درس نمبر۔10 اچھا بھئی! گزشتہ اسباق میں آپ نے ضابطہ پڑھا تھا بھئی، کہ جملہ جو ہے وہ نکرہ کے حکم میں ہوا کرتا ہے بھئی۔ اگرچہ اس کے اندر معرفہ بھی پائے جاتے ہیں، مگر من حیث الجملہ وہ کس کے حکم میں ہے؟ نکرہ کے حکم میں، اور نیز جملہ مبنی ہوا کرتا ہے، اس کا اعراب محلاً آتا ہے بھئی، محلاً۔ اور یہ ضابطہ بھی بتلایا تھا، بڑا اہم ضابطہ، کہ نکرہ کے بعد فعل آ جائے تو وہ عموماً اس نکرہ کے لیے صفت بنے گا بھئی، کیا بنے گا؟ صفت بنے گا بھئی۔ آج ہم جار مجرور کی ترکیب شروع کرتے ہیں بھئی۔ بھئی یاد رکھو، جار مجرور جب بھی کلام کے اندر آ جائیں، وہ کسی نہ کسی سے، کسی چیز سے متعلق ہونا چاہتے ہیں بھئی۔ کسی نہ کسی چیز سے وہ متعلق ہوں گے ضرور بھئی۔ اور جار مجرور، تو جار مجرور کیا چاہتا ہے ہمیشہ؟ یہ متعلق ہوتے ہیں اور یہ کسی متعلق کو چاہتے ہیں، یعنی کسی عامل کو بھئی۔ اب یہ یاد رکھنا، جار مجرور آٹھ چیزوں سے متعلق ہو سکتے ہیں بھئی۔ جار مجرور آٹھ چیزوں سے متعلق ہو سکتے ہیں بھئی۔ اور وہ آٹھ چیزیں یہ ہیں بھئی: نمبر ایک فعل، فعل، مصدر، مصدر، اسم فاعل، کتنے ہو گئے؟ تین ہو گئے۔ فعل، مصدر، اسم فاعل، اسم مفعول، صفت مشبہ، اسم تفضیل، اسم تفضیل، مبالغے کے صیغے، اور اسم فعل بھئی، اسم فعل، ایک فعل ہے، ایک اسم فعل ہے، ہے تو اسم معنی فعل والا ادا کرتا ہے۔ یہ آٹھ چیزیں ہر وقت آپ کو یاد ہونی چاہئیں بھئی۔ کہ کلام میں جب بھی جار مجرور آ جائیں، وہ کسی نہ کسی چیز سے متعلق ہوں گے بھئی، اور وہ کتنی چیزیں ہیں؟ آٹھ چیزیں ہیں۔ سب سے پہلے ہے فعل، دوسرے نمبر پر مصدر بھئی، تیسرے نمبر پر اسم فاعل، پھر اسم مفعول، صفت مشبہ، اسم تفضیل، مبالغے کا صیغہ، اور اسم فعل۔ ان آٹھ چیزوں میں سے کسی ایک کے ساتھ وہ متعلق ہوں گے بھئی۔ اگر ان میں سے کوئی جملے میں موجود ہے تو اس کے ساتھ جوڑ دیں گے۔ اگر ان میں سے کوئی جملے میں موجود ہو، تو اس سے متعلق کر دیں گے۔ اور اگر ان میں سے جملے میں کوئی بھی موجود نہ ہو، تو پھر محذوف نکالتے ہیں بھئی۔ تو پھر محذوف نکالتے ہیں۔ محذوف نکالتے ہیں۔ تو ان آٹھ میں سے کوئی ایک جملے میں موجود ہو گا اور جار مجرور اس کے ساتھ متعلق ہو جائیں گے، لیکن اگر ان میں سے کوئی بھی نہیں ہے نہ جملے کے اندر کوئی فعل ہے، نہ اسم فاعل ہے، نہ اسم مفعول ہے، نہ صفت مشبہ ہے، نہ اسم تفضیل ہے، نہ مبالغے کا صیغہ ہے، اور نہ اسم فعل ہے، تو پھر کیا کرنا پڑے گا؟ محذوف نکالنا پڑے گا۔ اور یاد رکھو، یہ جار مجرور کو ظرف کہتے ہیں بھئی، جار مجرور کو ظرف کہتے ہیں، مجازاً، مجازاً۔ ایک تو وہ ظرف حقیقی ہے جو آپ نے پڑھا ہے بھئی، جس میں زمانے یا مکان والا معنی پایا جائے بھئی، وہ ظرف حقیقی ہے اور یہ جار مجرور کیا ہے؟ ظرف مجازی۔ ان کو ظرف کیوں کہتے ہیں؟ وجہ یہ کہ ان، ظرف کی اور جار مجرور کی ایک دوسرے کے ساتھ بڑی مناسبت ہے۔ اس لیے کہ ظرف کی اور جار مجرور کی ایک دوسرے کے ساتھ بڑی مناسبت ہے۔ جار مجرور کی ظرف کے ساتھ یہ مناسبت ہے، جار مجرور کی ظرف کے ساتھ یہ مناسبت ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ آج یہ کچھ لکھنے والی باتیں ہیں زیادہ، تو لکھتے جائیے بھئی۔ تو جار مجرور کی ظرف کے ساتھ یہ مناسبت ہے کہ جیسے ظرف کے لیے عامل چاہیے، ان کے لیے بھی عامل چاہیے۔ یعنی متعلق چاہیے۔ جیسے ظرف کے لیے عامل کا ہونا ضروری، جار مجرور کے لیے بھی متعلق کا ہونا ضروری ہے بھئی۔ اور ظرف کی جار مجرور کے ساتھ یہ مناسبت ہے، اور ظرف کی جار مجرور کے ساتھ یہ مناسبت ہے، کہ ظرف بھی دراصل جار مجرور کی، تقدیراً جار مجرور ہی، یا یوں کہیں جار مجرور ہی کی تاویل میں ہوتا ہے۔ جار مجرور کی تاویل میں ہوتا ہے، یا یوں کہو تقدیراً جار مجرور ہے، تقدیراً جار مجرور ہے۔ مثلاً میں نے کہا: ضَرَبْتُ زَيْدَنِ الْيَوْمَ، يرحمک اللہ۔ جیسے میں نے کہا: ضَرَبْتُ زَيْدَنِ الْيَوْمَ، تو یہاں دیکھیے الْيَوْمَ ظرف آیا اور یہ جار مجرور کی تقدیر میں ہے، دراصل یوں ہے: ضَرَبْتُ زَيْدًا فِي الْيَوْمِ، آج کے دن میں نے کیا کی اس کی؟ پٹائی کی بھئی۔ ضَرَبْتُ زَيْدًا فِي الْيَوْمِ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جار مجرور کی ترکیب بڑی مشکل ہے، آپ ہمیشہ پریشان ہوتے ہوں گے، انشاء اللہ تعالیٰ آپ دیکھیں گے بھئی بڑی آسان ہو جائے گی جار مجرور کی ترکیب۔ تو مناسبت سمجھ میں آئی دونوں میں بھئی؟ جار مجرور ظرف کے ساتھ اس کی مناسبت ہے اور ظرف کی جار مجرور کے ساتھ مناسبت۔ جار مجرور کی ظرف کے ساتھ کیا مناسبت ہے کہ جیسے ظرف کے لیے عامل کا ہونا ضروری ہے بغیر عامل کے ظرف نہیں ہو سکتا، اسی طرح جار مجرور کے لیے بھی متعلق کا ہونا ضروری ہے، عامل کا ہونا ضروری ہے۔ اور ظرف کی جار مجرور کے ساتھ یہ مناسبت ہے کہ جیسے کہ ظرف بھی دراصل کس کی تقدیر میں ہے؟ جار مجرور کی، مثال میں نے ذکر کر دی بھئی۔ تو اس جار مجرور کو کیا کہتے ہیں؟ ظرف کہتے ہیں مجازاً۔ اب اگر ان کا متعلق عبارت میں مذکور ہو تو اسے ظرف لغو کہتے ہیں۔ اگر جار مجرور کا متعلق عبارت میں مذکور ہو تو اسے ظرف لغو کہتے ہیں، اور اگر ان کا متعلق محذوف ہو تو ظرف مستقر کہتے ہیں بھئی، تو پھر اسے ظرف مستقر کہتے ہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آئی بھئی؟ یہاں تک یہ بات ہوئی کہ جار مجرور کے لیے ہمیشہ متعلق چاہیے اور ان کا متعلق آٹھ چیزوں میں سے کوئی ایک چیز ہو گی، اور پھر وہ اگر عبارت میں ذکر نہ ہو تو کیا کرنا پڑے گا؟ محذوف نکالنا پڑے گا، اور پھر یہ بتایا کہ اگر ان کا متعلق محذوف ہے تو انہیں کیا کہتے ہیں؟ ظرف مستقر، اور اگر ان کا متعلق مذکور ہے تو اسے ظرف لغو کہتے ہیں۔ اب اگر ان کا متعلق محذوف ہو، اگر ان کا متعلق محذوف ہو تو اسے افعال عامہ میں سے نکالنا بھی جائز ہے، اسے افعال عامہ میں سے نکالنا بھی جائز ہے، اور یا یوں کہو وہ افعال عامہ میں سے بھی ہو سکتا ہے اور افعال خاصہ میں سے بھی۔ اس کا جو متعلق محذوف ہے بھئی، وہ افعال عامہ میں سے بھی ہو سکتا ہے اور افعال خاصہ میں سے۔ افعال عامہ مشہور چار ہیں۔ افعال عامہ مشہور چار ہیں: کون، نمبر ایک کون، ثبوت، کون، بھئی کان کا مصدر بھئی کون، کون، ثبوت، وجود اور حصول۔ کون، ثبوت، وجود اور حصول۔ یہ افعال عامہ ہیں بھئی چار، مشہور افعال عامہ کون کون سے ہوئے بھئی؟ کون، ثبوت، وجود اور حصول۔ بھئی آپ کہیں گے کہ میں نے بات کی افعال کی اور لکھوا دیے آپ کو مصادر بھئی، تو یاد رکھو لغت میں مصدر کو فعل کہتے ہیں۔ لغت میں مصدر کو کیا کہتے ہیں؟ فعل کہتے ہیں۔ مثال یاد رکھو، پھر بات ذہن نشین ہو جائے گی اچھی طرح۔ بھئی مثلاً میں آپ سے پوچھتا ہوں: آج کل آپ کی کیا مصروفیات ہیں، کیا کیا کرتے ہیں؟ آپ کہتے ہیں بھئی میں بہت سے کام سرانجام دیتا ہوں، بڑا مصروف رہتا ہوں۔ بہت سے کام سرانجام دیتا ہوں، یعنی بہت سے فعل سرانجام دیتا ہوں، بھئی کیا کیا افعال آپ سرانجام دیتے ہیں؟ میں نے پوچھا آپ سے، آپ جواب میں کہتے ہیں: پڑھنا، لکھنا، مطالعہ کرنا، تکرار کرنا، وغیرہ بھئی، دیکھا؟ آپ نے کیا کہا بھئی؟ میں نے کہا کون کون سے افعال کرتے ہیں، آپ نے کہا کئی افعال سرانجام دیتا ہوں بھئی میں: کھانا، پینا، جاگنا، سونا، پڑھنا، مطالعہ کرنا، تکرار کرنا، وغیرہ۔ بھئی میں آپ سے افعال پوچھ رہا ہوں، آپ مجھے مصادر گنوا رہے ہیں، کھانا یہ مصدر ہے بھئی، پینا مصدر ہے بھئی، اردو میں کیا آتا ہے مصدر کے آخر میں؟ نا بھئی۔ تو دیکھا، معلوم میں نے پوچھے افعال، آپ نے گنوائے مصادر، معلوم ہوا لغت کے اندر مصدر کو کیا کہتے ہیں؟ فعل کہتے ہیں، عام بول چال میں آپ استعمال کرتے ہیں۔ تو افعال عامہ یہ چار ہیں بھئی: کون، ثبوت، وجود اور حصول مشہور۔ بھئی انہیں افعال عامہ کیوں کہتے ہیں؟ انہیں افعال عامہ اس لیے کہتے ہیں، انہیں افعال عامہ اس لیے کہتے ہیں کہ ہر فعل میں ان کا معنی پایا جاتا ہے۔ کہ ہر فعل میں ان کا معنی پایا جاتا ہے۔ مثلاً دیکھیے بھئی، ضَرَبَ ہے، ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا، زید نے عمرو کی پٹائی کی، اب ضَرَبَ کے اندر یہ چاروں فعل پائے جا رہے ہیں، یہاں کون پایا جا رہا ہے، پہلا فعل عام، کون کا معنی ہونا، تو ضَرَبَ کے اندر کسی چیز کا ہونا ہے یا نہیں ہے بھئی؟ ہے ضرب کا ہونا۔ جی دوسرا کیا تھا؟ ثبوت، ثبوت بھی پایا جا رہا ہے، کس چیز کا؟ ضرب ہی کا۔ حصول بھی ہے، کس چیز کا؟ ضرب کا، وجود بھی ہے کس کا؟ ضرب کا بھئی۔ تو دیکھا ضَرَبَ کے اندر یہ چاروں افعال پائے جا رہے ہیں: کون، کون کا معنی ہے ہونا، تو کسی چیز کا ہونا بھی پایا جا رہا ہے، ثبوت بھی پایا جا رہا ہے، کسی چیز کا وجود بھی پایا جا رہا ہے، اور اس کا حصول بھی پایا جا رہا ہے۔ تو ہر فعل، جس فعل کو بھی آپ پکڑ لیں اس میں ان چاروں کا معنی آئے گا، مثلاً اَكَلَ ہے، کھانا کھایا، اَكَلَ زَيْدٌ، زید نے کھایا، تو اکل، یہاں پر کیا ہونا کس چیز کا پایا جا رہا ہے؟ اکل، ثبوت کس چیز کا ہے؟ اکل کا، کھانے کا، اور حصول کس کا ہے؟ کھانے کا، اور وجود کس چیز کا ہے؟ کھانے کا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو جو بھی فعل آپ پکڑیں گے ان میں ان چاروں افعال کا معنی پایا جائے گا، اس لیے انہیں افعال عامہ کہتے ہیں بھئی، کہ ہر فعل میں ان کا معنی پایا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ جو افعال ہیں انہیں افعال خاصہ کہتے ہیں۔ انہیں افعال خاصہ کہتے ہیں، کہ وہاں ایک فعل کا معنی دوسرے میں نہیں پایا جاتا بھئی۔ وہاں ایک فعل کا معنی دوسرے میں نہیں پایا جاتا۔ جیسے دیکھیے بھئی، ضَرَبَ ہے، اس کے اندر کوئی اَكَلَ والا معنی پایا جا رہا ہے؟ نہیں، اور اَكَلَ کے اندر کوئی ضَرَبَ کا معنی پایا جا رہا ہے؟ نہیں، تو باقی افعال کا معنی ایک دوسرے میں نہیں پایا جاتا لیکن ان چار کا معنی ہر فعل کے اندر پایا جائے گا۔ اب آخری بات یہ بھی لکھ لیجیے، پہلے تو یہ لکھوایا کہ محذوف نکالنا پڑے گا اگر عبارت میں نہ ہو، اور محذوف افعال عامہ میں سے بھی نکال سکتے ہیں اور افعال خاصہ میں سے بھی نکال سکتے ہیں۔ اب جو محذوف نکالیں گے وہ فعل بھی نکال سکتے ہیں اور اسم بھی نکال سکتے ہیں۔ محذوف فعل بھی نکال سکتے ہیں اور اسم بھی نکال سکتے ہیں، بلند آواز سے ہو تو بھئی سارے سنیں جواب دیں بھئی، تو فعل بھی نکال سکتے ہیں اور اسم بھی نکال سکتے ہیں۔ تو فعل نکالتے ہیں اور ساتھ پھر کیا نکال لیتے ہیں؟ اسم فاعل بھئی، اسم فاعل۔ مثلاً آپ نے ضَرَبَ سے، اَلضَّرْبُ سے نکالنا ہے محذوف، تو ضَرَبَ کا فعل بھی نکال سکتے ہیں اور اسم فاعل یعنی ضَارِبٌ بھی نکال سکتے ہیں۔ تو کَانَ سے کیا نکالیں گے بھئی؟ بھئی کَانَ نکالیں گے، کَانَ کیا ہے؟ ماضی، تو کَانَ فعل بھی نکال سکتے ہیں اور اس سے اسم فاعل بناؤ کیا بنے گا؟ کَائِنٌ۔ اسی طرح ثبوت سے فعل بھی نکال سکتے ہیں، کیا؟ ثَبَتَ، اور اسم فاعل بھی نکال سکتے ہیں؟ ثَابِتٌ، جی۔ حصول سے فعل بھی نکال سکتے ہیں، کون سا؟ حَصَلَ، اور اسم فاعل بھی نکال سکتے ہیں وہ کیا ہے؟ حَاصِلٌ۔ تو ان سب کے اندر، یہ تین جو ہیں، ان تین کے اندر فعل معروف نکالتے ہیں اور اسم فاعل نکالتے ہیں، لیکن وجود سے اگر آپ، وجود کے فعل عام کو استعمال کرنا چاہتے ہیں، وہ محذوف نکالنا چاہتے ہیں، تو پھر اس صورت میں فعل مجہول نکالیں گے بھئی، کیا نکالیں گے؟ تو وجود سے فعل مجہول کیا نکلے گا بھئی؟ وُجِدَ، کیا نکلے گا؟ اور یہاں پھر اسم فاعل نہیں نکالیں گے بھئی، کیا نکالتے ہیں بلکہ؟ اسم مفعول نکالیں گے، اور وہ کیا بنے گا وجود سے؟ مَوْجُودٌ، مَفْعُولٌ دیکھا، اسم مفعول بن گیا۔ بس بھئی، جار مجرور کی بحث ختم ہوئی، بس اتنی سی باتیں آپ ذہن میں بٹھا لیں بھئی ساری۔ پہلی بات یہ، کہ جار مجرور کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ متعلق چاہیے، یہ کسی نہ کسی سے متعلق ہوں گے، یہ متعلق ہیں اور جس سے متعلق ہو رہے ہیں وہ کیا کہلاتا ہے؟ متعلق کہلاتا ہے، اور وہ کتنی چیزوں میں سے ہو سکتا ہے؟ آٹھ چیزوں میں سے، پہلے نمبر پر فعل، دوسرے پر مصدر، تیسرے پر اسم فاعل، چوتھے پر اسم مفعول، پانچویں پر صفت مشبہ، چھٹے پر اسم تفضیل، ساتویں پر مبالغے کا صیغہ، اور آٹھویں نمبر پر اسم فعل بھئی، یہ آٹھ چیزیں۔ تو ان میں سے اگر کوئی عبارت میں ہے تو فَبِهَا، اگر عبارت میں نہیں تو آپ کو محذوف نکالنا پڑے گا۔ تو اگر ان کا متعلق عبارت میں ذکر ہو تو اسے کیا کہتے ہیں؟ ظرف لغو، اور اگر محذوف نکالیں تو پھر؟ ظرف مستقر ہے بھئی، ظرف مستقر۔ پھر جو محذوف نکالتے ہیں وہ افعال عامہ میں سے بھی نکال سکتے ہیں اور افعال خاصہ، افعال عامہ مشہور کتنے ہیں؟ چار ہیں، کون کون سے؟ اول کون، ثانی ثبوت، کون، ثبوت، ثالث وجود، اور رابع حصول بھئی۔ تو ان کو افعال عامہ اس لیے کہتے ہیں کہ ہر فعل کے اندر ان کا معنی پایا جاتا ہے بھئی۔ اور ان میں سے تین جو ہیں: کون، ثبوت، اور حصول، ان، بلکہ چاروں سے، چاروں سے فعل بھی نکال سکتے ہیں اور اسم بھی محذوف نکال سکتے ہیں، لیکن تین جو ہیں: کون، ثبوت اور حصول، ان سے فعل معروف نکالیں گے اور اس میں، اگر اسم نکالنا ہے تو اسم فاعل نکالو، اور اگر وجود سے نکالنا چاہتے ہیں تو فعل، تو کون سا فعل؟ فعل مجہول، اور اگر اسم نکالنا چاہتے ہیں تو اسم مفعول نکالیں گے بھئی۔ چلیے اب کچھ ترکیب کیجیے بھئی جار مجرور کی۔ بھئی پھر معنی اس کے مطابق پھر نہیں صحیح بنے گا، سمجھ میں آیا؟ پھر اس کے لیے مفعول بھی چاہیے ہو گا۔ چلیے ترکیب آئے گی پھر میں آپ کو سمجھا دوں گا موقع پر بھئی۔ جی، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ، لکھیے بھئی، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ۔ بھئی لِلّٰهِ آپ نے کیسے لکھا؟ دو لام لکھے کہ تین لکھے؟ دو ہی لام لکھنا سمجھ میں آیا بھئی؟ بعض تین لام پھر کر دیتے ہیں بھئی، تیسرے لام کی ضرورت نہیں بھئی۔ یہ جو لفظ اللہ کو لکھا جاتا ہے اس طرح، یہ لفظ اللہ کا خاصہ ہے، ضابطے اور قانون کے مطابق نہیں، یہ لفظ اللہ کا خاصہ ہے۔ ضابطے کے مطابق تو ایک لام لکھنا چاہیے تھا مشدد، اَللّٰه، کتنے لام ہیں؟ دو، اور مشدد ہو گئے تو مشدد کتنے ہوتے ہیں؟ دو، تو لکھنے میں تو ایک ہونا چاہیے تھا لیکن لکھتے بھی کیا ہیں؟ دو لام لکھے جاتے ہیں، یہ لفظ اللہ کا خاصہ ہے۔ اچھا بھئی! جی کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جس کو نہ آتی ہو، چلیے جی آپ کیجیے۔ اَلْحَمْدُ، شاباش، اَلْحَمْدُ مرفوع لفظاً مبتدا بھئی، مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ مبتدا بننا ہے، مبتدا مرفوع ہوا کرتا ہے، لفظاً کیوں کہا؟ تلفظ ضمہ پر ہو رہا ہے، اَلْحَمْدُ، دال پر ضمہ آیا جی۔ لَام جارہ، لفظ اللہ مجرور، کون سا مجرور؟ مجرور لفظاً، لِلّٰهِ، ہا پر بھئی کسرہ پڑھ رہے ہیں یا نہیں پڑھ رہے آپ؟ تو یہ مجرور لفظاً ہوا، جی۔ جار اپنے مجرور سے مل کر، شاباش، یہ متعلق ہوا ثَابِتٌ کے بھئی، تو ثَابِتٌ دیکھا انہوں نے کیا نکالا بھئی؟ اسم فاعل، اور کیا نکال سکتے ہیں اس سے؟ فعل بھی نکال سکتے ہیں وہ کیا ہو گا؟ ثَبَتَ، تو ثَابِتٌ نکالیں یا ثَبَتَ دونوں درست ہیں بھئی۔ جی تو جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ثَابِتٌ کے ساتھ۔ ثَابِتٌ صیغہ، اب دیکھا اسم فاعل نکالا ہے تو پھر وہی ترکیب کرنا پڑے گی جو آپ پہلے سیکھ چکے ہیں: ثَابِتٌ صیغہ اسم فاعل، اس کے لیے کیا چاہیے؟ ہمیشہ فاعل چاہیے جیسے فعل کے لیے فاعل، تو فاعل نکالیں بھئی۔ آگے تو کوئی فاعل نہیں آ رہا، معلوم ہوا اسی کے اندر کیا ہے؟ ہاں ثَابِتٌ صیغہ اسم فاعل، ھُوَ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، شاباش! جو راجع ہے کس کو؟ اَلْحَمْدُ کو، انہوں نے عائد بھی بتلا دیا، اسم فاعل کو شبہ جملہ بنے گا اور شبہ جملہ کو بھی جوڑنے کے لیے کیا چاہیے؟ عائد چاہیے، تو اس میں ھُوَ ضمیر ہے جو لوٹ رہی ہے مبتدا کو بھئی۔ ثَابِتٌ صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر، شاباش، ثَابِتٌ صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر ہوئی کس کے لیے؟ مبتدا کے لیے، اور مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ ترجمہ کیجیے۔ تمام تعریفیں ثابت ہیں وہ اللہ کے لیے، ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک ایک لفظ کے مطابق میں ترجمہ کر رہا ہوں: اَلْحَمْدُ تمام تعریفیں، ثَابِتٌ ھُوَ کہ ثابت ہیں وہ، لِلّٰهِ اللہ کے لیے بھئی۔ اچھا، ثَبَتَ نکالو ذرا بھئی، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے کس سے؟ ثَبَتَ فعل کے ساتھ۔ ثَبَتَ فعل، ہاں فعل جب بھی آ جائے فوراً کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے، تو اس کے اندر ھُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو کس کو لوٹ رہی ہے ضمیر بھئی؟ مبتدا کو، یہ عائد ہو گیا۔ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر، اس میں فاعل نے کیا، وہ کیا بنا تھا بھئی؟ شبہ جملہ، اور یہ تو ہے فعل، فعل کیا بنا کرتا ہے؟ جملہ، تو یہ جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر یہ خبر ہوئی کس کے لیے؟ مبتدا کے لیے، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ تو ثَبَتَ لِلّٰهِ، یہ اس جملے کا اعراب کیا ہو گا بھئی؟ جی؟ ثَبَتَ لِلّٰهِ، پورے جملے کا اعراب پوچھ رہا ہوں آپ سے۔ محلاً، کیونکہ جملہ کس میں سے ہے؟ مبنی، لیکن کون سا ہے؟ مجرور ہے، منصوب ہے، مرفوع ہے؟ مرفوع کیوں ہے؟ شاباش! یہ پورا جملہ کیا بن رہا ہے؟ خبر، تو یہ پورا جملہ محلاً کیا ہے؟ مرفوع کہیں گے اس کو، محلاً مرفوع، کیونکہ یہ خبر بن رہا ہے اور خبر کا اعراب کیا ہوا کرتا ہے؟ مرفوع ہوا کرتی ہے خبر ہمیشہ، آپ نے پڑھا نہیں: زَيْدٌ قَائِمٌ آپ کہتے ہیں، دیکھو قَائِمٌ پر رفع آیا، معلوم ہوا خبر کیا ہوتی ہے؟ مرفوع ہوتی ہے، بات سمجھ میں آئی بھئی سب کو؟ زَيْدٌ فِي الدَّارِ، زَيْدٌ فِي الدَّارِ۔ چلیے جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی، کیجیے۔ زَيْدٌ مرفوع لفظاً مبتدا، مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ مبتدا لفظاً کیوں کہا؟ تلفظ کر رہے ہیں رفع پر، آگے؟ فِي جارہ، اَلدَّارِ مجرور لفظاً، مجرور کیوں کہا؟ مجرور، مجرور کیوں کہا آپ نے اسے؟ ہاں اس پر حرف جر آ رہا ہے تو مجرور ہی ہو گا، پھر لفظاً کیوں کہا آپ نے؟ تلفظ کر رہے ہیں ہم جر پر بھئی، کسرہ پر: فِي الدَّارِ، جی۔ ہاں بھئی ثَبَتَ سے نکالو بھئی، پریشان نہ کرو طالب علموں کو، سمجھ میں آیا؟ ثَبَتَ سے آپ لوگ نکالتے جائیں بس کہیں کہیں، پھر جب ذرا مشق ہو جائے پھر اوروں سے بھی نکال سکتے ہیں آپ، جی۔ جار مجرور مل کر متعلق، بھئی دیکھو اس پورے جملے کے اندر فعل ہے؟ کوئی فعل نہیں، اسم فاعل کا کوئی صیغہ؟ اسم مفعول کا کوئی صیغہ؟ صفت مشبہ کا کوئی صیغہ؟ نہیں، اسم تفضیل کا کوئی صیغہ؟ نہیں، اور مبالغے کا کوئی صیغہ؟ اور اسم فعل بھئی؟ ان میں سے کوئی بھی نہیں، تو اب کیا کرنا پڑے گا؟ محذوف نکالنا پڑے گا، تو آپ نے کیا محذوف نکالا بھئی؟ ثَبَتَ فعل نکالا، یہ متعلق ہوا کس سے؟ ثَبَتَ فعل کے ساتھ بھئی۔ ثَبَتَ فعل، اس کے اندر ھُوَ ضمیر مرفوع محلاً فاعل، جو لوٹ رہی ہے کس کی طرف؟ مبتدا کی طرف، جی یہ عائد ہو گیا۔ شاباش! معلوم ہوا ترکیب کے ماہر ہو گئے بھئی، ہاں؟ چلو، تو ثَبَتَ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر یہ خبر ہوئی کس کے لیے؟ مبتدا کے لیے، اور جب یہ خبر ہے تو اس جملے کا اعراب کیا ہے؟ مرفوع محلاً بھئی، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ بھئی، اب ترجمہ کیجیے۔ زید کہ وہ ثابت ہے، کہ ثابت ہے وہ، فِي الدَّارِ کس میں؟ گھر میں۔ اگر مَوْجُودٌ نکالتے دیکھا، مَوْجُودٌ نکالو بھئی: زَيْدٌ مَوْجُودٌ فِي الدَّارِ، زید کہ موجود ہے وہ فِي الدَّارِ کس کے اندر بھئی؟ گھر کے اندر، پھر ترکیب کیا ہوتی؟ جار مجرور مل کر ہم متعلق کر رہے ہیں کس سے؟ مَوْجُودٌ سے، اور مَوْجُودٌ صیغہ اسم مفعول، اور اسم مفعول کے لیے کیا چاہیے؟ نائب فاعل چاہیے، اسم فاعل کے لیے فاعل چاہیے تھا تو اسم مفعول کے لیے نائب فاعل، تو اس کے اندر ھُوَ ضمیر اس کا نائب فاعل، جو کس کو لوٹ رہا ہے؟ یہ ضمیر لوٹ رہی ہے مبتدا کو بھئی، تو اسم مفعول اپنے نائب فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو دیکھا، زَيْدٌ ایک جملہ یہ ہوا: زَيْدٌ ثَبَتَ فِي الدَّارِ، ایک یہ ہوا: زَيْدٌ ثَابِتٌ فِي الدَّارِ بھئی، دوسرا زَيْدٌ کَانَ فِي الدَّارِ، یا زَيْدٌ کَائِنٌ فِي الدَّارِ، یا زَيْدٌ حَصَلَ فِي الدَّارِ، یا زَيْدٌ حَاصِلٌ فِي الدَّارِ، یا زَيْدٌ وُجِدَ فِي الدَّارِ، یا زَيْدٌ مَوْجُودٌ فِي الدَّارِ۔ اب آپ بھئی کیا کہہ رہے تھے نا، مجہول کیوں نکالتے ہیں؟ یہاں ذرا معروف نکالو کیا ترجمہ بنتا ہے، زَيْدٌ فِي الدَّارِ کا کیا معنی ہے؟ زید گھر میں ہے، زید گھر میں ہے، اچھا وَجَدَ نکال لو: زَيْدٌ وَجَدَ فِي الدَّارِ، زید، وَجَدَ کا معنی پانا، زید کہ پایا اس نے گھر میں، کس کو پایا؟ معنی بدل گیا یا نہیں بدل گیا؟ خراب ہو گیا۔ اگر آپ اس میں اسم فاعل نکال لیں: زَيْدٌ وَاجِدٌ فِي الدَّارِ، زید کہ وہ پانے والا ہے گھر میں، بھئی کس چیز کو پانے والا ہے گھر میں؟ معنی ہی بدل گیا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، اگر ایک ہی جملے کے اندر فعل آ جائے، مصدر آ جائے یا کوئی اور چیز، متعلقات میں سے آ جائے تو اس میں کس کو ترجیح دیں گے؟ ہاں پہنچ رہے ہیں انشاء اللہ، ابھی پہنچ رہے ہیں بھئی، جانے تو دو، ابھی تو ہم نے شروع کی ہے بحث۔ انشاء اللہ خود دیکھیں گے، کل آپ مجھے تلاش کر کے بتائیں گے یہ کس سے متعلق ہو رہا ہے بھئی۔ انشاء اللہ بھئی دیکھیں بڑی آسان ہو جائے گی ترکیب، کوئی مشکل نہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ کبھی پھر آگے جا کر بتلاؤں گا بھئی، کئی چیزیں جملے میں آ جاتی ہیں، فعل بھی آ رہا ہے، اسم فاعل کا صیغہ بھی آ رہا ہے، مصدر بھی آ رہا ہے، اب آدمی کس کے ساتھ جوڑے بھئی؟ تو وہ پھر موقع پر بتاؤں گا میں۔ ایک جملہ اور کر لیجیے۔ اَلْکَلِمَۃُ، لفظ، اَلْکَلِمَۃُ، لفظ، وُضِعَ، یہ مشکل ہو جائے گا میرا خیال، دوسرا جملہ لکھو، یہ پھر کریں گے۔ اَلزَّيْدَانِ، اَلزَّيْدَانِ، اَلْعَالِمَانِ، يَمْشِيَانِ، يَمْشِيَانِ، فِي السُّوْقِ، فِي السُّوْقِ۔ چلیے جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی، کیجیے۔ اَلزَّيْدَانِ، جی، اَلزَّيْدَانِ الف کیوں مجھے بتا رہے ہو بھئی؟ مجھے تو صرف یہ چاہیے: مرفوع ہے، مجرور ہے یا منصوب؟ اور محلاً ہے، تقدیراً ہے، یا لفظاً ہے، بس۔ اَلزَّيْدَانِ مرفوع لفظاً، بھئی مرفوع کہہ رہے ہیں اَلزَّيْدَانِ، میں تو اس پہ کسرہ پڑھ رہا ہوں۔ ہمم، شاباش بھئی! وہ سولہ قسمیں یاد ہوں گی تو آپ پہچان لیں گے کہ بھئی اَلزَّيْدَانِ یہ تو کون سا کیا ہے؟ تثنیہ ہے بھئی، اور تثنیہ کا اعراب حالت رفعی میں کس کے ساتھ آتا ہے؟ الف کے ساتھ، اور حالت نصبی، جری میں یا کے ساتھ بھئی، تو یہ الف کے ساتھ آ رہا ہے معلوم ہوا مرفوع ہے بھئی، اور مرفوع پھر کون سا ہے؟ مرفوع لفظاً کیوں ہے؟ کس پہ تلفظ ہو رہا ہے؟ الف پہ تلفظ ہو رہا ہے، اَلزَّيْدَانِ بھئی الف کی وجہ سے دال کو آپ لمبا کر رہے ہیں یا نہیں کر رہے بھئی؟ تو الف پہ تلفظ کر رہے ہیں، تو یہ مرفوع ہے لفظاً۔ مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ منصوب یا مجرور کیوں نہیں کہا؟ یہ مبتدا بنے گا، اور مبتدا مرفوع ہوا کرتا ہے، شاباش، تو اَلزَّيْدَانِ مرفوع لفظاً کیا بنے گا؟ جی؟ موصوف بنے گا، کیوں موصوف بنایا آپ نے؟ شاباش! آگے ایک اور معرفہ آ رہا ہے، اور معرفہ کے بعد معرفہ آ جائے تو دونوں کیا بنا کرتے ہیں؟ موصوف صفت بنا کرتے ہیں، جی، تو اَلزَّيْدَانِ مرفوع لفظاً موصوف۔ اَلْعَالِمَانِ مرفوع لفظاً، مرفوع کیوں کہا؟ تو پھر؟ ہاں، یہ صفت ہے اور صفت کا وہی اعراب ہوتا ہے جو موصوف کا ہوتا ہے، تو یہ بھی مرفوع ہوئی، اور مرفوع کون سی ہوئی؟ لفظاً ہوئی، کیونکہ الف پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، جی۔ موصوف صفت مل کر کیا بن گئے؟ مبتدا بن گئے بھئی، مبتدا شاباش، آگے۔ يَمْشِيَانِ فعل، شاباش۔ جی، یہ فعل مضارع ہے، جی، تثنیہ کا صیغہ ہے۔ شاباش بھئی! ہاں اس میں یہ نہ کہہ دینا ھُمَا ضمیر، بلکہ اس میں کون سی ضمیر ہے؟ یہ الف ضمیر ہے تثنیہ مذکر غائب کی بھئی۔ شاباش، اور یہ مرفوع محلاً ہے فاعل، شاباش! یہ کس کو لوٹ رہی ہے؟ یہ ضمیر مبتدا کو لوٹ رہی ہے، یہی عائد ہو گیا بھئی، اور مرجع اور ضمیر میں مطابقت بھی ہے، وہ بھی تثنیہ، ضمیر بھی کون سی لوٹ رہی ہے؟ تثنیہ والی۔ دیکھا، ایک ایک چیز کا پتہ ہو، ترکیب حل ہوتی چلی جائے گی۔ فِي جارہ، اَلسُّوْقِ مجرور، مجرور لفظاً، مجرور کیوں کہا؟ حرف جر اس پہ داخل ہوا، لفظاً کیوں کہا؟ تلفظ ہو رہا ہے: فِي السُّوْقِ، دیکھا کسرہ پڑھ رہے ہیں آپ بھئی۔ جار مجرور نے بھئی آٹھ چیزوں میں سے کسی ایک سے متعلق ہونا تھا، اور ان میں سے ایک کیا تھا؟ فعل، اور فعل یہاں پر موجود، تو اب محذوف نکالنے کی حاجت نہیں، جی۔ شاباش! فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر یہ خبر ہوئی کس کے لیے؟ مبتدا کے لیے، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ اب اس جملے کو روانی سے پڑھیے اس کو۔ اَلزَّيْدَانِ الْعَالِمَانِ يَمْشِيَانِ فِي السُّوْقِ، جی، ترجمہ کیجیے۔ شاباش، معرفہ کے اندر میں نے کیا بتلایا تھا، موصوف سے پہلے کیا لفظ لے آئیں گے؟ وہ، وہ، وہ دو زید جو کہ عالم ہیں، يَمْشِيَانِ: چل رہے ہیں وہ دونوں، فِي السُّوْقِ: کس میں؟ بازار میں۔ تو وہ دو زید جو عالم ہیں، وہ بازار میں چل رہے ہیں بھئی۔ چلیے شاباش، دیکھا بھئی، انشاء اللہ ابھی مشکل ترکیبیں ہم کریں گے، آپ نے حل کرنی ہیں انشاء اللہ بھئی۔ ہاں مستقل مزاجی شرط ہے بھئی، مستقل مزاجی سے سبق میں آؤ بھئی۔ چلیے بس کرتے ہیں بھئی۔ اچھا، آئیے بھئی دعا کر لیں۔ الحمد للہ رب العالمین۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں، اللہ سب کو علمائے کبار بنا۔ اے اللہ! سب کو علمائے کبار بنا۔ اے اللہ! سب سے دین کا کام لے لیں۔ اے اللہ! سب سے دین کا کام لے۔ اے اللہ! گمراہیوں اور بدعتوں کو مٹانے کی توفیق دے۔ اے اللہ! ان میں سے ہر ایک کو ایسی شمع بنا دے جس سے آگے ہزاروں لاکھوں شمعیں روشن ہوں۔ اے اللہ! اے اللہ! آپ تو قادر ہیں، اے اللہ! آپ کے لیے تو کوئی کام مشکل نہیں۔ اے اللہ! یہاں ہم آپ کے دین کو سیکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، اے اللہ! ہماری اس محنت کو قبول فرما۔ اے اللہ! اس کو ہمیں سیکھنے کی، سکھانے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! اس کو سب کے لیے نافع فرما۔ اے اللہ! جو مشکل ہے، جس کے لیے جو مشکل ہے اس کو آسان فرما۔ اے اللہ! ہمارے سینوں کو کھول دے۔ اے اللہ! ہمارے سینوں کو کھول دے۔ اے اللہ! ہمارے قلوب کو منور فرما۔ اے اللہ! ہمارے قلوب کو منور فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! دشمنان اسلام کو ذلیل و رسوا فرما۔ اے اللہ! ان کو ذلیل و رسوا فرما۔ اے اللہ! جو دین اسلام کے مخالف، اس وقت دین اسلام کے خلاف کاموں میں مصروف ہیں، سب کو ذلیل و رسوا فرما۔ اے اللہ! ان کو تباہ و برباد فرما۔ اے اللہ! ان کو عبرت کا نمونہ بنا دے۔ اے اللہ! مجاہدین کی خصوصی مدد و نصرت فرما۔ اے اللہ! علماء، طلباء کی اور مدارس و مساجد کی، مبلغین، مجاہدین اور تمام مسلمان، اے اللہ! ہم سب کی حفاظت و نصرت فرما۔ اے اللہ! سب کی حفاظت و نصرت فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام تکالیف اور پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہمیں ہر قسم کے جسمانی اور روحانی امراض سے شفا نصیب فرما۔ اے اللہ! ہر قسم کے جسمانی اور روحانی امراض سے شفا نصیب فرما۔ صلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہٖ محمد و آلہ و اصحابه و سلم۔