درس نمبر۔38 نحوٌ مرفوع لفظاً مضاف، اشتريت الفرس بسرجه یہ مراد اللفظ ہو کر مضاف الیہ۔ اس لیے کہ نحو ان الفاظ میں سے ہے جو کس کی طرف مضاف ہوتے ہیں؟ مفرد کی طرف، اور یہ تو ہے جملہ، تو لہذا یہاں کیا تا، یہاں کیا کہیں گے اس کو؟ کہ مراد اللفظ، لفظ مراد لیں گے بھئی جی۔ لفظ کی تاویل میں، جی۔ مراد اللفظ مضاف الیہ مجرور تقدیراً، نحو مضاف، مضاف الیہ مل کر یہ خبر ہوئی، مثالها مبتدا۔ جی، مضاف مضاف الیہ مل کر یہ خبر ہوئی مبتدا مثالها کے لیے۔ مثال مرفوع لفظاً مضاف، ها ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ۔ ها ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، کس کو راجع؟ الباء کو، باء کو راجع ہے مولانا، وہ باء جو کس کے لیے ہو؟ مصاحبت کے لیے، جی مصاحبت کے لیے۔ مضاف مضاف الیہ مل کر یہ مبتدا، جی، مصاحبت کے لیے ہے؟ جی، مصاحبت کے لیے ہے وہ باء، جی۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مبتدا، مثالها مضاف مضاف الیہ مل کر مبتدا، اور نحو اشتريت الفرس بسرجه یہ خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، جی، یہ تو ایک ترکیب ہوئی۔ دوسری ترکیب بھئی؟ هي نحو۔ کیا مبتدا نکالیں گے؟ هي، هي ضمیر کس کو راجع ہوگی؟ الباء کو، جی۔ تیسری ترکیب؟ أعني نحو۔ أعني نحو، تو أعني کے لیے نحو کو کیا بنائیں گے؟ مفعول، تو منصوب ہوگا، جی۔ چوتھی ترکیب؟ أُمَثِّلُ نحو۔ أُمَثِّلُ نحو، تو یہ کیا بنے گا؟ مفعول مطلق بنے گا، جی۔ تو دو حالتوں میں یہ مرفوع ہے، دو میں منصوب ہے بھئی۔ تو کیا ترجمہ ہوگا؟ جی، پہلے ترکیب تو کریں، اب جملے کی کریں ترتیب ترکیب۔ اگر معنیٰ کا ارادہ کیا جائے، معنیٰ مراد ہو، تو پھر یوں ترکیب ہوگی اس جملے کی: اشتريت فعل، تاء ضمیر مرفوع محلاً فاعل، الفرس منصوب لفظاً مفعول به، باء حرفِ جار، سرج مجرور لفظاً مضاف، ها ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ۔ ها ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، یہ کس طرف راجع ہے؟ الفرَس، جی، یہ فرَس کو راجع ہے ضمیر۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور ہوا باء حرفِ جار کا، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے اشتريت کے۔ اشتريت فعل اپنے فاعل، مفعول به اور متعلق سے مل کر جملہ جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کیا ترجمہ ہوگا؟ خریدا میں نے گھوڑے کو اس کی زین کے ساتھ، ہاں، خریدا میں نے گھوڑے کو اس کی زین کے ساتھ، سمجھ میں آیا؟ ساتھ، ساتھ کا معنیٰ کس نے ادا کیا؟ باء نے۔ جی، آگے بھئی، آگے کون کرے گا ترکیب؟ چلیے جی، کیجیے۔ جی وللتعدية اس کی ترکیب گزر چکی ہے، نحو کی کریں بھئی۔ نحو مرفوع لفظاً مضاف، قول مجرور لفظاً مصدر مضاف، ها ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ۔ بھئی، یہ ترکیب تو کئی دفعہ گزر چکی ہے بھئی، کیسی ترکیب کر رہا ہے؟ کیا بنے گا بھئی؟ ها ضمیر کیا بنے گی؟ ذوالحال، میں نے بتلایا تھا اپ کو بھئی، معرفہ کے بعد اگر فعل یا جار مجرور آ جائیں تو وہ کیا بنا کرتے ہیں؟ اس کے لیے حال بنتے ہیں، اور اگر نکرہ کے بعد فعل یا جار مجرور آ جائے تو اس کے لیے کیا بنا کرتے ہیں؟ صفت، تو یہاں ها ضمیر ہے، ضمیر ہے معرفہ، اس کے بعد تعالى فعل آیا، تو یہ اس کے لیے حال بنے گا۔ ها ضمیر مجرور محلاً ذوالحال، تعالى فعل، اس کے اس کے اندر هو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، کس کو راجع ہے هو ضمیر؟ بھئی، ذوالحال کو کس سے جوڑا جاتا ہے؟ ذوالحال سے، تو یہ حال کی ضمیر راجع ہے ذوالحال کو، جی۔ بھئی، اس کو تو پورا کر لو۔ تعالى فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر ذوالحال، جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر بتقدیر قد کے، کیونکہ ماضی جب حال بنے تو کیا وہاں قد کا لفظوں میں ہونا یا تقدیرًا ہونا ضروری ہے، تو بتقدیر قد کے یہ حال۔ ذوالحال اپنے حال سے مل کر مجرور، آگے: ذهب فعل، لفظِ اللہ مرفوع لفظاً فاعل، باء حرفِ جار، نور مجرور لفظاً مضاف، هم ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ۔ هم ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، بھئی، اپ کو کیسے پتہ چلا نور مضاف ہے اور ضمیر مضاف الیہ ہے؟ کیا بھئی، کیا ضابطہ بتلایا تھا میں نے؟ جس اسم کے ساتھ ضمیر متصل ہو تو وہاں کیا ترکیب کریں گے؟ مضاف مضاف الیہ، جی، تو یہ مضاف مضاف الیہ ہوئے۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ذهب فعل کے۔ ذهب فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر مقولہ ہوا قول کا۔ جی، قول مصدر اپنے مضاف الیہ اور مقولے سے مل کر مضاف الیہ ہوا نحو کے لیے۔ مضاف مضاف الیہ مل کر یہ خبر ہوئی مبتدا محذوف کی، جی، مضاف مضاف الیہ مل کر خبر ہوئی مبتدا محذوف، کیا نکالیں گے؟ مثالها، یہ ها ضمیر کس کو راجع کریں گے؟ باء کو بھئی، یہ باء کی مثال ہے، وہ باء جو کس کے لیے ہے؟ تعدیہ کے لیے۔ جی، تو مثالها مبتدا اور یہ آگے نحو اس کی خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، جی، دوسری ترکیب ادھر: هي نحو، هي ضمیر کس کو راجع؟ یہ بھی باء کو راجع۔ تیسری ترکیب: أعني، أعني کے لیے اس نحو کو کیا بنائیں گے؟ مفعول، تو اس پر کیا اعراب آئے گا؟ نحوَ پڑھیں گے، جی۔ تیسری ترکیب، چوتھی: أُمَثِّلُ کے لیے اس کو کیا بنائیں گے؟ مفعولِ مطلق بنائیں گے، تو یہ منصوب، تو دو تر، اب ذرا عبارت پڑھو بھئی۔ نحو قوله تعالى ذهب الله بنورهم، جی، نحو قوله تعالى ذهب الله بنورهم، دیکھا ہر ہر لفظ کا اعراب پتہ چل گیا، اب اس کے مطابق عبارت پڑھ لیجیے۔ آگے بھئی، آگے کون کرے گا؟ چلو بھئی، تم کرو بھئی۔ واؤ حرفِ عطف، نحو مرفوع لفظاً مضاف، نحو مرفوع لفظاً مضاف، جی، کیا ترکیب کریں گے یہاں پر بھئی؟ ہاں، مراد، پورا جملہ ہے اور نحو تو پر جملے پر داخل نہیں ہوتا، یہاں معلوم ہوا لفظ مراد ہیں، یہ لفظ بھئی ترکیب نہیں کرنی یہاں پر جملے کی، تو مراد اللفظ مراد اللفظ، آگے أي أذهبتُهُ، تفسیر بھی آ رہی ہے اس کی، یہاں کیا ترکیب کیا کرتے ہیں؟ جی؟ أي أي میں نے بتلایا تھا، تفسیر کے لیے آیا آتا ہے، کبھی کبھار جملے کی تفسیر، اس اس کے ذریعے یا تو جملے کی تفسیر کی جاتی ہے یا مفرد کی، لیکن جملے کی تفسیر ہمیشہ جملے سے ہوگی اور مفرد کی تفسیر ہمیشہ یہ نہیں ہو سکتا مفرد کی تفسیر جملے کے ساتھ ہو جائے یا جملہ کی جملے کی تفسیر مفرد کے ساتھ ہو جائے بھئی، تو یہاں پر تو نحو کے بعد جملہ آ رہا ہے، تو وہ مراد اللفظ ہوا، آگے اس کی تفسیر بھی جملہ ہے بھئی، تو مراد اللفظ، تو جب مفرد سے مفرد کی تفسیر کے لیے أي آئے، تو کیا بنایا کرتے ہیں ان کو؟ پہلے کو مبدل منہ، ثانی کو اس سے بدل، یا اول کو معطوف علیہ اور ثانی کو عطفِ بیان، کیا بنایا کرتے ہیں؟ عطفِ بیان، جی، تو ذهبت بزيج مجرور تقدیراً، جی، جی، مجرور تقدیراً معطوف علیہ، أي حرفِ تفسیر، أذهبتُهُ مراد اللفظ مجرور، یہ بھی کیا ہوگا؟ مجرور، معطوف علیہ مجرور تھا، تو یہ عطفِ بیان بھی، تو یہ مجرور تقدیراً عطفِ بیان، معطوف علیہ اپنے عطفِ بیان سے مل کر یہ مضاف الیہ ہوا کس کے لیے؟ نحو کے لیے، ترکیب سمجھ میں آئی بھئی؟ اور یا اس ذهبت بزيج مجرور مراد اللفظ مجرور تقدیراً یہ مبدل منہ، أي حرفِ تفسیر، أذهبتُهُ مراد اللفظ مجرور تقدیراً یہ کیا ہے؟ بدل، مبدل منہ اپنے بدل سے مل کر مضاف الیہ، بس یہ یاد رکھیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ کہ جب أي حرفِ تفسیر آ جائے اور مفرد کی تفسیر مفرد سے کرنا ہو تو اس وقت ماقبل یا معطوف علیہ بنتا ہے یا مبدل منہ، اور مابعد عطفِ بیان بنتا ہے یا بدل بنتا ہے۔ تو یہ ترکیب ہوئی، پھر اس کے لیے مبتدا کیا نکالا آپ نے، یہ خبر ہو گئے مضاف مضاف الیہ مل کر؟ پہلی مثالها، ها ضمیر باء کو راجع، اس سے مؤنث کی ضمیر نکالی، دوسرا: هي نحو، هي کے لیے اس نحو کو خبر بنائیں، تیسری ترکیب: أعني، أعني کے لیے اس کو کیا بنائیں؟ مفعول، تو پھر نحوًا پڑھیں گے اس کو، اور چوتھی ترکیب: أُمَثِّلُ کے لیے اس کو کیا بنائیں؟ مفعولِ مطلق بنائیں من غير لفظه بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور اگر مع، یہ تو تھا لفظ مراد، اور اگر معنیٰ کا ارادہ کیا جائے پھر اس ذهبت بزيج أي أذهبتُهُ اس کی تف ترکیب کر لو، لیکن پھر اس صورت میں اس کو مضاف الیہ آپ نے نہیں بنانا، اب کیجیے بھئی، ذهبت بزيج أي أذهبتُهُ۔ جی، اب نحو نہیں کر ترکیب نہیں کرنی بھئی، جب آپ جملے کی ترکیب کر رہے ہیں اب نحو کو چھوڑ دیں، ویسے یہ ترکیب کرنا پڑے تو یوں کرنا پڑے گی یوں کہو۔ جی، بھئی، ذهبتُ، میں ویسے کہہ دیتا ہوں پہلا فعل نکال لو، سمجھ میں آیا؟ تو چاہے آپ یوں ترکیب کر لیں، ذهبتُ فعل با فاعل، کیا ترکیب کر لیں؟ فعل با فاعل، اور اس میں کیا فاعل کیا ہے؟ تُن ضمیر بارز، ضمیر بارز مرفوع محلاً اس کا فاعل، جی۔ شاباش، باء حرفِ جار، زيد مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ذهبتُ فعل کے ساتھ، فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، بس۔ آگے چلیں۔ أي حرفِ تفسیر، أذهبتُ فعل با فاعل، اس کے اندر، تُن، ہاں، اس کے اندر تُن ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، ها ضمیر شاباش، ها ضمیر منصوب محلاً مفعول به، کس کو راجع ہے غائب کی ضمیر؟ یہ کس کی تفسیر ہو رہی ہے؟ ذهبت بزيج، میں زید کے ساتھ گیا، أي أذهبت زید کو لے گیا، یعنی کہ زید کو لے گیا، تو یہ ها ضمیر کس کو راجع؟ اسی زید کو تو راجع ہے بھئی۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول به سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر جملہ فعلیہ خبریہ مفسرہ ہوا۔ جملہ فعلیہ خبریہ بس، جی۔ تو ماقبل والے کو مفسرہ بنا لو اور اس کو مفسرہ، پھر مفسر مفسر کو جوڑنا نہیں کوئی ضرورت نہیں، جی۔ آگے، آگے کون کرے گا ترکیب؟ چلیے جی۔ نحو مرفوع لفظاً مضاف، اشتريت العبد بالفرس، یہ مراد اللفظ ہو کر مضاف مجرور تقدیراً مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر یہ خبر ہوئی، مبتدا محذوف مثالہا کے لیے یا یا ہیہ کے لیے یا یا اعنی فعل کے لیے مضاف مفضول بہ ہوا، یا امثل فعل کے لیے مفضول مطلق ہوا، امثل فعل کی صورت میں ترکیب کیجیے۔ امثل فعل با فاعل، اس کے اندر وہ فاعل بتلا بھی دو تو انا ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر فاعل۔ اور آگے نحو اشتريت اس کو ہم نے کیا بنایا تھا؟ مفعول مطلق، تو فعل اپنے فاعل اور مفعول مطلق سے مل کر کیا ہوا؟ جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ آگے کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جلدی جلدی کراؤ بھئی۔ چلیے، اور کوئی نہیں ہے بھئی؟ چلیے جی، آپ کریں بھئی آپ، چلو اس کے بعد کرواؤ۔ جلدی جلدی کرو، چھوٹی چھوٹی ترکیبیں ہیں۔ کہاں سے کر رہے ہو بھئی؟ جی، نحو سے کیجیے۔ نحو باللہ لافعلن کذا جی، نحو مرفوع لفظاً مضاف باللہ لافعلن کذا مراد اللفظ مضاف الیہ۔ شاباش، باللہ لافعلن کذا مراد اللفظ مجرور اعراب بھی بتاؤ، مجرور تقدیراً مضاف الیہ۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ خبر ہوئی مبتدا محذوف کس کے لیے؟ مثالہا کے لیے، یا یا ہی ضمیر مبتدا نکالیں گے، یا یا اعنی نحو، اعنی کے لیے یہ کیا بن جائے گا؟ مفعول بہ، یا یا امثل کے لیے کیا بنے گا؟ مفعول مطلق بنے گا، جی۔ اب اگر اگر معنی کا ارادہ ہو، اس قسم کی ترکیب آ جائے تو وہ یوں کریں گے، اب جوڑنا نہیں نحو کے ساتھ، جی۔ با جارہ، لفظِ اللہ مجرور لفظاً، یہ با قسمیہ جارہ ہے، تو با جارہ، لفظِ اللہ مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر متعلق ہوا کس سے؟ آپ کو ترکیب کروائی تھی، جملہ قسمیہ کی، مولانا۔ تو یہ متعلق ہوا اقسم فعل کے ساتھ، اقسم فعل، انا ضمیر اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل اور متعلق جو ہے باللہ، اس کے ساتھ متعلق ہو کر، اس کے ساتھ مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا، کیا ہوا؟ جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر قسم، جی۔ لام حرفِ تاکید، افعلن فعل، انا ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر فاعل، جی؟ نہیں، کذا الگ الگ نہ کرو، مولانا۔ کذا یہ کنایہ ہے، ترکیب اکٹھی کرو، کذا مجرور ہے، کیا ہے؟ مفعول بنے گا یہ، لافعلن کذا، میں ایسا کروں گا، میں ایسا ضرور کروں گا، تو یہ کنایہ ہے کسی کام سے بھئی، کسی امر سے یہ کیا ہے؟ کنایہ ہے۔ جیسے کنایہ نہیں کرتے بھئی، میں کہتا ہوں، فلاں نے مجھے یوں یوں کہا، فلاں نے کہا، نام میں نے نہیں لیا، سمجھ میں آیا؟ فلاں کا لفظ لے آتا ہوں۔ تو اسی طرح عربی میں کذا وغیرہ، کیت و زیت، یہ کنایات ہیں، مولانا، سمجھ میں آیا؟ آپ کہتے ہیں میں نے فلاں کو اتنے اتنے روپے دیے، آپ نے روپے نہیں ذکر کیے، کیا کہا آپ نے؟ اتنے اتنے روپے دیے، تو اس کے لیے کیا آتا ہے؟ کذا استعمال ہوتا ہے، یہ کنایات۔ یا اسی طرح کہتے ہیں، میں نے فلاں کو یوں یوں کہا، فلاں کو میں نے ایسے ایسے جواب دیے، تو بھئی، ایسے ایسے آپ نے کہا، وہ جواب نہیں ذکر کیے، یہ ان سے کیا کر دیا؟ کنایہ کر دیا، تو کیت و زیت اس طرح استعمال ہوتا ہے بھئی۔ تو یہاں بھی یہ کنایہ ہے، اور اس کو کیا بناؤ؟ محا، یہ مبنی ہے، تو منصوب محلاً، جی، منصوب محلاً مفعول بہ ہوا، افعلن فعل کے لیے۔ افعلن فعل، افعلن فعل، اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر ہو کر جوابِ قسم۔ قسم، جوابِ قسم سے مل کر کیا ہوا؟ جملہ جملہ قسمیہ ہوا، بس انشائیہ نہ کہو، مولوی صاحب، انشاء صرف پہلا جز تھا اس کا، بس۔ سمجھ میں آیا؟ مجموعہ سارا کیسے جملہ انشائیہ ہو سکتا ہے؟ او للاستعطاف، نحو ارحم بزيد، جی، آگے کون کرے گا ترکیب؟ اچھا، چلیے، پہلے دیکھیے بھئی، نحو مرفوع لفظاً مضاف، ارحم بزيد، بھئی، استعطاف کا معنی ہے نرمی طلب کرنا، نرمی کو طلب کرنا۔ تو نرمی طلب کرنے کے لیے یہ با کبھی استعمال ہوتی ہے، اس کی مثال انہوں نے دی، ارحم بزيد، ارحم بزيد، تو رحم کر کس پر؟ زید پر رحم کر، زید کے ساتھ رحم کر۔ اب یہاں نرمی کا معنی با سے حاصل ہو رہا ہے یا ارحم سے حاصل ہو رہا ہے؟ جی؟ ارحم سے حاصل ہو رہا ہے، مولانا، رحم کرنے کا کیا معنی ہے؟ نرمی کرو نا اس پر، ترس کھاؤ، تو یہاں پر ارحم سے استعطاف کا معنی حاصل ہوا، با سے حاصل، تو یہ مثال صحیح نہیں، مولانا، یہ مثال درست نہیں ہے، یہ اسی طرح کسی لکھنے والے کی کاتب کی غلطی سے یہ اس طرح ہوا، اور اسی طرح نسخوں میں چلی آئی، یہ مثال درست نہیں ہے بھئی، باء استعطافی کی۔ بھئی، باء استعطاف کے لیے کبھی با آتی ہے، لیکن وہ با قسمیہ ہوتی ہے، کون سی ہوتی ہے؟ با قسمیہ ہوتی ہے۔ اور اس کا اس میں جوابِ قسم کا جملہ انشائیہ ہونا ضروری ہے۔ جوابِ قسم کیا ہوگا؟ جملہ انشائیہ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ مثال کوئی لکھی نہیں، کوئی مثال لکھی ہے بھئی؟ بھئی، وہ باللہ، باللہ، با جارہ ہوگی، قسمیہ ہوگی، مولانا، کس کے لیے آئے گی؟ قسم کے لیے آئے گی۔ اور اس کا قسم کے لیے پھر جوابِ قسم چاہیے، تو اس کا جوابِ قسم جملہ انشائیہ ہوگا۔ جوابِ قسم جملہ انشائیہ ہوگا۔ جیسے آپ کہتے ہیں، باللہ اخبرنی عن زید، باللہ اخبرنی بالله مجھے خبر دے زید کے بارے میں۔ تو دیکھو باللہ، یہ با کون سی ہے؟ استعطاف کے لیے، نرمی پیدا کرنے کے لیے، تجھے قسم ہے خدا کی، کیا کر مجھے؟ خبر دے مجھے کس چیز کی؟ زید کے بارے میں، تو نرمی پیدا کر رہا ہے، اس با کے میں سے نرمی کا پیدا، معنی پیدا ہوا۔ سمجھ میں آیا؟ نرمی کرو کچھ بھئی، اور مجھے اس کے بارے میں کیا دے دو؟ خبر دے دو، سمجھ میں آئی بھئی مثال؟ باللہ اخبرنی عن زید۔ جی، وللزیادہ، نحو قولہ تعالی، یہ ترکیب کون کرے گا؟ چلیے جی، کرو بھئی۔ جی، کون کر رہا ہے؟ کون کر رہا ہے یہ ترکیب؟ وہ پیچھے بھئی، آپ نے بھی ہاتھ اٹھایا تھا نا، ہاں، کرو ترکیب۔ آواز ہی نہیں آ رہی آپ کی بھئی۔ نحو مرفوع لفظاً مضاف، قولی مجرور لفظاً، مصدر مضاف، بھئی، یہاں مراد اللفظ کی ضرورت ہے؟ جی؟ نہیں، مفرد ہے، تو مفرد ہی ہے، مولانا، یہاں تو، جی۔ نہیں نہیں، مراد اللفظ جملہ نہیں ہے بھئی یہ، قولی مجرور لفظاً مجرور لفظاً مصدر مضاف، با ہا ضمیر مجرور محلاً ذوالحال، تعالی فعل، تعالی فعل، ہوا ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر فاعل، کس کو راجع؟ ذوالحال کو، جی، تعالی فعل اپنے فاعل کے ساتھ مل کر جملہ فعلیہ خ ب فعلیہ ہو کر فعلیہ ہو کر بتقدیر قد، یہ حال، جی، ذوالحال اپنے حال سے مل کر مضاف الیہ ہوا، قول مصدر کے لیے۔ جی؟ نہیں نہیں، مراد، کیوں جاتے ہو مراد اللفظ کی طرف بھئی؟ بھئی، دیکھو، قول ہے مفرد، میں نے کہا تھا نحو ان الفاظ میں سے ہے جو کس کی طرف مضاف ہوتے ہیں؟ مفرد کی طرف، جملے کی طرف مضاف، تو جب جملہ آ جائے آگے، تو پھر مراد اللفظ کہو، اور اگر آگے مفرد ہی آئے، پھر مفرد ہی کی طرف تو یہ مضاف ہوتا ہے، تو وہاں پر مراد اللفظ کہنے کی ضرورت نہیں، اور قول ہے مفرد، اور مفرد کے ساتھ میں نے آپ کو بتلایا تھا، ہزار چیزیں بھی جڑ جائیں، وہ کیا رہتا ہے؟ مفرد رہتا ہے، تو آگے اسی قول کا مضاف الیہ ہے، آگے اسی کا مقولہ ہے، مصدر مضاف اپنے مضاف الیہ اور مقولے سے مل کر پھر بھی یہ مفرد کا مفرد ہی رہے گا۔ سمجھ میں آیا؟ جی؟ و عاطفہ، در آں حالے کہ در قرآن مذکور است بھئی، قرآن میں یہ و کیا استعمال ہوا ہے؟ عاطفہ، بس آگے، جی، لا تلقوا فعل، واو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، با جارہ، ایدی مجرور تقدیراً مضاف، کم مجرور محلاً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مجرور ہوا با جارہ کے لیے، بھئی، یہ وللزیادہ کی مثال ہے۔ جی، مولانا، یاد رکھو، یہ مثال ہے، انہوں نے بتلایا، با کبھی کبھی زیادہ، زیادہ، زیادت کے لیے آتی ہے، اس کو وہ زائد ہوتی ہے، کلام میں کیا ہوتی ہے؟ زائد ہوتی ہے، اور جو حرفِ جر کلام میں زائد ہو، وہ کسی سے متعلق نہیں ہوا کرتا بھئی۔ جو حرفِ جر کلام میں زائد ہو، وہ کسی سے متعلق یہ ہمیشہ یاد رکھنا، ہمیشہ یہ بات یاد رکھنا، جو حرفِ جر زائد ہو، وہ کسی سے متعلق نہیں ہوتا۔ ویسے کلام میں بڑھا دیا جاتا ہے کبھی حرفِ جر کو، با کو مثلاً، کیا مقصد ہوتا ہے اس کو زیادہ کرنے کا؟ یہ کلام میں تاکید پیدا کر دیتا ہے کچھ، اور مولانا، کلام میں حسن پیدا ہو جاتا ہے، اور کبھی کبھار شعر وغیرہ کا وزن اس کے لانے سے صحیح ہو جاتا ہے بھئی، اس کے بغیر بات صحیح، وزن صحیح نہیں رہتا۔ تو یہ کچھ تاکید کا بھی فائدہ دے دیتا ہے، اور کلام میں حسن پیدا کر دیتا ہے، اور جی؟ ہاں، تاکید پیدا کرتا ہے اور حسن پیدا کرتا ہے، اور کیا؟ وزن کی درستگی ہو جاتی ہے اس کے ساتھ، اس کے بغیر وزن صحیح نہیں ہوتا، تو اس زائد کو، حرف کو لا کر وزن کو صحیح کیا جاتا ہے۔ اور حروفِ جارہ زائدہ کسی سے متعلق نہیں ہوتے۔ تو لا تلقوا، یہ خود متعدی ہے، تو پھر با کو لانے کی کوئی ضرورت نہیں، با کو لانے کی ضرورت با کے ساتھ متعدی کرنے کی ضرورت نہیں۔ یاد رکھو، یہ جو حروفِ جارہ جن پر داخل ہوں، یہ اس فعل کے لیے مفعول بہ ہوتے ہیں۔ میں نے کہا، ضربت زیداً، یہ زیداً ضربت کے لیے کیا ہے؟ ضربت زیداً، یہ زیداً کیا ہے ضربت کے لیے؟ مفعول بہ ہے۔ اب اسی طرح میں عصا کو بھی ضربت کے ساتھ جوڑنا چاہتا ہوں اور اس کے لیے مفعول بہ بنانا چاہتا ہوں، لیکن ضربت تو ایک مفعول چاہتا تھا اور زید وہ اس کے ساتھ جڑ چکا ہے۔ اب میں کیا کروں؟ تو اس کے لیے پھر حرفِ جر کو استعمال کرتے ہیں بھئی۔ اب میں کہوں گا: ضربت زیدًا بالعصا، ضربت زیدًا؟ بالعصا، تو دیکھو ضربت براہِ راست عصا کے اندر عمل نہیں کر سکتا تھا، اب با کے واسطے سے اس نے عصا میں کیا کیا؟ عمل کیا۔ تو یہ بھی مفعول ہوتا ہے، لیکن ایک مفعول بہ صریح ہوتا ہے جو کیا تھا؟ زید، اور ایک مفعول بہ غیر صریح ہوتا ہے۔ تو یہ جو مجرور ہوتے ہیں حرفِ جر کے واسطے سے، یہ مفعول بہ غیر صریح ہوں گے۔ کیا ہوں گے؟ مفعول بہ غیر صریح۔ تو یہاں تُلقُوا اَیْدِیَکُم، یہ تُلقُوا خود براہِ راست متعدی ہے۔ جب براہِ راست متعدی ہے تو اس کو با کے ذریعے متعدی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا؟ میں کہتا ہوں ضربت زیدًا، تو ضربت خود براہِ راست زید کو نصب دے سکتا ہے مفعول بہ ہونے کی بناء پر، تو ضربت بزیّدٍ کہنے کی مجھے ضرورت نہیں، تو با تو کس لیے لائی جاتی ہے؟ کہ فعل براہِ راست عمل نہیں کر سکتا تھا تو درمیان میں ہم کس کو لے آئے؟ حرفِ جر کو لے آئے، تو حرفِ جر فعل کے معنی کو پہنچا دیتا ہے کہاں تک؟ اپنے مدخول تک، اور یہاں تو جب وہ زیدًا میں خود عمل کر رہا ہے ضربت، تو با لانے کی ضرورت ہے؟ نہیں۔ تو اگر آئے مثلاً فرض کرو، تو یہ با پھر کیا کہلائے گی؟ زائدہ کہلائے گی، کیا کہلائے گی؟ زائدہ کہلائے گی، تو یہاں بھی اسی طرح ہے، تُلقُوا فعل ہے اور یہ مفعول کو خود نصب دیا کرتا ہے۔ جب خود نصب دیتا ہے تو با لانے کی ضرورت نہیں۔ تو یہ با زائدہ ہوئی مولانا، با کیا ہوئی؟ زائدہ۔ تو دیکھیے، اب ترکیب سنیے بھئی! لا تُلقُوا فعل، واؤ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، با جارة زائدہ، با جارة زائدہ۔ یہ جو زائد ہوتا ہے، یہ لفظوں میں تو عمل کرتا ہے، معنی کے اندر کوئی عمل نہیں کرتا۔ تو با جارة زائدہ، اَیْدِی مجرور لفظاً کیونکہ با نے اس کو کیا دے دیا؟ جر، تو مجرور تقدیرًا، مجرور تقدیرًا با نے اس کو جر دیا اور تقدیرًا جر آیا اس پر، لیکن مولانا یہ با تو ہے زائدہ، دراصل اَیْدِیَکُم یہ تُلقُوا کے لیے کیا بن رہا ہے؟ کیا بن رہا ہے؟ مفعول براہِ راست، تو اس کو نصب دے سکتا تھا، لیکن با کو بڑھایا گیا۔ تو اَیْدِی مجرور تقدیرًا اور منصوب محلاً۔ مجرور کیا ہے؟ جر کس نے دیا؟ با نے، اور لیکن محل کے اعتبار سے یہ کیا ہے؟ مفعول ہے، اور مفعول کیا ہوا کرتا ہے؟ منصوب، تو یہ منصوب محلاً۔ تو محل یہ نصب کا ہے۔ منصوب محلاً مضاف، کُم ضمیر مجرور محلاً مضافٌ الیہ۔ سمجھ میں آیا؟ تو دوبارہ سنو: با جارة زائدہ، اَیْدِی مجرور تقدیرًا، منصوب محلاً مضاف، یہ منصوب لفظًا منصوب محلاً کیوں ہے؟ مفعول بہ ہے کس کے لیے؟ لا تُلقُوا فعل کے لیے، کُم ضمیر مجرور محلاً مضافٌ الیہ، مضاف مضاف الیہ مل کر یہ مفعول بہ ہوا کس کے لیے؟ لا تُلقُوا فعل کے لیے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اِلَى التَّھْلُکَةِ، اِلىٰ جارة، التَّھْلُکَةِ مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر یہ متعلق ہوئے کس سے؟ لا تُلقُوا فعل کے ساتھ۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ اور متعلق سے مل کر کیا ہوا جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا بھئی۔ ترکیب سمجھ میں آئی؟ کہ حروفِ جارة زائدہ جو ہوتے ہیں، وہ کسی سے متعلق نہیں ہوتے، اور ان کو کس لیے کلام میں ذکر کیا جاتا ہے بھئی؟ تاکید کا معنی پیدا کرنے کے لیے اور کلام میں حسن پیدا کرنے کے لیے اور وزن کی درستگی کے لیے اس کو لایا جاتا ہے۔ اور یہ متعلق کیوں نہیں کیا ہم نے بھئی؟ کیونکہ حروفِ جارة کس لیے لائے جاتے ہیں؟ کہ فعل کے معنی کو کہاں تک پہنچاتے ہیں؟ اپنے مدخول تک، یعنی جس پر یہ داخل ہوئے ہیں۔ تو لا تُلقُوا کا معنی با پہنچائے گا کس تک؟ اَیْدِی تک، لیکن لا تُلقُوا تو براہِ راست خود اَیْدِی میں عمل کر سکتا ہے، تو با کیا ہوا؟ اس نے معنی کو نہیں پہنچایا، معنی کو اس کی کوئی حاجت نہیں، تو اس لیے اس کو کیا کہا گیا؟ با زائدہ۔ تو جب وہ خود کر رہا ہے عمل، تو با کے ذریعے عمل پہنچانے کی ضرورت نہیں، تو با زائدہ ہوا بھئی۔ یہ متعلق بھی نہیں ہوگا اب اس کے ساتھ۔ چلیے مولانا! تو یہ مقولہ ہوا قول کے لیے، قول مصدر مضاف اپنے مضافٌ الیہ اور مقولے سے مل کر اب بھی یہ مفرد ہے مولانا۔ اللہ کا یہ فرمانا وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّھْلُكَةِ کہ تم اپنے آپ کو، اپنے ہاتھوں، اپنے ہلاکت میں نہ ڈالو، وَلَا تُلْقُوْا اَیْدِیَکُم تم اپنے ہاتھوں کو، یعنی اپنے نفسوں کو، اپنے نفسوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ تم اپنے نفسوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اللہ کا یہ فرمانا کہ تم اپنے نفسوں کو ہلاکت میں... بات پوری ہوئی؟ اللہ کا یہ فرمانا کہ تم اپنے ہاتھوں، اپنے آپ کو، اپنے نفسوں کو ہلاکت میں... جملہ پورا ہو گیا؟ جملہ نہیں پورا ہوا، اللہ کا یہ فرمانا بھئی یہ کیا ہے؟ آگے خبر کوئی اس کی نہیں، تو یہ مفرد ہے، یہ کیا ہے؟ مفرد ہے۔ تو یہ مضاف ہوا نحو کے لیے، اور نحو مضاف مضاف الیہ مل کر یہ وہی پھر ترکیب ہو جائے گی۔ چلیے مولانا، ھٰذَا ھُوَ الْمَرَامُ وَاللہُ اَعْلَمُ بِحَقِیْقَةِ الْکَلَامِ۔