درس نمبر۔42 اگے دیکھیے سبق بھئی: "وحكمه" أي من جملة أحكام المعرب وآثاره المترتبة عليه من حيث هو معرب "أن يختلف آخره" أي الحرف الذي هو آخر المعرب ذاتا بأن يتبدل حرف بحرف آخر حقيقة أو حكما إذا كان إعرابه بالحرف، أو صفة بأن يتبدل صفة بصفة أخرى حقيقة أو حكما إذا كان إعرابه بالحركة۔ اچھا بھئی، گزشتہ سبق میں شارحِ جامی رحمہ اللہ نے ایک سوال کا جواب ذکر کیا تھا۔ سوال یہ پیدا ہوا کہ جمہور نے تو معرب کی تعریف کی ہے: "ما اختلف آخره باختلاف العوامل"، معرب وہ اسم ہے جس کا آخر بدلتا ہو عوامل کے بدلنے سے۔ لیکن صاحبِ قافیہ نے معرب کی نئی تعریف کر دی کہ: "المركب الذي لم يشبه مبني الأصل"، معرب وہ مرکب ہے جو مبنی الاصل کے مشابہ نہ ہو بھئی۔ تو نئی تعریف کر دی۔ کیا وجہ ہے صاحبِ قافیہ نے یہ نئی تعریف کیوں کی؟ تو صاحبِ جامی نے آپ کو جواب دیا تھا کہ بھئی دیکھیے، یہ جو علمِ نحو ہے، اس کے ذریعے غرض اور مقصود یہ ہے کہ انسان کو اختلافِ آخر کا پتہ چل جائے کلامِ عرب کے اندر بھئی، اور اس اختلافِ آخر جو ہے، اس کے اس کا پتہ چلانے کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ آپ کلامِ عرب کا تتبع کر لیں، اور ایک صورت یہ ہے کہ آپ علمِ نحو کو سیکھ لیں۔ تو جو شخص کلامِ عرب کا تتبع کر لیتا ہے اور ان کو سن کر عربی زبان کے احکام کو جان لیتا ہے، اسے علمِ نحو کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ لیکن جو شخص کلامِ عرب کا تتبع نہیں کر سکتا، وہ علمِ نحو پڑھتا ہے، اور علمِ نحو کی تدوین کا مقصد کیا ہے؟ اس کے ذریعے کس بات کا پتہ چل جائے؟ اختلافِ آخر کا پتہ چل جائے بھئی۔ اختلافِ آخر کا اس کو پتہ چل جائے۔ معلوم ہوا، علمِ نحو کا بڑا مقصد کیا ہے؟ اختلافِ آخر کا پتہ چلنا۔ تو معرب کی معرفت سے بھی مقصود کیا ہوگا؟ کہ اس کے ذریعے یہ پتہ چل جائے کہ یہ معرب ان چیزوں میں سے ہے کہ جن کا آخر بدلتا ہے: "بأنه مما يختلف آخره"، کہ معرب بھی ان چیزوں میں ہے جس کا آخر بدلتا ہے۔ تو یہ معرب کے ذریعے مقصود ہے اور مقصود مؤخر ہوتا ہے۔ لہٰذا، اس مقصود سے پہلے معرب کی معرفت ہونی چاہیے۔ بھئی معرب کی معرفت سے مقصود کیا ہے؟ ہاں، تو معرب کی معرفت ہوگی تو مقصود حاصل ہوگا۔ کیا بغیر معرفت کے بھی حاصل ہو سکتا ہے؟ نہیں۔ معرب کی معرفت سے مقصود یہ ہے۔ تو معرب کی معرفت ہوگی تو وہ مقصود بھی حاصل ہوگا۔ اور وہ کیا ہے؟ کہ معرب ان چیزوں میں سے ہے جس کا آخر بدلتا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ اس بات کی معرفت کہ یہ ان چیزوں میں سے ہے جس کا آخر بدلتا ہے، اس سے پہلے معرب کی معرفت آپ کو ہونی چاہیے۔ اور اگر جمہور کی تعریف کر لی جائے، جمہور نے معرب کی کیا تعریف کی؟ کہ معرب ان چیزوں میں سے ہے جس کا آخر بدلتا ہے۔ تو مقصود سے پہلے معرب کا جاننا ضروری، اور معرب کو جاننے کے لیے یہ جاننا ضروری کہ "أنه مما يختلف آخره"۔ توجہ ہے؟ تو "أنه مما يختلف آخره" وہ موقوف ہو گیا معرفتِ معرب پر، اور معرفتِ معرب موقوف ہو گئی کس پر؟ کہ "أنه مما يختلف آخره" پر بھئی۔ اور اس سے دور لازم آیا۔ یا یوں کہیں: "تقدم الشيء على نفسه"، ایک شے اپنی ہی ذات پر مقدم ہو گئی اور ایک شے اپنی ہی ذات پر مقدم ہونا یہ باطل ہے، درست نہیں ہے۔ تو لہٰذا ضروری ہے کہ معرب کی تعریف اور لفظوں کے ساتھ کی جائے تاکہ دور لازم نہ آئے، اور اسی لیے صاحبِ قافیہ نے معرب کی اور تعریف کی دور سے بچنے کے لیے۔ اور جو جمہور نے تعریف کی تھی اس کو معرب کے احکام میں سے بنا دیا کہ معرب کا حکم یہ ہے کہ اس کا آخر عوامل کے بدلنے سے بدلتا ہے۔ جی، دیکھیے اب آگے سبق۔ کہتے ہیں: "وحكمه" أي من جملة أحكام المعرب وآثاره المترتبة عليه من حيث هو معرب "أن يختلف آخره"۔ ذرا صرف متن متن دیکھیے پہلے بھئی۔ کہتے ہیں: "وحكمه" اور معرب کا حکم یہ ہے "أن يختلف آخره" کہ اس کا آخر بدلتا ہے "باختلاف العوامل" عوامل کے بدلنے سے "لفظا أو تقديرا" لفظاً یا تقدیراً۔ معرب وہ ہے کہ عوامل کے بدلنے سے اس کا آخر بدلتا ہے اور کبھی یہ بدلنا لفظاً ہوگا یعنی باقاعدہ تلفظ سے پتہ چل جائے گا۔ جیسے دیکھو: "ضرب زيدٌ"، میں نے زید پر کیا پڑھا؟ رفع۔ "رأيت زيدا"، میں نے کیا پڑھا؟ نصب۔ یا بلکہ اکیلے لفظ کو دیکھو: "زيدٌ"، میں نے کیا پڑھا؟ رفع۔ "زيدا"، میں نے کیا پڑھا؟ نصب۔ "زيدٍ"، میں نے کیا پڑھا؟ جر۔ دیکھا؟ یہ تلفظ سے ہی آپ کو پتہ چل رہا ہے۔ تو کبھی کبھار جو تبدیلی آئے گی وہ تلفظ کے اعتبار سے آئے گی، اس کو اعرابِ لفظی کہیں گے۔ اور کبھی کبھار تبدیلی جو آئے گی وہ تقدیراً ہوگی یعنی فرض کر لو تبدیلی آ گئی ہے، بظاہر تو کوئی فرق نہیں پڑا لیکن فرض کر لو بدل چکا ہے آخر۔ جیسے: "جاءني موسى"، "رأيت موسى"، "مررت بموسى"۔ دیکھو، تین حالتیں ہیں اور تینوں میں وہ یکساں ہے۔ تینوں میں یکساں ہے لیکن فرض کر لو بدل رہا ہے۔ فرض کر لو بدل رہا ہے۔ تو لفظِ موسیٰ کا آخر عامل کے بدلنے سے بدل رہا ہے لیکن لفظاً نہیں بدل رہا بلکہ تقدیراً بدل رہا ہے، فرض کر لو بدل رہا ہے۔ تو فرض کر لو کہ بدل رہا ہے بھئی۔ تعریف سمجھ میں آ گئی؟ کہتے ہیں: "وحكمه أن يختلف آخره باختلاف العوامل لفظا أو تقديرا"، معرب کا حکم یہ ہے کہ اس کا آخر بدلتا ہے عوامل کے بدلنے سے لفظاً یا تقدیراً، یا لفظاً بدلتا ہے یا تقدیراً بدلتا ہے۔ یہ تھا متن بھئی۔ اب آئیے شرح کے ساتھ اس کو حل کریں۔ کہتے ہیں: "وحكمه أي من جملة أحكام المعرب"، یہاں سے یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ "وحكمه" معرب کا حکم یہ ہے، یہ نہ سمجھنا کہ یہ معرب کا یہی ایک حکم ہے اور کوئی حکم نہیں ہے۔ بظاہر یہ لگتا ہے شاید معرب کا یہی ایک حکم ہے، اور کوئی حکم نہیں، لیکن لیکن آپ کو صاحبِ جامی بتلائیں گے کہ یہ تمام احکام نہیں ہیں، معرب کے اور بھی احکام ہیں۔ تو یہ بھی معرب کے جملہ احکام میں سے ایک حکم ہے جو یہاں پر صاحبِ قافیہ ذکر کر رہے ہیں۔ "وحكمه أي من جملة أحكام المعرب"، یعنی معرب کے جملہ احکام میں سے یعنی تمام احکام میں سے ایک یہ بھی حکم ہے بھئی۔ آگے کہہ رہے ہیں: "وآثاره المترتبة عليه"، اور وہ آثار جو اس معرب پر مرتب ہوتے ہیں، جو اس معرب پر مرتب ہوتے ہیں۔ بھئی یاد رکھو، جیسے آپ نے گزشتہ سے پیوستہ سبق میں پڑھا تھا کہ ایک اضافتِ بیانیہ ہوتی ہے۔ اضافتِ بیانیہ کسے کہتے ہیں؟ کہ مضاف الیہ جو ہے وہ مضاف کا بیان کرتا ہے۔ ویسے تو مضاف الگ ذات ہوتی ہے مضاف الیہ الگ۔ "غلام زيد"، غلام کی ذات الگ ہے اور زید کی ذات الگ، لیکن کبھی کبھار ایک لفظ کے آگے مضاف الیہ لا کر اسی کو بیان کر دیا جاتا ہے، جیسے "مبني الأصل"، یہ جو مبنی ہے مضاف اور الاصل کیا ہے؟ مضاف الیہ، اور مضاف مضاف الیہ سے غیر ہوتا ہے لیکن یہاں یہ دونوں غیر نہیں ہیں۔ یہ اصل اسی مبنی کا بیان کر رہا ہے کہ مبنی سے کون سا مبنی مراد ہے؟ مبنی الاصل مراد ہے۔ تو مبنی سے بھی مبنی مراد اور اصل سے بھی کیا مراد ہے؟ مبنی الاصل، تو یہ اسی کو بیان کر رہا ہے۔ تو کبھی کبھار مضاف الیہ کیا کرتا ہے؟ مضاف کا بیان کرتا ہے تو اس کو اضافتِ بیانیہ کہتے ہیں۔ اور اسی طرح یاد رکھو، ایک ہوتا ہے معطوف علیہ اور ایک ہوتا ہے معطوف۔ "جاءني زيد وبكر"، زید ہے معطوف علیہ جو پہلے آیا ہے اور بکر کیا ہے؟ معطوف، اور یاد رکھو یہ معطوف اور معطوف علیہ ایک دوسرے سے غیر ہوتے ہیں۔ عطف مغایرت کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ جو درمیان میں "اور" کا لفظ آ گیا: "میرے پاس زید اور عمرو آیا"، یہ "اور" بتلا رہا ہے کہ دونوں کی ذات الگ الگ ہے۔ تو عطف بھی مغایرت کا تقاضا کرتا ہے، لیکن کبھی کبھار دونوں ایک ہوتے ہیں۔ معطوف علیہ اور معطوف ایک ہی ہوتے ہیں اور اس میں ایک لفظ لایا جاتا ہے، اس کو معطوف علیہ بناتے ہیں اور پھر آگے معطوف لا کر اس کی تفسیر کر دی جاتی ہے۔ کیا کر دی جاتی ہے؟ تفسیر کر دی جاتی ہے، اس کو عطفِ تفسیری کہتے ہیں۔ یعنی مثلاً میں نے آپ سے کہا: "رأيت غضنفرا"، غضنفر شیر کو کہتے ہیں، "رأيت غضنفرا"۔ اب ہو سکتا ہے سننے والے کو پتہ نہ چلے کہ غضنفر کسے کہتے ہیں، تو میں نے آگے عطف کیا اور کہا: "وأسدا"۔ کیا کہا؟ غضنفر بھی شیر کو کہتے ہیں اور آگے اسد جو شیر کے لیے عام لفظ استعمال ہوتا ہے وہ بھی میں نے ذکر کر دیا۔ اب یہاں پر عطف ہے، دیکھو درمیان میں حرف واو آ رہا ہے: "رأيت غضنفرا وأسدا"، لیکن اس کو عطفِ تفسیری کہتے ہیں۔ اس میں یہ جو معطوف ہے اسی معطوف علیہ کی تفسیر کر رہا ہے، اس کا معنی بیان کر رہا ہے، اس کو کھول کر بتلا رہا ہے کہ غضنفر کس کو کہتے ہیں؟ شیر کو کہتے ہیں۔ توجہ ہے؟ غضنفر کس کو کہتے ہیں؟ شیر کو کہتے ہیں۔ تو ایک صورت کلام کی یہ تھی میں یوں کہتا: "رأيت غضنفرا أي أسدا"، میں نے غضنفر کو دیکھا یعنی کہ شیر کو۔ اور ایک طریقہ اس کا یہ ہے کہ میں حرفِ تفسیر "ای" کے بجائے درمیان میں حرفِ عطف واو لے آتا ہوں: "رأيت غضنفرا وأسدا"، ترجمہ کیا؟ میں نے غضنفر یعنی شیر کو دیکھا، ترجمہ وہی ہوگا۔ میں نے شیر کو دیکھا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو عطف مغایرت کا تقاضا کرتا ہے، معطوف غیر ہوتا ہے معطوف علیہ سے، لیکن کبھی کبھار معطوف کے ذریعے اسی معطوف علیہ کے معنی کو بیان کر دیا جاتا ہے، اس کی تفسیر کر دی جاتی ہے، اس کی تشریح کر دی جاتی ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ عطفِ تفسیری۔ جیسے "رأيت غضنفرا وأسدا"، یہ اسد کوئی غضنفر سے الگ چیز نہیں ہے، یہ اسی غضنفر کے معنی اور مفہوم کو بیان کر رہا ہے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ عطفِ تفسیری۔ توجہ ہے؟ اس میں تفسیر بیان کی جا رہی ہے معطوف علیہ کی۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے: "أي من جملة أحكام المعرب وآثاره المترتبة عليه"۔ بھئی معرب کے احکام، احکام سے آپ کی کیا مراد ہے؟ احکام سے کیا مراد ہے؟ معنی بیان کر رہے ہیں کہ احکام سے مراد ہے وہ اثرات جو اس پر مرتب ہوتے ہیں۔ وہ اثرات جو معرب کا حکم، توجہ سے ادھر دیکھو، معرب کا حکم یہ ہے، کیا معنی معرب کا حکم یہ ہے؟ یعنی اس پر جو اثر مرتب ہوتا ہے عامل کا وہ یہ ہے کہ وہ فاعل ہوگا تو مرفوع ہوگا، مفعول ہوگا تو منصوب ہوگا، اور مضاف الیہ ہوگا تو مجرور ہوگا۔ تو یہ معرب کے حکم سے کیا مراد ہے؟ وہ جو اس پر اثر مرتب ہوتا ہے عامل کا۔ عامل آئے گا کبھی اس کو رفع دے گا، کبھی نصب دے گا، کبھی جر دے گا۔ تو معرب کے حکم سے کیا مراد ہے؟ وہ جو عامل کا اثر اس پر آ رہا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: "أي من جملة أحكام المعرب وآثاره المترتبة عليه"، یعنی معرب کے جملہ احکام میں سے اور اس کے وہ آثار جو اس معرب پر مرتب ہوتے ہیں "من حيث هو معرب" اس حیثیت سے کہ وہ معرب ہے، اس حیثیت سے کہ وہ معرب ہے۔ معرب کا حکم اس حیثیت سے کہ وہ معرب ہے وہ یہ ہے کہ اس کا آخر عوامل کے بدلنے سے بدلتا ہے۔ بھئی حیثیت کی قید لگائی، معرب ہونے کی حیثیت سے اس کا یہ حکم ہے۔ ورنہ یہی معرب کبھی فاعل ہوگا تو فاعل ہونے کی حیثیت سے اس کا حکم یہ ہے کہ یہ مرفوع ہوگا۔ توجہ ہے؟ معرب ہونے کی حیثیت سے معرب کا کیا حکم؟ ادھر دیکھیے: "جاءني زيدٌ"، "جاءني زيدٌ"۔ یہ معرب ہے کہ مبنی ہے، زید کا لفظ؟ معرب ہے۔ تو معرب ہونے کی حیثیت سے اس کا حکم کیا ہے؟ کہ اس کا آخر بدلے گا۔ عوامل کے بدلنے سے اس کا آخر بدلے گا۔ لیکن صرف اس میں ایک ہی حیثیت تو نہیں ہے، زید میں ایک اور حیثیت بھی ہے کہ یہ فاعل بھی ہے۔ یہ فاعل ہونے کی حیثیت سے اس کا حکم کیا ہے؟ اس کا آخر بدلے گا یا اس پر رفع آئے گا؟ اس پر رفع آئے گا۔ دیکھا؟ فاعل ہونے کی حیثیت سے اس کا حکم یہ نہیں ہے کہ اس کا آخر بدلے گا بلکہ فاعل ہونے کی حیثیت سے اس کا حکم یہ ہے کہ اس پر رفع آئے گا۔ اگر یہی مفعول ہوتا تو مفعول ہونے کی حیثیت سے اس کا حکم کیا ہوتا؟ نصب آتا اس پر۔ اگر یہی مضاف الیہ ہوتا تو مضاف الیہ ہونے کی حیثیت سے اس کا کیا حکم تھا؟ جر آتا۔ تو ایک ہی چیز میں کئی حیثیتیں ہوتی ہیں بھئی۔ توجہ ہے؟ ایک ہی چیز میں کئی حیثیتیں ہوتی ہیں۔ مثلاً دیکھو زید، زید زید کسی کا بیٹا بھی ہے، اور زید کسی کا باپ بھی ہے، اس کی بھی زید کے بھی بچے ہیں۔ توجہ ہے؟ تو زید باپ ہونے کی حیثیت سے اس کا حکم اور ہے۔ باپ ہونے کی حیثیت سے بچوں کی بہترین تربیت کرتا ہے، اور بیٹا بھی ہے، اس کا بھی زید کا بھی تو کوئی باپ ہے، بیٹا ہونے کی حیثیت سے یہ بڑا ہی باادب ہے۔ توجہ ہے؟ بیٹا ہونے کی حیثیت سے اور حکم دیکھو بیان ہوا، باپ ہونے کی حیثیت سے اور حکم بیان ہوا، تو ایک ہی چیز میں کئی بعض اوقات حیثیتیں ہوتی ہیں۔ تو معرب جو ہے وہ ظاہر سی بات ہے کلمہ ہے، تو جب وہ کلمہ ہے تو معرب ہونے کی حیثیت سے اس کا حکم یہ ہے کہ اس کا آخر بدلتا ہے، اور اگر وہ فاعل ہے تو فاعل ہونے کی حیثیت سے اس کا حکم اور ہوگا، مفعول ہونے کی حیثیت سے اور ہوگا، مضاف الیہ ہونے کی حیثیت سے اور ہوگا۔ تو کہتے ہیں: "وآثاره المترتبة عليه من حيث هو معرب"، اور معرب کے وہ آثار جو اس پر مرتب ہوتے ہیں اس حیثیت سے کہ وہ معرب ہے، وہ یہ ہے: "أن يختلف آخره"، یہ کہ اس کا آخر بدلتا ہے، کہ اس کا آخر۔ بھئی اب دیکھیے، آپ کو بتلائیں گے کہ اس کا آخر بدلتا ہے یعنی وہ حرف جو معرب کا آخر ہے وہ بدلتا ہے۔ توجہ ہے؟ معرب سارا نہیں بدلتا، معرب کا آخر بدلتا ہے یعنی جو آخری حرف ہے، اور آخری حرف جو بدلتا ہے، کبھی ذات کے اعتبار سے بدل جاتا ہے۔ جیسے: ابوک، اباک، ابیک۔ ابوک، آخر میں کیا ہے؟ واو۔ حالتِ نصبی میں کیا پڑھیں گے؟ اباک۔ حالتِ جری میں کیا پڑھیں گے؟ ابیک۔ یا دوسری مثال لے لو، تثنیہ ہے، حالتِ رفعی میں کیسے پڑھیں گے؟ رجلان مثلاً، رجلان الف کے ساتھ، اور حالتِ نصبی جری میں کیسے پڑھیں گے؟ رجلین۔ تو معرب کا آخر بدلتا ہے یعنی وہ جو آخری حرف ہے وہ بدلتا ہے، اور پھر وہ آخری حرف کبھی اس کی ذات ہی بدلے گی، جیسے ابوک، اباک اور ابیک، آخری حرف کی ذات ہی بدل رہی ہے، کبھی واو ہے، کبھی الف ہے، کبھی یا ہے۔ اور کبھی آخری حرف بدلتا ہے صرف صفت کے اعتبار سے، اس کی ذات نہیں بدلتی: "جاءني زيدٌ"، "رأيت زيدا"، "مررت بزيدٍ"۔ اب آخر میں کیا ہے؟ دال۔ زید کے آخر میں کیا ہے؟ دال۔ اور وہ آخری حرف بدل رہا ہے ذات کے اعتبار سے؟ کیا دال کی جگہ کوئی اور حرف آ رہا ہے یا صرف اس کی صفت بدل رہی ہے؟ صفت یعنی اس پر حرکتیں بدل رہی ہیں، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو معرب کا حکم کیا ہے کہ اس کا آخر بدلتا ہے، اور آخر سے مراد کیا ہے؟ آخری حرف بھئی، اور وہ آخری حرف کبھی ذات کے اعتبار سے بدلتا ہے، اس کی ذات ہی بدل جاتی ہے، اور کبھی صفت کے اعتبار سے بدلتا ہے یعنی اس پر حرکت بدلتی ہے، جیسے "جاءني زيدٌ"، "رأيت زيدا" اور "مررت بزيدٍ"، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: "أن يختلف آخره" اس کا آخر بدلتا ہے "أي الحرف الذي هو آخر المعرب" یعنی وہ حرف جو معرب کا آخر ہے وہ بدلتا ہے "ذاتا" باعتبار ذات کے۔ ذات کے اعتبار سے بدلنا کیا ہے؟ کہ اس حرف کی ذات ہی بدل جائے۔ دیکھیے: "بأن يتبدل حرف بحرف"، "بأن يتبدل" یہ با تصویریہ ہے، یہ صورت بتلا رہا ہے کہ ذات کیسے بدلے گی؟ کہتے ہیں بایں صورت کہ "يتبدل حرف بحرف" ایک حرف بدل جاتا ہے دوسرے حرف سے۔ توجہ ہے؟ جیسے ابوک، اباک اور ابیک کے اندر واو، الف اور یا بدل رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں: "بأن يتبدل حرف بحرف آخر" بایں صورت کہ ایک حرف بدل جاتا ہے دوسرے حرف کے ساتھ "حقيقة أو حكما"، اور پھر وہ حرف کا بدلنا یا تو حقیقتاً ہوگا یا حکماً ہوگا، حقیقتاً ہوگا یا حکماً ہوگا۔ حقیقتاً بدلے گا جیسے: "جاءني مسلمان"، "جاءني مسلمان"، میرے پاس دو مسلمان آئے۔ "جاءني مسلمان"، "رأيت مسلمين"۔ جی، حقیقتاً بدل رہا ہے۔ پہلے الف تھا، اب کس سے بدل گیا؟ یا سے۔ اب ذرا نصبی اور جری کو صرف دیکھو: "رأيت مسلمين"، میں نے دو مسلمانوں کو دیکھا، "مررت بمسلمين"، میں دو مسلمانوں کے پاس سے گزرا۔ توجہ ہے؟ تو دیکھو، یہ جو تثنیہ ہے، اس کا اعراب جو ہے کس طرح حرف کے بدلنے سے آتا ہے یا حرکت کے بدلنے سے؟ حرف کے بدلنے سے، اس میں حرف بدلتا ہے لیکن حالتِ نصبی جری میں دیکھو: "رأيت مسلمين" اور "مررت بمسلمين"، حرف نہیں بدل رہا، دونوں میں یا ہے اور یا سے ماقبل مفتوح ہے۔ تو جواب یہ کہ یہاں حکماً بدل رہا ہے، حکم لگا دیا کہ بدل رہا ہے۔ تو کبھی حقیقتاً بدلے گا جیسے "جاءني مسلمان" اور "رأيت مسلمين"، دیکھو بدل رہا ہے، حقیقتاً بدل رہا ہے، اور کبھی حکماً بدلے گا۔ حکماً بدلنے کا کیا مطلب؟ یعنی حکم لگا دیا جائے گا کہ یہ بدل رہا ہے، جیسے "رأيت مسلمين" اور "مررت بمسلمين"۔ تو کہتے ہیں: "بأن يتبدل حرف بحرف آخر" بایں صورت کہ ایک حرف بدل جاتا ہے دوسرے حرف کے ساتھ "حقيقة أو حكما"، اور یہ بدلنا حقیقتاً ہوگا یا حکماً ہوگا "إذا كان إعرابه بالحرف" جبکہ اس معرب کا اعراب حرف کے ساتھ ہو۔ "أو صفة"، یہ صفتًا کا عطف ہے ذاتا پر، یا وہ حرف جو آخرِ معرب ہے وہ بدلتا ہے صفتًا باعتبار صفت کے، یعنی اس کی صفت بدلتی ہے۔ خود بیان کر رہے ہیں: "بأن يتبدل صفة بصفة أخرى" بایں صورت کہ بدلتی ہے ایک صفت دوسری صفت کے ساتھ "حقيقة أو حكما"۔ یہ بدلنا جو ہے صفت کا بدلنا بھی کبھی حقیقتاً ہوتا ہے اور کبھی حکماً ہوتا ہے۔ توجہ ہے؟ معرب کا حکم کیا ہے کہ اس کا آخر بدلتا ہے، اس کا آخر بدلے گا، آخر سے کیا مراد ہے؟ اس کا آخری حرف، توجہ ہے؟ اور آخری حرف وہ بدلتا ہے کبھی اپنی ذات کے اعتبار سے بدل جاتا ہے، ایک حرف کی جگہ دوسرا حرف آتا ہے، اور کبھی وہ صفت کے اعتبار سے بدلتا ہے، ذات تو نہیں بدلی جیسے زیدٌ، زیداً، زیدٍ، دال کی ذات تو نہیں بدلی، ہاں اس کی صفت بدل گئی کہ اس پر حرکت بدل گئی، کبھی رفع ہے، کبھی نصب ہے اور کبھی جر۔ تو صفت بدل جاتی ہے، ایک صفت کی جگہ یعنی ایک حرکت کی جگہ دوسری حرکت آ جاتی ہے۔ اور پھر یہ حرکت کا بدلنا بھی کبھی حقیقتاً ہوتا ہے، کبھی حکماً۔ "جاءني زيدٌ"، "رأيت زيدا"، "مررت بزيدٍ"، اس میں حرکت بدل رہی ہے اور حقیقتاً بدل رہی ہے زید کے آخر میں، توجہ ہے؟ اور کبھی حکماً بدلے گی حرکت جیسے: "جاءني أحمدُ"، "رأيت أحمدَ"، "مررت بأحمدَ"۔ غیر منصرف ہے، کسرہ اور تنوین اس پر نہیں آتے۔ "جاءني أحمدُ" رفع ہے، "رأيت أحمدَ" حقیقتاً بدل رہے ہیں، پہلے رفع تھا اب کیا آ گیا؟ نصب آ گیا۔ لیکن صرف نصب اور جر پہ ذرا نظر رکھو: "رأيت أحمدَ"، "مررت بأحمدَ"، پہلے بھی فتحہ ہے اب بھی کیا ہے؟ فتحہ ہے۔ تو حقیقتاً تو نہیں بدل رہا لیکن حکماً بدل رہا ہے، حکماً حکم لگا دیا جائے گا کہ بدل رہی ہے صفت۔ کیونکہ پہلے جو فتحہ آیا وہ کون سا فتحہ ہے؟ وہ نصب ہے، وہ "رأيت أحمدَ"، یہ کیا ہے اس وقت؟ مفعول ہے، منصوب ہے، تو یہ فتحہ کون سا والا ہے؟ نصب والا فتحہ ہے۔ اور "مررت بأحمدَ"، اب جو فتحہ آیا یہ کون سا فتحہ ہے؟ جر والا فتحہ ہے۔ تو حقیقتاً تو صفت نہیں بدل رہی، حرکت نہیں بدل رہی لیکن حکم لگا دیا جائے گا کہ صفت بدل رہی ہے۔ تو کہتے ہیں: "أو صفة"، یا معرب کا آخر بدلے گا صفت کے اعتبار سے "بأن يتبدل صفة بصفة أخرى حقيقة أو حكما إذا كان إعرابه بالحركة" بایں صورت کہ ایک صفت بدل جائے گی دوسری صفت کے ساتھ حقیقتاً یا حکماً جبکہ اس کا اعراب کیا ہو؟ حرکت کے ساتھ ہو بھئی۔ "إذا كان إعرابه بالحركة" جبکہ اس معرب کا اعراب حرکت کے ساتھ ہو، اس کا اعراب حرکت کے ساتھ۔ تو کبھی کبھار وہ حرف یا وہ حرکت حقیقتاً بدلتی ہے معرب میں، اور کبھی حکماً بدلتی ہے یعنی حکم لگا دیا جاتا ہے۔ یعنی یوں سمجھو، ادھر دیکھو: حکماً بدلنے کا مطلب یہ ہے، حکماً بدلنے کا مطلب یہ ہے کہ بظاہر کوئی تبدیلی نہیں آ رہی لیکن دلالتِ مقصودی بدل چکی ہے۔ وہ دلالت جو مقصود ہے اس کے ذریعے وہ بدل چکی ہے۔ توجہ ہے؟ "رأيت أحمدَ"، "رأيت أحمدَ"، احمد پر نصب آیا، یہ نصب اس کے ذریعے کس چیز پر دلالت مقصود ہے؟ اس کے مفعول ہونے پر دلالت مقصود ہے، یہ یہ نصب بتلا رہا ہے کہ یہ اس وقت کیا ہے؟ مفعول ہے، منصوب ہے۔ اور جب میں کہوں "مررت بأحمدَ"، اب حرکت تو نہیں بدلی لیکن دلالتِ مقصودی بدل گئی۔ یہ والا جو فتحہ آیا یہ کیا بتلا رہا ہے؟ کہ یہ مضاف الیہ ہے، مجرور ہے حرفِ جر کی وجہ سے۔ یہ مجرور ہے، مضاف الیہ ہے، مضاف الیہ ہے نا۔ حرفِ جر کے ذریعے بھی تو فعل کی اضافت یعنی نسبت کی جاتی ہے، کس کی طرف؟ اسم کی طرف، توجہ ہے؟ تو مررت کی نسبت ہوئی با کے ذریعے کس کی طرف؟ اسم یعنی احمد کی طرف۔ تو مررت ہوا مضاف اور جس کی طرف نسبت ہوئی وہ ہوا مضاف الیہ۔ مضاف کا کیا معنی؟ جس کی نسبت کی جائے، جس کی اضافت کی جائے، اور مضاف الیہ جس کی طرف نسبت کی جائے۔ تو حاصلِ کلام کیا ہوا؟ کہ حکماً اعراب بدلنے کا کیا مطلب ہے؟ مطلب یہ ہے کہ دلالتِ مقصودی بدل گئی ہے، دلالتِ مقصودی بدل گئی ہے۔ "رأيت أحمدَ" اور "مررت بأحمدَ"، بظاہر تو کوئی تبدیلی نہیں لیکن ایک میں جو فتحہ ہے اس میں دلالت مقصود ہے مفعول بہ ہونے پر، اور "مررت بأحمدَ"، اس کے اندر جو دلالت فتحہ کے ذریعے مقصود ہے وہ کس پر ہے کہ یہ مضاف الیہ ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو اس کو کہیں گے حکماً تبدیلی آ چکی ہے بھئی۔ جی، آگے دیکھیے بھئی: "باختلاف العوامل"، عوامل کے بدلنے کی وجہ سے۔ معرب کا حکم یہ ہے کہ اس کا آخر بدلتا ہے "باختلاف العوامل"، کس کی وجہ سے؟ عوامل کے بدلنے سے۔ آگے بتلا رہے ہیں شارحِ جامی: "أي بسبب اختلاف العوامل"، یہاں بتلا دیا کہ یہ جو باختلاف پر با داخل ہے یہ با سببیہ ہے۔ معرب کا آخر بدلتا ہے اس وجہ سے کہ اس پر عوامل بدلتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: "أي بسبب اختلاف العوامل الداخلة عليه في العمل"، اس وجہ سے کہ عوامل بدلتے ہیں، وہ عوامل "الداخلة عليه" جو اس پر داخل ہو رہے ہیں۔ اس وجہ سے کہ عوامل مختلف ہوتے ہیں وہ عوامل جو اس پر داخل ہو رہے ہیں "في العمل"، وہ عوامل مختلف ہوتے ہیں کس اعتبار سے؟ عمل کے اعتبار سے۔ وہ عوامل مختلف ہوتے ہیں، معرب وہ ہے جس ادھر دیکھیے، معرب وہ ہے جس کا آخر بدلتا ہے عوامل کے مختلف ہونے کی وجہ سے کیونکہ عوامل مختلف ہوتے ہیں عمل کے اندر۔ بعض عوامل کیا چاہتے ہیں؟ رفع۔ بعض عوامل کیا چاہتے ہیں؟ نصب، اور بعض کیا چاہتے ہیں؟ جر۔ تو یہ معرب کا آخر بدلتا ہے اس وجہ سے کیونکہ ان پر جو عوامل داخل ہوتے ہیں وہ عمل میں مختلف ہوتے ہیں۔ تو انہوں نے کیا کہا؟ باختلاف العوامل کی تفسیر کیا کی؟ "أي بسبب اختلاف العوامل الداخلة عليه في العمل"، اس وجہ سے کہ وہ عوامل مختلف ہوتے ہیں جو اس پر داخل ہو رہے ہیں، مختلف ہوتے ہیں فی العمل، کس چیز میں؟ عمل میں مختلف ہوتے ہیں، توجہ ہے؟ وہ عوامل عمل میں مختلف ہوتے ہیں۔ آگے صورت بتلا رہے ہیں کس طرح؟ "بأن يعمل"، یہ با تصویریہ ہے، بایں صورت: "بأن يعمل بعضهم منها خلاف ما يعمل البعض الآخر"، بایں صورت کہ ان میں سے جو بعض ہیں وہ عمل کرتے ہیں "خلاف ما يعمل البعض الآخر" اس کے خلاف جو بعض دوسرے عمل کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض جو عمل کرتے ہیں وہ اس کے خلاف ہوتا ہے جو بعض دوسرے عمل کرتے ہیں یعنی بعض کیا کرتے ہیں؟ رفع دیتے ہیں، بعض کیا کرتے ہیں؟ نصب دیتے ہیں اور بعض کیا کرتے ہیں؟ جر۔ تو دیکھو ہر ایک کا عمل ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ تو عمل میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ آگے آپ کو بتلائیں گے ملا جامی رحمہ اللہ کہ ہم نے فی العمل کی قید کیوں لگائی کہ وہ عوامل عمل میں مختلف ہونے چاہئیں؟ وہ عوامل عمل میں مختلف ہونے چاہئیں، کہتے ہیں اس لیے کہ اگر آپ عوامل بدلتے جائیں لیکن وہ سارے مثلاً رفع چاہتے ہیں تو پھر تو معرب کا آخر نہیں بدل رہا۔ یا وہ سارے نصب چاہتے ہیں، پھر تو معرب کا آخر نہیں بدل رہا۔ عوامل بدل رہے ہیں اور اس کا آخر نہیں بدل رہا اور آپ کہیں گے دیکھو عوامل بدل رہے ہیں اور اس کا آخر نہیں بدل رہا۔ بتلا دیا کہ بھئی عمل میں مختلف ہوں، ایک اگر رفع چاہتا ہے تو دوسرا نصب چاہے، تیسرا جر چاہے۔ جیسے دیکھو یہ مثالیں دی ہوئی ہیں، آگے ذرا یہ مثالوں پہ نظر رکھو، ایک سطر کے بعد آ رہا ہے: "إن زيدا مضروب"، عبارت مل گئی؟ دو چار لفظوں کے بعد ہے: "إن زيدا مضروب"، دیکھو یہ زيدا منصوب ہے، کیوں منصوب ہے؟ کیونکہ ان کا اسم ہے اور ان اس کو نصب دے رہا ہے، ان کا اسم منصوب ہوتا ہے۔ آگے دیکھو: "وإني ضربت زيدا"، اس میں بھی زيدا منصوب ہے لیکن اب ان نصب نہیں دے رہا بلکہ کون نصب دے رہا ہے؟ ضربت۔ تو دیکھو عامل بدل گیا ہے لیکن معرب کا آخر نہیں بدل رہا، معرب کا آخر اسی طرح منصوب ہے۔ تیسری مثال دیکھو: "إني ضارب زيدا"، اب یہ زيدا منصوب ہے، اب کون اب کون نصب دے رہا ہے؟ ضارب۔ تو دیکھو عامل تو بدل رہے ہیں لیکن معرب کا آخر نہیں بدل رہا۔ تو آپ کہیں گے دیکھا، آپ نے تو ہمیں کیا بتایا تھا کہ معرب وہ ہے جس کا آخر بدلتا ہے عوامل کے بدلنے سے، یہاں تو معرب کا آخر نہیں بدل رہا، عوامل بدل رہے ہیں: "إن زيدا مضروب"، اس میں ان حرف عمل کر رہا ہے زید میں، "إني ضربت زيدا"، اس میں ضربت فعل عمل کر رہا ہے زید میں، اور "إني ضارب زيدا"، اس میں ضارب اسم عمل کر رہا ہے زید میں۔ ہم حرف لے آئے پھر بھی نصب، ہم فعل لے آئے پھر بھی نصب، ہم اسم لے آئے پھر بھی نصب ہے، تو معرب کا آخر تو نہیں بدل رہا، تو کہتے ہیں ہم نے اسی لیے کہا کہ وہ عوامل مختلف ہونے چاہئیں کس چیز میں؟ عمل میں مختلف ہونے چاہئیں اور یہ تو عمل میں مختلف نہیں، یہ تو سب نصب دینے والے ہیں، بات سمجھ میں آ گئی۔ معرب وہ ہے اس کا آخر بدلتا ہے کس کی وجہ سے؟ عوامل کے بدلنے سے، اور وہ عوامل مختلف ہونے چاہئیں کس چیز میں؟ عمل میں مختلف ہونے چاہئیں، اگر ایک رفع کا تقاضا کرنے والا ہو تو دوسرا نصب کا تقاضا کرنے والا ہو، پھر بدلے گا معرب کا آخر۔ کہتے ہیں: "وإنما خصصنا اختلافها بكونه في العمل"، اور ہم نے خاص کر دیا "اختلافها أي اختلاف العوامل" عوامل کے اختلاف کو ہم نے خاص کر دیا "بكونه في العمل" کہ وہ اختلاف کس میں ہونا چاہیے؟ عمل میں اختلاف ہونی ہونا چاہیے "لئلا ينتقض" تاکہ کہیں یہ ٹوٹ نہ جائے یعنی اس پر اعتراض وارد نہ ہو "بمثل قولنا" ہمارے اس جیسے قول کے ذریعے کہ "إن زيدا مضروب"، "وإني ضربت زيدا"، "وإني ضارب زيدا"، "فإن العامل في زيدا" اس لیے کیونکہ عامل جو ہے زيدا کے اندر "في هذه الصور مختلف" ان صورتوں میں مختلف ہے، بدل رہا ہے بھئی "بالاسمية والفعلية والحرفية" اس اسمیت، فعلیت اور حرفیت کے ساتھ، کبھی اسم ہے، کبھی فعل ہے اور کبھی حرف ہے "مع أن آخر المعرب لم يختلف باختلافه"، باوجود اس کے کہ معرب کا آخر تو نہیں بدل رہا ان کے بدلنے سے۔ تو آپ یہ اعتراض نہ کریں کیونکہ ہم نے بتلا دیا کہ عوامل کے بدلنے سے کیا مراد ہے؟ کہ وہ عمل میں بدلنے بدلیں بھئی، یعنی اگر ایک ایک قسم کے اعراب کا تقاضا کر رہا ہے تو دوسرا دوسری قسم کے اعراب کا تقاضا کرے، پھر معرب کا آخر بدلے گا۔ "لفظا أو تقديرا"، "نصب على التمييز"، یہ منصوب ہیں تمیز ہونے کی بنا پر۔ پھر متن متن دیکھو: "وحكمه أن يختلف آخره باختلاف العوامل"، اور معرب وہ ہے جس کا آخر بدلتا ہے عوامل کے مختلف ہونے سے "لفظا أو تقديرا"، اور یہ بدلنا کیسا ہوگا؟ لفظاً ہوگا یا تقدیراً۔ کبھی لفظوں کے اندر ہمیں تلفظ سے ہی پتہ چلے گا: "جاءني زيدٌ"، "رأيت زيدا"، "مررت بزيدٍ"۔ دیکھا؟ زيدٌ، زيدا، زيدٍ، تلفظ سے پتہ چل رہا ہے یا نہیں؟ رفع، نصب، جر۔ اور کبھی تلفظ سے پتہ نہیں چلے گا جیسے "جاءني موسى"، "رأيت موسى"، "مررت بموسى"، بدل تو رہا ہے لیکن تقدیراً بدل رہا ہے، لفظاً نہیں بدل رہا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: "لفظا أو تقديرا نصب على التمييز"، یہ منصوب ہے تمیز ہونے کی بنا پر۔ یہ کیا ہے؟ کون؟ لفظاً او تقدیراً۔ یہ ترکیب بتا رہے ہیں، یہ جو لفظاً او تقدیراً آیا یہ منصوب ہیں، کیوں؟ کیونکہ یہ تمیز واقع ہو رہے ہیں، اور آپ پڑھ چکے ہیں ہدایۃ النحو اور کافیہ میں کہ تمیز منصوب ہوتی ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ لفظاً او تقدیراً تمیز ایک ہے یا دو ہیں؟ دونوں ہیں، دونوں ہیں، لفظاً بھی تمیز، تقدیراً بھی۔ تو آگے شارحِ جامی نے کیا فرمایا؟ "نصب"، اس کو نصب دیا گیا ہے "على التمييز"، کس بنا پر؟ تمیز ہونے کی بنا پر۔ تو نصب تو مفرد کا فعل لے آئے، اس کے اندر تو ھو ضمیر ہوتی ہے، اور پیچھے دو منصوب آئے ہیں کہ ایک منصوب آیا ہے؟ دو آئے ہیں، تو نُصِبَا تثنیہ والا صیغہ لانا چاہیے تھا کہ یہ دونوں منصوب ہیں کس بنا پر؟ تمیز ہونے کی بنا پر۔ اشکال سمجھ میں آیا؟ تو جواب یہ، جواب یہ، یہ کل واحد کی تاویل میں ہے، ان کی طرف مفرد کی ضمیر لوٹائی کس تاویل میں؟ کل واحد: "أي نصب كل واحد"، ان دونوں میں سے ہر ایک منصوب ہے "على التمييز"، کس بنا پر؟ تمیز ہونے کی بنا پر۔ تو کہتے ہیں: "نصب على التمييز أي نصب كل واحد"، ان دونوں میں سے ہر ایک منصوب ہے "على التمييز"، تمیز ہونے کی بنا پر۔ کس بنا پر؟ تمیز ہونے کی بنا پر منصوب ہے۔ "أن يختلف لفظ آخره أو تقديره"۔ یہاں تمیز کے بارے میں ایک دو باتیں یاد رکھیں۔ آپ ہدایۃ النحو اور کافیہ میں پڑھ چکے ہیں کہ تمیز جو ہے وہ ابہام کو دور کرنے کے لیے لائی جاتی ہے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: "عندي أحد عشر"، میرے پاس گیارہ ہیں۔ اب گیارہ کیا ہیں، اس میں ابہام ہے، گیارہ کتابیں ہیں، گیارہ قلم ہیں، گیارہ روپے ہیں، گیارہ کاغذ ہیں، کیا چیز گیارہ ہیں؟ تو اس میں ابہام ہے، تو آگے میں تمیز لا کر ابہام کو دور کرتا ہوں: "عندي أحد عشر كتابا"، کہ میرے پاس گیارہ کتابیں ہیں۔ تو یہ کتاباً نے آ کر أحد عشر سے ابہام کو دور کر دیا، أحد عشر تو دنیا کی کوئی بھی چیز ہو سکتی تھی تو کتاباً نے آ کر ابہام کو دور کر دیا۔ تو تمیز کیا کرتی ہے؟ ابہام کو دور کرتی ہے۔ پھر یاد رکھو، یہ تمیز دو قسم پر ہے: کبھی تمیز جو ہے وہ کسی ذات سے ابہام کو دور کرے گی، اور کبھی تمیز جو ہے وہ نسبت سے ابہام کو دور کرے گی۔ توجہ ہے؟ کبھی تمیز ذات سے ابہام کو دور کرے گی اور کبھی نسبت سے۔ جو ذات سے ابہام کو دور کرے اس کو تمیزِ مفرد کہتے ہیں، جو ذات سے ابہام کو دور کرے اس کو تمیزِ مفرد کہتے ہیں۔ جیسے أحد عشر، أحد عشر اس کی ذات میں ابہام تھا کہ کیا چیز گیارہ مراد ہے، تو اس کتاباً نے آ کر اس ابہام کو دور کر دیا۔ اور کبھی کبھار جو نسبت ہوتی ہے ایک چیز کی دوسری چیز کی طرف جو نسبت کی جا رہی ہے اس نسبت میں ابہام ہوتا ہے، تمیز آ کر اس ابہام کو دور کر دیتی ہے، تو اس کو کہتے ہیں کہ یہ نسبت سے تمیز ہے، توجہ ہے؟ نسبت سے تمیز ہے، اور یہ جو نسبت سے تمیز آتی ہے یہ کبھی فاعل سے ابہام کو دور کرتی ہے، کبھی یہ مفعول سے ابہام کو دور کرتی ہے، کبھی یہ مبتدا سے ابہام کو دور کرتی ہے وغیرہ۔ مثلاً ایک آدھ مثال کر لیں، دیکھو فاعل سے ابہام کو دور کرے، جی جیسے مثال ہے بھئی، مثال، جیسے آپ نے پڑھا ہے ہدایۃ النحو میں بھی اور کافیہ میں بھی: "طاب زيد نفسا"، "طاب زيد نفسا"، زید اچھا ہے نفساً اپنی ذات کے اعتبار سے، اپنی یہ جو طاب کی نسبت زید کی طرف ہو رہی ہے اس میں ابہام تھا کہ زید اچھا ہے، بھئی کس اعتبار سے اچھا ہے؟ اپنی ذات کے اعتبار سے اچھا ہے، اپنے والد صاحب کے اعتبار سے اچھا ہے کہ اس کے والد صاحب اچھے ہیں، یا اپنے علم کے اعتبار سے اچھا ہے، یا اپنے کسی ہنر کے اعتبار سے اچھا ہے، زید کس اعتبار سے اچھا ہے؟ یا اپنے اخلاق کے اعتبار سے اچھا ہے؟ تو یہ جو طاب کی نسبت زید کی طرف ہو رہی ہے اس میں ابہام تھا، آگے نفساً نے آ کر اس ابہام کو دور کر دیا اور بتلا دیا کہ یہاں کیا مراد ہے؟ زید اچھا ہے اپنی ذات کے اعتبار سے اچھا ہے یعنی زید کی ذات اچھی ہے۔ یہ نسبت سے ابہام کو دور کر رہی ہے، کون سی نسبت؟ یہ جو طاب کی نسبت زید کی طرف ہو رہی ہے، "طاب زيد نفسا"، یہ نفساً ابہام کو دور کر رہی ہے، کون سا ابہام؟ جو طاب کی نسبت ہو رہی ہے کس کی طرف؟ زید کی طرف۔ طاب فعل ہے اور زید اس کا فاعل ہے، تو فاعل کی طرف فعل کی نسبت ہوتی ہے، تو یہ جو فعل کی فاعل کی طرف نسبت ہو رہی ہے اس میں ابہام تھا، نفساً نے آ کر کیا کر دیا؟ ابہام کو دور کر دیا۔ یہ جو نسبت سے ابہام کو تمیز دور کرے، یہ کبھی فاعل کے درجے میں ہوتی ہے اور کبھی مفعول اور کبھی مبتدا کے درجے میں ہوتی ہے۔ توجہ ہے؟ "طاب زيد نفسا"، زید اچھا ہے کس اعتبار سے؟ نفس، تو یہ تمیز ہے کس سے؟ نسبت سے، اور یہ جو نسبت سے تمیز ہوتی ہے، یوں کہیں: یہ کبھی محول عن الفاعل ہوتی ہے، کبھی محول عن المفعول ہوتی ہے، کبھی محول عن المبتدا ہوتی ہے۔ کس سے؟ محول کا معنی پھیری گئی ہے، پھیر دیا گیا، اس کو پلٹ دیا گیا۔ توجہ ہے؟ وہ جو نسبت سے تمیز ہوتی ہے کبھی وہ محول عن الفاعل ہوتی ہے یعنی یہ فاعل کے درجے میں ہے۔ یہ کس کے درجے میں ہے؟ اور کبھی یہ محول عن المفعول ہوتی ہے یعنی یہ کس کے درجے میں ہے؟ مفعول کے درجے میں ہے، اور کبھی یہ محول عن المبتدا ہوتی ہے یعنی یہ تمیز کس کے درجے میں ہوتی ہے؟ مبتدا کے درجے میں، بات سمجھ میں آ گئی؟ کبھی تمیز مفرد ہوتی ہے، کبھی تمیز نسبت سے ہوتی ہے۔ مفرد سے تمیز وہ ہے جو کسی ذات کے اندر ابہام ہے اس کو دور کرے جیسے أحد عشر میں ابہام تھا، کتاباً نے آ کر اس ابہام کو دور کر دیا، اور اور کبھی تمیز ابہام کو کسی نسبت سے دور کرتی ہے، اور جو نسبت سے تمیز ابہام کو دور کرے وہ کبھی محول عن الفاعل ہوتی ہے یعنی وہ فاعل سے پھیری گئی ہے، اصل میں یہ فاعل تھی پھر پھیر کر تمیز بنا دیا گیا، یا محول عن المفعول ہوتی ہے یعنی اصل میں یہ مفعول تھی پھر پھیر کر تمیز بنا دیا گیا، یا محول عن المبتدا ہوتی ہے یعنی اصل میں یہ کیا تھی؟ مبتدا تھی، اس کو پھیر کر تمیز بنا دیا گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ محول عن الفاعل کا کیا معنی؟ یہ اصل میں فاعل تھی، یا یوں کہو یہ فاعل کے درجے میں ہے، یہ اور جو محول عن المفعول ہے وہ کس کے درجے میں ہے؟ مفعول کے درجے میں ہے، اور جو محول عن المبتدا ہے وہ کس کے درجے میں ہے؟ مبتدا کے درجے میں ہے۔ دیکھو مثالوں سے وضاحت ہوگی: "طاب زيد نفسا"، "طاب زيد نفسا"، یہ تمیز ہے نسبت سے اور یہ محول عن الفاعل ہے۔ یہ محول عن الفاعل، محول عن الفاعل کا کیا معنی؟ یہ کس کے درجے میں ہے؟ فاعل کے درجے میں ہے، لہٰذا فاعل اس کو بنا دو: "طاب نفس زيد"، "طاب زيد نفسا" تھا، نفساً کو اٹھا کر فاعل بنا دو: "طاب نفس زيد"، اچھا ہے، کیا چیز اچھی ہے؟ "نفس زيد"، زید کی ذات۔ دیکھا؟ یہ کس کے درجے میں ہے؟ بات بھی سمجھ میں آ رہی ہے کہ نہیں؟ کہ جو تمیز محول عن الفاعل ہو وہ کس کے درجے میں ہوتی ہے؟ فاعل، لہٰذا اس کو فاعل بنا دو، "طاب زيد" کی بجائے نفس کا لفظ لے آؤ: "طاب نفس زيد"، زید کی ذات اچھی ہے، دیکھو یہ فاعل بنا دیا اور معنی ٹھیک ہے یا غلط ہے؟ ٹھیک معنی بن گیا۔ اسی طرح کبھی تمیز محول عن المفعول ہوتی ہے، وہ مفعول کے درجے میں ہوتی ہے جیسے جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: "وفجرنا الأرض عيونا"، "وفجرنا الأرض عيونا"، اور ہم نے بہا دیا زمین کو، "وفجرنا" اور ہم نے بہا دیا، فجر یفجر تفجیر کا معنی ہے بہا دینا جیسے پانی وغیرہ بہا دیا جاتا ہے، "وفجرنا" اور ہم نے بہا دیا "الأرض" زمین کو "عيونا" باعتبار چشموں کے۔ اب یہ جو عیوناً ہے یہ ہے نسبت سے تمیز ہے، یہ یہ جو فجرنا کی نسبت ہو رہی ہے ارض کی طرف، اس میں ابہام تھا: ہم نے بہا دیا زمین کو بھئی، تو ابہام تھا کہ کس اعتبار سے؟ تو آگے عیوناً نے آ کر ابہام کو دور کر دیا کہ چشموں کے اعتبار سے، اور یہ محول عن المفعول ہے یعنی یہ مفعول کے درجے میں ہے تو اس کو لے جاؤ مفعول بنا دو۔ "وفجرنا الأرض"، پہلے مفعول کیا تھا؟ الأرض تھا، اب کیا لے آؤ؟ عیون کو لے آؤ: "وفجرنا عيون الأرض"، اور ہم نے زمین کے چشموں کو بہا دیا، دیکھو معنی ٹھیک ہو گیا یا نہیں؟ تو یہ محول عن المفعول ہے۔ اور کبھی یہ محول عن المبتدا ہوتی ہے جیسے عربی میں کہتے ہیں: "أنا أكثر منك مالا"، میں تم سے زیادہ ہوں مالاً باعتبار مال کے۔ "أنا أكثر منك مالا"، میں تم سے زیادہ ہوں باعتبار مال کے، یہ دیکھو: میں تم سے زیادہ ہوں، اس میں ابہام تھا: کس چیز کے اعتبار سے زیادہ ہیں؟ مالاً نے آ کر کیا کر دیا؟ ابہام کو دور کر دیا۔ تو یہ نسبت سے تمیز ہے اور یہ محول عن المبتدا ہے یعنی یہ مبتدا کے درجے میں ہے، لہٰذا "أنا أكثر"، مبتدا کیا تھا؟ انا، اس کی جگہ مال کو لے آؤ وہ جو تمیز ہے، اور انا کی طرف اضافت کر دو تو کیا بن جائے گا؟ "مالي"، انا تو ضمیرِ منفصل ہے نا متکلم کی ہے، اب متکلم والی ضمیرِ متصل لے آؤ: "مالي أكثر من مالك"، میرا مال تمہارے مال سے زیادہ ہے۔ "مالي أكثر من مالك"، دیکھو اب یہ مال کو مبتدا بنا دیا، معنی بہترین ہو گیا: میرا مال تمہارے مال سے زیادہ ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو تمیز کبھی نسبت سے ہوتی ہے اور یہ جو نسبت سے تمیز ہو کبھی یہ محول عن الفاعل ہوتی ہے، یہ فاعل کے درجے میں ہے، کبھی محول عن المفعول ہوتی ہے، یہ مفعول کے درجے میں ہے، اور کبھی محول عن المبتدا ہوتی ہے، یہ مبتدا کے درجے میں ہے، میں نے سب کی مثالیں ذکر کر دیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب یہاں بھی یہی بیان کریں گے، کہتے ہیں: "نصب على التمييز"، کہ ان میں سے ہر ایک منصوب ہے تمیز ہونے کی بنا پر۔ دیکھو اوپر جو آیا تھا نا "يختلف آخره"، اس معرب کا آخر بدلتا ہے، یہ جو يختلف کی نسبت ہو رہی ہے آخر کی طرف، اس میں ابہام تھا، تو یہ لفظاً اور تقدیراً نے آ کر اس ابہام کو دور کر دیا، تو یہ نسبت سے تمیز ہے۔ اور نسبت سے تمیز جو ہے وہ یا تو محول عن الفاعل ہوتی ہے یا محول عن المفعول ہوتی ہے یا محول عن المبتدا، یہ کون سی ہے؟ تو آپ کو آگے بتلائیں گے کہ یہ محول عن الفاعل ہے۔ یہ محول عن الفاعل ہے، فاعل کے درجے میں ہے: "أن يختلف آخره"، فاعل کون بن رہا ہے؟ ذرا جملے پہ نظر رکھو: "أن يختلف آخره"، یہ آخره فاعل ہے يختلف کا، فاعل مرفوع ہوتا ہے، آخر بدلتا ہے، اس معرب کا آخر۔ تو اب یہ جو لفظاً او تقدیراً ہے یہ محول عن الفاعل ہے، لہٰذا اس فاعل کی جگہ اس کو لے جاؤ، عبارت کیا بن جائے گی؟ "أن يختلف لفظ آخره"، لفظ آخره، اور "أن يختلف تقدير آخره"، عبارت سمجھ میں آ گئی؟ کہ اس معرب کے آخر کا لفظ بدلے گا یا اس کی تقدیر بدلے گی بھئی، عبارت سمجھ میں آ گئی۔ دیکھیے، کہتے ہیں: "أي يختلف لفظ آخره أو تقديره"، یعنی اس کے آخر کا لفظ بدلے گا یا اس کے آخر کی تقدیر بدلے گی۔ تقدیرہ کی جو ہا ضمیر ہے نا، یہ آخره کی طرف راجع ہے، یہ جو ابھی اس کے ساتھ گزرا۔ "تقديره أي تقدير آخره" بھئی۔ "أو على المصدرية"، یہ دوسری ترکیب بتلا رہے ہیں۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا ایک ہی جگہ کئی کئی ترکیبیں ہو سکتی ہیں۔ ایک ترکیب بتلا دی کہ لفظاً او تقدیراً یہ منصوب ہیں تمیز ہونے کی بنا پر اور یہ نسبت سے تمیز ہے اور یہ محول عن الفاعل ہے یہ تمیز بھئی۔ اب دوسری ترکیب بتلا رہے ہیں کہ یہ لفظاً یا تقدیراً یہ منصوب ہے مصدر ہونے کی بنا پر، کس بنا پر؟ مصدر ہونے کی بنا پر، اور یعنی مفعولِ مطلق ہیں۔ یہ مفعولِ مطلق ہیں، مفعولِ مطلق کسے کہتے ہیں؟ وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنی میں ہو: "ضربت ضربا"، "ضربت ضربا"، یہ ضرباً مفعولِ مطلق ہے جو ماقبل میں فعل ضربت آیا اس کے معنی میں ہے بھئی۔ تو یہ مفعولِ مطلق ہیں بھئی۔ اس پر اشکال ہوتا ہے مفعولِ مطلق کیسے بنیں گے؟ پیچھے تو لفظ یا تقدیر کی بات نہیں آئی، پیچھے تو اختلاف کی بات آئی تھی، تو یہاں تو لفظاً اور تقدیراً ہے بھئی، مفعولِ مطلق تو ماقبل فعل کے معنی میں ہوتا ہے؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ دونوں سے پہلے اختلاف کا لفظ مضاف محذوف نکال لو: "أن يختلف اختلاف لفظ أو اختلاف تقدير"، کہ اس کا آخر بدلتا ہے لفظی اختلاف کے ساتھ یا تقدیری اختلاف کے ساتھ۔ کہتے ہیں: "أو على المصدرية"، یا یہ منصوب ہے مصدر ہونے کی بنا پر: "أي يختلف اختلاف لفظ أو تقدير"، یعنی مختلف ہوتا ہے اس کا آخر اختلافِ لفظی کے ساتھ یا اختلافِ تقدیری کے ساتھ۔ "والاختلاف لفظا كما في قولك جاءني زيد ورأيت زيدا ومررت بزيد"، اب اختلافِ لفظی اور تقدیری کی صورتیں بتلائیں گے، توجہ ہے؟ کہتے ہیں: "والاختلاف لفظا"، اور اختلاف جو لفظوں کے اعتبار سے ہو "كما في قولك"، جیسے کہ آپ کے اس قول میں ہے: "جاءني زيد ورأيت زيدا ومررت بزيد"، دیکھو اس میں زید کا آخر لفظاً، تلفظ کے اعتبار سے بدل رہا ہے۔ "وتقديرا"، اور اختلاف جو ہے وہ تقدیراً جو ہے "كما في قولك"، جیسے کہ آپ کے اس قول میں ہے: "جاءني فتى ورأيت فتى ومررت بفتى"۔ فتیٰ جوان کو کہتے ہیں، "جاءني فتى"، میرے پاس ایک جوان آیا، "ورأيت فتى"، میں نے ایک جوان کو دیکھا، "ومررت بفتى"، میں ایک جوان کے پاس سے گزرا۔ جی، یہ فتیٰ 16 قسموں میں سے کون سی قسم ہے؟ یہ اسمِ مقصور ہے۔ اسمِ مقصور ہے، اسمِ مقصور کسے کہتے ہیں جس کے آخر میں الفِ مقصورہ آئے، توجہ ہے؟ اور الفِ مقصورہ یہاں تقدیراً موجود ہے بھئی۔ اجتماعِ ساکنین سے گر گیا۔ اصل میں یہ کیا تھا؟ "جاءني فتيٌ"، یا تھی، اور یا متحرک اور ماقبل فتحہ، تو اس یا کو کس سے بدل دیا؟ الف سے، تو کیا بن گیا؟ فتان، تنوین والا نون بھی ہے آخر میں، تو "جاءني فتان"، پھر اجتماعِ ساکنین آیا، الف اور نون دونوں ساکن ہیں، اور جب اجتماعِ ساکنین علی غیر حدہ آئے تو اول اگر مدہ ہو تو اس کو گرا دیتے ہیں، تو اول حرفِ مدہ تھا الف اس کو گرا دیا، کیا بن گیا؟ فتن، "جاءني فتى"۔ تو یہ اعراب تقدیری ہے۔ تو کہتے ہیں: "جاءني فتى ورأيت فتى ومررت بفتى"، دیکھو ان تینوں کے اندر تلفظ میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی، تینوں جگہ ہے: فتن، فتن، فتن۔ لفظاً تبدیلی نہیں لیکن تقدیراً تبدیلی ہے، تو کیا کہیں گے؟ کہ اس کا آخر بدل رہا ہے، تقدیراً بدل رہا ہے یعنی فرض کر لو بدل رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: "فإن أصله فتيٌ وفتياً وبفتيٍ"، کیونکہ اس کی اصل جو ہے فتیٌ اور فتیاً اور بفتيٍ، ان کی اصل یہ تھی۔ "جاءني فتى"، یہ اصل میں کیا تھا؟ فتیٌ، اور پھر کیا کیا؟ ابھی بتایا: یا متحرک ماقبل فتحہ، یا کو کس سے بدلا؟ الف سے، اور پھر الف اجتماعِ ساکنین سے گر گیا تو کیا بن گیا؟ فتن۔ حالتِ نصبی میں لے آؤ: "رأيت فتى"، یہ فتیٰ اصل میں کیا تھا؟ فتیاً تھا، رأيت نصب دیتا ہے نا، "رأيت فتياً"، پھر وہی ضابطہ: یا متحرک ماقبل تا پر فتحہ، تو یا کو کس سے بدلا؟ الف سے، تو اجتماعِ ساکنین آیا الف کے اندر اور نونِ تنوین کے اندر، تو الف گر گیا، کیا رہ گیا؟ فتن، توجہ ہے؟ اور تیسری صورت ہے "مررت بفتى"، یہ جو بفتى ہے یہ کیا تھا؟ بفتيٍ، وہی ضابطہ: یا متحرک ماقبل فتحہ، اس کو کس سے بدلا؟ الف سے، تو کیا بن گیا؟ بفتان، آخر میں نونِ تنوین بھی ہے، تو پھر اجتماعِ ساکنین سے الف گر گیا تو کیا رہ گیا؟ فتن۔ تو دیکھو تقدیراً تبدیلی آ رہی ہے یہاں پر، تقدیراً بدل رہے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: "فإن أصله فتيٌ وفتياً وبفتيٍ"، اس کی اصل یہ تھی، "انقلبت الياء ألفا"، یا کس سے بدل گئی؟ الف سے، "فصار الإعراب تقديريا"، تو اعراب تقدیری ہوا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ کہتے ہیں: "والاختلاف اللفظي والتقديري أعم من أن يكون حقيقة أو حكما كما أشرنا إليه"، اور اختلافِ لفظی اور تقدیری ادھر دیکھیے، معرب وہ ہے جس کا آخر بدلتا ہو، اور وہ اختلاف کبھی لفظی ہوگا کبھی تقدیری ہوگا۔ آپ کو بتائیں گے چاہے اختلافِ لفظی ہو، چاہے اختلافِ تقدیری ہو، دونوں کے اندر دونوں جو ہیں حقیقتاً بھی ہو سکتے ہیں اور حکماً بھی، دونوں عام ہیں، حقیقتاً بھی ہو سکتے ہیں اور حکماً بھی ہو سکتے ہیں، چاہے اعرابِ لفظی ہو چاہے اعرابِ تقدیری ہو۔ اب آگے اس کی مثالیں بھی پیش کریں گے۔ ادھر دیکھیے، اعراب لفظاً ہوگا اور حقیقتاً بدل رہا ہوگا، اعراب لفظاً ہوگا اور حکماً بدل رہا ہوگا۔ حکماً اور پھر کبھی اعراب تقدیراً ہوگا اور حقیقتاً بدل رہا ہوگا، اور کبھی اعراب تقدیراً ہوگا اور حکماً بدل رہا ہوگا، بات سمجھ میں آ گئی۔ کہتے ہیں: "والاختلاف اللفظي والتقديري أعم من أن يكون حقيقة أو حكما"، اور اختلافِ لفظی اور تقدیری وہ عام ہے اس سے کہ وہ حقیقتاً ہو یا حکماً ہو "كما أشرنا إليه"، جیسے کہ ہم نے اس کی طرف اشارہ بھی کر دیا، پیچھے ذکر کیا تھا، پیچھے حقیقتاً اور حکماً کو انہوں نے ذکر کیا تھا، اسی میں اشارہ ہو گیا تھا "لئلا ينتقض"، تاکہ یہ معرب کا حکم جو ہے یہ ٹوٹ نہ جائے "بمثل قولنا"، ہمارے اس جیسے قول سے: "رأيت أحمدا ومررت بأحمدا"۔ "رأيت أحمدا"، اس میں بھی دال پر فتحہ، اور "مررت بأحمدا"، اس میں بھی دال پر فتحہ، تو آپ تو کہیں گے اس کا تو آخر بدل ہی نہیں رہا، یہ تو معرب سے نکل گیا، تو جواب یہ کہ یہ حکماً بدل رہا ہے۔ "وقولنا"، اور ہمارے اس جیسے قول کے ذریعے: "رأيت مسلمين ومررت بمسلمين مثنى أو مجموعا"، اس حال میں کہ یہ تثنیہ یا جمع ہے، دونوں بنا سکتے ہو۔ پہلے دونوں کو تثنیہ پڑھو: "رأيت مسلمَيْن ومررت بمسلمَيْن"، یا دونوں میں جمع پڑھو: "رأيت مسلمِينَ ومررت بمسلمِينَ"، تو اس میں بھی دونوں جگہ اعراب نہیں بدل رہا، توجہ ہے؟ تو اس میں بھی ہم کیا کہیں گے؟ اعراب حکماً بدل رہا ہے بھئی۔ میں نے بتایا تھا حکماً اعراب بدلنے کا کیا معنی؟ دلالتِ مقصودی بدل رہی ہو۔ "رأيت مسلمين"، اس میں جو یا آئی وہ کس پر دلالت کر رہی ہے؟ نصب پر، اور "مررت بمسلمين" میں جو یا آئی وہ کس پر دلالت کر رہی ہے؟ جر یعنی مضاف الیہ ہونے پر۔ اسی طرح جمع میں بھی ہے۔ "فإنه قد اختلف العوامل فيه ولا اختلاف في آخر أحمد حقيقة بل حكما"، اس لیے کیونکہ ان کے اندر عوامل بدل رہے ہیں "ولا اختلاف في آخر أحمد"، لیکن احمد کے آخر میں کوئی اختلاف نہیں آیا "حقيقة"، حقیقتاً کوئی اختلاف نہیں آیا "بل حكما"، بلکہ حکماً اختلاف آیا ہے۔ "فإن فتحة أحمد بعد الناصب علامة النصب"، اس لیے کیونکہ احمد کا جو فتحہ ہے ناصب یعنی وہ عامل جو نصب دینے والا ہے، اس کے بعد جو احمد کا فتحہ آیا وہ فتحہ جو ہے "علامة النصب"، وہ نصب کی علامت ہے "وبعد الجار علامة الجر"، اور حرفِ جر کے بعد جو فتحہ آیا وہ جر کی علامت ہے "وكذا الحال في التثنية والجمع"، اور اسی طرح حالت ہے تثنیہ اور جمع میں بھی، وہ جو "رأيت مسلمين" اور "مررت بمسلمين"، اس تثنیہ اور جمع میں بھی حکماً اعراب بدل رہا ہے۔ ایک صورت میں یا علامت ہے نصب کی اور دوسری صورت میں یا علامت ہے جر کی، تو حکماً اعراب بدل رہا ہے۔ "فآخر المعرب في هذه الصور"، پس تو معرب کا آخر جو ہے ان صورتوں میں "يختلف"، وہ بدل رہا ہے "باختلاف العوامل حكما لا حقيقة"، "فآخر المعرب في هذه الصور يختلف باختلاف العوامل حكما لا حقيقة"، تو معرب کا آخر جو ہے ان صورتوں میں وہ عوامل کی بدلنے سے بدل رہا ہے حکماً لا حقیقۃً، حکماً بدل رہا ہے، حقیقتاً نہیں بدل رہا۔ "فإن قلت"، جی یہاں سے اب ایک اعتراض ذکر کریں گے اور پھر اس کا جواب بھی دیں گے۔ اعتراض یہ ہے بھئی، ادھر دیکھیے، اعتراض یہ ہوتا ہے کہ آپ نے جو معرب کا حکم بیان کیا کہ معرب کا آخر بدلتا ہے عوامل کے بدلنے سے، یہ حکم جامع نہیں ہے، معرب کے تمام افراد کو شامل نہیں ہے۔ یہ حکم معرب کے تمام افراد کو شامل نہیں، مثلاً دیکھو، زید ایک لفظ تھا اور یہ الگ یعنی ترکیب میں واقع نہیں تھا۔ میں اس کو ترکیب میں لے آیا اور میں نے کہا: "ضرب زيدٌ"، "ضرب زيدٌ"، جی مجھے بتائیے، یہاں عوامل بدلے ہیں یا ایک ہی عامل ابھی آیا ہے؟ ایک ہی عامل آیا ہے، ایک ہی عامل داخل ہوا ہے، اور نیز زیدٌ کے آخر میں کیا آیا؟ رفع۔ رفع ہی آیا ہے یا پہلے کچھ اور بھی تھا یہاں؟ رفع ہی آیا ہے۔ تو دیکھو معرب کا آخر بدلا نہیں، معرب کا آخر عامل بھی نہیں بدلا اور معرب کا آخر بھی نہیں بدلا۔ آپ نے کیا کہا تھا؟ معرب کا آخر بدلتا ہے عوامل کے بدلنے سے، یہاں تو عامل کا دخول ہوا ہے۔ ابھی بدلا نہیں، دوسرا کوئی عامل آئے گا تو ہم کہیں گے کہ عامل بدل گیا۔ تو عامل کا دخول ہوا ہے اس لفظِ زید پر اور لفظِ زید پر اعراب بدلا نہیں ہے، لفظِ زید پر اعراب کا حدوث ہوا ہے یعنی اعراب اس کے اوپر آ گئے ہیں۔ بدلنا تو کس کو کہتے ہیں؟ پہلے ایک اعراب ہو پھر دوسرا آ جائے، یہاں تو پہلی دفعہ ہی ایک اعراب آیا ہے۔ تو اس کو حدوثِ اعراب کہتے ہیں، حدوث کا معنی ہونا، ہونا، ایک اعراب اس کے اوپر ہو گیا، کون سا اعراب؟ رفعے والا۔ تو یہاں حدوثِ اعراب ہے، اختلافِ اعراب نہیں، اور نیز یہاں دخولِ عامل ہے، اختلافِ عامل نہیں، تو یہ زید اس پر تو معرب کا یہ حکم صادق نہیں آ رہا۔ اس پر تو معرب کا یہ آپ نے معرب کا حکم ہمیں کیا بتایا کہ اس کا آخر عوامل کے بدلنے سے بدلتا ہے، تو یہ جو "ضرب زيد" میں نے کہا، اس میں یہ والا حکم نہیں پایا جا رہا، اس میں یہ والا حکم نہیں پایا جا رہا۔ یہاں تو اختلافِ عوامل بھی نہیں ہے اور اختلافِ اختلافِ آخر بھی نہیں ہے بلکہ یہاں دخولِ عامل ہے اور حدوثِ اعراب ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو اس کا جواب دیں گے، تو جواب دیں گے کہ ہمیں آپ کا یہ اعتراض تسلیم ہے۔ یہ جو "ضرب زيدٌ" ہے، اس میں نہ اختلافِ عوامل ہے اور نہ اختلافِ آخر ہے، لیکن یہ معرب کا دوسرا حکم ہے، ہم نے دوسرا حکم بیان کیا۔ یعنی گویا معرب کے دو حکم ہو گئے، ایک حکم کیا؟ کہ اس کا آخر عوامل کے بدلنے سے بدلتا ہے، دوسرا حکم کیا؟ کہ عامل کے اس پر داخل ہونے سے اس پر اعراب کا حدوث ہو جاتا ہے۔ ایک حکم کیا؟ کہ معرب کا آخر بدلتا ہے عوامل کے بدلنے سے، یہ الگ حکم ہے، اور معرب پر اعراب کا حدوث ہوتا ہے عامل کے داخل ہونے سے، یہ الگ حکم ہے، تو یہ دونوں الگ الگ حکم ہیں۔ تو ایک حکم کے ہوتے ہوئے اگر دوسرا نہ پایا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے بھئی۔ تو یہاں پر "ضرب زيدٌ" کے اندر دوسرا حکم تو موجود ہے اور اختلافِ آخر والا حکم موجود نہیں ہے، اس سے کوئی خرابی لازم نہیں آتی۔ بس اتنا ہم کہیں گے یہ دونوں الگ الگ حکم ہیں بھئی۔ زیادہ سے زیادہ آپ یہ کہیں گے کہ وہ جو اختلافِ آخر والا حکم بیان کیا تھا، وہ حکم وہ خاصہ شاملہ نہیں ہے، معرب کے تمام افراد میں پایا جائے ایسا نہیں ہے۔ دیکھو "ضرب زيدٌ" میں یہ والا حکم نہیں پایا جا رہا، تو یہ معلوم ہوا یہ خاصہ شاملہ نہیں ہے، غیرِ شاملہ ہے، بعض میں پایا جائے گا اور بعض میں نہیں پایا جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ کہتے ہیں: "فإن قلت"، اگر آپ یہ کہیں: "لا يتحقق الاختلاف لا في آخر المعرب ولا في العوامل"، کہ اختلاف نہیں پایا جاتا نہ تو معرب کے آخر میں اور نہ ہی عوامل میں "إذا ركب بعض الأسماء المعدودة الغير المشابهة لمبني الأصل مع عامله ابتداء"، جب جوڑا جائے بعض اسمائے معدودہ کو، وہ اسمائے معدودہ "الغير المشابهة لمبني الأصل" جو مبنی الاصل کے مشابہ نہ ہوں، وہ والے اسمائے معدودہ میں سے اگر کسی کو جوڑا جائے "مع عامله" اپنے عامل کے ساتھ "ابتداء" شروع سے ہی، تو اس کے اندر نہ تو معرب کا آخر بدل رہا ہے اور نہ اس کے اندر عامل بدل رہا ہے "إذ لا يترتب عليه اختلاف الإعراب"، اس لیے کیونکہ اس کے اوپر تو اعراب کا مختلف ہونا مرتب نہیں ہو رہا "بل هناك حدوث الإعراب بدخول العامل"، بلکہ یہاں تو حدوثِ اعراب ہے عامل کے داخل ہونے کی وجہ سے۔ تو نہ اختلافِ عامل اور نہ اختلافِ اعراب بلکہ حدوثِ اعراب ہے کس کی وجہ سے؟ دخولِ عامل کی وجہ سے۔ "قلت"، ہم کہتے ہیں: "هذا حكم آخر من أحكام المعرب"، یہ معرب کے احکام میں سے دوسرا حکم ہے، یہ کوئی یہ اور حکم ہے، یہ اور یہ معرب کے احکام میں سے اور حکم ہے "والاختلاف حكم آخر"، اور اختلاف جو ہے وہ دوسرا حکم ہے "فلو لم يدخل أحد الحكمين في الآخر فلا فساد فيه"، اگر دو حکموں میں سے ایک جو ہے وہ دوسرے میں داخل نہیں ہوتا تو اس میں کوئی فساد نہیں، کوئی خرابی نہیں۔ یعنی اگر حکموں میں سے ایک جو حکم جو ہے وہ دوسرے حکم میں داخل نہیں ہوتا یعنی دونوں اکٹھے نہیں پائے جاتے تو اس میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ ایک وقت میں ایک حکم ہے، دوسرا نہیں ہے، دوسرے کے وقت میں ایک حکم ہے، پہلا نہیں ہے، تو ایسا ہو سکتا ہے احکام کے اندر، کبھی ایک حکم ہوتا ہے دوسرا نہیں ہوتا، کبھی دونوں حکم پائے جاتے ہیں۔ یہاں زیادہ سے زیادہ یہ کہیں گے آپ کہ ایک حکم کے ہوتے ہوئے دوسرا حکم نہیں ہے۔ جس وقت اختلافِ عوامل ہے اور اختلافِ آخر ہے اس وقت حدوثِ اعراب نہیں، توجہ ہے؟ یا یوں کہیں: جس وقت اختلافِ اعراب ہے اس وقت حدوثِ اعراب نہیں، اور جس وقت حدوثِ اعراب ہوتا ہے اس وقت اختلافِ اعراب نہیں ہوتا، تو اس میں کوئی خرابی نہیں ہے کہ ایک حکم کے ہوتے ہوئے دوسرا حکم موجود نہ ہو۔ تو کہتے ہیں: "فلو لم يدخل أحد الحكمين في الآخر فلا فساد فيه"، اگر دو حکموں میں سے کوئی ایک جو ہے وہ داخل نہ ہو دوسرے حکم میں تو اس میں کوئی خرابی نہیں ہے، کوئی فساد نہیں ہے۔ ایک حکم داخل نہ ہو دوسرے حکم میں کیا معنی؟ یعنی ایک کے ہوتے ہوئے دوسرا بھی ہو جائے، ایک کے ہوتے ہوئے دوسرا بھی ہو جائے تو ہم کہیں گے ایک حکم دوسرے میں داخل ہو رہا ہے لیکن یہاں ایسا نہیں ہے، ایک کے ہوتے ہوئے دوسرا نہیں ہے تو اس میں کوئی فساد نہیں۔ "فإن للمعرب أحكاما كثيرة لم تذكر هاهنا"، اس لیے کیونکہ معرب کے بہت سے ایسے احکام ہیں جو یہاں پر ذکر نہیں کیے گئے "فليكن هذا الحكم أيضا من هذا القبيل"، تو یہ حکم جو ہے یہ بھی اسی قبیل سے ہو جائے گا یعنی جن کو یہاں ذکر نہیں کیا گیا۔ یہ حدوثِ اعراب والا حکم یہاں ذکر نہیں کیا گیا تو یہ بھی اسی قبیل سے ہو جائے گا جن کو یہاں ذکر نہیں کیا گیا۔ "غاية الأمر"، غایتِ امر یہ ہے، انتہائی بات یہ ہے، زیادہ سے زیادہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں: "أن هذا الحكم لا يكون من خواصه الشاملة"، کہ یہ والا جو حکم ہے معرب کا، یہ جو اختلافِ آخر والا، یہ خواصِ شاملہ میں سے نہیں ہے۔ یہ خواصِ یہ ہر معرب میں اس کا پایا جانا، ہر معرب میں اس کا پایا جانا ضروری نہیں ہے، کبھی ہوگا اور کبھی نہیں ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔