درس نمبر۔ 13 عَدَلْتَ فِي حُكْمِكَ۔ لکھ لیا بھئی؟ عَدَلْتَ فِي حُكْمِكَ۔ جی کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی کیجیے بھئی۔ عدلت فعل بافاعل۔ شاباش، تا ضمیر مرفوع محلاً فاعل۔ فی جارہ۔ حکمی مضاف۔ اعراب؟ مجرور لفظاً۔ شاباش، حکمی مجرور لفظاً بھئی، مجرور کیوں کہا؟ اس پہ حرف جر داخل ہوا۔ لفظاً کیوں کہا؟ تلفظ ہو رہا ہے۔ کس چیز پر تلفظ؟ کسرہ پہ تلفظ، کیسے؟ کر کے دکھاؤ۔ حکمی، جی میم پہ کسرہ آ رہا ہے، جی۔ مجرور لفظاً، مضاف۔ آپ کو کیسے پتہ چلا یہ مضاف ہے اور آگے مضاف الیہ ہے بھئی؟ جس اسم کے ساتھ بھی ضمیر متصل ہو مضاف مضاف الیہ والی ترکیب ہوگی۔ تو حکمی مجرور لفظاً مضاف۔ کاف ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ۔ کاف ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ بھئی، محلاً کیوں کہا آپ نے؟ ضمیر مبنیات میں سے ہے۔ مجرور کیوں کہا آپ نے؟ مضاف الیہ مجرور ہوا کرتا ہے، شاباش، جی۔ مضاف مضاف الیہ سے مل کر مجرور ہوا فی جارہ کے لیے۔ جی، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مجرور ہوا فی جارہ کے لیے۔ جار اپنے مجرور سے مل کر متعلق ہوئے عدلت سے۔ شاباش، جار اپنے مجرور سے مل کر فعل کے ساتھ متعلق ہوئے بھئی۔ عدلت فعل، عدلت فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ شاباش، فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ روانی سے پڑھیے بھئی۔ عَدَلْتَ فِي حُكْمِكَ، شاباش۔ ترجمہ بھئی۔ تو نے فیصلہ کیا، عدل کیا۔ تو نے عدل کیا، تو نے عدل کیا فِي حُكْمِكَ اپنے فیصلے میں۔ عَدَلْتَ فِي حُكْمِكَ، عدل کیا آپ نے فِي حُكْمِكَ اپنے فیصلے میں۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ کیا ہے؟ یہ کیا ہے بھئی؟ کیا لگی ہے؟ اچھا۔ اگلا جملہ لکھیے بھئی۔ الشَّمْسُ فِي السَّمَاءِ، فِي السَّمَاءِ۔ جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ چلیے جی، کیجیے۔ الشمسُ مرفوع لفظاً مبتدا۔ شاباش، الشمسُ مرفوع لفظاً مبتدا۔ فی جارہ، السماءِ مجرور، کون سا مجرور؟ مجرور لفظاً، مجرور کیوں کہا آپ نے؟ حرف جر داخل ہوا اور لفظاً کیوں کہا؟ تلفظ کر کے دکھائیں بھئی۔ السماءِ، دیکھا ہمزہ پہ کیا آ رہا ہے؟ کسرہ۔ معلوم ہوا یہ لفظاً ہے بھئی، جی۔ جار مجرور مل کر یہ متعلق ہوئے ثبت سے۔ جار مجرور مل کر متعلق بھئی دیکھو، اب اس جملے کے اندر نہ کوئی مصدر ہے، نہ اسم فاعل ہے، نہ اسم مفعول ہے، نہ صفت مشبہ ہے، نہ اسم تفضیل ہے، نہ مبالغے کا صیغہ ہے اور نہ اسم فعل ہے۔ تو اب محذوف نکالنا پڑے گا۔ کیا نکالا محذوف آپ نے؟ ثبت نکالا، اور کیا نکال سکتے ہیں؟ بس ثبت سے ہی رکھیں، وہ میں نے آپ کو بتا دیا وہ آپ ذہن میں رکھیں، ثبت نکال سکتے ہیں اور کیا بھئی؟ ثابتۃٌ اسم فاعل بھی نکال سکتے ہیں، جی۔ ثبت فعل اور ہوا ضمیر اس کے اندر، ہوا ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً۔ ثبت فعل، ہوا ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل۔ ہوا ضمیر راجع ہے الشمس مبتدا کی طرف۔ ہوا ضمیر راجع کر رہے ہیں یہ الشمس کی طرف۔ یاد رکھو، الشمس کا لفظ عربی میں مؤنث سماعی ہے بھئی۔ یعنی عربوں سے ہم نے سنا ہے، وہ اس کو مؤنث استعمال کرتے ہیں۔ اردو میں بھی اسی طرح بعض لفظوں کو ہم مذکر استعمال کرتے ہیں، بعض کو ہم مؤنث استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں یہ کتاب میری ہے، یہ کتاب میری ہے اور جب قلم کی بات آتی ہے تو میں کہتا ہوں یہ قلم میرا ہے۔ تو کتاب کے لیے میں نے میری کا لفظ استعمال کیا، قلم کے لیے میرا کا لفظ۔ معلوم ہوا اردو میں کتاب مؤنث ہے اور قلم مذکر ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اسی طرح عربی کے اندر شمس کا لفظ مؤنث استعمال ہوتا ہے۔ تو جب یہ مؤنث ہوا تو ضمیر بھی کون سی چاہیے ہمیں؟ مؤنث والی چاہیے بھئی۔ ثبتت۔ شاباش، تو اس کے لیے وہ صیغہ بنا لو اس کے مطابق، ضمیر کے مطابق بھئی۔ تو ثبتت بھئی فعل نکالیں گے اور اس کے اندر ہیا ضمیر مرفوع محلاً فاعل جو کس کو راجع؟ الشمس کو بھئی۔ فعل اپنے فاعل اور اپنے متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر خبر ہوئی الشمس مبتدا کی۔ شاباش، تو انہوں نے ضمیر کو شمس کی طرف لوٹا دیا اور یہی عائد ہے، اس نے ربط دے دیا۔ تو فعل اپنے فاعل اور متعلق یہ جو جار مجرور ہیں ان سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر خبر ہوئی مبتدا کے لیے۔ مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ روانی سے پڑھو اس کو بھئی۔ الشَّمْسُ فِي السَّمَاءِ۔ ترجمہ کیجیے۔ سورج آسمان میں، سورج آسمان میں ہے۔ سورج آسمان میں ہے یا ترکیب کے مطابق کرتے ہیں، تو سورج کے ثابت ہے وہ آسمان میں۔ اچھا بھئی، اب بھئی ذرا یہ تو ہم نے فعل نکالا، اسم نکال کر کرو ترکیب۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے، کس سے متعلق ہوں گے؟ ثابتۃٌ اسم فاعل سے، اور ثابتۃٌ اسم فاعل کے لیے ہمیں کیا چاہیے؟ فاعل، تو وہ اسی کے اندر ضمیر ہے، ثابتۃٌ ہیا، اور وہ ضمیر کس کو راجع؟ الشمس کو، وہ عائد ہے بھئی۔ تو اسم فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر کیا بنے گا؟ شبہ جملہ۔ فعل تھا تو وہ جملہ بن گیا تھا اور اسم فاعل نکالا تو یہ کیا بنے گا؟ شبہ جملہ ہے بھئی، یہ خبر ہوئی بھئی۔ ترجمہ وہی۔ اچھا بھئی، اگلا جملہ لکھیے، لکھیے۔ اليَوْمَ طَبَخْتُ، طا کے ساتھ بھئی، طبخ یطبخ، اسی سے مطبخ ہے بھئی۔ اليَوْمَ طَبَخْتُ طَعَامًا، طَعَامًا لَذِيْذًا، لَذِيْذًا۔ جی، کون کرے گا ترکیب اس کی؟ جس کو ترکیب نہ آتی ہو بھئی ہاتھ اٹھائیں بھئی۔ چلیے جی، آپ کیجیے بھئی۔ الیومَ مبتدا۔ الیومَ مبتدا بھئی؟ بھئی یاد رکھو، یہ جو بھی لفظ اب شروع میں آ جائے اسے آنکھیں بند کر کے مبتدا نہیں بنانا بھئی۔ آپ کو پتہ تو چل گیا کہ مبتدا آتا ہے پھر اس کی خبر آتی ہے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہو جاتا ہے ظرف شروع میں آ جاتا ہے بھئی، یا مثلاً مفعول بہ کو فعل پر کیا کر دیا کرتے ہیں؟ مقدم کر دیتے ہیں۔ تو آپ کہیں گے، لو بھئی شروع میں اسم آیا، بس آنکھیں بند کیں اور ترکیب کیا شروع کر دی؟ مبتدا۔ تھوڑا اس کے معنیٰ میں بھی غور کرو۔ الیوم کیا واقع ہوتا ہے کلام کے اندر عموماً بھئی؟ ظرف بنتا ہے، معلوم ہوا ظرف پہلے آ رہا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ظرف بھئی، مفعول فیہ پہلے آ رہا ہے۔ تو یہ مقدم بھی آ سکتا ہے، مؤخر بھی آ سکتا ہے بھئی۔ الیوم مفعول فیہ مقدم۔ اعراب؟ مفعول فیہ منصوب لفظاً۔ شاباش، دیکھا بھئی۔ اب یہ یاد رکھنا ہے آپ نے، کبھی کبھار مفعول فیہ اور مفعول بہ کیا ہو جایا کرتے ہیں؟ مقدم ہو جاتے ہیں بھئی، تو اس پہ اس پر بھی اب آپ نے نظر رکھنی ہے۔ الیومَ منصوب لفظاً مفعول فیہ مقدم، شاباش۔ طبخ فعل۔ بھئی، سب سے پہلے یہ بتائیں آپ نے منصوب کیوں کہا؟ مفعول جو ہوتا ہے وہ منصوب ہوتا ہے۔ ہاں، مفعول فیہ ہے وہ ظرف ہے، منصوب ہوتا ہے۔ لفظاً کیوں کہا؟ تلفظ ہو رہا ہے الیوم پہ۔ کس چیز پہ تلفظ ہو رہا ہے؟ الیومَ میم پر نصب ہم پڑھ رہے ہیں، تلفظ کر رہے ہیں، جی۔ طبخ فعل۔ طبخ فعل، بس پورا ہی جوڑ دیا کرو، طبختُ فعل بافاعل یوں کہہ دیا کرو۔ فعل بافاعل بھئی، فاعل کون ہے اس کے اندر؟ تا ضمیر اس کے اندر مرفوع اس کا فاعل۔ تا ضمیر مرفوع، کون سا بھئی؟ مرفوع لفظاً۔ مرفوع لفظاً؟ مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ کیونکہ یہ فاعل ہے۔ کیونکہ یہ فاعل ہے اور فاعل مرفوعات میں سے ہے، شاباش۔ یہ پھر لفظاً کیوں کہا آپ نے؟ محلاً ہے کیونکہ ضمیر ہے۔ یہ محلاً ہوگا، شاباش، ضمیر ہے، تو ضمیر ہے تو کیا ہوا؟ محلاً مرفوع ہوا۔ ضمیر ہے تو محلاً کیوں کہہ رہے ہو، کیا وجہ ہے؟ ہاں، مبنیات میں سے ہے ضمیر، یوں پوری بات کیا کرو۔ تو یہ مرفوع محلاً فاعل ہے، آگے۔ طعاماً موصوف۔ موصوف؟ اعراب سب سے پہلے بتاؤ۔ طعاماً منصوب۔ طعاماً منصوب لفظاً موصوف۔ منصوب لفظاً بھئی، کیا ہے منصوب؟ بھئی منصوب کیوں کہا؟ کیونکہ یہ مفعول ہے۔ کیونکہ یہ مفعول بنے گا بھئی، شاباش۔ معنیٰ پہ غور کرتے جائیں وہیں سے آپ کو اندازہ ہوتا چلا جائے گا۔ مفعول ہے بھئی، اور لفظاً کیوں کہا؟ نصب کا ہم کیا کر رہے ہیں؟ تلفظ کر رہے ہیں۔ تو طعاماً کہو بھئی، یہاں کوئی مانع تنوین موجود ہے؟ تنوین کب گرتی ہے؟ جب الف لام کلمے پر آ جائے، تنوین گر جاتی ہے جیسے الیومَ، اس پر اب تنوین نہیں آ سکتی، الف لام آیا۔ اسی طرح اگر مضاف ہو، آگے مضاف الیہ آ رہا ہو پھر بھی تنوین گر جاتی ہے۔ یا مثلاً وہ غیر منصرف ہو پھر بھی تنوین اس پر نہیں آتی۔ تو نہ تو اس پر الف لام ہے، نہ اس سے آگے کوئی مضاف الیہ ہے، نہ یہ غیر منصرف ہے، تو کیا پڑھو اس پر؟ تنوین پڑھو بھئی تنوین پڑھو۔ طعاماً منصوب لفظاً۔ طعاماً منصوب لفظاً مفعول۔ مفعول، جی۔ لذیذاً مفعول ثانی۔ مفعول ثانی بھئی، کیوں؟ کیونکہ یہ طبختُ فعل کا ہے، مفعول ثانی بن جائے گا۔ بھئی، میں نے ایک ضابطہ لکھوایا تھا، یاد ہے؟ کون سا ضابطہ؟ نکرہ کے بعد نکرہ آئے تو عموماً کیا بنیں گے؟ تو سب سے پہلے یہ دیکھا کرو یہ موصوف صفت تو نہیں بن رہے آپس میں؟ ہاں، طعاماً موصوف بھئی، منصوب لفظاً موصوف۔ لذیذاً اس کی صفت۔ لذیذاً اس کی صفت، اعراب بتاؤ بھئی۔ منصوب لفظاً۔ منصوب لفظاً، منصوب کیوں کہا آپ نے؟ موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے، جی۔ اور لفظاً کیوں کہا؟ نصب کا تلفظ کر رہے ہیں۔ کیسے تلفظ کر رہے ہو؟ طعاماً لذیذاً۔ لذیذاً، دیکھا تلفظ کر رہے ہیں نصب پر ہم بھئی۔ تو یہ منصوب لفظاً۔ لیکن یہ تو آ گیا بھئی، صیغہ کون سا؟ کون سا صیغہ آیا؟ صفت مشبہ آ گئی۔ پوری ترکیب کریں بھئی۔ صفت کے صیغوں کا خاص خیال رکھنا ہے آپ نے، ان کی پوری ترکیب کرنی ہے بھئی۔ لذیذاً صفت مشبہ۔ لذیذاً منصوب لفظاً صفت مشبہ۔ اس کے اندر ہیا ضمیر اس کا فاعل۔ اس کے اندر ہیا ضمیر اس کا فاعل، اعراب بتاؤ۔ ہیا ضمیر مرفوع، مرفوع کون سا مرفوع؟ مرفوع محلاً اس کا فاعل، جی۔ اسم صفت مشبہ اپنے، یہ صفت مشبہ بھئی۔ صفت مشبہ اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر، اوہو، صفت مشبہ ہے، فعل نہیں ہے، جملہ کیوں بنا رہے ہو؟ یہ شبہ جملہ ہو کر، شبہ جملہ ہو کر صفت ہوئی کس کے لیے؟ طعاماً کے لیے۔ بھئی، آپ نے شبہ جملہ کو صفت بنایا طعام کی، معلوم ہوا آپ نے اسے جوڑ دیا طعام موصوف کے ساتھ، اور ربط کوئی بھی نہیں بتایا۔ بغیر ربط کے کیسے جڑ سکتے ہیں یہ؟ جملہ بھی بغیر ربط کے نہیں جڑے گا، شبہ جملہ بھی بغیر ربط کے نہیں جڑے گا۔ ہیا ضمیر۔ ہیا ضمیر، جی، وہ کیا ہے؟ طعام کی طرف۔ طعام کی طرف انہوں نے ہیا ضمیر لوٹائی بھئی، ضمیر اور مرجع میں مطابقت ہے؟ نہیں، طعام کا لفظ ہے مذکر، کوئی علامت تانیث ہے؟ طعام کے ساتھ تا بھی نہیں ملی ہوئی، گول تا، اور الف ممدودہ یا الف مقصورہ بھی نہیں بھئی۔ پھر کیسے آپ ہیا ضمیر لوٹا رہے ہیں؟ متعلق ہوئے طبخ فعل کے۔ جی؟ کس کو متعلق کر رہے ہو؟ کس چیز کے ساتھ؟ ہیا ضمیر کو فعل کی جانب کیوں لوٹا رہے ہو؟ اس کو جوڑنا آپ نے طعام سے ہے، آپ اب اس کو جوڑ رہے ہو فعل کے ساتھ۔ ہوا ضمیر۔ اب ہوا ضمیر نکال لی بھئی۔ پہلے اسی میں ہیا نکال رہے تھے، اب ہوا بھئی۔ بھئی، ہیا ضمیر تو تب نکالتے اگر کیا ہوتی؟ مؤنث، لذیذۃٌ بھئی، تا آ رہی ہوتی پھر آپ کیا کرتے؟ ہیا ضمیر، تو اب کون سی نکالنی چاہیے تھی آپ کو؟ شروع سے ہی ہوا ضمیر نکالتے اور اس کو لوٹاتے طعام کی طرف، تو ضمیر مرجع میں مطابقت ہے بھئی۔ وہ بھی واحد مذکر، ضمیر بھی واحد مذکر کی، جی۔ موصوف اپنی صفت سے مل کر یہ مفعول ہوا فعل کے لیے۔ شاباش، موصوف اپنی صفت سے مل کر یہ مفعول ہوا فعل کے لیے، جی۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ مقدم اور اپنے مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ شاباش، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ اور مفعول فیہ، ساری چیزیں سمیٹ دو، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ اب اس کو ذرا روانی سے پڑھو۔ اليَوْمَ طَبَخْتُ طَعَامًا لَذِيْذًا۔ اليَوْمَ طَبَخْتُ طَعَامًا لَذِيْذًا، ترجمہ کیجیے۔ آج میں نے لذیذ کھانا بنایا۔ ہاں، آج پکایا میں نے ایسا کھانا جو لذیذ تھا، یا اردو میں صفت کو کیا کر دیتے ہیں موصوف پر؟ مقدم، آج میں نے پکایا لذیذ کھانا، آج میں نے لذیذ کھانا پکایا۔ اچھا بھئی، ایک اور ضابطہ لکھ لیجیے۔ بڑا اہم ضابطہ۔ ایک ضابطہ تو میں نے آپ کو پہلے لکھوایا تھا کہ نکرہ کے بعد فعل آ جائے تو وہ عموماً کیا بنا کرتا ہے؟ وہ اس نکرہ کے لیے صفت بنتا ہے، جملہ فعلیہ ہو کر اس کے لیے، لہٰذا وہاں عائد بھی چاہیے۔ اسی طرح یاد رکھو اگر نکرہ کے بعد جار مجرور آ جائیں، اگر نکرہ کے بعد جار مجرور آ جائیں تو وہ بھی عموماً اس نکرہ کے لیے صفت بن جاتے ہیں، تو وہ بھی عموماً اس نکرہ کے لیے صفت بن جاتے ہیں۔ ضابطہ سمجھ میں آیا بھئی؟ نکرہ کے بعد کیا آ جائے؟ جار مجرور آ جائے تو وہ عموماً اس کے لیے کیا بنیں گے؟ صفت بنیں گے۔ اچھا، اور اگر یہ جار مجرور معرفہ کے بعد آ جائیں، اور اگر یہ جار مجرور معرفہ کے بعد آ جائیں تو یہ عموماً اس کے لیے حال بنیں گے، تو یہ عموماً اس کے لیے حال بنیں گے۔ سمجھ میں آیا بھئی ضابطہ؟ تو اگر جملے میں فعل بھی آ رہا ہے، یا مصدر بھی کوئی آ رہا ہے اور پھر ایک نکرہ ہے اور اس نکرہ کے بعد جار مجرور ہے تو کیا کریں گے بھئی؟ آپ خود بنا کر دیکھ لینا کہ یہ صفت بن رہا ہے، صفت کی بھی کوشش کر لینا اور اگر صفت نہیں بن رہا تو پھر دیکھنا فعل سے جڑ رہا ہے، ترجمہ صحیح ہو رہا ہے یا مصدر سے جوڑ کر دیکھیں کس کے ساتھ ترجمہ صحیح ہو رہا ہے؟ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ اب آپ نے خود غور کر کے بنانا ہے ایک ایک جملے میں بھئی۔ جی، جَاءَنِي، جَاءَنِي رَجُلٌ، رَجُلٌ مِنْ مَكَّةَ، مِنْ مَكَّةَ، مِنْ مَكَّةَ، مِنْ مَكَّةَ۔ جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جنہیں نہ آتی ہو بھئی وہ ہاتھ اٹھائیں بھئی۔ جی، کیجیے آپ بھئی۔ جاء فعل۔ نون وقایہ کا۔ یا ضمیر مفعول بہ۔ یا ضمیر مفعول بہ، اعراب بتائیے بھئی۔ تینوں حالتوں میں تقدیری۔ ہاں بھئی، کیوں تقدیری ہوگا؟ وجہ بھی ذکر کرو، یہ سولہ قسموں میں سے کون سی قسم ہے؟ سولہ قسموں میں سے۔ سولہ میں سے نہیں ہے تو تقدیری اعراب تو ان سولہ کے علاوہ کہیں آتا ہی نہیں ہے بھئی۔ لفظی بھی انہی میں آتا ہے، تقدیری بھی انہی میں آتا ہے، ان سے خارج ہے تو معلوم ہوا معرب ہے ہی نہیں، ان سے خارج ہے تو معلوم ہوا معرب ہے ہی نہیں، تو پھر کیا کہیں گے اس کو؟ یہ ہے مبنی، مبنی کا اعراب کیسے ہوتا ہے؟ جی؟ محلاً۔ سبق میں باقاعدگی سے آ رہے ہو کہ کبھی کبھی آتے ہو؟ چلو شاباش، باقاعدگی سے آ رہے ہو تو آج دماغ پہ بوجھ تھوڑا پڑا، انشاءاللہ اب نہیں بھولے گا۔ ضمیر کس میں سے ہے؟ مبنیات میں سے، اور مبنی کا اعراب کیسے ہوتا ہے؟ محلاً، تینوں حالتوں میں مرفوع بھی ہوگا محلاً، منصوب بھی محلاً، مجرور بھی محلاً، جی۔ اب بتائیے بھئی، یا ضمیر مفعول بہ ہے، تو اعراب؟ محلاً تو ہو گیا، مجرور ہے، مرفوع ہے، منصوب ہے؟ منصوب محلاً، کیونکہ یہ کیا واقع ہو رہی ہے؟ مفعول، مفعول منصوب ہوا کرتا ہے بھئی۔ آگے۔ رجلٌ فاعل۔ اعراب؟ مرفوع لفظاً۔ مرفوع کیوں کہا؟ شاباش، اس نے فاعل بننا ہے، فاعل مرفوع ہوتا ہے۔ لفظاً کیوں کہا؟ کس چیز پر؟ رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں رجلٌ، جی شاباش۔ من جارہ۔ من جارہ، آگے کیا ہے؟ مکتَ، جی۔ مجرور۔ مجرور، کیوں مجرور ہے؟ پہلے تو وجہ بتاؤ۔ من داخل ہوا جارہ۔ من داخل ہوا جارہ، آگے اور کون سا مجرور ہے؟ جی؟ مجرور ہے تقدیراً، کیوں بھئی؟ سولہ قسموں میں سے یہ کون سی قسم ہے؟ غیر منصرف ہے، ایک اس میں تانیث ہے، تا، اور ایک علمیت ہے، نام ہے شہر کا بھئی، سمجھ میں آیا؟ اچھا، تو یہ غیر منصرف ہے اور غیر منصرف کا اعراب حالتِ رفعی میں کس کے ساتھ آتا ہے؟ ضمہ کے ساتھ اور حالتِ نصبی، جری میں فتحہ کے ساتھ۔ کسی نے وہاں کہا ہے کہ تقدیری ہے؟ جی؟ کسی کتاب میں لکھا ہو ساتھ تقدیری ہوتا ہے؟ بھئی، یہ اس کا کسرہ ہے جو کس کی صورت میں آ رہا ہے؟ فتحہ کی صورت میں، تو یہ کسرہ لفظی کہو بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ مجرور ہے، کس، کیا کہو گے؟ لفظی کہو لفظی، مجرور لفظاً بھئی لفظاً۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ثبت فعل سے۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوں گے، انہوں نے کہا ثبت فعل سے۔ میں نے کہا اگر جملے کے اندر فعل وغیرہ موجود ہیں تو پہلے ان سے جوڑنے کی کوشش کرو، اگر نہیں جڑتا یا اگر جڑتا بھی ہے پھر اس کے ساتھ بھی جوڑو اور صفت بھی بنا کر دیکھو۔ صفت ابھی چند دن اور مشق کریں گے دیکھنا آپ ایک ایک سیکنڈ میں آپ سوچتے ہی فوراً صفت بنا لیں گے اور ترجمہ بھی کر لیں گے جب آپ کو مشق ہو جائے گی۔ تو آپ اس کو کس سے جوڑ رہے ہیں؟ ثبت سے، حالانکہ جملے میں کیا موجود ہے؟ فعل۔ تو اب دو احتمال آ گئے، پتہ نہیں یہ کس میں سے ہے، یہ نکرہ کے بعد جار مجرور آیا اور نکرہ کے بعد جار مجرور آئے تو کیا بنتے ہیں اس کے لیے؟ تو پتہ نہیں اب یہ صفت بنے گا یا یہ براہ راست کس سے جڑ جائے گا؟ فعل سے۔ دونوں کا ترجمہ کرو بھئی۔ فعل سے پہلے جوڑو بھئی، جڑتا ہے یا نہیں بھئی؟ جی؟ نہیں جڑتا، کیسے؟ جاءنی یہ ہے متعلق اور متعلق کون ہے؟ من مکت، جاءنی من مکت، اب ترجمہ کرو۔ آیا میرے پاس مکہ سے، جڑ رہا ہے یا نہیں جڑ رہا؟ جڑ رہا ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جب جڑ رہا ہے آسان ہے، اسی سے جوڑ دو بھئی۔ تو جار مجرور مل کر کس سے متعلق ہوئے؟ فعل کے ساتھ متعلق ہو گئے، فعل۔ فعل اپنے فاعل اور متعلق، ساری چیزیں سمیٹو بھئی۔ موصوف صفت تو بنایا ہی نہیں یہاں۔ نہیں، فاعل اور متعلق، ایک چیز چھوڑ گئے آپ۔ ہاں، فعل اپنے فاعل، مفعول اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ پڑھیے ذرا بھئی جملے کو روانی سے۔ جاءنی، کیسے پڑھیں گے بھئی؟ جَاءَنِي رَجُلٌ مِنْ مَكَّةَ، سمجھ میں آیا؟ کیونکہ رجلٌ کے تنوین ہے اور تنوین نون ساکن ہوتی ہے اور اس کے بعد آ رہا ہے من کا میم اور یہ میم یرملون کے حروف میں سے ہے اور اس سے ان سے پہلے نون ساکن آئے تو اس کو بدل کر اسی کی جنس سے بدل کر اس میں ادغام کرتے ہیں، تو رَجُلٌ مِّنْ مَكَّةَ۔ جیسے مِنْ مَكَّةَ میں نے نہیں پڑھا، مِمَّكَّةَ پڑھا، کیوں پڑھا؟ کہ وہاں بھی مکہ کے میم سے پہلے کیا آیا نون، اس کو بھی میم سے بدل دیا، رَجُلٌ مِّمَّكَّةَ۔ ترجمہ کیجیے۔ آیا میرے پاس ایک آدمی مکہ سے، شاباش بھئی۔ جی اگلا جملہ لکھیے۔ أَكْرَمْتُ، أَكْرَمْتُ رَجُلًا، رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ، مِنْ قُرَيْشٍ۔ کون کرے گا ترکیب بھئی؟ ترکیب نہیں آتی آپ کو بھئی؟ چلیے کیجیے پھر۔ اکرمتُ فعل بافاعل۔ شاباش، اکرمتُ فعل بافاعل۔ فاعل کا بتلاؤ بھی بھئی۔ تا ضمیر مرفوع محلاً فاعل۔ تا ضمیر مرفوع محلاً فاعل۔ رجلاً مفعول۔ شاباش، دیکھا فاعل آ گیا، اب آگے منصوب ہی آئے گا یا مجرور، تو رجلاً منصوب، کون سا؟ منصوب لفظاً، شاباش۔ من جارہ۔ جی، اس کو کیا بنایا آپ نے رجلاً کو؟ منصوب لفظاً، کیا؟ بنایا کچھ نہیں بھئی؟ موصوف۔ شاباش، موصوف بھئی، کیونکہ نکرہ کے بعد آگے کیا آ رہے ہیں؟ جار مجرور۔ دیکھتے ہیں ابھی انہوں نے موصوف صحیح بنایا یا نہیں۔ موصوف، آگے چلیے۔ من جارہ، قریشٍ، بھئی پورا بتایا کرو۔ مجرور لفظاً، مجرور کیوں کہا آپ نے؟ من جارہ اس پہ داخل ہے، لفظاً کیوں کہا؟ قریشٍ کسرہ پہ تلفظ کر رہے ہیں تو مجرور لفظاً ہوا، شاباش۔ جار مجرور مل کر۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ثبت فعل کے ساتھ۔ آگے۔ ثبت فعل، ہوا ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، جو راجع ہے موصوف کو۔ شاباش، جو راجع ہے موصوف کو۔ ثبت فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر، کیا بنے گا پہلے؟ کیا بنانا ہے بھئی؟ کیا کہنا ہے؟ جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صفت ہوئی بھئی، اور یہ عائد بتلا چکے ہیں بھئی، جی۔ موصوف صفت مل کر یہ مفعول ہوئے فعل کے لیے۔ شاباش، موصوف صفت مل کر یہ مفعول ہوئے فعل کے لیے، جی۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ اب روانی سے پڑھو اس کو بھئی۔ أَكْرَمْتُ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ، أَكْرَمْتُ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ۔ اچھا، تو رجلاً کا جو نون ہے وہ بھی میم میں بدل کر میم میں ادغام ہوگا بھئی۔ اور یہ مِنْ قُرَيْشٍ، ثبت من قریش اس جملے کا اعراب کیا ہوگا؟ منصوب کیوں ہوگا؟ جی؟ وہ تو رجلاً بن رہا ہے مفعول۔ ہاں بھئی، ثبت من قریش کا اعراب کیا ہوگا؟ منصوب، کیونکہ یہ صفت بنایا آپ نے بھئی، اور صفت اور موصوف کا اعراب ایک ہوتا ہے، جی شاباش۔ اور محلاً ہوگا کیونکہ جملہ مبنی ہوتا ہے بھئی۔ اچھا، جی روانی سے پڑھ لیا آپ نے، ترجمہ کیجیے۔ ہاں، اکرمتُ، میں نے اکرام کیا ایسے آدمی کا، ثبت من قریش، جو قریش سے ثابت ہے یعنی قریشی ہے، قریش قبیلے میں سے ہے بھئی۔ معنیٰ سمجھ میں آیا بھئی؟ بھئی دیکھو، نکرہ کے بعد جار مجرور آیا، انہوں نے کیا بنایا اس کو بھئی؟ صفت بنایا۔ بھئی، فعل بھی تو موجود تھا، فعل سے آپ نے کیوں نہیں جوڑا؟ جی؟ ترجمہ نہیں صحیح ہو رہا۔ دیکھا، اب آپ کو پتہ چلتا جائے گا آہستہ آہستہ۔ اکرمتُ، جوڑ کر ذرا دیکھیں کیسے خراب ہوتا ہے معنیٰ۔ اکرمتُ یہ ہے متعلق، اس کو پکڑا، اور متعلق کون ہے؟ من قریش، اس کو پکڑا، کیا بن گیا؟ اکرمتُ من قریش، اب ذرا ترجمہ کرو، میں نے اکرام کیا قریش سے، کوئی بات بنتی ہے بھئی؟ کوئی معنیٰ ہی نہیں بنتا، میں نے اکرام کیا قریش سے۔ اِشْتَرَيْتُ، یا ٹھہریے، دوسرا جملہ لکھیے۔ أَنَا، أَنَا أَكْرَمْتُ، أَكْرَمْتُ رَجُلَانِ، رَجُلَانِ يَبْنِيَانِ، يَبْنِيَانِ، بنٰی یبنی کے معنیٰ ہوتے ہیں تعمیر کرنا، يَبْنِيَانِ مَسْجِد، مَسْجِد فِي بَلْدَتِي، بَلْدَتِي۔ دیکھا اب جملے ذرا طویل ہوتے چلے جائیں گے بھئی۔ بھئی، کون کرے گا ترکیب اس کی بھئی؟ نہیں بھئی، جن کو نہیں آتی وہ ہاتھ اٹھائیں بھئی۔ چلیے بھئی، آپ کیجیے جو درمیان میں بیٹھے ہیں بھئی۔ جی، آپ کو ترکیب نہیں آتی؟ تھوڑی بہت تو آتی ہے نا، تو ذرا ان کو کوشش کرنا، تو تھوڑا اور آگے جائیں گے پھر انشاءاللہ آپ سے کروا لیں گے۔ آپ کریں بھئی۔ أنا فاعل۔ أنا فاعل؟ بھئی، میں نے ضابطہ لکھوایا تھا، کیا ضابطہ تھا بھئی؟ اسی لیے تو یہ ضابطہ لکھوایا تھا کہ فاعل کبھی بھی فعل پر مقدم نہیں ہو سکتا بھئی، وہ تو پہلے فعل کہیں دکھے تو پھر بتاؤ۔ ہاں شاباش، أنا مبتدا، اعراب بھی بتا دو اس کا۔ مرفوع محلاً۔ مرفوع کیوں کہا؟ اور محلاً کیوں کہا؟ کس میں سے ہے؟ تو پھر؟ ہاں ضمیر مبنی ہوتی ہے یوں کہو، یہ مبنیات میں سے ہے، جی۔ أنا مرفوع محلاً مبتدا، آگے۔ اکرمتُ فعل بافاعل، اب اس میں فاعل بتا دو۔ تُو ضمیر اس کے اندر فاعل، اعراب بتاؤ بھئی۔ مرفوع محلاً۔ تُو ضمیر بھی کہہ سکتے ہو اور تا بھی کہہ سکتے ہو۔ تا ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً فاعل، آگے۔ رجلانِ مفعول بہ۔ اعراب؟ منصوب لفظاً بھئی۔ منصوب کیوں کہا؟ ہاں، یہ مفعول بنے گا شاباش، لفظاً کیوں کہا؟ کس چیز پر؟ ہاں، رجوع کر لیا اپنے قول سے فوراً بھئی۔ منصوب کون سا منصوب ہے بھئی؟ جی؟ ہاں، تینوں قول آ گئے اس میں۔ اس بارے میں ائمہ کے تین اقوال ہیں بھئی۔ چلو شاباش، کوشش کرو، کوئی بات نہیں، جب غلطی کے بعد اصلاح ہوتی ہے وہ پھر نہیں بھولتی بھئی۔ منصوب ہے، یہ تو بات پکی ہو گئی، کیونکہ نہ اس پر حرف جر داخل ہوا ہے اور نہ اس سے پہلے کوئی مضاف ہے، اور مرفوع یہ ہو نہیں سکتا، فاعل گزر چکا، اب منصوب ہی رہ گیا ایک۔ لفظاً بھئی، کیوں بھئی لفظاً کیوں کہا؟ تثنیہ ہے، جی۔ حالتِ رفعی کس کے ساتھ آئے گی؟ الف کے ساتھ۔ حالتِ نصبی جری کس کے ساتھ آئے گی؟ یا کے ساتھ بھئی۔ ہاں بھئی، کیا کریں یہاں پر؟ بھئی، اس نے تو منصوب ہونا ہے یہ بات طے ہو گئی، اور یہ تثنیہ ہے یہ بھی پتہ چل گیا، اور تثنیہ کا اعراب حالتِ رفعی میں الف کے ساتھ، حالتِ نصبی جری میں یا کے ساتھ، معلوم ہوا یہاں تو الف آ رہا ہے، معلوم ہوا کتابت کی غلطی ہے بھئی، کس کی غلطی ہے؟ ہاں غلطی کو بھی آپ نے عبارت میں پکڑنا ہے اسی طرح، یہ نہیں آنکھیں بند کر کے بھئی اس نے الف لکھا ہے اب میں نے کسی طرح اس کو کیا بنانا ہے؟ الف ہی رکھنا ہے۔ اور بھی کرتے جاؤ بھئی، کہیں کہیں ایسا عبارت میں غلطی آتی ہے، آپ کو اگر ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے، پتہ چل رہا ہے یہ مفعول بن رہا ہے، اس نے قطعی طور پہ مفعول بننا ہے پھر کہہ دو وہاں پہ یہ معلوم ہو کتابت کی غلطی ہے، جی۔ ہوگا اگرچہ بڑا قلیل ایسا ہوتا ہے بھئی، کہیں کہیں غلطی آ جاتی ہے۔ جی، تو کیا کہیں گے؟ شاباش، کیا آئے گا؟ رجلینِ آئے گا، کیونکہ تثنیہ ہے بھئی، تثنیہ جب آپ کو پتہ چل گیا فوراً اس کے اعراب کی طرف جاؤ، دیکھو بھئی کیا اعراب ہوتا ہے حالتِ نصبی میں، وہ بنا لو۔ تو یہ منصوب ہوا لفظاً، منصوب ہوا؟ کیونکہ حالتِ نصبی میں اعراب یا کے ساتھ ہے اور یا پہ ہم تلفظ کر رہے ہیں، ابھی بھی اس کو پڑھ رہے ہیں، رجلینِ۔ آگے۔ اچھا، رجلینِ کو کیا بنایا؟ مفعول بہ بنا دیا، اچھا، آگے۔ يبنيانِ فعل۔ بھئی، آگے فعل آ گیا تو پتہ چلا الگ جملہ شروع ہو گیا۔ کیا ہوا؟ فعل نے کیا بننا ہوتا ہے اپنے فاعل کے ساتھ مل کر؟ جملہ بننا ہوتا ہے، تو آگے معلوم ہوا الگ جملہ شروع ہو رہا ہے۔ الگ جملہ، لیکن میں نے تو آپ سے کہا تھا ایک ایک جملہ، میں تو لکھوا رہا ہوں ابھی تک میں نے کہیں دو جملے نہیں لکھوائے بھئی، معلوم ہوا الگ جملہ نہیں بنا سکتے ابھی آپ بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ الگ جملہ نہ بنائیں بھئی۔ بھئی، میں نے ضابطہ لکھوایا تھا، کیا ضابطہ تھا؟ نکرہ کے بعد فعل آ جائے تو موصوف صفت بنتے ہیں۔ چلیے بھئی، بس کرتے ہیں، وقت تو کافی زیادہ ہو گیا۔ تو یہ ترکیب بھئی پھر یاد رکھنا انشاءاللہ ہفتے کو آپ نے ہی کرنی ہے، اور خود ہی غور و فکر کر کے اس کو پورا کریں، کسی اور سے حل نہ کروائیں، غلط کریں لیکن خود کریں بھئی۔ اچھا، آئیے بھئی دعا بھی کر لیں۔ الحمد للہ رب العالمین۔ دعا کا طریقہ میں نے آپ کو بتایا، شروع میں الحمد للہ ہو، پھر اس کے بعد درود شریف ہو، پھر آخر میں بھی بھئی آمین اور درود شریف ہو، اس سے دعا قبولیت کے قریب ہو جاتی ہے بھئی۔ الحمد للہ رب العالمین، اللہم صل علی سیدنا۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! اس پڑھنے اور پڑھانے کو قبول فرما۔ اے اللہ! اس کو سب کے لیے نافع بنا۔ اے اللہ! سب کے لیے نافع بنا۔ اے اللہ! اس علم کو سب کے لیے آسان بنا دے۔ اے اللہ! عبارت کا پڑھنا اور ترجمہ کرنا ان تمام طلبہ کے لیے بے انتہا آسان فرما دے۔ اے اللہ! ان میں سے ہر ایک کو اے اللہ اس سے خیر کے چشمے جاری فرما۔ اے اللہ! ہر ایک کو بڑا مدرس بنا۔ اے اللہ! بڑا مدرس بنا۔ اے اللہ! نیک اور محنتی طلبہ نصیب فرما۔ اے اللہ! نیک اور محنتی طلبہ نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! جنہیں ہم جانتے ہیں جن گناہوں کو، انہیں بھی معاف فرما۔ اے اللہ! جو ہمارے علم میں نہیں ہیں اے اللہ انہیں بھی معاف فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں اے اللہ ان میں سے کوئی بیمار ہو یا گھروں میں کوئی بیمار ہو سب کو شفا نصیب فرما۔ اے اللہ! سب کو شفا نصیب فرما۔ یہ آپ کے بعض ساتھیوں نے بھی لکھا ہے بھئی، ایک ساتھی ہیں ان کے والد صاحب بیمار ہیں، فالج ہوا ہے، ان کے لیے بھی دعا کرو، اے اللہ انہیں صحت اور عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ! انہیں جلد سے جلد مکمل صحت نصیب فرما۔ اے اللہ! اس پریشانی اور تکلیف کو اور بیماری کو دور فرما۔ اے اللہ! اطمینان اور سکون نصیب فرما۔ ایک اور ساتھی نے بھی آپ کے لیے آپ سے دعاؤں کی درخواست لکھی ہے بھئی، دعا کریں، اے اللہ ان کے بیمار کو بھی شفا نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کے بیمار کو بھی شفا نصیب فرما، مکمل صحت نصیب فرما۔ اے اللہ! جتنے بیمار ہیں اللہ سب کو شفا نصیب فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! تمام پریشانیاں دور فرما۔ اور بھی بہت سے لوگوں نے دعاؤں کا کہا ہے، اے اللہ ان سب کی پریشانیاں بھی دور فرما۔ اے اللہ! ان کی حاجات بھی پوری فرما۔ اے اللہ! ہمارے جو اساتذہ ہم سے رخصت ہو چکے جن کا انتقال ہوا، اے اللہ ان سب کی قبروں کو منور فرما۔ اے اللہ! ان کی لغزشوں سے درگزر فرما۔ اے اللہ! ان کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! ہمارے اساتذہ اور ان کے اساتذہ اور ان کے اساتذہ کے اساتذہ، اے اللہ جتنے بھی ہیں اوپر تک سلسلہ، یا اللہ سب کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! سب کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! ان کے علوم میں سے ہمیں بڑا حصہ نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں ان علوم پر چلنے والا بنا۔ اے اللہ! ہمارے قلوب منور فرما۔ اے اللہ! ہمارے سینے کو علوم کے لیے کھول دے۔ اے اللہ! علوم، اے اللہ قوی حافظہ نصیب فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں اللہ سب کو قوی حافظہ نصیب فرما۔ اے اللہ! سب کو قوی حافظہ نصیب فرما۔ اے اللہ! جو ہمارے اساتذہ زندہ ہیں اللہ ان کو بھی خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کی تکالیف اور پریشانیوں کو بھی دور فرما۔ اور اے اللہ! جو اساتذہ وفات پا چکے ان کے جو اہل خانہ، اولاد وغیرہ زندہ ہیں ان کو بھی خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ! ان سب کو بھی اور جتنے حاضرین ہیں اللہ سب کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! میرے تلامذہ میں سے کوئی بھی اللہ کسی کو بھی رزق کے مسئلے میں پریشان نہ فرما۔ اے اللہ! سب کو خوب وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! آپ کے خزانے تو بڑے وسیع ہیں، اللہ یہ تو چھوٹی سی جماعت ہے، اے اللہ ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین، اے اللہ ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری دعاؤں کو رد نہ فرما۔ اے اللہ! اس علم دین کی برکت سے ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ صلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیرہ۔