آگے سبق دیکھیے بھئی: ومن زنى بامرأة حرمت عليه أمها وبنتها، وقال الشافعي رحمه الله تعالى: الزنا لا يوجب حرمة المصاهرة؛ لأنها نعمة فلا تنال بالمحظور، ولنا أن الوطء سبب الجزئية بواسطة الولد حتى يضاف إلى كل واحد منهما كملا، فيصير أصولها وفروعها كأصوله وفروعه، وكذلك على العكس۔ گزشتہ سبق میں آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ اگر ایک شخص دو بہنوں سے نکاح کرتا ہے دو الگ الگ عقد میں، تو پہلی کے ساتھ عقد منعقد ہو جائے گا اور دوسری کے ساتھ عقد باطل ہو گا۔ اس لیے کیونکہ قرآن کے اندر دو بہنوں کو جمع کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔ تو دو بہنوں کو نکاح کے اعتبار سے جمع کرنا بھی منع اور دو بہنوں کو وطی یعنی صحبت کے اعتبار سے جمع کرنا بھی منع ہے۔ اب اگر ایک شخص دو بہنوں سے نکاح کرتا ہے دو الگ الگ عقد کے اندر، تو پہلی کے ساتھ عقد منعقد ہو جائے گا اور دوسری کے ساتھ عقد منعقد نہیں ہو گا بھئی۔ اور اگر دو بہنوں سے کوئی شخص ایک ہی عقد کے ساتھ نکاح کرتا ہے، ایک ہی ایجاب اور قبول میں دونوں بہنوں سے عقد کر رہا ہے، تو پھر یاد رکھنا ایک کے ساتھ بھی عقد منعقد نہیں ہو گا؛ کیونکہ وہ جمع بین الاختین کر رہا ہے بھئی۔ تو بہرحال یہاں جو صورت ذکر ہے وہ دو بہنوں سے ایک شخص الگ الگ نکاح کرتا ہے۔ اب ظاہر سی بات ہے پہلا عقد منعقد ہوا ہے اور دوسرا عقد منعقد نہیں ہوا لیکن وہ شخص بھول گیا کہ کس بہن کے ساتھ پہلا عقد ہوا اور کس بہن کے ساتھ دوسرا عقد ہوا ہے، تو اب کیا کیا جائے گا؟ تو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ اب تفریق کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔ ان دونوں بہنوں کی اس شخص سے جدائی کروا دی جائے گی، تفریق کروا دی جائے گی۔ وجہ یہ کہ پہلا نکاح تو منعقد ہوا ہے لیکن دوسرا یقینی طور پر باطل ہے، لیکن پتہ نہیں چل رہا، تعین کی کوئی صورت نہیں جس سے پتہ چل سکے کہ پہلا نکاح کس کے ساتھ ہوا تھا۔ اور نیز اسی طرح اس نکاح کو ہم چلنے دیں کہ ہم یوں کہیں لا علی التعیین ایک نکاح ہو چکا ہے، تو اسی طرح ہم اس کو نافذ کر دیں، اسی طرح اس کو چلنے دیں، اس میں بھی کوئی فائدہ نہیں ہے آدمی کا۔ اس کو تو بیوی نہیں ملی، اس کے لیے تو ایک کے ساتھ بھی صحبت حلال نہیں ہے اور نیز عورتوں کا اس میں نقصان ہے، اس لیے بھی اس کو نافذ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ عورتیں معلق ہو جائیں گی۔ ان کو خاوند بھی نہیں ملا اور معلق ہیں، آگے بھی کہیں نکاح نہیں کر سکتیں۔ تو لہٰذا اسی طرح جہالت کے ساتھ اس نکاح کو نافذ کر دیا جائے اس کی بھی کوئی صورت نہیں، تو تعین کی بھی کوئی صورت نہیں، تنفیذ کی بھی کوئی صورت نہیں، تو آخری صورت یہی ہے کہ ان میں جدائی کروا دی جائے گی۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ خاوند بیوی کو صحبت کے بعد طلاق دیتا ہے، اس سے جدائی اختیار کرتا ہے، تو پھر پورا مہر دینا پڑتا ہے۔ اور اگر صحبت سے پہلے طلاق دے دے تو پھر اس صورت میں نصف مہر دینا پڑتا ہے۔ اور یہاں پر بھی جو جدائی آئی ہے وہ صحبت سے پہلے آئی ہے، تو لہٰذا نصف مہر دینا پڑے گا۔ کیونکہ ایک نکاح ہوا ہے، دوسرا تو ہوا ہی نہیں اور اس ایک کو بھی طلاق دی ہے صحبت سے پہلے، تو نصف مہر آئے گا۔ لیکن وہ نصف مہر اس بہن کا حق ہے جس کا نکاح پہلے ہوا تھا اور اس کا تو پتہ نہیں چل رہا، تو پھر اس نصف مہر کو دونوں میں ادھا آدھا برابر تقسیم کر دیں گے۔ جبکہ فقیہ ابو جعفر ہندوانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو نصف مہر ہے یہ ویسے ہی دونوں بہنوں میں تقسیم نہیں کیا جائے گا بلکہ ضروری ہے کہ وہ دونوں بہنیں قاضی کے پاس دعویٰ کریں۔ دونوں قاضی کے پاس دعویٰ کریں اور دونوں میں سے ہر ایک کہے کہ "میں پہلی بیوی ہوں، میرے ساتھ پہلے نکاح ہوا تھا۔" اب قاضی کے پاس فیصلے کی کوئی صورت نہیں ہو گی، تو لہٰذا مجبورا اس کو وہ نصف مہر دونوں میں برابر تقسیم کرنا پڑے گا، یا وہ دونوں بہنیں خود ہی آپس میں صلح کر لیں۔ تو قاضی کے پاس یا دعویٰ کر لیں یا قاضی کے پاس نہیں جانا چاہتیں تو یہیں پر آپس میں کیا کر لیں؟ صلح کر لیں اور اس کو آدھا آدھا تقسیم کر لیں۔ اور اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ کوئی شخص ایک عورت کو اس کی پھوپھی کے ساتھ اپنے نکاح میں جمع نہیں کر سکتا۔ ایک شخص کے عقد میں ایک عورت ہے اور اب وہ اس بیوی کی پھوپھی سے بھی نکاح کرنا چاہتا ہے، دونوں کو اپنے نکاح میں رکھنا چاہتا ہے، صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ یہ جائز نہیں۔ اسی طرح کسی عورت کو اس کی خالہ کے ساتھ ایک شخص کے نکاح میں جمع کرنا جائز نہیں۔ اور یہ دو مسئلے تھے لیکن ان کی دو دو صورتیں صاحبِ ہدایہ نے ذکر فرمائیں۔ کہ پہلے نکاح کس سے کیا مثلاً؟ بھانجی سے نکاح کیا ہے اور پھر خالہ سے نکاح کرنا چاہتا ہے، تو یہ جائز نہیں۔ یا دوسری صورت: پہلے خالہ سے نکاح کیا ہے اور اب بھانجی سے نکاح کرنا چاہتا ہے، یہ جائز نہیں۔ جبکہ پھوپھی والے مسئلے میں بھی دو صورتیں بنا لیں: ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا ہے یعنی بھتیجی سے پہلے نکاح کیا ہے اور اب اس کی پھوپھی سے نکاح کرنا چاہتا ہے، نہیں بھئی، دونوں کو جمع نہیں کر سکتا۔ یا اس کا برعکس کر لیں کہ پہلے پھوپھی سے نکاح کیا اور پھر اس کی بھتیجی سے نکاح کرنا چاہتا ہے، تو یہ جائز نہیں۔ تو سوال پیدا ہوا کہ یہ متن تو لمبا ہو گیا، ایک ہی مسئلے کو دو الگ الگ صورتوں کے ساتھ ذکر کر دیا۔ تو میں نے بتلایا تھا کیونکہ حدیث کے اندر اس طرح آیا ہے، اس لیے صاحبِ قدوری نے بھی ان دونوں کو جمع فرما دیا بھئی۔ اور حدیث میں اس لیے جمع آیا ہے کیونکہ کسی انسان کے ذہن میں شبہ آ سکتا ہے کہ اگر کسی کے عقد میں اعلیٰ عورت ہو تو اعلیٰ کے ہوتے ہوئے ادنیٰ کے ساتھ نکاح جائز نہیں ہوتا، لیکن اگر ادنیٰ ہو نکاح میں پہلے اور پھر اعلیٰ سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو وہ جائز ہوتا ہے۔ مثلاً دیکھو، کوئی شخص جب نکاح کرنا چاہتا ہے اس کو اجازت ہے، وہ چاہے تو آزاد عورت سے نکاح کرے اور چاہے تو باندی سے نکاح کرے۔ باندی کا چونکہ مہر کم ہوتا ہے تو اگر ایک شخص کے پاس مال کم ہے یا ویسے ہی وہ باندی سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو باندی کے ساتھ بھی وہ نکاح کر سکتا ہے۔ لیکن ضروری ہے کہ اس شخص کے عقد میں پہلے کوئی آزاد عورت نہ ہو۔ یعنی ایک شخص کے عقد میں، نکاح میں ایک آزاد عورت موجود ہے اور اس کے بعد وہ ایک باندی سے نکاح کرنا چاہتا ہے، اس کی اجازت نہیں ہے بھئی۔ لہٰذا آزاد عورت کے نکاح میں ہوتے ہوئے باندی کے ساتھ نکاح جائز نہیں۔ لیکن اس کا اگر برعکس کر لیں، کسی شخص کے نکاح میں باندی ہے اور وہ اب آزاد عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو یہ جائز ہے بھئی؛ کیونکہ ادنیٰ کے بعد وہ کس سے نکاح کر رہا ہے؟ اعلیٰ سے یعنی آزاد سے، تو یہ جائز ہے۔ تو یہاں پر بھی کسی کے ذہن میں یہ شبہ آ سکتا ہے کہ پھوپھی تو ہے اعلیٰ کیونکہ وہ اصول کی طرف ہے، باپ کی بہن ہے۔ خالہ تو ہے اعلیٰ کیونکہ وہ ماں کی بہن ہے، اصول کی طرف ہے۔ اور نیچے جو بھانجی اور بھتیجی ہے، وہ تو ادنیٰ ہے، وہ تو ان کی اولاد کی طرح ہے بھئی؛ کیونکہ بھئی بہنوں کی اولاد بھی اپنی اولاد کی طرح ہوتی ہے۔ تو لہٰذا کسی کے ذہن میں شبہ آ سکتا تھا کہ اعلیٰ کے اوپر ادنیٰ کے ساتھ نکاح جائز نہیں ہوتا لیکن ادنیٰ کے اوپر اعلیٰ کے ساتھ نکاح جائز ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر ایک شخص کے عقد میں ایک عورت ہے اور وہ اس عورت کی پھوپھی یا خالہ سے نکاح کرنا چاہتا ہے، تو بھتیجی یا بھانجی ادنیٰ ہوتی ہے اور ان کے بعد کس کو لانا چاہتا ہے؟ پھوپھی یا خالہ کو، تو ادنیٰ کے اوپر اعلیٰ وہ لا سکتا ہے۔ لیکن اگر اس کے شخص کے عقد میں ایک عورت ہے اور وہ اس کی عورت کی بھانجی یا بھتیجی سے بھی نکاح کرنا چاہتا ہے، یعنی پھوپھی اور خالہ کے ہوتے ہوئے اس عورت کی بھتیجی یا بھانجی سے نکاح کرنا چاہتا ہے، یہ تو اعلیٰ کے بعد ادنیٰ کا لانا ہوا اور یہ تو جائز نہیں۔ تو حدیث میں دونوں کا ذکر آ گیا کہ نہیں بھئی، اعلیٰ یا ادنیٰ کو نہیں دیکھنا بس یہ دو عورتیں جن میں بھتیجی یا پھوپھی والا رشتہ ہو یا خالہ اور بھانجی والا رشتہ ہو، ان کو ایک شخص اپنے عقدِ نکاح میں جمع نہیں کر سکتا۔ اور اس کی وجہ بھی صاحبِ ہدایہ نے بتلائی تھی۔ وجہ یہ کہ پھوپھی اور بھتیجی میں یا خالہ اور بھانجی میں محبت ہوتی ہے بھئی۔ اور جب کوئی شخص ان دونوں کو اپنے نکاح میں لائے گا تو یہ ایک دوسرے کی سوکنیں بن جائیں گی اور سوکنوں کے اندر طبعاً نفرت اور بغض ہوتا ہے۔ تو لہٰذا وہ جو محبت والا رشتہ تھا، اس نکاح کی وجہ سے وہ خراب ہو گیا، وہ قطعِ تعلق تک لے گیا، قطعِ رحمی تک لے گیا۔ اور شریعت وہ تو رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیتی ہے، وہ رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم دیتی ہے، وہاں قطعِ رحمی یا قطعِ تعلق کی اجازت نہیں۔ تو لہٰذا یہ نکاح ہمیں کہاں تک پہنچائے گا؟ قطعِ رحمی تک یا یوں کہو قطعِ تعلق تک پہنچائے گا، اور شریعت تو قطعِ تعلق کی اجازت نہیں دیتی، لہٰذا اس لیے یہ نکاح جائز نہیں۔ پھر یہاں اشکال ہوتا تھا کہ آپ نے ہمیں کہا کہ پھوپھی اور بھتیجی کو جمع کرنا حرام ہے ایک شخص کے عقد میں، خالہ اور بھانجی کو ایک شخص کے عقد میں جمع کرنا حرام ہے۔ بھئی، ان کا ذکر تو قرآن میں کہیں نہیں آیا۔ قرآن میں تو ان کا ذکر نہیں ہے، تو یہ تو آپ حدیث کے ذریعے کتاب اللہ پر زیادتی کر رہے ہیں۔ تو صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ بھئی یہ حدیث خبرِ مشہور ہے اور خبرِ مشہور کے ذریعے کتاب اللہ پر زیادتی جائز ہے۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا خبرِ مشہور سے مراد علمائے اصولِ فقہ والی خبرِ مشہور ہے۔ ایک خبرِ مشہور ہے محدثین والی اور ایک خبرِ مشہور ہے علمائے اصولِ فقہ والی، دونوں میں فرق ہے بھئی۔ علمائے حدیث جو ہیں وہ حدیث کی تقسیم ثنائی کرتے ہیں یعنی دو قسمیں بناتے ہیں کہ حدیث یا خبرِ متواتر ہو گی یا خبرِ واحد ہو گی۔ اور خبرِ متواتر جس کے روایت کرنے والے ہر زمانے میں اتنے افراد ہوں کہ عقل ان کے اجتماع علی الکذب کو محال سمجھے، عقل آپ کو بتلا دے کہ اتنے لوگ جھوٹ پر جمع نہیں ہو سکتے بھئی۔ جب اتنے لوگ ہر ہر زمانے میں اس کو نقل کرنے والے ہیں تو بات ایسی ہی ہے، جیسے قرآن بھئی۔ قرآن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک ہر ہر زمانے میں اتنے زیادہ لوگ نقل کرنے والے ہیں کہ ان کا اجتماع علی الکذب محال ہے، اتنے لوگ جھوٹ پر جمع نہیں ہو سکتے بھئی۔ معلوم ہوا یہ وہی قرآن ہے جو حضور علیہ السلام پر نازل ہوا تھا، اس میں ایک حرف کی بھی کمی بیشی نہیں ہے بھئی۔ تو یہ خبرِ متواتر ہے۔ اور اس کے مقابلے میں خبرِ واحد دوسری قسم ہے۔ محدثین کے نزدیک دو ہی قسمیں ہیں حدیث کی: یا خبرِ متواتر ہو گی یا خبرِ واحد۔ خبرِ واحد بھی کہتے ہیں، خبرِ آحاد بھی کہتے ہیں، دونوں اسی کے نام ہیں۔ خبرِ واحد جو ہے پھر اس کی تین قسمیں ہیں: خبرِ مشہور، خبرِ عزیز اور خبرِ غریب۔ خبرِ مشہور وہ خبرِ واحد ہے جس کے روایت کرنے والے کسی زمانے میں تین سے کم نہ ہوں۔ جبکہ خبرِ عزیز یا حدیثِ عزیز وہ ہے جس کے روایت کرنے والے کسی ایک زمانے میں یا ہر زمانے میں دو ہوں بھئی۔ کتنے ہوں؟ دو ہوں۔ اور خبرِ غریب وہ ہے جس کے روایت کرنے والے کسی ایک زمانے میں یا ہر زمانے میں ایک ہو بھئی۔ تو معلوم ہوا عند المحدثین یہ خبرِ مشہور خبرِ واحد کی قسم ہے۔ اور جبکہ اصولیین جو ہیں وہ حدیث کی تقسیم ثلاثی کرتے ہیں، تین قسمیں بناتے ہیں کہ حدیث جو ہے یا تو وہ خبرِ متواتر ہو گی، یا خبرِ مشہور ہو گی، یا خبرِ واحد ہو گی۔ خبرِ واحد ہو گی، خبرِ متواتر کی تو وہی تعریف کہ جس کے روایت کرنے والے ہر زمانے میں اتنے افراد ہوں کہ عقل ان کے اجتماع علی الکذب کو محال سمجھے۔ اور خبرِ مشہور وہ ہے کہ جس کے روایت کرنے والے پہلے زمانے میں تو اتنے زیادہ نہیں، مثلاً ایک یا دو صحابہ سے مروی ہے لیکن آگے تابعین اور تبع تابعین کے زمانے میں اس حدیث کو شہرت حاصل ہو گئی، مشہور ہو گئی، اس زمانے میں اس کو روایت کرنے والے سینکڑوں لوگ موجود ہیں یا ہزاروں لوگ موجود ہیں، تابعین اور تبع تابعین کے زمانے میں اس کو روایت کرنے والے بہت زیادہ ہیں، تو یہ خبرِ مشہور ہے۔ یہ خبر معلوم ہوا اس کو امت نے قبول کر لیا ہے کہ یہ اسی طرح ہے، بات ایسی ہی ہے، تو یہ خبرِ مشہور ہے۔ اور یاد رکھو صحابہ سارے کے سارے عادل ہیں بھئی۔ جب صحابی ایک حدیث کو روایت کر رہا ہے، معلوم ہوا بات ایسی ہی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ جبکہ خبرِ واحد وہ ہے کہ جس کے روایت کرنے والے صحابہ کے بعد کے زمانے میں شہرت کو نہ پہنچیں بھئی۔ ایک یا دو روایت کر رہے ہیں یا کم لوگ روایت کر رہے ہیں۔ تو حاصلِ کلام یہ ہوا کہ محدثین کے نزدیک خبرِ مشہور خبرِ واحد ہی ہے؛ کیونکہ وہ اس کی قسم ہے نا۔ جیسے کلمہ کی کتنی قسمیں ہیں؟ اسم، فعل اور حرف۔ تو ہر قسم کو آپ کہہ سکتے ہیں یہ کلمہ ہے۔ اسم کلمہ ہے، فعل کلمہ ہے، حرف کلمہ ہے، تو ہر ایک پر کلمہ کا لفظ بول سکتے ہیں کیونکہ یہ کلمہ کی قسمیں ہیں۔ اور اسی طرح یہ محدثین کے نزدیک خبرِ مشہور، خبرِ عزیز، خبرِ غریب، یہ خبرِ واحد کی قسمیں ہیں تو ان میں سے ہر ایک کو خبرِ واحد کہہ سکتے ہیں کیونکہ یہ اسی کی قسمیں ہیں۔ خبرِ مشہور بھی کیا ہے؟ خبرِ واحد۔ خبرِ عزیز بھی کیا ہے؟ خبرِ واحد۔ اور خبرِ غریب بھی کیا ہے؟ خبرِ واحد؛ کیونکہ یہ خبرِ واحد ہی کی قسمیں ہیں۔ جبکہ فقہاء میں نے بتلایا وہ ثلاثی تقسیم کرتے ہیں۔ فقہاء کے نزدیک ایک خبرِ متواتر ہے، ایک خبرِ مشہور ہے اور ایک خبرِ واحد ہے بھئی۔ تو خبرِ مشہور اور خبرِ واحد ایک دوسرے کے مقابلے میں ہیں، جو خبرِ مشہور ہے وہ خبرِ واحد نہیں اور جو خبرِ واحد ہے وہ خبرِ مشہور نہیں ہے بھئی۔ فرق سمجھ میں آیا؟ اچھا، تو خبرِ مشہور جب امت نے اس کو قبول کر لیا، صحابہ کے بعد وہ شہرت کی حد تک پہنچ گئی تو معلوم ہوا بات ایسی ہی ہے۔ بات تو اس کو خبرِ مشہور کہیں گے۔ ہاں البتہ متواتر سے اس کا درجہ کم ہی ہے بہرحال بھئی۔ خبرِ متواتر اس کے تو ہر زمانے میں نقل کرنے والے اتنے زیادہ لوگ ہوتے ہیں، جبکہ خبرِ مشہور میں خبرِ مشہور جو ہے وہ صحابہ کے زمانے کے بعد پھر شہرت کی حد تک پہنچ گئی۔ تو یہ اس کا مقام بھی بڑا اعلیٰ ہے لیکن بہرحال خبرِ متواتر والا مقام نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو ضابطہ بتلایا تھا کہ کن دو عورتوں کو عقد میں جمع کرنا جائز ہے اور کن کو جمع کرنا جائز نہیں؟ بتلایا کہ وہ دو عورتیں کہ ان میں سے ہر ایک کو باری باری مرد فرض کریں تو ان کا آپس میں نکاح جائز نہ ہو، یعنی دونوں طرف سے حرمت آ رہی ہو، تو ان دو عورتوں کو کوئی ایک شخص اپنے نکاح میں جمع نہیں کر سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جیسے بہنیں ہیں بھئی، بہنوں میں سے دیکھو ایک کو مذکر فرض کریں تو کیا رشتہ ہوا آپس میں؟ بہن بھئی والا، اور بہن بھئی کا نکاح آپس میں حرام ہوتا ہے۔ تو لہٰذا دیکھو ایک طرف سے حرمت آ گئی۔ اب دوسری بہن کو ذرا مذکر فرض کرو، یہ اسی طرح مونث ہے اور دوسری کیا ہے؟ مذکر، اب بھی وہی بھئی بہن والا رشتہ آیا تو دیکھو اب بھی نکاح آپس میں جائز نہیں۔ تو معلوم ہوا حرمت دونوں طرف سے آ رہی ہے، اسی لیے شریعت نے دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اسی طرح پھوپھی اور بھتیجی کو ذرا دیکھ لیں، پھوپھی اور بھتیجی کو دیکھ لیں، ذرا پھوپھی کو مرد تصور کریں۔ پھوپھی کس کو کہتے ہیں؟ باپ کی بہن۔ یہ مونث کے بجائے اگر مذکر ہو تو باپ کا بھئی ہوا اور گویا چچا ہوا، اور دوسری طرف کون ہے؟ بھتیجی، اور چچا پر بھتیجی حرام ہوتی ہے کیونکہ وہ اس کے بھئی کی اولاد ہے اور بھئی کی اولاد بھی اپنی اولاد کی طرح ہوتی ہے، ان سے نکاح کی کوئی صورت نہیں۔ تو دیکھو ہم نے پھوپھی کو مرد تصور کیا تو اس کا نکاح بھتیجی سے حرام ہے۔ اب ذرا بھتیجی کو مرد تصور کرو اور پھوپھی کو اسی طرح مونث رہنے دو۔ بھتیجی کو مرد تصور کیا تو اس مرد پر اپنی پھوپھی حرام ہے کیونکہ قرآن میں اللہ نے منع فرمایا ہے کہ پھوپھی اور خالائیں کیا ہیں انسان پر؟ حرام ہیں، تو دیکھو بھتیجی کو بھی مرد تصور کیا تو بھی حرمت آ رہی ہے۔ تو دونوں طرف سے حرمت آ رہی ہے، لہٰذا پھوپھی اور بھتیجی ان کو کسی ایک شخص کے نکاح میں جمع کرنا جائز نہیں۔ اسی طرح خالہ اور بھانجی بھی ہیں بھئی۔ ضابطہ سمجھ میں آ گیا؟ کیا ضابطہ؟ کہ وہ دو عورتیں کہ ان میں سے ہر ایک کو باری باری مرد فرض کریں تو ان کا آپس میں نکاح حرام ہو، تو ان دو عورتوں کو کوئی ایک شخص اپنے نکاح میں جمع نہیں کر سکتا۔ اور پھر آپ کو بتلایا تھا صاحبِ ہدایہ نے کہ ایک شخص جو ہے وہ اپنی بیوی کے پہلے خاوند کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔ مثلاً ایک شخص کے عقد میں ایک عورت ہے لیکن یہ عورت پہلے زید کی بیوی تھی بھئی، اور اس زید کی ایک بیٹی ہے وہ کسی اور بیوی سے ہے اس بیوی سے نہیں، وہ زید کی بیٹی کسی اور بیوی سے ہے۔ تو یہ شخص جس کے عقد میں یہ عورت ہے جو پہلے زید کی بیوی تھی، اب یہ شخص اس کے ساتھ وہ زید کی بیٹی کو بھی جمع کرنا چاہتا ہے، تو کہتے ہیں: یہ جمع کر سکتا ہے، ان کو جمع کرنا جائز ہے؛ کیونکہ اس عورت میں اور وہ جو اس کے پہلے خاوند کی بیٹی ہے، نہ تو ان میں رضاعت والا کوئی رشتہ ہے اور نہ کوئی اور قریبی رشتہ ان میں موجود ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، ان دو عورتوں کو بھی کوئی شخص نکاح میں جمع نہیں کر سکتا۔ وجہ یہ کہ اگر اس پہلے خاوند کی بیٹی کو مرد فرض کیا جائے اس کا اس عورت سے نکاح حرام ہو جاتا ہے کیونکہ یہ عورت اس کے باپ کی بیوی رہ چکی ہے، اور آپ نے پڑھا تھا قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: ولا تنكحوا ما نكح آباؤكم، جن عورتوں سے تمہارے آبا نے نکاح کیا ہے ان سے تم نکاح نہ کرو بھئی۔ تو معلوم ہوا پہلے خاوند کی بیٹی کو مرد فرض کریں تو یہ عورت اس پر کیا ہے؟ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام، تو ایک طرف سے حرمت آ رہی ہے۔ لیکن ہم کہتے ہیں ایک طرف سے حرمت کافی نہیں، دونوں طرف سے حرمت ہونی چاہیے۔ اگر اس عورت کو مرد فرض کریں تو اس کا اس لڑکی سے نکاح جائز ہے کیونکہ وہ لڑکی اس کی سوتیلی بیٹی ہوئی۔ کیا ہوئی؟ سوتیلی بیٹی، اس کے خاوند کی بیٹی ہے۔ اس کو اب ہم نے مرد فرض کر لیا تو یہ اس کی سوتیلی بیٹی ہوئی اور سوتیلی بیٹی سے بھی نکاح کی گنجائش ہوتی ہے۔ دیکھو یہ مسئلہ پہلے بیان ہو چکا، میں نے آپ کو بتلایا تھا بھئی پھر سنو: ایک شخص کسی عورت سے نکاح کرتا ہے، نکاح کرتے ہی عورت کی ماں فوراً کیا ہو جاتی ہے؟ حرام، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے، جبکہ اس عورت کی بیٹی اس وقت حرام ہو گی جب اس عورت سے صحبت کر لے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا سوتیلی بیٹی کب حرام ہو گی؟ جب اس بیوی سے صحبت کر لے گا۔ معلوم ہوا سوتیلی بیٹی سے بھی نکاح کی گنجائش ہوتی ہے جب تک اس کی جو ماں ہے اس کے ساتھ خاوند نے صحبت نہیں کی۔ تو مسئلہ چل رہا تھا ایک شخص ایک عورت سے نکاح کرتا ہے اور اس عورت کا جو پہلا خاوند ہے اس کی ایک بیٹی ہے کسی اور بیوی سے، یہ شخص اس عورت کے ساتھ اس کے پہلے خاوند کی بیٹی کو جمع کرنا چاہتا ہے، تو کہتے ہیں جمع کر سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ حرمت ایک طرف سے آ رہی ہے، دونوں طرف سے حرمت نہیں آ رہی۔ اور پھر کل میں نے بتلایا تھا کہ وہ کون کون سی چیزیں ہیں جو نکاح کے لیے مانع بنتی ہیں؟ اور میں نے بتلایا کہ نکاح سے مانع جو ہیں وہ پانچ چیزیں ہیں بھئی: نسب ہے، سبب ہے، جمع ہے، حق الغير ہے، اور دین ہے، یہ آپ کو یاد ہونا چاہیے بھئی۔ دیکھو خلاصہ ہے سب کا، کیا کیا ہے؟ نسب، بعض عورتیں نسب کی وجہ سے انسان پر حرام ہو جاتی ہیں جیسے ماں ہے، بہن ہے، بیٹی ہے وغیرہ۔ اور بعض چیزیں جو ہیں وہ سبب کی وجہ سے حرام ہوتی ہیں اور سبب دو ہیں: رضاعت اور صہریت۔ صہریت ص کے ساتھ ہے بھئی۔ رضاعت کی وجہ سے بھی حرمت آ جاتی ہے جیسے نسب کی وجہ سے حرمت آتی ہے۔ رضاعی ماں بھی انسان پر حرام اور اس کی اولاد بھی انسان پر حرام ہے بھئی۔ اور اسی طرح بعض جگہ حرمت سسرالی رشتے کی وجہ سے آ جاتی ہے، جیسے میں نے بتایا: ایک شخص ایک عورت سے نکاح کرتا ہے تو نکاح کرتے ہی اس عورت کی ماں اس پر حرام کیونکہ وہ اس کی ساس بن گئی۔ اور اس عورت سے جب صحبت کر لے گا تو اس عورت کی جو بیٹی ہے یعنی پہلے خاوند سے وہ بھی اس پر کیا ہو جائے گی؟ حرام۔ تو نکاح سے مانع ایک تو نسب ہے، دوسرا سبب ہے اور سبب کے اندر کیا کیا آ گئے؟ رضاعت بھی آ گئی اور صہریت یعنی سسرالی رشتہ بھی آ گیا۔ اور تیسرا ہے سبب جمع، یعنی دو بہنوں کو نکاح میں جمع نہیں کر سکتا کوئی شخص، اور اسی طرح پھوپھی اور بھتیجی اور خالہ اور بھانجی کو بھی کوئی شخص نکاح میں جمع نہیں کر سکتا بھئی، تو یہ تیسرا مانع ہے جمع بھئی، بعض اوقات یہ جمع مانع بن جاتی ہے۔ اور بعض اوقات جو مانع ہوتا ہے وہ غیر کا حق ہوتا ہے، غیر کا حق۔ مثلاً ایک عورت زید کی منکوحہ ہے، اب اس سے کوئی اور نکاح نہیں کر سکتا بھئی کیونکہ یہ زید کا حق ہے۔ یہ عورت کس کا حق ہے؟ زید کا حق ہے، اس کی منکوحہ ہے، اس کے نکاح میں ہے، لہٰذا کوئی اور اس سے نکاح نہیں کر سکتا۔ ہاں اگر زید نے اس عورت کو طلاق دے دی یا زید کا انتقال ہو گیا تو پھر اس کے ساتھ کوئی اور نکاح کر سکتا ہے۔ تو دیکھو اس عورت سے، یہ جو زید کی منکوحہ ہے مثلاً، اس سے بھی نکاح حرام ہوا۔ کیا وجہ؟ مانع کیا چیز ہے؟ حق الغير، کہ یہ غیر کا حق ہے۔ اور اسی طرح بعض اوقات مانع جو ہے وہ دین ہوتا ہے۔ آپ نے پڑھا کہ اہلِ کتاب عورت سے نکاح جائز ہے۔ لیکن اہلِ کتاب کے علاوہ کوئی اور دین ہے عورت کا یعنی وہ آسمانی دین کا انکار کرتی ہے، مثلاً وہ عورت مجوسی ہے یا بت پرست ہے تو ان کے ساتھ نکاح کی کوئی صورت نہیں۔ تو جیسے صرف اہلِ کتاب عورتوں سے نکاح جائز ہے تو صحبت بھی صرف اہلِ کتاب باندیوں سے ہی جائز ہے بھئی۔ باندی اگر غیر مسلم ہے تو اس کے ساتھ صرف اسی صورت میں آقا کے لیے صحبت جائز ہو گی جب وہ اہلِ کتاب میں سے ہو باندی۔ اور اگر وہ باندی بت پرست ہے یا آتش پرست ہے تو آقا کے لیے اس سے صحبت جائز نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر۔ کہتے ہیں: ومن زنى بامرأة حرمت عليه أمها وبنتها وقال الشافعي رحمه الله: الزنا لا يوجب حرمة المصاهرة لأنها نعمة فلا تنال بالمحظور۔ بھئی دیکھیے، آپ نے پڑھا ہے کہ جب کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرتا ہے تو نکاح کرتے ہی اس عورت کی ماں اس شخص پر حرام ہو جاتی ہے کیونکہ وہ اس کی ساس بن گئی۔ اور جب یہ شخص اپنی اس بیوی سے صحبت کر لے گا تو اس بیوی کی جو بیٹی ہے وہ بھی اس شخص پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہو گئی۔ تو خاوند پر بیوی کے اصول اور فروع جو ہیں وہ حرام ہوتے ہیں۔ اسی طرح یاد رکھو بیوی پر خاوند کے اصول اور فروع حرام ہو جاتے ہیں۔ یہ عورت جو ہے اس کو اگر یہ خاوند طلاق دے دے اور بعد میں یہ عورت اپنے اس سابقہ خاوند کے باپ سے یا اس کے بیٹے سے نکاح کرنا چاہے تو کوئی صورت نہیں ہے۔ تو میاں بیوی پر ایک دوسرے کے اصول اور فروع حرام ہوتے ہیں، یاد رکھو اس کو کہتے ہیں حرمتِ مصاہرت۔ کیا کہتے ہیں؟ حرمتِ مصاہرت۔ مصاہرت کا معنی ہے سسرالی رشتہ اور حرمت کا معنی ہے حرام ہونا یا اس کا معنی کر لیں احترام بھئی، جو بھی ترجمہ آپ کو مناسب لگے۔ تو حرمتِ مصاہرت کا معنی ہوا سسرالی رشتوں کا احترام یا اس کا معنی کر لیں سسرالی رشتوں کا حرام ہونا۔ تو دیکھو یہ جو حلال تعلق تھا میاں بیوی کے درمیان، دونوں کے درمیان یہ جو نکاح ہوا اور صحبت ہوئی، اس کی وجہ سے دونوں پر ایک دوسرے کے اصول اور فروع حرام ہو گئے۔ اسی طرح عند الاحناف جب کوئی شخص کسی عورت سے زنا کر لے، تو زنا کرتے ہی اس عورت کے اصول اور فروع اس شخص پر حرام ہو گئے۔ اسی طرح اس شخص کے اصول اور فروع جو ہیں اس عورت پر حرام ہو گئے۔ یہ شخص اب بعد میں اس عورت کی ماں سے یا بیٹی سے کسی وقت نکاح کرنا چاہتا ہے، نہیں بھئی، اب یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تم پر حرام ہو چکے ہیں۔ اور اسی طرح یہ عورت بعد میں اس شخص کے باپ سے یا اس کے بیٹے سے نکاح کرنا چاہتی ہے، نہیں بھئی، اب وہاں نکاح کی کوئی صورت نہیں ہے بھئی۔ تو یہ ہے حرمتِ مصاہرت۔ تو عند الاحناف جیسے یہ حرمتِ مصاہرت حلال رشتے کی وجہ سے یعنی نکاح اور خاوند کے صحبت کرنے کی وجہ سے آ جاتی ہے، اسی طرح یہ جو حرمتِ مصاہرت ہے یہ حرام تعلق یعنی زنا کی وجہ سے بھی آ جاتی ہے۔ اور یاد رکھو عند الاحناف یہ بڑا نازک مسئلہ ہے بھئی یہ حرمتِ مصاہرت والا۔ زنا تو چھوڑو، یہ صرف اگر کوئی شخص کسی عورت کو شہوت سے ہاتھ لگا دے تو بھی حرمتِ مصاہرت آ جائے گی۔ مثلاً ایک شخص نے ایک عورت کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا شہوت کے ساتھ، درمیان میں کوئی حائل اور کوئی رکاوٹ نہیں تھی یعنی درمیان میں کوئی کپڑا وغیرہ نہیں تھا، براہِ راست ہاتھ کے اوپر ہاتھ رکھا شہوت کے ساتھ تو حرمتِ مصاہرت آ گئی۔ اس عورت کے اصول اور فروع اب اس مرد پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہو گئے، اب وہاں نکاح کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اور اسی طرح اس مرد کے اصول اور فروع جو ہیں اس عورت کے لیے ہمیشہ کے لیے حرام ہو گئے، اب وہاں نکاح کی کوئی صورت نہیں ہے بھئی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو حرمتِ مصاہرت ہے یہ حلال تعلق کی وجہ سے تو آئے گی، میاں بیوی کے اصول و فروع تو ایک دوسرے پر حرام ہوں گے لیکن زنا جو فعلِ ممنوع ہے، فعلِ حرام ہے، اس کی وجہ سے یہ حرمتِ مصاہرت نہیں آئے گی۔ اس لیے کیونکہ حرمتِ مصاہرت اللہ کی نعمت ہے بھئی اور حرام کام کی وجہ سے نعمت اور انعام نہیں ملتا۔ حرام کام تو سزا کا موجب ہے، اس کی وجہ سے تو سزا ملا کرتی ہے، اس کی وجہ سے حرمتِ مصاہرت جیسی نعمت اور انعام نہیں ملے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو ہم کہتے ہیں: نہیں، زنا کی وجہ سے بھی حرمتِ مصاہرت آ جائے گی۔ اور ہمارے فقہائے احناف نے غور کیا کہ حرمتِ مصاہرت کی وجہ کیا ہے؟ یہ میاں بیوی پر ایک دوسرے کے اصول اور فروع کیوں حرام ہوتے ہیں؟ فقہاء نے غور کیا تو اس علت تک پہنچے کہ دراصل یہ میاں بیوی جو ہے ان کے درمیان جو صحبت ہے وہ بچے تک پہنچانے والی ہے، اس صحبت کے نتیجے میں اولاد حاصل ہوتی ہے اور اولاد جو ہوتی ہے وہ خاوند کا بھی جز ہے اور بیوی کا بھی جز۔ میاں بیوی نے صحبت کی بھئی اور اس سے کیا حاصل ہو گی؟ اولاد، بچہ حاصل ہو گا اور وہ بچہ خاوند کا بھی جز ہے اور بیوی کا بھی جز ہے۔ اسی لیے تو دونوں کی طرف نسبت کی جاتی ہے۔ کوئی کسی وقت پوچھے کہ یہ بچہ کس کا ہے؟ تو مثلاً کہہ دیتے ہیں یہ زید کا بچہ ہے، دیکھو پورے بچے کی نسبت زید کی طرف کر دی، اور کبھی پورے بچے کی نسبت بیوی کی طرف کر دیتے ہیں کہ یہ کس کا بچہ ہے؟ وہ کہتے ہیں مثلاً یہ زینب کا بچہ ہے۔ تو دیکھو بچہ دونوں کا جز ہے بھئی، خاوند کا بھی جز اور بیوی کا بھی جز۔ تو بچے میں آ کر دونوں کے جز مل گئے یعنی خاوند اور بیوی میں اتحاد آ گیا، خاوند اور بیوی ایک فرد کے درجے میں ہو گئے۔ خاوند اور بیوی ایک فرد کے درجے میں ہو گئے، تو جو خاوند کے اصول و فروع ہیں وہ بیوی کے بھی اصول و فروع بن گئے اور جو بیوی کے اصول و فروع ہیں وہ خاوند کے بھی اصول و فروع بن گئے۔ یعنی یوں کہو کہ جیسے انسان پر اپنے اصول اور فروع حرام ہوتے ہیں، جیسے خاوند ہے، خاوند پر اپنے اصول اور فروع حرام ہیں لیکن بچے میں اتحاد ہوا، خاوند اور بیوی کے درمیان دونوں ایک شخص کے درجے میں ہو گئے، تو جو بیوی کے اصول اور فروع ہیں وہ بھی خاوند کے اپنے اصول اور فروع کی طرح ہو گئے۔ اور جب یہ خاوند کے اپنے اصول اور فروع کی طرح ہو گئے تو اپنے اصول اور فروع تو انسان پر حرام ہوتے ہیں، اس لیے وہ بھی اس پر حرام ہو گئے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ بھئی دیکھو نا، میاں بیوی کے درمیان یہ صحبت کہاں تک پہنچائے گی؟ اولاد تک، بچہ پیدا ہو گا اور بچہ باپ کا بھی جز ہے اور ماں کا بھی جز ہے۔ اب ذرا ایک طرف سے دیکھو، یہ بچہ خاوند کا جز ہے اور اس بچے کا ایک جز بیوی کی طرف سے بھی ہے، گویا بیوی بھی اس بچے کا جز ہوئی۔ تو بچہ جز ہوا خاوند کا اور بچے کا جز کیا ہوا؟ بیوی یعنی وہ جو ماں ہے اس کی، بیوی اس کا جز ہوئی۔ تو بیوی جو ہے خاوند کے جز کا جز ہوئی۔ بیوی کیا ہو گئی؟ خاوند کا جز جو بچہ ہے اس کا جز ہو گئی، اور جز کا جز بھی اپنا ہی جز ہوتا ہے۔ یوں کہو اپنے جز کا جز بھی اپنا ہی جز ہوتا ہے۔ مثلاً میرا ہاتھ جو ہے یہ میرا جز ہے اور اس ہاتھ کا ایک جز انگلی ہے، تو انگلی میرے جز کا جز ہوئی اور اپنے جز کا جز بھی اپنا جز ہوتا ہے۔ تو یہ انگلی بھی میری اپنی ہے، میرا اپنا جز ہے کیونکہ اپنے جز کا جز اپنا جز ہوتا ہے۔ تو بیوی کیا ہوئی؟ خاوند کے بچے کا جز اور بچہ کیا ہے؟ خاوند کا اپنا جز۔ تو بیوی کیا بن گئی؟ خاوند کے اپنے جز کا جز بن گئی، تو بیوی بھی گویا خاوند کا جز بن گئی۔ جب بیوی خاوند کا جز بن گئی تو بیوی کے اصول و فروع خاوند کے بھی اصول و فروع بن گئے، دونوں ایک فرد کے درجے میں ہو گئے۔ بیوی کیا بن گئی؟ خاوند کا جز بن گئی اور اب بیوی کی طرف سے دیکھو، یہ بچہ کس کا جز؟ بیوی کا اپنا جز، یہ بچہ بیوی کا اپنا جز، بیوی کی طرف سے ہم دیکھ رہے ہیں، اور اس بچے کا ایک جز کس کی طرف سے؟ خاوند کی طرف سے، تو خاوند بھی اس بچے کا جز ہو گیا۔ تو یہ بچہ جو بیوی کا اپنا جز ہے اس کا ایک جز خاوند ہو گیا، تو یہ بیوی کے اپنے جز کا جو جز ہے وہ بھی بیوی کا اپنا جز ہے تو خاوند بھی بیوی کا اپنا جز ہو گیا۔ تو یعنی دونوں میں اتحاد آ گیا، دونوں فردِ واحد کے حکم میں ہو گئے۔ خاوند جو ہے بیوی کا جز بن گیا اور بیوی خاوند کا جز بن گئی، گویا ایک ہی فرد کے درجے میں ہو گئے۔ تو لہٰذا خاوند کے اصول و فروع بیوی کے اصول و فروع بن گئے اور بیوی کے اصول و فروع خاوند کے اصول و فروع بن گئے، تو اس لیے دونوں پر ایک دوسرے کے اصول و فروع حرام ہو گئے کیونکہ وہ ان کے اپنے اصول و فروع بن گئے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو خاوند اور بیوی جو ہیں ان میں اتحاد آ گیا بھئی۔ ان میں دونوں کے جز مل گئے بچے میں اور دونوں میں اتحاد آ گیا تو دونوں شخصِ واحد کے حکم میں ہو گئے اور شخصِ واحد پر اس کے اصول اور فروع حرام ہوتے ہیں، تو خاوند پر بیوی کے اصول اور فروع حرام ہو گئے کیونکہ وہ اس کے اپنے اصول و فروع بن گئے اور بیوی پر خاوند کے اصول و فروع حرام ہو گئے کیونکہ وہ اس کے اپنے اصول اور فروع ہو گئے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو عند الاحناف جس طرح حلال وطی جو ہے وہ ولد تک پہنچانے والی ہے اور اس کی وجہ سے پھر میاں بیوی میں کیا آ جاتا ہے؟ اتحاد آ جاتا ہے، اسی طرح یہ جو حرام وطی ہے یہ بھی بچے تک پہنچانے والی ہے۔ ولد ہو یا نہ ہو اس کی بات نہیں ہو رہی، لیکن یہ وطی، یہ جو زنا ہے، یہ حرام وطی ہے، یہ بھی کہاں تک پہنچانے والی ہے؟ یہی وطی بچے تک بھی پہنچا دیتی ہے۔ تو یہ جو حرام وطی ہے یہ بھی ولد کا سبب ہے اور ولد کے اندر واطی اور موطوءہ کے اجزاء میں اتحاد آ جاتا ہے، وہ ایک دوسرے کے جز بن جاتے ہیں اور ان پر ایک دوسرے کے اصول اور فروع حرام ہو جاتے ہیں۔ تو جس طرح حلال وطی سے یہ حرمتِ مصاہرت آتی ہے اسی طرح حرام وطی سے بھی یہ حرمتِ مصاہرت آئے گی؛ کیونکہ یہ حرام وطی بھی سبب ہے ولد کا۔ جیسے حلال وطی سبب تھی ولد کا، اسی طرح یہ حرام وطی بھی سبب ہے ولد کا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ولد ہو یا نہ ہو اس کی بات نہیں ہو رہی، لیکن یہ وطی ہے سبب کس کا؟ یہ وطی پہنچانے والی ہے کہاں تک؟ ولد تک پہنچا سکتی ہے، تو یہ ولد کا سبب ہے اور ولد کی وجہ سے واطی اور موطوءہ میں اتحاد آ جاتا ہے، وہ دونوں ایک دوسرے کا جز بن جاتے ہیں۔ تو یہ زانی اور مزنیہ جو ہیں یہ بھی ایک دوسرے کا جز ہو گئے بھئی۔ یہ بھی کیا ہو گئے؟ ایک دوسرے کا جز ہو گئے، تو اس حرام وطی کی وجہ سے بھی حرمتِ مصاہرت آ جائے گی۔ بلکہ عند الاحناف حرام وطی چھوڑو، دواعیِ وطی جو ہیں ان کی وجہ سے بھی حرمتِ مصاہرت آ جائے گی جیسے میں نے بیان کیا، اگر کوئی شخص کسی عورت کو بلا حائل کے شہوت کے ساتھ چھو لے تو وہاں بھی حرمتِ مصاہرت آ جائے گی۔ دواعیِ وطی یعنی وہ چیزیں جو وطی کی طرف انسان کو لے جانے والی ہیں یعنی شہوت سے ہاتھ لگانا یا بوسہ لے لینا، یہ بھی کیا ہیں؟ حرمتِ مصاہرت کا سبب ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب دیکھیے بھئی کتاب پر۔ کہتے ہیں: ومن زنى بامرأة اور جس شخص نے زنا کیا کسی عورت سے، حرمت عليه أمها وبنتها تو حرام ہو جائے گی اس شخص پر اس عورت کی ماں اور اس کی بیٹی، وقال الشافعي رحمه الله اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: الزنا لا يوجب حرمة المصاهرة، لا يوجب أي لا يثبت، زنا جو ہے وہ ثابت نہیں کرتا حرمتِ مصاہرت کو، لأنها نعمة کیونکہ یہ حرمتِ مصاہرت نعمت ہے، فلا تنال بالمحظور لہٰذا اس کو پایا نہیں جا سکتا، اس کو حاصل نہیں کیا جا سکتا بالمحظور أي بالممنوع۔ محظور کا کیا معنی ہے؟ ممنوع بھئی، محظور ظ کے ساتھ ہے بھئی، ط ظ۔ تو یہ ممنوع کو کہتے ہیں۔ آپ نے فقہ کا مشہور ضابطہ سنا ہو گا: الضرورة تبيح المحظورات بھئی، الضرورة تبيح المحظورات، ضرورت جو ہے وہ مباح کر دیتی ہے، جائز کر دیتی ہے المحظورات ممنوع چیزوں کو بھئی۔ بھئی بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں کہ شرعاً ان کو حرام ہونا چاہیے، ان کو ممنوع ہونا چاہیے، لیکن ضرورت کی وجہ سے شریعت اس کی اجازت دے دیتی ہے۔ اور یاد رکھو ضرورت سے ہر ضرورت نہیں مراد، ورنہ تو پھر ہر شخص کہے گا کہ مجھے اس مسئلے میں یوں ضرورت ہے، بلکہ ضرورت سے مراد وہ ضرورت ہے جو فقہاء بیان فرمائیں بھئی، یعنی جس کے سوا چارہ نہ ہو بھئی، وہ ہے ضرورت۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو وہ فرماتے ہیں: فلا تنال بالمحظور کہ یہ نعمت ہے، اس کو ممنوع فعل کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ ولنا اور ہماری دلیل یہ ہے، أن الوطء سبب الجزئية کہ یہ جو وطی ہے، سبب الجزئية یہ جز ہونے کا سبب ہے، یعنی واطی اور موطوءہ ایک دوسرے کا جز بن جائیں گے۔ واطی اور موطوءہ ایک دوسرے کا جز بن جائیں گے کیونکہ یہ وطی کہاں تک پہنچائے گی؟ بچے تک، اور بچہ دونوں کا جز ہے اور بچے میں دونوں کے جز مل گئے تو دونوں ایک دوسرے کا جز بن گئے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ولنا ہماری دلیل یہ ہے، أن الوطء سبب الجزئية کہ وطی جو ہے یہ جز ہونے کا سبب ہے یعنی واطی اور موطوءہ میں، بواسطة الولد کس کے واسطے سے؟ ولد کے واسطے سے؛ کیونکہ یہ وطی ولد تک پہنچانے والی ہے، حتى يضاف إلى كل واحد منهما كملا۔ بھئی یہاں پر بھی یاد رکھیے یہ حتیٰ نصب نہیں دے گا کیونکہ میں نے آپ کو بتلایا کہ حتیٰ کے نصب دینے کے لیے یعنی حتیٰ کے بعد ان کے مقدر ہونے کے لیے دو شرطیں ہیں بھئی: ایک شرط یہ ہے کہ حتیٰ کا مابعد وہ ماقبل کی نسبت سے مستقبل ہونا چاہیے، اور دوسری شرط یہ ہے کہ وہاں حتیٰ سببیّت یا غایہ کا فائدہ دے رہا ہو، اور یہاں یہ شرطیں پوری نہیں ہیں لہٰذا حتیٰ نصب نہیں دے گا۔ تو کہتے ہیں: حتى يضاف إلى كل واحد منهما كملا، یہاں تک کہ نسبت کی جاتی ہے اس بچے کی ان دونوں میں سے ہر ایک کی طرف کَمَلاً پورے طور پر۔ یعنی پورے بچے کی کبھی نسبت ماں کی طرف کر دی جاتی ہے کہ یہ اس کا بیٹا ہے اور کبھی پورے بچے کی نسبت باپ کی طرف کر دی جاتی ہے کہ یہ اس کا بیٹا ہے۔ فيصير أصولها وفروعها كأصوله وفروعه تو ہو جائیں گے أصولها وفروعها اس عورت کے جو اصول اور فروع ہیں وہ ہو جائیں گے، کیا ہو جائیں گے؟ كأصوله وفروعه جیسے کہ اس وہ واطی کے اصول اور فروع ہیں۔ جب دونوں میں اتحاد آ گیا تو واطی کے اصول و فروع جو ہیں وہ موطوءہ کے اصول و فروع بن گئے اور موطوءہ کے جو اصول و فروع ہیں وہ واطی کے اصول و فروع بن گئے بھئی۔ یہ معنی ہے: فيصير أصولها وفروعها كأصوله وفروعه، تو اس عورت کے اصول اور فروع جو ہیں وہ اس واطی کے اصول اور فروع کی طرح ہو جائیں گے، وكذلك على العكس اور اسی طرح برعکس صورت میں بھی ہو گا۔ یعنی یہ تو ہم نے کیا کہا؟ عورت کے اصول و فروع کس کے بن جائیں گے؟ عورت کے اصول و فروع مرد کے اصول و فروع بن جائیں گے اور اس کا برعکس یعنی مرد کے جو اصول و فروع ہیں وہ عورت کے اصول و فروع بن جائیں گے۔ تو جب عورت کے اصول و فروع مرد کے اصول و فروع بن گئے، اور اپنے اصول و فروع تو آدمی پر حرام ہوتے ہیں، اس لیے اب وہ بھی مرد پر کیا ہو گئے؟ حرام۔ اور مرد کے اصول و فروع جو ہیں وہ عورت کے اصول و فروع بن گئے، تو یہ عورت کے اپنے اصول و فروع بن گئے اور اپنے اصول و فروع انسان پر حرام ہوتے ہیں بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی: والاستمتاع بالجزء حرام إلا في موضع الضرورة۔ بھئی دیکھیے، یاد رکھو ضابطہ بھئی، ضابطہ یاد رکھو: استحقاقِ حرمت میں اصل جز ہے۔ استحقاقِ حرمت میں اصل جز ہے۔ یعنی اصل میں جز جو ہے وہ حرمت کا مستحق ہے۔ جز کو حرام ہونا چاہیے، بھئی ایک شخص ہے اس کی اپنی اولاد وہ اس کا جز ہے، کیا وہ اپنی اولاد سے نکاح کر سکتا ہے؟ نہیں، اپنی اولاد سے نکاح نہیں کر سکتا کیونکہ اپنی اولاد جو ہے وہ سب سے زیادہ حرمت کی مستحق ہے۔ اب یہاں اعتراض ہوتا ہے، اعتراض یہ کہ آپ نے ہمیں کیا کہا کہ ولد دونوں کا جز ہے۔ جب دونوں کا جز ہے تو دونوں میں اتحاد آ گیا، تو خاوند بیوی کا جز بن گیا اور بیوی خاوند کا جز بن گئی، اور اپنا جز تو انسان پہ حرام ہوتا ہے، لہٰذا پھر تو موطوءہ کو واطی پر حرام ہو جانا چاہیے۔ یا اسی طرح بیوی کو خاوند پہ حرام ہو جانا چاہیے ایک ہی دفعہ صحبت کرنے کے بعد۔ صحبت پائی گئی یا نہیں؟ اور یہ صحبت کہاں تک پہنچاتی ہے؟ بچے تک، اور بچے میں کیا ہوتا ہے؟ بچہ دونوں کا جز ہوتا ہے، تو اس میں دونوں کے جزوں کے درمیان اتحاد آ گیا۔ تو خاوند کیا بن گیا بیوی کا؟ جز، اور جز تو انسان پر حرام ہوتا ہے، تو بیوی پر خاوند کو حرام ہو جانا چاہیے ایک ہی وطی کے بعد۔ یا اسی طرح، اسی طرح مثلاً یہ بچہ کس کا ہے؟ خاوند کا ہے، تو یہ خاوند کا جز ہوا اور اس بچے کا ایک جز کس کی طرف سے؟ بیوی کی طرف سے، تو بیوی بھی اس کا جز ہے، تو گویا بیوی خاوند کا جز ہو گئی۔ اور جب بیوی خاوند کا جز ہے تو جز تو انسان پر حرام ہوتا ہے، لہٰذا ایک صحبت کے بعد ہی بیوی کو انسان پر کیا ہو جانا چاہیے؟ حرام ہو جانا چاہیے۔ یا اسی طرح اگر زنا والا فعل ہے، فعلِ ممنوع ہے تو وہاں بھی وہ جو موطوءہ ہے اس کو اس زانی پر حرام ہو جانا چاہیے۔ حالانکہ بیوی تو انسان پر حرام نہیں ہوتی۔ بیوی کیا ایک صحبت سے حرام ہو جاتی ہے؟ بیوی تو انسان پر حرام نہیں ہوتی، بھئی بیوی کے اصول و فروع انسان پر حرام ہوئے ہیں خود بیوی حرام نہیں، لیکن آپ کے ضابطے کے مطابق اے احناف آپ نے ہمیں کیا کہا کہ یہ صحبت کہاں تک پہنچاتی ہے؟ اولاد تک، اور اولاد میں میاں بیوی کے درمیان کیا آیا؟ اتحاد آیا، دونوں ایک دوسرے کا جز بن گئے، جب ایک دوسرے کا جز ہوئے تو ان کو ایک ہی وطی کے بعد ایک دوسرے پر حرام ہو جانا چاہیے۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ ہاں آپ کی بات ٹھیک ہے، استحقاقِ حرمت میں اصل جز ہے، جز کو حرام ہی ہونا چاہیے۔ لیکن، لیکن الضرورة تبيح المحظورات، ضرورت جو ہے وہ ممنوع چیزوں کو مباح کر دیتی ہے۔ تو یہاں جو بیوی کو خاوند کے لیے شریعت نے مباح رکھا کہ بیوی سے صحبت جائز ہے، ضابطے کے مطابق تو حرام ہونی چاہیے لیکن شریعت حرام قرار نہیں دیتی وہ ضرورت کی بنا پر۔ وہ ضرورت کی بنا پر، ورنہ تو جس عورت سے بھی نکاح کرے گا ایک ہی صحبت کے بعد وہ عورت بھی حرام اور اصول و فروع بھی حرام ہو جائیں گے۔ اور اسی طرح ایک ہی صحبت کے بعد بیوی پر اس خاوند کے اصول و فروع بھی حرام ہو جائیں گے اور خاوند بھی حرام ہو جائے گا۔ تو لہٰذا ضرورت تھی، احتیاج تھی اور ضرورت کی بنا پر شریعت جو ہے ممنوع چیز کو مباح قرار دے دیتی ہے، تو یہاں پر بھی یہ میاں بیوی اسی لیے ایک دوسرے کے لیے مباح ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: والاستمتاع بالجزء حرام اور جز سے نفع اٹھانا حرام ہے، إلا في موضع الضرورة مگر ضرورت کے محل میں، ضرورت کی وجہ سے شریعت مباح کر دیتی ہے۔ اور ضابطہ کیا میں نے بتلایا؟ الضرورة تبيح المحظورات، محظور میں نے بتلایا، محظور کا معنی ہے ممنوع، کہ ضرورت جو ہے وہ مباح قرار دے دیتی ہے المحظورات أي الممنوعات، ممنوع چیزوں کو۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ آگے دیکھیے، کہتے ہیں: وهي الموطوءة اور وہ کیا ہے؟ موطوءہ۔ پھر دیکھیے: والاستمتاع بالجزء حرام اور جز سے نفع اٹھانا حرام ہے، إلا في موضع الضرورة مگر ضرورت کے مقام میں کہ وہاں جز سے نفع اٹھا سکتے ہیں، وهي الموطوءة اور وہ کون ہے؟ وہ موطوءہ ہے جس سے وطی کی گئی ہے۔ وہ اگرچہ جز بن گئی ہے لیکن ضرورت کی بنا پر وہ مباح ہے بھئی۔ حاصلِ اشکال پھر دوبارہ سن لیں۔ حاصلِ اشکال یہ ہوا کہ اے احناف آپ نے ہمیں کیا ضابطہ بتایا کہ یہ وطی پہنچانے والی ہے ولد تک، اور ولد میں آ کر خاوند اور بیوی کا اتحاد ہو گیا، دونوں ایک دوسرے کا جز بن گئے۔ لہٰذا اس لیے دونوں پر ایک دوسرے کے اصول و فروع حرام ہو گئے کیونکہ وہ ان کے اپنے اصول و فروع بن گئے۔ تو اس پر اشکال ہوتا ہے، اے احناف یہ آپ کی عجیب دلیل ہے، اصول و فروع تو آپ کہہ رہے ہیں حرام ہو گئے، حالانکہ ضابطہ ہے کہ استحقاقِ حرمت میں اصل جو ہے وہ جز ہوتا ہے۔ استحقاقِ حرمت یعنی حرام ہونے کا جو مستحق ہے وہ اصل میں جز ہوتا ہے۔ تو بچہ کس کا جز؟ خاوند کا جز، اور بچے کا ایک جز کس کی طرف سے؟ بیوی کی طرف سے، تو بیوی بھی کیا ہو گئی؟ خاوند کا جز ہو گئی۔ تو جب بیوی خاوند کا جز ہو گئی تو پھر تو بیوی کو بھی تو حرام ہونا چاہیے خاوند پر، آپ نے اصول اور فروع کو تو حرام قرار دے دیا اور جو استحقاقِ حرمت میں اصل ہے یعنی جز اس کو نہیں حرام قرار دے رہے؟ اشکال سمجھ میں آ رہا ہے؟ کیا اشکال ہوا؟ کہ بیوی خاوند کا جز بن گئی اور جز تو انسان پر کیا ہوتا ہے؟ حرام، تو بیوی کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ حرام۔ آپ جز کو حرام قرار نہیں دے رہے اور اصول و فروع کو حرام قرار دے رہے ہیں۔ تو یہ کیسی دلیل ہے؟ یہاں تو پھر آپ کی اس دلیل کے مطابق جیسے میاں بیوی پر ایک دوسرے کے اصول و فروع حرام ہیں، ایک ہی وطی کے بعد، ایک ہی صحبت کے بعد میاں بیوی کو بھی ایک دوسرے پر حرام ہو جانا چاہیے کیونکہ انہوں نے وطی کر لی اور یہ وطی کہاں تک پہنچانے والی ہے؟ بچے تک، اور بچے میں دونوں کے اجزاء کیا ہو جائیں گے؟ متحد ہو جائیں گے، دونوں ایک دوسرے کا جز بن گئے اور جب جز بن گئے ایک دوسرے کا تو جز تو انسان پر حرام ہوتا ہے جیسے اپنا بیٹا بیٹی انسان پر کیا ہیں؟ حرام ہیں، اپنا پوتا پوتی، اپنا نواسہ نواسی انسان پر کیا ہیں؟ حرام ہیں کیونکہ یہ جز ہیں انسان کے، تو استحقاقِ حرمت میں اصل کون ہوتا ہے؟ جز۔ تو آپ نے اصول و فروع کو تو حرام قرار دے دیا اور بیوی جو جز بن گئی ہے اس کو حرام قرار نہیں دیا؟ اسی طرح خاوند بیوی کا جز بن گیا، تو خاوند کو بھی بیوی پر کیا ہو جانا چاہیے؟ حرام ہو جانا چاہیے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو آپ نے میاں بیوی کے اصول و فروع کو تو ان پر حرام قرار دے دیا لیکن خود میاں بیوی کو بھی تو پھر ایک دوسرے پر حرام ہو جانا چاہیے ایک ہی وطی کے بعد۔ اسی طرح زانی اور مزنیہ جو ہیں ان میں بھی ایک ہی وطی کے بعد دونوں کے اصول و فروع بھی ایک دوسرے پر حرام ہونے چاہییں اور زانی اور مزنیہ دونوں ان کو خود بھی یعنی واطی اور موطوءہ ان کو بھی ایک دوسرے پر حرام ہو جانا چاہیے، لیکن آپ کہتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے پر حرام نہیں۔ اسی طرح آپ کہتے ہیں میاں بیوی ایک دوسرے پر حرام نہیں۔ تو صاحبِ ہدایہ اس کا جواب دیتے ہیں کہ بھئی الضرورة تبيح المحظورات، کہ ضرورت جو ہے وہ ممنوع چیزوں کو مباح کر دیتی ہے۔ اصل ضابطہ تو یہی تھا، میاں بیوی کو بھی ایک دوسرے پر حرام ہو جانا چاہیے، واطی اور موطوءہ کو بھی ایک دوسرے پر حرام ہو جانا چاہیے، لیکن چونکہ وہاں حاجت تھی، ضرورت تھی۔ وہاں حاجت تھی اور ضرورت تھی کیونکہ اس طرح تو جہاں بھی وطی پائی جائے گی اور واطی اور موطوءہ ایک ہی وطی کے بعد ایک دوسرے پر حرام ہو جائیں گے تو انسان اپنا گھر کیسے بسائے گا بھئی؟ ایک ہی وطی کے بعد بیوی خاوند پر حرام ہو رہی ہے اور خاوند بیوی پر حرام ہو رہا ہے تو پھر آگے اولاد کا سلسلہ کیسے چلے گا بھئی؟ تو لہٰذا وہاں چونکہ حاجت تھی، ضرورت تھی اور اس ضرورت کی بنا پر پھر شریعت نے واطی اور موطوءہ کو ایک دوسرے پر حرام قرار نہیں دیا۔ ورنہ ضابطہ تو یہی بنتا ہے کہ استحقاقِ حرمت میں اصل جز ہے، جب یہ ایک دوسرے کا جز بن گئے تو دونوں کو ایک دوسرے پر حرام ہو جانا چاہیے تھا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: والاستمتاع بالجزء حرام إلا في موضع الضرورة، اور جز سے نفع اٹھانا حرام ہے مگر صرف ضرورت کے محل میں، وهي الموطوءة اور وہ کیا ہے؟ موطوءہ ہے یعنی اس میں ضرورت ہے، اس کے سوا چارہ نہیں ہے بھئی۔ وہ اگرچہ جز بن گئی ہے لیکن ضرورت کی بنا پر وہ مباح ہے بھئی۔ والوطء محرم من حيث إنه سبب الولد لا من حيث إنه زنا۔ اب یہ جواب دے رہے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل کا۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے کیا فرمایا تھا کہ حرمتِ مصاہرت جو ہے زنا کے ذریعے نہیں آ سکتی کیونکہ زنا فعلِ محظور ہے، فعلِ ممنوع ہے اور حرمتِ مصاہرت تو نعمت ہے، اور نعمت جو ہے وہ فعلِ ممنوع کے ذریعے حاصل نہیں ہو سکتی، فعلِ حرام کے ذریعے حاصل نہیں ہو سکتی۔ تو ہم جواب دیتے ہیں کہ یہ جو وطی ہے اس میں دو حیثیتیں ہیں: ایک حیثیت سے دیکھیں تو یہ فعلِ محظور ہے، زنا ہے، فعلِ ممنوع ہے۔ اور دوسری حیثیت سے دیکھیں تو یہ وطی سبب ہے ولد کا، یہ وطی کہاں تک پہنچانے والی ہے؟ ولد تک پہنچانے والی ہے۔ تو اس وطی کے اندر دو حیثیتیں ہیں: ایک حیثیت سے یہ فعلِ محظور یعنی زنا ہے اور دوسرے اعتبار سے یہ وطی ولد کا سبب ہے۔ اور یہ جو اس وطی کی وجہ سے حرمتِ مصاہرت آئی ہے وہ اس فعلِ محظور یعنی زنا ہونے کی حیثیت سے نہیں آئی بلکہ ولد کا سبب ہونے کے اعتبار سے یہ حرمت آئی ہے۔ توجہ ہے؟ امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے کہ زنا، زنا تو فعلِ حرام ہے اور فعلِ حرام کے ذریعے نعمت حاصل نہیں ہو سکتی۔ ہم جواب دیتے ہیں کہ یہ جو وطی ہے اس میں دو حیثیتیں ہیں: ایک حیثیت سے دیکھیں تو یہ فعلِ زنا ہے، دوسری حیثیت سے دیکھیں تو یہ سبب ہے ولد کا۔ تو ہم اس وطی کو حرمتِ مصاہرت کا سبب قرار دیتے ہیں کہ اس وطی کی وجہ سے، یہ جو حرام وطی ہے، اس وطی کی وجہ سے بھی حرمتِ مصاہرت آئے گی لیکن اس حیثیت سے نہیں کہ یہ زنا ہے بلکہ اس حیثیت سے کہ یہ ولد تک پہنچانے والی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ یہ اسی طرح ہے جیسے مٹی بھئی۔ مٹی دیکھو اپنی ذات کے اعتبار سے ملوّث ہے، چیزوں کو آلودہ کرتی ہے، چیزوں کو گندا کر دیتی ہے مٹی، لیکن یہی مٹی جب پانی کے قائم مقام ہو جاتی ہے تو مطہّر بن جاتی ہے اور پانی نہ ہو تو آپ تیمم کرتے ہیں اور پاک ہو جاتے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ مٹی اپنی ذات کے اعتبار سے یہ ملوّث ہے، چیزوں کو آلودہ کرنے والی ہے اور اس حیثیت سے کہ یہ پانی کے قائم مقام ہے یہ مطہّر ہے بھئی۔ تو اسی طرح یہاں یہ جو وطی کی، یہ جو فعلِ زنا ہے، اس میں بھی دو حیثیتیں ہیں: ایک حیثیت سے دیکھیں تو یہ فعلِ ممنوع ہے، فعلِ حرام ہے، زنا ہے، اور دوسری حیثیت سے دیکھیں تو یہ وطی کہاں تک پہنچانے والی ہے؟ ولد تک پہنچانے والی ہے۔ تو اس حیثیت سے کہ یہ وطی ولد تک پہنچانے والی ہے، اس حیثیت سے یہ حرمتِ مصاہرت کا سبب بنے گی۔ دیکھیے بھئی کتاب پر۔ کہتے ہیں: والوطء محرم من حيث إنه سبب الولد، اور یہ وطی جو ہے محرم حرام کرنے والی ہے، یہ وطی حرام کرنے والی ہے یعنی واطی اور موطوءہ دونوں پر ایک دوسرے کے اصول و فروع کیا ہو گئے؟ حرام۔ کیا آ گئی؟ حرمتِ مصاہرت آ گئی۔ تو یہ وطی جو ہے محرم ہے یعنی حرام کرنے والی ہے اصول و فروع کو دونوں کے ایک دوسرے پر، من حيث إنه سبب الولد اس حیثیت سے کہ یہ وطی جو ہے ولد کا سبب ہے۔ اس حیثیت سے یہ محرم ہے، اس حیثیت سے یہ حرمتِ مصاہرت کا سبب ہے، لا من حيث إنه زنا اس حیثیت سے نہیں کہ یہ وطی زنا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ جواب ذکر کیا صاحبِ ہدایہ نے۔ بعض علماء نے اس کا ایک اور بڑا پیارا جواب دیا۔ وہ فرماتے ہیں، وہ امام شافعی رحمہ اللہ کو جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ نے کیا کہا؟ حرمتِ مصاہرت نعمت ہے؟ ہم کہتے ہیں نہیں، حرمتِ مصاہرت نعمت نہیں ہے، مصاہرت نعمت ہے۔ کیا؟ مصاہرت، سسرالی رشتہ ہونا نعمت ہے، حرمتِ مصاہرت کا تو کیا معنی؟ سسرالی رشتوں کا حرام ہونا۔ بھئی جب کچھ رشتے حرام ہو جائیں گے، یہ تو نکاح کا دائرہ تنگ ہو جائے گا۔ نکاح کا دائرہ وسیع ہونا نعمت ہے یا اس کا تنگ ہونا نعمت ہے؟ وسیع ہونا نعمت ہے، تو لہٰذا آپ نے کیا کہا تھا؟ حرمتِ مصاہرت نعمت ہے۔ ہم کہتے ہیں نہیں، یوں نہ کہیں بلکہ مصاہرت نعمت ہے، حرمت نعمت نہیں ہے۔ اور یہاں یہ جو حرام وطی ہے اس کی وجہ سے حرمت آئی ہے، مصاہرت نہیں آئی۔ اس حرام وطی کی وجہ سے مصاہرت نہیں آئی، یہ جس عورت سے زنا کیا تو کیا اس کے اصول اور فروع وہ اس آدمی کے سسرالی رشتہ دار بن گئے؟ نہیں بھئی، سسرالی رشتہ دار نہیں بنے، مصاہرت نہیں آئی یہاں، ہاں حرمت آ گئی۔ کیا آ گئی؟ حرمت آ گئی، اور حرمت تو نعمت نہیں ہے بھئی، نعمت تو مصاہرت ہے اور مصاہرت تو یہاں آئی نہیں ہے بلکہ کیا آئی ہے؟ حرمت آئی ہے اور حرمت بھی یہ گویا ایک درجے کی سزا ہے کہ نکاح کا دائرہ تنگ ہو گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو حاصلِ کلام کیا؟ صاحبِ ہدایہ نے کیا جواب دیا کہ یہ جو وطی کی ہے، اس وطی میں دو حیثیتیں ہیں: ایک حیثیت سے یہ زنا ہے، فعلِ حرام ہے، اور دوسری حیثیت سے یہ سببِ ولد ہے۔ تو یہ وطی ولد کا سبب ہونے کے اعتبار سے اس سے حرمتِ مصاہرت آ رہی ہے، فعلِ حرام ہونے کی حیثیت سے اس سے حرمتِ مصاہرت نہیں آ رہی۔ جبکہ بعض علماء نے اور جواب دیا، وہ کیا فرماتے ہیں کہ حرمتِ مصاہرت نعمت نہیں ہے بلکہ دونوں کو الگ الگ کریں، مصاہرت نعمت ہے۔ حرمت نعمت نہیں ہے بلکہ مصاہرت نعمت ہے، اور یہ جو حرام وطی ہے اس کی وجہ سے مصاہرت نہیں آئی بلکہ حرمت آئی ہے۔ تو لہٰذا فعلِ حرام کی وجہ سے نعمت آئی ہی نہیں۔ یہ جو زنا کیا اس کی وجہ سے مصاہرت یعنی نعمت تو نہیں آئی بلکہ کیا آئی ہے؟ حرمت آئی ہے، لہٰذا آپ کا یہ اعتراض ختم ہوا۔ آپ نے کیا کہا تھا کہ فعلِ حرام اس کے ذریعے نعمت حاصل نہیں ہو سکتی، تو ہم بھی کہتے ہیں ہاں فعلِ حرام کے ذریعے نعمت حاصل نہیں ہو سکتی، یہاں مصاہرت یعنی نعمت آئی ہی نہیں ہے بلکہ یہاں تو صرف حرمت آئی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ مسئلہ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔