آگے سبق دیکھیے بھئی۔ ولا بد من اعتبار الاسلام فی انکحة المسلمین، لانه لا شهادة للکافر علی المسلم۔ ولا یشترط وصف الذکورة حتی ینعقد بحضور رجل وامراتین۔ وفیه خلاف الشافعی رحمه الله تعالی۔ وستعرف فی الشهادات ان شاء الله۔ گزشتہ سبق میں صاحب قدوری نے آپ کو بتلایا تھا کہ مسلمانوں کا نکاح منعقد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ دو گواہ موجود ہوں بھئی۔ اور وہ دو گواہ آزاد ہونے چاہییں، عاقل ہونے چاہییں، بالغ ہونے چاہییں، اور مسلمان ہونے چاہییں۔ یہ چار صفات لازمی ہے ہر گواہ کے اندر بھئی۔ آزاد، عاقل، بالغ اور مسلمان۔ اور پھر وہ گواہ جو ہیں یا تو دونوں مرد ہونے چاہییں یا ایک مرد اور دو عورتیں بھئی۔ اور وہ عادل ہوں یا عادل نہ ہوں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا بھئی۔ میں نے بتلایا تھا عدول جمع ہے عادل کی اور عادل کا یہاں کیا ترجمہ کریں گے؟ قابل اعتماد۔ وہ گواہ کیا ہونے چاہییں؟ قابل اعتماد۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ طلبہ میں مشہور یہی ہے کہ گواہ عادل ہونے چاہییں، تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ گواہ فاسق ہے تو قاضی اس کی گواہی قبول کر ہی نہیں سکتا۔ بلکہ جب گواہ عادل ہوں تو قاضی مجبور محض بن جاتا ہے۔ اس کو ان کی گواہی کے مطابق ہی فیصلہ کرنا اس پر لازم ہو جاتا ہے اور اگر ان کی گواہی کے مطابق وہ فیصلہ نہیں کرے گا تو وہ عند اللہ مجرم ہے۔ اور اگر گواہ فاسق ہے لیکن قاضی کو کسی طرح معلوم ہو جائے کہ یہ سچ بول رہا ہے، یا یہ پتہ چلے کہ یہ شخص جھوٹ نہیں بولتا۔ فاسق تو ہے گناہ کے کام تو کر لیتا ہے لیکن جھوٹ نہیں بولتا، اس نے کچھ نہ کچھ لوگوں میں اپنی عزت بنائی ہوئی ہے، تو پھر قاضی فاسق آدمی کی گواہی پر بھی فیصلہ کر سکتا ہے۔ یہاں عادل کے لفظ کی بھی میں نے تفصیل بیان کی تھی کہ عادل کسے کہتے ہیں؟ قابل اعتماد گواہ۔ علماء فرماتے ہیں عادل وہ شخص ہے جو کبیرہ گناہوں سے بچتا ہو اور صغیرہ پر اصرار نہیں کرتا یعنی بار بار نہیں کرتا چلا جاتا اور نیز وہ گھٹیا اور ادنیٰ افعال سے اور عادتوں سے اپنے آپ کو بچاتا ہے۔ یہ ہے عادل آدمی یعنی معزز آدمی، قابل اعتماد آدمی۔ گھٹیا افعال اور عادتیں جیسے مثال ذکر کی تھی راستے میں چلتے ہوئے کھا رہا ہے، یا راستے میں جہاں کہیں پیشاب آیا تو وہیں پر دیوار کے ساتھ پیشاب شروع کر دیا، یاد رکھو معزز آدمی ایسا کبھی نہیں کرتا کہ راستے میں اس طرح پیشاب کرے یا راستے میں اس طرح چلتے ہوئے کھانے پینے میں مشغول ہو بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اور انہوں نے یہ بھی بتلایا کہ وہ جو گواہ ہیں وہ محدود فی القذف بھی ہو سکتے ہیں۔ میں نے بتلایا تھا کہ محدود حد سے ہے یعنی جس پر حد جاری ہو چکی ہو اس کو محدود کہتے ہیں۔ میں نے بتلایا تھا کہ شرعی سزائیں دو قسم پر ہیں۔ کچھ وہ ہیں جو اللہ کی طرف سے مقرر ہیں ان کو حد کہتے ہیں جیسے مثلاً حدِ زنا ہے کہ جس کے اندر شادی شدہ ہو تو اس کو سنگسار کر دیا جاتا ہے اور غیر شادی شدہ ہو تو اس کو سو کوڑے لگائے جاتے ہیں۔ اور اسی طرح چور جو ہے اس کی حد ہے کہ اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ ڈاکو ہو تو اس کی حد یہ ہے کہ اس کو مخالف جانب سے ہاتھ اور پاؤں کو کاٹا جائے گا۔ اور اسی طرح حدِ قذف ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے مسلمان پر زنا کی تہمت لگا دے اور پھر اس کو گواہوں کے ذریعے ثابت نہ کر سکے تو اس پر حدِ قذف لگائی جائے گی اسی کوڑے لگائے جائیں گے۔ تو گواہوں کے اندر کون سی چار صفات کا ہونا لازم ہے؟ آزاد ہوں یعنی وہ غلام نہ ہوں، عاقل ہوں یعنی مجنون اور پاگل نہ ہوں، اور بالغ ہوں یعنی نابالغ اور بچے نہ ہوں، اور مسلمان ہوں یعنی کافر نہ ہوں بھئی۔ تو یہ صفات ہونا ضروری ہے اور نیز یہ گواہ جو ہیں یہ اکٹھے اس ایجاب و قبول کو سنیں۔ ایسا نہ ہو کہ پہلے ایجاب و قبول ایک کے سامنے کیا جائے اور پھر دوسرے گواہ کے سامنے الگ ایجاب و قبول کیا جائے، نہیں دونوں کا اکٹھے موجود ہونا اور سننا ضروری ہے ایجاب و قبول کو اور نیز وہ ایجاب و قبول کو سمجھیں بھی، اس کا معنی بھی ان کو سمجھ میں آ رہا ہو کہ یہ ایجاب اور قبول کیا جا رہا ہے بھئی۔ تو یہ صفات تو ضروری ہیں باقی وہ عادل ہو یا عادل نہ ہو بلکہ فاسق ہو یا محدود فی القذف ہو تو بھی ان کی موجودگی میں نکاح منعقد ہو جائے گا بھئی۔ میں نے بتلایا تھا کہ محدود فی القذف جو ہے اس کو اسی کوڑے بھی لگیں گے اور نیز اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: ولا تقبلوا لهم شهادة ابدا، ان کی گواہی کبھی بھی قبول نہ کرو۔ عند الاحناف یہ جو ان کی گواہی مردود ہوگی یہ حد کا باقاعدہ حصہ ہے۔ یہ حد کا باقاعدہ حصہ ہے۔ چنانچہ اگر یہ توبہ کر بھی لیں پھر بھی ان کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ جبکہ دیگر فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ حد کا حصہ نہیں ہے، اگر یہ توبہ کر لیں گے تو پھر ان کی گواہی دوبارہ قبول کی جائے گی۔ تو یہ جو محدود فی القذف ہیں یہ بھی نکاح میں گواہ بن سکتے ہیں۔ تو اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ گواہ کیسے بن سکتے ہیں؟ ان کے بارے میں تو اللہ نے فرمایا ہے کہ ان کی گواہی قبول نہ کرو۔ تو میں نے بتلایا تھا کہ ایک ہے تحملِ شہادت اور ایک ہے ادائے شہادت۔ تحملِ شہادت کا معنی ہے گواہ بننا اور ادائے شہادت کا معنی ہے گواہی دینا۔ گواہ بننا اور چیز ہے اور گواہی دینا اور چیز ہے۔ پہلے کوئی شخص گواہ بنتا ہے اور پھر اگر اس کو قاضی کے پاس طلب کیا جائے تو وہاں جا کر گواہی دیتا ہے۔ تو گواہ بننا اور چیز اور گواہی دینا اور چیز۔ علمائے احناف فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس قول سے ہی معلوم ہو رہا ہے کہ ان میں گواہ بننے کی صلاحیت ہے۔ اللہ فرما رہے ہیں ان کی گواہی قبول نہ کرو معلوم ہوا ان میں گواہ بننے کی صلاحیت ہے، اگر صلاحیت نہ ہوتی تو پھر اللہ ایسا نہ فرماتے۔ کس طرح؟ دیکھو آپ ایک شخص کو کہتے ہیں کسی معاملے میں کہ آپ ادھر نہ دیکھیں، یہ آپ اسی شخص کو کہیں گے جس میں دیکھنے کی صلاحیت ہوگی۔ نابینا شخص کو کوئی بھی اس طرح نہیں کہے گا کہ ادھر نہ دیکھیں کیونکہ اس میں دیکھنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ اسی طرح بعض اوقات آپ اپنے کسی ساتھی سے کہتے ہیں کہ آپ ہماری باتیں نہ سنیں، تو یہ آپ اسی شخص کو کہیں گے جس میں سننے کی صلاحیت ہے بھئی۔ ایک شخص میں سننے کی صلاحیت ہی نہیں ہے وہ بہرا ہے اس کو کوئی بھی اس طرح نہیں کہے گا اور اگر کوئی کہے گا بھی تو لوگ اس پر تعجب کا اظہار کریں گے کہ بھئی یہ تو سن ہی نہیں سکتا اس کو یہ کہنے کی کیا ضرورت ہے؟ تو یہاں پر بھی اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں ان کی گواہی قبول نہ کرو، اس سے پتہ چل رہا ہے کہ ان میں گواہی دینے کی صلاحیت موجود ہے جبھی تو اللہ منع فرما رہے ہیں بھئی۔ تو گواہی قبول کرنے سے تو منع ہو گیا لیکن تحملِ شہادت یہ کر سکتے ہیں، گواہ بن سکتے ہیں۔ اور پھر میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ تحملِ شہادت اور ادائے شہادت کے اعتبار سے گواہ چار قسم پر ہیں بھئی۔ کچھ لوگ وہ ہیں جو اہل تحمل بھی ہیں اور اہل ادا بھی ہیں کامل طور پر۔ یعنی وہ اہل تحمل بھی ہیں اور اہل ادا بھی ہیں کامل طور پر، اور یہ وہ گواہ ہیں جن میں ان چار صفاتِ لازمہ کے ساتھ ایک اور صفت عدل بھی پائی جائے، یہ عادل بھی ہوں، قابل اعتماد بھی ہوں۔ یعنی آزاد بھی ہیں، عاقل بھی ہیں، بالغ بھی ہیں، مسلمان بھی ہیں اور ساتھ ساتھ عادل بھی ہیں۔ ساتھ ساتھ عادل بھی ہیں بھئی۔ تو یہ گواہ جو ہیں یہ اہل تحمل بھی ہیں اور اہل ادا بھی ہیں بھئی۔ تحملِ شہادت بھی کر سکتے ہیں اور ادائے شہادت بھی کر سکتے ہیں کامل طور پر۔ اور اگر یہ عدالت والی صفت نہ ہوئی یعنی عادل نہیں ہیں بلکہ فاسق ہے، فاسق ہے گناہ وغیرہ کرتا ہے، تو یہ جو گواہ ہے ہمارے نزدیک یہ بھی اہل تحمل بھی ہے اور اہل ادا بھی ہے البتہ ناقص طور پر۔ یعنی اس کی گواہی قاضی چاہے تو قبول کرے اور قاضی چاہے تو قبول نہ کرے، میں نے آپ کو بتلایا۔ بھئی عادل ہوگا تو گواہی قبول کرنی پڑے گی ہر حال میں اور عادل نہیں ہے فاسق ہے تو پھر قاضی کی مرضی ہے، موقع کے مطابق دیکھے گا پتہ چلائے گا کہ یہ سچ بول رہا ہے یا سچ نہیں بول رہا، تو قاضی کی مرضی ہے اس کی گواہی قبول کرے یا قبول نہ کرے۔ اور تیسری قسم کے گواہ وہ ہیں جو اہل تحمل تو ہیں اہل ادا نہیں۔ اہل تحمل تو ہیں اہل ادا نہیں ہیں یعنی وہ گواہ بن تو سکتے ہیں لیکن گواہی دے نہیں سکتے، جیسے محدود فی القذف اور اندھے بھئی۔ محدود فی القذف گواہ بن تو سکتا ہے لیکن گواہی دے نہیں سکتا کیونکہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کی گواہی قبول نہ کرو۔ اسی طرح اندھا جو ہے وہ گواہ بن تو سکتا ہے لیکن گواہی دے نہیں سکتا، وجہ یہ کہ وہ صرف آواز کی بنیاد پر گواہی دے گا کسی کے خلاف اور ہو سکتا ہے اس میں اس کو غلطی لگ جائے، اس کو تو دکھائی نہیں دے رہا بھئی۔ اور چوتھی قسم کے افراد وہ ہیں جن میں ان چار صفاتِ لازمہ میں سے کوئی ایک نہ پائی جائے، کوئی ایک نہ ہو یا ساری نہ ہوں بہرحال ایک بھی ان میں سے کم ہو گئی تو پھر وہ شخص نہ وہ اہل تحمل ہے اور نہ اہل ادا ہے بھئی۔ مثلاً پہلی صفت کیا تھی؟ آزاد ہوں۔ اگر آزاد نہیں ہے بلکہ غلام ہے تو وہ گواہ نہیں بن سکتا۔ اور اسی طرح اگر وہ عاقل نہیں ہے بلکہ مجنون یا پاگل ہے وہ بھی تحمل کا اہل نہیں وہ گواہ نہیں بن سکتا۔ تحمل ہوگا تو پھر ادا بھی ہو سکتی ہے، تحمل ہی نہیں تو ادا کہاں سے بھئی؟ یہ گواہ بن ہی نہیں سکتا تو گواہی دے بھی نہیں سکتا بھئی۔ تو لہٰذا غلام جو ہے وہ اہل تحمل نہیں، وہ گواہ بن ہی نہیں سکتا۔ تو صرف غلاموں کی موجودگی میں کوئی شخص نکاح کرتا ہے تو نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ یا مجنون ہیں ان کی موجودگی میں نکاح کرتا ہے تو یہ اہل تحمل ہی نہیں ہیں، ان کی موجودگی میں نکاح نہیں ہوگا، یا صرف نابالغ بچے ہیں ان کی موجودگی میں نکاح کرتا ہے تو بھئی یہ تو اہل تحمل ہی نہیں ہیں، تو لہٰذا ان کی موجودگی میں بھی نکاح نہیں ہوگا۔ یا غیر مسلموں کی موجودگی میں نکاح کرتا ہے بھئی غیر مسلم یہ تو اہل تحمل ہی نہیں ہیں۔ وہی چار صفات ہیں ایک ایک کی نفی کرتے جائیں۔ پہلی صفت کیا تھی؟ آزاد ہوں، آزاد کے بجائے صرف غلام موجود ہیں۔ یا دوسری صفت تھی عاقل، عاقل کے بجائے مجنون یا پاگل ہیں صرف نکاح کے اندر موجود۔ یا تیسری صفت تھی بالغ، بالغ کے بجائے نابالغ بچے ہیں بھئی۔ اور چوتھی صفت کیا تھی کہ دونوں گواہ مسلمان ہوں، تو مسلمان کے بجائے اگر غیر مسلم ہیں تو جب صرف یہ موجود ہوں تو نکاح منعقد نہیں ہوگا کیونکہ یہ چار صفتوں کا ہونا گواہ میں لازم ہے۔ وہ دونوں گواہوں کے اندر آزاد بھی ہوں، عاقل بھی ہوں، بالغ بھی ہوں اور مسلمان بھی ہوں بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ پھر دہرا لیں بھئی کہ گواہی کے اعتبار سے افراد کتنی قسم پر؟ چار قسم پر۔ پہلی قسم کیا؟ جو اہل تحمل بھی ہیں اور اہل ادا بھی ہیں کامل طور پر، وہ ہیں جن میں چار صفاتِ لازمہ بھی پائی جائیں یعنی مسلمان بھی ہے، آزاد بھی ہے، عاقل بھی ہے اور بالغ بھی ہے اور ساتھ ساتھ وہ عادل بھی ہو یہ پانچویں صفت بھی پائی جائے، تو یہ اہل تحمل بھی ہیں اور اہل ادا بھی ہیں کامل طور پر۔ دوسری قسم وہ ہیں جو اہل تحمل اور اہل ادا ہیں لیکن ناقص طور پر، جن میں وہ چار صفاتِ لازمہ تو موجود ہیں لیکن وہ عادل نہیں ہیں بلکہ فاسق ہیں۔ اور تیسری قسم کے گواہ وہ ہیں جو اہل تحمل تو ہیں لیکن اہل ادا نہیں اور وہ جیسے محدود فی القذف ہے یا اندھے ہیں بھئی۔ اور چوتھی قسم کے افراد وہ ہیں جو نہ اہل تحمل ہیں نہ اہل ادا ہیں جن میں ان چار صفاتِ لازمہ میں سے کوئی ایک صفت بھی نہ پائی گئی، کسی ایک صفت کی بھی ان میں کمی آ گئی تو پھر وہ نہ تحملِ شہادت کر سکتے ہیں اور نہ ادائے شہادت کر سکتے ہیں۔ اور اس کے بعد پھر صاحب ہدایہ نے بتلایا تھا کہ ہمارے نزدیک جو شہادت ہے نکاح کے اندر یہ شرط ہے۔ گواہ ہوں گے تو نکاح ہوگا، گواہ نہیں تو نکاح بھی نہیں۔ جیسے وضو نماز کے اندر شرط ہے، وضو ہے تو نماز بھی ہوگی، وضو نہیں تو نماز بھی نہیں۔ اور دلیل ذکر کی تھی کہ حدیث میں آیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: لا نکاح الا بشهود، کوئی نکاح نہیں ہے الا بشهود مگر گواہوں کے ساتھ۔ یعنی گواہوں کا ہونا ضروری ہے نکاح میں، گواہ ہوں گے تو نکاح ہوگا اور گواہ نہیں تو نکاح بھی نہیں ہوگا۔ ہماری یہ حدیث جو ہے حجت ہے امام مالک رحمہ اللہ کے خلاف۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اعلان کرنا شرط ہے شہادت شرط نہیں، وہ حدیث پیش فرماتے ہیں: اعلنوا النکاح ولو بالدف، کہ نکاح کا اعلان کرو ولو بالدف اگرچہ دف کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو بھئی، اگرچہ دف کے ذریعے ہو۔ تو دیکھو وہ اعلان کو شرط قرار دیتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ آپ کی حدیث سے اعلان کے واجب ہونے کا تو پتہ چلا اعلان کے شرط ہونے کا پتہ نہ چلا بھئی۔ واجب اور ہے شرط اور ہے، شرط کا مقام بڑا اونچا ہے، شرط تو وہ ہے کہ شرط ہوگی تو مشروط ہوگا، شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں، گویا شرط بھی رکن جیسی ہے جیسے رکن پایا جائے تو وہ چیز ہوگی رکن نہیں تو وہ چیز بھی نہیں۔ نماز کے اندر جیسے نماز کے ارکان کیا ہیں؟ قیام ہے، رکوع ہے، سجدہ ہے اور اسی طرح اور ارکان ہیں بھئی۔ تو نماز کے یہ ارکان پائے جائیں گے تو نماز ہوگی، ایک بھی رکن کی کمی آ گئی نماز کے اندر تو نماز نہیں ہوگی۔ تو رکن شئے کے اندر داخل ہوتا ہے اور وہ ارکان سارے ہوں گے تو وہ شئے بھی پائی جائے گی، وہ ارکان نہیں تو وہ شئے بھی نہیں پائی جائے گی۔ اسی طرح شرط ہوتی ہے، شرط ہوگی تو نماز ہوگی، شرط نہیں تو نماز بھی نہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ رکن شئے کے اندر داخل ہوتا ہے اور شرط اس شئے سے خارج ہوتی ہے، جی۔ لیکن جیسے رکن کا ہونا ضروری اس چیز کے لیے اسی طرح شرط کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔ تو یہاں ہماری حدیث سے پتہ چل رہا ہے: لا نکاح الا بشهود، کوئی نکاح ہے ہی نہیں مگر کس کے ساتھ؟ گواہوں کے ساتھ۔ معلوم ہوا بغیر گواہوں کے کوئی نکاح ہو ہی نہیں سکتا، تو اس سے پتہ چلا کہ نکاح کے اندر گواہ ضروری ہیں۔ اور یہ گواہ نکاح کے حقیقت میں تو نہیں داخل، نکاح کے حقیقت تو کیا ہے؟ ارکان کیا ہیں؟ ایجاب و قبول ہے اور اس کی وجہ سے جو دونوں میں عقد آگیا، ربط آگیا، جوڑ آگیا، وہ جو حاصل بالمصدر آیا بھئی، تو لہٰذا نکاح کے ارکان تو ایجاب و قبول ہو گئے، تو گواہ وہ نکاح کی حقیقت میں تو داخل نہیں لیکن ان کے بغیر نکاح ہو بھی نہیں سکتا، تو پھر ان کو شرط قرار دیا جائے گا۔ وہ چیز جس کا ہونا ضروری ہو اور اس کے بغیر کوئی چیز نہ ہو سکے اور وہ اس چیز کی حقیقت میں داخل نہیں ہے تو پھر اس کو کیا قرار دیا جاتا ہے؟ شرط قرار دیا جاتا ہے۔ تو ہماری حدیث سے پتہ چل رہا ہے کہ نکاح کے اندر گواہ کا ہونا شرط ہے، یہ ہے تو رکن کی طرح لیکن چونکہ نکاح کی حقیقت سے خارج ہے اس لیے اس کو شرط قرار دینا پڑا۔ جبکہ امام مالک رحمہ اللہ کی حدیث سے صرف اعلان کے واجب ہونے کا پتہ چلا، اعلنوا النکاح یہ امر کا صیغہ ہے اعلنوا تم لوگ کیا کرو؟ نکاح کا اعلان کرو۔ اس سے تو صرف اعلان کے واجب ہونے کا پتہ چلا ہے، اس سے یہ تو پتہ نہیں چلا کہ اعلان نہیں کرو گے تو نکاح ہوگا ہی نہیں۔ اعلان نہیں کرو گے تو گنہگار ہو گے زیادہ سے زیادہ یہی کہا جا سکتا ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو لہٰذا اس میں تو صرف اعلان کے واجب ہونے کا پتہ چل رہا ہے، اعلان کے شرط ہونے کا پتہ نہیں چل رہا۔ اور نیز اس حدیث پر تو ہمارا بھی عمل ہو جاتا ہے کیونکہ جب ہم دو افراد، دو آدمی گواہ بنائیں گے یا ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنائیں گے تو ان کو دیکھو اطلاع ہو گئی، اعلان کا کیا معنی ہے؟ اطلاع دینا دوسروں کو۔ تو یہاں بھی جب دو گواہ بٹھائیں گے تو ان دونوں میں اعلان ہو گیا، ان دونوں گواہوں کو پتہ چل گیا نکاح کا۔ یا ایک مرد ہے اور دو عورتیں ہیں تو ان میں گویا اعلان ہو گیا، ان کو پتہ چل گیا نکاح کا، تو ہمارا بھی اس حدیث پر عمل ہو گیا بھئی، واجب پر ہمارا بھی عمل ہو گیا۔ تو امام مالک رحمہ اللہ جو ہیں ان کے خلاف یہ حدیث حجت ہے بھئی۔ پھر اس کے بعد صاحب ہدایہ نے تفصیل بیان کرنا شروع کی تھی کہ بھئی یہ جو صفات ذکر کیں گواہوں کی صاحب قدوری نے کہ ان کو آزاد ہونا چاہیے، عاقل ہونا چاہیے، بالغ ہونا چاہیے، مسلمان ہونا چاہیے، دو مرد ہونے چاہییں یا ایک مرد اور دو عورتیں ہونی چاہییں، عادل ہوں یا عادل نہ ہوں یا محدود فی القذف ہوں، تو ان صفات میں سے ہر ایک کی تفصیل بیان کرنے لگے صاحب ہدایہ۔ اور بتلایا کہ نکاح کے اندر آزادی کا اعتبار ضروری ہے کیونکہ غلام جو ہے وہ گواہ نہیں بن سکتا، اس لیے کیونکہ غلام کو ولایت نہیں حاصل ہوتی کسی پر بھئی۔ ولایت کہتے ہیں کہ غیر پر آپ کا قول نافذ ہو جائے وہ مانے یا نہ مانے۔ غیر پر آپ کا قول نافذ ہو جائے وہ مانے یا نہ مانے اس کو کہتے ہیں ولایت، اور گواہی کے اندر بھی ولایت ہوتی ہے یاد رکھو۔ آپ کسی معاملے کے اندر جا کر گواہی دیتے ہیں تو قاضی آپ کی گواہی کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔ مثلاً ایک شخص نے زید پر مقدمہ کر دیا کہ زید نے میرا دس لاکھ روپیہ دینا ہے اور زید انکار کر رہا ہے، آپ دونوں کو پتہ تھا کہ زید کے اوپر دس لاکھ روپے قرض ہے، چنانچہ وہ شخص آپ کو گواہ کے طور پر لے گیا۔ آپ نے قاضی کے پاس جا کر گواہی دی کہ قاضی صاحب ہمارے سامنے زید نے اس سے دس لاکھ لیے تھے، ہمارے سامنے زید نے اس آدمی سے دس لاکھ قرضہ لیا تھا، تو قاضی اب زید پر دس لاکھ لازمی کر دے گا اب زید کو وہ دینا پڑے گا۔ تو دیکھو زید تو نہیں مان رہا تھا لیکن آپ کا قول اس پر کیا کر دیا قاضی نے؟ نافذ کر دیا۔ آپ کا قول زید پر نافذ کر دیا اس کو کہتے ہیں ولایت۔ تو شہادت میں بھی کیا ہوتا ہے؟ غیر پر گواہ کا قول نافذ ہو جاتا ہے وہ چاہے مانے یا نہ مانے۔ جب عادل گواہ آگئے تو گواہوں کا قول اس پر نافذ ہو گیا۔ معلوم ہوا گواہی میں کیا ضروری ہے؟ ولایت کا ہونا ضروری ہے اور جبکہ غلام، غلام کو تو اپنی ذات پر ولایت حاصل نہیں ہے۔ غلام اپنا نکاح خود نہیں کر سکتا، غلام تجارت یا کاروبار اپنی مرضی سے نہیں کر سکتا جب تک آقا اجازت نہیں دے گا۔ تو غلام کو تو اپنے اوپر اتنی ولایت نہیں حاصل کہ وہ اپنا نکاح کروا سکے تو غیر پر اس کو کیسے ولایت حاصل ہوگی بھئی؟ لہٰذا معلوم ہوا غلام گواہ نہیں بن سکتا کیونکہ اس کو ولایت حاصل نہیں۔ دلیل بھی سمجھ میں آ رہی ہے یا نہیں؟ کیا؟ کہ غلام گواہ نہیں بن سکتا، کیوں؟ کیونکہ غلام کو ولایت حاصل نہیں اور ولایت کسے کہتے ہیں کہ غیر پر آپ کا قول نافذ ہو جائے، اور گواہی کس قبیل سے ہے؟ ولایت کے قبیل سے ہے، کہ گواہ کا قول غیر پر نافذ ہو جاتا ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے۔ اسی طرح مجنون جو ہے جو پاگل ہے اس کو بھی اپنے اوپر ولایت حاصل نہیں ہے، وہ اپنا نکاح کرنا چاہے یا اس کا نکاح پہلے ہوا تھا جس وقت یہ ٹھیک تھا اب یہ پاگل ہو گیا ہے اور جنون کی حالت میں یہ کیا کر رہا ہے؟ بیوی کو طلاق دے رہا ہے تو اس کی طلاق نافذ نہیں بھئی۔ تو دیکھا جو مجنون ہوتا ہے یہ نہ اپنا نکاح کر سکتا ہے اور نہ اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے، تو اس کو تو اپنے اوپر ولایت حاصل نہیں ہے تو یہ بھی گواہ نہیں بن سکتا۔ جب اپنے اوپر ولایت نہیں تو غیر پر بطریق اولیٰ ولایت نہیں ہوگی بھئی۔ اسی طرح بچہ ہے، بچہ اگر وہ اپنا نکاح کرنا چاہے وہ تو نابالغ ہے وہ اپنا نکاح نہیں کر سکتا، دیکھو اس کو تو بچے کو تو اپنے اوپر ولایت حاصل نہیں ہے تو دوسرے پر اس کو کیسے ولایت حاصل ہو سکتی ہے؟ لہٰذا بچہ بھی گواہ نہیں بن سکتا، بات سمجھ میں آگئی۔ اور یہاں بعض علماء نے بڑا قیمتی ضابطہ ذکر فرمایا، وہ فرماتے ہیں کہ جس شخص کو اپنے نکاح کی ولایت حاصل ہے، جو شخص اپنا نکاح کروا سکتا ہے تو اس شخص کی موجودگی میں دوسرے کا نکاح بھی منعقد ہو جائے گا۔ اور جو شخص اپنا نکاح نہیں کر سکتا، اس کو اپنے نکاح کی ولایت حاصل نہیں ہے تو اس کی موجودگی میں غیر کا نکاح بھی نہیں ہو سکتا بھئی۔ تو دیکھو غلام اور اسی طرح مجنون اور اسی طرح بچہ، ان تینوں کو اپنے نکاح کی ولایت حاصل نہیں ہے، یہ اپنا نکاح خود نہیں کر سکتے۔ جب یہ اپنا نکاح خود نہیں کر سکتے تو صرف ان کی موجودگی میں کسی دوسرے کا نکاح بھی منعقد نہیں ہوگا۔ ضابطہ سمجھ میں آیا بھئی؟ اب آئیے آج کے سبق پر: ولا بد من اعتبار الاسلام فی انکحة المسلمین، لانه لا شهادة للکافر علی المسلم۔ بھئی صاحب ہدایہ متن میں آنے والی تمام قیودات کی وجہ ذکر فرما رہے ہیں۔ متن میں آیا تھا کہ گواہوں کا آزاد ہونا ضروری ہے، ان کا عاقل ہونا ضروری ہے، ان کا بالغ ہونا ضروری ہے، ان کی وجہیں صاحب ہدایہ نے ذکر فرما دیں اور اگلا وصف جو تھا کہ وہ دو گواہ جو ہیں مسلمان ہونے چاہییں۔ تو صاحب ہدایہ اس کی تفصیل بتلا رہے ہیں کہ اسلام کا اعتبار کیوں ضروری ہے گواہوں کے اندر؟ تو فرماتے ہیں: ولا بد من اعتبار الاسلام فی انکحة المسلمین، اور ضروری ہے اسلام کا اعتبار کرنا مسلمانوں کے نکاح میں، لانه لا شهادة للکافر علی المسلم، اس لیے کیونکہ کافر کی گواہی نہیں ہے علی المسلم مسلمان کے خلاف۔ علی ضرر کے لیے آتا ہے، نقصان کے لیے، تو کافر کی گواہی ہو علی المسلم مسلمان کے خلاف ایسا نہیں ہو سکتا۔ یاد رکھو مملکت اسلامیہ کے اندر کافر کو اتنا اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ اس کا قول مسلمان پر نافذ ہو جائے۔ گواہی میں بھی کیا ہوتا ہے؟ گواہ کا قول کس پر نافذ ہو جاتا ہے؟ جس کے خلاف وہ گواہی دے رہا ہے۔ تو گواہ کا قول دوسرے پر نافذ ہو جاتا ہے لیکن مملکت اسلامیہ کے اندر کافر کو اتنا اونچا مقام نہیں دیا جائے گا کہ مسلمان پر اس کا قول نافذ ہو جائے، تو لہٰذا اس لیے کافر مسلمان کے خلاف گواہ نہیں بن سکتا۔ قرآن میں بھی اللہ فرماتے ہیں: ولن یجعل الله للکافرین علی المؤمنین سبیلا، ولن یجعل الله اور اللہ ہرگز نہیں بنائیں گے، للکافرین کافروں کے لیے، علی المؤمنین سبیلا مومنوں پر کوئی راستہ۔ اللہ تعالیٰ کافروں کے لیے مومنوں پر کوئی راستہ نہیں بنائیں گے، راستے سے مراد ولایت ہے یعنی اللہ تعالیٰ ہرگز کافروں کو مومنوں پر ولایت نہیں دیں گے۔ تو لہٰذا مملکت اسلامیہ کے اندر کافر کو اتنا مقام اور اتنا اختیار نہیں دیا جائے گا کہ اس کا قول مسلمان پر نافذ ہو جائے، لہٰذا وہ مسلمان کے خلاف گواہ نہیں بن سکتا۔ ہاں مسلمان کے حق میں وہ گواہی دینا چاہے تو پھر وہ گواہ بن سکتا ہے۔ کسی مسلمان کے خلاف نہیں بلکہ مسلمان کے حق میں گواہ بننا چاہتا ہے مثلاً ایک مسلمان کا ذمی کے ساتھ جھگڑا آیا ہے، اب ایک کافر ایک غیر مسلم آ کر مسلمان کے حق میں گواہی دیتا ہے اور کس کے خلاف دے رہا ہے گواہی؟ ذمی کے خلاف۔ اگر دوسری طرف بھی مسلمان ہو پھر تو یہ گواہی نہیں دے سکتا بھئی، تو دوسری طرف ذمی ہے، تو ذمی کے خلاف تو کافر گواہ بن سکتا ہے، تو یہ گواہی مسلمان کے حق میں ہے لہٰذا قاضی اس کی گواہی قبول کر سکتا ہے۔ تو حاصل کلام کیا؟ کہ کافر جو ہے، غیر مسلم جو ہے، مسلمان کے حق میں تو گواہ بن سکتا ہے، مسلمان کے خلاف گواہ نہیں بن سکتا، کیونکہ گواہ بننے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو ولایت مل گئی مسلمان پر اور کوئی کافر ہو اور اس کو اختیار دے دیا جائے مسلمان پر اور اس کا قول مسلمان پر نافذ کر دیا جائے، مملکت اسلامیہ میں، دار الاسلام میں ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ تو کہتے ہیں: ولا بد من اعتبار الاسلام فی انکحة المسلمین، اور ضروری ہے اسلام کا اعتبار کرنا مسلمانوں کے نکاح میں، لانه لا شهادة للکافر علی المسلم، اس لیے کیونکہ کافر کی گواہی مسلمان کے خلاف نہیں ہے یعنی کافر مسلمان کے خلاف گواہ نہیں بن سکتا۔ ولا یشترط وصف الذکورة، اور مذکر ہونے کے وصف کی شرط نہیں لگائی جائے گی۔ بھئی متن میں آگے آیا تھا کہ وہ جو دو گواہ ہیں رجلین او رجل وامراتین، دو مرد ہوں یا ایک مرد اور دو عورتیں ہوں۔ معلوم ہوا عند الاحناف یہ جو نکاح میں دو گواہ ہیں ان کا مذکر ہونا ضروری نہیں۔ ان گواہوں کا مذکر ہونا ضروری نہیں، دونوں مذکر ہوں پھر بھی ٹھیک ہے، اور ایک مرد ہو اور دو عورتیں ہوں پھر بھی نکاح منعقد ہو جائے گا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، نکاح کے اندر گواہوں کا مذکر ہونا ضروری ہے۔ مرد ہی گواہ بن سکتے ہیں نکاح کے اندر، عورتیں گواہ بن ہی نہیں سکتیں، اگر دو مرد نہ ہوئے تو پھر عقد نکاح منعقد ہوگا ہی نہیں، ایک مرد یا دو عورتیں ہوئیں تو نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا بھئی۔ لیکن ہمارے نزدیک مذکر ہونے کی شرط نہیں ہے، گواہ چاہے دونوں مذکر ہوں چاہے دونوں مذکر نہ ہوں نکاح منعقد ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ولا یشترط وصف الذکورة، اور شرط نہیں لگائی جائے گی مذکر ہونے کے وصف کی، حتی ینعقد بحضور رجل وامراتین، بھئی یاد رکھنا یہاں آیا حتی ینعقد، یاد رکھو یہاں حتیٰ نصب نہیں دے گا، حتیٰ نصب نہیں دے گا لہٰذا ینعقد کو مرفوع پڑھیں گے بھئی۔ حتیٰ کے نصب دینے کے لیے یعنی حتیٰ کے بعد ان مقدر ہونے کے لیے دو شرطیں ہیں بھئی۔ ایک شرط یہ کہ حتیٰ کا ما بعد ما قبل کی نسبت سے مستقبل ہونا چاہیے۔ حتیٰ کا ما بعد حتیٰ کے ما قبل کی نسبت سے مستقبل ہونا چاہیے۔ اور دوسری شرط یہ ہے کہ وہاں حتیٰ سببیّت یا غایہ کا فائدہ دے رہا ہو۔ حتیٰ سببیّت کا فائدہ دے رہا ہو یعنی حتیٰ کا ما قبل وہ سبب ہو اور حتیٰ کا ما بعد اس کا مسبب ہو۔ یا وہ حتیٰ غایہ کا فائدہ دے رہا ہو یعنی وہ جو حتیٰ کا ما بعد ہے وہ غایہ بن رہا ہو ما قبل کے لیے، وہ ما قبل کے لیے غایہ بن رہا ہو اس پر ما قبل والے فعل کی انتہاء ہو رہی ہو۔ تو یہاں یہ شرطیں پوری نہیں ہیں لہٰذا یہ حتیٰ نصب نہیں دے گا۔ تو کہتے ہیں: حتی ینعقد بحضور رجل وامراتین، یہاں تک کہ عقد نکاح جو ہے وہ منعقد ہو جائے گا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی سے۔ وفیه خلاف الشافعی رحمه الله، اور اس کے اندر اختلاف ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا، وستعرف فی الشهادات ان شاء الله تعالی، اور عنقریب آپ اس کو جان لیں گے کتاب الشهادات کے اندر ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اس کی دلیل صاحب ہدایہ کتاب الشهادات میں ذکر فرمائیں گے۔ کتاب الشهادات آگے اگلے سال ہدایہ کی جلد ثالث میں آ جائے گی بھئی، وہاں صاحب ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک نکاح کے باب میں گواہوں کا مرد ہونا ضروری ہے۔ وجہ یہ کہ وہ فرماتے ہیں کہ نکاح جو ہے ایک باعظمت چیز ہے تمام زندگی کے اندر کوئی شخص ایک یا دو نکاح ہی کرتا ہے، نکاح انتہائی نادر ہے اور باعظمت چیز ہے، لہٰذا اس کے اندر عورتوں کی گواہی قابل قبول نہیں کیونکہ عورتوں کی گواہی میں شبہ آگیا، آپ دیکھتے نہیں کہ گواہ دو مرد ہونے چاہییں اور اگر دوسرا مرد گواہ نہیں ہے تو پھر دو عورتوں کو ایک مرد کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ معلوم ہوا عورت کی گواہی میں کیا ہے؟ شبہ ہے جبھی تو صرف ایک عورت کی گواہی مرد کے برابر نہیں ہے بلکہ دو عورتوں کی گواہی مرد کے برابر ہے۔ تو وہ فرماتے ہیں نکاح جو ہے باعظمت چیز ہے اور انتہائی نادر ہے کہ زندگی کے اندر کوئی شخص ایک یا دو نکاح ہی کرتا ہے، تو لہٰذا اس کے اندر گواہ جو ہیں وہ مرد ہی ہونے چاہییں کیونکہ عورت کی گواہی میں شبہ آگیا۔ لیکن ہم احناف کہتے ہیں کہ عورت کی گواہی میں اگر شبہ آیا ہے تو اس شبہے کی تلافی بھی ہو گئی کہ ایک عورت کے ساتھ ایک اور عورت کا ہونا بھی ضروری ہے بھئی۔ گواہ کیا ہوں گے؟ دو مرد ہوں گے یا ایک مرد اور دو عورتیں ہوں گی، دیکھو یہ جو دو عورتیں ہیں اسی لیے ہیں کہ ایک کی گواہی میں اگر شبہ آ رہا تھا تو دوسری نے آ کر اس کے ساتھ اس شبہے کو دور کر دیا اور اس میں قوت پیدا کر دی، بات سمجھ میں آگئی۔ تو ہمارے نزدیک گواہوں کا مذکر ہونا ضروری نہیں ہے جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک دونوں گواہوں کا مذکر ہونا ضروری ہے نکاح میں۔ آگے دیکھیے کہتے ہیں: ولا تشترط العدالة، بھئی متن میں آگے آیا تھا عدولا کانوا او غیر عدول، کہ وہ گواہ جو ہیں عادل ہوں یا عادل نہ ہوں یعنی فاسق ہوں، چاہے وہ گواہ عادل ہوں یا عادل نہ ہوں بلکہ فاسق ہوں۔ تو ہمارے نزدیک نکاح کے اندر گواہوں کا عادل ہونا ضروری نہیں، اگر دو فاسق افراد بھی موجود ہوئے تو ان کی موجودگی میں بھی نکاح ہو جائے گا۔ ان میں چار صفات تو ضرور ہونی چاہییں بھئی، آزاد ہوں، عاقل ہوں، بالغ ہوں، مسلمان ہوں اور عادل ہونا ضروری نہیں، عادل ہوں یا فاسق ہوں دونوں صورتوں میں عقد نکاح منعقد ہو جائے گا بھئی۔ ولا تشترط العدالة حتی ینعقد بحضرة الفاسقین عندنا، یہاں پر بھی یہ حتیٰ نصب نہیں دے گا۔ تو کہتے ہیں: ولا تشترط العدالة، اور عادل ہونے کی شرط نہیں لگائی جائے گی، حتی ینعقد بحضرة الفاسقین عندنا، یہاں تک کہ نکاح جو ہے منعقد ہو جائے گا دو فاسقوں کی موجودگی سے بھی عندنا ہمارے نزدیک۔ اس کو چاہے الفاسقَین تثنیہ پڑھ لیں، دو فاسقوں کی موجودگی سے بھی نکاح ہو جائے گا، یا آپ چاہیں تو اس کو جمع بھی پڑھ سکتے ہیں: حتى ينعقد بحضرة الفاسِقِينَ عندنا، فاسقوں کی موجودگی سے بھی نکاح منعقد ہو جائے گا بھئی۔ خلافا للشافعی رحمه الله، بر خلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، امام شافعی رحمہ اللہ اس میں بھی اختلاف فرماتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ نکاح کے اندر گواہوں کا مرد ہونا بھی ضروری اور ان کا عادل ہونا بھی ضروری ہے، فاسق گواہ ہوئے تو نکاح منعقد نہیں ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں لہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ ان الشهادة من باب الکرامة، کہ گواہی جو ہے من باب الکرامة، کرامت کہتے ہیں عزت اور شرافت کو بھئی، معزز ہونا، عزت والا ہونا، کہ یہ گواہی جو ہے من باب الکرامة یہ عزت کے باب سے ہے یعنی یہ اعزاز کی بات ہے، گواہ ہونا کیا ہے؟ عزت والی بات ہے، اعزاز والی بات ہے۔ والفسقة من اهل الاهانة، اور فاسق جو ہے وہ تو اہل اہانت ہے۔ فاسق تو کیا ہے؟ اہل اہانت ہے، اہان یھین اہانة کا معنی ہے دوسرے کی بے عزتی کرنا، اس کو ذلیل کرنا، لیکن یہاں یہ معنی نہ کرنا بھئی یہ مراد نہیں ہے، شریعت کسی کی بھی بے عزتی کا درس نہیں دیتی بھئی، بلکہ یہاں اہانت کا معنی یہ ہے کہ ان کو اہمیت نہیں دی جائے گی یعنی ان کو حقیر اور معمولی سمجھا جائے گا۔ فاسق آدمی ہے جو گناہ کرتا رہتا ہے تو اس کو اس کو عزت والا مقام نہیں دیا جائے گا، اس کو اہمیت نہیں دی جائے گی اور اس کو حقیر اور معمولی سمجھا جائے گا، اس سے اس طرح کا برتاؤ کریں گے جیسے کوئی حقیر اور معمولی شخص ہے بھئی، تاکہ وہ اپنی غلطی پر متنبہ ہو اس کو پتہ چلے کہ میں کچھ غلط کر رہا ہوں جس کی وجہ سے لوگ میری عزت نہیں کرتے، تو چنانچہ اس سے پھر اس کی اصلاح ہوگی۔ تو کہتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے: ان الشهادة من باب الکرامة، کہ گواہی جو ہے وہ اعزاز کی بات ہے وہ عزت کے باب سے ہے، یہ آپ کے حاشیے میں حدیث بھی دی ہوئی ہے، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: اکرموا الشهود، کہ تم لوگ گواہوں کی عزت کرو۔ اکرموا الشهود، تم لوگ گواہوں کی عزت کرو، اور اسی حدیث کے آگے الفاظ ہیں جو یہاں پر تو نہیں دیگر کتابوں میں موجود ہیں: فان الله یحیی بهم الحقوق، کیونکہ یہ جو گواہ ہیں ان کے ذریعے اللہ حقوق کو زندہ فرماتے ہیں، اس کے ذریعے لوگوں کے حقوق کی حفاظت ہوتی ہے، کہیں جھگڑا وغیرہ ہو جائے تو گواہی کے ذریعے مسئلہ حل ہو جاتا ہے اور حقدار کو اس کا حق مل جاتا ہے۔ تو حدیث میں کیا آیا کہ گواہوں کی عزت کرو، معلوم ہوا گواہ ہونا ایک عزت والا مقام ہے بھئی، حدیث میں ان کی عزت کا درس دیا جا رہا ہے، تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان الشهادة من باب الکرامة، کہ گواہ ہونا جو ہے وہ عزت کے باب سے ہے یعنی اعزاز کی بات ہے، والفسقة من اهل الاهانة، اور فاسق جو ہے وہ تو اہل اہانت ہے یعنی وہ تو اس لائق ہے کہ اس کو اہمیت نہ دی جائے، اس کو حقیر اور معمولی سمجھا جائے، لہٰذا فاسق گواہ نہیں بن سکتا نکاح کے باب میں۔ اگر آپ نے اس کو گواہ بنا دیا تو پھر تو آپ نے اس کو عزت والا مقام دے دیا، معلوم ہوا فاسق نکاح کے اندر گواہ نہیں بن سکتا، صرف فاسقوں کی موجودگی میں نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ ولنا اب آگے ہم جواب دیں گے۔ ہمارا مذہب کیا ہے بھئی؟ ہمارے نزدیک گواہ عادل ہوں یا عادل نہ ہوں یعنی فاسق ہی کیوں نہ ہوں پھر بھی عقد نکاح منعقد ہو جائے گا۔ اب اس کی دلیل ذکر کریں گے: ولنا انه من اهل الولایة فیکون من اهل الشهادة۔ امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں کہ فاسق جو ہے وہ گواہ نہیں ہو سکتا اس لیے کیونکہ گواہ ہونا عزت کا مقام ہے اور فاسق جو ہے اس کو یہ عزت والا مقام نہیں دیا جائے گا بھئی، اس کو اتنی اہمیت اور اتنی توجہ اور اتنی عزت نہیں دی جائے گی کہ اس کو گواہ بنایا جائے۔ لہٰذا صرف فاسقوں کی موجودگی میں مسلمان کا نکاح منعقد نہیں ہوگا، جبکہ ہمارے نزدیک فاسق جو ہے وہ اہل شہادت ہے، ہاں اس کے اہل شہادت ہونے میں کمی ہے کیونکہ گمان ہوتا ہے کہ کہیں یہ جھوٹ نہ بول رہا ہو۔ جب وہ اللہ کے احکام کی پرواہ نہیں کرتا تو لوگوں کے حقوق کی پتہ نہیں پرواہ کرے گا یا نہیں کرے گا، تو وہاں جھوٹ کا گمان دلوں میں آتا ہے کہ کہیں یہ جھوٹ نہ بول رہا ہو تو اس کی گواہی میں کمی آگئی، اس لیے قاضی چاہے تو اس کی گواہی قبول کرے اور چاہے تو اس کی گواہی قبول نہ کرے، کیونکہ اس کے اہل تحمل اور اہل ادا ہونے میں نقصان ہے، کمی ہے، جھوٹ کی بدگمانی دلوں میں آتی ہے۔ بھئی ہمارے نزدیک فاسق جو ہے وہ اہل ولایت ہے بھئی۔ فاسق آدمی اپنا نکاح خود کرنا چاہے، کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا؟ بے شک گناہ وغیرہ کرتا ہے لیکن اپنا نکاح تو وہ اپنی مرضی سے جہاں چاہے کر سکتا ہے۔ تو معلوم ہوا وہ اہل ولایت ہے، اس کو ولایت حاصل ہے اپنی ذات کے اوپر۔ اور اسی طرح یہ اپنے غلام یا باندیوں کا بھی جہاں چاہے نکاح کروا سکتا ہے۔ اسی طرح آگے آپ پڑھیں گے کہ باپ جو ہے اپنے نابالغ بچوں کا نکاح خود کروا سکتا ہے، تو فاسق بھی جو ہے اپنے بچوں کا نکاح خود کروا سکتا ہے۔ تو معلوم ہوا فاسق کو اپنے اوپر بھی ولایت حاصل ہے اور اپنے غلام اور باندیوں پر بھی ولایت حاصل ہے اور اپنے نابالغ بچوں پر بھی ولایت حاصل ہے، معلوم ہوا یہ اہل ولایت ہے۔ اور جو بھی اہل ولایت ہوتا ہے وہ اہل شہادت ہوتا ہے وہ گواہ ہو سکتا ہے، کیونکہ گواہی بھی کس قبیل سے ہے؟ ولایت ہی کے تو قبیل سے ہے، ولایت کسے کہتے ہیں کہ آپ کا قول غیر پر نافذ ہو جائے چاہے وہ مانے یا نہ مانے۔ اسی طرح گواہی کے اندر بھی گواہ کا قول فریق مخالف پر نافذ ہو جاتا ہے چاہے وہ مانے یا نہ مانے، تو جب فاسق اہل ولایت ہے تو پھر یہ اہل شہادت بھی ہے بھئی۔ اور وہ ضابطہ بھی میں نے آپ کو بتلایا تھا بھئی کہ جو شخص اپنا نکاح خود کر سکتا ہے وہ دوسرے کے نکاح میں گواہ بھی بن سکتا ہے، دوسرے کا نکاح بھی اس کی موجودگی میں منعقد ہو جائے گا۔ تو فاسق اپنا جہاں چاہے نکاح کر سکتا ہے بھئی، تو جب وہ اپنا نکاح خود کر سکتا ہے تو اس کی موجودگی سے دوسروں کا نکاح بھی منعقد ہو جائے گا بھئی۔ تو فاسق جب اہل ولایت ہے تو اہل شہادت بھی ہوگا، جیسے وہ جو گواہوں کی چار قسمیں پیچھے میں نے بیان کی تھیں کہ گواہ جو ہیں چار قسم پر ہیں، کچھ وہ گواہ ہیں جو اہل شہادت ہیں کامل طور پر، جو جو اہل شہادت ہیں کامل طور پر، اور وہ کون سے گواہ ہیں جن میں چار صفاتِ لازمہ بھی ہوں اور وہ عادل بھی ہوں، یعنی وہ آزاد بھی ہیں، عاقل بھی ہیں، بالغ بھی ہیں، مسلمان بھی ہیں اور ساتھ ساتھ عادل بھی ہے، تو ایسا گواہ جو عادل ہے وہ اہل شہادت ہے کامل طور پر۔ جب وہ کامل طور پر اہل شہادت ہے، قاضی کے پاس جب ایسا آدمی گواہی دینے آئے گا تو قاضی پر اس کی گواہی قبول کرنا لازم ہے۔ قاضی اگر اس کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا تو عند اللہ قاضی مجرم ہوگا۔ جب دو عادل گواہ آ جائیں تو قاضی کو اسی کے مطابق فیصلہ کرنا پڑے گا، قاضی کی مثال اب مجبور محض کی ہو گئی اب وہ کوئی اور فیصلہ نہیں کر سکتا۔ جبکہ بعض گواہ وہ ہیں جو اہل شہادت تو ہیں لیکن کامل طور پر نہیں ہیں اور وہ کون سے؟ کہ جن میں وہ چار صفات تو موجود ہیں آزاد ہیں، عاقل ہیں، بالغ ہیں، مسلمان ہیں، لیکن عادل نہیں ہیں بلکہ فاسق ہیں، تو یہ بھی اہل شہادت ہیں لیکن کامل طور پر اہل شہادت نہیں، ان کی گواہی قاضی چاہے تو قبول کرے چاہے تو قبول نہ کرے، معلوم ہوا فاسق کی گواہی بھی قاضی قبول کر سکتا ہے، جی۔ عادل کی تو قبول کرنا لازم اور فاسق کی بھی وہ قبول کر سکتا ہے، تو ہمارے نزدیک فاسق بھی اہل شہادت ہے۔ اور یہاں تو نکاح کا مسئلہ چل رہا ہے، یہاں تو اس نے گواہی دینی نہیں ہے صرف گواہ بننا ہے، ایک ہے تحملِ شہادت ایک ہے ادائے شہادت، ادائے شہادت شہادت کا ادا کرنا، گواہی دینا یہ تو قاضی کے سامنے ہوتا ہے، تو جب یہ قاضی کے سامنے جا کر گواہی دے سکتا ہے تو گواہ بننا تو کم درجہ ہے تو گواہ یہ بطریق اولیٰ بن سکتا ہے۔ ایک ہے تحملِ شہادت اس میں کسی پر کوئی چیز لازم نہیں کر رہا صرف گواہ بن رہا ہے، اور ایک ہے ادائے شہادت قاضی کے پاس جا کر گواہی دے رہا ہے وہاں تو باقاعدہ اس کی گواہی کی وجہ سے دوسرے پر ایک چیز لازم ہو جائے گی، تو جب یہ ادائے شہادت کر سکتا ہے جو اعلیٰ درجہ ہے تو تحملِ شہادت تو ادنیٰ درجہ ہے یہ بطریق اولیٰ کر سکتا ہے۔ معلوم ہوا فاسق ہمارے نزدیک اہل ولایت ہے یعنی اس کو اپنے اوپر، اپنے غلاموں وغیرہ پر ولایت حاصل ہے، جب یہ اہل ولایت ہے تو یہ اہل شہادت بھی ہوگا یہ گواہ بھی ہو سکتا ہے، بات سمجھ میں آگئی۔ آگے صاحب ہدایہ اس کی علت بیان کریں گے۔ اس کی علت بیان کریں گے کہ بھئی یہ اہل ولایت ہے معلوم ہوا اس کو اپنے اوپر ولایت حاصل ہے، اپنے اوپر اپنے اوپر ولایت حاصل ہے جہاں چاہے اپنا نکاح کر سکتا ہے، تو غیر پر اس کو کیسے ولایت آپ دے رہے ہیں؟ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ شہادت میں تو غیر پر ولایت مل جاتی ہے، غیر پر آپ کا قول نافذ ہو جاتا ہے، تو یہ فاسق یہ اہل ولایت تو ہے معلوم ہوا یہ اپنا نکاح جہاں چاہے کر سکتا ہے اس کو اپنے اوپر ولایت ہے، لیکن اس سے آپ کیا ثابت کرنا چاہ رہے ہیں کہ یہ اہل شہادت بھی ہے، اور شہادت کے اندر اپنے اوپر قول نافذ ہوتا ہے یا غیر پر؟ غیر پر قول نافذ ہوتا ہے، تو آپ نے اس کو اہل ولایت تو کہہ دیا ہمیں تسلیم ہے اس کو اپنے اوپر ولایت حاصل ہے لیکن شہادت میں تو کیا کہنا پڑے گا؟ اس کو غیر پر ولایت حاصل ہے وہ کیسے ہو سکتا ہے بھئی؟ اپنے اوپر ولایت تو ہونی چاہیے ٹھیک ہے لیکن غیر پر اس کو آپ کیسے ولایت دے رہے ہیں؟ کیسے ثابت کر رہے ہیں کہ یہ اہل ولایت ہے لہٰذا یہ کیا ہوگا؟ اہل شہادت بھی ہوگا، اہل ولایت کہنے سے تو صرف کیا پتہ چلا کہ اس کو اپنے اوپر ولایت حاصل ہے، لیکن اہل شہادت جب کہیں گے تو اس سے تو کیا پتہ چلا؟ اس کو غیر پر بھی ولایت حاصل ہے، اپنے اوپر تو ولایت ہونی چاہیے اس میں تو کوئی شک نہیں لیکن غیر پر کیسے اس کو ولایت آپ نے دے دی؟ تو اس کی صاحب ہدایہ وجہ بیان کریں گے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ صاحب ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ یہ جو فاسق ہے اس کے اندر دو جہتیں ہیں، ایک طرف ہے اس کا فسق یعنی فاسق ہونا اور ایک طرف ہے اس کا مسلمان ہونا۔ اس کا فسق تقاضا کر رہا ہے کہ اس کو اپنے اوپر بھی ولایت نہیں ہونی چاہیے، اس کا فسق تقاضا کر رہا ہے اس کو اپنے اوپر بھی ولایت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ گناہ کرتا ہے گنہگار ہے، تو جب یہ گناہ کرتا ہے اپنا نقصان کرتا ہے یا کسی اور کا؟ اپنا نقصان کر رہا ہے، تو معلوم ہوا اس کی عقل ناقص ہے اس کی عقل کامل نہیں، تو یہ بچے کی مثل ہوا اور بچہ جو ہے اس کو شریعت نے ولایت نہیں دی وہ اپنا نکاح نہیں کر سکتا، لہٰذا فاسق جو ہے یہ بھی ناقص العقل ہوا اس کی عقل کم ہوئی لہٰذا اس کو بھی اپنے اوپر ولایت نہیں ہونی چاہیے، اس کو بھی اپنے نکاح کی ولایت نہیں ہونی چاہیے جیسے بچے کو اپنے نکاح کی ولایت نہیں ہے۔ تو فاسق کا فسق کیا تقاضا کر رہا ہے؟ اس کو اپنے اوپر بھی ولایت نہیں ہونی چاہیے جیسے بچے کو اپنے اوپر ولایت نہیں ہوتی، لیکن دوسری طرف یہ مسلمان ہے بھئی، اس کا مسلمان ہونا تقاضا کرتا ہے کہ بھئی اگرچہ یہ کم عقل ہے لیکن عاقل، بالغ اور آزاد ہے لہٰذا اس کو ولایت ہونی چاہیے، اور پھر شریعت نے اس کو اپنے اوپر ولایت دے دی یہ جہاں چاہے اپنا نکاح کر سکتا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ معلوم ہوا فاسق میں کتنی جہتیں؟ دو جہتیں، ایک ہے اس کا فاسق ہونا ایک ہے اس کا مسلمان ہونا۔ اس کا فاسق ہونا تقاضا کرتا ہے اس کو اپنے اوپر ولایت نہیں ہونی چاہیے لیکن اس کا مسلمان ہونا تقاضا کرتا ہے کہ اس کو اپنے اوپر ولایت ہونی چاہیے، اور مجھے بتائیے فاسق اپنا نکاح کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا؟ کر سکتا ہے، معلوم ہوا اس کا فاسق ہونا مانع نہ بن سکا، اس کا فاسق ہونا مانع بن رہا تھا لیکن اس کے اسلام نے اس کو مانع نہیں بننے دیا۔ اس کا فاسق ہونا مانع بن رہا تھا کس چیز سے؟ اس کی اپنی ذات پر جو ولایت ہے کہ اس کو اپنی ذات پر بھی ولایت نہیں ہونی چاہیے یہ کم عقل آدمی ہے اپنا نقصان کر رہا ہے لہٰذا اس کو اپنے نکاح کی بھی اجازت نہیں ہونی چاہیے، لیکن کیا اس کا فاسق ہونا مانع بنا؟ مانع نہیں بنا، اس کو اجازت ہے یہ اپنا نکاح کر سکتا ہے، کیوں؟ کیونکہ یہ مسلمان ہے اس کے اسلام کی وجہ سے، تو معلوم ہوا اس کا فسق مانع نہ بن سکا، کس چیز میں؟ اس کی اپنی ذات پر جو ولایت ہے اس میں۔ اس کا فاسق ہونا مانع نہ بن سکا کس چیز سے؟ اس کی اپنی ذات پر جو ولایت ہے اس میں یہ فسق مانع نہ بنا، کیوں نہیں بن سکا فسق مانع؟ اس کے اسلام کی وجہ سے، اس کے اسلام کی وجہ سے، جی۔ پھر دہرائیں اس کا فسق مانع نہ بنا کس چیز کے لیے؟ یوں کہیں یوں الفاظ دہرائیں، ولایت علیٰ نفسہٖ میں۔ اس کا فسق مانع نہ بنا کس چیز میں؟ ولایت علیٰ نفسہٖ، اس کی جو اپنی ذات پر ولایت ہے اس میں، پھر دہرائیں بھئی، اس کا فسق مانع نہ بنا کس چیز میں مانع نہ بنا؟ اس کی ولایت علیٰ نفسہٖ جو ہے اس میں فسق مانع نہ بن سکا، کیوں نہیں بن سکا؟ اس کے مسلمان ہونے کی وجہ سے۔ تو جب اس کا فسق ولایت علیٰ نفسہٖ میں مانع نہ بن سکا تو ولایت علیٰ غیرہٖ میں بھی مانع نہیں بنے گا، جی۔ غیر پر جو ولایت ہے اس میں بھی مانع نہیں بنے گا، کیوں؟ کیونکہ یہی اسلام وہاں بھی موجود ہے، جو اسلام اس کے اندر موجود تھا جس کی وجہ سے فسق مانع نہ بن سکا یہی اسلام غیر میں بھی موجود ہے، یہی علت وہاں بھی موجود ہے، تو لہٰذا وہاں بھی فسق مانع نہیں بنے گا بھئی۔ تو جب اس کو ولایت علیٰ نفسہٖ حاصل ہے تو ولایت علیٰ غیرہٖ بھی حاصل ہوگی، تو یہ اہل شہادت ہے، غیر کے خلاف اس کا قول نافذ ہو سکتا ہے، یہ گواہ بن سکتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی؟ کیا بات ہوئی؟ پھر دہرائیں بھئی صاحب ہدایہ کی بہت گہری باتیں چل رہی ہیں بھئی۔ صاحب ہدایہ نے کیا فرمایا کہ فاسق اہل ولایت ہے، جب یہ اہل ولایت ہے تو یہ اہل شہادت بھی ہونا چاہیے۔ بھئی اہل ولایت ہے یعنی اس کو اپنے اوپر ولایت حاصل ہے یہ جہاں چاہے اپنا نکاح کر سکتا ہے، تو پھر اس کو اہل شہادت بھی ہونا چاہیے۔ تو اس پر سوال پیدا ہوا بھئی اہل شہادت اس میں تو غیر پر ولایت ہوتی ہے، چلیں یہ بات تو ہمیں تسلیم ہے کہ فاسق کو اپنے اوپر ولایت ہے وہ اپنا نکاح جہاں چاہے کر سکتا ہے لیکن اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ اس کو غیر پر بھی ولایت دے دی جائے؟ کیونکہ جب آپ اس کو اہل شہادت کہیں گے تو گواہ کا قول تو غیر پر نافذ ہوتا ہے تو کہنا پڑے گا کہ اس کو غیر پر بھی ولایت حاصل ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اے صاحب ہدایہ آپ نے کہا کہ فاسق کو اپنے اوپر ولایت ہے، جب اپنے اوپر ولایت ہے تو یہ اہل شہادت بھی ہوا یعنی غیر پر بھی اس کو ولایت مل سکتی ہے، یہ کیسی دلیل ہے؟ تو صاحب ہدایہ اس کی تفصیل بیان فرماتے ہیں کہ فاسق کے اندر دو چیزیں ہیں، ایک اس کا فاسق ہونا ہے اور ایک اس کا مسلمان ہونا ہے، اور یہاں ولایتیں بھی دو قسم پر ہیں ایک ولایت علیٰ نفسہٖ ہے اور ایک ولایت علیٰ غیرہٖ ہے بھئی۔ تو جب اس کا فسق جو ہے ولایت علیٰ نفسہٖ کے لیے مانع نہیں بن سکتا کیونکہ یہ مسلمان ہے، تو یہی اسلام غیر میں بھی تو پایا جا رہا ہے تو ولایت علیٰ غیرہٖ کے لیے بھی وہ مانع نہیں بنے گا۔ ولایت علیٰ نفسہٖ میں مانع نہ بنا فسق، کیوں نہیں بنا؟ اسلام پایا جا رہا تھا۔ تو ولایت علیٰ غیرہٖ اس غیر میں بھی کیا پایا جا رہا ہے؟ اسلام پایا جا رہا ہے تو وہاں بھی فسق مانع نہیں بنے گا بھئی۔ تو جب اس کو ولایت علیٰ نفسہٖ حاصل ہے تو یہ اہل شہادت ہے یعنی غیر پر بھی اس کو ولایت حاصل ہوگی یعنی اس کا قول نافذ ہو سکتا ہے، یہ گواہ بن سکتا ہے، بات سمجھ میں آگئی۔ شاید ابھی بھی بات پوری طرح واضح نہ ہوئی ہو بھئی۔ بھئی اور آسان لفظوں میں اس کو سمجھ لیجیے۔ بھئی دیکھیے یہ جو فاسق ہے اس کے فسق کے باوجود اس کو اپنی ذات پر ولایت حاصل ہے اور یہ فاسق تو کیا ہے؟ مسلمان ہے، گویا فسق کے باوجود اس کو ایک مسلمان ذات پر ولایت حاصل ہے یعنی اس کی اپنی ذات، فاسق ہونے کے باوجود اس کو بالاتفاق اپنی ذات پر ولایت حاصل ہے یہ جہاں چاہے اپنا نکاح وغیرہ کر سکتا ہے۔ تو جب فاسق کو فسق کے باوجود اپنی ذات پر یعنی ایک مسلمان ذات پر ولایت حاصل ہے تو اس کو دوسرے مسلمان پر بھی ولایت حاصل ہوگی کیونکہ وہ بھی اسی کی جنس میں سے ہے وہ بھی ایک مسلمان ذات ہے، جیسے فاسق خود کیا تھا؟ ایک مسلمان ذات، اسی طرح غیر بھی کیا ہے؟ ایک مسلمان ذات۔ تو جب فاسق کا فسق مانع نہیں بنا اس کی اپنی ذات پر ولایت سے، فاسق ہونے کے باوجود اس کو اپنی ذات پر ولایت حاصل ہے یعنی ایک مسلمان پر ولایت حاصل ہے تو لہٰذا دوسرے مسلمان پر بھی اس کو ولایت حاصل ہوگی کیونکہ وہ بھی اسی کی جنس سے ہے، وہ غیر بھی اسی فاسق کی جنس میں سے ہے یعنی جیسے یہ فاسق مسلمان ہے وہ دوسرا بھی مسلمان ہے۔ تو جب فاسق کو اپنے اوپر ولایت حاصل ہے اور فاسق خود کیا ہے؟ مسلمان، تو ایک مسلمان ذات پر، ایک مسلمان شخص پر اس کو ولایت حاصل ہے اور اس میں سب کا اتفاق ہے، سب کے نزدیک فاسق کو اپنی ذات پر ولایت حاصل ہے، لیکن البتہ اختلاف اس میں ہے کہ کسی دوسرے مسلمان پر بھی اس کو ولایت حاصل ہو سکتی ہے یا نہیں؟ تو ہم کہتے ہیں ولایت علیٰ غیرہٖ بھی ولایت علیٰ نفسہٖ کے باب سے ہے کیونکہ ولایت علیٰ نفسہٖ میں جب اس کو اپنی ذات پر ولایت حاصل ہے یعنی ایک مسلمان پر ولایت حاصل ہے تو دوسرا شخص بھی تو مسلمان ہے تو اس پر بھی اس کو ولایت حاصل ہو سکتی ہے یعنی یہ اس کے خلاف گواہ بن سکتا ہے، بات سمجھ میں آگئی۔ جی دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ولنا انه من اهل الولایة، کہ فاسق جو ہے وہ اہل ولایت ہے یعنی اس کو اپنی ذات پر ولایت حاصل ہے، فیکون من اهل الشهادة، تو یہ اہل شہادت بھی ہوگا یعنی غیر پر بھی اس کو ولایت ہو سکتی ہے، قاضی غیر کے سلسلے میں بھی اس کا قول قبول کر سکتا ہے اگرچہ یہ اہل شہادت ہے ناقص طور پر کیونکہ فاسق ہے، قاضی کے لیے گواہی قبول کرنا لازم نہیں لیکن قبول کر سکتا ہے تو یہ اہل شہادت ہے ناقص طور پر۔ وھذا اور یہ اس وجہ سے ہے، اس کے ذریعے اشارہ ہے یہ جو پیچھے بات ذکر کی صاحب ہدایہ نے کہ یہ فاسق اہل ولایت ہے تو یہ اہل شہادت بھی ہوگا بھئی، وھذا یہ اس وجہ سے ہے، لانه لما لم یحرم الولایة علی نفسه، کہ جب حرام نہیں کیا لم یحرم، حرام نہیں کیا، ضمیر راجع ہے فسق کی طرف یہ فاسق کا جو فسق ہے اس کا فاسق ہونا، لانه لما لم یحرم، جب فسق نے حرام نہیں کیا، کس چیز کو حرام نہیں کیا؟ الولایة علی نفسه، اس کی اپنی ذات پر جو ولایت ہے، جب فسق نے اس کی اپنی ذات پر جو ولایت ہے اس کو حرام نہیں کیا اس کے لیے فسق مانع نہیں بنا لاسلامہ اس کے اسلام کی وجہ سے، اس کے مسلمان ہونے کی وجہ سے، فلا یحرم علی غیره، تو یہ فسق جو ہے حرام نہیں کرے گا غیر پر بھی یعنی غیر پر بھی ولایت کو حرام نہیں کرے گا۔ جب یہ ولایت علیٰ نفسہٖ کے لیے مانع نہیں تو ولایت علیٰ غیرہٖ میں بھی یہ مانع نہیں بنے گا، لانه من جنسه، اس لیے کیونکہ وہ غیر بھی اسی فاسق کی جنس سے ہے، غیر بھی اسی فاسق کے جنس سے ہے یعنی جیسے یہ فاسق مسلمان ہے وہ غیر بھی کیا ہے؟ مسلمان۔ جیسے اس فاسق میں اسلام موجود تھا اور اس اسلام نے فسق کو مانع بننے سے روک دیا، جیسے اس کے اندر اسلام موجود تھا اس اسلام نے فسق کو مانع نہیں بننے دیا اس کو ولایت علیٰ نفسہٖ حاصل رہی، تو غیر کے اندر بھی اسلام موجود ہے تو وہاں پر بھی وہ اسلام جو ہے اس فسق کو مانع نہیں بننے دے گا اور جیسے اس کو ولایت علیٰ نفسہٖ حاصل تھی اسی طرح اس کو ولایت علیٰ غیرہٖ بھی حاصل ہو سکتی ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے۔ یہ معنی ہے لانه من جنسه، اس لیے کیونکہ وہ غیر بھی اسی فاسق کی جنس سے ہے یعنی وہ بھی مسلمان ہے۔ دلیل سمجھ میں آگئی؟ حاصل کلام کیا ہوا کہ فاسق اہل ولایت ہے تو وہ اہل شہادت بھی ہے، یعنی جب اس کو ولایت علیٰ نفسہٖ حاصل ہے تو اس کو ولایت علیٰ غیرہٖ بھی حاصل ہو سکتی ہے کیونکہ شہادت میں ولایت علیٰ غیرہٖ ہوتی ہے، غیر پر آپ کا قول نافذ ہوتا ہے وہ مانے یا نہ مانے، اور اس کی علت کیا ہے، وجہ کیا ہے؟ تو صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ فاسق کا فسق جو ہے وہ مانع نہیں بنتا ولایت علیٰ نفسہٖ کے لیے، فاسق کا فسق مانع نہیں بنتا ولایت علیٰ نفسہٖ کے لیے اس کے مسلمان ہونے کی وجہ سے، تو ولایت علیٰ غیرہٖ کے اندر بھی وہ فسق مانع نہیں بنے گا کیونکہ وہاں بھی اسلام موجود ہے، بات سمجھ میں آگئی۔ آگے دیکھیے، جی یہ تو ایک دلیل تھی ہمارے نزدیک فاسق اہل شہادت ہے، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اہل شہادت نہیں ہے جبکہ ہمارے نزدیک اہل شہادت ہے۔ اور اب دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں: ولانه صلح مقلدا فیصلح مقلدا۔ کہتے ہیں: ولانه صلح مقلدا فیصلح مقلدا وکذا شاهدا، اور نیز اس لیے کیونکہ فاسق جو ہوتا ہے صلح مقلدا وہ مقلد ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، فیصلح مقلدا تو وہ مقلد ہونے کی بھی صلاحیت رکھے گا، وکذا شاهدا اور اسی طرح گواہ ہونے کی بھی۔ دوسری دلیل ذکر فرما رہے ہیں ہمارے نزدیک فاسق جو ہے وہ اہل شہادت ہے، دلیل ذکر فرما رہے ہیں صاحب ہدایہ کہ فاسق جو ہے وہ مقلد ہو سکتا ہے۔ قلّد یقلّد تقلید کا معنی ہے دوسرے کو ذمہ دار بنانا، دوسرے کو کسی کام کا ذمہ دار بنانا یعنی کسی دوسرے کی تقرری کرنا اور اس سے مراد بادشاہ اور خلیفہ وغیرہ ہیں، بادشاہ کیا کرتے ہیں؟ گورنر اور قاضی وغیرہ کی تقرری کرتے ہیں ان کو ذمہ دار بنا دیتے ہیں تو تو وہ مقلد ہوئے، ذمہ دار بنانے والے۔ اور جس کو ذمہ دار بنایا یعنی قاضی یا گورنر بنایا وہ ہے مقلد، اور قاضی اور گورنر جب بنا دیا تو اب قاضی اور گورنر کا حکم لوگوں پر نافذ ہوتا ہے، لوگوں پر نافذ ہوتا ہے۔ تو دیکھو مقلد کا کیا معنی؟ ذمہ دار بنانے والا، اور کون مراد ہے؟ بادشاہ، خلیفہ یا گورنر جو بھی ہے جو قاضی کی تقرری کرتا ہے جو قاضی کو مقرر کرتا ہے۔ اور مجھے بتائیے بادشاہ، خلیفہ اور گورنر یہ ہمیشہ عادل ہوتے ہیں یا فاسق بھی ہو سکتے ہیں؟ فاسق بھی ہو سکتے ہیں بلکہ اکثر فاسق ہوتے ہیں بھئی، کوئی کوئی عادل آتا ہے جس پر اللہ کا خاص فضل ہوتا ہے۔ تو جب بادشاہ فاسق ہے اور یہ کسی کو قاضی آگے لگاتا ہے تو وہ قاضی بن جائے گا اور پھر لوگوں پر اس کا حکم نافذ ہوگا۔ تو جب فاسق آدمی قاضی بنا سکتا ہے تو خود بھی قاضی بن سکتا ہے۔ جب فاسق آدمی فاسق بادشاہ یا گورنر ہے وہ کسی کو قاضی لگاتا ہے قاضی بناتا ہے تو وہ قاضی بن جائے گا اور اس کا حکم لوگوں پر نافذ ہوگا، تو جب فاسق آدمی دوسرے کو قاضی بنانا اس کے لیے جائز ہے تو خود بھی وہ قاضی بن سکتا ہے۔ بھئی ایک ہے مقلد ذمہ دار بنانے والا، ایک ہے مقلد جس کو ذمہ دار بنایا گیا، کس کا مقام اونچا ہے؟ مقلد کا مقام اونچا ہے، ظاہر سی بات ہے وہ تقرری کر رہا ہے وہ ذمہ دار بنا رہا ہے کسی کو، توجہ ہے؟ تو مقلد جب فاسق ہو سکتا ہے تو مقلد بطریق اولیٰ فاسق ہو سکتا ہے، توجہ ہے؟ معلوم ہوا جب فاسق آدمی کسی کو قاضی لگا سکتا ہے شرعاً کسی کو قاضی لگا سکتا ہے تو خود بھی قاضی بن سکتا ہے، اور جب خود قاضی بن سکتا ہے تو گواہ بھی بن سکتا ہے کیونکہ قاضی ہونا اور گواہ ہونا ایک ہی باب سے ہیں۔ جیسے گواہ کا قول غیر پر نافذ ہوتا ہے وہ چاہے یا نہ چاہے، اسی طرح قاضی کا حکم بھی سب پر نافذ ہو جاتا ہے قاضی کو ولایت عامہ حاصل ہوتی ہے۔ پھر سنو دلیل کیا؟ کہ جب فاسق آدمی مقلد ہو سکتا ہے تو پھر وہ مقلد بطریق اولیٰ ہو سکتا ہے اور جب وہ مقلد ہو سکتا ہے تو گواہ بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ قاضی ہونا اور گواہ ہونا ایک ہی باب سے ہیں۔ گواہ کا قول بھی غیر پر نافذ ہوتا ہے اور قاضی کا قول بھی غیر پر نافذ ہوتا ہے بلکہ قاضی کا مقام تو اونچا ہے گواہ کے مقابلے میں، تو جب فاسق آدمی قاضی بن سکتا ہے تو وہ بطریق اولیٰ گواہ بن سکتا ہے اور یہی ہمارا دعویٰ تھا کہ فاسق اہل شہادت ہے وہ گواہ بن سکتا ہے۔ کیا دلیل ہوئی کہ فاسق آدمی مقلد بن سکتا ہے وہ دوسروں کی تقرریاں کر سکتا ہے اور شرعاً وہ نافذ ہوں گی، تو جب وہ مقلد بن سکتا ہے تو پھر وہ مقلد بطریق اولیٰ بن سکتا ہے، اور جب مقلد بن سکتا ہے تو گواہ بھی بن سکتا ہے کیونکہ مقلد یعنی قاضی ہونا اور گواہ ہونا ایک ہی باب سے ہیں، معلوم ہوا فاسق آدمی اہل شہادت ہے وہ گواہ بن سکتا ہے، بات سمجھ میں آگئی۔ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ولانه صلح مقلدا، اور اس لیے کیونکہ فاسق آدمی وہ صلاحیت رکھتا ہے مقلد ہونے کی کہ وہ دوسروں کو ذمہ دار بنائے دوسروں کی تقرریاں کرے، فیصلح مقلدا وکذا شاهدا، تو فاسق آدمی وہ صلاحیت رکھتا ہے مقلد ہونے کی بھی یعنی جس کو ذمہ دار بنائے، جب یہ دوسروں کو ذمہ دار بنا سکتا ہے تو خود تو بطریق اولیٰ ذمہ دار بن سکتا ہے، وکذا شاهدا اور اسی طرح گواہ بھی ہو سکتا ہے بھئی، کیونکہ قاضی ہونا اور گواہ ہونا ایک ہی باب سے ہے، بات سمجھ میں آگئی۔ یہاں تک کیا بحث ہوئی؟ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فاسق گواہ نہیں بن سکتا کیونکہ گواہ بننا یہ تو اعزاز کی بات ہے اور فاسق جو ہے وہ تو اہل اہانت ہے اس کو یہ عزت والا مقام نہیں دیا جائے گا۔ ہم نے کہا نہیں کہ فاسق جو ہے وہ اس کو اپنی ذات پر ولایت حاصل ہے تو جب ولایت حاصل ہے تو وہ گواہ بن سکتا ہے، اس کے فسق نے جب اس کی اپنی ذات پر جو ولایت تھی اس کو ختم نہیں کیا تو غیر پر جو اس کی ولایت ہے اس کو بھی ختم نہیں کرے گا اور شہادت میں بھی غیر پر ولایت ہوتی ہے وہ اس کو حاصل رہے گی۔ اور نیز فاسق جو ہے وہ مقلد ہو سکتا ہے یعنی دوسروں کو ذمہ دار بنا سکتا ہے دوسروں کی تقرریاں کر سکتا ہے تو وہ خود بھی ذمہ دار بن سکتا ہے وہ مقلد بھی ہو سکتا ہے قاضی بھی بن سکتا ہے، اور جب فاسق جو ہے وہ قاضی اور گورنر بن سکتا ہے تو پھر گواہ بطریق اولیٰ بن سکتا ہے بھئی، کیونکہ قاضی کا مقام تو گواہ سے اونچا ہے بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔ آگے دیکھیے، کہتے ہیں: والمحدود فی القذف من اهل الولایة، جی اگلی قید آئی تھی متن کے اندر او محدودین فی القذف، کہ نکاح کے اندر جو گواہ ہیں وہ محدود فی القذف بھی ہو سکتے ہیں۔ وہ شخص جس پر حدِ قذف جاری ہوئی ہو وہ بھی نکاح کے اندر گواہ ہو سکتا ہے، گواہ بن تو سکتا ہے لیکن گواہی دے نہیں سکتا بھئی۔ اب اس کی دلیل ذکر فرما رہے ہیں صاحب ہدایہ بھئی، تو فرماتے ہیں: والمحدود فی القذف من اهل الولایة فیکون من اهل الشهادة تحملا، کہتے ہیں: والمحدود فی القذف من اهل الولایة، اور وہ شخص جو محدود فی القذف ہے وہ بھی اہل ولایت میں سے ہے، فیکون من اهل الشهادة تحملا، تو یہ جو محدود فی القذف ہے یہ بھی اہل شہادت میں سے ہے تحملاً، اٹھانے کے اعتبار سے۔ یہ اہل شہادت ہے تحمل کے اعتبار سے یعنی یہ گواہی کو اٹھا سکتا ہے یعنی گواہ بن سکتا ہے، ادا کے اعتبار سے یہ اہل شہادت نہیں۔ تحمل کے اعتبار سے اہل شہادت ہے ادا کے اعتبار سے نہیں تو اس سے کوئی خرابی لازم نہیں آتی، اس وقت صرف گواہ بننے کی ضرورت ہے اس وقت گواہی دینے کی ضرورت نہیں تو یہ گواہ بنے گا اور نکاح منعقد ہو جائے گا، ہاں پھر قاضی کے پاس اگر گواہی دینے کی ضرورت پیش آتی ہے تو قاضی اس کی گواہی قبول نہیں کرے گا۔ تو کہتے ہیں پھر دیکھیے ترجمہ، کہتے ہیں: والمحدود فی القذف من اهل الولایة، اور وہ جو محدود فی القذف ہے وہ بھی اہل ولایت میں سے ہے یعنی اس کو اپنی ذات پر بھی ولایت حاصل ہوتی ہے اور دوسروں پر بھی، فیکون من اهل الشهادة، تو یہ اہل شہادت میں سے بھی ہوگا، تحملا، گواہی کے تحمل کے اعتبار سے ہے یعنی ادا کے اعتبار سے نہیں ہے، وانما الفائت ثمرة الاداء، اور جو فوت ہوا ہے وہ صرف ادا کا ثمرہ ہے۔ ادھر دیکھیے یہ اہل شہادت ہے تحمل کے اعتبار سے ہے ادا کے اعتبار سے نہیں، بھئی پہلے گواہ بنتے ہیں پھر اس کے بعد گواہی دیتے ہیں، توجہ ہے؟ تو گواہی دینا ثمرہ ہے کس کا؟ گواہ بننے کا۔ پہلے گواہ بنے گا یا پہلے گواہی دے گا؟ پہلے گواہ بنے گا، ایک چیز کو دیکھے تو سہی اس کا مشاہدہ تو کرے اس کو سنے تو سہی، تو گواہ بننا پہلے ہے اور پھر اسی گواہ بننے پر مرتب ہوگا گواہی دینا، یعنی یوں کہو تحمل کا ثمرہ اور نتیجہ ادا کی صورت میں نکلے گا۔ تحملِ شہادت جو ہے اس کا ثمرہ اور اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟ ادائے شہادت، تو یہ جو محدود فی القذف ہے یہ تحملِ شہادت تو کر سکتا ہے لیکن اس پر جو ثمرہ اور نتیجہ مرتب ہونا ہے یعنی ادائے شہادت وہ فوت ہو گیا۔ وہ ثمرہ اور نتیجہ کیا ہوا؟ فوت ہو گیا، یہ ادائے شہادت نہیں کر سکتا۔ بھئی کیوں نہیں کر سکتا؟ بھئی اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے: ولا تقبلوا لهم شهادة ابدا، اور کیوں منع فرمایا اللہ تعالیٰ نے؟ اس کے جرم کی وجہ سے کہ اس نے ایک مسلمان پر زنا کا جھوٹا الزام لگایا تھا، بات سمجھ میں آگئی۔ تو یہ جو محدود فی القذف ہے یہ تحملِ شہادت تو کر سکتا ہے لیکن ادائے شہادت نہیں کر سکتا، اب وہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: فیکون من اهل الشهادة تحملا، تو یہ جو محدود فی القذف ہے یہ اہل شہادت میں سے ہے تحمل کے اعتبار سے، وانما الفائت ثمرة الاداء، اور وہ چیز جو فوت ہوئی ہے وہ ادا کا ثمرہ ہے یعنی ادائے شہادت کا ثمرہ اور نتیجہ ہے وہ فوت ہو گیا، بالنھی، کیوں فوت ہوا؟ بالنھی، اس نہی کی وجہ سے وہ جو اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے: ولا تقبلوا لهم شهادة ابدا، اور یہ نہی کیوں آئی اللہ نے کیوں منع فرمایا؟ لجریمته، اس کے جرم کی وجہ سے۔ جریمہ کس معنی میں ہے؟ جرم کے معنی میں ہے، لجریمته اس کے جرم کی وجہ سے، ولا یبالی بفواته، اور کوئی پرواہ نہیں کی جائے گی اس اس کے فوت ہونے کی، یہ جو ثمرۂ ادا فوت ہوا ہے اس ادا کے فوت ہونے کی پرواہ نہیں کی جائے گی یعنی یہ گواہ بن سکتا ہے نکاح کے اندر۔ یہ گواہ بن سکتا ہے اگرچہ ادا نہیں کر سکتا لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اس کی پرواہ نہیں کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ولا یبالی بفواته، اور کوئی پرواہ نہیں کی جائے گی اس ادا کے فوت ہونے کی، کما فی شهادة العمیان وابنی العاقدین، جیسے کہ اندھوں کی گواہی میں اور عقد کرنے والوں کے دو بیٹوں کی گواہی میں۔ بھئی دیکھیے میں نے آپ کو بتلایا اندھا جو ہے اندھا وہ تحملِ شہادت تو کر سکتا ہے لیکن ادائے شہادت نہیں کر سکتا، کیونکہ جب وہ گواہی دے گا تو ظاہر سی بات ہے کسی کے خلاف دے گا تو اس نے تو صرف آواز سے سن کر دوسرے کو پہچاننا ہے تو کہیں ایسا نہ ہو اس کو غلطی لگ جائے۔ تو اندھا جو ہے وہ تحملِ شہادت تو کر سکتا ہے لیکن ادائے شہادت نہیں، تو صرف دو اندھے موجود ہیں اور ان کے سامنے نکاح منعقد کیا جائے تو نکاح ہو جائے گا۔ یا اسی طرح وہ جو عقد کرنے والے مرد اور عورت ہیں، مرد اور عورت ہیں ان کی پہلی شادی سے جو بچے ہیں وہ گواہ بن جاتے ہیں اس شادی میں، وہ جو مرد ہے اس کے دو بیٹے ہیں اور دونوں بالغ ہیں مسلمان ہیں وہ گواہ بن رہے ہیں تو بھی عقد نکاح کیا ہے؟ منعقد ہو جائے گا۔ یا اسی طرح وہ جو عورت ہے اس کے پہلے خاوند سے دو بچے ہیں وہ گواہ بنتے ہیں اس عقد کے تو بھی عقد منعقد ہو جائے گا۔ یا ایک بیٹا اس عقد کرنے والے مرد کا ہے اور ایک بیٹا کس کا ہے؟ اس عورت کا ہے، یہ دو گواہ بن گئے، تو ان تمام صورتوں میں چاہے ایک کے ہی دونوں بیٹے ہوں مرد کے یا عورت کے یا دونوں کا ایک ایک بیٹا ہو، تو بہرحال ان کی موجودگی میں بھی عقد نکاح منعقد ہو جائے گا۔ ان کی موجودگی میں بھی عقد نکاح منعقد ہو جائے گا کیونکہ دو گواہ چاہیے تھے اور وہ دونوں گواہ کیا ہونے چاہییں؟ آزاد ہونے چاہییں، عاقل ہونے چاہییں، بالغ ہونے چاہییں، مسلمان ہونے چاہییں اور ان کے بچے بھی ان میں یہ ساری صفات موجود ہیں تو وہ گواہ بن سکتے ہیں، لیکن وہ ان کے حق میں گواہی دے نہیں سکتے۔ کل اگر مسئلہ قاضی کے پاس چلا گیا عورت انکار کر رہی ہے یا مرد انکار کر رہا ہے جنہوں نے آپس میں عقد کیا تھا، اور قاضی کے پاس یہ گواہی دیتے ہیں، یاد رکھو یہ جو بچے ہیں اپنے والد یا والدہ کے حق میں گواہی دیتے ہیں تو قبول نہیں کی جائے گی، ہاں ان کے خلاف گواہی دیں گے تو قبول کی جائے گی۔ یہ بچے اپنے باپ کے حق میں گواہی دیتے ہیں کہ ہم حاضر تھے قاضی صاحب ہمارے والد نے اس عورت سے نکاح کیا تھا وہ عورت انکار کر رہی ہے، تو بچے کیا کر رہے ہیں؟ گواہی دے رہے ہیں باپ کے حق میں، یہ گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ ہاں بچے باپ کے خلاف گواہی دیتے ہیں، عورت کہہ رہی ہے اس شخص نے میرے ساتھ نکاح کیا تھا وہ آدمی کہتا ہے میں نے کوئی نکاح نہیں کیا، اس کے اپنے بچے گواہی دے رہے ہیں کہ ہم گواہ تھے ہمارے والد نے اس عورت سے کیا کیا ہے؟ نکاح، تو اس صورت میں گواہی قبول کی جائے گی۔ بھئی کیوں؟ اپنے باپ کے یا ماں کے حق میں کیوں نہیں قبول کی جائے گی گواہی؟ وجہ یہ کہ یاد رکھنا ضابطہ ہے۔ ضابطہ یہ ہے کہ ایسے افراد جن کے منافع مشترک ہوں ان کی گواہی ایک دوسرے کے لیے قبول نہیں۔ ایسے افراد جن کے منافع کیا ہوں؟ مشترک ہوں ان کی گواہی ایک دوسرے کے حق میں قبول نہیں۔ جیسے میاں بیوی ہیں، میاں بیوی کے منافع مشترک ہوتے ہیں جو بھی فائدہ حاصل ہوگا خاوند کے ساتھ ساتھ بیوی کو بھی وہ فائدہ ہو رہا ہے مثلاً مال آ رہا ہے یا کوئی اور چیز آ رہی ہے۔ اسی طرح باپ کو جو کچھ حاصل ہوگا تو باپ اور بچوں کے منافع مشترک ہوتے ہیں، وہ مال باپ کو جب حاصل ہو رہا ہے تو گویا بچوں کو بھی حاصل ہو رہا ہے۔ تو لہٰذا جب منافع مشترک ہیں تو پھر ایک دوسرے کے حق میں گواہی قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ یہ اپنے مثلاً مال کے اندر جھگڑا آیا کسی کے ساتھ اب ایک شخص وہ اپنے بچوں کو ہی گواہ کے طور پر لے آیا، تو یہ گواہی قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ سننے والوں کے دلوں میں بدگمانی پیدا ہوگی کہ یہ اپنے باپ کے حق میں اس لیے گواہی دے رہے ہیں کہ باپ کا فائدہ ہے اور جب باپ کا فائدہ ہے تو ان کا بھی فائدہ ہے تو یہ گویا اپنے فائدے کے لیے گواہی دے رہے ہیں، اپنے فائدے کے لیے، تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ یہ چونکہ ان کا فائدہ ہے اس لیے گواہی دے رہے ہیں اب پتہ نہیں سچی ہے یا نہیں، لیکن چونکہ ان کا فائدہ ہے اس لیے گواہ بن گئے ہیں۔ تو جن افراد کے منافع مشترک ہوں ان کی گواہی ایک دوسرے کے حق میں قبول نہیں ہاں ایک دوسرے کے خلاف قبول کی جائے گی۔ تو لہٰذا یہ جو مرد اور عورت جنہوں نے عقد کیا اگر ان کے بیٹے گواہ بن گئے تو ان کی موجودگی میں نکاح منعقد ہو جائے گا، لیکن اگر ان کو ادائے شہادت کی ضرورت پڑی تو اپنے قریبی رشتہ دار کے حق میں گواہی ہوئی تو قبول نہیں کی جائے گی، اپنے قریبی رشتہ دار کے خلاف گواہی ہوئی تو وہ گواہی قبول کی جائے گی۔ تو دیکھو یہ جو عقد کرنے والوں کے بچے ہیں دیکھو تحملِ شہادت تو یہ کر رہے ہیں اس میں تو کسی قسم کا شک و شبہ ہی نہیں جیسے اندھے بھی گواہ بن سکتے ہیں، بات سمجھ میں آگئی۔ بات کیا چل رہی تھی کہ محدود فی القذف اس کی ادائے شہادت میں خرابی آئی ہے تحملِ شہادت میں کوئی خرابی نہیں تو یہ گواہ بن سکتے ہیں۔ یہ اسی طرح ہے جیسے اندھے ہوں یا عقد کرنے والوں کے بچے ہوں، تو ان کی ادا میں تو خرابی آ سکتی ہے تحمل کے اندر خرابی نہیں تو ان سب کی موجودگی میں عقد نکاح منعقد ہو جائے گا۔ یہ معنی ہے: ولا یبالی بفواته، اور ثمرۂ ادا جو فوت ہوا ہے اس کے فوت ہونے کی پرواہ نہیں کی جائے گی، کما فی شهادة العمیان، جیسے کہ اندھوں کی گواہی میں، وابنی العاقدین، اور وہ دو جو عقد کرنے والے ہیں ان کے دو بیٹوں کی گواہی میں، جیسے ان کے اندر ثمرۂ ادا نہیں آئے گا، توجہ ہے؟ جیسے وہاں تحملِ شہادت تو ہو جائے گا لیکن ثمرۂ ادا فوت ہو جائے گا، گواہی ادا نہیں کر سکتے دے نہیں سکتے لیکن اس کی پرواہ نہیں کی جائے گی پھر بھی عقد نکاح ان کی موجودگی میں بھی منعقد ہو جائے گا۔ آگے دیکھیے بھئی، قال، صاحب قدوری فرماتے ہیں: وان تزوج مسلم ذمیة بشهادة ذمیین جاز، اور اگر نکاح کیا کسی مسلمان نے کسی ذمیہ کے ساتھ بشهادة ذمیین دو ذمیوں کی گواہی سے جاز تو یہ جائز ہے۔ بھئی آپ جانتے ہیں کہ دار الاسلام مسلمانوں کا جو وطن ہے، جس ملک کے ساتھ وہ حالت جنگ میں ہو اس کو دار الحرب کہتے ہیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ دار الحرب، جیسے دیکھو ہندوستان اور پاکستان ہمیشہ حالت جنگ میں رہتے ہیں، توجہ ہے؟ تو لہٰذا اس طرح کے جو دو ممالک ہوں ایک دار الاسلام ہو اور دوسرا کفار کا وطن ہو اور اس کے ساتھ ہمیشہ حالت جنگ میں رہتے ہیں مسلمان، تو اس کفار کے ملک کو دار الحرب کہیں گے۔ بھئی ہر کفار کے وطن کے ساتھ ہمیشہ جنگیں نہیں رہتیں، بعض کے ساتھ بڑے اچھے تعلقات ہوتے ہیں بھئی، تو دار الحرب اس کو کہیں گے جس کے ساتھ ہم حالت جنگ میں ہوں۔ اور دار الحرب کے اندر رہنے والا جو کافر ہے اس کو حربی کہیں گے حربیّ، حرب جنگ کو کہتے ہیں یعنی جنگ والا یعنی ان کے ساتھ ہماری جنگ ہے، اور عورت ہو تو اس کو کیا کہیں گے؟ حربیّہ۔ پھر یہ دار الحرب سے اگر کوئی امان لے کر ویزا لے کر ہمارے ملک میں آتا ہے تو اس کو مستامَن کہیں گے، مستامَن یعنی امان طلب کرنے والا کہ اس نے امان طلب کی ہے ہم نے اس کو امان دے دی کہ آ جاؤ بھئی ہم آپ کو کچھ نہیں کہیں گے، تو اس کو کہتے ہیں مستامَن۔ اور کچھ کفار وہ ہیں جو دار الاسلام کے اندر رہتے ہیں وہی ان کا وطن ہے اور وہ وہاں سالانہ ٹیکس دیتے ہیں یعنی جزیہ دیتے ہیں، تو یہ جو کفار دار الاسلام میں رہتے ہیں ان کو ذمی کہتے ہیں، ذمی بھئی مذکر ہو تو ذمیّ اور مؤنث ہو تو ذمیّہ، اور ان کو ذمی اس لیے کہتے ہیں کہ دار الاسلام نے ان کا ذمہ اٹھایا ہوا ہے کہ ہم آپ کی حفاظت کے، آپ کی جان و مال کے ذمہ دار ہیں، کوئی آپ کو نقصان نہیں پہنچائے گا، تو اس لیے ان کو کیا کہتے ہیں؟ ذمی کہتے ہیں کہ ہم نے ان کا ذمہ اٹھایا ہوتا ہے۔ اب یاد رکھو مسلمان کے لیے اہل کتاب عورتوں سے نکاح جائز ہے۔ مسلمان مرد نکاح کرنا چاہتا ہے تو اور کافر عورتوں سے تو نکاح جائز نہیں لیکن اہل کتاب ہوں یعنی یہودی یا عیسائی عورت ہو تو اس کے ساتھ مسلمان کے لیے نکاح جائز ہے۔ اور اسی طرح یاد رکھیں یاد رکھیں، اگر مسلمان باندی ہو تو آقا کے لیے باندی سے صحبت جائز ہوتی ہے جب اور کوئی مانع اور رکاوٹ نہ ہو۔ اور اسی طرح اگر وہ باندی اہل کتاب میں سے ہے یعنی یہودی یا عیسائی ہے تو مسلمان مالک کے لیے اس باندی سے صحبت جائز ہے۔ جیسے اہل کتاب عورت سے نکاح جائز تھا تو اسی طرح اہل کتاب باندی سے مسلمان آقا کے لیے صحبت بھی جائز ہے۔ لیکن اگر وہ باندی جو ہے وہ کافر ہے لیکن اہل کتاب نہیں ہے تو جیسے پھر اس کے ساتھ نکاح جائز نہیں اسی طرح اس کے ساتھ صحبت بھی جائز نہیں، لہٰذا ایک شخص ہے اس کی باندی ہے اور وہ باندی ہندو ہے بھئی، ہندو اہل کتاب نہیں ہے تو یہ باندی کے ساتھ آقا کے لیے صحبت کرنا بھی جائز نہیں۔ تو نکاح بھی کس سے جائز ہے؟ اہل کتاب عورتوں سے، اور صحبت بھی صرف کس باندی سے جائز ہے؟ جو اہل کتاب ہو، بات سمجھ میں آگئی۔ اچھا صاحب قدوری نے آپ کو بتلایا تھا کہ مسلمانوں کے نکاح کے لیے ضروری ہے کہ دو گواہ موجود ہوں۔ اب ایک مسلمان ہے وہ ایک ذمیہ سے نکاح کرنا چاہتا ہے یعنی عیسائی یا یہودی عورت سے، اور گواہ دو ذمی بن جاتے ہیں تو کیا یہ نکاح منعقد ہوگا یا نکاح منعقد نہیں ہوگا؟ تو صاحب قدوری فرماتے ہیں کہ نکاح منعقد ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ کس کا نکاح ہے؟ مسلمان کا۔ کس کے ساتھ؟ ذمیہ عورت کے ساتھ جو اہل کتاب میں سے عورت ہے بھئی عیسائی یا یہودی، اور گواہ کس کو بنایا؟ کوئی مسلمان گواہ نہیں ہے بلکہ ذمی گواہ ہیں، تو اس صورت میں نکاح منعقد ہو جائے گا۔ دیکھیے بھئی قال، صاحب قدوری فرماتے ہیں: وان تزوج مسلم ذمیة، اور اگر نکاح کیا کسی مسلمان نے کسی ذمیہ سے، بشهادة ذمیین جاز، دو ذمیوں کی گواہی سے تو یہ جائز ہے، عند ابی حنیفة وابی یوسف رحمهما الله، شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک۔ بھئی یہاں یہ شیخین کا نام آیا یاد رکھو بھئی آپ کو پتہ ہوگا لیکن ہو سکتا ہے کسی طالب علم کے ذہن میں نہ ہو، یہاں تین لفظ جو کہ فقہ کی کتابوں میں بار بار استعمال ہوتے ہیں: شیخین، صاحبین اور طرفین۔ شیخین، صاحبین اور طرفین۔ یاد رکھو فقہ کے اندر ہمارے تین ائمہ ہیں: ایک تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ، اور ایک امام ابو یوسف رحمہ اللہ، اور ایک امام محمد رحمہ اللہ۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ دونوں کے استاد ہیں، امام ابو یوسف کے بھی استاد ہیں اور امام محمد کے بھی استاد ہیں۔ یاد رکھو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا نام نعمان ہے بھئی، نعمان لیکن آپ کنیت ابو حنیفہ سے زیادہ مشہور ہیں۔ اسی طرح امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا نام یعقوب ہے لیکن آپ بھی اپنی کنیت ابو یوسف سے زیادہ مشہور ہیں۔ تو ہمارے ائمہ کتنے ہیں فقہ کے اندر؟ تین: امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ، امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ، اور امام ابو حنیفہ دونوں کے استاد ہیں اور جبکہ امام محمد دونوں کے شاگرد ہیں۔ امام محمد دونوں کے شاگرد ہیں یعنی امام ابو یوسف رحمہ اللہ امام صاحب سے پڑھتے رہے اور پھر بعد میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ خود بھی استاد بن گئے اور امام محمد رحمہ اللہ جو ہیں انہوں نے امام ابو حنیفہ سے بھی پڑھا اور پھر امام ابو یوسف سے بھی پڑھا، تو یہ دونوں کے شاگرد ہیں۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ دونوں کے استاد، امام محمد رحمہ اللہ دونوں کے شاگرد ہیں، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ ایک کے شاگرد ہیں یعنی امام صاحب کے شاگرد ہیں اور امام محمد رحمہ اللہ کے استاد ہیں، تو یہ تین افراد ہیں۔ ان تین میں سب سے اعلیٰ کون ہیں؟ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کیونکہ وہ دونوں کے استاد ہیں، اور سب سے ادنیٰ کون ہیں؟ امام محمد رحمہ اللہ کیونکہ وہ دونوں کے شاگرد ہیں۔ تو جس مسئلے میں امام ابو حنیفہ اور امام محمد ایک طرف ہو جائیں تو کہتے ہیں طرفین یوں فرماتے ہیں، کون فرماتے ہیں؟ طرفین، طرف کہتے ہیں جانب کو، جانب کو، تو دیکھو طرفِ اعلیٰ اور طرفِ ادنیٰ دونوں اکٹھے ہو گئے تو دو طرفیں، دو کنارے بن گئے، تو طرفین سے کون مراد ہوں گے؟ امام ابو حنیفہ جو دونوں کے استاد ہیں اور امام محمد جو دونوں کے شاگرد ہیں یعنی طرفِ اعلیٰ بھی آ گئی اور طرفِ ادنیٰ بھی آ گئی تو دو طرفین ہو گئیں، بات سمجھ میں آگئی۔ تو طرفین سے امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ مراد ہوتے ہیں، اور صاحبین کا لفظ آ جائے تو صاحبین سے مراد امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ ہوتے ہیں۔ صاحب کا معنی ہوتا ہے ساتھی، ساتھی، چونکہ امام ابو یوسف، امام محمد دونوں ساتھی ہیں کس چیز میں؟ شاگرد ہونے میں، امام ابو حنیفہ کا شاگرد ہونے میں دونوں ساتھی ہیں یعنی جیسے امام ابو یوسف شاگرد ہیں اسی طرح امام محمد بھی شاگرد ہیں تو شاگرد ہونے کے اندر دونوں ساتھی ہو گئے تو ان کو صاحبین کہیں گے۔ صاحب کا کیا معنی؟ ساتھی، تو صاحبین کا جب ذکر آئے تو اس سے کون مراد؟ امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ۔ اور اگر شیخین کا تذکرہ آ جائے تو شیخین سے مراد امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف رحمہما اللہ ہوتے ہیں، شیخ عربی زبان میں استاد کو کہتے ہیں، شیخین یعنی دو استاد، تو اس سے کون مراد ہیں؟ امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف رحمہما اللہ، بات سمجھ میں آگئی۔ تو دیکھیے اب کتاب پر، صاحب قدوری فرماتے ہیں کہ اگر نکاح کیا کسی مسلمان نے کسی ذمیہ عورت سے بشهادة ذمیین جاز، دو ذمیوں کی گواہی کے ساتھ جاز تو یہ جائز ہے، کس کے نزدیک؟ عند ابی حنیفة وابی یوسف رحمهما الله، شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک۔ وقال محمد وزفر رحمهما الله، اور امام محمد اور امام زفر رحمہما اللہ فرماتے ہیں: لا یجوز، جائز نہیں۔ امام محمد اور امام زفر فرماتے ہیں کہ مسلمان ذمیہ عورت کے ساتھ بھی نکاح کرے تو گواہ مسلمان ہی ہونے چاہییں، صرف ذمیوں کی موجودگی میں نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: وقال محمد وزفر رحمهما الله لا یجوز، امام محمد اور امام زفر رحمہما اللہ فرماتے ہیں جائز نہیں ہے، آگے صاحب ہدایہ دلیل ذکر فرمائیں گے بھئی، تو وہ ان شاء اللہ کل اگلے سبق میں پڑھ لیں گے، یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ چلیے بس بھئی ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقة الکلام۔