درس نمبر۔15 اچھا بھئی، کچھ اور جملوں کی ترکیب کیجیے بھئی۔ نَزَلَ، نَزَلَ المَطَرُ، طا کے ساتھ، مطر بھئی، بارش کو کہتے ہیں، مطر۔ المَطَرُ اليَوْمَ، اليَوْمَ۔ جی، کیجیے ترکیب بھئی۔ نزل فعل۔ المطر فاعل، مرفوع لفظاً۔ المطر مرفوع لفظاً فاعل۔ مرفوع کیوں کہا؟ فاعل ہے، فاعل مرفوع ہوتا ہے۔ لفظاً کیوں کہا؟ تلفظ ہو رہا ہے، کس چیز پر؟ رفع پر تلفظ ہو رہا ہے۔ موصوف، جی، فاعل بنے گا، جی۔ الیومَ منصوب لفظاً۔ الیومَ منصوب لفظاً مفعول فیہ، شاباش بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو معرفہ کے بعد معرفہ آ رہا ہے لیکن آپ نے معنیٰ میں بھی تھوڑا غور کرنا ہے بھئی کہ یہ صفت بن سکتا ہے یا صفت نہیں بن سکتا۔ ہاں، اکثر جگہ آپ کو دیکھیں گے موصوف صفت بنیں گے، کہیں کہیں ایسا ہوگا کہ موصوف صفت نہیں بن سکتے۔ تو الیومَ منصوب لفظاً مفعول فیہ، جی شاباش۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ جی، روانی سے پڑھیے بھئی۔ نَزَلَ المَطَرُ اليَوْمَ، جی۔ اچھا، ترجمہ کیجیے۔ ہاں، نازل ہوئی بارش آج کے دن، یا برسی بارش آج کے دن بھئی۔ آج کے دن بارش نازل ہوئی، بارش ہوئی آج، کہیں آج بارش ہوئی بھئی، آج بارش ہوئی۔ اگلا جملہ لکھیے بھئی۔ الرِّجَالُ سَافَرَ، سَافَرَ۔ سفر سے ہے، سفر سے۔ جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی، کیجیے۔ الرجالُ مرفوع لفظاً مبتدا۔ ہاں بھئی، ساتھ والے بھئی۔ ہاں شاباش، یہ فعل ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ فعل ہے، جی۔ کیجیے ترکیب۔ سافر فعل۔ جلدی جلدی کرو بھئی، اس میں سوچنے والی کیا بات ہے، بس سوچو کون سا صیغہ ہے، ضمیر نکالو، فاعل بناؤ۔ فعل آ گیا، فوراً کیا چاہیے اب بھئی؟ فاعل۔ آگے کوئی لفظ آ رہا ہے؟ نہیں۔ معلوم ہوا اسی میں ضمیر ہے بھئی۔ جی؟ کیا نہیں ہے؟ ہاں شاباش، دیکھا بھئی! سافر اگر ہم کہتے ہیں تو ہوا ضمیر نکالیں گے اور ہوا ضمیر کس کو لوٹانی پڑے گی؟ الرجال کو، اور الرجال تو ہے جمع، تو لہٰذا معلوم ہوا ہمیں جمع کی ضمیر چاہیے بھئی۔ تو کیا کہیں گے؟ جمع والی ضمیر والا صیغہ بنا لو بھئی: سافر، سافرا، سافروا بھئی۔ تو سافروا ہونا چاہیے، معلوم ہوا، دیکھا، ضمیر لوٹاؤ گے تو آپ کو خود عبارت کی غلطیوں کا بھی پتہ چلے گا بھئی۔ تو سافروا بھئی، اس کے آخر میں الف بھی لکھنا، جی۔ سافروا فعل بافاعل۔ جی۔ واو ضمیر اس کے اندر اس کا فاعل۔ شاباش، واو ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل بھئی۔ تو یہ جمع مذکر غائب کی ضمیر ہے بھئی، ہم نہ کہنا اس میں بھئی، یہ واو خود فاعل آ رہا ہے۔ تو یہ جو کس کو راجع ہے؟ راجع ہے الرجال کی طرف۔ جو راجع ہے الرجال مبتدا کو بھئی، دیکھا۔ تو یہ عائد بھی بن گیا، ربط بھی آ گیا بھئی، جی۔ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر، ہاں، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر یہ خبر ہوئی مبتدا کے لیے بھئی۔ شاباش، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، جی، روانی سے پڑھیے۔ الرِّجَالُ سَافَرُوْا، جی، ترجمہ کیجیے۔ شاباش، ان مردوں نے، دیکھا بھئی، انہوں نے ترجمہ بڑا بہترین ترجمہ کیا، کیونکہ الف لام آیا اور الف لام کے ذریعے کیا ہوتا ہے؟ اشارہ ہوتا ہے کسی متعین کی طرف۔ تو ان مردوں نے، دیکھا کسی خاص خاص مردوں کی طرف اشارہ ہے، ان مردوں نے سفر کیا۔ اگلا جملہ لکھیے بھئی۔ الرَّجُلَانِ، الرَّجُلَانِ يَضْحَكُ، يَضْحَكُ، ضاد ہے بھئی، ضحک سے ہے ضحک سے۔ يَضْحَكُ۔ جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی، کیجیے۔ الرَّجُلَانِ مرفوع لفظاً مبتدا۔ مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ نہیں، مرفوع کیوں کہا؟ شاباش، یہ مبتدا واقع ہو رہا ہے۔ اور لفظاً کیوں کہا؟ ہاں، تو اور اس الف پر ہم کیا کر رہے ہیں اس وقت بھئی؟ تثنیہ کا اعراب حالتِ رفعی میں الف کے ساتھ آتا ہے اور اس الف پر ابھی بھی ہم تلفظ کر رہے ہیں، الرجلان۔ جی، آگے۔ شاباش، کیا ہونا چاہیے آگے؟ یضحکان ہونا چاہیے، ورنہ تو عائد نہیں ملے گا ہمیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی، مطابقت نہیں ہوگی ضمیر اور مرجع میں۔ تو یضحکان فعل۔ اعراب؟ شاباش، یضحکان فعل، الف ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، یہ الف تثنیہ کی ضمیر ہے بھئی، جی۔ جو راجع ہے الرجلان کی طرف، یہ ربط بھی آ گیا، عائد ہو گیا، جی۔ شاباش، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر خبر ہوئی کس کی؟ مبتدا کی، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، جی، پڑھیے روانی سے۔ الرَّجُلَانِ يَضْحَكَانِ، ترجمہ بھئی۔ وہ دو آدمی ہنستے ہیں، یا وہ دو آدمی ہنس رہے ہیں، شاباش بھئی۔ یہ ترکیب کر لی تھی، الکلمۃ لفظ وضع؟ چلیے، یہ لکھیے بھئی: الكَلِمَةُ، الكَلِمَةُ لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ، مُفْرَدٍ۔ جی، کون کرے گا اس کی ترکیب بھئی؟ چلیے جی، ٹھہرو بھئی، آپ کو آتی ہے ترکیب بھئی؟ ہاں، اور بھئی؟ جی، آپ کو آتی ہے ترکیب؟ چلو شاباش، کوشش کرو بھئی۔ الکلمۃُ مرفوع لفظاً مبتدا۔ بھئی، مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ مبتدا بننا ہے، لفظاً کیوں کہا؟ کس چیز پر تلفظ کر رہے ہیں؟ رفع پر، پڑھ کے دکھائیے بھئی۔ جی؟ الکلمۃُ، دیکھا تا پر میں کس چیز کا تلفظ کر رہا ہوں؟ رفع کا، تو یہ مرفوع لفظاً ہے، آگے۔ اعراب؟ لفظاً بھئی، منصوب بھئی۔ کیوں منصوب ہے؟ مرفوع کیوں مرفوع ہے؟ اس نے خبر بننا ہے۔ باقیوں کو چھوڑو آگے بس، اس نے کیا بننا ہے؟ خبر بننا ہے، خبر، اور خبر کیا ہوا کرتی ہے؟ مرفوع۔ تو یہ کون سا مرفوع ہے؟ مرفوع محلاً، شاباش بھئی، کیوں؟ لفظاً ہے، فتوے سے رجوع کر لیا بھئی، کیا وجہ؟ تلفظ کر کے دکھاؤ۔ لفظٌ، دیکھا تلفظ ہو رہا ہے بھئی، مرفوع لفظاً بھئی، کیا بنایا اس کو آپ نے؟ موصوف، موصوف کیوں بنایا آپ نے؟ پوری بات نہیں سن سکے لگتا ہے بھئی۔ اپنے ساتھی کو بتاتے ہو، اس کا کوئی فائدہ نہیں کرتے، اس کا نقصان ہی کرتے ہو۔ بیچارے کی دو تین ہفتوں بعد باری آئی ہے، اس کے ترکیب کر رہا ہے، اس کو غور کرنے دو، تھوڑا دماغ لڑانے دو۔ آپ اس کو بتاتے جا رہے ہیں، وہ بیچارے کا وہ دماغ لڑانے کا جو وقت تھا وہ بھی آپ نے اس کا ضائع کر دیا۔ بھئی، آپ نے کہا یہ موصوف ہے بھئی۔ کیوں موصوف ہے؟ کیا ضابطہ بتلایا تھا بھئی؟ نکرہ کے بعد فعل آ جائے تو عموماً کیا بنیں گے؟ موصوف صفت۔ تو یہ نکرہ ہے لفظٌ اور اس کے بعد فعل آ رہا ہے، جی۔ آگے۔ وضع فعل۔ لمعنًى، جی، چلیے جی، آپ کیجیے بھئی۔ وضع فعل مجہول۔ لام جارہ۔ اعراب بتاؤ بھئی، پھر آگے چلنا ہے۔ معنًى منصوب لفظاً، شاباش! کسی زمانے میں یہ لام بڑا طاقتور ہوا کرتا تھا، کسی نہ کسی طرح جر دے ہی دیتا تھا۔ اب بیچارہ کمزور ہو گیا بھئی۔ پھر سوچو بھئی۔ ہاں، معنًى انہوں نے کہا مجرور، چلو یہ تو تسلیم کر لیا۔ اب مجرور کون سا ہے؟ محلاً بھئی، کیوں؟ یہ مبنیات میں سے ہے؟ کیا یہ ضمیر ہے؟ اسم اشارہ ہے؟ اسم موصول ہے؟ وہ جو قسمیں ہیں ان میں سے کوئی بھی نہیں یہ تو بھئی۔ ہاں بھئی، یہ معنیٰ کیا ہے سولہ قسموں میں سے؟ ساتھ والے بھئی۔ جی؟ جی؟ کیا ہے اسم؟ اسم منقوص کیسے ہے؟ اسم منقوص کہتے کس کو ہیں؟ اسم مقصور کہہ رہے ہیں، اسم مقصور کسے کہتے ہیں؟ جس کے آخر میں کیا آئے؟ الف مقصورہ آئے بھئی۔ الف مقصورہ آئے بھئی، ادھر آ رہا ہے الف مقصورہ؟ یاد رکھو، یہ ایک لفظ بھی ہمیشہ یاد رکھنا، کبھی کبھی اس طرح کا کلمہ آتا ہے انسان کو پریشان کر دیتا ہے۔ یہ اسم مقصور ہے بھئی۔ اسم مقصور کس کو کہتے تھے؟ جس کے آخر میں کیا آتا ہو؟ الف مقصورہ جیسے موسیٰ، عیسیٰ وغیرہ بھئی، یہ کیا ہیں؟ اسم مقصور ہیں۔ جی، پھر یہ جو اسم الف ہے وہ گر جایا کرتا ہے بھئی، التقائے ساکنین کی وجہ سے۔ مثلاً مرفوع آئے گا تو کیا پڑھیں گے؟ اصل میں تھا معنینٌ بھئی، کیا تھا؟ مرفوع تھا نا، معنینٌ، پھر معنینٌ ضابطہ لگا صرفی قانون لگا، یا متحرک ہے، ما قبل فتحہ ہے، اس کو کس سے بدلیں گے؟ الف سے، معنَینٌ بھئی، نون پر فتحہ ہے تو یا کو کس سے بدل دیں گے؟ الف سے بھئی، کیا بن گیا؟ معنان بن گیا، کیا بن گیا؟ تو الف بھی ساکن، نون بھی ساکن، اجتماع ساکنین آیا اور جب اجتماع ساکنین ہو، اول حرف مدہ ہو تو اس کو کیا کر دیا کرتے ہیں؟ گرا دیتے ہیں، تو الف گر گیا، معنًى ہو گیا، کیا رہ گیا؟ معنًى۔ تو الف یہاں تقدیراً اب بھی موجود ہے، صرف التقائے ساکنین کی وجہ سے گر گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اسی طرح فتًى کا لفظ ہے، فتًى۔ فتًى بھی کیا ہے بھئی؟ اسم مقصور ہے، وہاں پر بھی کیا ہوا ہے؟ جی؟ فتیٌ تھا، فتَیٌ بھئی، یا تھی۔ پھر یا سے ما قبل فتحہ آیا، یا متحرک ہو، ما قبل فتحہ ہو، اس کو کس سے بدلتے ہیں؟ الف سے، تو کیا بن گیا؟ فتان، پھر الف بھی ساکن، نون بھی ساکن، اجتماع ساکنین علی غیر حدہ آیا، الف کو گرا دیا، کیا رہ گیا؟ فتًى رہ گیا، کیا رہ گیا؟ فتًى بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ معنًى، فتًى وغیرہ بھئی، یہ اسم مقصور ہیں، الف تقدیراً موجود ہے یہاں پر۔ اور اسم مقصور کا اعراب آپ نے کیا پڑھا ہے؟ جی؟ تینوں حالتوں میں تقدیری: جاءنی عیسیٰ، رأیت عیسیٰ، مررت بعیسیٰ، تینوں حالتوں میں تقدیری، تو یہ بھی اسم مقصور ہے تو اس کا بھی اعراب تینوں حالتوں میں کیا ہوا؟ تقدیری ہوا بھئی۔ جی تو لام جارہ۔ ہاں، اس پر جب الف لام آئے گا بھئی، پھر وہ الف نہیں گرے گا۔ کیونکہ وہ الف تو گر رہا تھا اس لیے کہ آخر میں تنوین آتی تھی اور تنوین کا نون ساکن تھا اور الف بھی ساکن، تو اجتماع ساکنین ہو جاتا تھا۔ لیکن جب اس پر الف لام آئے گا اب تنوین آئے گی؟ تنوین نہیں آئے گی، تو اب آخر میں الف باقی رہے گا، المعنٰی، الفتٰی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اگر الف لام نہ ہو تو پھر فتًى پڑھیں گے فتًى بھئی، اور معنًى پڑھیں گے اس کو بھئی۔ جی، کیجیے ترکیب: لام جارہ۔ شاباش، معنًى مجرور، مجرور تو قطعی بات ہے کیونکہ اس پر کیا داخل ہوا ہے؟ لام۔ اور اب کون سا مجرور ہے؟ تقدیراً، تو یہ مجرور تقدیراً، کیا بنایا اس کو آپ نے؟ موصوف بھئی، آگے۔ مفردًا صفت بھئی، اعراب؟ منصوب لفظاً، تلفظ کر کے دکھاؤ بھئی۔ مفرداً بھئی، آپ نے اس کو منصوب کیوں پڑھا؟ صفت بن رہا ہے اور صفت ہمیشہ منصوب ہوا کرتی ہے، یہی ضابطہ ہے؟ جی؟ صفت کا کیا اعراب ہوا کرتا ہے بھئی؟ موصوف والا، اور موصوف کا بھی آپ نے خود بتایا ہے، کیا اعراب بتایا بھئی؟ مجرور، تو پھر اس کو منصوب کیوں پڑھتے ہو جب صفت بنا رہے ہو؟ جی؟ ہر ایک پہ اس کا اعراب لاؤ بھئی، اس کے مطابق۔ موصوف صفت کا اعراب ایک ہے بس، ایک مجرور ہے تو دوسرا بھی کیا ہونا چاہیے؟ مجرور۔ ہاں، ہر ایک پہ اپنی قسم کے مطابق اعراب آئے گا۔ کسی پہ اعراب محلاً آئے گا، کسی پہ اعراب لفظاً آئے گا، کسی پہ اعراب تقدیراً آئے گا۔ یہ نہ آپ دیکھیں کہ ایک پہ لفظاً ہے تو ثانی پہ بھی لفظاً ہونا چاہیے، یا ایک پہ محلاً ہے تو ثانی پہ بھی، ہاں، ہر ایک پر ہر ایک ہوگا، اگر موصوف مجرور ہے تو ساری صفتیں بھی مجرور ہوں گی، البتہ کوئی ہو سکتا ہے محلاً ہو مجرور، کوئی ہو سکتا ہے تقدیراً ہو مجرور، کوئی ہو سکتا ہے لفظاً مجرور ہو بھئی، بس مجرور ہونا ضروری ہے سب کا بھئی۔ منصوب ہے اگر موصوف تو صفات سب کا منصوب ہونا ضروری ہے باقی محلاً، لفظاً، یا تقدیراً اس میں ان میں آپس میں اختلاف ہو سکتا ہے بھئی۔ جی تو مفرد، دوبارہ اعراب بتائیے مفرد کا۔ شاباش، مفردٍ مجرور لفظاً، مجرور کیوں ہے؟ کیونکہ اس کا موصوف کیا ہے؟ مجرور۔ اور کون سا ہے مجرور؟ لفظاً، تو موصوف تھا مجرور تقدیراً اور صفت ہے مجرور لفظاً بھئی۔ بھئی، یہ تو آپ نے پوری ترکیب نہیں کی بھئی، مفرد کون سا صیغہ ہے؟ مفرد، اسم مفعول ہے بھئی: افرد، یفرد، افراداً سے مفرد اسم مفعول ہے، مفرد اسم فاعل بنے گا اس سے۔ مفرد، معلوم ہوا اسم مفعول ہے اور اسم مفعول کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ نائب فاعل ہمیں چاہیے۔ مفردٍ مجرور لفظاً صیغہ اسم مفعول۔ ہاں، کون سی ضمیر بھئی؟ کون سی؟ بتاؤ بھئی، شک نہ کیا کرو، بس بات ایک پکی ہے بھئی، کون سا صیغہ ہے؟ واحد کا ہے، تثنیہ کا ہے، جمع کا ہے بھئی؟ واحد، مذکر کا ہے، مؤنث کا ہے؟ تو واحد مذکر کی ضمیر کون سی ہوا کرتی ہے؟ ہوا، سوچنے کی کوئی بات ہی نہیں ہے بھئی، اس کے اندر کون سی ضمیر ہے؟ ہوا ضمیر ہے بھئی، جی، اور اعراب اس کا بتاؤ بھئی۔ مرفوع محلاً، مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ جی؟ فاعل بنے گا بھئی؟ صیغہ کون سا آیا؟ ہاں، یہ نائب فاعل بنے گا، تو نائب فاعل بھی مرفوع ہوتا ہے تو مرفوع محلاً یہ ضمیر بھئی، جی۔ اسم مفعول اپنے، اسم مفعول اپنے نائب فاعل سے مل کر کیا بنا؟ شبہ جملہ، شبہ جملہ ہو کر کیا بنی؟ صفت، بھئی آپ نے شبہ جملہ کو موصوف کے ساتھ جوڑا ہے، کوئی ربط نہیں بتایا۔ ہاں، ہوا ضمیر لوٹ رہی ہے معنیٰ کی طرف بھئی، اور ضمیر مرجع میں مطابقت ہے؟ ضمیر اور مرجع میں مطابقت ہے بھئی شاباش، یہ عائد ہے بھئی۔ تو یہ صفت ہوئی، موصوف اپنی، موصوف اپنی صفت سے مل کر مجرور۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوا وضع فعل کے، بھئی جوڑ کر دکھاؤ، جڑتے بھی ہیں یا نہیں۔ جی؟ شاباش، جو وضع کیا گیا ہو کس کے لیے؟ مفرد معنیٰ کے لیے، جڑ رہا ہے۔ فاعل وغیرہ تو آپ نے بتایا ہی نہیں تھا بھئی۔ ہاں، فاعل آگے آنے کا امکان تھا لیکن آگے تو کوئی نہیں آیا، فاعل معلوم ہوا اسی کے اندر کیا نکالنی پڑے گی؟ ضمیر، اور یہ ہے فعل معروف یا فعل مجہول بھئی؟ اور فعل مجہول کے لیے فاعل آتا ہے یا نائب فاعل آتا ہے؟ نائب فاعل آتا ہے، تو اس کے اندر ہوا ضمیر مرفوع محلاً اس کا نائب فاعل بھئی۔ شاباش، فعل اپنے نائب فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صفت ہوئی موصوف کے لیے بھئی، آپ نے کوئی ربط تو دیا نہیں ہے اور آپ نے صفت بنا دی۔ ہاں، وضع کے اندر جو ضمیر ہے وہ کس کی جانب لوٹ رہی ہے؟ لفظ کی، یہ عائد ہے بھئی، جی۔ موصوف اپنے، موصوف اپنی صفت سے مل کر خبر، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ جی، اب ذرا عبارت روانی سے پڑھیے۔ الكَلِمَةُ لَفْظٌ، لفظٌ بھئی، وُضِعَ، جی، کیا کریں گے بھئی؟ جی؟ لفظٌ وضع پڑھیں گے یا لَفْظُوُّضِعَ؟ ہاں، واو کس میں سے ہے؟ حروف یرملون میں سے، اور اس سے پہلے نون ساکن آئے تو اس کو بھی واو کر کے واو میں کیا کریں گے؟ ادغام، تو کیا پڑھیں گے؟ لَفْظُوُّضِعَ، جی، آگے؟ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ بھئی، پھر وہی بات آ گئی۔ لمعنًى کے آخر میں آیا نون ساکن اور نون ساکن کے بعد آ رہا ہے میم اور میم ہے کس میں سے؟ حروف یرملون میں سے، تو اس نون کو بھی اب کیا کریں گے؟ میم کر کے میم کے اندر ادغام کریں گے، ضابطے سمجھ میں آ رہے ہیں بھئی؟ ہاں، یہ بڑے باریک ضابطے ہیں بھئی، اب ادغام کریں گے، کیسے پڑھیں گے؟ لِمَعْنَمُّفْرَدٍ بھئی، میم کو مشدد کر دو، لِمَعْنَمُّفْرَدٍ بھئی: الكَلِمَةُ لَفْظُوُّضِعَ لِمَعْنَمُّفْرَدٍ بھئی۔ جی، ترجمہ کیجیے اب۔ کلمہ ایسا لفظ ہے کہ وضع کیا گیا ہو اسے ایسے معنیٰ کے لیے مفردٍ کہ وہ معنیٰ کیا ہو؟ مفرد ہو، ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، اسی کے اندر اس کو مفردًا بھی پڑھتے ہیں، مفردٌ بھی پڑھتے ہیں بھئی۔ تو اگر اس کو پڑھو مفردٌ بھئی تو یہ مرفوع ہوا، تو بننا اب بھی اس نے صفت ہی ہے، تو کون سا لفظ مرفوع آیا تھا بھئی؟ لفظٌ، معلوم ہوا یہ لفظٌ کی صفتِ ثانی ہے، لفظٌ کے لیے ایک صفت کیا بن گئی؟ وُضِعَ لِمَعْنًى بھئی، کیسے؟ لفظٌ موصوف، وضع فعل، ہوا ضمیر اس کے اندر نائب فاعل جو راجع ہے لفظ کو، لام جارہ، معنًى مجرور، جار مجرور متعلق کس سے؟ وضع سے، فعل اپنے نائب فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر صفتِ اول ہوئی کس کے لیے؟ لفظ کے لیے، اور مفردٌ صیغہ اسم مفعول، ہوا ضمیر اس کے اندر اس کا نائب فاعل، اس کو اب ہم کس کی صفت بنا رہے ہیں؟ لفظ کی، تو ضمیر بھی اب کس کو لوٹائیں گے؟ لفظٌ کو، تو وہ یہ عائد ہو گیا بھئی، تو اسم مفعول اپنے نائب فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر لفظٌ کے لیے صفتِ ثانی، موصوف اپنی دونوں صفتوں سے مل کر یہ خبر ہوئی کس کے لیے؟ مبتدا کے لیے۔ تو اب ترجمہ کیسے ہوگا؟ کلمہ ایسا لفظ ہے جسے وضع کیا گیا ہو کسی معنیٰ کے لیے اور ایسا وہ لفظ کیا ہوگا؟ مفرد ہوگا، مفرد کون ہوگا؟ ضمیر کس کو لوٹائی بھئی؟ لفظ، مفرد بھی وہ لفظ، تو کلمہ یوں کر لو ترجمہ، مفرد کو لفظ پر مقدم دو کیونکہ اردو میں کیا کرتے ہیں؟ صفت کو موصوف پر: تو کلمہ ایسا مفرد لفظ ہے جس کو وضع کیا گیا ہو کسی معنیٰ کے لیے۔ ایک ترکیب یہ تھی کہ اس کو مفرداً پڑھیں بھئی، اور اس صورت میں یہ بنے گا حال کیونکہ حال کیا ہوا کرتا ہے؟ منصوب بھئی، پھر حال بنانے کی صورت میں دو احتمال ہیں: یہ لفظٌ سے بھی کیا بن سکتا ہے؟ حال، بلکہ وضع کے اندر جو ہوا ضمیر لفظ کو راجع ہے اس سے کیا بنے گا؟ حال بن سکتا ہے، اور معنًى سے بھی حال بن سکتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ بھئی، وضع کے اندر جو ہوا ضمیر لوٹ رہی ہے وہ کس کو لوٹ رہی ہے؟ لفظٌ کو، تو چاہے لفظ سے براہ راست حال بنائیں چاہے ہوا ضمیر سے حال بنائیں، دونوں کیا ہیں؟ معنیٰ وہی رہے گا۔ لیکن کیونکہ صاحب کافیہ فرماتے ہیں کہ حال آتا ہے صرف فاعل سے یا صرف مفعول سے یا دونوں سے، یعنی حال صرف فاعل کی حالت بیان کرتا ہے یا مفعول کی یا دونوں کی بھئی، ان کے علاوہ کسی اور کی حالت بیان کرنے کے لیے حال نہیں آتا۔ تو وضع کے اندر جو ضمیر ہے وہ بھی کیا ہے؟ نائب فاعل، فاعل کے درجے میں ہے تو ہوا ضمیر سے اس لیے حال بنایا کہ وہ کیا بن رہی ہے؟ نائب فاعل ہے بھئی، اور فاعل سے کیا آیا کرتا ہے بھئی؟ حال آتا ہے۔ اور معنًى ہے مجرور بھئی، یاد رکھو، یہ جو مجرور ہوتا ہے یہ بھی دراصل مفعول ہوتا ہے۔ مجرور کیا ہوتا ہے؟ دراصل مفعول ہوتا ہے۔ اس کو مفعول بہ غیر صریح کہتے ہیں۔ ایک تو آپ نے وہ مفعول پڑھا ہے جو عبارتوں میں پڑھتے ہیں: ضرب زیدٌ عمراً، یہ عمراً کیا ہے بھئی؟ مفعول ہے، یہ صریح مفعول ہے، فعل براہ راست اس سے اثر ڈال رہا ہے اور اس کو نصب دے رہا ہے۔ لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ فعل براہ راست اس کو نصب نہیں دے سکتا تو پھر حرفِ جر کو لے کر آتے ہیں، کس کو لے کر آتے ہیں؟ حرفِ جر کو، تو جس پر حرفِ جر داخل ہو جائے وہ بھی یاد رکھو ہمیشہ مفعول ہوتا ہے لیکن اسے کہتے ہیں مفعول بہ غیر صریح بھئی، کیا کہتے ہیں؟ بات سمجھ میں آئی بھئی کہ مشکل ہو گئی؟ جس پر حرفِ جر داخل ہو وہ بھی کیا ہوتا ہے دراصل؟ مفعول، فعل نے اس پر عمل کرنا تھا بھئی، فعل نے اس کے لیے عامل بننا تھا لیکن بعض اوقات فعل براہ راست عمل نہیں کر سکتا، اس کا ایک مفعول چاہیے ہوتا ہے وہ پہلے ہی آ چکا ہے، دوسرے کے اندر اب وہ نصب نہیں دے سکتا تو پھر کس کو ذریعہ بناتے ہیں؟ حرفِ جر کے ذریعے اس کو فعل کا معمول بنا دیتے ہیں، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو لمعنًى یہ بھی کیا ہے دراصل؟ مجرور ہے، اور مجرور کیا ہوا کرتا ہے دراصل؟ مفعول بہ، کیا کہلاتا ہے، پورا نام کیا ہے؟ مفعول بہ غیر صریح، تو لہٰذا یہ چونکہ مفعول بہ ہے اور مفعول بہ سے کیا آیا کرتا ہے؟ حال آیا کرتا ہے تو اس سے بھی حال بنا سکتے ہو اور وضع کی ہوا ضمیر جو نائب فاعل کی ہے اس سے بھی حال بنا سکتے ہو۔ اب سنو، ترکیب سنو بھئی۔ پہلے ہم اس کو وضع کی ہوا ضمیر سے حال بنائیں گے، دیکھیے بھئی: الكلمة ہوا مبتدا، لفظٌ ہوا موصوف بھئی، وضع فعل، ہوا ضمیر اس کے اندر نائب فاعل وہ ذوالحال بناؤ اسے، کیا بناؤ پہلے؟ ہوا ضمیر اس کے اندر ذوالحال بھئی، اس کو یہیں چھوڑ دو، آگے چلو: لام جارہ، معنًى مجرور، جار مجرور کس سے متعلق ہوئے؟ وضع فعل سے۔ اب ہم پہنچے مفرداً تک بھئی، مفرداً منصوب لفظاً صیغہ اسم مفعول، اور اسم مفعول کے لیے کیا چاہیے؟ نائب فاعل، تو اس کے اندر ہوا ضمیر ہے، اب اس ہوا ضمیر کو ہم کس کی طرف لوٹائیں گے؟ اس کو مفرداً کو ہم کس سے جوڑ رہے ہیں؟ حال کو کس سے جوڑا جاتا ہے؟ ذوالحال سے، تو اس کے اندر جو ہوا ضمیر ہے وہ کس کو راجع ہے؟ ذوالحال کو، کس کو راجع ہے؟ یوں نہ کہو ہوا ضمیر ہوا ضمیر کو راجع ہے، آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا، تعبیر بدل دو: ہوا ضمیر ذوالحال کو راجع ہے، کس کو راجع ہے؟ وہ جو بھی ہو اس سے بحث نہیں، بس یہ دیکھو مطابقت ہے یا نہیں، ہوا وہاں بھی تھا، وہ بھی کیا تھا؟ واحد مذکر، یہاں بھی ہوا ہے، یہ بھی کیا ہے بھئی؟ واحد مذکر، معلوم ہوا ضمیر اور مرجع کے اندر کیا آ گئی بھئی؟ مطابقت آ گئی بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو مفرداً اسم مفعول اپنے نائب فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر حال، ذوالحال جو تھا مولانا، وضع کے اندر جو ضمیر تھی، وہ ذوالحال اپنے حال سے مل کر یہ نائب فاعل ہوا کس کے لیے؟ فعل کے لیے، فعل اپنے نائب فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ، باقی ترکیب اسی طرح ہے، فعل اپنے نائب فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر صفت ہوئی لفظٌ کی، موصوف اپنے صفت سے مل کر خبر، مبتدا اپنی خبر سے مل کر، ترکیب سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ چوتھی صورت یہ تھی کہ اس کو معنًى سے کیا بنائیں؟ ذوالحال بھئی، دیکھو: الكلمة مبتدا، لفظٌ موصوف، وضع فعل مجہول، ہوا ضمیر اس کے اندر اس کا نائب فاعل، جو راجع ہے لفظٌ کو، لام جارہ، معنًى اس سے ہم نے حال بنانا ہے، اس لیے ابھی اس کو مجرور نہ کہو، کیا کہو؟ یہ ہے ذوالحال، اعراب تو وہی ہوگا مجرور لفظ، مجرور تقدیراً، ہاں، تو یہ معنًى مجرور تقدیراً ذوالحال بھئی، مفرداً منصوب لفظاً صیغہ اسم، ترکیب مفرد جو صیغہ آ رہا ہے اس کی ترکیب چاہے منصوب ہو، مجرور ہو، جو بھی ہو ترکیب وہی کرنی ہے: مفرداً صیغہ اسم مفعول، اس کے اندر ہوا ضمیر نائب فاعل، کس کو راجع کریں گے اس دفعہ؟ کس کے حال بنا رہے ہیں؟ معنیٰ سے، جس سے شبہ جملہ کو جوڑ رہے ہو ضمیر بھی اسی کو راجع کریں گے، تو اس کے اندر جو ہوا ضمیر اب معنیٰ کو راجع، یعنی ذوالحال کو راجع بھئی، تو اسم مفعول اپنے نائب فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر حال، ذوالحال اپنے حال سے مل کر مجرور، جار اپنے مجرور سے مل کر متعلق ہوا فعل کے ساتھ، فعل اپنے، فعل اپنے نائب فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر صفت، موصوف صفت مل کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، ترکیبیں سمجھ میں آئیں؟ دیکھا، مفرداً کو ہم جس سے جوڑیں گے، اگر اس کو معنیٰ کی صفت بناؤ گے تو ضمیر معنیٰ کو راجع، اگر اس کو معنیٰ سے ہی حال بناؤ گے تو پھر بھی ضمیر کس کو راجع؟ معنیٰ کو۔ اگر آپ اس کو لفظٌ کی صفت بنائیں گے تو اس کے اندر ضمیر کس کو راجع؟ لفظٌ کو راجع ہے بھئی۔ اگر اس کو آپ وضع کی ہوا ضمیر سے حال بنائیں گے تو اس کی ضمیر بھی کس کو راجع ہوگی؟ ذوالحال اسی ضمیر کی طرف بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو جب لفظٌ سے حال بنایا، وضع کی ہوا ضمیر سے، تو ترجمہ کیسے ہوگا؟ کلمہ ایسا لفظ ہے کہ جسے وضع کیا گیا ہو کسی معنیٰ کے لیے اس حال میں کہ مفرد ہو، کون مفرد ہو؟ وہ لفظ بھئی، ہوا ضمیر کس کو راجع تھی؟ لفظ کو، اس حال میں کہ وہ لفظ کیا ہونا چاہیے؟ مفرد ہونا چاہیے، مرکب نہیں، اور اگر آپ اس کو حال بناؤ کس سے؟ معنیٰ سے، تو ترجمہ کیسے؟ جس کو وضع کیا گیا ہو کسی معنیٰ کے لیے اس حال میں کہ مفرد ہو، کون بھئی؟ وہ معنیٰ، اس حال میں کہ وہ معنیٰ کیا ہو؟ مفرد ہو بھئی۔ میں نے بتلایا صاحب کافیہ فرماتے ہیں کہ حال صرف فاعل سے آتا ہے یا مفعول سے، اور لفظٌ نہ فاعل بن رہا ہے نہ مفعول، وہ تو خبر بن رہا ہے، کیا بن رہا ہے؟ خبر بن رہا ہے۔ ہاں، علامہ ابن مالک جو ہیں بھئی، ابن مالک نحوی بڑے مشہور بھئی، تو ان کے نزدیک حال کسی بھی چیز کی ہیئت بتانے کے لیے آ سکتا ہے بھئی، تو ان کے نزدیک لفظٌ سے بھی اس کو حال بنانا صحیح ہے بھئی۔ ان کے مذہب میں بڑی وسعت آ گئی، صاحب کافیہ کے مذہب میں بڑی تکلیف ہو جاتی ہے بھئی، جگہ جگہ بڑی مشکل تاویل کرنی پڑتی ہے۔ آگے حال آ رہا ہوتا ہے اور جس سے حال بنانا ہے وہ نہ فاعل ہے اور نہ مفعول ہے، پھر اس کو کوئی نہ کوئی تاویل کر کے پھر فاعل یا مفعول بناتے ہیں پھر اس سے کیا بنا لیتے ہیں اس کو؟ حال بھئی، جبکہ ابن مالک کے مذہب کے مطابق کوئی تاویل کرنے کی ضرورت نہیں بھئی۔ ترکیب بھی سمجھ میں آئی یا نہیں بھئی؟ جو یہ مبتدی ہیں خصوصاً ان کو سمجھ میں آئی کچھ بھئی؟ چلو، ایک ضابطہ لکھ لو بھئی۔ کیا کہا تھا آپ نے؟ مفردٍ پڑھا، تو پھر مجرور کون ہے اس پورے جملے میں؟ معنیٰ مجرور ہے نا، اس پر حرفِ جر داخل ہوا ہے۔ پڑھ تو رہے ہو لِمَعْنًى لیکن لام جارہ ہے یا نہیں؟ یہ مجرور ہے، البتہ تقدیراً مجرور ہے، تو وہ بھی مجرور آیا اس کی صفت بن گئی بھئی، صفت بنے گی۔ اچھا بھئی، ضابطہ میں نے بتایا: جار مجرور کا متعلق اگر محذوف ہو تو وہ کیا کہلاتا ہے؟ ظرفِ مستقر۔ یاد رکھو، یہ ظرفِ مستقر کلامِ عرب میں صرف چار جگہ آتا ہے۔ ظرفِ مستقر چار جگہ آتا ہے: نمبر ایک: خبر، صفت، حال اور صلہ۔ حال اور صلہ، حال اور صلہ۔ ظرفِ مستقر جب بھی آئے گا آپ دیکھیں گے ان چار جگہوں میں سے کوئی جگہ ہے، وہ ظرفِ مستقر یا تو خبر بن رہا ہوگا مبتدا کی یا وہ ظرفِ مستقر کیا بن رہا ہوگا؟ صفت بن رہی ہوگی، صفت بنے گا، یا وہ ظرفِ مستقر حال بنے گا یا صلہ بنے گا بھئی، صلہ۔ چلیے، بس مولانا، ھٰذا ھو المرام واللہ اعلم۔ الحمد للہ رب العالمین۔ بھئی، یہ آپ کے ایک ساتھی نے بھی رقعہ لکھا ہے، کہہ رہے ہیں کہ میں بڑا سخت بیمار ہوں، دعا کریں: اے اللہ! ان کو شفا نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کو مکمل شفا نصیب فرما۔ اے اللہ! شفائے کاملہ عاجلہ نصیب فرما۔ اے اللہ! اور بھی جتنے بیمار ہیں اللہ ان سب کو بھی شفا نصیب فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں اللہ سب کی تمام تکالیف اور پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! یہ تو چھوٹی سی ہماری جماعت ہے، اے اللہ! سب کی حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! آپ کے خزانے تو بڑے وسیع ہیں، اے اللہ! ہماری اس چھوٹی سی جماعت سب کی حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! سب کی مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! سب کی پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! جس کی تحصیلِ علم میں کوئی رکاوٹ ہے اے اللہ! ان رکاوٹوں کو دور فرما۔ اے اللہ! جن کے گھروں میں کوئی پریشانی ہے اس پریشانی کو دور فرما۔ اے اللہ! اطمینان اور سکون نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کے ان پر گھروں پر اور ان پر اے اللہ! سکینہ نازل فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اور بھی کبار ساتھیوں نے آپ کے دعاؤں کے لیے کہا ہے، آپ کے ایک ساتھی بڑے پریشان تھے، دعا فرمائیں: اللہ ان کی پریشانی، اے اللہ! ان کی پریشانی دور فرما۔ اے اللہ! ان کی مشکل بھی حل فرما۔ اے اللہ! اور بھی بہت سے احباب نے دعاؤں کا کہا ہے، اللہ سب کی پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! آپ تو علیم الغیب ہیں، سب کو جانتے ہیں، اے اللہ! ان کی حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ صلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیرِ خلقہٖ۔