درس نمبر۔8 اچھا بھئی! گزشتہ اسباق میں آپ نے پڑھا تھا کہ فاعل جب بھی آئے گا فعل کے بعد آئے گا، فاعل کبھی بھی فعل پر مقدم نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا زَيْدٌ ضَرَبَ اس کے اندر آپ یہ نہ کہیں ضَرَبَ فعل آ رہا ہے تو زید اس کے لیے کیا بن گیا؟ فاعل۔ اس لیے کہ زید تو ضَرَبَ پر مقدم ہے، اور فاعل کبھی بھی فعل پر مقدم نہیں ہو سکتا، جب بھی آئے گا فعل کے بعد آئے گا۔ اسی طرح جب بھی نائب فاعل آئے گا، وہ ہمیشہ فعل کے بعد آئے گا، فعل پر مقدم نہیں ہو سکتا۔ اور پھر یہ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ کبھی کبھار مبتدا کی خبر جملہ واقع ہوتی ہے۔ اور جملہ چونکہ مستقل ہے، وہ کسی کے ساتھ جڑنے کا محتاج نہیں، اور آپ اس کو جوڑ رہے ہیں مبتدا کے ساتھ تو ربط چاہیے، اور ربط عموماً ضمیر کی صورت میں آئے گا۔ تو جو چیز ربط دینے والی ہو وہ عائد کہلاتی ہے بھئی۔ تو جملے کو جب بھی کسی چیز سے جوڑا جائے عائد کا ہونا ضروری بھئی۔ اور یہ عائد عموماً میں نے بتلایا ضمیر کی صورت میں آتا ہے۔ اور جملہ کبھی خبر واقع ہوتا ہے، کبھی جملہ حال واقع ہوتا ہے، کبھی جملہ صفت واقع ہوتا ہے، کبھی جملہ، بلکہ ہمیشہ جملہ صلہ کیا واقع ہوتا ہے؟ صلہ ہمیشہ جملہ ہوتا ہے، مفرد نہیں آ سکتا۔ تو جس چیز کے ساتھ بھی فعل کو ربط دیں، عائد کا ہونا ضروری بھئی، عائد کا ہونا۔ تو جیسے جملے کے ربط کے لیے عائد کا ہونا ضروری، اسی طرح جو شبہ جملہ ہے یعنی جو صفت کے صیغے ہیں، اسم فاعل، اسم مفعول، صفت مشبہ، اور اسم تفضیل وغیرہ، ان کو بھی جب بھی کسی چیز کے ساتھ ربط دیں گے تو اس کے اندر ضمیر کا ہونا ضروری، جو اس کے اس چیز کی طرف لوٹے بھئی۔ اور ایک ضابطہ یہ بھی بتلایا تھا کہ جمع بتاویل جماعت کے واحد مؤنث کے حکم میں ہوتی ہے، لہٰذا اس کی طرف عموماً کون سی ضمیر لوٹائی جاتی ہے؟ واحد مؤنث کی ضمیر لوٹائی جاتی ہے۔ اچھا، اب ترکیبیں چل رہی تھیں، جی ابھی کیجیے اور بھی کافی جملے ہیں، مشق کرتے جائیے۔ سولہ قسمیں بھئی خوب پکی کر لو، جس کی کمزور ہیں ابھی بھی، ابھی سے وہ پکی کر لے، مشق کرتے جائیں گے، ساری قسمیں بیچ میں آ جائیں گی بھئی، خوب پکی ہو جائیں گی۔ قَرَأْتُ كُتُبًا جَيِّدَةً، قَرَأْتُ كُتُبًا، کتاب کی جمع كُتُب، جَيِّدَةً، جَيِّدَةً۔ اچھا بھئی، کون اب کرے گا ترکیب بھئی؟ چلیے، شاباش! آپ کریں بھئی۔ قَرَأْتُ فعل با فاعل، اس کے اندر تا ضمیر، شاباش! اعراب بتلاؤ بھئی، اسم جو بھی آتا جائے، اسم کا اعراب بتلاتے جاؤ۔ مرفوع ہے، کیوں مرفوع ہے؟ کیونکہ فاعل مرفوع ہے، شاباش! کون سا مرفوع؟ لفظاً مرفوع ہے بھئی، کیوں مرفوع ہے لفظاً؟ کیونکہ تلفظ ہو رہا ہے۔ تلفظ ہو رہا ہے اس پر بھئی۔ جی، ساتھ والے بتائیں۔ مرفوع محلاً اس لیے کہ یہ ضمائر ہے، اور ضمائر مبنیات میں سے۔ شاباش! میں نے کہا مبنیات آٹھ آپ کو یاد ہونے چاہئیں، تو سب سے پہلے یہ دیکھ لیا کرو کہ یہ مبنی تو نہیں، تو تا ضمیر جو ہے مبنی ہے، اور مبنی کا اعراب محلاً آتا ہے، تو آپ یہ نہ کہیں اس پر تو ہم رفع پڑھ رہے ہیں، بھئی یہ رفع نہیں ہے، یہ اس کی حرکت ہے بھئی۔ کیا ہے؟ قَرَأْتُ، قَرَأْتَ، قَرَأْتِ، یہ اس کی حرکتیں ہیں بھئی، یہ اس کے اعراب نہیں ہے بھئی، کیونکہ یہ تو ضمیریں ہیں اور ضمیر کس میں سے ہے؟ مبنیات میں سے، اور مبنی پر کبھی اعراب لفظاً آتا ہے؟ نہیں۔ اسے کہتے ہی اس لیے مبنی ہیں بھئی۔ جی، ترکیب پوری کیجیے۔ اعراب، منصوب، شاباش! منصوب کیوں کہا آپ نے؟ کیونکہ یہ قَرَأْتُ کا مفعول بن رہا ہے۔ ہاں، یہ مفعول بنے گا، فاعل آ چکا ہے، مرفوع ایک نے آنا تھا وہ فاعل گزر گیا، اب آگے صرف رہ گئے منصوبات اور مجرورات، اور پھر ان میں سے مجرور بھی نکل گیا، کیونکہ مجرور تو وہ ہے جس سے پہلے مضاف آئے یا اس پر کیا داخل ہو؟ حرفِ جر۔ بس معلوم ہوا یہ مجرور بھی نہیں ہوگا، اب منصوب ہی رہ گیا، یہ طے ہو گیا یہ منصوب ہوگا۔ اب منصوب کون سا اور کیوں ہے، یہ آپ نے غور کرنا ہے۔ ترجمے سے بھی کچھ مدد لیا کیجیے بھئی، ترجمے سے ترکیب کا پتہ چل جاتا ہے بھئی، تو ترجمے سے ترکیب کا اندازہ ہو جاتا ہے کہیں پر، اور کہیں پر ترکیب سے ترجمے کا پتہ چلتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں اب دیکھیے، انہوں نے کیا کہا؟ كُتُبًا منصوب، لفظاً کیوں کہا؟ تلفظ ہو رہا ہے۔ شاباش! کیونکہ یہاں نصب پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، كُتُبًا، كُتُبٌ یا كُتُبٍ نہیں پڑھ رہے بھئی۔ منصوب لفظاً، کیا بنایا؟ مفعول، مفعول کون سا؟ مفعول مطلق کسے کہتے ہیں؟ مفعول مطلق تو مصدر ہوا کرتا ہے، وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنی میں ہو، ضَرَبْتُ ضَرْبًا، جَلَسْتُ جَلْسَةً، تو جلسہ، یہ مصدر ہے، ضَرْبًا یہ مصدر ہے، اور یہ كُتُبًا یہ مصدر تو نہیں ہے بھئی۔ مفعول لہ کسے کہتے ہیں؟ جو ماقبل فعل کی علت بیان کرے، ضَرَبْتُهُ تَأْدِيْبًا، میں نے اس کی پٹائی کی کس لیے؟ یہ پٹائی کیوں ہوئی ہے؟ ادب سکھانے کے لیے، وجہ ذکر ہو رہی ہے، سبب، علت ذکر ہو رہا ہے، یہ مفعول لہ کہلاتا ہے بھئی۔ یہ كُتُبًا مفعول بہ ہے بھئی، جس پر فاعل کا فعل واقع ہو۔ جی، كُتُبًا مفعول بہ، جَيِّدَةً، جی، جَيِّدَةً منصوب، کون سا؟ منصوب لفظاً، منصوب کیوں کہا آپ نے؟ کیونکہ یہ مفعول ثانی بن رہا ہے، مفعول ثانی بن رہا ہے بھئی۔ بھئی، دو مفعول کون چاہتے ہیں؟ جی، فعل متعدی۔ میں نے ایک اور ضابطہ بتلایا تھا، اس سے یہ مقام حل ہو رہا ہے بھئی۔ کیا ضابطہ تھا بھئی؟ نکرہ کے بعد جب نکرہ آئے، پہلا موصوف اور دوسرا صفت۔ جب نکرہ دو، تین، چار اکٹھے آ جائیں تو ہمیشہ پہلے کو کیا بناؤ؟ موصوف، اور دوسروں کو کیا بناؤ؟ صفت، بشرطیکہ آگے کوئی معرفہ نہ آ رہا ہو، ورنہ کیا کریں گے؟ مضاف مضاف الیہ بنیں گے۔ جی، اب حل کیجیے۔ كُتُبًا موصوف، شاباش! كُتُبًا موصوف، جی، جَيِّدَةً صفت۔ بھئی، آپ نے خلاصۂ ترکیب کر دیا، جَيِّدٌ کون سا صیغہ ہے؟ صفتِ مشبہ ہے۔ اور میں نے بتلایا تھا، جب فعل آئے تو کس کو تلاش کرو فوراً؟ فاعل کو۔ فعل معروف جب بھی آئے کس کو تلاش کرنا ہے؟ فاعل کو۔ فعل مجہول آئے، کس کو تلاش کرنا ہے؟ نائب فاعل کو۔ اسم فاعل آ جائے، پھر بھی کس کو تلاش کرنا ہے؟ فاعل کو۔ صفت مشبہ آ جائے، پھر بھی کس کو تلاش کرنا ہے؟ فاعل کو تلاش کرنا ہے بھئی۔ اب صفت مشبہ آ گئی تو اس کا فاعل بتلاؤ۔ ھو ضمیر، جی، اس کے اندر مستتر بھئی، ھو ضمیر۔ جَيِّدَةً کے اندر مستتر کون سی ضمیر؟ ھو ضمیر، اعراب بتاؤ ھو ضمیر کا۔ منصوب، منصوب کہو بھئی، ہاں منصوب، شاباش! کیوں منصوب ہے؟ وہ مرفوع ہے، کیونکہ یہ فاعل بن رہی ہے جَيِّدَةً کے لیے۔ ہاں شاباش! ھو ضمیر مرفوع ہوگی، کیونکہ اس نے کیا بننا ہے؟ فاعل بننا ہے جَيِّدَةً کے لیے، اور کون سا مرفوع؟ یہ محلاً ہوگا۔ شاباش! مرفوع محلاً، کیوں؟ یہ مبنیات میں سے ہے۔ مبنیات میں سے ہے، دیکھا بھئی، اب یہ حل کر رہے ہیں ترکیب کو، جی، مرفوع محلاً فاعل کس کے لیے؟ جَيِّدَةً کے لیے، جی آگے کرتے جائیے۔ صفت مشبہ اپنے فاعل سے مل کر یہ موصوف کے لیے صفت ہوا۔ شبہ جملہ، ابھی نہ بناؤ، کیا بنایا؟ صفت مشبہ کہو، صفت مشبہ اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر کیا بنایا آپ نے؟ صفت، اور میں نے بتایا تھا جملہ یا شبہ جملہ کو جس سے بھی جوڑو، چاہے کسی کے لیے خبر بناؤ، چاہے کسی کے لیے صفت بناؤ، چاہے کسی کے لیے حال بناؤ، ہمیشہ کیا چاہیے؟ عائد چاہیے، آپ نے تو کوئی عائد بتلایا ہی نہیں، ربط دیا ہی نہیں، پھر کیسے آپ صفت بنا رہے ہیں اس کو؟ کس کے لیے صفت بنا رہے ہیں؟ كُتُبًا کے لیے، تو ربط بھی اسی سے دینا ہے، تو اس کے لیے کوئی ضمیر چاہیے جو كُتُبًا کو لوٹے بھئی۔ جی، بتلائیے شاباش، غور کریں بھئی۔ بتاؤ بھئی شاباش، غور کرو، جلدی بتلاؤ۔ ھو ضمیر لوٹے گی كُتُبًا کو۔ ہاں شاباش! ایک ہی تو ضمیر ہے، اور کوئی ضمیر ہے؟ جب ایک ہی ضمیر ہے تو اسی کو لوٹانا پڑے گا بھئی، تو وہ ھو ضمیر کس کو لوٹ رہی ہے؟ كُتُبًا کو۔ لیکن بھئی، ضمیر اور مرجع میں مطابقت نہیں، كُتُبًا ہے جمع، ضمیر ہے مفرد کی، ھو ضمیر مفرد ہے، تثنیہ ہے، جمع؟ مفرد ہے، اور كُتُبًا کیا ہے؟ جمع، تو یہ کیسے اس کی طرف آپ مفرد مذکر کی ضمیر لوٹا رہے ہیں؟ ہم جمع کی ضمیر لوٹائیں گے۔ ھم؟ نہیں بھئی، ابھی تو میں نے ضابطہ ذکر کیا، جمع بتاویل جماعت کے کس کے حکم میں ہے؟ واحد مؤنث کے حکم میں۔ غور کرنا بھئی جملے پر، جمع بتاویل جماعت کے کس کے حکم میں ہے؟ واحد مؤنث کے، معلوم ہوا كُتُبًا جمع ہے، اس کے لیے ہمیں کون سی ضمیر چاہیے؟ واحد مؤنث کی ضمیر چاہیے، اور جَيِّدًا کے اندر تو کون سی ضمیر ہے؟ واحد مذکر ہے، تو اب اس کو بدلو بھئی، کس سے بدلو؟ کوئی ایسے صیغے سے کہ ضمیر ہمیں وہ والی حاصل ہو جائے بھئی، مؤنث کی ضمیر بھئی۔ کیا کہیں گے؟ جَيِّدَةً، سمجھ میں آیا بھئی؟ قَائِمٌ کے اندر ھو کی ضمیر ہے، تو قَائِمَةٌ کے اندر کون سی ضمیر ہے؟ ہِیَ، تو وہ مؤنث والا صیغہ بنا لو، معلوم ہوا کتابت کی غلطی ہے یا کچھ ہے، تو اب اس کو مؤنث کا صیغہ بنایا بھئی۔ تو جَيِّدَةً، جی اعراب بتلائیے۔ جَيِّدَةً منصوب لفظاً، صفت مشبہ اس کے اندر ہِیَ ضمیر، واحد ہے، واحد کا صیغہ ہے، ہِیَ ضمیر، نائب فاعل نہیں، فاعل بھئی، صفت مشبہ کے، وہ اسم مفعول کے لیے نائب فاعل چاہیے ہوتا ہے۔ تو ہِیَ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو کس کو لوٹ رہی ہے؟ كُتُبًا کو۔ تو صفت مشبہ اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر یہ کیا ہوئی؟ صفت، موصوف صفت مل کر مفعول ہوئے کس کے لیے؟ قَرَأْتُ فعل کے لیے، فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ شاباش بھئی، کوشش کریں بھئی، کوشش۔ عَرَفَ زَيْدٌ رَجُلَيْنِ، عَرَفَ زَيْدٌ رَجُلَيْنِ، جی کیجیے۔ عَرَفَ فعل، عَرَفَ فعل، زَيْدٌ فاعل، اعراب بتلائیے، شاباش! زَيْدٌ مرفوع لفظاً فاعل۔ دیکھو، سب سے پہلے فعل آیا تو فوراً غور کرو، یہ دو میں سے ہے یا بارہ میں سے؟ دو میں سے ہے، اب آگے فاعل تلاش کرو، اگر یہ باقی بارہ میں سے ہوتا تو آگے فاعل تلاش کرنے کی ضرورت نہیں تھی، پہلا اور چوتھا صیغہ ہے ان کا فاعل آگے اسم ظاہر آ سکتا ہے۔ تو زَيْدٌ مرفوع لفظاً فاعل، آگے؟ رَجُلَيْنِ مفعول، اعراب بتلاؤ بھئی سب سے پہلے۔ منصوب، لفظاً، مفعول، رَجُلَيْنِ منصوب لفظاً، مفعول کیوں کہا آپ نے؟ فاعل تو گزر چکا تھا، اب آگے منصوب اور مجرور آ سکتے تھے، مجرور تو یہ ہے نہیں، لہٰذا کیا بنے گا؟ منصوب ہی رہ گیا بھئی، جی منصوب، مفعول۔ تثنیہ، جی، تثنیہ ہے، تو تثنیہ تو مرفوع بھی آ سکتا ہے، منصوب بھی آ سکتا ہے، مجرور بھی آ سکتا ہے، منصوب ہونے کی کیا وجہ ہے؟ مفعول، شاباش! یہ مفعول ہے، اور مفعول کا اعراب کیا ہوتا ہے؟ منصوب ہوتا ہے، اور مرفوع آپ نے لفظاً کہا، یہ کیوں؟ رَجُلَيْنِ یا پر تلفظ ہو رہا ہے۔ شاباش! رَجُلَيْنِ یا پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، تو رَجُلَيْنِ منصوب لفظاً، کیا بنا؟ مفعول، جی۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ، شاباش! فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ۔ اچھا بھئی، پچھلے جملے کا ترجمہ بھی رہ گیا، ترجمہ تو کیا کرو بھئی، مجھے خیال نہیں رہتا، یاد کروایا کرو۔ چلیے، آپ بھئی وہ پچھلا جملہ پڑھیں روانی سے، آپ نے ایک ایک لفظ کا اعراب بتلا دیا تھا۔ قَرَأْتُ كُتُبًا جَيِّدَةً، قَرَأْتُ كُتُبًا جَيِّدَةً، ہاں، قَرَأْتُ كُتُبًا جَيِّدَةً، ترجمہ کیجیے: میں نے، میں نے کتابیں پڑھیں، جَيِّدٌ کا معنی؟ اچھی، عمدہ، میں نے اچھی کتابیں، کتابیں، کتابیں پڑھیں بھئی، میں نے اچھی کتابیں پڑھیں۔ آپ کیجیے اپنے جملے کا ترجمہ بھئی۔ عَرَفَ زَيْدٌ رَجُلَيْنِ، جی، پہچانا زید نے دو آدمیوں کو۔ پڑھیے ذرا جملے کو روانی سے: عَرَفَ زَيْدٌ رَجُلَيْنِ، عَرَفَ زَيْدٌ رَجُلَيْنِ۔ ہاں بھئی، روانی سے جملے کو پڑھو بھئی، کون پڑھے گا؟ عَرَفَ، کیسے پڑھیں گے بھئی؟ عَرَفَ زَيْدُ الرَّجُلَيْنِ، کیسے پڑھیں گے؟ عَرَفَ زَيْدُ الرَّجُلَيْنِ، ہاں؟ عَرَفَ زَيْدٌ رَجُلَيْنِ، عَرَفَ زَيْدٌ رَجُلَيْنِ، عَرَفَ زَيْدٌ رَجُلَيْنِ، بھئی ایک ضابطہ ہے، وہ ضابطہ نہیں لگے گا؟ کہ حروفِ یرملون سے پہلے اگر نون ساکن آ جائے تو اس نون کو اسی حرف کی جنس سے بدل کر اس میں ادغام کیا جاتا ہے۔ کون سے حروف بھئی؟ یرملون، اس میں را ہے یا نہیں بھئی؟ را ہے، اور اس را سے پہلے کیا آ رہا ہے؟ زَيْدٌ رَجُلَيْنِ، را سے پہلے تنوین والا نون آ رہا ہے اور وہ ساکن ہے، تو کیا کریں گے؟ اس نون کو بھی را کر کے را کے اندر کیا کریں گے؟ ادغام کریں گے، کیسے پڑھیں گے؟ عَرَفَ زَيْدُ الرَّجُلَيْنِ بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاں، انہوں نے کہا: زَيْدُ نِ الرَّجُلَيْنِ، یہ کب پڑھتے؟ جب الف لام ہوتا بھئی، پھر اس وقت دوسرا قانون متوجہ ہوتا، الرَّجُلَيْنِ تھا، الرَّجُلَيْنِ، ہمزہ شروع سے گر گیا بھئی تو را ساکن رہ گئی، اور زَيْدٌ کا نون بھی کیا ہوا؟ ساکن ہے، تنوین کسے کہتے ہیں بھئی؟ نون ساکن کو، تو نون بھی ساکن، آگے آنے والی را بھی ساکن، دو ساکن اکٹھے ہو گئے تو اب اَلسَّاكِنُ إِذَا حُرِّكَ حُرِّكَ بِالْكَسْرِ، تو اب وہ نون کو کسرہ دے دیں گے، کیسے پڑھیں گے؟ زَيْدُ نِ الرَّجُلَيْنِ، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو عَرَفَ زَيْدُ الرَّجُلَيْنِ۔ عَرَفَ زَيْدٌ رَجُلَيْنِ، جی؟ عَرَفَ زَيْدٌ رَجُلَيْنِ، ضابطہ تو میں نے بتلایا، یرملون کے حروف ہیں، ضابطہ ہے، حروفِ یرملون: یا، را، میم، لام، واؤ، نون، ان سے پہلے نون ساکن آ جائے تو کیا کرتے ہیں؟ اسی حرف کی جنس سے اس کو بدل کر اس میں کیا کر دیتے ہیں؟ ادغام کر دیتے ہیں۔ اس ضابطے کے مطابق تو رَجُلَيْنِ میں را شروع میں آ گئی اور اس سے پہلے کیا آیا؟ نون ساکن، تو نون ساکن کو کس سے بدل دیا آپ نے؟ را سے بدل کر را میں ادغام کر دیا بھئی۔ عِيْسٰى رَجُلٌ شَرِيْفٌ، عِيْسٰى رَجُلٌ شَرِيْفٌ، یہ ترکیب کون کرے گا؟ چلیے جی، آپ کریں، شاباش! کوشش کرو بھئی شاباش، جی۔ عِيْسٰى مبتدا، اعراب؟ مرفوع تقدیراً، عِيْسٰى شاباش! مرفوع تقدیراً، مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ مبتدا بن رہا ہے، اور مبتدا کیا ہوا کرتا ہے؟ مرفوع۔ تقدیراً آپ نے کہا، یہ کیوں کہا آپ نے؟ شاباش! اسم منقوص، نہیں بھئی، اسم مقصور۔ یہ مقصور اور منقوص میں اکثر جو ہے نا ایک دوسرے کے مشابہ لفظ ہیں تو پتہ نہیں چلتا۔ تو یہ جو اسم مقصور ہے اس کے، مقصور لفظ آ رہا ہے، اس سے یاد رکھیں۔ اس کے آخر میں کیا آتا ہے؟ الف مقصورہ، اور منقوص ناقص سے ہے، ناقص، اور ناقص کسے کہتے ہیں جس کے آخر میں واؤ، الف، یا؟ یا آئے۔ تو اس میں بھی واؤ، الف، یا میں سے، اس میں تو صرف یا آئے گی بھئی، اس کا ماقبل کیا ہوگا؟ کسرہ۔ تو یہ ناقص سے لفظ بنا ہے، اس، یاد رکھیں بھئی اس نشانی سے بھولے گا نہیں کبھی۔ اچھا، تو یہ اسم مقصور ہے بھئی، اور اسم مقصور کا اعراب آپ نے پڑھا ہے بھئی، تینوں حالتوں میں کیسا ہوگا؟ تقدیری ہوگا، تو یہ مرفوع تقدیراً ہوا، شاباش! آگے۔ رَجُلٌ اعراب، سب سے پہلے اعراب بتایا کرو۔ مرفوع لفظاً، مرفوع لفظاً، شاباش! مرفوع کیوں کہا آپ نے بھئی؟ ہاں، اس نے کیا بننا ہے اب؟ خبر بننا ہے، اور خبر کے اعراب کیا ہوتا ہے؟ مرفوع ہوتی ہے، اور مرفوع آپ نے لفظاً کہا، یہ کیوں؟ تلفظ ہو رہا ہے، شاباش! رفع پر ہم کیا کر رہے ہیں؟ تلفظ کر رہے ہیں، رَجُلٌ، جی مرفوع لفظاً، کیا بنایا؟ موصوف کیوں کہا آپ نے؟ دو نکرہ اکٹھے آ گئے، شاباش! دیکھا بھئی، قوانین لگتے جا رہے ہیں، دو نکرہ اکٹھے آ گئے، پہلے کو بنایا موصوف، دوسرے کو صفت۔ تو رَجُلٌ مرفوع لفظاً موصوف، آگے۔ شَرِيْفٌ مرفوع لفظاً صفت، مرفوع لفظاً صفت۔ یاد رکھو لفظ صفت ہے، صفت، صِفْتْ نہیں ہے بھئی۔ صِفَةٌ، گول تا ہے بھئی، گول تا آخر میں، اور عربی میں جس لفظ کے آخر میں بھی یہ تائے تانیث آ جائے اس کا ماقبل ہمیشہ مفتوح ہوا کرتا ہے، اس کا ماقبل ہمیشہ مفتوح ہوا کرتا ہے: صِفَةٌ، قَائِمَةٌ، ضَارِبَةٌ، آپ کوئی بھی صیغہ دیکھ لیں۔ اچھا، کیا بتایا آپ نے بھئی؟ شَرِيْفٌ مرفوع، موصوف، مرفوع کیوں کہا پہلے یہ تو بتائیے یہ؟ یہ موصوف کی صفت بن کر خبر بن رہی ہے، خبر تو بھئی وہ پہلا جزء بنے گا، آگے جو اس کے ساتھ جڑ رہے ہیں اس کو نہ، جی، یہ صفت بن رہی ہے، یہ پھر صفت کہہ رہے ہو، ہاں یہ صفت بن رہی ہے، اور تو کیا ہوا صفت بن رہی ہے؟ موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے، ہاں موصوف اور صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے، موصوف صفت کا اعراب ایک۔ ہاں اردو میں صفت لفظ استعمال ہوتا ہے، اردو کے لحاظ سے کہیں تو آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں بھئی، عربی کا لفظ استعمال کر رہے ہیں تو وہ صفت ہے، اردو میں صفت استعمال ہوتا ہے، جی۔ تو یہ مرفوع، اور کون سا مرفوع؟ لفظاً، لفظاً کیوں کہا؟ تلفظ ہو رہا ہے، جی۔ شَرِيْفٌ، صیغہ کون سا ہے؟ صفت مشبہ ہے: شَرِيْفٌ، كَرِيْمٌ، یہ صفت مشبہ ہے۔ اور میں نے بتلایا تھا، جب فعل آئے تو کس کو تلاش کرو فوراً؟ فاعل کو، فعل معروف جب بھی آئے کس کو تلاش کرنا ہے؟ فاعل کو، فعل مجہول آئے، کس کو تلاش کرنا ہے؟ نائب فاعل کو، اسم فاعل آ جائے، پھر بھی کس کو تلاش کرنا ہے؟ فاعل کو، صفت مشبہ آ جائے پھر بھی کس کو تلاش کرنا ہے؟ فاعل کو تلاش کرنا ہے بھئی، اب صفت مشبہ آ گئی تو اس کا فاعل بتلاؤ۔ ھو ضمیر، جی، اس کے اندر مستتر بھئی، ھو ضمیر، جَيِّدًا کے اندر مستتر کون سی ضمیر؟ ھو ضمیر، اعراب بتاؤ ھو ضمیر کا۔ مرفوع محلاً، شاباش! ھو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، صفت مشبہ اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ، اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ، شاباش! صفت مشبہ اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت ہوئی موصوف کے لیے، اور موصوف اپنی صفت سے مل کر خبر ہوئی، ہاں موصوف اپنی صفت سے مل کر خبر، آگے۔ مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، ہاں مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، ترکیب سمجھ میں آئی بھئی؟ دیکھا بھئی، آج انہوں نے بہتر کی ترکیب بھئی۔ اب اس کو ذرا روانی سے پڑھو جملے کو: عِيْسٰى رَجُلٌ شَرِيْفٌ، ہاں عِيْسٰى رَجُلٌ شَرِيْفٌ، ترجمہ: عیسیٰ اچھا آدمی ہے، شریف آدمی ہے، ہاں عیسیٰ اچھا آدمی ہے، شریف آدمی ہے۔ زَيْدٌ، زَيْدٌ، ضَرَبَ، ضَرَبَ، اَبُوْهُ، اَبُوْهُ، عَمْرًا، عَمْرًا، جی یہ ترکیب کون کرے گا بھئی؟ چلیے کیجیے بھئی، ترکیب آتی تو نہیں بھئی پہلے سے؟ چلیے کیجیے کوشش۔ زَيْدٌ مبتدا، اعراب، سب سے پہلے اعراب بتایا کرو۔ زَيْدٌ مرفوع لفظاً مبتدا، ہاں مرفوع پہلے کہو، لفظاً بعد میں کہو، زَيْدٌ مرفوع لفظاً، مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ مبتدا، مرفوع مرفوع؟ ہاں یہ مبتدا ہے، اور تلفظ ہو رہا ہے، جی تو مرفوع لفظاً مبتدا، آگے۔ ضَرَبَ فعل، ضَرَبَ فعل، اَبُوْهُ مرفوع لفظاً مضاف، اعراب سب سے پہلے۔ آگے اب کیا سوچنے کی بات ہے بھئی؟ ھا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، شاباش! ھا ضمیر کہو ھا بھئی، سمجھ میں آیا؟ الف، با، تا، ثا کی طرح وہ ھا حرف جو ہے وہ ہے، ھا مجرور مضاف الیہ، اچھا پہلے تو یہ بتائیے آپ نے اَبُو کو مضاف بنایا، مضاف کیوں بنایا؟ کیوں آپ نے مضاف کہا بھئی؟ ضابطہ ذکر کرو، جس اسم کے ساتھ ضمیر متصل ہو کیا ترکیب ہوگی؟ مضاف مضاف الیہ، جس اسم کے ساتھ ضمیر متصل ہو تو وہاں کیا ترکیب ہوگی؟ مضاف مضاف الیہ کی ترکیب ہوگی، تو اَبُو مضاف، ھا ضمیر مضاف الیہ، اور مضاف الیہ کا اعراب تو پکی بات ہے ہمیشہ کیا آئے گا؟ مجرور ہوگا، جر آئے گا اس پر، اب صرف یہ تعین باقی ہے کہ یہ مجرور لفظاً ہے، محلاً ہے یا تقدیراً ہے؟ تو یہ کون سا مجرور ہے؟ محلاً مجرور ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ کیوں؟ کیونکہ ضمائر مبنیات میں سے ہیں اور اس کا اعراب محلاً آیا کرتا ہے، اور یہ جو اس پر فتحہ میں پڑھ رہا ہوں یہ اعراب نہیں ہے بھئی، یہ تو کاف کی حرکت ہے بھئی، کاف کی حرکت۔ جی، اب ملائیے سارے کو۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر فاعل، مضاف مضاف الیہ مل کر خبر ہوئی مبتدا کے لیے، مضاف مضاف الیہ مل کر فاعل، ضَرَبَ کے لیے فاعل، اب اپنی غلطی کا پتہ چلا آپ کو بھئی؟ آپ کیا کر رہے تھے؟ ھو ضمیر اس کے اندر فاعل نکال رہے تھے، اگر ھو ضمیر نکال لیں، مان لیں، تو آگے اَبُوْهُ آ ہی نہیں سکتا، مرفوع آ ہی نہیں سکتا۔ تو سب سے پہلے آپ کو یہ دیکھنا چاہیے تھا کہ یہ ضَرَبَ کس میں سے ہے؟ دو میں سے ہے یا بارہ میں سے؟ فعل آئے تو پہلے یہ دیکھا کرو دو میں سے ہے یا؟ اور اگر دو میں سے ہو، یعنی پہلا اور چوتھا صیغہ ہے، تو فوراً آگے نظر دوڑاؤ، کوئی فاعل تو نہیں آ رہا اس کا؟ اگر آگے آ رہا ہے پھر ضمیر نکالنے کی حاجت نہیں۔ چلیے جی شاباش، اب آپ کیجیے پھر ترکیب بھئی۔ اَبُوْهُ مضاف مضاف الیہ مل کر فاعل، آگے۔ عَمْرًا مفعول، اعراب بتلاؤ، عَمْرًا منصوب لفظاً مفعول، عَمْرًا منصوب لفظاً مفعول، شاباش! عَمْرًا منصوب لفظاً مفعول، منصوب کیوں بنایا آپ نے اس کو بھئی؟ مفعول ہے، فاعل ایک گزر چکا تھا، اب آگے منصوب اور مجرور آ سکتے تھے، مجرور تو یہ ہے نہیں، لہٰذا کیا بنے گا؟ منصوب ہی رہ گیا بھئی، جی منصوب، مفعول۔ اب جوڑیے سب کو: فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ، فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ بناؤ پہلے بھئی، فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر مبتدا کے لیے خبر ہوئی، خبر ہوئی مبتدا کے لیے۔ خبر کیسے بنا رہے ہو؟ ربط تو آپ نے کوئی دیا نہیں، کون سی ضمیر؟ ہاں، یہ اَبُوْهُ کی جو ھا ضمیر ہے یہ کس کو لوٹ رہی ہے؟ زید مبتدا کو بھئی، یہ عائد ہے، جی تو یہ خبر ہوئی مبتدا، خبر مل کر جملہ اسمیہ۔ اب اس کا ذرا روانی سے پڑھ دیجیے: زَيْدٌ ضَرَبَ اَبُوْهُ عَمْرًا، ترجمہ کیجیے۔ ایک ایک لفظ کا ترجمہ کر: زید نے مارا، نہیں نہیں، ایک ایک لفظ کا کرو ترجمہ پھر بنے گی بات بھئی۔ زید نے مارا، آپ نے زید کو فاعل بنا دیا ترجمے میں، معلوم ہوا پٹائی کرنے والا کون؟ زید، اور جملے میں آپ نے فاعل کس کو بنایا تھا؟ اَبُوْهُ کو۔ جس کو فاعل بنایا تھا اس کو ترجمے میں بھی فاعل رکھو۔ ایک ایک لفظ کا کرتے جاؤ ترجمہ، زید، آگے کرو ہاں، مارا اس کے باپ نے، ہاں، زید کہ پٹائی کی، کس نے کی؟ اَبُوْهُ اس کے باپ نے، عَمْرًا کس کی؟ عمرو کی، زید کہ پٹائی کی اس کے باپ نے عمرو کی، اب ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ اَلرِّجَالُ، اَلرِّجَالُ، قَامُوْا، قَامُوْا، لکھ لیا بھئی؟ اچھا، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جن کو نہیں آتی بھئی، جن کو نہیں آتی، آپ کو نہیں آتی ترکیب بھئی؟ بالکل نہیں آتی؟ چلیے شاباش، کوشش کریں پھر، ٹھیک ہے۔ اَلرِّجَالُ مبتدا، سب سے پہلے اعراب بتاؤ، اسم آ جائے تو، وہ ذہن میں رکھو کہ میں اس کو کیا بنا رہا ہوں، وہ آخر میں پھر بتائیں۔ اَلرِّجَالُ مرفوع، کیوں مرفوع کیوں ہے؟ مبتدا ہے، مبتدا مرفوع ہوا کرتا ہے، پھر مرفوع کون سا؟ محلاً، مرفوع محلاً، محلاً کیوں کہا آپ نے؟ تلفظ ہو رہا ہے، ہاں، تلفظ کر رہے ہو تو پھر محلاً کیوں کہتے ہو؟ ہاں، لفظاً، اَلرِّجَالُ مرفوع لفظاً مبتدا، آگے۔ قَامُوْا فعل، شاباش! قَامُوْا فعل، الف ضمیر اس کا فاعل، قَامُوْا، اس میں تو الف کون سا، یہ درمیان میں جو الف ہے؟ وہ الف، وہ صرف ویسے لکھتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ وہ فرق کرنے کے لیے لکھتے ہیں۔ واؤ فاعل، ہاں شاباش! یہ میں نے پوچھنا چاہتا تھا، انہوں نے صحیح بتایا، ھم ضمیر نہ کہہ دینا، بلکہ اس کے آخر میں جو واؤ ہے یہ کیا ہے؟ ضمیر ہے بھئی، میں نے آپ کو بتلایا تھا یہ واؤ، الف وغیرہ جو فعل کے آخر میں لگے ہوں یہ ضمیریں ہیں، تو قَامُوْا فعل، فعل با فاعل، اس کے اندر واؤ ضمیر فاعل، اعراب بتاؤ اب اس کا۔ یہ تقدیراً ہے، کیا ہے؟ مجرور ہے؟ مرفوع ہے، مرفوع کیوں ہے؟ فاعل ہے، شاباش! فاعل مرفوع ہوتا ہے، اب مرفوعات میں سے کون سی قسم ہے یہ؟ کون سا مرفوع بنے گا، کون سا؟ ضمیر ہے بھئی، ضمیر ہے، واؤ کیا ہے؟ ضمیر، اور ضمیر کس میں سے ہے؟ مبنیات میں سے، اور مبنی کا اعراب کیسے ہوتا ہے؟ محلاً، تو مرفوع محلاً، جی اب پوری کیجیے ترکیب۔ واؤ مرفوع محلاً فاعل، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر الرجال کے لیے خبر۔ شاباش! فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر اَلرِّجَالُ کے لیے خبر، خبر کیسے بنائی؟ جملے کو آپ جوڑ رہے ہیں، ربط آپ نے کوئی نہیں بتایا۔ الرجال مبتدا، قاموا اس کی خبر، اور جملہ فعلیہ ہو کر خبر۔ لیکن خبر کیا ہے، جملہ ہے یا، جملہ ہے یا نہیں بھئی قَامُوْا؟ آپ نے بتایا ہی نہیں جملہ فعلیہ ہو کر، اور جملے کو میں نے بتایا جب بھی کسی چیز سے جوڑو، کیا چاہیے؟ عائد چاہیے، عائد بتلائیے بھئی، عائد بتلائیے جی، آپ بھئی۔ عائد کیا ہوتا ہے، میں نے کیا بتایا، آسان سی بات ہے، سوچنے اور ضمیر، عموماً ضمیر ہوتی ہے، اور یہاں کتنی ضمیریں ہیں آپ کے پاس، چار، پانچ، چھ، یا دس بھئی؟ ایک، ایک ہی ضمیر ہے، آپ نے قَامَ کی، قَامُوْا کے آخر میں یہ جو واؤ ہے ضمیر، اور یہ کون سی ضمیر ہے؟ واحد کی ضمیر ہے، جمع کی ہے، تثنیہ کی ہے، مذکر کی ہے، مؤنث کی ہے بھئی؟ جمع مذکر کی ہے، اور اس کو لوٹانا بھی آپ کس کی جانب چاہتے ہیں؟ اَلرِّجَالُ کی طرف، اور وہ بھی کیا ہے؟ جمع مذکر، ضمیر اور مرجع میں کیا موجود ہے؟ مطابقت موجود ہے، معلوم ہوا یہ واؤ ضمیر کس کو لوٹ رہی ہے؟ اَلرِّجَالُ کو، یہی تو عائد ہے، تو فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر یہ خبر ہوئی کس کے لیے؟ مبتدا کے لیے، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ اچھا، چلیے بھئی، بس کرتے ہیں۔ اگلا قانون میرا ارادہ تھا لکھواؤں، لیکن ابھی اس کی کچھ اور مشق کی ضرورت ہے بھئی۔ ایک دن اور ذرا مشق کر لیں گے چند جملوں کی، پھر اس کے بعد اگلا، اگلے قانون کی طرف چلیں گے ہم، اور پھر اس کے بعد جار مجرور کی ترکیب کی طرف جائیں گے بھئی، جو بڑی کثرت سے استعمال ہوتی ہے، اور جس میں طلباء بڑے پریشان ہوتے ہیں، انشاء اللہ بھئی وہ بھی آپ نے بہت آسانی سے حل کرنی ہے، انشاء اللہ۔ ہاں بھئی، مستقل مزاجی سے آؤ بھئی، یہ چند دن کے سبق ہیں، تھوڑا سا وقت ہوتا ہے، اور میں اسی لیے ساری باتیں دوبارہ دہرا دیا کرتا ہوں اکثر باتیں کہ آپ مصروف لوگ ہیں، وقت ملا نہیں ہوگا، دیگر اسباق آپ کے بہت زیادہ ہیں، تکرار وغیرہ بھی ان میں اس وقت میں پورا نہیں ہو سکتا، تو میں خود ہی یہاں ساری پچھلی باتیں اکثر دہرانے کی کوشش کرتا ہوں بھئی۔ ٹھیک ہے، کچھ کو تو یاد ہوں گی، کچھ کے ذہن میں ایک آدھی بات نہیں ہے تو وہ بھی تازہ ہو جائے گی، تو کوشش کرتے رہو بھئی، کوشش کرتے رہو۔ چلیے جی، دعا کر لیں۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلِّمْ۔ اے اللہ! ہمارے جتنے اساتذہ ہم سے رخصت ہو چکے ہیں، اے اللہ! سب کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! سب کی لغزشات سے درگزر فرما۔ اے اللہ! سب کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! جو ان کے گھر والے، اولاد وغیرہ جو باقی ہیں، اے اللہ! ان کو خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کی تکالیف اور پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! ان کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔