آگے سبق دیکھیے بھئی: ويجوز تزوّج الأمة مسلمةً كانت أو كتابيّةً، وقال الشّافعيّ رحمه الله تعالى: لا يجوز للحرّ أن يتزوّج بأمةٍ كتابيّةٍ؛ لأنّ جواز نكاح الإماء ضروريٌّ عنده؛ لما فيه من تعريض الجزء على الرّقّ، وقد اندفعت الضّرورة بالمسلمة، ولهذا جعل طَوْل الحرّة مانعًا منه۔ بھئی، گزشتہ سبق میں صاحبِ قدوری نے آپ کو بتلایا تھا کہ آقا اپنی باندی سے نکاح نہیں کر سکتا، اس لیے کیونکہ باندی اس کی مملوکہ ہے اور آقا مالک ہے، اور جب یہ بیوی بنے گی تو بیوی تو مالکن ہوتی ہے۔ تو لہٰذا اب وہ جو باندی پہلے مملوکہ تھی اب وہ مالکن بھی بن گئی۔ تو ایک ہی عورت مملوکہ بھی ہو گئی اور مالکن بھی ہو گئی اور یہ تو نہیں ہو سکتا، مالکیت اور مملوکیت میں منافات ہے۔ جو مالک ہے وہ مملوک نہیں اور جو مملوک ہے وہ مالک نہیں۔ میں نے بتلایا تھا کہ میاں بیوی ایک دوسرے پر حقوق کے مالک ہوتے ہیں۔ بیوی جو ہے وہ اس کا حق ہے کہ خاوند سے نفقہ لے، اسی طرح خاوند پر بیوی کا حق ہے کہ وہ بیوی کو رہائش بھی مہیا کرے۔ تو بیوی جو ہے وہ خاوند پر حقوق کی مالک ہوتی ہے۔ اسی طرح خاوند بھی بیوی پر حقوق کا مالک ہوتا ہے کہ وہ جب چاہے اس کے ساتھ صحبت کر سکتا ہے، اور وہ اس کو گھر سے نکلنے سے منع کر سکتا ہے وغیرہ بھئی۔ تو لہٰذا جب باندی سے نکاح کرے گا تو باندی تو ہے مملوکہ اور اب وہ کیا بن گئی؟ مالکن بن گئی یعنی حقوق کی مالک بن گئی اپنے خاوند پر، اور مالکیت اور مملوکیت میں منافات ہے، ایک ہی شخص مالک بھی ہو اور مملوک بھی ہو ایسا نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح اگر ایک امیر عورت ہے اور اس کا کوئی غلام ہے، وہ اس غلام کے ساتھ نکاح کرنا چاہتی ہے تو یہ جائز نہیں ہے۔ اس لیے کیونکہ غلام اس کا مملوک ہے اور جب نکاح کر لے گی تو وہ اس کا خاوند بن جائے گا اور خاوند جو ہے بیوی پر مالک ہوتا ہے بہت سے حقوق کا، اور مالکیت اور مملوکیت ایک دوسرے کے منافی ہے، ایک ہی شخص میں جمع نہیں ہو سکتے، تو لہٰذا اس لیے یہ عورت اپنے غلام سے نکاح نہیں کر سکتی۔ ہاں اگر نکاح کرنا چاہتے ہیں تو آقا اپنی اس باندی کو آزاد کر دے، اب وہ اس کی مملوکہ نہ رہی، اب نکاح کرنا چاہتا ہے تو نکاح کر لے، یا اسی طرح وہ عورت اپنے غلام سے نکاح کرنا چاہتی ہے تو اس کو آزاد کر دے، اب وہ اس کا مملوک نہ رہا، اب اس کے ساتھ نکاح کرنا چاہتی ہے تو نکاح کر سکتی ہے۔ صاحبِ ہدایہ نے اسی بات کو، اس دلیل کو اس انداز میں ذکر فرمایا تھا کہ یہ جو نکاح کی شریعت نے اجازت دی ہے اس وجہ سے کہ اس نکاح کی وجہ سے ایسے فوائد حاصل ہوتے ہیں جو میاں اور بیوی دونوں کے درمیان مشترک ہوتے ہیں۔ نکاح کی وجہ سے ایسے فائدے حاصل ہوتے ہیں جو میاں بیوی کے درمیان مشترک ہوتے ہیں، یعنی دونوں ان فائدوں کے مالک ہوتے ہیں۔ اور جب یہ باندی یا غلام سے نکاح کیا جائے گا تو یہ تو ان کے مملوک ہیں، اور مملوک جو ہے وہ مالک نہیں ہو سکتا انہی کے اوپر حقوق کا، تو یہ مملوک مالک نہیں بن سکتے، جب مالک نہیں بن سکتے تو ان منافع کے اندر شرکت ہی نہیں آئی۔ بھئی دیکھیے نا، ایک فائدہ حاصل ہو رہا ہے، میں اور زید مل کر کاروبار کر رہے ہیں، تو جب مل کر کاروبار کر رہے ہیں تو جو بھی نفع آئے گا اس میں ہم دونوں شریک ہوں گے۔ لیکن اگر کوئی رکاوٹ آ جائے کہ جو مال آ رہا ہے زید اس میں شریک ہی نہیں ہو سکتا، اس کا مالک ہی نہیں بن سکتا، تو شرکت تو ختم ہو گئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں پر بھی نکاح کی وجہ سے ایسے فائدے حاصل ہوتے ہیں جن میں میاں اور بیوی دونوں شریک ہوتے ہیں، لیکن جب ان میں سے ایک مملوک ہے تو وہ اس فائدے کا مالک نہیں بنے گا۔ جب مالک نہیں بنے گا تو فائدے کے اندر شرکت نہیں آئے گی، حالانکہ نکاح کی تو اجازت ہی شریعت نے کیوں دی ہے؟ کہ اس میں فائدے میں دونوں شریک ہوتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو جب دونوں فائدے کے اندر شریک نہیں ہو سکتے تو یہ نکاح بھی جائز نہیں ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ اہلِ کتاب عورتوں سے نکاح جائز ہے بھئی، اور چاہے وہ اہلِ کتاب عورت آزاد عورت ہو یا باندی، اس کے ساتھ نکاح جائز ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہلِ کتاب باندی کے ساتھ نکاح جائز نہیں ہے بھئی۔ اور نیز آپ کو یہ بھی بتلایا کہ جو آتش پرست عورتیں ہیں یا بت پرست عورتیں ہیں، ان کے ساتھ بھی نکاح جائز نہیں ہے، اور صابی جو ہیں ان کے بارے میں اختلاف ہے۔ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی تحقیق کے مطابق صابی جو ہیں یہ یہودیوں یا عیسائیوں سے ہی نکلنے والا ایک گروہ اور ایک فرقہ ہے جو انہی سے جدا ہوا ہے اور یہ ستاروں کی تعظیم کرتے ہیں، ستاروں کی عبادت نہیں کرتے، تو لہٰذا یہ اہلِ کتاب ہیں یہ صابی۔ جب اہلِ کتاب ہیں تو ان کے ساتھ نکاح جائز ہے اور ان کا ذبیحہ بھی حلال ہے۔ جبکہ صاحبین کی تحقیق کے مطابق یہ جو صابی ہیں یہ ستاروں کی طرف سجدہ تعظیم کے طور پر نہیں کرتے بلکہ عبادت کے طور پر کرتے ہیں، یہ ستاروں کو اپنا معبود سمجھتے ہیں تو یہ مشرک ہوئے، اور مشرکہ عورتوں کے ساتھ تو نکاح کی اجازت نہیں ہے اور اسی طرح ان کا پھر ذبیحہ بھی حلال نہیں ہے بھئی۔ اور اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ محرم مرد یا محرم عورت وہ نکاح کرنا چاہتے ہیں تو نکاح جائز ہے۔ اس لیے کیونکہ نکاح ایجاب اور قبول کا نام ہے، اور جیسے محرم مرد یا عورت بیع یا اور عقد کر سکتے ہیں تو نکاح بھی کر سکتے ہیں بھئی۔ اسی طرح اگر کوئی ولی جو ہے جو حالتِ احرام میں ہے، وہ اپنی کسی صغیر یا صغیرہ کا نکاح کروانا چاہے تو ہمارے نزدیک جائز ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک جائز نہیں ہے بھئی۔ اور پھر وہ دلیل ذکر کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: "لا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلا يُنْكِحُ"، محرم نہ تو نکاح کر سکتا ہے اور نہ نکاح کروا سکتا ہے۔ اور میں نے بتلایا کہ یہ نفی ہے لیکن یہ نہی کے معنی میں ہے، اور بعض اوقات ایک چیز سے روکنا مقصود ہو تو وہاں نہی کے بجائے نفی بھی استعمال کر لی جاتی ہے، اور نفی کے اندر تاکید زیادہ ہوتی ہے۔ کیونکہ جب آپ کسی چیز کا حکم دیں تو ہو سکتا ہے دوسرا آدمی اس پر عمل کرے یا عمل نہ کرے، لیکن جب آپ نفی لاتے ہیں تو اب دوسرے کو بتلا دیتے ہیں کہ اس چیز کی تو کوئی گنجائش ہی نہیں ہے، کوئی صورت ہی نہیں ہے اس چیز کے کرنے کی۔ تو لہٰذا جب نہی کے مقام میں نفی آ جائے تو اس میں تاکید اور زور زیادہ ہوتا ہے۔ یہ تھی امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل۔ جبکہ ہمارے نزدیک کہ محرم مرد یا عورت اپنا نکاح کر سکتے ہیں، دلیل اس کی یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح فرمایا تھا اور آپ حالتِ احرام میں تھے۔ اور جو حدیث امام شافعی رحمہ اللہ نے ذکر فرمائی، اس کے اندر جو نکاح کا لفظ آیا ہم اس کو وطی پر محمول کرتے ہیں، کس پر؟ وطی پر۔ "لا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ" کہ محرم وطی نہیں کر سکتا، "وَلا يُنْكِحُ" اور نہ وطی کروا سکتا ہے یعنی نہ وطی پر قدرت دے سکتا ہے۔ تو محرم خود بھی وطی نہ کرے اور دوسرے کو بھی وطی کی قدرت نہ دے بھئی، یہ معنی ہے۔ یا ہم یہ جواب دیتے ہیں کہ اس حدیث کے اندر اولویت کی نفی کی جا رہی ہے کہ محرم نکاح نہیں کر سکتا یعنی اس کا نکاح کرنا اولیٰ نہیں ہے، افضل نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ جی، اب آئیے آج کے سبق پر۔ کہتے ہیں: ويجوز تزوّج الأمة مسلمةً كانت أو كتابيّةً وقال الشّافعيّ رحمه الله تعالى: لا يجوز للحرّ أن يتزوّج بأمةٍ كتابيّةٍ؛ لأنّ جواز نکاح الإماء ضروريٌّ عنده۔ بھئی، مسئلہ یہ کہ ہمارا اور شوافع کا اختلاف ہے بھئی۔ ہمارے نزدیک باندی سے نکاح جائز ہے، چاہے وہ باندی مسلمان ہو چاہے اہلِ کتاب ہو۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمان باندی کے ساتھ تو نکاح جائز ہے لیکن اہلِ کتاب باندی کے ساتھ نکاح جائز نہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ جو باندی کے ساتھ شریعت نے نکاح کی اجازت دی ہے وہ ضرورت کی وجہ سے دی ہے، کس کی وجہ سے؟ ضرورت کی وجہ سے دی ہے۔ چنانچہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا أَنْ يَنْكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ"، اور جو کوئی تم میں سے قدرت نہیں رکھتا کہ وہ نکاح کر لے پاک دامن مسلمان عورتوں سے، جو شخص تم لوگوں میں سے قدرت نہیں رکھتا کہ وہ مسلمان پاک دامن عورت سے نکاح کر لے، "فَمِنْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ"، تو پھر جس کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہیں، "مِنْ فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ"، یعنی تمہاری مومنہ باندیاں، یعنی تمہاری اہلِ ایمان باندیاں۔ اللہ تعالیٰ کیا فرما رہے ہیں کہ تم میں سے جو شخص پاک دامن مومنہ عورت سے نکاح کی قدرت نہیں رکھتا تو پھر وہ مسلمان باندیوں سے نکاح کر لے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دیکھو باندی سے جو نکاح کی اجازت دی گئی ہے وہ ضرورت کی بنا پر دی گئی ہے، کہ جو شخص آزاد عورت سے نکاح کی قدرت نہیں رکھتا تو وہ پھر باندی سے نکاح کر لے۔ وجہ یہ کہ آزاد عورت کا مہر زیادہ ہوتا ہے، اسی طرح آزاد عورت کا نفقہ بھی زیادہ ہو گا بھئی، جبکہ اس کے مقابلے میں باندی کا مہر کم ہوتا ہے، اور نیز باندی کے اندر نفقہ بھی آزاد عورت جتنا نہیں بلکہ باندی کے اندر اکثر تو نفقہ اس کا آقا ہی دیتا رہے گا۔ تو نفقے کا خرچہ بھی نہیں ہے اور مہر بھی تھوڑا ہے، تو جو مسلمان جو اہلِ ایمان وہ مسلمان عورت سے نکاح کی استطاعت نہیں رکھتے، اتنا مال اور پیسہ ان کے پاس نہیں ہے، غریب ہیں، تو پھر وہ باندیوں سے نکاح کر لیں۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں دیکھا باندیوں سے نکاح کی اجازت کب دی گئی؟ جب کسی میں آزاد عورت کی استطاعت نہ ہو بھئی۔ معلوم ہوا ضرورت کی بنا پر باندیوں کے نکاح کی اجازت دی گئی ہے اور ضرورت مسلمان باندی سے پوری ہو جاتی ہے۔ نکاح ہی کرنا ہے تو کس سے اب کر لو؟ مسلمان باندی سے کر لو، ضرورت پوری ہو گئی۔ لہٰذا اہلِ کتاب باندی سے نکاح کی اجازت نہیں ہو گی؛ کیونکہ ضابطہ ہے کہ جو چیز ضرورۃً ثابت ہو وہ ضرورت کے بقدر ہی ثابت ہوتی ہے۔ اور ضرورت کس کے ذریعے پوری ہو گئی؟ مسلمان باندی کے ذریعے پوری ہو گئی ضرورت۔ نکاح کرنا چاہتا تھا نا، آزاد عورت سے نہیں کر سکتا کیونکہ اتنی مالی استطاعت نہیں، تو اب کس سے کر لو؟ مسلمان باندی سے، ضرورت پوری ہو گئی، لہٰذا اہلِ کتاب باندی سے نکاح کی اجازت نہیں ہے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی۔ جبکہ ہمارے نزدیک نہیں، ہمارے نزدیک اہلِ کتاب باندی سے بھی نکاح جائز ہے بھئی۔ اور نیز یاد رکھنا، ہمارے نزدیک استطاعت کے باوجود بھی اگر کوئی شخص باندی سے نکاح کرنا چاہے تو نکاح کر سکتا ہے۔ ایک شخص مالی طور پر ٹھیک ہے وہ آزاد عورت سے بھی نکاح کر سکتا ہے، لیکن پھر بھی وہ کسی باندی سے نکاح کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک نکاح نہیں کر سکتا۔ اور نیز امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک باندی کا مسلمان ہونا بھی ضروری ہے، جبکہ ہمارے نزدیک باندی چاہے مسلمان ہو چاہے اہلِ کتاب ہو، دونوں سے نکاح کر سکتا ہے بھئی۔ آگے تفصیل آ رہی ہے، دیکھتے جائیے میں پوری تفصیل بیان کروں گا۔ تو کہتے ہیں: ويجوز تزوّج الأمة مسلمةً كانت أو كتابيّةً، اور جائز ہے باندی سے نکاح کرنا مسلمان ہو وہ باندی یا کتابیہ ہو، وقال الشّافعيّ رحمه الله: لا يجوز للحرّ، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آزاد آدمی کے لیے جائز نہیں ہے، آزاد آدمی کے لیے جائز نہیں ہے، غلام کے لیے وہ اجازت دیتے ہیں، آگے چل کر وہ مسئلہ آئے گا، تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لا يجوز للحرّ، آزاد آدمی کے لیے جائز نہیں ہے، أن يتزوّج بأمةٍ كتابيّةٍ کہ وہ نکاح کرے کتابیہ باندی سے، لأنّ جواز نكاح الإماء ضروريٌّ عنده، اس لیے کیونکہ باندیوں سے نکاح کا جو جواز ہے، إماء بھئی، لأنّ جواز نكاح الإماء، إماء جمع ہے امۃ کی، باندیاں بھئی، لأنّ جواز نكاح الإماء اس لیے کیونکہ باندیوں کے نکاح کا جائز ہونا جو ہے، ضروريٌّ وہ ضروری ہے یعنی ضرورت کی وجہ سے ہے، عنده ان کے نزدیک، لما فيه من تعريض الجزء على الرّقّ، اس وجہ سے کہ اس کے اندر پیش کرنا ہے، عرض يعرض تعریض کا معنی ہے پیش کرنا، الجزء جز کو، على الرّقّ، رق غلامی کو کہتے ہیں، کہ اس کے اندر اپنے جز کو غلامی پر پیش کرنا ہے۔ یاد رکھو، یاد رکھو بچہ آزادی اور غلامی میں ماں کے تابع ہوتا ہے۔ اگر ماں آزاد تو بچہ بھی آزاد، اور اگر ماں باندی تو بچہ بھی غلام یا باندی ہو گا۔ مثلاً ایک شخص ہے، وہ ایک باندی سے نکاح کرنا چاہتا ہے، احناف کے نزدیک استطاعت کے باوجود کوئی شخص باندی سے نکاح کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، تو یہ شخص باندی سے نکاح کر سکتا ہے، لیکن یاد رکھنا اس شخص کی جو بھی اولاد ہو گی وہ اس باندی کے مالک کے غلام اور باندیاں ہوں گے۔ خاوند تو آزاد ہے لیکن ماں کیا ہے؟ باندی۔ تو جس کی یہ باندی ہے بچے بھی اسی کے غلام یا باندیاں شمار ہوں گے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ باندی کے ساتھ جب کوئی شخص نکاح کرتا ہے تو وہ اپنے جز کو یعنی اپنی اولاد کو غلامی پر پیش کر رہا ہے، اپنی اولاد کو وہ غلام بنا رہا ہے کیونکہ جو اولاد پیدا ہو گی وہ ساری کیا ہو گی؟ غلام ہو گی۔ تو لہٰذا یہ اپنے جز کو، اپنی اولاد کو غلامی پر پیش کرنا ہے۔ لہٰذا قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے باندی کے ساتھ نکاح سرے سے آزاد کے لیے جائز ہی نہیں ہونا چاہیے۔ آزاد آدمی کے لیے تو باندی سے نکاح سرے سے جائز ہی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس کے اندر اپنے جز کو غلام بنانا ہے بھئی، اپنے جز کو گویا ہلاکت میں ڈال رہا ہے کیونکہ غلام جو ہے اس کو تو کسی قسم کے تصرفات کا حق نہیں ہوتا، وہ تو جیسے ایک بے جان چیز ہے اس کو بیچا جاتا ہے اور خریدا جاتا ہے بھئی۔ تو گویا جب باندی سے کوئی شخص نکاح کر رہا ہے تو اپنے ہی جز کو غلامی پر پیش کر رہا ہے یعنی ہلاکت پر پیش کر رہا ہے، اپنے جز کو ہلاک کر رہا ہے گویا، کیونکہ آزادی کے بغیر کوئی زندگی نہیں بھئی۔ تو لہٰذا قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے، عقل تو یہ کہتی ہے کہ باندی سے نکاح جائز ہی نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن شریعت نے اجازت دے دی ضرورت کی وجہ سے، کیونکہ ضابطہ کیا ہے؟ "الضرورة تبيح المحظورات"، تو ضرورت کی وجہ سے شریعت ممنوع چیزوں کو بھی جائز قرار دے دیتی ہے۔ تو یہاں ضرورت کی وجہ سے ایک شخص ہے اس کے پاس مال نہیں ہے، وہ آزاد عورت سے نکاح نہیں کر سکتا، بڑا غریب ہے، تو شریعت نے کہا چلو اگر آزاد عورت سے نکاح نہیں کر سکتے تو پھر کس سے نکاح کر لو؟ باندی سے نکاح کر لو۔ تو حاصلِ دلیل کیا ہوا؟ ان کی دلیل امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک: باندی سے نکاح جائز ہی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس میں غلامی پر اپنے جز کو پیش کرنا ہے، لیکن شریعت نے اجازت دی کس بنا پر؟ ضرورت کی بنا پر۔ یہ معنی ہے دیکھیے، کہتے ہیں: لأنّ جواز نكاح الإماء ضروريٌّ عنده، اس لیے کیونکہ باندیوں سے نکاح کا جائز ہونا یہ ضرورت کی بنا پر ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک، لما فيه من تعريض الجزء على الرّقّ، کیونکہ اس کے اندر اپنے جز کو یعنی اپنی اولاد کو پیش کرنا ہے علی الرق غلامی پر، تو یہ ضرورت کی بنا پر اجازت دی گئی ہے، وقد اندفعت الضّرورة بالمسلمة، اور تحقیق ضرورت پوری ہو گئی بالمسلمة مسلمان باندی کے ذریعے، ضرورت مسلمان باندی سے پوری ہو گئی لہٰذا اہلِ کتاب باندی سے نکاح کی اجازت نہیں ہو گی۔ ولهذا جعل طَوْل الحرّة مانعًا منه، ولهذا اور اسی وجہ سے جعل امام شافعی رحمہ اللہ نے قرار دیا ہے، جعل کا کیا معنی کرنا ہے؟ قرار دیا ہے، ولهذا اور اسی وجہ سے جعل امام شافعی رحمہ اللہ نے قرار دیا ہے طَوْل الحرّة کہ آزاد عورت پر قدرت ہونا مانعًا منه یہ مانع ہے باندی سے نکاح سے۔ آزاد عورت پر جب قدرت آپ کو حاصل ہے تو یہ مانع بن جائے گا اب آپ باندی سے نکاح نہیں کر سکتے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ولهذا جعل طَوْل الحرّة مانعًا منه، اور اسی لیے امام شافعی رحمہ اللہ نے آزاد عورت پر قدرت کو مانع قرار دیا ہے اس باندی سے نکاح سے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ وعندنا الجواز مطلقٌ، اور ہمارے نزدیک یہ جواز مطلق ہے۔ باندیوں سے نکاح کو جو شریعت نے جائز قرار دیا ہے یہ اجازت مطلق ہے، اس میں باندی کے مسلمان ہونے کی قید نہیں ہے بھئی، تو باندی جو بھی ہو چاہے مسلمان ہو چاہے اہلِ کتاب، دونوں سے نکاح جائز ہے۔ وعندنا الجواز مطلقٌ اور ہمارے نزدیک باندیوں سے یہ جو نکاح کو جائز قرار دیا گیا ہے مطلقٌ یہ مطلق ہے، لإطلاق المقتضِي، کیونکہ مقتضی مطلق ہے۔ مقتضی؟ تقاضا کرنے والا۔ تقاضا کرنے والا یعنی وہ آیات، وہ دلیلیں جو باندی سے نکاح کے جواز کا تقاضا کرتی ہیں۔ وہ آیتیں یا احادیث جو باندی سے نکاح کے جواز کا تقاضا کرتی ہیں کہ باندی سے نکاح جائز ہونا چاہیے، وہ دلیلیں مطلق ہیں یعنی ان میں باندی کے مسلمان ہونے کی قید موجود نہیں ہے بھئی۔ اور وہ کیا دلیلیں ہیں؟ دیکھیے آپ کے حاشیے میں دی ہوئی ہیں دلیلیں بھئی۔ یہ لإطلاق المقتضِي پر حاشیہ دیا ہو گا، کہتے ہیں: وهو قوله تعالى، اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: "مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ"، "فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ"، کہ تم لوگ نکاح کر لو وہ عورتیں جو تمہیں پسند ہیں ان سے۔ اب دیکھو نساء کا لفظ عام ہے، نساء، نساء عورتوں کو کہتے ہیں، باندی بھی تو ایک عورت ہے بھئی، تو وہ بھی اس کے اندر داخل ہو گئی چاہے وہ مسلمان ہو چاہے اہلِ کتاب ہو۔ اسی طرح اللہ فرماتے ہیں: "وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ"، اور حلال کر دی گئیں تمہارے لیے ان کے علاوہ۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کا ذکر فرمایا جن سے نکاح حرام ہے، "حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ" بھئی، ان عورتوں کو اللہ نے ذکر فرمایا جن سے نکاح حرام ہے۔ اور پھر آگے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کے علاوہ عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں، اور ان کے علاوہ کے اندر باندیاں بھی آ گئیں، چاہے وہ مسلمان ہوں چاہے اہلِ کتاب ہوں، سب اس کے اندر داخل ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وعندنا الجواز مطلقٌ، اور ہمارے نزدیک باندی سے یہ جو نکاح کا جائز ہونا ہے یہ مطلق ہے، اس میں کسی قسم کی قید نہیں، لإطلاق المقتضِي، اس وجہ سے کہ مقتضی مطلق ہے، یعنی وہ وہ دلیلیں جو باندی سے نکاح کے جواز کا تقاضا کرتی ہیں، جن سے کیا پتہ چلتا ہے؟ کہ باندی سے نکاح جائز ہے، وہ مطلق ہیں، ان کے اندر کسی قسم کی قید موجود نہیں ہے کہ اہلِ کتاب باندی ہو تو اس سے نکاح نہیں کر سکتے، یہ قید کسی جگہ موجود نہیں ہے بھئی۔ تفصیلِ کلام یاد رکھو۔ بھئی دیکھیے امام شافعی رحمہ اللہ نے دلیل ذکر فرمائی تھی، وہ کیا فرماتے ہیں کہ مسلمان باندی سے نکاح جائز ہے، اہلِ کتاب باندی سے نکاح جائز نہیں۔ دلیل ان کی آیت میں نے ذکر کر دی: "وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا أَنْ يَنْكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِنْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ"، اور جو شخص تم میں سے قدرت نہیں رکھتا کہ وہ پاک دامن مسلمان عورتوں سے نکاح کر لے، تو پھر جس کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہیں یعنی تمہاری مومنہ باندیاں، ان سے کیا کر سکتا ہے؟ نکاح کر سکتا ہے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دیکھو آیت میں کیا آیا؟ جو تم میں سے آزاد عورت سے نکاح کی استطاعت نہیں رکھتا، یہ شرط ذکر ہوئی ہے باندی سے نکاح کے لیے۔ اور جب کسی حکم کو کسی شرط کے ساتھ معلق کر دیا جائے تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ جہاں شرط ہو گی وہاں وہ حکم آئے گا، جہاں شرط نہیں وہاں حکم بھی نہیں۔ باندی سے نکاح کے لیے کیا شرط ذکر کی شریعت نے؟ جو تم میں سے آزاد عورت سے نکاح نہیں کر سکتا، معلوم ہوا جس میں استطاعت نہیں ہو گی اس کے لیے باندی سے نکاح جائز ہو گا۔ معلوم ہوا جس میں آزاد عورت سے نکاح کی استطاعت موجود ہے اس کے لیے باندی سے نکاح جائز نہیں ہے۔ ہم اس کا جواب دیتے ہیں، ہم اس کا جواب دیتے ہیں کہ ہمارے نزدیک مفہومِ مخالف معتبر نہیں۔ یاد رکھو احناف کا بڑا قیمتی ضابطہ ہے بھئی، عند الاحناف مفہومِ مخالف معتبر نہیں۔ آیت میں کیا ذکر ہوا؟ کہ جو تم میں سے آزاد عورت کی استطاعت نہیں رکھتا وہ کس سے نکاح کر لے؟ باندی سے نکاح کر لے، اس کا مفہومِ مخالف یہ بنتا ہے کہ جو استطاعت رکھتا ہے وہ باندی سے نکاح نہیں کر سکتا، لیکن یہ ہمارے نزدیک معتبر نہیں۔ ہمارے نزدیک مفہومِ مخالف معتبر نہیں۔ ہم کہتے ہیں آیت میں صرف اتنا ذکر کیا گیا کہ جس میں استطاعت نہیں ہے وہ باندی سے نکاح کر لے۔ جن میں استطاعت ہے ان کو تو آیت میں ذکر ہی نہیں کیا گیا۔ ہم کیا کہتے ہیں؟ جن میں استطاعت ہے ان کے بارے میں آیت خاموش ہے، صرف ان کے بارے میں آیت نے بتلایا جن میں استطاعت نہیں ہے، وہ کیا کر سکتے ہیں؟ باندی سے نکاح کر سکتے ہیں، تو جن کے اندر استطاعت ہے ان کے بارے میں آیت خاموش ہے۔ احناف مفہومِ مخالف لینے کے بجائے پھر اور نصوص میں غور کرتے ہیں، دوسری جگہ دیکھتے ہیں کہ اس کا کیا حکم ہے۔ جس شخص میں آزاد عورت سے نکاح کی قدرت نہیں ہے اس کے لیے تو باندی سے نکاح جائز ہے، اور جس کے اندر قدرت ہو اس کے لیے جائز ہے یا جائز نہیں؟ اس کے لیے پھر ہم مفہومِ مخالف نہیں نکالیں گے بلکہ ہم اور نصوص میں غور کریں گے۔ چنانچہ ہم نے اور نصوص میں غور کیا تو وہاں سے پتہ چلا کہ جس میں قدرت ہو اس کے لیے بھی باندی سے نکاح جائز ہے۔ مثلاً قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: "فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ"، پس تم نکاح کرو ان عورتوں سے جو تمہیں پسند ہوں۔ اب اس میں نساء کے ساتھ نکاح کی اجازت دی گئی، اور باندیاں بھی تو نساء ہیں، وہ بھی تو عورتیں ہیں، تو وہ بھی اس کے اندر داخل ہیں۔ معلوم ہوا جس میں قدرت ہو وہ بھی باندی سے نکاح کر سکتا ہے کیونکہ یہاں پر کوئی قید نہیں ہے قدرت اور عدمِ قدرت کی۔ اور نیز دوسری جگہ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: "وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ"، پیچھے محرمات کا ذکر تھا، آگے اللہ فرماتے ہیں: "وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ"، ان کے علاوہ جو اور عورتیں ہیں وہ تمہارے لیے حلال ہیں، اور ان کے علاوہ عورتوں میں باندیاں بھی آ گئیں، وہ بھی آ گئیں، معلوم ہوا وہ بھی کیا ہیں؟ حلال ہیں، انسان ان سے نکاح کر سکتا ہے۔ تو حاصلِ کلام کیا ہوا؟ کہ عند الاحناف مفہومِ مخالف معتبر نہیں ہے، احناف مفہومِ مخالف نہیں لیتے بلکہ باقیوں کے حکم کا پتہ چلانے کے لیے احناف اور نصوص میں غور کرتے ہیں، کہ اور جگہ دیکھتے ہیں کہ جس کا ذکر نہیں کیا گیا اس کا کیا حکم ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو ہمارے نزدیک مفہومِ مخالف معتبر نہیں ہے، جبکہ شوافع کے نزدیک مفہومِ مخالف معتبر ہے، وہ کہتے ہیں جب ایک حکم کو ایک شرط کے ساتھ معلق کر دیا جائے تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ جہاں وہ شرط ہو گی تو وہ حکم ہو گا، جہاں شرط نہیں تو حکم بھی نہیں، جبکہ ہم کہتے ہیں نہیں، ہمارے نزدیک مفہومِ مخالف معتبر نہیں ہے بھئی۔ ہم اور آیات میں غور کرتے ہیں وہ مطلق ہیں، وہاں اس قسم کی کوئی قید موجود نہیں ہے۔ نیز امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دیکھیے اسی آیت میں ہے: "فَمِنْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ"، جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہیں یعنی کہ تمہاری مومنہ باندیاں۔ یہاں باندیوں کے ساتھ مومنہ کی قید موجود ہے، معلوم ہوا مومنہ باندیوں کے ساتھ نکاح جائز ہے، غیر مومنہ کے ساتھ نکاح جائز نہیں ہے بھئی۔ تو ہم کہتے ہیں کہ مفہومِ مخالف ہمارے نزدیک معتبر نہیں۔ اس آیت میں صرف اتنا ذکر ہے کہ مومنہ باندی سے نکاح کر سکتے ہو۔ اہلِ کتاب سے کر سکتے ہو یا نہیں کر سکتے، اس بارے میں یہ آیت خاموش ہے۔ یا یوں کہیں ہم یوں کہتے ہیں کہ ہر قید احترازی نہیں ہوتی، یہ قید احترازی نہیں ہے یہ قید اتفاقی ہے۔ یہ کیا ہے؟ قیدِ اتفاقی ہے، یعنی یہاں اولویت اور افضلیت کو بیان کیا جا رہا ہے، کہ اولیٰ یہ ہے کہ باندی سے نکاح کرنا ہی ہے تو کس سے کر لو؟ مومنہ باندی سے کر لو یہ اولیٰ ہے۔ تو صفت کو بعض اوقات اس لیے ذکر کیا جاتا ہے اولویت اور افضلیت کو بیان کرنے کے لیے، جیسے ابھی گزشتہ سبق میں آیا تھا: "وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ"، وہ جو پاک دامن عورتیں ہیں اہلِ کتاب میں سے، اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کوئی اہلِ کتاب بدکار عورت ہے، اس سے کوئی مسلمان نکاح کرنا چاہتا ہے تو اس سے بھی نکاح بالاتفاق منعقد ہو جائے گا بھئی، حالانکہ آیت میں تو کیا ذکر ہے؟ محصنات، پاک دامن عورت، لیکن میں نے بتلایا یہ قید کس لیے ذکر ہے؟ یا تو عادۃً ایسا ہوتا ہے کہ انسان پاک دامن عورت سے نکاح کرتا ہے، اس لیے یہ ذکر کی گئی ہے قید، یا یہ اولویت کو بتلانے کے لیے کہ اولیٰ یہ ہے نکاح کرنا ہی ہے اہلِ کتاب ہے تو پھر کون سی عورت ہونی چاہیے؟ پاک دامن ہونی چاہیے۔ تو یہاں پر بھی جو مومنات کی قید آئی: "مِنْ فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ"، یہاں بھی جو مومنات کی قید ہے یہ اولویت کو بیان کرنے کے لیے ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو حاصلِ کلام کیا ہوا؟ امام شافعی رحمہ اللہ کے دو ضابطے میں نے ذکر کر دیے، ان کے نزدیک جب ایک حکم کی تخصیص آ جائے ایک وصف کے ساتھ، ایک حکم کی تخصیص آ جائے ایک وصف کے ساتھ، تو جہاں وہ وصف نہیں ہو گا وہاں وہ حکم بھی نہیں ہو گا، یعنی ما عدا سے اس کی نفی ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے نکاح کی اجازت دی ہے کن باندیوں سے؟ مومنہ باندیوں سے، تو مومنہ کی قید ہو گی تو نکاح کی بھی اجازت ہو گی، اور جہاں مومنہ کی قید نہیں باندی کے اندر وہاں نکاح کی بھی اجازت نہیں ہو گی۔ نیز اللہ تعالیٰ نے اس باندی کے ساتھ نکاح کی اجازت کو معلق فرمایا ہے آزاد عورت سے نکاح کی عدمِ قدرت پر، جو شخص آزاد عورت سے نکاح نہیں کر سکتا وہ کیا کر لے؟ باندی سے نکاح کر لے۔ ہم کیا جواب دیتے ہیں؟ ہم جواب دیتے ہیں کہ مفہومِ مخالف ہمارے نزدیک معتبر نہیں۔ اس آیت میں ان لوگوں کا تو ذکر ہے جن میں استطاعت نہ ہو، جن میں استطاعت ہو ان کا اس آیت میں کوئی ذکر نہیں ہے، ان کے بارے میں یہ آیت خاموش ہے۔ اور ہم نے دیگر آیات کے اندر غور کیا وہ ساری مطلقہ ہیں، وہاں کسی قسم کی کوئی قید ذکر نہیں، معلوم ہوا قدرت کے باوجود بھی کوئی شخص باندی سے نکاح کرنا چاہتا ہے، نکاح کر سکتا ہے۔ اور باندی مسلمان نہ ہو اہلِ کتاب ہو تب بھی مسلمان اس سے نکاح کر سکتا ہے؛ کیونکہ یہ جو وصف ہے ہمارے نزدیک وصف کے ذکر سے حکم میں تخصیص نہیں آتی بلکہ وصف کو کبھی کبھار اولویت کو بیان کرنے کے لیے بھی ذکر کر دیا جاتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وعندنا الجواز مطلقٌ، ہمارے نزدیک باندیوں سے نکاح کا جائز ہونا یہ مطلق ہے، لإطلاق المقتضِي، اس لیے کیونکہ وہ آیتیں جو باندی سے نکاح کے جواز کا تقاضا کرتی ہیں، یہ ترجمہ یاد رکھنا: لإطلاق المقتضِي، کہ وہ دلیل جو باندی سے نکاح کے جواز کا تقاضا کرتی ہیں، جن سے کیا پتہ چلتا ہے کہ باندی سے نکاح جائز ہے، وہ مطلق ہیں، ان کے اندر کسی قسم کی قید موجود نہیں ہے کہ اہلِ کتاب باندی ہو تو اس سے نکاح نہیں کر سکتے، یہ قید کسی جگہ موجود نہیں ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: وفيہ امتناعٌ عن تحصيل الجزء الحرّ لا إرقاقه، یہاں سے امام شافعی رحمہ اللہ کے قیاس کا جواب دے رہے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا تھا کہ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ باندی سے نکاح جائز ہی نہیں ہونا چاہیے، عقل تو یہ کہتی ہے، کیوں؟ کیونکہ اس میں اپنے جز کو غلامی پر پیش کرنا ہے۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ یوں نہ کہیں جز کو غلامی پر پیش کرنا ہے۔ باندی سے نکاح کرو گے تو گویا اپنے جز کو غلامی پر، اپنی اولاد کو غلامی پر پیش کرنا ہے، یوں نہ کہو، بلکہ یوں کہو کہ یہ شخص آزاد اولاد کے حاصل کرنے سے رک گیا۔ آزاد اولاد کے حاصل کرنے سے یہ شخص آزاد اولاد کے حاصل کرنے سے رک گیا ہے بھئی۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے کیا فرمایا تھا؟ کہ اپنے جز کو غلامی پر پیش کر رہا ہے۔ ہم کہہ رہے ہیں کہ یوں نہ کہیں اپنے جز کو غلامی پر پیش کر رہا ہے، اس لیے کیونکہ ابھی تو جز ہی نہیں ہے، ابھی تو اولاد ہی نہیں ہوئی، اولاد ہو تو پھر ہم کہیں گے یہ اولاد کو کس پر پیش کر رہا ہے؟ جز پر پیش کر رہا ہے، بلکہ یوں کہیں کہ یہ جزِ حر، جزِ حر آزاد جز، جزِ حر کی تحصیل سے رک رہا ہے۔ یہ شخص جزِ حر آزاد، یوں کہو یہ شخص آزاد جز کی تحصیل سے رک رہا ہے۔ اور یہ شخص سرے سے اولاد کے حصول سے ہی رک جائے، اس کی بھی شریعت نے اس کو اجازت دی ہے، تو جب اولاد سے رکنے کی اس کو اجازت ہے تو وصف سے رکنے کی بطریقِ اولیٰ اس کو اجازت ہو گی۔ بھئی ایک صورت یہ ہے نا اولاد سے ہی انسان رک جائے، نکاح تو کر لیا ہے لیکن کوئی ایسا طریقہ اختیار کرے کہ جس سے اولاد ہی آگے نہ ہو، تو شریعت نے اس کو اجازت دی ہے، وہ کر سکتا ہے۔ بلکہ ایک شخص ایک بوڑھی عورت سے نکاح کرتا ہے جس سے آگے اولاد کی کوئی امید ہی نہیں، تو دیکھو یہ شخص بھی اولاد کی تحصیل سے رک گیا۔ یا ایک شخص ایک ایسی عورت سے نکاح کرتا ہے جو بانجھ ہے، جو اولاد کو جنم دینے کے قابل ہی نہیں بھئی کسی مرض وغیرہ کی وجہ سے، تو وہ بھی جائز ہے۔ تو جب اولاد کے حصول سے رکنا اس شخص کے لیے جائز ہے، تو آزاد اولاد یعنی وصفِ آزاد کے وصف کے حصول سے رکنا بطریقِ اولیٰ اس کے لیے جائز ہو گا۔ دلیل بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں؟ امام شافعی رحمہ اللہ نے کیا فرمایا تھا؟ کہ اپنے جز کو غلامی پر پیش کرنا ہے۔ ہم کہتے ہیں نہیں، ابھی اولاد ہی نہیں تو غلامی پر پیش کرنے کا کیا معنی؟ بلکہ یہ شخص آزاد جز کی تحصیل سے رک رہا ہے۔ اور جب یہ شخص اولاد کی تحصیل سے رک سکتا ہے تو آزاد اولاد کی تحصیل سے بطریقِ اولیٰ رک سکتا ہے۔ بھئی دیکھیے، صاحبِ ہدایہ اس کو اور بہترین الفاظ میں بیان کریں گے، کہتے ہیں: وفيہ امتناعٌ عن تحصيل الجزء الحرّ، اور اس کے اندر یعنی یہ جو باندی کے ساتھ نکاح کرے گا، اس کے اندر امتناعٌ باز رہنا ہے، رک جانا ہے، عن تحصيل الجزء الحرّ آزاد جز کے حاصل کرنے سے۔ باندی سے نکاح کرے گا تو آزاد جز کے حاصل کرنے سے رک جائے گا، لا إرقاقه، اس میں جز کو غلام بنانا نہیں ہے۔ یوں نہ کہیں کہ جز کو غلامی پر پیش کر رہا ہے، جز کو غلام بنا رہا ہے، نہیں، یوں نہ کہیں جز کو غلام بنا رہا ہے، بلکہ یہ آزاد اولاد کے حصول سے رک رہا ہے بھئی۔ وله أن لا يحصّل الأصل فيكون له أن لا يحصّل الوصف، اور اس شخص کے لیے جائز ہے کہ یہ اصل کو ہی حاصل نہ کرے، اولاد ہی سرے سے حاصل نہ کرے، بانجھ عورت سے نکاح کر لے یا کوئی ایسا طریقہ اختیار کرے جس سے آگے اولاد ہی نہ ہو۔ دیکھو ایک ہے اصل، ایک ہے وصف۔ اولاد کیا ہے؟ اصل، اور اولاد کے اندر آزادی یہ ہے اولاد کا وصف۔ توجہ ہے؟ تو جب اس شخص کے لیے اصل یعنی اولاد سے رکنا جائز ہے، تو اس کے وصفِ آزادی سے رکنا بطریقِ اولیٰ اس کے لیے جائز ہو گا۔ یہ معنی ہے: وله أن لا يحصّل الأصل، اور اس شخص کے لیے جائز ہے کہ وہ اصل یعنی اولاد ہی کو حاصل نہ کرے، فيكون له أن لا يحصّل الوصف، تو اس کے لیے یہ بھی جائز ہو گا کہ وصف یعنی آزادی کو بھی حاصل نہ کرے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: ولا يتزوّج أمةً على حرّةٍ، اور کوئی شخص نکاح نہیں کر سکتا باندی سے على حرّةٍ آزاد عورت پر۔ بھئی ادھر دیکھیے، ہمارے نزدیک جس میں استطاعت ہو وہ بھی باندی سے نکاح کر سکتا ہے، اور نیز مسلمان باندی سے بھی نکاح کر سکتا ہے اور اہلِ کتاب باندی سے بھی نکاح کر سکتا ہے۔ ہاں ایک شرط ہے: اس شخص کے عقد میں پہلے سے کوئی آزاد عورت نہیں ہونی چاہیے۔ یعنی اس کے عقد میں اگر آزاد عورت موجود ہے اور اس کے بعد وہ ایک باندی سے نکاح کرنا چاہتا ہے، نہیں، اس کی اجازت نہیں ہے بھئی۔ وجہ یہ کہ یہ جو سوکن ہوتی ہے یہ عورت کے لیے، بیوی کے لیے تکلیف کا باعث ہوتی ہے بھئی، اور پھر اگر یہ سوکن باندی بھی ہو پھر تو یہ اس کے لیے بہت بڑے عیب اور طعنے کا باعث بن جائے گی۔ آزاد عورت اس کا تو بڑا اونچا مقام ہے بھئی، اس کو تو اللہ نے بڑا شرف بخشا ہے، وہ آزاد ہے، اس کے اختیارات اللہ تعالیٰ نے دیے ہیں، وہ صاحبِ تصرف ہے، جبکہ باندی جو ہے اس کے تو کوئی تصرفات کا اختیار نہیں ہوتا، میں نے بتایا وہ تو بے جان چیز کی طرح ہے اس کو بیچا جاتا ہے خریدا جاتا ہے، تو آزاد عورت کی بڑی اونچی شان ہے۔ تو آزاد عورت کے اوپر جب سوکن لائیں گے اس سے اس کو تکلیف ہو گی، لیکن اگر باندی لے کر آئیں گے یہ تو بہت ہی زیادہ اس کے لیے تکلیف کا باعث ہو گی، یعنی آپ نے اس کی انتہا درجے کی اہانت کر دی کہ اس جیسی اعلیٰ عورت کے ہوتے ہوئے آپ اس کے اوپر ایک ادنیٰ سی عورت کو لے آئے۔ یہ تو اس کے لیے عیب اور طعنوں کا باعث بنے گا، ساری عورتیں اس کو طعنے دیں گی: تمہاری کیا حیثیت ہے؟ تمہارے اوپر تو خاوند باندی کو لے آیا ایک۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا اس لیے شریعت نے اجازت نہیں دی کہ آزاد عورت کا مقام بڑا اونچا ہے، وہ جب تمہارے نکاح میں ہے تو اس کے اوپر تم باندی کے ساتھ نکاح نہیں کر سکتے۔ ہاں اگر تمہارے نکاح میں کوئی عورت نہیں ہے تو پھر تم چاہے آزاد سے نکاح کرو چاہے باندی سے نکاح کرو۔ تو کہتے ہیں: ولا يتزوّج أمةً على حرّةٍ، اور نکاح نہیں کر سکتا کوئی شخص کسی باندی سے علی حرۃ آزاد عورت کے اوپر یعنی کہ وہ پہلے سے نکاح میں موجود ہو، لقوله عليه الصّلاة والسّلام، حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے آپ نے فرمایا: "لا تُنْكَحُ الأَمَةُ عَلَى الْحُرَّةِ"، نکاح نہیں کیا جا سکتا باندی سے علی حرۃ آزاد عورت پر۔ باندی سے آزاد عورت پر نکاح نہیں کیا جا سکتا۔ اب دیکھو یہ حدیث مطلق ہے۔ یہ حدیث مطلق ہے، اس میں کسی قسم کی قید نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا آگے مذہب ذکر فرمائیں گے، وہ فرماتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ غلام ایسا کر سکتا ہے۔ غلام کے عقد میں آزاد عورت ہے، بھئی غلام کو بھی تو نکاح کی اجازت ہے، اب ایک آزاد عورت تیار ہو گئی: ٹھیک ہے میں تمہارے ساتھ نکاح کر لیتی ہوں، اور اس غلام کے آقا نے اجازت دے دی کہ ہاں بھئی تم اس عورت سے نکاح کرنا چاہو تو کر سکتے ہو۔ اب اس غلام نے اس آزاد عورت سے نکاح کر لیا، اب وہ غلام ایک اور باندی سے نکاح کرنا چاہتا ہے، تو اس کے نکاح میں آزاد عورت موجود ہے۔ عند الاحناف اب اس کے لیے باندی سے نکاح کی گنجائش نہیں ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہیں، یہ غلام ہے، اس کے لیے باندی سے نکاح جائز ہے۔ آزاد کے ہونے کے باوجود اس کے لیے باندی سے نکاح جائز ہے۔ بھئی وہ آیت امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل تھی۔ امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ آیت کے اندر کیا ذکر تھا کہ جو تم میں سے آزاد عورت کے قدرت نہیں رکھتا وہ باندی سے نکاح کر لے، معلوم ہوا باندی سے نکاح ضرورت کی وجہ سے ہے، اور کب اجازت دی شریعت نے؟ جب اس کو آزاد عورت سے نکاح پر قدرت نہ ہو۔ اور قدرت کا ہونا یا نہ ہونا اس کا تصور آزاد آدمی میں ہو سکتا ہے، غلام میں نہیں بھئی۔ آزاد آدمی کے پاس مال تھوڑا ہو گا یا زیادہ ہو گا، قدرت ہو گی یا قدرت نہیں ہو گی، غلام تو کسی چیز کا مالک ہوتا ہی نہیں، اس کے پاس تو ایک روپیہ بھی ہے وہ اس کے آقا کا ہے وہ اس کا مالک ہی نہیں ہے، تو غلام کے اندر قدرت یا عدمِ قدرت کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا باندی سے جو نکاح کی اجازت دی گئی، آزاد آدمی کو وہ ضرورت کی وجہ سے ہے، لیکن غلام کے لیے ویسے ہی جائز ہے۔ غلام کے لیے ویسے ہی جائز ہے کیونکہ یہاں قدرت اور عدمِ قدرت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور نیز باندی کے اندر تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ انسان اپنے جز کو غلامی پر پیش کر رہا ہے، اپنی اولاد کو غلامی پر پیش کر رہا ہے، اس لیے اس کی اجازت نہیں ہے ضرورت کی وجہ سے اجازت ہے۔ جبکہ غلام کے اندر تو یہ مانع بھی موجود نہیں ہے، غلام تو خود ہی سارا غلام ہے۔ تو جز کو غلامی پر پیش کرنے کا کیا معنی؟ جب خود غلام ہے تو جز یقیناً کیا ہو گا؟ غلام ہی ہو گا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ لہٰذا غلام کے بارے میں وہ فرماتے ہیں کہ غلام جو ہے وہ باندی سے نکاح کر سکتا ہے اور اگر اس کے عقد میں پہلے سے آزاد عورت ہو پھر بھی وہ باندی سے نکاح کر سکتا ہے۔ تو دیکھیے، کہتے ہیں لقوله عليه السلام ہماری دلیل حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: "لا تُنْكَحُ الأَمَةُ عَلَى الْحُرَّةِ"، نکاح نہیں کیا جا سکتا باندی سے آزاد عورت پر، وهو بإطلاقه حجّةٌ على الشّافعيّ رحمه الله تعالى، اور یہ حدیث اپنے اطلاق کی وجہ سے حجت ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف۔ یہ مطلق ہے، اس میں کوئی قید نہیں ہے کہ اگر آزاد ہو تو وہ نکاح نہیں کر سکتا، اور غلام ہو تو وہ نکاح کر سکتا ہے، نہیں، مطلق ہے بھئی، چاہے غلام ہو آزاد ہو سب کا یہی حکم ہے کہ آزاد عورت پر باندی سے نکاح نہیں کیا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں: وهو بإطلاقه حجّةٌ على الشّافعيّ رحمه الله اور یہ حدیث اپنے اطلاق کی وجہ سے حجت ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف، في تجويز ذلك للعبد، اس کو غلام کے اندر جائز قرار دینے میں۔ جوّز يجوّز تجويز کا کیا معنی؟ جائز قرار دینا۔ في تجويز ذلك اس کو جائز قرار دینے میں للعبد غلام کے لیے۔ امام شافعی رحمہ اللہ غلام کے لیے یہ جائز قرار دیتے ہیں کہ وہ آزاد عورت کے ہونے کے باوجود باندی سے نکاح کر سکتا ہے، لیکن ہم نے کہا نہیں یہ حدیث مطلق ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: وعلى مالكٍ رحمه الله، اور یہی حدیث اپنے اطلاق کی وجہ سے امام مالک رحمہ اللہ کے خلاف بھی دلیل ہے، في تجويزه برضا الحرّة، ادھر دیکھیے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آزاد عورت کے اوپر باندی کا لانا منع ہے، آزاد عورت پہلے سے نکاح میں ہے تو اس کے اوپر باندی سے نکاح منع ہے، اور یہ جو ممانعت ہے یہ اس آزاد عورت کے حق کی وجہ سے ہے۔ یہ کس کا حق ہے؟ یہ آزاد عورت کا حق ہے وہ اپنے اوپر باندی کو نہ آنے دے۔ لہٰذا یہ جو شریعت نے منع کیا ہے یہ اس پہلی بیوی کے حق کی وجہ سے ہے۔ اب اگر وہ اجازت دے دے تو پھر نکاح کر سکتا ہے باندی سے بھی۔ اگر بیوی اجازت دے دے تو پھر باندی سے بھی نکاح کر سکتا ہے۔ ہم کہتے ہیں نہیں، اس حدیث کے اندر مطلق ذکر ہے کہ آزاد عورت پر باندی کو نہیں لا سکتا بھئی، اس میں کوئی ذکر نہیں ہے کہ اگر وہ اجازت دے دے تو پھر لا سکتے ہو، اجازت نہ دے تو نہیں لا سکتے۔ تو یہ حدیث مطلق ہے، اس میں کسی قسم کی کوئی اجازت کی قید نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: وعلى مالكٍ رحمه الله تعالى، اور یہ حدیث امام مالک رحمہ اللہ کے خلاف بھی حجت ہے، في تجويزه اس میں کہ وہ جائز قرار دیتے ہیں برضا الحرّة آزاد عورت کی رضامندی سے، وہ آزاد عورت کی رضامندی سے اس کو جائز قرار دیتے ہیں، ان کے خلاف بھی یہ حدیث حجت ہے۔ ولأنّ للرّقّ أثرًا في تنصيف النّعمة، یہ تو عقلی دلیل ذکر کر دی، اور اب آگے صاحبِ ہدایہ عقلی دلیل یعنی قیاس ذکر فرما رہے ہیں۔ قیاس کس کو کہتے ہیں؟ عقلی دلیل، کہ حدیث سے بھی پتہ چلا اس مسئلے کا، حدیث میں بھی اسی طرح ہے اور عقل بھی یہی کہتی ہے، تو اس کو یہ قیاس ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ دلیل سمجھ لو بھئی، دلیل سمجھ لو۔ صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ یہ جو غلامی ہے غلامی، اس کی وجہ سے احکامِ شریعت کے اندر تنصیف آ جاتی ہے۔ احکامِ شریعت میں تنصیف آ جاتی ہے، وہ احکام نصف ہو جاتے ہیں یعنی ان میں کمی آ جاتی ہے۔ مثلاً دیکھو آزاد عورت کی عدت تین حیض ہے اور باندی کی عدت دو حیض ہے، کیونکہ باندی کی عدت نصف ہونی چاہیے، تو ہونا تو ڈیڑھ حیض چاہیے تھا لیکن حیض کی تقسیم نہیں ہو سکتی، پتہ ہی نہیں چل سکتا کس وقت آدھا ہوا ہے اور کس وقت آدھا نہیں ہوا، تو لہٰذا اس آدھے حیض کو بھی پورا شمار کیا گیا تو دو حیض۔ آزاد عورت کی عدت تین حیض اور باندی کی عدت؟ دو حیض۔ اسی طرح آزاد عورت کی تین طلاقیں ہوتی ہیں اور باندی کی دو طلاقیں ہیں۔ ہونی تو ڈیڑھ طلاق چاہیے تھی لیکن طلاق کی تنصیف نہیں ہو سکتی، ایک طلاق کو آپ آدھا کر سکتے ہیں؟ نہیں، طلاق کا لفظ بولیں گے تو پوری ہی طلاق ہو گی، آدھی نہیں ہو سکتی، تو لہٰذا یہاں پر بھی ڈیڑھ طلاق چونکہ ممکن نہیں تھا تو دو طلاق پوری کر دی گئی۔ تو باندی کی طلاقیں کتنی ہیں زیادہ سے زیادہ؟ دو، اور آزاد عورت کی؟ تین۔ اسی طرح سزائیں ہیں بھئی سزائیں، سزاؤں کے اندر بھی تنصیف ہے۔ جہاں آزاد عورت پر زنا کی وجہ سے سو کوڑے آئیں گے، حدِ زنا کیا ہے؟ سو کوڑے، آزاد عورت یا آزاد مرد ہے غیر شادی شدہ وہ زنا کر لیں تو سو کوڑے لگائے جائیں گے۔ لیکن اگر غلام یا باندی یہ جرم کر لیں تو پھر ان کو پچاس کوڑے لگائے جائیں گے۔ تو سزاؤں کے اندر بھی تنصیف آ گئی۔ اسی طرح انعامات کے اندر بھی تنصیف آ جاتی ہے، جیسے آزاد آدمی چار نکاح کر سکتا ہے، کتنے؟ چار، لیکن غلام یاد رکھو دو نکاح کر سکتا ہے زیادہ سے زیادہ۔ ایک وقت میں دو عورتیں اس کے نکاح میں ہو سکتی ہیں اس سے زیادہ نہیں۔ جبکہ آزاد آدمی کے نکاح میں بیک وقت زیادہ سے زیادہ چار عورتیں ہو سکتی ہیں۔ تو معلوم ہوا غلامی کی وجہ سے احکام میں تنصیف ہوتی ہے، تو لہٰذا یہ جو باندی سے ایک آدمی نکاح کرنا چاہتا ہے، باندی محلِّ نکاح ہے۔ باندی کیا ہے؟ محل نکاح، محل نکاح ہے یا نہیں؟ شریعت نے اجازت دی ہے یا نہیں کہ اس سے نکاح کر سکتے ہو؟ جس سے نکاح کر سکتے ہو وہ محل نکاح ہے، تو باندی کیا ہے؟ محل نکاح، اور محل نکاح اس کا ہونا یہ اس کے لیے انعام ہے، اگر شریعت منع کر دیتی تو اس سے نکاح ہی نہ ہوتا، لیکن شریعت نے اجازت دے دی باندی سے بھی کیا کر سکتے ہو؟ نکاح۔ معلوم ہوا باندی بھی محل نکاح ہے اور اس کا محل نکاح ہونا اس پر شریعت کا انعام ہے۔ کیا ہے؟ شریعت کا انعام ہے، جیسے عام عورت جو ہے اس کے ساتھ شریعت نے نکاح کی اجازت دی ہے تو اس پر شریعت کا انعام ہے وہ کیا ہے؟ محل نکاح ہے۔ تو جیسے آزاد عورت محل نکاح، اسی طرح باندی بھی محل نکاح۔ لیکن غلامی کی وجہ سے اس انعام میں تنصیف ہو جائے گی، یہ انعام آدھا ہو جائے گا۔ آزاد عورت جو ہے اس سے تو آپ ہر وقت نکاح کر سکتے ہو، چاہے آپ کے عقد میں پہلے کوئی آزاد عورت ہو یا نہ ہو۔ یعنی دو حالتیں ہیں: ایک ہے حالتِ انفراد اور ایک ہے حالتِ اجتماع۔ حالتِ انفراد یعنی اکیلی، ایک ہی آزاد عورت سے آپ نکاح کر رہے ہیں تو آپ نکاح کر سکتے ہیں بھئی، توجہ ہے؟ یا ایک عورت یا دو عورتیں پہلے سے آپ کے عقد میں موجود ہیں، آپ ایک اور آزاد عورت سے نکاح کرنا چاہتے ہو تو بھی جائز ہے یعنی یہ حالتِ اجتماع ہو جائے گی، یہ عورت کیا ہو رہی ہے پہلی عورتوں کے ساتھ؟ جمع ہو رہی ہے آپ کے نکاح میں بھئی۔ تو جیسے حالتِ انفراد کے اندر آزاد عورت سے نکاح جائز ہے اسی طرح حالتِ اجتماع میں بھی آزاد عورت سے نکاح جائز ہے۔ تو دو حالتیں ہو گئیں، آزاد عورت کی کتنی حالتیں ہیں؟ دو: یا حالتِ انفراد میں نکاح ہو رہا ہو گا یا حالتِ اجتماع۔ حالتِ انفراد میں کیا معنی؟ یعنی پہلے سے اس خاوند کے عقد میں کوئی آزاد عورت نہیں ہے، اور حالتِ اجتماع کا کیا معنی؟ پہلے سے ایک آزاد عورت اس کے نکاح میں موجود ہے۔ تو آزاد عورت سے جب کوئی شخص نکاح کرنا چاہتا ہے تو حالتِ انفراد میں بھی کر سکتا ہے اور حالتِ اجتماع میں بھی کر سکتا ہے۔ تو آزاد عورت محل نکاح ہے دونوں حالتوں میں۔ لیکن باندی کے حق میں یہ انعام آدھا رہ جائے گا، صرف ایک حالت میں وہ محل نکاح ہو گی، دوسری حالت میں محل نکاح نہیں، اور وہ ہے انفراد کی حالت۔ انفراد کی حالت میں، یعنی جب یہ شخص یہ جو نکاح کرنے والا ہے، اس کے عقد میں پہلے سے کوئی آزاد عورت نہیں ہے اور باندی سے نکاح کرنا چاہتا ہے، تو حالتِ انفراد میں یہ باندی محل نکاح ہے، اس سے نکاح کر سکتا ہے۔ لیکن اگر اس شخص کے نکاح میں پہلے سے ایک عورت موجود ہے اب باندی سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو یہ کون سی حالت ہے؟ یہ حالتِ اجتماع، اور حالتِ اجتماع کے اندر یہ محل نکاح نہیں، اس سے نکاح کر ہی نہیں سکتا۔ کرے گا تو ہو گا ہی نہیں۔ یہ محل نکاح ہی نہیں ہے۔ تو آزاد عورت کی دو حالتیں اور دونوں میں وہ محل نکاح ہے، حالتِ انفراد میں بھی اور حالتِ اجتماع میں بھی، اور جبکہ باندی کے اندر تنصیف ہو گئی، یہ نعمت آدھی رہ گئی کہ وہ دو حالتوں میں سے صرف ایک حالت یعنی حالتِ انفراد میں تو محل نکاح ہے، اس سے نکاح ہو سکتا ہے، حالتِ اجتماع میں اس سے نکاح نہیں ہو سکتا وہ محل نکاح ہے ہی نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ جی، یہ ہے عقلی دلیل۔ دیکھیے بھئی: ولأنّ للرّقّ أثرًا في تنصيف النّعمة، اور اس لیے کیونکہ غلامی جو ہے اس کا اثر ہوتا ہے فی تنصیف النعمۃ، نعمت کے آدھا کرنے میں۔ نصّف ينصّف تنصيفًا کا کیا معنی؟ آدھا کرنا، یہ نصف سے ہے نصف ص سے۔ ولأنّ للرّقّ أثرًا في تنصيف النّعمة، اس لیے کیونکہ غلامی جو ہے اس کا اثر ہوتا ہے نعمت کے آدھا کرنے میں، على ما نُقرّره في الطّلاق، اس دلیل کی وجہ سے جو ہم ثابت کریں گے طلاق میں۔ آگے چل کر طلاق کے اندر صاحبِ ہدایہ ثابت کریں گے، دلیل دیں گے کہ باندی کے حق میں تنصیف ہوتی ہے، انعام آدھا رہ جاتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: على ما نُقرّره في الطّلاق إن شاء الله، اس وجہ سے جو ہم ثابت کریں گے طلاق کے اندر ان شاء اللہ تعالیٰ، فيثبت به حلّ المحلّيّة في حالة الانفراد، فيثبت به أي بالرق، یہ ہا ضمیر کس کو راجع ہے؟ رق کو۔ فيثبت به تو اس غلامی کے ذریعے ثابت ہو گا حلّ المحلّيّة اس محل کا حلال ہونا یعنی وہ باندی حلال ہو گی في حالة الانفراد انفراد کی حالت میں، دون حالة الانضمام نہ کہ انضمام کی حالت میں۔ میں نے دو حالتیں بتائیں: ایک انفراد اور ایک اجتماع۔ اجتماع کہہ لیں یا انضمام کہہ لیں۔ اجتماع کا معنی بھی اکٹھے ہونا، انضمام کا معنی بھی مل جانا، ملنا بھئی، اکٹھے ہونا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دو حالتیں ہیں: ایک حالتِ انفراد اور ایک حالتِ انضمام۔ حالتِ انفراد میں تو وہ محل نکاح ہے، حالتِ انضمام میں وہ محل نکاح نہیں ہے۔ یہ معنی ہے پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: فيثبت به حلّ المحلّيّة، تو اس محل کا حلال ہونا ثابت ہو گا غلامی کی وجہ سے اکیلے ہونے کی حالت میں، غلامی کی وجہ سے اس محل کا حلال ہونا یعنی اس باندی کا محل نکاح ہونا ثابت ہو گا في حالة الانفراد اکیلے ہونے کی حالت میں، دون حالة الانضمام نہ کہ ملنے کی حالت میں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور یاد رکھنا اسی حکم میں ہے اگر آزاد اور باندی سے کوئی شخص اکٹھا نکاح کرتا ہے۔ جیسے آزاد عورت کے اوپر باندی لانا منع، اسی طرح آزاد عورت کے ساتھ ملا کر باندی سے عقد کرنا، ایک ہی ایجاب اور قبول میں دونوں سے نکاح کرنا چاہتا ہے، نہیں بھئی، آزاد سے ہو جائے گا باندی سے نہیں ہو گا کیونکہ حالتِ انضمام میں یہ آزاد عورت کے ساتھ جب مل رہی ہے تو یہ محل نکاح ہی نہیں ہے، اس سے نکاح ہو ہی نہیں سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: ويجوز تزوّج الحرّة عليها، اور آزاد عورت کا نکاح جائز ہے علیھا اس باندی پر۔ اگر ایک شخص کے نکاح میں پہلے سے باندی موجود ہے اور اب وہ آزاد عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے، اب کر سکتا ہے کیونکہ ادنیٰ کے اوپر کس کو لا رہا ہے؟ اعلیٰ کو لا رہا ہے، لہٰذا اب کوئی ممانعت نہیں۔ تو کہتے ہیں: ويجوز تزوّج الحرّة عليها، اور جائز ہے آزاد عورت سے نکاح کرنا علیھا باندی پر، لقوله عليه الصّلاة والسّلام، بوجہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمانِ مبارک کے، آپ نے فرمایا: "وتُنْكَحُ الْحُرَّةُ عَلَى الأَمَةِ"، اور نکاح کیا جا سکتا ہے آزاد عورت سے علی الامۃ باندی پر، ولأنّها من المحلّلات في جميع الحالات، یہاں سے عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں اس لیے، ادھر دیکھیے، کیونکہ جیسے باندی محللہ ہے، اس سے نکاح کی شریعت نے اجازت دی ہے وہ حلال ہے۔ اسی طرح آزاد عورت بھی محللہ ہے، اس سے بھی شریعت نے نکاح کی اجازت دی ہے۔ لیکن باندی محللہ ہے دو حالتوں میں سے صرف ایک حالت میں کیونکہ تنصیف آ گئی غلامی کی وجہ سے، جبکہ آزاد عورت تمام احوال میں محللہ ہے کیونکہ یہاں پر غلامی موجود نہیں، کوئی ایسی چیز موجود نہیں جو تنصیف کر دے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جو اس انعام کو کیا کر دے؟ آدھا کر دے، یہاں پر ایسی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ولأنّها من المحلّلات في جميع الحالات، اس لیے کیونکہ یہ جو آزاد عورت ہے یہ محللات میں سے ہے یعنی ان کے ساتھ نکاح حلال ہے فی جمیع الحالات تمام حالات کے اندر، یعنی چاہے انفراد والی حالت ہو چاہے انضمام والی، إذ لا منصّف في حقّها، اس لیے کیونکہ اس آزاد عورت کے حق میں کوئی منصف نہیں ہے، کوئی چیز تنصیف کرنے والی، کوئی چیز حکم کو آدھا کرنے والی یہاں موجود نہیں ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: فإن تزوّج أمةً على حرّةٍ في عدّةٍ من طلاقٍ بائنٍ لم يجز عند أبي حنيفة رحمه الله ويجوز عندهما۔ صورتِ مسئلہ یہ: آپ نے مسئلہ پڑھ لیا کہ کوئی شخص جو ہے اس کے نکاح میں اگر آزاد عورت موجود ہے تو وہ اس کے اوپر باندی کو نہیں لا سکتا، باندی سے نکاح نہیں کر سکتا۔ اب ایک شخص ہے اس کے عقد میں ایک آزاد عورت موجود تھی، وہ اس آزاد عورت کو طلاق دے دیتا ہے طلاقِ بائن بھئی، اور اب اس عدت کے اندر اندر ہی وہ باندی کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا ہے، تو یاد رکھو اس میں صاحبین اور امام صاحب کا اختلاف ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس پہلی عورت کی عدت کے دوران بھی یہ اس باندی سے نکاح نہیں کر سکتا بھئی۔ وجہ یہ کہ طلاق کے بعد عدت کے اندر بھی نکاح کے کئی احکام باقی رہتے ہیں۔ عدت کا نفقہ بھی کس کو دینا پڑتا ہے؟ خاوند کو۔ اس عدت کے دوران خاوند اس عورت کو گھر سے باہر نکلنے سے منع بھی کر سکتا ہے، اور اس عدت کے دوران اگر یہ عورت بچے کو جنم دے گی تو وہ بھی اسی خاوند کا شمار ہو گا۔ تو معلوم ہوا طلاقِ بائن دینے کے باوجود ابھی بھی نکاح کے اثرات باقی ہیں جب تک عدت پوری نہیں ہو جاتی۔ لہٰذا اب اگر یہ باندی سے نکاح کرے گا تو گویا اس نے آزاد عورت کے اوپر باندی سے نکاح کر لیا اور اس سے تو شریعت نے منع کیا ہے۔ حدیث میں منع آیا ہے: آزاد عورت پر باندی سے نکاح نہیں کیا جا سکتا، تو یہ اب عدت کے اندر باندی سے نکاح نہیں کر سکتا، عدت جب گزر جائے پھر باندی سے نکاح کر لے۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ عدت کے اندر بھی باندی سے نکاح کر سکتا ہے، اس لیے کیونکہ پہلی بیوی کو یہ طلاقِ بائن دے چکا ہے۔ اب اگر یہ باندی کے ساتھ نکاح کرے گا تو یوں نہیں کہا جائے گا کہ یہ آزاد عورت پر باندی سے نکاح کر رہا ہے؛ کیونکہ آزاد عورت کو تو وہ طلاق دے چکا ہے۔ تو اب باندی سے نکاح کرے گا تو یہ آزاد عورت پر باندی سے نکاح نہیں کہلائے گا۔ اور آزاد عورت کے اوپر باندی کو لانا یہی تو حرام تھا بھئی۔ آزاد عورت کے اوپر باندی کو لانا ہی تو حرام تھا لیکن یہاں پر اب وہ طلاقِ بائن دے چکا ہے، اب باندی سے نکاح کرے گا تو آزاد عورت کے اوپر یہ باندی سے نکاح نہیں کہلائے گا، لہٰذا یہ نکاح جائز ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: فإن تزوّج أمةً على حرّةٍ في عدّةٍ من طلاقٍ بائنٍ، اگر نکاح کیا کسی باندی سے آزاد عورت پر في عدّةٍ من طلاقٍ بائنٍ اس عورت کی طلاقِ بائن کے اندر عدت کے اندر، لم يجز عند أبي حنيفة رحمه الله، تو یہ امام صاحب کے نزدیک جائز نہیں، ويجوز عندهما، اور صاحبین کے نزدیک جائز ہے، لأنّ هذا، صاحبین کے آگے دلیل آ گئی۔ یاد رکھو صاحبِ ہدایہ کا طریقہ یہ ہے کہ ہمارے ائمہ کے درمیان جب کسی مسئلے میں اختلاف آ جائے تو جو راجح مذہب ہوتا ہے اس کو پہلے ذکر فرماتے ہیں۔ کس کو؟ راجح۔ تو دیکھو یہاں پر بھی امام صاحب کا مذہب راجح ہے اس لیے وہ متن کے اندر پہلے مذکور ہے بھئی۔ اور جب دلائل بیان فرماتے ہیں تو جو مذہب راجح ہوتا ہے اس کے دلائل سب سے آخر میں ذکر فرماتے ہیں۔ دلائل سب سے آخر میں ذکر فرماتے ہیں تاکہ یہ اس مذہب کے دلائل بھی ہو جائیں اور باقی مذہبوں کے لیے جواب بھی بن جائے بھئی۔ باقی مذہب کی دلیلوں کا جواب بھی بن جائے، تو کیا طریقہ صاحبِ ہدایہ کا؟ جو مذہب راجح ہے وہ پہلے لاتے ہیں، جو مرجوح ہے وہ بعد میں لاتے ہیں، اور دلائل کے اندر مرجوح کے دلائل پہلے اور راجح کے دلائل بعد میں لاتے ہیں۔ تو یہاں پر بھی دیکھو متن کے اندر پہلے امام صاحب کا مذہب ذکر ہے کیونکہ وہ مذہب راجح ہے، اور صاحبین کا مذہب بعد میں ذکر ہے۔ اب جب دلائل کی باری آئی تو پہلے صاحبین کے دلائل ذکر فرما رہے ہیں یعنی وہ جو مرجوح مذہب ہے اس کے دلائل بھئی۔ دیکھیے، کہتے ہیں: لأنّ هذا ليس بتزوّجٍ عليها، اس لیے کیونکہ یہ جو نکاح کرے گا باندی سے عدت کے اندر، ليس بتزوّجٍ عليها یہ اس آزاد عورت پر نکاح نہیں ہے، اس کو یوں نہیں کہیں گے کہ یہ آزاد عورت پر نکاح کر رہا ہے کیونکہ اس کو تو وہ طلاق دے چکا ہے، وهو المحرّم، اور وہی تو حرام کرنے والا تھا۔ تو آزاد عورت کے اوپر نکاح کرنا یہی تو حرام کرنے والا تھا باندی سے نکاح کو، آزاد عورت کے اوپر نکاح کرنا یہی حرام کر رہا تھا باندی سے نکاح کو اور یہ چیز تو یہاں ہے ہی نہیں کیونکہ اس عورت کو یہ طلاق دے چکا ہے۔ یہ معنی ہے: لأنّ هذا ليس بتزوّجٍ عليها وهو المحرّم، اور یہ جو ہے اس آزاد عورت پر نکاح کرنا نہیں ہے اور یہ آزاد عورت پر نکاح یہی تو حرام کرنے والا تھا اور وہ یہاں پر نہیں ہے۔ ولهذا صاحبین فرماتے ہیں کہ ہمارے مذہب کی تائید ایک اور مسئلے سے بھی ہوتی ہے کہ کوئی شخص اگر قسم کھا لے اور اپنی بیوی سے کہے کہ: "واللہ، میں تمہارے اوپر کسی اور عورت سے نکاح نہیں کروں گا۔" ایک شخص اپنی بیوی کے سامنے قسم اٹھا کر کہہ دیتا ہے کہ: "واللہ، میں تمہارے اوپر کسی اور عورت سے نکاح نہیں کروں گا"، پھر یہ شخص اس عورت کو طلاقِ بائن دے دیتا ہے اور پھر کسی اور عورت سے نکاح کر لیتا ہے عدت کے اندر اندر، تو بالاتفاق یہ شخص حانث نہیں۔ صاحبین کے نزدیک بھی یہ شخص حانث نہیں کیونکہ پہلی عورت کو وہ طلاق دے چکا ہے اور یہ اس عورت کے اوپر نکاح نہیں کہلائے گا یہ نکاح بھئی، اور امام صاحب کے نزدیک بھی یہ شخص حانث نہیں ہو گا، یہ پہلے نکاح پر نکاح نہیں کہلائے گا۔ تو صاحبین فرماتے ہیں دیکھا اس مسئلے سے بھی ہماری تائید ہوتی ہے، اس مسئلے کے اندر امام صاحب بھی ہماری تائید کر رہے ہیں کہ پہلی بیوی کو طلاقِ بائن دینے کے بعد عدت کے اندر کسی اور عورت سے نکاح کرے گا تو یہ شخص حانث نہیں ہو گا، حالانکہ اس نے تو قسم اٹھائی تھی کہ میں تمہارے اوپر اور نکاح نہیں کروں گا، تو اس کو تو حانث ہونا چاہیے تھا لیکن یہاں امام صاحب بھی ہماری تائید فرما رہے ہیں کہ یہ شخص حانث نہیں ہو گا۔ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ولهذا لو حلف، اور اسی وجہ سے اگر کسی شخص نے قسم اٹھا لی، لا يتزوّج عليها، بیوی سے کہتا ہے کہ وہ اس کے اوپر نکاح نہیں کرے گا، لم يحنث بهذا، تو وہ اس سے حانث نہیں ہو گا یعنی اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی۔ تو کہتے ہیں: لم يحنث بهذا وہ اس سے حانث نہیں ہو گا، ولأبي حنيفة رحمه الله، اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے، أنّ نكاح الحرّة باقٍ من وجهٍ، کہ آزاد عورت کا نکاح بھی بعض اعتبار سے باقی ہے، لبقاء بعض الأحكام، اس لیے کیونکہ بعض احکام باقی ہیں۔ پہلے نکاح کے بعض احکام ابھی بھی باقی ہیں کہ عدت کے اندر کا نفقہ کون دے گا؟ خاوند دے گا، اور خاوند اس معتدہ کو گھر سے نکلنے سے منع بھی کر سکتا ہے، اور نیز اس معتدہ نے اگر کسی بچے کو جنم دیا تو وہ بھی اسی خاوند کا شمار ہو گا، تو معلوم ہوا نکاح کے احکام ابھی بھی کچھ باقی ہیں۔ جب کچھ نکاح کے احکام باقی ہیں تو لہٰذا احتیاط اسی میں ہے کہ منع بھی باقی ہونی چاہیے۔ حدیث میں منع آیا تھا کہ آزاد عورت پر باندی سے نکاح نہیں کر سکتے تو وہ منع بھی باقی ہونی چاہیے۔ جب نکاح کے کچھ اثرات باقی تو یہ والی منع بھی باقی ہونی چاہیے، احتیاط اسی میں ہے بھئی۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں: أنّ نكاح الحرّة باقٍ من وجهٍ لبقاء بعض الأحكام، کہ آزاد عورت کا نکاح بعض اعتبار سے باقی ہے اس وجہ سے کہ نکاح کے بعض احکام باقی ہیں، فيبقى المنع احتياطًا، تو بطورِ احتیاط کے منع بھی باقی رہے گی، بخلاف اليمين، بخلاف قسم کے، لأنّ المقصود أن لا يدخل غيرها في قسمها۔ بھئی، صاحبین نے اس مسئلے کو قیاس کیا تھا قسم پر، اور قسم کے اندر تو امام صاحب بھی فرماتے تھے کہ طلاقِ بائن کے اندر کسی اور عورت سے نکاح کرے گا تو وہ شخص حانث نہیں، حانث نہیں۔ تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں کہ بھئی قسم کے اندر قسم کھانے والے کا مقصود یہ تھا جب اس نے یہ کہا کہ: "واللہ، میں تمہارے اوپر کسی اور عورت سے نکاح نہیں کروں گا"، مطلب یہ تھا کہ تمہاری جو باری ہے اس کے اندر میں کسی اور عورت کو داخل نہیں کروں گا۔ بھئی دیکھو نا، شریعت نے چار تک نکاح کی اجازت دی ہے لیکن ضروری ہے کہ خاوند عدل کرے ان کے درمیان، انصاف کرے، اور ان کے درمیان تقسیم کرے راتوں کو۔ یعنی اگر ایک عورت کے پاس ایک رات گزارتا ہے تو دوسری کے پاس بھی ایک رات گزارنا پڑے گی، تیسری کے پاس بھی ایک رات گزارنا پڑے گی، چوتھی کے پاس بھی ایک رات گزارنا پڑے گی۔ یا پہلی کے پاس دو راتیں گزارتا ہے تو باقی سب کے پاس بھی دو دو راتیں، اگر پہلی کے پاس پورا ہفتہ گزارتا ہے تو باقی سب کے پاس بھی پورا پورا ہفتہ گزارنا پڑے گا، یعنی عدل اور انصاف کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اور یہ یاد رکھنا یہ راتیں تقسیم کرنے کی بات ہو رہی ہے، راتیں برابری کے ساتھ تقسیم ہوں گی، صحبت کی بات نہیں ہو رہی۔ صحبت خاوند کی جہاں خواہش ہو وہیں کر سکتا ہے، اس میں تقسیم ضروری نہیں، ہاں لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ کسی عورت کو بالکل معلق ہی چھوڑ دے اس سے صحبت کرے ہی نہیں، نہیں ایسا بھی صحیح نہیں، لیکن بہرحال بتلانا یہاں مقصد یہ ہے کہ صحبت کے اندر برابری ضروری نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا خاوند کے لیے بیویوں میں عدل ضروری ہے، تو یہ جو قسم کھانے والا تھا اس کا مقصد یہ تھا کہ جب اس نے کہا واللہ میں تمہارے اوپر نکاح نہیں کروں گا، تو مطلب یہ تھا کہ میں تمہاری باری میں کسی اور عورت کو داخل نہیں کروں گا۔ یعنی اس وقت تو ساری راتیں تمہارا حصہ ہیں، کوئی عورت ہمارے ساتھ ان راتوں میں شریک نہیں، لیکن اگر اور عورت آئے گی تو اس کو بھی حصہ دینا پڑے گا، میں تمہارا حصہ اور عورت کو نہیں دوں گا، یہ مقصد تھا۔ اور جب یہ اس پہلی عورت کو طلاق دے چکا ہے تو اب یہ اس کے حصے پر کسی اور عورت کو داخل نہیں کر رہا، لہٰذا اس لیے وہ حانث نہیں ہو گا۔ اور نیز یاد رکھو، قسم کا دار و مدار عرف پر ہوتا ہے۔ عرف میں ایک بات کا جو معنی لیا جاتا ہے، قسم میں بھی وہی معنی مراد ہو گا۔ قسم میں بھی وہی معنی مراد ہو گا، اور عرف کے اندر یاد رکھو ایک شخص کے نکاح میں ایک عورت ہو اور پھر وہ دوسری عورت سے نکاح کرے تو کہتے ہیں اس نے پہلی بیوی پر دوسرا نکاح کر لیا، لیکن اگر پہلی بیوی کو وہ طلاقِ بائن دے دے تو عدت کے اندر بھی اگر یہ شخص نکاح کر لے تو کوئی یہ نہیں کہتا کہ یہ پہلی بیوی کے اوپر دوسری بیوی لے آیا۔ کوئی بھی یہ نہیں کہتا، عرف میں اس کو پہلی بیوی پر نکاح نہیں سمجھا جاتا۔ تو یہاں عرف کے اندر بھی طلاقِ بائن کے اندر جو نکاح کرتا ہے وہ پہلی بیوی پر نکاح نہیں سمجھا جاتا، اس لیے بھی یہ شخص حانث نہیں ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کہتے ہیں: بخلاف اليمين، بخلاف قسم کے، لأنّ المقصود أن لا يدخل غيرها في قسمها، کیونکہ قسم کے ذریعے قسم کھانے والے کا مقصود یہ ہوتا ہے کہ "أن لا يدخل غيرها"، کہ وہ کسی اور عورت کو داخل نہیں کرے گا في قسمها اس عورت کے حصے میں۔ قَسَم بھئی ق کے فتحہ کے ساتھ ہے، یہ حصے اور باری کو کہتے ہیں، کہ وہ اس عورت کی باری پر کسی اور عورت کو داخل نہیں کرے گا۔ آگے دیکھیے: وللحرّ أن يتزوّج أربعًا من الحرائر والإماء، وليس له أن يتزوّج أكثر من ذلك۔ یہاں سے صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ آزاد مرد جو ہے زیادہ سے زیادہ چار عورتوں سے نکاح کر سکتا ہے، یعنی بیک وقت وہ اپنے نکاح میں چار عورتیں رکھ سکتا ہے۔ اگر کسی اور سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو ان چار میں سے ایک کو چھوڑنا پڑے گا، اور پھر چھوڑتے ہی فوراً اس سے اگلی سے نکاح نہیں کر سکتا اس لیے کیونکہ پہلی کی عدت ابھی چل رہی ہے، تو گویا من وجہ ابھی بھی نکاح باقی ہے، لہٰذا عدت جب گزر جائے گی پھر اس کے بعد وہ اب اس اگلی عورت سے نکاح کر سکتا ہے۔ اور پھر یہ چار عورتیں جن سے وہ نکاح کرنا چاہتا ہے، چاہے چاروں آزاد ہوں، چاہے چاروں کیا ہوں؟ باندیاں ہوں، یا کچھ باندیاں ہوں اور کچھ آزاد ہوں، جیسے بھی نکاح کرنا چاہے کر سکتا ہے۔ لیکن بس یہ ہے آزاد عورت کے اوپر باندی نہیں لا سکتا، ہاں باندی کے اوپر آزاد عورت کو لا سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: وللحرّ، اور آزاد آدمی کے لیے جائز ہے، أن يتزوّج أربعًا من الحرائر والإماء، کہ وہ نکاح کر سکتا ہے چار عورتوں سے، من الحرائر آزاد عورتوں میں سے، والإماء اور باندیوں میں سے، وليس له أن يتزوّج أكثر من ذلك، اور اس کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اس سے زیادہ نکاح کرے، لقوله تعالى، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: "فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ"، پس تم لوگ نکاح کرو ما طاب لکم وہ جو تمہیں پسند ہوں، وہ جو تمہیں اچھی لگیں، من النساء یعنی عورتیں، یاد رکھو یہ من النساء بیان ہے ما کا، ما کا، تو لہٰذا یہ ما کی جگہ النساء کا لفظ لا کر ترجمہ کریں: "فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ"، پس تم لوگ نکاح کرو ان عورتوں سے جو تمہیں پسند ہوں، "مَثْنَى وَثُلاثَ وَرُبَاعَ"، دو دو، اور تین تین، اور رباع اور چار چار۔ مثنیٰ کا کیا معنی؟ دو دو، دو مرتبہ کہنا ہے دو دو۔ ثلاث کا کیا معنی؟ تین تین، دو مرتبہ تین کہنا ہے۔ اور رباع کا کیا معنی؟ چار چار بھئی، دو دفعہ چار کا لفظ بولنا ہے۔ تو تم لوگ نکاح کرو ان عورتوں سے جو تمہیں پسند ہوں دو دو، اور تین تین، اور چار چار سے۔ اور نیز آگے اللہ فرماتے ہیں: "فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً"، اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ تم عدل نہیں کر سکو گے تو ایک ہی، یعنی پھر ایک سے ہی نکاح کرو بھئی۔ معلوم ہوا ایک سے زائد نکاح کی اجازت ہے لیکن ان میں عدل کرنا پڑے گا، انصاف کرنا پڑے گا بھئی۔ تو دیکھا یہاں پر عدد باقاعدہ ذکر ہیں: دو دو، تین تین اور چار چار، معلوم ہوا چار سے زیادہ عورتیں بیک وقت کوئی شخص نکاح میں نہیں رکھ سکتا۔ تو کہتے ہیں: والتّنصيص على العدد يمنع الزّيادة عليه، نصّ ينصّ تنصیص کا معنی ہے تصریح کرنا یعنی صاف لفظوں میں ذکر کرنا۔ والتّنصيص على العدد، اور عدد پر تصریح کرنا یعنی آیت کے اندر باقاعدہ صراحۃً عدد ذکر ہیں دو دو، تین تین اور چار چار عدد ذکر ہیں، تو کہتے ہیں: والتّنصيص على العدد، اور آیت کے اندر جو عدد پر تصریح کی گئی ہے، يمنع الزّيادة عليه یہ منع کرتی ہے اس پر زیادتی سے، کہ اس سے زیادہ اس سے زیادہ کی اجازت نہیں ہے بھئی۔ تو اہلِ سنت والجماعت ایک شخص بیک وقت چار سے زیادہ نکاح نہیں کر سکتا بھئی، جبکہ روافض یعنی شیعہ اور بعض چند ایک فقہاء ان کے نزدیک ایک شخص نو تک نکاح کر سکتا ہے، نو تک۔ "مَثْنَى وَثُلاثَ وَرُبَاعَ"، مثنیٰ: دو دو، ثلاث: تین تین، تو دو اور تین کتنے ہو گئے؟ پانچ، اور رباع: چار چار، تو چار کو جمع کیا، دو اور تین پانچ اور چار نو، تو وہ کہتے ہیں نو تک نکاح کر سکتا ہے۔ لیکن میں نے بتایا یہ ایک دو فقہاء ہیں صرف، اور باقی شیعہ کا مذہب یہ ہے کہ نو تک انسان نکاح کر سکتا ہے بھئی۔ روافض وغیرہ نے ان کو جمع کیا، ہم کہتے ہیں نہیں ان کو جمع نہیں کیا جائے گا۔ مثلاً میں زید کو اگر نو روپے دینا چاہتا ہوں تو آپ کو بھیجتا ہوں پیسے دے کر تو میں یوں نہیں کہوں گا کہ زید کو دو روپے دے دینا اور تین روپے دے دینا اور چار روپے دے دینا، میں سیدھا سیدھا کہوں گا زید کو نو روپے دے دینا، وہ عدد ذکر کروں گا۔ تو لہٰذا نو کا عدد یہاں بیان کرنا مقصد ہوتا تو باقاعدہ نو کا عدد لایا جاتا آیت کے اندر بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ جبکہ خوارج کہتے تھے کہ اٹھارہ تک نکاح انسان کر سکتا ہے۔ وہ کہتے تھے مثنیٰ کا معنی ہے دو دو، دو کا لفظ دو دفعہ بولنا ہے، تو دو اور دو کتنے ہو گئے؟ چار، اور ثلاث کا معنی ہے تین تین، تو تین اور تین چھ ہو گئے، تو چار اور چھ دس ہو گئے، اور رباع کا معنی ہے چار چار یعنی آٹھ، تو دس اور آٹھ اٹھارہ نکاح۔ لیکن بہرحال اہلِ سنت کے نزدیک ایک وقت میں چار سے زیادہ عورتیں کوئی شخص نکاح میں نہیں رکھ سکتا۔ جی، آگے دیکھیے: وقال الشّافعيّ رحمه الله: لا يتزوّج إلّا أمةً واحدةً، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نکاح نہیں کر سکتا مگر ایک باندی سے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آزاد عورتیں تو چار ایک شخص نکاح میں رکھ سکتا ہے، لیکن باندیاں جو ہیں اگر ان سے ان سے بھی نکاح کرنا پڑتا ہے تو وہ ایک سے زیادہ نہیں رکھ سکتا، باندی ایک ہی ہو سکتی ہے۔ باندی ایک ہی ہو سکتی ہے، لأنّه ضروريٌّ عنده، اس لیے کیونکہ باندی سے جو نکاح ہے یہ ان کے نزدیک ضرورت کی بنا پر ہے، اور جو چیز ضرورت کی وجہ سے ثابت ہوتی ہے وہ بقدرِ ضرورت ہی ثابت ہو گی، اور ضرورت ایک باندی سے پوری ہو گئی لہٰذا ایک سے زائد کی بھی اجازت نہیں۔ جیسے دیکھو خنزیر کا کھانا منع ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص موت تک پہنچ گیا، مرنے والا ہے، اور کوئی کھانے کی چیز نہیں مثلاً کفار کی قید میں ہے، اور انہوں نے صرف خنزیر کا گوشت رکھا ہے اس کے لیے کھانے کے لیے، تو یاد رکھو اب جب یہ موت کے قریب پہنچ گیا تو اس صورت میں یہ گوشت بھی اس کے لیے حلال ہو گیا، یہ اس کو کھا سکتا ہے۔ اور یہ گوشت حلال کیوں ہوا؟ ضرورت کی وجہ سے کیونکہ یہ مرنے والا ہے اس کے سوا اور کوئی چارہ ہی نہیں ہے۔ اور جو چیز ضرورت کی وجہ سے ثابت ہو وہ بقدرِ ضرورت ثابت ہو گی، اب اس کا یہ معنی نہیں کہ یہ جتنا مرضی اس میں سے کھانا چاہے کھا لے، نہیں، بس اتنی تھوڑی سی مقدار کھا سکتا ہے جس سے اس کی زندگی بچ جائے، جس سے یہ مرے نا۔ تو ضرورت سے جو چیز ثابت ہوتی ہے وہ بقدرِ ضرورت ثابت ہوتی ہے، تو لہٰذا ایک دو لقموں سے جب اس کی ضرورت پوری ہو گئی تو اب مزید کھانے کی اجازت نہیں۔ یہاں باندیوں کے اندر بھی جو نکاح کی اجازت ہے وہ ضرورت کی بنا پر ہے، تو جب ایک مسلمان باندی سے ضرورت پوری ہو گئی تو اب مزید کے ساتھ نکاح کی اجازت نہیں ہے۔ یہ معنی ہے: لأنّه ضروريٌّ عنده، اس لیے کیونکہ باندی سے جو نکاح ہے یہ ضرورت کی بنا پر ہے عنده امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک، والحجّة عليه ما تلونا، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف دلیل جو ہے وہ آیت ہے تلونا جو ہم نے تلاوت کر دی، ابھی جو ہم نے اوپر تلاوت کی: "فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاثَ وَرُبَاعَ"، اور اس کے اندر نساء کا لفظ آیا کہ عورتوں سے نکاح کرو، اور باندیاں بھی تو عورتیں ہیں، باندیاں بھی کیا ہیں؟ عورتیں ہیں، تو نساء کا لفظ باندیوں کو بھی شامل ہے اور آزاد عورتوں کو بھی شامل ہے اور چار کی اجازت دی جا رہی ہے۔ کہتے ہیں: والحجّة عليه ما تلونا، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف دلیل وہ آیت ہے جو ہم نے تلاوت کی، إذ الأمة المنكوحة ينتظمها اسم النّساء، اس لیے کیونکہ منکوحہ باندی جو ہے ينتظمها اس کو شامل ہے اسم النّساء، نساء کا اسم، نساء کا لفظ جو ہے وہ باندیوں کو بھی شامل ہے، كما في الظّهار، جیسے ظہار کے اندر ہے۔ ظہار یاد رکھو آگے صاحبِ ہدایہ بھی بیان فرمائیں گے، ظہار یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنی ماں کے ساتھ تشبیہ دے دے کہ: "تو میرے لیے ایسے ہی مجھ پر حرام ہے جیسے میری ماں مجھ پر حرام ہے۔" بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ظہار یہ اس نے نہایت ہی غلط بات کہی، لہٰذا شریعت نے اس عورت کو اس پر حرام کر دیا الّا یہ کہ اس کو کفارہ دینا پڑے گا۔ کیا کرنا پڑے گا؟ کفارۂ ظہار دینا پڑے گا پھر ہی اب وہ عورت اس کے لیے حلال ہو گی ورنہ اور کوئی صورت نہیں عورت کے حلال ہونے کی۔ تو آیتِ ظہار کے اندر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ"، اور وہ لوگ جو ظہار کر لیتے ہیں اپنی بیویوں سے، تو آیتِ ظہار کے اندر بھی "مِنْ نِسَائِهِمْ" نساء کا لفظ آیا ہے، اور ظہار کا حکم یاد رکھو کوئی شخص اپنی آزاد منکوحہ سے ظہار کرے تب بھی یہی حکم، کوئی شخص اپنی منکوحہ باندی سے ظہار کرے تب بھی یہی حکم ہے۔ تو آیتِ ظہار کے اندر نساء کا لفظ ہے اور اس نساء کے اندر آزاد عورتیں بھی داخل اور باندیاں بھی داخل ہیں۔ معلوم ہوا باندیوں کا بھی وہی حکم ہے جو آزاد عورتوں کا ہے، اور آزاد عورتوں میں سے تو چار کے ساتھ نکاح جائز تو باندیوں سے بھی چار کے ساتھ نکاح جائز ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ دلیل کیا ہوئی؟ "مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ"، یہاں بھی نساء کا لفظ آیا۔ اسی طرح ظہار کے اندر بھی ظہار کا حکم بیان ہو رہا ہے تو وہاں نساء کا لفظ آیا، اور ظہار کا حکم جیسے آزاد عورت کے لیے ہے ویسے ہی منکوحہ باندی کے لیے بھی ہے، معلوم ہوا وہاں بھی نساء کے لفظ میں باندیاں داخل ہیں، یہاں بھی نساء کے لفظ میں باندیاں داخل ہیں۔ یہ معنی ہے: إذ الأمة المنكوحة ينتظمها اسم النّساء كما في الظّهار، اس لیے کیونکہ منکوحہ باندی اس کو شامل ہے نساء کا لفظ جیسا کہ ظہار کے اندر ہے۔ آگے دیکھیے: ولا يجوز للعبد أن يتزوّج أكثر من اثنين، اور جائز نہیں ہے غلام کے لیے کہ وہ دو سے زیادہ نکاح کرے، کوئی آزاد آدمی نکاح کرتا ہے تو وہ چار نکاح کر سکتا ہے، اور غلام غلام ہے تو وہاں تنصیف آ جائے گی اس نعمت کے اندر، تو غلام ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ دو عورتوں کو نکاح میں رکھ سکتا ہے۔ یہ معنی ہے: ولا يجوز للعبد أن يتزوّج أكثر من اثنين، اور غلام کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ دو سے زیادہ نکاح کرے، وقال مالكٌ رحمه الله: يجوز، اور امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں جائز ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جیسے آزاد آدمی چار نکاح کر سکتا ہے غلام بھی چار نکاح کر سکتا ہے۔ وجہ یہ کہ وہ فرماتے ہیں نکاح کی تخصیص ہے انسان کے ساتھ، تو لہٰذا یہ جو غلام کو بھی نکاح کی اجازت ملی ہے یہ انسان ہونے کے ناطے اس کو اجازت ملی ہے، اور انسان ہونے کے اندر یہ اور آزاد آدمی برابر ہیں۔ جیسے آزاد آدمی ایک انسان ہے، ایک آدمی ہے، یہ بھی کیا ہے؟ ایک انسان ہے، ایک آدمی ہے، اور آدمی کو شریعت نے چار نکاحوں کی اجازت دی ہے تو یہ بھی آدمی ہے غلام، اس کو بھی کتنے نکاحوں کی اجازت ہو گی؟ چار نکاح کی، اور یہاں غلامی کا کوئی اثر نہیں ہو گا۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں غلام کو، ادھر دیکھیے، غلام کو یہ جو نکاح کی اجازت دی ہے شریعت نے کس وجہ سے؟ اس کے آدمی ہونے کی وجہ سے، یہ کیا ہے؟ انسان ہے، تو یہ آدمی ہونے کی وجہ سے اجازت دی ہے، اسی لیے وہ فرماتے ہیں کہ غلام اپنے نکاح میں آزاد ہے، جہاں چاہے نکاح کرے، آقا سے پوچھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ عند الاحناف غلام آقا کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کر سکتا۔ غلام آقا کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کر سکتا، لیکن امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غلام اس سلسلے میں آزاد ہے، اسے آقا سے اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہیں، وہ جہاں چاہے نکاح کر سکتا ہے اور چار نکاح کر سکتا ہے، کیونکہ اس کو یہ جو اجازت دی ہے شریعت نے آدمی ہونے کے اعتبار سے دی ہے، اور آدمی ہونے میں یہ اور آزاد کیا ہیں؟ برابر ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: وقال مالكٌ رحمه الله يجوز، اور امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں جائز ہے غلام کے لیے یہ کہ وہ دو سے زیادہ نکاح کر سکتا ہے یعنی چار کر سکتا ہے، لأنّه في حقّ النّكاح بمنزلة الحرّ عنده، اس لیے کیونکہ یہ غلام جو ہے یہ نکاح کے حق میں آزاد آدمی کے درجے میں ہے عنده امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک، حتّى ملكه بغير إذن المولى، یہاں تک کہ یہ غلام مالک ہوتا ہے نکاح کا بغير إذن المولى آقا کی اجازت کے بغیر ہی، آقا کی اجازت کے بغیر ہی یہ نکاح کر سکتا ہے۔ ولنا اور ہماری دلیل یہ ہے، أنّ الرّقّ منصّفٌ، کہ یہ جو غلامی ہے یہ تنصیف کر دیتی ہے، یہ شرعی احکام کو آدھا کر دیتی ہے، فيتزوّج العبد ثنتين، لہٰذا غلام جو ہے وہ دو عورتوں سے نکاح کر سکتا ہے، والحرّ أربعًا، اور آزاد جو ہے وہ چار نکاح کر سکتا ہے، إظهارًا لشرف الحرّيّة، شرفِ حریت کے اظہار کے لیے۔ بھئی آزادی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے، اللہ کی طرف سے بہت بڑا اعزاز ہے، لہٰذا آزادی کے شرف کے اظہار کے لیے، آزادی کے اعزاز کو ظاہر کرنے کے لیے آزاد آدمی چار نکاح کرے گا بھئی، اور غلام کے حق میں تنصیف ہو جائے گی، اس کو چونکہ آزادی کا شرف حاصل نہیں ہے لہٰذا وہ چار نہیں کر سکتا، وہ دو نکاح کر سکتا ہے۔ یہ معنی ہے کہ: والحرّ أربعًا، اور آزاد جو ہے وہ چار نکاح کر سکتا ہے، إظهارًا لشرف الحرّيّة، آزادی کے اعزاز کو ظاہر کرنے کے لیے، آزادی کے شرف کو ظاہر کرنے کے لیے، کیونکہ آزادی بہت بڑا شرف ہے جو اللہ نے آزاد کو نصیب کیا ہے، تو وہ چار نکاح تک کی اس کو اجازت ہو گی لیکن غلام کو اس کی اجازت نہیں ہو گی۔ فإن طلّق الحرّ إحدى الأربع طلاقًا بائنًا، کہ ایک شخص ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ چار نکاح کر سکتا ہے، اگر وہ کوئی اور مزید نکاح کرنا چاہتا ہے تو ان چار میں سے ایک کو طلاق دینا پڑے گی اور پھر جب عدت گزر جائے گی پھر وہ اگلی عورت سے نکاح کر سکتا ہے، جب تک یہ عدت کے اندر ہے اس عورت سے یہ شخص نکاح نہیں کر سکتا۔ تو یاد رکھو، یہ وہ مسئلہ ہے جس میں مرد کو بھی عدت گزارنا پڑے گی، عدت کا انتظار کرنا پڑے گا۔ چار عورتیں نکاح میں تھیں، ایک کو طلاق دے دی، تو جب تک اس عورت کی عدت ہے یہ مرد بھی گویا عدت میں چل رہا ہے، جب تک عدت پوری نہیں یہ اگلا نکاح نہیں۔ جیسے عورت جب تک عدت میں ہوتی ہے اگلا نکاح نہیں کر سکتی، یہ مرد بھی گویا عدت میں ہے اگلا نکاح نہیں کر سکتا۔ یہ اسی طرح ہے جو پیچھے مسئلہ آیا تھا: ایک شخص دو بہنوں کو نکاح میں جمع نہیں کر سکتا، اب اگر ایک بہن کو طلاقِ بائن دے دے تو جب تک یہ بہن عدت کے اندر ہے خاوند اگلی بہن سے نکاح نہیں کر سکتا، تو گویا وہاں بھی خاوند کو عدت گزارنا پڑتی ہے پھر ہی وہ اگلی بہن سے نکاح کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: فإن طلّق الحرّ إحدى الأربع طلاقًا بائنًا، اور اگر طلاق دے دی کسی آزاد آدمی نے إحدى الأربع اپنی چار بیویوں میں سے ایک کو طلاقًا بائنًا، طلاقِ بائن دے دی، چار بیویوں میں سے ایک کو طلاقِ بائن دے دی، لم يجز له أن يتزوّج رابعةً، تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ چوتھی سے نکاح کر لے، حتّى تنقضي عدّتها، یہاں تک کہ اس مطلقہ کی عدت پوری ہو جائے۔ یہاں تک کہ اس کی عدت پوری ہو جائے، جب اس کی عدت پوری ہو گی پھر آگے نکاح کر سکتا ہے۔ وفيه خلاف الشّافعيّ رحمه الله، اور اس کے اندر اختلاف ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا، وہ فرماتے ہیں کہ بھئی طلاقِ بائن سے نکاح پوری طرح ٹوٹ چکا ہے لہٰذا اب یہ اگلا نکاح کر سکتا ہے۔ کہتے ہیں: وهو نظير نكاح الأخت في عدّة الأخت، اور یہ مسئلہ نظیر ہے نكاح الأخت في عدّة الأخت، وہ جو بہن کے ساتھ نکاح کا مسئلہ ہے فی عدۃ الاخت بہن کی عدت میں۔ ایک بہن کی عدت کے اندر بھی دوسری بہن کے ساتھ نکاح نہیں ہو سکتا، یہ مسئلہ تفصیل سے پیچھے گزر چکا ہے۔ آپ نے پڑھا ایک شخص دو بہنوں کو نکاح میں جمع نہیں کر سکتا، اگر ایک بہن نکاح میں ہے اور وہ اب دوسری بہن سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو پہلے پہلی بہن کو طلاق دینا پڑے گی اور پھر جب عدت گزر جائے گی پھر اگلی بہن سے نکاح کر سکتا ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ یہ جو مسئلہ ابھی ذکر ہوا کہ کسی شخص کے نکاح میں چار بیویاں ہیں، وہ ایک بیوی کو طلاق دے کر ایک اور عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو ہمارے نزدیک طلاقِ بائن دیتے ہی فوراً اگلا نکاح نہیں کر سکتا بلکہ عدت کے بعد نکاح کرے گا، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق دیتے ہی اگلا نکاح کر سکتا ہے، طلاقِ بائن، طلاقِ بائن دیتے ہی اگلا نکاح کر سکتا ہے۔ تو یہ مسئلہ نظیر ہے اس مسئلے کی، وہ جو ایک بہن کی عدت میں دوسری بہن سے نکاح کا مسئلہ گزرا تھا یہ اسی کی نظیر ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یعنی جیسے وہاں امام شافعی رحمہ اللہ اختلاف فرماتے تھے اسی طرح یہاں بھی اختلاف فرماتے ہیں، اور جیسے وہاں پر جو دلیل اور علت تھی وہی دلیل اور علت یہاں پر بھی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ نکاح پورے طور پر ٹوٹ چکا لہٰذا اگلی بہن سے نکاح کر سکتا ہے، یہاں بھی چوتھی کو طلاقِ بائن دے دی، نکاح پورے طور پر ٹوٹ چکا لہٰذا اگلی عورت سے نکاح کر سکتا ہے، جبکہ ہمارے نزدیک ابھی بھی نکاح کے اثرات ہیں لہٰذا اگلی عورت سے ابھی نکاح نہیں کر سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔