درس نمبر۔37 نحو مرفوع لفظاً مضاف، با جاره، ها ضمير مجرور محلاً، جار و مجرور مل كر— جي؟ نحو به داءٌ ہے باقي بھئی؟ جي، نحو مرفوع لفظاً مضاف، با جاره، ها ضمير مجرور محلاً، ضمير غائب كيا ہے، مرجع تلاش كرو۔ يہ مثال ہے مولانا، تو كسي غائب كى طرف راجع ہے، كوئى شخص بھئی جی۔ جي؟ تو يہاں لہذا بہتر يہ تھا "بزيدٍ" يا اس كى ضمير كى جگہ كوئى اسم لے كر آتے بھئی يہ۔ كوئى علم نام وغيرہ لے آتے تو زيادہ بہتر تھا بھئی۔ سمجھ ميں آيا؟ تو بہرحال يہ مثال ہے اور ماقبل مابعد سے اس کا تعلق نہیں ہے، تو غائب کسی کی طرف یہ راجع ہے۔ جی، جار مجرور— جار مجرور مل كر يہ متعلق ہوا ثابتٌ صيغہ اسم فاعل— اچھا، ثابتٌ صيغہ اسم فاعل— اب ديكھو ياد ركھو، إيك بات ياد ركھو، بڑى اہم اور قيمتى بات ہے مولانا، وہ يہ كہ نحو كى لفظ ہميشہ مفرد كى طرف مضاف ہوتا ہے بھئی، جملے كى طرف مضاف نہیں ہوتا، ہميشہ ياد ركھنا يہ بات بھئی۔ نحو اور مثلُ وغيرہ كيا ہیں، کس کی طرف مضاف ہوں گے ہمیشہ؟ مفرد کی طرف مضاف ہوں گے، جملے کی طرف مضاف نہیں ہوں گے۔ تو اگر يہ جملے كى طرف مضاف آپ كو نظر آئے عبارت ميں، تو وہ وہاں لفظ، مراد اللفظ كى تاويل ميں ليں گے، لفظ مراد ہے۔ تركيب نہیں كریں گے بھئی، سمجھ ميں آيا؟ تو نحو ہے اور آگے "به داءٌ" جملہ ہے اور نحو تو مضاف ہوتا ہے كس كى طرف؟ مفرد كى طرف، تو يہ كہيں گے نحو مرفوع لفظاً مضاف، به داءٌ مراد اللفظ مولانا، مراد اللفظ مجرور محلاً بھئی، مجرور— مجرور محلاً۔ يا مجرور تقديراً مولانا، مجرور كيا ہے؟ مجرور تقديراً بھی كہہ سكتے ہیں، مجرور محلاً بھی كہہ سكتے ہیں بھئی۔ اعرابِ حكائى اس پر جارى ہوگا بھئی۔ سمجھ ميں آيا؟ اور اعرابِ حكائى عند البعض مبنيات ميں سے ہے تو محلاً وہ اس كو كہتے ہیں، عند البعض معربات ميں سے ہے تو لہذا يہ كس ميں سے ہے؟ حكايت بعض كے نزديك مبنى كى قبيل سے ہے، بعض كے نزديك معرب كى قبيل سے ہے، تو جن كے نزديك مبنى كى قبيل سے ہے محلاً اعراب بتلاتے ہیں، جن كے نزديك معرب كى قبيل سے ہے وہ كيا اعراب بتلائيں گے پھر؟ تقديراً بتلائيں گے جی تقديراً۔ تو يہاں نحو اور اس كے بعد به داءٌ آيا اور به داءٌ جملہ ہے اور نحو تو ہميشہ مضاف ہوتا ہے كس كى طرف؟ مفرد كى طرف، تو يہاں يہ مراد اللفظ بھئی، يعنى يہ لفظ مراد ہیں "هذا اللفظ"۔ تو مراد اللفظ مجرور محلاً يا مجرور تقديراً مضاف اليه بھئی، سمجھ ميں آيا؟ مجرور تقديراً۔ پھر مضاف اپنے مضاف اليه سے مل كر خبر ہوئی کس مبتدا محذوف، کس کے لیے؟ مثالُها بھئی، مثالُها كریں مثالُها، مثالُها، مثالُ مرفوع لفظاً مضاف، ها ضمير مجرور محلاً مضاف اليه، جو كس كو راجع ہے؟ مثالُها كى ها ضمير كس كو راجع كریں گے مولانا؟ جي؟ محشى نے كس كى طرف راجع كى ہے بھئی؟ جي؟ كدھر ہے بھئی؟ آپ كى كتاب ميں ہے؟ ترکیب نہیں کی، يہ تركيب ہی نہیں كى ہوئی انہوں نے؟ يہ تركيب نہیں كى؟ اچھا آگے "نحو مررت بزيدٍ" اس ميں كيا نكالا؟ اچھا اس ميں ضمير كى مرجع نہیں بتلايا۔ اچھا، تو يہ مولانا اس كے ليے مبتدا كيا نكالين گے؟ مثالُها۔ اور ها ضمير كس كو لوٹائيں گے بھئی؟ جي؟ بھئی يہ "با" كى مثال ہے، "با"، اور كونسى "با" جو كس كے ليے آئے؟ الصاقِ حقيقى كے ليے، تو ضمير كس كو راجع كرين گے؟ با كو مولانا با كو، جو كہ وہ با كس كے ليے ہو الصاقِ حقيقى كے ليے ہو۔ جی، تو مثالُها مضاف اپنے مضاف اليه سے مل كر مبتدا اور آگے خبر، مبتدا خبر مل كر جملہ اسمية خبرية ہوا بھئی۔ سمجھ ميں آيا؟ يہ إيك تركيب، إيك تركيب۔ دوسرى تركيب مولانا نحو، مثلُ وغيرہ ميں— إيك تو مثالُها نكالا يا مثالُه موقع كے مطابق نكالين گے، دوسرى تركيب "هي" نكال لیں مولانا، "هي" نكال ليں، اور وہ هي ضمير كس كو راجع بھئی؟ وہی با جو كس كے ليے ہو مولانا؟ الصاقِ— تو با كو راجع ہے بھئی كہ وہ مقيد ہے کس کے لیے کے ساتھ کس چیز کے ساتھ؟ الصاقِ حقيقى كے ساتھ ہونے كے بھئی۔ تو يہ با كى مثال، دو تركيبيں ہو گئيں بھئی؟ تيسرى تركيب مولانا— كہ يہ مولانا اعني اعني، اعني كے ليے اس كو مفعول بنا ديں، اعني فعل اور انا ضمير مرفوع محلاً اس كے اندر فاعل اور يہ نحواً پڑھيں گے، پھر كيا پڑھيں گے؟ نحواً، يہ مضاف مضاف اليه اس كے ليے كيا بن جائيں گے؟ مفعول بن جائيں گے، كيا بن جائيں گے؟ مفعول بن جائيں گے۔ يا چوتھى تركيب— مفعولِ مطلق بنا ليں اس كو بھئی امثلُ كے ليے، تو نحو كس معنى ميں ہے؟ مثلُ كے معنى ميں ہے، تو امثلُ نحو به داءٌ، سمجھ ميں آيا بھئی؟ تو يہ مفعولِ مطلق بن جائے گا، كيا بن جائے گا؟ بھئی مثل مصدر ہے، اور اسی طرح نحو بھی كيا ہے؟ مصدر ہے۔ تو كتنى تركيبيں ہوئيں مولانا؟ جي؟ اوّل كيا؟ مثالُه مبتدا نكالين، دوسرى كيا؟ هي، تيسرى كيا؟ اعني، اس صورت ميں پھر كيا پڑھيں گے؟ نحواً، اور يا پھر اس كو كيا بنايا مفعولِ مطلق كس كے ليے؟ امثلُ كے ليے، پھر بھی كيا پڑھيں گے اس پر؟ نحواً پڑھيں گے كيونكہ، سمجھ ميں آيا بھئی؟ تو نحوُ پڑھنا بھی صحيح، نحواً پڑھنا بھی صحيح بھئی۔ تو به داءٌ جملہ ہے، تو مراد اللفظ يہ كيا بن جائے گا؟ مضاف اليه مجرور محلاً۔ ہاں اگر معنى كى ارادہ كيا جائے پھر به داءٌ كى ہم الگ تركيب كر ليتے ہیں، ليکن اس صورت ميں پھر مضاف نہیں بنائيں گے بھئی، سمجھ ميں آيا؟ تو اگر معنى كى ارادہ كيا جائے پھر يہ تركيب ہوگى "به داءٌ"، اب صرف اس كى تركيب كرو بھئی، با جاره، ها ضمير مجرور محلاً جو اس غائب كو راجع ہے، اور جار مجرور مل كر كس سے متعلق ہوئے؟ ثابتٌ صيغہ اسم فاعل كے ساتھ، اور ثابتٌ صيغہ اسم فاعل، هو ضمير مرفوع محلاً اس كے اندر— جو كس كو راجع ہے؟ جي؟ ثابتٌ ہے به اس كے ساتھ، كيا ثابت ہے؟ داءٌ، كيا ثابت ہے؟ تو يہ مولانا خبر اس كى ضمير داءٌ كو راجع، جو مبتدائے مؤخر ہے۔ مبتدائے مؤخر۔ تو اس پر اشكال ہوگا بھئی كہ ضمير پہلے آگئى اور مرجع بعد ميں ذكر ہو رہا ہے بھئی، يہ تو اضمار قبل الذكر آيا بھئی، كيا جواب ديں گے آپ اس كى؟ جی؟ ہاں يہ داءٌ مبتدا ہے، لفظوں كے اعتبار سے تو مؤخر ہے ليکن رتبے كے اعتبار سے يہ كيا ہے؟ مقدم ہے، تو دراصل كلام یوں ہے "داءٌ به"، دراصل كيفے ہے؟ تو اصل كے اعتبار مبتدا ميں اصل كيا ہے؟ تقديم بھئی، تو لہذا اب اضمار قبل الذكر لفظاً تو آ رہا ہے ليکن رتبةً نہیں، اور لفظاً اور رتبةً دونوں ہو لحاظ سے اضمار قبل الذكر ہو پھر جائز نہیں ہوتا، اگر صرف لفظاً ہو تو پھر جائز ہے۔ بات سمجھ ميں آ رہی ہے بھئی سب كو؟ تو صيغہ اسم فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل كر شبہ جملہ ہو كر خبرِ مقدم، داءٌ مرفوع لفظاً مبتدائے مؤخر، مبتدا اپنے خبر سے مل كر جملہ اسمية خبرية ہوا بھئی۔ تركيب سمجھ ميں آئى؟ آگے چليے جی۔ نحو مرفوع لفظاً مضاف، مررت بزيدٍ مراد اللفظ، جی، مجرور تقديراً، كيونكہ مضاف اليه ہے، جی، آگے تفسير بھی آ رہی ہے مولانا، بھئی يہ ياد ركھو، إيك اور بات بھی ياد ركھنا، يہ جو ای كى لفظ ہے يہ تفسير كے ليے آتا ہے، مفرد كى تفسير مفرد كے ساتھ كى جاتى ہے اور جملے كى تفسير كس كے ساتھ كى جاتى ہے؟ جملے كى، سمجھ ميں آيا؟ مفرد كى تفسير بھی كس كے ساتھ ہوگى ہميشہ؟ مفرد كے ساتھ، اور جملے كى تفسير؟ جملے كے ذريعے كى جائے گى، سمجھ ميں آيا؟ يہ نہیں ہو سكتا مفرد كى تفسير جملے كے ذريعے ہو يا جملے كى تفسير كس كے ذريعے ہو؟ اگر مفسَّر جملہ ہے تو مفسِّر بھی كيا ہوگا؟ اگر مفسَّر مفرد ہے تو مفسِّر بھی كيا ہوگا؟ اور ياد ركھو يہ ہم كرتے ہیں كہ يہ مفسَّر ہوا يہ مفسِّر ہوا بھئی، ياد ركھو تركيب ميں یوں نہیں كہنا يہ مفسَّر ہے يہ مفسِّر ہے، ويسے بتلا ديں، ليکن تركيب كے اعتبار سے جو مفسَّر ہوتا ہے وہ مبدل منہ بنا كرتا ہے بھئی، يا معطوف عليہ بنتا ہے، كيا بنتا ہے؟ مفسَّر كيا بنے گا؟ مبدل منہ يا معطوف عليہ، جب مفرد ہو، جب مفرد، جملہ نہیں جملے كى بات نہیں كر رہا، جب مفرد ہو تو كيا بنائيں گے اس كو؟ معطوف عليہ يا مبدل منہ، اور ای كى مابعد جو ہے وہ اس كے ليے بدل بنے گا يا عطفِ بيان بنے گا، كيا بنے گا؟ بدل بنے گا يا عطفِ بيان بنے گا۔ تو اگر ماقبل كو آپ نے معطوف عليہ بنايا تو مابعد اس كے ليے عطفِ بيان، اور اگر ماقبل كو آپ نے مبدل منہ بنايا تو مابعد اس كے ليے بدل بنے گا بھئی۔ يہ بات ياد رہے گى بھئی؟ تين چار نئى باتيں آج آگئيں، آپ نے سب كو ياد ركھنا ہے بھئی يہ كتاب ميں چلتى رہيں گى۔ نحو كے اندر ميں نے كتنى تراكيبيں بتلائيں؟ چار، اسی طرح مثلُ آ جائے اس ميں بھی كتنى تركيب ہوں گى؟ يہ چار تركيب جارى ہوں گى بھئی۔ اور دوسرى بات كيا ميں نے آپ كو بتلائى؟ كہ نحو کا لفظ ہميشہ كس كى طرف مضاف ہوتا ہے؟ مفرد كى طرف، جملے كى طرف مضاف— ليکن اگر جملہ آ جائے پھر اس كو كس تاويل ميں ليں گے؟ مراد اللفظ، كيا ليں گے؟ اور اس كا اعراب يا تقديراً بتلائيں گے يا محلاً بتلائيں گے بھئی، تركيب نہیں كریں گے، وہاں تركيب نہیں كریں گے۔ ليکن اگر معنى كا ارادہ كيا جائے پھر اس جملے كى الگ تركيب كر لو، پھر اس صورت ميں اس كو مضاف اليه نہ بناؤ بھئی، سمجھ ميں آيا بھئی؟ اور پھر إيك يہ بات ذكر كى كہ ای کا حرفِ— ای حرفِ تفسير ہے، يہ تفسير كرتا ہے، تو كبھی يہ مفرد كى تفسير كے ليے آئے گا، كبھی جملے كى تفسير كے ليے، تو مفرد كى تفسير ہميشہ كس كے ساتھ ہوگى؟ مفرد كے ساتھ، جملے كى تفسير ہميشہ كس كے ساتھ ہوگى؟ جملے كے ساتھ بھئی، يہ نہیں ہو سكتا كہ مفرد كى تفسير جملے سے ہو يا جملے كى تفسير مفرد كے ساتھ ہو۔ اور جب يہ مفرد كى تفسير كے ليے آئے تو اس صورت ميں ماقبل كو كيا بنائيں گے؟ معطوف عليہ اور مابعد كو كيا بنائيں گے؟ عطفِ بيان، كيا بنائيں گے؟ عطفِ بيان، اور يا پھر ماقبل كو كيا بنائيں گے؟ مبدل منہ اور مابعد كو كيا بنائيں گے؟ بدل بنائيں گے بھئی۔ جی، اب تركيب كيجيے۔ نحو مرفوع لفظاً مضاف، مررت بزيدٍ مراد اللفظ مجرور تقديراً، ای الصاقاً— ای مراد اللفظ مجرور تقديراً— مبدل منہ، شاباش، كيا بنے گا؟ يا— يا معطوف عليہ، جی، ای حرفِ تفسير، پورا، نہ نہ نہ تركيب نہیں كرنى بھئی آپ نے، تركيب نہیں كرنى، سمجھ ميں آيا؟ كيونكہ نحو كى طرف مضاف كرنا ہے ہم نے لے جا كر اور وہ جی، التصق مروري بمكانٍ يقرب منه زيدٌ مراد اللفظ بھئی، يہ كيا بن جائے گا؟ جی؟ بدل، بدل مجرور تقديراً، كيونكہ مبدل منہ مجرور تھا تو بدل بھی كيا ہوگا؟ مجرور، يا مولانا مبدل منہ كو كيا بنايا تھا؟ ماقبل كو معطوف عليہ، تو مابعد كو كيا بناؤ؟ عطفِ بيان، يہ بھی كيا ہو جائے گا مجرور تقديراً، جی، مبدل منہ اپنے بدل سے مل كر يا معطوف عليہ اپنے عطفِ بيان سے مل كر يہ مضاف اليه ہوا كس كے ليے؟ نحو كے ليے، نحو مضاف اپنے مضاف اليه سے مل كر— خبر ہوئی کس مبتدا محذوف— خبر ہوئی كس كے ليے؟ مبتدا محذوف، وہ كيا نكالا آپ نے؟ جی؟ هي بھئی، هي ضمير، اور هي ضمير مرفوع محلاً مبتدا، كس كو راجع ہے؟ با كو مولانا، با كو، كونسى با؟ جو الصاقِ— الصاقِ مجازى كے ليے آئے بھئی، يہ با كى مثال ہے، سمجھ ميں آيا بھئی؟ جی با كى مثال ہے، وہ با جو الصاقِ مجازى كے ليے آئے، اس كى مثال ہے۔ يا مولانا هي كے بجائے كيا نكال لیں؟ مثالُها بھئی، ترتيب سے ياد ركھو پھر فائدہ رہے گا، مثالُها نكال لیں بھئی، مثالُ مضاف مرفوع لفظاً مضاف، ها ضمير مجرور محلاً مضاف اليه، كس كو راجع؟ يہ بھی با كو راجع بھئی، اور مضاف مضاف اليه مل كر مبتدا، اور نحو مرفوع لفظاً اس كى آگے مضاف مضاف اليه اس كى خبر ہیں بھئی، تيسرى تركيب— اعني كے ليے نكالين تو پھر كيا پڑھيں گے نحو پر اعراب؟ نحواً، يہ اس كے ليے كيا بن جائے گا؟ شاباش، مضاف مضاف اليه مل كر اعني كے ليے مفعول، يا مولانا— مفعولِ مطلق كس كے ليے؟ امثلُ كے ليے، سمجھ ميں مفعولِ مطلق كس كو كہتے ہیں؟ وہ مصدر جو ماقبل فعل كے معنى ميں ہو، ماقبل فعل كے معنى، جيسے جلستُ جلوساً، سمجھ ميں آيا؟ تو اس كے ليے آپ نے پڑھا ہے مولانا، اسی لفظ سے ہونا ضرورى نہیں، ہاں معنى وہی ہونا چاہيے۔ جيسے جلستُ— نحو نباتاً نباتاً، ديكھو ايک مجرد لاز- ايک مزيد فيہ کے باب سے آ رہا ہے اور نباتاً کس سے آ رہا ہے؟ مجرد سے۔ يا جلست قعوداً بھئی، جلست اور قعود کا ايک معنی ہے مولانا، تو يہ کيا ہے؟ مفعول مطلق۔ اگرچہ لفظ الگ ہیں ليکن معنی دونوں کا؟ تو جلست جلوساً، جلوساً بھی مفعول مطلق اور جلست قعوداً، يہ قعوداً بھی کيا ہے؟ مفعول مطلق۔ سمجھ میں آيا بھئی؟ تو يہ امثل کے لئے نحو، پھر اس صورت میں بھی نحو پڑھیں گے، جی۔ يہ تو، اب اگر معنی کا ارادہ کيا جائے، اب تركيب کرو بھئی۔ اب مضاف اليہ نہیں بنانا آپ نے۔ نہیں، اب نہیں کرنا نحو کو، چھوڑ دو نحو، اب اگلے جملوں کی کر لو۔ اگر معنی کا ارادہ کيا جائے تو تركيب یوں ہوگی: مر فعل، ضمير مرفوع محلاً فاعل، با جارة، زيد مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے مر فعل کے ساتھ۔ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعليہ خبريہ ہو کر، مبدل نہیں، مفسر، ہاں، يہ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعليہ خبريہ ہوا، جی۔ آگے اي حرف تفسير، التصق فعل، مروری يہ 16 قسموں میں سے کون سی قسم بن جائے گا؟ کس کی طرح؟ غلامی کی طرح بھئی، میں نے بتلايا تھا يہ قسم اچھی طرح ياد کر لو۔ کوئی اسم مضاف ہو کس کی طرف؟ يا ضمير کی طرف، اس کا اعراب دنوں حالتوں میں کيا ہوتا ہے؟ تقديری ہوتا ہے علاوہ جمع مذکر سالم کے بھئی۔ تو يہ مجرور، يہ کيا ہوا؟ مرفوع تقديراً، مرفوع کیوں کہہ رہے ہیں آپ اس کو؟ فاعل بنے گا، شاباش، يہ فاعل بنے گا۔ التصق کا معنی ملنا ملنا، مل گيا مروری ميرا گزرنا، جی، تو مرور مصدر مرفوع تقديراً مضاف، يا ضمير مجرور محلاً مضاف اليہ، مضاف مضاف اليہ مل کر يہ فاعل ہوا التصق فعل کے لئے۔ شاباش، مضاف مضاف اليہ مل کر يہ فاعل ہوا کس کے لئے؟ التصق فعل کے لئے۔ اچھا جی، با حرف جار، مکان مجرور لفظاً موصوف، با جارة، مکان مجرور لفظاً موصوف، بھئی آپ نے موصوف کیوں بنايا مکان کو؟ نکرہ کے بعد شاباش جملہ آ رہا ہے، یوں کہ نکرہ کے بعد فعل آ رہا ہے اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو يہ عموماً آپس میں کيا بنتے ہیں؟ موصوف صفت، جی موصوف صفت بھئی۔ مکان مجرور لفظاً موصوف، يقرب فعل، من جارة، ها ضمير مجرور محلاً، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے يقرب فعل کے ساتھ۔ بھئی غائب کی ضمير آئی۔ شاباش، يہ غائب کی ضمير کس کو راجع ہے بھئی؟ موصوف يعنی مکان کو راجع ہے، جی جار مجرور مل کر متعلق ہوئے يقرب فعل کے ساتھ۔ زيد مرفوع لفظاً فاعل، کس کے لئے؟ يقرب فعل کے لئے بھئی، شاباش۔ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعليہ خبريہ ہو کر مجرور محلاً صفت ہوئی، شاباش، فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعليہ خبريہ ہو کر مجرور محلاً صفت ہوئی کس کے لئے؟ موصوف کے لئے، بھئی موصوف مجرور تھا تو يہ پورا جملہ بھی کيا ہے؟ مجرور، اور جملہ ہے مبنی تو اس کا اعراب کس طرح بتلايا؟ محلاً، تو مجرور محلاً يہ صفت ہے کس کے لئے؟ مکان کے لئے، جی۔ موصوف اپنی صفت سے مل کر يہ مجرور ہوا با جارة کا۔ جار مجرور مل کر يہ متعلق ہوئے التصق فعل کے ساتھ، بھئی جڑ رہے ہیں؟ مل گيا مکان کے ساتھ، مل گيا، جڑ رہا ہے يا نہیں جڑ رہا؟ جڑ رہا ہے بھئی۔ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعليہ خبريہ ہوا بھئی۔ تو يہ جملہ مفسرہ ہے، کيا ہے؟ ماقبل میں ہے مفسر اور يہ کيا ہے؟ مفسر، تو یہاں اي کس کی تفسير کے لئے آيا؟ جملے کی تفسير کے لئے، اور جملے کی تفسير کس کے ساتھ کی گئی؟ جملے کے ساتھ کی گئی بھئی۔ جی، ترجمہ کيجیے۔ ميں گزرا زيد پر، يعنی مل گيا ميرا گزرنا ايسے مکان کے ساتھ کہ قريب ہے اس کے زيد، شاباش۔ مل گيا ميرا گزرنا، يہ ميرا گزرنا ملنے کے لئے کيا ہے؟ فاعل۔ مل گيا ميرا گزرنا بمکان ايسے مکان کے ساتھ، يقرب منه زيد کہ قريب ہے اس کے زيد۔ ميرا گزرنا ايسے مکان کے ساتھ مل گيا جس کے قريب کون ہے؟ زيد، يعنی ميں ايسے مکان، ايسی جگہ سے گزرا جو زيد کے قريب ہے يا زيد اس کے قريب ہے، زيد اس کے قريب ہے۔ سمجھ میں آيا؟ تو آپ زيد کے پاس سے گزرے مولانا۔ تو یہاں الصاق ہوتا ہے ايک ہوتا ہے ملنا حقيقۃً ايک دوسرے کے ساتھ مل جائے۔ بہ داء اس کے ساتھ، یہاں با کس لئے ہے الصاق حقیقی کے لئے کہ مرض کيا ہے اس شخص کے ساتھ حقيقۃً مل گيا ہے اس کے بدن کے ساتھ۔ اور یہاں پر جو آپ کا گزرنا زيد کے ساتھ نہیں ملا، آپ ايسے مکان، ايسی جگہ سے گزرے ہیں کہ زيد اس کے قريب ہے، تو يہ الصاق مجازی ہے، حقيقۃً نہیں ہوا الصاق بھئی۔ آگے بھئی، کون کرے گا تركيب؟ جی کرو۔ جی وللاستعانة اس کی تركيب کل ہو چکی ہے، اس کا عطف کس پر تھا؟ للا لصاق پر عطف تھا، اس کی تركيب گزر چکی ہے، اب مثال کی کرو بھئی۔ نحو مرفوع لفظاً مضاف، نحو پر کتنے اعراب پڑھ سکتے ہیں آپ؟ دو کون کون سے؟ نحو بھی اور نحو بھی، جی نحو مرفوع لفظاً مضاف۔ مراد اللفظ مجرور تقديراً مضاف اليہ، جی۔ مضاف اپنے مضاف اليہ سے مل کر خبر ہوئی، مضاف اپنے مضاف اليہ سے مل کر خبر ہوئی کس کے لئے؟ مثالها کے لئے، ها ضمير کس کو راجع؟ جی؟ بھئی يہ کس کی بحث چل رہی ہے؟ استعانت کی بحث چل رہی ہے؟ ہاں، يہ با کی مثال ہے، ليکن يہ با کس کے لئے ہے؟ استعانت کے لئے، تو يہ اس با کی مثال ہے جو استعانت کے لئے ہو۔ مثال مضاف، ها ضمير محلاً مجرور مضاف اليہ، جی۔ مضاف اپنے مضاف اليہ سے مل کر مبتدا، جی۔ مبتدا اپنے خبر سے مل کر جملہ اسميہ خبريہ ہوا، شاباش۔ مبتدا اپنے خبر سے مل کر کيا ہوا؟ جملہ اسميہ خبريہ ہوا، دوسری تركيب: ضمير نکالوا، ضمير نکالو اس کے لئے مبتدا هى۔ جو کس کو راجع ہے؟ با کو، تو هى مرفوع محلاً مبتدا اور نحو كتبت بالقلم اس کے لئے خبر۔ جی، تيسری تركيب: مفعول بہ ہوا اعنی کے لئے، تو اس صورت میں نحو پر کيا اعراب پڑھیں گے؟ نحو منصوب لفظاً، ہاں تو يہ کيا بنے گا؟ ہاں مفعول بہ ہوا، تو اعنی فعل، انا ضمير مرفوع محلاً اس کے اندر فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعليہ خبريہ ہوا، جی۔ چوتھی تركيب: امثل، امثل فعل کے لئے، ہاں کرو پوری تركيب بھئی۔ امثل فعل، تو نحو نحو پڑھیں گے بھئی، تو منصوب لفظاً پڑھیں گے، اور كتبت بالقلم مراد اللفظ اس کے لئے کيا پڑھیں گے؟ مراد اللفظ مجرور تقديراً، مضاف اپنے مضاف اليہ سے مل کر مفعول مطلق ہوا کس کے لئے؟ امثل فعل کے لئے، امثل فعل، انا ضمير مرفوع محلاً اس کے اندر فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول مطلق سے مل کر کيا ہوا؟ جملہ فعليہ خبريہ ہوا، تركيب سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ کوئی مشکل تو نہیں؟ جی؟ سب کی آواز نہیں آ رہی، کيا بات ہے؟ پريشان تو نہیں بيٹھے آپ؟ تيز تو نہیں چل رہے ہم؟ ہاں، ياد کرتے جاؤ، يہ کچھ تركيبیں جو مشکل آئیں ان کو ياد کر لو بس۔ آپ کو اتنا پتہ ہونا چاہئے۔ نحو بھی پڑھ سکتے ہیں اور نحو بھی، اور نحو کیوں پڑھتے ہیں، نحو کیوں پڑھتے ہیں بھئی۔ جی، آگے کون کرے گا تركيب؟ جی، آپ کریں بھئی۔ واو حرف عطف، قد حرف تحقيق و تقليل، یہاں تقليل کے لئے۔ تكون فعل از افعال ناقصہ، تكون فعل از افعال ناقصہ، هي ضمير مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا اسم، تكون افعال ناقصہ میں سے ہیں جو کس پر داخل ہوتے ہیں؟ مبتدا اور خبر پر، مبتدا کو ان کا کيا کہتے ہیں؟ اسم، اور خبر کو ان کی خبر کہتے ہیں، اور يہ اپنے اسم کو کيا کرتے ہیں؟ رفع دیتے ہیں، اور خبر کو نصب دیتے ہیں، يہ بات ياد رکھنا بھئی۔ تو تكون فعل از افعال ناقصہ، هي ضمير مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا اسم، جو کس کو راجع ہے؟ کس کو؟ با کو، کس کو راجع ہے؟ با کو راجع بھئی، جی الباء۔ لام جارة، التعليل مجرور لفظاً، لام جارة اپنے مجرور سے مل کر متعلق ہوا ثابتةً سے۔ شاباش، جار مجرور مل کر متعلق ہوا کس سے؟ ثابتةً سے، بھئی آپ نے ثابتةً منصوب کیوں نکالا؟ شاباش يہ کان کی خبر بنے گی، اور کان کی خبر کيا ہوتی ہے؟ منصوب۔ اچھا، آپ نے ثابتةً مؤنث کیوں نکالا؟ جی؟ کیونکہ يہ کان کی خبر ہے، اور کان کی خبر نے کس سے جڑنا ہے؟ کان کے اسم سے، اور کان کا اسم ہے مؤنث هي کی ضمير، تو اس کے اندر بھی ہمیں کون سی ضمير چاہئے؟ مبتدا خبر میں تاکہ کيا آ جائے؟ مطابقت، کان کے اسم اور خبر میں مطابقت آ جائے، جی۔ تو اب ابھی ثابتةً نہ نکالیں مولانا، کیونکہ اس پر آگے کئی لفظوں کا اور بھی عطف ہو رہا ہے۔ للتعليل ہے، آگے کيا آ رہا ہے؟ للمصاحبة يہ بھی اس پر عطف ہے، للتعدية يہ بھی اس پر عطف ہے، للمقابلة يہ بھی اس پر عطف ہے، للقسم يہ بھی اس پر عطف، للاستعطاف يہ بھی اس پر عطف اور للظرفية بھی اسی پر عطف، للزيادة بھی اسی پر عطف۔ سمجھ میں آيا؟ ان کو بھی سب کو ملاؤ ذرا ان کے ساتھ بھئی۔ التعليل معطوف عليه، للتعليل للتعليل بھئی، جار مجرور مل کر معطوف عليه، جی۔ واو حرف عطف، للمصاحبة جا- کيا ہے؟ لام جارة، المصاحبة مجرور لفظاً، جار اپنے مجرور سے مل کر معطوف اول، جی۔ معطوف کیا بناؤ؟ معطوف، سمجھ میں آيا بھئی؟ ياد رکھو، ميں وقت بتلا ديتا ہوں، معطوف ايک پہلا ہے معطوف عليه، يہ تو ہے اصل مولانا، اس کے بعد کافی سارے معطوفات آ رہے ہیں، تو جو بھی معطوف آپ پکڑیں اس کا عطف دو پر ہو سکتا ہے صرف، يا تو اس کا عطف اصل پر ہوگا پہلے پر کیونکہ وہ کيا ہے؟ اصل، يا اس کے جو ساتھ والا ہے اس پر عطف ہو سکتا ہے، درمان والوں پر عطف نہیں، فرق کوئی نہیں پڑ رہا ليکن بتلا رہا ہوں ويسے کہ اس کا عطف يا تو پہلے پر ہو سکتا ہے يا جو اس کے ساتھ ہے اس پر مولانا، کیونکہ وہ اس کے ساتھ ہے اور پہلے پر اس لئے کہ وہ اصل ہے۔ تو معلوم ہوا اس کا عطف کس پر ہوگا دوسرے کا؟ يہ تو پہلے پر ہی ہوا، دوسرا معطوف ہے اس کا عطف کس پر ہوگا؟ جی؟ بھئی يہ ہے اصل، يہ ہے معطوف اول، يہ ہے معطوف ثانی، اس کا کس پر عطف ہوگا؟ پہلے پہ ہو سکتا ہے کیونکہ وہ کيا ہے؟ اصل، اور دوسرے کے ساتھ بھی کیونکہ وہ اس کے ساتھ۔ اچھا يہ تيسرا معطوف ہے اس کا عطف کس پر ہو سکتا ہے؟ اس دوسرے پر بھی ہو سکتا ہے اور پہلے بر بھی ہو سکتا ہے، يہ چوتھا معطوف ہے اس کا عطف کس پر ہو سکتا ہے؟ پہلے پر بھی اور تيسرے پر بھی، جی۔ لام جارة المصاحبة مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر مولانا کيا ہوئے؟ معطوف، معطوف اول، ساروں کا اسی پہ عطف کرتے جاؤ آپ، يہ معطوف اول، واو حرف عطف، جی، لام جارة، التعدية مجرور لفظاً، جار اپنے مجرور سے مل کر معطوف ثانی، واو حرف عطف، لام جارة، المقابلة مجرور لفظاً، جار اپنے مجرور سے مل کر معطوف ثالث، واو حرف عطف، لام حرف جارة، القسم مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر يہ معطوف رابع، للاستعطاف لام جارة، استعطاف مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر معطوف خامس، واو حرف عطف، لام جارة، الظرفية مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر معطوف سادس، للزيادة لام جارة، الزيادة مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر معطوف سابع بھئی، جی۔ اب مولانا، للتعليل معطوف عليه اپنے تمام معطوفات سے مل کر ظرف مستقر ہو کر يہ متعلق ہوا کس سے؟ ثابتةً سے، ثابتةً منصوب لفظاً صيغہ اسم فاعل، هي ضمير مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، جو کس کو راجع؟ تكون کے اسم کو، اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر کان کی خبر، تكون کی خبر، تكون اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ، جی؟ تكون کيا ہے؟ فعل ہے اسم ہے؟ فعل ہے، تو جملہ فعليہ خبريہ ہوا، سمجھ میں آيا؟ سب کو سمجھ میں آئی بات بھئی؟ اب درمان میں مثالیں ہیں بھئی، جی۔ جی، کون کرے گا آگے تركيب؟ چليے بھئی، تركيب کریں بھئی۔ نحو قوله تعالى انكم ظلمتم انفسكم باتخاذكم العجل، جی۔ نحو مضاف، اعراب سب سے پہلے۔ نحو مرفوع لفظاً مضاف، قوله تعالى مراد اللفظ، نہیں نہیں نہیں! یہاں کیوں مراد اللفظ کرتے ہو؟ قول جملہ ہے یا مفرد ہے؟ قول مصدر ہے بھئی، مصدر کے ساتھ یہ ساروں کا تعلق مصدر سے ہے بھئی، ساروں کا، اور مصدر ہے مفرد، اور مفرد کے ساتھ ہزار چیزیں بھی جڑ جائیں، پھر بھی وہ کیا رہتا ہے؟ مفرد ہی رہتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ جملہ ہوگا، جملہ جہاں بنے گا، وہاں پر ہم کیا کریں گے؟ مراد اللفظ۔ جب جملہ نہیں ہے تو پھر کیا کریں گے؟ پھر مراد اللفظ کی طرف جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ قول کیا ہے؟ مفرد ہے، اور مفرد کے ساتھ ہزار چیزیں بھی جڑ جائیں، پھر بھی وہ کیا رہتا ہے؟ ابھی اپ ترکیب کریں گے، دیکھیں گے، سارے جڑ جائیں گے اس قول کے ساتھ۔ دیکھیے، کریے، کیجیے جی! قولِ مجرور لفظاً مصدر مضاف، هَا ضمیر مجرور محلاً ذوالحال، تعالی فعل، هُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل جو کس کو راجع ذوالحال کو، فعل اپنے فاعل کے ساتھ مل کر جملہ فعلیہ ہو کر بتقدیرِ قد مولانا، کیونکہ ماضی جب کیا بنے؟ حال، تو وہاں کیا نکالتے ہیں؟ قد، یا لفظوں میں ہونا چاہیے یا تقدیراً، تو بتقدیرِ قد کے ساتھ یہ کیا ہوا؟ حال۔ حال اپنے ذوالحال سے مل کر مضاف الیہ۔ آگے إِنَّكُم، إِنَّ حرف، حروفِ مشبہ بالفعل، كُم ضمیر منصوب محلاً إِنَّ کا اسم، ظَلَمْتُم، پہلا صیغہ بنا لو، ظَلَمَ فعل، ویسے بیان کرنے کے لیے، سمجھ میں آیا؟ بیان کرنے کے لیے پہلا صیغہ بنا لیتے ہیں، جی! تُم ضمیر مرفوع محلاً فاعل، أَنفُسَ منصوب لفظاً مضاف، كُم ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، دیکھا اسم کے ساتھ ضمیر آئی، فوراً کیا ترکیب کرنی ہے؟ مضاف اور مضاف الیہ کی، جی! كُم ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مفعول ہوا ظَلَمْتُم فعل کے لیے۔ بِإِتِّخَاذِكُمُ، با جارہ، إِتِّخَاذِ مصدر مجرور لفظاً مضاف، كُم ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، الْعِجْلَ مفعولِ اول ہوا، منصوب لفظاً مفعولِ اول ہوا کس کے لیے؟ إِتِّخَاذِ کے لیے، اور مفعولِ ثانی محذوف ہے، إِلٰهًا، بسببت پکڑنے تمہارے بچھڑے کو الٰہ، یعنی بچھڑے کو بچھڑے کو الٰہ بنانے کے سبب سے، الٰہ بنانے کے سبب سے، تو إِلٰهًا یہاں کیا ہے؟ منصوب لفظاً مفعولِ ثانی، جی! إِتِّخَاذِ مصدر اپنے مضاف الیہ اور دونوں مفعولوں سے مل کر مجرور ہوا، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ظَلَمْتُم فعل کے ساتھ، بھئی جڑ رہا ہے، ظلم کیا بسببت بچھڑے کو الٰہ بنانے کے، جی! جڑ رہا ہے۔ فعل اپنے فاعل، مفعول اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر خبر ہوئی إِنَّ کی، اعراب کیا ہوا اس پورے جملے کا؟ إِنَّ کی خبر ہے، مرفوع محلاً، یہ إِنَّ کی خبر، إِنَّ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر مقولہ ہوا قول مصدر کے لیے، جی! قول مصدر اپنے مضاف الیہ اور مقولہ سے مل کر یہ مضاف الیہ ہوا کس کے لیے؟ تو دیکھا قول کے ساتھ جڑ گیا آکر، اور قول مفرد تھا، تو اب بھی کیا رہے گا؟ مفرد، جی، تو قول مصدر اپنے مضاف الیہ اور مقولہ سے مل کر کیا ہوا؟ مضاف الیہ ہوا کس کے لیے؟ نَحْوُ کے لیے۔ نَحْوُ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر خبر ہوئی مبتدائے محذوف مِثَالُهَا کے لیے، اور مِثَالُ مرفوع لفظاً مضاف، هَا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، هَا ضمیر کس کو راجع؟ با کو، الْبَاءَ کو، کس کے ہو؟ الْبَاءَ کو، جب کہ وہ کس کے لیے ہو؟ تعلیل کے لیے، یہ اس کی مثال ہے، جی! دوسری ترکیب، هِيَ نکال لیں، وہ بھی اسی الْبَاءَ کو، جی! تیسری ترکیب، یا أَعْنِي فعل کے لیے اس کو مفعول بنا لیں، پھر کیا پڑھیں گے اس کو؟ نَحْوَ، ہاں أَعْنِي نَحْوَ، پھر یہ مفعول بہ بن جائے گا، تو جملہ فعلیہ بن جائے گا، چوتھی ترکیب، أُمَثِّلُ فعل کے لیے، شاباش أُمَثِّلُ فعل کے لیے اس کو کیا بنا لو؟ مفعولِ مطلق بنا لو، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں مراد اللفظ لینے کی ضرورت نہیں، کیونکہ مضاف الیہ جملہ نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ مفرد ہے، تو دیکھو اس طرح بھی ہوتا ہے، جملے مل کر کیا بن گیا؟ جملہ بھی مل گیا تھا اور یہ پھر بھی کیا رہا؟ مفرد رہا، کیونکہ مفرد کے ساتھ جو کوئی چیز مل گئی وہ مفرد بن جائے گی بھئی۔ چلیے مولانا، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔