درس نمبر۔20 اچھا بھئی، کل ہم نے اسم موصول کی ترکیب شروع کی تھی۔ میں نے آپ کو بتایا تھا کہ اسم موصول کے لیے صلے کا ہونا ضروری بھئی، اور صلہ ہمیشہ جملہ ہوتا ہے، اور جملہ کسی سے جڑنے کا محتاج نہیں لیکن آپ اس کو اسم موصول کے لیے کیا بنا رہے ہیں؟ صلہ۔ تو لہٰذا ربط چاہیے، عائد چاہیے۔ تو جملے کے اندر کوئی عائد ہونا چاہیے، کوئی ضمیر ہو گی جو کس کو راجع ہو گی؟ اسم موصول کو بھئی۔ اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ ظرف مستقر چار جگہ آ سکتا ہے، ان چار جگہوں میں سے ایک جگہ کس کے بعد تھی؟ اسم موصول، یعنی صلے کے مقام میں بھی ظرف مستقر آ سکتا ہے۔ تو اس صورت میں پھر وہاں پر فعل نکالیں گے کیونکہ ہمیں صلہ کیا چاہیے؟ جملہ چاہیے۔ تو اگر ثابتٌ وغیرہ نکال لیں گے تو یہ تو مفرد ہے جملہ نہیں، اور صلہ تو کیا ہوا کرتا ہے؟ جملہ۔ اگر ثابتٌ بھی نکال لیتے ہیں تو پھر اس کے لیے آپ کو کیا کرنا پڑے گا؟ مبتدائے محذوف نکال کر پورا جملہ بنانا پڑے گا ہر حال میں۔ اچھا بھئی، اور کچھ جملوں کی ترکیب کی تھی جی، کچھ اور کر لیجیے۔ ضربَ، اچھا دوسرا، ضربَنِی لکھیے بھئی، ضربَنِي الَّذِي ضَرَبَكَ، الَّذِي ضَرَبَكَ۔ جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جن کو نہ آتی ہو بھئی وہ کوشش کریں۔ جی، کیجیے بھئی۔ ضربَ فعل۔ نون وقایہ۔ یا ضمیر متکلم، اعراب؟ منصوب محلاً۔ شاباش، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ۔ الذی، الذی مرفوع محلاً اسم موصول۔ شاباش، الذی مرفوع محلاً اسم موصول۔ ضربَ فعل۔ اس میں ضمیر ہوا مرفوع محلاً فاعل۔ اس کے ضربَ کے اندر ہوا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ راجع ہے الذی اسم موصول۔ شاباش، غائب کی ضمیر آ گئی تو پہلے کیا تلاش کرنا ہے اس کا؟ مرجع تلاش کرنا ہے۔ یہ کس کو لوٹ رہی ہے؟ الذی کو، الذی بھی مفرد مذکر اور ہوا ضمیر بھی مفرد مذکر، ضمیر مرجع میں مطابقت۔ اور یہ ہے وہ عائد بھئی جس نے صلے کو ربط دے دیا اسم موصول کے ساتھ بھئی۔ کاف ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ۔ شاباش، کاف ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ ہوا موصول کا۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ ہوا اسم موصول کے لیے۔ اسم موصول اپنے صلے سے مل کر یہ فاعل ہوا ضربَ فعل۔ ہاں شاباش، اسم موصول اپنے صلے سے مل کر یہ فاعل ہوا کس کے لیے؟ ضربَ فعل جو پہلے آیا تھا بھئی۔ دیکھا، اس لیے یہ الذی انہوں نے کہا تھا مرفوع ہے کیونکہ اس نے کیا بننا تھا؟ فاعل، لیکن بغیر اس کے لیے صلہ بھی چاہیے تو صلہ بھی ساتھ جوڑا اور اب بتایا کہ یہ فاعل ہے بھئی۔ ضربَ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ ہاں شاباش، ضربَ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ ہوا بھئی، فعلیہ خبریہ۔ جی، روانی سے پڑھیے ذرا اسے۔ ضربَنِی الذی ضربَک۔ جی، کیسے پڑھیں گے؟ ضربَنِی الذی ضربَک۔ ہاں بھئی، کیسے پڑھیں گے اس کو؟ جی؟ اور بھئی؟ ضربَنِی الذی ضربَک۔ اچھا۔ ضربَنِي الَّذِي ضَرَبَكَ۔ یا التقائے ساکنین کی وجہ سے گر جائے گی لیکن یہ نونِ وقایہ اور اس کا کسرہ اس پر دلالت کر رہا ہے بھئی: ضربَنِی الذی ضربَک۔ جی، ترجمہ کیجیے۔ مارا مجھ کو اس نے، اس نے تجھ کو مارا۔ ہاں، ضربَنِی، پٹائی کی میری الذی اس نے ضربَک کہ پٹائی کی جس نے تمہاری بھئی۔ جی، اگلا جملہ لکھیے بھئی۔ نَجَحَ، نَجَحَ، نون جیم حا، نون جیم حا، کامیاب ہونا، نَجَحَ فِي الِامْتِحَانِ، فِي الِامْتِحَانِ الطُّلَّابُ، الطُّلَّابُ الَّذِيْنَ، الَّذِيْنَ اجْتَهَدُوْا، اجْتَهَدُوْا ۔ جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی، کیجیے بھئی۔ نجحَ فعل۔ فی جارہ۔ الامتحانِ مجرور لفظاً۔ اچھا، فی الامتحان بھئی، جار مجرور کے بارے میں تو آپ نے کوئی بات ہی نہیں کی، چھوڑ کے چلے گئے آگے۔ شاباش، فی الامتحان جو جار مجرور ہے یہ کس سے متعلق ہوئے؟ نجحَ سے، اور متعلق ہو رہے ہیں، جڑ رہے ہیں بھئی؟ نجحَ فی الامتحان، امتحان میں کامیاب ہوئے، جی جڑ رہے ہیں بھئی۔ الطلابُ مرفوع لفظاً موصوف۔ الطلابُ مرفوع لفظاً موصوف بھئی۔ الذین اسم موصول، اعراب؟ مرفوع محلاً۔ الذین اسم موصول بھئی، مرفوع محلاً۔ مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ کیونکہ صفت ہے، موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے۔ اور محلاً کیوں کہا؟ کیونکہ مبنی ہے بھئی، شاباش۔ تو الذین مرفوع محلاً اسم موصول۔ اجتہدوا فعل۔ واو ضمیر اس کے اندر اس کا مرفوع محلاً فاعل۔ شاباش، یہ واو ضمیر اس کے اندر کیا ہے؟ فاعل ہے، مرفوع محلاً ہے بھئی۔ راجع ہے الذین۔ شاباش، یہ واو ضمیر کس کو راجع ہے جمع کی؟ الذین کو راجع ہے بھئی الذین کو۔ تو یہ عائد بھی آ گیا، ربط بھی آ گیا بھئی، ضمیر مرجع میں مطابقت ہے بھئی، الذین بھی جمع مذکر، واو بھی جمع مذکر کی ضمیر بھئی۔ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ۔ اعراب بتاؤ اجتہدوا کا بھئی۔ جی اجتہدوا کا اعراب، پورے جملے کا اعراب بتاؤ بھئی۔ نہیں، میں صرف اجتہدوا کی بات کر رہا ہوں۔ کیوں بھئی؟ کیا اعراب ہو گا؟ کوئی محل اعراب نہیں، صلے کا کوئی محل اعراب نہیں ہوتا بھئی، جی۔ موصول صلہ مل کر موصوف کے لیے صفت ہوا۔ شاباش، موصول اپنے صلے سے مل کر یہ صفت ہوئی الطلاب کے لیے، موصوف صفت مل کر؟ فاعل ہوا نجحَ کے لیے۔ نجحَ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ روانی سے پڑھیے بھئی۔ نَجَحَ فِي الِامْتِحَانِ الطُّلَّابُ الَّذِيْنَ اجْتَهَدُوْا، جی ترجمہ۔ کامیاب ہوئے امتحان میں وہ طلبہ جنہوں نے محنت کی۔ ہاں، نجحَ کامیاب ہوئے فی الامتحان امتحان میں الطلاب وہ طلبہ الذین اجتہدوا کہ جنہوں نے محنت کی بھئی۔ اگلا جملہ لکھیے بھئی۔ کِتَابِي، کِتَابِي فِي الْخِزَانَةِ، فِي الْخِزَانَةِ، خزانہ نہیں جانتے بھئی؟ خزانہ اردو میں، فِي الْخِزَانَةِ، خزانہ الماری کو کہتے ہیں بھئی۔ جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی، کیجیے۔ کتابِ مضاف، اعراب؟ مرفوع محلاً۔ مرفوع محلاً، مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ مبتدا بن رہا ہے۔ شاباش، اس نے مبتدا بننا ہے، مبتدا مرفوع ہوتا ہے۔ پھر یہ محلاً کیوں کہا آپ نے؟ مبنی کی یہ کون سی قسم ہے بھئی؟ محلاً اعراب تو صرف مبنی کا آتا ہے۔ کتنی دفعہ میں نے کہا بھئی، اس قسم کے اسم کو ذہن میں بٹھا لو، یہ بار بار پریشان کرتا ہے۔ کون سا اسم؟ جو کس کی طرف مضاف ہو؟ یائے متکلم کی طرف، اس کا اعراب تینوں حالتوں میں کیا ہوتا ہے؟ تقدیری بھئی، تقدیری ہوتا ہے۔ چلو بھئی آہستہ آہستہ انشاءاللہ بیٹھ جائے گا ذہن میں۔ جی، تو یہ کتاب مرفوع تقدیراً مضاف۔ آپ کو کیسے پتہ چلا یہ مضاف ہے؟ اسم کے ساتھ ضمیر آ رہی ہے۔ شاباش، اسم کے ساتھ ضمیر ملی ہے اور اس صورت میں مضاف مضاف الیہ کی ترکیب ہوتی ہے۔ یا ضمیر مضاف الیہ، اعراب؟ مجرور محلاً۔ یا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ بھئی۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ مبتدا ہوا۔ فی جارہ، جی۔ الخزانةِ مجرور، کون سا مجرور؟ مجرور لفظاً۔ مجرور کیوں ہے؟ حرفِ جار داخل ہوا ہے۔ حرفِ جار فی داخل ہوا، اور لفظاً کیوں ہے؟ تلفظ ہو رہا ہے۔ کس چیز پر؟ جر پہ تلفظ ہو رہا ہے، شاباش۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ثبتَ کے۔ شاباش، جار مجرور مل کر کس سے متعلق ہوئے؟ جار مجرور کتنی چیزوں سے متعلق ہوتے ہیں؟ جی؟ ہاں، چند دن پہلے گزرا ہے اب علماء کا اختلاف ہے بھئی۔ آٹھ چیزیں ہیں بھئی، پہلی کیا ہے؟ فعل، دوسری؟ مصدر، تیسری؟ اسم فاعل، چوتھی؟ اسم مفعول، پانچویں؟ صفت مشبہ، چھٹی؟ اسم تفضیل، ساتویں؟ مبالغے کے صیغے اور آٹھویں؟ اسم فعل، شاباش۔ تو یہاں ان میں سے کوئی بھی نہیں ہے اس لیے انہوں نے محذوف نکالا بھئی، کیا محذوف نکالا آپ نے؟ ثبتَ، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ثبتَ فعل کے ساتھ۔ ثبتَ فعل اور ہوا ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ شاباش، فعل آ گیا تو فوراً فاعل چاہیے، تو اس کے اندر ہوا ضمیر اس کے فاعل، جی۔ فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر، ہوا ضمیر راجع ہے مبتدا کی طرف۔ شاباش، ہوا ضمیر کس کو راجع؟ مبتدا، اور مبتدا بھی واحد مذکر اور ہوا ضمیر بھی واحد مذکر، ضمیر اور مرجع میں کیا آ گئی؟ مطابقت، ٹھیک ہے بھئی۔ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر خبر ہوئی مبتدا کے لیے، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ۔ شاباش، فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر یہ خبر ہوئی مبتدا کے لیے، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، جی پڑھیے روانی سے۔ کِتَابِي فِي الْخِزَانَةِ، جی ترجمہ۔ میری کتاب الماری میں ہے۔ میری کتاب الماری میں ہے بھئی۔ اگلا جملہ لکھیے بھئی۔ ضَرَبَ الرَّجُلُ الَّذِيْ ضَرَبَكَ عَمْرًا، ضَرَبَ الرَّجُلُ الَّذِيْ ضَرَبَكَ عَمْرًا۔ جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی، کیجیے بھئی۔ ضربَ فعل۔ الرجلُ فاعل، اعراب؟ الرجلُ مرفوع لفظاً فاعل۔ الذی، الذی اسم موصول، اعراب؟ الذی محلاً مرفوع اسم موصول بھئی، مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ شاباش، یہ الرجل کے لیے کیا بنے گی؟ صفت بنے گی بھئی، اچھا، اور محلاً کیوں کہا؟ مبنی ہے شاباش، آگے چلیے۔ ضربَ فعل، اس کے اندر ضمیر فاعل، کون سی ضمیر؟ پوری ترکیب کیا کرو، اس کے اندر ہوا ضمیر مرفوع محلاً جو راجع ہے کس کو؟ الذی کی طرف۔ کاف، اعراب کیا بتایا؟ منصوب محلاً مفعول بہ۔ عمراً مفعول بہ، کس کے لیے؟ ضربَ اول کے لیے، ضربَ ثانی کے لیے بھئی؟ ضربَ ثانی کے لیے کیوں نہیں بناتے؟ اس کے قریب ہے، دور کیوں جاتے ہیں؟ دونوں کے لیے، شاباش بھئی، بین بین ہے مذہب ان کا بھئی۔ ایک کے لیے بناؤ بھئی، ایک عامل ہو سکتا ہے۔ دو نہیں ہو سکتے۔ ہاں تو یہ بات کہو نا، یہی تو میں پوچھ رہا ہوں، بھئی ضربَ ثانی کے لیے یہ نہیں بن سکتا کیونکہ ضربَ کتنے مفعول چاہتا ہے؟ ایک: ضربتُ زیداً، میں نے زید کی پٹائی کی، بات پوری ہو گئی یا نہیں ہو گئی؟ کوئی اور مفعول یہ چاہتا ہی نہیں ہے، اور ایک مفعول کاف ضمیر آ چکی ہے۔ اب دوسرا اس کے لیے مفعول بن نہیں سکتا، تو اسے اب مجبورا کیا کریں گے بھئی، کس کے لیے مفعول بنائیں گے؟ ضربَ اول کے لیے، کیا بنا دیں گے؟ اس کے لیے مفعول بنائیں گے کیونکہ ابھی تک اس کا کوئی مفعول انہوں نے ذکر نہیں کیا بھئی، جی۔ پوری ترکیب بھئی: ضربَ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر یہ صلہ ہوا اسم موصول کے لیے۔ ہاں موصول اپنے صلے سے مل کر یہ صفت ہوئی الرجل کے لیے۔ موصوف صفت مل کر ضربَ کے لیے فاعل۔ ہاں، ضربَ فعل اپنے فاعل اور وہ جو مفعول آیا تھا عمراً، اس کے ساتھ مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، جی روانی سے پڑھیے ذرا۔ ضَرَبَ الرَّجُلُ الَّذِيْ ضَرَبَكَ عَمْرًا، جی ترجمہ کیجیے۔ مارا اس آدمی نے جس نے تم کو مارا عمراً کو۔ ضربَ، پٹائی کی اس آدمی نے جس نے کہ ضربَک تمہاری پٹائی کی تھی، تو اس نے پٹائی کی، کس کی پٹائی کی؟ عمرو کی، تو عمرو کی پٹائی کی اس شخص نے جس نے تمہاری پٹائی کی تھی بھئی۔ اگلا جملہ لکھیے بھئی۔ اَلنَّكِرَةُ اِسْمٌ يَدُلُّ، يَدُلُّ عَلَى شَيْءٍ، شَيْءٍ غَيْرِ مُعَيَّنٍ، اَلنَّكِرَةُ اِسْمٌ يَدُلُّ عَلَى شَيْءٍ غَيْرِ مُعَيَّنٍ۔ چلیے جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی، کیجیے بھئی۔ النکرةُ مبتدا مرفوع لفظاً۔ النکرةُ مرفوع، مرفوع لفظاً مبتدا، بھئی مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ مبتدا بنے گا۔ مبتدا بنے گا، لفظاً کیوں کہا؟ رفع پر تلفظ ہو رہا ہے، شاباش، آگے۔ اسمٌ مرفوع لفظاً موصوف۔ اسمٌ مرفوع لفظاً موصوف، کیسے پتہ چلا آپ کو یہ موصوف ہے بھئی؟ ہاں، نکرہ کے بعد کیا آ رہا ہے؟ فعل، اور فعل نکرہ کے بعد آئے عموماً صفت بنتا ہے، جی۔ اسمٌ مرفوع لفظاً موصوف، یدلُّ؟ یدلُّ فعل۔ شاباش، اس کے اندر ہوا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو راجع ہے موصوف کی طرف بھئی، یہ عائد آ گیا۔ علیٰ جارہ۔ شیءٍ مجرور۔ شیءٍ بھئی، کون سا مجرور؟ مجرور لفظاً۔ شیءٍ مجرور لفظاً۔ موصوف۔ موصوف، شاباش، موصوف بھئی، جی۔ غیر، جی غیر مضاف ہوتا ہے، غیر کا لفظ ما بعد کی طرف مضاف ہوتا ہے بھئی۔ اعراب بھئی؟ منصوب لفظاً۔ کیوں بھئی منصوب کیوں کہا آپ نے؟ کس کے لیے؟ یدلُّ۔ اچھا، بھئی یدلُّ کے لیے تو مفعول نہیں آتا، بواسطہ حرفِ جار کے آتا ہے، علیٰ کے ذریعے، آ تو رہا ہے علیٰ کے ذریعے، آئے گا بغیر علیٰ کے نہیں آئے گا۔ مضاف منصوب تو نہیں ہوا کرتا، کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہاں بھئی، کیا اعراب ہوگا؟ بھئی ابھی آپ نے خود بتا دیا تھا ما قبل میں شیءٍ کو کیا بنایا آپ نے؟ جب موصوف کہہ دیا آگے کو جب تو صفت کا بھی وہی اعراب ہوگا بھئی۔ جی تو غیرِ پڑھیں بھئی، غیرِ مجرور لفظاً مضاف۔ جی۔ معینٍ مجرور لفظاً۔ معینٍ مجرور لفظاً صیغہ اسم مفعول بھئی۔ اسم مفعول کے لیے کیا چاہیے؟ نائب فاعل چاہیے۔ نائب فاعل چاہیے تو کچھ سوچنے والی تو بات ہے ہی نہیں۔ ضمیر اس کا نائب فاعل۔ ہاں، اس کے اندر کون سی ضمیر؟ مفرد کا صیغہ ہے تو مفرد کی نکال لو، تثنیہ کا صیغہ ہے تو تثنیہ کی ضمیر نکالو، جمع کا صیغہ ہے تو جمع نکالو بھئی۔ ہوا ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا نائب فاعل بھئی۔ اسم مفعول اپنے نائب فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر کیا ہوئے؟ صفت بھئی۔ موصوف صفت مل کر مجرور ہوئے علیٰ کے لیے بھئی۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے یدلُّ فعل کے ساتھ۔ شاباش، فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صفت ہوئی بھئی اسمٌ کے لیے۔ اب اس پورے جملے کا ذرا اعراب تو بتاؤ: یدل علی شیء غیر معین۔ مرفوع محلاً، مرفوع محلاً، شاباش، کیوں مرفوع ہے؟ صفت بن رہا ہے۔ ہاں، اور یہ صفت، تو موصوف مرفوع ہے تو صفت بھی مرفوع، شاباش، جی۔ موصوف صفت مل کر خبر ہوئی مبتدا کے لیے۔ شاباش، موصوف صفت مل کر خبر ہوئی مبتدا کے لیے، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ جی، روانی سے ذرا پڑھو اس جملے کو۔ اَلنَّكِرَةُ اِسْمٌ يَدُلُّ عَلَى شَيْءٍ، نہیں بھئی، پھر پڑھو ذرا، غور کرو بھئی۔ اَلنَّكِرَةُ اِسْمٌ يَدُلُّ عَلَى شَيْءٍ غَيْرِ مُعَيَّنٍ۔ ہاں شاباش، اب کچھ قریب پہنچ گئے ہیں بھئی، اور تھوڑا بھئی۔ بھئی یہ اسمٌ کا ہمزہ کون سا ہے؟ وصلی، یہ بھی گراؤ بھئی۔ اَلنَّكِرَةُ اسْمٌ يَدُلُّ عَلَى شَيْءٍ غَيْرِ مُعَيَّنٍ، شاباش۔ اَلنَّكِرَةُ اسْمٌ يَّدُلُّ عَلَى شَيْءٍ غَيْرِ مُعَيَّنٍ۔ اسمٌ پر جو تنوین آ رہی تھی اس کے بعد چونکہ یا ہے تو وہ نون بھی یا ہو کر یا میں ادغام، تو اَلنَّكِرَةُ اسْمٌ يَّدُلُّ عَلَى شَيْءٍ غَيْرِ مُعَيَّنٍ، ترجمہ کیجیے۔ نکرہ ایسا اسم ہے جو دلالت کرتا ہے ایسی چیز پر جو غیر معین ہو۔ شاباش، دیکھا بڑا بہترین ترجمہ کیا انہوں نے کہ نکرہ ایسا اسم ہے جو دلالت کرتا ہے ایسی چیز پر جو معین نہ ہو، غیر معین ہو۔ یا غیر معین کو شے سے پہلے لے آؤ: نکرہ ایسا اسم ہے جو دلالت کرتا ہے غیر معین چیز پر بھئی۔ اگلا جملہ لکھیے بھئی۔ غَلَبْتُ، غَلَبْتُ الَّذِيْ، الَّذِيْ غَلَبَنِيْ، الَّذِيْ غَلَبَنِيْ۔ جی، کون کرے گا بھئی ترکیب؟ جی، کیجیے بھئی، ہاں بھئی آپ سے کہہ رہا ہوں۔ شاباش، غلبتُ فعل بافاعل، تا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ الذی اسم موصول بھئی، مرفوع محلاً۔ مرفوع کیوں کہا آپ نے بھئی؟ ہاں، تو پھر مرفوع کیوں کہتے ہو؟ فاعل ایک آ چکا، دو فاعل نہیں آتے کبھی بھی بھئی۔ الذی منصوب محلاً اسم موصول بھئی۔ غلبَ فعل۔ جی۔ شاباش، غلبَ فعل، اس کے اندر ہوا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو راجع ہے اسم موصول کو، بھئی یہ عائد آ گیا۔ نون وقایہ۔ یا ضمیر متکلم کی بھئی، مفعول بہ منصوب محلاً، جی۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ۔ موصول صلہ مل کر مفعول بہ بھئی۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، جی روانی سے پڑھیے اس کو۔ اوہو، الذی سے یہ ہمزہ وصلی ہے گر جاتا ہے جی۔ غَلَبْتُ الَّذِيْ غَلَبَنِيْ، ترجمہ کیجیے۔ میں غالب ہوا اس پر جس نے مجھ پر غلبہ پایا۔ ہاں، غَلَبْتُ الَّذِيْ، میں غالب ہوا الذی اس شخص پر غَلَبَنِيْ کہ وہ غالب ہوا تھا مجھ پر، جو مجھ پر غالب ہوا میں اس پر کیا ہو گیا؟ غالب آ گیا بھئی پھر۔ چلیے بھئی، بس کرتے ہیں۔ الحمد للہ رب العالمین۔ بھئی، وہ آپ کے ساتھی طالب علم، ان کی والدہ بیمار ہیں، ان کے لیے دعا کریں کہ اے اللہ! انہیں صحت نصیب فرما۔ اے اللہ! انہیں شفائے کاملہ، عاجلہ نصیب فرما۔ اے اللہ! تکلیف اور پریشانی کو دور فرما۔ اے اللہ! اور بھی حاضرین میں سے جو بیمار ہیں یا گھروں میں کوئی بیمار ہیں، اللہ سب کو شفا نصیب فرما۔ اے اللہ! سب کو صحت اور عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ! گھروں میں خیر و برکت نازل فرما۔ اے اللہ! تکالیف اور پریشانیوں کو دور فرما۔ اے اللہ! جو ہمارے اساتذہ ہم سے رخصت ہو چکے ہیں، اے اللہ! سب کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! سب کی لغزشوں سے درگزر فرما۔ اے اللہ! سب کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! جو ہمارے اساتذہ، پھر ان کے اساتذہ، جتنا سلسلہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک، اے اللہ! سب کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! سب کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! سب کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! جو ہمارے اساتذہ زندہ ہیں ان کو بھی خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کی بھی تکالیف اور پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ صلی اللہ تعالیٰ۔