درس نمبر۔19 اچھا بھئی، آج اسم موصول کی ترکیب کریں گے بھئی۔ بھئی، آپ نے پڑھا معرفہ کی اقسام کے اندر کہ اسم موصول معرفہ ہوتا ہے۔ یاد رکھو ہر موصول کے لیے صلے کا ہونا ضروری ہے بھئی۔ ہر اسم موصول کے لیے صلے کا ہونا ضروری۔ تو جب بھی جملے کے اندر اسم موصول آ جائے ہمیشہ اس کا صلہ ساتھ آئے گا بھئی۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ اسم موصول تو آ جائے اور اس کا صلہ نہ ہو بھئی۔ اس کا صلہ نہ ہو بھئی۔ اور یاد رکھو اسم موصول کا صلہ ہمیشہ جملہ ہوگا بھئی۔ جملہ ہوگا۔ اسم موصول کا صلہ ہمیشہ جملہ ہوگا بھئی۔ اور آپ پڑھ چکے ہیں کہ جملہ مستقل ہوتا ہے، وہ کسی کسی سے جڑنے کا محتاج نہیں۔ لیکن آپ یہاں جملے کو جوڑ رہے ہیں اسم موصول کے ساتھ اور اس کے لیے صلہ بنا رہے ہیں تو ربط چاہیے اور وہ کیا کہلاتا ہے؟ عائد بھئی۔ تو جملے کے اندر صلے کے اندر ضرور کوئی ایسی ضمیر ہونی چاہیے جو کس کی جانب لوٹے؟ موصول کی جانب لوٹے، موصول کی جانب۔ تو میں نے کیا ضابطہ لکھوایا کہ ہر اسم موصول کے لیے کیا چاہیے؟ صلہ چاہیے۔ کبھی بھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ اسم موصول تو آ جائے اور آگے اس کا صلہ نہ آئے۔ تو جب بھی موصول آئے ساتھ ہی آگے صلہ ہوگا اور صلہ ہمیشہ جملہ ہوتا ہے بھئی۔ دراصل یہ اسم موصول کے اندر ابہام ہوتا ہے اور اتنا زیادہ ابہام ہوتا ہے کہ جملے کے بغیر وہ دور ہی نہیں ہو سکتا بھئی، جملے کے بغیر دور ہی نہیں ہو سکتا۔ تو اس کا صلہ ہمیشہ جملہ ہوگا۔ تو جب بھی اسم موصول آئے پہلے اس کا صلہ تلاش کریں بھئی۔ اور صلہ ہے جملہ، اور جملہ ہے مستقل، کسی سے جڑنے کا محتاج نہیں، اپنا معنی پورا ادا کر رہا ہے۔ اور آپ اس کو بنا رہے ہیں صلہ تو ربط چاہیے تو عموماً کیا ہوگی؟ ایک ضمیر ہوگی جو کس کی جانب راجع ہوگی؟ اسم موصول کی جانب بھئی۔ اور میں نے آپ کو ایک یہ بات بھی بتلائی تھی کہ ظرف مستقر چار جگہ آ سکتا ہے بھئی۔ وہ چار جگہیں یاد ہیں بھئی؟ ایک ظرف مستقر کہاں آ سکتا ہے؟ خبر کے مقام میں۔ اور دوسرا؟ صفت کے مقام میں۔ اور تیسرا؟ حال۔ اور چوتھا؟ صلہ۔ یہ چار مقامات ہیں جہاں ظرف مستقر آئے گا یعنی جار مجرور کا متعلق محذوف ہوگا بھئی۔ ان چار جگہوں میں آ سکتا ہے ظرف مستقر۔ اور میں نے آپ سے کہا تھا کہ آپ اس ظرف مستقر جو ہے جار مجرور جو ہے اس کا متعلق فعل بھی نکال سکتے ہیں اور مفرد بھی نکال سکتے ہیں۔ فعل نکالیں گے تو وہ جملہ بنے گا اور مفرد نکالیں گے تو وہ شبہ جملہ بنے گا، جملہ نہیں بنے گا۔ لیکن یاد رکھو اسم موصول کے بعد جب جار مجرور آ جائے، صرف جار مجرور ہو صلے کے اندر اور کچھ نہیں ہے۔ صلے کے اندر صرف کیا ہو؟ جار مجرور ہے۔ تو پھر اس کے لیے متعلق ہمیشہ فعل نکالیں گے۔ کیوں؟ کیونکہ موصول کا صلہ ہمیشہ کیا ہوا کرتا ہے؟ جملہ ہوتا ہے تو ہمیں جملہ چاہیے اور موصول کے بعد صرف جار مجرور ہیں۔ اگر یہاں پر آپ ثابتٌ وغیرہ نکال دیتے ہیں تو یہ تو مفرد بن جائے گا اور ہمیں تو کیا چاہیے؟ پورا جملہ چاہیے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو وہاں پر فعل نکالیں گے۔ عموماً، یہ آسان طریقہ ہے۔ ہاں، جو ترکیب کا ماہر ہوگا وہاں اسم بھی نکال لے گا۔ لیکن آسان یہ ہے فعل نکالا جائے۔ اگر اسم نکالتا ہے تو پھر اس کے لیے اسے مبتدا نکالنا پڑے گا الگ، مبتدا الگ محذوف نکالے گا اور اس کے لیے متعلق کو الگ نکالے گا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ چاہیے ہمیں جملہ، کہنے کا مطلب یہ ہے بھئی، جملہ چاہیے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ جملہ چاہیے۔ اور نیز یہ بھی یاد رکھیں ایک موصول کے کئی صلے آ سکتے ہیں۔ موصول ایک ہی ہے اور صلے آگے دو بھی ہو سکتے ہیں، زیادہ بھی۔ لیکن عموماً ایک ہی آتا ہے، عموماً جو آتا ہے ایک ہی صلہ ہوتا ہے لیکن کبھی کبھار دو بھی آ جاتے ہیں بھئی۔ اچھا، اور اس کا ترجمہ عموماً "وہ جو" کے ساتھ کریں گے، "وہ جو کہ"، "وہ جو کہ"۔ اچھا تو یہاں تک یہ بات ہوئی بھئی کہ موصول کے لیے ہمیشہ صلہ چاہیے۔ تو موصول کو چاہے آپ جملے میں مبتدا بنانا چاہیں، چاہے اس کو آپ خبر بنانا چاہیں، چاہے اس کو فاعل بنانا چاہیں، چاہے مفعول بنائیں، چاہے موصوف بنائیں، چاہے صفت بنائیں، جو بھی آپ نے بنانا ہے یہ ہمیشہ پہلے کس کو چاہے گا؟ صلے کو۔ پہلے اس کا صلہ لاؤ، پھر اس کے بعد اس کو مبتدا بنا دو، پھر اس کو خبر بنا دو، یا صفت وغیرہ بنا دو۔ تو جب بھی اسم موصول آئے پہلے کس چیز کو دیکھنا ہے؟ صلے کو ساتھ ملاؤ اور پھر اس کے فاعل، مفعول، مبتدا، خبر جو بھی بنانا ہو وہ بنا دو بھئی۔ اور یاد رکھو صلے کے لیے کوئی محل اعراب نہیں ہوتا بھئی۔ صلے کے لیے کوئی محل اعراب نہیں۔ اچھا بھئی، اب کچھ ترکیبیں کر لیجیے۔ جَاءَ الَّذِيْ، جَاءَ الَّذِيْ ضَرَبَكَ، ضَرَبَكَ فِي السُّوْقِ، فِي السُّوْقِ۔ جی، کون کرے گا ترکیب؟ جنہیں نہیں آتی پہلے صرف وہ ہاتھ اٹھائیں بھئی۔ جی، کیجیے بھئی۔ جاء فعل۔ الذی اسم موصول۔ جی، اعراب؟ مجرور تقدیراً۔ مجرور تقدیراً بھئی، مجرور آپ نے کیوں کہا؟ جی؟ تلفظ ہو رہا ہے۔ جی؟ تلفظ ہو رہا ہے۔ بھئی جب تلفظ کر رہے ہیں تو پھر تقدیراً کیسے کہہ رہے ہو؟ پہلے تو یہ بتائیں نا مجرور آپ نے کیوں کہا، تقدیراً کی بات تو ہم بعد میں کریں گے۔ لفظاً، مجرور کیوں ہے؟ جی، اور کون کرے گا؟ جی۔ جاء فعل۔ الذی اسم موصول، مرفوع محلاً۔ جی، مرفوع کیوں کہا؟ جاء کا فاعل۔ شاباش، اس نے جاء کے لیے کیا بننا ہے؟ فاعل بننا ہے اور فاعل مرفوع ہوا کرتا ہے۔ اور مرفوع کون سا کہا آپ نے؟ محلاً۔ محلاً کیوں کہا؟ کیونکہ یہ مبنی ہے۔ کیونکہ یہ مبنی ہے اور مبنی کا اعراب کیا ہوا کرتا ہے؟ محلاً آتا ہے، شاباش بھئی۔ دیکھا تھوڑا ترجمے میں بھی تو غور کرو: جَاءَ الَّذِيْ، آیا وہ جو۔ بن رہا ہے یا نہیں ترجمہ بھئی؟ تو کچھ ترکیب میں ترجمے پہ دیکھ لو وہ آپ کو اسی وقت زیادہ غور کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی کس فعل کے لیے فاعل کون بن رہا ہے۔ جی مرفوع، اسم مرفوع محلاً اسم موصول۔ آگے؟ ضربَ فعل۔ اعراب؟ ہوا ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ جی، کاف ضمیر؟ منصوب محلاً مفعول بہ۔ منصوب محلاً مفعول بہ، شاباش بھئی، کیونکہ فعل کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ ہاں اسم کے ساتھ ملی ہوتی تو کیا ہوتی؟ پھر مضاف الیہ بنتی، تو یہ منصوب ہے بھئی۔ مجرور آپ نے کیسے کہا تھا الذی کو بھئی؟ الذی مجرور تو وہ ہوتا ہے جس سے پہلے حرفِ جار آئے یا اس سے پہلے مضاف آئے، تو الذی سے پہلے نہ کوئی حرفِ جار ہے نہ مضاف ہے، مجرور کا تو آسانی سے پتہ چل جاتا ہے، معلوم ہوا یہ مجرور تو بن ہی نہیں سکتا بھئی۔ اچھا بھئی، کیا آپ نے کہا؟ کاف ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ۔ فی جارہ۔ کون سا مجرور؟ السوقِ مجرور لفظاً۔ مجرور کیوں کہا آپ نے؟ کیونکہ اس پر حرفِ جار داخل ہوا ہے۔ کیونکہ اس پر حرفِ جار داخل ہوا ہے تو مجرور تو یہ ہے ہی۔ باقی لفظاً کیوں کہا؟ کس چیز پر؟ جی کسرہ پہ، کہیں کسرہ پر کیا ہو رہا ہے؟ تلفظ کر کے دکھائیں۔ فِي السُّوْقِ، دیکھا کسرہ پہ تلفظ ہو رہا ہے۔ جی۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے، جی؟ جاء کو؟ اچھا۔ جی جاء فعل کے ساتھ متعلق ہوئے بھئی۔ بھئی جو پہلے قریب ہے اس کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرو پھر دور کی طرف جایا کرو۔ جو قریب ہوتا ہے بھئی اس کے جوڑنے کی کوشش کرو اور بعید کے ساتھ پھر بعد میں کوشش کرو، دیکھو کس کے ساتھ بہتر بنتا ہے، جی۔ یہ متعلق ہوا ضربَ کا، ضربَ فعل کے ساتھ۔ شاباش، فعل اپنے فاعل، مفعول بہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ ہوا الذی اسم موصول کے لیے۔ بھئی آپ نے کیسے صلہ بنا دیا بغیر ربط کے بھئی؟ جملے کو کیسے جوڑ دیا؟ ہاں، ضربَ کے اندر جو ہوا ضمیر تھی وہ کس کو لوٹ رہی ہے فاعل کی ضمیر؟ وہ الذی کو، اور ضمیر مرجع میں مطابقت بھی ہے بھئی۔ ہوا ضمیر الذی کو، وہ بھی مفرد مذکر ہے، یہ بھی مفرد مذکر۔ پھر اس کے بعد؟ الذی بھئی، اسم موصول اپنے صلے سے مل کر کیا بنا جاء کے لیے؟ فاعل بنا جاء کے لیے، جی۔ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ، دیکھو صرف ایک فعل ہے، ایک فاعل ہے، باقی اجزاء مل گئے موصول کے ساتھ۔ فعل اپنے فاعل کے ساتھ مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ ذرا روانی سے پڑھیے بھئی۔ جَاءَ الَّذِيْ ضَرَبَكَ فِي السُّوْقِ۔ ترجمہ کیجیے۔ آیا وہ شخص جس نے مارا تجھے بازار میں۔ آیا الذی، وہ شخص جی، جَاءَ الَّذِيْ، آیا وہ جو ضَرَبَكَ کہ پٹائی کی اس نے تیری فِي السُّوْقِ بازار میں۔ ہاں، وہ شخص آیا جس نے بازار میں آپ کی پٹائی کی تھی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اگلا جملہ لکھیے بھئی۔ اِشْتَرَيْتُ، اِشْتَرَيْتُ الدَّارَ، الدَّارَ الَّتِيْ، الَّتِيْ رَأَيْتَهَا، رَأَيْتَهَا فِيْ يَوْمٍ، فِيْ يَوْمٍ لَقِيْتَ، لَقِيْتَ، لَقِيْتَ زَيْدَ، زَيْدَ، لَقِيْتَ زَيْدَ فِيْهِ، فِيْهِ۔ چلیے جی، اب کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جن کو نہیں آتی وہ ہاتھ اٹھائیں بھئی۔ جی، کیجیے بھئی۔ اشتریتُ فعل بافاعل۔ اشتریتُ فعل بافاعل۔ دیکھنا بھئی کتنا لمبا جملہ ہے، اجزاء آپس میں جڑتے چلے جائیں گے، جی۔ اشتریتُ فعل بافاعل۔ فاعل بتلاؤ تو سہی کیا ہے؟ تا ضمیر مرفوع محلاً۔ کون سی ضمیر؟ تا ضمیر۔ تا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جی۔ الدارَ منصوب لفظاً۔ الدارَ منصوب لفظاً، منصوب کیوں کہا آپ نے بھئی؟ مفعول بن رہا ہے۔ شاباش، اس نے کیا بننا ہے؟ فاعل آ چکا، اب مفعول آیا، جی۔ منصوب لفظاً ہے، تلفظ ہو رہا ہے۔ التی اسم موصول۔ بھئی، اس کو کچھ بناؤ تو سہی آپ آگے چلے گئے۔ الدارَ منصوب لفظاً موصوف۔ ہاں، الدارَ منصوب لفظاً موصوف، آپ کو کیسے پتہ چلا موصوف ہے یہ؟ اس کے بعد معرفہ، معرفہ کے بعد معرفہ۔ شاباش، الدار بھی معرفہ، آگے التی اسم موصول بھی معرفہ اور معرفہ کے بعد معرفہ آئے تو عموماً کیا بنیں گے؟ موصوف صفت بھئی۔ اور یاد رکھیے، الدار کے لیے اسم صفت التی مؤنث ہے کیونکہ دار کا لفظ عربی میں مؤنث سماعی ہے بھئی، جی۔ التی اسم موصول، اعراب؟ منصوب محلاً۔ التی اسم موصول منصوب محلاً، اسم موصول، بھئی منصوب کیوں کہا آپ نے؟ کیونکہ یہ اس کی صفت ہے اور موصوف جو ہے وہ منصوب ہے، یہ بھی۔ شاباش، موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے۔ تو الدار منصوب تھا، التی بھی منصوب، ہاں وہ لفظاً تھا، یہ محلاً، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، جی۔ رأیتَہا، رأیتَہا، رأیتَ فعل، رأیتَ فعل بافاعل بھئی۔ فعل بافاعل، ہا ضمیر منصوب محلاً، بھئی رأیتَ فعل بافاعل، فاعل بتلاؤ اس میں۔ تا ضمیر مرفوع محلاً فاعل۔ تا ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً فاعل۔ ہا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ۔ شاباش، ہا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ بھئی۔ فی حرف جارہ۔ فی جارہ۔ یومٍ مجرور لفظاً۔ جی جی، مجرور، یومٍ مجرور لفظاً جی۔ موصوف۔ شاباش، بھئی یوم ہے نکرہ اور نکرہ کے بعد کیا آ رہا ہے؟ فعل، تو اس کو کیا بنائیں گے؟ موصوف، شاباش۔ تو یومٍ مجرور لفظاً موصوف۔ لقیتَ فعل بافاعل، تا ضمیر مرفوع محلاً فاعل۔ لقیتَ، لقیتَ فعل بافاعل، تا ضمیر مرفوع محلاً فاعل۔ ہاں، لقیتَ فعل بافاعل، اس کے اندر تا ضمیر جو ہے مرفوع محلاً فاعل۔ زیداً منصوب لفظاً مفعول بہ۔ زیداً، دیکھا فاعل آ گیا تھا تو اب آگے کیا ائے گا؟ مفعول، زیداً منصوب لفظاً مفعول بہ۔ فی جارہ۔ فی جارہ۔ ہا ضمیر مجرور محلاً۔ شاباش، ہا ضمیر مجرور محلاً۔ جار اپنے مجرور سے مل کر یہ متعلق ہوئے لقیتَ کے۔ ہاں، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے کس سے؟ لقیتَ سے۔ لقیتَ فعل اپنے فاعل، مفعول بہ اور متعلق سے مل کر یہ جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر یہ صفت ہوا یوم موصوف کے لیے۔ بھئی دیکھا، آپ پھر وہی ابھی تک بار بار ہر ایک اسی طرح کر رہا ہے، ہر ایک۔ بھئی جملے کو جب جوڑو تو پہلے عائد تو بتلایا کرو۔ اس میں تا ضمیر جو ہے۔ ہاں، یہ تا ضمیر مخاطب والی یہ کس کو لوٹ رہی ہے بھئی؟ کس کو لوٹ رہی ہے؟ یوم کو۔ میں کتنی دفعہ بتا چکا ہوں، بار بار بتلا رہا ہوں، مرجع صرف غائب کی ضمیر کا ہوتا ہے، مخاطب یا متکلم کی ضمیر کا مرجع نہیں ڈھونڈا جاتا۔ متکلم آپ خود ہیں، مخاطب آپ کے سامنے کھڑا ہے، وہاں مرجع کی ضرورت نہیں ہے بھئی۔ غائب کی ضمیر کا مرجع چاہیے ہوتا ہے اس سے کون مراد ہے، کس کو لوٹ رہی ہے۔ جی۔ یہ صفت ہوا یوم موصوف کے لیے۔ عائد نہیں بتلایا آپ نے ابھی تک۔ پھر کہہ رہے ہیں تا ضمیر، ابھی میں نے کہا یہ عائد بن ہی نہیں سکتی۔ کوئی غائب کی ضمیر نہیں آگے؟ فیہ کے اندر کون سی ضمیر؟ ہا ضمیر۔ ہاں بھئی، یہ فیہ کے ساتھ، بھئی ایک ہی تو غائب کی ضمیر ہے اس کو تو دیکھو پہلے کہ یہ جڑ، اس کو لوٹتی ہے یا نہیں، فیہ، ہا ضمیر کس کو راجع؟ یوم کو بھئی، جی، تو معنیٰ کیا ہوا: فِيْهِ، اَیْ فِيْ يَوْمٍ، فِيْهِ، اَیْ فِيْ، یا فِي الْيَوْمِ، فِي الْيَوْمِ۔ اچھا، اب جوڑ کے دیکھو یہ جڑتا بھی تھا یا نہیں لقیتَ سے؟ لَقِيْتَ سے، لَقِيْتَ زَيْدًا فِيْهِ، فِي الْيَوْمِ یا فِيْ يَوْمٍ، جی۔ لقیتَ زیداً، تو نے زید سے ملاقات کی فی یومٍ، اس فی الیومِ، اس دن میں، جی۔ دیکھا، جڑ رہا ہے۔ فعل اپنے فاعل، مفعول بہ اور متعلق سے مل کر یہ جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صفت ہوا۔ شاباش، فعل اپنے فاعل، مفعول بہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صفت ہوئی موصوف کے لیے۔ تو اس جملے کا کیا اعراب ہوا بھئی؟ یہ بھی مجرور محلاً۔ یہ بھی مجرور ہے محلاً، کیونکہ موصوف یوم کیا تھا؟ مجرور تھا تو صفت بھی مجرور، جی۔ موصوف صفت مل کر مجرور ہوا فی حرفِ جار کے لیے۔ یہ مجرور ہوئے فی کے، جی۔ جار اپنے مجرور سے مل کر یہ متعلق ہوئے رأیتَ، رأیتَ کے۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے رأیتَ فعل کے ساتھ، جی۔ رأیتَ فعل اپنے فاعل، مفعول بہ اور متعلق سے مل کر یہ جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر یہ صلہ ہوا التی اسم موصول کے لیے۔ فعل رأیتَ فعل اپنے فاعل، مفعول بہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ ہوا کس کے لیے؟ اسم موصول کے لیے۔ پھر وہی پھر وہی غلطی جو میں بتلا رہا ہوں، کوئی ربط نہیں دیا، کوئی عائد نہیں بتلایا، بس صلہ بنا دیا بھئی۔ تو آسان طریقہ یہ ہے بھئی، جو غائب کی ضمیر آتی جائے اس کا مرجع تلاش کرتے جاؤ بھئی، یہ کس کو لوٹ سکتی ہے، جو بھی غائب ضمیر ہے۔ عبارت میں سب سے مشکل کام یہ ہے کہ ضمیروں کا مرجع تلاش کیا جائے، جس کو اس کی مہارت ہو گئی وہ آرام سے ترکیب حل کرتا چلا جاتا ہے۔ جس کی توجہ ہی نہیں ہوتی کہ ضمیریں غائب کی آتی جا رہی ہیں وہ ترکیب آپ کرتے جائیں آگے چلتے جائیں، بھئی کہاں ربط آ رہا ہے، کہاں نہیں آ رہا، کوئی ترکیب پوری نہیں ہوگی بھئی۔ تو جو غائب کی ضمیر آئے پہلے وہیں پہ مسئلہ حل کریں، یہ ذرا دیکھیں تو سہی لوٹ کس کو رہی ہے۔ ہاں، اس جملے میں ایک ہی غائب کی ضمیر آئی ہے "ہا"، وہ کس کو لوٹ رہی ہے؟ التی کو، التی بھی مؤنث، ہا ضمیر بھی مؤنث کی، مرجع سے مطابقت ہے، جی۔ تو یہ فعل اپنے فاعل، مفعول بہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ۔ جی، اس کا اعراب کیا ہے اس جملے کا؟ منصوب۔ منصوب کیوں ہے؟ الدار کے لیے صفت بن رہا ہے۔ الدار کے لیے یہ صفت بن رہا ہے بھئی، کیوں؟ بھئی، میں صرف رأیتَہا کی بات کر رہا ہوں۔ التی کے لیے یہ صلہ بن رہا ہے۔ ہاں، تو اس کا اعراب کیا ہوگا؟ یہ محلی ہوگا۔ بھئی، لَا مَحَلَّ لَهَا مِنَ الْإِعْرَابِ، اس کا کوئی محل اعراب نہیں، یہ صفت تو نہیں ہے، صفت ہوتی تو پھر موصول والا اعراب ہم اس کو بھی دیتے، یہ تو صلہ ہے بھئی۔ جی، موصول اپنے صلے سے مل کر؟ یہ صفت ہوئی الدار کی۔ شاباش، موصول اپنے صلے سے مل کر اب کیا بنا بھئی؟ صفت۔ صفت بننا تھا بھئی اس نے لیکن بغیر صلے کے یہ صفت نہیں بن سکتا، اگر یہ التی فاعل بھی بن رہا ہوتا تو بغیر صلے کے نہیں بن سکتا تھا، جی، تو یہ صفت ہوا الدار کے لیے، جی۔ موصوف اپنی صفت سے مل کر یہ مفعول بہ ہوا اشتریتُ فعل کے لیے۔ ہاں، موصوف اپنی صفت سے مل کر یہ مفعول بہ ہوا اشتریتُ فعل کے ساتھ، کے لیے۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ۔ دیکھو سنو، صرف تین تو جز تھے سارے جملے میں: فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر کیا ہوا؟ جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ اب ذرا اس کو روانی سے پڑھو بھئی۔ اِشْتَرَيْتُ الدَّارَ الَّتِيْ رَأَيْتَهَا فِيْ يَوْمٍ لَقِيْتَ زَيْدًا فِيْهِ۔ فی یومی کیوں پڑھتے ہو، تنوین کیوں گرائی آپ نے؟ تنوین تو اضافت کی وجہ سے گرتی ہے یا الف لام کی وجہ سے۔ فی یومٍ۔ ہاں، فِيْ يَوْمٍ پڑھو بھئی، کیوں تنوین گرائی؟ اِشْتَرَيْتُ الدَّارَ الَّتِيْ رَأَيْتَهَا فِيْ يَوْمٍ، جی۔ اچھا، یومٍ کے آگے کیا آیا بھئی؟ لام آیا، اب کیا کریں گے؟ يَوْمِ لَّقِيْتَ: اِشْتَرَيْتُ الدَّارَ الَّتِيْ رَأَيْتَهَا فِيْ يَوْمِ لَّقِيْتَ زَيْدًا فِيْهِ، جی۔ اب ترجمہ کیجیے۔ میں نے خریدا ایسا گھر۔ ایسا کیوں کر رہے ہو، موصوف صفت نہیں ہے، وہ گھر۔ میں نے خریدا وہ گھر جو کہ دیکھا تو نے اس کو اس دن میں کہ جس دن ملاقات کی تو نے زید کے ساتھ۔ شاباش، اِشْتَرَيْتُ، خریدا میں نے الدَّارَ الَّتِيْ وہ گھر جو کہ رَأَيْتَهَا کہ دیکھا تھا تو نے ہا اس گھر کو، کہ دیکھا تھا تو نے اس گھر کو فِيْ يَوْمٍ اس دن کہ ایسے دن کے اندر لَقِيْتَ زَيْدًا کہ ملاقات کی تھی تو نے زید کے ساتھ فِيْهِ اس دن بھئی۔ یعنی جس دن تو نے زید سے ملاقات کی تھی اس دن جو تو نے گھر دیکھا تھا وہ گھر میں نے خرید لیا۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ اگلا جملہ لکھیے بھئی۔ مَاتَتِ، مَاتَتِ الْفَارَةُ، الْفَارَةُ، چوہے کو کہتے ہیں بھئی، الَّتِيْ ضَرَبْتَهَا اليَوْمَ، اليَوْمَ بِالْعَصَا، بِالْعَصَا۔ جی، کون کرے گا؟ جی، کیجیے بھئی۔ ماتت فعل۔ ماتت کون سا صیغہ ہے؟ ماضی کا مؤنث۔ ماتت، دو میں سے یا بارہ میں سے؟ دو میں سے۔ دو میں سے، اور دو میں سے ہو تو فاعل آگے آ سکتا ہے یا نہیں آ سکتا؟ آ سکتا ہے۔ آ سکتا ہے، تو فوراً یہ حکم نہ لگائیں فعل بافاعل، آگے دیکھ لیں کوئی فاعل تو نہیں ہے۔ ماتت فعل، الفارۃ فاعل مرفوع لفظاً فاعل۔ شاباش، الفارۃ، دیکھا ماتت فعل بھی مؤنث، الفارۃ بھی مؤنث۔ جی، ترجمہ پہ بھی غور کریں گے آپ بعد میں، دیکھیں گے فاعل بن رہا ہے۔ ماتت فعل، الفارۃُ مرفوع لفظاً، ہاں، اس نے فاعل بننا ہے، لیکن ابھی نہ بناؤ فاعل، نہ کہو بھئی۔ موصوف۔ ہاں، موصوف، آپ کو کیسے پتہ چلا موصوف ہے؟ کیونکہ معرفہ کے بعد۔ معرفہ کے بعد آگے پھر معرفہ آ رہا ہے، صفت آ رہی ہے، جی۔ التی اسم موصول، اعراب؟ التی مرفوع، منصوب محلاً اسم موصول۔ التی کیا ہے؟ منصوب محلاً۔ موصوف کے، موصوف مرفوع اور صفت منصوب بھئی، کیا وجہ ہے؟ جی؟ التی کا اعراب؟ اعراب، کیا بنا رہے ہو بھئی؟ ابھی آپ نے بتایا ہے الفارۃ موصوف، التی اس کی صفت، اب آپ کہہ رہے ہیں یہ منصوب ہے بھئی۔ مرفوع محلاً۔ مرفوع محلاً، شاباش، موصوف صفت کا ایک اعراب ہوتا ہے۔ التی مرفوع محلاً اسم موصول۔ اسم موصول، التی مرفوع محلاً اسم موصول۔ ضربتَ فعل، ضربتَ فعل بافاعل، تا ضمیر اس کا فاعل محلاً، مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ تا ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ ہا ضمیر منصوب لفظاً، ہا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ۔ ہا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ۔ پھر پھر دیکھا، غائب کی ضمیر آ گئی، مرجع نہیں تلاش کرتے، آگے چلتے جاتے ہیں بھئی۔ ہا، ہا ضمیر جو ہے راجع ہے فارۃ۔ کس کو راجع ہے؟ الفارۃ کو راجع ہے، اچھا۔ چلیے، آگے چلتے جائیے۔ الیوم اس کے لیے مفعول، مفعول فیہ۔ اعراب؟ منصوب محلاً۔ الیومَ منصوب لفظاً مفعول فیہ ہوا کس کے لیے؟ ضربتَ کے لیے۔ ضربتَ کے لیے، جی۔ با جارہ، العصا مجرور، مجرور۔ ہاں، با جارہ، عصا، العصا ہے، بالعصا لکھوایا؟ اچھا، العصا مجرور، کون سا؟ تقدیراً۔ تقدیراً کیوں کہا آپ نے؟ اس کے را۔ کون سے یہ اسم کون سا ہے؟ پھر میں نے کہا تھا اسم مقصور، منقوص میں بار بار اشتباہ ہوتا ہے، التباس ہوتا ہے، یاد رکھو، منقوص کس سے ہے؟ کس سے؟ ناقص سے، ناقص کس کو کہتے ہیں؟ جس کے آخر میں واو، الف، یا، یا آ جائے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو یہاں قاضی اس کی مثال ہے، اس کے آخر میں یا آئے ما قبل کسرہ ہو اسے اسم منقوص کہتے ہیں بھئی۔ اور تو یہ ایسا ہے بھئی؟ اس کے آخر میں تو الف مقصورہ آ رہا ہے، یہ اسم مقصور ہے، جی۔ العصا تقدیراً مجرور۔ العصا تقدیراً مجرور، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ضربتَ کے، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ضربتَ فعل کے ساتھ۔ فعل اپنے فاعل، مفعول بہ اور مفعول فیہ اور متعلق سے مل کر صلہ ہوا التی اسم موصول کے لیے۔ فعل اپنے فاعل، مفعول بہ، مفعول فیہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ ہوا کس کے لیے؟ التی اسم موصول کے لیے۔ پھر کوئی عائد نہیں بتلایا انہوں نے بھئی۔ ضربتَ میں ضمیر۔ ضربتَ کے اندر کون سی ضمیر ہوا کرتی ہے بھئی؟ پہلے تو کچھ اور بتا کر گئے تھے۔ تا تھی۔ پہلے آپ نے تا بتائی تھی، اب کہہ رہے ہیں اس میں ہوا ضمیر ہے۔ ہا ضمیر۔ کون سی ضمیر؟ ضربتَہَا۔ ضربتَہَا کے ساتھ جو ہا ضمیر ملی ہے، دیکھا یہ کس کو لوٹ رہی ہے؟ التی کو، جو آپ نے فارۃ کو لوٹا دی تھی بھئی۔ التی اسم موصول اپنے صلے سے مل کر یہ صفت ہوئی الفارۃ موصوف کے لیے۔ ہاں، اسم موصول اپنے صلے سے مل کر یہ صفت ہوئی کس کے لیے بھئی؟ فارۃ، موصوف کے لیے۔ موصوف اپنی صفت سے مل کر موصوف اپنی صفت سے مل کر فاعل ہوا۔ فاعل، ماتَ فعل لازم ہے، صرف فاعل چاہتا ہے، مفعول چاہتا ہی نہیں، مر گیا۔ وہ مر گیا، "نے" کا لفظ آیا کوئی؟ میں نے کیا کہا تھا، فعل لازم، فعل متعدی کی پہچان کس سے ہوگی؟ فعل متعدی کے ترجمے میں "نے" کا لفظ ائے گا، اور یہاں وہ مر گیا، کوئی "نے" کا لفظ آیا؟ نہیں بھئی، تو یہ فعل لازم ہے تو مفعول کیوں بناتے ہو التی کو بھئی؟ تو موصوف اپنی صفت سے مل کر فاعل، فعل اپنے فاعل سے مل کر دو جز ہیں جملے کے، بس بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ جملے میں دو چیزیں آئیں: ایک فعل، ایک اس کا فاعل، باقی کچھ بھی نہیں ہے بھئی، وہ سارا اسی کا صلہ بن گیا۔ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، جی روانی سے پڑھیے۔ مَاتَتِ الْفَارَةُ الَّتِيْ ضَرَبْتَهَا اليَوْمَ بِالْعَصَا۔ مَاتَتِ الْفَارَةُ الَّتِيْ ضَرَبْتَهَا اليَوْمَ بِالْعَصَا۔ ترجمہ کیجیے۔ ماتت، مر گیا الفارۃ، چوہا، التی، وہ جو ضربتہا۔ مر گیا، الفارۃ متعین چوہا ہے، الف لام آیا، مر گیا وہ چوہا التی جو کہ ضربتَ کہ پٹائی کی ہا اس کی تو نے الیومَ آج کے دن بالعصا کس کے ساتھ؟ لاٹھی، مر گیا وہ چوہا جسے مارا تو نے آج کے دن لاٹھی کے ساتھ بھئی۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، چلیے بس کرتے ہیں بھئی۔ اچھا بھئی، دعا کر لیں۔ الحمد للہ رب العالمین۔ آپ کے ایک ساتھی نے بھی دعا کا کہا بھئی، ان کی والدہ بڑی سخت بیمار ہیں، بہت زیادہ بیمار ہیں بھئی۔ دعا کریں، اے اللہ! ان کی والدہ کو صحت نصیب فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! ان کو صحت، صحت نصیب فرما۔ اے اللہ! شفائے کاملہ، عاجلہ نصیب فرما۔ بھئی، ماں تو اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے بھئی۔ اے اللہ! ان کی والدہ کا سایہ ان کے سر پر تادیر قائم و دائم فرما۔ اے اللہ! اس علم دین کی برکت سے، اے اللہ! کہ اتنے اولیاء نے آپ کے سامنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں، اللہ یقیناً یہ طلباء آپ کے اولیاء ہیں۔ اے اللہ! ان سب کے وسیلے سے، ان کی برکت سے ان کی والدہ کو صحت اور عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کا سایہ ان کے سر پر تادیر قائم و دائم فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں جن کے والدین زندہ ہیں، اللہ ان سب کا سایہ ان کے سروں پر تادیر قائم و دائم فرما۔ اے اللہ! سب حاضرین کی تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! سب کو والدین کی خدمت کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! حاضرین میں سے بھی کوئی بیمار ہے، اللہ یا ان کے گھروں میں کوئی بیمار ہیں، اللہ سب کو شفا نصیب فرما۔ اے اللہ! سب کو شفا نصیب فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! سب کی مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! مجاہدین کی خصوصی نصرت فرما۔ اے اللہ! ان کو ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اے اللہ! دشمنان اسلام کو ذلیل و رسوا فرما۔ اے اللہ! اس خطے کے اندر بھی دین اسلام کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! جو اسلام کے خلاف جس شکل میں بھی مصروف ہیں، اللہ ان سب کو ذلیل و رسوا فرما۔ اے اللہ! مجاہدین کے وسیلے سے ہماری دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! اس طالب علم کی والدہ کو جلد سے جلد مکمل صحت نصیب فرما۔ اے اللہ! مکمل صحت نصیب فرما۔ اے اللہ! اطمینان اور سکون نصیب فرما، اے اللہ! خوشی نصیب فرما۔ اے اللہ! تمام طلباء، جتنے میرے تلامذہ ہیں، اللہ سب کو خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ! سب کی پریشانیاں اور تکالیف دور فرما۔ اے اللہ! سب کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ صلی اللہ تعالی علی خیر خلقہ محمد۔