصول کیا بن گیا؟ کان کے لیے اس کا اسم بن گیا، جی۔ داخلاً صیغہ صفت۔ داخلاً صیغہ اسم فاعل، منصوب لفظاً۔ منصوب لفظاً، جی، منصوب لفظاً کیوں کہا آپ نے بھئی؟ منصوب کیوں پڑھا ہے؟ کان کی خبر بننا ہے اس نے بھئی، اور کان کی خبر کیا ہوا کرتی ہے؟ منصوب، جی۔ في حرف جار۔ في جارة۔ ما موصولہ۔ ما موصولہ، مجرور محلاً۔ مجرور محلاً، آپ نے مجرور کیوں کہا اس کو؟ في داخل ہوا ہے شاباش، اور محلاً کیوں کہا؟ یہ مبنی ہے شاباش، جی۔ قبلَ منصوب لفظاً، مضاف۔ قبلَ، وہ بھی اسی طرح ہے بعدَ کی طرح، قبلَ منصوب لفظاً مضاف۔ ها ضمير مجرور محلاً، مضاف الیہ، راجع بسوئے إلى۔ شاباش، ها ضمير مجرور محلاً، مضاف الیہ، جو کس کو راجع ہے؟ إلى کو، ما قبل إلى، إلى کا ماقبل، جی۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ مفعول فیہ ہوا ثبتَ فعل کے لیے۔ شاباش، مضاف مضاف الیہ مل کر اب یہ مفعول فیہ ہوا کس کے لیے؟ ثبتَ فعل کے لیے، جی۔ ثبتَ فعل ماضی، هو ضمير اس کا فاعل مرفوع محلاً۔ ثبتَ فعل، هو ضمير مرفوع محلاً، اس کے اندر اس کا فاعل جو کس کو راجع ہے؟ جو راجع ہے ما کو، یہی عائد ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ صلے کو جوڑ رہا ہے موصول سے، جی۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبرية ہو کر صلہ ہوا اسم موصول کے لیے، اسم موصول اپنے صلے سے مل کر اب مجرور ہوا۔ جی، آگے، جار مجرور مل کر، یہ ظرف لغو متعلق ہوا داخلاً کے لیے۔ داخلاً کے لیے یہ جار مجرور مل کر ظرف لغو ہوا کہ داخلا کے لیے، داخلا کے لیے اس سے متعلق ہے بھئی۔ جی، اس میں "ھو" ضمیر راجع بسوئے... اس کا مرفوع محلا فاعل ہے اور یہ راجع بسوئے ما یكون کے اسم کے ہے۔ شاباش! دیکھا داخلا بھئی، داخلا یہ مولانا اسم فاعل ہے اور اسم فاعل کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ فاعل۔ تو اس کے اندر "ھو" ضمیر مرفوع محلا اس کا فاعل، اب وہ کس کو راجع کرنا ہے؟ دیکھو، آپ اس کو بنا کیا رہے ہو؟ داخلا کو کیا بنا رہے ہو؟ كان کی خبر اور خبر کو کس سے جوڑا جاتا ہے؟ مبتدا سے، تو یہاں وہ كان کا اسم جو ہے وہ مبتدا جس پر كان داخل ہوا تھا۔ تو یہ ضمیر کس کو راجع کریں گے كان کے؟ تو كان کی خبر، كان کے اسم سے جڑتی ہے، تو ضمیر بھی اسی کو راجع۔ دیکھا، وہ ضابطے ہمارے چل رہے ہیں سارے۔ شبہ جملہ کو ہم جوڑ رہے ہیں، جس سے جوڑ رہے ہیں اس کے ساتھ ربط بھی دے رہے ہیں بھئی۔ تو داخلا کو کس سے جوڑ رہے ہیں، ما بعدها سے، تو ما کی طرف اس کے اندر ایک ضمیر آ گئی بھئی۔ شاباش! داخلا اسم فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر یہ شبہ جملہ ہو کر خبر ہوئی یكون کے لیے۔ جی، جی، یكون فعل اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ، جی یہ جزا مقدم ہے، سمجھ میں آیا؟ تو یہاں دو گروہ ہیں نحویوں کے، بعض نحوی یہ فرماتے ہیں کہ جزا جو ہے وہ شرط پر مقدم نہیں ہو سکتی۔ جزا، یہاں آگے آ رہا ہے نا، "إِنْ كَانَ"، إِنْ شرط کے لیے آتا ہے، "إِنْ كَانَ مَا بَعْدَهَا مِنْ جِنْسِ مَا قَبْلَهَا"۔ تو شرط مؤخر ہے اور وہ کہتے ہیں کہ شرط، جزا شرط پر مقدم نہیں ہو سکتی، تو اس صورت میں یہ اول کو بناتے ہیں دال بالجزا۔ کیا بناتے ہیں؟ دیکھو بھئی، ایک شرط، ایک جزا۔ پہلے کون آیا کرتی ہے؟ شرط، اس کے بعد کیا آتی ہے؟ جزا۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے مولانا کہ جزا ہم دیکھتے ہیں کبھی شرط سے پہلے بھی آ جاتی ہے جیسے یہاں پر ہے، جزا پہلے آ رہی ہے اور إِنْ شرط بعد میں ہے، تو پھر اس صورت میں یہ جو ماقبل میں ہے یہ جزا ہے یا جزا نہیں ہے؟ دو گروہ ہیں۔ بعض علماء فرماتے ہیں کوفہ والے کہ یہی جزا ہے، یہ کیا ہے؟ اور شرط مؤخر ہے اور ایسا کہتے ہیں جائز ہے کہ جزا مقدم ہو جائے اور شرط کیا ہو جائے؟ دوسرے نحویوں کا گروہ جو ہے وہ فرماتے ہیں کہ نہیں، شرط ہمیشہ پہلے آتی ہے، جزا ہمیشہ بعد میں آتی ہے۔ تو یہ جو پہلے آ گئی یہ جزا نہیں ہے، یہ دال بالجزا ہے، جزا پر دلالت کر رہی ہے۔ جزا پر کیا کر رہی ہے؟ اور جزا آگے محذوف ہے شرط کے بعد بھئی۔ جزا کیا ہے اس کے بعد؟ محذوف۔ تو وہ اس کو دال بالجزا کہتے ہیں۔ چلو، ہم اس کو جزا ہی بنا لیتے ہیں پہلے ہی بھئی۔ تو یہ دال، یہ جزا مقدم ہوئی، جی۔ إِنْ حرف شرط، كَانَ فعل از افعال ناقصہ، مَا مرفوع محلا اسم موصول، بھئی مرفوع کیوں بنایا آپ نے اس کو؟ كَانَ کا اسم ہے، شاباش! بَعْدَهَا منصوب لفظا مضاف، هَا ضمیر مجرور محلا راجع ہے إِلى کو، مضاف الیہ۔ شاباش! بَعْدَهَا مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ مفعول فیہ ہوا ثَبَتَ فعل کے لیے۔ ثَبَتَ فعل "ھو" ضمیر مرفوع محلا اس کا فاعل، "ھو" ضمیر کس کو راجع کی بھئی آپ نے؟ مَا موصولہ کو، جی، شاباش! جی، مجرور، بھئی ثَبَتَ فعل، "ھو" ضمیر اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ ہوا کس کے لیے؟ مَا موصولہ کے لیے، اسم موصول اپنے صلے سے مل کر یہ كَانَ کے لیے اسم۔ آگے اب ہمیں چاہیے خبر۔ مِنْ جارا، جی؟ حرف ہے، حرف، حرف کے لیے کوئی محل اعراب نہیں ہوتا بھئی۔ مِنْ جارا، جِنْسِ مجرور لفظا، جی؟ میں نے آپ کو ضابطہ بتلایا تھا، نکرہ کے بعد معرفہ آئے تو کیا ترکیب کرنی ہے؟ یہاں جِنْس کا لفظ نکرہ ہے، معرفہ ہے؟ نکرہ ہے اور اس کے بعد مَا موصولہ آ رہا ہے، تو یہاں کیا ترکیب کریں گے؟ مضاف مضاف الیہ کی ترکیب ہو گی اور جب جِنْس مضاف ہے تو اس پر تنوین نہیں آئے گی بھئی۔ تو جِنْسِ مجرور لفظا مضاف، جِنْسِ مجرور لفظا مضاف، مَا مجرور محلا اسم موصول، قَبْلَهَا منصوب لفظا مضاف، هَا ضمیر مجرور محلا مضاف الیہ جو کس کو راجع ہے؟ إِلى کو، شاباش! قَبْلَهَا مضاف، مضاف الیہ اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ مفعول فیہ ہوا کس کے لیے؟ ثَبَتَ فعل محذوف کے لیے، جی ثَبَتَ ثَبَتَ فعل "ھو" ضمیر اس کا فاعل، ثَبَتَ فعل "ھو" ضمیر مرفوع محلا اس کا فاعل جو کس کو راجع ہے؟ جو راجع ہے اسم موصول کو، ثَبَتَ فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ، موصول اپنے صلے سے مل کر یہ مجرور محلا مضاف الیہ ہوا جِنْسِ مضاف کا، دیکھا موصول اپنے صلے سے مل کر اب مضاف الیہ بنا۔ موصول بغیر صلے کے کچھ بھی نہیں بنے گا، موصول اپنے صلے سے مل کر یہ مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ مجرور ہوا مِنْ کے لیے، مِنْ جار مجرور مل کر ظرف مستقر متعلق ہوا ثَبَتَ فعل محذوف کے لیے، جی یہ ظرف مِنْ جِنْسِ یہ جار مجرور مِنْ جِنْسِ مَا قَبْلَهَا یہ کیا ہوا؟ جار مجرور مل کر ظرف مستقر، بھئی یہ كَانَ کی کیا بنے گی؟ خبر اور ظرف مستقر خبر کے مقام میں آیا کرتا ہے میں نے آپ کو بتلایا تھا۔ تو یہ ظرف مستقر ہے كَانَ کی خبر، تو اب اس کے لیے کیا کریں گے؟ اس کے لیے عامل نکالیں گے، کیا نکالیں گے؟ وہ کیا؟ ثَبَتَ نکالیں گے یا کیا نکالیں گے؟ ثَابِتًا نکالیں گے، مفرد بھی نکال سکتے ہیں، جملہ بھی۔ جی تو ثَبَتَ فعل، جی ثَبَتَ فعل "ھو" ضمیر مرفوع محلا اس کا فاعل، جو کس کو راجع ہے؟ كَانَ کے اسم کو، اس لیے کیونکہ یہ كَانَ کی خبر ہے اور كَانَ کی خبر کس سے جڑتی ہے؟ كَانَ کے اسم سے اور ثَبَتَ ہے جملہ، اور جملے کو جب کسی چیز سے جوڑا جائے تو کیا چاہیے؟ عائد چاہیے، تو اس میں جو "ھو" ضمیر ہے وہی عائد ہے۔ تو ثَبَتَ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر یہ خبر ہوئی کس کے لیے؟ كَانَ کے لیے، تو اب اس کا محل اعراب بتاؤ بھئی، ثَبَتَ جملے کا بھئی۔ شاباش! منصوب ہو گا، کیوں منصوب کیوں ہو گا؟ كَانَ کی خبر ہے اور كَانَ کی خبر کیا ہوا کرتی ہے؟ منصوب۔ اور محلا کیوں کہا آپ نے اس کو؟ شاباش! یہ جملہ ہے اور جملہ کس میں سے ہے؟ مبنیات میں سے، تو یہ محلا منصوب ہوا۔ كَانَ اپنے اسم اور خبر سے مل کر، جی؟ بھئی مرکب مفِید تو نہیں بنتا بھئی، كَانَ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر شرط، شرط میں کوئی بات پوری ہوتی ہے؟ "اگر تم نے ایسا کیا" کوئی بات پوری ہوئی؟ خبر کیسے بنا رہے ہو اس کو؟ جی، تو یہ مولانا یہ جملہ فعلیہ جملہ فعلیہ ہو کر شرط مؤخر، شرط مؤخر اپنے جزا مقدم سے مل کر کیا بن گئی؟ جملہ شرطیہ بھئی، جملہ شرطیہ ہوا، بھئی ترکیب سمجھ میں آ گئی سب کو؟ اب کیسے پڑھیں گے اس کو دیکھو، عبارت کون پڑھے گا بھئی؟ چلو پڑھو ذرا عبارت بھئی۔ ثَبَتَ کو چھوڑ دو بس۔ عبارت سمجھ میں آئی؟ "وَقَدْ يَكُونُ مَا بَعْدَهَا دَاخِلًا فِيمَا قَبْلَهَا إِنْ كَانَ مَا بَعْدَهَا مِنْ جِنْسِ مَا قَبْلَهَا"۔ ہر ہر لفظ کا آپ اعراب بتا چکے ہیں بھئی، اب عبارت آپ آسانی سے پڑھ سکتے ہیں۔ اور یہ بھی پتہ چل گیا کہ مَا بَعْدَهَا اصل میں کیا ہے؟ "مَا ثَبَتَ بَعْدَهَا"، مَا قَبْلَهَا اصل میں کیا ہے؟ "مَا ثَبَتَ قَبْلَهَا"، تو بتائیے مولانا یہ بَعْدَهَا، یہ ظرف مستقر ہے یا ظرف لغو ہے؟ جی؟ ظرف مستقر ہے، ظرف مستقر ہے، کیونکہ اس نے اپنے عامل کی جگہ پر قرار پکڑا ہوا ہے، اس میں عامل کون تھا؟ ثَبَتَ، اس ثَبَتَ کو گرا کر اس نے اس کی جگہ پر قرار پکڑا، جی۔ "وَقَدْ يَكُونُ" ترجمہ سنو، "وَقَدْ يَكُونُ" اور کبھی کبھار مَا بَعْدَهَا ای مَا ثَبَتَ بَعْدَهَا وہ چیز جو ثابت ہوتی ہے بَعْدَهَا ای بعد إِلى، وہ جو کہ ثابت ہوتی ہے کس کے بعد؟ إِلى کے بعد، دَاخِلًا فِيمَا قَبْلَهَا وہ داخل ہوتی ہے اس فِيمَا اس میں ثَبَتَ قَبْلَهَا جو ای قبل إِلى وہ چیز جو إِلى سے پہلے ہوتی ہے، کب؟ إِنْ كَانَ مَا بَعْدَهَا ای إِنْ كَانَ اگر مَا وہ چیز ثَبَتَ بَعْدَهَا ای ثَبَتَ بعد إِلى جو کس کے بعد ثابت ہوتی ہے؟ إِلى کے بعد، مِنْ جِنْسِ مَا قَبْلَهَا وہ اس چیز کی جنس میں سے ہو قَبْلَهَا جو اس سے جو اس سے پہلے ہے، اس چیز کی جنس میں سے ہو۔ آگے کون کرے گا بھئی ترکیب؟ چلو بھئی آپ کرو بھئی۔ نَحْوُ مرفوع لفظا مضاف، نَحْوُ مرفوع لفظا مضاف، سارے مرفوع پڑھتے ہو اس کو، کوئی منصوب بھی پڑھے بھئی، ترکیب ہے یا نہیں اس میں منصوب؟ ہاں تو منصوب پڑھو بھئی، عجیب نئی سے نئی ترکیب کرنے کی کوشش کرو۔ جی، نَحْوَ منصوب لفظا مضاف، قَوْلِ مجرور لفظا مصدر مضاف، شاباش! قَوْلِ مجرور لفظا مصدر مضاف، هَا ضمیر، ہاں ہاں، هَا ضمیر مجرور محلا ذوالحال، تَعَالَى فعل، ھو ضمیر مرفوع محلا اس کا فاعل، جو راجع ہے ذوالحال کو، تَعَالَى فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر حال، ذوالحال اپنے حال سے مل کر یہ مضاف الیہ، بس، چھوڑ دو مضاف الیہ کو یہی، ابھی قَوْلِ سے اور چیزیں بھی ہم نے جوڑنی ہیں، جوڑو نا اس کو۔ جی؟ ف جزائیہ دراں حالے کہ در قرآن مجید مذکور است۔ اِغْسِلُوا فعل، و ضمیر اِغْسِلُوا فعل امر، و ضمیر مرفوع محلا اس کا فاعل، وُجُوهَكُمْ منصوب لفظا مضاف، كُمْ ضمیر مجرور محلا مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر معطوف علیہ، شاباش! مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر کیا ہوا؟ معطوف علیہ۔ و حرف عطف، وَأَيْدِيَكُمْ منصوب لفظا مضاف، بھئی آپ نے اس کو منصوب کیوں پڑھا؟ جی؟ شاب کیا بنے معطوف بن رہا ہے اور معطوف علیہ منصوب تھا تو معطوف بھی کیا ہو گا؟ منصوب، جی۔ كُمْ ضمیر مجرور محلا مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر معطوف، معطوف علیہ معطوف مل کر مفعول بہ، شاباش! معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر یہ مفعول بہ ہوا فعل کے لیے۔ إِلَى جارا، الْمَرَافِقِ مجرور لفظا، جار مجرور مل کر اِغْسِلُوا فعل کے متعلق، شاباش! جار مجرور مل کر یہ ظرف لغو ہوا کس کے لیے؟ اِغْسِلُوا فعل کے لیے، یہ اس کے ساتھ متعلق ہے، جی۔ فعل اپنے فاعل، فعل اپنے فاعل مفعول بہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا، جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر مقولہ ہوا کس کے لیے؟ قَوْلِ کے لیے، جی۔ قَوْلِ مصدر مضاف اپنے مضاف الیہ اور مقولے سے مل کر یہ مضاف الیہ ہوا کس کے لیے؟ نَحْوُ، تو قَوْلِ کے ساتھ جب یہ ساری چیزیں مل گئیں تو یہ پہلے مفرد تھا، اب بھی کیا ہے؟ مفرد ہے، تو یہ مضاف الیہ ہوا نَحْوُ کے لیے، جی۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر أَعْنِي کے لیے مفعول بہ، ہاں شاباش! مضاف مضاف الیہ مل کر یہ کیا ہوا؟ انہوں نے نصب پڑھا تھا، تو یہ أَعْنِي فعل کے لیے کیا بن جائے گا؟ مفعول بہ، یا أُمَثِّلُ کے لیے کیا بن جائے گا؟ مفعول مطلق، تو فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ یا فعل أُمَثِّلُ فعل اپنے فاعل اور مفعول مطلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، چلیے مولانا ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔ دعا کر لو، الحمد للہ۔