درس نمبر۔5 اچھا بھئی! گزشتہ اسباق میں آپ نے پڑھا تھا کہ جملہ دو قسم پر ہے: ایک جملہ اسمیہ ہے، دوسرا جملہ فعلیہ ہے۔ اور جملہ اسمیہ کے اندر جو ہے دو جزء ہوا کرتے ہیں، پہلے جزء کو مبتدا کہتے ہیں، یرحمک اللہ، پہلے جزء کو مبتدا کہتے ہیں اور دوسرے جزء کو خبر کہتے ہیں، اور مبتدا ہمیشہ معرفہ ہوتا ہے اور خبر نکرہ ہوتی ہے، اور مبتدا مقدم ہوگا، خبر مؤخر ہوگی، مبتدا اور خبر دونوں مرفوع ہوا کرتے ہیں۔ پھر معرفہ کی اقسام آپ کو بتلائی تھیں کہ وہ آپ کو یاد ہونی چاہئیں، معرفہ کیا کیا ہیں؟ تمام ضمیریں ہیں، اسمائے اشارہ ہیں، اسمائے موصولہ ہیں، علم ہے اور معرف باللام ہے، معرفہ بالنداء ہے اور ان میں سے کسی ایک کی طرف جو مضاف ہو۔ اور مبنی بھی آپ کو یاد ہونے چاہئیں، تمام اسمائے اشارہ ہیں، تمام اسمائے موصولہ ہیں اور ضمیریں ہیں، کچھ مرکبات ہیں، کچھ ظروف ہیں، اصوات ہیں، اور اسم فعل ہے اور کچھ کنایات ہیں، کنایات ہیں بھئی۔ پھر بتلایا تھا کہ اسم معرب کا اعراب بھئی، اسم کا اعراب کل تین قسم پر ہو سکتا ہے: یا لفظاً ہوگا، یا تقدیراً ہوگا، یا محلاً ہوگا بھئی۔ مبنی کا جو اعراب ہے وہ ہمیشہ محلاً آیا کرتا ہے، جبکہ معرب کا اعراب یا لفظاً ہوتا ہے یا تقدیراً ہوتا ہے۔ وہ سولہ قسمیں آپ کو یاد ہونی چاہئیں، ان میں بھی آپ دیکھیں گے بعض کا اعراب لفظاً آ رہا ہے، بعض کا تقدیراً ہے۔ محلاً کی بات وہ کہیں نہیں کرتے اس لیے کہ محلاً اعراب صرف مبنی کا آیا کرتا ہے بھئی۔ اس کے بعد آپ کو ضابطہ بتلایا تھا کہ معرفہ کے بعد معرفہ آ جائیں تو وہ آپس میں موصوف صفت بنیں گے، اور اگر نکرہ کے بعد نکرہ آ جائیں تو پہلے کو موصوف بنائیں گے باقیوں کو اس کی صفت بنائیں گے، بشرطیکہ ان نکرہ کے بعد کوئی آگے معرفہ نہ آئے، اگر معرفہ آ جائے تو پھر کیا ترکیب کریں گے؟ مضاف مضاف الیہ والی ترکیب کریں گے بھئی، مضاف۔ اور ترجمے میں میں نے آپ کو بتلایا تھا موصوف صفت کا ترجمہ کرتے ہوئے، صفت عربی میں تو مؤخر ہوتی ہے لیکن اردو میں مقدم ہوتی ہے تو اردو میں ترجمہ کرتے ہوئے صفت کو موصوف پر مقدم کر دیں، اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اگر صفت کو مؤخر رکھنا چاہتے ہیں تو اس صورت میں معرفہ اگر موصوف صفت ہیں تو ترجمہ کرتے ہوئے موصوف سے پہلے ”وہ“ کا لفظ لے آئیں بھئی، اور نکرہ کی صورت میں موصوف سے پہلے ”ایسا“ یا ”ایسی“ کا لفظ۔ اور ایک ضابطہ آپ کو یہ بتلایا تھا کہ جس اسم کے آخر میں بھی ضمیر متصل آ جائے، وہاں آنکھیں بند کر کے ہمیشہ کیا ترکیب کریں گے؟ مضاف مضاف الیہ والی ترکیب کریں گے بھئی، مضاف مضاف الیہ۔ اس کے بعد جملہ فعلیہ کی ترکیب ہم نے شروع کی تھی، بتلایا تھا فعل دو قسم پر ہے: ایک فعل لازم، ایک فعل متعدی۔ فعل لازم وہ ہے جو مفعول کا تقاضا نہیں کرتا، صرف فاعل پر بات پوری ہو جاتی ہے، اور فعل متعدی وہ ہے جو فاعل کے ساتھ ساتھ مفعول کا بھی تقاضا کرتا ہے، اس کے بغیر بات پوری نہیں ہوتی۔ اور اردو ترجمے میں دونوں میں فرق یہ ہوگا کہ فعل لازم کے اندر ”نے“ کا لفظ نہیں آئے گا جبکہ فعل متعدی میں ”نے“ کا لفظ آئے گا بھئی۔ اس کے بعد ایک ضابطہ یہ ذکر کیا تھا کہ فعل کے آ جانے کے بعد جملے کے اندر صرف فاعل مرفوع ہوا کرتا ہے، باقی آگے جو الفاظ آئیں گے وہ یا تو منصوب ہوں گے یا مجرور ہوں گے بھئی، منصوب یا مجرور، صرف فاعل مرفوع ہو سکتا ہے۔ اور پھر فعل کے جو چودہ صیغے ہیں ان میں میں نے آپ کو ضمیروں کی پہچان کروائی تھی کہ کس صیغے کے اندر ضمیر بارز آ رہی ہے اور کس صیغے کے اندر ضمیر مستتر آ رہی ہے بھئی۔ اور بتلایا تھا کہ ہر فعل کے لیے فاعل ضرور چاہیے، یہ نہیں ہو سکتا کہ فعل آ جائے اور فاعل نہ آئے، تو جب بھی فعل آ جائے فوراً اس کے لیے پہلے فاعل تلاش کریں بھئی۔ اور فاعل پھر ضمیر بھی ہو سکتی ہے اور اسم ظاہر بھی، تو لیکن اس میں پھر مزید یہ آسانی ہو گئی کہ صرف دو صیغے آئیں تو پھر اسم ظاہر کو آپ تلاش کریں، ورنہ تو ہمیشہ کیا ہوگی؟ ضمیر ہی فاعل ہوگی، وہ یا مستتر ہوگی یا بارز بھئی۔ پھر کچھ ترکیبیں ہم نے شروع کی تھیں بھئی انہی ضابطوں کے مطابق بھئی۔ جی اب کچھ اور جملوں کی بھی مشق کر لیجیے بھئی۔ اِشْتَرَيْتُ، اِشْتَرَيْتُ، هٰذَا، اَلْبَيْتَ، اِشْتَرَيْتُ، هٰذَا، اَلْبَيْتَ۔ کون چھینک کے بھئی الحمد للہ کیوں نہیں کہتے بھئی؟ معلوم ہوا آپ کو کسی کی دعا کی حاجت نہیں بھئی، چلیے نہیں ہے حاجت تو ہم دیتے بھی نہیں دعا۔ اِشْتَرَيْتُ هٰذَا الْبَيْتَ۔ جی کون کرے گا ترکیب بھئی؟ شاباش! دیکھا بھئی یہ انشاء اللہ یہ روزانہ کوشش کر رہے ہیں یہ سیکھ جائیں گے جلدی بھئی، جی۔ ہاں اگلی ترکیب کے لیے آپ تیار پھر رہیں، جی۔ شاباش! اِشْتَرَيْتُ فعل با فاعل، بھئی یہ دو میں سے ہے، بارہ میں سے ہے؟ بارہ میں سے ہے، سمجھ میں آیا؟ پہلا یا چوتھا صیغہ نہیں ہے، ان کے علاوہ ہے یہ۔ اس کے اندر فاعل اب بتلا دیں بھئی۔ شاباش! تُوٌّ ضمیر کہیں، تُو ضمیر نہیں کہنا بھئی یا تا کہیں، تا فاعل ہے۔ اچھا یہ فاعل ہے تو اس کا اب اعراب بتلا دیجیے۔ مرفوع ہے، کیوں مرفوع ہے؟ فاعل ہمیشہ مرفوع ہوتا ہے، شاباش! پھر کون سا مرفوع ہے، محلاً، تقدیراً، یا لفظاً؟ محلاً مرفوع ہے، کیوں محلاً کیوں کہا آپ نے، تقدیراً کیوں نہیں کہا؟ شاباش! کیونکہ یہ ضمیر ہے، ضمیر مبنیات میں سے ہے اور اس کا اعراب محلاً آتا ہے، جی آگے چلیے۔ جی اسم اشارہ کہنے کی حاجت نہیں بھئی، بس اعراب بتلاؤ۔ شاباش جلدی بھئی، جلدی بتلاؤ، اب تو آسان ہو گیا مسئلہ۔ کتنا آسان ہو گیا مسئلہ، فعل کے آنے کے بعد مرفوع صرف فاعل آیا کرتا ہے، باقی کیا رہ گئے؟ منصوب اور مجرور، اور مجرور صرف دو چیزیں ہیں جس پہ یا حرف جر آئے یا اس سے پہلے کیا آ جائے؟ مضاف آ جائے۔ ہٰذَا پر کوئی حرف جر داخل ہو رہا ہے؟ جی؟ نہیں، حرف جر داخل نہیں ہو رہا، یا اس سے پہلے کوئی مضاف ہے؟ مضاف بھی نہیں، معلوم ہوا مجرور نہیں ہو سکتا۔ اور مرفوع بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ مرفوع تو ایک نے آنا تھا اور وہ کیا ہے؟ گزر چکا ہے، اب آخری صورت کیا رہ گئی؟ منصوب، جی۔ ہٰذَا، کیا ہوگا؟ منصوب کون سا؟ محلاً کیوں کہا آپ نے؟ مبنی ہے، کیونکہ میں نے بتایا تھا ضمیریں، اسمائے اشارہ، اسمائے موصولہ کس میں سے ہیں؟ مبنیات، تو ہٰذَا منصوب محلاً، آگے۔ کیا بنایا اس کو آپ نے؟ موصوف بنایا، شاباش! کیوں بنایا؟ وجہ بھی بیان کر دو۔ ہاں بھئی، کیوں بنایا اس کو موصوف؟ جی؟ نہیں، ہٰذَا انہوں نے کہا منصوب محلاً موصوف ہے، کیوں موصوف کہا انہوں نے؟ شاباش بھئی، دیکھا؟ وہ ضابطے یاد رکھو، معرفہ کے بعد کیا آ رہا ہے؟ معرفہ آ رہا ہے تو کیا بنے گا پہلا؟ اور دوسرا؟ صفت، آسان سی بات ہے بھئی۔ تو ہٰذَا منصوب محلاً موصوف، آگے۔ اعراب سب سے پہلے بتایا کرو۔ مرفوع ہے کیوں؟ منصوب ہے کیوں؟ شاباش، تو منصوب ہے کیونکہ یہ صفت ہے اور موصوف صفت کا اعراب ایک ہوا کرتا ہے۔ شاباش! موصوف صفت مل کر یہ کیا بن گئے؟ یرحمک اللہ۔ موصوف صفت مل کر مفعول بنے بھئی۔ شاباش! فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو گیا۔ اب ذرا روانی سے عبارت پڑھ دو بھئی۔ اِشْتَرَيْتُ هٰذَا الْبَيْتَ، دیکھا بھئی، ہر ایک کا اعراب آپ کو پتہ چل گیا۔ اب ترجمہ کیجیے: میں نے یہ گھر خریدا، شاباش۔ آگے لکھیے بھئی، اگلی ترکیب: رَاَيْتُ، اَلْقَاضِيَ، اَلْيَوْمَ، یرحمک اللہ، اَلْيَوْمَ۔ چلیے جی، آگے اب کریں ترکیب، آپ کریں بھئی۔ شاباش! رَاَيْتُ فعل با فاعل، جی رَاَيْتُ میں بھئی فاعل کون سا ہے؟ تا ضمیر، شاباش۔ اعراب اس کا بتلا دیجیے۔ مرفوع کہا آپ نے بھئی، مرفوع کیوں کہا؟ فاعل مرفوع، شاباش! اب لفظاً آپ نے کہا، لفظاً کیوں کہا؟ تلفظ کر رہے ہیں بھئی، جی، پھر غور کر لیں آپ۔ جی، پھر غور کریں بھئی۔ کوئی بتائے نہ بھئی، خود غور کرنے دیں، دماغ لڑائیں گے دو چار مرتبہ تو پھر ترکیب آسان ہو جائے گی ان کے لیے۔ محلاً کیوں کہا آپ نے؟ مبنیات میں سے، شاباش! کیونکہ یہ ضمیر ہے اور ضمیر کس میں سے ہے؟ مبنیات میں سے، تو یہ محلاً مرفوع۔ تو یہ جو اس پر پڑھ رہے ہیں پیش ہم بھئی، ضمہ، یہ حرکت ہے اس کی، سمجھ میں آیا بھئی؟ حرکت ہے اس کی، یہ اعراب نہیں ہے۔ آگے چلیے، اَلْقَاضِيَ منصوب، منصوب محلاً، یہ کیوں کہا آپ نے؟ منصوب کیوں کہا؟ دونوں کیا بنیں گے؟ موصوف صفت، وہ تو بعد کی بات ہے، پہلے اعراب تو بتائیں اس کا۔ اعراب کتنی قسم پر ہے؟ تین قسم پر: یا مرفوع ہوگا، یا منصوب ہوگا، یا، غور کریں مرفوع ہو سکتا ہے؟ کیوں نہیں ہو سکتا؟ فاعل تھا وہ گزر گیا، شاباش! باقی کیا رہ گئے؟ منصوب اور مجرور، جی مجرور ہو سکتا ہے یہ؟ کیوں نہیں ہو سکتا؟ اس پر کوئی حرف جر داخل نہیں ہوا، اور اس سے پہلے کوئی مضاف بھی، مضاف الیہ مجرور ہوا کرتا ہے تو اس سے پہلے کوئی مضاف ہوتا تو یہ مجرور ہوتا، اس سے پہلے کوئی مضاف بھی، اب معلوم ہوا طے ہو گیا یہ کیا ہوگا؟ منصوب ہوگا۔ اب منصوب کون سا ہوگا؟ لفظاً، تقدیراً، یا محلاً، یہ اب آپ بتائیں بھئی۔ تقدیراً منصوب ہوگا، کیوں تقدیراً کیوں منصوب ہوگا؟ سولہ قسمیں یاد ہونی چاہئیں بھئی۔ ہاں بھئی، آپ بتائیے بھئی، منصوب کون سا ہوگا یہ؟ منصوب لفظاً کیوں، کیوں کہا آپ نے؟ شاباش! یہ اسم منقوص ہے بھئی، اسم منقوص کسے کہتے ہیں؟ جس کے آخر میں یا ہو اور یا سے ماقبل کسرہ ہو: قَاضِي، آپ نے ایک قسم پڑھی تھی باقاعدہ اس کے اندر اور اس کا اعراب تینوں حالتوں کا انہوں نے وہاں لکھا تھا کہ حالت رفعی کے اندر بھی اعراب تقدیری، حالت جری کے اندر بھی اعراب تقدیری، البتہ فتحہ لفظی آئے گا اس پر بھئی۔ تو یہ قاضی بھئی وہ اسم منقوص ہے تو اس کا اعراب، اور یہ منصوب ہے، تو کون سا منصوب ہوگا؟ لفظاً ہوگا: اَلْقَاضِيَ، دیکھا فتحہ ہم پڑھیں گے باقاعدہ اس پر بھئی۔ آگے، اچھا منصوب لفظاً، کیا بنایا اس کو آپ نے؟ موصوف بنایا، موصوف کیوں بنایا؟ یہ معرفہ ہے تو پھر، ترجمہ کرو ذرا اس کا: دیکھا میں نے، شاباش، ٹھیک ہے، کریں کریں، قاضی کو۔ اَلْيَوْمَ، بھئی یوم کا مطلب ہوتا ہے کوئی دن، اور اَلْيَوْمَ کا معنی ہوتا ہے آج بھئی عربی میں، سمجھ میں آیا؟ الف لام جب آ جائے تو اس کا معنی آج کے ہوتے ہیں۔ چلیے، ترجمہ کر لیا تو مسئلہ حل ہو گیا بھئی، کچھ ترجمے سے بھی مدد لیا کریں ترکیب میں بھئی۔ دونوں معرفہ ہیں، ٹھیک ہے، پھر؟ بات تو پوری کریں نا، اب بات پوری کیوں نہیں کرتے؟ آدھی بات کرتے ہیں، دونوں معرفہ ہیں پھر؟ جی؟ بھئی، ضابطہ میں نے بتلایا تھا معرفہ کے بعد معرفہ آئے تو کیا بنیں گے آپس میں؟ لیکن کچھ تو ترجمے پہ بھی غور کیا کرو بھئی، کوئی میں نے پہلے بھی بتلایا تھا قاعدہ کوئی کلی نہیں ہے لیکن اکثری ہے، اکثر ترکیبیں جب آپ کی حل ہو جاتی ہیں تو ضابطہ بنا دیا بھئی۔ تو یہاں اَلْقَاضِيَ ہے اور آگے اَلْيَوْمَ آ رہا ہے، اور میں نے بتلایا تھا جو لفظ زمانے یا جگہ کا معنی ادا کرے وہ کیا بنا کرتا ہے؟ مفعول فیہ، ظرف بنا کرتا ہے۔ میں نے دیکھا قاضی کو اَلْيَوْمَ آج، معلوم ہوا یہ میرے دیکھنے کا زمانہ کون سا ہے؟ آج کا دن ہے، تو اس میں زمانے والا معنی آ گیا تو یہ کیا بنے گا؟ جی؟ مفعول فیہ بنے گا، ظرف بنے گا بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو یہاں موصوف صفت نہ بناؤ بھئی، ترجمے پہ بھی تو غور کرو، القاضی کی صفت آج بن سکتی ہے؟ قاضی کی صفت بھی نہیں بن سکتی۔ تو اَلْقَاضِيَ یہ منصوب لفظاً ہوا، یہ مفعول بہ، اور اَلْيَوْمَ یہ بھی منصوب کون سا ہوا؟ ظرف ہے، مفعول فیہ، اور مفعول فیہ کا کیا اعراب ہوا کرتا ہے؟ منصوب، تو یہ منصوب ہے لفظاً، اَلْيَوْمَ اور یہ مفعول فیہ بنے گا۔ فعل اپنے مفعول بہ اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ اب پڑھیے عبارت روانی سے بھئی۔ شاباش! رَاَيْتُ الْقَاضِيَ الْيَوْمَ، دیکھا عبارت حل ہو رہی ہے۔ اگلا جملہ لکھیے: بَاعَ زَيْدٌ غُلَامِي، بَاعَ زَيْدٌ غُلَامِي۔ آپ کو نہیں آتی بھئی ترکیب؟ آپ کی کاغذ قلم کدھر ہے؟ چلو بھئی، کیجیے بھئی ترکیب۔ یہ چیزیں اکٹھی کرتے جائیں بھئی، یہ بڑی قیمتی چیزیں ہیں بھئی، یہ پھر آپ کو ملیں گی نہیں۔ بَاعَ فعل، جی، زَيْدٌ فاعل، اعراب؟ ہاں، مرفوع لفظاً، آپ نے مرفوع کیوں بنایا اس کو؟ اس پر تلفظ ہو رہا ہے، فاعل بنایا آپ نے بھئی، یہ بَاعَ کون سے افعال میں سے ہے؟ دو میں سے ہے یا بارہ میں سے ہے؟ جی؟ یہ دو میں سے، اب دو میں سے ہو تو پھر آگے اس کا فاعل اسم ظاہر آ سکتا ہے، اس لیے انہوں نے آگے دیکھا، تو زَيْدٌ مرفوع لفظاً فاعل۔ غُلَامَ مضاف، اعراب بتاؤ بھئی۔ غُلَامَ منصوب، منصوب کیوں کہا آپ نے؟ شاباش! اس پر کوئی حرف جر بھی داخل نہیں ہوا، یہ مضاف الیہ بھی نہیں ہے تو یہ مجرور تو ہو نہیں سکتا، مرفوع بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ مرفوع ایک نے آنا تھا اور وہ فاعل پیچھے گزر چکا، اب یہ منصوب ہے معلوم ہوا، کون سا منصوب؟ تقدیراً بھئی، منصوب ہے تقدیراً، شاباش! دیکھا غُلَامِي، ہم غُلَامِي پڑھ رہے ہیں، تو کوئی رفع کا تلفظ ہو رہا ہے میم پر؟ رفع کا تلفظ؟ نہیں، تو یہ مبنی تو ہے نہیں تو معرب ہے، اور پھر اس پر تلفظ نہیں ہو رہا تو پھر تقدیراً ہی ہوگا، محلاً مبنی ہوتا تو محلاً کہتے، اب تقدیراً کہیں گے، جی۔ منصوب تقدیراً، آگے؟ ہاں، غُلَامِي منصوب تقدیراً مضاف بھئی، آپ نے کیوں مضاف بنایا اس کو؟ شاباش! اسم کے ساتھ ضمیر متصل آ رہی ہے، یہ تو پہلے ہی طے ہو گیا کہ یہ آپس میں کیا بنیں گے؟ مضاف مضاف الیہ، تو غُلَامِي منصوب تقدیراً مضاف، آگے؟ اعراب، یا ضمیر مجرور، مجرور کون سا؟ مجرور لفظاً کیوں کہا، مجرور کیوں کہا؟ مضاف الیہ ہے، اور لفظاً کیوں کہا؟ تلفظ ہو رہا ہے بھئی، غُلَامِي، یہ یا پر بھئی کوئی کسرہ پڑھ رہا ہوں بھئی؟ نہیں۔ تو مجرور تو یہ ہے مضاف الیہ ہے، اب بتائیے لفظاً ہے، تقدیراً ہے، محلاً ہے، تین میں سے؟ محلاً کیوں ہے؟ ہاں، ضمیر کیا ہوتی ہے؟ شاباش! یہ مبنی ہے بھئی، تو لہٰذا یہ کیا ہوا؟ مجرور محلاً ہوا، جی مضاف مضاف الیہ مل کر یہ کیا بن گئے؟ اوہو! مضاف مضاف الیہ مل کر بھئی، آپ نے اس کو کیا پڑھا تھا، اعراب کیا بتایا تھا غلام کا؟ منصوب، تو منصوبات میں سے کوئی ایک چیز یہ بنے گی، اب آپ بتا دیں کون سی قسم بنے گی یہ؟ ترجمے سے پہچان لیں کچھ، بیچنے والا کون؟ بیچا کس کو؟ تو وہ کیا بنے گا؟ ہاں بھئی، کیا بنے گا؟ مفعول بنے گا بھئی، فاعل آ گیا تھا، کس کو بیچا ہے؟ غلام کو بیچا ہے تو وہ جس کو بیچا گیا وہ کیا بن گیا؟ مفعول بن گیا، آسان سا بھئی۔ اچھا اس عبارت کو اب روانی سے پڑھیے ذرا۔ بَاعَ زَيْدٌ غُلَامِي، ترجمہ کیجیے: ہاں، بیچا زید نے میرا غلام۔ آگے لکھیے: خَلَقَ اللہُ، خَلَقَ اللہُ، اَلرَّحْمٰنُ، اَلرَّحِیْمُ، اَلْمَخْلُوْقَاتِ۔ کون کرے گا ترکیب بھئی؟ اور بھی کوشش کرو بھئی، دیکھ لینا یہ جو کوشش کر رہے ہیں یہ آپ سے آگے نکل جائیں گے بھئی۔ چلیے بھئی، سب سے آخر میں جو بیٹھے، ترکیب تو نہیں آتی؟ جی؟ کچھ کچھ آتی ہے تو پھر تو یہ تو آسان جملے ہیں، اور کوئی کرے جس کو بالکل نہیں آتی بھئی، ایسا طالب علم، کوئی شاباش آپ کریں بھئی۔ کچھ آگے جائیں گے پھر سب سے کروائیں گے انشاء اللہ۔ خَلَقَ فعل، جی لفظ اللہ کیا بنے گا؟ اعراب بتایا کرو سب سے پہلے، پھر بتاؤ کیا بنتا ہے۔ مرفوع، کیوں کہا آپ نے مرفوع؟ فاعل مرفوع ہوتا ہے، کون سا مرفوع؟ مرفوع محلاً، کیوں محلاً کیوں کہا آپ نے؟ تقدیراً کیوں کہا آپ نے؟ ہاں، لفظ اللہ مرفوع لفظاً ہوگا، لفظاً کیوں کہا آپ نے؟ تلفظ ہو رہا ہے، شاباش بھئی! لفظ اللہ مرفوع لفظاً، جی کیا بنایا؟ مرفوع فاعل، جی آگے۔ یرحمک اللہ۔ اَلرَّحْمٰنُ موصوف کیوں بنایا؟ معرفہ ہو تو وہ موصوف بنا کرتا ہے؟ یہ ہمیشہ کا کوئی ضابطہ تو نہیں ہے۔ اَلرَّحْمٰنُ صفت، دیکھا تھوڑا دماغ لڑایا تو پہنچ ہی گئے بھئی، اچھا، تو لفظ اللہ کو پھر فاعل نہ بنائیں ابھی، ابھی کیا بنا دیں؟ موصوف بنا دیں، جی آگے، اَلرَّحْمٰنُ اعراب بتلائیے۔ اعراب پہ تو ہم نے پتہ چلانا ہے، کتاب کی عبارت چل رہی ہے، ایک ایک لفظ کا آپ اعراب نکالتے جائیں پھر اس کو روانی سے پڑھ لیں۔ مجرور ہے بھئی، شاباش! کیسے پتہ چلا آپ کو؟ مضاف الیہ ہے بھئی، مضاف تو آپ نے ہمیں پہلے کوئی بتایا ہی نہیں۔ سب سے پہلے میں نے کون سا ضابطہ لکھوایا تھا؟ معرفہ کے بعد معرفہ آ جائیں تو کون سی ترکیب کرنا؟ پہلا ضابطہ ہی آپ کے ذہن میں نہیں ہے۔ اور سب سے پہلے یہاں لفظ اللہ آیا، اور یاد رکھو علماء فرماتے ہیں: عَلَى الْإِطْلَاقِ اَعْرَفُ الْمَعَارِفِ لفظ اللہ ہے بھئی۔ سب سے زیادہ تعریف جو ہے لفظ اللہ کے اندر ہے بھئی، اس سے زیادہ تعریف کسی چیز کے اندر نہیں۔ امام سیبویہ رحمہ اللہ کا انتقال ہوا، بعد میں کسی نے خواب میں دیکھا، پوچھا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ کہا کہ اللہ تعالیٰ نے میری مغفرت فرما دی۔ پوچھا: کس بات پر مغفرت فرمائی اللہ نے؟ کہا: اس بات پر کہ میں اس بات کا قائل تھا کہ علی الاطلاق سب سے زیادہ تعریف کس کے اندر ہے؟ اس بات پر اللہ نے میری مغفرت فرما دی۔ جیسے امام اشعری رحمہ اللہ کے بارے میں آتا ہے بھئی، جو امام ہیں علم کلام کے بھئی، عقائد کے، ان کی وفات ہوئی بھئی۔ کسی نے خواب میں دیکھا بزرگوں نے، پوچھا کہ اللہ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ کہا: اللہ تعالیٰ نے میری مغفرت فرما دی۔ پوچھا: کس بات پر اللہ نے آپ کی مغفرت فرمائی؟ کہا: اس بات پر کہ میں اس بات کا قائل تھا کہ لفظ اللہ ذات باری تعالیٰ کے لیے علم ہے بھئی، یہ کسی چیز سے مشتق نہیں ہے۔ علماء تو بحث کرتے ہیں یہ مشتق ہے، کس سے مشتق ہے، کس پر الف لام آیا؟ کہتے ہیں: میں اس بات کا قائل تھا کہ یہ لفظ ذات باری تعالیٰ کے لیے علم ہے بھئی، مشتق نہیں کسی سے۔ یہ اسی طرح تھا لفظ، جی۔ تو لفظ اللہ آ گیا ہے بھئی، اعرف المعارف آ گیا ہے، ضابطہ تھا کہ معرفہ آ جائیں تو پھر کیا ہوگا؟ جی کیجیے، پھر ترکیب کیجیے۔ ہاں شاباش، لفظ اللہ اعراب بتاؤ، مرفوع لفظاً موصوف۔ اعراب، شاباش، اَلرَّحْمٰنُ مرفوع لفظاً، مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ صفت بن رہی ہے اور موصوف صفت کا اعراب ایک ہوا کرتا ہے، پھر لفظاً کیوں کہا؟ تلفظ اَلرَّحْمٰنُ، دیکھو ضمہ پر ہم کیا کر رہے ہیں؟ تلفظ کر رہے ہیں، شاباش، یہ صفت اول۔ اعراب، شاباش، اَلرَّحِیْمُ مرفوع لفظاً بھئی، اس پہ بھی تلفظ ہو رہا ہے، یہ صفت ثانی۔ تو معلوم ہوا وہ صفت نہیں ہے تو پہلے موصوف صفت وغیرہ کو سمیٹ لیں، اکٹھا کر لیں بھئی۔ موصوف اپنی دونوں صفات کے ساتھ مل کر اب کیا بنے گا؟ فاعل بھئی، اس نے کیا جو پہلا لفظ بنا رہے تھے اس کے ساتھ باقی بھی جڑ گئے، موصوف اپنی دونوں صفات سے مل کر فاعل ہوا بھئی، جی آگے اَلْمَخْلُوْقَاتِ، اب اس کا اعراب بتاؤ۔ مرفوع لفظاً، شاباش! مرفوع کیوں کہا آپ نے بھئی؟ منصوب لفظاً، منصوب کیوں کہا آپ نے؟ کیا بنے گا؟ مفعول بنے گا، اس پر نصب آتا ہے، شاباش! ٹھیک ہے بھئی، جی، اب جوڑیے آپس میں: خَلَقَ اللہُ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ الْمَخْلُوْقَاتِ، جی کیا آئے گا؟ ہاں، خَلَقَ اللہُ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ الْمَخْلُوْقَاتِ، اچھا آپ نے تو منصوب کہا تھا، اس پر تو میں کسرہ پڑھ رہا ہوں۔ کون بتائے گا ادھر سے؟ جی شاباش بتائیے۔ یہ جمع مؤنث سالم ہے تو کیا ہوا؟ جی؟ حالت نصبی کسرہ کے ساتھ ہے، جی۔ تو اب اس کو کیا بنائیں گے، یہ کون سا منصوب ہے؟ مفعول بہ تو بن گیا ٹھیک ہے، منصوب بھی ہو گیا، کون سا منصوب ہے؟ جی؟ منصوب لفظاً کیوں ہے؟ جی؟ پڑھ تو میں کسرہ رہا ہوں۔ اعراب تقدیراً آئے گا۔ ہاں بھئی، ادھر سے کون بتائے گا؟ بتلاؤ بھئی، کون بتلائے گا؟ جی شاباش۔ شاباش بھئی، یہ جو کسرہ ہے یہ اس کا نصب ہے، یہ کیا ہے اس کا؟ وہاں آپ نے بھئی جمع مؤنث سالم کا، سولہ قسمیں آپ کو میں نے اسی لیے کہا تھا یاد ہونی چاہئیں، کہاں اعراب تقدیری آتا ہے، کہاں لفظی آتا ہے۔ وہاں جمع مؤنث سالم کے اعراب بھئی انہوں نے بتلایا تھا کہ حالت رفعی میں کس کے ساتھ آئے گا؟ جی، ضمہ لفظی کے ساتھ، اور حالت نصبی، جری میں کسرہ کے ساتھ آئے گا، تو یہ اس کا تقدیری تو انہوں نے نہیں کہا بھئی، تو یہ اس کا نصب ہے جو کس کی صورت میں آ رہا ہے؟ کسرہ کی صورت میں، جیسے تثنیہ کا الف اور یا کے ساتھ آتا ہے بھئی، وہاں تو کوئی ہم ضمہ تو نہیں پڑھتے اس پر، تو یہاں بھی یہ اس کا نصب ہی کسرہ کی صورت میں آ رہا ہے، تو منصوب کون سا ہوا؟ لفظاً ہوا، ہم تلفظ کر رہے ہیں اس پر: اَلْمَخْلُوْقَاتِ۔ تو خَلَقَ اللہُ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ الْمَخْلُوْقَاتِ، جی ترجمہ بھی کر دیجیے، ترجمہ کیجیے اب آپ بھئی۔ شاباش! پیدا فرمایا اللہ تعالیٰ نے جو کہ رحمٰن اور رحیم ہیں، اَلْمَخْلُوْقَاتِ: تمام مخلوقات کو۔ اچھا، ایک دو ضابطے لکھ لیجیے۔ جمع بتاویل جماعت، جمع بتاویل جماعت واحد مؤنث کے حکم میں ہوتی ہے، واحد مؤنث کے حکم میں ہوتی ہے۔ اس لیے اس کی طرف، اس لیے اس کی طرف عموماً واحد مؤنث کی ضمیر راجع کی جاتی ہے، واحد مؤنث کی ضمیر راجع کی جاتی ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ بھئی جمع بتاویل جماعت، مثلاً میں نے کہا: کِتَابٌ، ایک ہوئی، کِتَابَانِ، دو ہوئیں، کُتُبٌ، یہ کیا بن گئیں؟ جمع، تو تین یا تین سے زیادہ کتابیں ہوئیں تو یہ تین یا تین سے زیادہ کتابوں کی ایک جماعت بن گئی بھئی، اور جَمَاعَةٌ کا لفظ کیا ہے؟ واحد، گول تا آ رہی ہے یا نہیں اس کے آخر میں؟ جَمَاعَةٌ، عربی میں گول تا لکھتے ہیں جماعت کو بھئی، یرحمک اللہ، تو جَمَاعَةٌ کا لفظ واحد مؤنث ہوا بھئی، اور واحد مؤنث ہے تو اس کی طرف ضمیر بھی کون سی لوٹے گی؟ واحد مؤنث، تو جمع بتاویل جماعت کے واحد مؤنث کے حکم میں ہوتی ہے، لہٰذا ضمیر بھی واحد مؤنث کی لوٹاتے ہیں۔ ایک اور ضابطہ بھئی: فاعل جب بھی آئے گا، فاعل جب بھی آئے گا فعل کے بعد آئے گا، فعل کے بعد آئے گا۔ فاعل کبھی بھی فعل پر مقدم نہیں ہو سکتا، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا بھئی فاعل آئے اور فعل پر کیا ہو جائے؟ مقدم ہو جائے، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ ایک اور ضابطہ بھی لکھ لیجیے۔ کبھی کبھار خبر جملہ ہوا کرتی ہے۔ کیا ضابطہ لکھوایا؟ کبھی کبھار خبر جملہ ہوا کرتی ہے، تو اس میں عائد کا ہونا ضروری ہے، تو اس خبر میں عائد کا ہونا ضروری ہے، عائد کا ہونا۔ چلیے، بس کرتے ہیں بھئی، یہ ضابطے بھی یاد کر لیں کل۔ اور یہ چیزیں جمع کرتے جائیں بھئی، یہ چیزیں جمع کرتے جائیں، جو جو میں لکھواؤں، جو ترکیبیں کرواؤں، آپ کے پاس مواد جمع ہو جائے گا، پھر چھٹیوں میں بھی آپ گھر جائیں وہاں بھی آپ چھٹیوں میں پڑھا سکتے ہیں طلباء کو۔ اور گھبرانا نہیں، بس کاپی کھولیں اور کوشش کے ساتھ آہستہ آہستہ پڑھائیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ انشاء اللہ جب پڑھانے بیٹھتا ہے انسان، اللہ تعالیٰ ذہن کھول دیتے ہیں بھئی۔ طلباء اتنے، طلباء اتنے اولیاء اردگرد بیٹھے ہوں اور ان سب کی روحانی توجہ بھی اس طرف ہو تو اللہ ذہن میں باتیں ڈالتے ہیں بھئی۔ یہ تو عام مدرسین ہر ایک یہی کہتا ہے بھئی، کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کئی طلباء ایسا سوال کر لیتے ہیں، استاد نے مطالعہ نہیں کیا ہوتا، دیکھا نہیں ہوتا، ذہن میں نہیں ہوتا، لیکن اللہ اسی وقت ذہن میں ڈال دیتے ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ تو آپ پڑھائیں گے، پڑھانے سے چیز زیادہ جلدی آتی ہے، اور یہ جمع کرتے جائیں بھئی، یہ بڑی اچھی ترتیب ایک بنی ہوئی ہے اور پچھلے سال بھی طلباء کو بڑا اس سے فائدہ ہوا بھئی۔ ہیں آسان آسان سی باتیں، بس یہاں پر ہم ان کی مشق کرتے ہیں، بار بار جملے بنا کر کیا کرتے ہیں؟ مشق کرتے ہیں، تو جو ذرا تھوڑی بہت کمی ہوتی ہے وہ پوری ہو جاتی ہے۔ یہ ساری چیزیں آپ نے پڑھی ہوئی ہیں بھئی لیکن یہ ہے استعمال نہیں کیا ان کو۔ تو یہ اب آسان لفظ، جملے بھی، قانون بھی آسان لفظوں میں آ گئے، ترتیب بھی آ گئی، پھر ہر ایک کے مطابق جملے بھی اکٹھے ہو گئے، تو اب آپ آسانی سے مشق کرتے چلے جائیں، اور شرم نہ کریں، دیکھیں جو لڑکے کوشش کر رہے ہیں آپ چند دن بعد دیکھ لیجیے گا کہ کتنا فرق پڑ گیا بھئی۔ چلیے جی، آئیے دعا کر لیجیے۔ الحمد للہ رب العالمین، اللہم صل علیٰ سیدنا۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرما۔ یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین۔ اے اللہ! ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! جتنے یہاں حاضرین ہیں، اے اللہ! سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! سب کی تمام تکالیف اور پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! جو خود بیمار ہیں یا گھروں میں ان کے کوئی بیمار ہیں، اے اللہ! سب کو شفا نصیب فرما۔ اے اللہ! سب کو صحت اور عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ! اس علم دین کی برکت سے سب کو صحت اور عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ! سب کے گھروں میں خیر و برکات نازل فرما۔ اے اللہ! سب کے گھروں میں خیر و برکات نازل فرما۔ اے اللہ! سب کو اطمینان اور سکون نصیب فرما۔ اے اللہ! خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ! اس دنیا میں بھی خوشیاں نصیب فرما، اے اللہ! آخرت میں بھی خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ! تکالیف اور پریشانیوں سے حفاظت فرما۔ اے اللہ! جن طلباء کی تعلیم میں کوئی رکاوٹیں وغیرہ ہوں، اے اللہ! ان رکاوٹوں کو دور فرما۔ اے اللہ! ان رکاوٹوں کو دور فرما۔ اے اللہ! جو رزق کے مسئلے میں پریشان ہیں، اے اللہ! ان کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں بھی حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! سب کو حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! حرام سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہماری بھی حفاظت، قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کی بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ! آپ تو قادر ہیں، اے اللہ! ہماری بھی حفاظت، ہماری آنے والی نسلوں کی بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ! ہم سب ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ! ہم سب کی قبروں کو منور فرما۔ اے اللہ! قیامت کے دن شرمندگی سے حفاظت فرما۔ اے اللہ! اس حال میں ہم آپ کے سامنے آئیں کہ آپ ہم سے راضی ہوں، اے اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے راضی ہوں۔ اے اللہ! ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہمارے ایمان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہمارے ایمان کی بھی حفاظت فرما، ہماری قیامت تک آنے والی نسلوں کے ایمان کی بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہمارے جو احباب اور اساتذہ ہم سے رخصت ہو چکے، اے اللہ! سب کی لغزشات سے درگزر فرما۔ اے اللہ! سب کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! سب کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! اس علم دین کی برکت سے، اے اللہ! سب کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! جو ہمارے اساتذہ زندہ ہیں، اے اللہ! ان سب کو خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کی تکالیف اور پریشانیوں کو دور فرما۔ اور اے اللہ! جو اساتذہ ہمارے رخصت ہو چکے، اے اللہ! ان کی جو اولاد وغیرہ ہیں، ان سب کو خوشیاں نصیب فرما، اطمینان اور سکون نصیب فرما۔ اے اللہ! تمام علماء، طلباء، مدارس، مساجد، مجاہدین، مبلغین، اے اللہ! سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! سب کی نصرت فرما۔ اے اللہ! جو جس انداز میں دین کے کام میں لگا ہوا ہے، اللہ سب کی نصرت فرما۔ اے اللہ! سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہر ایک کو دین کا کام احسن طریقے سے کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! دین کی ہوائیں پھر چلا دے۔ اے اللہ! اس بے دینی کو دور فرما۔ اے اللہ! یہ بے دینی جو پھیلتی جا رہی ہے اس کو دور فرما۔ اے اللہ! اس کو دور فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! بہت سے احباب نے بھی دعاؤں کا کہا ہے، دعا فرمائیں، اے اللہ! سب کی حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! سب کی پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! آپ تو عالم الغیب ہیں، جانتے ہیں سب کو، اے اللہ! سب کی پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! سب کی مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ میری ہمشیرہ اور والدہ کے لیے بھی آپ حضرات سے دعاؤں کی درخواست ہے، اے اللہ! ان کو صحت اور عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کو صحت اور عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ! جتنے طلباء ہیں جن کے والدین حیات ہیں، اے اللہ! ان سب کو صحت اور عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ! ہم سب کو والدین کی خدمت کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر قائم و دائم فرما۔ اور اے اللہ! جامعہ کے جو احباب ہیں، اے اللہ! ان سب کی حاجات بھی پوری فرما۔ اے اللہ! ان کی خدمات کو بھی قبول فرما۔ اے اللہ! احسن طریقے سے جامعہ کو چلانے کی توفیق نصیب فرما۔ جو بیمار ہیں، اے اللہ! ان کو شفا نصیب فرما، ان کی پریشانیوں کو دور فرما۔ اے اللہ! اس کو اس ادارے کو اور تمام مدارس کو، اے اللہ! قیامت تک قائم و دائم فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ صلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہٖ۔