درس 103‏ ولما فرغ المصنف عن بحث الإجماع شرع في بحث القياس، فقال: باب القياس. القياس في اللغة التقدير، وفي الشرع تقدير الفرع ‏بالأصل في الحكم والعلة. وإنما فسر بهذا التفسير لأنه أقرب إلى اللغة بقلة التغيير‎.‎ ولما فرغ المصنف رحمه الله عن بحث الإجماع، اور جب مصنف رحمه الله اجماع کی بحث سے فارغ ہوئے، شرع في بحث ‏القياس تو قیاس کی بحث میں شروع ہوئے، قیاس۔ بھئی آپ نے پڑھا تھا کہ شریعت کے ادلہ چار ہیں، بھئی چار: کتاب اللہ، سنت رسول، اجماع اور قیاس۔ یعنی آپ کو بتلایا ‏جاتا ہے یہ چیز فرض ہے، یہ یہ چیز واجب ہے، یہ یہ چیز مثلاً مستحب ہے، اور یہ یہ چیز حرام ہے یا مکروہ ہے، ان کا ‏پتہ کس سے چلتا ہے؟ قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس سے۔ یہ چار ادلہ ہیں بھئی، یہ دلیل کے طور پر ذکر ہوتے ہیں۔ تو اب سب سے آخری آخر میں قیاس کی بحث کرنے لگے ہیں۔ چونکہ کتاب اللہ کا درجہ سب سے مقدم تھا اس لیے اس کو ‏سب سے پہلے ذکر کیا۔ اس کے بعد درجہ تھا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا، تو دوسرے نمبر پر اسے ذکر کیا۔ تیسرے ‏نمبر پر درجہ تھا اجماع کا، تو تیسرے نمبر پر اجماع کو ذکر کیا۔ اور قیاس کا درجہ چونکہ آخری ہے اس لیے سب سے ‏آخر میں اب قیاس ذکر کر رہے ہیں۔ فقال پس مصنف نے فرمایا: باب القياس، یہ أي هذا باب القياس، یہ قیاس کا باب ہے۔ القياس في اللغة التقدير، قیاس جو ہے ‏لغت میں یعنی عربی زبان میں تقدیر کو کہتے ہیں۔ کس کو کہتے ہیں؟ تقدیر۔ یعنی ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ اندازہ کر کے برابر کرنا بھئی۔ ایک چیز کا دوسری چیز کے ساتھ اندازہ لگا کر ‏اس کے برابر کرنا بھئی۔ یہ کیا ہے؟ قیاس بھئی۔ تو قیاس کا کیا معنی بیان کیا میں نے؟ ایک چیز کا دوسری چیز کے ساتھ اندازہ کر کے اس کے برابر کرنا بھئی۔ یہ ہے ‏قیاس بھئی۔ چنانچہ عربی میں اگر آپ ایک کپڑے کا اندازہ لگاتے ہیں گز کے ساتھ اس کے برابر کرتے ہیں تو آپ کہیں گے: قست ‏الثوب بالذراع، میں نے کپڑے کا اندازہ لگایا اس کو برابر کیا کس کے ساتھ؟ ذراع گز کے ساتھ بھئی، گز شرعی گز۔ یا اسی طرح موچی جو پہلے تو جوتے ہاتھ سے بنا کرتے تھے، تو وہ ایک جوتے کو مثلاً اس نے اندازہ کر کے دوسرے ‏جوتے کے برابر بنایا بھئی، تو کیا کہتے تھے؟ قاس النعل بالنعل بھئی، قاس النعل بالنعل، ایک جوتے کو دوسرے جوتے ‏کے برابر کیا بھئی، اندازہ لگا کر اس کے برابر کیا۔ جی، تو معلوم ہوا تقدیر کا کیا معنی ہے؟ ایک چیز کا دوسری چیز کے ساتھ اندازہ کر کے اس کے برابر کرنا، اور یہی ‏معنی ہے قیاس کا بھئی۔ چنانچہ کہتے ہیں: القياس في اللغة التقدير، قیاس جو ہے عربی زبان کے اندر تقدیر ہے یعنی ایک ‏چیز کا دوسری چیز کے ساتھ اندازہ کر کے برابر کرنا۔ تو یعنی برابر کرنا ایک چیز کو دوسری کے۔ وفي الشرع اور اصطلاح شریعت میں: تقدير الفرع بالأصل في الحكم والعلة، ‏برابر کرنا ہے فرع کو اصل کے ساتھ حکم اور علت میں۔ فرع کو اصل کے ساتھ برابر کرنا حکم اور علت میں۔ بھئی اصل وہ ہے جس کا حکم پہلے ہی سے معلوم ہے، جس میں اجتہاد کی ضرورت تھی نہیں، قرآن و سنت کے ذریعے ‏اس کا حکم پہلے ہی معلوم ہے۔ اور فرع جس کا حکم اس اصل کے سے اندازہ کر کے اس کے برابر کر کے نکالا جائے ‏بھئی۔ مثلاً دیکھیے، شراب حرام ہے اس کا حکم معلوم ہے قرآن و سنت سے بھئی۔ آپ علت اس میں غور کیا اس کی کیا ‏علت ہے؟ تو معلوم ہوا اس کی علت نشہ ہے۔ یہی نشہ ہمیں ہیروئن یا بھنگ میں ملا تو اس پر بھی یہی حکم لگا دیا۔ اب یہ ‏ہیروئن اور بھنگ کا حکم معلوم نہیں تھا، تو البتہ شراب کا حکم معلوم تھا، تو اس کی علت فقہاء نے نکالی مجتہدین نے اور ‏کیا نکلی؟ نشہ۔ وہی نشہ ہیروئن یا بھنگ میں ملا تو اس پر بھی وہی حکم لگا دیا۔ تو جس پر قیاس کیا گیا اس کو کہتے ہیں مقیس علیہ بھئی، کیا کہتے ہیں؟ مقیس علیہ، جس پر قیاس کیا گیا۔ اور جس کو ‏قیاس کیا گیا یعنی فرع اس کو مقیس کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ تو یہاں شراب ہوئی مقیس علیہ، اور ہیروئن یا بھنگ ہے ‏مقیس، اور علت جامعہ کیا ہے دونوں کے اندر؟ نشہ ہے۔ تو شراب کا جو حکم معلوم تھا وہی حکم کس کو دے دیا؟ ہیروئن ‏یا بھنگ کو کہ یہ بھی حرام ہے کیونکہ اس میں بھی وہی علت پائی جا رہی ہے۔ تو یہ ہے قیاس بھئی۔ یعنی فرع کو برابر کرنا اصل کے ساتھ حکم اور علت میں، کہ وہی علت یہاں بھی ہے تو وہی حکم ‏یہاں بھی آ جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ معنی ہے تقدير الفرع بالأصل في الحكم والعلة، برابر کرنا فرع کو اصل کے ساتھ حکم اور علت میں۔ وإنما فسر بهذا التفسير لأنه أقرب إلى اللغة بقلة التغيير، بھئی قیاس کی اور بھی تعریفات کی ہیں علماء نے، ماتن نے اس ‏تعریف کو کیوں اختیار کیا؟ کہتے ہیں شارح بتلا رہے ہیں کہ ماتن نے قیاس کی یہ تعریف اس لیے کی کیونکہ یہ لغت کے ‏زیادہ قریب ہے۔ لغت کے، اس کے لغوی معنی کے زیادہ قریب ہے بھئی۔ لغوی معنی کیا تھا قیاس کا؟ تقدیر، برابر کرنا، ‏اور تعریف میں بھی کیا لفظ لے کر آئے؟ تقدیر، برابر کرنا، تو یہ اس کے قریب ہے۔ بس اس میں تھا تقدیر مطلق، اور یہاں ‏پر اس کے ساتھ قید بڑھ گئی: تقدير الفرع بالأصل في الحكم والعلة، تو بہرحال یہ اس کے قریب ہے بھئی۔ تو اس لیے اس ‏تعریف کو اختیار کیا۔ تو کہتے ہیں: وإنما فسر بهذا التفسير، مصنف نے اس تفسیر کے ساتھ قیاس کو بیان کیا، لأنه أقرب إلى اللغة کیونکہ یہ لغت ‏کے زیادہ قریب ہے، بقلة التغيير تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ۔ وما يتوهم أنه لا يشمل القياس بين المعدومين، بھئی یہاں ایک اعتراض اور اس کا جواب ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ کہ بعض ‏علماء نے یہ وہم کیا کہ یہ قیاس وہ قیاس جو دو معدوم چیزوں کے درمیان ہو یہ تعریف اس کو شامل نہیں۔ وہ قیاس جو دو ‏معدوم چیزوں کے درمیان ہو وہ اس کو شامل، یعنی جہاں اصل اور فرع عدمی ہوں وہ اس تعریف میں داخل نہیں ہو رہے ‏بھئی۔ کیونکہ قیاس کی انہوں نے کیا تعریف کی؟ تقدير الفرع بالأصل، فرع کو برابر کرنا کس کے ساتھ؟ اصل کے ساتھ۔ ‏اصل کسے کہتے ہیں؟ ما يبتنى عليه غيره، جس پر دوسری چیز کی بنیاد ہو۔ اصل کسے کہتے ہیں؟ جس پر دوسری چیز ‏کی بنیاد ہو، معلوم ہوا اصل کوئی وجودی چیز ہو گی جس پر دوسری کی بنیاد ہے۔ عدمی تو نہیں ہو گی، جب اس پر ‏دوسری چیز کی بنیاد ہے تو یقیناً یہ کیا ہو گی کوئی؟ اصل کا وجودی ہونا ضروری، اور فرع؟ فرع اسے کہتے ہیں: ما ‏يبتنى على الشيء، جو دوسری چیز پر جس کی بنیاد ہو بھئی۔ فرع کسے کہتے ہیں؟ جس کی دوسری چیز پر بنیاد ہو، تو ‏لازمی بات ہے جس پر بنیاد ہو گی وہ بھی کوئی وجودی چیز ہو گی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اور یہ خود بھی کیا ہو گی؟ یہ ‏وجودی چیز ہے بھئی، ما يبتنى على الغير بھئی، جس کی غیر پر بنیاد ہے۔ معلوم ہوا اصل بھی وجودی اور فرع بھی ‏وجودی۔ تو جہ سے سننا بھئی۔ اعتراض یہ کہ آپ کی یہ تعریف اس میں یہ جو دو معدومین کے درمیان قیاس ہو اس کو شامل نہیں ‏کیونکہ اس تعریف میں آپ نے اصل اور فرع کو ذکر کیا، اور اصل بھی وجودی اور فرع بھی وجودی، لہذا یہ عدمی کو ‏شامل نہیں، عدمی پر ان کا اطلاق صحیح نہیں۔ مثلاً بھئی، قیاس کیا جائے معدوم العقل، ایک شخص ہے وہ معدوم العقل ہے، ‏اس کی عقل نہیں ہے جنون کی وجہ سے۔ اسی طرح بچہ جو ہے وہ بھی معدوم العقل ہے نہ بالغ ہونے کی وجہ سے۔ تو وہ ‏بچہ نہ بالغ ہے اس لیے وہ احکام شرعیہ کا مکلف نہیں، تو اس معدوم العقل پر قیاس کیا جائے کس کو؟ اسی پر قیاس کیا ‏گیا مجنون کو، یہ بھی معدوم العقل ہے تو یہ بھی احکام شرعیہ کا مکلف نہیں ہو گا بھئی، احکام شرعیہ اس پر لاگو نہیں ‏ہوں گے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ اور علت جامعہ کیا ہے دونوں میں؟ کہ دونوں معدوم العقل ہیں۔ تو بچے کا حکم تو معلوم تھا کہ وہ مکلف نہیں، تو دوسرا ‏جب دوسرا مجنون کے اندر بھی وہی علت پائی گئی تو وہی حکم اس پر بھی آ جائے گا، معلوم ہوا وہ بھی احکام شرعیہ کا ‏مکلف نہیں ہے بھئی۔ تو دیکھیے، یہاں ایک عدمی چیز کا قیاس کیا جا رہا ہے عدمی چیز پر، معدوم العقل جس کی عقل نہ ہو، نہ ہو، دیکھا؟ نہ ‏ہونے کا معنی ہے۔ اور آپ نے جو تعریف کی، اصل اور فرع اس میں آئے، اور اصل اور فرع تو وجودی ہوتے ہیں، اور ‏یہ دونوں تو کیا ہیں؟ عدمی، لہذا ان کو اور اصل اور فرع کا اطلاق ہی نہیں ہو سکتا۔ اصل اور فرع کا وجودی ہونا ‏ضروری، اور یہ دونوں تو کیا ہیں؟ عدمی، لہذا ان پر اصل اور فرع کا اطلاق درست نہیں۔ تو جواب دیں گے کہ ہمیں یہ بات تسلیم نہیں کہ عدمی چیز پر اصل اور فرع کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ آپ نے اصل اور فرع ‏کی جو تعریف کی ہم وہ تعریف کرتے ہی نہیں، ہاں وہ تعریف کریں پھر تو وجودی ہونا ضروری، اصل وہ جس پر غیر ‏کی بنیاد ہو، معلوم ہوا یہ بھی وجودی ہو گی۔ اور فرع وہ جس کی غیر پر بنیاد ہو، معلوم ہوا وہ بھی کوئی وجودی چیز ہو ‏گی۔ ہم یہ تعریف کرتے ہی نہیں۔ ہم کہتے ہیں اصل وہ ہے جس کا حکم پہلے سے ہی معلوم ہے۔ اور فرع وہ ہے جس کا ‏حکم پہلے معلوم نہیں ہے۔ اب دیکھو، جس کا حکم پہلے معلوم ہے وہ ہے اصل، اب وہ چاہے عدمی ہو، وجودی ہو، دونوں ‏اس میں آ گئے بھئی۔ اور فرع جس کا حکم پہلے معلوم نہ ہو بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ اب ایسی تعریف کر دی ‏اصل اور فرع کی کہ اب یہ قیاس بین المعدومین کو بھی شامل ہوا بھئی۔ تقریر سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی بھئی؟ کہ ہم نے وہ ‏تعریف اصل اور فرع کی وہ تعریف کرتے ہی نہیں، ہم کیا کرتے ہیں اصل کی تعریف؟ جس کا حکم معلوم ہو چاہے ‏وجودی ہے یا عدمی ہے۔ اور فرع بھی اسی طرح جس کا حکم معلوم نہیں ہے چاہے اب وجودی ہے یا عدمی ہے، تو یہ ‏معدومین کو بھی شامل ہوئے دونوں بھئی۔ وما يتوهم، اور وہ جو وہم کیا گیا ہے، أنه لا يشمل القياس بين المعدومين، کہ یہ تعریف شامل نہیں ہے اس قیاس کو جو دو ‏معدوم چیزوں کے درمیان ہو، كقياس عديم العقل بسبب الجنون على عديم العقل بسبب الصغر، جیسے قیاس کرنا عديم العقل ‏یعنی معدوم العقل جس کی عقل نہ ہو بسبب الجنون جنون کی وجہ سے، تو یہ جو عدیم العقل ہے جس کی عقل نہیں جنون کی ‏وجہ سے اس کو قیاس کرنا على عديم العقل بسبب الصغر اس عدیم العقل پر جو اس پر جو عدیم العقل ہے کس کی وجہ سے؟ ‏صغر کی وجہ سے۔ تو یہ اس کو شامل نہیں، یہ اعتراض چل رہا ہے۔ لأنه لا يطلق عليه الفرع والأصل، کیونکہ ان پر ‏کیونکہ ان پر اصل اور فرع کا اطلاق نہیں ہوتا، فباطل، یہ خبر آ گئی۔ جہاں اعتراض شروع ہوا تھا: وما يتوهم، اور وہ جو ‏وہم کیا گیا ہے، پھر درمیان میں وہم ذکر کر دیا گیا، فباطل، یہ وہم کیا ہے؟ باطل ہے، لأنا لا نسلم أنه لا يطلق الأصل ‏والفرع على المعدوم، کیونکہ ہمیں یہ بات تسلیم نہیں ہے کہ اصل اور فرع کا اطلاق معدوم پر نہیں ہوتا، بلکہ ان پر بھی ‏اصل اور فرع کا اطلاق ہوتا ہے۔ وقيل، اور کہا گیا ہے، بعضوں نے اور تعریف کی بھئی قیاس کی، شارح اس کو رد کریں گے بھئی۔ وقيل، اور کہا گیا ہے: ‏هو تأدية الحكم من الأصل إلى الفرع، کہ قیاس جو ہے وہ متعدی کرنا ہے حکم کو اصل سے فرع کی طرف، بعضوں نے یہ ‏تعریف کی۔ کیا تعریف کی؟ حکم کو متعدی کرنا اصل سے فرع کی طرف۔ کہتے ہیں: وهو باطل، اور یہ باطل ہے یہ ‏تعریف، لأن حكم الأصل، بھئی وجہ یہ انہوں نے کہا حکم کو متعدی کرنا اصل سے فرع کی طرف، یعنی حکم کا تجاوز ‏کرنا اصل سے فرع کی طرف، کہتے ہیں یہ تعریف درست نہیں۔ کیونکہ اصل کا حکم اصل سے تجاوز کر کے فرع کی ‏طرف نہیں آتا، ورنہ تو پھر اصل بغیر حکم کے رہ جائے گا۔ اصل کا حکم اصل کے ساتھ ہی رہتا ہے، ہاں اس کے مثل ‏حکم کس کو دے دیا جاتا ہے؟ فرع کو، تو فرع کی طرف اصل کا حکم نہیں آتا متعدی نہیں ہوتا بلکہ اس کا مثل متعدی ہوتا ‏ہے بھئی۔ اور انہوں نے تو کیا کہا تھا تعریف کی؟ تأدية الحكم من الأصل، اصل ہی کا حکم جو ہے اصل سے متعدی ہو ‏جاتا ہے فرع کی طرف، وهو باطل، یہ باطل ہے، لأن حكم الأصل قائم به، اسی کیونکہ اصل کا حکم اس کے ساتھ قائم ہے، ‏لا يتعدى منه، اس سے متعدی نہیں کیا جاتا، وإنما يتعدى مثله، اور اس کے مثل حکم ہی کو متعدی کیا جاتا ہے بھئی۔ ولذا قيل، اور اسی وجہ سے کہا گیا، بعضوں نے یہ تعریف کی بھئی اسی وجہ سے: هو إبانة مثل حكم أحد المذكورين بمثل ‏علته في الآخر، بعضوں نے پھر قیاس کی اسی وجہ سے یہ تعریف کی کہتے ہیں: هو إبانة، إبانة أبان يبين إبانة کا معنی ‏ظاہر کرنا، هو إبانة مثل حكم أحد المذكورين، دو مذکوروں میں سے ایک کے، دو مذکور کون بھئی؟ اصل اور فرع۔ دو ‏مذکورین میں سے ایک کے حکم کے مثل کو یعنی ایک کے جیسے حکم کو ظاہر کرنا، بمثل علته، اسی کے مثل علت کی ‏وجہ سے، في الآخر، دوسرے میں۔ أحد المذكورين میں سے ایک کے مثل حکم کو ظاہر کرنا دوسرے میں اسی کے مثل ‏علت کی وجہ سے۔ جیسے بھئی أحد المذكورين مثلاً شراب ہے، اس کا حکم کیا ہے؟ حرمت، اسی کے حکم کا مثل یعنی ‏حرمت ہی کو ظاہر کرنا، بمثل علته، اسی کے مثل علت یعنی نشے کی وجہ سے، في الآخر، دوسرے میں یعنی ہیروئن یا ‏بھنگ میں بھئی۔ فاختير لفظ الإبانة، پس اختیار کیا گیا إبانة کے لفظ کو، اس تعریف میں کون سا لفظ اختیار کیا گیا؟ إبانة، ظاہر کرنا، لأن ‏القياس مظهر لا مثبت، کیونکہ قیاس مظهر حکم ہے، مثبت حکم نہیں ہے بھئی، یہ صرف حکم کو ظاہر کرتا ہے، حکم تو ‏یہی تھا البتہ پہلے ظاہر نہیں تھا ہر ایک سمجھ نہیں سکتا تھا، قیاس نے کیا کیا اس کو آ کر؟ ظاہر کر دیا، تو قیاس مظهر ‏حکم ہے، مثبت حکم نہیں ہے بھئی، یہ کوئی نیا حکم نہیں بلکہ یہ صرف اس کو ظاہر کرتا ہے۔ وزيد لفظ المثل، اور بڑھایا گیا اس تعریف کے اندر مثل کے لفظ کو، مثل جیسے آیا تھا: مثل حكم أحد المذكورين۔ اور وہ وزید لفظ المثل اور مثل کے لفظ کو بڑھایا گیا لان المعد هو مثل الحكم لا عين الحكم۔ اس لیے کیونکہ وہ جس کو ‏متعدی کیا گیا وہ مثلِ حکم ہے نہ کہ عینِ حکم۔ عینِ حکم تو اصل ہی کے ساتھ قائم ہے، ہاں اس کے مثل حکم کو متعدی کر ‏دیا گیا کس کی طرف؟ فرع کی طرف۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وانه حجة نقلا وعقلا۔ اور بے شک یہ قیاس حجت ہے نقل کے اعتبار سے بھی اور عقل کے اعتبار سے بھی۔ بئی نقل کے اعتبار سے بھی قیاس حجت، عقل کے اعتبار سے بھی قیاس حجت۔ نقل بھی یہی کہتی ہے، قیاس کو حجت ہونا ‏چاہیے۔ نقل یعنی قرآن اور حدیث۔ قرآن اور حدیث بھی یہی کہتے ہیں کہ قیاس حجت ہے، عقل بھی یہی بتلاتی ہے کہ قیاس ‏کو حجت ہونا چاہیے بھئی۔ تو قیاس حجت ہے نقل کے اعتبار سے بھی اور عقل کے اعتبار سے بھی۔ وانما قال هذا یہ ماتن نے اس لیے فرمایا، ماتن ‏نے یہ فرمایا لان بعض الناس ينكر كون القياس حجة۔ اس لیے کیونکہ بعض لوگ جو ہیں وہ انکار کرتے ہیں قیاس کے ‏حجت ہونے کا۔ لان الله، آگے ان کی دلیلیں ذکر کر رہے ہیں بھئی منکرینِ قیاس بھئی۔ بعض لوگ کیا کرتے ہیں؟ قیاس کا ‏انکار کرتے ہیں، اسی لیے ماتن کو کہنا پڑا کہ وانہ حجة نقلاً وعقلاً۔ اور ان کی آگے دلیلیں ذکر کر رہے ہیں بھئی، تین ‏دلیلیں ان کی ذکر کریں گے۔ پہلی دلیل کتاب اللہ سے وہ ذکر کریں گے، دوسری سنتِ رسول سے، اور تیسری وہ عقلی دلیل ‏بھئی۔ کہتے ہیں لان الله تعالى قال، اس لیے کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے، ونزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء۔ اور اے پیغمبر! ‏ہم نے آپ پر نازل کی ہے کتاب تبیاناً لكل شيء جو بیان کرنے والی ہے ہر چیز کو۔ ہم نے آپ پر ایسی کتاب نازل کی ہے ‏جو ہر چیز کو واضح بیان کرنے والی ہے، فلا يحتاج الى القياس، تو یہ محتاج نہیں، جب کتاب خود سب کچھ بیان کر رہی ‏ہے تو یہ قیاس کی محتاج نہیں ہے۔ تو یہ پہلی دلیل انہوں نے دی، انہوں نے کہا قیاس کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ‏کتاب اللہ سب کچھ خود بیان کر رہی ہے، جب سب کچھ خود بیان کرنے والی ہے تو اس کو قیاس کی ضرورت نہیں ہے ‏بھئی۔ ولان، دوسری دلیل حدیث سے بھئی۔ کس کی دلیلیں چل رہی ہیں بھئی؟ منکرینِ قیاس کی۔ ولان النبي عليه الصلوۃ والسلام ‏قال، کیونکہ حضور علیہ السلام نے فرمایا، لم يزل امر بني اسرائيل مستقيما حتى كثرت فيهم اولاد السبايا، ہمیشہ بنی اسرائیل ‏کا معاملہ سیدھا رہا یہاں تک کہ بڑھ گئیں ان میں قیدیوں کی اولاد۔ یعنی قیدی عورتوں کی اولاد، باندیوں کی اولاد ان میں ‏بڑھ گئی، فقاسوا، پس انہوں نے قیاس کیا، ما لم يكن، وہ جو نہیں تھا، بما قد كان، اس پر جو تھا۔ جو نہیں تھا اس کو انہوں ‏نے قیاس کیا اس پر جو تھا، فضلوا واضلوا، پس وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔ تو کہتے ہیں دیکھا! حدیث سے پتہ چلا بھئی کہ بنی اسرائیل والوں کا معاملہ درست رہا لیکن جب انہوں نے قیاس شروع کیا ‏تو وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔ یہ دوسری دلیل ان کی۔ تیسری دلیل، ولان القياس في اصله شبهة، اس لیے کیونکہ قیاس کی اصل میں شبہ ہے، اذ لا يعلم ان هذا هو علة للحكم، اس ‏لیے کیونکہ یہ معلوم نہیں ہے۔ یہاں علم یقین کے معنی میں ہے، اس لیے کیونکہ یہ بات یقینی نہیں ہے کہ ان هذا هو علة ‏للحكم کہ یہی یہ یہی حکم کی علت ہے۔ بئی قیاس میں کیا کیا جاتا ہے؟ کہ وہ علت علت نکالی جاتی ہے حکم کی، اس حکم کی علت کیا ہے، اور وہی علت جب ‏دوسری جگہ ملتی ہے تو وہی حکم وہاں پر بھی لگا دیا جاتا ہے اسی کے مثل۔ تو معترض اعتراض کر رہے ہیں بھئی کہ بھئی علت اس علت کا علت ہونا یقینی نہیں، یہ تو مجتہد نے اپنی رائے سے ‏نکالی ہے، ہو سکتا ہے یہ علت نہ ہو، کوئی اور علت ہو۔ سمجھ میں آیا؟ چنانچہ آپ دیکھتے بھی ہیں بھئی، وہ ربا کے ‏سلسلے میں جو حدیث آپ نے پڑھی تھی بھئی، الحنطة بالحنطة والشعير بالشعير والتمر بالتمر والملح بالملح والذهب بالذهب ‏والفضة بالفضة مثلا بمثل يدا بيد والفضل ربا۔ چنانچہ یہاں سے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور علت نکالتے ہیں، امام ‏مالک رحمہ اللہ اور علت نکالتے ہیں، امام شافعی رحمہ اللہ اور علت نکالتے ہیں۔ تو ہر ایک نے الگ الگ علت نکالی۔ تو معلوم ہوا علت کا یقینی ہو علت یقینی نہیں، جبھی تو ان میں آپس میں اختلاف آ رہا ہے، اگر علت یقینی ہوتی تو اختلاف ‏آتا نہیں، تو علت میں کے یعنی علت ہی میں شبہ آ گیا بھئی قیاس کی علت ہی میں شبہ آ گیا، تو لہذا اس کو حجت نہیں ہونا ‏چاہیے بھئی۔ علت ہی پر تو بنیاد ہے، آپ حکم کو کیا کرتے ہیں؟ متعدی کرتے ہیں، اصل سے کس کی طرف؟ فرع، بنیاد ‏کس پر ہوئی؟ علت پر، اور علت کیا ہے؟ وہ تو یقینی نہیں، جب یقینی نہیں تو معلوم ہوا یہ قیاس صحیح نہیں بھئی، یہ ‏درست نہیں بھئی، یہ بھی یقینی نہ رہا بھئی، لہذا اس کو حجت نہیں ہونا چاہیے بھئی۔ دلیل ان کی سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں ولان القياس في اصله شبهة، کیونکہ قیاس جو ہے اس کی اصل میں شبہ ہے، اصل سے کیا مراد ہے؟ علت ‏یانہ، اذ لا يعلم ان هذا هو علة للحكم، اس لیے کیونکہ یہ بات یقینی نہیں کہ یہی اس کی علت یہی علت ہے اس حکم کی۔ ‏والجواب عن الاول، اب جواب دیں گے تینوں کا۔ کہتے ہیں والجواب عن الاول، اور جواب پہلے جو دلیل سے، کہ ان القياس ‏كاشف عما في الكتاب ولا يكون مباينا له۔ بئی آپ نے پہلی دلیل کیا ذکر کی تھی؟ کہ ہم نے آپ کی طرف اے پیغمبر ایسی کتاب نازل کی ہے جو ہر چیز کو واضح ‏بیان کرنے والی ہے۔ تو جواب یہ بھئی، کہ قیاس بھی مظہرِ حکم ہے، ابھی ہم نے آپ کو بتلایا، کاشف ہے، کھولنے والا ‏ہے، واضح کرنے والا ہے، تو یہ کوئی اس کتاب اللہ کے خلاف نہیں، ہاں کتاب اللہ میں بعض باتیں تو بالکل واضح ہیں، ‏بعض کچھ خفی ہیں، وہ غور و فکر سے معلوم ہوتی ہیں، تو یہ قیاس اسی چیز کا تو نام ہے کہ غور و فکر کر کے ان ‏احکام کو نکالا جائے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ کوئی کتاب اللہ کے خلاف نہیں ہے بلکہ جواب کیا ہوا؟ کہ کتاب اللہ میں کچھ چیزیں جلی ہیں، کچھ چیزیں خفی ہیں، تو ‏وہ کچھ احکام جلی ہیں، کچھ خفی ہیں، تو قیاس کے ذریعے وہ جو خفی ہیں احکام ان کو ظاہر کیا جاتا ہے، ان کو کھولا ‏جاتا ہے بھئی، تو یہ اس کے کوئی خلاف نہیں ہے بھئی۔ والجواب عن الاول، اور جواب پہلے اعتراض سے کہ ان القياس كاشف، پہلی دلیل سے، ان القياس كاشف، کہ قیاس جو ہے ‏وہ کھولنے والا ہے، کشف کرنے والا ہے، عما في الكتاب، اس چیز سے جو کتاب اللہ میں ہے، ولا يكون مباينا له، اور یہ ‏اس کے مباین نہیں ہے بھئی۔ وعن الثاني، اور دوسری دلیل سے یہ جواب ہے، کہ ان قياس بني اسرائيل لم يكن الا للتعنت والعناد، کہ بنی اسرائیل کا قیاس ‏تو صرف تعنت اور عناد کے لیے تھا۔ تعنت کہتے ہیں بلا وجہ دوسرے کے لیے پریشانی کھڑی کرنا، تکلیف دینا، تو یعنی ‏شرارت۔ الا للتعنت، ان کا قیاس صرف کس لیے تھا؟ بطورِ شرارت کے تھا، والعناد، اور ضد کے طور پر تھا۔ تو وہ جو ‏قیاس کرتے تھے وہ شرارت اور ضد کے طور پر کرتے تھے، وقياسنا لاظهار الحكم، اور ہمارا قیاس تو حکم کے ظاہر ‏کرنے کے لیے ہے بھئی۔ تو آپ کا اس حدیث کو قیاس کے رد میں پیش کرنا صحیح نہیں۔ وہاں جو قیاس ذکر ہے وہ اور قیاس ہے، اور یہاں ہم جس ‏قیاس کی بات کر رہے ہیں وہ اور قیاس ہے، ان کے قیاس جو ہے وہ شرارت اور ضد پر اس کی بنیاد ہوتی تھی، اور ہمارا ‏قیاس جو ہے وہ حکم کو ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ وعن الثالث، اور جواب تیسری دلیل سے، کہ ان شبهة العلة في القياس لا تنافي العمل، کہ علت کے اندر شبہ قیاس میں لا تنافی ‏العمل، یہ عمل کے منافی نہیں ہے، وانما تنافي العلم، یہ تو علم یعنی یقین کے منافی ہے، ٹھیک ہے علت کے اندر شبہ ہے، ‏وہ یقینی نہیں، لیکن یقینی نہ یقین کا ٹھیک ہے اس سے فائدہ نہیں، لیکن ظن کا فائدہ تو ہے، عمل کے تو یہ منافی نہیں، ‏جیسے خبرِ واحد بھی ظن کا یقین کا فائدہ تو نہیں دیتی لیکن ظن کا فائدہ دیتی ہے، اور اس پر عمل واجب ہوتا ہے یا نہیں ‏واجب ہوتا بھئی؟ یہ تو آپ بھی تسلیم کرتے ہیں، کہ جب خبرِ واحد پر عمل واجب ہے اگرچہ وہ ظن کا فائدہ دے رہی ہے، ‏تو یہاں پر بھی قیاس ظن کا فائدہ دے گا تو اس پر کیا عمل واجب ہوگا، ہاں وہ یقین کا فائدہ نہیں دے گا۔ کہ قیاس کہ تیسرے تیسری دلیل کا جواب یہ، کہ قیاس کی علت میں شبہ یہ عمل کے منافی نہیں، وانما تنافي العلم، یہ یقین ‏کے منافی ہے، وذلك جائز، اور یہ جائز ہے، یہ تو ہو سکتا ہے بھئی، کہ ایک چیز علم کا فائدہ تو نہ دے لیکن عمل کا فائدہ ‏دے بھئی، کہ اس پر عمل واجب ہو جائے، جیسے کیا ہے؟ خبرِ واحد ہے بھئی۔ اما النقل، بھئی یہ اوپر مصنف نے متن میں ذکر کیا وانه حجة نقلا وعقلا کہ قیاس حجت ہے، نقل بھی یہی کہتی ہے یعنی ‏قرآن و حدیث بھی یہی بتلاتے ہیں، اور عقل بھی یہی کہتی ہے، اب وہ نقلی دلیل یعنی قرآن و حدیث سے دلیل ذکر کریں گے ‏قیاس کے حجت ہونے کی۔ اما النقل، باقی نقل جو ہے، فقوله تعالى، پس اللہ تعالی کا قول، فاعتبروا يا اولي الابصار۔ فاعتبروا یا اولی الابصار‎!‎ فاعتبروا يا اولي الابصار! سبق حاصل کرو اے عقل والو! نصیحت حاصل کرو اے عقل والو‎!‎ تو اللہ قرآن میں فاعتبروا فرما رہے ہیں بھئی فاعتبروا۔ اب معنی بیان کر رہے ہیں فاعتبروا کا، کہتے ہیں لان الاعتبار رد ‏الشيء الى نظيره، لان الاعتبار، بھئی پیچھے صیغہ تو امر کا آیا اور ترجمہ کر رہے ہیں لان الاعتبار معنی مصدر کے ‏ساتھ بیان کر رہے ہیں، یاد رکھیے جب بھی کسی لفظ کا معنی بیان کیا جاتا ہے تو اس کے مصدر کا معنی بیان کیا جاتا ہے ‏کیونکہ مصدر اصل ہے بھئی، مصدر کیا ہے؟ اصل ہے، اور ہر صیغے کے اندر وہ مصدر موجود ہے، چاہے ماضی کا ‏ہو، چاہے مضارع کا ہو، چاہے امر کا ہو، چاہے اسمِ فاعل ہو، چاہے اسمِ مفعول ہو، سب کے اندر یہ اعتبار موجود ہے ‏بھئی۔ کہتے معنی بیان کر رہے ہیں لان الاعتبار رد الشيء الى نظيره، اس لیے کیونکہ اعتبار جو ہے وہ لوٹانا ہے چیز کو اس ‏کے مثل کی طرف۔ اعتبار کا کیا معنی؟ چیز کو اس کے مثل کی طرف لوٹانا۔ فكانہ قيل، گویا کہ یہ کہا گیا قيسوا الشيء على ‏نظيره، قیاس کرو کسی چیز کو اس کے مثل پر۔ کسی بھی چیز کو کیا کرو اس کے مثل پر، کیونکہ قیاس اعتبار کا کیا ‏معنی ہے؟ رد الشيء الى نظيره، رد الشيء الى نظيره۔ تو گویا یہ کہا گیا قيسوا الشيء على نظيره، قیاس کرو چیز کو اس کے ‏مثل پر، وهو شامل لكل قياس، اور یہ شامل ہے ہر قیاس کو۔ بئی یہ آیت تو نازل ہوئی ہے کفار کے واقعہ کے بعد بھئی۔ مدینہ منورہ میں کے قریب ہی یہود کی ایک بستی تھی بھئی اور ‏یہود کا ایک قبیلہ بنو نضیر وہاں پر آباد تھا، اور یہود کی فطرت میں ہمیشہ سے یہ شرارتیں کرتے چلے آئے ہیں، چنانچہ ‏جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو ان کے ساتھ بھی چونکہ یہ قریب رہتے تھے ان کے ساتھ ‏صلح کا باقاعدہ معاہدہ کیا گیا کہ بھئی تم مسلمانوں کے خلاف کسی کی مدد نہیں کرو گے، اگر کوئی دشمن حملہ کرتا ہے ‏تو تم کسی کی مدد نہیں کرو گے، اور چنانچہ معاہدہ ہو گیا، ان کا سردار تھا کعب بن اشرف بھئی، لیکن یہ ہمیشہ مسلمانوں ‏کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے، یہاں تک کہ کعب بن اشرف جو تھا وہ باقاعدہ مکہ مکرمہ گیا اور وہاں پر بیت ‏اللہ کے پاس اس نے باقاعدہ قریش سے معاہدہ کیا حضور علیہ السلام کے خلاف بھئی، مسلمانوں کے خلاف بھئی۔ چنانچہ بعد میں اس کعب بن اشرف کو تو ایک صحابی نے جا کر قتل کر دیا لیکن بات پھر بھی ان کی شرارتوں میں کوئی ‏کمی نہ آئی، ایک مرتبہ ان کے بڑے قلعے انہوں نے بنا رکھے تھے بڑے مضبوط اور اس پر بڑے نازاں تھے کہ ان کو ‏ہوتے ہوئے کوئی ہمیں کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکتا کبھی، اتنے مضبوط قلعے ہم نے بنا رکھے ہیں۔ چنانچہ ایک مرتبہ حضور علیہ السلام ان کے ساتھ بات چیت کے لیے تشریف لے گئے، وہاں ان کے پاس بیٹھے ہوئے ‏تھے، انہوں نے ارادہ کیا کہ اوپر سے دیوار کے اوپر سے آپ پر پتھر گرائیں اور آپ کو شہید کر دیں، حضور علیہ السلام ‏کو وحی کے ذریعے بتلا دیا گیا، آپ فوراً وہاں سے اٹھ کر تشریف لے آئے بھئی، اور پھر مسلمانوں کو جمع کیا اور پھر ‏ان یہودیوں کے قلعے کا گھیراؤ کر لیا گیا بھئی، انہوں نے معاہدہ خود ہی توڑ دیا، معاہدہ تو تھا ایک دوسرے کو تکلیف ‏نہیں دینی، مسلمانوں کے نے ان کے خلاف کسی کی مدد نہیں کرنی، انہوں نے مسلمانوں کے خلاف کسی کی اور یہ تو ‏باقاعدہ حضور علیہ السلام کے قتل کی انہوں نے سازش کی، چنانچہ اور ادھر رئیس المنافقین جو تھا عبداللہ بن ابی وہ اس ‏نے بھی ان کو پیغام بھیجا کہ تم فکر نہ کرو، میں دو ہزار یا تین ہزار افراد لے کر تمہاری مدد کو پہنچوں گا۔ بظاہر مسلمان تھا لیکن تھا منافق، یہودیوں کو پیغام بھیجا، چنانچہ وہ ڈٹ گئے، قلعہ بند کر کے بیٹھ گئے کہ ہمارے قلعے ‏ہیں، کوئی ہمیں ذرا بھی تکلیف نہیں پہنچا سکتا اور ابھی مدد بھی آنے والی ہے ان کی طرف سے۔ پھر بالآخر یہ مجبور ہوئے، مسلمانوں نے ان کے کھیت وغیرہ درخت وغیرہ اجاڑنا شروع کر دیے تو یہ مجبور ہوئے، ‏اور دوسری طرف مدد بھی کوئی نہیں آئی، عبداللہ بن ابی کی تو ویسے ہی باتیں ہی تھیں بھئی، تو اس بات پر ان کو چھوڑا ‏گیا کہ یہ سارا کچھ یہاں سب کچھ چھوڑ کر یہاں سے چلے جائیں مدینہ منورہ کو چھوڑ کر چلے جائیں بھئی۔ اور پھر یہ خیبر میں جا کر آباد ہوئے جو مدینہ سے تقریباً سو میل کے فاصلے پر ایک جگہ ہے۔ اور جس وقت یہ جا ‏رہے تھے تو وہی اپنے مضبوط قلعے، گھر وغیرہ جو انہوں نے بنا رکھے تھے، وہ خود ہی سارا کچھ اجاڑ رہے ہیں، ‏توڑ رہے ہیں تاکہ ہمارے کام نہ آئے تو مسلمانوں کے بھی پھر کام نہ آئے بعد میں بھئی، تو وہی قلعے جن کو جن پر ان ‏کو ناز تھا، جن پر ان کو اعتماد تھا، خود اپنے ہی ہاتھوں اس کو توڑنے میں لگے ہوئے تھے بھئی۔ اور اس شرط پر ان کو ‏جانے کی اجازت ملی کہ اپنے ساتھ کسی قسم کا کوئی اسلحہ نہیں لے کر جائیں گے، اسلحہ سارا یہی چھوڑ دیں گے بھئی، ‏وہ مسلمانوں کا۔ چنانچہ یہاں سے یہ منتقل ہو گئے بھئی۔ تو اسی پر اللہ فرماتے ہیں ان کا واقعہ ذکر کرنے کے بعد کہ ایک ہی مرتبہ مسلمان جمع ہوئے تو یہ سب کچھ ہار بیٹھے، ‏ان پر اللہ نے رعب طاری کر دیا اور ان کو اپنے گھر بار سب کچھ چھوڑنا پڑا، الله فرماتے ہیں فاعتبروا يا أولي الأبصار ‏نصیحت حاصل کرو اے عقل والو۔ نصیحت حاصل کرو اے عقل والو یعنی ان کے جن کے بعد جن کو یہ سزا دی گئی ہے ‏يهود اور اسی طرح دوسرے جو کفار ہیں، ان کو جو سزائیں ملیں ان سے عبرت حاصل کرو۔ ان کو جو سزائیں ملیں، وہ ‏کس بناء پر ملی تھیں؟ کس علت کی بناء پر یہ سزائیں ملی تھیں؟ عداوتِ رسول اور تکذیبِ رسول کی بناء پر۔ تو اے ‏مسلمانوں! اپنے احوال کو ان کے احوال پر قیاس کر لو۔ اگر تمہارے اندر بھی یہ علت آ گئی تو تمہارے لیے بھی وہی حکم ‏ہو گا، یعنی اگر تم میں اگر عداوتِ رسول یا تکذیبِ رسول کی تو تمہارا بھی یہی انجام ہو گا بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں اب یہ آیت نازل تو ہوئی ہے سزاؤں کے بارے میں۔ کس کے بارے میں؟ کہ اپنے احوال کو ان کے احوال پر ‏قیاس کر لو اے مسلمانوں، اے عقل والو! اگر وہ اسباب جو ان کے اندر تھے وہ تمہارے اندر پیدا ہوئے تو تمہارا بھی وہی ‏حال ہو گا، تمہارے لیے بھی وہی سزائیں ہوں گی جو سزائیں ان کو ملی تھیں بھئی۔ تو یہ یہاں اگرچہ یہ آیت نازل ہوئی ہے ‏سزاؤں کے بارے میں کہ ان کو جو سزائیں ملی تھیں اگر تمہارے اندر وہ اسباب پیدا ہوئے تو تمہیں بھی وہی سزائیں ملیں ‏گی۔ لیکن الفاظ تو عام ہیں۔ فاعتبروا يا أولي الأبصار، دیکھو یہاں کوئی سزاؤں کا ذکر ہے؟ سزاؤں کا کوئی ذکر نہیں۔ اور ‏مشہور ضابطہ ہے بھئی، مشہور ضابطہ کہ العبرة لعموم اللفظ لا لخصوص السبب۔ العبرة لعموم اللفظ لا لخصوص السبب۔ ‏اعتبار جو ہے وہ عمومِ لفظ الفاظ کے عموم کا اعتبار ہے، خصوصِ خاص و سبب کا اعتبار نہیں جس کے بارے میں آیت ‏نازل ہوئی ہو بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ بھئی، اگرچہ شانِ نزول تو یہ ہے یہ آیت اس واقعے کے بارے میں نازل ہوئی تھی، لیکن الفاظ تو اس ‏کے عام ہیں۔ تو اگر شانِ نزول سے قطع نظر کرتے ہوئے اس کے صرف لفظوں کو آپ دیکھیں، لفظ عام ہیں۔ فاعتبروا يا ‏أولي الأبصار، تو یہ ہر قسم کے قیاس کو شامل ہے۔ یہ ہر قسم کے اعتبار کا کیا معنیٰ کیا؟ کسی چیز کو اس کے مثل کی ‏طرف لوٹانا۔ کسی چیز کو اس کے مثل کی طرف لوٹانا، تو یہ آیت اگرچہ نازل ہوئی ہے سزاؤں کے بارے میں، اس میں ‏بھی یہی بتلایا گیا کہ تم اپنے آپ کو بھی انہی کی طرف لوٹاؤ، اگر تمہارے اندر یہ اسباب آ گئے تو انہی پر کیا کر لو؟ ‏اپنے احوال کو دیکھ لو، جو سزا پھر ان کو ملی ہے وہ سزا تمہیں بھی ملے گی۔ تمہیں بھی ملے گی۔ تو یہ اب سزاؤں کے لیے جو سزاؤں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی بھئی، تو اس اعتبار سے یہ ہے عبارت النص۔ جس ‏مقصد کے لیے کلام کو چلایا جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ وہ نص ہے مولانا نص، جس مقصد کے لیے کلام کو چلایا ‏جائے، اور وہ کلام کیا ہے اس نص کے لیے؟ عبارت النص ہے۔ تو سزاؤں کے سلسلے میں تو یہ آیت کیا ہے؟ عبارت ‏النص ہے، لیکن الفاظ کو دیکھا جائے تو الفاظ عام ہیں، الفاظ سے کیا پتہ چل رہا ہے؟ کہ ہر چیز کو اس کے نظیر کی ‏طرف لوٹاؤ اے عقل والو! یہاں کوئی سزاؤں کی قید نہیں ذکر آیت میں، تو عام کیا معنیٰ ہو رہا ہے؟ لفظوں کے اعتبار سے ‏قيسوا قيسوا الشيء على نظيره اے عقل والو، ہر چیز کو اس کے مثل پر قیاس کرو۔ معنیٰ سمجھ میں آ رہا ہے؟ فاعتبروا کے ساتھ کوئی سزاؤں کی قید ہے؟ کوئی لفظ ذکر ہے؟ ٹھیک ہے، نازل تو سزاؤں کے ‏بارے بارے میں ہوئی۔ تو اس بارے میں تو یہ عبارت النص، لیکن العبرة لعموم اللفظ لا لخصوص السبب، خصوصِ سبب ‏کو چھوڑ دیں، اعتبار کس کا ہے؟ عمومِ لفظ کا ہے، اور عمومِ لفظ بتلا رہا ہے یہاں پر یہ ہر قیاس کو شامل ہے۔ تو اس سے حجیتِ قیاس بھی ثابت ہو رہی ہے۔ اللہ فرما رہے ہیں فاعتبروا، امر آیا امر کس کے لیے آتا ہے؟ وجوب کے ‏لیے، تو گویا اللہ کی طرف سے قیاس کا حکم دیا جا رہا ہے۔ کس چیز کا؟ قیاس کا حکم دیا جا رہا ہے، تو اس سزاؤں کے ‏بارے میں تو یہ عبارت النص ہے، لیکن عام عموم عام ہر قیاس بھی اس سے سمجھ میں آ رہا ہے، اس اعتبار سے یہ اشارۃ ‏النص ہے بھئی۔ اس اعتبار سے یہ کیا ہے؟ اشارۃ النص ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں وہو شامل لكل قياس، یہ شامل ہے ہر قیاس کو، سواء كان قياس المثلات على المثلات، مثلات جمع ہے مثلۃ کی، ‏میم پر فتحہ ہے، ثاء پر ضمہ ہے۔ مثلات جمع ہے مثلۃ کی، اور مثلۃ جو ہے سزا کو کہتے ہیں۔ تو یہ شامل ہے ہر قسم کے ‏قیاس کو، سواء كان قياس المثلات على المثلات، برابر ہے کہ چاہے سزاؤں کا قیاس سزاؤں پر ہو، أو قياس الفروع الشرعية ‏على الأصول، یا شرعی فروع کا قیاس اصول پر۔ یہ ہر قسم کے قیاس کو شامل ہے۔ فيكون إثبات حجية القياس به ثابتا بالنص، تو اس قول اللہ کے اس قول کے ذریعے قیاس کی حجیت کو ثابت کرنا ثابتا ‏بالنص، یہ کس سے ثابت ہے؟ نص سے ثابت ہے بھئی۔ سزاؤں کے اعتبار سے یہ کیا ہے آیت؟ عبارت النص، اور الفاظ ‏کو ہم نے اپنے عموم پر رکھا، لفظ عام ہیں تو معنیٰ بھی عام، گویا اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ قيسوا، عقل والو قیاس کر لو، تو ‏عمومِ لفظ کے اعتبار سے ہر قسم کے قیاس اس میں آ گیا، تو یہ اس میں اشارۃ النص ہے بھئی۔ اس مقصد کے لیے تو نہیں ‏چلایا گیا، عبارت النص تو اس میں نہیں، لیکن اس سے سمجھ میں تو آ رہا ہے، تو یہ کیا ہے اس میں؟ اس میں یہ اشارۃ ‏النص ہے۔ تو دیکھیے، قرآن سے قیاس کی حجیت ثابت ہوئی اشارۃ النص کے طریقے پر، کس طریقے پر؟ اشارۃ النص ‏کے طریقے پر بھئی۔ چلیے، بس بھئی هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔