درس نمبر۔44 دیکھیے بھئی آگے سبق: وبهذا القدر تم حد الإعراب جمعا ومنعا، لكن المصنف رحمه الله أراد أن ينبه على فائدة اختلاف وضع الإعراب، فضم إليه قوله ليدل على المعاني المعورة عليه، فكأنه أراد هذا المعنى۔ گزشتہ سبق میں ہم نے اعراب کی تعریف شروع کی تھی۔ صاحبِ قافیہ نے آپ کو بتلایا کہ "الإعراب ما اختلف آخره به"، اعراب وہ چیز ہے جس کی وجہ سے معرب کا آخر بدلتا ہے۔ صاحبِ جامی نے بتلایا کہ یہ جو ما ہے، اس سے مراد حرکت یا حرف ہے، ہر چیز اس سے مراد نہیں۔ جب اس سے صرف حرکت یا حرف مراد ہے تو عامل بھی نکل گیا اعراب کی تعریف سے اور معنیٰ مقتضی بھی نکل گیا۔ عامل کی وجہ سے بھی معرب کا آخر بدلتا ہے، معنیٰ مقتضی کی وجہ سے بھی معرب کا آخر بدلتا ہے، اور اعراب کی وجہ سے بھی معرب کا آخر بدلتا ہے، لیکن ان میں یہ عامل سببِ بعید ہے اور اعراب جو ہے وہ سببِ قریب ہے اور جو معنیٰ مقتضی ہے وہ سببِ متوسط ہے، یعنی عامل اور اختلافِ آخر میں دو واسطے ہیں۔ عامل اور اختلافِ آخر میں دو واسطے ہیں۔ میں نے آپ کو ترتیب بتلائی تھی کہ عامل جب معرب پر داخل ہوتا ہے تو یہ اس میں فاعلیت یا مفعولیت یا اضافت والا معنیٰ پیدا کر دیتا ہے، اور پھر وہ معنیٰ تقاضا کرتا ہے اعراب کا۔ اگر وہ فاعلیت والا معنیٰ ہو تو وہ رفع کا تقاضا کرے گا، اگر مفعولیت والا ہو تو نصب کا تقاضا کرے گا اور اضافت والا معنیٰ ہو تو وہ جر کا تقاضا کرے گا۔ اور پھر جب اس لفظ پر اعراب آ جائے گا تو اس کا آخر بدل جائے گا۔ تو گویا عامل سبب بنا معنیٰ مقتضی کا، اور معنیٰ مقتضی سبب بنا اعراب کا، اور اعراب سبب بنا اختلافِ آخر کا۔ تو سبب تو یہ تینوں ہیں لیکن سب سے قریبی سبب کون سا ہے؟ اعراب۔ اور جو معنیٰ مقتضی ہے وہ بھی سبب ہے لیکن درمیان میں ایک واسطہ ہے۔ وہ بھی سبب ہے اختلافِ آخر کا لیکن درمیان میں ایک واسطہ ہے۔ اور عامل بھی سبب ہے اختلافِ آخر کا لیکن درمیان میں دو واسطے ہیں۔ لہٰذا، جب کہا اعراب وہ چیز ہے جس کی وجہ سے معرب کا آخر بدلتا ہے تو اس میں عامل بھی داخل ہو رہا تھا کیونکہ وہ بھی سبب ہے اختلافِ آخر کا، معنیٰ مقتضی بھی داخل ہو رہا تھا، اور اعراب بھی داخل ہو رہے تھے کیونکہ یہ تینوں سبب ہیں اختلافِ آخر کے۔ لیکن صاحبِ جامی نے بتلایا کہ ما سے مراد ہر چیز نہیں بلکہ اس سے مراد حرکت یا حرف ہے تو عامل بھی خارج ہوا اور معنیٰ مقتضی بھی خارج ہوا۔ یا فرمایا کہ دوسری تقریر آپ یوں کر لیں کہ ما کو عام رکھیں کہ اعراب وہ چیز ہے کہ بدلتا ہے معرب کا آخر بہٖ، اس کے سبب سے۔ تو ما کو اگر آپ عام بھی رکھیں تو یہ بہٖ کی با جو ہے یہ سببیہ ہے اور اس کے ذریعے ذہن جو ہے سببِ قریب کی طرف جاتا ہے، سببِ بعید کی طرف نہیں جاتا۔ تو اس کی وجہ سے ہی جو عامل ہے اور معنیٰ مقتضی ہیں وہ اس تعریف سے نکل گئے کیونکہ وہ اسبابِ بعیدہ میں سے ہیں، اسبابِ قریبہ میں سے نہیں ہیں۔ اور پھر یہ بھی بتلایا تھا کہ اعراب وہ ہے جس کی وجہ سے معرب کا آخر بدلتا ہے اس حیثیت سے کہ وہ معرب ہو۔ اس حیثیت سے کہ وہ معرب ہو تو اس کے ذریعے غلامی جیسے لفظوں کے اندر جن میں یا کی وجہ سے میم پر کسرہ آیا ہے وہ نکل گئے، کیونکہ غلامی میں یا کی وجہ سے میم کا آخر بدلا ہے اور اس پر کسرہ آیا ہے۔ تو یہ اختلافِ آخر تو ہے لیکن یہ اختلافِ آخر معرب ہونے کی حیثیت سے نہیں آیا بلکہ یا کا ماقبل ہونے کی حیثیت سے آیا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر۔ کہتے ہیں: "وبهذا القدر تم حد الإعراب جمعا ومنعا"۔ کہتے ہیں "وبهذا القدر" اور اتنی مقدار سے، اتنی مقدار سے "تم" پوری ہو گئی "حد الإعراب" اعراب کی تعریف "جمعا ومنعا" جامع اور مانع ہونے کے اعتبار سے۔ توجہ ہے؟ اعراب کی تعریف کر رہے ہیں صاحبِ قافیہ، ہم نے کل متن حل کیا تھا۔ متن کیا تھا؟ ذرا پھر متن متن دیکھ لو: "الإعراب ما اختلف آخره به ليدل على المعاني المعورة، المعاني المعورة عليه"۔ یہاں پر جا کر اعراب کی تعریف پوری ہو رہی ہے، توجہ ہے؟ یہاں تک جا کر اعراب کی تعریف پوری ہو رہی ہے۔ کیا تعریف کی؟ "الإعراب ما اختلف آخره به ليدل على المعاني المعورة عليه"، اعراب وہ چیز ہے کہ جس کی وجہ سے معرب کا آخر بدلتا ہے تاکہ یہ جو اعراب ہے، یہ جو اعراب کا بدلنا ہے، یہ دلالت کرے کس چیز پر؟ ان معانی پر جو باری باری اس معرب پر آ رہے ہیں، کبھی اس پر فاعلیت والا معنیٰ آ رہا ہے، کبھی مفعولیت والا اور کبھی مضاف الیہ ہونے والا معنیٰ آ رہا ہے تو یہ اعراب ان پر دلالت کرتے ہیں۔ تو یہ اتنی لمبی تعریف کی اور تعریف آپ جانتے ہیں جنس اور فصل پر مشتمل ہوتی ہے۔ پہلے جنس لاتے ہیں جس کے اندر وہ معرف بھی داخل ہوا اور غیرِ معرف بھی داخل۔ "الإعراب ما"، اعراب وہ چیز ہے تو اس میں ساری دنیا کی چیزیں آ گئیں۔ پھر جب کہا "اختلف آخره به" کہ اس کی وجہ سے معرب کا آخر بدلتا ہے تو اب ساری چیزیں نکل گئیں، صرف اعراب باقی رہ گیا یعنی رفع، نصب اور جر۔ توجہ ہے؟ تو تعریف جنس اور فصل پر مشتمل ہوتی ہے تو یہاں پر لفظِ ما جنس کے درجے میں ہے، اس میں اعراب بھی داخل ہوا اور غیرِ اعراب بھی داخل۔ پھر "اختلف آخره به"، اس کے ذریعے غیرِ اعراب سارے نکل گئے۔ تو تعریف جامع مانع ہو گئی۔ صرف یہاں تک: "الإعراب ما اختلف آخره به"، اعراب وہ ہے جس کی وجہ سے معرب کا آخر بدلتا ہے، بس۔ اتنا حصہ تعریف کا یہ جامع بھی ہے اور مانع بھی ہے۔ اس میں تمام اعراب آ گئے اور غیرِ اعراب اس سے نکل گئے، توجہ ہے؟ لیکن صاحبِ قافیہ نے تو اور بھی تعریف لمبی کی، انہوں نے کہا: "ليدل على المعاني المعورة عليه"، تو اس پر شارحین نے بعض نے اعتراض کیا کہ تعریف میں جو لفظ لائے جاتے ہیں یا تو وہ جنس کے قبیل سے ہوتے ہیں یا فصل۔ تو "ليدل على المعاني المعورة عليه"، اس کے ذریعے تو آپ کسی کو بھی نہیں نکال رہے، یہ تو فصل نہیں بن رہی، تعریف تو پہلے ہی جامع مانع ہو چکی ہے۔ تو یہ لفظوں کا آپ نے اضافہ کر دیا، تعریف بلا وجہ اتنی لمبی کر دی آپ نے، توجہ ہے؟ تعریف میں جو الفاظ لائے جاتے ہیں کس لیے لائے جاتے ہیں؟ کہ غیرِ معرف کو نکال دیا جائے۔ جب بہٖ تک تعریف آپ نے کر دی، "ما اختلف آخره به"، تو تعریف جامع مانع ہو گئی تو یہ آگے جو ہے اس کو لانے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ یہ فصل نہیں بن رہی، یہ کوئی فائدہ نہیں دے رہی۔ اعتراض سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو پھر چنانچہ بعض شارحین نے پھر کہا کہ یہ جو ليدل آیا، جار مجرور ہے اور جار مجرور کے لیے متعلق چاہیے، کہتے ہیں اس کو تعریف کا حصہ نہ بناؤ، یہ تعریف سے الگ کر دو۔ کیونکہ تعریف سے جوڑو گے، یہ تو فصل نہیں بن رہی، اس قید کا تو کوئی فائدہ نہیں ہے، اس کے ذریعے تو کوئی غیرِ اعراب نہیں نکل رہا، تعریف تو پہلے ہی جامع مانع ہو چکی ہے، تو اس کو کیا کرو؟ تعریف سے جدا کر دو، الگ کر دو، اس کے ساتھ جوڑو ہی نہ۔ تو اس کے لیے پھر انہوں نے یہاں پر "وضع الإعراب" یہاں پر مقدر نکال لیا کہ یہ ليدل کس سے متعلق ہے؟ "وضع الإعراب" سے متعلق ہے۔ اعراب کو وضع کیا گیا ہے، کس لیے وضع کیا گیا ہے؟ "ليدل على المعاني المعورة عليه"، تاکہ وہ دلالت کرے وہ جو باری باری معانی آ رہے ہیں معرب پر۔ اعراب کو کس لیے وضع کیا گیا ہے؟ تاکہ اعراب ان معانی پر دلالت کرے جو باری باری اس معرب پر آ رہے ہیں۔ زید، اسی زید پر کبھی فاعلیت والا معنیٰ آئے گا، اسی پر کبھی مفعولیت والا معنیٰ آئے گا، اسی میں کبھی اضافت والا معنیٰ آئے گا، تو اس پر یہ اعراب دلالت کریں گے۔ "جاءني زيدٌ"، یہ زیدٌ کا رفع کیا بتلا رہا ہے؟ اس میں کون سا معنیٰ ہے زید میں؟ فاعلیت والا۔ "رأيت زيدا"، یہ نصب کیا بتلا رہا ہے کہ زید میں کون سا معنیٰ ہے؟ مفعولیت والا۔ اور "مررت بزيدٍ"، یہ زیدٍ کی جر کیا بتلا رہی ہے کہ زید میں کون سا معنیٰ ہے؟ اضافت والا یعنی مضاف الیہ والا، بات سمجھ میں آ رہی ہے۔ تو یہ اعراب کو اس لیے وضع کیا گیا ہے کہ یہ جو معانی باری باری معرب پر آتے ہیں ان پر یہ دلالت کرتے رہیں بھئی۔ پڑھنے والے، سننے والے کو پتہ چلتا رہے۔ تو معلوم ہوا، تو ليدل کو ان شارحین نے اس کو میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو جار مجرور ہیں یہ آٹھ چیزوں سے متعلق ہوتے ہیں، ترکیب میں یہ بات ذکر ہوئی تھی، آٹھ چیزوں سے۔ ان آٹھ میں سے اگر کوئی کلام میں موجود ہو تو اس کے ساتھ جوڑ دیں گے ورنہ محذوف نکالیں گے۔ وہ آٹھ چیزیں کون کون سی تھیں؟ نمبر ایک: فعل، نمبر دو: مصدر، نمبر تین: اسمِ فاعل، نمبر چار: اسمِ مفعول، نمبر پانچ: صفتِ مشبہ، نمبر چھ: اسمِ تفضیل، نمبر سات: مبالغے کے صیغے، اور نمبر آٹھ: اسمِ فعل۔ یہ آٹھ چیزیں ہر وقت آپ کے ذہن میں ہوں کیونکہ یہ ترکیب کے لیے بنیاد ہے بھئی۔ وہ آٹھ چیزیں کون سی ہیں؟ ذرا پھر دہراؤ: نمبر ایک: فعل، نمبر دو: مصدر، نمبر تین: اسمِ فاعل، نمبر چار: اسمِ مفعول، نمبر پانچ: صفتِ مشبہ، نمبر چھ: اسمِ تفضیل، نمبر سات: مبالغے کے صیغے، اور نمبر آٹھ: اسمِ فعل۔ تو ان آٹھ چیزوں سے جار مجرور متعلق ہوتے ہیں اور ان میں سے ایک فعل موجود ہے، کیا؟ "اختلف آخره"۔ "اختلف آخره به ليدل"، تو ليدل کو اختلف سے جوڑنے کے بجائے ان شارحین نے کیا کہا؟ اس کو تعریف سے الگ کر دو، اگر اختلف سے جوڑو گے پھر تو یہ تعریف کا حصہ بن جائے گا، توجہ ہے؟ جار مجرور کو کس سے اگر جوڑ دو؟ اختلف کے فعل سے، تو یہ تو تعریف کا حصہ بن جائے گا اور اس کے ذریعے تو کوئی غیرِ معرب خارج نہیں ہو رہا، یہ فصل والا کام نہیں کر رہا یہ حصہ، تو اس کو تعریف سے الگ کر دو، نکال دو اور اس کے لیے متعلق الگ محذوف نکال لو، "أي وضع الإعراب"، تو گویا عبارت یوں ہے: "وضع الإعراب ليدل على المعاني المعورة عليه"، اعراب کو وضع کیا گیا ہے تاکہ وہ اعراب دلالت کرے وہ معانی جو باری باری اس معرب پر آ رہے ہیں، کبھی فاعلیت والا معنیٰ ہوگا، کبھی مفعولیت والا اور کبھی مضاف الیہ والا، بات سمجھ میں آ گئی۔ یہ ان شارحین کی تقریر تھی، تو انہوں نے کہا کہ یہ قید جو ہے ليدل والی، یہ فصل کا کام نہیں کر رہی لہٰذا اس کو تعریف سے الگ کر دو۔ صاحبِ جامی آپ کو بتلائیں گے کہ نہیں بھئی، اس کو تعریف سے الگ نہ کرو، الگ نہ کرو، توجہ ہے؟ اس کو اسی "اختلف آخره" سے جوڑو۔ البتہ جب ماتن نے کہہ دیا "الإعراب ما اختلف آخره به"، بس تعریف یہاں تک جامع مانع ہو گئی، توجہ ہے؟ جامع مانع ہو گئی، تمام غیرِ اعراب اس سے نکل گئے، عامل بھی نکل گیا اور معنیٰ مقتضی بھی نکل گیا، صرف اعراب رہ گئے۔ تعریف جامع مانع ہو گئی لیکن ساتھ اب مصنف ایک اور فائدہ بھی بتلانا چاہتے ہیں کہ یہ معرب پر جو اعراب آتے ہیں ان کا فائدہ کیا ہے؟ ان کا مقصد کیا ہے؟ تو وہ مقصد بھی بتلانا چاہتے ہیں۔ تعریف تو جامع مانع ہو گئی، توجہ ہے؟ کہاں تک؟ بہٖ تک آ کر۔ کہاں؟ بہٖ تک آ کر تعریف جامع مانع ہو گئی لیکن اب مصنف ایک اور فائدہ بھی ساتھ بتلانا چاہتے ہیں۔ تو یہ جو آگے جو آیا نا "ليدل على المعاني المعورة عليه"، یہ اس کو تعریف سے خارج نہ کرو، یہ جامع مانع تعریف کا حصہ تو نہیں۔ جامع مانع تعریف تو کہاں تک ہو گئی؟ "الإعراب ما اختلف آخره به"، یہاں تک تعریف جامع مانع ہو گئی، البتہ یہ اسی تعریف ہی کے ساتھ اس کو جوڑ دو، اس میں ایک الگ فائدہ بتلانا چاہتے ہیں مصنف۔ تعریف جامع مانع ہو چکی ہے لیکن ساتھ ایک الگ فائدہ بتلانا چاہتے ہیں۔ تو یہ تعریف کا حصہ ہے اس اعتبار سے نہیں کہ یہ تعریف کو جامع مانع بنا رہا ہے بلکہ اس حیثیت سے کہ یہ ایک الگ فائدہ بتلا رہا ہے۔ توجہ ہے؟ تو یہ تعریف کا حصہ ہے لیکن جامع مانع ہونے کے اعتبار سے نہیں بلکہ ایک الگ فائدے کے اعتبار سے تعریف کا حصہ ہے۔ تو کہتے ہیں: "وبهذا القدر"، اور اتنی مقدار سے "تم حد الإعراب"، پوری ہو گئی اعراب کی تعریف "جمعا ومنعا"، جامع اور مانع ہونے کے اعتبار سے۔ اتنی مقدار سے یعنی ابھی تک جو اوپر متن گزر گیا، متن کیا گزرا؟ "الإعراب ما اختلف آخره به"، اتنی مقدار سے تعریف جامع مانع ہو گئی۔ اب آگے جو ذکر کریں گے وہ تعریف سے متعلق تو ہے لیکن وہ جامع مانع ہونے کے لیے نہیں متعلق بلکہ ایک الگ فائدہ بتانے کے لیے متعلق ہے۔ تو کہتے ہیں: "وبهذا القدر تم حد الإعراب جمعا ومنعا"، اور اتنی مقدار جو ہے اس سے اعراب کی تعریف جو ہے وہ پوری ہو گئی جامع مانع ہونے کے اعتبار سے "لكن المصنف رحمه الله أراد أن ينبه على فائدة اختلاف وضع الإعراب"، لیکن مصنف رحمہ اللہ نے ارادہ فرمایا کہ وہ متنبہ فرما دیں کس بات پر؟ متنبہ فرمائیں، کس بات پر متنبہ فرمائیں؟ "على فائدة اختلاف وضع الإعراب"، وضعِ اعراب کے مختلف ہونے کے فائدے پر۔ وضعِ اعراب کے مختلف ہونے کے فائدے پر متنبہ کر دیں، بھئی اعراب وضع کرنا تھا، ٹھیک ہے اعراب وضع کر دیا۔ لیکن یہ مختلف اعراب کیوں وضع کیے؟ ایک رفع، ایک نصب، ایک جر، الگ الگ مختلف اعراب کیوں وضع کیے؟ تو اس وضعِ اعراب کے اختلاف کا فائدہ بتلانا چاہتے ہیں کہ اعراب مختلف کیوں وضع کیے؟ تو آپ کو بتلائیں گے اعراب اس لیے مختلف وضع کیے گئے کیونکہ ان کا مدلول مختلف ہوتا ہے، کبھی یہ فاعلیت پہ دلالت کرتے ہیں، کبھی مفعولیت پر اور کبھی مضاف الیہ ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ جب ان کے مدلول مختلف ہیں تو دال جو دلالت کرنے والے ہیں وہ بھی کیا ہونے چاہئیں؟ مختلف، کیونکہ وہ معانی مختلف ہیں، ایک معنیٰ ہوتا تو ہم ایک ہی اعراب وضع کر دیتے۔ لیکن معانی مختلف ہیں تو اعراب بھی مختلف وضع کیے گئے، ایک ہی اعراب وضع نہیں کیا گیا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: "لكن المصنف رحمه الله أراد أن ينبه على فائدة اختلاف وضع الإعراب"، لیکن مصنف رحمہ اللہ نے ارادہ فرمایا کہ وہ متنبہ فرمائیں وضعِ اعراب کے مختلف ہونے کا جو فائدہ ہے اس پر "فضم إليه قوله"، تو چنانچہ مصنف نے اس کے ساتھ ملا دیا "قوله" اپنے اس قول کو بھی "ليدل على المعاني المعورة عليه"، اس قول کو بھی مصنف نے ساتھ ملا دیا، بات سمجھ میں آ گئی۔ "فكأنه أراد هذا المعنى"۔ یاد رکھو یہ جو صاحبِ قافیہ ہیں، علامہ ابنِ حاجب، انہوں نے خود بھی قافیہ کی ایک شرح پھر لکھی۔ انہوں نے قافیہ لکھی اور پھر خود ہی اس کی ایک شرح بھی لکھی بھئی۔ اور اس شرح کے اندر وہ فرماتے ہیں: "الإعراب ما اختلف آخره به"، تو اس کی جب انہوں نے شرح کر لی، اگلی بات جب آ رہی تھی "ليدل على المعاني المعورة عليه"، تو اس کے بارے میں وہ فرماتے ہیں کہ "ليس هذا من تمام الحد"، یہ حد کے تمام میں سے نہیں ہے۔ یہ حد کے تمام میں سے نہیں ہے یعنی یہ حد کا حصہ نہیں ہے، تعریف کا حصہ نہیں ہے۔ انہوں نے وہاں خود فرمایا ہے، یہ تعریف کا حصہ نہیں ہے، توجہ ہے؟ تو صاحبِ جامی آپ کو بتلائیں گے کہ یہ تو ہم بھی کہہ رہے ہیں کہ تعریف پہلے سے کیا ہو چکی ہے؟ جامع مانع ہو چکی ہے، اور صاحبِ قافیہ جو فرما رہے ہیں یہ حد کا حصہ نہیں ہے، اس سے ان کی مراد یہ نہیں ہے کہ اس کو بالکل کاٹ دو، الگ کر دو، اس کے لیے محذوف الگ نکال لو، نہیں نہیں یہ مراد نہیں ہے، بلکہ ان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تعریف تو جامع مانع ہو چکی ہے، یہ اس جامع مانع تعریف کا حصہ نہیں لیکن اس کو اسی کے ساتھ جوڑو بایں اعتبار کہ اس سے آپ کو ایک اور فائدہ بھی حاصل ہو جائے گا۔ انہوں نے کیا کہا؟ یہ حد کا حصہ نہیں، کس نے فرمایا؟ صاحبِ قافیہ نے، اپنی شرح میں۔ لیکن ان کے کہنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ بالکل ہی تعریف سے خارج ہے اور نکلا ہوا ہے، ان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تعریف اب تک جتنی گزر گئی وہ جامع مانع ہو چکی ہے، تو جامع مانع ہونے کے اعتبار سے وہ تعریف کافی ہے۔ جامع مانع ہونے کے اعتبار سے وہ تعریف کافی ہے اور یہ بھی تعریف سے متعلق ہے لیکن جامع مانع ہونے کی حیثیت سے نہیں متعلق بلکہ یہ الگ فائدے پر مشتمل ہونے کی حیثیت سے اسی اختلف سے متعلق ہے۔ "فكأنه أراد هذا المعنى"، گویا کہ مصنف یعنی صاحبِ قافیہ نے اسی معنیٰ کا ارادہ کیا، یہ جو ہم نے بیان کر دیا، انہوں نے اسی معنیٰ کا ارادہ کیا "حيث قال"، اس طور پر کہ انہوں نے فرمایا ہے اپنی شرح میں "ليس هذا من تمام الحد"، کہ یہ جو "ليدل على المعاني المعورة عليه" ہے، یہ تمامِ حد میں سے نہیں ہے یعنی حد کا حصہ نہیں ہے۔ یہ معنیٰ ہے کہ یعنی یہ جامع مانع ہونے کے اعتبار سے حد کا حصہ نہیں ہے، ویسے یہ حد کا حصہ ہے۔ تو گویا انہوں نے اسی معنیٰ کا ارادہ کیا اس طور پر کہ انہوں نے فرمایا ہے اپنی شرح میں کہ "ليس هذا من تمام الحد"، کہ یہ تمامِ حد میں سے نہیں ہے، ان کا اسی معنیٰ کا ارادہ ہے۔ "لا أنه خارج عن الحد"، اس کا ارادہ انہوں نے نہیں کیا کہ یہ حد سے بالکل ہی خارج ہے، تعریف سے بالکل ہی خارج ہے "واللام في ليدل متعلق بأمر خارج عن الحد"، اور یہ نہیں کہ یہ جو لام ہے ليدل میں، یہ کسی امرِ خارج سے متعلق ہے۔ حد سے نہیں متعلق بلکہ ایک امرِ خارج سے متعلق ہے، اس کے لیے "وضع الإعراب" الگ نکالنا پڑے گا، یہ ان کی مراد نہیں ہے۔ بلکہ ان کی کیا مراد ہے؟ کہ جامع مانع ہونے کے اعتبار سے حد کا حصہ نہیں ہے بلکہ ایک الگ فائدہ ہونے کے اعتبار سے حد کا حصہ ہے۔ جب انہوں نے کہا نا "ليس هذا من تمام الحد"، یہ حد کا حصہ نہیں ہے یعنی کس اعتبار سے نہیں ہے حصہ؟ جامع مانع ہونے کے اعتبار سے حصہ نہیں ہے، یہ معنیٰ نہیں کہ اس سے بالکل متعلق ہی نہیں ہے اس کے لیے الگ محذوف نکال لو۔ "لا أنه خارج عن الحد"، یہ مراد نہیں ہے ان کی کہ یہ حد سے بالکل خارج ہے "واللام في ليدل"، اس کو منصوب پڑھو بھئی، یہ اس کا عطف ہے "أنه" کی ہا ضمیر پر، اور "أنه" کی ہا ضمیر منصوب ہے، ان کا اسم ہے، تو ان کا یہ ارادہ نہیں ہے کہ یہ حد سے خارج ہے اور ان کا یہ ارادہ نہیں ہے کہ یہ جو لام ہے ليدل میں "متعلق بأمر"، یہ متعلق ہے ایک ایسی چیز سے "خارج عن الحد"، جو حد سے خارج ہے، یہ ارادہ ان کا نہیں ہے بلکہ صرف یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ یہ جامع مانع ہونے کے اعتبار سے حد کا حصہ نہیں ہے بلکہ ایک الگ فائدے کے اعتبار سے حد کا حصہ ہے۔ "يعني وضع الإعراب"، توجہ ہے؟ پھر سنو، پھر سنو، یہ "وضع الإعراب" سے لفظِ "وضع الإعراب" مراد ہے یہاں پر، توجہ ہے؟ صاحبِ جامی تقریر کر رہے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ جو صاحبِ قافیہ نے کہا نا کہ یہ ليدل یہ حد کا حصہ نہیں، اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ یہ جامع مانع ہونے کے اعتبار سے حد کا حصہ نہیں ہے۔ ان کا یہ ارادہ نہیں ہے کہ یہ حد سے بالکل ہی خارج ہے، اس سے جوڑو ہی نہ، بلکہ کس سے جوڑو؟ "وضع الإعراب" سے جوڑو۔ وہ "وضع الإعراب" جو یہاں مفہوم ہو رہا ہے کلام کے معنیٰ سے، اس سے جوڑ دو، یہ ان کی مراد توجہ ہے؟ جی اب عبارت دیکھو۔ دیکھو پہلے پھر سمجھ لو: "لا أنه خارج عن الحد"، یہ مراد نہیں ہے ان کی کہ یہ ليدل حد سے خارج ہے، اور یہ مراد نہیں ہے کہ "واللام في ليدل متعلق بأمر خارج عن الحد"، کہ یہ جو ليدل میں لام ہے یہ ایک ایسی چیز سے متعلق ہے جو حد سے خارج ہے۔ کیا چیز حد سے خارج ہے جس کے ساتھ وہ متعلق ہے؟ "يعني وضع الإعراب"، یعنی کہ "وضع الإعراب" سے متعلق ہو، یہ ان کا ارادہ نہیں، کون سا "وضع الإعراب"؟ "المفهوم من فحوى الكلام"، وہ "وضع الإعراب" جو مفہوم ہو رہا ہے فحویٰ کلام سے۔ فحویٰ کلام کہتے ہیں کلام کی مراد، کلام کا معنیٰ، کلام کا مطلب۔ وہ "وضع الإعراب" جو کلام کے معنیٰ سے مفہوم ہو رہا ہے، سمجھ میں آ رہا ہے۔ توجہ ہے؟ ادھر دیکھو، عبارت سمجھ لو، یہاں عبارت مشکل ہے۔ یعنی یعنی کے بعد آیا "وضع الإعراب"، یہ پورا جملہ اس سے لفظ مراد ہیں، اس کا ترجمہ نہیں کرنا۔ یعنی کہ یہ ایک امرِ خارج سے متعلق ہے، وہ امرِ خارج کیا ہے؟ "وضع الإعراب" ہے، وہ امرِ خارج کیا ہے؟ "وضع الإعراب" ہے، تو اس کا دیکھو میں ترجمہ نہیں کر رہا تو یہ لفظ مراد ہیں۔ تو یہ "وضع الإعراب" یعنی کے لیے مفعول بن رہا ہے۔ یعنی کے لیے کیا بن رہا ہے؟ یعنی وہ جس کا ارادہ کیا گیا ہے۔ وضع ال تو یہ یعنی کے لیے کیا بن رہا ہے؟ مفعول، اور یہ ہے موصوف اور "المفهوم" اس کی صفت ہے، وہ بھی منصوب پڑھیں گے کیونکہ صفت پر وہی اعراب آتا ہے جو کس پر آئے؟ موصوف پر۔ "يعني وضع الإعراب المفهوم"، یعنی وہ "وضع الإعراب" "المفهوم من فحوى الكلام"، جو سمجھ میں آ رہا ہے فحویٰ کلام سے، کلام کے معنیٰ سے۔ وہ "وضع الإعراب" جو سمجھ میں آ رہا ہے کس سے؟ کلام کے مراد سے، توجہ ہے؟ معلوم ہوا "وضع الإعراب"، اس سے لفظ مراد ہیں، لفظ مراد ہیں، اس کا ترجمہ نہیں کرنا۔ ویسے اگر ترکیب کرنی ہے وضع فعل، الإعراب اس کا نائب فاعل، لیکن یہاں معنیٰ نہیں مراد بلکہ لفظ مراد ہیں، توجہ ہے؟ اور جب لفظ مراد ہیں تو یہ یعنی کے لیے کیا بنے گا؟ مفعول، اور آگے المفهوم اس کی صفت آ رہی ہے تو اس پر بھی وہی اعراب آئے گا جو موصوف پر ہوتا ہے، اور موصوف تو ہے محلاً منصوب۔ جملہ ہے نا، جملہ اور جملے پر اعراب کیسے آتا ہے؟ محلاً، تو یہ "وضع الإعراب" پورا جملہ مراد ہے اور یا یوں کہو یہ لفظ ہے اور یہ مبنی ہے کیونکہ جملہ ہے تو اس پر اعراب کیسے آئے گا؟ محلاً۔ اور المفهوم جو اس کی صفت ہے اس پر لفظاً اعراب آ گیا کیونکہ وہ تو مبنی نہیں ہے، توجہ ہے؟ تو ترجمہ کیسے ہوا؟ "يعني وضع الإعراب المفهوم من فحوى الكلام"، یعنی وہ "وضع الإعراب" جو سمجھ میں آ رہا ہے فحویٰ کلام سے۔ پھر سنو ترجمہ، ادھر دیکھیے، کہتے ہیں صاحبِ قافیہ نے فرمایا ہے کہ یہ تمامِ حد میں سے نہیں ہے، ليدل تمامِ حد میں سے یعنی حد کا حصہ نہیں ہے۔ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ یہ جامع مانع ہونے کے اعتبار سے حد کا حصہ نہیں ہے، ان کی مراد یہ نہیں ہے کہ اس کے لیے ایک الگ لفظ نکالنا پڑے گا اور اس سے اس کو متعلق کرنا پڑے گا، الگ لفظ کون سا لفظ؟ یعنی کہ "وضع الإعراب"، الگ لفظ یعنی کہ "وضع الإعراب" جو ہے یہ اس سے متعلق ہو، یہ ان کی مراد نہیں ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ اب دیکھیے پھر ترجمہ دیکھ لیں۔ "فكأنه أراد هذا المعنى"، گویا کہ صاحبِ قافیہ نے اسی معنیٰ کا ارادہ کیا "حيث قال"، اس حیثیت سے کہ انہوں نے فرمایا ہے شرحِ قافیہ کے اندر "ليس هذا من تمام الحد"، کہ یہ جو آگے ليدل آ رہا ہے یہ تمامِ حد میں سے نہیں ہے، یہ مراد ہے ان کی، یعنی جامع مانع ہونے کے اعتبار سے یہ حد کا حصہ نہیں ہے۔ یہ نہیں کہ اس سے بالکل متعلق ہی نہیں ہے اس کو الگ کر دو۔ "لا أنه خارج عن الحد"، ان کی یہ مراد نہیں ہے کہ یہ حد سے بالکل خارج ہے "واللام في ليدل"، اور ان کی یہ مراد نہیں ہے کہ یہ جو لام ہے ليدل میں "متعلق بأمر خارج عن الحد"، ایک ایسے امر سے، ایک ایسی چیز سے جو حد سے خارج ہے، یعنی بھئی وہ کیا ہے حد سے خارج؟ "يعني وضع الإعراب"، یعنی کہ "وضع الإعراب" "المفهوم من فحوى الكلام"، وہ جو سمجھ میں آ رہا ہے کلام کے معنیٰ سے، اس سے متعلق ہو، یہ ان کا ارادہ نہیں ہے۔ "فإنه بعيد عن الفهم غاية البعد"، اس لیے کیونکہ یہ فہم سے بہت زیادہ دور ہے۔ فہم سے بہت زیادہ دور ہے، بھئی دیکھو، "ليدل على المعاني المعورة عليه"، تاکہ دلالت کرے، دیکھو عبارت آپ پڑھیں، عبارت: "الإعراب ما اختلف آخره به"، اعراب وہ چیز ہے جس سے معرب کا آخر بدلتا ہے "ليدل"، تاکہ یہ اختلاف دلالت کرے "على المعاني المعورة عليه"، کس پر؟ وہ جو باری باری معانی آ رہے ہیں معرب پر۔ تو عبارت پڑھتے ہی ذہن میں یہ آتا ہے کہ یہ ليدل، "اختلف آخره" جو پیچھے آیا اسی سے متعلق ہے۔ "اختلف آخره"، اس کا آخر بدلتا ہے "ليدل"، تاکہ وہ کیا کرے؟ دلالت کرے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو اس کے لیے "وضع الإعراب" نکالنا یہ فہم سے بہت دور ہے، یہ کسی کے ذہن میں نہیں آتا۔ لہٰذا بعض شارحین نے جو یہاں "وضع الإعراب" نکال کر ليدل کو اس سے متعلق کیا ہے، یہ صحیح نہیں، یہ بہت بعید احتمال انہوں نے ذکر کر دیا۔ کہتے ہیں: "فإنه بعيد عن الفهم غاية البعد"، کیونکہ یہ فہم سے بہت زیادہ دور ہے "فاللام فيه متعلق بقوله اختلف آخره"، تو یہ لام جو آیا ہے اس کے اندر یعنی ليدل میں، "متعلق بقوله"، یہ ماتن کے اس قول سے متعلق ہے "اختلف آخره"، اس کے ساتھ یہ متعلق ہے "يعني اختلف آخره ليدل"، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی۔ "يعني اختلف آخره ليدل الاختلاف أو ما به الاختلاف على المعاني يعني الفاعلية والمفعولية والإضافة المعتورة على صيغة اسم الفاعل عليه أي على المعرب"۔ "ليدل"، تاکہ یہ دلالت کرے۔ بھئی کیا چیز دلالت کرے؟ کیا چیز دلالت کرے؟ تاکہ یہ دلالت کرے ان باری باری آنے والی معانی پر، تو ليدل کے اندر ضمیر کس کو راجع ہے؟ کیا چیز ان معانی پر دلالت کرے؟ تو دو احتمال ہیں: وہ اختلاف دلالت کرے، وہ یا وہ اعراب دلالت کرے، ایک ہے اختلاف، آخر کا بدلنا، اور ایک ہے اعراب بھئی آخر پر، توجہ ہے؟ اعراب بدل گیا۔ مثلاً زید پر رفع تھا، پھر کیا آ گیا؟ نصب۔ یا تو معنیٰ یہ ہے یہ جو اعراب ہے یہ ان باری باری آنے والی معانی پر دلالت کرے، یا یہ بدلنا جو ہے یہ جو اعراب نہیں بلکہ یہ اختلاف یعنی معرب کے آخر کا بدلنا ہی دلالت کرے گا، کس پر؟ معانیِ معتورہ پر، توجہ ہے؟ تو اس میں دو احتمال ہیں، ليدل کی ضمیر یا تو راجع ہے کس کو؟ اختلاف کو، یا ما به الاختلاف، وہ جس کی وجہ سے اختلاف ہوا یعنی اعراب۔ بھئی میں نے وہ جو آپ کو کاپی پر لکھوایا تھا ذرا اس پہ نظر رکھیں، پہلے عامل داخل ہوتا ہے، پھر عامل کی وجہ سے کیا آتا ہے؟ معنیٰ مقتضی آئے گا اس کے اندر، وہ پیدا ہوگا یعنی فاعلیت، مفعولیت یا اضافت والا، اور پھر وہ معنیٰ مقتضی تقاضا کرے گا اعراب کا، اور پھر وہ اعراب جب آئے گا تو اس کا معرب کا آخر مختلف ہو جائے گا۔ تو ایک ہے اختلاف سب سے آخر والا، اختلافِ آخر، آخر کا بدلنا، اور ایک ہے اس سے ماقبل والا اعراب جس کی وجہ سے اختلافِ آخر ہو رہا ہے۔ تو ليدل کی ضمیر میں دونوں احتمال ہیں کہ یہ ضمیر کس کو راجع؟ یا تو اختلاف کو راجع کر دیں کہ یہ اختلاف دلالت کرتا ہے، یہ اختلاف دلالت کرتا ہے معانیِ معتورہ پر بھئی۔ یہ اختلاف دلالت کرتا ہے، یہ اختلاف ہوگا تو پتہ چلے گا معنیٰ بدل گیا، کوئی اور معنیٰ آ رہا ہے۔ اور بعضوں نے کہا: ما به الاختلاف، جس کے ذریعے یہ اختلاف ہوا ہے، جس کے جس کے سبب سے یہ اختلاف ہوا ہے یعنی اعراب، یہ اعراب دلالت کرتے ہیں۔ دیکھیے میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ معرب پر سب سے پہلے اعراب داخل ہوتا ہے، توجہ ہے؟ اعراب داخل ہوتا ہے، پھر وہ اعراب اس میں فاعلیت یا مفعولیت یا اضافت والا معنیٰ اس میں پیدا کرتا ہے، اور پھر یہ معنیٰ اس میں اعراب کا تقاضا کرتا ہے کہ اس پر یہ والا اعراب آنا چاہیے، اور پھر جب وہ والا اعراب آتا ہے تو معرب کا آخر مختلف ہو جاتا ہے۔ معلوم ہوا اعراب جو ہے یہ سببِ قریب ہے اختلافِ آخر کے لیے۔ اعراب سببِ قریب ہے اختلافِ آخر کے لیے، تو اعراب اور چیز ہے، اختلافِ آخر اور چیز ہے۔ اعراب سبب ہے اور اختلافِ آخر مسبب ہے تو اب ليدل کی ضمیر میں دونوں احتمال ہیں۔ اس ضمیر کو اختلاف کی طرف بھی راجع کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ اختلافِ آخر جو ہے وہ دلالت کرے ان معانی پر، تاکہ وہ اختلافِ آخر جو ہے وہ دلالت کرے ان معانی پر۔ اور نیز ليدل کی ضمیر جو ہے اس کو اس کو اعراب کی طرف بھی راجع کر سکتے ہیں، اختلاف کی طرف بھی اور اعراب کی طرف بھی۔ اختلاف کی طرف میں نے ابھی بیان کر دیا تاکہ وہ اختلافِ آخر دلالت کرے ان معانی پر، یا اعراب کو ضمیر لوٹا دو تاکہ وہ اعراب دلالت کریں کس پر؟ ان معانی پر۔ تو اختلاف اور چیز اور اعراب اور چیز ہے بھئی، اسی لیے انہوں نے کہا: "ليدل الاختلاف أو ما به الاختلاف"، تاکہ دلالت کرے وہ اختلاف ان معانی پر، "أو ما به الاختلاف"، یا دلالت کرے وہ چیز جس کی وجہ سے اختلاف ہے یعنی اعراب۔ ما به الاختلاف سے کیا مراد ہے؟ اعراب، تاکہ وہ اعراب دلالت کرے ان معانی پر۔ فرق سمجھ میں آ گیا؟ دونوں صورتوں میں جس طرف بھی آپ ضمیر لوٹا دیں، چاہے اختلاف کی طرف لوٹا دیں، چاہے ما به الاختلاف یعنی جس کے ذریعے اختلاف ہو رہا ہے یعنی کہ اعراب کی طرف بھئی، دونوں صورتوں میں معنیٰ درست بنتا ہے۔ "ليدل أي الاختلاف أو ما به الاختلاف"، تاکہ دلالت کرے الاختلاف، وہ اختلاف دلالت کرے، "أو ما به الاختلاف"، یا وہ چیز جس کی وجہ سے اختلاف آیا ہے یعنی اعراب بھئی، وہ وہ دلالت کرے "على المعاني"، ان معانی پر، بھئی کون سے معانی؟ "يعني الفاعلية والمفعولية والإضافة"، یعنی فاعلیت، مفعولیت اور اضافت والا معنیٰ، وہ معانی "المعتورة على صيغة اسم الفاعل"، کہتے ہیں یہ اسمِ فاعل کے صیغے پر ہے بھئی یہ یہ لفظ جو ہے، یعنی اس کو معتوِرَہ پڑھنا، اسمِ فاعل پڑھنا، معتوَرَہ اسمِ مفعول نہ پڑھنا بھئی۔ بعض شارحین نے اس کو اسمِ مفعول بنایا لیکن شارحِ جامی فرما رہے ہیں اس کو اسمِ فاعل بناؤ بھئی۔ وہ معانی "المعتورة على صيغة اسم الفاعل"، یہ اسمِ فاعل کے صیغے پر ہے، "عليه أي على المعرب"، ضمیر کا مرجع بتلا دیا، وہ معانی جو باری باری آ رہے ہیں "عليه أي على المعرب"، کس پر؟ معرب پر، یہ تاکہ یہ اختلاف دلالت کرے، توجہ ہے؟ یہ اختلاف دلالت کرے، ادھر دیکھیے: "ضرب زيدٌ"، "رأيت زيدا"، "مررت بزيدٍ"، یہ معرب کا آخر بدل رہا ہے یا نہیں؟ تو یہ اختلاف دلالت کر رہا ہے ان معانی پر جو باری باری آ رہے ہیں۔ یہ اختلاف یہ جو بدلنا ہے ایک ایک اعراب سے دوسرے اعراب کی طرف، یہ اختلاف ہی دلالت کر رہا ہے وہ معانی جو اس پر باری باری آ رہے ہیں۔ یا یوں کہیں: یہ جو اعراب ہیں یعنی رفع، نصب اور جر، یہ دلالت کر رہے ہیں ان معانی پر جو اس پر باری باری آ رہے ہیں۔ "متعلق بمعتورة"، یہ متعلق ہے معتورۃٌ سے، بھئی "عليه"، "ليدل على المعاني المعورة عليه"، یہ علیہ جار مجرور ہے اور یہ متعلق ہے کس سے؟ معتورۃٌ سے، یہ جو پیچھے المعتورۃ کا لفظ آیا اس سے متعلق ہے۔ یہاں اعتراض ہوتا ہے، اعتراض یہ کہ اعتور یہ خود متعدی ہے، توجہ ہے؟ یہ خود متعدی ہے، یہ مفعول کو نصب دیتا ہے، یہ مفعول کو نصب دیتا ہے، تو لہٰذا "عليه"، یہ علیٰ جارہ کو لانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی بلکہ یوں کہا جاتا: "ليدل على المعاني المعورة إياه"، ضمیرِ منفصل لے آتے، منصوب بھئی، آپ نے پڑھا ہے: ھو یہ ضمیرِ مرفوع منفصل ہے، اور ایاہ، ایاہما، ایاہم، ایاہا، ایاہما، ایاہن، ایاک، ایاکما، ایاکم، ایاکِ، ایاکما، ایاکن، اور اسی طرح ایا یا اور ایا نا، یہ ضمیرِ منصوب منفصل ہے، توجہ ہے؟ منصوب منفصل، بھئی معتورۃ یہ خود مفعول کو نصب دیتا ہے تو آگے مفعول کی ضمیر لے آتے اور یوں کہہ دیتے: "المعورة إياه"، توجہ ہے؟ بھئی میں نے آپ کو پہلے بتایا تھا کہ یہ حروفِ جارہ جو ہیں یہ فعل کے معنیٰ کو مجرور تک پہنچاتے ہیں، اسم تک پہنچاتے ہیں، توجہ ہے؟ مثلاً: "ضربت زيدا"، میں نے زید کی پٹائی کی، تو یہ جو ضربت ہے یہ ایک مفعول چاہتا ہے اور آگے زیداً مفعول آ گیا، میں نے زید کی پٹائی کی۔ اب میں اس کے ساتھ ایک اور لفظ لاٹھی کو بھی جوڑنا چاہتا ہوں: "ضربت زيدا عصا"، بتلانا یہ چاہتا ہوں کہ میں نے لاٹھی سے زید کی پٹائی کی، اور میں اس عصا کو بھی مفعول بنانا چاہتا ہوں ضربت کے لیے، لیکن مفعول نہیں بنا سکتا کیونکہ ضربت ایک مفعول چاہتا ہے اور وہ زیداً آ چکا ہے، وہ اس کو نصب دے چکا ہے۔ اب وہ کسی آگے اور مفعول بہ کو نصب نہیں دے سکتا، تو اب اس عصا کو اب مفعول بہ ہم نہیں بنا سکتے۔ اب میں تو جوڑنا چاہتا ہوں اور یہ براہِ راست اس کے ساتھ جڑ نہیں رہا، اس کو نصب نہیں دے رہا، تو پھر حروفِ جارہ کی مدد لی جاتی ہے۔ تو چنانچہ پھر میں با حرفِ جر مثلاً لے آؤں گا اور اب عصا کو میں جوڑ دوں گا: "ضربت زيدا بالعصا"، اب دیکھو ضربت نے عمل کر دیا عصا میں کس کے واسطے سے؟ با کے واسطے سے، توجہ ہے؟ تو یہ جو مجرور ہوتا ہے یہ بھی مفعول بہ ہوتا ہے لیکن اس کو مفعول بہ غیرِ صریح کہتے ہیں۔ ایک مفعول بہ صریح ہے، صریح یعنی جو صاف لفظوں میں مفعول ہے: "ضربت زيدا"، زیداً کیا ہے؟ مفعول بہ صریح ہے کہ اس کو فعل باقاعدہ نصب دے رہا ہے۔ اور ایک عصا بھی ہے، اس میں بھی ضربت عمل کر رہا ہے لیکن براہِ راست عمل نہیں کر سکتا تھا تو میں نے کس کی مدد لی؟ با حرفِ جر کی مدد لی، تو یہ جو عصا ہے یہ بھی مفعول بہ ہے کس کے لیے؟ ضربت کے لیے، لیکن اس کو مفعول بہ غیرِ صریح کہتے ہیں، توجہ ہے؟ تو ایک مفعول بہ صریح ہوتا ہے جس کو فعل براہِ راست نصب دیتا ہے، ایک مفعول بہ غیرِ صریح ہوتا ہے جو حرفِ جر کے واسطے سے اس میں فعل عمل کرتا ہے بھئی۔ تو بالعصا میں با جارہ کیوں لایا؟ کیونکہ ضربت براہِ راست عصا میں عمل نہیں کر رہا تھا۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، المعتورۃ یہ براہِ راست مفعول کو نصب دیتا ہے، تو "المعورة إياه"، یہ ایاہ کو مفعول ساتھ لے آتے، یہ مفعول بن جاتا معتورۃ کے لیے۔ تو یہ علیٰ جارہ کیوں لائے؟ علیٰ جارہ تو تب لاتے اگر المعتورۃ اس ہا ضمیر کو خود نصب نہ دے سکتا تو آپ علیٰ جارہ کی مدد لے لیتے، لیکن یہ تو خود نصب دے رہا ہے، توجہ ہے؟ جیسے "ضربت زيدا"، یہ ضربت خود زیداً کو نصب دے رہا ہے تو "ضربت على زيد" کہنے کی ضرورت ہے؟ توجہ ہے؟ ضربت کیا کر رہا ہے؟ زید کو خود نصب دے رہا ہے، تو اگر آپ یوں کہیں "ضربت على زيد" تو فوراً سننے والا کہے گا بھئی علیٰ لانے کی کیا ضرورت ہے، ضربت خود زید کو نصب دے دیتا ہے، تو "ضربت زيدا" کہو، "ضربت على زيد" نہ کہو بھئی۔ یہاں بھی اسی طرح "المعورة"، یہ خود کیا ہے؟ اعتور یعتور کا کیا معنیٰ؟ باری باری ایک چیز کو لینا۔ باری باری ایک چیز کو لینا، تو اس میں دیکھو یہ مفعول کو نصب دیتا ہے، جب یہ براہِ راست مفعول کو نصب دیتا ہے تو ایاہ مفعول ساتھ لے آتے، یہ علیہ یہ علیٰ کو لانے کی ضرورت نہیں تھی، یہ علیہ کی ہا ضمیر ویسے ہی ساتھ لے آتے، ایاہ کہہ دیتے۔ توجہ ہے؟ یہ یہی جو علیہ کے آخر میں ہا ضمیر ہے لیکن یہ ضمیر مجرور متصل ہے علیٰ کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، علیٰ کو میں ختم کروں گا تو یہ اکیلی ہا ضمیر نہیں رہ سکتی تو پھر میں اس کو بدل دوں گا ایاہ سے۔ کس سے بدل دوں گا؟ ایاہ سے، کیونکہ یہ معتورۃ اس کو نصب دے رہا ہے تو مجھے وہ ضمیرِ منفصل چاہیے جو منصوب ہو، اور ھو وہ تو مرفوع ضمیر ہے، وہ بھی غائب کی ضمیر ہے، علیہ بھی غائب کی ضمیر ہے، ایاہ بھی غائب کی ضمیر ہے لیکن علیہ کون سی ضمیر ہے؟ مجرور ہے متصل، اور ھو کیا ہے؟ مرفوع ہے، مبتدا کی جگہ پر ھو آتی ہے یا نہیں آتی؟ مبتدا مرفوع ہوتا ہے، اور ایاہ یہ بھی ھو ضمیر کی طرح ہے لیکن یہ منصوب ہے، توجہ ہے؟ تو یہ سب غائب کی ضمیریں ہیں۔ تو جب المعتورۃ خود اس علیہ کی ہا ضمیر کو نصب دے سکتا ہے تو علیٰ لانے کی کوئی ضرورت نہیں، یوں کہنا چاہیے تھا: "ليدل على المعاني المعورة إياه"۔ اشکال سمجھ میں آیا؟ تو اس کا جواب دیں گے کہ یہاں تضمین ہے بھئی۔ یہاں تضمین ہے، تضمین یہ کہ ایک فعل کے ضمن میں دوسرا فعل آ جائے، یعنی یوں کہو، تضمین اسے کہتے ہیں کہ ایک فعل کے اندر دوسرے فعل کے معنیٰ کا آپ لحاظ رکھتے ہیں، اور کوئی قرینہ دلالت کرتا ہے اس پر جو بتلاتا ہے کہ آپ نے اس فعل کے اندر دوسرے فعل کا معنیٰ کا لحاظ رکھا۔ توجہ ہے؟ ایک فعل آیا، اس فعل کا اپنا معنیٰ ہے، اس کا اپنا معنیٰ بھی مراد ہے، یہ نہیں کہ اس کا معنیٰ ہی چھوڑ دیا، نہیں پھر تو مجاز بن جائے گا، توجہ ہے؟ پھر تو مجاز بن جائے گا اگر دوسرا معنیٰ لے لیں، نہیں اس فعل کا اپنا معنیٰ بھی ہے اور اپنے معنیٰ کے ساتھ ساتھ ایک اور فعل کا معنیٰ بھی اس کے اندر ملحوظ رکھا، اس کا بھی لحاظ رکھا، اور کوئی قرینہ قائم کر دیا جو بتلا رہا ہے کہ اس فعل کا اپنے معنیٰ کے ساتھ ساتھ ایک اور فعل کا معنیٰ بھی یہاں ملحوظ ہے، کوئی قرینہ بتلاتا ہے، اور وہ قرینہ عموماً صلہ ہوتا ہے۔ وہ قرینہ صلہ ہوتا ہے، صلہ جانتے ہو؟ میں بتلا چکا ہوں کہ علمِ نحو میں صلہ کا لفظ تین چیزوں کے لیے آتا ہے: ایک صلہ جو موصول کا صلہ ہوتا ہے، ایک صلہ کا معنیٰ زائد، اور ایک صلہ وہ حرفِ جر جو فعل کے ساتھ جڑ رہا ہو، وہ حرفِ جر اس فعل کا صلہ کہلاتا ہے۔ "ضربت زيدا بالعصا"، یہ با جارہ کس سے جڑ رہی ہے؟ ضربت سے، تو یہ ضربت سے متعلق ہے تو یوں کہیں گے یہ با صلہ ہے ضربت کا۔ حرفِ جر جس چیز کے ساتھ جڑے، یہ اس کا صلہ کہلاتا ہے۔ تو یہ با جارہ بالعصا کس سے جڑ رہا ہے؟ ضربت سے، تو کیا کہیں گے یہ با جارہ صلہ ہے ضربت کا۔ تو صلہ کا لفظ علمِ نحو میں تین چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے: ایک موصول کا صلہ، ایک صلہ بمعنی زائد، اور ایک وہ حرفِ جر جو کسی فعل وغیرہ کے ساتھ جڑ رہا ہو وہ اس کا صلہ کہلاتا ہے۔ تو صلہ اس حرفِ جر کو بھی کہتے ہیں جو کسی فعل وغیرہ سے جڑ رہا ہو، اور موصول کا بھی صلہ، اور ایک صلہ بمعنی زائد کے بھی آتا ہے۔ یاد رکھو، قرآن میں جب کوئی حرف زائد آ جائے یعنی جو اپنے معنیٰ کا فائدہ نہیں دے رہا تو اس کو زائد نہیں کہتے بلکہ ادب کے طور پر صلہ کہتے ہیں۔ ادب کے طور پر صلہ، قرآن میں کوئی حرف آیا اور وہ زائد ہے تو یوں نہیں کہیں گے یہ حرفِ زائد ہے، یوں کہیں گے یہ صلہ ہے، ادب کے طور پر۔ کیوں؟ کیونکہ زائد سے شبہ پڑتا ہے شاید یہ بالکل زائد ہے، بیکار ہے بھئی، حالانکہ ایسا نہیں ہوتا بلکہ وہ کلام میں تاکید بھی پیدا کرتا ہے اور کلام میں حسن بھی پیدا کرتا ہے۔ ہاں زائد ہوتا ہے بایں معنیٰ کہ اپنے معنیٰ کا فائدہ نہیں دے رہا، جو اس کا اپنا معنیٰ ہے اس کا فائدہ نہیں دے رہا، کلام میں تاکید بھی پیدا کر رہا ہے، کلام میں حسن بھی پیدا کر رہا ہے، تو اگر زائد کہو گے تو لگے گا یہ تو شاید بالکل ہی زائد ہے، تو اس لیے قرآن میں جب کوئی زائد حرف آئے تو کیا کہتے ہیں؟ یہ صلہ ہے۔ تو لہٰذا دیکھو تضمین کی میں بات کر رہا تھا، تضمین اسے کہتے ہیں کہ ایک فعل کے اندر دوسرے فعل کے معنیٰ کا بھی لحاظ رکھا جائے، وہ بھی ملحوظ ہو، اور اس پر کوئی قرینہ دلالت کرے اور وہ قرینہ عموماً صلہ ہوتا ہے یعنی آگے کوئی ایک حرفِ جر لے آتے ہیں جو بتلاتا ہے کہ اس فعل میں یہ والا معنیٰ ملحوظ ہے۔ جیسے دیکھو یہاں معتورۃ آیا، اعتور ادھر دیکھیے، اعتور یعتور یہ فعل خود مفعول کو نصب دیتا ہے، اس کے ساتھ علیٰ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں، لیکن علیٰ لائے تو ہیں تو معلوم ہوا اس میں ایک اور فعل کے معنیٰ ملحوظ ہے جس کے ساتھ علیٰ آتا ہے، جس کے ساتھ اور وہ کیا؟ وہ یہاں کہتے ہیں ورود یا استیلاء کے معنیٰ میں کر لو۔ ورود کا معنیٰ آنا، وارد ہونا، ورود کا معنیٰ آنا اور وارد ہونا، اس کے ساتھ علیٰ استعمال ہوتا ہے: "ورد عليه"، وہ اس پر وارد ہوا، اس پر داخل ہوا۔ اور استیلاء کا معنیٰ ہوتا ہے غالب ہونا، اس کے ساتھ بھی علیٰ استعمال ہوتا ہے: "استوليت على ذلك"، میں اس چیز پر غالب آ گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو استولیٰ کا صلہ بھی علیٰ استعمال ہوتا ہے اور ورود کا صلہ بھی علیٰ، یا اور بھی کوئی فعل جو آپ کو مناسب لگے جن کے ساتھ علیٰ استعمال ہوتا ہو، آپ اس کا معنیٰ بھی یہاں ملحوظ رکھ سکتے ہیں۔ بس بتلانے کا مقصد یہ ہے کہ تضمین اسے کہتے ہیں کہ ایک فعل کے اندر دوسرے فعل کا معنیٰ ملحوظ ہوتا ہے اور آگے آنے والا صلہ یعنی حرفِ جر جو ہے وہ اس پر دلالت کر رہا ہوتا ہے۔ المعتورۃ کے ساتھ علیہ علیٰ فعل لے آئے، علیٰ تو معتورۃ کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا، معلوم ہوا اس کے اندر کسی ایسے فعل کے معنیٰ کا لحاظ رکھا گیا ہے جس کا صلہ علیٰ آتا ہے، اور وہ یہاں کیا مناسب بنتا ہے؟ ورود یا استیلاء۔ ورود کے ساتھ بھی علیٰ استعمال ہوتا ہے، استیلاء کے ساتھ بھی، معلوم ہوا ان دونوں میں سے کوئی ایک یہاں جو بھی آپ کو مناسب لگے، بلکہ کوئی اور فعل آپ کو مل جائے جن کا معنیٰ اس سے بھی زیادہ مناسب بنے یہاں پر جس کے ساتھ علیٰ استعمال ہوتا ہو تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہاں اس فعل کا معنیٰ ملحوظ ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ "أي على المعرب متعلق بمعتورة"، یہ علیٰ المعرب جو ہے یعنی علیہ جو ہے یہ متعلق ہے معتورۃ سے "على تضمين مثل معنى الورود والاستيلاء"، یعنی ورود اور استیلاء کا جو معنیٰ ہے ان جیسوں کی تضمین کے ساتھ۔ ان جیسے افعال میں سے کسی ایک کی تضمین یہاں ماننا پڑے گی یعنی وہ ملحوظ ہے یہاں پر۔ تو کہتے ہیں: "على تضمين مثل معنى الورود والاستيلاء"، یعنی ورود اور استیلاء کے معنیٰ جو ہیں ان جیسوں کی تضمین کے ساتھ "يقال"، عربی میں کہتے ہیں: "اعتوروا الشيء وتعاوروه"، دیکھا یہ مفعول کو نصب دے رہا ہے۔ یہ عربی میں کہتے ہیں "اعتوروا الشيء وتعاوروه"، عربی میں کہتے ہیں کب؟ "إذا تداولوه"، جب وہ اس کو ہاتھوں ہاتھ لیں، یا یوں کہیں جب وہ اس کو باری باری لیں۔ جب ایک جماعت جب کوئی جماعت ایک چیز کو باری باری لے تو پھر اس کو کیا کہتے ہیں؟ اعتیوار کہتے ہیں۔ مثلاً دیکھو مجھے کسی نے کتاب دی، یہ ہماری جماعت ہے، مجھے کسی نے کتاب دی، میں نے اس کتاب کو لیا دیکھا، پھر آپ نے مجھ سے کتاب لے لی آپ نے اس کو دیکھا، پھر تیسرے ساتھی نے اس کتاب کو لے لیا اس نے اس کو دیکھا، پھر چوتھے نے لے لیا، تو دیکھو باری باری کتاب کو لے رہے ہیں۔ تو "اعتوروا الشيء" اور "تعاوروا الشيء" عربی میں کہتے ہیں: "إذا تداولوه"، جب وہ اس کو باری باری لیں، ایک چیز کو باری باری لیں۔ خود معنیٰ بیان کر رہے ہیں: "أي أخذه جماعة واحدة بعد واحدة على سبيل المناوبة والبدلية"، یعنی جب لے اس کو "جماعة واحدة"، ایک جماعت "بعد واحدة"، ایک کے بعد، ایک جماعت کے بعد ایک جماعت اس چیز کو لے لے "على سبيل المناوبة والبدلية"، مناوبت کہتے ہیں باری باری لینا، بدلیت بدل، باری باری یا بدل کے طریقے پر۔ پہلے ایک نے لیا پھر بدل کر دوسرے نے لیا، پھر اس سے بدل کر تیسرے نے لیا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اعتیوار اور تعاور کا فعل عربی میں استعمال کرتے ہیں جب ایک جماعت ایک چیز کو لے لے پھر اس سے دوسری لے لے پھر تیسری لے لے، تو اس وقت یوں کہا جاتا ہے باری باری لینا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر دیکھو: "يقال اعتوروا الشيء وتعاوروه إذا تداولوه أي أخذه جماعة واحدة بعد واحدة على سبيل المناوبة والبدلية لا على سبيل الاجتماع"، اجتماع کے طریقے پر نہیں، یعنی اکٹھے نہ لیں بلکہ ایک کے بعد ایک لیں، بات سمجھ میں آ گئی، باری باری لیں۔ "فإذا تداولت المعاني المقتضية للإعراب المعرب متعاقبة متناوبة غير مجتمعة لتضادها"۔ متن میں کیا آیا تھا؟ "المعاني المعورة"، وہ معانی جو باری باری آتے ہیں اس پر، وہ معانی جو اس پر توجہ ہے؟ اعتیوار کا کیا معنیٰ؟ اعتیوار کا معنیٰ ہے ایک چیز کو باری باری لینا، لیکن اس میں ورود اور استیلاء کا معنیٰ بھی ملحوظ ہے۔ کیا معنیٰ؟ یعنی وہ معانی جو باری باری اس معرب پر آتے ہیں، دیکھا آنے کا معنیٰ ہے، یا وہ معانی جو باری باری اس معرب پر غالب آتے ہیں، کبھی اس میں فاعلیت والا معنیٰ اس پر غالب آئے گا، کبھی مفعولیت والا، کبھی اضافت والا۔ اعتیوار میں کس کا معنیٰ ملحوظ؟ ورود اور استیلاء، ورود کا کیا معنیٰ؟ آنا۔ استیلاء کا کیا معنیٰ؟ غالب ہونا۔ تو اب ترجمہ سنو دیکھو متن دیکھو: "ليدل على المعاني المعورة عليه"، تاکہ یہ اختلافِ آخر دلالت کرے ان معانی پر، "المعورة عليه"، جو باری باری اس معرب پر آ رہے ہیں، دیکھا ورود، آنے کا معنیٰ میں نے کر دیا، وہ باری باری اس پر آ رہے ہیں، یا استیلاء کا معنیٰ کر لیں: باری باری اس معرب پر جو معانی غالب آ رہے ہیں، کبھی فاعلیت والا معنیٰ غالب آئے گا، کبھی مفعولیت والا اور کبھی اضافت والا، بات سمجھ میں آ گئی۔ اور پھر آپ کو بتلا رہے ہیں کہ یہ معانی جو اعراب کا تقاضا کر رہے ہیں، فاعلیت کس کا تقاضا کرتی ہے؟ رفع کا، مفعولیت کس کا تقاضا کرتی ہے؟ نصب کا، اور اضافت کس کا تقاضا کرتی ہے؟ جر کا، توجہ ہے؟ تو یہ معانی جو اعراب کا تقاضا کر رہے ہیں یہ معرب کو باری باری لیتے ہیں۔ فاعلیت والا معنیٰ آیا اس نے معرب کو لے لیا اور کون سا اعراب آ گیا اس پر؟ رفع آ گیا۔ مفعولیت والا معنیٰ آیا اور اس نے معرب کو لے لیا، تداول کا کیا معنیٰ ہے؟ باری باری لینا، توجہ ہے؟ تداول کا معنیٰ ہے باری باری لینا، یہ عبارت پہ نظر رکھو: "فإذا تداولت المعاني المقتضية للإعراب المعرب"، جب باری باری لیتے ہیں، کون لیتے ہیں؟ "المعاني المقتضية للإعراب"، وہ معانی جو اعراب کا تقاضا کرنے والے ہیں، یہ جب باری باری لیتے ہیں، کس کو باری باری لیتے ہیں؟ "المعربَ"، یہ مفعول ہے، معرب کو۔ کس کو؟ بھئی جب معرب پر مختلف معانی آ رہے ہیں تو گویا وہ معرب کو لیتے جا رہے ہیں، پہلے فاعلیت والا آیا اس نے معرب کو لے لیا، پھر مفعولیت والا معنیٰ آیا اس نے معرب کو لے لیا اور پھر اضافت والا معنیٰ آیا اور اس نے معرب کو لے لیا۔ تو یہ المعربَ اس کو مفعول پڑھنا، یہ تداولت کا مفعول بنے گا بھئی۔ پیچھے انہوں نے بتلا دیا تھا "تداولوه"، معلوم ہوا اس کے لیے مفعول چاہیے ہوتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "فإذا تداولت المعاني المقتضية للإعراب المعرب"، جب وہ معانی جو اعراب کا تقاضا کرنے والے ہیں وہ باری باری معرب کو لیتے ہیں "متعاقبة"، ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہوئے "متناوبة"، باری باری آتے ہوئے "غير مجتمعة"، بغیر اکٹھے ہوئے "لتضادها"، بوجہ ان کے متضاد ہونے کے۔ بھئی اکٹھے نہیں آتے کیونکہ یہ معانی متضاد ہیں، ایک ہی وقت میں ایک چیز کے اندر فاعلیت والا بھی معنیٰ آ جائے اور مفعولیت والا بھی آ جائے، یہ نہیں ہو سکتا، ایک وقت میں ایک معنیٰ آ سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ایک وقت میں تو یہ اکٹھے نہیں آ سکتے، باری باری ہی آئیں گے، فاعلیت والا معنیٰ آئے گا تو مفعولیت والا نہیں ہے، مفعولیت والا آئے گا تو فاعلیت والا نہیں ہوگا۔ تو یہ متعاقبۃً اس حال میں کہ یہ جو معانی ہوتے ہیں ایک دوسرے کے پیچھے یعنی باری باری ہوتے ہیں، متناوبۃً اس کا بھی معنیٰ وہی ہے، باری باری ہوتے ہیں، "غير مجتمعة"، اور اکٹھے نہیں ہوتے۔ بھئی کیوں اکٹھے کیوں نہیں ہوتے، باری باری کیوں ہوتے ہیں؟ کہتے ہیں "لتضادها"، کیونکہ یہ آپس میں متضاد ہیں، ایک دوسرے کے مخالف ہیں بھئی، اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ تو جب یہ معانی اکٹھے نہیں ہو سکتے، "فينبغي أن تكون علاماتها أيضا كذلك"، تو مناسب یہ ہے کہ وہ جو ان کی علامتیں ہیں وہ بھی اسی طرح ہونی چاہئیں، وہ بھی الگ الگ ہونی چاہئیں، ایک ایک جیسی نہیں ہونی چاہئیں۔ "فينبغي أن تكون علاماتها أيضا كذلك"، تو مناسب یہ ہے کہ ان کی علامتیں بھی اسی طرح ہوں "فوقع بسببها اختلاف في آخر المعرب"، تو یہ جو علامتیں ہیں ان کی وجہ سے معرب کے آخر میں اختلاف آئے گا۔ "فوقع بسببها اختلاف في آخر المعرب"، تو پھر ان علامتوں، چونکہ یہ علامتیں مختلف ہیں تو ان علامتوں کی وجہ سے معرب کا آخر بھی کیا ہوگا؟ مختلف ہو جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ فاعلیت کی صورت میں رفع آئے گا، مفعولیت کی صورت میں نصب آئے گا اور اضافت کی صورت میں جر آئے گا۔ "فوضع أصل الإعراب للدلالة على تلك المعاني"، "فوضع أصل الإعراب"، تو اصلِ اعراب کو وضع کیا گیا ہے "للدلالة على تلك المعاني"، ان معانی پر دلالت کرنے کے لیے۔ اصلِ اعراب کو وضع کیا گیا ہے ان معانی پر دلالت کرنے کے لیے، رفع فاعلیت پہ دلالت کرے، نصب مفعولیت پہ دلالت کرے اور جر اضافت پر دلالت کرے۔ تو کہتے ہیں: "فوضع أصل الإعراب للدلالة على تلك المعاني"، تو اصلِ اعراب کو وضع کیا گیا ہے تاکہ یہ دلالت کرے ان معانی پر، "ووضع"، اور اس اعراب کو وضع کیا گیا ہے "بحيث يختلف به آخر المعرب"، اس طور پر کہ اس کی وجہ سے معرب کا آخر بدلتا ہے "لاختلاف تلك المعاني"، ان معانی کے بدلنے کی وجہ سے۔ تو اس اعراب کی وجہ سے معرب کا آخر بھی بدلتا ہے کیونکہ وہ معانی بدل رہے ہیں، جب وہ معانی بدل رہے ہیں تو جو ان کی علامتیں ہیں وہ بھی بدلتی رہیں گی تو معرب کا آخر بدلتا رہے گا بھئی۔ یہ جو عبارت آئی "فوضع أصل الإعراب"، اس کو فعل بھی پڑھ سکتے ہیں اور آپ چاہیں تو اس کو مصدر پڑھ لیں: "فوضعُ أصلِ الإعرابِ"، تو اصلِ اعراب کی جو وضع ہے "للدلالة على تلك المعاني"، وہ ان معانی پر دلالت کرنے کے لیے ہے۔ اصلِ اعراب کی وضع ان معانی پر دلالت کرنے کے لیے ہے "ووضع"، اور پھر اس اعراب کو وضع کیا گیا ہے "بحيث يختلف به آخر المعرب"، اس طور پر کہ اس سے معرب کا آخر بھی بدلتا ہے "لاختلاف تلك المعاني"، ان معانی کے بدلنے کی وجہ سے۔ بھئی ادھر دیکھیے، کہنا یہ چاہتے ہیں کہ چونکہ معرب پر مختلف معانی آتے ہیں، جب وہ معانی مختلف ہیں تو ان کی جو علامتیں ہیں ان کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ مختلف ہونا چاہیے، اور جب وہ علامتیں مختلف ہیں تو پھر معرب کا آخر بھی ان علامتوں کی وجہ سے بدلے گا کیونکہ اس پر وہ معانی بدل رہے ہیں تو ان کی علامتیں بھی بدل رہی ہیں اور اس کی وجہ سے معرب کا آخر بھی بدل رہا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ چلیے بس کریں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔