اگے سبق دیکھیے بھئی:‏ ونكاح المتعة باطل، وهو ان يقول لامراة: اتمتع بك كذا مدة بكذا من المال۔ وقال مالك رحمه الله: هو جائز؛ لانه كان مباحا فيبقى ‏الى ان يظهر ناسخه۔ قلنا: ثبت النسخ باجماع الصحابة رضي الله تعالى عنهم، وابن عباس رضي الله تعالى عنهما صح رجوعه ‏الى قولهم فتقرر الاجماع۔ بھئی گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ نے اپ کو بتلایا تھا کہ اگر کوئی شخص کسی حاملہ سے نکاح کرے، تو اگر وہ اس ‏حاملہ کا حمل ثابت النسب ہے، یعنی سابقہ شوہر سے ہے مثلاً اور وہ طلاق دے چکا ہے، تو اس قسم کی حاملہ سے جو ‏نکاح ہے وہ باطل ہے، نکاح ہوگا ہی نہیں۔ جبکہ اگر وہ جو عورت ہے وہ زنا سے حاملہ ہے، تو پھر اس صورت میں ‏نکاح تو ہو جائے گا، البتہ خاوند کے لیے اس سے صحبت کرنا جائز نہیں یہاں تک کہ یہ اپنے حمل کو جنم دے دے۔ اور ‏یہ یہ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے کہ یہ جو حاملہ من الزنا ہے اس سے نکاح ہو جائے گا، البتہ وطی نہیں کر سکتا۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے بھی نکاح نہیں ہو سکتا، جیسے وہ حاملہ جس کا حمل ثابت النسب ‏ہے اس سے نکاح نہیں ہو سکتا، اسی طرح یہ جو حاملہ من الزنا ہے اس سے بھی نکاح نہیں ہو سکتا۔ اور امام ابو یوسف ‏رحمہ اللہ یہ جو حاملہ ہے جس کا حمل ثابت النسب ہے، اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس عورت کے ساتھ اس لیے ‏نکاح جائز نہیں ہے کیونکہ اس کا حمل محترم ہے، یعنی وہ ثابت النسب ہے، تو احترامِ حمل کی وجہ سے اس عورت کے ‏ساتھ نکاح جائز نہیں۔ اور جیسے اس عورت کا حمل قابلِ احترام ہے، اسی طرح وہ جو حاملہ من الزنا ہے اس کا حمل بھی قابلِ احترام ہے، اس ‏لیے کیونکہ اس حمل کا گناہ کے اندر کوئی دخل نہیں ہے، اس نے تو کوئی گناہ نہیں کیا، وہ جو وطی کرنے والے مرد ‏اور عورت انہوں نے تو گناہ کیا ہے لیکن خود اس حمل کا کوئی قصور اور گناہ نہیں، لہٰذا یہ حمل بھی محترم ہوا اور جب ‏یہ حمل محترم ہے تو یہاں بھی نکاح جائز نہیں ہوگا۔ جیسے وہ حمل جو ثابت النسب تھا محترم تھا وہاں نکاح جائز نہیں ‏تھا، تو یہ حمل جو زنا سے ہے یہ بھی محترم ہے تو اس عورت کے ساتھ بھی نکاح جائز نہیں ہے۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں اور اسی وجہ سے اس حمل کا گرانا جائز نہیں ہے، اس کو ضائع کرنا جائز نہیں کیونکہ یہ محترم ‏ہے بھئی۔ چنانچہ علماء لکھتے ہیں بھئی، اس حمل کو گرانا جائز نہیں ہے یہ اس وقت ہے جبکہ کچھ اس کے اعضاء ‏وغیرہ بن گئے ہوں بھئی۔ ابتدا میں حمل گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں بڑھتا چلا جاتا ہے اور پھر کچھ عرصے کے ‏بعد اس کے اعضاء ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں، تو جب کچھ اعضاء وغیرہ ہاتھ پاؤں وغیرہ ظاہر ہو چکے ہوں تو پھر ‏اس وقت اس حمل کا گرانا جائز نہیں، لیکن میں نے بتایا محشی حضرات فرماتے ہیں کہ اس زمانے میں یہ جو فتنے کا ‏زمانہ ہے اس میں وہ حمل جو زنا سے ہو اس کے چاہے اعضاء وغیرہ بن چکے ہوں پھر بھی اس کو گرانا جائز ہے جب ‏تک اس میں روح نہ پڑ جائے۔ روح پڑ جائے پھر گرانا جائز نہیں کیونکہ پھر تو یہ قتل کے درجے میں ہو جائے گا ‏بھئی۔ تو یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل تھی، طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو حاملہ من الزنا ہے اس کے ساتھ بھی ‏نکاح جائز ہے، امام ابو یوسف رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں اس سے نکاح جائز نہیں لیکن طرفین فرماتے ہیں اس سے بھی ‏نکاح جائز ہے، وجہ یہ کہ یہ نص کے ذریعے اس کا محلِ نکاح ہونا ظاہر ہے بھئی، نص کی وجہ سے یہ محلِ نکاح ہے۔ ‏قرآن میں اللہ تعالیٰ ان عورتوں کا ذکر فرماتے ہیں جن سے نکاح حرام ہے اور پھر اخر میں اللہ فرماتے ہیں: واحل لكم ما ‏وراء ذلكم، کہ اس کے علاوہ اور عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں، اور ان محرمات میں حاملہ من الزنا کا کوئی ذکر نہیں، ‏معلوم ہوا حاملہ من الزنا جو ہے وہ بھی محلِ نکاح ہے بھئی۔ اور باقی یہ جو ہم نے کہا کہ اس سے وطی کرنا جائز نہیں، وجہ یہ تاکہ کہیں اس شخص کا پانی یہ جو خاوند ہے اس کا ‏پانی غیر کی کھیتی کو سیراب نہ کرے اور حدیث کے اندر غیر کی کھیتی کو سیراب کرنے سے سختی سے منع کیا گیا ‏ہے، میں نے بتایا کہ یہ جو عورتیں ہیں قرآن کے اندر ان کو کھیتی کے ساتھ تعبیر کیا گیا ہے کہ یہ تمہاری کھیتیاں ہیں ‏یعنی ان کے ذریعے تمہیں اولاد وغیرہ حاصل ہوتی ہے، تو حدیث میں منع کیا گیا ہے کہ جو شخص اللہ اور اخرت کے دن ‏پر ایمان رکھتا ہے تو ہرگز اس کا پانی غیر کی کھیتی کو سیراب نہ کرے۔ تو چونکہ اگر وطی بھی کرے گا تو یہ خرابی ‏لازم ائے گی لہٰذا اس لیے وطی جائز نہیں ہوگی۔ اور باقی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے کہ ثابت النسب جو حمل ہے اس عورت سے نکاح حرام ہے اس حمل ‏کے احترام کی وجہ سے، ہم کہتے ہیں نہیں، اس عورت کے ساتھ نکاح حرام ہے حمل کی وجہ سے نہیں بلکہ صاحبِ حمل ‏کی وجہ سے یعنی سابقہ خاوند کی وجہ سے، اس لیے کیونکہ یہ عورت جب بچے کو جنم دے گی یہ بچہ اسی خاوند کا ‏شمار ہوگا، گویا یہ عورت ابھی بھی من وجہ اسی خاوند کا فراش ہے۔ یہ عورت ابھی بھی کیا ہے؟ من وجہ اسی خاوند کا ‏فراش ہے کیونکہ اپ نے پڑھ لیا کہ جب کوئی شخص عورت کو طلاق دیتا ہے تو عدت کے اندر کا خرچہ بھی خاوند کے ‏ذمے ہوتا ہے، عدت کے اندر خاوند اس کو گھر سے نکلنے سے بھی منع کر سکتا ہے، اور اسی طرح اس عدت کے اندر ‏اگر یہ عورت جو ہے حاملہ ہے تو اس کی عدت وضعِ حمل تک ہے بھئی، جب یہ حمل کو جنم دے دے گی تب اس کی ‏عدت پوری ہوگی اور یہ جو حمل ہے یہ اسی سابقہ خاوند کا ہے تو یہ اسی کی اولاد شمار ہوگا، اس کا نسب اس سے ثابت ‏ہو جائے گا، تو معلوم ہوا یہ عورت ابھی بھی بعض اعتبار سے اسی خاوند کا فراش ہے۔ جب یہ اسی خاوند کا فراش ہے تو ‏اس کی وجہ سے نکاح حرام ہے، اس حمل کی حرمت کی وجہ سے نکاح نہیں حرام بلکہ پہلے خاوند کا فراش ہونے کے ‏اعتبار سے اس کے ساتھ نکاح جائز نہیں ہے، تو یہاں پر یہ عورت جس کا حمل ثابت النسب ہے اس کے ساتھ نکاح جائز ‏نہیں، کیوں نہیں جائز؟ صاحبِ حمل کی وجہ سے، وہ جو سابقہ خاوند تھا یعنی اس کے احترام کی وجہ سے، اور جبکہ وہ ‏عورت جو زنا سے حاملہ ہے وہاں تو وہ حمل زانی کا ہے بھئی، اور زانی کا تو کوئی احترام نہیں، تو دیکھا دونوں میں ‏فرق اگیا، تو زانی کا کوئی احترام نہیں لہٰذا اس عورت سے نکاح جائز ہوگا، اور ادھر یہ حمل جو ثابت النسب ہے یہاں وہ ‏خاوند جو تھا پہلا وہ محترم ہے لہٰذا اس کی وجہ سے نکاح جائز نہیں ہوگا۔ بات سمجھ میں اگئی؟ پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے اپ کو یہ بھی بتلایا کہ اگر کوئی عورت جو ہے وہ قید کر لی گئی، باندی بنا لیا گیا اور ‏وہ حاملہ ہے، تو اس کا حمل بھی ثابت النسب ہے لہٰذا اس کے ساتھ بھی نکاح جائز نہیں ہے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ ‏نے ایک اور مسئلہ بتلایا کہ ایک شخص جو ہے وہ اپنی ام ولد باندی کا نکاح کرواتا ہے کسی اور ادمی سے اور یہ ام ولد ‏حاملہ ہے اور یہ جو اقا ہے یہ اقرار کر چکا ہے کہ یہ حمل مجھ سے ہے، یہ باندی ہے اس نے پہلے بھی ایک بچے کو ‏جنم دیا تھا اور وہ اقا نے اقرار کر لیا تھا کہ وہ میرا بچہ ہے، تو یہ باندی اس کی ام ولد بن گئی، اور ام ولد پھر اگے جس ‏بچے کو بھی جنم دیتی ہے وہ اسی اقا کا شمار ہوتا ہے، تو لہٰذا اب دوبارہ یہ ام ولد حاملہ ہوئی اور اقا نے اقرار بھی کر لیا ‏کہ یہ حمل مجھ سے ہے، پھر اس کے بعد یہ اس حاملہ ام ولد کا اگے نکاح کرواتا ہے، تو کہتے ہیں یہ نکاح باطل ہے۔ کیوں باطل ہے؟ وجہ یہ کہ یہ حمل ثابت النسب ہے، یہ حمل اس اقا سے ہے بھئی، اقا خود اقرار کر چکا ہے، اور وہ جو ‏بھی حاملہ ایسی ہو کہ اس کا حمل ثابت النسب ہو تو اس کا نکاح باطل ہے، ورنہ تو کیا خرابی لازم ائے گی؟ جمع بین ‏الفراشین ہونا لازم ائے گا کہ یہ عورت جس کا حمل ہے اس کے لیے بھی فراش یعنی اقا کے لیے بھی یہ فراش ہے اور ‏اگے جس سے نکاح کروایا جائے گا اس کے لیے بھی فراش بن جائے گی، تو ایک ہی عورت دو ادمیوں کے لیے فراش بن ‏جائے گی حالانکہ ایک عورت دو ادمیوں کے لیے فراش نہیں ہو سکتی۔ اور نیز یہاں حمل کی قید لگائی، وجہ یہ کہ ام ولد اگر حاملہ نہیں ہے اور اقا اگے نکاح کروانا چاہتا ہے تو وہ نکاح کروا ‏سکتا ہے بھئی اس کا۔ اور نیز یہ بھی کہا کہ اس حمل کا اقا نے اقرار کر لیا ہو، کیونکہ اگر اقا نے اس حمل کا اقرار نہیں ‏کیا تو پھر اس کا نکاح کروائے گا تو نکاح ہو جائے گا۔ وجہ یہ کہ یہ جو ام ولد ہے اس سے جو اولاد ہوگی وہ اقا کی شمار ‏ہوگی، لیکن اگر اقا نفی کرنا چاہے تو بغیر لعان کے بھی نفی کر سکتا ہے، اور پھر یہ نفی کرنا کبھی صراحۃً ہوگا کبھی ‏دلالۃً ہوگا، صراحۃً تو یہ ہے صاف لفظوں سے کہہ دے کہ یہ بچہ مجھ سے نہیں ہے یا یہ حمل مجھ سے نہیں ہے، اور ‏دلالۃً یہ ہے کہ یہ جو ام ولد ہے حاملہ ہے اور پھر بھی اقا اس کا اگے نکاح کروا رہا ہے، اقرار نہیں کیا، ام ولد کیا ہے؟ ‏حاملہ، اور اقا کیا کر رہا ہے اگے؟ نکاح کروا رہا ہے اور ابھی تک اقا نے اقرار نہیں کیا کہ یہ حمل مجھ سے ہے، تو ‏گویا وہ دلالۃً اپنے سے حمل کی نفی کر رہا ہے۔ اپنے سے نفی کر رہا ہے، تو جب اپنے سے حمل کی دلالۃً نفی ہو رہی ‏ہے معلوم ہوا یہ حمل ثابت النسب نہیں، اور جب یہ حمل ثابت النسب نہیں تو پھر اس صورت میں نکاح جائز ہوتا ہے، لہٰذا ‏اس اقا کا اپنی اس باندی کا نکاح پھر جائز ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں اگئی؟ اسی لیے متن میں قید لگائی تھی: وهي حامل ‏منه، کہ وہ ام ولد اقا سے حاملہ ہو یعنی اقا نے اس کا اقرار بھی کیا ہو۔ پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے اپ کو بتلایا کہ ایک شخص جو ہے وہ اپنی باندی سے صحبت کرتا ہے اور پھر اس کا ‏نکاح کروانا چاہتا ہے، تو کہتے ہیں نکاح جائز ہے بھئی۔ نکاح جائز ہے، وجہ یہ کیونکہ باندی سے جو اولاد ہو وہ خود ‏بخود اقا کی شمار نہیں ہوتی جب تک اقا اس کا اقرار نہ کر لے، تو یہ فراشِ ضعیف ہے، حتیٰ کہ اس سے پیدا ہونے والا ‏بچہ خود بخود اقا کا شمار بھی نہیں ہوتا، تو گویا یہ فراشِ معتبر نہیں، یہ فراش تو ہے اقا کا لیکن ضعیف فراش ہے، ایسا ‏فراش نہیں جس کا اعتبار بھی کیا جائے، تو لہٰذا اب اقا اس کا نکاح کروانا چاہتا ہے تو اس کا نکاح ہو جائے گا اور اب ‏جمع بین الفراشین والی خرابی لازم نہیں ائے گی کیونکہ اقا کے لیے اس کا فراش ہونے کا اعتبار ہی نہیں ہے، تو لہٰذا یہ ‏صرف اپنے خاوند کا فراش بن جائے گی اور اقا کے لیے اب اس سے وطی حرام ہو جائے گی، تو اس کا نکاح جائز ہے ‏بھئی۔ ہاں لیکن کہتے ہیں اقا پر واجب ہے کہ پہلے اس سے استبراء کروائے۔ کیا کروائے؟ استبراء کروائے، میں نے بتلایا تھا ‏کہ جیسے عورت کو کوئی خاوند طلاق دیتا ہے تو وہ تین حیض گزارتی ہے، پھر اس کے بعد اسے اگے نکاح کی اجازت ‏ہوتی ہے، وجہ یہ تاکہ پتہ چل جائے کہیں اس عورت کے پیٹ میں خاوند کی اولاد تو نہیں، کہیں یہ حاملہ تو نہیں، اسی ‏طرح قدیم زمانے میں باندیوں کی خرید و فروخت ہوتی تھی تو خریدار پر واجب ہے شرعاً کہ جب وہ کوئی باندی کو ‏خریدے تو فوراً وطی نہیں کر سکتا بھئی، بلکہ اس کو استبراء کروانا پڑے گا یعنی ایک حیض انتظار کرے۔ جب باندی ‏کو ایک دفعہ حیض ا جائے گا تو اب پتہ چل گیا کہ یہ باندی سابقہ مالک سے حاملہ نہیں، تو پھر اس کے بعد وطی کر سکتا ‏ہے، تو یہ جو ایک حیض انتظار کرنا پڑتا ہے اس کو استبراء کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ استبراء۔ اب مسئلہ یہ چل رہا تھا اقا اپنی باندی کا نکاح کرواتا ہے اور اسی باندی سے اقا صحبت بھی کرتا رہتا ہے، تو اقا اس کا ‏نکاح کروا سکتا ہے لیکن اقا پر واجب ہے کہ پہلے اس سے استبراء کروا لے، یعنی اس کے ساتھ وطی روک دے اور پھر ‏ایک حیض جب گزر جائے تو پھر اس کے بعد اس کا نکاح کروا دے بھئی۔ بات سمجھ میں اگئی؟ تو بعض علماء نے لکھا ‏کہ اقا پر یہ استبراء واجب نہیں ہے مستحب ہے، لیکن صاحبِ ہدایہ کی عبارت سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ استبراء اقا پر ‏واجب ہے، صاحبِ ہدایہ نے کیا فرمایا: ان عليه ان يستبرئها، اور علیٰ کس لیے اتا ہے؟ لزوم کے لیے اور وجوب کے لیے ‏اتا ہے، تو معلوم ہوا کہ اقا پر استبراء واجب ہے بھئی۔ اور پھر جب نکاح جائز ہے، چاہے استبراء کروائے یا نہ کروائے، استبراء نہیں کروائے گا تو گنہگار ہوگا، لیکن اگر ‏نکاح کروائے گا نکاح ہو جائے گا۔ اب جو خاوند ہے، کیا اس کے ساتھ صحبت کر سکتا ہے یا نہیں؟ تو شیخین رحمہما اللہ ‏فرماتے ہیں کہ خاوند اس کے ساتھ صحبت کر سکتا ہے۔ وجہ یہ کہ شریعت نے نکاح کی اجازت دے دی، شریعت نے جب ‏نکاح کی اجازت مل گئی تو یہ علامت ہے اس بات کی کہ اس کا رحم فارغ ہے، اگر رحم فارغ نہ ہوتا تو شریعت نکاح کی ‏اجازت نہ دیتی، تو شریعت کا اجازت دینا علامت ہے کہ اس کا رحم فارغ ہے لہٰذا خاوند کے لیے اس سے صحبت جائز ‏ہے۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ خاوند اس کے ساتھ صحبت کرے جب تک کہ اس ‏سے استبراء نہ کروا لے۔ کیا نہ کروا لے؟ معلوم ہوا امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک باندی کا جب نکاح اقا کروائے اور اقا ‏نے اس سے صحبت کی ہے یا صحبت کرتا ہے، تو خاوند پر واجب ہے کہ وہ استبراء کروائے۔ وہ اس کو قیاس کرتے ہیں شراء پر، اس نکاح یہ جو نکاح کروایا باندی کا، اس نکاح کو قیاس کرتے ہیں شراء پر، اور ‏شراء کے اندر جب بھی خریدار باندی کو خریدتا ہے تو اس پر استبراء واجب ہوتا ہے، تو یہاں پر بھی وہ فرماتے ہیں کہ ‏خاوند پر واجب ہوگا کہ وہ اس باندی سے استبراء کروائے، ایک حیض انتظار کرے اس کے بعد اس کے لیے صحبت ‏جائز ہوگی۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جب شریعت نے نکاح کی اجازت دے دی، یہ علامت ہے اس کے رحم ‏کے فارغ ہونے کی، لہٰذا اس کو استبراء کا حکم نہیں دیا جائے گا، نہ تو اس کے لیے استبراء کروانا مستحب ہے اور نہ ‏واجب ہے، یہ حکم اس کو نہیں دیا جا سکتا۔ اور نیز امام محمد رحمہ اللہ نے اس کو قیاس کیا تھا شراء پر، تو اس کا جواب دیتے ہیں شیخین رحمہما اللہ کہ اپ اس نکاح ‏کو شراء پر قیاس نہیں کر سکتے اس لیے کیونکہ دونوں میں فرق ہے، ایک جیسی چیزوں کو اپس میں ایک دوسرے پر ‏قیاس کیا جاتا ہے، جو دو الگ الگ قسم کی چیزیں ہوں ان کو ایک دوسرے پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، اور یہاں نکاح میں ‏اور شراء میں فرق ہے، نکاح جو ہے رحم کے مشغول ہونے کی صورت میں نکاح جائز ہی نہیں ہوتا۔ جب عورت حاملہ ‏ہے، رحم مشغول ہے تو اس صورت میں نکاح کیا ہوتا ہے؟ باطل ہوتا ہے، جبکہ شراء جو ہے وہ رحم کے مشغول ہونے ‏کے باوجود وہ جائز ہے۔ باندی ہے اقا اس سے وطی کرتا ہے، وہاں احتمال ہے اس کے رحم کے مشغول ہونے کا، پھر ‏بھی اقا اس کو بیچنا چاہے تو بیچ سکتا ہے۔ بیچنا چاہے تو، بلکہ اگر باندی حاملہ ہو حقیقۃً ہی مشغول کیوں نہ ہو اس کا ‏رحم، پھر بھی اقا اس کو بیچ سکتا ہے۔ تو دیکھو رحم کے مشغول ہونے کے باوجود شراء جائز ہے، اور حالانکہ رحم کے ‏مشغول ہوتے ہوئے نکاح جائز نہیں، تو دونوں میں فرق اگیا، دونوں جب مختلف چیزیں ہیں تو ایک کو دوسری پر قیاس ‏نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح مسئلہ پھر اپ کو بتلایا کہ ایک شخص ہے اس نے کسی عورت کو زنا کرتے ہوئے دیکھا، اب وہ اس سے نکاح ‏کرنا چاہتا ہے، تو کہتے ہیں نکاح کر سکتا ہے بالاتفاق ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک، نکاح کر سکتا ہے اور پھر کیا اس ‏سے صحبت جائز ہوگی یا نہیں؟ تو یہاں بھی اسی طرح شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ شریعت نے جب نکاح کی اجازت ‏دے دی ہے، یہ علامت ہے اس کے رحم کے فارغ ہونے کی، لہٰذا اس خاوند پر استبراء واجب نہیں، جبکہ امام محمد رحمہ ‏اللہ یہاں بھی فرماتے ہیں کہ یہاں بھی احتمال ہے رحم کے مشغول ہونے کا، لہٰذا یہاں بھی خاوند پر استبراء واجب ہے۔ بات ‏سمجھ میں اگئی؟ اب ائیے اج کے سبق پر:‏ ونكاح المتعة باطل، وهو ان يقول لامراة: اتمتع بك كذا مدة بكذا من المال۔ بھئی اب نکاحِ متعہ اور نکاحِ موقت کا ذکر ایا۔ یاد رکھو اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک نکاحِ متعہ بھی باطل ہے اور نکاحِ ‏موقت بھی باطل ہے بھئی۔ نکاحِ متعہ اور نکاحِ موقت جو ہیں یہ کچھ مدت کے لیے کیے جاتے ہیں، مدت تھوڑی بھی ہو ‏سکتی ہے اور زیادہ بھی ہو سکتی ہے، دس دن کے لیے ہے، چھ مہینے کے لیے ہے، سال کے لیے ہے، دو سال کے لیے ‏ہے، تو اس میں مدت کی تعین ہوتی ہے بھئی۔ تو یہ دونوں اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک باطل ہیں بھئی، اور پھر فرق ‏یہ ہے کہ نکاحِ متعہ جو ہے اس کے اندر نکاح اور تزوج کے الفاظ نہیں استعمال ہوتے بلکہ تمتع یا استمتاع کے الفاظ ‏استعمال ہوتے ہیں، تمتع کا معنی ہے فائدہ اٹھانا۔ مثلاً کوئی شخص کسی عورت کو کہتا ہے: اتمتع بك كذا مدة، کہ میں تم ‏سے اتنی مدت کے لیے فائدہ اٹھاؤں گا، بكذا من المال، اتنے مال کے بدلے میں۔ تو مال بھی ذکر کر دیا جاتا ہے، مدت بھی ‏ذکر کر دی جاتی ہے اور تمتع کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں اور اس کے اندر گواہوں کی بھی شرط نہیں ہے، جبکہ ‏نکاحِ موقت جو ہے اس میں تمام چیزیں نکاح والی ہیں، صرف وہاں مدت کو زائد ذکر کیا جاتا ہے۔ مثلاً نکاحِ موقت میں گواہ بھی ہوں گے اور اس میں نکاح یا تزوج کا لفظ بھی استعمال کیا جاتا ہے کہ میں تم سے نکاح ‏کرتا ہوں اور مہر کو بھی باقاعدہ ذکر کیا جاتا ہے کہ اتنا مہر ہوگا، لیکن ساتھ مدت کو ذکر کر دیا جاتا ہے کہ مثلاً چھ ‏مہینے کے لیے میں یہ نکاح تم سے کر رہا ہوں یا سال کے لیے کر رہا ہوں، تو نکاحِ موقت میں گواہ بھی ہوں گے اور ‏مدت بھی ساتھ ا جاتی ہے، جبکہ نکاحِ متعہ کے اندر گواہ بھی نہیں ہوتے بھئی، گواہ بھی نہیں ہوتے بھئی۔ تو یہ جو متعہ ‏ہے اس کے ذریعے صرف قضائے شہوت مقصود ہوتی ہے، اپنی شہوت کو پورا کرنا مقصود ہوتا ہے، جبکہ نکاح، نکاح ‏تو مؤبد ہوتا ہے، ساری زندگی کے لیے کیا جاتا ہے بھئی اور اس میں تو ایک خاندان کو اباد کیا جاتا ہے، ایک نیا خاندان ‏بنتا ہے، گھر بسایا جاتا ہے، اولاد حاصل ہوتی ہے اور پھر اس اولاد کی تربیت کی جاتی ہے اور گھر کا نظام چلایا جاتا ‏ہے، تو نکاح کے تو بڑے مقاصد ہوتے ہیں لیکن متعہ کے اندر صرف قضائے شہوت مقصود ہوتی ہے، تو یہ اہلِ سنت ‏والجماعت کے نزدیک باطل ہے بھئی، باطل ہے بھئی۔ بات سمجھ میں اگئی؟ اور متعہ کے بارے میں یاد رکھو یہ شریعت کے احکام اہستہ اہستہ درجہ بدرجہ حضور علیہ السلام کی زندگی میں نازل ‏ہوئے، اور عرب کے اندر بہت سی برائیاں پھیلی ہوئی تھیں، ایک دم ان پر پابندی نہیں لگائی گئی، جیسے شراب کو ایک ‏دم حرام قرار نہیں دیا گیا بلکہ اہستہ اہستہ اس پر پابندی لگائی گئی، اسی طرح یہ متعہ جو ہے یہ بھی عرب کے ہاں رائج ‏تھا، لہٰذا ابتدائے اسلام میں اس پر پابندی نہیں لگائی گئی، لیکن پھر غزوۂ خیبر کے موقع پر حضور علیہ السلام نے نکاحِ ‏متعہ سے بھی مسلمانوں کو منع فرما دیا اور پالتو گدھے کا گوشت کھانے سے بھی منع فرما دیا۔ تو غزوۂ خیبر کے موقع ‏پر اس پر مکمل پابندی لگا دی گئی، پھر اس کے بعد فتحِ مکہ کے موقع پر تین دن کے لیے نکاحِ متعہ کی اجازت دی گئی ‏اور پھر تین دن کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ابد الاباد کے لیے پابندی لگا دی بھئی۔ بات سمجھ میں ‏اگئی؟ تو یہ ہے نکاحِ متعہ بھئی۔ اور یہ جو شیعہ ہیں وہ اس متعہ کے قائل ہیں بھئی، بلکہ وہ اس کی بڑی فضیلتیں بیان کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ‏ایک مرتبہ متعہ کرے گا تو اس کو اتنا اتنا عظیم اجر ملے گا، کوئی دو دفعہ کرے گا یا تین دفعہ کرے گا تو اتنا عظیم اجر ‏ملے گا، باقاعدہ شیعوں نے اس کی فضیلت کے اندر کتابیں لکھی ہیں بھئی، کتابیں لکھی ہیں، اتنا اجر بیان کرتے ہیں کہ ‏انسان حیران رہ جاتا ہے اور یہ متعہ اس کے اندر گواہ بھی کوئی نہیں اور نیز تھوڑی دیر یعنی پندرہ منٹ یا ادھے گھنٹے ‏کے لیے بھی ہو سکتا ہے، صرف مرد زبان سے کیا کہے گا: اتمتع بك، کہ میں تجھ سے یہ فائدہ اٹھاتا ہوں اتنی دیر کے ‏لیے ادھے گھنٹے کے لیے اتنے مال کے بدلے، تو یہ تو کھلا زنا ہے بھئی۔ یہ کیا ہے؟ کھلا زنا ہے بھئی، اگر ایک ‏شخص کو کہیں کوئی عورت مل جائے، کہیں کوئی عورت مل جائے تو زبان سے یہ دو لفظ کہہ دے گا: اتمتع بك، تو بس ‏اب زنا نہیں رہا ان کے نزدیک بلکہ یہ تو اب متعہ بن گیا، اور وہ جو بدکاری کی تھوڑے پیسے بھی دے دیے، لو بھئی ‏اجرت بھی ا گئی اور تھوڑی مدت، بات سمجھ میں اگئی؟ تو یہ شیعہ کے نزدیک یہ متعہ جائز ہے لیکن اہلِ سنت کے ‏نزدیک یہ باطل ہے، اس کے ذریعے مقصود صرف قضائے شہوت ہے بھئی۔ اب دیکھیے بھئی کتاب پر، کہتے ہیں: ونكاح المتعة باطل، اور نکاحِ متعہ باطل ہے، وهو ان يقول لامراة، اور وہ یہ ہے کہ ‏کوئی شخص کسی عورت سے کہے، اتمتع بك كذا مدة، کہ میں تجھ سے نفع اٹھاؤں گا اتنی مدت کے لیے، بكذا من المال، ‏اتنے مال کے بدلے میں۔ تو دیکھو اس میں تمتع کا لفظ ذکر ہوتا ہے یا استمتاع کا، جبکہ بعض علماء نے لکھا ہے کہ متعہ ‏کے اندر نکاح یا تزوج کے الفاظ بھی ذکر کر دیے جاتے ہیں لیکن اس کے اندر گواہ شرط نہیں ہے۔ اس میں گواہ یعنی ‏بغیر گواہوں کے ہی بس زبان سے نکاح کا لفظ بول دے تو بس اب زنا نہ رہا، اب تو یہ کیا بن گیا؟ متعہ بن گیا بھئی۔ تو ‏مثلاً کوئی شخص کسی عورت سے کہتا ہے: اتمتع بك كذا مدة بكذا من المال، کہ میں تجھ سے فائدہ اٹھاؤں گا اتنی مدت کے ‏لیے اتنے مال کے بدلے میں۔ وقال مالك رحمه الله: هو جائز، اور امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ متعہ جو ہے یہ جائز ہے، لانه كان مباحا، اس ‏لیے کیونکہ نکاحِ متعہ مباح تھا، حضور کے زمانے میں مباح تھا، میں نے بتایا کہ غزوۂ خیبر کے موقع پر حضور علیہ ‏السلام نے اس کو حرام قرار دے دیا، تو شروع میں کہتے ہیں یہ مباح تھا، فيبقى الى ان يظهر ناسخه، تو یہ مباح ہی باقی ‏رہے گا یہاں تک کہ اس کا ناسخ ظاہر ہو جائے، یعنی کوئی اللہ کی طرف سے حکم ا جائے جس کے ذریعے اس کو ‏منسوخ کر دیا جائے۔ امام مالک رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نکاحِ متعہ مباح ہے، ابتدا میں کیا تھا؟ ‏مباح تھا، اور یہ مباح ہی رہے گا جب تک کوئی ایسا حکم نہ ا جائے اللہ کی طرف سے جو اس کے لیے ناسخ بن جائے، ‏جو اس نکاحِ متعہ کو منسوخ کر دے، منسوخ کر دے، لیکن ناسخ تو اب ا نہیں سکتا کیونکہ وحی کا دروازہ بند ہو چکا ہے، ‏تو جیسے یہ مباح تھا اسی طرح ہمیشہ مباح رہے گا بھئی۔ قلنا، ہم کہتے ہیں، اب صاحبِ ہدایہ جواب دے رہے ہیں امام مالک رحمہ اللہ کو، قلنا، ہم کہتے ہیں: ثبت النسخ باجماع ‏الصحابة رضي الله تعالى عنهم، کہ اس کا نسخ اس کا منسوخ ہونا ثابت ہو چکا ہے صحابہ کے اجماع سے۔ بھئی اجماع ‏بھی ایک قطعی دلیل ہے بھئی اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک، اجماع جو ہے ایک قطعی دلیل ہے اور صاحبِ ہدایہ فرما ‏رہے ہیں کہ ناسخ ا چکا ہے نکاحِ متعہ کے لیے، تمام صحابہ نے اجماع کیا اس کے حرام ہونے پر اور اس کے ممنوع ‏ہونے پر، لہٰذا اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے بھئی، یہ حرام ہے۔ تو کہتے ہیں: قلنا ثبت النسخ باجماع الصحابة رضي الله تعالى عنهم، کہ اس کا نسخ ثابت ہو چکا ہے صحابہ کے اجماع کے ‏ذریعے، وابن عباس رضي الله تعالى عنهما صح رجوعه الى قولهم، یہاں سے ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں، ‏اعتراض یہ کہ اے صاحبِ ہدایہ! اپ نے کہا صحابہ کا اجماع ہوا ہے نکاحِ متعہ کے حرام ہونے پر، اس کے ممنوع ہونے ‏پر، لیکن حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما وہ تو فتویٰ دیا کرتے تھے اس کے جواز کا۔ کس کا؟ اس کے ‏جواز کا فتویٰ دیتے تھے، تو ایک صحابی تو دیکھو اس کے جواز کا فتویٰ دے رہے ہیں تو پھر اجماع کہاں رہا؟ تو اس کا ‏جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بھی اخر میں اپنے اس فتوے ‏سے، اپنے اس قول سے رجوع فرما لیا تھا اور باقاعدہ توبہ کی تھی، علماء نے باقاعدہ ان کی توبہ کے الفاظ ذکر فرمائے ‏ہیں۔ تو جب حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بھی رجوع کر لیا صحابہ کے قول کی طرف تو اب اجماع ‏ثابت ہو گیا، وہی ایک مخالفت میں تھے اور پھر انہوں نے بھی باقی صحابہ کے قول کو ہی اختیار کر لیا تو اجماع ہو گیا۔ یہ معنی ہے: وابن عباس رضي الله تعالى عنهما صح رجوعه الى قولهم، اور حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ‏جو ہیں: صح رجوعه، ان کا رجوع جو ہے وہ صحیح ہے یعنی صحیح طور پر ثابت ہے، الى قولهم، صحابہ کے قول کی ‏طرف کہ انہوں نے رجوع کر لیا تھا صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے قول کی طرف، فتقرر الاجماع، تو اجماع ثابت ہو ‏گیا۔ بات سمجھ میں اگئی؟ یاد رکھو صحابہ میں سے حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما جو ہیں وہ نکاحِ متعہ کے جواز کا فتویٰ دیتے ‏تھے، لیکن وہ بھی عام حالات میں نہیں بھئی، ضرورتِ شدیدہ کے اندر، شدید ضرورت میں، جیسے دیکھو کسی انسان کو ‏بھوک لگی ہے اور وہ اس یعنی کوئی چیز کھانے کی موجود نہیں ہے یہاں تک کہ وہ موت کے قریب پہنچ گیا، تو اس ‏حالت میں تو حرام چیز بھی جو ہے وہ حلال ہو جاتی ہے، تو اس کے لیے اس حالت میں تو خنزیر کا گوشت کھانا بھی ‏جائز ہے اپنی جان بچانے کے لیے۔ تو حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما جو نکاحِ متعہ کے جواز کا فتویٰ ‏بھی دیتے تھے وہ ضرورتِ شدیدہ کی بنیاد پر کہ کوئی شخص کسی جگہ سفر پر چلا جاتا ہے وہاں اس کا کوئی ایک بھی ‏جاننے والا نہیں ہے، تو اب وہ ضرورتِ شدیدہ کی وجہ سے نکاحِ متعہ کر سکتا ہے کہ کوئی عورت جو اس کی ‏ضروریات کا بھی خیال رکھے اور اس کے سامان وغیرہ کی بھی دیکھ بھال کرے بھئی، تو اس ضرورتِ شدیدہ کے اندر ‏وہ نکاحِ متعہ کی اجازت دیتے ہیں۔ لیکن بہرحال بعد میں انہوں نے بھی رجوع کر لیا تھا اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ ‏عنہ نے ان پر شدید ناراضگی کا اظہار فرمایا تھا کہ کیا اپ کو پتہ نہیں ہے کہ حضور علیہ السلام نے یومِ خیبر کے دن ‏متعہ کو حرام قرار دے دیا تھا؟ تو پھر حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے یہ سن کر رجوع فرما لیا اور ‏وہ کہتے تھے کہ میں اللہ سے توبہ کرتا ہوں یہ جو میں جو کچھ متعہ کے بارے میں کہتا تھا۔ جی، بات سمجھ میں اگئی۔ یہاں بھئی صاحبِ ہدایہ نے امام مالک رحمہ اللہ کا بھی ذکر فرمایا کہ وہ بھی متعہ کو جائز کہتے ہیں، لیکن یہ صاحبِ ‏ہدایہ سے تسامح ہوا ہے۔ حق یہ ہے، امام مالک رحمہ اللہ بھی متعہ کے حرمت کے قائل ہیں، تمام اہلِ سنت والجماعت متعہ ‏کو حرام قرار دیتے ہیں، اور امام مالک رحمہ اللہ ان کی مشہور کتاب ہے حدیث کی موطا امام مالک بھئی، اور اس موطا ‏کے اندر امام مالک رحمہ اللہ وہ حدیثیں جمع فرماتے ہیں جن کو وہ ترجیح دیتے ہیں جو ان کے مذہب کے مطابق ہوتی ہیں۔ ‏یعنی جن سے ان کا مذہب ثابت ہوتا ہے صرف انہی احادیث کو وہ اس کتاب کے اندر درج فرماتے ہیں، اور اس موطا کے ‏اندر انہوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت درج فرمائی ہے کہ حضور علیہ السلام نے یومِ خیبر کے دن ‏متعہ کو حرام قرار دیا، متعہ سے حضور نے منع فرمایا۔ یہ امام مالک نے یہ حدیث اپنی کتاب موطا کے اندر ذکر فرمائی ‏ہے اور نیز مالکیہ کی دوسری معتبر کتابوں سے بھی پتہ چلتا ہے کہ تمام مالکیہ اس متعہ کے حرام ہونے کے قائل ہیں، ‏لہٰذا صاحبِ ہدایہ کا امام مالک کی طرف یہ نسبت کرنا درست نہیں ہے۔ تو یہ ان سے تسامح ہوا ہے، اور یہ تسامح کیوں ہوا صاحبِ ہدایہ سے؟ علماء اس کی وجہ بھی ذکر فرماتے ہیں، وجہ یہ کہ ‏یہ جو شیعہ تھے یہ متعہ کے میں نے بتایا جواز کے قائل ہیں، تو انہوں نے اس قسم کی روایات جس سے متعہ کے جواز ‏کا کچھ نہ کچھ اشارہ ملتا تھا اس کو انہوں نے خوب شہرت دی، یہاں تک کہ ہمارے بعض بڑے علماء بھی اس مغالطے ‏کے اندر مبتلا ہو گئے جیسے یہ صاحبِ ہدایہ ہیں۔ بلکہ زیادہ بہتر جواب یہ ہے یوں کہا جائے کہ یہ غلطی صاحبِ ہدایہ ‏سے نہیں ہوئی بھئی۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے صاحبِ ہدایہ جیسے عظیم فقیہ کو امام مالک رحمہ اللہ کے بارے میں غلط ‏روایت پہنچی اور انہوں نے تحقیق بھی نہ فرمائی ہو بھئی، بلکہ حق یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ قدیم زمانے میں کتابیں ‏ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں، یہ کسی لکھنے والے نے یہاں امام مالک رحمہ اللہ کا نام درج فرما دیا، شاید صاحبِ ہدایہ یہاں ‏روافض اور شیعہ کا مذہب بیان فرما رہے ہیں اور لکھنے والے نے امام مالک کا نام لکھ دیا بھئی، اور قدیم زمانے میں ‏کتابیں ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں پھر یہی نسخہ اگے پھیلتا چلا گیا چنانچہ چنانچہ اسی لیے اج ہدایہ کے نسخوں میں یہ لفظ ‏ملتا ہے۔ بات سمجھ میں اگئی۔ تو بہرحال عام علماء فرماتے ہیں کہ شریعت میں ابتدا کے اندر متعہ کی اجازت تھی، یہ عام علماء فرماتے ہیں، لیکن شاہ ‏عبد العزیز دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو متعہ کتابوں میں ذکر ہے کہ بغیر گواہوں کے عورت کے ساتھ تمتع کے ‏الفاظ کے ساتھ متعہ کر لیتا ہے، کہتے ہیں کہ یہ والا متعہ تو اسلام میں کبھی بھی جائز نہیں رہا بھئی، اور پھر علامہ انور ‏شاہ کشمیری رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ والا متعہ جس کے شیعہ قائل ہیں، جس کا اج کل کتابوں میں ذکر ملتا ہے کہ ‏بغیر گواہوں کے یہ ہو جاتا ہے، کہتے ہیں یہ شریعت میں کبھی بھی جائز نہیں رہا بھئی۔ بات سمجھ میں اگئی۔ اگے دیکھیے بھئی:‏ والنكاح المؤقت باطل، اور نکاحِ موقت باطل ہے۔ میں نے بتایا نکاحِ موقت کے اندر الفاظ بھی نکاح اور تزوج والے ہوں ‏گے، دو گواہ بھی ہوں گے اور مہر بھی ذکر ہوگا، البتہ ساتھ مدت ذکر ہوگی بھئی، لیکن بہرحال مدت ذکر ہو گئی تو یہ اب ‏درست نہیں، عند اہلِ سنت والجماعت یہ بھی باطل ہے بھئی۔ والنكاح المؤقت باطل، اور نکاحِ موقت باطل ہے، مثل ان يتزوج امراة بشهادة شاهدين عشرة ايام، مثلاً ایک شخص نکاح ‏کرتا ہے کسی عورت سے بشهادة شاهدين دو گواہوں کی گواہی کے ساتھ، عشرة ايام دس دن کے لیے، تو اس میں مدت ذکر ‏ہو گئی۔ وقال زفر رحمه الله: هو صحيح لازم، اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ نکاحِ موقت صحیح ہے، لازم اور لازم ہے۔ ‏امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نکاحِ موقت جائز ہے، صحیح ہے۔ ہاں البتہ یہ موقت نہیں رہے گا، یہ مؤبد ہو جائے گا، ‏ہمیشہ کے لیے ہوگا۔ یہ جو وقت کی قید ذکر کی یہ قید باطل ہو جائے گی۔ وجہ یہ کہ یاد رکھنا کہ یہ جو نکاح ہے یہ شروطِ ‏فاسدہ سے فاسد نہیں ہوتا۔ نکاح جو ہے شروطِ فاسدہ کی وجہ سے فاسد یا باطل نہیں ہوتا، اگر نکاح کے اندر کوئی شرطِ ‏فاسد ذکر کر دی جائے تو شرط فاسد ہو جاتی ہے اور نکاح صحیح ہو جاتا ہے۔ مثلاً ایک شخص ایک عورت سے نکاح ‏کرتا ہے اور عورت کہتی ہے کہ میں نکاح کرتی ہوں اس شرط پر کہ تمہیں طلاق کا حق نہیں ہوگا ساری زندگی، تم ‏مجھے طلاق نہیں دے سکتے، اس ادمی نے کہا مجھے قبول ہے۔ تو یاد رکھو یہ اس نے ایسی شرط لگائی جو مقتضائے ‏عقد کے خلاف ہے، یہ نکاح تو تقاضا کرتا ہے خاوند کو طلاق کا حق ہونا چاہیے اور یہ کیا شرط لگا رہی ہے کہ خاوند ‏کو طلاق کا حق نہیں ہوگا، تو یہ شرط مقتضائے عقد کے خلاف ہے اور نکاح کے اندر جب ایسی شرط لگائی جائے نکاح ‏صحیح ہو جاتا ہے اور شرط فاسد ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں اگئی۔ جبکہ بیع کے اندر اگر کوئی شرطِ فاسد بیع کے اندر ذکر کی جائے تو بیع ہی فاسد ہو جاتی ہے۔ مثلاً ایک شخص دوسرے ‏شخص کو سائیکل فروخت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ سائیکل میں تمہیں پانچ ہزار میں فروخت کرتا ہوں لیکن شرط یہ ہے ‏کہ تم مجھے دس ہزار روپے قرضہ دو گے۔ اب دیکھو بیع کر رہا ہے اور ساتھ شرط لگا رہا ہے دس ہزار قرض دینے کی ‏اور بیع تو اس کا تقاضا نہیں کرتی، تو یہ شرطِ فاسد بیع کے اندر لگائی تو یہ بیع ہی فاسد ہو جائے گی، جبکہ نکاح کے ‏اندر اگر شرطِ فاسد لگائی تو شرط فاسد ہو جائے گی اور نکاح صحیح ہو جائے گا۔ تو لہٰذا امام زفر کی بات چل رہی ہے، ‏وہ فرماتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے ایک شخص نکاح کرتے ہوئے کوئی شرطِ فاسد لگا دے، یہ نکاحِ موقت میں جس ‏نے وقت ذکر کیا ہے تو گویا اس نے وقت کی شرطِ فاسد بیچ میں لگا دی، باقی چیزیں ٹھیک ہیں نکاح کی لیکن ساتھ کیا ‏شرط لگا دی کہ یہ چھ ماہ کے لیے ہے یا دس دن کے لیے ہے، تو یہ فاسد شرط لگائی اور شروطِ فاسدہ سے نکاح فاسد ‏نہیں ہوتا بلکہ شرط فاسد ہو جاتی ہے اور نکاح صحیح ہو جاتا ہے، لہٰذا یہاں بھی نکاح صحیح ہو جائے گا اور یہ شرط ‏فاسد ہو جائے گی، اب یہ نکاح موقت نہیں ہے بلکہ مؤبد ہے تمام زندگی کے لیے ہے۔ لیکن علماء فرماتے ہیں نہیں، یہ جو انہوں نے ایجاب اور قبول کیا اس کے ساتھ وقت کی قید ہے، معلوم ہوا یہ ایجاب اور ‏قبول مقید ہیں وقت کے ساتھ، یہ ایجاب اور قبول کیا ہیں؟ وقت کے ساتھ مقید ہیں، لہٰذا وہ وقت کے ساتھ مقید ہی رہیں گے ‏اور وقت کے ساتھ یہ نکاح والے ایجاب اور قبول نہیں ہو سکتے بھئی۔ بات سمجھ میں اگئی۔ تو کہتے ہیں: وقال زفر رحمه الله هو صحيح لازم، کہ یہ نکاحِ موقت صحیح ہے، لازم اور لازم ہو گیا یعنی اب یہ موقت ‏نہیں ہے بلکہ ساری زندگی کے لیے لازم ہے، مؤبد ہے۔ لان النكاح لا يبطل بالشروط الفاسدة، اس لیے کیونکہ نکاح جو ہے ‏وہ شروطِ فاسدہ کی وجہ سے باطل نہیں ہوتا۔ بات سمجھ میں اگئی؟ تو وہ کیا فرماتے ہیں؟ یہ جو وقت والی شرط تھی یہ ‏باطل ہو گئی اور نکاح صحیح ہو گیا، مؤبد ہو گیا۔ ہم کہتے ہیں نہیں، یہ جو ایجاب اور قبول ہوا ہے یہ وقت کے ساتھ مقید ‏ہے، ان کو مطلق قرار نہیں دیا جا سکتا، معلوم ہوا یہ ایجاب اور قبول انہوں نے کیا ہی اتنے وقت کے لیے ہے، اس سے ‏زیادہ کے لیے اس کو قرار ہی نہیں دیا جا سکتا، اور ایجاب اور قبول ہی تو ارکانِ نکاح ہیں بھئی، انہی سے تو نکاح ہوتا ‏ہے، تو جب یہ وقت کے ساتھ مقید ہو گئے تو اب اس نکاح کو مطلق کرنے کی کوئی صورت نہیں ہے بھئی۔ اگے دیکھیے:‏ ولنا: انه اتى بمعنى المتعة، والعبرة في العقود للمعانى۔ ادھر دیکھیے، امام زفر تو کیا فرماتے ہیں نکاح صحیح ہو گیا، نکاحِ ‏موقت، اور وہ وقت والی شرط باطل ہو گئی اور یہ نکاح لازم ہوا تمام زندگی کے لیے، ہم کہتے ہیں نہیں، یہ جو نکاحِ ‏موقت کے اندر اس نے وقت کی قید لگا دی اور جب وقت کی قید لگا دی تو یہ تو متعہ ہو گیا، اور متعہ تو بالاتفاق اہلِ سنت ‏کے نزدیک باطل ہے لہٰذا یہ نکاح بھی باطل ہوگا۔ اگرچہ لفظوں کے اندر اس نے نکاح کو ذکر کیا ہے، یا تزوج کو ذکر ‏کیا ہے لیکن ساتھ قید وقت کی ا گئی، اور وقت کی قید تو نکاحِ متعہ میں ہوتی ہے، معلوم ہوا یہ لفظ نکاح والے بول رہا ‏ہے، مثلاً عورت سے کہتا ہے میں تجھ سے نکاح کر رہا ہوں یا میں تجھ سے شادی کر رہا ہوں، تو لفظ تو نکاح یا تزوج ‏کے بول رہا ہے لیکن ساتھ جب مدت ذکر کر دی معلوم ہوا اصل میں یہ نکاح یا تزوج کا ارادہ نہیں، اس کا متعہ کا ارادہ ‏ہے۔ کس کا ارادہ ہے؟ اس لیے کیونکہ اعتبار جو ہے معانی کا ہوتا ہے الفاظ کا نہیں۔ الفاظ تو اس نے نکاح اور تزوج ‏والے استعمال کیے لیکن ہم نے غور کیا تو ساتھ وقت بھی ذکر کر رہا ہے، معلوم ہوا یہ لفظوں کے اعتبار سے تو نکاح ‏ہے لیکن معنی اور حقیقت کے اعتبار سے دراصل متعہ کر رہا ہے، اور اعتبار لفظوں کا نہیں ہوتا معانی کا ہوتا ہے۔ کس ‏کا ہوتا ہے؟ معانی کا اعتبار ہوتا ہے۔ مثلاً دیکھو اپ کا ایک ساتھی اپ کے پاس ایا اور وہ اپ کے لیے قیمتی کتابیں لے کر ایا کہ لیجیے یہ کتابیں میں اپ کو ‏تحفے کے طور پر دیتا ہوں، کئی کتابیں اس نے اپ کو دیں فرض کرو مثلاً ان کی قیمت دس ہزار ہے اور کیا کہا یہ میری ‏طرف سے اپ کو تحفہ ہیں، لیکن شرط یہ ہے یہ اپنا قلم مجھے دے دو، اب وہ اپ کا قلم صرف سو روپے کا ہے، تو اپ ‏نے وہ قلم اس کو دے دیا اور کتابیں لے لیں۔ تو یاد رکھو یہ لفظ تو اس نے تحفے والے استعمال کیے لیکن حقیقت میں یہ ‏بیع ہو گئی۔ کیا ہو گئی؟ بیع، اس لیے کیونکہ تحفے میں ایک جانب سے چیز دی جاتی ہے دوسری جانب سے کوئی چیز ‏نہیں ہوتی، لیکن یہاں دونوں طرف سے چیز ا گئی، اس نے اپ کو کتابیں دیں تو اپ نے قلم حوالے کیا، تو یہ مبادلۃ المال ‏بالمال ہوا، تو لفظوں کے اندر تحفہ ذکر ہو رہا ہے لیکن حقیقت میں یہ بیع ہو رہی ہے کیونکہ مبادلۃ المال بالمال ہے۔ یا اسی طرح یاد رکھو ایک ہوتا ہے وکیل جس کو زندگی میں کوئی کام سپرد کرتے ہیں کہ جاؤ میرے لیے گاڑی خرید کر ‏لے اؤ، اور ایک ہوتا ہے وصی بھئی، وصیٌ ص کے ساتھ ہے، وصی جس کو موت کے بعد اپنے کاموں کا نگران مقرر ‏کیا جاتا ہے۔ مثلاً ایک شخص ہے بہت بیمار ہے وہ مرنے والا ہے تو کسی دوسرے شخص کو اپنا وصی بناتا ہے کہ ‏میرے بچے چھوٹے چھوٹے ہیں، میرے مرنے کے بعد میرے سارے کاموں کے تم ذمہ دار ہو گے اور پھر جب یہ میرے ‏بچے بڑے ہو جائیں تو جائیداد ان کے اس وقت حوالے کر دینا، تب تک تم نے سارا انتظام سنبھالنا ہے، تو اس کو کہتے ‏ہیں وصی۔ تو وکیل کسے کہتے ہیں؟ جسے اپ زندگی میں کسی کام کا ذمہ دار بناتے ہیں، اور وصی کسے کہتے ہیں؟ ‏جسے موت کے بعد اپ کسی چیز کا ذمہ دار بناتے ہیں۔ تو لہٰذا ایک شخص دوسرے شخص سے کہتا ہے، اب وہ جو بیمار ‏ہے وہ دوسرے شخص سے کہتا ہے کہ تم میرے مرنے کے بعد میرے فلاں فلاں کاموں کے وکیل ہو، اب دیکھو اس نے ‏لفظ تو وکیل ذکر کیے لیکن وکیل تو زندگی میں ہوتا ہے اور یہ موت کے بعد کے ذکر کر رہا ہے، معلوم ہوا یہ دراصل اس ‏کو وصی بنا رہا ہے کیونکہ اعتبار معنی کا ہے، موت کے بعد ذمہ دار ہوگا تو یہ وکیل نہیں کہلاتا بلکہ کیا ہوتا ہے؟ ‏وصی ہوتا ہے۔ تو لہٰذا معلوم ہوا اعتبار جو ہے الفاظ کا نہیں ہوتا بلکہ معانی کا ہوتا ہے۔ ہم جواب دے رہے ہیں امام زفر کو، امام زفر ‏فرماتے تھے کہ نکاحِ موقت صحیح ہو جائے گا، البتہ لازم ہو جائے گا وقت کی جو قید ہے وہ باطل ہو جائے گی، ہم کہتے ‏ہیں کہ اس شخص نے وقت کی قید لگا دی، جب وقت کی قید لگا دی معلوم ہوا یہ نکاح کر ہی نہیں رہا یہ متعہ کر رہا ہے، ‏کیونکہ اعتبار لفظوں کا نہیں ہوتا معنی کا ہوتا ہے، لفظ تو یہ نکاح والے ذکر کر رہا ہے لیکن ہم نے غور کیا تو اس میں ‏وقت کی قید بھی ہے، معلوم ہوا یہ متعہ کر رہا ہے اور متعہ تو بالاتفاق حرام ہے لہٰذا یہ بھی حرام ہوگا۔ ولنا، اور ہماری دلیل یہ ہے: انه اتى بمعنى المتعة، کہ یہ شخص متعہ کے معنی کو لایا ہے، یعنی یہ جو اس نے زبان سے ‏لفظ ادا کیے ہیں یہ متعہ کا معنی لایا ہے یعنی اس نے متعہ کے معنی کو ذکر کیا ہے، والعبرة في العقود للمعانى، اور اعتبار ‏جو ہوتا ہے عقدوں کے اندر وہ معانی کا ہوتا ہے لفظوں کا نہیں۔ ولا فرق بين ما اذا طالت مدة التوقيت او قصرت، یہاں سے صاحبِ ہدایہ رد کر رہے ہیں حسن ابن زیاد رحمہ اللہ کا۔ حسن ‏ابن زیاد رحمہ اللہ یہ بھی امام صاحب کے شاگرد ہیں، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے، اور یہ فرماتے ہیں کہ نکاحِ موقت ‏کے اندر اگر لمبی مدت ذکر کی جو زندگی سے بھی زیادہ ہے تو پھر یہ نکاح صحیح ہو جائے گا۔ مثلاً مثلاً دو سو سال کی ‏مدت ذکر کر دی کہ میں تم سے نکاح کرتا ہوں اتنے مہر کے بدلے، گواہ بھی دو موجود ہیں، اور کیا کہتا ہے؟ میں تم سے ‏نکاح کرتا ہوں اتنے مہر کے بدلے دو سو سال کے لیے، تو حسن ابن زیاد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو سو سال تو زندگی ‏نہیں ہے، معلوم ہوا یہ تمام زندگی کے لیے کیا کر رہا ہے؟ نکاح کر رہا ہے، لہٰذا یہ نکاحِ موقت ہے ہی نہیں، یہ تو نکاحِ ‏مؤبد کر رہا ہے تو یہ جائز ہو جائے گا۔ ہم کہتے ہیں نہیں، بس مدت جب ذکر کر دی جائے چاہے وہ چھوٹی مدت ہو چاہے ‏لمبی مدت ہو، یہ نکاحِ موقت ہے اور نکاحِ موقت کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں۔ اور باقی اپ نے کہا کہ دو سو سال ‏ذکر کر دیے اور دو سو سال کی تو زندگی نہیں ہے اس کی، معلوم ہوا مؤبد نکاح کر رہا ہے، ہم کہتے ہیں اگرچہ اس کی ‏زندگی دو سو سال کی نہیں ہے لیکن احتمال تو ہے، ہو سکتا ہے اللہ بطورِ کرامت کے اس ادمی کو دو سو سال کی زندگی ‏دے دیں، تو احتمال تو ا گیا، لہٰذا وہ مدتِ توقیت چاہے لمبی ہو چاہے چھوٹی ہو، ہر حال میں یہ نکاح باطل ہو جائے گا جب ‏مدت ذکر کر دی جائے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ولا فرق بين ما اذا طالت مدة التوقيت او قصرت، اور کوئی فرق نہیں ہے کہ جب لمبی ہو جائے وہ توقیت والی ‏مدت او قصرت یا چھوٹی ہو جائے، توقیت کا معنی ہے وقت مقرر کرنا، وقت کے ساتھ کسی چیز کی تحدید کرنا۔ تو کہتے ‏ہیں پھر دیکھیے: ولا فرق بين ما اذا طالت مدة التوقيت، اور کوئی فرق نہیں ہے اس کے درمیان کہ جب وہ مدتِ توقیت جو ‏ہے وہ لمبی ہو یعنی جو وقت بیان کیا ہے وہ لمبا ہو، او قصرت یا چھوٹا ہو، لان التوقيت هو المعين لجهة المتعة، اس لیے ‏کیونکہ توقیت جو ہے وہی تو تعین کر رہی ہے متعہ کی جہت کی، ہم کہتے ہیں وقت کو ذکر کر دیا تو نکاح کے اندر تو ‏وقت ذکر نہیں ہوتا، تو وقت کا ذکر کرنا ہی بتلا رہا ہے یہ نکاح نہیں کر رہا، متعہ کر رہا ہے۔ بات سمجھ میں اگئی؟ اور ‏متعہ تو باطل ہے۔ تو کہتے ہیں: لان التوقيت هو المعين لجهة المتعة، اس لیے کیونکہ توقیت یعنی وقت کا مقرر کرنا هو ‏المعين وہی تو تعین کر رہا ہے لجهة المتعة متعہ کی جانب کی، وقد وجد، اور تحقیق وہ توقیت تو پائی گئی لہٰذا یہ نکاحِ متعہ ‏ہوگا چاہے جتنی لمبی مرضی مدت ذکر کر دیں، یہ نکاحِ موقت ہوا اور یہ باطل ہے بھئی۔ بات سمجھ میں اگئی۔ اگے دیکھیے:‏ ومن تزوج امراتين في عقدة واحدة، واحداهما لا يحل له نكاحها، صح نكاح التي حل نكاحها، وبطل نكاح الاخرى۔ صورتِ مسئلہ یہ، ایک شخص نے ایک ہی عقد میں دو عورتوں سے نکاح کیا۔ یعنی ایک ہی ایجاب اور قبول ہو رہا ہے ‏دونوں کے ساتھ نکاح میں کہ مثلاً فلانی عورت اور فلانی عورت ان دونوں کو اتنے مہر کے بدلے میں اپ کے عقدِ نکاح ‏میں دے دیا، اور وہ ادمی کہتا ہے میں نے قبول کیا، تو دیکھا ایک ہی ایجاب اور قبول کے ساتھ دونوں اس کے عقد میں ‏داخل ہو رہی ہیں۔ تو اب صورت یہ، ایک ادمی ایک ہی عقد کے ساتھ دو عورتوں کے ساتھ نکاح کرتا ہے اور پھر پتہ چلتا ‏ہے کہ ان میں سے ایک عورت تو اس کے لیے حلال ہی نہیں ہے، مثلاً کوئی اس کو بتلاتا ہے کہ بھئی یہ تو اپ کی ‏رضاعی بہن ہے، اپ نے اور اس نے بچپن میں دونوں نے فلاں عورت کا دودھ پیا تھا، یا کوئی شخص ا کر بتاتا ہے کہ ‏بھئی یہ جو ایک عورت ہے اس سے تو تمہارے والد نے کسی زمانے میں نکاح کیا تھا، اور قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: ‏ولا تنكحوا ما نكح اباؤكم، تو یہ تو تم پر حرام ہے بھئی۔ بات سمجھ میں اگئی؟ تو اب ایک ہی ایجاب اور قبول سے دو ‏عورتوں سے نکاح کیا، ان میں سے ایک عورت ایسی ہے جس کے ساتھ اس کا نکاح ہی جائز نہیں تھا، تو کیا دوسری کا ‏نکاح ہو گیا یا نہیں؟ تو آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ دوسری کا نکاح ہو گیا۔ دوسری کا نکاح ہو گیا۔ وہ تو محلِ نکاح ہے، لہٰذا اس کے ساتھ نکاح ہو گیا اور جو ایک ہے وہ محلِ نکاح نہیں لہٰذا اس ‏کے ساتھ نکاح نہیں ہوا۔ دیکھیے، کہتے ہیں: ومن تزوّج امرأتين في عقدة واحدة وإحداهما لا يحلّ له نكاحها، اور جس نے ‏نکاح کیا دو عورتوں سے ایک ہی عقد کے اندر وإحداهما لا يحلّ له نكاحها اور ان دونوں میں سے ایک ایسی ہے کہ اس ‏کے ساتھ اس کا نکاح جائز نہیں ہے، صحّ نكاح الّتي حلّ نكاحها تو صحیح ہو جائے گا اس عورت کا نکاح جس سے اس کا ‏نکاح حلال ہے، وبطل نكاح الأخرى اور دوسری کا نکاح باطل ہو جائے گا، لأنّ المبطل في إحداهما اس لیے کیونکہ وہ چیز ‏جو نکاح کو باطل کرنے والی ہے وہ ان دونوں میں سے ایک کے اندر ہے۔ ایک ان میں سے رضاعی بہن ہے اور وہ ‏رضاعت جو ہے وہ نکاح کو یہاں باطل کر رہی ہے، یہاں نکاح ہو ہی نہیں رہا۔ بخلاف ما إذا جمع، جی اس پر اشکال ہوتا ہے کہ اے صاحبِ ہدایہ، آپ ہمیں بتلا رہے ہیں ایک ایجاب و قبول میں دو ‏عورتوں سے نکاح کیا اور ان میں سے ایک عورت اس کے لیے حلال ہے، ایک حلال نہیں، تو جو حلال ہے اس سے ‏نکاح ہو جائے گا۔ حالانکہ بیع کے اندر آپ فرماتے ہیں کہ اگر ایک شخص دو آدمیوں کو غلام بنا کر فروخت کرے، غلام ‏بنا کر دو آدمیوں کو فروخت کرتا ہے، ایک ایجاب و قبول کے ساتھ مثلاً دو غلام بیچ دیے۔ بعد میں پتہ چلا ان میں سے ‏ایک غلام ہے، دوسرا تو آزاد آدمی ہے، وہ تو محلِ بیع ہی نہیں ہے جیسے یہاں پر یہ ایک عورت محلِ نکاح ہی نہیں تھی ‏بھئی۔ تو بیع کے اندر آپ فرماتے ہیں کہ وہ ساری بیع ہی باطل ہے۔ ایک تو غلام ہے وہ تو محلِ بیع ہے، وہ تو مبیعہ ‏ہے، اس میں تو بیع کو منعقد ہونا چاہیے لیکن آپ وہاں کہتے ہیں ایک میں بھی بیع منعقد نہیں ہوئی، اور یہاں آپ یہاں پر ‏بھی نکاح کے اندر بعینہٖ وہی صورت ہے تو آپ کہتے ہیں ایک نکاح ہو گیا، ایک نہیں ہوا۔ تو بیع میں بھی آپ کو کہنا ‏چاہیے: ایک غلام کی بیع ہو گئی، دوسرے کی بیع نہیں ہوئی۔ کہتے ہیں: نہیں، دونوں میں فرق ہے، دونوں میں فرق ہے۔ ‏فرق یہ ہے کہ ہم نے آپ کو ضابطہ بتلایا کہ نکاح جو ہے وہ شروطِ فاسدہ سے فاسد نہیں ہوتا اور بیع جو ہے وہ شروطِ ‏فاسدہ سے فاسد ہو جاتی ہے۔ تو گویا جب اس نے ایک غلام کے ساتھ ایک آزاد کو ملا کر بیچا، تو دونوں کا اکٹھا ایجاب کیا اور کہا: "میں یہ دو غلام ‏تمہیں بیچتا ہوں۔" خریدنے والے کو تو نہیں پتہ کہ ان میں سے ایک آزاد ہے۔ "یہ دونوں غلام میں تمہیں بیچتا ہوں مثلاً دس ‏لاکھ روپے میں۔" اس نے کہا: "مجھے قبول ہے۔" تو گویا اس نے ان میں سے یہ جو ایک غلام ہے، اس کے قبول کرنے ‏کے لیے شرط لگا دی دوسرے کے بھی قبول کرنے کی۔ ایک غلام کے اندر دونوں کا اکٹھا ایجاب کر رہا ہے۔ تو گویا ایک ‏غلام کے بیچنے میں شرط لگا دی کہ ساتھ تمہیں کیا کرنا پڑے گا؟ دوسرے میں بھی عقد کو قبول کرنا پڑے گا۔ بھئی، ‏زبان سے تو اس نے نہیں ایسے کہا مثلاً لیکن صورت یہی بن گئی کہ اس نے کیا کہا: "یہ دونوں غلام آپ کو میں نے دس ‏لاکھ میں بیچ دیے" اور وہ کیا کہتا ہے: "مجھے قبول ہے"، تو فقہاء فرماتے ہیں یہ جو غلام ہے اس کے اندر بھی بیع نہیں ‏ہوئی۔ کیوں نہیں ہوئی؟ کہتے ہیں: گویا یہ اسی طرح ہو گیا کہ غلام کے بیچتے وقت وہ غیرِ غلام کے قبول کرنے کی بھی ‏ساتھ شرط لگا رہا ہے کہ یہ غلام تبھی میں تمہیں دوں گا، اس کے ساتھ یہ دوسرے کو بھی قبول کرنا پڑے گا، دوسرے ‏کے اندر بھی بیع کو قبول کرنا پڑے گا۔ تو گویا شرطِ فاسد لگا دی، شرطِ فاسد لگا دی۔ وہ جو آزاد ہے وہ تو محلِ بیع ہی ‏نہیں ہے۔ یوں کہو، یوں کہو مبیعہ کے قبول کرنے کے لیے غیرِ مبیعہ کو بھی قبول کرنے کی شرط لگا دی۔ اور بیع میں صرف مبیعہ کو قبول کیا جاتا ہے یا غیرِ مبیعہ کو بھی ساتھ قبول کیا جاتا ہے؟ بیع کے اندر صرف مبیعہ کو ‏قبول کرتے ہیں یا غیرِ مبیعہ کو بھی قبول کیا جاتا ہے؟ جس چیز کی بیع ہو رہی ہے وہ تو مبیعہ ہے نا، تو بیع میں تو ‏صرف مبیعہ کو قبول کیا جاتا ہے لیکن یہ ساتھ آزاد کو بھی ملا کر بیچ رہا ہے۔ گویا مبیعہ کے ساتھ شرط لگا رہا ہے کہ ‏اس غیرِ مبیعہ کو بھی تمہیں قبول کرنا پڑے گا کیونکہ قبول تو وہ دونوں کے لیے آ رہا ہے، تو گویا غیرِ مبیعہ کو بھی ‏قبول کرنے کی شرط لگا دی، تو لہٰذا شرطِ فاسد لگائی اور شرطِ فاسد سے بیع کیا ہو جاتی ہے؟ فاسد ہو جاتی ہے، لہٰذا یہ ‏بیع ہی فاسد ہے، اس غلام میں بھی بیع نہیں ہو گی۔ جبکہ نکاح، نکاح جو ہے وہ تو شروطِ فاسدہ سے فاسد نہیں ہوتا، لہٰذا وہاں پر ایک عورت محلِ نکاح نہیں ہے، وہاں تو ‏نکاح منعقد نہیں ہوا لیکن جو محلِ نکاح ہے اس کے ساتھ نکاح منعقد ہو جائے گا۔ اور نیز بیع کے مسئلے میں یاد رکھو اس ‏میں تفریقِ صفقہ بھی لازم آتا ہے۔ بیع کے اندر تفریقِ صفقہ بھی لازم آتا ہے۔ صفقہ کہتے ہیں سودے کو، معاملے کو۔ ‏تفریق کا معنی: جدا کرنا۔ مثلاً وہ آپ خریدنے گئے تھے دو غلام۔ اس نے ایک آزاد کو بھی ساتھ ملا کے کہا: "یہ دونوں ‏غلام میں نے آپ کو بیچ دیے"، آپ کو تو نہیں پتہ یہ دوسرا آزاد آدمی ہے، آپ نے کہا: "مجھے قبول ہے۔" آپ کو بعد میں ‏پتہ چلا کہ یہ ایک تو آزاد ہے۔ اب اگر آپ کو شریعت یہ حکم دے دے: بھئی اب ایک غلام تو لینا پڑے گا۔ کیا کرنا پڑے ‏گا؟ فقہاء نے تو کہا دوسرے میں بھی بیع کیا ہے؟ فاسد ہے۔ ایک غلام کے اندر بھی بیع صحیح نہیں، یہ بیع فاسد ہو گئی۔ ‏اگر یہ کر دیا جاتا کہ نہیں ایک میں بیع کو نافذ کر دیا جاتا، تو خریدار بیچارہ مشکل میں پڑ جاتا بھئی۔ مثلاً آپ پر سودا ‏تقسیم ہو گیا، آپ کو تو اکٹھے دو غلام خریدنے تھے۔ اب ایک غلام یہ والا لینا پڑے گا، ایک کوئی اور تلاش کر کے ‏خریدنا پڑے گا، تو تفریقِ صفقہ، دیکھو سودے میں تفریق آ گئی۔ آپ کا سودا کیا تھا؟ کس چیز کا سودا کر رہے تھے؟ دو ‏غلاموں کا۔ اب ایک غلام یہاں سے لینا پڑے گا، دوسرا غلام آگے جا کر لینا پڑے گا، اور جب الگ الگ غلام لیں گے تو ‏ظاہر سی بات ہے وہ ایک ایک غلام لیں گے وہ تو آپ کو مہنگا ملے گا، ہاں دو غلام اکٹھے خریدیں گے تو ظاہر سی بات ‏ہے کچھ سستے ملیں گے آپ کو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا تفریقِ صفقہ اس صورت میں لازم آتا ہے۔ بیع کے اندر ‏اصول ہے یاد رکھو، جب کچھ کے اندر بیع فاسد یا باطل ہو گی تو سارے میں ہی فاسد ہو جائے گی کیونکہ ورنہ پھر کیا ‏خرابی لازم آئے گی؟ خریدار یا بیچنے والے پر تفریقِ صفقہ لازم آئے گا۔ گویا اس کو شریعت حکم دے رہی ہے بھئی: ‏کچھ کے اندر تو بیع نہیں ہوئی، باقی کے اندر ہو گئی، لہٰذا وہ حوالے کرو۔ تو یا تو خریدار مشکل میں پڑ جائے گا یا ‏بیچنے والا مشکل میں پڑ جائے گا بعض صورتوں میں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو لہٰذا اس لیے بیع کے اندر غیرِ مبیعہ ‏کو قبول کرنے کی اگر شرط لگا دیں گے تو مبیعہ کے اندر بھی بیع باطل ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: بخلاف ما إذا جمع بين حرٍّ وعبدٍ في البيع، بخلاف اس کے کہ جب جمع کیا بیع کے اندر ایک غلام اور آزاد ‏کو، لأنّه يبطل بالشّروط الفاسدة، اس لیے کیونکہ بیع جو ہے وہ شروطِ فاسدہ کی وجہ سے باطل ہو جاتی ہے، وقبول العقد ‏في الحرّ شرطٌ فيه، اور اس عقد کے اندر تو آزاد کو قبول کرنے کی شرط تھی، وقبول العقد في الحرّ اور آزاد میں بھی عقد کو ‏قبول کرنا یہ تو شرط تھا اس بیع میں، کہ اس آزاد کو بھی کیا کرنا پڑے گا؟ قبول کرنا پڑے گا۔ بھئی، آزاد کیسے قبول ‏کریں گے؟ وہ تو مبیعہ ہی نہیں ہے۔ تو لہٰذا یہ شرطِ فاسد سے بیع ہی فاسد ہو گئی۔ ثمّ جميع المسمّى، اچھا اب مسئلہ یہ آیا: دو عورتیں تھیں، دو میں سے ایک محلِ نکاح ہی نہیں ہے اور ایک محلِ نکاح ہے ‏لیکن اکٹھا نکاح کیا ہے اور مہر بھی دونوں کا اکٹھا ملا کر ذکر کیا ہے، الگ الگ ذکر نہیں کیا کہ اتنے لاکھ اس کا ہے ‏اور اتنے لاکھ اس کا۔ اگر الگ الگ ذکر کیا ہو پھر تو ظاہر سی بات ہے کہ جس ایک سے نکاح ہو گیا ہے اسی کو مہر ‏دینا پڑے گا جو اس کے لیے ذکر ہوا ہے لیکن صورت یہ کہ دونوں کا مہر بھی اکٹھا ذکر کر دیا کہ دونوں کے ملا کر ‏مثلاً پانچ لاکھ مہر ہے۔ تو اب کیا کریں گے؟ تو امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت تو محلِ نکاح ہی ‏نہیں ہے، لہٰذا یوں سمجھیں گے گویا نکاح ہی ایک کا ہوا ہے اور سارا مہر اسی کو ملے گا، اسی عورت کا حق ہو گیا۔ ‏کیونکہ وہ عورت تو محلِ نکاح ہی نہیں تھی بھئی۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ سارا مہر اس عورت کو نہیں ملے گا ‏بلکہ ان دونوں عورتوں کا مہرِ مثل دیکھا جائے گا اور پھر جتنا حصہ اس عورت کے حق میں آ رہا ہے اتنا حصہ اس کو ‏دیں گے اور باقی ساقط ہو جائے گا کیونکہ دوسری سے تو نکاح ہی نہیں ہوا، اس کا تو حصہ نہیں ہے۔ تو صرف اس کو ‏دینا ہے تو اس کو سارا مہر نہیں دیں گے بلکہ اس سارے مہر میں سے جتنا اس کا حصہ بنتا ہے وہ اس کو دے دیں گے، ‏اور اس کا پتہ کس سے چلے گا؟ مہرِ مثل سے۔ مہرِ مثل آگے صاحبِ ہدایہ بھی بیان فرمائیں گے۔ مہرِ مثل اسے کہتے ہیں کہ اس جیسی عورت کا کتنا مہر ہوتا ہے، یعنی ‏اسی کے خاندان میں، حسن و جمال میں بھی اسی کی طرح ہو، عمر میں بھی اسی طرح ہو، نیز باکرہ ہے یا ثیبہ ہے، یعنی ‏کنواری ہے یا شادی شدہ ہے، اس سے بھی مہر پر اثر پڑتا ہے۔ باکرہ کا مہر زیادہ ہوتا ہے، شادی شدہ کا مہر کم ہوتا ‏ہے، یعنی پہلے شادی ہو گئی تھی پھر طلاق مل گئی، تو اس کا مہر کم ہو گا۔ جس کا حسن و جمال زیادہ ہو گا اس کا بھی ‏مہر زیادہ ہو گا ظاہر سی بات ہے۔ تو لہٰذا ان دونوں عورتوں کا مہرِ مثل دیکھا جائے گا کہ ان کے خاندان میں اس جیسی ‏عورت کا مہر کتنا ہوتا ہے جو حسن و جمال میں بھی اسی جیسی ہو، عمر میں بھی اسی جیسی ہو اور باکرہ یا ثیبہ وغیرہ ‏ہونے میں بھی اسی جیسی ہو، ان کا کتنا مہر ہے۔ پھر جب دونوں کا مہرِ مثل پتہ چل گیا پھر ان کا آپس میں تناسب نکال لیں ‏گے اور اس تناسب سے وہ مال تقسیم ہو گا، تو جس کے ساتھ نکاح ہوا ہے اس کو اس کا حصہ مل جائے گا اور دوسری ‏کے ساتھ تو نکاح ہی نہیں ہوا، اس کا حصہ ساقط ہو جائے گا، وہ خاوند پر آئے گا ہی نہیں۔ مثلاً دیکھو، ان دونوں عورتوں کا ہم نے پتہ کروایا تو پتہ چلا کہ ان میں سے ایک جو ہے اس جیسی عورت کا مہر چھ ‏لاکھ ہوتا ہے اور دوسری کا مہر دیکھا تو وہ چار لاکھ ہوتا ہے۔ معلوم ہوا دونوں میں چھ اور چار کا تناسب ہے۔ تو لہٰذا یہ ‏جو مہر ہے مثلاً پانچ لاکھ، چھ اور چار کتنے ہو گئے؟ دس، تو یہ پانچ لاکھ جو ادا کیا اس کے دس حصے کر دو اور دس ‏حصوں میں سے چار حصے جس کے ساتھ نکاح ہوا ہے، چار حصے مثلاً اس کے بن رہے ہیں اور چھ حصے جس سے ‏نکاح نہیں ہوا اس کے بن رہے ہیں۔ تو لہٰذا پانچ لاکھ کے دس حصے کیے، ایک حصے میں کتنا آ رہا ہے؟ پچاس ہزار، تو ‏چار حصوں کا کتنا بن گیا؟ دو لاکھ، تو دو لاکھ اس عورت کا مہر ہو جائے گا اور دوسری عورت جس کا تین لاکھ مہر ‏بنتا تھا اس سے تو نکاح ہی نہیں ہوا، وہ خاوند سے ساقط ہو جائیں گے۔ تو کہتے ہیں: ثمّ جميع المسمّى للّتي حلّ نكاحها عند أبي حنيفة رحمه الله، پھر سارا کا سارا مسمیٰ، مسمیٰ وہ جو مذکورہ ہے ‏جس کو وہ جو مقرر کیا گیا ہے مہر، ثمّ جميع المسمّى پھر سارا مقررہ مہر جو ہے یا یوں کہیں سارا مذکورہ مہر جو ہے، ‏للّتي حلّ نكاحها اس عورت کے لیے ہو گا جس کا نکاح حلال ہے، عند أبي حنيفة رحمه الله امام صاحب کے نزدیک، ‏وعندهما يقسّم على مهر مثليهما، اور صاحبین کے نزدیک یہ سارا مسمیٰ جو ہے، یہ جو سارا مذکورہ مہر ہے، اس کو تقسیم ‏کیا جائے گا على مهر مثليهما ان دونوں عورتوں کے مہرِ مثل پر۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور جتنا اس کا حصہ بنتا ہے وہ ‏اس کو دے دیا جائے گا۔ وهي مسألة الأصل، اور یہ اصل کا مسئلہ ہے۔ اصل سے مراد امام محمد رحمہ اللہ کی کتاب مبسوط ‏ہے۔ یعنی صاحبِ ہدایہ بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ مبسوط کے اندر مذکور ہے، وہاں سے لیا گیا ہے۔ تو کہتے ہیں: ‏وهي مسألة الأصل، اور یہ مبسوط کا مسئلہ ہے یعنی وہاں مذکور ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ومن ادّعت عليه امرأةٌ أنّه تزوّجها وأقامت بيّنةً فجعلها القاضي امرأته ولم يكن تزوّجها وسعها المقام معه وأن ‏تدعه يجامعها۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک عورت نے ایک مرد پر نکاح کا دعویٰ کر دیا۔ اس شخص نے اس سے نکاح نہیں کیا ‏لیکن وہ عورت دو گواہ بھی کہیں سے تیار کر کے لے آئی اور کہا: "قاضی صاحب، اس شخص سے میرا نکاح ہو چکا ‏ہے، یہ دو میرے پاس گواہ بھی موجود ہیں نکاح کے، اور یہ شخص اب نہ مجھے رہائش دے رہا ہے، نہ نفقہ وغیرہ کوئی ‏خرچہ دے رہا ہے۔" تو قاضی کے پاس وہ دو گواہوں نے گواہی دے دی اور قاضی نے فیصلہ کر دیا، تو اب یاد رکھو اب ‏اس آدمی کو اس عورت کو رہائش بھی دینا پڑے گی اور اس کو نفقہ وغیرہ بھی دینا پڑے گا، حالانکہ اس کا اس کے ساتھ ‏حقیقت میں نکاح نہیں ہوا۔ تو صاحبین فرماتے ہیں کہ قاضی کا یہ فیصلہ ظاہراً نافذ ہو گا، باطناً نافذ نہیں ہو گا۔ ظاہری ‏طور پر نافذ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ دنیاوی احکام جاری ہو جائیں گے، جیسے خاوند کے ذمے بیوی کا نفقہ ہوتا ہے، ‏خاوند کے ذمے بیوی کی رہائش وغیرہ ہوتی ہے، یہ ساری چیزیں اب اس مرد کو دینا پڑیں گی۔ تو ظاہری طور پر نافذ ہو گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ باطنی طور پر یہ نکاح نافذ نہیں، یعنی عند اللہ یہ نکاح نافذ نہیں، لہٰذا ‏یہ شخص اس عورت سے صحبت نہیں کر سکتا کیونکہ یہ عورت اس کے لیے حرام ہے، اس کا نکاح اس سے نہیں ہوا۔ ‏ظاہری طور پر قاضی نے فیصلہ کر دیا ہے تو ظاہری احکام کے مطابق خرچے وغیرہ دینے پڑیں گے، لیکن باطنی طور ‏پر یہ عورت اس آدمی کے لیے حلال نہیں ہے۔ جبکہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی کا فیصلہ ظاہری ‏طور پر بھی نافذ ہو گیا یعنی دنیاوی احکام بھی جاری ہوں گے، اور باطنی طور پر بھی نافذ ہو گیا، لہٰذا اب اس شخص کے ‏لیے اس عورت سے صحبت جائز ہے اور عورت کے لیے جائز ہے کہ اس کو اپنے اوپر قدرت دے، یعنی یہ میاں بیوی ‏بن گئے اب۔ اب ان کا ایک دوسرے سے صحبت کرنا، قربت کرنا سب جائز ہو گیا۔ یہ کس کا مذہب ہے؟ امامِ اعظم ابو ‏حنیفہ رحمہ اللہ کا۔ جی دیکھیے، کہتے ہیں: ومن ادّعت عليه امرأةٌ، اور وہ شخص کہ جس پر دعویٰ کیا کسی عورت نے، أنّه تزوّجها کہ اس ‏آدمی نے اس عورت سے نکاح کیا ہے، وأقامت بيّنةً اور اس عورت نے گواہی بھی قائم کر دی، فجعلها القاضي امرأته تو ‏اس قاضی نے اس عورت کو اس آدمی کی بیوی قرار دے دیا، ولم يكن تزوّجها اور حال یہ ہے کہ اس نے اس سے نکاح ‏نہیں کیا، وسعها تو گنجائش ہے اس عورت کے لیے، المقام معه اس آدمی کے ساتھ رہنے کی، مقام، أقام يقيم إقامةً، اسی سے ‏مقام مصدرِ میمی ہے۔ کس طرح ہے گردان؟ أقام يقيم إقامةً فهو مقيمٌ، وأقيم يقام إقامةً فذاك مقامٌ۔ دیکھا، مقام یہ اسمِ مفعول ہے۔ ‏اور یہی ظرف بھی ہے اسمِ مفعول، والظرف منه مقامٌ مقامان۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو اسمِ مفعول ہوتا ہے ‏مزید فیہ کے ابواب میں، یہی ظرف بھی ہوتا ہے اور یہی مصدرِ میمی بھی ہوتا ہے۔ تو مقام یہ اسمِ مفعول بھی ہے، اس میں ‏ظرف بھی ہے اور مصدرِ میمی بھی ہے۔ مصدرِ میمی وہ مصدر جس کے شروع میں میم آئے، تو یہاں یہ مقام جو ہے یہ ‏مصدر ہے، وسعها اور اس عورت کے لیے گنجائش ہے المقام معه اس آدمی کے ساتھ ٹھہرنے کی، اس عورت کے لیے ‏گنجائش ہے اس آدمی کے ساتھ ٹھہرنے کی کہ اس کے ساتھ رہے، وأن تدعه يجامعها، اور اس عورت کے لیے گنجائش ‏ہے کہ چھوڑ دے اس آدمی کو يجامعها اس سے جماع کر لے، وأن تدعه، ودع يدع کا معنی ہے چھوڑنا، یعنی عورت اس ‏آدمی کو چھوڑ سکتی ہے یعنی اجازت دے سکتی ہے کہ وہ اس سے کیا کر لے؟ صحبت کر لے۔ یاد رکھو، وأن تدع یہ اس کا عطف ہے المقام پر، المقام، اور المقام یہ ہے مصدرِ صریح بھئی، یعنی صاف لفظوں میں یہ ‏مصدر ہے، اور وأن تدعه یہ مصدرِ مؤول ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ أن جب فعل پر داخل ہوتا ہے تو اس کو مصدر کے معنی ‏میں کر دیتا ہے، تو أن تدع یہ لفظوں میں تو مصدر نہیں لیکن معنی کے اعتبار سے یہ کیا ہے؟ مصدر، اس کو کیا کہتے ‏ہیں؟ مصدرِ مؤول، یعنی تاویلاً مصدر ہے صراحۃً مصدر نہیں۔ تو لہٰذا یہ وأن تدع کا عطف یہ مصدرِ مؤول کا عطف کس ‏پر ہوا؟ مصدرِ صریح پر ہو گیا۔ تو اس کا عطف المقام پر ہے۔ تو کہتے ہیں: وهذا عند أبي حنيفة رحمه الله، یہ امام صاحب کے نزدیک ہے کہ وہ عورت اس کو اپنے اوپر قدرت دے ‏سکتی ہے، اب یہ دونوں میاں بیوی بن گئے۔ کہتے ہیں: وهذا عند أبي حنيفة رحمه الله، یہ امام صاحب کے نزدیک ہے، وهو ‏قول أبي يوسف رحمه الله أوّلًا، اور یہی قول ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا اولاً، پہلا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا پہلا قول ‏یہی تھا، وہ امام صاحب کے ساتھ تھے۔ وفي قوله الآخر، اور دوسرے قول کے اندر جو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا دوسرا ‏قول ہے اس میں، وهو قول محمّدٍ رحمه الله اور یہی قول امام محمد کا بھی ہے، لا يسعه أن يطأها، اس آدمی کے لیے گنجائش ‏نہیں ہے کہ اس عورت سے صحبت کر لے۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا آخری قول امام محمد رحمہ اللہ کے ساتھ ہے، وہ ‏اس کو جائز قرار نہیں دیتے۔ وهو قول الشّافعيّ رحمه الله، اور یہی قول امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی ہے، وہ بھی فرماتے ‏ہیں کہ یہ جو نکاح ہے ظاہراً نافذ ہوا ہے باطناً نافذ نہیں، حقیقت میں یہ اس کی بیوی نہیں بنی لہٰذا صحبت کی اجازت نہیں ‏ہے بھئی۔ اور وجہ کیا؟ کہتے ہیں: لأنّ القاضي أخطأ الحجّة، وہ فرماتے ہیں اس لیے کیونکہ قاضی نے غلطی کی ہے الحجّة گواہی ‏میں۔ وہ جو حجت اور گواہی ہے اس کے اندر قاضی سے غلطی ہو گئی، یعنی جھوٹے گواہ تھے اور قاضی نے ان کی ‏گواہی قبول کر لی، نکاح تو نہیں ہوا تھا، عورت جھوٹے گواہ لائی ہے، تو حجت اور گواہی کے اندر قاضی سے کیا ہو ‏گئی؟ غلطی ہو گئی، اس نے جھوٹے آدمیوں کی گواہی قبول کر لی۔ کہتے ہیں: لأنّ القاضي أخطأ الحجّة، اس لیے کیونکہ ‏قاضی سے خطا ہو گئی ہے حجت کے اندر، إذ الشّهود كذبةٌ، اس لیے کیونکہ گواہ تو جھوٹے ہیں، فصار كما إذا ظهر أنّهم ‏عبيدٌ أو كفّارٌ، تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے یہ بات ظاہر ہو جائے کہ یہ جو گواہ ہیں یہ غلام ہیں یا کفار ہیں، غلام ہیں یا ‏کفار۔ بھئی دیکھیے، پیچھے مسئلہ گزرا تھا کہ نکاح کے اندر دو گواہوں کا ہونا ضروری ہے اور وہ گواہ جو ہیں ان کے ‏اندر چار صفتوں کا ہونا لازم ہے: کیا؟ آزاد ہو، عاقل ہو، بالغ ہو، مسلمان ہو۔ یہ چار صفتیں گواہ میں لازم ہیں پھر مسلمان ‏کے خلاف وہ گواہی دے سکتا ہے، ورنہ مسلمان کے خلاف وہ گواہی نہیں دے سکتا۔ اور پھر اگر عادل بھی ہے، قابلِ ‏اعتماد بھی ہے گواہ، تو پھر قاضی کو گواہی قبول کرنا لازم ہے واجب ہے، اور اگر یہ چار شرطیں تو ہیں لیکن گواہ عادل ‏نہیں ہے پھر قاضی کی مرضی ہے گواہی قبول کرے یا قبول نہ کرے بھئی۔ تو دیکھو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا دوسرا ‏قول ہے اور اسی طرح امام محمد اور امام شافعی رحمہ اللہ کا قول، وہ فرماتے ہیں کہ اس عورت کے لیے جائز نہیں ہے ‏کہ اس مرد کو اپنے ساتھ رہنے دے یا اپنے ساتھ اسے صحبت کرنے دے کیونکہ یہ نکاح نہیں ہوا۔ وہ کہتے ہیں اس لیے ‏کیونکہ قاضی سے گواہوں میں غلطی ہو گئی۔ گواہ جھوٹے تھے لیکن قاضی کیا سمجھ بیٹھا؟ یہ سچے ہیں۔ یہ اسی طرح ہے جیسے کسی مسئلے میں دو آدمیوں نے کسی مسلمان کے خلاف آ کر گواہی دے دی اور قاضی نے فیصلہ ‏کر دیا، بعد میں پتہ چلا وہ گواہ وہ تو غلام ہیں، یا وہ کافر ہیں، بھئی ابھی بتایا گواہوں کا آزاد ہونا بھی ضروری نیز ‏گواہوں کا مسلمان ہونا بھی ضروری۔ تو ان صفاتِ لازمہ میں سے مثلاً وہ آزاد نہیں ہے، پتہ چلا غلام ہے، یا مسلمان نہیں ‏ہے بلکہ کافر ہیں، تو گواہوں کا غلام یا غیر مسلم ہونا ظاہر ہو گیا تو پھر بالاتفاق یہ قاضی کا یہ فیصلہ ظاہراً نافذ ہو گا ‏باطناً نہیں۔ قاضی کا فیصلہ اگر دو جھوٹے گواہ آ گئے قاضی کے پاس اور قاضی نے پتہ کروایا، لوگوں نے کہا: ہاں جی، ‏یہ قابلِ اعتماد ہیں، قاضی نے فیصلہ کر دیا، بعد میں پتہ چلا کہ نہیں یہ تو دونوں غلام تھے، اور غلام تو مسلمان کے ‏خلاف گواہی نہیں دے سکتے، یا یہ دونوں کافر تھے اور کافر تو مسلمان کے خلاف گواہی نہیں دے سکتے، تو اس قسم ‏کے مسئلے میں امام صاحب بھی فرماتے ہیں قاضی نے جو فیصلہ دیا وہ ظاہراً نافذ ہے باطناً نہیں۔ وہ فیصلہ ظاہراً نافذ ‏ہے باطناً نہیں کیونکہ گواہی میں قاضی سے غلطی ہو گئی، گواہی قبول کرنے میں قاضی سے غلطی ہو گئی۔ بات سمجھ ‏میں آ گئی۔ تو صاحبین اور امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں: دیکھو اس مسئلے کے اندر امام ‏صاحب بھی تسلیم کرتے ہیں قاضی سے غلطی ہو گئی لہٰذا قاضی کا فیصلہ ظاہراً نافذ ہو گا باطناً نافذ نہیں، تو یہاں پر بھی ‏عورت نے جو گواہ پیش کیے وہ جھوٹے گواہ ہیں، تو اس میں بھی قاضی سے غلطی ہو گئی، جب قاضی سے غلطی ہو ‏جائے جھوٹی گواہی وہ قبول کر لے تو قاضی کا فیصلہ ظاہراً نافذ ہونا چاہیے باطناً نافذ نہیں ہونا چاہیے۔ بات سمجھ میں؟ اب آگے امام صاحب کی دلیل آئے گی، وہ فرماتے ہیں: نہیں، ظاہراً بھی نافذ ہو گا اور باطناً بھی نافذ ہو گا۔ بھئی دیکھو، ‏پہلے یہاں ایک دو باتیں سمجھ لیں۔ ایک ہے املاکِ مرسلہ اور ایک ہے املاکِ مقیدہ۔ املاکِ مرسلہ اس کو کہتے ہیں، ‏املاکِ مرسلہ اس کو کہتے ہیں کہ ایک شخص کہے: "یہ چیز میری ہے، میں اس کا مالک ہوں" اور دو گواہ بھی پیش کر ‏دے کہ: "قاضی صاحب، میں کیا ہوں اس چیز کا؟ مالک ہوں۔" اب دیکھو مالک ہونے پہ تو گواہ پیش کیے لیکن بھئی آپ ‏کیوں مالک ہیں؟ آپ کو کسی نے تحفہ دیا تھا، آپ نے یہ چیز خریدی تھی، یا آپ کو یہ چیز جو ہے وراثت میں ملی ہے؟ ‏سبب نہیں بیان کیا۔ تو اس کو کہتے ہیں ملکِ مرسل یعنی ایسی ملکیت جو مرسل ہے، آزاد ہے، جس میں کوئی قید نہیں، کہ ‏کس طرح یہ مالک بنا، سبب کا بیان نہیں۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ ملکِ مرسل، اور جمع کیا آئے گی؟ املاک، تو یہ املاکِ ‏مرسلہ۔ ملک کی جمع املاک اور مرسل کی مونث مرسلہ۔ تو املاک جمع ہے اور جمع بتاویلِ جماعتٍ واحد مونث کے حکم ‏میں ہوتی ہے، اس لیے اس کی صفت عموماً واحد مونث لائی جاتی ہے۔ تو معلوم ہوا املاک دو قسم کی ہو گئیں: کچھ املاکِ ‏مرسلہ ہیں اور کچھ املاکِ مقیدہ ہیں۔ امام صاحب کا ضابطہ یہ ہے: املاکِ مرسلہ کے اندر اگر قاضی نے جھوٹی گواہی پر فیصلہ دے دیا عقود اور فسوخ کے ‏اندر، کس کے اندر؟ بھئی، کچھ عقد ہوتے ہیں، بیع بھی کیا ہے؟ ایک عقد، نکاح بھی کیا ہے؟ ایک عقد۔ اسی طرح ایک ‏فسخ ہوتا ہے کہ کسی عقد کو کوئی فسخ کرتا ہے، کیا کرتا ہے؟ عقد کو فسخ کرتا ہے، مثلاً ایک آدمی نے ایک آدمی سے ‏چیز خرید لی پھر بعد میں جا کر کہا کہ بھئی مجھے پیسوں کی ضرورت پڑ گئی ہے، اپنی چیز واپس لے لو، وہ اس کے ‏ساتھ بیع کو فسخ کر لیتا ہے، وہ پیسے واپس دے دیتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ جو عقود اور فسوخ ہیں، ‏یعنی عقدوں میں اور فسخوں کے اندر کوئی شخص قاضی کے پاس جھوٹے گواہ پیش کرے تو امام صاحب کا ضابطہ یہ ‏ہے کہ اگر وہ جو گواہ ہیں وہ املاکِ مقیدہ کے اندر گواہی دے رہے ہیں تو پھر یہ فیصلہ ظاہراً بھی نافذ ہو گا، باطناً بھی ‏نافذ ہو گا، اور اگر وہ جو گواہ ہیں وہ املاکِ مرسلہ کی گواہی دے رہے ہیں یعنی سبب نہیں بیان کر رہے، جیسے اس آدمی ‏نے کہا: "یہ چیز میری ہے قاضی صاحب" اور گواہ لے آیا اور گواہوں نے بھی کہا: "قاضی صاحب، یہ اس کا مالک ہے ‏ہم گواہی دیتے ہیں"، لیکن وجہ نہیں ذکر کی، تو انہوں نے کس چیز کی گواہی دی؟ املاکِ مرسلہ کی۔ تو امام صاحب ‏فرماتے ہیں جب دو جھوٹے گواہ عقود اور فسوخ، یہ بھی یاد رکھنا عقود اور فسوخ کی بات ہو رہی ہے، عقد یا فسخ کے ‏بارے میں اگر جھوٹے گواہ آ کر گواہی دے دیں اور کس چیز کی گواہی دیں؟ املاکِ مرسلہ کی، تو قاضی کا فیصلہ صرف ‏ظاہراً نافذ ہو گا باطناً نافذ نہیں۔ اور اگر یہ گواہ آ کر املاکِ مقیدہ پر گواہی دیں تو قاضی کا فیصلہ ظاہراً بھی نافذ ہو گا اور ‏باطناً بھی نافذ ہو گا۔ کیا ضابطہ ہوا؟ امام صاحب کے نزدیک عقود اور فسوخ میں اگر جھوٹے گواہ آ کر گواہی دیتے ہیں، اگر وہ گواہی املاکِ ‏مرسلہ پر ہے، سبب نہیں بیان کر رہے بس یہ کہہ رہے ہیں یہ آدمی مالک ہے، تو پھر یہ فیصلہ قاضی کا جو ہو گا وہ ‏صرف ظاہراً نافذ ہو گا۔ اور اگر وہ سبب بھی بیان کریں کہ قاضی صاحب ہمارے سامنے اس نے یہ چیز زید سے خریدی ‏تھی، یا اس کو زید نے تحفے کے طور پر دی تھی، یا قاضی صاحب یہ چیز اس کو وراثت میں ملی تھی ہم گواہی دیتے ‏ہیں، تو دیکھو سبب بھی بیان کر رہے ہیں، تو عقود اور فسوخ میں اگر جھوٹے گواہ آ کر گواہی دیتے ہیں اور کس پر ‏گواہی دیتے ہیں؟ املاکِ مقیدہ پر، تو پھر قاضی کا فیصلہ ظاہراً بھی نافذ ہو گا اور باطناً بھی، یعنی عند اللہ بھی وہ چیز ‏اسی کی ہو گئی یعنی وہ عقد منعقد ہو گیا۔ وہ عقد کیا ہو گیا؟ منعقد ہو گیا اور یہ ظاہراً بھی اس چیز کا مالک بن گیا اور ‏باطناً بھی مالک بن گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حاصلِ کلام کیا ہوا؟ صاحبین وغیرہ کے نزدیک ضابطہ یہ ہے کہ عقود اور ‏فسوخ کے اندر اگر قاضی جھوٹی گواہی پر فیصلہ کرے گا تو ظاہراً نافذ ہو گا باطناً نافذ نہیں۔ امام صاحب کے نزدیک ‏عقود اور فسوخ میں قاضی اگر جھوٹی گواہی پر فیصلہ دے، اگر وہ املاکِ مرسلہ میں سے ہے تو پھر ظاہراً نافذ ہو گا ‏فیصلہ باطناً نہیں، اور اگر املاکِ مقیدہ میں سے ہے یعنی سبب پر گواہی دے رہے ہیں کہ ہمارے سامنے یہ چیز اس نے ‏خریدی تھی، تو پھر اس صورت میں یہ فیصلہ ظاہراً بھی نافذ ہو جائے گا اور باطناً بھی نافذ ہو جائے گا۔ مثلاً ایک آدمی آیا، اس نے آ کر کہا: "قاضی صاحب، یہ زید نے مجھے اپنی یہ گاڑی دس لاکھ روپے میں فروخت کر ‏دی۔" زید کہتا ہے: "نہیں قاضی صاحب، میں نے کوئی نہیں اس کو بیچی یہ گاڑی۔" وہ دو گواہ بھی لے آیا، گواہوں نے آ ‏کر گواہی دی، جھوٹے گواہ لے آیا، حقیقت میں زید نے گاڑی نہیں بیچی ہوئی، وہ دو جھوٹے گواہ لے آیا۔ گواہوں نے کہا: ‏‏"قاضی صاحب، ہمارے سامنے زید نے اس کو دس لاکھ میں یہ گاڑی بیچی ہے، لہٰذا یہ گاڑی کا مالک ہے۔" تو اب ‏بتائیے، ان گواہوں نے کس چیز میں گواہی دی؟ عقد کے اندر یعنی عقود اور فسوخ میں، اور گواہی سچی ہے یا جھوٹی ‏ہے؟ جھوٹی گواہی، جھوٹے گواہ ہیں، اور نیز ملکِ مرسل پر گواہی دی ہے یا ملکِ مقید پر؟ ملکِ مقید پر، سبب بھی بیان ‏کر رہے ہیں کہ یہ کیوں مالک ہے کیونکہ اس نے گاڑی خریدی ہے، تو قاضی فیصلہ کر دیتا ہے کہ یہ گاڑی آپ کی ہے ‏کیونکہ آپ نے خریدی ہے اور اب آپ زید کو دس لاکھ روپے ادا کر دیں، تو وہ زید کو دس لاکھ ادا کر دے گا اور گاڑی ‏کا مالک ہو جائے گا۔ اور یہ صرف ظاہری طور پر قاضی کا فیصلہ نہیں نافذ، حقیقت میں ہی وہ گاڑی کا مالک بن گیا ‏بھئی۔ کیونکہ عقود اور فسوخ میں قاضی جب فیصلہ کرے شہادتِ زور یعنی جھوٹی گواہی پر اور ملک کون سی ہو؟ مقید ‏ہو، تو قاضی کا فیصلہ ظاہراً بھی نافذ اور باطناً بھی نافذ ہو جاتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ولأبي حنيفة رحمه الله، اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے، أنّ الشّهود صدقةٌ عنده، کہ یہ جو گواہ ‏ہیں یہ سچے ہیں قاضی کے نزدیک۔ قاضی جب فیصلہ کر رہا ہے تو معلوم ہوا قاضی ان کو سچا ہی سمجھ رہا ہے۔ مسئلہ ‏یہ چل رہا ہے، عورت نے گواہ پیش کر دیے کہ اس آدمی نے میرے ساتھ نکاح کیا ہے، تو قاضی نے فیصلہ کر دیا۔ اب یہ ‏فیصلہ ظاہراً بھی نافذ اور باطناً بھی، صاحبین نے فرمایا تھا ظاہراً نافذ ہو گا باطناً نہیں کیونکہ قاضی نے گواہی قبول ‏کرنے میں غلطی کی ہے، یہ اسی طرح ہے جیسے کسی مسئلے کے اندر بعد میں گواہوں کا پتہ چل جائے کہ وہ غلام تھے ‏یا کافر تھے، تو وہاں بھی قاضی سے غلطی ہو گئی تو وہاں تو بالاتفاق امام صاحب بھی فرماتے ہیں قاضی کا فیصلہ ‏ظاہراً نافذ ہو گا باطناً نہیں۔ تو یہاں پر بھی غلطی ہوئی ہے تو فیصلہ صرف ظاہراً نافذ ہونا چاہیے باطناً نہیں، اب امام ‏صاحب کی طرف سے جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، کہ بھئی دیکھو قاضی نے جب فیصلہ کیا، قاضی نے ان گواہوں ‏کو سچا سمجھا۔ قاضی نے اپنی طرف سے پتہ بھی کروایا اور اس کو لوگوں نے بتایا کہ ہاں جی قاضی صاحب، یہ سچے ‏آدمی ہیں، یہ کیا ہیں؟ سچے آدمی ہیں۔ تو لہٰذا قاضی کے ذمے تو یہی تھا کہ ان کے سچ کا پتہ کروائے، باقی حقیقت تو اللہ ‏ہی جانتے ہیں کہ یہ جو گواہ گواہی دے رہے ہیں یہ سچی گواہی ہے یا سچی نہیں، قاضی نے تو اپنی طرف سے اطمینان ‏کر لیا، اسے تو یوں لگا کہ یہ دونوں سچ بول رہے ہیں۔ تو لہٰذا، لہٰذا اب یہ جو قاضی گواہوں کے سچا ہونے کی وجہ سے فیصلہ کر رہا ہے تو یہ فیصلہ ظاہراً بھی نافذ ہو گا اور ‏باطناً بھی، کیونکہ یہ ملکِ مقید کی قبیل سے ہے۔ کس قبیل سے؟ ملکِ مقید کسے کہتے ہیں؟ جس میں سبب بھی ذکر کیا ‏جاتا ہے۔ عورت کیا کہہ رہی ہے؟ "اس آدمی نے میرے ساتھ نکاح کیا ہے، لہٰذا مجھے خرچہ بھی دے اور مجھے رہائش ‏بھی دے۔" تو اب یہ جو اپنے حقوق کا دعویٰ کر رہی ہے کہ میں حقوق کی مالک ہوں مجھے ملنے چاہییں، تو یہ ملکِ ‏مرسل ہوئی یا ملکِ مقید ہوئی؟ ہاں، ملکِ مقید کہ مجھے خرچہ بھی ملنا چاہیے اور رہائش بھی ملنی چاہیے، سبب کیا؟ ‏سبب ذکر کر رہی ہے کہ اس آدمی نے میرے ساتھ نکاح کیا ہے اور اس سبب پر گواہ پیش کر رہی ہے، نکاح پر گواہ پیش ‏کر رہی ہے۔ تو لہٰذا یہ ظاہراً بھی فیصلہ نافذ ہو گا اور باطناً بھی کیونکہ یہ املاکِ مقیدہ کی قبیل سے ہے۔ بات سمجھ میں آ ‏گئی۔ تو کہتے ہیں: ولأبي حنيفة رحمه الله، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے، أنّ الشّهود صدقةٌ عنده، کہ یہ گواہ جو ہیں ‏سچے ہیں اس قاضی کے نزدیک، وهو الحجّة، اور یہی گواہ یہی تو حجت ہے، یہی تو حجت ہے بھئی کہ یہ گواہ کیا ہیں؟ ‏سچے ہیں۔ جب سچے گواہ ہیں شریعت میں یہی تو حجت ہیں، جب سچے گواہ آ جائیں تو قاضی کو فیصلہ کرنا پڑتا ہے ‏بھئی۔ تو لہٰذا گواہ جب سچے ہیں، وهو الحجّة اور یہی حجت ہے، لتعذّر الوقوف على حقيقة الصّدق، اس لیے کیونکہ سچ کی ‏حقیقت پر مطلع ہونا تو ممکن نہیں ہے۔ سچ، یہ تو دل کی بات ہے، وہ تو اللہ ہی جانتے ہیں یہ سچ بول رہے ہیں یا نہیں، ‏لیکن قاضی نے تو اپنے طور پر تحقیق کر لی، تسلی کر لی تو اس پر وہ فیصلہ کر رہا ہے۔ اور پھر صاحبین نے کس پر ‏قیاس کیا تھا؟ جب گواہ کیا نکلیں؟ غلام یا کافر۔ امام صاحب فرماتے ہیں: نہیں، ان پر آپ قیاس نہیں کر سکتے۔ وجہ یہ کہ ‏کسی کے غلام یا کفر کا پتہ آرام سے چل سکتا ہے۔ تھوڑی سی تحقیق کروائیں آپ کو پتہ لگ جائے گا کہ یہ آدمی غلام ہے ‏یا کافر ہے، لیکن یہ آدمی سچ بول رہا ہے یا جھوٹ بول رہا ہے جس کی اور کوئی قرینہ بھی نہیں موجود، وہاں حقیقت پر ‏انسان مطلع نہیں ہو سکتا۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں یہ جو جھوٹے گواہ ہیں ان کو آپ ان گواہوں پر قیاس نہیں کر سکتے ‏جو غلام نکلے یا کافر نکلے، اس لیے کیونکہ کفر یا غلامی کا تو پتہ آرام سے چل جائے گا، ذرا تحقیق کروائی جائے تو ‏پتہ چل سکتا ہے یعنی اس کی حقیقت کا پتہ چل جاتا ہے، لیکن سچ کی حقیقت پر مطلع ہونا دشوار ہے جب کوئی قرینہ ‏وغیرہ بھی وہاں پر موجود نہیں ہو تو پھر تو سچ کا پتہ نہیں چل سکتا، وہ تو اللہ ہی جانتے ہیں کہ ایک آدمی سچ بول رہا ‏ہے یا سچ نہیں، بعض جگہ تو قرینے ہوتے ہیں، بعض جگہ کوئی قرینہ وغیرہ اور کوئی دلیل نہیں ہوتی تو آدمی کو سچ کا ‏پتہ چل ہی نہیں سکتا۔ لہٰذا سچ کی حقیقت کا پتہ نہیں چل سکتا اور کفر اور غلامی کا پتہ چل سکتا ہے تو لہٰذا ایک کو ‏دوسرے پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ یہ معنی ہے، دیکھیے کہتے ہیں: لتعذّر الوقوف على حقيقة الصّدق، اس لیے کیونکہ سچ ‏کی حقیقت پر مطلع ہونا یہ متعذر ہے ممکن نہیں ہے، بخلاف الكفر والرّقّ، بخلاف کفر اور غلامی کے، لأنّ الوقوف عليها ‏متيسّرٌ، اس لیے کیونکہ ان پر واقف ہونا آسان ہے، وہاں علامتیں ہوں گی، ذرا تحقیق کروائیں گے پتہ چل جائے گا۔ وإذا بُني القضاء على الحجّة وأمكن تنفيذه باطنًا بتقديم النّكاح، اچھا یہاں سے اب اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ: ‏کہ اے امام صاحب، ظاہراً تو ٹھیک ہے قاضی کا فیصلہ نافذ ہونا چاہیے کیونکہ قاضی نے جب ایک فیصلہ کر دیا ہے تو ‏وہ نافذ ہونا چاہیے، لیکن باطناً آپ کیسے نافذ قرار دیتے ہیں؟ تو اس کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ امام صاحب کی ‏طرف سے کہ بھئی دیکھیے، جب عورت نے دو گواہ پیش کر دیے اور قاضی ان دو گواہوں کی وجہ سے فیصلہ کر رہا ‏ہے، تو اس فیصلے کو ظاہراً بھی نافذ ہونا چاہیے اور باطناً بھی تاکہ جھگڑا پوری طرح ختم ہو جائے۔ اگر صرف اس کو ‏ظاہراً نافذ قرار دیا جائے اور باطناً نافذ نہ ہو، تو پھر تو جھگڑا پوری طرح ختم نہ ہوا، حالانکہ قاضی کا کیا کام ہے؟ کہ ‏وہ لوگوں کے درمیان جھگڑے کو پورے طور پر ختم کروا دے، اور جھگڑے کا پورے طور پر ختم ہونا اسی وقت ہو گا ‏جب یہ کہا جائے کہ یہ فیصلہ ظاہراً بھی نافذ ہے اور باطناً بھی نافذ ہے۔ اور اس کی صورت بھی ہے یہاں پر، اس کو ہم ‏باطناً نافذ کر بھی سکتے ہیں، کس طرح؟ کہ قاضی کے فیصلے سے پہلے اقتضاءً نکاح کو مقدر مان لیا جائے۔ یعنی جب عورت نے دو گواہ پیش کر دیے کہ میرا اس سے نکاح ہو چکا ہے، یہ مجھے خرچہ وغیرہ نہیں دیتا مجھے ‏خرچہ دلایا جائے، تو قاضی نے جب اس آدمی پر خرچے کا فیصلہ کیا، تو اس خرچے سے پہلے اقتضاءً نکاح مان لیا ‏جائے کہ اس عورت کا اس آدمی سے نکاح ہو گیا، یا یوں کہو قاضی نے ہی پہلے اس کا کیا کروا دیا گویا نکاح کروا دیا ‏اور پھر اس کو حکم دے دیا کہ اس کو تم نے خرچہ دینا ہے۔ تو لہٰذا دیکھا، اقتضاءً نکاح کو پہلے مان لو، جب اقتضاءً ‏نکاح کو مان لیا تو عند اللہ بھی یہ نافذ ہو گیا، تو لہٰذا باطناً بھی فیصلہ نافذ ہوا اور ظاہراً بھی فیصلہ نافذ ہو گیا۔ بات سمجھ ‏میں آ گئی؟ کیا خلاصہ ہوا امام صاحب کے جواب کا؟ کہ قاضی کا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان جھگڑا مکمل طور ‏پر ختم کروائے اور جھگڑا مکمل طور پر تبھی ختم ہو گا جب فیصلہ ظاہراً بھی نافذ ہو اور باطناً بھی نافذ ہو۔ اور باطناً ‏بھی نافذ کرنے کی صورت بھی یہاں ممکن ہے کہ قاضی یہ جو اس مرد پر خرچے کا فیصلہ کر رہا ہے، اس سے پہلے ‏اقتضاءً نکاح کو مقدر مان لیا جائے۔ کیا کیا جائے؟ بھئی اس شخص پر خرچہ آ ہی نہیں سکتا جب تک اس کا نکاح نہیں ‏ہوا، تو لہٰذا پہلے نکاح مان لو، نکاح مقدر یہاں اقتضاءً ثابت ہوا، اور اب اس پر قاضی نے خرچہ بھی واجب کر دیا، اور ‏نکاح کے بعد پھر آتا بھی کیا ہے؟ خرچہ آتا ہے خاوند کے اوپر۔ یہ اسی طرح ہے جیسے آپ نے اصولِ فقہ کے اندر پڑھا ہے: ایک خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے: "یا طالق! اے طلاق ‏والی!" تو یاد رکھو عند الاحناف اس عورت کو طلاق ہو گئی۔ بھئی اس نے طلاق تو نہیں دی، اس نے تو صرف کہا: "اے ‏طلاق والی!" پکارا ہے اس کو، لیکن یاد رکھو ہمارے علماء فرماتے ہیں، فقہاء فرماتے ہیں کہ اس عورت کو طلاق ہو ‏گئی۔ اور بھئی کیسے طلاق ہوئی؟ کہتے ہیں اقتضاءً طلاق ہو گئی۔ خاوند اپنی بیوی کو کہہ رہا ہے: "اے طلاق والی!" ‏حالانکہ یہ تو اس کی بیوی ہے، یہ تو طلاق والی نہیں ہے، اور جو شخص طلاقوں کا مالک ہے وہی پکار کے کہہ رہا ‏ہے: "اے طالق! اے طلاق والی!" تو یہ عورت طلاق والی تبھی ہو سکتی ہے جب اس سے پہلے اقتضاءً طلاق کو مان لیا ‏جائے کہ خاوند کیا دے چکا ہے؟ طلاق دے چکا ہے، تو یہاں پر دیکھو "یا طالق" سے پہلے اقتضاءً طلاق ثابت ہو جائے ‏گی اور اس عورت کو طلاق ہو جائے گی۔ ورنہ تو اس خاوند کا "یا طالق" کہنا ہی صحیح نہیں، بھئی تم ہی اس کی طلاق ‏کے مالک ہو اور تم ہی اس کو "یا طالق" کہہ رہے ہو، معلوم ہوا تم اس کو طلاق دے چکے ہو جبھی اس کو "یا طالق" کہہ ‏رہے ہو، تو اقتضاءً "یا طالق" سے پہلے طلاق مصدر یہاں مان لیا جائے گا کہ یہ خاوند دے چکا ہے اس کو طلاق بھئی۔ ‏تو یہاں پر بھی اسی طرح، جب قاضی فیصلہ کر رہا ہے تو اس سے پہلے اقتضاءً نکاح کو مان لیا جائے گا۔ بات سمجھ ‏میں آ گئی۔ اور اسی طرح تمام املاکِ مقیدہ کے اندر ہے۔ تمام املاکِ مقیدہ، جیسے میں نے مثال ذکر کی: ایک شخص آیا اور اس نے آ ‏کر کہا: "قاضی صاحب، زید نے یہ گاڑی مجھے دس لاکھ میں بیچ دی ہے لیکن اب یہ مجھے دے نہیں رہا۔" زید کہتا ہے: ‏‏"نہیں قاضی صاحب، میں نے اس کو گاڑی نہیں فروخت کی۔" وہ آدمی دو گواہ لے آیا کہ: "قاضی صاحب، یہ دو گواہ ہیں، ‏ان کے سامنے میرے زید کے ساتھ بیع ہوئی تھی"، اور وہ دونوں جھوٹے گواہ ہیں۔ تو قاضی نے فیصلہ کر دیا، تو کس پر ‏فیصلہ کیا؟ ملکِ مرسل پر یا ملکِ مقید پر؟ ملکِ مقید ہے نا، وہ سبب ذکر کر رہا ہے: "میں نے خریدی تھی، خریدنے پر ‏دو گواہ پیش، میں مالک کیوں ہوں اس گاڑی کا؟ کیونکہ میں نے خریدی تھی زید سے اور اس سبب کے اوپر وہ گواہ پیش ‏کر رہا ہے۔" تو لہٰذا قاضی اس کو گاڑی کا مالک بنا دے گا اور اس سے کہے گا کہ دس لاکھ روپیہ اب زید کو دے دو جو ‏تم نے گاڑی کے دینے ہیں۔ تو دیکھو اس آدمی کو قاضی نے گاڑی کا مالک بنایا اور دعویٰ کس چیز کا تھا؟ ملکِ مقید کا ‏تھا، وہ سبب ذکر کر رہا تھا کہ میں مالک کیوں ہوں کیونکہ میں نے خریدی ہے اور اس پر میں گواہ پیش کر رہا ہوں۔ اور ‏اگرچہ وہ گواہ جھوٹے ہیں لیکن جب عقود اور فسوخ کے اندر قاضی ملکِ مقید پر فیصلہ کر دے تو وہ گواہی ظاہراً بھی ‏نافذ اور باطناً، اور باطناً کیسے نافذ ہو گی؟ کہ قاضی کے اس فیصلے سے پہلے اقتضاءً وہ عقد مان لیا جائے، تو یہاں پر ‏بھی قاضی کے فیصلے سے پہلے اقتضاءً عقدِ بیع مان لیا جائے گا کہ قاضی نے ان دونوں میں کیا کروا دی؟ بیع کروا دی، ‏ایک نے ایجاب کیا، دوسرے نے قبول کیا اور ان کے درمیان بیع ہو گئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا ملکِ مقید کے اندر ‏قاضی جب بھی فیصلہ کرے گا وہ ظاہراً بھی نافذ ہو گا اور باطناً بھی نافذ ہو گا اور اقتضاءً قاضی کے فیصلے سے پہلے ‏وہ عقد مان لیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اور اگر ملکِ مرسل ہو تو پھر وہاں قاضی کا فیصلہ ظاہراً نافذ ہو گا باطناً نہیں نافذ ہو گا، کیونکہ وہ جو سبب ہے اس کو ‏اقتضاءً پہلے ماننا پڑے گا، قاضی کے فیصلے سے پہلے اقتضاءً وہ سبب مان لیں گے، وہ عقد کو مان لیں گے۔ قاضی کے ‏فیصلے سے پہلے اقتضاءً اس عقد کو مان لیا جائے گا کہ اس وقت یہ عقد ہو گیا، لیکن اگر ملکِ مرسل ہے تو وہاں، وہاں ‏تو سبب ہی ذکر نہیں ہے۔ ایک آدمی کہتا ہے: "قاضی صاحب، یہ گاڑی میری ہے"، سبب نہیں ذکر کرتا، تو قاضی فیصلہ ‏کر دیتا ہے اس کے حق میں وہ دو جھوٹے گواہ بھی لے آتا ہے، لیکن یہاں قاضی کے فیصلے سے پہلے اقتضاءً کوئی عقد ‏ثابت نہیں ہو سکتا، کیوں؟ بھئی سبب اس نے ذکر ہی نہیں کیا تو ثابت کیسے ہو؟ ثابت ہونے کو اگر بیع ہوتی تھی بیع ثابت ‏ہو سکتی تھی، یا وہ کہتا اس نے مجھے تحفے کے طور پر دیا تحفہ ثابت ہو جاتا وغیرہ، لیکن یہاں تو کوئی سبب وہ ذکر ‏ہی نہیں کر رہا، لہٰذا اقتضاءً بھی کوئی سبب ثابت نہیں کیا جا سکتا اس لیے کیونکہ اسباب کے اندر تقابل، مقابلہ ہوتا ہے، ‏تو ان میں سے کسی ایک سبب کو بھی وہاں اقتضاءً تسلیم نہیں کیا جا سکتا بھئی کیونکہ اس نے ذکر ہی نہیں کیا۔ اور کسی ‏ایک سبب کو بھی قاضی خود ترجیح نہیں دے سکتا۔ اس نے کہا: "یہ گاڑی میری ہے۔" ہو سکتا ہے اس نے خریدی ہو، ہو ‏سکتا ہے اس کو تحفے کے طور پر ملی ہو، ہو سکتا ہے اس کو وراثت کے طور پر ملی ہو، تو کسی ایک صورت کو بھی ‏قاضی خود ترجیح نہیں دے سکتا۔ تو املاکِ مرسلہ میں جب قاضی فیصلہ کرے گا تو پھر وہ ظاہراً نافذ ہو گی باطناً نافذ ‏نہیں ہو گی، جبکہ املاکِ مقیدہ کے اندر قاضی اگر جھوٹی گواہی پر فیصلہ کرے گا عقود اور فسوخ میں تو وہ ظاہراً بھی ‏نافذ ہو گا اور باطناً بھی، اور اس کو اقتضاءً پہلے مان لیا جائے گا بھئی، اسی سبب کو جس کو وہ ذکر کر رہا ہے۔ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: وإذا بُني القضاء على الحجّة، اور جب یہ قاضی کا یہ فیصلہ جو ہے اس کی بنیاد علی الحجۃ ‏گواہی پر ہے، وأمكن تنفيذه باطنًا، اور اس فیصلے کو باطناً نافذ کرنا ممکن بھی ہے، بتقديم النّكاح، کہ نکاح کو مقدم کر دیا ‏جائے، اس فیصلے پر نکاح کو اقتضاءً مقدم کر دیا جائے، نُفّذ قطعًا للمنازعة، تو لہٰذا اس فیصلے کو باطناً بھی نافذ کر دیا ‏جائے گا قطعًا للمنازعة جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ پھر دیکھ لیں ترجمہ۔ کہتے ہیں: وإذا بُني ‏القضاء على الحجّة، اور جب قاضی نے یہ جو فیصلہ کیا ہے اس کی بنیاد گواہی پر ہے، وأمكن تنفيذه باطنًا، اور قاضی کے ‏اس فیصلے کو باطناً نافذ کرنا بھی ممکن ہے، بتقديم النّكاح، بہیں صورت کہ نکاح کو مقدم مان لیا جائے یعنی اقتضاءً، تو ‏لہٰذا جب ممکن بھی ہے، نُفّذ قطعًا للمنازعة، تو اس فیصلے کو باطناً بھی نافذ کر دیا جائے گا جھگڑے کو ختم کرنے کے ‏لیے، بخلاف الأملاك المرسلة، بخلاف املاکِ مرسلہ کے، وہاں باطناً نافذ نہیں کر سکتے، لأنّ في الأسباب تزاحمًا، اس لیے ‏کیونکہ اسباب کے اندر ٹکراؤ ہوتا ہے، مقابلہ ہوتا ہے، فلا إمكان، لہٰذا وہاں یہ ممکن نہیں ہے کہ قاضی ایک کو ترجیح دے ‏دے۔ بھئی اسباب کے اندر ٹکراؤ ہوتا ہے، ایک شخص مالک ایک چیز کا بیع کے ذریعے بھی مالک ہو سکتا ہے، تحفے ‏کے طور پر ملے پھر بھی مالک ہو سکتا ہے، وراثت کے طور پر ملے تب بھی مالک ہو سکتا ہے، تو کتنی ہی صورتیں ‏بن سکتی ہیں ایک شخص کے کسی چیز کے مالک ہونے کی، تو ان اسباب کے اندر ٹکراؤ ہے، ہر سبب ایک دوسرے کے ‏برابر ہے، ہر ایک سے ملکیت آ رہی ہے، لہٰذا کسی ایک کو قاضی ترجیح دے دے ایسا قاضی نہیں کر سکتا بھئی۔ بات ‏سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا املاکِ مرسلہ میں تو سبب ہی نہیں ذکر، جب سبب نہیں ذکر تو وہاں قاضی کے فیصلے سے پہلے ‏اقتضاءً کسی چیز کو مانا نہیں جا سکتا بھئی، یہ معنی ہے۔ چنانچہ اسی لیے کہتے ہیں دیکھیے: ایک شخص نے دعویٰ کر دیا کسی کی باندی پر کہ: "قاضی صاحب، میں اس باندی کا ‏مالک ہوں۔ قاضی صاحب، میں اس باندی کا مالک ہوں" اور دو جھوٹے گواہ لے گیا قاضی کے پاس اور قاضی نے اس ‏کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ اب اس نے سبب نہیں بتایا کہ میں مالک کیوں ہوں اس باندی کا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا ‏قاضی کا فیصلہ ظاہراً نافذ ہوا۔ یہ شخص باندی کا مالک تو بن گیا لیکن یہ باندی اس کے لیے حلال نہیں، یہ اس سے ‏صحبت نہیں کر سکتا۔ اور اگر اس کے بجائے کسی سبب پر یہ دعویٰ کرتا کہ: "قاضی صاحب، میں اس باندی کا مالک ‏ہوں کیونکہ میں نے یہ اس سے خرید لی تھی پانچ لاکھ روپے میں"، اور پھر اس پر وہ دو گواہ پیش کرتا ہے کہ وہ گواہ ‏کہتے ہیں ہمارے سامنے یہ بیع ہوئی تھی پانچ لاکھ میں، تو اب قاضی جو فیصلہ کرے گا یہ ملکِ مقید پر فیصلہ کر رہا ‏ہے، لہٰذا یہ ظاہراً بھی نافذ ہو گا اور باطناً بھی نافذ ہو گا اور اس شخص کے لیے اس باندی سے صحبت جائز ہو جائے گی ‏اور قاضی اس کو کہے گا کہ جو پانچ لاکھ میں خریدی ہے باندی تو وہ پانچ لاکھ روپیہ اب اس آدمی کے حوالے کرو جس ‏سے باندی آپ نے خریدی ہے۔ یہ معنی ہے، کہتے ہیں: بخلاف الأملاك المرسلة، بخلاف املاکِ مرسلہ کے، لأنّ في ‏الأسباب تزاحمًا، اس لیے کیونکہ اسباب کے اندر آپس میں ٹکراؤ اور مقابلہ ہوتا ہے تو کسی ایک کو بھی ترجیح نہیں دی ‏جا سکتی، فلا إمكان، لہٰذا وہاں یہ ممکن نہیں ہے کہ اس کو باطناً بھی نافذ قرار دے دیا جائے، والله أعلم، اور اللہ خوب ‏جاننے والے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ حاصلِ کلام یہ ہوا کہ عقود اور فسوخ کے اندر اگر جھوٹے گواہ پیش کر دیے جائیں اور اس پر قاضی فیصلہ کرے گا، تو ‏صاحبین اور امام شافعی رحمہما اللہ کے نزدیک قاضی کا فیصلہ صرف ظاہراً نافذ ہو گا باطناً نہیں، جبکہ امام صاحب کے ‏نزدیک تفصیل ہے کہ وہ جس پر جھوٹے گواہ پیش کیے جا رہے ہیں وہ املاکِ مرسلہ پر پیش کیے جا رہے ہیں یا املاکِ ‏مقیدہ پر۔ اگر املاکِ مرسلہ پر پیش کیے گئے کہ یہ اس کا مالک ہے، سبب نہیں ذکر کیا گیا، تو پھر اس صورت میں ظاہراً ‏نافذ ہو گا فیصلہ باطناً نافذ نہیں، لیکن اگر لیکن اگر وہ گواہ جو ہیں املاکِ مقیدہ پر پیش کر دیے یعنی وہ سبب پر گواہی ‏دے رہے ہیں کہ اس چیز کا اس لیے مالک ہے کہ اس نے خریدی ہے یا اس کو تحفے میں ملی ہے وغیرہ، تو پھر اس ‏صورت میں وہی عقد اقتضاءً پہلے مان لیا جائے گا، لہٰذا وہ فیصلہ ظاہراً بھی نافذ ہو جائے گا اور باطناً بھی نافذ ہو جائے ‏گا تاکہ جھگڑا مکمل طور پر ختم ہو جائے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔