درس نمبر۔23 اچھا بھئی، گذشتہ ضابطوں کا ہم تکرار کر رہے تھے۔ میں نے بتلایا اپ کو کہ فعل جب بھی ائے گا، اس کے لیے فاعل چاہیے یا نائب فاعل چاہیے۔ اور فاعل یا نائب فاعل ہمیشہ فعل سے مؤخر ہوگا، کبھی بھی فعل پر مقدم نہیں ہوگا۔ اور بارہ چودہ صیغوں میں سے بتلایا تھا کہ بارہ صیغے جو ہیں ان میں فاعل ہمیشہ ضمیر ہوگی، جبکہ دو صیغے پہلا اور چوتھا یعنی واحد مذکر غائب اور واحد مؤنث غائبہ۔ ان دو صیغوں کا فاعل ضمیر بھی آ سکتی ہے اور اس میں ظاہر بھی آ سکتا ہے۔ تو یہ دو صیغے جب جملے کے اندر آ جائیں تو پھر اب آپ آگے تلاش کریں کہ کہیں کوئی اس میں ظاہر ان کا فاعل تو نہیں آ رہا۔ اگر آگے اس میں ظاہر آ رہا ہے تو وہ فاعل بن جائے گا اور پھر ان کے اندر ضمیر نہیں ہوگی۔ لیکن اگر آگے کوئی اس میں ظاہر نہیں، تو پھر اس صورت میں ان کے اندر ضمیر نکالنی پڑے گی فاعل کی بھئی۔ اور یہ بھی بتلایا تھا جیسے فعل ہمیشہ فاعل یا نائب فاعل کا تقاضا کرتا ہے، اسی طرح یہ جو صفت کے صیغے ہیں اس میں فاعل ہے، اس میں مفعول ہے، صفت مشبہ ہے، اسم تفضیل وغیرہ۔ یہ بھی فاعل یا نائب فاعل کا تقاضا کرتے ہیں۔ اس میں فاعل کے لیے ہمیشہ فاعل چاہیے۔ صفت مشبہ کے لیے بھی ہمیشہ فاعل چاہیے۔ اس میں تفضیل کے لیے بھی ہمیشہ فاعل چاہیے۔ البتہ اس میں مفعول کے لیے نائب فاعل چاہیے۔ تو جب بھی یہ آ جائیں، ان کا فاعل یا نائب فاعل کا آنا ضروری، لیکن عموماً وہ اکثر آپ کو نظر نہیں آئیں گے، بلکہ وہ کیا ہوگی، انہی کے اندر ضمیر ہوگی۔ ہاں کبھی اس میں ظاہر بھی آ سکتا ہے ان کا فاعل یا نائب فاعل۔ اس صورت میں پھر ان کے اندر ضمیر نہیں ہوگی بھئی، جیسے فعل کا آگے فاعل اس میں ظاہر آ جائے تو فعل کے اندر ضمیر نہیں ہوگی۔ اور یہ بھی بتلایا تھا آپ کو کہ اس میں یہ جو صفت کے صیغے ہیں، ان کو جس قسم کی ضمیر سے جوڑنا چاہیں، جس قسم کے اسم سے جوڑیں گے، اسی قسم کی ضمیر ان کے اندر نکالیں گے۔ مثلاً اگر آپ اس کو اس میں ظاہر کے ساتھ جوڑنا چاہتے ہیں، تو پھر کون سی ضمیر نکالیں گے؟ غائب والی، کون سی؟ کیونکہ اس میں ظاہر غائب کے درجے میں ہوتا ہے بھئی۔ اس میں ظاہر کس کے درجے میں ہے؟ تو زید قائم، یہ قائم کو زید سے جوڑ رہے ہیں، اور زید ہے اس میں ظاہر۔ تو لہٰذا اس قائم کے اندر اور اس میں ظاہر کس کے درجے میں ہے؟ غائب کے درجے میں، تو قائم کے اندر کون سی ضمیر نکالیں گے؟ غائب کی۔ لیکن اگر اس کو خبر بنائیں۔ متكلم کی ضمیر کے لیے یا مخاطب کی ضمیر کے لیے، تو وہی ضمیر اس کے اندر فاعل کی ہوگی۔ انا قائم کہیں تو پھر قائم کے اندر کون سی ضمیر فاعل کی ہوگی؟ انا، اور انت قائم کہیں تو قائم کے اندر کون سی ضمیر ہوگی؟ انت۔ یا جیسے میں کہتا ہوں نحن قائمون، اب اس قائمون کے اندر کون سی ضمیر فاعل ہوگی؟ نحن نکالیں گے۔ تو یہ صفت کے صیغوں میں واؤ اور الف آتے ہیں، یہ صرف تثنیہ اور جمع کی علامتیں ہیں، ضمیریں نہیں۔ فعل کے اندر جو الف اور واؤ آتے ہیں وہ دراصل ضمیریں ہوتی ہیں، ان کو فاعل بناتے ہیں۔ لیکن اسم کے ساتھ جو صفت کے صیغے قائمانی، قائمونا، الف اور واؤ آئے، یہ ضمیریں نہیں ہیں، بلکہ کس چیز کی علامتیں ہیں؟ تثنیہ اور جمع کی اور دلیل میں نے بتلائی تھی، دلیل یاد رکھو، پھر بات ذہن سے نہیں نکلتی کہ یہ حالتِ رفعی اور نصبی جری میں بدل جاتے ہیں۔ حالتِ نصبی میں کیا کہیں گے، حالتِ رفعی میں بھئی تثنیہ میں کیا کہتے ہیں؟ قائمانی، اور نصبی جری میں قائمینی، تو وہ الف کس سے بدل گیا؟ یا سے، معلوم ہوا یہ ضمیر نہیں، ضمیر کبھی بدلتی نہیں، یہ صرف علامت ہے تثنیہ کی۔ اور اسی طرح جمع کے اندر حالتِ رفعی میں کہتے ہیں قائمونا، اور حالتِ نصبی جری میں قائمینا، تو وہ واؤ کس سے بدل گیا؟ یا سے، معلوم ہوا یہ واؤ جو ہے یہ ضمیر نہیں ہے، بلکہ صرف جمع کی علامت ہے، ضمیر اس کے اندر مستتر ہوگی ہمیشہ بھئی۔ تو اب میں کہتا ہوں نحن قائمونا، تو نحن مبتدا ہے، قائمونا کو ہم اس نحن کے ساتھ جوڑ رہے ہیں، اس کے لیے خبر بنا رہے ہیں اور یہ صیغہ ہے صفت کا اور صفت کے صیغے کے لیے ہمیشہ فاعل یا نائب فاعل چاہیے۔ تو یہ ہے اسم فاعل، اور اسم فاعل کے لیے آپ کو کیا چاہیے؟ فاعل یا نائب فاعل بھئی؟ فاعل چاہیے۔ تو وہ کون سی ضمیر ہوگی اس کے اندر؟ نحن کی ضمیر ہوگی، نحن۔ اور اسی طرح اگر میں کہتا ہوں انتم قائمونا، تو انتم ہے مبتدا مرفوع محلاً اور قائمونا اس کی خبر بن رہی ہے، تو اس کے اندر کون سی ضمیر فاعل کی ہوگی؟ انتم ہی ہوگی کیونکہ قائمونا کو ہم کس سے جوڑ رہے ہیں؟ مخاطب کی ضمیر سے۔ اسی طرح میں کہتا ہوں انتما قائمانی، اب قائمانی کے اندر کون سی ضمیر ہوگی؟ انتما۔ تو جس قسم کے اسم سے اس کو جوڑیں، جس قسم یا جس قسم کی ضمیر سے اس کو جوڑیں، اسی قسم کا اس کے اندر فاعل نکالیں گے۔ اس کے بعد جار مجرور کی ترکیب شروع کی تھی، میں نے بتلایا تھا جار مجرور ہمیشہ کسی سے متعلق ہوں گے۔ تو ان کے لیے کسی نہ کسی متعلق کا ہونا ضروری۔ اور ان کا جو متعلق ہے وہ آٹھ چیزوں میں سے کوئی ایک ہوگا بھئی۔ وہ آٹھ چیزیں کون کون سی ہیں؟ پہلے فعل ہے، دوسرا مصدر ہے، تیسرا اسم فاعل، چوتھا اسم مفعول، پانچواں صفت مشبہ، چھٹا اسم تفضیل، ساتواں مبالغے کے صیغے اور آٹھواں اسم فعل۔ یہ آپ کو یاد ہونے چاہیے ہر وقت بھئی۔ جار مجرور ان میں سے کسی ایک سے متعلق ہوں گے۔ اگر جملے کے اندر ان میں سے کوئی ایک موجود ہے اور جار مجرور آ جائیں، تو پھر جار مجرور کو اس کے ساتھ جوڑ کر دیکھیں، اسی سے جڑ رہا ہے یا نہیں جڑ رہا۔ اور اس کا کیا طریقہ میں نے بتلایا تھا؟ کیسے پتہ چلے گا کہ اس سے جڑ رہا ہے یا نہیں جڑ رہا؟ جی؟ ترجمہ کریں، جملے کے باقی سارے لفظوں کو ختم کر دیں، صرف اس متعلق کو پکڑیں یعنی جار مجرور کو، اور متعلق جس کے ساتھ آپ جوڑ رہے ہیں اور پھر ان دونوں کو جوڑ کر ترجمہ کیجیے، اگر ترجمہ صحیح ہوتا ہے، معلوم ہوا جار مجرور اسی سے متعلق ہے۔ اگر ترجمہ صحیح نہیں ہو رہا، تو پھر اب آپ کو محذوف نکالنا پڑے گا، کیونکہ ان آٹھ میں سے اور تو کوئی جملے میں ہے نہیں، تو کیا کرنا پڑے گا؟ محذوف نکالنا پڑے گا۔ اب جار مجرور کا متعلق اگر عبارت میں ذکر ہو، تو اسے کیا کہیں گے؟ جار مجرور کو ظرف کہتے ہیں میں نے بتلایا تھا بھئی، کیا کہتے ہیں؟ ظرف کہتے ہیں۔ تو اب ان کا متعلق اگر جملے میں مذکور ہے، تو انہیں کیا کہیں گے؟ ظرفِ لغو، اور اگر ان کا متعلق محذوف ہے، تو پھر کیا کہیں گے؟ ظرفِ مستقر کہیں گے، ظرفِ مستقر۔ اور یہ جار مجرور کو ظرف کہتے ہیں مجازاً بھئی۔ ظرف تو دراصل وہ ہیں جن میں زمانے یا مکان کا معنی پایا جائے۔ لیکن ان کو بھی مجازاً ظرف کہتے ہیں۔ اس کی وجہ بھی میں نے بتلائی تھی، اس لیے کہ ظرفِ حقیقی اور یعنی وہ جس کے اندر زمانے یا مکان والا معنی پایا جائے اور جار مجرور، ان دونوں میں آپس میں مناسبت ہے بھئی۔ ظرفِ حقیقی کی مناسبت جار مجرور سے یہ ہے کہ جیسے ظرفِ حقیقی کے لیے عامل کا ہونا ضروری، جار مجرور کے لیے بھی عامل کا ہونا ضروری۔ وہ جو متعلق ہے وہ عامل ہوتا ہے ان کے اندر بھئی۔ تو جیسے ظرفِ حقیقی کے لیے عامل ضروری، اسی طرح جار مجرور کے لیے بھی عامل کا ہونا ضروری۔ اور جیسے یعنی جار مجرور کی مناسبت ظرف کے ساتھ یہ کہ ہر ظرف جو ہے، وہ جار مجرور کی تقدیر میں ہوتا ہے۔ ہر ظرف کس کی تقدیر میں ہے؟ جار مجرور کی تقدیر میں۔ مثلاً میں کہتا ہوں ضربت الیوم یا ضربت زیداً الیوم۔ تو میں نے زید کی پٹائی کی آج کے دن، یہ الیوم ظرف ہے، لیکن یہ کس تقدیر میں ہے؟ فی الیوم، ضربت زیداً فی الیوم، آج کے دن میں میں نے زید کی پٹائی کی۔ تو جار تو ظرف بھی جار مجرور کی تقدیر میں ہوتا ہے تو دونوں کی ایک دوسرے کے ساتھ مناسبت ہوتی ہے۔ آں، درمیان میں ایک بات جو کل کے سبق میں بتلائی تھی وہ رہ گئی، اعتراض یہ ہوتا تھا کہ فعل اپنے فاعل کے ساتھ مل کر جملہ بنتا ہے، تو اسم فاعل کو بھی اب یا صفت کے صیغوں کو بھی اپنے فاعل یا نائب فاعل سے مل کر کیا بننا چاہیے؟ جملہ بننا چاہیے، اسے جملہ کہنا چاہیے۔ ضرب زیداً۔ اب آپ اسے کیا کہتے ہیں؟ ضرب فعل، زید فاعل، یہ کیا بنا؟ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ۔ لیکن اگر آپ کہتے ہیں، قائم، قائم اس کے اندر فاعل، اس کے اندر ہوا ضمیر فاعل۔ اس میں فاعل اپنے فاعل سے مل کر کیا بنا؟ شبہ جملہ۔ آپ اس کو جملہ نہیں کہتے، فعل کو جملہ کہہ دیتے ہیں اور اس کو جملہ کیا وجہ ہے اس کی؟ میں نے بتلایا تھا کہ جیسے اس صفت کے صیغے کی مشابہت فعل کے ساتھ ہے، اسی طرح اس کی مشابہت اسم جامد کے ساتھ بھی ہے۔ کس کے ساتھ؟ اسم جامد مفرد کے ساتھ بھی ہے۔ جیسے فعل کے ساتھ تو مشابہت ظاہر ہے، فعل کے لیے جیسے فاعل یا نائب فاعل چاہیے، ان کے لیے بھی کیا چاہیے؟ فاعل یا نائب فاعل۔ اس میں جامد کے ساتھ ان کی مشابہت بعید لحاظ ہے کہ جیسے اسم جامد بدلتا نہیں تینوں حالتوں میں، تکلم، خطاب اور غائب، تین حالتیں ہیں، اسی طرح یہ صفت کے صیغے بھی تینوں حالتوں میں نہیں بدلتے، اسی طرح رہتے ہیں۔ مثلاً میں کہتا ہوں انا قائم، انت قائم، ہوا قائم۔ تو دیکھو انت کے لیے خبر بنایا قائم کو پھر بھی وہی قائم، انا کے لیے پھر بھی قائم، ہوا کے لیے پھر بھی کوئی تبدیلی نہیں آ رہی۔ جیسے کہتے ہیں انا رجل، انت رجل، ہوا رجل۔ تو جیسے اس رجل اسم جامد میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی، اسی طرح صفت کے صیغوں میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آتی بس۔ تو لہٰذا اس کی مشابہت اسم جامد کے ساتھ بھی ہوئی۔ تو وہ ہیں مفرد، تو یہ بھی کیا ہیں؟ مفرد ان کی تو ان کو جملہ نہیں کہیں گے، بلکہ کیا کہیں گے؟ شبہ جملہ تو یہ مفرد ہیں بھئی۔ اور یہ یاد رکھیں بھئی، جار مجرور یا جتنی بھی چیزیں صفت کے صیغے کے ساتھ جڑ جائیں، وہ ہمیشہ مفرد ہی رہتا ہے۔ قائم کے ساتھ بھئی جار مجرور جملے میں آ رہا ہے، مثلاً میں نے کہا زید قائم فی الدار تو ترکیب کیا ہوگی؟ زید مرفوع لفظاً مبتدا، قائم مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل، اس کے اندر ہوا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع ہے؟ زید کو راجع ہے۔ اور فی جارہ، الدار مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر کس سے متعلق ہوئے؟ قائم سے، کس سے؟ یہ قائم سے متعلق ہوئے۔ اب صفت کا صیغہ قائم جو ہے، اس میں فاعل، وہ اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر اب بھی مفرد کا مفرد رہے گا بھئی۔ کیا رہے گا؟ تو دیکھو ابھی تو صرف جار مجرور اس سے ملے ہیں، اس کے ساتھ ہزار چیزیں بھی مل جائیں، یہ پھر بھی کیا رہے گا؟ مفرد رہے گا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ مثلاً دیکھو زید ضارب، زید ضارب، ابوہ، عمراً، فی الدار الیوم۔ تو ابوہ ضارب کے لیے فاعل بنے گا، عمراً ضارب کے لیے مفعول بنے گا، الیوم ضارب کے لیے ظرف بنے گا، اور فی الدار یہ بھی کس سے متعلق ہو جائے گا؟ ضارب سے، تو یہ ساری چیزیں ضارب سے مل گئیں، لیکن ضارب پھر بھی کیا رہے گا؟ مفرد رہے گا۔ اچھا، تو جار مجرور کا اگر متعلق عبارت میں ذکر ہے، تو اسے ظرفِ لغو کہتے ہیں، اور اگر محذوف ہے تو اسے ظرفِ مستقر کہتے ہیں۔ اب اگر وہ متعلق محذوف ہے، تو محذوف نکالنا پڑے، تو اسے افعالِ عامہ میں سے بھی نکال سکتے ہیں اور افعالِ خاصہ میں سے بھی بھئی۔ افعالِ عامہ مشہور چار ہیں بھئی، کون؟ ثبوت، وجود اور حصول۔ یہ چار افعالِ عامہ ہیں مشہور بھئی۔ ان کو افعالِ عامہ اس لیے کہتے ہیں کہ ہر فعل کے اندر ان کا معنی پایا جاتا ہے۔ جیسے ضرب بھئی، ضرب کے بھئی، زید ضرب، تو اس ضرب کے اندر چاروں افعالِ عامہ پائے جا رہے ہیں۔ اس میں کون بھی ہے، کون کا معنی ہونا، تو پٹائی کا ہونا پایا جا رہا ہے۔ اس میں ثبوت بھی ہے، پٹائی کا ثبوت ہے۔ اس میں حصول بھی ہے، کس چیز کا؟ پٹائی کا۔ اور اس کے اندر وجود بھی ہے، کس کا؟ پٹائی کا۔ سب کا ایک معنی ہے۔ لیکن باقی افعال افعالِ خاصہ ہیں، ایک فعل کا معنی دوسرے کے اندر نہیں پایا جاتا، مثلاً اکل کا معنی ضرب کے اندر نہیں، اور ضرب کا معنی اکل کے اندر نہیں۔ تو باقی افعالِ خاصہ تو محذوف افعالِ عامہ میں سے بھی نکال سکتے ہیں اور افعالِ خاصہ۔ پھر اس کے اندر بھئی، محذوف ان سے فعل بھی نکال سکتے ہیں اور صفت کا صیغہ بھی، یعنی مفرد بھی، فعل نکالیں گے تو جملہ بنے گا بھئی، مفرد نکالیں گے تو پھر جملہ نہیں بنے گا، شبہ جملہ بنے گا۔ شبہ جملہ۔ جے۔ ہاں، پھر ایک یہ بات میں نے ذکر کی تھی کہ اگر ان چاروں میں سے جس سے بھی آپ نکالنا چاہیں نکال سکتے ہیں، لیکن تین کے اندر بھئی فعلِ معروف نکالیں گے اور اگر صفت کا صیغہ نکالنا ہے تو اس میں فاعل۔ اور ایک ہے جس کے اندر فعلِ مجہول نکالنا پڑے گا یا اس میں مفعول بھئی۔ کون، ثبوت، وجود، حصول بھئی۔ کون سے فعل بنانا چاہیں تو کیا بنائیں گے؟ کانا۔ اور صفت، پھر قائم۔ ثبوت سے فعل نکالنا چاہیں تو ثبتا، اس میں صفت نکالنا چاہیں تو اس میں فاعل، ثابت۔ اور حصول سے بھئی، اس سے اگر فعل نکالنا چاہیں تو حصل، اور صفت نکالنا چاہیں تو اس میں فاعل یعنی حاصل۔ لیکن وجود سے اگر آپ فعل نکالنا چاہتے ہیں تو فعلِ مجہول نکالیں گے اور وہ کیا ہے؟ وجد۔ اور اگر اس سے آپ صفت کا صیغہ نکالنا چاہتے ہیں تو پھر اس میں مفعول یعنی موجود نکالیں گے۔ اور یہ بھی بتلایا تھا آپ کو کہ ظرفِ مستقر کلامِ عرب میں صرف چار جگہ کو ملے گا بھئی۔ کلامِ عرب میں صرف چار جگہ۔ خبر کے مقام میں، صفت کے مقام میں، حال کے مقام میں اور صلے کے مقام میں۔ خبر، صفت، حال اور صلہ۔ ان چاروں مقامات میں آئے گا ظرفِ مستقر، ان کے علاوہ کہیں اور ظرفِ مستقر نہیں آئے گا بھئی۔ اور یہ ضابطہ ذکر کیا تھا کہ نکرہ جملہ جو ہے وہ نکرہ کے حکم میں ہے، تو جب نکرہ کے بعد فعل آ جائے تو وہ کیا بنے گا اس کے لیے؟ صفت بنے گا۔ لیکن معرفہ کے بعد فعل آ جائے، تو وہ عموماً اس کے لیے حال بنے گا، یاد رکھنا۔ نکرہ کے بعد فعل آئے تو کیا بنے گا؟ صفت، معرفہ کے بعد فعل آئے تو حال بنے گا۔ اسی طرح جار مجرور ہیں۔ اگر نکرہ کے بعد آ جائیں، تو کیا بنیں گے؟ صفت بنیں گے۔ جار مجرور نکرہ کے بعد آئیں بھئی تو کیا بنیں گے اس کے لیے عموماً؟ صفت۔ لیکن اگر معرفہ کے بعد آئیں، تو اس کے لیے حال بنیں گے بھئی، حال۔ اس کے بعد اس میں موصول کی ترکیب کی تھی ہم نے بھئی۔ اس میں موصول، اس میں موصول جملے کا جزءِ تام نہیں بنتا، جب تک اس کے ساتھ اس کا صلہ نہ ملے۔ جب بھی کلام میں اس میں موصول آ جائے، فوراً آپ نے کس کو تلاش کرنا ہے؟ صلے کو، اس کے آگے اس کا صلہ ضرور آئے گا بھئی۔ اور ایک فعل کے ایک اس میں موصول کے کئی صلے بھی آ سکتے ہیں، یہ بھی جائز ہے بھئی۔ لیکن عموماً آتے کتنے صلے ہیں؟ ایک ہی صلہ عموماً آتا ہے بھئی۔ تو جب بھی اس میں موصول آئے، اس کے لیے صلہ چاہیے، اور صلہ ہمیشہ جملہ ہوا کرتا ہے بھئی۔ تو اس کو جملہ، اگر وہاں پر ا، جملے کے اجزاء پورے نہیں، تو کیا کرنے پڑیں گے بھئی؟ محذوف وغیرہ نکال کر پورا جملہ کریں، پھر اس کو کیا بنا دیں؟ صلہ بنا دیں بھئی۔ اور صلے، صلہ چونکہ ہے جملہ، اور جملہ ہے مستقل، وہ کسی سے جڑنے کا محتاج نہیں، اپنا معنی پورا ادا کر رہا ہے۔ لیکن آپ اس جملے کو صلہ بنا کر کس سے جوڑ رہے ہیں؟ موصول سے، تو کیا چاہیے؟ عائد چاہیے، ربط چاہیے بھئی۔ تو اس میں کوئی ضمیر ہونی چاہیے جو کس کی جانب لوٹے؟ موصول کی طرف، اگر ضمیر نہیں، تو صلہ نہیں بن سکتا بھئی۔ لہٰذا اگر مذکور نہ ہو، تو کیا کرنا پڑے گا؟ محذوف نکالنی پڑے گی اگر محذوف نکالنا ممکن ہو۔ اگر محذوف نکالنا بھی ممکن نہیں، تو پھر معلوم ہوا ترکیب درست نہیں ہے، بلکہ ترکیب میں کوئی غلطی ہے بھئی۔ اگر اس میں موصول کے بعد صرف جار مجرور آ جائیں بھئی، صرف جار مجرور اور کچھ نہیں، پھر کیا کریں گے بھئی؟ ویسے تو جار مجرور کا متعلق آٹھ چیزوں میں سے کوئی بھی چیز ہو سکتی ہے بھئی۔ اور میں نے آپ کو بتایا فعل بھی محذوف نکال سکتے ہیں اور صفت کا صیغہ بھی محذوف نکال سکتے ہیں۔ لیکن اگر یہاں آپ مفرد نکالیں، تو اس مفرد کے صیغے کے ساتھ جار مجرور جڑ کر جملہ بنے گا یا مفرد ہی رہے گا؟ مفرد ہی رہے گا کیونکہ مفرد کے ساتھ تو ہزار چیزیں بھی جڑ جائیں، وہ پھر بھی کیا ہے؟ مفرد ہے۔ لہٰذا اگر موصول کے بعد صرف جار مجرور ہوں، تو وہاں پر صفت کا صیغہ نہیں نکالیں گے، بلکہ کیا نکالیں گے؟ فعل نکالیں گے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ فعل نکالیں۔ اگر آپ نے صفت کا صیغہ نکال لیا، تو پھر اس کے لیے ایک اور مبتدا الگ سے نکالنا پڑے گا، پھر مبتدا خبر مل کر کیا بنیں گے؟ جملہ بنیں گے، پھر بات صحیح بنے گی۔ جی، اب کچھ ترکیبیں کر لیجیے بھئی۔ یہ گزر چکی ہیں غالباً اکثر ترکیبیں شاید کچھ باقی ہوں۔ جی، تو یہ موصول بھی یاد رکھنا، موصول کو چاہے مبتدا بنائیں۔ موصول کو چاہے خبر بنائیں۔ چاہے اس کو فاعل بنائیں، چاہے مفعول بنائیں۔ لیکن جو کچھ بھی بنانا ہے، پہلے اس کے ساتھ کس کو جوڑنا ہے؟ صلے کو۔ صلے کو جوڑ کر اب آپ اس کو مبتدا بھی بنا سکتے ہیں، خبر بھی بنا سکتے ہیں، فاعل بھی بنا سکتے ہیں، مفعول بھی۔ لیکن صلے کے بغیر یہ کچھ بھی نہیں بن سکتا۔ جاء، جی لکھیے بھئی۔ جاء الذی ضرب کا ضرب کا فی السوق جی؟ بس یہ لکھے ہوئے اب کچھ جملے شاید ان میں باقی ہوں، میرے ذہن میں نہیں ہیں، چلو دوبارہ کر لیں گے بھئی کچھ مشق ہو جائے گی۔ جاء الذی ضرب کا فی السوق بھئی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی کیجیے بھئی۔ جاء فعل جاء فعل ضمیر ذی سے موصول، اس میں موصول، کس کے موصول؟ اے اعراب الذی اس میں موصول، مرفوع محلاً۔ بھئی یہ مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ یہ جا کا فاعل بنے گا بھئی، اور محلاً کیوں کہا؟ کیونکہ یہ مبنیات میں سے ہے، اور مبنی کا اعراب محلاً آتا ہے۔ جی آگے ضرب فعل، ضرب فعل ہوا۔ ضمیر مرفوع محلاً کا فاعل جو راجع ہے، شاباش! ضرب فعل اس کے اندر ہوا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع ہے؟ الذی کو، یہ عائد آ گیا بھئی، اس نے پورے صلے کو جوڑ دیا موصول کے ساتھ بھئی۔ آگے کاف ضمیر منسوب محلاً کیا بنایا بھئی، منسوب محلاً؟ مفعول بہی بھئی۔ فی جارہ۔ فی جار۔ السوق مجور لفظا۔ السوق مجزور لفظاً۔ جار مجرور مل کر، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ضرب فعل کے، ہاں جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ضرب فعل کے ساتھ۔ ضرب فعل، اپنے فاعل اور مفعول به اور متعلق سے مل کر، جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر یہ صلہ ہوا موصول کے لیے۔ شاباش! ضرب فعل اپنے فاعل، مفعول بہی اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر یہ صلہ ہوا موصول کے لیے۔ موصول صلہ مل کر، یہ جاء کا فاعل۔ ہاں، موصول اپنے صلے سے مل کر یہ فاعل بنا جاء کے لیے، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ روانی سے پڑھیے بھئی۔ جاء الذی ضرب کا فی السوق، ترجمہ کیجیے! آیا وہ آدمی جس نے تم کو مارا بازار میں۔ ہاں، آیا وہ جو، وہ شخص کہ ضرب کا کہ پٹائی کی اس نے آپ کی فی السوق، بازار میں۔ وہ شخص آیا جس نے بازار میں آپ کی پٹائی کی۔ یہ ان اور ان کی ترکیب ہم نے شروع کی تھی بھئی؟ جی نہیں۔ ٹھیک ہے جی، لکھیے بھئی زيد ضارب ابوہ ابوہ عمراً ترکیب بھئی؟ جی کیجیے بھئی۔ زید مرفوع لفظاً مبتدا، زید مرفوع لفظاً مبتدا ضارب مرفوع لفظاً صیغہ، اس میں فاعل، صفت ضارب مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل، ابو مرفوع لفظاً مضاف، ابو مرفوع لفظاً مضاف، ہ ضمیر مجرور محلاً مضاف اليه، ہ ضمیر مجرور محلاً مضاف اليه۔ آپ نے ابوہ ان کو مضاف مضاف اليه کیوں بنایا بھئی؟ کسی بھی اسم کے بعد مت، ہاں، جس اسم کے ساتھ بھی ضمیر متصل آئے انہیں آپس میں کیا بناتے ہیں؟ مضاف مضاف اليه۔ تو ابو مضاف، ہ ضمیر مضاف اليه، اور مضاف، جی، تو ہ ضمیر کا کیا اعراب بتایا آپ نے؟ مجرور ہے۔ مجرور ہے اور محلاً بھئی، مجرور اس لیے کہ مضاف اليه ہے، محلاً اس لیے کہ یہ ضمیر ہے، مبنیات میں سے ہے۔ اچھا، یہ ابوہ کا آپ نے کیا اعراب بتلایا؟ مفعول لفظاً۔ مرفوع ہے لفظاً۔ مرفوع کیوں بناتے ہو اس کو بھئی؟ یہ ضارب کا فاعل ہے۔ شاباش، یہ ضارب کے لیے کیا بنے گا؟ بھئی صفت کا صیغہ ہے، اس کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ فاعل یا نائب فاعل۔ تو یہ ہے اسم فاعل، اس کے لیے چاہیے فاعل، اور وہ فاعل اکثر اسی کے اندر ضمیر ہوتی ہے، لیکن کبھی کبھی اس میں ظاہر بھی آ جاتا ہے جیسے یہاں پر ہے بھئی۔ تو ابو ان کا فاعل آ رہا ہے۔ بھئی لفظاً کیوں کہا آپ نے؟ اسماء ستہ مکبرہ، جب مضاف ہوں غیر یاء متكلم کے، تو ان کا اعراب رفعی حالت میں واؤ کے ساتھ، حالتِ نصبی میں الف کے ساتھ، حالتِ جری میں یا کے ساتھ، اور یہاں اس کا اعراب واؤ کے ساتھ آ رہا ہے اور اس واؤ پر ہم تلفظ بھی کر رہے ہیں۔ کیا کر رہے ہیں؟ تلفظ بھی کر رہے ہیں۔ تو، یہ لفظاً ہوا، مرفوع لفظاً۔ جی آگے، صضاف اپنے مضاف اليه سے مل کر فاعل ہوا ضارب صفت کا۔ جی، ابو مضاف اپنے مضاف اليه سے مل کر یہ فاعل ہوا ضارب کے لیے۔ عمراً منسوب لفظاً، مفعول بهی ہوا ضارب کا۔ شاباش! عمراً بھئی، اب فاعل کے آنے کے بعد اور کوئی مرفوع تو آ نہیں سکتا، آگے منسوبات ہی آ سکتے ہیں زیادہ سے زیادہ یا مجرور۔ تو عمراً منسوب لفظاً مفعول بہی کس کے لیے؟ ضارب کے۔ دیکھو، جو جیسے زاربہ فاعل چاہتا تھا، صفت کا صیغہ بھی اسی سے بنا ہے، تو یہ بھی فاعل بھی چاہے گا اور مفعول بهی۔ تو فعل لازم سے اگر صفت کے صیغے آئے ہیں، تو وہ صرف فاعل چاہیں گے یا صرف، صرف فاعل چاہیں گے۔ اور اگر فعل متعدی سے آئے ہیں، تو فعل متعدی جیسے مفعول چاہتا ہے، اسی طرح یہ صفت کے صیغے فاعل کو بھی چاہیں گے اور مفعول کو۔ تو یہ عمراً مفعول ہے کس کے لیے؟ ضارب کے لیے۔ فی جارہ، الدار لفظاً مجرور۔ فی جار، الدار مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر، صفت لغو متعلق ضارب کے۔ ہاں، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے یہ ضارب کے ساتھ بھئی۔ ضارب فی الدار، پٹائی کرنے والا ہے گھر میں۔ ترجمہ صحیح ہو رہا ہے یا صحیح نہیں ہو رہا بھئی؟ ترجمہ صحیح ہو رہا ہے معلوم ہو رہا ہے جڑ رہا ہے، جی۔ اليوماً منسوب لفظاً، مفعول فیہ ضارب کا۔ شاباش! اليوما منسوب لفظاً یہ مفعول فیہ، اس میں زمانے والا معنی آیا یہ مفعول فیہ بنا کس کے لیے؟ ضارب کے لیے۔ با جارہ، العصا مجرور۔ با جار، العصا مجرور بھئی، مجرور کیوں کہا؟ مجرور تقدیرًا، مجرور اس وجہ سے کہ اس پر با جار، ہاں، مجرور ہے کیونکہ با جار، اور پھر مجرور کون سی قسم ہے؟ کون سا اعراب؟ تقدیرا ہے بھئی، انہوں نے کہا۔ کیوں تقدیرًا کیوں ہے؟ اس میں مقصور ہے آخر میں الف ہے۔ شاباش، یہ اس میں مقصور ہے، الفِ مقصورہ آخر میں ہے بھئی۔ تو، عصا بھئی۔ تو، مجرور تقدیرًا، جار مجرور مل کر، جار مجرور مل کر ظرفِ لفظ متعلق صفت کے۔ یہ جار مجرور پھر اسی ضارب سے متعلق ہوئے بھئی، ان آٹھ چیزوں میں سے اس وقت صرف اس میں فاعل یہاں موجود ہے اور یہ سب اس سے جڑتے جا رہے ہیں، معنی بھی صحیح ہے۔ ضارب بالعصا، پٹائی کرنے والا ہے کس کے ساتھ؟ لاٹھی کے ساتھ، معنی بھی صحیح بن رہا ہے۔ ابوہ کی ہو ضمیر راجع ہے زید کی طرف اور وہ عائد ہے۔ ہ کہو بھئی، ہ۔ ابوہ کی ہ ضمیر راجع ہے، مبتدا کی طرف اور وہ عائد ہے۔ جی۔ شاباش! تو دیکھو، پہلے جوڑو ذرا ان کو بھئی۔ ضارب صیغہ صفت، اپنے فاعل، مفعول بہی، متعلق سے اول، مفعول فی اور متعلق سے ثانی سے مل کر، شبہ جملہ ہو کر خبر ہوئی مبتدا کی۔ جی شاباش! تو دیکھو، ضارب صیغہ اس میں فاعل، اپنے فاعل، مفعول بہی، مفعول فی، اور متعلقین سے مل کر بھئی، یہ کیا ہوا؟ شبہ جملہ ہو کر یہ خبر ہوئی کس کے لیے؟ مبتدا کے لیے۔ تو آپ جیسے جملے کو جوڑنے کے لیے عائد کی ضرورت پڑتی تھی، شبہ جملہ کو جوڑنے کے لیے بھی عائد چاہیے۔ تو یہاں پر کون سی ضمیر عائد بھئی؟ ابوہ کے ساتھ جو ہ ضمیر آ رہی ہے یہ کس کو لوٹ رہی ہے؟ زید کو لوٹ رہی ہے یہ عائد ہے بھئی۔ جی۔ زید مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ مبتدا، زید مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ جی، روانی سے ذرا پڑھیے بھئی۔ زید ضارب ابوہ عمراً فی الدار یوماً بالعصا۔ زید جی۔ دکھاؤ بھئی، میں نے تو ادھر لکھا نہیں ہوا یہ جملہ۔ جی۔ زيد ضارب ابوه عمراً في الدار يوماً بالعصا جی، ترجمہ کیجیے بھئی۔ زيد کے مارنے والا ہے اس کا غالب، عمر کو گھر میں آج لاٹھی کے ساتھ۔ جی، زید کی پٹائی کرنے والا ہے ابو، اس کا باپ، عمر کی، گھر میں، آج کے دن، لاٹھی کے ساتھ، وے۔ تو معلوم ہوا پٹائی کرنے والا کون؟ زید ہے۔ زید ہے پٹائی کرنے والا یا اس کا باپ ہے پٹائی کرنے والا؟ اس کا باپ پٹائی کرنے والا۔ تو دیکھا، تو یہ ضارب لفظوں کے اعتبار سے ہے صفت زید کی، لیکن معنی کے اعتبار سے یہ صفت کس کی ہے؟ زید کے والد باپ کی بھئی، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ پٹائی کرنے، بھئی یہ ضارب خبر کس کی ہے؟ زید کی۔ لیکن ضارب ہے کون؟ زید کا باپ۔ تو یہ اس کو کیا کہیں گے؟ صفت بحالِ متعلقہ، بھئی خبر بھی صفت ہوتی ہے نا، دراصل قبل العلم وہ خبر ہے، بعد العلم وہ صفت ہے۔ چلیے، بس کرتے ہیں . الحمد لله رب العالمين، صلی اللہ علٰی۔