درس نمبر۔7 اچھا بھئی، آپ نے پڑھا تھا کہ جملہ دو قسم پر ہے: ایک جملہ اسمیہ ہے اور دوسرا جملہ فعلیہ ہے۔ اور جملہ اسمیہ کی ترکیب کرتے ہوئے میں نے بتایا تھا کہ جملہ اسمیہ میں صرف دو جزء ہوا کرتے ہیں، پہلے کو مبتدا کہتے ہیں اور دوسرے کو خبر۔ جتنے بھی زیادہ لفظ ہوں بالآخر وہ جڑ کر ایک مبتدا بن جائے گا اور ایک خبر بھئی۔ اور مبتدا اکثر معرفہ ہوتا ہے اور خبر نکرہ ہوا کرتی ہے بھئی۔ پھر جملہ فعلیہ کی ترکیب میں میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ایک فعل لازم ہے، ایک فعل متعدی۔ فعل لازم صرف فاعل کو چاہتا ہے، فعل متعدی مفعول کا بھی تقاضا کرتا ہے، البتہ کبھی ایک مفعول کا تقاضا کرے گا، کبھی دو مفعولوں کا، کبھی دو سے بھی زیادہ مفعولوں کا تقاضا۔ اور پتہ اس سے چلے گا کہ عموماً فعل متعدی کا اردو میں ترجمہ کیا جائے تو لفظ ’نے‘ اس کے اندر آتا ہے بھئی، جبکہ فعل لازم میں لفظ ’نے‘ نہیں آتا بھئی۔ اور یہ بھی آپ کو بتلایا تھا کہ فعل کے آ جانے کے بعد جملے میں صرف فاعل مرفوع آئے گا بھئی فاعل۔ تو فاعل مرفوع ہوا، اور مجرور صرف وہ ہوگا جس پر حرف جر آئے یا اس سے پہلے مضاف ہو بھئی۔ باقی منصوب ہوں گے وہ اب آپ نے پہچاننا ہے کہ یہ مفعول بہ ہے، مفعول فیہ ہے، مفعول مطلق ہے، وغیرہ بھئی۔ اس کے بعد افعال کے اندر میں نے آپ کو پہچان کروائی تھی کہ کس فعل کے اندر، کون سے صیغے کے اندر کیا کیا فاعل ہوگا، اور بتلایا تھا کہ پہلا اور چوتھا صیغہ جو ہے اس کے اندر فاعل آگے اسم ظاہر آ سکتا ہے جبکہ باقی تمام صیغوں کے اندر فاعل ہمیشہ ضمیر ہوگی، تلاش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں بھئی آگے، اور فعل کبھی بھی فاعل کے بغیر نہیں آتا۔ جب بھی فعل آئے گا، ساتھ ہی اس کا ہمیشہ فاعل آئے گا، اور اگر فعل مجہول ہے تو پھر اس کے ساتھ نائب فاعل آئے گا۔ اور پھر یہ ضابطہ بھی بتلایا تھا کہ جمع بتاویل جماعت کے واحد مؤنث کے حکم میں ہوتی ہے لہٰذا اس کی طرف واحد مؤنث کی ضمیر راجع کی جاتی ہے۔ اور ایک ضابطہ یہ بتلایا تھا کہ فعل پر فاعل کبھی بھی مقدم نہیں ہوتا بھئی، فاعل جب بھی آئے گا فعل کے بعد آئے گا، فعل سے پہلے نہیں آ سکتا بھئی۔ اس کے بعد یہ بھی آپ کو بتلایا تھا میں نے کہ مبتدا کی خبر جو ہے وہ کبھی جملہ بھی ہو سکتی ہے۔ مبتدا کی خبر جملہ بھی ہو سکتی ہے۔ اور جملہ پھر دو قسم پر آپ نے پڑھا تھا، یا جملہ اسمیہ ہوگا یا جملہ فعلیہ۔ تو وہ جملہ اسمیہ اگر آیا تو پھر وہاں ایک اور مبتدا آئے گا، ایک کو خبر آئے گی، اور مبتدا اور خبر مل کر پورا جملہ ہو کر پھر یہ خبر بنیں گے کس کے لیے؟ پہلے مبتدا کے لیے، پہلے مبتدا۔ اور اگر جملہ فعلیہ خبر آ رہی ہے تو پھر وہاں فعل آئے گا، فاعل آئے گا، کچھ مفعول وغیرہ اس کے ساتھ آ جائیں گے اور پھر وہ پورا جملہ فعلیہ خبر بنے گا پہلے مبتدا کے لیے۔ اور یہ ضابطہ بھی آپ کو بتلایا تھا کہ جملہ یاد رکھیے مستقل ہے، وہ کسی سے جڑنے کا محتاج نہیں۔ لیکن جب اس کو آپ خبر بنا رہے ہیں، مبتدا کے ساتھ جوڑ رہے ہیں، تو درمیان میں ربط چاہیے اور وہ ربط کس سے آئے گا عموماً؟ ضمیر سے ہوگا بھئی ضمیر سے۔ عائد کہلاتا ہے، اور عموماً ضمیر ہوتی ہے، کچھ اور صورتیں بھی ہیں اس کی بھئی۔ تو جملہ یاد رکھیے، کبھی کبھار میں نے بتلایا تھا خبر بھی بنتا ہے، پورا جملہ ہوگا خبر بنے گا، کبھی پورا جملہ ہوگا صفت بنے گا، کبھی پورا جملہ حال بنے گا اور پورا جملہ ہی صلہ بنے گا بھئی۔ تو جس کے ساتھ بھی جملے کو جوڑیں، چاہے اس کو مبتدا کے لیے خبر بنائیں، چاہے اس کو ذوالحال کے لیے حال بنائیں، چاہے اس کو موصوف کے لیے صفت بنائیں اور چاہے اس کو موصول کے لیے صلہ بنائیں، چاروں صورتوں میں ربط ضرور چاہیے اور وہ ربط عموماً ضمیر کے ساتھ آئے گا۔ تو اگر جملہ موصوف کی صفت بن رہا ہو تو اس میں ایک ضمیر ہونی چاہیے جو موصوف کو لوٹے، اگر جملہ مبتدا کی خبر ہو تو اس میں ایک ضمیر چاہیے جو مبتدا کو لوٹے، اگر جملہ حال ہو ذوالحال سے تو پھر اس میں ایک ضمیر چاہیے جو ذوالحال کو لوٹے، اور اگر یہ صلہ ہو تو اس میں ایک ضمیر چاہیے جو موصول کو لوٹے۔ اس کے بعد ایک اور قیمتی بات آپ کو بتلائی تھی کہ جیسے جملے کو کسی چیز سے جوڑنے کے لیے عائد، رابط، اور ضمیر چاہیے، اسی طرح اسم فاعل، اسم مفعول، صفت مشبہ، اور اسم تفضیل، ان کو بھی کسی چیز سے جوڑنے کے لیے کیا چاہیے؟ عائد چاہیے۔ تو جیسے فعل معروف فاعل کا تقاضا کرتا ہے، اسم فاعل بھی کس کا تقاضا کرتا ہے؟ فاعل کا تقاضا کرے گا بھئی۔ ضارب، ضرب فاعل چاہتا ہے تو ضارب بھی کیا چاہتا ہے؟ فاعل۔ اور اگر فعل متعدی ہے تو ضرب جیسے مفعول چاہتا ہے، ضارب بھی کس کو چاہتا ہے؟ مفعول چاہتا ہے، آگے وہ فاعل کو رفع دے گا اور مفعول کو نصب دے گا۔ اسی طرح صفت مشبہ، صفت مشبہ تو فعل لازم سے آیا کرتی ہے ہمیشہ، تو وہ صرف فاعل کا تقاضا کرے گی۔ اسی طرح اسم تفضیل بھی فاعل کا تقاضا کرے گا۔ اور جیسے فعل مجہول نائب فاعل کا تقاضا کرتا ہے، اسی طرح اسم مفعول بھی کس کا تقاضا کرے گا؟ نائب فاعل کا تقاضا کرے گا۔ یہ ضابطے یاد ہیں اچھی طرح بھئی؟ خوب پکے کر لیں یہ ضابطے بھئی۔ لیکن عموماً ہوتا یہ ہے کہ اسم فاعل کا جو فاعل ہوتا ہے، صفت مشبہ کا جو فاعل ہوتا ہے، اسم تفضیل کا جو فاعل ہوتا ہے اور اسم مفعول کا جو نائب فاعل ہوتا ہے، یہ عموماً ہمیں عبارتوں میں نظر نہیں آتے بلکہ انہی کے اندر ضمیر ہوتی ہے۔ لیکن یہ ہے کہ کبھی کبھار جیسے فعل کا فاعل اسم ظاہر آ جاتا ہے، آگے بھی ان کا فاعل یا نائب فاعل اسم ظاہر آ سکتا ہے جسے یہ رفع دیں گے۔ جی، اب کچھ اور جملوں کی ترکیبیں کر لیجیے بھئی۔ زید قام، زید قام۔ جی، کون کرے گا ترکیب اس کی؟ جسے ترکیب نہ آتی ہو بھئی، وہ کوشش کریں فی الحال بس۔ جی شاباش، ترکیب کیجیے۔ زید مرفوع ہے۔ شاباش، مرفوع ہے۔ کیوں مرفوع ہے؟ جی؟ ہاں شاباش! کیونکہ یہ مبتدا بنے گا، اور مبتدا مرفوعات میں سے ہے، مرفوع۔ پھر کون سا مرفوع ہے؟ مرفوع ہے لفظاً۔ کیوں، لفظاً آپ نے کیوں کہا؟ کس چیز پر؟ ہاں زید بھئی، اس پر رفع ہم کیا کر رہے ہیں رفع کا تلفظ؟ تو یہ مرفوع ہوا لفظاً مبتدا۔ آگے؟ قام فعل، شاباش! فعل آ گیا اور فعل آتے ہی فوراً اب کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے ہر حال میں۔ تو قام کے اندر آگے کوئی اسم ظاہر تو آ نہیں رہا، لہٰذا اسی کے اندر ضمیر نکالنی پڑے گی۔ اور ھو ضمیر نکالی، جی، اس کا اعراب بتلائیے۔ اعراب، ھو ضمیر مرفوع، مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ فاعل، شاباش، فاعل مرفوع ہوا کرتا ہے۔ کون سا مرفوع؟ محلاً بھئی، کیوں محلاً کیوں کہا آپ نے؟ شاباش، ضمیر مبنیات میں سے ہے تو یہ جی مرفوع محلاً فاعل۔ کس کو راجع یہ؟ جی؟ اچھا، دیکھا؟ جی، آگے کیجیے ذرا ترکیب۔ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ، پوری بات کریں، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر یہ خبر ہوئی کس کے لیے؟ مبتدا زید کے لیے۔ مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ تو دیکھا، قام پورا جملہ ہے جو مبتدا کے لیے کیا واقع ہو رہا ہے؟ خبر، اور خبر کو، پورا جملہ ہے اور جملے کو آپ کس سے جوڑ رہے ہیں؟ مبتدا سے، تو درمیان میں کیا چاہیے؟ عائد چاہیے اور وہ عائد کون سی ضمیر ہے؟ ھو ضمیر ہے، شاباش، یہ ربط دے رہی ہے بھئی ان کے درمیان۔ ایک اور ترکیب، جی: عمرو ضرب بکر، عمرو ضرب بکر، جی، جملہ ہو گیا بھئی، کون ترکیب کرے گا؟ شاباش کیجیے۔ عمرو آپ نے کیا کہا؟ اعراب؟ ہاں، عمرو مرفوع لفظاً مبتدا۔ ضرب فعل۔ اعراب بھئی، جو اسم آتا جائے اس کا اعراب بتاتے جاؤ، یہی تو عبارت میں یہی تو آپ نے حل کرنا ہے کہ ہر ہر لفظ کا آپ کو اعراب پتہ چل جائے، پھر اس کو روانی سے پڑھ دو، تیزی سے پڑھ دو بھئی۔ بکر انہوں نے کہا منصوب لفظاً، منصوب کیوں کہا؟ مفعول منصوب ہے، اور لفظاً کیوں کہا؟ کیسے؟ جیسے کہہ رہے ہیں اس کو پڑھو بھی اسی طرح بھئی: بکراً منصوب لفظاً، دیکھا نصب پر کیا ہو رہا ہے؟ تلفظ ہو رہا ہے۔ آگے؟ ہاں بھئی، کہہ رہے ہیں فعل اپنے مفعول سے مل کر کیا بن گیا؟ حالانکہ میں نے ابھی ضابطہ لکھوایا ہے، کبھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ فعل آئے اور فاعل نہ آئے، لہٰذا جب فعل آ گیا تو پہلے آپ کو فاعل کے لیے نظر دوڑانی چاہیے تھی پھر باقی مفعول وغیرہ دیکھتے بھئی۔ دوبارہ کیجیے ترکیب بھئی۔ عمرو مرفوع لفظاً مبتدا۔ ضرب فعل۔ شاباش، ھو ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ بکراً منصوب لفظاً مفعول۔ شاباش، فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر خبر ہوئی مبتدا کے لیے۔ بھئی آپ کیسے، جملہ بنا دیا آپ نے اس کو، ضرب بکراً کو آپ نے جملہ بنایا اور جملے کو آپ کس سے جوڑ رہے ہیں؟ مبتدا سے، اور مبتدا سے تو یہ جڑ ہی نہیں سکتا، آپ نے تو کوئی ربط ہی نہیں بتایا۔ جی، کیا ربط ہوگا یہاں پر؟ بس یہ کہہ دو یہ ھو ضمیر لوٹ رہی ہے کس کو؟ عمرو کو جو مبتدا ہے، تو یہ ربط آ گیا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مبتدا چاہے زید کر لیں یا عمرو کر لیں، تو یہ اس کو لوٹ رہی ہے یہ ربط ہے۔ تو ضرب فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر خبر ہوئی مبتدا کے لیے، اور مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ، جملہ کون سا جملہ بنے گا اب؟ جملہ اسمیہ خبریہ، اس کی خبر کون سی جملہ ہے؟ جملہ فعلیہ ہے۔ دیکھا، یہ ایک پورا جملہ ہے لیکن اس کی خبر آگے خود کیا ہے؟ جملہ فعلیہ ہے بھئی، شاباش۔ خالد اخوک، اخوک۔ جی، اب کون کرے گا ترکیب؟ چلیے کیجیے بھئی۔ اعراب، سب سے پہلے اعراب بتایا کرو۔ ہاں، مرفوع پہلے کہو، لفظاً بعد میں کہو: خالدٌ مرفوع لفظاً، مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ مرفوع، مرفوع؟ ہاں یہ مبتدا ہے اور تلفظ ہو رہا ہے جی، تو مرفوع لفظاً مبتدا، آگے۔ جی، اعراب بتایا کرو سب سے پہلے۔ اخو مرفوع تقدیراً، مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ کیونکہ اس نے خبر بننا ہے بھئی، لہٰذا مرفوع۔ تقدیراً آپ نے کیوں کہا؟ جی؟ تلفظ نہیں ہو رہا؟ ہاں بھئی! یہ ہنسنے والوں کی طرف بھی ہم آئیں گے انشاء اللہ بھئی۔ ہنسنا نہیں کسی پہ بھئی، یہاں سب سیکھنے کے لیے آئے ہیں۔ وہ سیکھ رہے ہیں، دیکھا جو کوشش کر رہے ہیں وہ آہستہ آہستہ سیکھتے جا رہے ہیں انشاء اللہ، ایک ادھ ہفتے بعد پھر دیکھیے گا، ابھی جار مجرور کی ترکیب آئے گی پھر پتہ چلے گا انشاء اللہ۔ ہاں بھئی، یہ کون سا مرفوع ہے؟ جی؟ ہاں بھئی، آپ بتائیے۔ تقدیراً مرفوع ہے، جی یہ بیٹھے ہیں بھئی چھپ رہے ہیں۔ جی، ہاں؟ جی؟ تو اعراب کون سا ہوا؟ مرفوع تو ہے، کون سا مرفوع؟ شاباش! مرفوع لفظاً ہے، کیونکہ بھئی وہ میں نے کہا تھا وہ سولہ قسمیں یاد کر لو بھئی، ابھی بھی خوب پکی کر لو۔ اس میں سے یہ ہے اسماء ستہ مکبرہ میں سے ہے اور آپ نے پڑھا ہے: اسماء ستہ مکبرہ موحدہ مضافہ الی غیر یائے متکلم، تو ان کا اعراب حالت رفعی میں کس کے ساتھ آئے گا؟ واؤ کے ساتھ، حالت نصبی میں الف کے ساتھ، اور حالت جری میں یا کے ساتھ۔ تو واؤ آ رہا ہے یا نہیں آ رہا؟ وہ واؤ آپ پڑھ رہے ہیں اس پہ تلفظ کر رہے ہیں یا نہیں پڑھ رہے؟ اخوک، واؤ پڑھا جا رہا ہے یا نہیں بھئی؟ پڑھا جا رہا ہے بھئی، اس پہ تلفظ ہم کر رہے ہیں۔ تو یہ مرفوع ہوا لفظاً۔ آگے کیجیے ترکیب۔ کاف مجرور کہہ رہے ہیں بھئی۔ جی؟ مجرور کیوں کہا آپ نے بھئی؟ کا، اخوک، میں اس پہ زبر پڑھ تو رہا ہوں، پھر آپ اس کو مجرور کہہ رہے ہیں۔ ہاں بھئی، آپ بتاؤ بھئی۔ مضاف الیہ تو بنتی ہے، یہ کہہ رہے ہیں مجرور ہے، حالانکہ اس پہ تو میں نصب پڑھ رہا ہوں بھئی۔ ہاں شاباش! صحیح بتایا بھئی، آپ نے بھی صحیح بتایا، بھئی میں نے ضابطہ لکھوایا تھا: جس اسم کے ساتھ بھی ضمیر متصل ہو تو وہاں کیا ترکیب ہوگی؟ مضاف مضاف الیہ کی ترکیب ہوگی، تو اخو مضاف، کاف ضمیر مضاف الیہ، اور مضاف الیہ کا اعراب تو پکی بات ہے ہمیشہ کیا آئے گا؟ مجرور ہوگا، جر آئے گا اس پر۔ اب صرف یہ تعین باقی ہے کہ یہ مجرور لفظاً ہے، محلاً ہے یا تقدیراً ہے۔ تو یہ کون سا مجرور ہے؟ محلاً مجرور ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ کیوں؟ کیونکہ ضمائر مبنیات میں سے ہیں اور اس کا اعراب محلاً آیا کرتا ہے، اور یہ جو اس پر فتحہ میں پڑھ رہا ہوں یہ اعراب نہیں ہے بھئی، یہ تو کاف کی حرکت ہے بھئی، کاف کی حرکت۔ جی، اب ملائیے سارے کو۔ مضاف مضاف الیہ مل کر خبر ہوئی مبتدا کے لیے، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ کیسے پڑھیں گے عبارت پوری پڑھیے روانی سے؟ خالد اخوک، ترجمہ کیجیے: خالد آپ کا بھئی ہے۔ ترکیب، اگلا جملہ لکھیے: الرجلان، الرجلان، قائم، قائم۔ چلیے بھئی ترکیب کیجیے۔ الرجلان کہہ رہے ہیں بھئی مرفوع لفظاً، دیکھو بھئی، الرجلان مرفوع لفظاً، مرفوع کیوں ہے بھئی؟ مرفوع کیوں ہے؟ مبتدا واقع ہو رہا ہے تو مبتدا ہمیشہ کیا ہوا کرتا ہے؟ اور میں تو اس پہ کسرہ پڑھ رہا ہوں بھئی: الرجلانِ، جی؟ ہاں تثنیہ کا اعراب بھئی یہ الف اور یا سے پتہ چلتا ہے، یہ نون تو کیا ہے؟ یہ اعراب اس پہ نہیں ہے بھئی، یہ تو نون تثنیہ ہے، یہ الف اعراب اس کا الف بتلا رہا ہے بھئی۔ حالت نصبی، جری میں یہ کیا ہوتا؟ الرجلین، حالت نصبی اور جری میں؟ تو الرجلان یہ حالت رفعی میں الف ہے بھئی، اور کون سا مرفوع ہوا، کون سا مرفوع؟ لفظاً مرفوع ہے، کیونکہ اس الف پر ہم تلفظ کر رہے ہیں اسے پڑھ رہے ہیں: الرجلان، تو یہ نون کے نیچے جو ہے کسرہ یہ نہیں اعراب بھئی۔ آگے، الرجلان مرفوع لفظاً مبتدا، قائم، اعراب سب سے پہلے۔ قائم مرفوع لفظاً، مرفوع کیوں کہا؟ خبر ہے، شاباش، لفظاً کیوں کہا؟ تلفظ کر رہے ہیں رفع پر، قائم مرفوع لفظاً، خبر۔ ہاں دیکھا، خلاصہ ترکیب پہلے کر رہے تھے، اس میں فاعل آ گیا اور اسم فاعل کے لیے بھی ہمیشہ کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے، اب وہ فاعل بتلائیے بھئی۔ قائم کے اندر کون سی ضمیر؟ ہاں شاباش! دیکھا؟ گہرائی میں گئے تو پتہ چل گیا کتابت کی غلطی پکڑ لی انہوں نے فوراً بھئی، اس لیے کہ قائم صیغہ ہے اسم فاعل، اور اسم فاعل کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ فاعل، تو اس کے اندر کون سی ضمیر نکالنی پڑے گی؟ کیونکہ مفرد کا صیغہ ہے تو ھو ضمیر اس کے اندر نکالیں گے۔ تو ھو ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، اور صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر کیا بنے گا؟ شبہ جملہ، کیا؟ جملہ نہیں، شبہ جملہ ہو کر یہ اس نے خبر بننا ہے کس کے لیے؟ مبتدا کے لیے، تو ربط چاہیے یا نہیں ربط چاہیے؟ جیسے جملے کو مبتدا سے جوڑتے ہیں تو درمیان میں ربط چاہیے، کوئی ضمیر جو اس کی طرف لوٹے، اسی طرح اسم فاعل جو صفت کے صیغے ہیں ان میں بھی ضمیر چاہیے بھئی، تو وہ ربط کے لیے اب ضمیر چاہیے تھی، تو اب ھو ضمیر ہمیں کس کو لوٹانا پڑے گی؟ الرجلان کو، اور الرجلان تو ہے تثنیہ، اور ھو ضمیر کون سی ہے؟ مفرد کی، تو مفرد کی ضمیر تثنیہ کی طرف لوٹ سکتی ہے بھئی؟ نہیں لوٹ سکتی۔ معلوم ہوا جملے میں کہیں گڑبڑ ہے بھئی، تو اب کیا، کون سی ضمیر ہمیں چاہیے؟ تثنیہ کی، تو اس صیغے کو بھی کون سا بنا لو؟ تثنیہ کا صیغہ بنا لو، وہ ضمیر آپ کو مل جائے گی، کیا بنائیں گے اس کو؟ قائمان بھئی، تو قائمان، الرجلان قائمان، تو قائمان کے اندر کون سی ضمیر آ گئی؟ کون سی ضمیر؟ ہما ضمیر بھئی، ہما ضمیر، جو راجع ہے کس کو؟ مبتدا کو بھئی۔ ترکیب سب کو سمجھ میں آئی بھئی؟ تو دیکھا، آپ نے ضمیر کو لوٹایا تو غلطی کا پتہ چلا آپ کو، خرابی کا پتہ چلا، اگر نہ لوٹاتے تو پتہ بھی نہ چلتا۔ تو الرجلان قائمان۔ آگے لکھیے: الزیدان، الزیدان، ضربا، ضربا، عمرو، عمرو۔ اب کون کرے گا ترکیب؟ جی کیجیے۔ الزیدان مرفوع لفظاً مبتدا۔ ضربا فعل۔ ضربا میں نے لکھوایا ہے ضربا، ضربا فعل، اور ضمیر فاعل، کون سی ضمیر بھئی؟ ھما ضمیر پھر کہہ رہے ہو، میں نے کیا بتلایا تھا؟ یہ الف ضربا کے آخر میں جو الف لگا ہوا ہے یہ تثنیہ کی ضمیر ہے بھئی، یہ فاعل کہو، الف، اعراب بھی اب اس کا بتاؤ۔ جی؟ الف کہہ رہے ہیں منصوب لفظاً، منصوب کیوں کہا آپ نے؟ جی؟ ہاں بھئی، آپ بتاؤ۔ ساتھ والے۔ مرفوع محلاً، مرفوع کیوں کہا؟ وہ کہہ رہے ہیں مبتدا کی خبر مرفوع ہوا کرتی ہے بھئی۔ کیوں بھئی، آپ کیا کہتے ہیں اس بارے میں؟ شاباش بھئی! مرفوع ہے اور مرفوع بھی کون سا؟ محلاً، اور کیوں مرفوع ہے؟ کیونکہ ضربا کا ابھی تو آپ نے خود ہی بتایا ہے کہ الف کیا ہے ضربا کے لیے؟ فاعل ہے اور فاعل مرفوع ہوتا ہے، اور محلاً کیوں کہا؟ کیونکہ یہ مبنیات میں سے ہے، شاباش بھئی، آگے چلیے۔ عمراً منصوب لفظاً، جی منصوب کیوں کہا؟ مفعول، لفظاً کیوں کہا؟ تلفظ ہو رہا ہے نصب پر، منصوب لفظاً کیا بنا؟ مفعول، جی۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ بناؤ پہلے بھئی، فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر خبر ہوئی مبتدا کے لیے۔ خبر کیسے بنا رہے ہو، ربط تو آپ نے کوئی دیا نہیں۔ کون سی ضمیر؟ ہاں، یہ الف ضمیر بتلاؤ تو سہی، یہ الف ضمیر کس کو راجع ہے؟ الزیدان، وہ بھی تثنیہ، یہ بھی ضمیر تثنیہ کی، معلوم ہوا جملہ صحیح ہے بھئی، تو یہ عائد بن گیا، ربط آ گیا۔ تو جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر یہ خبر ہوئی مبتدا کے لیے اور مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ جی، الزیدان، جی، روانی سے پڑھیے جملہ: الزیدان ضربا عمراً، ترجمہ کیجیے۔ ایک ایک لفظ کا ترجمہ کرتے جائیے، جملہ بن جائے گا۔ یرحمک اللہ۔ جی؟ کس کو مارا؟ ان دو زید کو مارا عمرو نے؟ فاعل کس کو بنایا تھا؟ مفعول کس کو بنایا تھا؟ اس کے مطابق ترجمہ کرو۔ ہاں بھئی، ترجمہ آپ کریں۔ اوہو! ایک ایک لفظ کا ترتیب سے ترجمہ کرو۔ جی؟ ہاں یوں کرو ترجمہ بھئی، اس طرح کرو: الزیدان، یاد رکھو یہ الف لام کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے، الف لام کے ذریعے کسی چیز کی طرف؟ تو الزیدان پر الف لام آیا، معلوم ہوا کوئی خاص دو زید مراد ہیں۔ تو اشارہ ہوا: وہ دو زید، الزیدان، یہ الزیدان کا ترجمہ ہوا: وہ دو زید۔ ضربا، اب اس کا ترجمہ: کہ پٹائی کی، اب ضمیر کا ترجمہ کرو: ان دونوں نے، عمراً: کس کی؟ عمرو کی، وہ دو زید کہ پٹائی کی ان دونوں نے عمرو کی، ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ اس طرح ترجمہ ہوگا۔ غلامی، غلامی، کتب ھٰذا، کتب ھٰذا، کتب چھوٹے کاف سے بھئی، کتب ھٰذا۔ ہمم، اب ذرا مشکل جملہ آیا ہے، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ بھئی آپ نے کوئی ترکیب کی ہے؟ ہاں، چلو کوشش کرو شاباش، کوشش کرو بھئی ہمت نہ ہارو۔ سب سے پہلے میں نے بتایا اعراب بتایا کرو۔ غلامی کہہ رہے ہیں بھئی منصوب محلاً، منصوب کہنے کی وجہ بتاؤ۔ مضاف تو بن رہا ہے، وہ کیسے آپ کو پتہ چلا مضاف بن رہا ہے؟ ہاں ضابطہ ذکر کرو: جس اسم کے ساتھ ضمیر متصل آ جائے کیا ترکیب ہوگی؟ مضاف مضاف الیہ کی، یہ بات تو طے ہو گئی بھئی، چلیے یا کا آپ کو پتہ چل گیا، اب غلام کا اعراب بتا دو۔ منصوب محلاً، منصوب کیوں کہا آپ نے؟ غلام بھئی: جاءنی غلامٌ، رأیت غلاماً، مررت بغلامٍ، اس پہ تو تینوں اعراب آ رہے ہیں، مبنیات میں سے آپ کیسے کہہ رہے ہیں؟ منصوب لفظاً، تو منصوب کیوں کہہ رہے ہیں آپ؟ اس کی وجہ نہیں ذکر کر رہے آپ۔ مضاف، نہیں بھئی مضاف منصوب بھی ہو سکتا ہے، مرفوع بھی ہو سکتا ہے، مجرور بھی ہو سکتا ہے۔ مضاف الیہ کا تو طے ہے وہ کیا ہوگا؟ مجرور، مضاف پہ تو کوئی بھی اعراب آ سکتا ہے۔ جی، ادھر سے کون کرے گا ترکیب؟ جن کو آتی ہے وہ نہیں بھئی، دوسروں کو کرنے دیں، دماغ پہ ذرا بوجھ پڑے گا تو انشاء اللہ کوئی مشکل نہیں ہے، بھئی مشق کرتے جاؤ، غلطی ہوتی ہے غلطی کرو بھئی، جی۔ غلام کا اعراب بتاؤ بس بھئی۔ مرفوع، کیوں کہا مرفوع آپ نے؟ ہاں مبتدا بنے گا یہ، اس نے کیا بننا ہے؟ مبتدا۔ بھئی دیکھو، میں نے آپ کو بتایا ہے، شروع میں اسم، جملے کے شروع میں اسم آ جائے تو وہ عموماً کون سا جملہ بنتا ہے؟ جملہ اسمیہ، ہمیشہ جملہ اسمیہ بنتا ہے۔ شروع میں اسم آ رہا ہے تو یہ بات طے ہو گئی کہ یہ جملہ اسمیہ بننا ہے، پھر اس کے بعد اب مبتدا آ رہا ہے شروع میں یا خبر؟ مبتدا بھی مرفوع ہوا کرتا ہے اور خبر بھی، تو مرفوع ہونا تو طے ہے۔ جی، آگے اب کیجیے پھر بھئی۔ ابھی پوری بات نہیں ہوئی بھئی، غلام مرفوع، کون سا مرفوع؟ مرفوع لفظاً؟ کیسے؟ مبتدا تو ہے، مرفوع بھی ہے، کون سا مرفوع ہے؟ تقدیراً ہے، محلاً ہے یا لفظاً ہے؟ لفظاً کیوں کہا آپ نے؟ رفع کا تلفظ ہو رہا ہے؟ رفع تو یا ضمہ کے ساتھ آتا ہے، یا الف کے ساتھ آتا ہے تثنیہ میں تھا الرجلان یہ الف ہم تلفظ کرتے تھے یہ رفع تھا، مسلمون اس کے اندر ہم واؤ پر کیا کرتے ہیں؟ تلفظ کرتے ہیں تو لفظاً اس لیے ہم کہتے ہیں، یہاں تو نہ ضمہ ہے، نہ الف ہے، نہ واؤ ہے، پھر آپ لفظاً کیسے کہہ رہے ہیں؟ ساتھ والے بھئی، غلام محلاً مرفوع، اب محلاً آپ نے کیوں کہا اس کی وجہ بتا دو۔ محلاً تو صرف مبنی کا اعراب آتا ہے، اور مبنیات آٹھ ہیں ان میں سے دیکھیں یہ کوئی ہے؟ یہ ضمیر ہے بھئی؟ نہیں، اسم اشارہ ہے؟ نہیں، اسم موصول ہے؟ نہیں، اور ظرف ہے؟ نہیں، کنایات میں سے ہے؟ کم و کذا؟ نہیں، اور اسم فعل؟ وہ بھی نہیں ہے، اور اسی طرح اصوات میں سے بھی نہیں ہے، مبنیات میں سے تو یہ ہے ہی نہیں بھئی۔ ساتھ والے، بتا دیں، جو ذہن میں ہے بتا دیں بھئی، گھبرانا نہیں، پریشان ہونا نہیں، یہاں سیکھنے کے لیے آئے ہیں، غلطی کرو گے اس غلطی کے بعد جو سیکھو گے انشاء اللہ وہ کبھی ذہن سے نہیں نکلے گا۔ غلام، لفظاً کیسے؟ بھئی لفظاً تو وہ ہوتا ہے جس پہ ہم تلفظ کریں رفع پر، یہاں غلام کی میم پر ہم کوئی ضمہ پڑھ رہے ہیں بھئی؟ غلامُ؟ نہیں پڑھ رہے بھئی۔ الف کے ساتھ یا آتا تثنیہ میں تھا الرجلان، یہ الف ہم تلفظ کرتے تھے یہ رفع تھا، مسلمون اس کے اندر ہم واؤ پر کیا کرتے ہیں؟ تلفظ کرتے ہیں تو لفظاً اس لیے ہم کہتے ہیں۔ آگے بھئی ساتھ والے، تقدیراً کیوں ہے؟ تلفظ نہیں ہو رہا بھئی، مبنیات میں سے یہ ہے نہیں، تلفظ اس پہ رفع کا ہو نہیں رہا، تیسری بات کیا رہ گئی؟ تقدیراً ہے، اور یہ سولہ قسمیں یاد ہوں، یاد ہوں گی آپ کو لیکن ابھی مشق نہیں کی آپ نے زیادہ۔ ان سولہ قسموں میں سے ایک قسم پڑھی تھی آپ نے کہ علاوہ جمع مذکر سالم کے، کوئی بھی اسم جب مضاف ہو کس کی طرف؟ یا کی طرف، یائے متکلم کی طرف، اس کا اعراب تینوں حالتوں میں کون سا ائے گا؟ تقدیری آئے گا۔ جیسے اسم منقوص، موسیٰ، عیسیٰ، ان کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیری، اسی طرح غلامی، اس کا بھی تینوں حالتوں میں غلام کا اعراب کون سا ہوگا؟ تقدیری ہوگا۔ اس کو یاد رکھو، میں نے پہلے بھی بتایا تھا یہ جو یا کی طرف جو اسم مضاف ہو جائے اس کا اعراب بڑا پریشان کرتا ہے آدمی کو، ذہن میں بٹھا لو۔ جو اسم یا ضمیر کی طرف مضاف ہو جائے سوائے کس کے؟ جمع مذکر سالم کے، اس کا اعراب تینوں حالتوں میں کیا ائے گا؟ تقدیری آئے گا، تقدیری ائے گا۔ مرفوع تقدیراً، ابھی نہ بناؤ مبتدا، ابھی مضاف الیہ کو بھی اس سے جوڑو، تو غلام مرفوع تقدیراً مضاف۔ یا ضمیر مجرور، محلاً بھئی، مجرور کیوں کہا؟ شاباش، مضاف الیہ ہے، محلاً کیوں کہا؟ مبنیات سے، دیکھا آسان سی بات ہے تو یہ مضاف الیہ ہوا بھئی، جی۔ ہاں، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر کیا بن گیا؟ مبتدا، شاباش۔ آگے۔ ھو ضمیر مرفوع محلاً فاعل، جی شاباش۔ اسم اشارہ کہنے کی ترکیب میں حاجت نہیں، اعراب چاہیے اب ہمیں اس کا بھئی۔ ہاں بھئی، کیا اعراب ہوگا اس کا؟ بتائیے بھئی بتائیے۔ کوشش کریں بھئی کوشش کریں، کسی سے پوچھو نہ بھئی۔ ہاں، کیا ہوگا اعراب بھئی؟ دیکھو، میں نے آسان ضابطے یاد رکھو، ان کو دہراؤ بھئی، فعل کے آنے کے بعد مرفوع صرف کون آتا ہے؟ فاعل، گزر چکا ہے یا نہیں؟ آگے کوئی مرفوع آ سکتا ہے؟ معلوم ہوا مرفوع تو آئے گا کوئی نہیں۔ اور مجرور دنیا میں دو ہی ہیں: ایک جس پر حرف جر داخل ہو، دوسرا مضاف الیہ، اب یہ ھٰذا پر کوئی حرف جر بھی داخل نہیں، اس سے پہلے کوئی مضاف بھی نہیں ہے، اب تیسری ایک ہی صورت رہ گئی، کیا؟ منصوب ہوگا، کیا ہوگا؟ منصوب بھئی۔ اب منصوب میں سے کون سی قسم ہے؟ لفظاً ہے، تقدیراً ہے، یا محلاً ہے، یہ اب آپ نے بتلانا ہے۔ ھٰذا منصوب، جی؟ کیونکہ یہ اسم اشارہ ہے، نہیں بھئی ضمیر نہیں، ضمیر الگ ہے اسم اشارہ الگ، کیونکہ یہ اسم اشارہ ہے، اور اسم اشارہ کس میں سے ہے؟ مبنیات میں سے، اسی لیے تو میں نے کہا تھا وہ آٹھ مبنیات کے نام یاد کر لو بھئی، کم از کم وہ ضرور یاد کرو۔ تو یہ اسم اشارہ ہے اور اسم اشارہ مبنیات میں سے ہوا کرتا ہے، لہٰذا یہ منصوب ہوا محلاً۔ کوئی بات نہیں بھئی کوشش کرو کوئی بات نہیں، پابندی سے آؤ، مستقل مزاجی سے آؤ انشاء اللہ، اور پھر دیکھنا دو تین ہفتے اس طرح مشق کریں تو پھر آپ ترکیب آسانی سے کریں گے بھئی۔ سولہ قسم، اعراب، اسم سولہ قسم پر تو ہے بھئی، ان سب کی مشق ہو جائے گی، پھر ضابطے میں لکھوا رہا ہوں آپ کو، ان کے مطابق مشق کرتے جائیں، کوئی ترکیب مشکل نہیں بھئی۔ جی۔ شاباش! منصوب محلاً مفعول بہ بھئی۔ نہ، شبہ جملہ، ہاں شبہ جملہ کب کہتے ہیں؟ جب اسم فاعل ہو، یا اسم مفعول، یا اسم تفضیل، یا صفت مشبہ، فعل ہو تو پھر جملہ بنا کرتا ہے پورا۔ ہاں شاباش، فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر خبر ہوئی کس کے لیے؟ بھئی مبتدا کے ساتھ آپ پورے جملے کو جوڑ رہے ہیں، ربط آپ نے نہیں بتایا کوئی بھی۔ یہ تو خود مبتدا کے ساتھ کے لیے مضاف الیہ ہے بھئی، خبر میں، خبر میں۔ ہاں، کتب کے اندر جو ھو ضمیر تھی وہ کس کو لوٹ رہی ہے؟ مبتدا بھئی، مبتدا غلامی کی طرف۔ اب روانی سے عبارت پڑھیے: ہاں اس میں تو اکثر اعراب تقدیری، محلی آئے ہیں: غلامی کتب ھٰذا۔ ترجمہ کیجیے۔ غلامی کا ترجمہ کرو پہلے۔ ہاں، میرے غلام نے لکھا اسے، یہ تو انہوں نے با محاورہ ترجمہ کر دیا، ایک ایک لفظ کا ترجمہ کرتے جاؤ: غلامی دیکھو یوں، غلامی: میرا غلام، کتب: کہ لکھا اس نے، ھٰذا: اس کو۔ میرا غلام کہ لکھا اس نے اس کو، یا اسے۔ چلیے، بس کرتے ہیں بھئی۔ یہ ضابطے دہراؤ بھئی دہراؤ بھئی، یہ آسان آسان ضابطے ہیں، ان کی ہم مشق کرتے رہیں گے انشاء اللہ، پریشان نہیں ہونا، ہمت نہیں ہارنی، ہم مشق کرتے رہیں گے کرتے رہیں گے، آپ دیکھ لینا بھئی جو کمزور طلباء ہیں وہ بھی چل پڑیں گے اور جو دوسرے جن کو کچھ ترکیب آتی ہے، اچھا، کہتے ہیں بھئی: ’اللہم بارک وسلم‘ اور ’صلی اللہ علیہ وسلم‘، ان میں فرق کیوں ہے یا دونوں ایک جیسے ہیں؟ بھئی ایک جیسے ہیں دونوں، ہاں ایک میں ماضی کے صیغے استعمال کیے گئے البتہ وہ بھی عربی میں دعا وغیرہ کے لیے ماضی کے صیغے استعمال ہوتے ہیں عموماً۔ آپ اسی لیے کہتے ہیں: رحمہ اللہ، حالانکہ رحمہ تو کیا ہے؟ ماضی، اور مقصد کیا ہوتا ہے اس سے؟ اللہ نے ان پر رحمت کی، یہ بتلانا مقصد ہوتا ہے یا ان کے لیے آپ دعا کر رہے ہوتے ہیں کہ اے اللہ ان پر رحم فرما دے؟ دعا کر رہے ہوتے ہیں، تو صیغہ ماضی کا اور استعمال دعا کے لیے، تو عربی میں ماضی کے صیغے دعا کے لیے استعمال کرتے ہیں بطور تفاؤل، نیک فالی کے طور پر، جیسے ماضی میں گزری ہوئی چیز یقینی ہوتی ہے اس میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا، اسی طرح دعا اس کا اگرچہ تعلق مستقبل سے ہے لیکن اس میں بھی ماضی کے صیغے لے آئے تاکہ اللہ اسے بھی یقیناً یقیناً قبول فرما لیں بھئی۔ تو اللہم بارک وسلم، اس میں امر کے صیغے ہیں اور دعا کے لیے آتے، ہونے بھی کون سے صیغے چاہئیں؟ امر کے، اور صلی اللہ اس میں ماضی کے صیغے استعمال ہوئے اور وہ بطور تفاؤل کے میں نے بتلایا بھئی، معنی دونوں کا ایک۔ اشتریت ھٰذا البیت، لفظاً ہوگا البیت کا اعراب بھئی، یہ آگے انشاء اللہ ہم مشق کریں گے ہر ایک کی۔ سمجھ میں آیا؟ آپ پہلے دوڑ کر آخر میں پہنچنے کی کوشش نہ کریں۔ یہ سب چیزیں آ جائیں گی انشاء اللہ، بڑے طویل طویل جملے آئیں گے بھئی، اور پھر آپ نے ہی ان کو حل کرنا ہے اور دیکھنا کتنی آسانی سے حل ہوتے چلے جاتے ہیں، آپ ویسے ہی آپ سوچیں گے میں ویسے ہی اتنا پریشان ہوا کرتا تھا، یہ تو اتنا طویل جملہ آپ چند لمحوں میں بڑی تیزی سے ترکیب کرتے چلے جائیں گے۔ بڑے بڑے لمبے جملے، پوری پوری سطر کا یا اس سے بھی لمبا جملہ، اور آپ ہی انشاء اللہ، یہی طلباء جن کو آپ دیکھ رہے ہیں بھئی ابھی ان کو ترکیب کی اتنی مشق نہیں، یہی کریں گے انشاء اللہ، لیکن باقاعدگی سے آؤ بھئی اور دعا بھی کرتے رہو بھئی۔ چلیے آئیے دعا کر لیجیے: الحمد للہ رب العالمین، اللہم صل علی سیدنا و مولانا محمد و علی آلہ و اصحابہ و سلم۔ اے اللہ! تمام طلباء کے لیے اس سبق کو آسان فرما۔ اے اللہ! تمام طلباء کے لیے اس سبق کو آسان فرما۔ اے اللہ! سب کے لیے بے انتہا نافع فرما۔ اے اللہ! سب کے لیے بے انتہا نافع فرما۔ اے اللہ! ان سب کے لیے اس فن کو، اس علم کو آسان فرما۔ اے اللہ! اس علم کو آسان فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! جنہوں نے دعاؤں کے لیے کہا ہے، اے اللہ! ان سب کی حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! آپ تو عالم الغیب ہیں سب کو جانتے ہیں، اے اللہ! سب کی حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! سب کی مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! سب کی پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین درس ہیں، اے اللہ! سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! تمام علماء، طلباء، مدارس، مساجد، مجاہدین، مبلغین سب کی نصرت فرما۔ اے اللہ! اس زمانے میں جو بھی دین کے کام میں جس انداز میں بھی لگا ہوا ہے، اے اللہ! سب کی مدد و نصرت فرما۔ اے اللہ! ان کی اعانت کرنے والوں کی بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ! میرے جتنے تلامذہ ہیں، اے اللہ! سب کو خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ! سب کو سب کو خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ! سب کو اطمینان و سکون نصیب فرما۔ اے اللہ! ان سب سے دین کا کام لے، اے اللہ! ان سب کو ہمارے لیے عظیم، ہمارے لیے اور اپنے والدین کے لیے عظیم صدقہ جاریہ فرما۔ اے اللہ! ان میں سے ہر ایک کو ایسا پہاڑ بنا دے اے اللہ! جس سے شرک و بدعات کی آندھیاں ٹکرا کر دم توڑ جائیں۔ اے اللہ! ان میں سے ہر ایک کو شرک اور بدعات کو مٹانے والا بنا۔ اے اللہ! ہر ایک کو سنتوں کو زندہ کرنے والا بنا۔ اے اللہ! سنتوں کی محبت ہمارے دل میں پیدا فرما۔ اے اللہ! ان پر عمل کو ہمارے لیے آسان فرما دیجیے۔ اے اللہ! سنتوں کو ہماری طبیعت بنا دیجیے۔ اے اللہ! جو چیزیں شرعاً ناپسندیدہ ہیں، اے اللہ! انہیں ہماری طبیعت کے لیے بھی ناپسندیدہ بنا دیجیے۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! مسلمان اس زمانے میں تکلیف میں ہیں، اے اللہ! سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! سب کی تکلیف اور پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! سب کو دین پر چلنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ایسے اسباب پیدا فرما کہ سب کے لیے دین پر چلنا آسان ہو جائے۔ اے اللہ! اس زمانے میں کہ ہر روز نئے سے نیا فتنہ سامنے آ رہا ہے، اے اللہ! ان فتنوں سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ان فتنوں کو دور فرما۔ اے اللہ! ان فتنہ پھیلانے والوں کو ذلیل و رسوا فرما۔ اے اللہ! اسلام کو پھر عروج نصیب فرما۔ اے اللہ! اسلام کو پھر عروج نصیب فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہم سب کے لیے اس سال کو نہایت مبارک فرما، خیر و عافیت کا باعث بنا۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہمیں نیک عمل کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ آمین۔ صلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہٖ محمد و آلہ و اصحابہ و سلم۔