درس نمبر۔36 کوئی اچھا بھئی! کون کرے گا آگے ترکیب؟ کہاں سے ہے؟ جی، کون کرے گا؟ چلو بھئی! کرو بھئی۔ المعنوية المعنوية اعراب سب سے پہلے؟ مرفوع لفظاً، صیغہ اسم منسوب۔ جو، کیا ہوا؟ مرفوع لفظاً، اسم منسوب، هی ضمیر مرفوع محلاً اس کا نائب فاعل کس کو راجع ہے؟ العوامل۔ العوامل، کون سا العوامل؟ یہاں پر جی! اس کے لیے العوامل موصوف کیا نکالیں گے؟ محذوف نکالیں گے، تو العوامل مرفوع لفظاً موصوف ہے، اور المعنوية اس کی صفت۔ اسم منسوب اپنے نائب فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت۔ موصوف، صفت مل کر ذوالحال، جی۔ من جارّہ، ها ضمیر مجرور محلاً۔ مرجع بتلاؤ بھئی، ها ضمیر کا! معنوية، کس میں سے ہیں معنوية؟ یہ کس میں سے تھیں؟ مائة عامل، مائة عامل کے بارے میں بتلایا تھا کہ وہ دو قسم پر ہیں: لفظی اور معنوی۔ تو وہ جو معنوی ان مائة 100 عامل میں سے ہیں، ان میں سے وہ، جی! تو ها ضمیر راجع ہے مائة عامل کو۔ جار، مجرور مل کر متعلق ہوئے ثابتة کے۔ ثابتة آپ نے منصوب کیوں نکالا؟ شاباش! حال بنے گا اور حال کیا ہوا کرتا ہے؟ منصوب، تو ثابتة منصوب نکالا، اور ثابتة کیوں نکالا؟ ثابتًا کیوں نہیں نکالا؟ ذوالحال مؤنث ہے، تو ہمیں ضمیر بھی اس کے لیے حال میں کون سی چاہیے؟ مؤنث کی، تو اس لیے مؤنث نکالا۔ ثابتة صیغہ اسم فاعل، هی ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، پھر، پھر، پھر بھئی! غائب کی ضمیر آئی، اس کا مرجع کیوں نہیں تلاش کرتے بھئی؟ کس کو؟ جی، ذوالحال کو۔ هی ضمیر مرفوع محلاً فاعل ہے، کس کو راجع ہے؟ ذوالحال کو، بس بات ختم، بس! ذوالحال کو راجع۔ ثابتة صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر حال۔ ذوالحال، ذوالحال اپنے حال سے مل کر مبتدا۔ عددانِ مرفوع لفظاً۔ مرفوع لفظاً بھئی؟ اس پہ تو کسرہ آ رہا ہے، عددانِ! كسرہ آ رہا ہے۔ کیا ہے تثنیہ کا اعراب؟ شاباش! یہ تثنیہ ہے بھئی اور تثنیہ کا اعراب کس کے ساتھ آتا ہے حالتِ رفعی میں؟ الف، اور یہ الف آ رہا ہے، جس پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ تو لہذا یہ مرفوع ہوا لفظاً، مرفوع لفظاً خبر۔ مبتدا اپنے خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، شاباش! آگے کون کرے گا ترکیب؟ چلو بھئی! کریں بھئی۔ کل کی تھی آپ نے ترکیب؟ چلو بھئی! کرو بھئی۔ تتنوع فعل، تتنوع فعل، السمعية، صیغہ اسم منسوب، بھئی منصوب ہے، منصوب۔ نسبت سے ہے، سین کے ساتھ بھئی۔ کون سی ضمیر؟ السمعية میں کون سی ضمیر ہوگی؟ هی ضمیر مرفوع محلاً اس کا نائب فاعل۔ مرجع بتلاؤ! عوامل، کون سے عوامل؟ جی؟ جی، کون سے عوامل کو راجع؟ موصوف یہاں محذوف نکالیں گے بھئی! السمعية کیا ہیں بھئی؟ عوامل ہیں۔ تو العوامل یہاں پر محذوف موصوف ہے، السمعية شبہ جملہ ہو کر اس کی صفت۔ موصوف صفت مل کر شاباش! ذوالحال، کیونکہ معرفہ کے بعد کیا آ رہا ہے؟ جار مجرور۔ من جارّہ، ها ضمیر مجرور محلاً، کس کو راجع؟ کس کو؟ السمعية کو؟ السمعية، السمعية میں سے، یہ بات ہی نہیں بن رہی بھئی! کن میں سے؟ السمعية ان عوامل میں سے۔ جی! آپ بتائیے بھئی، کس کی طرف ضمیر راجع ہوگی؟ جی؟ بھئی، یہ سمعی کس کی قسم بنائی تھی؟ کس کی قسم تھی؟ عواملِ لفظیہ کی، کس کی؟ ہاں، تو یہ اس کی طرف، عواملِ لفظیہ کو ضمیر راجع ہوگی کہ سمعی جو ہیں، کس میں سے؟ ہاں، کس کی قسم؟ لفظیہ کی۔ عواملِ لفظیہ میں سے جو سمعی ہیں علی ثلاثة عشر نوعًا، وہ کتنی قسم پر ہیں؟ 13 قسم پر۔ جی، تو ها ضمیر لفظیہ کو راجع بھئی۔ جار، مجرور مل کر متعلق کس سے؟ ثابتة کے ساتھ، جی! ثابتة صیغہ اسم فاعل، اس کے اندر یہ ضمیر، کون سی ضمیر؟ ثابتة میں کون سی ضمیر ہوتی ہے؟ هی ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ بھئی! آپ نے ثابتة کیوں کہا، ثابتٌ کیوں نہیں کہا؟ جی؟ شاباش! ذوالحال مؤنث ہے، تو ہمیں ضمیر کون سی چاہیے؟ مؤنث کی، اور مؤنث کی ضمیر ثابتٌ میں ہے یا ثابتة میں؟ ثابتة میں، اس لیے ثابتة نکالا۔ جی، ثابتة صیغہ اسم فاعل، هی ضمیر اس کے اندر، مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو کس کو راجع؟ السمعية کو، جی! ثابتة صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر حال۔ کیا بنایا اس کو انہوں نے؟ ثابتة بھی کہہ رہے ہیں اور حال بھی بنا رہے ہیں بھئی! کیا نکالیں گے؟ حال کیا ہوا کرتا ہے؟ منصوب، تو ثابتةً نکالو بھئی! سمجھ میں آیا؟ ثابتةً شبہ جملہ ہو کر حال، ذوالحال اپنے حال کے ساتھ مل کر شاباش! فاعل ہوا تتنوع کے لیے۔ على جارّہ، اعراب بھئی؟ ثلاثةِ مجرور بھئی، ہاں بھئی! کیا پڑھیں گے؟ جی؟ 11 سے لے کر 19 تک جو عدد ہے مرکب، یہ سارے کیا ہیں؟ دونوں جز ان کے مبنی ہیں، سوائے کس کے؟ اثنا عشر کے کہ اس کا اول جز کیا ہے؟ معرب ہے، کیا ہے؟ معرب ہے۔ تو یہ ثلاثة عشر مبنی ہے مولانا، مبنی۔ شاباش! ثلاثة عشر مجرور محلاً۔ بھئی، مجرور کیوں کہا آپ نے؟ شاباش! اس پر حرفِ جار داخل ہے۔ اور محلاً کیوں کہا آپ نے؟ شاباش! یہ مبنی ہے اور مبنی کا اعراب محلاً ہوتا ہے، تو مجرور محلاً۔ بھئی! مضاف، مضاف الیہ نہیں ہے بھئی! کس نے کہا آپ کو مضاف مضاف الیہ؟ ہاں، ثلاثة عشر کیا بناؤ؟ یہ مرکب ہے، مرکبِ بنائی مولانا! سمجھ میں آیا؟ دراصل یہ اصل میں تھا ثلاثةٌ وعشرٌ، پھر واؤ درمیان میں چھپ گیا اور واؤ مبنی ہوتا ہے، تو اس نے پورے مرکب کو بھی کیا بنا دیا؟ مبنی بنا دیا۔ تو یہ مبنی علی الـ... مبنی ہے بھئی، مبنی! تو مجرور محلاً ہوا، اور یہ عدد ہے، اور عدد کس کا تقاضا کرتا ہے؟ تمیز کا، 13 ہیں، بھئی 13 کیا چیزیں ہیں؟ معدود چاہیے، تمیز چاہیے، نوعًا یہ اس کی تمیز، تو ثلاثة عشر مجرور محلاً مميز، نوعًا منصوب لفظاً اس کی تمیز، مميز تمیز مل کر مجرور، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے تتنوع فعل کے ساتھ۔ بھئی، جڑ بھی رہا ہے یا نہیں جڑ رہا؟ تقسیم، تتنوع تقسیم ہوتے ہیں 13 انواع پر، جڑ رہا ہے؟ جی، جڑ رہا ہے بھئی! تو یہ متعلق ہوئے تتنوع فعل کے ساتھ۔ تتنوع فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ ترجمہ کیا ہوا؟ تقسیم ہوتے ہیں عواملِ سمعیہ منها، کس میں سے؟ عواملِ... عواملِ لفظیہ میں سے جو عواملِ سمعیہ ہیں، وہ تقسیم ہوتے ہیں 13 انواع پر بھئی، 13... اس کی 13 انواع ہیں۔ تو بات سمجھ میں آئی ساری بھئی؟ سب سے پہلے بتلایا کہ عوامل 100 ہیں، جیسا کہ شیخ عبدالقاہر نے بیان کیا ہے، انہوں نے جمع کیے ہیں۔ اور یہ 100 پھر کتنی قسم پر ہیں؟ دو قسم پر: لفظی ہیں اور معنوی ہیں۔ معنوی تو آخر میں جا کے بتائیں گے دو ہیں۔ باقی کیا ہیں؟ کتنے ہیں؟ لفظی کتنے ہو گئے؟ 98، اب لفظی کے بارے میں بتلائیں گے کہ لفظی پھر دو قسم پر ہیں: کچھ سمعی ہیں اور کچھ قیاسی ہیں۔ سمعی کتنے ہیں؟ 91، اور قیاسی کتنے ہیں؟ سات، تو کل کتنے ہو گئے؟ 98۔ اور ان میں سے جو سمعی ہیں، جو 91 تھے، وہ کل کتنی انواع ہیں اس کی؟ 13 انواع ہیں، 13 انواع۔ جی، آگے کون کرے گا ترکیب؟ چلیے جی، آگے کیجیے۔ شاباش! النوع مرفوع لفظاً موصوف، مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ اعراب پر کیا... مرفوع، مرفوع کیوں کہا؟ مبتدا بنے گا اور مبتدا کیا ہوتا ہے؟ مرفوع۔ لفظاً کیوں کہا آپ نے؟ رفع پر تلفظ ہو رہا ہے۔ آپ نے اس کو موصوف کیوں بنایا؟ شاباش! معرفہ کے بعد کیا آ رہا ہے؟ معرفہ، تو عموماً پھر کیا بنتے ہیں؟ موصوف، النوع مرفوع لفظاً موصوف۔ الاول مرفوع لفظاً صفت۔ موصوف صفت مل کر مبتدا۔ حروفٌ مرفوع لفظاً موصوف بھئی، بھئی آپ نے مرفوع کیوں کہا؟ یہ کیا بنے گی؟ یہ خبر بنے گی اور خبر کیا ہوا کرتی ہے؟ مرفوع، لیکن ابھی آگے صفت آ رہی ہے، اس لیے ابھی صرف آگے چلیں بھئی، حروفٌ مرفوع لفظاً موصوف۔ بھئی! آپ نے حروفٌ کو موصوف کیوں بنایا؟ بعد میں تو فعل آ رہا ہے۔ شاباش! نکرہ کے بعد فعل آ جائے تو کیا بنائے ترکیب کریں گے بھئی عموماً؟ موصوف صفت کی، جی! تجرّ فعل، تجرّ فعل، هی ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، غائب کی ضمیر لے آئے، آپ مرجع لائیے۔ شاباش! یہ کس کو راجع؟ حروف موصوف کو راجع، یہ عائد ہے مولانا! جی! کیا ہوا؟ اسمًا منصوب لفظاً، کیا بنا؟ جی؟ مفعول بہ بھئی، کیا بنے گا؟ مفعول بہ بھئی! تجرّ، جر دیتے ہیں، کون دیتے ہیں جر؟ حروف، تو ضمیر راجع کہ حروف کو، اور کس کو جر دیتے ہیں؟ اسم کو، تو یہ کیا بنا؟ مفعول بہ بنا بھئی! فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ کے ساتھ مل کر کیا بنے گا؟ جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر، یہ کیا بنے گا؟ صفت۔ موصوف اپنی صفت کے ساتھ مل کر خبر۔ مبتدا اپنی خبر کے ساتھ مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، بھئی حروفٌ ہے موصوف تجرّ الاسم، اس کو پڑھیں گے کیسے بھئی؟ یاد رکھو الف لام کا جو ہمزہ ہے، وہ بھی وصلی، اسم کا جو ہمزہ ہے، وہ بھی وصلی، دونوں گر جائیں گے۔ سین بھی ساکن، لام بھی ساکن، تو لام کو کسرہ دے دیں گے، تجرّ الاسم، تجرّ الاسم، سمجھ میں آیا بھئی؟ عموماً اس کو پڑھتے ہیں تجرّ الاسم، ہمزہ کو برقرار رکھتے ہیں اور لام کے ساتھ را کو کیا کر دیتے ہیں؟ ملا دیتے ہیں، تجرّ الاسم، یہ غلط ہے مولانا! سمجھ میں آیا؟ کیا پڑھیں گے؟ تجرّ الاسم۔ سمجھ میں آیا تجرّ الاسم، قرآن میں بھی آیا، کس طرح پڑھتے ہیں بھئی؟ بئس الاسم، وہاں پر بھی اسی طرح، جی! تو مولانا حروفٌ ہے موصوف اور تجرّ الاسم یہ کیا ہے؟ جو پورا جملہ اس کی صفت، تو یہ موصوف ہے، تو یہ پورا جملہ بھی کیا ہے؟ مرفوع ہے، مرفوع ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور جملہ کس میں سے ہے؟ مبنیات میں سے ہے۔ لہٰذا اس کا اعراب کیا بتلائیں گے؟ محلاً۔ تو یہ مرفوع ہے محلاً بھئی۔ فقط۔ جی، کون کرے گا آگے ترکیب؟ چلو، کرو بھئی۔ اچھا، دیکھیے مولانا، فقط۔ یہ فا، فا فصیحہ کہلاتی ہے۔ فا فصیحہ کس کو کہتے ہیں؟ جو شرطِ محذوف پر دلالت کرے بھئی۔ فا فصیحہ وہ ہے جو شرطِ محذوف پر دلالت کرے۔ قط اسمِ فعل ہے بمعنیٰ انتہِ۔ قط اسمِ فعل ہے بمعنیٰ انتہِ۔ جی؟ فا فصیحہ وہ ہے جو شرطِ محذوف پر دلالت کرے۔ تو قط مولانا اسمِ فعل ہے۔ کس معنیٰ میں؟ انتہِ۔ انتہِ کا کیا معنیٰ؟ تو رک جا۔ انتہِ کا کیا معنیٰ؟ تو رک جا، تو باز آ جا۔ تو یہاں شرط محذوف ہے مولانا، کیا؟ "إذا جررت بها الاسم"۔ "إذا جررت بها الاسم"۔ شرط محذوف ہے: "إذا جررت بها الاسم"۔ تو قط مولانا اسمِ فعل ہے، کس معنیٰ میں ہے؟ انتہِ کے معنیٰ میں۔ تو یہ امر کے معنیٰ میں ہے مولانا۔ اور اس کے اندر "أنت" ضمیر کیا ہے؟ مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ تو اسمِ فعل اپنے فاعل کے ساتھ مل کر جملہ فعلیہ ہوا، بعض اس کو جملہ اسمیہ کہتے ہیں اس کو اور بعض اس کو کیا کہتے ہیں؟ جملہ فعلیہ کہتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اسمِ فعل کس کے ساتھ ملے گا؟ اپنے فاعل کے ساتھ، اور پھر اس کو کیا بناتے ہیں؟ بعض اس کو کیا قرار دیتے ہیں؟ جملہ فعلیہ اس کو کہتے ہیں اور بعض اس کو کیا کہتے ہیں؟ جملہ اسمیہ کہتے ہیں بھئی۔ جملہ فعلیہ اس لیے کہتے ہیں کہ یہ فعل کے معنیٰ میں ہے۔ اور جملہ اسمیہ اس لیے کہتے ہیں کہ یہ اسم ہے، اسمِ فعل ہے مولانا، فعل نہیں ہے۔ تو اسمِ فعل اپنے فاعل کے ساتھ مل کر جملہ فعلیہ ہو کر یا جملہ اسمیہ ہو کر جزا ہوئی شرطِ محذوف کی، اور وہ شرطِ محذوف کیا ہے؟ "إذا جررت بها الاسم"۔ تو إذا اب شرط کی ترکیب یوں ہوگی: إذا شرطیہ ظرفیہ۔ إذا ظرفیہ ہوتا ہے مولانا، اور کبھی شرط کے معنیٰ کو متضمن ہوتا ہے۔ تو إذا کیا ہوا؟ ظرفیہ شرطیہ۔ جررت: جر فعل، تا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ جر فعل، تا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ با جاره، ها ضمیر مجرور محلاً کس کو راجع؟ حروف کو، حروف کو، "حروف تجر الاسم" کو، حروف کو۔ اور الاسم: یہ کیا بن گیا؟ منصوب لفظاً مفعول بہ۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر شرط۔ شرط جزا مل کر جملہ شرطیہ ہوا۔ جملہ شرطیہ کون سا ہوگا مولانا؟ خبریہ ہوگا، انشائیہ ہوگا؟ جملہ انشائیہ، کیونکہ جزا اس کی کیا تھی؟ انشا تھی، فعلِ قط اسم امر کے معنیٰ میں ہے اور امر کس کے قبیل سے ہے؟ انشا کی، تو جزا پر دار و مدار ہے بھئی سارا۔ کیا معنیٰ إذا جر... بھئی، "النوع الأول حروف تجر الاسم" نوعِ اول ایسے حروف ہیں جو اسم کو جر دیتے ہیں۔ "إذا جررت بها الاسم فانته" جب تو اس کے ذریعے جر دے دے اسم کو تو تو باز آ جا، یعنی اس کو کوئی اور عمل نہ دے، یہ صرف جر دیں گے، کوئی اور عمل نہیں کریں گے۔ رحمك الله۔ جی، آگے کون کرے گا ترکیب؟ چلیں بھئی، کریں بھئی۔ واؤ حرفِ عطف، تسمىٰ فعلِ مجہول، ہیَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا نائب فاعل۔ بھئی، غائب کی ضمیر لے آئے ہیں آپ، اس کا مرجع بتلاؤ۔ اس کے یہ کس... کس کو راجع ہے یہ ضمیر؟ حروف کو، جی، حروف کو۔ حروفاً منصوب لفظاً موصوف، جارةً منصوب لفظاً... کیا بنے گا بھئی؟ صفت کیسے آپ براہِ راست اس کو بنا رہے ہیں؟ نکرہ کے بعد نکرہ آ رہا ہے، ٹھیک ہے۔ لیکن آپ براہِ راست کیسے بنا رہے ہیں اس کو بھئی؟ یہ صیغہ کون سا ہے؟ جی؟ اسمِ فاعل کا صیغہ ہے بھئی، جَرَّ یَجُرُّ جَرّاً فہو جَارٌّ، جَارٌّ کی مؤنث کیا آئے گی؟ جَارَّۃٌ، جی، یہ اسمِ فاعل ہے مؤنث۔ جارةً منصوب لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، ہیَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت۔ بھئی صفت کو آپ شبہ جملہ ہے، آپ اس کو موصوف کے ساتھ کیسے جوڑ رہے ہیں بغیر ربط کے؟ ضمیر لوٹاؤ بھئی، ہیَ ضمیر غائب کی آ گئی۔ بار بار ہر ایک کو بتانا پڑتا ہے بھئی۔ ہیَ ضمیر اس کے اندر راجع ہے کس کو؟ موصوف کی طرف، تو جارةً صیغہ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت، موصوف صفت مل کر... یہ مفعول ہوا کس کے لیے؟ تسمىٰ کے لیے۔ یاد رکھو مولانا، سمَّىٰ دو مفعول چاہتا ہے۔ سميت الرجل زيداً، میں نے آدمی کا نام کیا رکھا؟ تو الرجل مفعولِ اول، اور زید مفعولِ ثانی۔ تو جب اس کو مجہول بنایا تو اس میں سے پہلے مفعول کو کیا بنا دیا؟ نائب فاعل، اور دوسرا مفعول اسی طرح ابھی بھی مفعول ہے۔ تو تسمىٰ میں ہیَ ضمیر نائب فاعل کی، اور حروفاً جارةً اس کے لیے مفعول۔ سمجھ میں آیا؟ تو فعلِ مجہول اپنے نائب فاعل اور مفعول کے ساتھ مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ آگے کون کرے گا ترکیب؟ چلیے بھئی، آپ نے کی کل؟ ہاں بھئی، آپ نے کی کل؟ چلو، کرو بھئی۔ واؤ حرفِ عطف، ہیَ ضمیر مرفوع محلاً مبتدا۔ بھئی، آپ نے اس کو مرفوع محلاً مبتدا، مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ مبتدا، مبتدا مرفوع ہوتا ہے، جی۔ سبعة عشر اعراب بھئی، سبعة عشر مرفوع محلاً... شاباش! سبعة عشر مرفوع محلاً کیونکہ اس نے کیا بننا ہے؟ خبر بننا ہے، مرفوع محلاً ممیز۔ حرفاً منصوب لفظاً اس کی تمیز۔ ممیز تمیز مل کر کیا ہوئے؟ خبر ہوئے مبتدا کے لیے۔ مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ آگے جی، کرتے جاؤ آگے بھئی۔ الباءُ مرفوع لفظاً مبتدا، لام جارہ، الإلصاقِ مجرور لفظاً... جار مجرور مل کر متعلق ہوں گے کس سے بھئی؟ جی؟ بھئی، الباء للإلصاق، آگے ایک دو تین سطریں چھوڑ کر آ رہا ہے: للإعانةِ۔ مل گیا بھئی؟ جی، تو وہ بھی اسی پر عطف ہوگا۔ آپ ابھی سے عطف کر کے جوڑ لیں بھئی۔ جار مجرور مل کر کیا ہوئے؟ معطوف علیہ، واؤ حرفِ عطف، لام جارہ، الإعانةِ مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر معطوف۔ معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر کس سے متعلق؟ ثبتت... ثبتت فعل کے ساتھ۔ بھئی، میں نے آپ کو بتلایا تھا مفرد بھی نکال سکتے ہیں اور فعل بھی نکال سکتے ہیں بھئی، جی۔ ثبتت فعل، ہیَ ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر فاعل، فعل فاعل اپنے متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر خبر۔ مبتدا خبر... بھئی، آپ اس کو خبر بنا رہے ہیں، خبر کو کس سے جوڑا جاتا ہے؟ مبتدا سے، اور آپ نے تو جملے کو جوڑ دیا مبتدا کے ساتھ اور کوئی ربط نہیں دیا۔ ثبتت کے اندر جو ہیَ ضمیر ہے وہ کس کو راجع ہے؟ الباءُ کو، کس کو؟ مبتدا کو۔ ثبت بھی نکال سکتے ہیں یاد رکھو، اور ثبتت بھی نکال سکتے ہیں۔ ثبت نکالیں گے تو ہوا ضمیر راجع ہے الباءُ کو، ثبتت نکالیں گے تو پھر کون سی ضمیر راجع؟ ہیَ ضمیر، اور حروف مذکر بھی مستعمل ہیں اور مؤنث بھی، البتہ زیادہ وہ مؤنث استعمال ہوتے ہیں۔ تو زیادہ بہتر کیا ہے، کیا نکالا جائے؟ ثبتت نکالا جائے تاکہ ہیَ ضمیر لوٹائیں الباءُ کی طرف ہم بھئی۔ ترکیب سمجھ میں آئی بھئی؟ آگے کون کرے گا؟ چلیے بھئی۔ واؤ حرفِ عطف، ہوا مرفوع محلاً مبتدا، مرجع بتلاؤ غائب کی ضمیر آ گئی۔ جی؟ الباءُ، با کو راجع کہہ رہے ہیں بھئی، با وہ ملانا ہے ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ۔ جی؟ کیا ملانا ہے بھئی؟ با کا معنیٰ ہے ملانا ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ؟ یہ کس کا معنیٰ بیان کر رہے ہیں؟ إلصاق، تو ہوا ضمیر کس کو راجع؟ إلصاق کو راجع بھئی۔ اتصالُ مرفوع لفظاً... اعراب سب سے پہلے، مرفوع لفظاً... مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ شاباش، یہ خبر بنے گا۔ اور لفظاً کیوں کہا آپ نے؟ شاباش، اس پر ہم تلفظ ظاہر نہیں ہو رہا، ہم اس پر تلفظ کر رہے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ جی۔ اتصالُ مرفوع لفظاً مصدر مضاف، الشيءِ مجرور لفظاً مضاف الیہ، با جارہ، الشيءِ مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے اتصال مصدر کے ساتھ، جڑ رہا ہے؟ "اتصال بالشيء" جڑنا کسی چیز کے ساتھ، جی؟ صحیح ہو رہا ہے، جی جڑ گئے یہ۔ اتصال مصدر اپنے مضاف الیہ اور متعلق سے مل کر یہ کیا ہوا؟ ممیز، کیا بنے گا؟ ممیز، اس لیے کہ آگے تمیز آ رہی ہے مولانا کہ وہ اتصال "إما حقيقة" یا تو کیا ہوگا؟ حقيقةً ہوگا، اور آگے آ رہا ہے "وإما مجازاً" یا کیا ہوگا؟ مجازاً ہوگا بھئی۔ تو یہ ممیز۔ آگے: إما تردیدیہ، حقيقةً منصوب لفظاً... اس نے کیا بننا ہے مولانا؟ تمیز، اور تمیز کیا ہوتی ہے؟ منصوب، تو اس لیے اس کو منصوب پڑھا: منصوب لفظاً معطوف علیہ بھئی۔ وإما مجازاً، یہ واؤ زائدہ ہے، یہ واؤ کیا ہے؟ زائدہ، اور یہ دوسرا إما ہے عاطفہ کہیں گے، یہ إما عاطفہ ہے، آپ نے حروفِ عطف پڑھے ہیں 10 ہیں، ان 10 میں سے ایک کیا ہے؟ إما ہے، یہ ثانی إما عطف کے لیے آ رہا ہے، اول إما عطف کے لیے نہیں ہے، اس لیے اس کو إما عاطفہ کہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو لیکن یہ پہلا إما اس لیے لے کر آئے یہ بتلانے کے لیے کہ یہ چیز دائر ہے دو چیزوں میں، یہ اتصال دائر ہے کس میں؟ یا تو حقيقةً ہے یا کیا ہے؟ مجازاً ہے۔ مجازاً منصوب لفظاً معطوف، معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر تمیز، ممیز تمیز مل کر اب یہ کیا ہوئی؟ خبر ہوئی هُوَ مبتدا کے لیے، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ جملہ اسمیہ۔ تو کہتے ہیں النوع الاول حروف تجر الاسم، نوع اول وہ ایسے حروف ہیں تجر الاسم جو اسم کو کیا کرتے ہیں؟ جر دیتے ہیں فقط بس بھئی، صرف کیا دیتے ہیں؟ جر دیتے ہیں۔ وتسمى حروفا جارة اور ان حروف کو کیا کہتے ہیں؟ حروفِ جارہ کہتے ہیں، وهی سبعة عشر حرفا اور یہ کتنے ہیں؟ 17 حروف ہیں، بھئی یاد رکھو ہر نوع میں چار چیزوں کا جاننا ضروری ہے بھئی۔ چار چیزوں کا، اول نوعِ عامل بھئی، قسمِ عامل بھئی، ہر نوع میں چار چیزوں کا جاننا ضروری ہے۔ اول کیا ہے؟ قسمِ عامل بھئی، عامل کس قسم سے ہے؟ فعل ہے، اسم ہے یا حرف ہے۔ نمبر دو عملِ عامل، عملِ عامل کہ یہ رفع دیتا ہے، نصب دیتا ہے یا جر دیتا ہے؟ نمبر تین معمولِ عامل، نمبر تین معمولِ عامل کہ یہ کس میں عمل کرتا ہے؟ اسم میں عمل کرتا ہے، فعل میں عمل کرتا ہے، کس میں عمل کرتا ہے؟ اور نمبر چار تعدادِ عامل بھئی کہ یہ کتنے ہیں بھئی؟ کتنی چیزوں کا جاننا ہر نوع میں ضروری؟ چار، اول کیا ہے؟ قسمِ عامل، ثانی؟ عملِ عامل، ثالث؟ معمولِ عامل، رابع؟ تعدادِ عامل۔ تو سب سے پہلے نوعِ اول قسمِ عامل کیا ہے یہاں پر؟ حروف ہے، کیا ہیں؟ حروف بھئی قسمِ عامل کہ فعل ہے، اسم ہے یا حرف، تو یہ کون سے ہیں؟ یہ حروف ہیں، پھر بھئی ان کا عمل کیا ہے ثانی؟ یہ کیا کرتے ہیں؟ جر دیتے ہیں، تیسری چیز ان کا معمول کون ہے؟ کس کو جر دیتے ہیں؟ اسم کو دیتے ہیں، نمبر چار ان کی تعداد کتنی ہے بھئی؟ 17 ہیں، تو یہ پہلے دو جملوں میں، تین میں یہ آ گئیں ساری چیزیں بھئی، حروف ہیں تجر جر دیتے ہیں، کس کو؟ اسم کو دیتے ہیں اور 17 ہیں۔ الباء للإلصاق، إلصاق کا ہمزہ نہیں گرے گا مولانا یہ بابِ افعال ہے، بابِ افعال کا ہمزہ قطعی ہے۔ الباء للإلصاق با کس لیے ہے مولانا؟ إلصاق کے لیے ہے، بھئی إلصاق کسے کہتے ہیں؟ خود تفسیر کر رہے ہیں آگے وہو اتصال الشيء بالشيء، وہ ملنا ہے ایک چیز کا بالشيء دوسری چیز کے ساتھ، إما حقيقةً یہ ملنا یا تو حقيقةً ہوگا وإما مجازاً یا کیا ہوگا؟ مجازاً ہوگا، مجازاً ہوگا۔ چلیے بس بھئی، آج کافی ہے۔ الحمد لله، یرحمک الله۔ تمیز ہمیشہ عدد سے تو نہیں آتی۔ تمیز ہمیشہ عدد سے نہیں آتی بھئی۔ اچھا بھئی! چلیے بھئی، دعا کر لیجیے۔ بعض طلباء نے دعاؤں کا بھی لکھا ہے اور بھی بہت سے لوگوں نے دعاؤں کا کہا ہے، دعا کرو اللہ سب کی حاجات پوری فرمائے، اے اللہ سب کی تکالیف اور پریشانیاں دور فرما، اور یہ بات کسی طالب علم نے لکھا ہے کہ اس کے والدین، بھئی کے گردوں میں پتھری ہے اور خود بھی بیمار ہے، دعا کرو اللہ تعالی اس کو شفائے کاملہ عاجلہ مستمرہ نصیب فرمائے، اے اللہ سب کو صحت اور عافیت نصیب فرما، اے اللہ جتنے حاضرین ہیں ان میں کوئی بیمار ہے اس کو بھی یا اللہ شفائے کاملہ عاجلہ مستمرہ نصیب فرما، ان کے گھر والوں میں کوئی گھر میں مریض ہے اللہ سب کو شفاء نصیب فرما، اے اللہ سب کو شفاء نصیب فرما، میرے بڑے بھی بیمار ہیں ان کے لیے بھی دعا فرمائیں اللہ ان کو صحت اور عافیت نصیب فرمائے، اے اللہ ان کو شفائے کاملہ عاجلہ نصیب فرما، اے اللہ جتنے حاضرین ہیں اللہ سب کو تمام ہر قسم کے جسمانی اور روحانی امراض سے شفاء نصیب فرما، اے اللہ ہم سب کو ہر قسم کے جسمانی اور روحانی امراض سے شفاء نصیب فرما، اے اللہ ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔