آگے سبق دیکھیے بھئی: قال: ”وإن تزوج حبلى من زنى جاز النكاح ولا يطؤها حتى تضع حملها، وهذا عند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى، وقال أبو يوسف رحمه الله تعالى: النكاح فاسد، وإن كان الحمل ثابتا النسب فالنكاح باطل بالإجماع“. بھئی گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ باندی سے نکاح جائز ہے، چاہے مسلمان باندی ہو، چاہے اہلِ کتاب باندی ہو۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صرف مسلمان باندی سے نکاح جائز ہے اور اہلِ کتاب باندی سے نکاح جائز نہیں۔ اور نیز وہ فرماتے ہیں کہ باندی سے نکاح صرف اسی وقت جائز ہے جب کوئی شخص آزاد عورت سے نکاح کی قدرت نہ رکھتا ہو بھئی۔ اور نیز وہ فرماتے ہیں کہ ایک وقت میں صرف ایک ہی باندی کو کوئی شخص اپنے نکاح میں رکھ سکتا ہے۔ جبکہ عند الاحناف مسلمان باندی سے بھی نکاح جائز اور کتابیہ باندی سے بھی نکاح جائز، اور نیز آزاد عورت پر قدرت ہو یا قدرت نہ ہو دونوں صورتوں میں باندی کے ساتھ نکاح جائز ہے۔ اور نیز صرف ایک ہی باندی نہیں، بلکہ جیسے چار آزاد عورتوں سے کوئی شخص نکاح کر سکتا ہے بیک وقت، یعنی چار آزاد عورتوں کو اپنے نکاح میں رکھ سکتا ہے، اسی طرح چار باندیوں کو بھی اپنے نکاح میں رکھ سکتا ہے، البتہ یہ ہے کہ باندی کی اولاد جو ہے وہ باندی کے مالک کے مملوک ہوں گے یعنی غلام یا باندیاں ہوں گے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل جو ہے وہ قرآن سے آیت ذکر فرماتے ہیں: ”ومن لم يستطع منكم طولا أن ينكح المحصنات المؤمنات“، کہ جو شخص تم میں سے اس بات کی قدرت نہیں رکھتا کہ وہ پاکدامن مومنہ عورتوں سے نکاح کر لے، ”فمما ملكت أيمانكم من فتياتكم المؤمنات“، تو پھر جو تمہارے داہنے ہاتھ جن کے مالک ہیں یعنی تمہاری جو مومنہ باندیاں ہیں ان سے نکاح کر سکتا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا ضابطہ ہے کہ جب کسی حکم کو کسی شرط کے ساتھ معلق کر دیا جائے، تو وہ شرط پائی جائے گی تو وہ حکم بھی ہوگا، وہ شرط نہیں تو حکم بھی نہیں، اور یہاں باندی کے ساتھ نکاح کو اللہ تعالیٰ نے مشروط فرمایا ہے کہ جو تم میں سے آزاد عورت کی قدرت نہیں رکھتا۔ بھئی آزاد عورت کا مہر بھی زیادہ ہوگا اور نیز اس کا نفقہ بھی زیادہ دینا پڑے گا باندی کے مقابلے میں، جبکہ باندی جو ہے وہ تو کسی کی مملوکہ ہے تو وہاں مہر بھی تھوڑا ہوگا اور نیز نفقہ بھی آزاد عورت جتنا نہیں ہوگا بلکہ اکثر اوقات تو نفقہ وہ اس کا آقا ہی دے دے گا، تو لہٰذا جو غریب ہے جو صاحبِ استطاعت نہیں ہے، آزاد عورت سے نکاح نہیں کر سکتا، تو اللہ فرماتے ہیں کہ تم باندی سے نکاح کر سکتے ہو۔ تو دیکھو باندی کے ساتھ نکاح کو معلق کر دیا اللہ تعالیٰ نے آزاد عورت کی استطاعت نہ ہونے کے ساتھ۔ لہٰذا جس میں یہ استطاعت ہوگی کہ وہ آزاد عورت سے نکاح کر سکتا ہے، تو اس کے لیے باندی سے نکاح جائز نہیں۔ اور نیز وہ فرماتے ہیں کہ ”من فتياتكم المؤمنات“، یہاں باندیوں کے ساتھ مومنات کی قید آ گئی، اور امام شافعی رحمہ اللہ کا ضابطہ ہے کہ جب کسی حکم کی تخصیص کر دی جائے کسی وصف کے ساتھ، تو ما عدا سے اس حکم کی نفی ہو جائے گی۔ اس آیت سے یہ پتہ چلا کہ استطاعت نہ ہو تو مومنہ باندی سے نکاح کر لو، معلوم ہوا جو غیر مومنہ ہوگی یعنی جو اہل کتاب ہے، اس کے ساتھ نکاح کی کوئی گنجائش نہیں۔ جبکہ عند الاحناف، یاد رکھو احناف کا ضابطہ یہ ہے کہ ہمارے نزدیک مفہومِ مخالف معتبر نہیں ہے بھئی۔ یہ ضابطہ ہے اور اس پر بہت سے پھر مسائل نکلتے ہیں بھئی۔ تو ہم کہتے ہیں کہ آپ نے اس آیت سے مفہومِ مخالف یہ لیا کہ جس میں استطاعت ہو وہ باندی سے نکاح نہیں کر سکتا، اور نیز یہاں مومنات کی قید آئی آپ نے اس سے یہ معنی لیا کہ معلوم ہوا جو مومنہ نہیں ہوگی اس کے ساتھ نکاح بھی جائز نہیں ہوگا۔ جبکہ ہمارے نزدیک مفہومِ مخالف معتبر نہیں ہے۔ اس آیت میں صرف ان لوگوں کا ذکر ہے جو استطاعت نہیں رکھتے، وہ نکاح کر سکتے ہیں، جو استطاعت رکھتے ہیں ان کے بارے میں آیت خاموش ہے، آیت نے ان کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اور ہم نے دیگر نصوص کے اندر پھر غور کیا تو وہاں سے پتہ چلا کہ باندی کے ساتھ نکاح جائز ہے مطلقاً بھئی، اس میں استطاعت کی قید نہیں ہے۔ مثلاً قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”فانكحوا ما طاب لكم من النساء“، کہ پس تم لوگ نکاح کرو ان عورتوں سے جو تمہیں پسند ہوں۔ اب یہ نساء کا لفظ آزاد عورت کو بھی شامل ہے اور باندی کو بھی۔ باندیاں بھی کیا ہیں؟ نساء ہیں، عورتیں ہیں۔ اس سے پتہ چلا کہ باندیوں سے نکاح جائز ہے اور اس میں کوئی قید نہیں ہے کہ قدرت ہو تو نکاح کر سکتے ہو، قدرت نہ ہو تو نکاح نہیں کر سکتے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور نیز قرآن میں اللہ ان عورتوں کا ذکر فرماتے ہیں جن سے نکاح حرام ہے اور پھر آگے اللہ فرماتے ہیں: ”وأحل لكم ما وراء ذلكم“، ان کے علاوہ اور عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں، اور ان کے علاوہ کے اندر جیسے آزاد عورتیں آ گئیں اسی طرح باندیاں بھی آ گئیں، معلوم ہوا آزاد عورتوں سے بھی نکاح جائز ہے اور باندیوں سے بھی نکاح جائز ہے ان محرمات کے علاوہ۔ تو یہ دونوں جو ہیں آیتیں مطلق ہیں، ان میں کسی قسم کی قید نہیں ہے بھئی۔ تو ہمارے نزدیک مفہومِ مخالف معتبر نہیں، اور اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ نے کیا ذکر فرمایا تھا کہ ایک وصف کے ساتھ جب ایک حکم کی تخصیص آ جائے تو ما عدا سے یعنی اس کے علاوہ سے اس حکم کی نفی ہو جاتی ہے، ہم کہتے ہیں نہیں، ہم کہتے ہیں کہ جو وصف کو ذکر کیا جاتا ہے وہ احتراز کے لیے ذکر نہیں کیا جاتا، بعض اوقات وصف کو اولویت اور افضلیت بیان کرنے کے لیے ذکر کیا جاتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یعنی یا یوں کہو کہ اس آیت میں مومنات کا ذکر ہے اور جو کتابیہ ہیں ان سے تو آیت خاموش ہے، ان کا ذکر ہی نہیں، اور دیگر نصوص سے پتہ چلتا ہے کہ کتابیہ سے بھی نکاح جائز ہے۔ جب کتابیہ عورتوں سے نکاح جائز ہے تو کتابیہ باندیاں جو ہیں وہ بھی عورتیں ہیں ان کے ساتھ بھی کیا ہوگا؟ نکاح جائز ہوگا بھئی۔ اور نیز ہم کہتے ہیں کہ یہ جو وصف کو ذکر کیا جاتا ہے وہ بعض اوقات اولویت اور افضلیت کو بتلانے کے لیے کیا جاتا ہے، یعنی اولیٰ یہ ہے کہ مومنہ باندی سے نکاح کرو۔ جیسے گزشتہ سبق کے اندر وہ آیت آئی تھی: ”والمحصنات من الذين أوتوا الكتاب“، کہ اہلِ کتاب میں سے جو پاکدامن عورتیں ہیں۔ اب وہاں پر محصنات کی صفت ذکر ہوئی تھی کہ پاکدامن اہلِ کتاب عورتوں سے نکاح کر سکتے ہو۔ حالانکہ اگر بدکار اہلِ کتاب عورت ہے اس سے بھی نکاح جائز ہے۔ تو پھر یہ آیت میں تو محصنات کا ذکر ہے، پاکدامن کا ذکر ہے؟ تو جواب یہ کہ یہ قیدِ اتفاقی ہے یعنی عادتاً چونکہ ایسا ہوتا ہے نکاح پاکدامن عورت سے کیا جاتا ہے اس لیے اس کو ذکر فرمایا، یا یہاں پر پاکدامن کو اولویت یا افضلیت بتلانے کے لیے ذکر کیا گیا کہ اولیٰ اور افضل کیا ہے کہ اگر اہلِ کتاب عورت سے نکاح کرنا ہی ہے تو کس قسم کی عورت سے نکاح کرو؟ پاکدامن عورت سے نکاح کرو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور پھر نیز امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قیاس بھی ہمارا مؤید ہے، قیاس سے بھی ہماری تائید ہوتی ہے۔ اس لیے کیونکہ باندی سے جب نکاح کرے گا تو جو اولاد پیدا ہوگی وہ غلام اور باندیاں ہوں گے۔ وہ جو باندی کا مالک ہے اس کے غلام اور باندیاں ہوں گے یہ جو بچے پیدا ہوں گے اس باندی سے۔ تو گویا باندی کے ساتھ نکاح کے اندر اپنی اولاد کو، اپنے جز کو غلامی پر پیش کرنا ہے کہ آپ ان کو غلام بنا رہے ہیں۔ لہٰذا عقل تو یہ تقاضا کرتی ہے کہ باندی سے نکاح سرے سے جائز ہی نہیں ہونا چاہیے، لیکن شریعت نے اجازت دے دی ضرورت کی بناء پر، اور جو چیز ضرورت کی وجہ سے ثابت ہوتی ہے وہ بقدرِ ضرورت ہی ثابت ہوگی، اور ضرورت ایک باندی سے پوری ہو گئی لہٰذا ایک سے زائد کی بھی اجازت نہیں، اور ضرورت مسلمان باندی سے پوری ہو گئی لہٰذا اہلِ کتاب باندی سے بھی نکاح جائز نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ جبکہ ہم کہتے ہیں کہ آپ نے کہا کہ باندی سے جب کوئی نکاح کرتا ہے تو وہ اپنے جز کو یعنی اپنی اولاد کو غلامی پر پیش کرتا ہے، ہم کہتے ہیں یوں نہ کہیں کہ اپنی اولاد کو غلامی پر پیش کرتا ہے، اس لیے کیونکہ یہ تو اس وقت کہا جائے گا جب اولاد موجود ہو۔ اولاد ہو تو ہم کہیں گے یہ اولاد کو کیا کر رہا ہے؟ غلامی پر پیش کر رہا ہے، اور یہاں تو ابھی اولاد ہی نہیں ہے، اس سے نکاح کی بات چل رہی ہے، اولاد ہی نہیں ہے تو پھر اس کو غلامی پر پیش کرنے کا کیا معنی؟ بلکہ یوں کہو کہ یہ شخص باندی سے نکاح کر کے آزاد بچے کے حصول سے اپنے آپ کو روک رہا ہے، یعنی آزاد بچے کی تحصیل سے رک رہا ہے یہ شخص۔ آزاد بچے کی تحصیل سے، یہ جب باندی سے نکاح کر رہا ہے تو آزاد بچے کی تحصیل سے رک رہا ہے، اور یہ شخص جو اصل ہے یعنی بچہ، بچے کی تحصیل سے رک سکتا ہے تو آزاد بچہ یعنی وصف کی تحصیل سے بطریقِ اولیٰ رک سکتا ہے۔ بھئی دیکھو نا، بچہ ہے اصل، اور آزاد یا غلام ہونا وہ ہے اس کا وصف، اور شریعت نے ہر شخص کو اجازت دی ہے وہ چاہے تو کوئی ایسا طریقہ اختیار کر لے جس سے اولاد ہی نہ ہو، یہ جائز ہے، بہتر تو نہیں لیکن جائز ہے اس کے لیے، شرعاً جائز ہے، تو جب ایک شخص وہ اولاد جو اصل ہے، اصل کی تحصیل سے رکنا اس کے لیے جائز ہے، تو اس اصل کی جو وصف ہے یعنی آزادی، اس سے رکنا بطریقِ اولیٰ اس کے لیے جائز ہوگا۔ باندی سے نکاح کرے گا تو اولاد تو حاصل ہو رہی ہے، البتہ صرف اس میں آزادی والا وصف نہیں ہے، تو آزادی والے وصف کے حاصل کرنے سے یہ رک گیا، تو جب اولاد کے حاصل کرنے سے یہ رک سکتا ہے تو اولاد کے وصف کے حاصل کرنے سے یہ بطریقِ اولیٰ رک سکتا ہے۔ پھر اس کے بعد بتلایا تھا کہ باندی سے نکاح کرنا جائز ہے، چاہے مسلمان ہو یا اہل کتاب ہو، لیکن ایک شرط ہے کہ یہ شخص جو باندی سے نکاح کرنا چاہتا ہے اس کے عقد میں پہلے سے کوئی آزاد عورت نہ ہو۔ وجہ یہ کہ جو سوکن آتی ہے وہ عورت کے لیے تکلیف کا باعث ہوتی ہے، اور پھر اس کے اوپر آپ باندی لے آئیں یہ تو اس کی اہانت کر دی، کیونکہ آزاد عورت کو اللہ نے بڑا اونچا مقام دیا ہے، اور باندیاں اور غلام یہ تو جمادات کی طرح ہیں، بے جان چیزوں کی طرح ہیں، ان کو بیچا جاتا ہے، خریدا جاتا ہے۔ تو آزاد عورت کو تو بڑا اونچا مقام ہے، تو ایک تو سوکن کے آنے سے تکلیف اور پھر اوپر سے آپ باندی اس کے اوپر لے آئیں گے، یہ تو آپ نے اس کی حد درجہ گویا اہانت کر دی، اور یہ بات اس کے لیے بڑے عیب اور طعنے کا باعث بنے گی، تمام عورتیں اس کو طعنہ دیں گی کہ تمہاری کیا حیثیت ہے، تمہارے اوپر تو خاوند نے باندی سے نکاح کر لیا۔ لہٰذا اس لیے شریعت نے اس کی اجازت نہیں دی کہ آزاد عورت جب نکاح میں موجود ہے، اعلٰی جب موجود ہے تو ادنیٰ کو لانے کی اجازت نہیں ہے بھئی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غلام جو ہے وہ باندی سے نکاح کر سکتا ہے، کیونکہ باندی سے نکاح کے لیے قدرت کی شرط لگائی تھی شریعت نے، لیکن غلام کے اندر تو قدرت کا تصور ہی نہیں ہو سکتا کیونکہ غلام تو ایک روپے کا بھی مالک نہیں ہوتا، وہاں قدرت کا تصور ہی نہیں ہو سکتا کہ اس کو قدرت ہو بھئی، لہٰذا اس کے لیے باندی سے نکاح جائز ہے۔ اور نیز اپنے جز کو غلامی پر پیش کرنا یہ اعتراض بھی نہیں ہو سکتا، اس لیے کیونکہ غلام تو خود غلام ہی تو ہے تو اولاد بھی غلام ہو تو اس میں تو کوئی خرابی نہیں، اور نیز امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غلام کے عقد میں آزاد عورت موجود ہے تو یہ غلام پھر بھی باندی سے نکاح کر سکتا ہے۔ ہم کہتے ہیں نہیں، حدیث میں آیا ہے: ”لا تنكح الأمة على الحرة“، کہ آزاد عورت کے اوپر باندی سے نکاح نہیں کیا جا سکتا۔ یہ حدیث مطلق ہے، اس میں کوئی قید نہیں کہ یہ پابندی آزاد آدمی کے لیے ہے اور غلام کے لیے نہیں ہے، لہٰذا یہ سب کے لیے یہ پابندی ہوگی بھئی۔ اور نیز امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو آزاد عورت کے اوپر باندی سے نکاح کو منع کیا گیا ہے یہ اس آزاد عورت کے حق کی وجہ سے ہے، تو اگر وہ خود اجازت دے دے پھر باندی سے نکاح کیا جا سکتا ہے۔ ہم کہتے ہیں نہیں، حدیث مطلق ہے، اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ آزاد عورت اجازت دے دے تو باندی سے نکاح کر سکتا ہے۔ اور نیز قیاس بھی ہماری تائید کرتا ہے، اس لیے کیونکہ غلامی کی وجہ سے احکامِ شریعت میں تنصیف ہو جاتی ہے، احکامِ شریعت نصف ہو جاتے ہیں، تو جیسے سزائیں ہیں وہ بھی غلام کے لیے نصف ہو جاتی ہیں، اور یہ محلِ نکاح ہونا باندی کا یہ اس کے لیے انعام ہے، نعمت ہے، تو نعمتوں کے اندر بھی تنصیف جاری ہوگی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ نعمتوں میں بھی کیا ہو جائے گی؟ تنصیف ہو جائے گی، نصف ہو جائے گی۔ دیکھو یہ باندی جو ہے اس کو شریعت نے محلِ نکاح بنا دیا کہ یہ نکاح کا محل ہے، اس سے بھی تم لوگ نکاح کر سکتے ہو، تو باندی کا محلِ نکاح ہونا یہ اس کے اوپر شریعت کا انعام ہے۔ اگر شریعت اجازت ہی نہ دیتی تو پھر اس کے ساتھ نکاح کی کوئی صورت ہی نہ ہوتی، تو یہ شریعت نے اس پر انعام کیا کہ اس کو محلِ نکاح بنایا۔ اور آزاد عورت اس پر بھی شریعت کا انعام کہ اس کو اللہ نے محلِ نکاح بنایا ہے، لیکن آزاد عورت تمام احوال میں محلِ نکاح ہے یعنی حالتِ انفراد میں بھی اور حالتِ اجتماع میں بھی۔ انفراد جب اکیلی ہو یعنی خاوند اس سے نکاح کر رہا ہے، پہلے سے کوئی عورت اس کے نکاح میں نہیں ہے آزاد عورت۔ اور پھر حالتِ اجتماع میں، اگر ایک آزاد عورت پہلے سے نکاح میں ہے اور پھر دوسری آزاد عورت سے خاوند نکاح کرنا چاہتا ہے، تو اس صورت میں بھی یہ محلِ نکاح ہے، اس سے نکاح کر سکتا ہے۔ تو آزاد عورت محلِ نکاح ہے حالتِ انفراد میں بھی اور حالتِ اجتماع کہہ لیں یا حالتِ انضمام کہہ لیں تو دونوں میں۔ تو باندی کے اندر تنصیف ہو جائے گی، وہ حالتِ انفراد میں تو محلِ نکاح رہے گی اور حالتِ اجتماع میں وہ محلِ نکاح نہیں، یعنی آزاد عورت پہلے سے نکاح میں موجود ہے تو اس کے اوپر باندی کو نہیں لا سکتا، وہ محلِ نکاح ہی نہیں ہے اس وقت، یا آزاد عورت اور باندی سے اکٹھے نکاح کر رہا ہے، یہ بھی حالتِ انضمام کے اندر ہی آ جائے گا۔ ایک ہی عقد کر رہا ہے، ایجاب اور قبول ایک ہے اور دونوں کے ساتھ عقد کر رہا ہے کہ فلاں اور فلاں جو ہیں عورتیں وہ ہم نے آپ کے عقد میں دے دیں اور یہ کہتا ہے میں نے قبول کیا، اب دیکھو اکٹھا دونوں سے نکاح کر رہا ہے تو بھی یہ بھی حالتِ اجتماع ہی ہے، باندی کو آزاد کے ساتھ ملا رہا ہے لہٰذا اس صورت میں بھی باندی کے ساتھ نکاح نہیں ہو سکتا بھئی۔ اور جبکہ اس کا برعکس جائز ہے، یعنی ایک شخص کے نکاح میں باندی موجود ہے اب وہ آزاد عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو جائز ہے بھئی۔ اور پھر یہ بھی بتلایا صاحبِ ہدایہ نے کہ ایک شخص جو ہے اس کے عقد میں آزاد عورت تھی، اب وہ باندی سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو اس باندی کے ساتھ تو نکاح جائز نہیں، تو اس نے اس آزاد عورت کو طلاق دے دی۔ اب عدت کے اندر، طلاقِ بائن دے دی، اب یہ عدت کے اندر اس باندی سے نکاح کرنا چاہتا ہے، امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، عدت کے اندر بھی اس کی اجازت نہیں، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ عدت کے اندر نکاح کر سکتا ہے، اس لیے کیونکہ جب باندی سے نکاح کرے گا تو کوئی بھی یہ نہیں کہے گا کہ یہ آزاد پر باندی کے ساتھ نکاح کر رہا ہے، اور آزاد پر باندی سے نکاح کرنا یہی تو حرام کرنے والا تھا اس عقد کو، اور وہ چیز یہاں پر موجود نہیں ہے۔ اور نیز صاحبین اس کو قیاس کرتے ہیں قسم والے معاملے پر کہ کوئی شخص اگر یہ قسم اٹھا لے، اپنی بیوی سے کہے کہ واللہ میں تمہارے اوپر کسی اور عورت سے نکاح نہیں کروں گا، تو یہ شخص اگر طلاقِ بائن دے دیتا ہے اپنی اس بیوی کو، تو عقد کے اندر بھی نکاح کر لے تو یہ یہ شخص حانث نہیں۔ کیونکہ یہ اس آزاد عورت کے اوپر نکاح نہیں کہا جاتا اس کو، اور امام صاحب بھی اس مسئلے میں فرماتے ہیں کہ وہ شخص حانث نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں اس سے بھی ہمارے مذہب کی تائید ہوتی ہے، تو اس کا پھر جواب دیا صاحبِ ہدایہ نے کہ بھئی یہ جو عدت کے اندر نکاح بعض اعتبارات سے باقی ہوتا ہے، تو احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ آزاد عورت کی عدت کے دوران بھی باندی سے نکاح کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، اور جو قسم والا مسئلہ ہے کہتے ہیں قسم والے مسئلے میں قسم کھانے والے کا مقصد یہ تھا: تمہارا جو حصہ ہے اس میں میں کسی اور عورت کو داخل نہیں کروں گا، اور جب طلاق دے چکا ہے طلاقِ بائن تو اب تو عورت کا حصہ ہی نہ رہا، تو اس کے حصے پر دوسری عورت کو داخل کرنا بھی نہ پایا گیا۔ اور نیز میں نے بتایا تھا کہ یہ جو قسم ہے اس کے اندر دارومدار عرف پر ہوتا ہے، عرف میں جو ایک بات کا معنی سمجھا جائے قسم کے اندر بھی اسی معنی کو دیکھا جائے گا، تو اس شخص نے کیا کہا تھا: واللہ میں تمہارے اوپر کسی سے نکاح نہیں کروں گا، تو یہاں جب وہ طلاقِ بائن دے دے اور پھر دوسری عورت سے نکاح کرے تو عرف کے اندر یعنی عام لوگوں میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہے گا کہ اس نے اس پہلی بیوی پر دوسرا نکاح کر لیا کیونکہ پہلی کو تو یہ طلاق دے چکا ہے بھئی۔ اور نیز پھر یہ بھی بتایا کہ آزاد آدمی کے لیے چار نکاح جائز ہیں ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ، چاہے وہ چاروں آزاد عورتیں ہوں، یا چاروں باندیاں ہوں، یا کچھ آزاد ہوں اور کچھ باندیاں ہوں مثلاً پہلے باندی سے نکاح کیا تھا اس کے اوپر آزاد عورتوں سے نکاح کر لیا تو تمام صورتیں جائز ہیں، جبکہ غلام جو ہے ہمارے نزدیک زیادہ سے زیادہ دو نکاح کر سکتا ہے کیونکہ وہ غلام ہے اور غلامی کی وجہ سے انعامات میں تنصیف آتی ہے تو وہ دو نکاح کر سکتا ہے۔ جبکہ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غلام جو ہے اس کو جو نکاح کی اجازت دی گئی ہے یہ آدمی ہونے کی حیثیت سے دی گئی ہے کہ یہ بھی آدمی ہے، یہ بھی انسان ہے، جیسے آقا انسان ہے تو غلام بھی انسان ہے، تو جیسے آقا کو چار نکاح کی اجازت، غلام کو بھی چار نکاح کی اجازت ہوگی۔ اور نیز وہ کہتے ہیں کہ غلام جو ہے اس کو یہ جو اجازت دی گئی ہے نکاح کی یہ آدمی اور انسان ہونے کی حیثیت سے ہے لہٰذا آقا سے اجازت کی بھی نہیں ضرورت، جبکہ عند الاحناف غلام آقا کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کر سکتا، اور زیادہ سے زیادہ دو نکاح کر سکتا ہے اور جبکہ آزاد جو ہے وہ چار نکاح کر سکتا ہے تاکہ آزادی کا جو شرف ہے، آزادی کا جو اعزاز ہے اس کا اظہار ہو جائے۔ اور پھر یہ بھی بتلایا تھا صاحبِ ہدایہ نے کہ اگر ایک شخص کے نکاح میں چار عورتیں ہیں اور ان میں سے وہ ایک کو طلاق دے دیتا ہے، تو پھر اب اس کے بعد وہ پانچویں سے نکاح نہیں کر سکتا جب تک اس عورت کی عدت پوری نہ ہو جائے، اس لیے کیونکہ جب تک یہ عدت میں ہے ابھی بھی نکاح کے اثرات موجود ہیں، تو اگر پانچویں سے اسی دوران نکاح کر لے گا تو پھر تو اس کے عقد میں گویا پانچ عورتیں جمع ہو گئیں، لہٰذا اس چوتھی کی عدت پوری ہو جائے تو پھر اگلا نکاح کر سکتا ہے۔ اور میں نے بتایا یہ وہ مسئلہ ہے جس میں مرد کو بھی کیا کرنا پڑے گا؟ عدت گویا گزارنا پڑتی ہے، اس سے پہلے وہ نکاح کر ہی نہیں سکتا، اور یہ اسی طرح ہے جیسے دو بہنوں والا مسئلہ تھا، جیسے دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنا جائز نہیں تھا، اسی طرح اگر ایک بہن کو طلاقِ بائن دے دی ہے تو عدت کے اندر بھی دوسری بہن سے نکاح نہیں کر سکتا، بات سمجھ میں آ گئی؟ ورنہ تو کیا خرابی لازم آئے گی؟ جمع بین الاختین کی، وہاں پر بھی اس شخص کو عدت گزارنا پڑے گی، جب مطلقہ کی عدت پوری ہو جائے گی تو پھر اس کی بہن سے نکاح کر سکتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: قال: ”وإن تزوج حبلى من زنى جاز النكاح ولا يطؤها حتى تضع حملها“. یہاں سے صاحبِ ہدایہ یہ بیان فرمائیں گے کہ حاملہ سے نکاح جائز ہے یا جائز نہیں۔ آپ کو بتلائیں گے کہ یہ جو حاملہ ہے یعنی وہ عورت جس کے پیٹ میں حمل ہے، بچہ ہے، وہ دو قسم کی ہو سکتی ہے: یا تو وہ حمل ثابت النسب ہوگا، یا وہ حمل ثابت النسب نہیں ہوگا۔ یعنی حمل ثابت النسب ہے کہ جب یہ عورت اس بچے کو جنم دے گی تو فلاں شخص اس کا باپ کہلائے گا، اس سے اس کا نسب ثابت ہو جائے گا، تو یہ ہے ثابت النسب۔ مثلاً ایک شخص ہے اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور وہ بیوی حاملہ تھی، اور آپ جانتے ہیں کہ حاملہ کی جو عدت ہے وہ وضعِ حمل ہے یعنی جب وہ بچے کو جنم دے دے، جب وہ بچے کو جنم دے دے گی اس کی عدت پوری ہو گئی، اسی دن پھر وہ آگے نکاح کر سکتی ہے بھئی۔ تو یہ عورت جس کو خاوند نے طلاق دی ہے یہ حاملہ تھی، اور یہ حمل ثابت النسب ہے، یہ اس خاوند کا بچہ ہے بھئی، یہ اس سابقہ خاوند کا بچہ ہے، تو یہ بچہ ثابت النسب ہوا۔ اور بعض اوقات جو حمل ہوگا وہ ثابت النسب نہیں ہوگا، مثلاً ایک عورت زنا سے حاملہ ہو گئی، تو یہ جو حاملہ ہے اس کا بچہ، اس کا حمل وہ ثابت النسب نہیں ہے۔ تو مسئلہ یہ ذکر فرما رہے ہیں کہ حاملہ سے نکاح کیا جائے تو کیا نکاح منعقد ہوگا یا نہیں؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ اگر وہ حمل ثابت النسب ہے، تو پھر تو بالاتفاق اس کا نکاح نہیں ہوگا، اس کا اگر وہ نکاح کرے بھی تو نکاح ہوگا ہی نہیں بھئی۔ اور اگر وہ حمل ثابت النسب نہیں ہے یعنی وہ عورت زنا سے حاملہ ہے، تو پھر یاد رکھو نکاح تو جائز ہے، نکاح کیا جا سکتا ہے اس عورت سے، لیکن جب تک وہ وضعِ حمل نہ کر دے، بچے کو جنم نہ دے دے، اس کے ساتھ وطی کرنے کی اجازت نہیں ہے بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا؟ جی دیکھیے اب کتاب پر۔ قال: ”وإن تزوج حبلى من زنى“. یہ قال، بھئی یہ قال کے اندر ضمیر جو ہے وہ امام محمد رحمہ اللہ کو راجع ہے، اس لیے کیونکہ یہ جو آگے متن آ رہا ہے یہ جامع صغیر کی عبارت ہے بھئی، اور جامع صغیر تصنیف ہے امام محمد رحمہ اللہ کی۔ تو قال، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وإن تزوج حبلى من زنى“، اگر نکاح کیا حبلیٰ من زنا، زنا سے جو حاملہ عورت ہے اس کے ساتھ۔ یاد رکھو یہ جو زنا کا لفظ ہے یہ درجِ عبارت میں آئے اور بغیر الف لام کے ہو تو اس پر تنوین پڑھیں گے۔ جیسے ”وإن تزوج حبلى من زنىً جاز النكاح“، تو دیکھا تنوین کے ساتھ، اور اگر اس پر الف لام ہو یا وقف کریں پھر بغیر تنوین کے اس کو پڑھیں گے بھئی۔ کہتے ہیں: ”وإن تزوج حبلى من زنى جاز النكاح“، اگر کسی شخص نے نکاح کیا زنا سے حاملہ عورت کے ساتھ، جاز النکاح، تو یہ نکاح جائز ہے۔ زنا سے حاملہ کہا مقصد یہ ہے کہ وہ حمل ثابت النسب نہ ہو، تو وہ جب حمل جب ثابت النسب نہ ہو، عورت حاملہ ہے، ”جاز النكاح“، نکاح جائز ہے، ”ولا يطؤها حتى تضع حملها“، اور ہاں البتہ وطی نہ کرے اس کے ساتھ، صحبت نہ کرے وہ شخص جو جس نے نکاح کیا ہے، ”حتى تضع حملها“، یہاں تک کہ یہ عورت اپنے حمل کو جنم دے دے۔ وضعِ حمل کا کیا معنی ہوتا ہے؟ حمل کو جنم دینا۔ ”حتى تضع حملها“، یہاں تک کہ وہ عورت جنم دے دے حملہا، اپنے حمل کو۔ ”وهذا عند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله“، اور یہ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے، طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں: وہ عورت جو زنا سے حاملہ ہے اس کے ساتھ نکاح جائز ہے البتہ وطی نہیں کی جا سکتی جب تک وہ بچے کو جنم نہ دے دے۔ جبکہ آگے بتلائیں گے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے ساتھ نکاح ہی جائز نہیں ہے، جیسے وہ عورت جس کا حمل ثابت النسب ہو، اس کے ساتھ جیسے نکاح نہیں جائز، اسی طرح یہ عورت جس کا حمل ثابت النسب نہیں ہے اس کے ساتھ بھی نکاح جائز نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وقال أبو يوسف رحمه الله: النكاح فاسد“، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ نکاح فاسد ہے یعنی باطل ہے، یہ نکاح ہوا ہی نہیں۔ ”وإن كان الحمل ثابتا النسب فالنكاح باطل بالإجماع“، اور اگر وہ حمل جو ہے وہ ثابت النسب ہو، فالنکاح باطل بالاجماع، پھر تو نکاح باطل ہے بالاجماع، یعنی بالاتفاق ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک اگر حمل ثابت النسب ہے تو اس حاملہ کے ساتھ نکاح ہو ہی نہیں سکتا، نکاح باطل ہے۔ ”لأبي يوسف رحمه الله“، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل آ گئی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا صاحبِ ہدایہ کا کیا طریقہ ہے ہمارے ائمہ کے درمیان جب اختلاف ہو؟ جو راجح مذہب ہو اس کو پہلے ذکر کرتے ہیں اور مرجوح کو بعد میں۔ تو پہلے طرفین کے مذہب کو ذکر کیا، پھر امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے مذہب کو، کیونکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا مذہب مرجوح ہے اور طرفین کا مذہب راجح ہے۔ اور جب دلائل ذکر فرماتے ہیں تو پہلے مرجوح مذہب کے دلائل ذکر فرماتے ہیں اور پھر راجح مذہب کے دلائل ذکر فرماتے ہیں تاکہ یہ راجح مذہب کے دلائل بھی ہو جائیں اور جو مرجوح مذہب کے دلائل گزرے تھے ان کا جواب بھی ہو جائے بھئی۔ تو ”لأبي يوسف رحمه الله“، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے: ”أن الامتناع في الأصل لحرمة الحمل وهذا الحمل محترم“، بھئی دو قسم کے حمل بیان ہو گئے۔ ایک حمل وہ ہے جو ثابت النسب ہے، ایک وہ حمل ہے جو غیر ثابت النسب ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ وہ حمل جو غیر ثابت النسب ہے اس کو قیاس کرتے ہیں اس حمل پر جو ثابت النسب ہے، یعنی ثابت النسب کو اصل قرار دیتے ہیں۔ کس کو؟ ثابت النسب، وہ حمل جو ثابت النسب ہے جس کا نسب ثابت ہے، اس کو اصل قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ وہ حمل جو ثابت النسب ہوتا ہے وہاں نکاح جائز نہیں ہوتا، کیوں نہیں جائز ہوتا؟ کیونکہ وہ حمل محترم ہے، کیونکہ وہ حمل محترم اور معزز ہے، وہ ثابت النسب ہے، اس کا نسب ثابت ہے، لہٰذا احترامِ حمل کی وجہ سے اس عورت سے نکاح ہی نہیں جائز جس کے پیٹ میں یہ محترم حمل موجود ہے۔ تو یہ ہوا اصل۔ تو ثابت النسب حمل کے اندر نکاح کیوں ممتنع؟ احترامِ حمل کی وجہ سے، اور یہی علت اس حمل میں بھی ہے جو غیر ثابت النسب ہے، بھئی وہ بھی محترم ہے بھئی۔ محترم اس لیے ہے کیونکہ جو حمل ہے وہ جو بچہ ہے پیٹ میں اس کا تو کوئی قصور نہیں، واطی اور موطوءہ جنہوں نے زنا کیا ان کا تو جرم ہے لیکن جو بچہ ہے پیٹ میں اس کا تو کوئی جرم نہیں، لہٰذا وہ بھی محترم حمل ہوا، جیسے ثابت النسب حمل محترم تھا اسی طرح غیر ثابت النسب حمل بھی کیا ہے؟ محترم ہے۔ اور ثابت النسب حمل کا کیا حکم تھا کہ وہاں نکاح کی اجازت نہیں تھی، تو یہاں پر غیر ثابت النسب کا بھی وہی حکم ہوگا کیونکہ یہ حمل بھی اسی کی طرح ہے، تو غیر ثابت النسب حمل کی صورت میں بھی اس عورت سے نکاح جائز نہیں ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اصل کیا ہوا؟ وہ حمل جو ثابت النسب ہے، اور اس کا حکم کیا ہے کہ اس عورت کے ساتھ نکاح جائز نہیں، اور غیر ثابت النسب اس کو بھی اسی حمل پر قیاس کیا، اور جیسے یہ محترم ہے وہ بھی کیا ہے؟ محترم، اور یہاں حرمتِ نکاح کا حکم ہے تو وہاں بھی حرمتِ نکاح کا حکم ہوگا، نکاح جائز نہیں ہوگا۔ ”لأبي يوسف رحمه الله“، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے: ”أن الامتناع في الأصل“، کہ امتناع یعنی ممتنع ہونا یعنی نکاح کا ممتنع ہونا، ”أن الامتناع“، کہ نکاح کا ممتنع ہونا ”في الأصل“، اصل کے اندر یعنی وہ حمل جو ثابت النسب ہے اس کے اندر نکاح کا ممتنع ہونا ”لحرمة الحمل“، وہ اس حمل کی حرمت اور احترام کی وجہ سے ہے، ”وهذا الحمل محترم“، اور یہ جو حمل غیر ثابت النسب ہے وہ جو زنا سے ہے، یہ بھی محترم ہے، ”لأنه لا جناية منه“، کیونکہ اس کی طرف سے بھی کوئی جرم نہیں پایا گیا۔ ”ولهذا لم يجز إسقاطه“، کہتے ہیں اسی لیے تو اس حمل کو گرانا بھی جائز نہیں ہے، اس کو ساقط کروانا یعنی اس حمل کو ضائع کروانا بھی جائز نہیں ہے۔ یاد رکھو حمل جو ہے شروع میں آہستہ آہستہ گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں بڑھتا چلا جاتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ اس کے اعضاء ظاہر ہونے لگتے ہیں، یہاں تک کہ چار مہینے تک اعضاء وغیرہ بن جاتے ہیں اور پھر اس میں روح ڈال دی جاتی ہے۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ چونکہ یہ حمل جو زنا سے ہے اس کا کوئی قصور نہیں ہے تو یہ حمل بھی محترم ہے، ”ولهذا لم يجز إسقاطه“، اسی لیے اس حمل کو گرانا اور اس کو ضائع کروانا جائز نہیں ہے۔ اور علماء لکھتے ہیں یہ اس وقت تک ہے جب تک ابھی اعضاء وغیرہ ظاہر نہ ہوئے ہوں، اور یہ اطباء ہی بتائیں گے کہ کتنی عمر میں اعضاء ظاہر ہو جاتے ہیں اور کتنی عمر میں اعضاء ظاہر نہیں ہوتے۔ جبکہ محشی حضرات فرماتے ہیں کہ ہمارے اس زمانے میں اب وہ حمل جو زنا سے ہو اس کے چاہے اعضاء ظاہر ہی کیوں نہ ہو گئے ہوں تو اس کو گرانا جائز ہے۔ الا یہ کہ اس میں روح پڑ چکی ہو، جب روح پڑ جائے پھر نہیں گرا سکتے ورنہ تو پھر قتل لازم آئے گا، تو اس سے پہلے پہلے چاہے اعضاء ظاہر ہی کیوں نہ ہو گئے ہوں لیکن حمل زنا سے ہے تو اس کو گرانا جائز ہے۔ تو محشی فرماتے ہیں کہ اسی پر فتویٰ ہے کہ ہمارے اس زمانے میں اس حمل کو روح پڑنے سے پہلے پہلے گرانا بھی جائز ہے اور اسی پر فتویٰ بھی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں یہ حمل بھی محترم ہے، ”لأنه لا جناية منه“، کیونکہ اس کی طرف سے کوئی جرم نہیں ہے، ”ولهذا لم يجز إسقاطه“، اور اسی لیے تو اس حمل کو ضائع کروانا جائز نہیں، اس کو گرانا جائز نہیں کیونکہ یہ محترم ہے یہ حمل جو زنا سے ہے۔ یہ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل تھی، آگے طرفین کی دلیل آ گئی۔ ”ولهما أنها من المحللات بالنص“، امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے کیا بیان فرمایا کہ جیسے وہ حاملہ جس کا حمل ثابت النسب ہے جیسے اس کے ساتھ بالاتفاق نکاح باطل ہے، نکاح نہیں ہو سکتا، اسی طرح وہ حاملہ جس کا حمل غیر ثابت النسب ہے اس کے ساتھ بھی نکاح باطل ہے، دونوں میں احترامِ حمل کی وجہ سے حرمتِ نکاح ہے بھئی۔ جبکہ طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو عورت زنا سے حاملہ ہے، یہ محللات میں سے ہے۔ کس میں سے؟ جن سے نکاح کرنا حلال ہے، جو محلِ نکاح ہیں۔ بھئی دیکھیے! طرفین فرماتے ہیں کہ قرآن میں اللہ نے ان عورتوں کو ذکر فرمایا جن سے نکاح حرام ہے، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”حرمت عليكم أمهاتكم وبناتكم“، تو پوری تفصیل جو پیچھے بیان ہو چکی ان عورتوں کا ذکر ہے جن سے نکاح حرام ہے، اور آگے اللہ فرماتے ہیں: ”وأحل لكم ما وراء ذلكم“، ان کے علاوہ اور عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں یعنی ان سے نکاح کر سکتے ہو، اور یہ جو محرمات تھیں ان کے اندر حاملہ من الزنا کا ذکر نہیں تھا، ان میں حاملہ من الزنا کا ذکر نہیں تھا تو معلوم ہوا وہ محللات میں داخل ہے اس نص کی وجہ سے۔ ”وأحل لكم ما وراء ذلكم“، یہ جو نص ہے اس کی وجہ سے یہ حبلیٰ من الزنا جو ہے یہ محللات میں سے ہے، اس سے نکاح ہو سکتا ہے۔ امام ابو یوسف تو فرماتے تھے نکاح نہیں ہو سکتا لیکن طرفین فرماتے ہیں نکاح ہو سکتا ہے۔ ”ولهما أنها من المحللات بالنص“، اور طرفین کی دلیل یہ ہے کہ یہ جو حاملہ من الزنا ہے یہ نص کی وجہ سے محللات میں سے ہے۔ ”وحرمة الوطء“، آگے جواب دے رہے ہیں کہ اچھا اگر یہ محللات میں سے ہے تو پھر اس کے ساتھ آپ وطی کو حرام کیوں قرار دیتے ہیں؟ آپ کہتے ہیں نکاح کر لیا جائے لیکن وطی کرنے کی اجازت نہیں جب یہ وضعِ حمل کر لے، جب یہ حمل کو جنم دے دے پھر اس کے بعد خاوند وطی کر سکتا ہے۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وحرمة الوطء“، اور یہ جو وطی کی حرمت ہے، ”كي لا يسقي ماءه زرع غيره“، ”كي لا يسقي ماءه“، تاکہ کہیں اس خاوند کا پانی جو ہے وہ سیراب نہ کرے، ماءہ، خاوند کا پانی، مراد خاوند کی منی ہے جس سے اولاد کی پیدائش ہوتی ہے، تو ”كي لا يسقي ماءه“، تاکہ کہیں خاوند کا جو پانی ہے وہ سیراب نہ کرے ”زرع غيره“، غیر کی کھیتی کو۔ تاکہ کہیں خاوند کا پانی غیر کی کھیتی کو سیراب نہ کرے، آپ جانتے ہیں کہ قرآن کے اندر عورت کو کھیتی کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے کہ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں، یعنی ان کے ذریعے تمہیں اولاد حاصل ہوتی ہے۔ تو کہتے ہیں یہ جو وطی کی حرمت ہے، ”كي لا يسقي ماءه زرع غيره“، تاکہ کہیں اس خاوند کا پانی جو ہے وہ غیر کی کھیتی کو سیراب نہ کرے کیونکہ اس عورت کے پیٹ میں غیر کا بچہ ہے اگرچہ ثابت النسب نہیں ہے، لیکن غیر کا بیٹا ہے کسی اور کا، تو یہ غیر کی کھیتی کو سیراب کرنا لازم آئے گا اور یہ آپ کے حاشیے میں حدیث بھی دی ہوئی ہے: ”لقوله عليه السلام“، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”من كان يؤمن بالله واليوم الآخر“، جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، ”فلا يسقين ماءه زرع غيره“، ”فلا يسقين“، تو ہرگز سیراب نہ کرے، ”ماءه“، اس کا پانی، ”زرع غيره“، غیر کی کھیتی کو۔ جو شخص اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے ہرگز اس کا پانی غیر کی کھیتی کو سیراب نہ کرے۔ تو یہاں پر بھی اگر اس شخص کو وطی کی اجازت دے دی جائے اس حبلیٰ من الزنا سے، تو اس صورت میں غیر کی کھیتی کو سیراب کرنا لازم آئے گا اور اس سے تو حدیث کے اندر منع کیا گیا ہے، لہٰذا اس کو وطی کی اجازت نہیں ہوگی۔ آگے دیکھیے: ”والامتناع في ثابت النسب لحق صاحب الماء ولا حرمة للزاني“، یہاں سے جواب دے رہے ہیں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل کا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے یہ جو زنا والا حمل ہے اس کو قیاس کیا تھا اس حمل پر جو ثابت النسب ہے، اور وہ محترم تھا تو یہ بھی کیا ہے؟ محترم، اور اس کے احترام کی وجہ سے نکاح جائز نہیں تھا تو یہ جو زنا سے حمل ہے اس کی وجہ سے بھی نکاح جائز نہیں ہوگا۔ ہم کہتے ہیں نہیں، وہ عورت جس کا حمل ثابت النسب ہے اس کے اندر جو نکاح کی حرمت ہے، اس سے نکاح کرنا حرام ہے، وہ اس کے حمل کے احترام کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ وہ صاحبِ ماء کی وجہ سے ہے۔ کس کی وجہ سے؟ صاحبِ ماء یعنی یہ جس کا بچہ اس کے پیٹ میں ہے، بھئی دیکھو نا ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا تھا، پھر یہ شخص اس کو طلاق دے دیتا ہے جب یہ حاملہ تھی۔ تو اب یہ عورت کے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ خاوند کا ہے، اور یہ عورت آگے نکاح نہیں کر سکتی، کس وجہ سے نہیں کر سکتی؟ کیونکہ اس کے پیٹ میں سابقہ خاوند کا بچہ ہے، تو اس خاوند کے حق کی وجہ سے اس کو آگے نکاح کی اجازت نہیں، تو لہٰذا یہاں اس عورت سے جو نکاح کی ممانعت ہے وہ اس کے سابقہ خاوند کی وجہ سے ہے، اس کے حمل کی وجہ سے نہیں کہ حمل کا احترام ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”والامتناع في ثابت النسب لحق صاحب الماء“، اور وہ جو نکاح کا ممتنع ہونا ہے ثابت النسب حمل کے اندر، ”لحق صاحب الماء“، وہ صاحبِ ماء کے حق کی وجہ سے ہے، صاحبِ ماء یعنی جس کی وہ کھیتی ہے یعنی وہ جو سابقہ خاوند تھا، اس کے حق کی وجہ سے ہے، اس کے حق کی وجہ سے نکاح ممتنع ہے، ”ولا حرمة للزاني“، اور زانی کی تو کوئی حرمت نہیں ہے، اس کا تو کوئی احترام نہیں ہے۔ پھر سنو دلیل، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے کہ ثابت النسب جو حمل ہے اس عورت سے نکاح حرام ہے اس حمل کے احترام کی وجہ سے، ہم کہتے ہیں نہیں، اس عورت کے ساتھ نکاح حرام ہے حمل کی وجہ سے نہیں بلکہ صاحبِ حمل کی وجہ سے یعنی سابقہ خاوند کی وجہ سے، اس لیے کیونکہ یہ عورت جب بچے کو جنم دے گی یہ بچہ اسی خاوند کا شمار ہوگا، گویا یہ عورت ابھی بھی من وجہ اسی خاوند کا فراش ہے۔ یہ عورت ابھی بھی کیا ہے؟ من وجہ اسی خاوند کا فراش ہے، کیونکہ آپ نے پڑھ لیا کہ جب کوئی شخص عورت کو طلاق دیتا ہے تو عدت کے اندر کا نفقہ بھی خاوند کے ذمے ہوتا ہے، عدت کے اندر خاوند اس کو گھر سے نکلنے سے بھی منع کر سکتا ہے، اور اسی طرح اس عدت کے اندر اگر یہ عورت جو ہے حاملہ ہے تو اس کی عدت وضعِ حمل تک ہے بھئی، جب یہ حمل کو جنم دے دے گی تب اس کی عدت پوری ہوگی، اور یہ جو حمل ہے یہ اسی سابقہ خاوند کا ہے تو یہ اسی کی اولاد شمار ہوگا، اس کا نسب اس سے ثابت ہو جائے گا۔ تو معلوم ہوا یہ عورت ابھی بھی بعض اعتبار سے اسی خاوند کا فراش ہے۔ جب یہ اسی خاوند کا فراش ہے تو اس کی وجہ سے نکاح حرام ہے، اس حمل کی حرمت کی وجہ سے نکاح نہیں حرام، بلکہ پہلے خاوند کا فراش ہونے کے اعتبار سے اس کے ساتھ نکاح جائز نہیں ہے۔ تو یہاں یہ عورت جس کا حمل ثابت النسب ہے اس کے ساتھ نکاح جائز نہیں، کیوں نہیں جائز؟ صاحبِ حمل کی وجہ سے، وہ جو سابقہ خاوند تھا اس کی وجہ سے، اور جبکہ وہ عورت جو زنا سے حاملہ ہے وہاں تو وہ حمل زانی کا ہے بھئی، اور زانی کا تو کوئی احترام نہیں، تو دیکھو دونوں میں فرق آ گیا، تو زانی کا کوئی احترام نہیں لہٰذا اس عورت سے نکاح جائز ہوگا، اور ادھر یہ حمل جو ثابت النسب ہے یہاں وہ خاوند جو تھا پہلا وہ محترم ہے لہٰذا اس کی وجہ سے نکاح جائز نہیں ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے: ”والامتناع في ثابت النسب لحق صاحب الماء“، اور وہ جو نکاح کا ممتنع ہونا ہے ثابت النسب کے اندر وہ صاحبِ ماء کے حق کی وجہ سے ہے یعنی وہ کھیتی والے کے حق کی وجہ سے ہے، ”ولا حرمة للزاني“، جبکہ دوسری طرف زانی کی تو کوئی حرمت نہیں ہے تو اس کی وجہ سے نکاح باطل نہیں ہوگا، وہاں نکاح جائز ہے۔ آگے دیکھیے: ”فإن تزوج حاملا من السبي فالنكاح فاسد“، بھئی دیکھو اگر قیدیوں کے اندر کوئی حاملہ عورت آ جائے، قیدیوں کے اندر جو مرد اور عورت قیدی بنائے جاتے تھے ان کو غلام اور باندیاں بنا لیا جاتا تھا، تو اب ان باندیوں کے اندر اگر کوئی عورت حاملہ تھی، تو کیا اس کے ساتھ نکاح جائز ہے؟ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ بھئی یہ جو حاملہ ہے اس کا حمل ثابت النسب ہے۔ ظاہر سی بات ہے یہ کسی کی بیوی ہوگی تو اس کا حمل کیا ہے؟ ثابت النسب ہے، اور ہم آپ کو ضابطہ بتلا چکے ہیں کہ وہ حاملہ جس کا حمل ثابت النسب ہو اس کے ساتھ نکاح نہیں ہو سکتا بھئی، تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فإن تزوج حاملا من السبي“، سبی کا معنی ہے قید کرنا، ”فإن تزوج حاملا من السبي“، پس اگر نکاح کر لیا کسی حاملہ سے من السبی، قید سے یعنی جو قید ہو کر آئی تھی اور حاملہ تھی، ”فالنكاح فاسد“، تو یہ نکاح فاسد ہے یعنی باطل ہے، یہ بھی نکاح نہیں ہوگا، ”لأنه ثابت النسب“، اس لیے کیونکہ اس کا حمل بھی ثابت النسب ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وإن زوج أم ولده وهي حامل منه فالنكاح باطل“. بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ فراش جو ہے فراش یعنی کسی عورت کا کسی مرد کے بچوں کو جنم دینے کے لیے مختص ہو جانا، اس عورت کو فراش کہتے ہیں کہ یہ اس مرد کا فراش ہے۔ اور پھر یہ فراش تین قسم پر ہے: ایک فراشِ قوی ہے، ایک فراشِ متوسط ہے اور ایک فراشِ ضعیف ہے۔ فراشِ قوی بیوی ہے، زوجہ ہے، منکوحہ ہے جس سے نکاح کیا ہے، منکوحہ سے جو بھی اولاد پیدا ہوگی وہ اسی خاوند کی شمار ہوگی، اور اگر خاوند اس اولاد کی نفی کرنا چاہتا ہے اپنے آپ سے تو لعان کرنا پڑے گا۔ اور پھر لعان کے بعد قاضی فیصلہ کرے گا اور پھر اس مرد سے، اس خاوند سے ان بچوں کا نسب کاٹ دے گا، اب یہ صرف اس عورت کے بچے شمار ہوں گے، اس خاوند کے بچے شمار نہیں ہوں گے۔ تو بیوی جو ہے یہ فراشِ قوی ہے، اس میں بچے کا نسب خود بخود خاوند سے ثابت ہوتا ہے اور نفی بغیر لعان کے نسب کی نہیں ہو سکتی۔ اور سب سے ضعیف فراش جو ہے وہ باندی کا ہے۔ باندی جو ہے اس سے جو اولاد پیدا ہو وہ خود بخود آقا کی شمار نہیں ہوتی الا یہ کہ آقا خود دعویٰ کر دے کہ یہ میرا بچہ ہے، تو پھر یہ بچہ آقا کا شمار ہوگا۔ تو یہ بھی فراش ہے آقا کا لیکن ضعیف ہے، حتیٰ کہ بغیر دعوے کے یہ بچہ اس کا شمار ہی نہیں ہوتا بھئی۔ اور جبکہ فراشِ متوسط جو ہے وہ امِ ولد ہے۔ جب باندی نے بچے کو جنم دے دیا اور آقا نے کہہ دیا یہ میرا بچہ ہے تو یہ کیا بن گئی؟ امِ ولد، اس کے بچے کی ماں بن گئی۔ اب یہ فراشِ متوسط ہے۔ یہ امِ ولد ہے، اب امِ ولد نے آگے چل کر ایک اور بچے کو جنم دیا، یاد رکھو یہ بچہ بھی خود بخود اسی آقا کا شمار ہوگا، کیونکہ یہ عورت پہلے بھی اسی کے بچے کو جنم دے چکی ہے جس کا وہ اقرار کر چکا ہے، تو یہ دوسرا بچہ بھی اسی کا شمار ہوگا۔ لیکن اگر آقا اس کی نفی کرنا چاہے تو بغیر لعان کے بھی نفی کر سکتا ہے، کہہ دے نہیں یہ والا بچہ میرا نہیں ہے، تو اب یہ بچہ اس کا شمار نہیں ہوگا بھئی۔ تو یہ فراشِ متوسط ہوا۔ تو کتنی قسم کے ہو گئے فراش؟ تین: فراشِ قوی، بیوی، جہاں اب جو بچہ پیدا ہوگا وہ خاوند کا شمار ہوگا اور اگر وہ بچے کی نفی کرنا چاہتا ہے تو لعان کرنا پڑے گا۔ فراشِ متوسط، امِ ولد ہے، اس سے جو بچہ پیدا ہوگا وہ بھی آقا کا شمار ہوگا لیکن اگر وہ نفی کرنا چاہے تو بغیر لعان کے نفی کر سکتا ہے کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے۔ اور سب سے ضعیف فراش جو ہے باندی ہے کہ جس سے پیدا ہونے والا بچہ خود بخود آقا کا شمار ہی نہیں ہوگا جب تک آقا خود نہ کہہ دے کہ یہ میرا بچہ ہے بھئی۔ تو اب صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک شخص کی امِ ولد ہے، ایک شخص کی، یعنی وہ پہلے ایک بچے کو جنم دے چکی ہے اور آقا نے کہا تھا یہ میرا بچہ ہے، اب یہ امِ ولد حاملہ ہے اور آقا نے کہہ بھی دیا ہے، اعتراف بھی کر لیا ہے کہ یہ میرا حمل ہے، یہ حمل مجھ سے ہے، یہ جو امِ ولد ہے جو آقا سے ہی حاملہ ہے، اس کا نکاح آقا کروانا چاہتا ہے آگے کسی اور سے۔ کہتے ہیں جب یہ حاملہ ہے تو آقا اس کا نکاح نہیں کروا سکتا، ہاں اگر یہ حاملہ نہ ہوتی پھر آقا نکاح کروا سکتا تھا۔ بھئی آقا اپنی باندی کا جس سے مرضی نکاح کروائے، آقا کے لیے باندی حلال ہے لیکن جب کسی اور سے نکاح کروا دے گا تو اب آقا کے لیے یہ باندی حرام ہو گئی، اب صرف وہ خاوند کے لیے حلال ہے، تو چاہے وہ اس کی امِ ولد ہو اس کا بھی نکاح کروا سکتا ہے، چاہے ویسے عام باندی ہے اس کا بھی کسی اور سے نکاح کروا سکتا ہے۔ لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ یہ امِ ولد حاملہ ہے بھئی اور اس کے آقا نے اقرار کر چکا ہے کہ یہ جو حمل ہے یہ مجھ سے ہے، معلوم ہوا یہ حمل ثابت النسب ہے۔ یہ حمل کیا ہے؟ اور جو بھی حاملہ ایسی ہو کہ اس کا حمل ثابت النسب ہو، اس کا نکاح باطل ہوتا ہے، اس سے نکاح نہیں کیا جا سکتا۔ تو لہٰذا آقا نے اس کا بے شک نکاح کروایا لیکن یہ نکاح نہیں ہوا، یہ نکاح باطل ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وإن زوج أم ولده“، اور اگر آقا نے نکاح کروا دیا اپنی امِ ولد کا، ”وهي حامل منه“، اور حال یہ ہے کہ یہ امِ ولد آقا سے حاملہ ہے، آقا سے حاملہ ہے کیسے پتہ چلے گا؟ آقا اقرار کرے گا تو پتہ چلے گا، ویسے تو پتہ نہیں چل سکتا۔ تو لہٰذا معلوم ہوا آقا نے اقرار بھی کر لیا ہے کہ یہ مجھ سے حاملہ ہے، تو اس کا آقا نے نکاح کروایا، ”فالنكاح باطل“، تو یہ نکاح باطل ہے، کیوں باطل ہے؟ کیونکہ یہ حمل ثابت النسب ہے، اور جو حاملہ بھی اس کا حمل ثابت النسب ہو اس کا نکاح باطل ہوتا ہے۔ آگے دیکھیے، دلیل دیکھیے: ”لأنها فراش لمولاها“، اس لیے کیونکہ یہ اپنے آقا کا فراش ہے، یہ امِ ولد فراشِ متوسط ہے نا، تو کہتے ہیں: ”لأنها فراش لمولاها“، اس لیے کیونکہ یہ باندی اپنے آقا کا فراش ہے، ”حتى يثبت نسب ولدها منه“، بھئی یہاں پر بھی یاد رکھیے، حتیٰ نسب نہیں دے گا۔ ”حتى يثبت نسب ولدها منه“، یہاں تک کہ ثابت ہو جاتا ہے اس کے بچے کا نسب منہ، آقا سے، ”من غير دعوة“، بغیر دعوے کے۔ بھئی عام باندی بچے کو جنم دے تو کیا وہ خود بخود آقا کا شمار ہوگا؟ نہیں، آقا دعویٰ کرے گا، اقرار کرے گا تو پھر ثابت ہوگا۔ لیکن امِ ولد اگر بچے کو جنم دے وہ خود بخود کس کا شمار ہوگا؟ آقا کا، بھئی امِ ولد پہلے ایک بچے کو جنم دے چکی ہے اور آقا نے کہا تھا یہ میرا بچہ ہے تو یہ کیا بن گئی؟ امِ ولد۔ اب یہ آگے جس بچے کو بھی جنم دے گی وہ خود بخود کس کا شمار ہوگا؟ آقا کا، لیکن اگر آقا نفی کرنا چاہے تو بغیر لعان کے بھی نفی کر سکتا ہے، تو یہی بیان کر رہے ہیں: ”لأنها فراش لمولاها“، کہ یہ جو امِ ولد ہے یہ اپنے آقا کا فراش ہے، ”حتى يثبت نسب ولدها منه“، یہاں تک کہ اس کے بچے کا نسب بھی ثابت ہو جاتا ہے منہ، اسی آقا سے، ”من غير دعوة“، بغیر دعوے کے۔ بغیر دعوے کے ہی اس بچے کا نسب کس سے ثابت ہو جاتا ہے؟ آقا سے۔ یاد رکھو یہاں دعوۃٌ لفظ آیا، ”من غير دعوة“، یہ دعوت کا لفظ مثلث الفاء ہے۔ کیا ہے؟ مثلث الفاء، مثلث الفاء اس کلمے کو کہتے ہیں کہ جس کے پہلے حرف پر تینوں حرکتیں جائز ہوں۔ اور کلمے کا وزن کس سے نکالتے ہیں؟ ف، ع، ل کے ذریعے، یعنی وہ کلمہ جس کے فاء پر تینوں طرح کی حرکتیں جائز ہوں، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مثلث الفاء۔ تو اس میں بھی دال پر تینوں حرکتیں عربی میں استعمال ہوتی ہیں: دَعْوَةٌ، دِعْوَةٌ اور دُعْوَةٌ۔ اگر دَعْوَةٌ ہو تو اس کا معنی اللہ سے دعا کرنا، اور اگر دِعْوَةٌ ہو تو پھر اس کا معنی ہے نسب کا دعویٰ کرنا، اور اگر دُعْوَةٌ ہو تو پھر اس کا معنی ہے کھانے کی دعوت بھئی، کھانے پر بلانا، کھانے کی دعوت بھئی۔ تو دَعْوَةٌ دال کے فتحہ کے ساتھ ہو تو اللہ سے دعا کرنا، دِعْوَةٌ دال کے کسرہ کے ساتھ ہو تو نسب کا دعویٰ کرنا، اور دُعْوَةٌ ہو تو پھر کھانے کی دعوت دینا اس کا معنی ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو بہرحال آپ اس کو دِعوہ بھی پڑھ سکتے ہیں اور دَعوہ دال کے فتحہ کے ساتھ بھی پڑھ سکتے ہیں، عام لغت کے اندر دعوۃ کا معنی بھی دعویٰ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”حتى يثبت نسب ولدها منه من غير دعوة“، یہاں تک کہ ثابت ہو جاتا ہے اس امِ ولد کے بچے کا نسب منہ، آقا سے، من غیر دعوۃ، بغیر دعوے کے۔ ”فلو صح النكاح“، تو لہٰذا یہ نکاح باطل ہے۔ ”فلو صح النكاح“، اگر یہ نکاح صحیح ہو جائے، ”لحصل الجمع بين الفراشين“، تو جمع بین الفراشین حاصل ہو جائے گا، یعنی جمع بین الفراشین لازم آئے گا۔ یعنی اس عورت میں دو فراش جمع ہو جائیں گے: یہ اپنے آقا کی بھی فراش ہے اور نکاح صحیح ہو گیا تو اپنے خاوند کی بھی فراش بن گئی، اور جمع بین الفراشین تو نہیں ہو سکتا، ایک عورت دو مردوں کے لیے فراش نہیں ہو سکتی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو اس لیے یہ نکاح صحیح نہیں۔ ”إلا أنه غير متأكد حتى ينتفي الولد بالنفي من غير لعان“، تو یہ آقا کا فراش ہے لیکن فراشِ قوی نہیں ہے، فراشِ متوسط ہے۔ تو چنانچہ اگر آقا بچے کی نفی کرنا چاہے تو بغیر لعان کے کیا کر سکتا ہے؟ نفی کر سکتا ہے، یہی بیان کر رہے ہیں: ”إلا أنه غير متأكد“، مگر یہ کہ اس کا فراش ہونا وہ پکا نہیں ہے، ”حتى ينتفي الولد بالنفي من غير لعان“، یہاں تک کہ بچہ جو ہے وہ منتفی ہو جاتا ہے بالنفی، نفی کرنے سے، بچے کا انکار کرے گا تو وہ اس کا نسب منتفی ہو جائے گا، ”من غير لعان“، بغیر کسی لعان کے۔ ”فلا يعتبر ما لم يتصل به الحمل“، لہٰذا اس کا فراش ہونا معتبر نہیں ہے جب تک اس کے ساتھ حمل نہ مل جائے۔ یہ سمجھ لو اچھی طرح، بھئی دیکھیے یہ جو امِ ولد ہے، یہ فراشِ متوسط ہے۔ اس سے جو بچہ پیدا ہوگا کس کا شمار ہوگا؟ آقا کا، لیکن وہ نفی کرنا چاہے تو بغیر لعان کے بھی نفی کر سکتا ہے۔ تو امِ ولد کا آقا کہیں نکاح کروانا چاہے، نکاح کروا سکتا ہے، ایک بچہ جنم دیا تھا وہ آقا نے کہہ دیا تھا میرا ہے۔ اب آگے بعد میں چل کے آقا اس باندی کا کسی اور سے نکاح کروانا چاہتا ہے، آقا کروا سکتا ہے۔ تو اس پر سوال پیدا ہوتا ہے، پھر تو جمع بین الفراشین لازم آئے گا؟ یہ آقا کا بھی فراش ہے اور خاوند کا بھی فراش، جواب یہ کہ یہ فراش تو ہے لیکن یہ فراش ہونا اس کا مضبوط نہیں، قوی نہیں ہے۔ ہاں اگر یہ حاملہ ہوئی اور آقا نے اقرار کر لیا کہ یہ میرا حمل ہے، تو پھر اس کا فراش ہونا پکا ہو جائے گا۔ تو اس وقت اس کا آگے نکاح نہیں کروا سکتا، لیکن اگر یہ حاملہ نہیں تو پھر اس کا فراش ہونا پکا نہیں، جب فراش ہونا پکا نہیں تو آگے نکاح کروا سکتا ہے، یہ معنی ہے۔ ”فلا يعتبر“، لہٰذا اس کا یہ فراش ہونا معتبر نہیں ہے، ”ما لم يتصل به الحمل“، جب تک اس کے ساتھ حمل نہ مل جائے۔ تو حاصلِ کلام کیا ہوا؟ امِ ولد ہے اور حاملہ ہے اور آقا نے اقرار کر لیا یہ میرا حمل ہے، تو آگے نکاح نہیں کروا سکتا، کیونکہ پھر جمع بین الفراشین لازم آئے گا۔ اور اگر امِ ولد تو ہے لیکن حاملہ نہیں، تو پھر اس کا آقا آگے نکاح کروا سکتا ہے کیونکہ فراش ہونا اس کا پکا نہیں، لہٰذا اب وہ اس خاوند کا فراش بن جائے گی، آقا کا فراش اب نہ رہے گی۔ اب ذرا متن پہ آؤ، متن پہ آؤ پھر دوبارہ: ”وإن زوج أم ولده“، اگر آقا نے نکاح کروایا اپنی امِ ولد کا، ”وهي حامل منه“، اس حال میں کہ یہ امِ ولد آقا سے حاملہ ہے، یہ قید بڑھا دی متن کے اندر بھئی کہ آقا نے اقرار کیا ہو یہ مجھ سے حاملہ ہے، پھر پکا ہو گیا یہ آقا کا فراش ہے۔ جب آقا کا فراش ہے تو اب اس کا آگے نکاح جائز نہیں، لیکن اگر آقا نے اقرار نہیں کیا کہ یہ مجھ سے حاملہ ہے، امِ ولد ہے حاملہ بھی ہے لیکن آقا نے اقرار نہیں کیا تو اس کا آقا آگے نکاح کروا سکتا ہے۔ تو یہ ”وهي حامل منه“، یہ قید ضروری ہے بھئی ورنہ نکاح باطل نہیں ہوگا بھئی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھئی آقا نے اگرچہ اقرار نہیں کیا کہ یہ بچہ، یہ حمل میرا ہے، لیکن امِ ولد سے جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے وہ شمار ہی کس کا ہوتا ہے؟ آقا کا ہوتا ہے جب تک آقا نفی نہ کر دے، تو پھر کیسے اس کا نکاح آگے جائز ہو جائے گا جب آقا نے اقرار نہیں کیا؟ تو جواب یہ کہ امِ ولد سے پیدا ہونے والا بچہ آقا کا شمار ہوتا ہے لیکن آقا نفی کرنا چاہے تو نفی کر سکتا ہے یا نہیں؟ کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے، تو جیسے آقا زبان سے نفی کر سکتا ہے اسی طرح وہ دلالۃً بھی نفی کر سکتا ہے، کوئی ایسا فعل کر دے جس سے دلالت ہو جائے کہ یہ نسب کی نفی کر رہا ہے۔ تو یہاں پر بھی اگر وہ امِ ولد ہے، حاملہ بھی ہے لیکن آقا نے ابھی تک اقرار نہیں کیا کہ یہ حاملہ مجھ سے ہے، اس کا وہ آگے نکاح کروا رہا ہے، معلوم ہوا وہ بچے کے نسب کی اپنے سے نفی کر رہا ہے، صراحتاً تو نہیں لیکن دلالۃً وہ نفی کر رہا ہے اپنے اس بچے کے نسب کی، تو یہ بچہ کیا ہوا؟ غیر ثابت النسب، جب غیر ثابت النسب ہوا تو اس کا نکاح آگے ہو جائے گا اس امِ ولد کا، بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: ”قال: ومن وطئ جاريته ثم زوجها جاز النكاح“. ”قال“، یہ ضمیر بھی امام محمد رحمہ اللہ کو راجع ہے، امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں: ”ومن وطئ جاريته“، اور جس نے صحبت کی اپنی باندی سے، ”ثم زوجها“، پھر اس کا نکاح کروا دیا، ”جاز النكاح“، تو یہ نکاح جائز ہے۔ بھئی دیکھیے آزاد عورت جب خاوند اس کو طلاق دیتا ہے، تو وہ تین حیض گزارتی ہے پھر اس کو آگے نکاح کی اجازت ہوتی ہے۔ وجہ یہ تاکہ پتہ چل جائے کہیں یہ خاوند سے حاملہ تو نہیں، کہیں اس کے پیٹ میں سابقہ خاوند کی اولاد تو نہیں، تو تین حیض میں پتہ چل گیا اب وہ آگے جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ اسی طرح باندی کے اندر دو حیض باندی گزارے گی اگر اس کو خاوند طلاق دے دے گا تو وہ دو حیض اس کی عدت ہے، وہ دو حیض گزارے گی۔ اور باندی کی تو خرید و فروخت بھی ہوتی ہے تو باندی کو جب بھی کوئی شخص خریدے گا، وہ آقا کے لیے حلال ہو گئی وہ اس سے صحبت کر سکتا ہے، لیکن فوراً صحبت نہیں کر سکتا بلکہ وہاں پر بھی وہ ایک حیض انتظار کرے گا تاکہ پتہ چل جائے کہ یہ باندی اپنے سابقہ مالک سے کہیں حاملہ تو نہیں، تو اس کو کہتے ہیں استبراء، کیا کہتے ہیں؟ استبراء۔ براءت، براءت کا معنی ہے صفائی بھئی، استبراء یعنی رحم کی صفائی کو طلب کرنا، یعنی رحم کی صفائی کا پتہ چلانا، یوں ترجمہ کر لو۔ رحم کی صفائی کا پتہ چلانا کہ رحم یعنی اس کے اندر حمل تو نہیں ہے۔ تو باندی کو جو بھی شخص خریدے گا اس پر استبراء لازم ہے، واجب ہے، ایک حیض اس کو انتظار کرنا پڑے گا۔ جب ایک حیض پورا گزر جائے گا اب پتہ چل گیا کہ باندی سابقہ مالک سے حاملہ نہیں، اب نئے مالک کے لیے صحبت جائز ہو جائے گی۔ اب صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص کی باندی ہے اور وہ آقا اس سے صحبت بھی کرتا ہے، تو اب آقا اس باندی کا کسی اور سے نکاح کرواتا ہے تو کیا یہ نکاح ہو جائے گا؟ کہتے ہیں: ہاں بھئی یہ نکاح ہو جائے گا۔ بھئی کیسے نکاح ہوگا؟ آقا اس کے ساتھ صحبت کرتا ہے، کہتے ہیں یہ آقا کا فراش تو ہے لیکن اس کا فراش ہونا ضعیف ہے، کیا ہے؟ ضعیف ہے، تو لہٰذا یہاں پر جمع بین الفراشین والی خرابی لازم نہیں آئے گی، اب وہ خاوند کا فراش بن جائے گی آقا کا فراش ہے ہی نہیں یوں سمجھو، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”ومن وطئ جاريته ثم زوجها جاز النكاح“، اور جس شخص نے اپنی باندی سے صحبت کی پھر اس کا نکاح کروا دیا، ”جاز النكاح“، تو یہ نکاح جائز ہے، ”لأنها ليست بفراش لمولاها“، اس لیے کیونکہ یہ باندی اپنے آقا کا فراش نہیں ہے، یہ اپنے آقا کا فراش نہیں۔ بھئی آپ نے تو پڑھا ہے کہ باندی فراش ہے البتہ فراشِ ضعیف ہے، اور صاحبِ ہدایہ کیا فرما رہے ہیں کہ یہ فراش نہیں ہے؟ صاحبِ ہدایہ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ فراش تو ہے لیکن ایسا فراش نہیں ہے جو معتبر بھی ہو۔ فراشِ ضعیف ہے، حتیٰ کہ بچہ پیدا ہو تو خود بخود آقا کا شمار بھی نہیں ہوتا جب تک وہ دعویٰ نہ کر دے، تو معلوم ہوا اس کا فراش ہونا بھی کس کی طرح ہے؟ لا فراش کی طرح ہے، تو یہ فراش معتبر نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لأنها ليست بفراش لمولاها“، اس لیے کیونکہ یہ باندی اپنے آقا کا فراش نہیں ہے، ”فإنها لو جاءت بولد“، دیکھو علت بھی ذکر کر رہے ہیں، یہ دیکھو ف آئی ف، یاد رکھو آپ نے اصول فقہ کی کتابوں میں پڑھا ہے کہ یہ ف جو ہے کبھی علت بیان کرنے کے لیے لائی جاتی ہے، ف، اور اس سے کبھی کبھار اس سے ماقبل میں علت بیان کی جاتی ہے، کبھی جو ہے اس سے ماقبل میں علت ہوگی اور مابعد میں معلول ہوگا، اور کبھی ماقبل میں معلول ہوگا اور مابعد میں علت ہوگی، تو اس کا ترجمہ کیونکہ کے ساتھ کریں گے، کیونکہ۔ کہتے ہیں: ”لأنها ليست بفراش لمولاها“، اس لیے کیونکہ یہ باندی جو ہے یہ اپنے آقا کا فراش نہیں ہے یعنی فراشِ معتبر نہیں ہے، ”فإنها لو جاءت بولد“، اس لیے کیونکہ اگر یہ باندی کوئی بچہ لے آئی یعنی کسی بچے کو اس نے جنم دیا، ”لا يثبت نسبه من غير دعوة“، تو اس بچے کا نسب ثابت نہیں ہوگا آقا سے من غیر دعوۃ، بغیر آقا کے دعوے کے۔ ”إلا أن عليه أن يستبرئها صيانة لمائه“، مگر یہ کہ آقا پر واجب ہے کہ اس باندی کا استبراء کروائے صیانۃ لمائہ، اپنے پانی کی حفاظت کے لیے، اپنے پانی کی حفاظت کے لیے اس سے استبراء کروا لے۔ بھئی دیکھیے آقا کی باندی ہے، آقا اس سے صحبت کرتا ہے اور اب وہ اس کا نکاح آگے کرواتا ہے، تو اگرچہ یہ آقا کا فراش ہے لیکن اس فراش کا کوئی اعتبار ہی نہیں لہٰذا نکاح صحیح ہو جائے گا، نکاح ہو جائے گا۔ لیکن آقا کو ایسا کرنا نہیں چاہیے، آقا پر واجب ہے کہ باندی کا نکاح کروانا چاہتا ہے تو پہلے استبراء ایک حیض کروا لے، تاکہ پتہ چل جائے کہیں یہ اسی آقا سے حاملہ تو نہیں ہے، تو نکاح سے پہلے ایک حیض گزار لے پھر اس کا نکاح کروا دے۔ یہ معنی ہے: ”إلا أن عليه أن يستبرئها“، مگر یہ کہ اس آقا پر واجب ہے کہ اس باندی کا استبراء کروا لے، ”صيانة لمائه“، اپنے پانی کی حفاظت کے لیے، بات سمجھ میں آ گئی۔ حاصل کیا کہ بیع کے مسئلے میں خریدار جو ہوگا اس پر استبراء لازم ہے۔ جو خریدے گا باندی کو اس پر کیا لازم ہے؟ استبراء کروائے باندی سے، ایک حیض گزرنے کا انتظار کرے، اور یہاں پر آقا اپنی باندی کا نکاح کروانا چاہتا ہے اور اس سے یہ وطی بھی کرتا رہتا ہے، تو اس آقا پر واجب ہے کہ کیا کروائے؟ استبراء کروائے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو بعض علماء نے لکھا کہ آقا پر یہ استبراء واجب نہیں ہے مستحب ہے، لیکن صاحبِ ہدایہ کی عبارت سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ استبراء آقا پر واجب ہے۔ صاحبِ ہدایہ نے کیا فرمایا: ”أن عليه أن يستبرئها“، اور علیٰ کس لیے آتا ہے؟ لزوم کے لیے اور وجوب کے لیے آتا ہے، تو معلوم ہوا کہ آقا پر استبراء واجب ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وإذا جاز النكاح فللزوج أن يطأها قبل الاستبراء عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله“. بھئی اس باندی کا نکاح تو جائز ہو گیا، آقا استبراء کروائے یا نہ کروائے نکاح ہو جائے گا۔ اگرچہ آقا پر لازم تھا کہ کیا کروائے؟ استبراء کروائے، لیکن اگر آقا استبراء نہیں کرواتا اس کا نکاح کروا دیتا ہے، نکاح تو ہو جائے گا۔ تو کیا اب وہ جو آگے خاوند ہے اس پر استبراء واجب ہے کہ استبراء واجب نہیں؟ کہتے ہیں نہیں، خاوند پر استبراء واجب نہیں، خاوند اس سے فوراً وطی کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وإذا جاز النكاح فللزوج أن يطأها قبل الاستبراء“، اور جب یہ نکاح جائز ہے تو خاوند کے لیے جائز ہے کہ وہ اس سے صحبت کر لے استبراء سے پہلے، ”عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله“، شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک۔ ”وقال محمد رحمه الله: لا أحب له أن يطأها قبل أن يستبرئها“، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”لا أحب له“، میں اس خاوند کے لیے پسند نہیں کرتا، ”أن يطأها“، کہ وہ اس سے وطی کر لے، ”قبل أن يستبرئها“، اس کا استبراء کروانے سے پہلے۔ اس کا استبراء کروانے سے پہلے خاوند اس کے ساتھ صحبت کر لے یہ مجھے پسند نہیں ہے۔ اور یاد رکھو مجتہد جب کسی مسئلے میں کہے: ”أحب هذا“ یا وہ کہے ”أكره هذا“، ”أحب هذا“، مجھے یہ پسند ہے، یا ”أكره هذا“، یہ مجھے ناپسند ہے، تو وہ اپنے پسند یا ناپسندیدگی کو بیان نہیں کر رہا بلکہ معنی یہ ہے وہ فتویٰ دے رہا ہے کہ اگر کہے ”لا أحب“، مجھے پسند نہیں ہے، معلوم ہوا یہ جائز نہیں ہے اس مجتہد کے نزدیک، اور جب وہ کہے ”أكره“، مجھے یہ ناپسند ہے، تو اس کا بھی یہی معنی ہے کہ یہ وہ فتویٰ دے رہا ہے۔ تو امام محمد رحمہ اللہ گویا فتویٰ دے رہے ہیں: ”لا أحب له“، کہ میں فتویٰ دیتا ہوں کہ خاوند کے لیے اس سے صحبت کرنا جائز نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وقال محمد رحمه الله: لا أحب له أن يطأها قبل أن يستبرئها“، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں پسند نہیں کرتا کہ خاوند اس اپنی منکوحہ باندی کے ساتھ صحبت کر لے اس سے استبراء کروانے سے پہلے، ”لأنه احتمل الشغل بماء المولى“، اس لیے کیونکہ اس باندی کے اندر احتمال ہے کہ اس کا رحم جو ہے مشغول ہو بماء المولیٰ، آقا کے پانی کے ساتھ، ”فوجب التنزه“، تو لہٰذا اس سے بچنا واجب ہے۔ یہاں وطی سے بچنا واجب ہے کہ کہیں اس کا رحم مشغول نہ ہو آقا کے پانی کے ساتھ، ”كما في الشراء“، جیسے خریدنے میں ہوتا ہے۔ یعنی جیسے خریدی ہوئی باندی کے اندر خریدار پر استبراء واجب ہوتا ہے، یہاں اس خاوند پر بھی استبراء واجب ہے کہ کہیں یہ آقا سے حاملہ نہ ہو بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے اب آگے اب شیخین رحمہما اللہ کا مذہب ائے گا، وہ کیا فرماتے تھے؟ وہ فرماتے ہیں جب یہ نکاح جائز ہے تو خاوند کے لیے صحبت بھی جائز ہے، کوئی استبراء واجب نہیں۔ کہتے ہیں: ”ولهما“، اور شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے: ”أن الحكم بجواز النكاح أمارة الفراغ“، ”أن الحكم بجواز النكاح“، کہ یہ جو نکاح کے جائز ہونے کا حکم لگایا گیا، ”أمارة الفراغ“، امارت کہتے ہیں علامت اور نشانی کو، یہ اس کے رحم کے فارغ ہونے کی نشانی ہے۔ بھئی بالاتفاق تینوں ائمہ کے نزدیک نکاح جائز ہے اس باندی کا جس سے آقا صحبت کرتا ہے، بغیر استبراء کے ہی آقا کیا کر دے؟ نکاح کروانا چاہے تو نکاح ہو جائے گا۔ تو امام محمد فرماتے ہیں نکاح ہو جائے گا لیکن خاوند پر کیا واجب ہے؟ استبراء کروائے، شیخین فرماتے ہیں نہیں کوئی استبراء واجب نہیں۔ جب یہ حکم لگا دیا گیا کہ اس کا نکاح جائز ہے تو یہ علامت ہے کہ اس کا رحم فارغ ہے، آقا کے پانی کے ساتھ مشغول نہیں ہے۔ اگر آقا کے پانی کے ساتھ مشغول ہوتا تو شریعت کبھی بھی اجازت نہ دیتی اس کے نکاح کی، لیکن تینوں ائمہ کیا فرما رہے ہیں؟ اس کے آگے نکاح کی اجازت ہے، جب نکاح کی اجازت ہے تو نکاح کی اجازت ہونا یہ علامت ہے کس چیز کی؟ کہ اس کا رحم فارغ ہے۔ جب رحم فارغ ہے تو لہٰذا خاوند کے لیے اس سے صحبت بھی جائز ہے۔ تو کہتے ہیں: ”ولهما أن الحكم بجواز النكاح أمارة الفراغ“، اور شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے کہ نکاح کے جائز ہونے کا حکم لگانا یہ اس کے رحم کے فارغ ہونے کی علامت ہے، ”فلا يؤمر بالاستبراء“، لہٰذا اس خاوند کو استبراء کا حکم نہیں دیا جائے گا، ”لا استحبابا ولا وجوبا“، نہ تو یہ استحباباً حکم دیا جائے گا اور نہ وجوباً، یعنی نہ تو اس کے لیے استحباباً استبراء ہوگا، مستحب بھی نہیں اس کے لیے استبراء اور واجب بھی نہیں ہے بھئی۔ ”بخلاف الشراء“، امام محمد رحمہ اللہ نے اس کو قیاس کیا تھا شراء پر کہ شراء کے اندر جیسے باندی کے اندر احتمال ہوتا ہے کہیں سابقہ آقا سے وہ حاملہ نہ ہو، تو وہاں خریدار پر استبراء لازم ہوتا ہے۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں، اس کا جواب دے رہے ہیں: یاد رکھو جب باندی کو خریدا جاتا ہے تو ہمارے تینوں ائمہ فرماتے ہیں کہ استبراء واجب ہے۔ تو معلوم ہوا شیخین بھی اس میں کیا فرما رہے ہیں؟ باندی میں استبراء واجب، اور امام محمد بھی فرما رہے ہیں، اور اسی باندی پر قیاس کر رہے ہیں اس باندی کو جس کا بھی نکاح کروایا ہے آقا نے۔ جیسے خریدی ہوئی باندی میں استبراء بالاتفاق واجب ہے، اسی طرح اس باندی میں بھی امام محمد کیا فرماتے ہیں؟ خاوند کو استبراء کروانا چاہیے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لیکن شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ آپ اس کو خریدی ہوئی باندی پر قیاس نہیں کر سکتے، اس لیے کیونکہ نکاح اور شراء میں فرق ہے۔ نکاح جو ہے وہ رحم کے مشغول ہوتے ہوئے نکاح کی اجازت نہیں ہوتی، لیکن رحم کے مشغول ہوتے ہوئے باندی کی بیع کی اجازت ہوتی ہے، اس کو بیچا جا سکتا ہے، خریدا جا سکتا ہے۔ تو دونوں میں فرق آ گیا، دونوں ایک جیسے نہیں ہیں۔ بھئی دیکھو نا ایک شخص کی باندی ہے تو وہ جب چاہے اس کو بیچ دے، چاہے حاملہ ہی کیوں نہ ہو وہ پھر بھی بیچ سکتا ہے بھئی۔ تو لہٰذا نکاح کو آپ شراء پر قیاس نہیں کر سکتے، کیونکہ نکاح جو ہے وہ رحم کے مشغول ہونے کے ساتھ نکاح جائز نہیں ہوتا، جبکہ شراء جو ہے وہ رحم کے مشغول ہونے کے باوجود بھی جائز ہوتی ہے۔ ایک جیسی چیزوں کو آپس میں ایک دوسرے پر قیاس کیا جاتا ہے، جو دو الگ الگ قسم کی چیزیں ہوں ان کو ایک دوسرے پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں جب مختلف چیزیں ہیں تو ایک کو دوسری پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”بخلاف الشراء“، بخلاف خریدنے کے، ”لأنه يجوز مع الشغل“، اس لیے کیونکہ شراء تو جائز ہوتی ہے باوجود رحم کے مشغول ہونے کے۔ آگے دیکھیے: ”وكذا إذا رأى امرأة تزني فتزوجها حل له أن يطأها قبل أن يستبرئها عندهما“. صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک شخص نے ایک عورت کو زنا کرتے ہوئے دیکھا، اب یہ شخص اس عورت سے نکاح کر لیتا ہے تو کیا اس کے لیے اب اس عورت سے وطی جائز ہے یا اس سے استبراء کروائے؟ تو یاد رکھو بالاتفاق اس عورت کے ساتھ اس آدمی کا نکاح جائز ہے۔ اور جب نکاح جائز ہے تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ رحم کے فراغت کی علامت آ گئی، نکاح تب ہی جائز ہوتا ہے جب رحم کیا ہو؟ فارغ ہو۔ جب علامت آ گئی لہٰذا اب اس خاوند کے لیے اس کے ساتھ فوراً ہی صحبت کرنا بھی جائز ہے، استبراء واجب نہیں۔ لیکن امام محمد یہاں بھی اسی طرح فرماتے ہیں کہ مجھے پسند نہیں ہے کہ وہ خاوند اس سے صحبت کر لے جب تک استبراء نہ کروا لے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وكذا إذا رأى امرأة تزني فتزوجها“، اور اسی طرح جب دیکھا کسی شخص نے کسی عورت کو زنا کرتے ہوئے فتزوجہا، پھر اس شخص نے اس عورت سے نکاح کر لیا، ”حل له أن يطأها قبل أن يستبرئها عندهما“، تو حلال ہے اس آدمی کے لیے کہ وہ اس عورت سے صحبت کرے قبل ان یستبرئہا، استبراء کروانے سے پہلے عندہما، شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک۔ ”وقال محمد رحمه الله: لا أحب له أن يطأها ما لم يستبرئها“، اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں پسند نہیں کرتا کہ یہ خاوند اس سے صحبت کرے جب تک اس سے استبراء نہ کروا لے، ”والمعنى ما ذكرناه“، اور معنیٰ وہ ہے جو ہم نے ذکر کر دیا، جی ترجمہ کیجیے۔ ”والمعنى ما ذكرناه“ کا ترجمہ کیجیے۔ اس کا معنی وہ ہے جو ہم نے ذکر کیا، طلبہ عموماً یوں ہی ترجمہ کریں گے۔ یاد رکھو فقہ کی کتابوں میں ”معنیٰ“ کا لفظ کبھی تو معنی بیان کرنے کے لیے ہی آئے گا یعنی کسی لفظ کا مفہوم بیان کرنے کے لیے، اور کبھی ”معنیٰ“ کا لفظ علت اور سبب بیان کرنے کے لیے بھی آتا ہے۔ یعنی صاحبِ ہدایہ کبھی کبھار کسی لفظ کا مفہوم بیان کریں گے تو کہیں گے کہ اس کا معنی یہ ہے، اور کبھی کسی حکم کی علت بیان کریں گے تو تب بھی یوں کہیں گے اس کا معنی یہ ہے یعنی اس کے حکم کی علت یہ ہے۔ تو ”معنیٰ“ کا لفظ کس معنی میں استعمال ہوتا ہے؟ علت اور سبب کے معنی میں بھی عام استعمال ہوتا ہے کتبِ فقہ میں، یہ آپ نے خود خیال رکھنا ہے ہمیشہ۔ تو اب ترجمہ سنو: ”والمعنى ما ذكرناه“، اور علت جو ہے وہ ہے جو ہم نے ذکر کر دی۔ بھئی یہ عورت جو زنا کرتی ہے، یہ عورت جس نے زنا کیا اور اس شخص نے اس سے نکاح کر لیا، تو شیخین فرماتے ہیں کہ استبراء ضروری نہیں، امام محمد فرماتے ہیں استبراء ضروری ہے۔ کہتے ہیں: ”والمعنى ما ذكرناه“، اور علت وہ ہے جو ہم نے پیچھے ذکر کر دی، جو پچھلے مسئلے میں علت تھی وہی علت یہاں پر بھی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔