آگے سبق دیکھیے بھئی کتاب پر۔ قیاسِ جدلی وہ قیاس ہے جو مقدماتِ مشہورہ یا کسی فریق کے مانے ہوئے مقدمات سے بنا ہو خواہ وہ صحیح ہوں یا غلط، جیسے ہندوؤں کا قول ہے کہ جاندار کا ذبح کرنا برا ہے اور ہر برا کام واجب الترک ہے، پس جاندار کا ذبح کرنا واجب الترک ہے۔ قیاسِ خطابی وہ قیاس ہے جو ایسے مقدمات سے مرکب ہو کہ ان سے غالب گمان صحیح ہو، جیسے زراعت نفع کی شے ہے اور ہر نفع کی شے اپنانے کے قابل ہے، پس زراعت اپنانے کے قابل ہے۔ ہم مادۂ قیاس کے بارے میں پڑھ رہے تھے بھئی۔ آپ نے پڑھا کہ ایک قیاس کی صورت ہے اور ایک اس کا مادہ ہے۔ قیاس کی صورت وہ جو چار شکلیں آپ نے پڑھیں: شکلِ اول، شکلِ ثانی، شکلِ ثالث اور شکلِ رابع۔ اور قیاس کا مادہ جو ہے وہ قضیے ہیں جن سے مل کر قیاس بنے بھئی۔ تو قیاس کے وہ قضیے تصدیق پر مشتمل ہوتے ہیں اور آپ پڑھ چکے ہیں تصدیق کی چار قسمیں ہیں بھئی: ظن، جس میں غالب گمان ہو بھئی ایک چیز کا؛ اور ایک تقلید ہے جس میں یقین ہوتا ہے لیکن وہ تشکیکِ مشکک سے زائل ہو سکتا ہے؛ اور تیسرا یقین، کہ جو تشکیکِ مشکک سے بھی زائل نہ ہو بھئی، اس کے اندر اتنا یقین ہو؛ اور چوتھی قسم ہے جہلِ مرکب۔ یقین یقین بھی تشکیکِ مشکک سے زائل نہیں ہوتا اور جہلِ مرکب بھی تشکیکِ مشکک سے زائل نہیں ہوتا۔ البتہ جو یقین ہوتا ہے وہ واقع کے مطابق ہوتا ہے، جبکہ جہلِ مرکب جو ہے وہ واقع کے مطابق نہیں ہوتا بھئی۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ جہلِ مرکب اس کا علاج نہیں بھئی، کیونکہ ایک شخص اگر نہ جانتا ہو اور اسے پتہ ہے کہ میں نہیں جانتا، تو پھر بالآخر وہ اس کو جان لے گا۔ لیکن ایک شخص نہیں جانتا لیکن وہ کہتا ہے کہ میں سب سے زیادہ جانتا ہوں، اس کا کوئی علاج نہیں بھئی۔ تو یہ کیا ہے؟ جہلِ مرکب ہے بھئی۔ تصدیق کی یہ جو قسمیں آپ نے پڑھیں، ان میں سے بعض تو بالکل غلط ہیں، بعض ظن جو ظن ہے وہ غالب گمان کا فائدہ دیتی ہیں، غالب گمان، اور بعض یقین کا فائدہ دیتی ہیں۔ تو ان سے بننے والے قیاس بھی اس کے وہ بھی مختلف ہوں گے بھئی، کیونکہ تصدیق کے درجے مختلف تو ان سے بننے والے قیاس بھی مختلف ہوں گے، اور اس اعتبار سے پڑھا آپ نے کہ قیاس کی پانچ قسمیں ہیں: قیاسِ برہانی، قیاسِ جدلی، قیاسِ خطابی، قیاسِ شعری اور قیاسِ سفسطی۔ ان میں سے قیاسِ برہانی ہم پڑھ چکے اور آپ نے پڑھا، قیاسِ برہانی وہ قیاس ہے جو یقینیات سے مرکب ہو بھئی، جس کے قضیے کس کس جس کے مقدمات کس قسم کے ہوں؟ یقینی ہوں بھئی، اور یہ نظری بھی ہو سکتے ہیں اور بدیہی بھی ہو سکتے ہیں۔ جب قیاس کے مقدمات یقینی ہیں تو ان سے حاصل ہونے والا نتیجہ بھی بڑا یقینی ہو گا، بڑا مضبوط اور قوی ہو گا بھئی۔ تو یاد رکھیے، پانچ قسموں میں سے صرف اسی کا اعتبار ہے بھئی، قیاس کی پانچ قسموں میں سے صرف یہ قیاسِ برہانی ہی معتبر ہے بھئی، قیاسِ برہانی۔ کیونکہ یہ یقینیات پر مشتمل ہوتا ہے، تو اس سے نتیجہ بھی جو حاصل ہو گا وہ یقینی ہو گا، جبکہ باقی وہ یقینی نہیں تو ان سے حاصل ہونے والا نتیجہ بھی یقینی نہیں ہو گا۔ اور پھر آپ نے یہ بھی پڑھا کہ بدیہیات جو ہیں وہ چھ قسم کے ہیں: کچھ کو اولیات کہتے ہیں، کچھ کو فطریات کہتے ہیں، کچھ کو حدسیات کہتے ہیں، کچھ کو مشاہدات کہتے ہیں، کچھ کو تجربیات اور متواترات کہتے ہیں بھئی، متواترات۔ بدیہی آپ نے پڑھا وہ جس میں غور و فکر نہ کرنا پڑتا ہو اور آپ جتنے بھی بدیہی چیزوں میں غور کر لیں، آپ دیکھیں گے کہ وہ ان چھ میں سے کسی ایک کے اندر داخل ہیں بھئی، چھ میں سے۔ تو بہرحال حاصلِ کلام یہ کہ گزشتہ اسباق میں ہم قیاسِ برہانی کی مکمل تفصیل پڑھ چکے بھئی، مکمل تفصیل۔ آج ہم قیاسِ جدلی اور قیاسِ خطابی کے بارے میں پڑھیں گے۔ تو یاد رکھیے قیاسِ جدلی، یہ جدل سے ہے، جدل۔ جدل کا معنی ہے جھگڑا کرنا، بحث مباحثہ کرنا۔ تو یہ قیاسِ جدلی وہ قیاس ہے جو مناظروں میں استعمال ہوتا ہے۔ قدیم زمانے میں علماء کے درمیان بکثرت مناظرے ہوتے تھے، اب بھی ہوتے ہیں لیکن قلیل، پہلے بہت زیادہ ہوتے تھے بھئی۔ اور حق تک پہنچنے کے لیے ایک عالم ایک بات کہتا ہے دوسرا دوسری بات کہتا ہے، تو ان کے پھر مناظرے ہوتے، ہر عالم اپنے اپنے دلائل ذکر کرتا، اپنی بات کو منوانے کے لیے اور دوسرے کی بات کو رد کرنے کے لیے۔ تو مقابلہ ہوتا اور پھر جو غالب آ جاتا تو اس کی بات کو تسلیم کر لیا جاتا، تو اس کو کیا کہتے؟ مناظرہ، مناظرہ۔ بلکہ قدیم طلباء میں بھی مناظرے ہوتے تھے بھئی، طلباء میں بھی مناظرے ہوتے۔ مثلاً فقہ کے مسئلے میں دیکھ لو، ایک مذہب ہے احناف کا، ایک مسئلے میں احناف کی رائے ہوتی ہے کہ یوں کرنا چاہیے، دوسری طرف امام شافعی رحمہ اللہ کے مذہب والے ہیں، ان کی رائے اور ہوتی ہے۔ تو طلباء کی جماعتیں بن جاتیں، ایک طرف سے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مذہب کے لیے دلائل دیتے، دوسری جماعت طلباء کی وہ امام شافعی رحمہ اللہ کے مذہب کی طرف سے دلائل ذکر کرتی۔ تو اس طرح ان کے خوب مقابلے ہوتے اور یہ مناظرے کا بہت زیادہ فائدہ ہے بھئی، بہت زیادہ۔ اس کے ذریعے انسان کو باتیں خوب ازبر ہو جاتی ہیں اور طریقہ آ جاتا ہے کیسے بحث مباحثہ کرنا ہے، کس طرح دلیل پیش کرنی ہے، کس طرح اپنی بات دوسرے سے منوانی ہے، کس طرح دوسرے کی بات کو رد کرنا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ میں بات کر رہا تھا قیاسِ جدلی کی، جدل کا معنی ہے جھگڑا کرنا اور بحث مباحثہ کرنا۔ میں نے بتلایا، قدیم زمانے میں علماء کے درمیان بکثرت مناظرے ہوا کرتے تھے حق بات تک پہنچنے کے لیے۔ تو یہ جو مناظروں کے اندر یہ قیاس استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کو قیاسِ جدلی کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ قیاسِ جدلی۔ مناظرے میں کیا ہوتا ہے؟ بحث مباحثہ ہوتا ہے نا، ایک اپنے دلائل پیش کرتا ہے اپنی بات منوانے کے لیے اور دوسرے کی بات کو رد کرنے کے لیے، تو اس لیے اس کا نام قیاسِ جدلی ہے، یعنی بحث مباحثے والا قیاس، یعنی جو مناظروں میں استعمال ہوتا ہے، بحث مباحثے میں۔ اب قیاسِ جدلی، یاد رکھیے، وہ قیاس ہے، اس کے جو مقدمات جو اس میں استعمال ہوں گے، جو قضیے استعمال ہوں گے وہ دو قسم کے ہوں گے: یا وہ مشہورات ہوں گے یا مسلمات ہوں گے۔ کتنی قسم کے قضیے استعمال ہوں گے؟ دو قسم کے، مشہورات اور مسلمات۔ مشہورات نام سے ہی پتہ چل رہا ہے، یہ مشہورہ کی جمع، یعنی وہ قضیہ جو مشہور ہو بھئی، مشہور ہو۔ اور مسلمہ، سلّم یسلّم تسلیم کا معنی مان لینا، تو مسلمہ جن کو مان لیا گیا ہو۔ یاد رکھیے، یہ جو قیاسِ خطابی ہے نا، قیاسِ خطابی، اس کے جو مقدمات ہوں گے، یا تو وہ مشہور قضیے ہوں گے یا مسلمہ قضیے ہوں گے۔ کتنی قسم کے ہوں گے؟ دو، یا مشہور ہوں گے یا مسلمہ۔ مشہور لفظ اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے، آپ کو پتہ ہے، یعنی وہ قضیے لوگوں میں مشہور ہوں گے، کیا ہوں گے؟ مشہور ہوں گے۔ جیسے بہت سی باتیں آپ لوگوں میں مشہور ہیں، ہر ایک اس کو مانتا ہے۔ مثلاً آپ کے ہاں کیا مشہور ہے؟ کہ چائے بڑی بہترین چیز ہے، اس سے نیند ختم ہو جاتی ہے۔ مشہور ہے یا نہیں؟ کہ چائے سے نیند ختم ہو جاتی ہے۔ اور کیا مشہور ہے؟ مثلاً یہ مشہور ہے، بادام دماغ کو فائدہ دیتے ہیں، یہ کیا ہے؟ مشہور۔ جو بھی باتیں مشہور ہیں وہ سب اس کے اندر آ گئیں، چاہے وہ صحیح ہوں چاہے غلط ہوں بھئی، لیکن بس مشہور ہیں۔ اب پتہ نہیں بادام دماغ کو فائدہ دیتے ہیں یا نہیں دیتے، لیکن مشہور ہے۔ چائے سے پتہ نہیں نیند اڑتی ہے یا نہیں اڑتی، بعض کہتے ہیں نیند اڑ جاتی ہے، بعض کہتے ہیں ہمیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا، چائے پی کر بھی ہم سو جاتے ہیں آرام سے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو بس یہ ہوتے مشہور ہیں، چاہے صحیح ہوں چاہے غلط۔ اس میں صحیح باتیں بھی آ گئیں بھئی، صحیح باتیں بھی ساری آ گئیں، جیسے ہم سب کیا مانتے ہیں کہ اللہ ایک ہے، مشہور ہے یا نہیں؟ اللہ ایک ہے۔ اور اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، پیغمبر ہیں بھئی۔ اسی طرح منطق میں مشہور ہے کہ علم دو قسم کا ہے، یا تصور ہو گا یا تصدیق۔ علمِ نحو میں مشہور ہے بھئی فاعل مرفوع ہوتا ہے، مفعول منصوب ہوتا ہے اور مضاف الیہ مجرور ہوتا ہے۔ تو جو بھی کسی چاہے علم کی باتیں ہیں چاہے عام لوگوں کی باتیں ہیں، یہ سب اس مشہورات کے اندر داخل ہو گئیں بھئی۔ نیز اور کیا مشہور ہے مثلاً؟ سچ بولنا چاہیے، سچ اچھی چیز ہے اور جھوٹ بولنا بری بات ہے۔ ظلم نہیں کرنا چاہیے، ظلم بری چیز ہے۔ والدین کے ساتھ نیکی کرنی چاہیے، بس عام سب باتیں اس کے اندر آ گئیں، جو بھی لوگوں میں مشہور ہیں، چاہے کسی علم کے اعتبار سے ہیں چاہے ویسے ہیں بھئی، علم کے اعتبار سے ہیں، چاہے عقیدے کے اعتبار سے ہیں، چاہے مذہب کے، جس اعتبار سے بھی ہیں وہ سب اس کے اندر داخل ہو گئیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ بس وہ بات کیا ہونی چاہیے؟ مشہور ہونی چاہیے سب لوگوں کے اندر۔ سب میں نہ ہو، ایک بڑی جماعت کے اندر اگر مشہور ہو بھئی، تو بھی ٹھیک ہے۔ مثلاً بعض باتیں آپ کے ہاں مشہور ہیں، ہو سکتا ہے وہ عرب کے ہاں چلے جائیں وہاں مشہور نہ ہوں، ہو سکتا ہے انگریزوں میں جائیں وہ باتیں مشہور نہ ہوں، تو ان کی جو مشہور باتیں ہوں گی وہ بھی اس میں آ جائیں گی، عرب کے ہاں جو مشہور باتیں ہوں گی وہ بھی اس میں آ جائیں گی۔ اور کچھ چیزیں تو ایسی ہوتی ہیں جو ہر جگہ مشہور ہوتی ہیں، جیسے سچ بولنا اچھی بات ہے اور جھوٹ بولنا بری بات ہے، اس کو تو ساری دنیا والے تسلیم کرتے ہیں، سب میں مشہور ہے۔ ظلم کرنا بری بات ہے، انصاف کرنا اچھی بات ہے، یہ سب میں مشہور ہے، چاہے عرب ہو چاہے برصغیر کا ہو کوئی، چاہے انگریز ہو کوئی۔ تو ساری مشہور باتیں اس کے اندر آ گئیں۔ اور میں نے بتایا، ان کا صحیح ہونا ضروری نہیں، بس مشہور ہونی چاہئیں، صحیح بھی ہو سکتی ہیں جیسے اللہ ایک ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں بھئی، فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع ہوتا ہے، علم دو قسم پر ہے، تصور ہے یا تصدیق ہے، یہ سب صحیح باتیں ہیں۔ اور لیکن ضروری نہیں ہے کہ صحیح ہی ہوں، اس میں جھوٹی باتیں بھی آ سکتی ہیں، لیکن ہوں کیا؟ مشہور ہونی چاہئیں۔ مثلاً ایک اور بات مشہور ہے کہ مچھلی کے بعد دودھ پیا جائے تو جسم پر داغ سفید پڑ جاتے ہیں، برص کی بیماری ہو جاتی ہے۔ سنا ہے یا نہیں سنا؟ یہ مشہور ہے۔ اب پتہ نہیں یہ ٹھیک ہے یا ٹھیک نہیں، بہت سے لوگ کہتے ہیں ہم مچھلی کے بعد دودھ پیتے ہیں، مچھلی کے ساتھ دودھ پیتے ہیں، ہمیں تو کچھ نہیں ہوا کبھی آج تک۔ تو بہرحال بات جو تو مشہورات کے اندر وہ سارے قضیے آ گئے جو کیا ہیں؟ لوگوں کے اندر مشہور ہوں، چاہے وہ ٹھیک ہوں چاہے غلط ہوں بھئی، بہرحال مشہور ہونے چاہئیں۔ اور اس کا فائدہ یہ ہے، دیکھو یہ بات چل رہی ہے قیاسِ جدلی کی، قیاسِ جدلی کہاں استعمال ہوتا ہے؟ مناظرے میں، بحث مباحثے کے اندر۔ تو جب بحث مباحثے کے اندر آپ مشہور قضیہ ذکر کریں گے، جب مشہور قضیہ ہوتا ہے سارے اس کو مانتے ہیں یا نہیں مانتے؟ سب مانتے ہیں، جو مشہور ہوتا ہے مشہور ہوتا ہی اس لیے ہے کہ لوگ کیا کر لیتے ہیں ان کو؟ مان لیتے ہیں کہ ہاں اسی طرح ہے، چاہے صحیح ہو چاہے صحیح نہ ہو۔ تو جب آپ کا بحث مباحثہ ہو گا، آپ اس کے اندر مشہور قضیہ ذکر کر کے اپنی بات دوسرے سے منوا سکتے ہیں، کیونکہ مناظرے کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ دوسرے سے اپنی بات منوانا، تو آپ جب مشہور قضیہ استعمال کریں گے اس کو تو سارے مانتے ہیں، تو وہ بھی کیا کرے گا؟ آپ کی بات کو اس کو تسلیم کرنا پڑے گا اور آپ اس پر غالب آ جائیں گے، جیت جائیں گے۔ تو مناظرے کے اندر یا یوں کہیں مناظرہ، بحث مباحثے میں، بحث مباحثے میں دوسرے سے اپنی بات منوانا مقصد ہوتا ہے، تو آپ مشہور قضایا ذکر کر کے کیا کر سکتے ہیں؟ فریقِ مخالف سے اپنی بات آسانی سے منوا سکتے ہیں۔ تو یہ مشہور قضایا استعمال ہوتے ہیں کس کے اندر؟ قیاسِ جدلی میں۔ اور دوسرے مسلمات بھئی، مسلمات۔ مسلمات وہ قضیے ہیں، مسلمہ کا معنی ہے تسلیم شدہ، تسلیم شدہ۔ سلّم یسلّم تسلیم، تو مسلمہ تسلیم شدہ قضیے۔ یعنی جس کے ساتھ آپ بحث کر رہے ہیں، جس کے ساتھ آپ کا مناظرہ ہے، کچھ قضیے، کچھ باتیں ایسی ہیں جن کو وہ تسلیم کرتا ہے، مانتا ہے۔ صحیح یا غلط ہونے کی بات میں نہیں کر رہا، کس کی بات کر رہا ہوں؟ جن کو وہ مانتا ہے، کیا ہے؟ بھئی اس میں مشہور ہونا بھی ضروری نہیں، بس ایسی باتیں جن کو وہ کیا کرتا ہے؟ مانتا ہے۔ جب مانتا ہے، چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو، آپ اپنی طرف سے دلیل میں وہ باتیں ذکر کریں گے تو اس کو ماننا پڑیں گی یا نہیں ماننا پڑیں گی؟ وہ تو مانتا ہے ان چیزوں کو، تو جب آپ دلیل کے اندر وہ مسلمات ذکر کریں گے تو اس پر غالب آ جائیں گے، اس کو شکست دے دیں گے۔ تو یہ قیاسِ جدلی یہ بحث مباحثے اور مناظروں میں استعمال ہوتا ہے، اس میں مشہورات مشہور قضایا بھی استعمال ہوتے ہیں جو لوگوں میں مشہور ہوں، چاہے ایک علاقے والوں میں مشہور ہوں، چاہے پورے ملک میں مشہور ہوں، چاہے پوری دنیا کے لوگوں میں مشہور ہوں، لیکن ہوں کس قسم کے؟ مشہور ہوں۔ دوسرے کس قسم کے قضیے؟ جو مسلمہ ہوں، یعنی جس کے ساتھ آپ کی بحث چل رہی ہے وہ ان کو کیا کرتا ہے؟ مانتا ہے، تسلیم کرتا ہے، چاہے غلط ہی تسلیم کرتا ہے۔ مثلاً عیسائی جو ہے عیسائی، وہ تین خدا مانتے ہیں، کتنے مانتے ہیں؟ تین خدا مانتے ہیں۔ اور اب آپ اس کے ساتھ بحث کرتے ہیں۔ اب خدا، خدا تو ایک اللہ کی ذات ہے صرف، لیکن وہ کتنے مانتا ہے؟ تین۔ تو اگر آپ کوئی ایسی دلیل دیں جس کے اندر تین خداؤں کا ذکر ہو تو اس کو ماننا پڑے گا یا نہیں ماننا پڑے گا؟ کیونکہ اس کا تو عقیدہ ہی یہی ہے۔ تو اگرچہ بات غلط ہے، لیکن آپ دلیل دیں گے تو اس کو ماننا پڑے گا، اور جب مانے گا تو آپ اس کے ذریعے کیا کر سکتے ہیں؟ اپنی بات منوا سکتے ہیں۔ یہ بطورِ مثال کے ذکر کر رہا ہوں، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو قیاسِ جدلی میں کتنی قسم کے قضایا استعمال ہوتے ہیں؟ دو قسم کے، مشہورات اور مسلمات۔ مشہورات جو عام لوگوں میں مشہور ہوں یا کسی ایک علم والوں میں مشہور ہوں، جیسے منطق والوں میں مشہور ہے کہ علم کی دو قسمیں ہیں، یا تصور ہے یا تصدیق، عام لوگوں میں یہ بات مشہور نہیں ہے۔ نحویوں میں مشہور ہے کہ فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع ہوتا ہے، عام لوگوں میں یہ بات مشہور نہیں ہے۔ تو بہرحال مشہور ہونا چاہیے، چاہے کسی ایک خاص علم والوں میں وہ بات مشہور ہو، کسی خاص علاقے والوں میں مشہور ہو یا پوری دنیا والوں کے اندر مشہور ہو۔ تو یہ جب مشہور قضایا کو آپ استعمال کریں گے، یہ تو مشہور ہیں سب ان کو مانتے ہیں، یا ایسا قضیہ جس کو فریقِ مخالف جس کے ساتھ آپ کی بحث چل رہی ہے مباحثہ ہو رہا ہے، وہ اگر اس کو تسلیم کرتا ہے تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟ اپنی بات ان سے منوا سکتے ہیں۔ تو قیاسِ جدلی کا فائدہ یہ ہے، قیاسِ جدلی کا کچھ تو آپ نے جان لیا کہ ایک فریقِ مخالف سے آپ اپنی بات منوا سکتے ہیں، آپ اس پر غالب آ سکتے ہیں، آپ مناظرہ اور بحث اس سے جیت سکتے ہیں۔ تو آپ اس سے اپنی بات منوا سکتے ہیں اور اس کی باتوں کو آپ رد کر سکتے ہیں۔ قیاسِ جدلی میں اگر آپ مہارت رکھتے ہیں تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟ قیاسِ جدلی کہاں استعمال ہوتا ہے؟ مناظروں اور بحث میں استعمال ہوتا ہے نا، اگر قیاسِ جدلی اور بحث میں آپ کو مہارت ہے تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟ جو اب فریقِ مخالف ہے جو آپ سے بحث کر رہا ہے، اس سے اپنی بات منوا سکتے ہیں اور نیز اس کی بات کو رد کر سکتے ہیں۔ مناظرہ کیا ہوتا ہے؟ ایک بات آپ کر رہے ہیں، ایک بات وہ کر رہا ہے، اب وہ اپنی بات ثابت کرے گا آپ اپنی بات کو، اور آپ اس کی بات کو رد کریں گے اور وہ کیا کرے گا؟ آپ کی بات کو رد کرے گا۔ تو جو غالب آ جائے گا وہ جیت جائے گا۔ تو آپ اس کے ذریعے دونوں کام کر سکتے ہیں قیاسِ جدلی کے ذریعے: اس کی باتوں کو رد بھی کر سکتے ہیں اور اپنی باتوں کو منوا بھی سکتے ہیں، دونوں کام کر سکتے ہیں۔ اور اس طرح آپ اس پر غالب آ جائیں گے اور مناظرے اور بحث میں جیت جائیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ہے قیاسِ جدلی بھئی، اور بڑا قیمتی، اور اس کے اندر جب کوئی مہارت ہو کسی کو تو دوسرے کے لیے اس کے ساتھ بحث مباحثہ کرنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ ہے قیاسِ جدلی۔ اب دیکھیے کتاب پر: قیاسِ جدلی وہ قیاس ہے جو مقدماتِ مشہورہ یا کسی فریق کے مانے ہوئے مقدمات سے بنا ہو خواہ وہ صحیح ہوں یا غلط، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ خواہ وہ صحیح ہوں یا غلط، جیسے ہندوؤں کا قول ہے کہ جاندار کا ذبح کرنا برا ہے اور ہر برا کام واجب الترک ہے، یعنی اس کو چھوڑنا واجب ہے، لازم ہے۔ تو کہتے ہیں جاندار کا ذبح کرنا برا ہے، ہندوؤں کا قول ہے کہ جاندار کا ذبح کرنا برا ہے اور ہر برا کام واجب الترک ہے، کیا معنی واجب الترک؟ اس کو چھوڑنا واجب ہے، لازم ہے۔ نتیجہ نکلا: پس جاندار کا ذبح کرنا واجب الترک ہے۔ اب دیکھو، یہ قیاسِ جدلی ہے۔ یہ کیا ہے؟ قیاسِ جدلی۔ دیکھو، صغریٰ کبریٰ ملایا اور نتیجہ نکال لیا۔ صغریٰ کیا؟ جاندار کا ذبح کرنا برا ہے۔ اور کبریٰ کیا؟ ہر برا کام واجب الترک ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ پس، پس کے لفظ کے ساتھ نتیجہ ذکر کیا جاتا ہے، پس جاندار کا ذبح کرنا واجب الترک ہے۔ اب حالانکہ جاندار کا ذبح کرنا برا ہے، یہ تو درست بات نہیں ہے بھئی۔ یہ ساری چیزیں تو اللہ نے انسان کے نفع کے لیے پیدا فرمائی ہیں بھئی، تو یہ جانداروں کو اللہ نے انسان کے نفع کے لیے پیدا فرمایا، دنیا کی ہر چیز کو اللہ نے انسان کے نفع کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ تو بعض جانوروں سے انسان دودھ حاصل کرتا ہے اور اس کا گوشت کھاتا ہے، اسی طرح بعض جانداروں پر انسان سواری کرتا ہے، اس کے ذریعے سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتا ہے، تو زمانۂ قدیم سے ان کو انسان اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتا ہے، اللہ نے ان کو انسان کے فائدے کے لیے پیدا کیا ہے، تو اب یہ کہنا کہ جاندار کا ذبح کرنا برا ہے، یہ کوئی درست بات نہیں۔ لیکن یہ قیاسِ جدلی کی بات چل رہی ہے اور اس میں آپ پڑھ چکے کہ اس کے مقدمات یا مشہور ہوں گے یا مسلمہ ہوں گے، چاہے صحیح ہوں چاہے صحیح نہ ہوں بھئی، صحیح نہ ہوں۔ سمجھ میں آیا؟ تو جانداروں کا ذبح کرنا، بھئی جانداروں کو تو اللہ نے پیدا ہی انسان کے نفع کے لیے کیا ہے۔ چنانچہ یہ لوگ کہتے ہیں، بعض لوگ کہتے ہیں وہ سب، بعض لوگ سبزی خور ہوتے ہیں بھئی، وہ گوشت کبھی کھاتے ہی نہیں۔ اور کہتے ہیں، یہ جاندار کو ذبح کرنا ظلم ہے بھئی، ظلم ہے، آپ ذبح کرتے ہیں۔ بھئی ذبح کے لیے اللہ نے بہترین طریقہ بتلا دیا، اور لوگ دنیا کے اندر اب صرف گوشت مسلمان تو نہیں کھاتے، ساری دنیا کے لوگ گوشت کھاتے ہیں لیکن ان کے جانداروں کو یہ بڑے ظلم کے ساتھ قتل کرتے ہیں، بڑا ظلم بعض کرتے ہیں، اور ان مسلمانوں کو اللہ نے بہترین طریقہ نصیب فرمایا کہ اس کو ذبح کیا جائے، ذبح کی وجہ سے یہ جو خون ہے یہ اس کے بدن سے نکل جاتا ہے بھئی۔ تکبیر پڑھی جائے اور اس کو ذبح کیا جائے، ذبح کی وجہ سے خون جو ہے یہ خون نجس ہے بھئی اور یہ بہت نقصان دہ چیز ہے۔ تو جب ذبح کیا جائے گا اور اس اسلامی طریقے کے مطابق ذبح کیا جائے گا کہ گردن پوری نہیں کاٹنی بھئی، وہ خون کی رگیں کٹ جائیں تاکہ تاکہ وہ خون اس کے بدن سے نکل جائے بھئی۔ وہ ذبح کا طریقہ فقہ کی کتابوں میں پڑھ لیں گے، تو خون اس کے بدن سے نکل جائے، تو یہ زہریلی اور نجس چیز ہے، جب اس کے گوشت سے یہ چیز نکل گئی تو پیچھے پاکیزہ گوشت رہ گیا، اب اس کو کھایا جا سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جبکہ دوسرے کیا کرتے ہیں، بعض تو اس کے سر پر گولی مارتے ہیں، بعض اور طریقے ہیں، وہ اس میں خون بدن سے نکلتا ہی نہیں، وہ خون گوشت کے اندر ہی رہ جاتا ہے اور وہ بڑا نقصان دہ ہوتا ہے۔ تو یہ ایک فطری طریقہ ہے بھئی بڑا، اور یہ کسی جاندار کے لیے بھی بڑی سعادت کی بات ہے کہ اس کو اس کو شریعت کے یعنی اللہ کے بتلائے ہوئے طریقے کے مطابق تکبیر کہتے ہوئے یعنی اللہ کا نام لیتے ہوئے، اللہ کا ذکر کرتے ہوئے اس کو ذبح کیا جائے بھئی۔ اور باقی انہوں نے کہا کہ جاندار کا ذبح کرنا، بعض میں نے بتلایا وہ کہتے ہیں گوشت نہیں کھانا چاہیے بھئی، کیونکہ اس میں حیوان کو قتل کیا جاتا ہے اور حیوان کو قتل کرنا یہ ظلم ہے، میں نے بتلا دیا کہ نہیں، بلکہ اس کی دلیل سائنسی دلیل بھی موجود ہے بھئی، سائنسی دلیل۔ بھئی اگر آپ حیوانات پر غور کر لیں، گائے، بیل، بکری، اونٹ، یہ سب گھاس وغیرہ کھاتے ہیں۔ تو یہ جتنے گھاس اور سبزی کھانے والے جاندار ہیں، آپ غور کریں، آپ دیکھیں، ان سب کے دانت ہموار ہوتے ہیں، نوکیلے دانت نہیں ہوتے۔ جتنے بھی سبزی خور جانور ہیں، ان کے دانت کیا ہوتے ہیں؟ ہموار، ہموار۔ بھینس کے دانت دیکھ لیں، گائے کے دانت دیکھ لیں۔ اس کے مقابلے میں جو گوشت خور جاندار ہیں، جیسے بلی ہے، کتا ہے، شیر، چیتا وغیرہ، ان کے اگر آپ دانت دیکھیں تو وہ نوکیلے خوفناک قسم کے دانت ہیں بھئی۔ تو ان کو اللہ نے چونکہ انہوں نے گوشت کھانا تھا اور گوشت کھانے کے لیے ایسے نوکیلے دانت چاہئیں، مضبوط قسم کے دانت چاہئیں تو اللہ نے ان کو ایسے نوکیلے دانت عطا فرمائے۔ اور گائے، بیل، بکری وغیرہ نے گھاس کھانی ہے اور گھاس یہ نوکیلے دانتوں سے تو گھاس نہیں کھائی جا سکتی بھئی، تو ان کو اللہ نے ہموار دانت نصیب فرمائے بھئی۔ جبکہ انسان کو اللہ نے دونوں طرح کے دانت نصیب فرمائے ہیں بھئی۔ آپ اپنے دانتوں پر غور کریں، سارے دانت ہموار ہیں، البتہ یہ سامنے تین چار دانت چھوڑ کر دائیں طرف اور بائیں طرف، اوپر اور نیچے ایک ایک نوکیلا دانت ہے یا نہیں بھئی؟ جی؟ ایک ایک دانت نوکیلا ہے، دو نیچے، ایک دائیں طرف ایک بائیں طرف، اور دو ہی اوپر ہیں اس کے، یہ نوکیلے دانت ہیں۔ تو دیکھا، دونوں طرح کے دانت اللہ نے انسان کو دیے، اس میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ یہ انسان سبزی بھی کھا سکتا ہے اور گوشت بھی کھا سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھا، آگے دیکھیے بھئی کتاب پر۔ قیاسِ خطابی، خطابی خا پر فتحہ پڑھنا ہے، زبر پڑھنی ہے بھئی۔ قیاسِ خطابی بھئی، وہ قیاس ہے جو ایسے مقدمات سے مرکب ہو کہ ان سے غالب گمان صحیح ہو، غالب گمان صحیح ہونے کا ہو۔ یوں، جملہ پورا نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ معلوم ہوا کتابت کی غلطی ہے۔ جو ایسے مقدمات سے مرکب ہو کہ ان سے غالب گمان صحیح ہونے کا ہو، جیسے زراعت نفع کی شے ہے۔ آپ کا ایک ساتھی آپ کر آ کر آپ کو کیا کہتا ہے؟ زراعت یعنی کھیتی باڑی، فصلیں کاشت کرنا، کھیتی باڑی نفع کی شے ہے، جیسے زراعت نفع کی شے ہے اور ہر نفع کی شے اپنانے کے قابل ہے، پس زراعت اپنانے کے قابل ہے بھئی۔ اچھا بھئی، قیاسِ خطابی کو سمجھ لیں بھئی۔ یاد رکھیے، قیاسِ خطابی جو ہے نا قیاسِ خطابی، وہ قیاس ہے جو ایسے مقدمات سے مل کر بنے کہ جن کے بارے میں غالب گمان ہو کہ یہ صحیح ہوں گے۔ قیاسِ جدلی میں تو تھا نا، مشہور اور مسلمہ ہوں، چاہے صحیح ہوں چاہے غلط ہوں۔ لیکن قیاسِ خطابی کے اندر ایسے قیاس ایسے مقدمات آئیں گے جن کے بارے میں غالب گمان یہ ہے کہ یہ صحیح ہوں گے۔ یقین تو نہیں ہے، لیکن غالب گمان کیا ہے؟ یہ صحیح ہوں گے بھئی، صحیح ہوں گے۔ اور پھر قیاسِ جدلی میں کتنی قسم کے قضایا استعمال ہوتے تھے؟ دو، مشہورات اور مسلمات۔ اسی طرح قیاسِ خطابی میں جو قضایا استعمال ہوتے ہیں، وہ بھی دو قسم کے ہیں: کچھ کو مقبولات کہتے ہیں اور کچھ کو مظنونات بھئی۔ کچھ کو کیا کہتے ہیں؟ مقبولات، یعنی جو مقبول ہیں، جن کو قبول کر لیتے ہیں لوگ بھئی، کیا کر لیتے ہیں؟ قبول کر لیتے ہیں۔ اور کچھ مظنونات ہیں، جن کے بارے میں عقل بتاتی ہے غالب گمان، ظن کس کو کہتے ہیں؟ غالب گمان، تو جس میں عقل کہتی ہے عقل مان لیتی ہے کہ یہ درست ہے، یعنی غالب گمان اس کا یہی ہوتا ہے کہ یہ چیز کیا ہے؟ درست ہے۔ تو یہ جو قیاسِ خطابی ہے، اس میں کتنی قسم کے قضیے استعمال ہوتے ہیں؟ دو: نمبر ایک مقبولات یعنی جن کو لوگ قبول کر لیں، مان لیں، اور دوسرے مظنونات۔ بھئی ان میں فرق کیا ہے؟ دونوں میں غالب گمان صحیح ہونے کا ہوتا ہے، یہ یاد رکھیں۔ مقبولات میں بھی کیا گمان، غالب گمان؟ کہ یہ صحیح ہو گا۔ مظنونات میں بھی غالب گمان کہ یہ صحیح ہو گا۔ بھئی یہ جو مقبولات ہیں نا مقبولات، یہ حسنِ ظن کی بنیاد پر انسان ان کو مان لیتا ہے، کس کی بنیاد پر؟ اچھا گمان رکھنے کی وجہ سے ان کو مان لیتا ہے۔ اور مظنونات، وہاں اچھا گمان کی بات نہیں ہوتی اچھے گمان، وہاں عقل کہتی ہے کہ ہاں بات ایسی ہی ہو گی، عقل کا غالب گمان یہ ہوتا ہے کہ بات دیکھو، فرق اب سمجھ میں آئے گا۔ مثلاً آپ کا استاد آپ کو کوئی بات بتاتا ہے، آپ اس کو مان لیتے ہیں یا نہیں مان لیتے؟ قبول کر لیتے ہیں یا نہیں؟ کیوں؟ کیونکہ استاد کے بارے میں آپ کا اچھا گمان ہے کہ یقیناً ہمارے استاد نے یہ بات کی ہے تو بات ایسی ہی ہو گی۔ اب دیکھو، یہ فیصلہ عقل نے نہیں کیا کہ اس بارے میں سوچے، غور کرے کہ ہاں بھئی یہ بات درست لگتی ہے، بلکہ کس بنیاد پر مان لیتے ہیں آپ؟ استاد کے بارے میں آپ کا اچھا گمان ہے کہ جب استاد نے یہ بات کی ہے تو یقیناً بات ایسی ہی ہو گی۔ یا جیسے علماء حضرات منبر پر بیٹھ کر تقریر کرتے ہیں، لوگ ان کی باتوں کو قبول کر لیتے ہیں، کس بنیاد پر؟ حسنِ اعتقاد، کہ لوگوں کا ان کے بارے میں اچھا اعتقاد ہوتا ہے، اچھا گمان ہوتا ہے کہ یہ تو نیک عالم ہیں، یقیناً جو بات کر رہے ہیں وہ بات ایسی ہی ہے، اس کو قبول کر لیتے ہیں، تو یہ کیا ہے؟ مقبولات۔ اسی طرح عقلمند لوگ، جو عقلمند، حکماء اور دانشور ہوتے ہیں، لوگ ان کی باتوں کو بھی قبول کر لیتے ہیں کہ یہ بڑا عقلمند آدمی ہے، جب یہ اس طرح کی بات کر رہا ہے تو یقیناً بات ایسی ہی ہو گی، دیکھو یہ اس کے بارے میں حسنِ اعتقاد ہے کہ یہ تو بہت عقل والا ہے، سب جانتے ہیں اللہ نے اس کو بڑی عقل نصیب فرمائی ہے، جب یہ ایک بات کر رہا ہے تو یقیناً بات ایسی ہی ہو گی۔ تو یہ جو خطیب حضرات کو آپ دیکھتے ہیں بھئی، خطیب حضرات لوگوں میں تقریر کر رہے ہوتے ہیں اور مختلف باتیں ذکر کرتے ہیں، تو یہ عموماً کس قسم کی باتیں ہوتی ہیں؟ یہ قیاسِ خطابی کے قبیل سے ہوتی ہیں، لوگ ان کو مان لیتے ہیں، قبول کر لیتے ہیں، کس بنیاد پر؟ حسنِ اعتقاد اور حسنِ ظن کی بنیاد پر کہ یہ یقیناً جب یہ بات کر رہے ہیں تو بات ایسی ہی ہو گی۔ یا جیسے مولانا طارق جمیل صاحب مدظلہ العالی تقریر کر رہے ہوں بھئی، سارے لوگ ان کی باتوں کو تسلیم کرتے ہیں یا نہیں کرتے؟ کیوں؟ ان کے بارے میں حسنِ ظن رکھتے ہیں، اچھا گمان رکھتے ہیں، حسنِ اعتقاد رکھتے ہیں کہ یہ تو اللہ کے ولی ہیں، جو دین کی عظیم خدمات سرانجام دے رہے ہیں، یقیناً جب یہ کہہ رہے ہیں تو بات ایسی ہی ہو گی۔ تو یہ کیا ہیں؟ مقبولات، ان کو کیا کہتے ہیں؟ مقبولات، جن کو حسنِ ظن کی بنیاد پر قبول کر لیا جاتا ہے، یعنی اچھا گمان رکھنے کی وجہ سے قبول کر لیا جاتا ہے۔ اور دوسری قسم کیا ہے؟ مظنونات۔ مظنونات جن کے بارے میں عقل کی غالب گمان یہ ہوتا ہے کہ یہ بات ایسی ہی ہے۔ مثلاً آپ کا ایک ساتھی آپ کے پاس آیا، وہ کوئی آپ سے زیادہ عقلمند نہیں ہے لیکن آ کر اس نے کہا کہ بھئی دیکھو فلاں کاروبار آج کل بڑا چل رہا ہے، اس میں لوگ لگے ہوئے ہیں اور اس میں خوب نفع کما رہے ہیں، ہمیں بھی یہ کام کرنا چاہیے۔ آپ کے ذہن نے عقل نے فوراً آپ کو کہا، ہاں بھئی بات تو اس کی ٹھیک ہے، اس میں یقیناً بڑا فائدہ ہو گا، ہمیں بھی یہ کاروبار کرنا چاہیے۔ اب کیا ضروری ہے آپ کو اس میں فائدہ ہو؟ ضروری نہیں، لیکن عقل نے کہا، غالب گمان یہی ہے کہ اس میں کیا ہو گا آپ کو؟ فائدہ ہو گا، تو ان کو کہتے ہیں مظنونات۔ تو دیکھو جو آپ نے ساتھی کی رائے مانی، اس کی بات مانی، کیا اس وجہ سے کہ آپ اس سے بڑے متاثر تھے؟ اس کے بارے میں حسنِ ظن رکھتے تھے کہ یہ جو بھی کہے گا صحیح کہے گا؟ نہیں نہیں، ایسا نہیں تھا، ہاں خود آپ کی عقل نے سوچا اور آپ کو بتلایا کہ ہاں بھئی بات اس کی ٹھیک لگ رہی ہے، غالب گمان یہی ہے کہ اس میں کیا ہو گا؟ نفع ہو گا، لہٰذا مجھے بھی یہ کام کرنا چاہیے بھئی۔ فرق دونوں میں سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو لہٰذا قیاسِ خطابی کے مقدمات کتنی قسم کے ہوتے ہیں؟ دو قسم کے، کون کون سے؟ مقبولات اور مظنونات۔ مقبولات وہ ہیں جن کو حسنِ ظن اور حسنِ اعتقاد کی بنیاد پر قبول کر لیا جاتا ہے اور مان لیا جاتا ہے، اور مظنونات وہ ہیں جن کے بارے میں ہماری عقل کا غالب گمان یہ ہوتا ہے کہ یہ بات صحیح ہے، درست ہے بھئی۔ اور یہ جو قیاسِ خطابی ہے، اس کا بہت بڑا فائدہ ہے بھئی۔ آپ دیکھتے نہیں، یہ علماء حضرات، یہ خطیب حضرات لوگوں کے سامنے بہت سی باتیں ذکر کرتے ہیں اور لوگ ان کو مان لیتے ہیں، اور ان کے ماننے کی وجہ سے لوگوں کی زندگیاں بہتر ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح وہ آخرت کی طرف لوگوں کو متوجہ کرتے ہیں، آخرت کی باتیں کرتے ہیں، لوگ ان کے بارے میں اچھا اعتقاد رکھتے ہیں، وہ ان کی باتوں کو مانتے ہیں، چنانچہ وہ آخرت کے لیے کوشش کرتے ہیں اور آخرت کی تیاری کرتے ہیں۔ تو عموماً یہ جو تقریر وغیرہ کے اندر یہ اس طرح کی باتیں قیاسِ خطابی کو استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے بہت زیادہ فائدے ہیں۔ اس کی وجہ سے یہ دنیا کا نظام اچھے طریقے سے، بہتر طریقے سے چلتا ہے۔ دیکھو، کوئی غلطی کرتا ہے، دوسرا آ کر اس کو سمجھاتا ہے کہ بھئی تمہیں اس طرح نہیں کرنا چاہیے، یوں کرنا چاہیے، وہ اس کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہوئے اس کی بات کو قبول کر لیتا ہے کہ ہاں بھئی مجھ سے غلطی ہوئی، آئندہ میں ایسا نہیں کروں گا، آئندہ اس طریقے سے چلوں گا۔ تو دیکھو کتنا بڑا فائدہ ہے، اس کی وجہ سے دنیاوی مسائل بھی حل ہوتے ہیں، لوگوں کی زندگیاں بھی بہتر ہوتی ہیں اور آخرت کی طرف بھی لوگ متوجہ ہوتے ہیں اور آخرت کی تیاری کرتے ہیں بھئی۔ تو یہ فائدہ کس کا ہے؟ قیاسِ خطابی کا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اس کا یہ معنی نہیں کہ خطیب حضرات کی یا علماء حضرات کی تقاریر جتنی ہوتی ہیں وہ ساری ہی قیاسِ خطابی پر مشتمل ہوں، ایسا نہیں، کیونکہ اس کے اندر تو قرآن کے دلائل بھی آ جاتے ہیں، احادیث کے دلائل بھی آ جاتے ہیں، تو ان کی تقاریر میں برہانیات اور یقینی دلائل بھی موجود ہوتے ہیں، لیکن زیادہ تر ان کی جو باتیں ہوتی ہیں وہ کس قبیل سے ہوتی ہیں؟ قیاسِ خطابی کے قبیل سے ہوتی ہیں۔ وجہ اس کی یہ کہ جو قطعی اور یقینی اور علمی دلائل ہیں، عوام کے لیے ان کو سمجھنا مشکل ہوتا ہے بھئی۔ اگر وہ علمی دلائل بیان کرنا شروع کر دیں صرف، تو پھر ان کی تقریر میں کون بیٹھے گا؟ سمجھ ہی نہیں آئے گی لوگوں کو، علمی باتیں تو ہر آدمی نہیں سمجھ سکتا بھئی۔ تو لہٰذا وہ عموماً ایسی ہی باتیں کرتے ہیں جو عام لوگوں کی سمجھ میں آئیں، ان پر اثر انداز ہوں، ان کو ان کے دلوں کو نیکی کی طرف پھیر دیں، اور وہ کس قبیل کی ہوتی ہیں عموماً؟ قیاسِ خطابی کے قبیل سے ہوتی ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو عموماً ان کی باتیں قیاسِ خطابی کے قبیل سے ہوتی ہیں، اگرچہ اس میں یقینی دلائل بھی آ جاتے ہیں، لیکن عمومی باتیں قیاسِ خطابی ہی کے قبیل سے ہوتی ہیں۔ تو قیاسِ خطابی کے مقدمات کتنی قسم کے؟ دو قسم کے، مقبولات اور مظنونات بھئی۔ تو حاصلِ کلام یہ ہوا کہ آج ہم نے قیاسِ جدلی اور قیاسِ خطابی کے بارے میں پڑھا۔ قیاسِ جدلی جو ہے وہ مناظروں میں اور بحث مباحثوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس کے مقدمات یا تو مشہورہ ہوں گے یا مسلمہ ہوں گے، اور اس کا فائدہ یہ ہے کہ آپ اس کے ذریعے اپنی بات کو ثابت کر سکتے ہیں، اپنی بات کو منوا سکتے ہیں اور دوسرے کی بات کو رد کر سکتے ہیں۔ اور جبکہ دوسرا قیاس قیاسِ خطابی پڑھا اور اس کے مقدمات بھی دو قسم پر، یا مقبولات ہوں گے یا مظنونات ہوں گے، اور غالب گمان ان کے صحیح ہونے کا ہوتا ہے۔ قیاسِ خطابی وہ قیاس ہے جو ایسے مقدمات سے مرکب ہوتا ہے کہ ان مقدمات کے بارے میں غالب گمان یہ ہوتا ہے کہ یہ صحیح ہیں بھئی، صحیح ہیں۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقیقة الکلام۔