درس نمبر۔40 تو بتلایا مولانا مِن کبھی مِن ابتدائے غایت کے لیے آتا ہے اور کبھی تبعیض کے لیے آتا ہے، جیسے نحو: أخذت من الدراهم، أي: بعض الدراهم۔ تو اس کی ترکیب کیا ہوگی؟ نحو مرفوع لفظاً مضاف، أخذت من الدراهم مراد اللفظ مجرور تقدیراً، جی؟ مجرور تقدیراً کیا ہوگا؟ مراد اللفظ ہے معطوف علیہ یا مبدل منہ، أي حرفِ تفسیر، بعض الدراهم مراد اللفظ مجرور تقدیراً بدل بنے گا، کیا بنے گا؟ یا پھر کیا بنے گا؟ عطفِ بیان۔ تو معطوف علیہ اپنے عطفِ بیان سے مل کر یا مبدل منہ اپنے بدل سے مل کر، یہ مضاف الیہ ہوگا کس کے لیے؟ نحو کے لیے۔ نحو مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ خبر ہوئی کس کے لیے؟ مثالھا مبتدا کے لیے، یا ھو مبتدا کے لیے، یا یہ مولانا مفعول بہ ہوا کس کے لیے؟ أعني فعل کے لیے، تو نحوَ پڑھیں گے اس صورت میں، یا یہ مولانا مفعولِ مطلق ہوا کس کے لیے؟ أمثل فعل کے لیے، تو پھر بھی نحوَ پڑھیں گے کیونکہ مفعولِ مطلق بھی کیا ہوتا ہے؟ منصوب ہوتا ہے۔ اور تو سمجھ میں آیا؟ جب نحو کی طرف اضافت کرنی ہے تو پھر پورے جملے کی ترکیب نہیں کرنی، کیونکہ نحو جملے کی طرف مضاف نہیں ہوتا بلکہ کس کی طرف مضاف ہوتا ہے؟ مفرد کی طرف، اور آگے چونکہ آیا تھا جملہ تو ہمیں مراد اللفظ کی تاویل کرنا پڑی بھئی۔ اگر معنیٰ کا ارادہ ہو تو پھر یہ ترکیب یوں ہوگی بھئی: أخذت من الدراهم، أي: بعض الدراهم۔ أخذتُ فعل بافاعل، جس میں تُو ضمیرِ بارز مرفوع محلاً اس کا فاعل، مِن جارة، الدراهم مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے فعل کے ساتھ۔ جار مجرور مل کر کس سے متعلق ہوئے؟ فعل أخذت کے ساتھ۔ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر، یہ کیا بنے گا؟ جملہ فعلیہ خبریہ مفسَّرہ ہوا، جملہ فعلیہ خبریہ مفسَّرہ ہوا، بس۔ آگے أي حرفِ تفسیر، اور مولانا یہ تفسیر کس کی کر رہا ہے؟ جی؟ جملے کی تفسیر کر رہا ہے یہاں پر یا مفرد کی؟ جملے کی، اور جملے کی تفسیر ہمیشہ کس سے کی جاتی ہے؟ جملے کے ساتھ، تو لہٰذا آگے بھی جملہ بنانا پڑے گا ہمیں، کیسے؟ بعضَ منصوب لفظاً مضاف، الدراهم مجرور لفظاً مضاف الیہ، مضاف مضاف الیہ مل کر یہ مفعول بہ ہوئے فعلِ محذوف أخذت کے لیے۔ یہاں بھی فعل کیا نکال لیں گے؟ أخذت فعلِ محذوف نکال لیں گے، تو أخذت فعل بافاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ، کون ہے مفعول بہ؟ بعض الدراهم، تو یہ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر کیا ہوا؟ جملہ فعلیہ خبریہ مفسِّرہ ہوا، جملہ فعلیہ خبریہ مفسِّرہ ہوا، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ یہ کب تھا جبکہ أي کو ہم نے یہاں کس کے لیے بنایا؟ جی؟ تفسیر کے لیے۔ یہاں ایک اور عجیب ترکیب آپ کو کروائیں بھئی۔ یاد رکھو یہ مِن ہے تبعیض کے لیے، مِن کس لیے ہے؟ تبعیض کے لیے، اور بہت سے نحوی لکھتے ہیں کہ جب مِن "بعض" کے معنیٰ میں آئے، تبعیض کے لیے آئے یعنی کس معنیٰ میں ہو؟ "بعض" کے معنیٰ میں ہو تو پھر وہ اسم ہوتا ہے، کیونکہ اس کا معنیٰ مستقل ہوتا ہے۔ پھر مِن کیا ہوتا ہے؟ اسم ہوتا ہے، کیونکہ اس کا معنیٰ کیا ہوتا ہے؟ مستقل، اور جس کا معنیٰ مستقل ہو وہ حرف ہوتا ہے یا اسم بھئی؟ اسم، اسم کا معنیٰ مستقل ہوتا ہے، حرف معنیٰ مستقل پر دلالت نہیں کرتا۔ بات سمجھ میں آئی؟ تو یہ مِن کس معنیٰ میں ہے مولانا؟ بعض، اور مِن جب بعض کے معنیٰ میں آئے تو وہ کیا ہوا کرتا ہے؟ اسم ہوا کرتا ہے، کیا ہوا کرتا ہے؟ تو یہ مِن بھی اسم ہے، یہ مِن بھی کیا ہے؟ اسم ہے، اور یہ پھر اس کے بعد یہ نکرہ ہے اور اس کے بعد الدراهم آ رہا ہے، تو پھر یہ کیا بن جائے گا؟ مضاف مضاف الیہ، کیا بن جائے گا؟ تو ترکیب یوں ہوگی مولانا اب سنو بھئی: أخذت فعل بافاعل، تُو ضمیرِ بارز مرفوع محلاً اس کا فاعل، مِن یہ کیا بنے گا بھئی؟ اس پر اعراب کیا آئے گا؟ جب اسم ہے اس کے لیے اعراب چاہیے، منصوب کیونکہ مفعول بننا ہے، "بعض" کے معنیٰ میں ہے، اور منصوب کون سا ہوگا؟ محلاً، کیا ہوگا؟ منصوب محلاً مضاف، الدراهم مجرور لفظاً مضاف الیہ، مضاف مضاف الیہ مل کر یہ مبدل منہ، آگے أي بعض الدراهم کیا بنے گی اس کی؟ اب مولانا یہ أي آ رہا ہے مفرد کی تفسیر کے لیے، کس کی تفسیر کر رہا ہے؟ من الدراهم کی، ترکیب سمجھ میں آئی بھئی؟ تو من الدراهم مضاف مضاف الیہ مل کر مبدل منہ یا معطوف علیہ، أي حرفِ تفسیر، بعضَ منصوب لفظاً مضاف، بھئی اس پر نصب کیوں پڑھا میں نے بعض پر؟ کیونکہ معطوف علیہ پر کیا آ رہا تھا؟ نصب، یا مبدل منہ کیا تھا؟ منصوب، تو بدل اور مبدل منہ کا اعراب ایک ہوتا ہے، تو بعضَ منصوب لفظاً مضاف، الدراهم مجرور لفظاً مضاف الیہ، مضاف مضاف الیہ مل کر یہ کیا بن جائے گا؟ بدل بن جائے گا یا عطفِ بیان، بدل بنے گا یا عطفِ بیان۔ تو معطوف علیہ اپنے عطفِ بیان سے مل کر، یہ مفعول بہ ہوا کس کے لیے؟ أخذت فعل کے لیے، یا مولانا مبدل منہ اپنے بدل کے ساتھ مل کر، یہ مفعول بہ ہوا کس کے لیے؟ أخذت فعل کے لیے، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ کے ساتھ مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ ترکیب سمجھ میں آئی بھئی؟ یہاں پر ایک تیسری ترکیب کریں أخذت شيئاً ثابتاً من الدراهم، من الدراهم کو کس سے متعلق کریں؟ شيئاً سے، ثابتاً سے، اور ثابتاً کو صفت بنائیں کس کے لیے؟ شيئاً، شيئاً موصوفِ محذوف کے لیے، تو اس صورت میں مولانا پھر خرابی یہ لازم آئے گی کہ یہ مِن تبعیضیہ نہیں رہے گا، یہ مِن بیانیہ بن جائے گا بھئی، کیا خرابی لازم آئے گی؟ أخذت شيئاً میں نے ایک چیز اٹھائی، کیا چیز؟ ثابتاً من الدراهم یعنی کہ درہم، من الدراهم یعنی کہ درہم، تو یہ مِن کون سا بن جائے گا؟ بیانیہ بن جائے گا، اس شيئاً میں ابہام تھا کیا چیز آپ نے اٹھائی؟ من الدراهم کیا معنیٰ؟ یعنی کہ دراہم، تو ابہام کو اس نے دور کیا، تو یہ مِن کون سا بن جائے گا؟ بیانیہ، اس لیے اس کو یہ ترکیب نہ کریں أخذت شيئاً ثابتاً من الدراهم۔ یہ ترکیب سمجھ میں آ گئی سب کو؟ آگے بھئی کون کرے گا؟ چلو بھئی آپ کریں بھئی۔ شاباش للتبیین کی ترکیب ہو چکی، آگے نحو، نحو مرفوع لفظاً مضاف، مجرور تقدیراً؟ مراد اللفظ؟ مراد اللفظ کہہ رہے ہیں بھئی، کیوں بھئی آپ متفق ہیں اس کے ساتھ؟ مراد اللفظ تو وہاں لیں گے جہاں جملہ ہو، اور یہاں جملہ ہے؟ یہ سارا کچھ کس کے ساتھ مل جائے گا؟ قول مصدر کے ساتھ، اور مصدر ہے مفرد، اور مفرد کے ساتھ ہزار چیزیں بھی مل جائیں پھر بھی وہ کیا رہتا ہے؟ مفرد ہی رہتا ہے بھئی، تو یہ اضافت مفرد کی طرف ہو رہی ہے تو اب مراد اللفظ کی طرف جانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ نحو مرفوع لفظاً مضاف، قولی مجرور لفظاً مصدر مضاف، ھا ضمیر؟ ھا کہو بھئی، ھا حمزہ وہ نام نہیں ہے، کیا ہے؟ حروفِ مبانی میں سے بھئی، وہ نام لو اس کا، ھا، ھا ضمیر مجرور محلاً ذوالحال، تعالیٰ فعل، ھو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر یہ حال ہوا ذوالحال کے لیے، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر بتقدیرِ قد یہ حال ہوا کس کے لیے؟ ذوالحال، بھئی آپ نے اس جملے کو حال بنایا، ربط تو دیا نہیں، بغیر ربط کے آپ حال بنا رہے ہو بھئی؟ ھو ضمیر راجع ہے، ہاں آپ نے کیوں نہیں بتائی؟ آپ نے پہلے آپ کو بتانا چاہیے تھا بھئی، تو ھو ضمیر راجع ہے کس کو بھئی؟ ذوالحال کو، وہ عائد بھی ہے، تو فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر بتقدیرِ قد، کیونکہ جب ماضی حال بنے تو وہاں قد کیا ہونا چاہیے؟ قد ہونا چاہیے، یا لفظوں میں ہوگا یا تقدیراً ہوگا، تو یہ حال ہوا، تعالیٰ اس جملے کا مولانا اعراب بتاؤ، کیا ہوگا بھئی؟ منصوب محلاً، کیونکہ یہ جملہ کیا بن رہا ہے؟ حال، اور حال کیا ہوا کرتا ہے؟ منصوب ہوتا ہے، تو یہ جملہ منصوب محلاً ہے، حال ہے، جی۔ شاباش ذوالحال اپنے حال سے مل کر یہ مضاف الیہ ہوا قول مصدر کے لیے، قول مصدر مضاف، آگے آگے چلو بھئی، بس اس کو یہی چھوڑ دو، ابھی اور چیزوں کو بھی ہم نے جوڑنا ہے اس کے ساتھ۔ جی؟ اچھا جی فاء، فاء یہاں قرآن میں کس لیے آئی ہے بھئی؟ بس جہاں قرآن میں دیکھیں اس سے ماقبل کیا ہے؟ قرآن میں کس لیے آئی ہے بھئی یہ فاء؟ کوئی حافظ ہے کوئی بھئی؟ کوئی ایک حافظ مل جائے بھئی، وہ بھی کافی ہے۔ فاستجب، جو بھی ہے، قرآن میں دیکھ لیجیے کہ فاء جزائیہ ہے یا تفصیل کے لیے ہے، جو بھی ہے، تو مثلاً اگر جزائیہ ہو، مثلاً مثلاً، تو پھر کیا کہیں گے؟ فاء جزائیہ دراں حالے کہ در قرآنِ مجید مذکور است، آگے چلیے بھئی، مثلاً، باقی وہاں دیکھ لیجیے۔ فاجتنبوا فعل، واؤ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، الرجس منصوب لفظاً مفعول بہ، جی؟ یہ مِن بیانیہ ہے مولانا، بیان کر رہا ہے کس کا؟ رجس کا، رجس، گندگی، کیا پَلی، کیا مراد ہے بھئی؟ گندگی یعنی کہ، تم بچو پلیدی سے یعنی گندگی سے، یعنی کہ بتوں سے، یعنی کہ بتوں سے، یہ ترجمہ ہوا، تو یاد رکھو نکرہ کے لیے بیان ہو تو وہ اس کی صفت بنتی ہے، معرفہ کے لیے بیان ہو تو وہ اس کے لیے حال بنا کرتا ہے، کیا بنتا ہے؟ حال۔ کیا بات ہوئی؟ نکرہ کے لیے بیان ہو تو وہ کیا بنے گا؟ صفت، اور معرفہ کے لیے بیان ہو تو وہ حال بنے گا، تو یہ کس کا بیان آ رہا ہے؟ تو اس کو حال بناؤ بھئی، میں نے ضابطہ بھی لکھوایا تھا معرفہ کے بعد جار مجرور آ جائے تو اس کو کیا بنائیں گے؟ ذوالحال اور حال بنائیں گے، جی۔ الرجس منصوب لفظاً ذوالحال شاباش، بس مِن جارة، الأوثان مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر یہ، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ثبت فعل کے، شاباش جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ثبت فعل کے ساتھ، ثبت فعل، ھو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، ھو، میں نے بتلایا تھا مفرد بھی نکال سکتے ہیں اور فعل یعنی جملے کو بھی نکال سکتے ہیں، تو انہوں نے فعل نکالا، ثبت فعل سے متعلق ہوئے، ثبت فعل ھو ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر فاعل، شاباش جو راجع ہے ذوالحال کو، ثبت فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر بتقدیرِ قد، بتقدیرِ قد یہ کیا ہوا؟ حال ہوا کس کے لیے؟ ذوالحال کے لیے، جی۔ شاباش ذوالحال اپنے حال سے مل کر کیا بنے گا؟ معطوف علیہ، آگے کیا آ رہا ہے اس کا؟ عطفِ بیان آ رہا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یا اس کو کیا بنا لو؟ مبدل منہ، آگے اس کا کیا آ رہا ہے؟ بدل، مبدل منہ تو آگے بدل آئے گا، جی، تو یہ معطوف علیہ ہوا، أي حرفِ تفسیر، الرجس منصوب لفظاً موصوف، بھئی آپ کو پتہ، کیسے پتہ چلا یہ موصوف ہے؟ جی؟ کیا ہو رہا ہے؟ آپ کو کیسے پتہ چلا یہ موصوف ہے؟ کیسے پتہ چلا بھئی؟ معرفہ کے بعد معرفہ آ رہا ہے، اور ایک معرفہ کے بعد جتنے بھی معرفہ آئیں عموماً پہلے کو موصوف بناتے ہیں باقاعدہ کو اس کی صفت، تو الرجس منصوب لفظاً موصوف، الذی اسمِ موصول منصوب محلاً شاباش، کیوں بھئی منصوب محلاً؟ منصوب کیوں کہا آپ نے اس کو؟ یہ صفت ہے، اور موصوف منصوب تھا تو صفت بھی منصوب، جی۔ تو الذی منصوب محلاً اسمِ موصول، ھو ضمیر محلاً منصوب موصوف، جی ضمیر کبھی بھئی ھو ضمیر کہہ رہے ہیں موصوف، بھئی ضمیر میں نے بتلایا ہُوَ ضمیر مرفوع محلاً مبتدا، الْأَوْثَانُ مرفوع لفظاً خبر۔ مبتدا اپنے خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر یہ صلہ ہوا کس کے لیے؟ اسم موصول کے۔ بھئی، آپ نے جملے کو صلہ بنایا، اور جملے کو کسی چیز سے جوڑا جائے، تو عائد کی ضرورت ہوتی ہے۔ کون سی ہُوَ ضمیر؟ شاباش، یہ مبتدا کی ہُوَ ضمیر، یہ کس کو راجع ہے بھئی؟ الَّذِي کو راجع ہے، یہی عائد ہے بھئی۔ تو یہ صلہ اسمِ موصول کے لیے جملہ ہوا، پھر اسمِ موصول اپنے صلے سے مل کر... شاباش، اسمِ موصول اپنے صلے سے مل کر یہ صفت ہوئی، کس کے لیے؟ میں نے بتایا تھا اسمِ موصول کو جملے میں جو بھی بنائیں؛ فاعل بنائیں، مفعول بنائیں، مبتدا بنائیں، خبر بنائیں، صفت بنائیں، جو بھی بنائیں، اکیلا کچھ نہیں بنے گا جب تک اس کے ساتھ اس کا صلہ نہ مل جائے۔ تو موصول کے ساتھ ہم نے پہلے صلہ جوڑا، اس کے بعد اس کو کیا بنایا؟ صفت بنایا۔ اور صلہ میں نے بتایا تھا، ہمیشہ جملہ ہو گا۔ کیا ہو گا؟ ہمیشہ جملہ ہو گا۔ شاباش، موصوف اپنی صفت سے مل کر عطفِ بیان۔ معطوف علیہ عطفِ بیان کے ساتھ مل کر یہ کیا ہوا؟ کون تھا معطوف علیہ کون تھا؟ جی؟ انّ للہ! پہلے کچھ اور کہا تھا تو نے، اب کچھ اور کہہ رہا ہے بھئی۔ معطوف علیہ کس کو بنایا تھا؟ "الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ" کس کو بنایا تھا؟ ہاں، اور وہ کیا بنا؟ تو جی وہ معطوف علیہ اور عطفِ بیان مل کر اب کیا بنیں گے؟ ہاں، اب یہ مفعول بہ بنیں گے "اجْتَنِبُوا" فعل کے لیے۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر... جملہ فعلیہ، جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر یہ کیا ہوا؟ مقولہ ہوا کس کے لیے؟ قول کے لیے۔ قول مصدر اپنے مضافٌ الیہ اور مقولے سے مل کر، یہ کیا ہوا؟ مضافٌ الیہ ہوا کس کے لیے؟ نَحْوُ کے لیے۔ نَحْوُ مضاف اپنے مضافٌ الیہ سے مل کر یہ کیا ہوا؟ خبر، کس کے لیے؟ مبتدائے محذوف مِثَالُهَا کے لیے، کس کے لیے؟ مِثَالُهَا کی ہَا ضمیر کس کو راجع؟ "مِنْ" کو راجع، شاباش! یا یہ خبر ہوئی هِيَ مبتدا کے لیے، هِيَ ضمیر کس کو راجع؟ یہ بھی "مِنْ" کو بھئی۔ یا یہ مفعولِ بہ ہوا کس کے لیے؟ أَعْنِي فعل کے لیے۔ یا یہ مفعولِ مطلق ہوا کس کے لیے؟ أُمَثِّلُ کے لیے۔ جی آگے کون کرے گا؟ چلو بھئی، کرو۔ نَحْوُ مرفوع لفظاً مضاف، قَوْلِهِ مجرور لفظاً مصدر مضاف، هِ ضمیر مجرور محلاً ذوالحال جو راجع ہے کس کو؟ ذاتِ باری تعالیٰ کو، جی۔ تَعَالَى فعل، ہُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، جو شاباش، جو راجع ہے ذوالحال کو۔ تو تَعَالَى فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر یہ کیا ہوا؟ ہاں، بتَقْدِيرِ قَدْ یہ حال ہوا، کس کے لیے؟ ذوالحال کے لیے۔ ذوالحال اپنے حال سے مل کر مضافٌ الیہ ہوا بھئی، ذوالحال اپنے حال سے مل کر مضافٌ الیہ ہوا قَوْلِ مصدر کے لیے، اگے۔ يَغْفِرْ فعل، جی، لِلزِّيَادَةِ یہ زیادت کی مثال ہے، ٹھیک ہے۔ لام جارا، يَغْفِرْ فعل، ہُوَ ضمیر مولانا ہُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جی، راجع ہے ذاتِ باری تعالیٰ کو بھئی۔ لام جارا، لام جارا زائدہ۔ جی؟ اچھا، ہاں "مِنْ" کی بات چل رہی ہے، شاباش! لام جارا، کُمْ ضمیر مجرور محلاً مجرور، جی، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے کس سے؟ يَغْفِرْ فعل کے ساتھ۔ مِنْ جارا زائدہ، جی، بھئی حرفِ زائد آ جائے پھر کیا ترکیب کیا کرتے ہیں؟ جی؟ پھر کیا کرتے ہیں؟ ہاں شاباش بھئی، یہ مِنْ جارا ہے، زائدہ ہے، اور جو حروفِ جارا زائدہ ہوتے ہیں، وہ کسی سے متعلق نہیں ہوتے۔ تو یہاں پھر "ذُنُوبِ" اس کو لفظوں میں جر دے رہا ہے، تو ذُنُوبِ مجرور لفظاً اور منصوب محلاً، منصوب کیا ہے؟ محل کے اعتبار سے یہ مفعول بہ ہے کس کے لیے؟ يَغْفِرْ فعل کے لیے۔ تو مجرور لفظاً، منصوب محلاً مضاف، کُمْ ضمیر مجرور محلاً مضافٌ الیہ۔ آپ کو کیسے پتہ چلا یہ مضاف مضافٌ الیہ ہیں؟ شاباش، کسی اسم کے ساتھ ضمیرِ متصل آ جائے تو کیا ترکیب کریں گے؟ مضاف مضافٌ الیہ کی، تو کُمْ ضمیر مجرور محلاً مضافٌ الیہ۔ شاباش، مضاف مضافٌ الیہ مل کر یہ مفعول بہ ہوا فعل کے لیے۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ جوابِ امر ہوا بھئی، جوابِ امر۔ جی آگے کا چلیے بھئی، دیکھیے بھئی: "وَإِلَى لِانْتِهَاءِ الْغَايَةِ فِي الْمَكَانِ وَلِلْمُصَاحَبَةِ" بس یہ دو ہیں بھئی؟ اور تو کوئی نہیں آیا؟ جی، "وَإِلَى لِانْتِهَاءِ الْغَايَةِ فِي الْمَكَانِ وَلِلْمُصَاحَبَةِ"، جی کون کرے گا ترکیب؟ چلو بھئی، جلدی جلدی کرو۔ إِلَى مرفوع محل مبتدا، بھئی إِلَى تو حرف ہے، آپ نے اس کو مبتدا کیسے بنا دیا؟ شاباش، یہ هَذَا اللَّفْظُ کی تاویل میں ہے، لفظ مراد ہے بھئی۔ لام جارا، اِنْتِهَاءِ مصدر، مصدر بھی بتلاؤ بھئی یہاں پر کیونکہ آگے فِي الْمَكَانِ نے اس سے جڑنا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو مصدر کہہ دیں گے تو بات واضح ہو جائے گی۔ اِنْتِهَاءِ مصدر مجرور لفظاً، مجرور لفظاً مصدر مضاف، الْغَايَةِ مجرور لفظاً مضافٌ الیہ، فِي جارا، الْمَكَانِ مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے اِنْتِهَاءِ مصدر کے ساتھ۔ شاباش، اِنْتِهَاءِ مصدر اپنے متعلق اور مضافٌ الیہ سے مل کر مجرور، جی، جار مجرور مل کر معطوف علیہ، وَاو حرفِ عطف، لام جارا، الْمُصَاحَبَةِ مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر یہ معطوف۔ تو معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر ظرفِ مستقر ہوا بھئی، یہ متعلق ہو گا کس سے؟ ثَابِتَةٌ کے ساتھ۔ ثَابِتَةٌ صیغہ اسمِ فاعل، هِيَ ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، جو کس کو راجع؟ إِلَى کو، شاباش! ثَابِتَةٌ صیغہ اسمِ فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر۔ مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، کیا ترجمہ ہو گا؟ إِلَى آتا ہے کس لیے؟ انتہائے غایت... غایت معنیٰ یہاں مسافت کے ہیں، انتہائے مسافت کے لیے۔ کس چیز میں؟ مکان میں، یہ انتہائے مسافت کس چیز میں ہوتی ہے؟ مکان میں ہوتی ہے مولانا، مکان میں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی اگے۔ نَحْوُ مرفوع لفظاً مضاف، سِرْتُ مِنَ الْبَصْرَةِ إِلَى الْكُوفَةِ مراد اللفظ مجرور تقدیرًا مضافٌ الیہ۔ مضاف اپنے مضافٌ الیہ سے مل کر یہ خبر ہوا مِثَالُهَا کے لیے، یا هِيَ کے لیے، یا مفعول بہ ہوا أَعْنِي کے لیے، یا مفعول مطلق ہوا أُمَثِّلُ کے لیے، جی۔ نَحْوُ سمجھ میں آیا؟ یہ مصدر ہو گا مصدر بھئی، تو أُمَثِّلُ کے لیے مفعولِ مطلق بنے گا، جی۔ سِرْتُ فعل، سِرْتُ فعل بافاعل، اس کے اس میں تُو ضمیرِ بارز مرفوع محلاً اس کا فاعل، مِنْ جارا، الْبَصْرَةِ مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے فعل کے ساتھ۔ إِلَى جارا، الْكُوفَةِ مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر یہ متعلقِ ثانی ہوئے فعل کے ساتھ۔ فعل اپنے فاعل اور دونوں متعلقوں سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، سمجھ میں آیا بھئی؟ چلیے مولانا، بس، وَهُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔ آگے ذرا مشکل ترکیب ہے بھئی، دیکھ کر آنا اچھی طرح بھئی۔ چلو بھئی، دعا بھی کر لیں۔ الحمد لله رب العالمين... وصلى الله۔