درس نمبر۔35 ‏اچھا بھئی مولانا! آگے کون کرے گا ترکیب بھئی؟ ‏جی؟ ‏چلیے بھئی، وہ پیچھے جو بیٹھے ہیں وہ کریں۔ ‏آپ کو کیا؟ ‏نہ، آپ کو بھئی۔ ‏جی؟ ‏لفظیۃً... ‏لفظیۃً خبر ہے مبتدا محذوف کی۔ ‏مرفوع لفظاً، خبر کس کی بھئی؟ ‏مبتدا محذوف کی۔ ‏کون ہے مبتدا محذوف؟ ‏جی؟ ‏اچھا! ‏بائی، میں نے بتایا تھا کل ہی آپ کو بتایا "الجرجانی" جس کے آخر میں کیا آ جائے؟ یاءِ مشدد آ جائے اس کو کیا بناتے ہیں؟ وہ کیا ہوتا ہے؟ ‏اسمِ منسوب، اور اسمِ منسوب بھی کس کا تقاضا کرتا ہے؟ ‏نائب فاعل کا تقاضا کرتا ہے، تو "لفظیۃ" میں بھی وہی یاء آ رہی ہے اور ساتھ تائے تانیث بھی ہے بھئی، تائے... ‏تانیث بھی ہے بھئی۔ تو مذکر کے لیے تو تا نہیں آئے گی لیکن مؤنث کے لیے کیا آئے گی؟ ‏تا آئے گی، تو یہ بھی اسمِ منسوب ہے مولانا۔ ‏جی؟ ‏لفظیۃٌ مرفوع لفظاً... ‏اسمِ منسوب... ‏"ہی" ضمیر مرفوع محلاً اس کا نائب فاعل۔ ‏جی؟ ‏کس کو راجع ہے؟ ‏کس کو؟ ‏جی، یہ ضمیر راجع ہے عوامل کو، جی۔ ‏جی؟ ‏کیا بنائیں گے اس کو؟ کیا بنا رہے ہیں آپ اس کو؟ معطوف علیہ، اچھا، جی چلیں کرتے جائیے ترکیب بھئی۔ ‏واؤ عاطفہ۔ ‏معنویۃٌ... ‏اعرب اعراب سب سے پہلے! ‏مرفوع لفظاً، صیغہ اسمِ منسوب... ‏اسمِ منسوب... ‏"ہی" ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا نائب فاعل... ‏جو کس کو راجع؟ عوامل کو راجع۔ ‏معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر... ‏خبر ہے مبتدا محذوف... ‏جی؟ ‏خبر ہے مبتدا محذوف "بعضها" کی۔ ‏جی، بھئی آپ نے اس کو خبر کیسے بنایا؟ ‏آپ نے کوئی ربط دیا اس کا اس کے ساتھ؟ ‏جی؟ ‏اسمِ منسوب ہے، اپنے نائب فاعل سے ملا، شبہ جملہ ہوا، اس کو آپ نے جوڑ دیا، جملے اور شبہ جملہ کو جب کسی چیز سے جوڑا جائے تو کیا دیا جاتا ہے؟ ‏عائد چاہیے، آپ اس کو وہ جوڑ رہے ہیں مبتدا کے ساتھ، کوئی آپ نے ربط دیا؟ ‏جی، کیا کریں گے اب؟ ‏کس کی طرف؟ ‏ہاں، "ہی" ضمیر کس کو راجع ہے؟ ‏"بعضها" مبتدا کی طرف راجع کریں گے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی۔ ‏"بعض" مرفوع لفظاً مضاف۔ ‏"ہا" ضمیر مجرور محلاً مضاف علیہ۔ ‏ضمیر غائب کی آئی، مرجع کیوں نہیں تلاش کرتے؟ ‏جی؟ ‏یہ ضمیر کس کو راجع؟ ‏"مائۃ عامل" کو، کس کو راجع؟ ‏"مائۃ عامل" کو راجع۔ ‏مضاف اپنے مضاف علیہ سے مل کر... ‏مبتدا۔ ‏مبتدا اپنے خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، ترجمہ کرو ذرا۔ ‏بعض ان عوامل میں سے... ‏لفظی ہیں اور... ‏معنوی ہیں، اور باقی بعض کیا ہیں؟ ‏بعض تو لفظی اور معنوی ہیں، اور باقی بعض... ‏جی؟ ‏وہ تو آگے انہی کی تقسیم ہو رہی ہے بھئی، لفظی کی آگے تقسیم ہو رہی ہے سماعی اور قیاسی۔ ‏جی؟ ‏ہاں، بعض لفظی ہیں اور بعض کیا ہیں؟ اب بات بن رہی ہے، تو اب کیا کرنا پڑے گا؟ ‏دونوں کے لیے الگ مبتدا نکالنا پڑے گا، "بعضها لفظیۃ وبعضها معنویۃ"، بات سمجھ میں آئی سب کو بھئی؟ ہاں، معنی کے مطابق ترکیب ہو گی بھئی۔ تو "بعض"... تو "لفظیۃ" مرفوع لفظاً، صیغہ صیغہ کون سا؟ یہ اسمِ منسوب، "ہی" ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر نائب فاعل جو راجع کس کو؟ مبتدائے محذوف۔ مبتدائے محذوف اس کے لیے کیا نکالیں گے؟ "بعضها"، "بعض" مرفوع لفظاً مضاف، "ہا" ضمیر مجرور محلاً مضاف علیہ جو کس کو راجع ہے؟ کس کا بیان ہو رہا ہے؟ "مائۃ عامل" کا بیان ہو رہا ہے کہ ان سو عوامل میں سے بعض کیا ہیں؟ لفظی ہیں۔ تو ضمیر راجع ہوئی "مائۃ عامل" کی، مضاف "بعض" مضاف اپنے مضاف علیہ سے مل کر مبتدا، اور "لفظیۃ"... ‏یہ کیا ہے؟ شبہ جملہ ہو کر اس کے لیے... ‏اور یہ "لفظیۃ" کے اندر "ہی" ضمیر ہم نے کس کو راجع کی؟ ‏"بعضها" کو، کس کو؟ ‏"بعضها" کو۔ ‏سمجھ میں آیا؟ ‏آپ کہیں گے کہ یہ تو "ہی" ضمیر ہے، آپ "بعض" کو راجع کر رہے ہیں، "بعض" تو مذکر ہے۔ ‏جی؟ ‏بھئی، یہ "بعض" کس سے عبارت ہے؟ ‏کون ہے "بعض"؟ عوامل ہیں، کون ہیں؟ ‏تو جو ضمیر کے مرجع کے ساتھ مطابقت عام ہے، چاہے لفظوں کے اعتبار سے ہو چاہے معنی کے اعتبار سے ہو، تو یہاں معنی کے اعتبار سے کیا ہے؟ مطابقت موجود ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی سب کو؟ تو "بعضها لفظیۃ" اس کے لیے "بعضها" الگ نکالیں گے، "وبعضها معنویۃ" اس کے لیے "بعضها" مبتدا الگ نکالیں گے بھئی۔ ‏یہاں اور بھی کئی ترکیبیں ہو سکتی ہیں مولانا۔ ‏ایک ترکیب یہ ہو سکتی ہے بھئی، اور کوئی ترکیب کریں گے بھئی؟ ‏جی؟ ‏جی، "اعنی" نکال لیں یہاں پر، کیا نکال لیں گے؟ ‏"اعنی"، بھئی عوامل نحو میں کتنے ہیں؟ سو ہیں، یعنی کہ... ‏لفظی اور... ‏معنوی، سمجھ میں آیا؟ "اعنی لفظیۃً و معنویۃً"، یعنی کہ لفظی اور معنوی، تو "اعنی" فعل، جی کریں ترکیب۔ ‏جی؟ ‏"اعنی" فعل، "انا" ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ ‏"لفظیۃً" منصوب لفظاً... ‏اسمِ منسوب... ‏"ہی" ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر... ‏نائب فاعل، کس کو راجع کریں گے؟ ‏جی؟ ‏"مائۃ عامل" کو اب راجع کریں گے، پہلے کس کو راجع کی تھی؟ "بعضها" کو، اب تو یہاں مبتدا ہے نہیں اس کی طرف راجع نہیں کریں گے، تو یہ لفظی کون ہیں؟ کس کس میں سے ہیں؟ ‏ہمم؟ ‏"مائۃ عامل" کو بھی راجع نہ کرو بھئی۔ ‏یہ ٹھیک ہے "مائۃ عامل" کو، آگے معنویہ کا اسی پر عطف کر دیں گے بھئی، ٹھیک ہے دونوں کا، "اعنی لفظیۃً ومعنویۃً"، یعنی وہ مائۃ العوامل... "مائۃ عامل" کیا ہیں؟ لفظی ہیں اور معنوی ہیں۔ تو لفظیۃٌ یہ شبہ جملہ ہو کر اپنے نائب فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر معطوف علیہ، واؤ حرفِ عطف، "معنویۃً" منصوب لفظاً اس کے اندر "ہی" ضمیر مرفوع محلاً اس کا نائب فاعل، جو کس کو راجع؟ "مائۃ عامل" کو راجع، تو یہ شبہ جملہ ہو کر کیا ہوا؟ معطوف، معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر... ‏مفعول ہوا کس کے لیے؟ "اعنی" فعل کے لیے، "اعنی"۔ ‏اور کیا ترکیب کریں گے؟ ‏"احدهما" ان میں سے ایک... ‏ان عوامل میں سے ایک لفظی ہے... ‏دوسرا معنوی ہے؟ نہیں بھئی، یہاں نہیں بن سکتا، وہ تو سو ہیں، "احدهما"، "ثانیهما" ایک اور دو کر دیا آپ نے، باقی 98 کدھر گئے؟ ‏اور بھئی، اور کیا ترکیب کریں گے؟ ‏جی؟ ‏شاباش! یہ "مائۃ عامل" سے بدل بنا لو بھئی، "مائۃ عامل" کیا ہیں؟ لفظی ہیں اور معنوی ہیں، لفظی ہیں۔ تو "مائۃ عامل"، "مائۃ" کیا ہے؟ مرفوع، تو مبدل منہ اور بدل کا اعراب کیا ہوتا ہے؟ ایک، تو "لفظیۃٌ" کیا ہوا؟ ‏مرفوع لفظاً، یہ بدل ہے، اس کا بھی وہی اعراب ہو گا بھئی، سمجھ میں آ رہی ہے بات؟ تو "لفظیۃٌ" مرفوع لفظاً، "ہی" ضمیر... ‏جی؟ ‏مرفوع محلاً اس کا نائب فاعل، یہ کس کو راجع؟ "مائۃ عامل" کو۔ ‏تو یہ کیا ہوا؟ اسمِ منسوب اپنے نائب فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر... ‏معطوف علیہ، واؤ حرفِ عطف، "معنویۃٌ" صیغہ اسمِ منسوب بھئی، "ہو" ضمیر... "ہی" ضمیر اس کے اندر... ‏مرفوع محلاً نائب فاعل، یہ بھی کس کو راجع؟ "مائۃ عامل" کو۔ ‏تو یہ معطوف، معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر... ‏بدل بھئی، کیا ہوا؟ بدل، اور "مائۃ عامل" کو کیا بنایا تھا؟ ‏مبدل منہ، تو اب مبدل منہ اپنے بدل کے ساتھ مل کر اب یہ خبر بنے گا کس کی؟ "انّ" کی، کس کی خبر بنے گا؟ "انّ" کی خبر بنے گا، ترکیب سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ ‏اور کوئی ترکیب بھئی؟ ‏ایک ترکیب تو ہوئی "بعضها لفظیۃ وبعضها معنویۃ"، ایک ترکیب ہوئی "اعنی لفظیۃً ومعنویۃً"، ایک ترکیب کیا ہوئی؟ اس کو ہم نے بدل بنایا "مائۃ عاملٍ لفظیۃٌ ومعنویۃٌ"۔ ‏جی، اور ترکیب کوئی؟ ‏کس کے لیے؟ ‏شاباش! یہ "ہی" مبتدا ہے، معلوم ہوا بڑے بڑے نحوی بیٹھے ہیں بھئی۔ ‏اچھا یہ خبر بنے گی "ہی" مبتدا کے لیے، ایک ہی، پہلے "بعضها"، "بعضها" الگ الگ نکالا تھا، اب ایک ہی نکال لو، "ہی" ضمیر، اور یہ "ہی" ضمیر کس کو راجع؟ "مائۃ عامل" کو، کس کو؟ وہ سو عوامل کیا ہیں؟ لفظی ہیں اور معنوی ہیں، اب ایک کے لیے ہی خبر بن گئی، سمجھ میں آیا؟ تو "ہی" ضمیر مرفوع محلاً... ‏جی، پہلے "لفظیۃٌ معنویۃٌ" کی ترکیب کریں، "لفظیۃٌ" اسمِ منسوب مرفوع لفظاً، اسمِ منسوب "ہی" ضمیر مرفوع محلاً اس کا... جو کس کو راجع؟ مبتدائے محذوف کو، اور وہ کیا ہے مبتدائے محذوف؟ "ہی"۔ ‏تو یہ صیغہ اسمِ... اسمِ منسوب اپنے نائب فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر معطوف علیہ، واؤ حرفِ عطف، "معنویۃٌ" اسمِ... مرفوع لفظاً اسمِ منسوب، "ہی" ضمیر مرفوع محلاً اس کا نائب فاعل جو کس کو راجع؟ مبتدائے محذوف کو بھئی۔ ‏سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ معطوف، معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر... ‏جی، خبر ہوئی کس کے لیے؟ "ہی" کے لیے، تو "لفظیۃٌ" کی "ہی" ضمیر بھی ہم نے کس کی طرف لوٹائی؟ "ہی" جو مبتدا ہے، اور "معنویۃٌ" کی "ہی" ضمیر بھی کس کی طرف لوٹائی؟... ‏اور وہ جو مبتدا "ہی" ضمیر ہے وہ کس کو لوٹ رہی ہے؟ "مائۃ عامل" کو، ترکیب سمجھ میں آئی بھئی؟ ‏اچھا، آگے کون کرے گا ترکیب؟ ‏چلو بھئی، تم کرو بھئی۔ ‏جی، فا تفصیلیہ کر لیں بھئی۔ ‏فا تفصیلیہ... ‏فاللفظیۃُ... ‏فاللفظیۃُ، بھئی "لفظیۃُ" صیغہ... "اللفظیۃُ" کیا ہے؟ اسمِ منسوب، "ہی" ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا... نائب فاعل، وہ کس کو راجع کریں گے؟ ‏جی؟ ‏الف لام کو کیوں راجع کریں گے؟ الف لام "الذی" کے معنی میں تو نہیں ہے۔ ‏"الذی" کے معنی میں وہ الف لام ہوتا ہے جو اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول پر داخل ہو، وہ بھی جبکہ بمعنی کس کے ہوں؟ حدوث کے ہوں، تو یہ اسمِ فاعل یا اسمِ مفعول تو نہیں ہے۔ ‏جی؟ ‏کس کو راجع ہو گی ضمیر بھئی؟ ‏بھئی، اس کے لیے موصوف محذوف نکال لیں گے، "اللفظیۃ" کیا ہیں مولانا؟ عوامل، کیا ہیں؟ ‏تو "العوامل اللفظیۃ" بھئی۔ ‏سمجھ میں آیا بھئی؟ اس کے لیے موصوف محذوف نکالیں گے، تو "ہی" ضمیر اس موصوف عوامل کو راجع ہے، اور وہ بتاویلِ جماعت کے کس کے حکم میں ہے؟ واحد مؤنث کے حکم میں ہے، لہٰذا اس کی طرف ضمیر بھی کون سی لوٹے گی؟ واحد مؤنث کی ضمیر لوٹے گی، جی۔ ‏موصوف اپنے صفت سے مل کر ذوالحال۔ ‏شاباش! دیکھا، معرفہ کے بعد "منہا" جار مجرور آئے، اور معرفہ کے بعد جار مجرور آئے تو کیا بنایا کرتے ہیں؟ حال بنایا کرتے ہیں، جی۔ ‏من جارا، "ہا" ضمیر مجرور محلاً... ‏"ہا" ضمیر مجرور محلاً، کس کو راجع ہے؟ ‏جی؟ ‏"لفظیۃ" کو؟ ‏ہاں، "مائۃ"... لفظی کس میں سے ہیں بھئی؟ "مائۃ عامل" کتنی قسم پر ہیں؟ دو، لفظی ہیں اور معنوی، پس لفظی جو ہیں "منہا" کس میں سے؟ ان سو میں سے، "على ضربین" وہ کتنی قسم پر ہیں؟ دو قسم پر ہیں۔ تو "ہا" ضمیر راجع ہے "مائۃ عامل" کو، جی۔ ‏جار مجرور مل کر یہ متعلق ہوئے "کائنۃً"... ‏"کائنۃً" کو چھوڑو، "ثابتۃً" نکالو بس، "ہا" ضمیر... جار مجرور مل کر کس سے متعلق ہوئے؟ ‏"ثابتۃً" کہہ رہے ہیں بھئی، کیا نکالیں گے؟ "ثابتۃً" کیوں نکالیں گے؟ حال ہے جو عیسیٰ اس... وہ کیا بنے گا؟ حال، اور حال کیا ہوا کرتا ہے؟ منصوب، لہٰذا یہاں منصوب نکالیں، "ثابتۃً" بھئی، بھئی "ثابتۃً" آپ نے کیوں نکالا؟ "ثابتاً" کیوں نہیں نکالا؟ ‏مذکر کیوں نہیں نکالا؟ مؤنث کیوں نکال رہے ہیں؟ ‏کیوں؟ ‏وہ تو "ہا" ضمیر لوٹ رہی ہے، اس کو لوٹنے دو اس سے ہمارا کیا تعلق ہے؟ ‏جی؟ ‏شاباش بھئی! ذوالحال "العوامل"... "العوامل اللفظیۃ" کیا ہے؟ مؤنث ہے، تو مؤنث کی طرف کون سی ضمیر ہمیں چاہیے؟ مؤنث کی، اور مؤنث کی ضمیر "ثابتٌ" میں نہیں ہے بلکہ کس میں ہے؟ "ثابتۃٌ" میں ہے، تو جار مجرور مل کر متعلق ہوئے "ثابتۃً" سے۔ ‏"ثابتۃً" صیغہ اسمِ فاعل... ‏اس کے اندر "ہی" ضمیر... ‏مرفوع محلاً اس کا فاعل، کس کو راجع؟ ‏جی؟ ‏ذوالحال کہو، کس کو راجع؟ حال کو کس سے آپ جوڑ رہے ہیں؟ ذوالحال، تو راجع ہے ذوالحال کو، عواملِ لفظیہ کو، جی۔ ‏"ثابتۃً" صیغہ اسمِ فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر... ‏کیا ہوا؟ حال، ذوالحال اپنے حال سے مل کر... ‏مبتدا ہوا، ذوالحال اپنے حال سے مل کر کیا ہوا؟ مبتدا۔ ‏علی جارا، "ضربین" مجرور لفظاً... ‏"ضربین" مجرور لفظاً... ‏جار مجرور مل کر یہ متعلق ہوئے "ثابتۃً"... جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ثابتٌ اسم فاعل کے ساتھ، جی؟ ثابتٌ اسم فاعل، اس میں، ہوا ضمیر اس کا فاعل، ثابتٌ اسم فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر یہ خبر، ثابتٌ اسم فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر۔ بھئی آپ نے خبر کیسے بنایا؟ خبر کو آپ نے مبتدا کے ساتھ کوئی ربط دیا؟ کیا، صیغہ بھی بدل لیا فورا بھئی! کون سا صیغہ ہے بھئی؟ ثابتۃٌ۔ دیکھا، غائب کی جو ضمیریں جو ہیں ان کے مرجع تلاش کرو بھئی! آپ کی آدھی عبارت اسی سے ٹھیک ہو جائے گی۔ تو نکالیں گے ثابتۃٌ نکالیں گے، ثابتٌ نہیں۔ کیونکہ آگے پیچھے پیچھے مبتدا کون تھا؟ العوامل اللفظیۃ، اور وہ ہے مؤنث۔ تو ضمیر بھی ہمیں کون سی چاہیے؟ اور مؤنث کی ضمیر کس صیغے میں آئے گی؟ ثابتۃٌ میں۔ تو متعلق ہوا ثابتۃٌ سے اور اس کے اندر ہی ضمیر جو راجع ہے مبتدا کو، تو یہ شبہ جملہ ہو کر کیا ہوا؟ خبر۔ مبتدا خبر مل کر، جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، جملہ اسمیہ۔ تو لفظی عوامل لفظی اس حال میں کہ وہ کس میں سے ہوں؟ ان 100 عوامل میں، منھا بھئی۔ عوامل لفظی اس حال میں کہ وہ کس میں سے ہوں؟ 100 عوامل میں سے جو ہیں، علی ضربین، کتنی قسم پر ہیں؟ دو قسم پر ہیں۔ جی، آگے کون کرے گا ترکیب؟ چلیے بھئی! آپ کریں بھئی! بھئی وہ پیچھے میں نے لفظیۃٌ ومعنویۃٌ میں تین چار ترکیبیں بتائی تھیں، وہ ساری یہاں پر جاری کریں بھئی! سماعیۃٌ، صیغہ اسم منسوب، سماعی، اعراب بتاؤ! مرفوع لفظا، مرفوع لفظا، صیغہ اسم منسوب، ہی ضمیر اس کا، مرفوع محلا اس کا، نائب فاعل، شاباش! سماعیۃٌ مرفوع لفظا، اسم منسوب، ہی ضمیر مرفوع محلا اس کا نائب فاعل، کس کو راجع؟ بھئی آپ ترکیب کیا کریں گے؟ بتائیں پہلے! احدھما احد ان میں سے ایک، ھا ضمیر کس کو راجع کر رہے ہیں؟ کس کو راجع کر رہے ہیں؟ لفظیہ میں سے ایک کیا ہے؟ سماعی، نہیں بھئی! اچھا، آپ کہنا چاہتے ہیں احدھا سماعیۃٌ والثانیھا قیاسیۃٌ، یہ ترکیب کریں گے بھئی؟ ایک ان میں سے کیا ہے؟ سماعی ہے، اور دوسرا کیا ہے؟ قیاسی ہے۔ کس میں سے ایک سماعی ہے اور ایک قیاسی ہے اور ایک سماعی ہے؟ کس میں سے؟ لفظیہ میں سے، اور لفظیہ کتنے ہیں یہ بتایا ہے انھوں نے کوئی؟ آپ کی بات سے تو یوں لگ رہا ہے کہ لفظی دو قسم پر نہیں ہیں، ہیں ہی دو۔ دو قسمیں نہیں ہیں ان کی بلکہ لفظی خود ہی کتنے ہیں؟ دو ہیں۔ ان دو میں سے ایک کیا ہے؟ سماعی ہے، اور ایک کیا ہے؟ قیاسی، احد ھا، یہی معنی بنتا ہے نا؟ ان لفظیہ میں سے ایک کیا ہے؟ سماعی، اور ایک کیا ہے؟ قیاسی۔ جی، کیا کریں گے؟ احدھما احدھما، وہ قسمیں ان دو قسموں میں سے ایک قسم کیا ہے؟ سماعی ہے، اور دوسری قسم کیا ہے؟ قیاسی۔ تو ھما ضمیر لاؤ تاکہ وہ ضربین کو راجع ہو۔ ان دو قسموں میں سے، سمجھ میں آیا؟ احدھما سماعیۃٌ والثانیھما قیاسیۃٌ۔ اب کیجیے ترکیب بھئی! احدھما، تو سماعیۃٌ اسم منسوب مرفوع لفظا اسم منسوب، ہی ضمیر مرفوع محلا اس کے اندر نائب فاعل، یہ کس کو لوٹائیں گے آپ؟ احدھما، احدھما کو۔ اچھا، بھئی یہ تو ضمیر اور مرجع میں مطابقت نہ رہی۔ احد تو مذکر ہے اور ہی ضمیر تو مؤنث ہے۔ شاباش! مطابقت عام ہے، چاہے لفظ کے اعتبار سے ہو چاہے معنی کے اعتبار سے ہو۔ تو یہ احد، یہ ایک احد سے کیا مراد ہے؟ قسم، اور قسم کس کی ہے؟ لفظی کی، اور لفظی کیا ہے مولانا؟ عوامل ہیں، تو اس سے کیا مراد ہوئے؟ عوامل مراد ہوئے بھئی۔ احدھما، اعراب بتاؤ! مرفوع لفظا، مرفوع کیوں کہا آپ نے احد کو؟ شاباش! مبتدا مرفوع ہوا کرتا ہے۔ مرفوع لفظا احد مرفوع لفظا مضاف، بھئی آپ کو کیسے پتہ چلا یہ مضاف ہے؟ ھما ضمیر جو ہے، اسم کے بعد کیا آ رہی ہے؟ ضمیر متصل، اور جس اسم کے بعد بھی ضمیر متصل آئے، کیا ترکیب کریں گے؟ مضاف مضاف الیہ بھائی। تو احد مرفوع لفظا مضاف، ھما ضمیر مجرور محلا مضاف الیہ، کس کو راجع ھما ضمیر؟ ھما ضمیر کس کو راجع؟ ابھی تو بتلایا آپ کو۔ ضربین کو راجع ہے ضربین کو بھائی। مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ مبتدا، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مبتدا، مبتدا اپنے خبر سے مل کر، مبتدا اپنے خبر سے مل کر یہ جملہ اسمیہ خبریہ، شاباش! آگے، والثانیھما قیاسیۃٌ، اچھا جی! قیاسیۃٌ صیغہ اسم منسوب، شاباش! قیاسیۃٌ صیغہ اسم منسوب، مرفوع لفظا، ہی ضمیر اس کے اندر مرفوع محلا اس کا نائب فاعل، ہی ضمیر اس کے اندر مرفوع محلا اس کا نائب فاعل، راجع بصو، کس کی طرف راجع ہے؟ مبتدا کی طرف، اور وہ مبتدا کیا ہے؟ ثانیھما۔ جی، اسم منسوب اپنے نائب فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر ہوا، مبتدائے محذوف کون ہے؟ ثانیھما। جی، اب ترکیب کریں ثانیھما۔ ثانی مجرور مجرور لفظا مضاف، ثانی مجرور، بھئی آپ نے اس کو مجرور کیوں کہا؟ ثانی مرفوع محلا، مرفوع تقدیرا، ہاں، شاباش! مجرور تو دنیا میں دو ہی چیزیں ہیں، کون سی؟ ایک جس پر کیا داخل ہو؟ حرف جار، اس پر کوئی حرف جار ہے؟ یا دوسرا ہے مضاف الیہ، اس سے پہلے کوئی مضاف آیا؟ نہیں، مجرور تو ہو ہی نہیں سکتا بھئی! تو اس نے کیا بننا ہے؟ مبتدا، اور مبتدا کیا ہوتا ہے؟ مرفوع، یہ بات تو طے ہو گئی کہ یہ ہے مرفوع۔ اب پتہ چلاؤ لفظا ہے، تقدیرا ہے یا محلا ہے؟ کیا ہے؟ تقدیرا، یہ کیا ہے؟ مرفوع تقدیرا ہو گا۔ 16 قسموں میں سے کون سی قسم ہے؟ اسم اسم منقص، یہ اسم منقص ہے، قاضی کی طرح ہے مولانا، قاضی۔ اسم منقص کس کو کہتے ہیں؟ جس کے آخر میں یا ہو اور ماقبل کسرہ ہو، ماقبل کسرہ ہو۔ اور اس پر نصب تو آ سکتا ہے، رفع اور جر کیا آئیں گے؟ تقدیری، جاءنی القاضی، دیکھا؟ یا رفع تقدیری ہے۔ رأیت القاضیَ، یہ البتہ فتحہ آ رہا ہے، اور مررت بالقاضی، تو یا ہے، یا پر مولانا رفع اور جر کسرہ جو ہے ثقیل ہیں، فتحہ البتہ آ سکتا ہے۔ ثانی مرفوع تقدیرا مضاف، ثانی مرفوع تقدیرا مضاف، ھما ضمیر مجرور محلا مضاف الیہ، ھما ضمیر مجرور محلا مضاف الیہ، کس کو راجع؟ ضربین کو، ضربین کو جی! ثانی مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ مبتدا، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مبتدا، مبتدا اپنے خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ، شاباش! مبتدا اپنے خبر سے مل کر کیا ہوا؟ جملہ اسمیہ خبریہ ہوا شاباش! یہ کتنی ترکیبیں ہوئیں ابھی بھئی؟ ایک ہوئی ہے، جی! اور کون کرے گا؟ چلیے بھئی! سماعیۃً، کیا ترکیب کریں گے؟ ذرا پہلے بتا دیں۔ اعنی، اعنی کیا ہے؟ فعل، اور اس کے اندر کون سی ضمیر ہے؟ فاعل، اور فعل کے آنے کے بعد صرف فاعل مرفوع ہو سکتا ہے اور کوئی مرفوع نہیں، لہٰذا سماعیۃٌ تو آپ پڑھ ہی نہیں سکتے، رفع اس پر پڑھ ہی، کیا پڑھیں گے؟ ہاں، اس کو مفعول بنانا ہے نصب پڑھو، جی! سماعیۃً، سماعیۃً اسم منسوب، اعراب سب سے پہلے! محلا محلا منصوب، محلا آپ نے کیوں کہا؟ لفظا، لفظا کیوں کہا؟ شاباش! نصب پر ہم کیا کر رہے ہیں؟ تلفظ، تو یہ منصوب لفظا ہوا، سماعیۃً اسم منصوب، منصوب لفظا، ہی ضمیر اس کا نائب فاعل، ہی ضمیر مرفوع محلا اس کا نائب فاعل، کس کو راجع؟ کس کو؟ بھئی یہ سماعی کس کی قسم بتلا رہے ہیں؟ لفظیہ کی، جی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ راجع ہے عوامل لفظیہ کو بھئی، کس کو راجع ہے؟ العوامل اللفظیۃ، العوامل اللفظیۃ کو جی। سماعیۃً، منصوب لفظا، نائب فاعل سے مل کر، شبہ جملہ، شبہ جملہ ہو کر، مفعول، سماعیۃً اسم منصوب اپنے نائب فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر، جی؟ مفعول، بھئی آگے معطوف بھی تو آ رہا ہے، اس کو بھی ملاؤ ساتھ! معطوف علیہ، معطوف علیہ، واؤ حرف عطف، قیاسیۃً، قیاسیۃً اسم منصوب، اعراب بتاؤ! منصوب لفظا، بھئی یہ منصوب کیوں ہوا ہے؟ معطوف، معطوف ہے، شاباش! اس کا معطوف علیہ منصوب تھا تو معطوف بھی کیا ہو گا؟ منصوب، جی، تو قیاسیۃً منصوب لفظا، اسم منصوب، ہی ضمیر مرفوع محلا اس کا، یرحمک اللہ! جی! ہی ضمیر اس کا نائب فاعل، مرفوع، مرفوع محلا اس کا نائب فاعل، جو کس کو راجع ہے؟ اللفظیۃ، العوامل اللفظیۃ کو راجع ہے بھئی العوامل اللفظیۃ کو، جی۔ اسم منصوب اپنے نائب فاعل سے مل کر، نائب فاعل سے مل کر یہ معطوف، شبہ جملہ، شبہ جملہ ہو کر معطوف، معطوف اپنے معطوف علیہ سے مل کر، معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر، معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر، یہ مفعول اعنی کے لیے، شاباش! یہ مفعول ہوا اعنی فعل مقدر کے لیے، جی! اعنی فعل، اعنی فعل مقدر، انا ضمیر اس کا، انا ضمیر اس کا فاعل، مرفوع محلا، شاباش! اعنی فعل، انا ضمیر مرفوع محلا اس کا فاعل، اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ، شاباش! اعنی فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ ہوا، اعنی یعنی کہ میری مراد یہ ہے، انا ہے نا؟ انا اس کے اندر، تو میری مراد کیا ہے؟ سماعی ہے اور، کہ وہ لفظی سماعی ہیں اور قیاسی ہیں بھئی۔ دو ترکیبیں ہو گئیں بھئی، تیسری ترکیب کون کرے گا؟ جی! سماعیۃً، صیغہ، کیا ترکیب کریں گے؟ پہلے بتلا دیں۔ جی؟ مبتدا؟ کس کو مبتدا خبر بنائیں گے؟ پورا جملہ بول دو جو آپ نے بنانا ہے۔ ہی سماعیۃٌ و قیاسیۃٌ، جی! سماعیۃٌ، تو بس مختصر کریں اب بھئی! ہی کیا بنے گا؟ مرفوع محلا، یہ کس کو راجع کریں گے آپ؟ کس کو؟ اللفظیۃ، کیونکہ یہ تقسیم کس کی ہو رہی ہے؟ لفظیہ کی، تو سماعیۃٌ، یہ کیا؟ اس کے اندر ضمیر کس کو راجع کریں گے؟ مبتدا کو راجع کریں گے جو آپ نے محذوف نکالنا ہے، اور قیاسیۃٌ اس کے اندر بھی ضمیر کس کو راجع کریں گے؟ مبتدا کو، تو سماعیۃٌ ہو جائے گا معطوف علیہ، اور قیاسیۃٌ ہو جائے گا معطوف، اور ان دونوں کی ضمیر کس کو راجع کریں گے؟ مبتدا کو، اور مبتدائے محذوف کیا نکالیں گے؟ ہی، شاباش! تو یہ کیا بن جائے گا جملہ؟ اسمیہ خبریہ، کہ وہ لفظی سماعی اور قیاسی ہیں، آگے، چوتھی ترکیب کون کرے گا؟ ہو گئیں چاروں؟ جی! چوتھی ترکیب کون کرے گا؟ بھئی دیکھو احدھا احدھما سماعیۃٌ والثانیھما قیاسیۃٌ، ایک ترکیب ہو گئی۔ ہی سماعیۃٌ وقیاسیۃٌ، دو ترکیبیں ہو گئیں۔ اور اعنی سماعیۃً وقیاسیۃً، کتنی ہو گئیں؟ تین، چوتھی ترکیب کیا؟ بدل بنا لیں، کیا بنا لیں؟ بدل بنائیں۔ کیسے پڑھیں گے؟ مبدل منہ کون؟ دو قسمیں بیان ہو رہی ہیں نا، تو یہ اس سے بدل، تو وہ مبدل منہ، اور مبدل منہ کا اعراب کیا ہے؟ مجرور، تو بدل کا اعراب بھی کیا ہو گا؟ مجرور، تو سماعیۃٍ وقیاسیۃٍ بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو اب، جی! پھر تر، جب سماعیۃٍ آپ نے بدل بنا رہے ہیں تو اس کی ضمیر کس کو راجع کریں گے؟ جی؟ اچھا، مبدل منہ، میں نے کہیں کہا ہے مبدل منہ کو ضمیر لوٹانا ضروری ہے؟ اچھا، کس کو راجع کریں؟ ضرب کو، ضربین کو ہی راجع کریں؟ جی؟ لفظیہ کو راجع نہیں ہونی چاہیے بھئی؟ لفظی ہے، ہاں! ذرا کرو، ربط دو ذرا بتاؤ! کہاں سے رابطہ ٹوٹتا ہے ذرا بتلاؤ؟ تو ہم اس کو کیا بنا رہے ہیں؟ بدل کا ذکر ہے وہاں؟ کیا ہے؟ سماعی خود غور کرو بھئی، خود غور کرو سارے ذرا۔ فاللفظیۃ منها علی ضربین لفظی ان میں سے دو قسم پر ہیں۔ سماعی ہیں اور قياسی ہیں۔ کون سماعی ہیں اور کون قياسی ہیں؟ لفظی بھئی۔ کون کون ہیں؟ بھئی لفظیہ کو نہیں راجع ہونی چاہیے؟ لفظیہ کو راجع ہونی چاہیے۔ اچھا تو اس کے اندر هی ضمیر کس کو راجع ہوگی؟ لفظیہ کو۔ اور قیاسیۃ اس کے اندر بھی هی ضمیر کس کو ہوگی؟ لفظیہ کو راجع ہوگی بھئی سمجھ میں ایا؟ تو یہ دونوں معطوف معطوف علیہ مل کر کیا بن جائیں گے؟ بدل۔ اچھا! اب مولانا عبارت پڑھیں گے تو یہاں پر اپ تینوں طرح کا اعراب پڑھ سکتے ہیں۔ اپ نے ابھی ترکیبیں کیں بھئی۔ لفظیۃ ومعنویۃ یوں بھی پڑھ سکتے ہیں۔ لفظیۃ ومعنویۃ یہ بھی پڑھ سکتے ہیں۔ لفظیۃ ومعنویۃ یہ بھی، تینوں پڑھے ہیں یا نہیں اپ نے؟ چار ترکیبوں میں۔ پھر اتا ہے فاللفظیۃ منها علی ضربین سماعیۃ وقیاسیۃ یوں بھی پڑھ سکتے ہیں۔ یا مولانا منصوب پڑھیں فاللفظیۃ منها علی ضربین سماعیۃ وقیاسیۃ منصوب بھی پڑھ سکتے ہیں۔ مجرور بھی پڑھ سکتے ہیں فاللفظیۃ منها علی ضربین سماعیۃ وقیاسیۃ بھئی، سمجھ میں ایا؟ اپ نے تین چار ترکیبیں پڑھیں، ان کی ہر ترکیب کے مطابق اعراب پڑھیں بھئی۔ جی اگے کون کرے گا؟ اچھا وہ نہیں بنے گا، ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔ بس ترکیب دیکھیں نا! اپ نے جو ترکیبیں کی ہیں اس کے مطابق دیکھ لیں، ہاں یہ لفظیۃ معنویۃ میں تو جر والی کوئی ترکیب ہم نے نہیں کی۔ تو یہ منصوب اور مرفوع پڑھ سکتے ہیں، مجرور نہیں پڑھ سکتے۔ اچھا جی! اگے پڑھیے کون کرے گا ترکیب؟ چلو بھئی اپ کریں بھئی۔ اپ نے کی نہیں ابھی؟ کب کی ہے؟ کل کی تھی۔ اپ نے کی ہے کل؟ چلو بھئی کرو۔ جی! فا تفصیلیہ۔ السماعیۃ مرفوع لفظاً اسم منسوب۔ اسم منسوب کہو، اسم مفعول نہ کہو اس کو بس۔ اسم منسوب اس کے اندر هی ضمیر مرفوع محلاً اس کا نائب فاعل۔ جی مرجع چاہیے ہمیں ضمیر، غائب کی ضمیر کا۔ کون؟ سماعی سماعی ہیں؟ بھئی پیچھے ترکیب نہیں ہوئی بھئی؟ بالکل اس جیسی ایک ترکیب گزر چکی ہے، سوچنے کی کیا بات ہے؟ جی؟ نہیں بھئی۔ کس کو راجع ہے؟ العوامل کو راجع ہے، اس کا موصوف محذوف ہے بھئی۔ اللفظیۃ کے اندر بھی تو اپ نے کیا نکالا تھا؟ العوامل اللفظیۃ، یہاں بھی العوامل السماعیۃ تو یہ موصوف کی طرف راجع۔ العوامل مرفوع لفظاً اس کا موصوف اور السماعیۃ شبہ جملہ ہو کر اس کی اس کی صفت اور اس کے اندر هی ضمیر کس کو راجع؟ موصوف کو، کس کو راجع؟ موصوف کو۔ موصوف صفت مل کر ذوالحال، کیا ہوئے؟ ذوالحال۔ من جار، ها ضمیر مجرور محلاً کس کو راجع؟ سماعی کس میں سے ہیں؟ سماعی کس میں سے ہیں، ابھی تو بیان کیا ہے انہوں نے؟ لفظی میں سے ہے، لفظی کی دو قسمیں بنائیں: ایک سماعی اور ایک قياسی۔ تو سماعی کس میں سے ہوئے؟ لفظی میں سے ہوئے۔ تو یہ ها ضمیر راجع ہے لفظیہ کو، جی۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ثابتۃ صيغہ اسم فاعل کے ساتھ۔ ثابتۃ صيغہ اسم فاعل اس میں هی ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، کس کو راجع؟ اچھا لفظیہ کو راجع، ٹھیک اگے۔ اسم فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر حال، کس کے لیے؟ السماعیۃ کے لیے، العوامل السماعیۃ کے لیے۔ بھئی حال ذوالحال میں اپ نے کوئی ربط نہیں دیا، اپ کیسے حال بنا رہے ہیں شبہ جملہ کو؟ حال کیسے بنا رہے ہیں، جوڑ کیسے رہے ہیں ذوالحال سے؟ ہاں ثابتۃ میں جو هی ضمیر ہے وہ کس کو راجع ہے؟ ذوالحال کو ذوالحال کو، جی۔ ذوالحال اپنے حال سے مل کر مبتدا۔ احدٌ اعراب بتاؤ بھئی۔ احدٌ مرفوع لفظاً معطوف علیہ۔ بھئی اس پر اپ رفع کیوں پڑھ رہے ہیں؟ پہلی وجہ تو ہمیں بتائیں۔ شاباش یہ خبر بنے گی اور خبر کیا ہوا کرتی ہے؟ ہاں جی، مرفوع لفظاً معطوف علیہ۔ و حرف عطف۔ تسعون مرفوع لفظاً معطوف۔ معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر مميز، کیونکہ عدد ہے اور عدد کس چیز کا تقاضا کرتا ہے؟ تمیز کا۔ اکانوے اکانوے کیا چیز ہیں بھئی؟ اگے تمیز چاہیے۔ عاملاً منصوب لفظاً اس کی تمیز۔ مميز تمیز مل کر خبر، مبتدا خبر مل کر ترکیب سمجھ میں آئی؟ اگے کون کرے گا؟ والقیاسیۃ منها، کون کرے گا؟ چلیے بھئی اپ کریں بھئی۔ یہ و ابتدائیہ کہاں سے لے کر اتے ہیں اپ؟ مجھے یہ تو بتائیں۔ عاطفہ، و عاطفہ۔ و ابتدائیہ کہتے کس کو ہیں پہلے مجھے یہ بتاؤ۔ کلام کی، یہ کلام کی ابتدا ہے؟ مجھے بتاؤ ذرا۔ یا کوئی نئی بات کر رہے ہیں؟ وہی بات جو چلی ارہی ہے اسی کی تفصیل در تفصیل کرتے جا رہے ہیں بھئی۔ و عاطفہ القیاسیۃ اعراب سب سے پہلے۔ القیاسیۃ مرفوع لفظاً اسم منسوب اس کے اندر هی ضمیر مرفوع محلاً اس کا نائب فاعل جو کس کو راجع؟ العوامل محذوف جو اس کا موصوف ہے بھئی، سمجھ میں ایا؟ تو صيغہ اسم منسوب اپنے نائب فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت العوامل کے لیے، موصوف صفت مل کر ذوالحال۔ من جارة، ها ضمیر مجرور محلاً کس کو راجع؟ یہ قياسی کس میں سے ہیں؟ لفظیہ میں سے ہیں، ها ضمیر کس کو راجع؟ لفظیہ کو، جی۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ثابتۃ کے ساتھ۔ ثابتۃ صيغہ اسم فاعل اس کے اندر هی ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، کس کو راجع؟ کس کو؟ لفظیہ کو راجع، کیوں بھئی کس کو راجع؟ جی؟ ذوالحال کہو نا! اس کو ہم نے کیا بنانا ہے؟ حال بنانا ہے تو اس کی ضمیر کس کو لوٹاؤ؟ ذوالحال سے ربط دینا ہے ہم نے، جی ذوالحال کو راجع۔ اسم فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر حال، جی۔ ذوالحال اپنے حال کے ساتھ مل کر مبتدا۔ سبعۃٌ مرفوع لفظاً مضاف۔ عوامل مجرور لفظاً مضاف الیہ۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ خبر ہوئی۔ خبر ہوئی مبتدا کے لیے۔ تو سبعۃٌ مرفوع لفظاً مضاف، عوامل مجرور لفظاً مضاف الیہ۔ اب ذرا اس کو پڑھو عبارت کو والقیاسیۃ پوری پڑھو وقف نہیں کرنا اپ نے۔ والقیاسیۃ منها سبعۃ عوامل بھئی، کیوں بھئی؟ کیا پڑھیں گے؟ جی؟ عواملَ پڑھیں گے، کیا پڑھیں گے؟ عواملَ، کیوں پڑھیں گے عواملَ؟ غیر منصرِف ہے، کیوں غیر منصرِف ہے؟ جی؟ جمع منتہی الجموع کا صيغہ ہے اور یہ کیا ہے؟ قائم مقام ہے کتنے اسباب کے؟ دو سببوں کے، تو یہ غیر منصرِف ہے بھئی۔ تو اس کو کیا کہیں گے؟ مجرور لفظاً یا مجرور تقدیراً؟ کیا کہیں گے اب؟ بھئی سبعۃٌ مرفوع لفظاً مضاف، عواملَ مجرور لفظاً؟ لفظاً کہیں گے، تقدیراً کہیں گے؟ لفظاً کہیں گے بھئی، غیر منصرِف کا جر اتا ہی کس کی صورت میں ہے؟ تو یہ لفظاً مجرور ہے، لفظاً کیا ہے؟ ہاں اس کا جر ایا ہی فتحہ کی صورت میں ہے۔ جیسے مولانا با کا جر یا کے ساتھ ایا کرتا ہے، اس کا جر کس کے ساتھ اتا ہے؟ فتحہ کے ساتھ اتا ہے۔ بھئی اپ نے نہیں پڑھا؟ کہ و جمیع الباب باللام او الاضافۃ ینجر بالکسر۔ پڑھا یا نہیں قافیہ میں بھئی؟ کہ سارا کا سارا باب جو غیر منصرِف کا ہے اس پر جب الف لام ا جائے یا اضافت ہو تو اس پر کیا ا جائے گا؟ کسرہ۔ پھر؟ ہاں وہ مضاف کی بات ہوئی ہے، غیر منصرِف اگر مضاف ہو جائے تو اس پر کیا ا جایا کرتا ہے؟ کسرہ ا جایا کرتا ہے، مضاف الیہ کی بات انہوں نے نہیں کی۔ یہاں یہ مضاف الیہ بن رہا ہے۔ چلیے مولانا بس کرتے ہیں، بس هذا هو المرام والله اعلم بحقیقۃ الکلام۔ اچھی طرح دہراؤ بھئی ان ترکیبوں کو بھئی، یہ ذرا مشکل ائیں شروع میں۔ دعا کر لو، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما، اے اللہ ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرما، اے اللہ نیکی کے اعمال کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اپ کے بعض ساتھیوں نے بھی دعا کا لکھا ہے دعا فرمائیں اللہ ان کی حاجات پوری فرمائے، اللہ ان کی پریشانیاں دور فرمائے۔ اے اللہ! سب کو روحانی اور جسمانی شفاء نصیب فرما، اے اللہ ہم سب کو جسمانی اور روحانی شفاء نصیب فرما۔ اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما، اے اللہ ہم سب کی قبروں کو منور فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں ان کے جو عزیز و اقارب وفات پا چکے ہیں، جو اساتذہ وفات پا چکے ہیں اللہ سب کی لغزشات سے درگزر فرما، اے اللہ سب کی مغفرت فرما، اے اللہ سب کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما، اے اللہ ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ صلی اللہ علیه وسلم۔