عَجَمِيٌّ لَهُ مَوَالِي الْمُوَالَاةِ. عَجَمِيٌّ لَهُ مَوَالِي الْمُوَالَاةِ نَكَحَ مُعْتَقَتَ الْعَرَبِ، فَوَلَدَتْ وَلَداً فَلَا وَلَدَهَا لِمَوْلَاهَا. إتنی بات یاد رکھیے موالی الموالات بھئی سمجھ میں آیا مووالات ہے لفظ میم کے ضمہ کے ساتھ ہے بھئی۔ مووالات بھئی۔ بھئی کل میں نے آپ کو کچھ تمہید کے طور پر کچھ باتیں بتلائی تھیں جن کا تعلق آگے آنے والے مسائل سے ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ سب سے پہلے جو ہے ترکہ میت جو ہے اس سے چار قسم کے حقوق وابستہ ہوتے ہیں، چار قسم کے حقوق۔ سب سے پہلے اس میت کے ترکے میں سے کیا جائے گا؟ کفن دفن کا بندوبست کریں گے، اس کے بعد اگر اس پر کسی کے قرضے ہیں، وہ قرضے ادا کیے جائیں گے، اس کے بعد ثلث کے اندر اس کی وصیت نافذ کی جائے گی، اور پھر جو باقی مال بچے گا وہ وارثوں میں تقسیم ہوگا۔ اور وارثین جو مستحق ہیں ترکے کے جو لوگ ان کی ترتیب وہ کتنے قسم پر ہیں؟ دس قسم پر ہیں۔ سب سے پہلے کن کو دیا جائے گا؟ ذَوِي الْفُرُوضِ کو دیا جائے گا۔ ذَوِي الْفُرُوضِ فرض حصے کو کہتے ہیں، حصوں والے یعنی وہ لوگ جن کے وہ رشتہ دار جن کے حصے قرآن، حدیث اور اجماع کے ذریعے بیان کیے گئے ہیں، اجماع سے متعین ہیں، وہ ان کو دیا جائے گا۔ اگر ان سے کچھ مال بچ جائے تو پھر کن کو دیا جائے گا؟ عصبات کو۔ لیکن بتلایا تھا عصبات دو قسم پر ہیں: ایک عَصَبَةٌ سَبَبِيٌّ ہے، ایک عَصَبَةٌ نَسَبِيٌّ ہے۔ اچھا تو عصبہ کہتے کس کو ہیں بھئی؟ عصبہ وہ شخص ہے جو میت کا سارا مال لے جاتا ہے، اگر کوئی وارث نہ ہو، اور اگر حصوں والے ہوں تو مابقیہ کو لے جاتا ہے، وہ کیا کہلاتا ہے؟ عصبہ کہلاتا ہے۔ اور یہ عصبہ دو قسم پر ہے: ایک نسبی وہ جن کا نسب کا تعلق ہو، نسبی رشتہ ہو میت کے ساتھ، اور ایک وہ جن کا نسبی رشتہ نہیں ہے بلکہ سببی رشتہ ہے، یعنی وہ کون ہیں عصبہ سببی بھئی کیا بتلایا تھا میں نے؟ معتق جو آزاد کرنے والا ہے، فرض کرو وہ میت جو تھی وہ غلام تھا اس کو کسی نے آزاد کیا تھا تو اس کا وہ جو مولا تھا معتق تھا وہ کیا رہا ہے؟ عصبہ سببی۔ لیکن اس عصبہ سببی پر عصبات نسبیہ مقدم ہیں، عصبات نسبیہ کون ہیں بھئی؟ جی وہ عصبہ جن کا نسبی رشتہ ہے میت کے ساتھ اور نسب آپ جانتے ہیں کس کی طرف سے چلتا ہے؟ باپ کی طرف سے چلتا ہے، تو لہذا اور پھر ان عصبات نسبیہ میں میں نے بتلایا تھا یہ تین قسم پر ہیں: ایک عَصَبَةٌ بِنَفْسِهِ، ایک عَصَبَةٌ بِغَيْرِهِ، ایک عَصَبَةٌ مَعَ غَيْرِهِ۔ عصبہ بنفسہ یہ صرف مذکر ہیں، یعنی مرد ہیں، اور عصبہ بغیری اور عصبہ مع غیرہ یہ دونوں کون ہیں؟ یہ عورتیں ہیں، یہ کون ہیں؟ یہ عورتیں ہیں۔ اور عصبہ بنفسہ میں نے بتلایا تھا کس کو کہتے تھے؟ وہ مذکر ہے جس کا کوئی حصہ مقرر نہیں ہے اور اس کا میت کے ساتھ جو رشتہ ہے درمیان میں کسی عورت کا واسطہ نہیں آتا، لہذا نانا خارج ہوا کیونکہ اس کا واسطہ میت سے رشتہ کس کے ذریعے ہے؟ ماں کے ذریعے تو مؤنث بیچ میں آ گئی، حالانکہ ہم نے کہا تھا مؤنث کا رشتہ واسطہ بیچ میں نہ آئے بھئی۔ اچھا اس کے بعد بھئی عصبہ بغیری بھئی، عصبہ بغیری۔ عصبہ بغیری یہ وہ مؤنث ہیں جن کو کوئی مذکر عصبہ بنا دے، یعنی ان کے ساتھ ان کا بھئی آ جائے تو وہ انہیں کیا بنا دیا کرتا ہے؟ عصبہ بنا دیا کرتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ بھئی بھئی، میں نے بتلایا تھا یہ چار عورتیں ہیں صرف بھئی۔ بیٹی ہے، بیٹی پوتی اور حقیقی بہن اور علاتی بہن، یہ چار ہیں مولانا۔ اور اس کے بعد ایک عصبہ مع غیرہ ہے بھئی۔ عصبہ مع غیرہ یہ عورتیں ہیں جن جو کس کے ساتھ جمع ہو جائیں؟ بیٹی یا پوتی کے ساتھ تو یہ عصبہ بن جایا کرتی ہیں، یعنی ان کو کوئی مؤنث کیا بنا دیتی ہے؟ عصبہ بنا دیتی ہے، عصبہ بھئی۔ اور یہ کون کون ہیں؟ دو ہیں بھئی صرف حقیقی بہن اور علاتی بہن بھئی، تو یہ بیٹی اور پوتی کے ساتھ مل کر عصبہ بن جاتی ہیں۔ اور اس کے بعد کچھ رشتہ دار ہیں بھئی وہ کون ہیں؟ ذَوِي الْأَرْحَامِ کہلاتے ہیں، تو ان کے علاوہ عصبات نسبیہ کے علاوہ سارے رشتہ دار کیا ہیں؟ ذوی الارحام میں داخل ہو جاتے ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ تو جن کو جو عصبہ نہیں ہے یا جن کا میت کے ساتھ رشتہ کسی عورت کے واسططے سے ہو، مثلاً نانا ہے اس کا واسطہ میت سے کس کے ذریعے تھا؟ ماں کے ذریعے تھا تو وہ جی۔ اچھا تو میں بیان کر رہا تھا ترتیب مولانا، سب سے پہلے کن کو حصہ دیا جائے گا؟ ذوی الفروض کو، ذوی الفروض سے اگر پھر کچھ مال بچ جائے پھر کس کو دیا جائے گا؟ عصبات نسبیہ کو یعنی عصبہ بنفسہ، عصبہ بغیری اور عصبہ مع غیرہ کو۔ اگر ان سے بھی کچھ مال بچ جائے پھر کس کو دیا جائے گا؟ عصبہ سببی یعنی معتق کو دے دیا جائے گا۔ اگر معتق یا ان میں سے اوپر والوں میں سے اب کوئی نہیں ہے، معتق بھی مثلاً مر چکا ہے، تو پھر کس کو دیا جائے گا؟ اس عصبہ سببی کے عصبات کو یعنی معتق کے جو عصبات ہیں بھئی، اور پھر معتق کے پھر دو قسم کے عصبات ہو سکتے ہیں یا وہ نسبی ہوں گے یا سببی، تو پہلے نسبی کو دے دیں گے، اگر اس کے نسبی کو عصبہ نہیں ہے تو پھر اس کے عصبہ سببی کو دے دیں گے، اور ان دو میں یاد رکھے صرف کس کو دیں گے؟ مردوں کو دیں گے، عورتوں کو نہیں دیں گے۔ اگر بھئی یہ بھی نہیں ہیں تو پھر نسبی ذوی الفروض جو تھے، جن کو جن کے حصے مقرر تھے، یہ پھر دو قسم پر تھے مولانا میں نے بتلایا تھا، کچھ وہ ہیں جن کے ساتھ میت کا نسبی رشتہ ہے بھئی، کچھ وہ ہیں جن کا نسبی رشتہ نہیں، حصے تو مقرر ہیں لیکن نسبی رشتہ... بھئی بیٹا ہے... کچھ کے حصے مقرر ہیں، مثلاً بیٹی ہے، پوتی ہے، بہن وغیرہ ان کے حصے مقرر ہیں مولانا، کیا ہیں؟ ان کے حصے مقرر ہیں، تو یہ ذوی الفروض میں سے ہیں اور یہ ذوی الفروض نسبی ہیں، ان کے ساتھ نسبی رشتہ ہے، کچھ ذوی الفروض وہ ہیں جن کے ساتھ نسبی رشتہ نہیں ہے، وہ میاں بیوی ہیں۔ میاں کا حصہ بھی مقرر ہے، شریعت نے مقرر کیا بھئی، کہ بیوی مر جائے تو خاوند کو اتنا وراثت میں سے ملے گا بھئی، اور بیوی کا بھی حصہ ہے کہ اگر خاوند مر جائے تو اس کو اتنا حصہ ملے گا، تو یہ دونوں بھی مولانا ذوی الفروض میں سے ہیں کیونکہ ان کے حصے مقرر ہیں، لیکن یہ نسبی ذوی الفروض ہیں یا سببی ذوی الفروض ہیں بھئی؟ سببی ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ ان کے ساتھ نسبی رشتہ نہیں ہے۔ اچھا، تو نسبی تو پانچواں ہے کہ پھر اگر مال بچ جائے یا اوپر والوں میں سے کوئی نہ ہو تو نسبی ذوی الفروض پر ان کے حصوں کے بقدر پھر مال لوٹا دیا جائے گا، جو مال بچا ہے اس میں سے پھر جس کا جتنا جتنا حصہ بنتا ہے وہ ان کو دے دیا جائے۔ اگر ان پھر بھی مال بچ جائے تو پھر کس کو دیا جائے گا؟ ذوی الارحام اور جو رشتہ دار ہیں ان کو دے دیا جائے گا، اگر وہ بھی نہ ہوں پھر کس کو دیا جائے گا؟ مَوْلَى الْمُوَالَاةِ کو جس کے ساتھ عقد موالات ہوا تھا بھئی۔ سمجھ میں آیا کہ جس نے اس سے کہا تھا کہ تو میرا وارث بنے گا اور میری زندگی میں تو کیا کر میری، کو مجھ پر کوئی جنا مجھ سے جنایت ہو جائے تو میری دیت تم ادا کر دینا، تو وہ مَوْلَى الْمُوَالَاةِ کو ملے گا، اگر وہ بھی نہیں ہے، پھر کس کو ملے گا؟ مُقِرٌّ لَهُ بِالنَّسَبِ عَلَى الْغَيْرِ بھئی، جو غیر پر نسب کا اقرار کرتا ہے، مثلاً ایک شخص ہے وہ اقرار کر لیتا ہے۔ میت نے اقرار کیا تھا مثلاً کسی کے لیے کہ یہ میرا بھئی ہے، میت نے کیا کیا تھا؟ تو میت ہوئی مقر، اور کس کے لیے اقرار کیا؟ وہ غیر، وہ مقر لہ ہوا، اور اس مقر لہ کا اس نے اپنے سے نسب ثابت کیا ہے یا اپنے باپ سے ثابت کرنا چاہتا ہے؟ تو یہ مقر لہ ہوا بن نسب علی الغیر، یعنی یہ اس کے لیے اقرار کیا گیا ہے نسب کا لیکن غیر پر، کس پر؟ غیر پر۔ تو اس کو مل جائے گا اگر ایسا بھی کوئی شخص نہ ہو تو مُوصًى لَهُ بِجَمِيعِ الْمَالِ کو جس کے لیے میت نے کیا وصیت کی تھی؟ سارا مال دے دیا جائے بھئی، اس کو دے دیا جائے گا۔ اور اگر یہ بھی نہ ہو، پھر کس کو دیا جائے گا؟ بَيْتُ الْمَالِ کو، یہ ترتیب ذہن میں رکھنا مولانا۔ اب بھئی دیکھو ذرا اوپر دیکھو، پچھلے مسئلے میں بھی دیکھ لو بھئی، پچھلے مسئلے میں۔ پچھلے مسئلے میں کیا ذکر ہوا تھا؟ ادھر دیکھو بھئی، پچھلے مسئلے میں یہ بات ذکر ہوئی تھی کہ اگر میت، کہ اگر... پچھلے ولا کے مسائل چل رہے ہیں بھئی، دیکھو، آپ نے پڑھا ایک شخص نے اپنی باندی کو آزاد کیا اور چھ مہینے کے بعد اس نے ایک بچے کو جنم دیا ہے، چھ مہینے کے بعد۔ اب چھ مہینے کے بعد بچے کو جنم دیا ہے اس نے آزادی کے بعد، تو اب اس بچے کی ولا کے مستحق کون ہیں؟ جی اس کی ماں کے موالی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی، ماں کے موالی مستحق ہیں۔ ماں کو، ماں اور ماں کے موالی مستحق ہیں، لیکن اگر بچے کا باپ بھی آزاد ہو جائے، بچے کے مرنے سے پہلے، تو وہ بچے کا باپ کیا کرے گا؟ ولا کو کھینچ کر کس کی طرف لے جائے گا؟ اپنے موالی کی طرف کھینچ کر لے جائے گا۔ اور اگر بچہ مر جائے، تو اگر اس وقت تک باپ زندہ ہے، تو پھر تو بات کس میں سے ہے بھئی؟ عصبات میں سے ہے، کس میں سے ہے؟ تو یہ عصبہ نسبی ہے، اور جو اس کو آزاد کرنے والے ہیں وہ کون ہیں؟ عصبہ سببی ہیں، لہذا کون مقدم ہوتا ہے؟ عصبات نسبی یا عصبات سببی؟ نسبی، لہذا پھر تو باپ سارا مال لے جائے گا، باپ کے موالی کو نہیں ملے گا، لیکن اگر باپ مر چکا ہے، آزاد ہو کر مرا ہے، تو اب مولانا ولا کس کو ملے گی؟ باپ کے موالی کو بھئی، یہ قید وہاں ذکر ہوئی تھی إِنَّمَا قُلْنَا بَعْدَ مَوْتِ الْأَبِ، باپ کے مرنے کے بعد بھئی اگر بچہ مرے، کیونکہ اگر باپ کی زندگی میں بچہ مر گیا، تو ولا باپ ہی کو ملے گی، کیونکہ باپ کیا ہے؟ عصبہ نسبی ہے اور وہ عصبہ سببی پر کیا ہوتا ہے؟ مقدم ہوتا ہے۔ مسئلہ سمجھ میں آیا پچھلا بھئی؟ اب اگلے میں بھی اسی طرح ہے، کہتے ہیں: عَجَمِيٌّ لَهُ مَوَالِي الْمُوَالَاةِ، ایک ایسا عجمی ہے جس کے موالی موالات ہیں مولانا۔ یہ آگے چل کر آپ کو بتلائیں گے شرح میں کہ یہ عجمی کی قید کیوں لگائی کہ ایک عجمی ہے، اس نے عقد موالات کیا ہے کسی کے ساتھ۔ بتلائیں گے بھئی، عرب کے اندر، عرب کے اندر بھئی، مولا یہاں پر بتلائیں گے کہ جو بچے کی ولا ہے اس مسئلے میں، یہ اس عجمی کے کس کو ملے گی؟ موالی موالات کو ولا ملے گی، کیا ملے گی؟ بھئی آگے مسئلے میں تفصیل آئے گی کہ یوں ہوا بچہ مر گیا اور ولا ہے اب ولا کس کو ملے گی؟ اس عجمی کے موالی موالات کو ملے گی بھئی۔ لیکن کہا کہ عجمی میں عجمی کہا بھئی، بھئی عرب کیوں نہیں کہا؟ کہتے ہیں اس لیے کہ عرب کے اندر تو نسب محفوظ ہیں مولانا، عرب لوگ کیا کرتے ہیں اپنے نسب یاد رکھتے ہیں، تو قبیلے کا پتہ ہوتا ہے۔ قبیلے کا جب فتویٰ ہے تو معلوم ہوا کوئی نہ کوئی رشتہ دار ضرور ہوں گے، اور آپ نے پڑھا ہے ترتیب کے اندر کہ ذوی الارحام چھٹے نمبر پر ہے اور مَوْلَى الْمُوَالَاةِ کتنے نمبر پر ہے؟ ساتویں نمبر پر ہے، تو کوئی رشتہ دار نہیں ہوگا تو تب جا کے مَوْلَى الْمُوَالَاةِ کو مال ملے گا بھئی، لیکن عرب کے اندر تو قبیلے ہیں تو کوئی نہ کوئی رشتہ دار اس کے دور پار کے ضرور زندہ ہوں گے، تو وہ کیا کر لیں گے؟ مال لے جائیں گے، مَوْلَى الْمُوَالَاةِ کو وہاں مال مل ہی نہیں سکتا بھئی، اسی لیے عجمی کی قید لگائی، سمجھ میں آیا؟ کہ عرب کے اندر ایسا ممکن نہیں۔ تو کہتے ہیں: عَجَمِيٌّ، ایک ایسا عجمی لَهُ مَوَالِي الْمُوَالَاةِ، جس کے موالی موالات ہیں، نَكَحَ، اس نے نکاح کر لیا مُعْتَقَتَ الْعَرَبِ، عرب کی کسی آزاد کی ہوئی باندی سے، بھئی ایک عورت تھی اس کو عربوں نے آزاد کیا تھا، کسی عرب کی باندی تھی اس نے آزاد کیا تھا، فَوَلَدَتْ وَلَداً، تو اس باندی نے ایک جنم دیا ایک بچے کو بھئی، فَوَلَاءُ وَلَدِهَا لِمَوْلَاهَا، تو اس بچے کی جو ولا ہے وہ اس اقا کے لیے ہوگی، یعنی وہ اس کا مستحق ہے، اگر یہ مر جائے بچہ تو اس کی ولا کس کو ملے گی؟ خاوند کون ہے؟ عجمی، اور اس نے ایک شخص سے کون سا عقد کیا ہوا ہے؟ عقد موالات کیا ہوا ہے، اور اس نے نکاح کس سے کر لیا؟ ایک عربی کی آزاد کردہ باندی سے، اب اس باندی سے اس کا بچہ پیدا ہوا، تو اب بھئی، ایک طرف وہ باندی کا معتق ہے وہ بھی ولا کا مستحق ہے، ایک طرف اس شخص کا مولا موالات ہے وہ بھی ولا کا مستحق، کس کو ملے گا؟ طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں، کس کو ملے، کون مستحق ہے یہاں ولا کا؟ لِمَوْلَاهَا، متن میں نہیں آیا فَوَلَاءُ وَلَدِهَا لِمَوْلَاهَا، اس باندی کے اقا کو ملے گی، یعنی وہ جو اس کی ماں ہے، اس کے موالی کو ملے گی، اس کے معتق کو مل جائے گی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ، یہ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے، وَأَمَّا عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک، فَوَلَاؤُهُ لِمَوْلَى الْأَبِ مُوَالَاتاً، کہ اس بچے کی ولا جو ہے اس کے باپ کے مولا کو ملے گی باعتبار موالات کے، یعنی جو اس کے باپ کا مولا ہے موالات کے اعتبار سے، اس سے ملے گی۔ طرفین نے کیا فرمایا؟ بچے کی ولا کس کو ملے گی؟ موالی ام کو ملے گی اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ موالی اب کو ملے گی جو ان کے ساتھ موالات کا عقد کیا ہے، ترجیحاً لجانب الاب، ترجیح دیتے ہوئے باپ کی جانب کو۔ سمجھ میں آئے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کس کی جہت کو ترجیح دیتے ہیں؟ باپ کی جہت کو ترجیح دیتے ہیں، وَهُمَا رَجَّحَا وَلَاءَ الْعَتَاقَةِ، اور طرفین نے ترجیح دی کس کو؟ ولائے عتاقہ کو ترجیح دی بھئی۔ وَإِنْ كَانَ مِنْ جَانِبِ الْأُمِّ، اگرچہ وہ ماں کی جانب سے کیوں نہ ہو بھئی، تو یہاں دو موالی آ گئے، ایک موالی عتاقہ ہیں اور ایک موالی موالات ہیں، تو طرفین نے کس کو ترجیح دے دی؟ موالی عتاقہ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے موالی موالات کو۔ وَإِنَّمَا وَضْعُ الْمَسْأَلَةِ فِي الْعَجَمِيِّ، بھئی یہ عجمی میں کیوں مسئلے کو وضع کیا؟ عجمی کی قید کیوں لگائی؟ کہتے ہیں: لِأَنَّ وَلَاءَ الْمُوَالَاةِ لَا يَكُونُ فِي الْعَرَبِ، اس لیے کہ ولائے موالات عرب میں نہیں ہو سکتی، لِأَنَّ لَهُمْ شُعُوباً وَقَبَائِلَ، شعوب جمع ہے شعب کی بھئی، شعب۔ شعب بھی قبیلہ ہوتا ہے لیکن قبیلے سے اوپر جو ہوگا وہ شعب کہلاتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ خاندان ہے بھئی ایک، خاندان سے اوپر کیا آئے گا؟ قبیلہ، مثلاً، پھر قبیلے سے بھی اوپر جو بڑا ہے، جس کے تحت کئی قبیلے آتے ہیں وہ کیا کہلاتا ہے؟ شعب کہلاتا ہے، سمجھ میں آیا؟ اس لیے کہ عرب کے جو ہیں وہ شعوب ہیں اور قبائل ہیں، فَلَا إِرْثَ لِمَوْلَى الْمُوَالَاتِ، تو کوئی وراثت نہیں ملے گی، نہیں ہوگی مولائے موالات کو، کیوں؟ لِتَاخُورِهِ عَنِ الْوَارِثِ النَّسَبِيِّ، اس لیے کہ مولائے موالات مؤخر ہے وارث نسبی وارث سے مؤخر ہے، اب ترتیب آپ کو میں نے بتلا دی تھی، وَإِنْ كَانَ مِنْ ذَوِي الْأَرْحَامِ، اگرچہ وہ وارث کس میں سے ہو؟ ذوی الارحام میں سے کیوں نہ ہو، وہ بھی مقدم ہے مولائے موالات پر، تو ان میں سے کسی کوئی نہ کوئی تو ہوگا تو ان کو ضرور مل جائے گی۔ تو تو عرب تھا ممکن نہیں، وَأَمَّا الْعَجَمِيُّ، باقی عجمی جو ہیں، فَقَدْ ضَيَّعُوا أَنْسَابَهُمْ، تو تحقیق انہوں نے اپنے نسبوں کو ضائع کر دیا، فَيُتَصَوَّرُ فِيهِمْ مَوْلَى الْمُوَالَاتِ، پس ان میں تصور کیا جا سکتا ہے کس کو؟ مولائے موالات کو بھئی۔ وَالْمُعْتِقُ عَصَبَةٌ اور معتِق بھی کیا ہے؟ معتِق کون ہے بھئی؟ عَصَبَات میں کون سا عَصَبَہ ہے؟ نسبی سببی ہاں یہی بات بتلانے لگیں کہتے ہیں والمُعْتِقُ عَصَبَةٌ اور موتِق ایسا عَصَبَہ ہے قُدِّمَ النَّسَبِيُّ عَلَيْهِ جس پر نسبی عَصَبَہ کو مقدم کیا جائے گا۔ موتِق بھی عَصَبَہ اور ایک اور قسم کے عَصَبَہ کون؟ نسبی اور کون مقدم ہے؟ نسبی عَصَبَہ۔ نسبی عَصَبَہ کیا ہیں؟ یہی بات کر رہے ہیں دیکھو والمُعْتِقُ عَصَبَةٌ عَصَبَہ نکرہ ہے آگے اس کے فعل آ رہا ہے صفت بنے گی موتِق ایسا عَصَبَہ ہے کہ مقدم کیا گیا ہے کیا جائے گا اس پر نسبی کو۔ نسبی عَصَبَہ کو اس پر کیا کیا جائے گا؟ ترتیب میں نے آپ کو بتلائی تھی بھئی عَصَبَہ نسبی عَصَبَہ سببی پر مقدم ہے۔ وَهُوَ عَلَى ذِي الرَّحْمِ اور اس کو مقدم کیا جائے گا ذُو الرَّحِم پر۔ عَصَبَہ سببی کو کس پر مقدم کیا جائے گا؟ ذُو الرَّحِم پر۔ آپ نے ترتیب پڑھی یا نہیں؟ عَصَبَہ سببی کتنے نمبر پر تھا؟ تیسرے پر اور ذُو الرَّحِم کتنے نمبر پر تھا؟ چھٹے نمبر پر جا کر تو یہ اس پر مقدم ہوا۔ تو عَصَبَہ نسبی عَصَبَہ سببی پر مقدم اور عَصَبَہ سببی ذُو الرَّحِم پر مقدم یہی ترتیب ہے۔ اچھا بھئی متن میں کیا آیا تھا؟ الْمُعْتِقُ عَصَبَةٌ موتِق کیا ہے؟ اور عَصَبَہ کی میں نے کیا تعریف بتلائی تھی؟ وہ شخص جو مابقیہ کو لے جائے ذُو الْفُرُوض سے جتنا حصہ بچے اس سارے مال کو لے جاتا ہے اور اگر کوئی بھی نہ ہو تو پھر سارے مال کو لے جاتا ہے۔ سمجھ میں آیا ذُو الْفُرُوض ہیں تو مابقیہ کو لے جاتا ہے اگر ذُو الْفُرُوض نہیں ہے تو سارے مال کو لے جاتا ہے تو دیکھیے عَصَبَہ کی جگہ اٹھا کر اب اس کی تعریف رکھ دیں گے بھئی علامہ صدر الشریعہ وہی والمُعْتِقُ عَصَبَةٌ اس کی تشریح کریں تو کہتے ہیں الْمُعْتِ (یعنی کہ الْمُعْتِقُ شخصٌ) موتِق ایسا شخص ہے یعنی موتِق عَصَبَہ ہے یعنی ایسا شخص ہے يأخُذُ مَا بَقِيَ مِنْ صَاحِبِ الْفَرْضِ وہ لے لیتا ہے مابقیہ کو جو باقی بچتا ہے کس سے؟ صاحبِ فرض سے جس کے حصے وارث ہیں ان سے مابقیہ کو لے لیتا ہے وَكُلُّ الْمَالِ لَهُ عِنْدَ عَدَمِهِ اور سارا کا سارا مال اس کے لیے ہوتا ہے جب کوئی عَدَمِهِ ای عَدَمِ صَاحِبِ الْفَرْضِ جب کوئی فرض و حصے والا مقررہ حصے والا کوئی نہ ہو تو سارا مال لے لیتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ باقی کہا تھا قُدِّمَ النَّسَبِيُّ عَصَبَہ مقدم کیے جائیں گے وہ کون ہیں؟ کہتے ہیں وَالنَّسَبِيُّ إِمَّا عَصَبَةٌ بِنَفْسِهِ یا تو وہ کیا ہے؟ تین قسم پر ہے یا تو وہ کیا ہوگا عَصَبَہ بِنَفْسِهِ ہوگا بھئی وہ کسے کہتے ہیں؟ ای ذَكَرٌ وہ مرد ہے لاَ فَرْضَ لَهُ جس کا کوئی حصہ مقرر نہیں وَلاَ تَدْخُلُ فِي نِسْبَتِهِ إِلَى الْمَيِّتِ أُنْثَى اور داخل نہیں ہوتا اس کی جو میت کی طرف نسبت ہے اس میں کوئی مؤنث کوئی داخل نہیں ہوتی۔ وَإِمَّا بِغَيْرِهِ یا نسبی عَصَبَہ کیا ہوں گے عَصَبَہ بِغَيْرِهِ ہوں گے وَهِيَ أُنْثَى یہ بھی کس کا نام ہے؟ یہ مؤنث کا نام ایسی مؤنث ہے يَعْصِبُهَا ذَكَرٌ جن کو عَصَبَہ بنا دیتا ہے کوئی مرد بھئی یعنی وہ چار عورتیں جن کو ان کے بھئی آ کر کیا بنا دیتے ہیں؟ عَصَبَہ۔ وَإِمَّا مَعَ غَيْرِهِ یا عَصَبَہ نسبی کیا ہوگا؟ مَعَ غَيْرِهِ ہوگا یعنی عَصَبَہ مَعَ غَيْرِهِ ہوگا كَالْأُخْتِ لِأَبٍ وَأُمٍّ جیسے حقیقی بہن ہے ایک ہی ماں باپ کے باپ اور میت اور وہ جو عورت ہے دونوں کی ماں بھی اور باپ بھی ایک یہ اُخْتِ لِأَبٍ وَأُمٍّ ہے اور اس کو کیا کہتے ہیں ہم؟ حقیقی بہن۔ أَوْ لِأَبٍ یا صرف باپ ایک ہے دونوں کا میت کا اور اس کی جو بہن ہے ان کا باپ تو ایک ہے لیکن ماں الگ الگ ہے تو یہ اُخْتِ لِأَبٍ ہے اور اس کو عَلّاتی بہن کہتے ہیں کیا کہتے ہیں؟ عَلّاتی بہن تو جیسے یہ بھئی میں نے آپ کو بتلایا نہیں تھا بھئی عَصَبَہ مَعَ غَيْرِهِ صرف دو عورتیں ہیں کون کون؟ حقیقی بہن اور عَلّاتی بہن وہی دو تو بتلا رہے ہیں جیسے کہ حقیقی بہن ہے اور عَلّاتی بہن یہ دونوں تَصِيرُ عَصَبَةً کیا بن جاتی ہیں؟ عَصَبَہ بنتی ہیں مَعَ الْبِنْتِ کس کے ساتھ؟ بیٹی کے ساتھ وَكُلُّهُمْ يُقَدَّمُ عَلَى الْمُعْتِقِ اور یہ سارے چونکہ عَصَبَہ نسبی ہیں یہ سارے مقدم ہیں کس پر؟ معتِق یعنی عَصَبَہ سببی پر۔ وَالْمُعْتِقُ يُقَدَّمُ عَلَى ذِي الرَّحْمِ اور موتِق مقدم ہے کس پر؟ ذُو الرَّحِم پر یہ اب اسی کی تشریح کر رہے ہیں علامہ صدر الشریعہ کہتے ہیں موتِق مقدم ہے ذُو الرَّحِم پر بھئی! بھئی ذُو الرَّحِم کون ہے؟ ای مَنْ لاَ فَرْضَ لَهُ جن کا کوئی حصہ مقرر نہیں ہے وَتَدْخُلُ فِي نِسْبَتِهِ إِلَى الْمَيِّتِ أُنْثَى اور داخل ہوتا ہے ان کی وہ نسبت جو میت کی طرف ہو رہی ہے اس کے اندر کوئی مؤنث بھئی داخل ہوتی ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ ادھر دیکھو بھئی صورت اب آپ مجھے بتاؤ۔ آقا مر گیا آقا نے غلام آزاد کیا۔ غلام کو آزاد کرنے کے بعد آقا مر گیا آقا کے مرنے کے بعد اب غلام بھی مر گیا اس غلام وہ جو آزاد کا ہو چکا تھا اس کی ولا اب کس کو ملے گی بھئی؟ سب سے پہلے ذُوي الْفُرُوضِ کو ذُوي الْفُرُوض میں کوئی نہیں ہے اب کس کو ملے گی؟ عَصَبَةٍ نَسَبِيَّةٍ کو ملنی تھی ان میں سے بھی کوئی نہیں ہے اب کس کو ملے گی؟ عَصَبَةٍ سَبَبِيَّةٍ یعنی عَصَبَہ جو اس کا آقا تھا اس کو ملنی تھی لیکن وہ بھی مر چکا ہے اب کس کو ملے گی؟ اس آقا کے جو عَصَبَات ہیں ان کو ملے گی۔ فَإِنْ مَاتَ السَّيِّدُ اگر آقا مر گیا ثُمَّ الْمُعْتَقُ پھر مُعْتَق مرا وَلَا وَارِثَ لَهُ مِنَ النَّسَبِ اور اس کا کوئی نسبی وارث نہیں ہے فَإِرْثُهُ لِأَقْرَبِ عَصَبَةِ سَيِّدِهِ تو اس کی وراثت کس کے لیے ہوگی؟ اس کے آقا کے قریبی عَصَبَہ کے لیے سمجھ میں آیا بھئی؟ ای إِنْ مَاتَ السَّيِّدُ اگر آقا مر گیا ثُمَّ الْمُعْتَقُ پھر مُعْتَق مر گیا وَلَا وَارِثَ لَهُ مِنَ النَّسَبِ اور اس کا کوئی وارث نہیں ہے نسبی فَإِرْثُهُ لِأَقْرَبِ عَصَبَةِ سَيِّدِهِ تو اس کی وراثت جو ہے اس کے آقا کے عَصَبَہ میں سے جو سب سے قریبی ہے اس کے لیے ہوگی عَلَى التَّرْتِيبِ الَّذِي اسی ترتیب پر الَّذِي يُعْرَفُ فِي عِلْمِ الْفَرَائِضِ جو کس کے اندر جانی گئی ہے؟ علم فرائض کے اندر جو میں آپ کو لکھوا چکا ہوں ترتیب سے بھئی سمجھ میں آیا؟ یہ علم فرائض کہتے ہیں اس کو جس میں وراثت کے مسائل پہلے ہم جس علم میں آتے ہیں وہ علم کیا کہلاتا ہے؟ علم فرائض بھئی میں نے ترتیب بتا دی کہ پہلے اس آقا کے عَصَبَہ نسبی کو دیا جائے گا اگر وہ کوئی نہ ہو تو پھر اس کے عَصَبَہ سببی کو۔ وَلَا وَلَا لِلْنِّسَاءِ عورتوں کے لیے کوئی ولا نہیں ہے بھئی میں نے بتلایا تھا آپ کو بھئی إِلَّا مَا أَعْتَقْنَا مگر وہ جن کو انہوں نے آزاد کیا بھئی عورت نے اگر خود کوئی غلام آزاد کیا ہے تو اس کی ولا اس کو مل جائے گی اس کی ولا اس کو مل جائے گی صورت سمجھ میں آ رہی ہے۔ بھئی آقا کے اندر تو آپ نے پڑھا تھا آقا اگر مر بھی جائے تو اس کی ولا کس کو ملے گی؟ جی! اس کے عَصَبَات کو ملتی ہے پہلے نسبی کو اور اگر وہ نہ ہو تو پھر سببی کو لیکن ان میں سے بھی صرف کس کو ملے گی؟ مردوں کو عورتوں کو ولا عورت کو ولا صرف اسی صورت میں مل سکتی ہے جب اس نے خود کسی غلام کو آزاد کیا ہو یا اس کے آزاد کردہ غلام نے آگے کسی اور غلام کو آزاد کیا ہو۔ وَلَا وَلَا لِلْنِّسَاءِ عورتوں کے لیے ولا میں سے نہیں ہے کوئی إِلَّا مَا أَعْتَقْنَا مگر وہ جو انہوں نے آزاد کیا ہو جب خود کسی کو آزاد کیا ہو اس کی ولا اس کو ملے گی أَوْ أَعْتَقَ مَنْ أَعْتَقْنَا یا آزاد کیا من اس شخص نے أَعْتَقْنَا جس کو انہوں نے کیا تھا یعنی ان کے آزاد کردہ غلام نے اگر کسی کو آزاد کیا بھئی اور أَوْ كَاتَبَ مَنْ كَاتَبْنَا یا ان کے مکاتب نے آگے کسی کو کیا کیا ہے؟ مکاتب بنایا ہے سمجھ میں آیا بھئی؟ اور أَوْ دَبَّرَ مَنْ دَبَّرْنَا یا ان کے مدبر نے کیا کیا آگے مدبر بنایا اور جَرَّ وَلَا أَنْ مَعْتَقُهُنَّ یا ولا کو کس نے کھینچ لیا؟ مَعْتَقُهُنَّ ان عورتوں کے کسی مُعْتَق نے کھینچ کر ان تک پہنچا دی ولا بھئی صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ یا تو ان کے مُعْتَق کی ولا ان کو ملے گی یا ان کا مُعْتَق کسی کی ولا کھینچ کر ان کو پہنچا دے اور مَعْتَقُ مُعْتَقِهِنَّ یا ولا کو کھینچے کون کھینچے؟ مَعْتَقُ مُعْتَقِهِنَّ ان کے آزاد کردہ کا آزاد کردہ وہ کیا کر لے ولا کو کھینچ لے ای لَيْسَ لِلْنِّسَاءِ مِنَ الْوَلَاءِ یہ عورتوں کے لیے ولا میں سے حصہ نہیں ہے إِلَّا وَلَاءَ مَنْ أَعْتَقْنَا مگر ولا ان لوگوں کی جن کو انہوں نے آزاد کیا تھا۔ وَأَمَّا وَلَاءُ الْمُدَبَّرِ باقی مدبر کی ولا فَقَدْ عَرَفْتَهُ تحقیق آپ اس کو جان چکے ہیں وَفِي مُدَبَّرِ الْمُدَبَّرِ يُفْرَضُ ذَالِكَ مَرَّتَيْنِ بھئی مدبر کی ولا میں ہم نے کیا فرض کیا تھا کہ آقا کیا ہو جائے مرتَدّ وَفِي مُدَبَّرِ الْمُدَبَّرِ مدبر کے مدبر میں کہتے ہیں يُفْرَضُ ذَالِكَ مَرَّتَيْنِ دو مرتبہ کیا فرض کیا جائے گا اس صورت کو دو مرتبہ ارتداد کو فرض کیا جائے گا بھئی سمجھ میں آیا بھئی؟ آقا کے ارتداد کو بھی فرض کیا جائے گا اور پھر اس کے مدبر کے ارتداد کو بھی فرض کیا جائے گا تو اب مدبر کے مدبر کی ولا مل سکتی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ وَمَسْأَلَةُ جَرِّ الْوَلَاءِ قَدْ مَرَّتْ اور ولا کھینچنے کا جو مسئلہ ہے وہ تو گزر چکا ہے آپ نے پڑھا تھا کہ باندی کو کسی نے آزاد کیا ہے تو اس کی ولا کس کو ملے گی؟ باندی کی باندی کے بیٹا جو ہے اس کی ولا کس کو ملے گی؟ باندی کے موالی کو لیکن اگر باپ کو بھی اس کا آقا آزاد کر دے تو باپ کیا کر لے گا اس ولا کو کھینچ لے گا اپنی طرف۔ فَصْلٌ إِنْ أَسْلَمَ رَجُلٌ عَلَى يَدِ رَجُلٍ وَوَلَاهُ أَوْ غَيْرِهُ عَلَى أَنْ يَرِثَهُ وَيَعْقِلَ عَنْهُ صَحَّ یہاں سے بتا رہے ہیں مولانا عقدِ موالات کے بارے میں کہتے ہیں إِنْ أَسْلَمَ رَجُلٌ بھئی اگر ایک شخص مسلمان ہوا عَلَى يَدِ رَجُلٍ کسی آدمی کے ہاتھ پر ایک آدمی کسی دوسرے آدمی کے ہاتھ پر اسلام لایا وَوَلَاهُ اور اس کے ساتھ کیا کیا عقدِ موالات کر لیا أَوْ غَيْرِهُ یا کسی اور کے ساتھ عقدِ موالات کر لیا جس کے ہاتھ سے اسلام لایا تھا اسی سے عقدِ موالات کر لیا یا کسی دوسرے مسلمان کے ساتھ کیا کر لیا عقدِ موالات کر لیا عَلَى أَنْ يَرِثَهُ کہ وہ اس کا کیا بنے گا وارث وَيَعْقِلَ عَنْهُ اور اس کی طرف سے دیت ادا کرے گا صَحَّ تو یہ عقد صحیح ہے۔ قَوْلُهُ إِنْ أَسْلَمَ رَجُلٌ عَلَى يَدِ رَجُلٍ إِلَى آخِرهِ قَيْدٌ یہ جو قید ہے أُخْرِجَ مَخْرَجَ الْعَادَةِ یہ لائی گئی ہے عادت کے مطابق بھئی وَهُوَ لَيْسَ بِشَرْطٍ اور یہ شرط نہیں ہے لِصِحَّةِ هَذَا الْعَقْدِ اس عقد کے صحیح ہونے کے لیے لیکن ہوتا چونكہ ایسا تھا اس لیے اس کو ماتن نے ذکر کر دیا۔ وَعَقْلُهُ عَلَيْهِ بھئی جب یہ عقد ہو گیا تو وَعَقْلُهُ عَلَيْهِ اس کی دیت کس پر ہوگی؟ جس کے ساتھ عقد کیا ہے بھئی اس نے کوئی جنایت کر دی تو اس کو دیت دینی پڑے گی وَإِرْثُهُ لَهُ بھئی اور اس کی وراثت کس کے لیے ہوگی؟ اس مولائے موالات کے لیے ہوگی۔ أَيْ إِنْ جَنَى الْأَسْفَلُ اگر جنایت کی أسْفَل نے بھئی نیچے والے نے فَدِيَتُهُ عَلَى الْمَوَالِي الْأَعْلَى تو اس کی دیت کس کے لیے ہوگی؟ موالی اعلیٰ کے لیے ہوگی بھئی جی دیکھا اس نے کیونکہ اس نے کہا تھا میں آپ کی طرف سے دیت ادا کروں گا وَإِنْ مَاتَ اور اگر یہ مر گیا فَإِرْثُهُ لِلْأَعْلَى تو پھر اس کی وراثت کس کے لیے ہوگی؟ اعلیٰ کے لیے بھئی هَذَا عِنْدَنَا ہمارے نزدیک ہے وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ لاَ اِعْتِبَارَ بِعَقْدِ الْمُوَالَاتِ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں عقدِ موالات کا کوئی اعتبار نہیں یہ کوئی چیز نہیں ہے وہ اس سے تسلیم ہی نہیں کرتے۔ وَأُخِّرَ عَنْ ذِي رَحْمٍ بھئی اچھا بھئی وَأُخِّرَ عَنْ ذِي رَحْمٍ یہ مولا الموالات کو ذُو الرَّحِم سے مؤخر کیا جائے گا کیا کیا جائے گا؟ بھئی وہی ترتیب دیکھیں بھئی جو میں نے آپ کو ترتیب دس بھئی وراثت کی دس ترتیب لکھوا لکھوائی تھی بھئی دس ہیں بھئی۔ دیکھو چھتے نمبر پر کون ہے؟ ذَوِي الْأَرْحَامِ اور ساتویں پہ کون ہے؟ تو کون مؤخر ہے؟ مولا الموالات یہی بات کر رہے ہیں وَأُخِّرَ عَنْ ذِي رَحْمٍ مولا الموالات کو مؤخر کیا جائے گا کس سے؟ ذُو الرَّحِم سے وَلَهُ النَّقْلُ عَنْهُ بِمَحْضَرِهِ إِلَى غَيْرِهِ بھئی اچھا بھئی دیکھو! ایک آدمی ہے مجھول النسب ہے اس نے دوسرے کے ساتھ کیا کر لیا عقدِ موالات تو کیا اس عقدِ موالات کو وہ توڑ بھی سکتا ہے ایک دفعہ کر لیا تو لمبی ہے کہتے ہیں بھئی توڑ سکتا ہے۔ اس کی جس کے ساتھ عقدِ موالات کیا تھا اسی کی موجودگی میں کیا کر دے؟ عقد کو توڑ دے، کسی اور سے کرنا چاہتا ہے تو اس کے سامنے کیا کر دے؟ توڑ کر دوسرے سے کر لے تو ہو جائے گا مولانا۔ اب پہلے کے ساتھ ختم ہوا، دوسرے کے ساتھ ہو جائے گا۔ اور پہلے کی موجودگی اس لیے ضروری تاکہ بھئی اس کو بھی پتہ لگ جائے بھئی، تاکہ اس کو بعد میں کوئی نقصان وغیرہ نہ ہو بھئی۔ اس کو علم ہو جائے کہ عقد اس کا میرے ساتھ ختم ہو چکا ہے۔ ورنہ بعد میں یہ کوئی جنازہ کر دیتا ہے اور پہلے سے وہ سولی کروا دے گا کہ بھئی اس بیچارے کو پتہ ہی نہیں تھا کہ عقد تو ٹوٹ چکا ہے۔ يَجُوزُ لَهُ النَّقْلُ۔ اس کو اس کے لیے جائز ہے نقل کرنا اس عقد کو۔ کیا کرنا؟ بھئی ایک کے ساتھ عقد موالات کیا ہے، اس سے توڑ کر کسی دوسرے کی طرف منتقل کرنا چاہتا ہے تو ایسا کرنا اس کے لیے جائز ہے۔ یہ معنی ہے وَلَا النَّقْلُ۔ اور اس کے لیے جائز ہے نقل کرنا اس عقد کو عَنْهُ کس سے؟ اس پہلے آقا سے بھئی۔ اس پہلے آقا سے کیا کرنا؟ نقل کرنا اس عقد موالات کو جائز ہے بِمَحْضَرِهِ اس کی موجودگی میں إِلَى غَيْرِهِ کس کی طرف؟ پہلے سے نقل کرتا ہے کس کی طرف؟ دوسرے کی طرف پہلے کی موجودگی میں یہ اس کے لیے جائز ہے۔ كَانَ إِنْ لَمْ يَعْقِلْ عَنْهُ بشرطیکہ پہلے نے اس کی طرف سے کوئی دیت ادا نہ کی ہو۔ اگر وہ ایک دفعہ دیت ادا کر چکا ہے، اب اس کو نقل کرنے کا اختیار نہیں۔ فَإِنْ عَقَلَ عَنْهُ أَوْ عَنْ وَلَدِهِ فَلَا اگر وہ دیت ادا کر چکا ہے، اس کی طرف سے یا اس کے بچے کی طرف سے فلا، اب یہ اس کو نقل نہیں کر سکتا۔ وَلَا يُوَالِي مُعْتَقٌ أَحَدًا أَصْلًا۔ اچھا بھئی! ایک آدمی ہے، اس نے اپنے غلام کو آزاد کر لیا۔ غلام کو آزاد کر لیا تو یہ غلام کسی کے ساتھ عقد موالات کرتا ہے، کیا کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا؟ کہتے ہیں نہیں، معتق جو ہے، وہ کسی کے ساتھ عقد موالات نہیں کر سکتا۔ کیونکہ عقد موالات کی کئی شرائط ہیں، ان میں سے ایک شرط یہ ہے کہ وہ شخص جو عقد موالات کرے، اسے معتق نہیں ہونا چاہیے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ معنی ہے وَلَا يُوَالِي اور اب عقد موالات نہیں کر سکتا مُعْتَقٌ أَحَدًا کسی کا معتق بھئی أَصْلًا سرے سے بھئی یعنی قَطْعاً قَطْعاً حتمی طور پر نہیں کر سکتا۔ فَالْعِتَاقَةُ مُقَدَّمَةٌ عَلَى وَلَاءِ الْمُوَالَاتِ۔ اس لیے کہ ولاء عتاقہ مقدم ہے کس پر؟ ولاء موالات پر۔ بھئی ولاء عتاقہ آپ نے پڑھا تھا، بھئی یہ کتنے نمبر پر آئی تھی دس میں سے؟ تیسرے نمبر پر بھئی، عصبہ سببی بھئی، عصبہ نسبی اور یہ مول الموالات یہ کہاں جا کر آیا؟ ساتویں نمبر پر۔ تو وہ مقدم ہے، لہٰذا جب وہ موجود ہے، تو پھر اب عقد موالات کی ضرورت نہیں بھئی، یہ نہیں ہو سکتا۔ فَرْضُهُ مولانا! شرط عقد موالات کی یہ ہے أَنْ لَا يَكُونَ مُعْتَقًا بھئی، کہ عقد موالات کرنے والا معتق نہیں ہونا چاہیے۔ وَأَيْضًا مِنْ شَرْطِهِ اور یہ بھی اس کی شرط میں سے ہے کہ أَنْ يَكُونَ مَجْهُولَ النَّسَبِ بھئی، کہ وہ شخص کیسا نہ ہو؟ کیسا ہونا چاہیے؟ مجہول النسب ہو، ورنہ تو آپ نے پڑھا ہے سارے نسبی رشتہ دار کیا کریں گے؟ وہ وراثت لے جائیں گے۔ وَأَنْ لَا يَكُونَ عَرَبِيًّا اور یہ بھی شرط ہے کہ وہ عقد کرنے والا عربی نہ ہو، لِأَنَّ لِلْعَرَبِ قَبَائِلَ اس لیے کہ عرب کے کیا ہیں؟ قبیلے ہیں، فَيَكُونُ لَهُمُ الْوَرَثَةُ النَّسَبِيَّةُ تو ان کے ورثہ نسبی موجود ہوں گے، اور جب وہ موجود ہوں گے، تو ان کو سارا مال مل جائے گا، اور مول الموالات تو وہ آخر میں ساتویں نمبر پر آ رہا ہے، وہاں تک اس کے لیے کچھ بھی نہیں ہوگا بھئی۔ چلیے مولانا! هَذَا ھو المرام وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔