وَلِمَنْ يُطْلَقُ لَهُ الْعَمَلُ أَنْ يَسْتَعْمِلَ غَيْرَهُ، فَإِنْ قَيَّدَهُ بِيَدِهِ فَلَا، كَمَا إِذَا أَمَرَهُ أَنْ يَخِيطَهُ بِيَدِهِ. وَلِأَجِيرِ الْمَجِيءِ بِعِيَالِهِ إِنْ مَاتَ بَعْضُهُمْ وَجَاءَ بِمَنْ بَقِيَ أَجْرُهُ بِحِسَابِهِ، وَحَامِلِ خَطٍّ أَوْ زَادٍ إِلَى زَيْدٍ بِأَجْرٍ إِنْ رَدَّهُ لِمَوْتِهِ لَا شَيْءَ لَهُ. بھئی میں نے درزی کو کپڑا دیا سینے کے لیے۔ اگر میں نے کپڑا دیتے ہوئے کوئی قید نہیں لگائی کہ تم سیو گے یا فلاں سیئے گا تو پھر اس صورت کے اندر اس کی مرضی ہے، وہ خود سینا چاہے تو بھی درست ہے اور کسی اور سے اجرت کے لیے سلواتا ہے تو بھی درست ہے، لیکن اگر میں نے کپڑا دیتے ہوئے قید لگا دی کہ نہیں صرف تم ہی سیکھ کر کرو گے، تم سیکھ کر دو گے مجھے کپڑا تو اب اس کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ کسی اور کے ذریعے کپڑے کی سلائی کروائے اور وہ کام کروائے۔ یہ معنی ہے۔ وَلِمَنْ يُطْلَقُ لَهُ الْعَمَلُ اور جائز ہے اس شخص کے لیے جس کے لیے مطلق چھوڑ دیا گیا عمل کو، قید نہیں لگائی کہ تم سیو گے، مطلق چھوڑ دیا گیا عمل کو، جائز ہے اس کے لیے أَنْ يَسْتَعْمِلَ غَيْرَهُ کہ وہ غیر کو بھی اپنے علاوہ کسی اور کو استعمال کرے، اس سے کام کروا لے۔ فَإِنْ قَيَّدَهُ بِيَدِهِ اور اگر مستاجر نے عمل کو مقید کر دیا کس کے ساتھ بھئی؟ اسے اجیر کے قبضے ہاتھ کے ساتھ کہ تم کرو گے، فَلَا تو اب اس کے لیے جائز نہیں، كَمَا إِذَا أَمَرَهُ أَنْ يَخِيطَهُ بِيَدِهِ جیسے کہ مثلاً مستاجر نے اس کو حکم دیا کہ وہ سیے گا کپڑے کو بِيَدِهِ اپنے ہاتھ سے تو اب اس کو جائز نہیں ہے۔ وَلِأَجِيرِ الْمَجِيءِ بِعِيَالِهِ. بھئی عبارت یہاں درست نہیں معلوم ہو رہی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ یا تو عبارت یوں ہونی چاہیے: وَلِأَجِيرٍ يَجِيءُ بِعِيَالِهِ. مُجِيءِ کے بجائے کیا ہونا چاہیے؟ یا تو يَجِيءُ ہونا چاہیے اس لیے کہ اس نے صفت بننا ہے أُجِيرٍ کی اور أُجِيرٍ ہے نکرہ اور الْمُجِيءِ یہ کیا ہے؟ معرفہ ہے، یہ اس کی صفت نہیں بن سکتا بھئی۔ مُجِيءِ اس میں فاعل ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ عَجَاءَ يُجِيءُ سے۔ اس کا معنی ہے لانا، لانا۔ تو لہذا یا تو اس کو۔۔۔ تو يَجِيءُ کر دیں، مولانا! فعل کر دیں۔ یا پھر دوسری عبارت یوں ہو سکتی ہے مولانا! وَلِأَجِيرِ مُجِيءِ عِيَالِهِ پھر یہ با نہیں ہونی چاہیے اور الف لام بھی نہیں ہونی چاہیے، اگر اس میں فاعل کو آپ برقرار رکھنا چاہتے ہیں، تو پھر کیا صورت ہوگی؟ وَلِأَجِيرٍ مُجِيءٍ عِيَالِهِ یہ با، بھئی، بِعِيَالِ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ خود متعدی ہے مولانا، با کے واسطے کی ضرورت نہیں۔ بھئی! عَجَاءَ يُجِيءُ خود متعدی ہے، مفعول کو نصب دیتا ہے بھئی۔ وَلِأَجِيرٍ مُجِيءٍ عِيَالِهِ اور ایسا اجیر جو لانے والا ہے اس کے عیال کو، مستاجر کے اھل و عیال کو، إِنْ مَاتَ بَعْضُهُمْ اگر ان میں سے بعض مر گئے وَجَاءَ بِمَنْ بَقِيَ اور وہ ما بقیہ کو لے آیا أَجْرُهُ بِحِسَابِهِ تو اس کی اجرت اسی کے حساب سے ہوگی بھئی، یعنی جتنے زندہ ہیں ان کے، ان کی اجرت دی جائے گی حساب سے اور جو مر چکے ہیں ان کے پیسے کاٹ لیے جائیں گے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ سارے لے کر آتا تو پھر ساری اجرت کا مستحق تھا لیکن اگر کچھ مر چکے ہوں تو پھر ما بقیہ کی اجرت دی جائے گی، اب سارے پیسے دینا ضروری، سارے پیسے نہیں دیے جائیں گے۔ وَلِأَجِيرِ الْمَجِيءِ بِعِيَالِهِ. بھئی عبارت یہاں درست نہیں معلوم ہو رہی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ یا تو عبارت یوں ہونی چاہیے: وَلِأَجِيرٍ يَجِيءُ بِعِيَالِهِ... مُجِي کے بجائے کیا ہونا چاہیے یا تو يَجِي ہونا چاہیے اس لیے کہ اس نے صفت بننا ہے أُجِيرِ کی اور أُجِيرِ ہے نکرہ اور الْمُجِيءِ یہ کیا ہے؟ معرفہ ہے، یہ اس کی صفت نہیں بن سکتا بھئی۔ مُجِيءِ اس میں فاعل ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ عَجَاءِ يُجِيءُ سے۔ اس کا معنی ہے لانا، لانا۔ تو لہذا یا تو اس کو۔۔۔ تو يَجِيءُ کر دیں والا نہ فعل کر دیں، یا پھر دوسری عبارت یوں ہو سکتی ہے مولانا وَلِأَجِيرِ مُجِيءِ عِيَالِهِ پھر یہ با نہیں ہونی چاہیے اور الف لام بھی نہیں ہونی چاہیے، اگر اس میں فاعل کو آپ برقرار رکھنا چاہتے ہیں، تو پھر کیا صورت ہوگی؟ وَلِأَجِيرٍ مُجِيءٍ عِيَالِهِ یہ با، بھئی بِعِيَالِ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ خود متعدی ہے مولانا، با کے واسطے کی ضرورت نہیں بھئی! عَجَاءَ يُجِيءُ خود متعدی ہے، مفعول کو نصب دیتا ہے بھئی۔ وَلِأَجِيرٍ مُجِيءٍ عِيَالِهِ اور ایسا اجیر جو لانے والا ہے اس کے عیال کو، مستاجر کے اھل و عیال کو، إِنْ مَاتَ بَعْضُهُمْ اگر ان میں سے بعض مر گئے وَجَاءَ بِمَنْ بَقِيَ اور وہ ما بقیہ کو لے آیا أَجْرُهُ بِحِسَابِهِ تو اس کی اجرت اسی کے حساب سے ہوگی بھئی، یعنی جتنے زندہ ہیں ان کی اجرت دی جائے گی حساب سے اور جو مر چکے ہیں ان کی اجرت نہیں دی جائے گی۔ ترجمہ، عبارت سمجھ میں آئی بھئی؟ وَلِأَجِيرٍ مُجِيءٍ عِيَالِهِ یا میں نے بتلایا يَجِيءُ کر دیں بھئی۔ وَلِأَجِيرٍ يَجِيءُ بِعِيَالِهِ اب صرف بھئی مُجِيءِ کی جگہ فعل بدلے آئیں تو عبارت پھر بھی ٹھیک ہو جاتی ہے۔ وَلِأَجِيرِ مُجِيءٍ عِيَالِهِ اور اس اجیر کے لیے جو لانے والا ہے، اس مستاجر کے گھر والوں کو، إِنْ مَاتَ بَعْضُهُمْ اگر ان میں سے بعض مر چکے ہیں وَجَاءَ بِمَنْ بَقِيَ اور وہ ما بقیہ کو لے آیا، تو اس اجیر کے لیے جو اس کے عیال کو لانے والا ہے أَجْرُهُ کیا ہے؟ اس اجیر کے لیے اس کی اجرت ہوگی بِحِسَابِهِ اسی کے حساب سے، یعنی ما بقیہ کے حساب سے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ مثلاً بھئی چھ افراد کے لانے کے کتنے میں نے کہا تھا؟ چھ ہزار۔ دو کا انتقال ہو چکا تو باقیوں کے کتنے ہوں گے؟ چار ہزار۔ وَحَامِلِ خَطٍّ أَوْ زَادٍ إِلَى زَيْدٍ بِأَجْرٍ إِنْ رَدَّهُ لِمَوْتِهِ لَا شَيْءَ لَهُ. بھئی دیکھو، میں نے زید کو خط دیا کہ جاؤ بھئی! جی یا متن میں زید کو انہوں نے۔۔۔ جی جس تک خط وغیرہ پہنچانا ہے، ہم بھی وہی صورت بنا لیتے ہیں۔ میں نے عمر کو اجرت پر بھئی ایک خط دیا کہ جاؤ یہ خط بھئی زید کو پہنچا دو۔ کیا کرو؟ زید کو پہنچا دو اور اس سے جواب لے آؤ۔ جی، وہ خط لے کر چلا، پہنچا تو پتہ چلا زید کا انتقال ہو چکا ہے۔ اس نے مجھے خط لا کر واپس دے دیا۔ تو اس صورت میں کہتے ہیں: شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ اجرت کا مستحق نہیں ہوگا۔ کیوں نہیں مستحق ہوگا؟ کہتے ہیں اس لیے کہ اس نے مَعْقُودُ عَلَيْهِ یہاں پورا نہیں کیا۔ بھئی خط، مَعْقُودُ عَلَيْهِ کیا تھا؟ کہ زید کو خط پہنچائے یا پھر ساتھ میں اس کے جواب بھی لے کر آئے، تو زید تو مر چکا ہے تو خط پہنچانا یا اس سے جواب لینا یہ مَعْقُودُ عَلَيْهِ تھا یہ ہوا؟ جب مَعْقُودُ عَلَيْهِ نہیں تو اجرت بھی نہیں ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔ جی، لیکن امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس صورت میں اس کو صرف جانے کی اجرت دی جائے گی۔ کیوں جانے کی اجرت کیوں دی جائے گی؟ یعنی ایک طرف کی، یعنی آتی اجرت دے دی جائے گی۔ کہتے ہیں اس لیے کہ اسے ہم نے کہا تھا خط لے کر جاؤ اور جواب لے کر آؤ اور جس چیز کے لے جانے کے اندر مشقت نہیں ہے، اس کا بوجھ نہیں ہے، اس میں وہاں پر مَعْقُودُ عَلَيْهِ وہ قَطْعِ مسافت بن جاتی ہے۔ مَعْقُودُ عَلَيْهِ کیا بنتا ہے؟ قَطْعِ مسافت بنتا ہے بھئی دیکھو، خط لے جانے، خط کا کوئی وزن ہوتا ہے؟ خط کا کوئی وزن نہیں، اس کے لے جانے میں کوئی مشقت نہیں، تو لہذا مَعْقُودُ عَلَيْهِ جس چیز کا وزن نہ ہو، جس میں مشقت نہ ہو، وہاں پر مَعْقُودُ عَلَيْهِ کیا ہوتا ہے؟ قَطْعِ مسافت، مسافت طے کرنا اور اس نے مسافت طے کی ہے یا نہیں کی بھئی؟ جی! وہاں پر گیا ہے بھئی، وہاں جا کر پتہ لگا کہ زید نہیں، تو لہذا یہاں پر چونکہ نصف کام ہوا بھئی، قَطْعِ مسافت والا ہوا، لہذا اب اس کو صرف جانے کی اجرت دے دی جائے گی بھئی، جانے کی اجرت بھئی۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں بھئی، مَعْقُودُ عَلَيْهِ تھا خط کا پہنچانا وہ نہیں پایا گیا تو لہذا اجرت بھی اس کو نہیں ملے گی۔ اور اگر کوئی اور چیز دی، سامان وغیرہ دیا بھئی کہ یہ زید کو پہنچاؤ۔ وہ گیا بھئی، پتہ چلا زید مر چکا ہے، وہ سامان اٹھا کر واپس لے آیا کہ بھئی زید کا تو انتقال ہو چکا ہے، تو کیا وہ اجرت کا مستحق ہے یا نہیں؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، اجرت کا مستحق اس لیے کہ عقد کیا تھا؟ مَعْقُودُ عَلَيْهِ کیا چیز تھی؟ کہ وہ سامان کس کو پہنچائے گا؟ زید کو، اور سامان تو وہ واپس لے آیا، لہذا اب اس پر اس کے لیے کوئی اجرت بھی نہیں ہے بھئی۔ یہ معنی ہے وَحَامِلِ خَطٍّ اور خط کو اٹھانے والے یعنی لے جانے والے أَوْ زَادٍ یا سامان کو إِلَى زَيْدٍ کہاں تک؟ زید تک سامان یا خط کو لے جانے والا جو ہے، بِأَجْرٍ کس کے عوض میں؟ اجرت کے عوض میں، إِنْ رَدَّهُ لِمَوْتِهِ اگر اس نے ان میں سے کسی چیز کو واپس کر دیا اس کی موت کی وجہ سے، لَا شَيْءَ لَهُ تو اس کے لیے کوئی چیز نہیں، کوئی اجرت نہیں۔ هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تعالي یہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام محمد رحمہ اللہ لَهُ أَجْرُ الذَّهَابِ اس کے لیے جانے کی اجرت ہوگی فِي الْخَطِّ خط کی صورت میں أَيِ الْكِتَابِ خط کے کیا معنی کیے؟ کتاب یعنی کتاب خط کو کہتے ہیں عربی میں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ خط کو عربی میں کیا کہتے ہیں؟ کتاب کہتے ہیں بھئی۔ وَفِي الزَّادِ لَا شَيْءَ لَهُ اتَّفَاقاً بھئی۔ ہاں زاد راہ لے کر گیا، کوئی سامان لے کر گیا مولانا، اس صورت میں واپس لے آیا موت کی وجہ سے تو لَا شَيْءَ لَهُ اتَّفَاقاً بالاتفاق اس کے لیے کوئی چیز نہیں، حَيْثُ نَقَضَ عَمَلَهُ بِالرَّدِّ اس طور پر کہ اس نے اپنے عمل کو توڑ دیا واپس لانے کی وجہ سے، جب چیز لے کر آیا تھا تو اپنے سارے عمل کو اس نے کیاکر دیا؟ توڑ دیا، مَعْقُودُ عَلَيْهِ پورا نہیں کیا تو لہذا اجر بھی نہیں۔ وَصَحَّ اسْتِيجَارُ دَارٍ اور صحیح ہے کرائے پر گھر کو دینا، کرائے پر گھر کو لینا، سمجھ میں آیا؟ گھر کو کرائے پر لینا أَوْ دُكَانٍ یا دکان کو کرائے پر لینا بِلَا ذِكْرِ مَا يَعْمَلُ فِيهِ بغیر اس چیز کے ذکر کیے جو اس میں عمل کیے گا۔ جو عمل کرے گا اس کو ذکر نہیں کیا، بھئی ایک آدمی نے گھر کرائے پر لیا، یہ نہیں ذکر کیا اس گھر میں میں کیا کروں گا؟ دکان کرائے پر لی، یہ ذکر نہیں کیا کہ میں اس دکان میں کیا کروں گا؟ تو کیا یہ کرائے پر اس طرح لینا صحیح ہے؟ کہتے ہیں ہاں بھئی، کرائے پر لینا صحیح ہے بھئی۔ کیوں؟ یہاں پر تو عمل مجہول ہو گیا، کہتے ہیں نہیں بھئی، عمل معلوم ہے عرف کی وجہ سے، اس لیے کہ عرف میں یہ دکان یا مکان کس لیے لیا جاتا ہے؟ کہتے ہیں رہائش کے لیے، کس کے لیے؟ رہائش۔ بھئی دکان پر اس کا قبضہ ہے، وہیں رہے گا، سامان رکھے گا، فروخت کرے گا وغیرہ وغیرہ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ فَإِنَّ الْعَمَلَ الْمُتَعَارَفَ فِيهِمَا السُّكْنَى اس لیے کہ ان دونوں میں عمل متعارف جو ہے وہ رہائش ہے فَيَنْصَرِفُ إِلَيْهِ تو یہ اسی کی طرف پھر جائے گا، یہ استیجار کس کی طرف پھر جائے گا؟ اسی کی طرح، یعنی یہی مراد ہوگا بھئی۔ وَلَهُ كُلُّ عَمَلٍ سِوَى مُوهِنِ الْبِنَاءِ بھئی پھر کیا کام کرے گا اس کے اندر بھئی؟ کون کون سے کام کر سکتا ہے اس مکان یا دکان کے اندر؟ کہتے ہیں بھئی، اس میں وہ سارے کام کر سکتا ہے جس سے عمارت کو نقصان نہ پہنچے اور جن جن چیزوں سے عمارت دیواروں کو نقصان پہنچتا ہے، وہ کام کرنے کی اسے اجازت نہیں ہے بھئی۔ تو رہائش رکھے، ساتھ جو کام کرنا چاہتا ہے وہ بھی کرے ادھر بھئی، لیکن جس سے نقصان پہنچے عمارت کو نہیں کرے گا۔ یہ معنی ہے وَلَهُ كُلُّ عَمَلٍ سِوَى مُوهِنِ الْبِنَاءِ اور اس کے لیے جائز ہے ہر عمل کرنا سوائے اس عمل کے مُوهِنِ الْبِنَاءِ جو کیا کرنے والا ہے؟ عمارت کو کمزور کرنے والا ہے، أَوْ مَنَا يُوهِنُ کا معنی کمزور کرنا یا وَهَنَ يُوهِنُ تو مُوهِنِ الْبِنَاءِ کر لیں تو وَهَنَ يُوهِنُ کا بھی یہی معنی کمزور کرنا، علاوہ عمارت کو کمزور کرنے والے کام کے، كَالْقَصَّارَةِ وَالْحَدَّادَةِ جیسے دھلواِئی کا کام ہے وَالْحَدَّادَةِ اور آہنگری کا کام ہے۔ دھوبیوں والا کام (یعنی) نہیں کر سکتا اس گھر کے اندر، دکان کے اندر مولانا اور حدَّادَةِ لوہاروں والا کام نہیں کر سکتا بھئی۔ کیوں نہیں کر سکتا لوہاروں والا کام؟ بھئی لوہاروں والے کام سے عمارت کیا ہو جائے گی؟ کمزور ہوگی اور بار بار ہتھوڑے برسائے گا، چیزیں بنائے گا تو آہستہ آہستہ آہستہ دیواروں پر کیا ہوتا ہے؟ اثر پڑتا ہے، سمجھ میں آئے جس تھوڑا تھوڑا چاہے ضرورت پڑتا ہے بھئی۔ یا اسی طرح بھئی! بھئی تو دھوبیوں والا کام کیوں نہیں کر سکتا بھئی، اس سے کیا نقصان پہنچے گا؟ کہتے ہیں بھئی، دھوبی بھی کیا کرتا ہے کپڑے کو بار بار کوٹے گا ڈنڈے کے ساتھ بھئی، اس سے بھی دیواروں پر اثر پڑے گا، نیز پانی تو استعمال کرے گا بھئی تو پانی سے بھی کیا ہے ہر وقت پانی رہے تو آہستہ آہستہ کچھ نہ کچھ اثر ضرور پڑے گا، عمارت کمزور ہو گئی۔ تو بس ضابطہ یہ ہے مولانا! آج کے زمانے میں بھی دیکھ لیں جس سے عمارت کو نقصان پہنچتا ہے اس کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ مطلق ہو استیجار۔ اگر پہلے سے طے ہو گیا پھر تو سب کچھ کر سکتا ہے بھئی۔ وَلَوِ اسْتَأْجَرَ أَرْضاً لِلْبِنَاءِ أَوْ غَرْسٍ صَحَّ بھئی ایک آدمی نے دوسرے سے کرائے پر زمین لی بھئی تو کرائے پر زمین لیتا ہے کہ میں اس کے اندر بلڈنگ بنانا چاہتا ہوں، عمارت بنانا چاہتا ہوں یا میں اس میں درخت لگانا چاہتا ہوں، بھئی باغ بنانا چاہتا ہوں، کیا دے سکتا ہے یا نہیں؟ کہتے ہیں دے سکتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا کرائے پر زمین دینا تاکہ دوسرا اس میں عمارت بنائے یا اس میں درخت بوئے تو یہ درخت بونے کی اور عمارت بنانے کی صورت میں یہ استیجار صحیح ہے۔ اچھا، بھئی! مثلاً ایک سال کے لیے لیا تھا، ایک سال پورا ہو گیا، اب کیا کیا جائے؟ اس نے ایک عمارت کھڑی کر دی ہے زمین کے اندر عظیم الشان۔ کہتے ہیں بھئی! ایک سال کے اجارے کی بات ہوئی تھی اور مدت پوری ہو گئی، لہذا اب زمین اس کے حوالے کر دو، کر دو۔ بھئی عمارت کا کیا کریں؟ بھئی عمارت لے جاؤ اپنی، گراؤ، ملبہ اٹھاؤ، لے جاؤ یہاں سے بھئی۔ درخت لگائے تھے اس نے تو بھئی! بھئی درخت اکھاڑو اور اکٹھے کرو، لے جاؤ بھئی، زمین خالی کر کے کیا کر دو؟ حوالے کر دو۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو لہذا اس صورت میں وہ درخت، بلڈنگ اور درخت اکھاڑ کر لے جانا پڑیں گے اس کو ہر حال میں بھئی، ہر حال میں۔ سمجھ میں آیا؟ جی۔ ہاں، اگر زمین کو نقصان پہنچتا ہے اکھاڑنے سے یا بلڈنگ کے گرانے کی وجہ سے، تو اس صورت میں اب اس کو اکھاڑنے کا حق بھی نہیں ہے درختوں کو اور بلڈنگ کو، بلکہ کیا کرے گا؟ کہتے ہیں درخت اور بلڈنگ چھوڑ دے اور اس کا زمان لے لے، اس کے پیسے لے لے، قیمت لے لے، کس سے لے لے؟ زمین والے سے۔ بھئی، میری زمین میں اس نے بلڈنگ بنائی تھی یا باغ لگایا تھا، اب وہ بلڈنگ گراتا ہے یا درخت اکھاڑ کر لے جاتا ہے تو میری زمین کو کیا ہوتا ہے؟ نقصان ہوتا ہے، پھر کیا کیا جائے؟ کہتے ہیں بس، بلڈنگ چھوڑ دو، درخت وہیں پہ چھوڑ دو، اب تمہیں اکھاڑنے کا حق بھی نہیں ہے۔ پھر کیا کریں؟ ان کی قیمت لے لو، لیکن ان کی قیمت ایسے نہیں لینی، پوری بلڈنگ کی قیمت نہیں لیں گے، بلکہ گرے ہوئے ملبے کی قیمت دی جائے گی، گرے ہوئے درختوں کی قیمت دی جائے گی بھئی۔ بھئی، آپ نے بھی لے کر جانا تھا تو کس صورت میں لے کر جانا تھا؟ گرا کر ملبہ لے کر جانا تھا، درخت گرا کر لے جانے تھے، تو ان کی جو قیمت بازار میں لگتی ہے، اس گرے ہوئے ملبے کی وہی قیمت آپ کس سے لے لو؟ زمین والے سے لے لو اور یہ چیزیں اس کے حوالے کر دو۔ سمجھ میں آیا؟ تو کھڑی ہوئی بلڈنگ کی قیمت نہیں لے گا، بلکہ ملبے کی قیمت وصول کرے گا، وصول کر کے چھوڑ کر چلا جائے گا، اور کھڑے ہوئے درختوں کی قیمت نہیں لے گا بھئی، مالک سے، بلکہ کٹے ہوئے گرے ہوئے درختوں کی قیمت لے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو، جی، یہ صورت ہے بھئی۔ یا، اب سمجھ میں آیا؟ یہ تو اس کو اختیار تھا، چاہے تو ملبے کو ساتھ لے جائے، اور اگر وہ راضی ہے بھئی، زمین کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچتا، زمین کو بھی نقصان نہیں پہنچتا، تو پھر اس صورت میں بھی وہ یہ کر سکتا ہے بھئی، کہ، بھئی میں بلڈنگ گراؤں گا، ملبہ میں نے کسی اور کو لے جا کر بیچنا ہے، تو تم ہی مجھے ملبے کے پیسے دے دو اور میں بلڈنگ چھوڑ کر چلا جاتا ہوں۔ پہلی صورت میں تو زمین کو، پہلی صورت میں تو اس کا اختیار ہی نہیں تھا بھئی، کیونکہ زمین کو کیا ہو رہا تھا؟ نقصان۔ دوسری صورت میں اس کو اختیار ہے، زمین کو نقصان نہیں ہو رہا، لیکن پھر بھی اگر وہ خود راضی ہے، مالک بھی راضی ہے، تو کیا کر سکتے ہیں؟ وہ زمین، بلڈنگ بھی چھوڑ جائے، باغ بھی چھوڑ جائے، اور ملبے کے یا گرے ہوئے درختوں کے پیسے لے جائے۔ تیسری صورت بھئی! تیسری صورت، کہ، بھئی باہمی رضامندی سے وہ بلڈنگ چھوڑ کر چلا جاتا ہے، درخت چھوڑ کر چلا جاتا ہے، آپ زمین، زمین والے کی اور بلڈنگ، بلڈنگ والے کی بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ دونوں کی چیزیں رہیں گی اور پھر اس کو استعمال کریں جیسے کرنا چاہیں، مثلاً کرائے پر دیتا ہے، اجارے پر بلڈنگ دیتا ہے، تو حساب لگا لیا جائے اور حساب کے مطابق آپس میں کرایا کیا کر لیا کریں؟ تقسیم۔ زمین والا اپنے بَقَدَر حصہ لے لے، اور بلڈنگ والا اپنے بَقَدَر رقم لے لے۔ بھئی، پتہ کیسے چلے گا زمین والے کا کتنا حصہ؟ بلڈنگ والے کا کتنا حصہ؟ کہتے ہیں دیکھو، آسان طریقہ ہے مولانا! زمین کی خالی زمین کی قیمت لگاؤ، مثلاً خالی زمین تھی 25 لاکھ کی، بلڈنگ سمیت 30 لاکھ کی تھی، معلوم ہوا بلڈنگ کتنے کی ہے؟ 5 لاکھ کی، اور زمین ہے 25 لاکھ کی، تو زمین اور بلڈنگ میں کیا نسبت نکلی؟ 25 لاکھ میں کتنے پانچ لاکھ ہیں؟ 25 لاکھ میں پانچ، تو ایک اور پانچ کی نسبت نکل آئی۔ تو جتنا کرایہ وصول ہو، ہر چھ روپے میں سے ایک روپیہ بلڈنگ والا لے لیا کرے اور پانچ روپے سمجھ میں آیا؟ 60 ہزار کرایہ آ رہا ہے، تو 10 ہزار بلڈنگ والا لے لیا کرے اور 50 ہزار زمین والا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کتنی صورتیں ہوئیں بھئی؟ 3 صورتیں بن گئیں مولانا! ایک صورت یہ کہ زمین کو نقصان پہنچتا ہے تو کیا کرے؟ جی؟ بھئی اسے زمین خالی کر کے دینی پڑے گی، اپنے درخت اور بلڈنگ اکھاڑ کر لے جانے پڑیں گے، لیکن تین صورتوں کے اندر وہ بلڈنگ چھوڑ سکتا ہے۔ پہلی صورت کیا؟ کہ زمین کو نقصان پہنچتا ہے تو اس صورت میں بغیر اختیار کے ہی، اب کوئی اختیار نہیں ہے بلڈنگ والے کا، اسے ہر حال میں کیا کرنا پڑے گی بلڈنگ اسی طرح چھوڑنا پڑے گی، ہاں پیسے لے لے گا گری ہوئی بلڈنگ کے۔ دوسری صورت اپنی مرضی سے چھوڑ دے بھئی! ویسے ہی بھئی نقصان بھی نہیں ہوتا، پیسے لے لے اور زمین وہ بلڈنگ اپنی چھوڑ کر چلا جائے۔ تیسری صورت کیا؟ جی؟ کہ بلڈنگ اسی کی رہے، زمین دوسرے کی رہے اور چھوڑ کر چلا جائے۔ سمجھ میں آیا؟ جبکہ دونوں رضامند ہوں۔ صورتیں سمجھ میں آگئیں؟ دیکھیے بھئی کتاب میں ذرا ترتیب سے آئیں گی۔ وَلَوْ اِسْتَأْجَرَ أَرْضًا لِبِنَاءِ اَوْ غَرْسٍ صَحَّ، اور اگر کسی نے کرائے پر زمین لی عمارت تعمیر کرنے کے لیے اور غرسین یا درخت لگانے کے لیے صَحَّ تو یہ صحیح ہے اجارہ۔ وَاِذَا اَنْقَضَتِ الْمُدَّةُ اور جب مدت پوری ہو جائے، گزر جائے، سَلَّمَهَا فَارِغَةً تو وہ زمین کو حوالے کر دے اس حال میں کہ وہ فارغ ہو، یعنی درختوں کو اکھاڑ کر لے جائے، بلڈنگ کو اکھاڑ کر لے جائے، اِلَّا مگر ایک صورت کے اندر کہ اَنْ يَّغْرُمَ الْمُؤْجِرُ قِيْمَتَهُ مَقْلُوْعًا۔ مگر یہ کہ زمان دے دے، کون زمان دے دے؟ مُؤْجِر اجارے پر زمین دینے والا، کرائے پر زمین یعنی زمین کا مالک زمان دے دے، کیا زمان دے دے؟ قِيْمَتَهُ اس عمارت کی قیمت دے دے یا ان درختوں کی قیمت دے دے، لیکن سالم کی نہیں، مَقْلُوْعًا اس حال میں کہ وہ کیا ہوں؟ اکھڑے ہوئے ہوں۔ وَيَتَمَلَّكَهُ اور اس کا کیا بن جائے؟ بھئی! مالک نے جب قیمت دے دی، اکھڑے ہوؤں کی تو کیا بن جائے گا؟ وہ ان چیزوں کا بھی مالک بن جائے گا، وَيَتَمَلَّكَهُ اور اس کا مالک بن جائے گا بِلاَ رِضَا الْمُسْتَأْجِرِ مستاجِر کی رضامندی کے بغیر ہی کب؟ اِنْ نَقَضَ الْقَلْعُ الْاَرْضَ جبکہ انقص القلع الارض، جبکہ نقصان دیتا ہو اکھڑنا زمین کو۔ جب اکھڑنا زمین کو نقصان دیتا ہے تو مالک کیا دے؟ ان کی قیمت دے دے اکھڑے ہوؤں کی اور کیا بن جائے ان کا مالک بن جائے، مستاجر کی رضامندی کے بغیر ہی۔ وَاِلَّا فَبِرِضَاهُ، یا مولانا! اگر زمین کو نقصان نہیں پہنچتا، بایہ الا وای لم يكن كذلك اگر ایسا نہ ہو، (یعنی اکھڑنا زمین کو نقصان نہیں دیتا) فَبِرِضَاهُ تو مالک بن سکتا ہے بلڈنگ کا بھی اور درختوں کا بھی، لیکن کس کے ذریعے؟ مستاجِر کی، وہ اگر چھوڑ کر جانا چاہتا ہے تو اکھڑے ہوئے کی قیمت دے کر آپ مالک بن جائیں بھئی۔ یہ دوسری، اَوْ رِضَا بِتَرْكِهِ، یا مولانا! وہ راضی ہے بھئی، مالک کیا ہے؟ راضی ہے بِتَرْكِهِ اس ان درختوں کے یا ان عمارتوں کے چھوڑ دینے پر یا اس مستاجِر کے ان چیزوں کے چھوڑ دینے پر فَيَكُوْنُ الْبِنَاءُ وَالْغَرْسُ لِهَذَا وَالْاَرْضُ لِهَذَا تو اس صورت میں عمارت اور وہ جو لگے ہوئے درخت ہیں، وہ اس کے ہو جائیں گے، بلڈنگ والے کے، وَالْاَرْضُ لِهَذَا اور زمین اس کی ہو جائے گی۔ صورتیں سمجھ میں آگئیں بھئی؟ جی، تو بِنَاءُ وَالْغَرْسُ ایک ہے غَرْس ایک ہے غِرْس، غَرْس کہتے ہیں درخت لگانا، اور غِرْس وہ جو درخت لگائے گئے ہیں، ان کو غِرْس کہتے ہیں۔ وَقَوْلُهُ وَيَتَمَلَّكَهُ بِالنَّصْبِ، بھئی اب ترکیب کچھ بتلا رہے ہیں، اوپر متن میں کیا آیا تھا؟ وَيَتَمَلَّكَهُ بِالنَّصْبِ، یہ کس کے ساتھ ہے؟ نصب کے ساتھ، وَيَتَمَلَّكُو نہ پڑھیں، وَيَتَمَلَّكَ پڑھیں بھئی، بالنصب کے ساتھ ہے۔ بھئی کیوں؟ کہتے ہیں عطف علٰی اَنْ يَّغْرُمَا، ان يغْرما، اس کا عطف کس پر ہے؟ اَنْ يَّغْرُمَا پر ہے، اَنْ يَّغْرُمَا سے پہلے ان آیا، اس نے يغْرما کو نصب دیا، اور اس يغْرما پر عطف ہے وَيَتَمَلَّكَ کا تو وہ بھی منسوب ہوگا۔ وَقَوْلُهُ وَاِلَّا متن میں کیا آیا تھا بھئی آگے؟ وَاِلَّا، بھئی پھر بتلایا اور والا، اس سے کیا، الا کیا ہے مولانا؟ کون سا مستثنیٰ ہے؟ متصل ہے منقطع ہے؟ یہ استثنیٰ کے لیے، الا استثنیٰ والا نہیں ہے، یاد رکھو، الا سے پہلے جب وِآجائے تو یہ اِنْ لا، استثنیٰ والا نہیں ہوتا بلکہ یہ ان اور لا ہوتے ہیں بھئی، اِنْ شرطیہ اور لائے نافیہ یہ دونوں اکٹھے ہیں تو ان اور لا اکٹھے آئے نون کو لام کر کے لام میں ادغام کیا، کیا بن گیا؟ الا اور اگر ایسا نہ ہو، بھئی کیا نہ ہو؟ کیا مراد ہے اس سے؟ بتلایا اَنْ وَّ اِنْ لَمْ يَنْقُصِ الْقَلْعُ الْاَرْضَ، اگر نقصان نہیں دیتا اکھڑنا زمین کو، اگر اکھڑنا زمین کو نقصان نہیں دیتا، یہ مراد ہے اس سے۔ وَقَوْلُهُ اَوْ رِضَا، آگے متن میں آیا تھا اَوْ رِضَا، کہتے ہیں عطف علی قولہ اَنْ يَّغْرُمَ، اس کا عطف بھی کس پر ہے؟ اَنْ يَّغْرُمَا پر ہے تو یہ بھی منسوب ہے۔ فَالْحَاصِلُ، حاصل کلام یہ کہ: اَنَّهُ يَجِبُ عَلَى الْمُسْتَأْجِرِ أَنْ يُسَلِّمَهَا فَارِغَةً، کہ مستاجِر (یعنی کرائے پر لینے والے) کے لیے واجب ہے کہ وہ زمین کو سپرد کرے اس حال میں کہ وہ فارغ ہو اس کی بلڈنگ اور درختوں سے، اِلَّا أَنْ يُوْجَدَ اَحَدُ الْاَمْرَيْنِ، مگر یہ کہ دو چیزوں میں سے کوئی ایک پائی جائے، پھر فارغ کرنا بلڈنگ اور درختوں کو گرانا ضروری نہیں، دو کاموں میں سے ایک۔ اَلْأَوَّلُ، پہلی یہ کہ اَنْ يُعْطِيَ الْمُؤْجِرُ قِيْمَةَ الْبِنَاءِ اَوْ الْغَرْسِ مَقْلُوْعًا، کہ مُؤْجِر کیا ہے؟ زمین کا مالک جو کرائے پر دینے والا ہے وہ کیا لے لے؟ کیا دے دے؟ قیمت دے دے، بناء کی، عمارت کی، اَوْ الْغَرْسِ یا لگائے ہوئے درختوں کی مَقْلُوْعًا اس حال میں کہ وہ اکھڑے ہوئے درخت یا اکھڑی ہوئی بلڈنگ کی قیمت دے دے، وَيَتَمَلَّكَهُ اور اس کا مالک بن جائے، اور کیا کہتے ہیں؟ وَهَذَا الْإِعْطَاءُ وَالتَّمَلُّكُ، یہ جو اعطاء اور تملک ہے، ہاں دیکھو! اب علامہ صدر الشریعہ تقریر کر رہے ہیں بڑی مرتب ترتیب تقریر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں دیکھو! زمین فارغ کر کے دینی پڑے گی مگر دو صورتوں میں بھئی فارغ کرنا ضروری نہیں۔ ایک صورت کیا؟ کہ مالک پیسے دے دے اکھڑی ہوئی بلڈنگ یا درختوں کے، اور اس اکھڑی ہوئی بلڈنگ اور اکھڑے ہوئے پیسے دے دے کس چیز کے بھئی؟ اکھڑی ہوئی بلڈنگ کے پیسے دے دے، یا اکھڑے ہوئے درختوں کے پیسے دے دے، اور اس بلڈنگ یا باغ کا مالک بن جائے، کیا بن جائے؟ اور پھر یہ مالک بننا دو طریقے پر ہے، یہ جبراً ہوگا یا اس دوسرے کی رضا، اگر وہ خود راضی ہے پھر تو ٹھیک، اگر وہ راضی نہیں ہے تو پھر اس صورت میں جبراً بھی لے سکتا ہے، کب؟ جبکہ اکھاڑنے سے زمین کو کیا ہوتا ہو؟ نقصان ہوتا ہو۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں اس صورت یہاں تک کہ یہ ایک صورت تو یہ کہ کیا کرے؟ کہ وہاں تو قیمت دے دے گا اور اکھڑے ہوؤں کی اور مالک بن جائے گا، اور یہ جو قیمت دینا اور مالک بننا ہے، یہ اِعْطَاءُ وَتَمَلُّكُ یہ کون و جبراً، یہ کیسا ہوگا؟ جبراً ہوگا عَلَى تَقْدِيْرِ اَنْ يَّنْقُصَ الْقَلْعُ الْاَرْضَ اس تقدیر پر کہ اگر اکھاڑنا زمین کو نقصان دیتا ہے، اس تقدیر پر یہ جبراً ہوگا، وَيَكُوْنُ بِرِضَاءِ الْمُسْتَأْجِرِ عَلَى تَقْدِيْرِ أَنْ لَا يَنْقُصَ، اور مستاجِر کی رضامندی سے ہوگا کس تقدیر پر؟ کہ اگر وہ نقصان نقصان دیتا ہے، پھر تو جبراً مالک بنے گا قیمت دے کر، اور اگر نقصان نہیں دیتا تو پھر اس کی رضامندی سے مالک بنے گا۔ وَالْأَمْرُ الثَّانِي، اور دوسرا امر کیا ہے؟ اَنْ يَّرْضَى الْمُؤْجِرُ بِتَرْكِ الْبِنَاءِ اَوْ الْغَرْسِ فِيْ أَرْضِهِ، کہ مُؤْجِر کرائے پر دینے والا یعنی زمین کا مالک وہ رضامند ہو جاتا ہے کس چیز پر؟ عمارت کے چھوڑنے پر یا ان لگائے ہوئے درختوں کے چھوڑنے پر فِيْ أَرْضِهِ اپنی زمین میں۔ هَذَا الَّذِيْ ذَكَرَهُ فِيْ وُجُوبِ الْقَلْعِ وَعَدَمِ وُجُوْبِهِ، یہ جو مصنف نے ذکر کیا، یہ تو تھا وجوبِ قلع اور عدمِ وجوبِ قلع کے بارے میں کہ کب اکھاڑنا واجب ہے اور کب اکھاڑنا واجب نہیں ہے۔ وَفُهِمَ مِنْهُ، اور اس سے یہ بات بھی سمجھ میں آئی کہ وِلَايَةُ الْقَلْعِ لِلْمُسْتَأْجِرِ، کہ اکھاڑنے کی ولایت کس کو حاصل ہے؟ مستاجِر کو، مستاجِر کو اکھاڑنے کی ولایت ہے، وہ اکھاڑنا چاہے تو اکھاڑے گا، چھوڑنا چاہے تو چھوڑے گا۔ وَعَدَمُهَا، اور جو اکھاڑنے کی ولایت کا نہ ہونا ہے، عدمِ ولایت ہے، وہ کب ہوگی؟ کہتے ہیں فَإِنَّهُ قَدْ ذَكَرَ، کہ وہ تحقیق مصنف نے ذکر کر دیا، کہ اِنَّهُ إِنْ نَقَضَ الْقَلْعُ الْاَرْضَ اگر نقصان دیتا ہے اکھاڑنا زمین کو، فَيَتَمَلَّكُهُ بِلاَ رِضَا الْمُسْتَأْجِرِ، تو مالک بن جائے گا اس صورت میں زمین کا مالک مستاجِر کی رضامندی کے بغیر ہی، فَحِيْنَئِذٍ لَا يَكُوْنُ لِلْمُسْتَأْجِرِ الْقَلْعُ، اس صورت میں مستاجِر کو اکھاڑنے کا حق نہیں، اوپر بتایا نا ولایت ولایت تو ہے مستاجِر کو ہر حال میں اور عدمِ ولایت بھی ہے لیکن وہ کس وقت؟ جبکہ اکھاڑنے سے زمین کو کیا ہوتا ہو؟ نقصان ہوتا ہو۔ وَفِيْ غَيْرِ هَذِهِ الصُّوْرَةِ يَكُوْنُ، تو اس صورت میں تو عدمِ ولایت ہے، وَفِيْ غَيْرِ هَذِهِ الصُّوْرَةِ اور ان صورت کے علاوہ کے اندر بھئی يَكُوْنُ اس کو کیا ہے؟ اکھاڑنے کی ولایت ہوگی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس صورت میں عدمِ ولایت ہے جبکہ نقصان دیتا ہے، اور اس کے علاوہ صورتوں کے اندر کیا ہوگی؟ اکھاڑنے کی ولایت ہوگی۔ وَرُطْبَةٌ كَالشَّجَرَةِ، اور رتبہ درخت کی طرح ہے بھئی۔ بھئی رتبہ! پودے، پودے گھاس سے بڑے، درخت سے چھوٹے، سمجھ میں آیا؟ گھاس تو بہت چھوٹی ہے بھئی، کچھ اس سے بڑے پودے ہیں، ان کا کیا حکم ہے؟ لیکن ہر پودے کو نہیں کہتے مولانا! رتبہ وہ پودا جس کو بار بار نہیں لگایا جاتا، ایک ہی دفعہ کاشت کر دیا، لگا دیا، اس کے بعد ہر سال اس سے پتے، یا پھَل، یا پھول، جو بھی لینا ہوتا ہے، وہ اس سے اتارے جاتے ہیں، اور پھر اگلے سال اسی پر نئے پھل آتے ہیں، نئے پتے آتے ہیں، نئے پھول آتے ہیں، پھر ان کو اتار لیا جاتا ہے، اگلے سال پھر آتے ہیں، تو یعنی اس پودے کو نہیں لگایا اکھاڑا جاتا، بلکہ اس سے بار بار نفع حاصل کیا جاتا ہے، تو وہ لمبی مدت تک رہتے ہیں، بھئی سمجھ میں آیا؟ کئی کئی سال تک وہ لگے رہیں گے۔ جی، مثلاً بینگن ہے بھئی، بینگن اس طرح ہے بھئی اس کا پھل لیا جاتا ہے اور درخت کو کاٹا جاتا ہے لیکن اس کی جڑوں کو نہیں کاٹتے، اگلے سال پھر انہی سے پھر پودا نکلتا ہے، پھر اس پہ بینگن لگتے ہیں، پھر اس کو کاٹ دیا جاتا ہے، بینگن اتار لیے جاتے ہیں، اگلے سال پھر پودا اوبر اسی سے نکل آتا ہے، جڑیں زمین میں ہی رہتی ہیں اسی طرح بھئی۔ تو ان کو کیا کہتے ہیں؟ رتبہ، ان کا کیا حکم ہے بھئی؟ اگر کسی نے کس کے لیے لیے زمین؟ زمین لے لی ہے اجرت پر اور اس میں اس قسم کے پودے کاشت کر دیے بھئی۔ اس قسم کے پودے؟ کہتے ہیں بھئی ان کا حکم درختوں والا ہے، اور درختوں میں جہاں جب مدت پوری ہو جائے تو کیا حکم دیا جاتا تھا مالک کو؟ کہ ان کو اکھاڑ کر لے جاؤ، تو یہاں بھی وہی حکم ہوگا جو ابھی پچھلے مسئلے میں آپ پڑھ چکے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ جبکہ اس کے مقابلے میں فصل کے بارے میں آپ نے پڑھ رکھا تھا، آپ نے مثلاً مجھ سے زمین لی چھ ماہ کے لیے، آپ نے اس میں گندم کاشت کر دی، گندم ابھی پکی نہیں تھی کہ مدت پوری ہو گئی، تو اب اس صورت میں کیا حکم پڑھا تھا آپ نے؟ اب یہ نہیں کہا جائے گا اپنی فصل اکھاڑ کے لے جاؤ، بلکہ مدت دی جائے گی اس کو کہ فصل پک جائے جب تک، اور جب فصل پک کے تیار ہو جائے گی، تو مستاجِر اپنی فصل لے جائے گا اور جتنی مدت زائد تھی اس کا اس کو کرایہ دینا پڑے گا۔ کیا کرنا پڑے گا؟ کرایہ دینا پڑے گا، سمجھ میں آیا؟ بھئی یہ فرق کیوں کیا درختوں میں اور پود درختوں اور پودوں کے لیے میں اکھاڑنے کی شرط لگائی اور فصل میں اکھاڑنے کی شرط نہ لگائی، کہتے ہیں اس لیے بھئی کہ درختوں کیونکہ فصل کا ایک معلوم وقت ہے بھئی۔ فصل نے تو کچھ عرصے کے بعد بھئی دو مہینے، چار مہینے باقی ہیں، اس کے بعد اس نے اس کو کیا کرنا پڑے گا؟ کاٹنا ہی کاٹنا، فصل کو تو کاٹا ہی جاتا ہے، اس کو تو باقی نہیں چھوڑا جاتا، لہٰذا اس میں تھوڑا سا وقت دے دیا جائے گا بھئی تاکہ دونوں کی رعایت ہو جائے، ایک کو فصل مل جائے گی، دوسرے کو کرایہ مل جائے گا، لیکن درختوں کا اور رتبہ کا تو کوئی مقرر وقت ہی نہیں، وہ تو سالہا سال تک چلتے ہیں، تو لہٰذا وہاں پر اب مدت دینے میں کیا ہے؟ مالک کا نقصان ہے بھئی، کہ کتنی مدت تک کے لیے وہ دے۔ وَرُطْبَةٌ كَالشَّجَرَةِ، اور یہ جو پودے ہیں مولانا! کَشَّجَرَةِ یہ کس کی طرح ہیں؟ وہ پودے جن سے مولانا سالا ہر سال بھئی درخت جن سے پھل، پھول یا پتے وغیرہ لیے جاتے ہیں، کَشَّجَرَةِ وہ بھی درخت کی طرح ہی ہیں، یعنی اسی کی طرح حکم ہے۔ فَإِنَّ لَهَا بَقَاءً فِي الْأَرْضِ، اس لیے کہ رتبہ کی بقا ہوتی ہے زمین میں، یہ باقی رہتے ہیں، ان کو اکھاڑا جاتا ہے ہر سال بھئی؟ نہیں، یہ تو باقی رہتے ہیں زمین میں، جیسے درخت باقی رہتے ہیں۔ بِخِلَافِ الزَّرْعِ، بخلاف کھیتی کے، فَإِنَّهُ إِذَا انْقَضَتِ الْمُدَّةُ، اس لیے کہ کھیتی کے اندر جب مدت پوری ہو جائے تو لَا يُجْبَرُ عَلَى الْقَتْلِ / الْقَتْلِ / الْقَتْلِ قَبْلَ أَبَانِ / أَبَانِ / قَبْلَ أَوَانِ الْحَصَادِ، تو مجبور نہیں کیا جاتا اس کے کاٹنے پر قبل اَوانِ الحصاد، اس کے کاٹنے کے وقت سے پہلے، کاٹنے کے وقت سے پہلے مجبور نہیں کیا جاسکتا بھئی، بلکہ وقت دیا جاتا ہے۔ وَضَمِنَ بِأَرْضٍ فِي رَجُلٍ مَعَهُ وَقَدْ ذَكَرَ رُكُوْبَه۔ صورت مسئلہ یہ ہے بھئی، آپ میرے سے ایک گدھا کرائے پر لے گئے بھئی، سمجھ میں آیا؟ گدھا کرائے پر لے گئے اور آپ نے کہا تھا میں اس پر سوار ہوں، سوار ہو کر یہ قریب ہی شیخوپورے تک میں جانا چاہتا ہوں بھئی۔ اب آپ نے کیا کیا؟ اپنے ساتھ ایک اور ساتھی کو بھی بٹھا لیا بھئی، اور گدھا ہلاک ہو گیا بھئی، تو اس صورت میں آپ پر ضمان آئے گا یا نہیں؟ کہتے ہیں اس نے اگر اپنے سوار ہونے کا ذکر کیا تھا، تو اس صورت میں اس نے ایک آدمی کو اور اپنے ساتھ سوار کیا ہے، تو اپنا تو اس نے ذکر کیا تھا، اس کا ضمان نہیں، لیکن دوسرے آدمی کا نصف ضمان اب اس پر آ جائے گا، تو گدھا مثلاً کتنے کا تھا؟ پچاس ہزار والا تھا، بڑا قیمتی قسم کا گدھا تھا، تو اب آپ کو کتنا ضمان دینا پڑے گا؟ پچاس ہزار۔ کہتے ہیں بھئی پچاس ہزار کیسے ضمان؟ یہ تو تھا مسئلہ، اس میں اشکال ہوتا ہے بھئی پچاس ہزار کیسے اس کو ضمان دینا پڑے گا؟ یہ جو آپ جو تھے، آپ مجھ سے جو لے کر گئے گدھا، آپ کا اپنا وزن ہے پچاس کلو، کتنا وزن ہے؟ پچاس کلو، اور آپ کا جو ساتھی سوار ہوا تھا اس کا وزن تھا ڈیڑھ سو کلو، کتنا وزن تھا؟ ڈیڑھ سو کلو وزن تھا، تو آپ نے احتجاج شروع کر دیا کہ نہیں بھئی! میرا وزن ہے پچاس کلو، اس کا ہے ایک سو پچاس، کل کتنا ہوا؟ دو سو کلو، اور دو سو کلو میں سے پچاس کتنا حصہ بنتا ہے؟ چوتھا حصہ، تو چوتھا حصہ ضمان نہیں، نہیں! یہ یہ اعتراض یہ اشکال کون کر رہا ہے؟ مالک بھئی، میں کہہ رہا ہوں بھئی، مثلاً۔ سمجھ میں آیا؟ میں کہتا ہوں بھئی، آپ نے صرف اپنی سواری کا ذکر سوار ہونے کا ذکر کیا تھا، اور آپ کا وزن تو ہے پچاس کلو بھئی، کتنا ہے؟ اور جس آدمی کو آپ نے اپنے ساتھ سوار کیا اس کا وزن ہے ایک سو پچاس کلو، تو آپ کے حصے کے بہ قدر تو ضمان نہیں، اس کے حصے کے بہ قدر کیا آئے گا؟ ضمان، تو آپ کا وزن پچاس کلو تو ایک ربع بنا، اور اس کا وزن ایک سو پچاس تو وہ تین رَبْع بنے، تو مجھے کتنے زمان دو؟ گدھے کی قیمت کا تین چوتھائی دو بھئی، کتنا؟ تین چوتھائی بھئی، تین چوتھائی۔ مثلاً گدھے کی قیمت کتنی ہے؟ چالیس ہزار فرض کرو، تو بھئی متن میں تو مسئلہ یہ آیا، کہ کتنا دینا پڑے گا ضمان آپ کو؟ نصف دینا پڑے گا، اور کیونکہ نصف آپ ایک آپ ہیں اور ایک دوسرا ہے، دو ہیں، اور نصف کی سواری کا ذکر ہوا تھا، نصف کا ذکر نہیں تو اس کے بہ قدر ضمان جو بیس ہزار ہے۔ لیکن گدھے کا مالک کیا کہتا ہے؟ نہیں بھئی! اس کا وزن زیادہ تھا، لہٰذا آپ کا حصہ پچاس فیصد بنتا ہے، اس کا حصہ پچاس، تو آپ پر تو ضمان نہیں، لیکن اس کا ضمان، تو کتنا اس زمان آئے گا آپ پر بھئی؟ پچاس فیصد، یعنی تیس ہزار اب آپ کو ضمان دینا پڑے گا، کہتے ہیں نہیں بھئی! وزن کا اعتبار نہیں۔ کیوں نہیں وزن کا اعتبار؟ کہتے ہیں بھئی اس لیے، کہ ایک آدمی ہلکا پھلکا ہوتا ہے، لیکن اس کی سواری جانور کو نقصان دیتی ہے، اسے سواری کرنا آتی ہی نہیں ہے، اور ایک آدمی بسا اوقات بھاری بھرکم ہوتا ہے، لیکن اس کو سواری کا طریقہ آتا ہے، تو اس کی وجہ سے جانور کو کوئی نقصان نہیں ہوتا، تو وزن کا اعتبار نہیں ہے، بلکہ یہاں پر عدد کا اعتبار ہے، اور عدد آپ کتنے ہیں؟ دو ہیں، تو لہٰذا نصف اب ضمان آپ پر آ جائے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ نصف دینا پڑے گا، کیوں آپ نے کیوں اپنے ساتھی کو سوار کیا بلا اجازت کے؟ اچھا بھئی! آپ نے کیا کیا؟ اپنے ساتھ تین ساتھی سوار کر لیے بھئی، کتنے ساتھی؟ آپ نے اپنے ساتھ تین تین ساتھی سوار کر لیے بھئی، بڑے مضبوط قسم کا گدھا تھا بھئی، چار آدمی بھی آرام سے پتہ ہی نہیں چلتا بھئی، پھر بھی بہڑی جہاز کی طرح چلتا ہے۔ اچھا! چار آدمی آپ نے سوار کیے، گدھا ہلاک ہوا مولانا! اب آپ پہ ضمان آئے گا، کتنا ضمان آئے گا بھئی؟ کتنے افراد تھے؟ چار، بھئی جو کرائے پر لے کر گیا ضمان تو اسی پہ آنا ہے، دوسرے پہ نہیں آئے گا ضمان، یہ نہ سمجھنا، ہاں! ضمان آپ پر آئے گا، لیکن کتنا ضمان دیں گے؟ کہتے ہیں بھئی کل کتنے افراد تھے؟ چار، اجازت کتنے کی تھی؟ ایک، اور تین کی اجازت نہیں تو کل قیمت کے چار حصے کر لو، تین جائز تین کا زمان دینا پڑے گا تو چالیس ہزار کا گدھا تھا تو کتنا زمان دینا پڑے گا؟ تیس ہزار زمان دینا پڑے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ تیس ہزار۔ وزن کے اعتبار سے۔ لیکن یہ مطلب نہیں ہے کہ جتنا بھی وزن ہو یہ اس وقت ہے کہ گدھا دونوں آدمیوں کا بوجھ برداشت کرنے کے بھی قابل ہے بھئی وہ دو آدمیوں کو یا ان چار آدمیوں کو لے کر آرام سے چل سکتا ہے۔ تو اب آپ نے جو تعدی کی ہے اس صورت میں اس کے بقذر زمان آئے گا۔ لیکن اگر گدھا بیچارا ایسا ہے کہ بڑی مشکل سے آپ کا وزن اٹھا رہا تھا اور آپ نے اس پہ دو آدمی اپنے ایک اور آدمی کو بھی بٹھا دیا اب تمہارا نا گدھا اتنا وزن ہی نہیں اٹھا سکتا تھا تو اب آپ پہ پورا زمان آئے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ جو تقسیم تھی اس صورت میں تھی جب کہ گدھا اس بوجھ کو آرام سے برداشت کر سکتا تھا تو اب مولانا پھر وہ تو برداشت کر سکتا تھا پھر بھی ہلاک ہوا تو چلو جتنی تعدی کی ہے اسی کے بقذر زمان۔ لیکن اگر گدھا بوجھ اٹھا ہی نہیں سکتا آپ خود بھی بیٹھ گئے ساتھ آپ نے وہ بجلی والے کو بھی بٹھا دیا تو اس صورت میں تو اب گدھے کو ہی آپ نے ہلاک کر دیا بھئی تو اب پورا قیمت پوری دینی پڑے گی۔ یہ معنی ہے ضَمِينٌ، وَضَمِينَةٌ اور ضَامِن ہوگا مُسْتَأْجِرٌ بِإِرْضَاءِ رَجُلٍ بَرِيءٍ کسی آدمی کو، ہر دفعہ يِردِفُ کے معنے پیچھے سوار کرنا، کسی آدمی کو اپنے ساتھ پیچھے سوار کرنے پر، مَعَهُ اپنے ساتھ، وَقَدْ ذَكَرَ رُكُوبَهُ اور اس حال میں کہ اس نے صرف اپنا سوار ہونا ذکر کیا تھا۔ گدھا کرائے پر لیا تھا اور صرف اپنے سوار ہونے کو ذکر کیا تھا۔ رُكُوبُهُ کی ضمیر کا مرجع بتلا رہے ہیں أَي رُكُوبُ الْمُسْتَأْجِرِ یعنی مستاجر نے اپنے سوار ہونے کا ذکر کیا تھا من غير ذكر الرَّدِيفِ، رَدِيف کہتے ہیں پیچھے سوار ہونے والا، پیچھے سوار ہونے والے کے ذکر کے بغیر یعنی اس کو ذکر نہیں کیا تھا۔ تو اس صورت میں ضَامِن ہوگا کتنا ضَامِن ہوگا؟ نِصْفُ قِيمَتِهَا، اس گدھے، اس جانور کی، کی نصف قیمت کا، بِلاعْتِبَارِ الثِّقْلِ، بوجھ کا اعتبار کیے بغیر، بوجھ کا اعتبار نہیں کریں گے، فَإِنَّ الْخَفِيفَ الْجَاهِلَ بِالْفُرُوسِيَّةِ اس لیے کہ کبھی کبھار کیا ہے؟ ہلکا، ہلکا آدمی، ایسا ہلکا آدمی جو جاہل ہے گھڑسواری سے، جس کو گھڑسواری نہیں آتی، جاہل ہے اور ہے ہلکا پھلکا، قَدْ يَكُونُ أَضَرَّ مِنْ الثَّقِيلِ الْعَالِمِ بِهَا کبھی کبھار وہ زیادہ نقصان دینے والا ہوتا ہے، ایسے ثَقِيل آدمی سے الْعَالِمِ بِهَا اَي بِالْفُرُوسِيَّةِ جو فُرُوسِيَّة یعنی گھڑسواری کا جاننے والا ہوتا ہے۔ समझ में आया؟ ہلکا آدمی جو گھڑسواری سے ناواقف ہے وہ کبھی زیادہ نقصان دینے والا ہوتا ہے اس ثَقِيل سے جو گھڑسواری کو... جو ثَقِيل بھی ہے لیکن گھڑسواری کو جانتا ہے تو وہ نقصان نہیں پہنچاتا اتنا۔ وَبِالزِّيَادَةِ عَلَى حَمْلٍ مَا زَادَ الثِّقْلَ إِنْ أَفَاقَتْ حَمْلَهَا وَإِلَّا كُلَّ قِيمَتِهَا صورت مسئلہ یہ بھئی! آپ میرے سے گدھا لے گئے کہ آپ نے اس پر کیا سوار، کیا چیز بوجھ لادنا ہے؟ کتنا بوجھ لادنا ہے؟ بھئی دس قفيز گندم میں نے اس پر لے کر جانے ہیں بھئی۔ آپ نے کیا کہا مجھ سے؟ دس قفيز گندم لے کر جانے ہیں، لیکن آپ گئے آپ نے اس پر بیس قفيز گندم لاد دی اور پھر وہ گدھا ہلاک ہوا تو کہتے ہیں بھئی کتنا زمان آئے گا آپ پر بھئی؟ کہتے ہیں بھئی اس بوجھ جتنا بوجھ زائد ہے اس کے بقذر زمان آئے گا اور کتنا بوجھ زائد تھا مولانا؟ نصف بھئی نصف تو اجازت تھی اور اتنا ہی زائد تھا تو نصف زمان آ جائے گا۔ نصف کیا آ جائے گا؟ دس قفيز کی اجازت دی تھی تو دس زائد ہیں تو دونوں میں برابر کی نسبت ہو گئی تو نصف کب زمان آ جائے گا۔ समझ में आया؟ اور اگر بھئی آپ نے دس کے بجائے کتنے قفيز لاد دے؟ پندرہ قفيز لاد دے اور گدھا ہلاک ہوا تو کتنے زائد ہیں؟ پانچ۔ کتنے زائد ہیں؟ پانچ۔ اور کتنے کی اجازت تھی؟ دس کی تو دس کے اندر کتنے پانچ؟ دو۔ تو کل کتنے پانچ ہو گئے؟ تین۔ تین میں سے دو کی اجازت تھی ایک کی اجازت نہیں تھی تو کل تو کل قیمت کا تیسرا حصہ کیا آ جائے گا؟ زمان آئے گا۔ کہتے ہیں یہ اس صورت میں ہے کہ گدھا اتنے وزن کو اٹھا بھی سکتا تھا، پندرہ یا بیس قفيز لاد دے اور گدھا اس وزن کو آرام سے اٹھا بھی سکتا تھا تو اس صورت میں حساب کیسے لگایا جائے گا اور زمان آئے گا لیکن اگر اتنا بوجھ لاد دیا، بھئی گدھا آپ لے کر گئے تھے دس قفيز لاد دیں گے۔ آپ نے اس پر پچاس قفيز لاد دیے اتنا تو وہ اٹھا ہی نہیں سکتا تھا اور اس کی وجہ سے ہلاک ہوا تو اب سارے گدھے کی قیمت دینی پڑے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے وَبِالزِّيَادَةِ عَلَى حَمْلٍ بھئی، اور ضَامِن ہوگا کس وجہ سے؟ زیادہ کرنے کی وجہ سے عَلَى حَمْلٍ کس پر؟ بوجھ پر، بوجھ پر زیادہ کرنے کی وجہ سے بھی ضَامِن ہوگا کتنا ضَامِن بھئی؟ کہتے ہیں مَا زَادَ الثِّقْلَا جو وہ جو زائد ہو جائے الثِّقْلَا اس مقررہ بوجھ پر، اس، اس مذكورہ بوجھ پر جو طے شدہ بوجھ تھا اس پر جو زائد ہو جائے اس کا، اس کا ضَامِن ہوگا لیکن کب؟ إِنْ أَفَاقَتْ حَمْلَهَا کہ جبکہ گدھا بھی کیا ہے اس کی طاقت، اس کے اٹھانے کی طاقت رکھتا ہو، وَإِلَّا اور اگر اٹھانے کی طاقت ہی نہیں رکھتا تو كُلَّ قِيمَتِهَا تو ضَامِن ہوگا اس گدھے کی، جانور کی ساری قیمت کا، اَيْ ضَمِنَ بِالزِّيَادَةِ عَلَى حَمْلٍ مَا زَادَ ضَامِن ہوگا زیادہ کرنے کی صورت میں، بِالزِّيَادَةِ عَلَى حَمْلٍ بوجھ پر زیادتی کی صورت میں ضَامِن ہوگا مَا زَادَ اس کا جو زیادہ کیا اس نے، اِنْ كَانَ الْحَمْلُ بِحَيْثُ تُطِيقُهُ هَذِهِ الدَّابَّةُ اگر حمل اتنا تھا کہ طاقت رکھتا تھا یہ جانور اس کی، وَإِلَّا لَمْ يَكُونِ الْحَمْلُ كَذَلِكَ اور اگر بوجھ ایسا نہیں تھا یعنی جانور اس کی طاقت نہیں رکھتا تھا، فَيَضْمَنُ كُلَّ قِيمَتِهَا تو ضَامِن ہوگا اس کی ساری قیمت کا، كَعَقْبِهَا بِضَرْبِهِ وَقَبْحِهِ۔ جیسے کہ ضَامِن ہوگا كَعَقْبِهَا اَيْ كَعَقْبِ الدَّابَّةِ بِضَرْبِهِ اَيْ بِضَرْبِ الْمُسْتَأْجِرِ جیسے کہ جانور کا ہلاک ہو جانا بِضَرْبِ الْمُسْتَأْجِرِ کس کی وجہ سے؟ وَقَبْحِهِ اَيْ قَبْحِ الْمُسْتَأْجِرِ، قَبْح کا معنی ہے، قبحا کا معنی ہے لگام کو سختی سے اپنی طرف کھینچنا۔ لگام کو سختی سے اپنی طرف کھینچنا، بھئی آپ میرے سے گدھا لے کر گئے تھے بھئی گدھا لے کر گئے تھے۔ آپ نے بھئی گدھے پر، گدھے کو کی پٹائی کی بھئی۔ ایسی زبردست پٹائی کی کہ گدھا ہلاک ہوا تو اس صورت میں کیا ہوگا آپ پر زمان آئے گا۔ یا اسی طرح آپ گدھے پر سوار تھے آپ نے زور سے لگام کھینچی اس کا منہ پھٹ گیا مولانا سمجھ میں آیا تو اس صورت میں بھی آپ پر کیا آئے گا؟ زمان آئے گا۔ جی سمجھ میں آیا تو اوپر والے مسئلہ میں کیا ذکر ہوا تھا؟ ضَامِن ہوگا كَعَقْبِهَا یہ بھی اسی کی طرح ہے جیسے کہ ان مسئلوں میں كَعَقْبِهَا بِضَرْبِهِ جیسے کہ ہلاک ہو جانا اس جانور کا اس مستاجر کی زرب کی وجہ سے وَقَبْحِهِ یا اس کا ہلاک ہو جانا اس کے لگام کھینچنے کی وجہ سے۔ جی، اَلْعَطْبُ الْهَلَاكُ، عطب کسے کہتے ہیں؟ ہلاک ہونے کو وَقَبْحُ اللِّجَامِ اور قبح اللجام کا کیا معنی ہے؟ جَذْبُهُ إِلَى نَفْسِهِ عُنْفًا کھینچنا اس کو اپنی طرف عنفا سختی سے۔ کھینچنا لگام کو اپنی طرف سختی سے۔ یعنی معنی یہ ہے: ضَمِنَ بِهَلَاكِ دَابَّةٍ بِسَبَبِ الضَّرْبِ ضامن ہوگا جانور کے ہلاک ہو جانے کی وجہ سے بِسَبَبِ الضَّرْبِ کس کے مارنے کی وجہ سے اَوْ قَبْحِ اللِّجَامِ اور لگام کو کھینچنے کی صورت میں كُلَّ قِيمَتِهَا اس کی ساری قیمت کا تو دیکھو اس کا، جی ساری قیمت کا ضامن ہوگا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ امام صاحب کے نزدیک وَعِنْدَهُمَا لا صاحبين کے نزدیک نہیں، ضامن نہیں ہوگا إِلَّا أَنْ يَكُونَ ضَرْبًا أَوْ قَبْحًا غَيْرَ مُتَعَارَفِينَ مگر یہ کہ وہ ضرب یا قبح کیا ہو غير متعارف ہو۔ بھئی جتنا لوگ عرف میں عموماً مارتے ہیں۔ سمجھ میں آیا تو اتنی پٹائی کی گدھے کی اور گدھا مرا تو اب مولانا اس میں متعارف عام اتنی پٹائی تو کرتے ہی ہیں گدھے کی بھئی اس میں تو ہلاکت والی کوئی وجہ نہیں بھئی تو اس صورت میں اب گدھا ہلاک ہو بھی جائے تو اس پر زمانی کیونکہ اس نے کوئی تعدی نہیں کی بھئی عرف میں اتنی پٹائی کی جاتی ہے گدھے کی یا لگام کھینچی لیکن اس نے عادت کے موافق کھینچی کوئی زیادہ لگام نہیں کھینچی تو اس صورت میں اس پر زمان، لیکن اگر اس نے غیر متعارف طریقے سے یعنی حد اس سے تجاوز کر دیا تو اس صورت میں اس پر کیا آئے گا؟ یہ صاحبین فرما رہے ہیں۔ وَجِوَازُهَا بِهَا، یہ بِهَا مولانا کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے زائد لفظ لگتا ہے بھئی۔ وَجِوَازُهَا اور تجاوز کر جانا، بڑھ جانا، پار کر لینا، ہا کس کا پار کر لینا؟ اس جانور کا، عَمَّا اس مقام کو اَلَّذِي أُوجِرَتْ إِلَيْهِ جس کے لیے اس کو کرائے پر لیا گیا تھا، وَلَوْ ذَاهِبًا وَجَائِئًا اگرچہ جانے اور آنے کا ہو، وَرَدَّهَا إِلَيْهِ وَرَدَّهَا إِلَيْهِ اور اس کو واپس لوٹانے سے۔ بھئی ان سب کا معاطف اسی پر ہو رہا ہے كَعَقْبِهَا۔ بھئی صورت مسئلہ یہ ہے آپ نے مجھ سے گدھا لیا یا کرائے پر بھئی آپ نے کہا بھئی! میں نے اسلام آباد تک جانا ہے اس پر۔ اچھا تو اسلام آباد تک آپ گئے اسلام آباد پہنچے آپ نے سوچا چلو یہ قریب ہی مری ہے مری کے بھی چکر لگائیں بھئی۔ آپ تجاوز کر گئے اس مقام سے جہاں کے لیے کرائے پر لیا تھا۔ تو اس صورت میں مولانا چونکہ آپ تجاوز کر گئے ہیں اس حد سے اب گدھا ہلاک ہوا تو آپ پر کیا آئے گا؟ زمان آئے گا۔ اگرچہ آپ مری کا چکر لگا کے آ گئے تھے اسلام آباد پہنچ کے گدھے کو ہارٹ اٹیک ہوا اور اس کا انتقال ہوا۔ سمجھ میں آیا؟ چاہے واپس پہنچا دیا تھا پھر مرا لیکن آپ نے چونکہ تعدی کی تھی تو لہذا اب آپ پر کیا آئے گا؟ زمان آئے گا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو بعض علماء یہ مسئلہ ذکر کیا بھئی کہ جب اس مقام سے تجاوز کر جائے جس کے لیے کرائے پر جانور کو لیا تھا اور جانور ہلاک ہو تو کیا کیا کرتا ہے؟ زمان۔ بعض علماء نے کہا یہ اگر گدھا اس نے آنے جانے دونوں کے لیے لیا تھا، میں نے آپ سے گدھا لیا تھا کہ اسلام آباد جانا ہے اور پھر واپس بھی آنا ہے، اس صورت میں زمان نہیں آئے گا۔ اس صورت میں زمان کیوں نہیں آئے گا اس کو یہ بعض علماء فرما رہے ہیں۔ کہتے ہیں زمان صرف اس صورت میں نہیں آئے گا جب گدھا صرف جانے کے لیے لیا تھا، جب جانے کے لیے لیا تھا تو جب اسلام آباد پہنچ گیا، اب مولانا وہ نفع پورا ہو گیا اب جو تجاوز کر رہا ہے یہ تعدی ہے، یہ کیا ہے؟ تعدی ہے، لہذا اب گدھا ہلاک ہو تو زمان آئے گا، لیکن اگر کسی نے آنے جانے دونوں کے لیے لیا تھا گدھا بھئی، اب اسلام آباد پہنچا تو کیا اجارہ ابھی تام ہوا ہے یا اجارہ تام نہیں ہوا ابھی؟ ابھی تو تام نہیں، ابھی تو اس نے کیا کرنا ہے؟ واپس آنا ہے، لیکن واپس آنے سے پہلے یہ گیا اور آگے کا بھی چکر لگا آیا، جب آگے یہ نکل گیا تو اس نے تعدی کی، کیا کی؟ تعدی، یہ بعض علماء کی تقریر چل رہی ہے، کہتے ہیں اس نے تعدی کی، تو جب آگے نکل گیا تعدی ہے، لیکن پھر اس مقام سے جب واپس آ گیا، پھر اسلام آباد آ گیا مولانا مری سے، تو تعدی ختم ہو گئی، تعدی کیا ہوئی؟ ختم ہوئی، اب واپس آیا اور گدھا ہلاک ہوا تو تعدی چونکہ ختم ہو چکی تھی، لہذا اب اس پر زمان، لیکن ماتن نے کیا بتلایا؟ چاہے آنے جانے دونوں کے لیے ہو، پھر بھی جب تجاوز کرے گا اور گدھا ہلاک ہوتا ہے تو اس پر کیا آئے گا؟ زمان آئے گا۔ اس لیے متن میں قید لگائی وَلَوْ ذَاهِبًا وَجَائِئًا اگرچہ آنے اور جانے دونوں کے لیے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ بھئی یہ علماء بعضوں نے کہا وہ دلیل پیش کرتے ہیں، قیاس کرتے ہیں اس کو ودیعت کے ساتھ، امانت کے ساتھ، کیسے؟ وہ کہتے ہیں دیکھو! میں نے آپ کے پاس امانت رکھوائی، ایک چیز، میں نے کہا بھئی اس کو آپ نے اپنے گلبرگ والی کوٹھی میں رکھنا ہے، کسی اور جگہ پر اس امانت کو نہیں رکھنا، تو یہ چیز آپ کے پاس امانت ہے، آپ نے گلبرگ والی کوٹھی میں رکھی، ہلاک ہوتی ہے آپ پر زمان آئے گا؟ نہیں آئے گا، لیکن آپ نے تعدی کی، سمجھ میں آیا اور آپ نے اس کو اپنی ڈیفنس والی کوٹھی میں رکھ دیا، تو اب آپ زمان بن گئے یا زمان نہیں بن گئے؟ اگر وہاں جا یہ امانت ہلاک ہوئی تو زمان آئے گا یا نہیں آئے گا؟ لیکن آپ نے دو چار دن وہاں رکھی، پھر واپس گلبرگ والی جگہ پر لے آئے، تو اب مولانا! اب زمان ہے یا زمان ختم ہو گیا؟ پھر ختم ہو گیا، تو وہ فرماتے ہیں یہاں بھی اسی طرح ہے جیسے امانت کے اندر تعدی کرتا ہے اور پھر وہ تعدی سے رجوع کر لیتا ہے تو وہ تعدی کیا ہو جاتی ہے؟ ختم ہو جاتی ہے، زمان آتا ہے لیکن زمان پھر کیا ہو جاتا ہے؟ ختم ہوتا ہے اور وہ چیز پھر امانت بن جاتی ہے، تو یہاں پر بھی اجارے پر چیز لی ہے اور اجارے کے اندر چیز کیا ہوتی ہے؟ امانت ہوتی ہے، تو یہاں پر بھی جب اس نے اس حد سے تجاوز کیا تو تعدی کی، زمان آیا، لیکن جب اس حد سے واپس آ گیا تو تعدی ختم ہو گئی، زمان بھی ختم ہو گیا، سمجھ میں آیا؟ یہ کون سی صورت میں ہے؟ جبکہ آنے اور جانے دونوں کے لیے ہو، جانے کی صورت میں سے تو وہ بھی کہتے ہیں کہ واقعی تعدی ہے، تجاوز کر رہا ہے, عاقبت کیا ہو چکا ہے؟ تام ہو چکا ہے، نفع وصول ہو چکا ہے۔ تو ماتن نے کہا نہیں بھئی، چاہے آنے جانے دونوں کی صورت میں ہی کیا ہے؟ زمان ہوگا، یہ معنی ہے وَجِوَازُهَا تو اس جِوَازُهَا اس کا عطف مولانا كَعَقْبِهَا پر ہے، اور جیسے کہ تجاوز کر جانا اس جانور کا، کس جگہ سے؟ عَمَّا اس مقام سے، أُوجِرَتْ إِلَيْهِ جس کے لیے اس کو کرائے پر لیا گیا تھا، وَلَوْ ذَاهِبًا وَجَائِئًا اگرچہ جانے اور آنے دونوں کے لیے ہو بھئی، وَرَدَّهَا إِلَيْهِ اور اس کو واپس لوٹانے سے، بھئی آگے چلا گیا تھا، پھر لوٹا دیا، پھر بھی کیا ہوگا؟ زمان ہوگا، قَوْلُهُ وَرَدَّهَا بھئی کہتے ہیں وَرَدَّهَا بِالْجَرِّ یہ بھی جر کے ساتھ ہے، عطفن علی جِوَازِهَا، اس کا عطف بھی کس پر ہے؟ جِوَازِ پر ہے، اَنْ يَضْمَنَ بِجِوَازِ الدَّابَّةِ یعنی زمان ہوگا جانور کو آگے لے جانے سے، عَنْ مَوْضِعِ اس مقام سے اُوجِرَتْ إِلَيْهِ جس کے لیے کرائے پر لیا گیا تھا، ثُمَّ رَدَّهَا إِلَى ذَلِكَ الْمَوْضِعِ پھر اس جگہ واپس پہنچانے سے، یعنی آگے گزرنے اور واپس پہنچانے سے، پھر بھی کیا ہوگا؟ زمان ہوگا، وَإِنْ كَانَ الْإِسْتِيجَارُ ذَاهِبًا وَجَائِئًا اگرچہ استیجار کس کے لیے ہو؟ جانے اور آنے دونوں کے لیے ہو، وَإِنَّمَا قَالَ هَذَا نَفْيًا اور یہ ماتن نے آنے جانے کی قید اس لیے لگائی، کہ نفی کرنے کے لیے، لِمَا قِيلَ اس چیز کا، وہ جو کہا گیا ہے کہ اِنَّهُ إِنَّمَا يَضْمَنُ کہ یہ شخص صرف زمان ہوگا اس صورت میں، اِذَا اسْتَجَرَهَا ذَاهِبًا فَقَطْ جب صرف کس کے لیے لیا ہو؟ جانے کے لیے لیا ہو، تو اس صورت میں ہوگا زمان بھئی، سمجھیں؟ صرف جانے کی صورت میں لیا ہوا تھا، تو اب اس نے تعدی کی ہے، دوسری اگر آنے جانے دونوں کے لیے لیا تھا، تو تعدی تو کی لیکن پھر اس تعدی سے کیا کر لیا؟ رجوع ہو گیا، تو زمان ختم، تو اس فقط لِأَنَّ الْإِجَارَةَ قَدِ انْتَهَتْ اِلَى الْوُصُولِ إِلَى ذَلِكَ الْمَوْضِعِ اس لیے کہ اجارہ تو تحقیق پورا ہو گیا تھا، جب وہ پہنچ گیا تھا اس مقام پر، فَيَضْمَنُ بِالْجِوَازِ عَنْهُ تو پس وہ زمان ہوگا اس جگہ سے گزرنے سے، وَأَمَّا اِذَا اسْتَرَجَهَا ذَاهِبًا وَجَائِئًا یہ وہ بعض علماء کے قوال بتد چل رہا ہے بھئی، جس کے رد کے لیے متن میں عبارت لائے تھے، اور باقی وہ یہ علماء فرماتے ہیں کہ جب اِذَا اسْتَرَجَهَا جب اس نے جانور کو لیا، ذَاهِبًا وَجَائِئًا جانے اور آنے کے لیے، فَجَاوَزَ عَنْ ذَلِكَ الْمَوْضِعِ پھر وہ اس جگہ سے گزر گیا آگے، ثُمَّ رَدَّهَا إِلَيْهِ پھر واپس لے آیا اس جگہ کی طرف، لَا يَضْمَنُ تو اس صورت میں زمان نہیں ہوگا، كَالْمُودِعِ اِذَا خَالَفَ ثُمَّ عَادَ جیسے کہ مُودَع، وہ شخص جس کے پاس امانت رکھوائی جائے، جب وہ شرط کی مخالفت کرے، ثُمَّ عَادَ پھر کیا کر لے؟ لوٹ آئے، إِلَى الْوِفَاقِ اِلَى الْمُوَافَقَةِ کس کی طرف لوٹ آئے؟ موافقت کی طرف لوٹ آئے، یعنی اس شرط کے مطابق کر دے بھئی، لَاكِنَّ الصَّحِيحَ الزَّمَانُ لیکن صحیح کیا ہے؟ زمان آئے گا، صحیح قول یہ ہے، یہ علامہ صدر الشریعہ فرما رہے ہیں بھئی۔ أَقُولُ آگے اپنا قول بھی ذکر کرتے ہیں علامہ صدر الشریعہ، وہ کہتے ہیں، بھئی وہ فرماتے ہیں کہتے ہیں دیکھو! کہ اگر وہ جانور آگے لے گیا تھا، پھر واپس اس مقام پر پہنچایا، جہاں کی بات ہوئی تھی، اور وہ جانور ہلاک ہوا۔ وہ جانور کیا ہوا؟ ہلاک ہوا۔ تو غور کیا جائے، اگر یقین ہے بھئی، کہ یہ جانور اس آگے لے جانے کی وجہ سے ہلاک ہوا ہے، تو زمان آئے گا، اور اگر یقین ہے کہ آگے لے جانے کا اس میں کوئی دخل نہیں، تو اس صورت میں زمان بھی نہیں آئے گا۔ أَقُولُ میں کہتا ہوں: اِنْ هَلَكَتِ الدَّابَّةُ فِي ذَلِكَ الْمَوْضِعِ اگر ہلاک ہو جائے جانور اس جگہ پر، یعنی واپس لے آیا تھا اس جگہ پہ، وہاں پر ہلاک ہوا، بِسَبَبٍ ایسے سبب کی وجہ سے، تَيَقَّنَّا کہ اس کو یقین ہے، بِأَنَّهُ لَا مَدْخَلَ لِجِوَازِهَا مدخل بمانی دخل کے ہے، مصدر میمی ہے مولانا، بِسَبَبٍ ایسے سبب کی وجہ سے تَيَقَّنَّا کہ اس کو یقین ہے بِأَنَّهُ لَا مَدْخَلَ لِجِوازِهَا عَنْ ذَلِكَ الْمَوْضِعِ کہ کوئی دخل نہیں ہے آ اس جانور کے گزرنے کا عَنْ ذَلِكَ الْمَوْضِعِ اس مقام سے، فِي تَحَقُّقِ ذَلِكَ السَّبَبِ، اس سبب کے تحق، اس سبب کے پائے جانے میں، یعنی ہلاکت کے پائے جانے میں کوئی دخل نہیں ہے آگے گزر جانے کا، تو يُفْتَى بِعَدَمِ الْزَّمَانِ تو فتوی کس کا دیا جائے گا؟ عدم زمان کا، کیونکہ آگے گزرنے کا کوئی دخل ہی نہیں ہے۔ وَإِنْ هَلَكَتْ بِسَبَبٍ لَا تَيَقَّنَ بِذٰلِكَ اور اگر جانور ہلاک ہوا ایسے سبب کی وجہ سے کہ اس کو یقین نہیں ہے اس بات کا۔ بَلْ يُمْكِنُ أَنْ يَكُونَ لَهُ مَدْخَلٌ بلکہ ممکن ہے کہ ہو سکتا ہے اس کے آگے لے جانے کا بھی دخل ہو بھئی۔ فَيُفْتٰى بِالضَّمَانِ تو فتویٰ کس کا دیا جائے گا؟ ضمان کا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ وَ نَزْعِ السَّرْجِ حِمَارٍ مُّكْتَرًى وَ إِيكَافِهِ مُطْلَقًا وَ إِسْرَاجِهِ بِمَا لَا يُسْرَجُ بِمِثْلِهِ دُونَ مَا يُسْرَجُ بِمِثْلِهِ۔ اچھا بھئی، ایک ہے سرج جس کو اردو میں زین کہتے ہیں، زین بھئی۔ گھوڑے وغیرہ پر جو چمڑے کے جگہ اوپر بنائی جاتی ہے بیٹھنے کے لیے بھئی، یہ اوپر باندھی جاتی ہے، بیٹھنے کی جگہ اس پر بنی ہوتی ہے چمڑے کی بھئی۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ زین کہتے ہیں۔ اور اسی طرح ایک ہے پالان بھئی، پالان۔ پالان جو ہے یہ کپڑا وغی یا اور چیزوں کا بنا ہوتا ہے اور کپڑے کے اندر بھئی کوئی نرم چیز روئی وغیرہ بھی بعض اوقات بھری ہوتی ہے یا ساتھ اور چیزیں کچھ ملائی جاتی ہیں جس سے پورے جانور کی پشت کو ڈھانپ دیا جاتا ہے تاکہ اس پر وزن وغیرہ رکھا جائے تو جانور کو تکلیف کم ہو بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تاکہ اس کو تکلیف نہ ہو بھئی، اس لیے یہ ڈالی جاتی ہے۔ تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ پالان کہلاتا ہے، پالان بھئی۔ اب مسئلہ یہ بھئی کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص بھئی کسی جانور کو لیتا ہے کرائے پر اور اس پر زین لدی ہوئی ہے بھئی، تو جانور کرائے پر لیا اور اس پر زین لگی ہوئی ہے، یہ شخص اس پر سے زین اتار دیتا ہے اور اس پر پالان چڑھا دیتا ہے اور پھر بعد میں جانور ہلاک ہوتا ہے، تو اس پر کیا آئے گا؟ ضمان آئے گا بھئی، ضمان آئے گا۔ اس لیے کہ اس نے اجازت کس چیز کی تھی؟ زین کی، اور زین کو اتار کر اس نے کیا لگا دیا اس پر؟ پالان بھئی، تو اب یہ ضامن ہوگا بھئی۔ چاہے اس جیسا پالان جانور پر اس جیسے جانور پر ڈالا جاتا ہو یا نہ ڈالا جائے۔ یہ نہیں دیکھا جائے گا۔ بس لگی زین تھی اور اس کو اتار کر پالان لگا دیا تو اب جانور ہلاک ہوا تو کیا آئے گا؟ ضمان آئے گا۔ جی۔ ہاں، اور اگر زین کے بدل، جو پہلے زین اس کے ساتھ لگی ہوئی تھی اس کو اتار دیا اور اپنی زین اس پر لاد لی بھئی، اس پر لگا دی، تو اب دیکھا جائے گا کہ اس قسم کی زین اس قسم کے جانور پر باندھی جاتی ہے یا نہیں باندھی جاتی؟ اگر اس قسم کی زین ایسے جانور پر نہیں باندھی جاتی، پھر تو ضمان آئے گا ہی، لیکن اگر اس جیسی زین کیا ہے؟ اس جیسے جانور پر باندھی جاتی ہے، وہ مالک والی زین اتاری اپنی زین لگائی، اور اس قسم کی زین اس قسم کے جانور پر لگائی جاتی ہے، اور پھر جانور بعد میں ہلاک ہوا، تو کہتے ہیں اگر اس زین کا وزن اسی زین کے برابر ہوا تو پھر کوئی ضمان نہیں بھئی، کوئی تعدی نہیں پائی گئی بھئی۔ کیونکہ وہ بھی زین تھی، یہ بھی زین ہے اور ایک جیسی ہے اور اس قسم کی زین جانور پر پہنائی جاتی ہے۔ لیکن اگر اس زین کا وزن زیادہ ہوا، تو پھر اس صورت میں جتنا وزن زیادہ ہوگا اسی کے بقدر کیا آ جائے گا؟ ضمان آ جائے گا۔ مالک کی زین اتاری، اپنی زین لگائی اور اس قسم کی زین ایسے جانوروں پر رکھی بھی جاتی ہے، لیکن اس کا وزن اس سے کیا تھا؟ زیادہ تھا۔ تو جس قدر وزن زیادہ تھا، اتنا ضمان آئے گا۔ مثلاً بھئی وہ زین مثلاً تھی نصف من کی بھئی، جو اتاری، اور یہ جو زین لگائی یہ پورے من کی ہے، پورے من کی ہے۔ تو بھئی اس صورت میں کتنا زائد ہوا؟ نصف، یعنی من پورا بن گیا، وزن نصف کی تو اجازت تھی، نصف زائد ہوا، تو نصف کیا آ جائے گی؟ یعنی نصف قیمت جانور کی آ جائے گی۔ اور اگر ایسی زین لگائی کہ اس قسم کی زین جانور پر لگائی ہی نہیں جاتی اس قسم کے جانور پر، پھر جانور ہلاک ہوا تو اب پورے کیا ہے قیمت کا ضمان آئے گا، پورے گدھے کی قیمت مثلاً دینی پڑے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ زین اور پالان ایک دوسرے کے مثل ہیں بھئی۔ زین کا وہی حکم ہے جو پالان کا ہے بھئی۔ تو لہٰذا اگر زین اتار دی، تو پالان اوپر رکھ دیا، تو اس صورت میں ضمان نہیں آئے گا جبکہ اس قسم کا پالان اس قسم کے جانور پر رکھا جاتا ہو۔ ہاں اگر اس قسم کا پالان اس قسم کے جانور پر نہ رکھا جاتا ہو پھر تو ضمان آئے گا، پورے جانور کی قیمت دینی پڑے گی۔ لیکن اگر اس قسم کا پالان اس قسم کے جانور پر رکھا جاتا ہے تو پھر ضمان نہیں آئے گا بشرطیکہ اس پالان کا وزن اس زین سے زیادہ نہ ہو۔ ہاں اگر اس زین سے وزن میں زیادہ ہے تو پھر اس صورت میں اس کے حساب کے بقدر کیا آ جائے گا؟ ضمان آ جائے گا۔ اور زین کے اندر بھی اسی طرح ہے بھئی۔ زین بھی اگر اس جیسی زین اس جیسے جانور کو پہنائی نہیں جاتی تو پھر تو پورے جانور کا ضمان آئے گا، اور اگر اس جیسی زین اس جیسے جانور پر پہنائی تو جاتی ہے لیکن پھر دیکھیں گے وزن زیادہ ہے، تو اس کے بقدر ضمان آئے گا، وزن زیادہ نہیں تو ضمان بھی نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں وَ نَزْعِ السَّرْجِ حِمَارٍ مُّكْتَرًى، مُكْتَرًى، اِكْتَرٰی کا معنی ہوتا ہے کرائے پر لینا۔ مُكْتَرًى ایسا گدھا جس کو کرائے پر لیا گیا ہے۔ صورت سمجھ... وَ نَزْعِ، اس کا عطف بھی ماقبل متن میں مولانا، كَعَتْبِهَا، عَتْبِهَا پر اس کا عطف ہو رہا ہے بھئی۔ جیسے بھئی پیچھے مسئلہ آپ نے پڑھا تھا جانور کو کی پٹائی کرنے سے جیسے کہ اس کا ہلاک ہونا، اس صورت میں کیا آیا کرتا تھا؟ ضمان، تو ان صورتوں میں بھی ضمان آئے گا۔ یہ ساری وہی، کاف کے تحت آ رہی ہیں یہ ساری صورتیں۔ وَ كَنَزْعِ السَّرْجِ، اور جیسے کہ اتارنا ہے کرائے پر لیے ہوئے گدھے کی زین کا۔ وَ إِيكَافِهِ اور اس پر پالان کے ڈالنے کا۔ مُطْلَقًا چاہے اس جیسی پالان ڈالی جاتی ہو چاہے نہ ڈالی جاتی ہو۔ مُطْلَقًا اس صورت میں بھی ضمان آئے گا۔ وَ إِسْرَاجِهِ اور اسی طرح بھئی، اس کا عطف إِيكَاف پر ہے۔ إِيكَاف کو اٹھاؤ اور إِسْرَاج کو لگا دو۔ تو عبارت یوں بن گئی پوری وَ نَزْعِ السَّرْجِ حِمَارٍ مُّكْتَرًى وَ إِسْرَاجِهِ بِمَا لَا يُسْرَجُ بِمِثْلِهِ، اور اتارنا کرائے پر لیے ہوئے گدھے کی زین کو اور اس کو زین اس پر ڈالنا بِمَا لَا يُسْرَجُ ایسی زین کہ اس قسم کی زین نہیں ڈالی جاتی۔ بِمَا لَا... اور اس کو زین پہنانا بِمَا ایسی زین لَا يُسْرَجُ بِمِثْلِهِ کہ اس قسم کی زین اسے پہنائی نہیں جاتی دُونَ مَا يُسْرَجُ بِمِثْلِهِ نہ کہ ایسی زین کہ پہنائی جاتی ہے اس کے مثل بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو ضامن ہوگا اگر زین اتار کر زین پہناتا ہے تو ایسی زین پہنانے کی صورت میں ضامن ہوگا کہ اس جیسی زین نہیں پہنائی جاتی، اور اگر اس قسم کی زین پہنائی جاتی ہے تو پھر ضامن نہیں ہوگا۔ یہ معنی ہے کہ عبارت سمجھ میں آئی بھئی؟ أَيْ نَزَعَ سَرْجَ حِمَارٍ مُّسْرَجٍ، اگر کسی نے کرائے پر لیا ایسا گدھا مُّسْرَجٍ جس پر زین لگی ہوئی تھی۔ فَنَزَعَ السَّرْجَ تو اس مستاجر نے اس زین کو اتار دیا، وَ أَوْكَفَهُ اور اس پر پالان ڈال دیا، وَ حَمَلَ عَلَيْهِ اور اس پر بوجھ لادا، فَهَلَكَ پس وہ گدھا ہلاک ہو گیا، ضَمِنَ تو ضامن ہوگا، سَوَاءٌ كَانَ الْإِيكَافُ مِمَّا يُوكَفُ هٰذَا الْحِمَارُ بِمِثْلِهِ أَوْ لَا، برابر ہے کہ وہ پالان مِمَّا ایسے پالانوں میں سے ہو يُوكَفُ کہ جو ڈالے جاتے ہیں هٰذَا الْحِمَارُ بِمِثْلِهِ اس قسم کے گدھوں پر اس قسم کے پالان، أَوْ لَا یا نہ ڈالے جاتے ہوں۔ چاہے اس قسم کے پالان ڈالے اتاری زین ہے، ڈالا پالان تو اب ضمان آئے گا چاہے اس جیسے پالان اس پر ڈالے جاتے ہوں یا نہ ڈالے جاتے ہوں۔ وَ إِنْ نَزَعَ السَّرْجَ اور اگر زین کو اتارا وَ أَسْرَجَهُ بِسَرْجٍ آخَرَ اور اس کو دوسری زین چڑھا پہنا دی، فَإِنْ كَانَ هٰذَا السَّرْجُ مِمَّا لَا يُسْرَجُ هٰذَا الْحِمَارُ بِمِثْلِهِ يَضْمَنُ پس یہ جو زین ہے، اگر اس قسم کی زینوں میں سے ہوئی کہ پہنا ڈالی نہیں جاتیں اس قسم کے گدھوں پر اس قسم کی زینیں يَضْمَنُ تو ضامن ہوگا، وَ إِنْ كَانَ يُسْرَجُ بِمِثْلِهِ اور اگر ایسی زینیں ڈالی جاتی ہیں بھئی، يُسْرَجُ بِمِثْلِهِ اس قسم کی زینیں اس پر ڈالی جاتی ہیں ایسے جانور پر، لَا يَضْمَنُ تو ضامن نہیں ہوگا، إِلَّا إِذَا كَانَ فِي الْوَزْنِ زَائِدًا عَلَى الْأَوَّلِ مگر اس صورت میں جبکہ یہ زین وزن کے اندر زائد ہو پہلی زین پر، فَيَضْمَنُ بِحِسَابِهِ تو ضامن ہوگا اسی کے حساب سے۔ وَ هٰذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ اور یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے۔ وَ عِنْدَهُمَا إِنْ أَوْكَفَهُ اور صاحبین کے نزدیک اگر اس کو اس پر پالان ڈالا، بِإِيكَافٍ ایسا پالان يُوكَفُ بِمِثْلِهِ بھئی کہ اس قسم کا پالان جو ہے اس پر ڈالا جاتا ہے، لَا يَضْمَنُ تو پھر ضامن نہیں ہوگا، إِلَّا إِذَا كَانَ زَائِدًا فِي الْوَزْنِ مگر اس صورت کے اندر کہ جب وہ پالان کیا ہو؟ زائد ہو وزن کے اندر عَلَى السَّرْجِ الَّذِي نَزَعَهُ اس زین سے جس کو اس نے اتارا ہے، فَيَضْمَنُ بِقَدَرِ الزِّيَادَةِ تو یہ ضامن ہوگا زیادتی کے بقدر بھئی جتنی زیادتی ہے اسی کے بقدر ضمان آئے گا۔ وَ سُلُوكِ الْحَمَّالِ طَرِيقًا غَيْرَ مَا عَيَّنَهُ الْمَالِكُ، اس کا عطف بھی اسی پر ہے بھئی، اور جیسے کہ چلنا ہے حمال کا، بوجھ اٹھانے والے کا طَرِيقًا ایسے راستے پر غَيْرَ مَا عَيَّنَهُ الْمَالِكُ جو غیر ہے علاوہ ہے اس کے جس کو متعین کیا تھا مالک نے۔ مالک نے جو متعین کیا تھا اس راستے کے علاوہ کسی اور راستے پر وہ سامان لے کر چلتا ہے وَ تَفَاوَتَا اور حال یہ ہے مولانا کہ وہ دونوں راستے بھی کیا ہیں؟ مختلف ہیں، مختلف ہیں ایک دوسرے سے، ایک میں خوف ہے ایک میں خوف نہیں۔ أَوْ لَا يَسْلُكُهُ النَّاسُ یا ان یہ ایسا راستہ ہے دوسرا کہ جس پر لوگ نہیں چلتے۔ أَوْ حَمَلَهُ فِي الْبَحْرِ یا اس کو لے کر گیا کس کے اندر بھئی؟ سمندر میں بھئی سمندر کے راستے۔ تو اس صورت میں بھی کیا آئے گا؟ ضمان والی صورتوں کی مثالیں چل رہی ہیں بھئی، یہ صورت بھی ضمان والی ہے اس میں بھی ضامن ہوگا۔ ہاں، جب پہنچا دے گا فَلَهُ الْأَجْرُ إِنْ بَلَغَ، اس کے لیے اجر ہوگا اِنْ بَلَغَ جب وہ پہنچائے یعنی وہ سامان پہنچا دے۔ أَيْ لِلْحَمَّالِ الْأَجْرُ فِي جَمِيعِ مَا ذُكِرَ، حمال کے لیے بوجھ لادنے والے کے لیے اجرت ہوگی ان ساری اوپر والی مذکورہ صورتوں میں، إِنْ بَلَغَ الْمَنْزِلَ اگر وہ منزل مقصود تک پہنچ گیا، لِحُصُولِ الْمَقْصُودِ بوجہ مقصود کے حاصل ہو جانے کے۔ مقصود تو یہی تھا کہ سامان منزل پہ پہنچے اور وہ حاصل ہوا تو اب اجرت دینی پڑے گی بھئی۔ وَ مَنِ اسْتَأْجَرَ أَرْضًا لِزَرْعِ بُرٍّ فَزَرَعَ رُطْبَةً، رُطْبَتَهُ نہیں رُطْبَةً ہونا چاہیے بھئی یہ لفظ، کتابت کی غلطی ہے۔ فَزَرَعَ رُطْبَةً، ضَمِنَ مَا نَقَصَتْ، مَا نَقَصَتْ بِلَا أَجْرٍ۔ صورت مسئلہ یہ... میں نے ایک شخص کو زمین کرائے پر دی بھئی، اجرت پر دی کہ اس کے اندر گندم کاشت کر لو بھئی۔ تو ایک شخص نے مجھ سے زمین لی گندم کو کاشت کرنے کے لیے، لیکن اس کے اندر اس نے رطبہ کاشت کر دی بھئی۔ وہ ایسا درخت، پودا بھئی، رطبہ آپ نے پڑھا، ایسا پودا جس کو کاٹا نہیں جاتا، اتارا نہیں جاتا، بلکہ ہر سال... پھل پھول... پھل وغیرہ، پھول وغیرہ، پتے اس سے جو ضرورت ہوتی ہے وہ اتارے جاتے ہیں اور اگلے سال پھر اس پر دوبارہ پھل وغیرہ یا پھول اور پتے لگتے ہیں، تو وہ لگا رہتا ہے زمین میں۔ تو اس نے گندم کی کاشت کے لیے لی تھی زمین اور اس میں رطبہ کاشت کر دیے۔ تو اس صورت میں کیا اس پر زمان آئے گا یا زمان نہیں؟ کہتے ہیں بھئی، اس صورت میں دیکھا جائے گا زمین کو نقصان کتنا ہوا ہے۔ تو زمین کا جتنا نقصان ہوا ہے اسی کے بقدر اسے زمان دینا پڑے گا۔ کیا آ جائے گا؟ لیکن اب اس کو کرایہ اس سے نہیں لیا جائے گا، کرایہ نہیں۔ بھئی دیکھو فصلیں کئی قسم کی ہوتی ہیں، بعض فصلیں ایسی ہوتی ہیں جن کا زمین پر کم اثر پڑتا ہے، بعض کی وجہ سے زمین کو بڑا نقصان ہوتا ہے بھئی۔ تو چنانچہ اس کی وجہ سے دیکھا جائے گا زمین کو کتنا نقصان ہوا ہے، اس نقصان کے بقدر اس پر کیا آ جائے گا، زمان آ جائے گا۔ لیکن اب اس سے زمین کا کرایہ نہیں لیا جائے گا، کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ جب اس نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو وہ غاصب بن گیا، کیا بن گیا؟ اور غاصب کا کیا حکم ہے کہ اس میں جتنا چیز کے اندر نقصان آیا کرتا ہے وہ نقصان اس سے وصول کیا جاتا ہے۔ غاصب سے کبھی کرایہ وصول نہیں کیا جاتا بھئی۔ وَمَنْ اسْتَأْجَرَ أَرْضًا لِزَرْعِ بُرٍّ، اور جس نے اجرت پر لیا زمین کو گندم کاشت کرنے کے لئے، فَزَرَعَ رَطْبَةً، تو اس نے پھر رطبہ اس کے اندر کاشت کر دی، ضَامِنًا مَا نَقَصَتْ، تو ضامن ہوگا اس مقدار کا جو اتنی مقدار جو کم ہوئی۔ ضامن ہوگا جو نقصان آیا بھئی زمین میں، بِلَا أَجْرٍ، بھئی بغیر، جی تو ضامن ہوگا اس کا جو ناقص ہوئی ہے، نَقَصَتْ أَيِ الْأَرْضُ، بھئی جتنی وہ زمین ناقص ہوئی ہے۔ بغیر اجرت کے، یعنی اسے کرایہ نہیں ملے گا کیوں بھئی؟ لِأَنَّهُ صَارَ غَاصِبًا، اس لیے کہ وہ غاصب بن گیا ہے، وَحُكْمُ الْغَصْبِ هَذَا، اور غصب کا یہی حکم ہے کہ اس میں زمان آتا ہے کرایہ نہیں آتا۔ وَمَنْ دَفَعَ ثَوْبًا لِيَخِيطَهُ قَمِيصًا فَخَاطَهُ قَبَاءً ضَمِنَ قِيمَةَ ثَوْبِهِ أَوْ أَخَذَ الْقَبَاءَ بِأَجْرِ مِثْلِهِ وَلَمْ يُزَدْ عَلَى مَا سُمِّيَ۔ صورت مسئلہ یہ ہے بھئی، ایک ہے قمیض، بھئی قمیض جیسے پہنی جاتی ہے اسی طرح قدیم زمانے میں قباء کہلاتی تھی مولانا، قمیض کے اوپر پہنا جاتا تھا، یہ بھی قمیض کی مثل تھا اور اس کو درمیان میں یعنی کمر کے پاس باندھا جاتا تھا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ باندھ لیتے تھے درمیان سے اس کو، تو اس کو قباء کہتے تھے۔ تو ایک شخص نے بھئی درزی کو کپڑے دئیے کہ اس سے قمیض سی دو، اس نے اسے قباء سی دی، تو کہتے ہیں اس صورت میں مستاجر کو اختیار ہے، قمیض والے کو اختیار ہے، چاہے تو کپڑے کی قیمت کا اسے ضامن بنا دے۔ بھئی اس نے تو قمیض سلوانی تھی لیکن اس نے کیا سی دی، قباء سی دی۔ تو لہذا اس کا کپڑا خراب ہوا ضائع گیا، تو اس سے کیا لے لے، زمان، قباء کو چھوڑ دے اور کپڑے کی جو قیمت ہے وہ اس سے وصول کر لے۔ یا دوسری صورت یہ ہے کہ یہ قباء ہی اس سے لے لے اور اس کا اجر مثل دے دے، یعنی اس جیسی قباء کی جو اجرت ہوا کرتی ہے وہ اس کو دے دے۔ لیکن وہ اجرت اس مقررہ اجرت سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ مثلاً میں نے کپڑا دیا تھا اور اجرت طے ہوئی تھی 10 درہم اور اس نے کیا سی لیا، قباء سی لی۔ اب مجھے اختیار ہے چاہے تو میں کپڑا سب قباء اسی کے پاس رہنے دوں بھئی اب اپنے پاس رکھو مجھے میرے کپڑے کی قیمت دے دو۔ مجھے اختیار ہے، قیمت بھی لے سکتا ہوں اور دوسری صورت یہ ہے کہ میں چاہوں تو اس سے قباء لے لیتا ہوں اور قباء کی جو اجرت بنتی ہے بنوانے کی سلائی وہ اس کو دے دوں گا۔ لیکن یہ سلائی اس مقررہ اجرت، کتنی مقرر ہوئی تھی، 10 درہم، اس مقررہ اجرت یعنی 10 درہم سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے بھئی، سمجھ میں آیا؟ ہاں اگر اس سے زیادہ ہے مثلاً بھئی اجر مثل مثلاً قباء کا 7 درہم ہے تو اس کو 7 دینے دے دوں گا میں۔ بھئی اگر اس کا 10 ہے تو 10 ہی پر بات ہوئی تھی اس کو 10 ہی درہم دے دوں گا۔ لیکن اگر قباء کی اجر مثل جو ہے 15 درہم ہے تو اب میں 15 نہیں دوں گا بلکہ وہ 10 جو ہیں اس سے زائد نہیں دیے جائیں گے تو وہ 10 ہی اس کو میں دے دوں گا تو زائد ساقط ہو گئے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی۔ وَمَنْ دَفَعَ ثَوْبًا، بھئی جس نے حوالے کیا کپڑا کسی درزی کے، لِيَخِيطَهُ قَمِيصًا، تاکہ اس کے لیے قمیض سی دے، فَخَاطَهُ قَبَاءً، اس نے اس کی قباء سی دی، ضَمِنَ قِيمَةَ ثَوْبِهِ، تو اختیار ہے مولانا کس کو کپڑے والے کو، اس کو اختیار ہے، ضَمِنَ قِيمَةَ ثَوْبِهِ، کہ وہ اس درزی کو ضامن بنا دے کپڑے کی قیمت کا، أَوْ أَخَذَ الْقَبَاءَ بِأَجْرِ مِثْلِهِ، یا قباء لے لے اجر مثل کے بدلے، دونوں میں اس کو اختیار ہے۔ وَلَمْ يُزَدْ عَلَى مَا سُمِّيَ، اور یہ اجر مثل زائد نہیں کیا جائے گا، عَلَى مَا سُمِّيَ، اس پر جس کو ذکر کیا گیا تھا یعنی مقرر کیا گیا تھا یعنی مسمی پر۔ لِأَنَّهُ لَا يُزَادُ عَلَى الْمُسَمَّى عِنْدَنَا فِي الْإِجَارَةِ الْفَاسِدَةِ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ، اس لیے کہ زیادہ نہیں کیا جاتا مذکورہ پر مقررہ پر ہمارے نزدیک اجارہ فاسدہ کے اندر بھئی۔ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ، چلیے مولانا۔ هَذَا آخِرُ الْمَرَامِ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔