وَمَنَعَهُ الزِّيَادَةُ الْمُتَّصِلَةُ، یا مولانا یوں پڑھ لیں وَمَنَعَهُ الزِّيَادَةُ الْمُتَّصِلَةُ كَبِنَاءٍ وَغَرْسٍ وَسِمَنٍ لَا مُنْفَصِلَةٌ وَهِيَ مِثْلُ الْوَلَدِ وَمَوْتُ أَحَدِ الْعَاقِدَيْنِ وَعِوَضٌ أُضِيفَ، یہ أُضِيفَ لفظ ہے مولانا، وَعِوَضٌ أُضِيفَ إِلَيْهَا وَلَوْ مِنْ أَجْنَبِيٍّ بِنَحْوِ خُذْهُ عِوَضَ هِبَتِكَ فَقَبَضَ الْوَاهِبُ فَلَوْ وَهَبَ وَلَمْ يُضِفْ رَجَعَ كُلٌّ بِهِبَتِهِ، تو رَجَعَ كُلٌّ بِهِبَتِهِ وَخُرُوجُهَا عَنْ مِلْكِ الْمَوْهُوبِ لَهُ وَالزَّوْجِيَّةُ وَقْتَ الْهِبَةِ فَلَوْ وَهَبَ لَهَا فَنَكَحَهَا رَجَعَ وَلَوْ وَهَبَ فَأَبَانَ لَا وَقَرَابَةُ الْمَحْرَمِيَّةِ وَهَلَاكُ الْمَوْهُوبِ وَضَابِطُهَا حُرُوفٌ دَمْعٌ خَزَقَهُ، دَمْعٌ خَزَقَهُ پڑھ لیں اس کو یا دَمْعٌ خَزْقَهْ پڑھ لیں۔ اچھا بھئی، یہاں سے موانع رجوع بتلا رہے ہیں بھئی۔ وہ کون کون سی چیزیں ہیں کہ جن کی وجہ سے ہبہ میں رجوع نہیں کیا جا سکتا بھئی؟ گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا بھئی کہ ہبہ کے اندر رجوع کرنا صحیح ہے۔ ہاں، اگر کچھ موانع ہیں بھئی، وہ اب ذکر کریں گے، یہ ان میں سے کوئی ایک بھی آ جائے تو اب ہبہ کے اندر رجوع نہیں کیا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں وَمَنَعَهُ، تو مَنَعَ مصدر پڑھ لیں، تو مَنَعَ بمعنی مَانِع کے ہو جائے گا۔ ہا ضمیر راجع ہے رجوع کو بھئی۔ کس کو راجع ہے؟ رجوع کو۔ تو مانع رجوع کیا ہے؟ کہتے ہیں الزِّيَادَةُ الْمُتَّصِلَةُ۔ زیادتی متصلہ، یا فعل پڑھ لیں۔ مَنَعَهُ رجوع کو منع کرتی ہے کیا چیز؟ الزِّيَادَةُ الْمُتَّصِلَةُ بھئی۔ زیادتی کا لفظ بتلایا۔ معلوم ہوا نقصان، کمی آ جائے موہوب کے اندر تو یہ رجوع سے مانع نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کمی آ جائے، زیادتی آ جائے، لیکن یاد رکھو پھر زیادتی دو قسم پر ہے بھئی۔ ایک زیادتی متصلہ ہے، ایک زیادتی منفصلہ ہے۔ زیادتی منفصلہ ہے مولانا، جیسے دیکھیے کسی کو آپ نے باندی ہبہ کی بھئی، اور اس باندی نے وہاں جا کر ایک بچے کو جنم دیا، تو اب اس موہوب کے اندر زیادتی آئی مولانا۔ لیکن یہ زیادتی اس کے ساتھ باندی کے ساتھ متصل ہے یا اس سے جدا ہو گئی بھئی؟ بچہ زائد تو آیا، ہو گیا مولانا باندی میں، لیکن وہ اس سے کیا ہوا؟ جدا ہو جاتا ہے، جدا ہو گیا بھئی۔ تو یہ زیادتی منفصلہ۔ اور بعض اوقات زیادتی آتی ہے جو اسی موہوب کی ذات کے ساتھ متصل ہوتی ہے، اس سے جدا نہیں ہوتی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ جیسے مولانا باندی دی کسی نے کسی کو ہبہ کی، دوسرے نے اس کو خوب کھلایا پلایا، وہ چند دن میں موٹی ہو گئی۔ اب یہ موٹاپا بھی زیادتی ہے، لیکن کیا یہ اب اس سے جدا ہو سکتی ہے؟ یہ جدا نہیں۔ تو یہ زیادتی متصلہ ہے بھئی۔ یا جیسے کسی نے کسی کو زمین ہبہ کی، اس نے اس کے اندر بلڈنگ بنا دی، عمارت تعمیر کر دی، تو یہ عمارت زیادتی ہے، اور کون سی زیادتی ہے؟ متصلہ ہے مولانا، یہ جدا نہیں ہوتی بھئی۔ تو کہتے ہیں مانع ہے رجوع عن الہبہ سے، کیا چیز مانع ہے؟ الزِّيَادَةُ الْمُتَّصِلَةُ، ایسی زیادتی جو متصل ہو۔ كَبِنَاءٍ جیسے عمارت ہے وَغَرْسٍ اور درخت ہیں لگا دیے مولانا، درخت ہیں جیسے بھئی، تو یہ درخت بھی کیا ہوتے ہیں زمین کے ساتھ؟ متصل ہوتے ہیں بھئی۔ وَسِمَنٍ اور موٹاپا ہے، موٹا ہونا بھئی۔ لَا مُنْفَصِلَةٌ، زیادتی منفصلہ نہیں۔ اس زیادتی منفصلہ نہیں ہے مانع بھئی۔ بھئی زیادتی منفصلہ کیا ہے؟ کہتے ہیں وَهِيَ مِثْلُ الْوَلَدِ، یہ بچے کی طرح، یعنی جیسے بچہ کیا ہوتا ہے؟ جدا ہو جاتا ہے باندی سے۔ سمجھ میں آیا؟ معلوم ہوا زیادتی کی صورت میں، جو زیادتی بھی متصل ہو، پھر رجوع نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ نہیں کیا جا سکتا۔ وَمَوْتُ أَحَدِ الْعَاقِدَيْنِ، اور دونوں عقد کرنے والوں میں سے کوئی ایک مر جائے، واہب یا موہوب لہ میں سے کوئی ایک مر جائے، تو اب اس صورت میں بھی رجوع نہیں ہو سکتا ہبہ میں۔ وَعِوَضٌ أُضِيفَ إِلَيْهَا، یا ایسا عوض جس کی نسبت کی جائے کس کی طرف؟ ہبہ کی طرف۔ میں نے آپ کو ایک کوٹھی دی ہدیے کے طور پر، آپ نے اس کا عوض دیا اور ساتھ نسبت بھی کر دی کہ یہ میں آپ نے مجھے چونکہ کوٹھی دی ہے تو اس کے عوض کے طور پر آپ میری طرف سے یہ قلم رکھ لیجیے۔ تو نسبت کی اس کے ہبہ کی طرف کہ اس ہبہ کے عوض کے طور پر آپ یہ قلم رکھ لیجیے۔ ویسے دے دیا تو پھر مانع نہیں مولانا۔ وَلَوْ مِنْ أَجْنَبِيٍّ، اگرچہ یہ عوض جس کی نسبت ہبہ کی طرف کی گئی ہے، کسی اجنبی کی طرف سے ہی کیوں نہ ہو بھئی۔ میں نے آپ کو کوٹھی تحفہ میں دی تھی بھئی، ایک اور آدمی آیا، اس نے کہا بھئی آپ نے فلاں آدمی کو کوٹھی دی ہے تحفے کے طور پر، یہ لیجیے میری طرف سے بدلے کے طور پر آپ قلم رکھ لیجیے۔ سمجھ میں آیا؟ تو بس، چاہے عوض موہوب لہ سے عوض لوں، چاہے کسی اور اجنبی سے عوض لے لوں، جب میں نے عوض لے لیا، اب کیا؟ اب میں اپنے ہبہ کے اندر رجوع نہیں کر سکتا۔ یہ معنی ہے، وَلَوْ مِنْ أَجْنَبِيٍّ، اگرچہ وہ عوض جس کی نسبت ہبہ کی طرف کی گئی ہے کسی اجنبی کی طرف سے ہی کیوں نہ ہو، بِنَحْوِ اس طرح کے لفظ سے، جیسے وہ کہتا ہے خُذْهُ عِوَضَ هِبَتِكَ، لے لے تو یہ چیز اجنبی کہہ رہا ہے خُذْهُ عِوَضَ هِبَتِكَ، اس چیز کو تو لے لے اپنے ہبہ کے عوض میں۔ تو چاہے اجنبی کہہ رہا ہے یا وہی موہوب لہ کہہ رہا ہے، یہ لفظ کہتا ہے کہ اس چیز کو تو لے لے اپنے ہبہ کے عوض میں۔ فَقَبَضَ الْوَاهِبُ، پس اس پر واہب نے کیا کر لیا؟ قبضہ۔ پس قبضہ کرتے ہی رجوع کا حق ختم۔ فَلَوْ وَهَبَ، پس اگر ہبہ کیا بھئی وَلَمْ يُضِفْ اور نسبت نہیں کی بھئی۔ آپ کو میں نے مکان تحفے میں دیا، آپ نے مجھے کیا دیا ایک؟ قلم عوض کے طور پر دیا، لیکن لَمْ يُضِفْ، آپ نے اس کی ہبہ کی طرف نسبت نہیں کی، آپ نے کہا لیجیے جی آپ بھی یہ قلم میری طرف سے رکھ لیجیے۔ تو کہتے ہیں رَجَعَ كُلٌّ بِهِبَتِهِ، ہاں دونوں میں سے ہر ایک اپنے ہبہ کے ساتھ رجوع کر سکتا ہے۔ میں نے آپ کو ہبہ کیا مکان، آپ نے مجھے کیا ہبہ کر دیا؟ قلم، تو میں اپنے ہبہ میں رجوع کر سکتا ہوں اور آپ اپنے ہبہ میں رجوع کر سکتے ہیں۔ تو دونوں ہبہ ہیں۔ یہ معنی ہے، رَجَعَ كُلٌّ بِهِبَتِهِ، ہر ایک دونوں میں سے اپنے ہبہ میں رجوع کر سکتا ہے۔ وَخُرُوجُهَا عَنْ مِلْكِ الْمَوْهُوبِ لَهُ، اسی طرح نکل جانا ہبہ کا، موہوب لہ کی ملک سے، یہ بھی مانع ہے رجوع سے۔ دیکھیے میں نے آپ کو کیا دیا تھا؟ ایک مکان تحفے کے طور پر دیا، میں رجوع کر سکتا ہوں، لیکن آپ نے مکان کو آگے بیچ دیا۔ کیا کیا؟ بیچ دیا، تو وہ اب آپ کی ملک سے نکل گیا، تو اب میں رجوع نہیں کر سکتا۔ یا آپ نے آگے کسی کو تحفے کے طور پر، آگے دے دیا کسی کو، تو اب بھی میں رجوع نہیں کیونکہ وہ موہوب لہ کی ملک سے ہبہ نکل گیا۔ وَالزَّوْجِيَّةُ، اور اسی طرح میاں بیوی کا رشتہ ہونا بھئی، یہ بھی مانع ہے بھئی۔ بیوی نے میاں کو... بیوی نے خاوند کو کوئی چیز ہبہ کی یا خاوند نے بیوی کو کوئی چیز ہبہ کی، تو بس مولانا، اب رجوع نہیں کر سکتے بھئی۔ وَالزَّوْجِيَّةُ اور میاں بیوی والا رشتہ ہونا بھئی، یعنی میاں بیوی والا رشتہ ہونا، وَقْتَ الْهِبَةِ کس وقت بھئی؟ ہبہ کے وقت۔ یہ بھی مانع ہے۔ فَلَوْ وَهَبَ لَهَا، پس اگر کیا کیا؟ اس عورت کو کسی عورت کو ہبہ کیا، نکاح سے پہلے کی بات ہے مولانا۔ بھئی مانع تب ہے جب وقت ہبہ کیا ہو؟ زوجیت ہو۔ اور اگر وقت ہبہ زوجیت نہیں تھی، بلکہ یوں صورت تھی کہ ایک عورت تھی، اس کو اس نے کیا کیا؟ ہبہ کیا، پھر نکاح اس سے کر لیا بعد میں، تو وقت ہبہ وہ بیوی تھی، رشتہ زوجیت تھا یا وہ اجنبیہ تھی؟ اجنبیہ تھی، لہٰذا اب رجوع کر سکتا ہے۔ نکاح کے بعد بھی کیا کر سکتا ہے؟ رجوع کر سکتا ہے۔ چنانچہ آپ نے مسئلہ پڑھ لیا بھئی، تو اب آپ گئے بھئی، آپ نے کیا کیا؟ کسی کو تحفے کے طور پر پہلے سے ہی بھئی ایک کوٹھی دے دی، پھر پیغام نکاح بھجوایا، اس نے کہا بھئی یہ تو بڑا، میرے پہ بڑا مہربان ہے بھئی، تو اس نے نکاح کر لیا آپ کے ساتھ۔ آپ نے بعد میں کیا کر لیا؟ رجوع کر لیا۔ یہ آپ کر سکتے ہیں بھئی۔ فَنَكَحَهَا رَجَعَ۔ وَلَوْ وَهَبَ فَأَبَانَ لَا۔ لیکن بھئی اگر ہبہ کیا اور اس وقت وہ بیوی تھی رشتہ زوجیت تھا مولانا، اور پھر بعد میں جدائی ہو گئی، طلاق اس کو دے دی۔ اب طلاق کے بعد رجوع کرنا چاہتا ہے، کہتے ہیں رجوع نہیں کر سکتا، کیونکہ اعتبار وقت ہبہ کا ہے، اور وقت ہبہ تو وہ کیا تھی؟ بیوی تھی، لہٰذا نہیں۔ یہ معنی ہے، وَلَوْ وَهَبَ اگر ہبہ کیا فَأَبَانَ پھر کیا ہوا اس سے؟ پھر اسے جدا کر دیا لَا بھئی تو اب نہیں کر سکتا رجوع۔ وَ اسی طرح وَقَرَابَةُ الْمَحْرَمِيَّةِ، رشتہ داری بھئی، ایسی رشتہ داری جو محرمیت والی ہو بھئی۔ محرمیت کی رشتہ داری بھئی، یہ بھی مانع ہے بھئی رجوع سے بھئی۔ بھئی اگر کسی رشتہ دار کو ہبہ کیا اور رشتہ دار بھی ایسا ہے کہ وہ محرم ہے، یعنی اس کے ساتھ نکاح ہمیشہ کے لیے حرام۔ اگر مخالف جنس کا ہے، اور اگر اسی جنس کا ہے تو دونوں میں سے ایک کو مرد فرض کر لیں ایک کو... ایک کو مرد فرض کریں اور دوسرے کو عورت فرض کریں، تو ان کا نکاح آپس میں کیا ہوتا ہو؟ حرام ہوتا ہو، تو یہ بھی قرابت محرمیہ ہے۔ اس صورت میں بھی ہبہ میں رجوع جائز نہیں بھئی۔ مثلاً ایک بہن نے دوسری بہن کو کیا دیا؟ یا بہن نے بھئی کو بھئی پہلے۔ بہن نے بھئی کو ہبہ کیا، بس بھئی، اب رجوع نہیں کر سکتی، کیونکہ ان دونوں کا آپس میں رشتہ داری ہے اور کون سی رشتہ داری ہے؟ محرمیت والی، یعنی ان میں نکاح ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہے۔ یا مولانا ایک بہن نے دوسری بہن کو ہبہ کیا بھئی، تو اس صورت میں ان میں سے ایک کو اگر مرد فرض کر لیا جائے، تو یہ آپس میں کیا بن گئے؟ بہن بھئی، اور بہن بھئی کا آپس میں رشتہ کیا ہوتا ہے؟ حرام، تو یہ بھی قرابت محرمیہ ہے، اس صورت میں بھی ہبہ میں رجوع جائز نہیں بھئی۔ تو قَرَابَةُ الْمَحْرَمِيَّةِ جو ہے، یہ بھی مانع ہے بھئی رجوع عن الہبہ سے۔ وَهَلَاكُ الْمَوْهُوبِ، اسی طرح موہوب شے کا ہلاک ہو جانا۔ بھئی میں نے آپ کو ایک گاڑی ہبہ کی تھی، وہ گاڑی آپ کے پاس ختم ہو گئی، ہلاک ہو گئی، تو اب وہ چیز ہی نہ رہی تو رجوع بھی نہیں ہو سکتا۔ وَضَابِطُهَا، یہ سات چیزیں ذکر ہوئیں۔ وَضَابِطُهَا اور ان کو ضبط کرنے والا، جمع کرنے والا مراد ہے۔ حُرُوفٌ دَمْعٌ خَزَقَهُ، یہ حروف ہیں مولانا۔ دَمْعٌ خَزَقَهُ، یا یوں پڑھ لیں دَمْعٌ خَزَقَهُ۔ یہ حروف ہیں مولانا، یہ سات مانع ذکر کیے تو دیکھیے دال، میم، عین، خا، زا، قاف، اور ہا۔ سمجھ میں آیا؟ یہ کتنے ہو گئے؟ سات ہیں مولانا، سات مانع ذکر ہوئے بھئی۔ تو دَمْعٌ آنسو، خَزَقَهُ، خَزَقَ کا معنی ہوتا ہے زخمی کرنا، آر پار ہو جانا۔ تیر یا نیزے کا کسی کے بدن کے آر پار ہو جانا۔ تو ایسا آنسو خَزَقَهُ جو اس کے بدن کے آر پار ہو گیا، یعنی جس نے اسے زخمی کر ڈالا۔ قَدْ قِيلَ، کہا گیا ہے بَيْتٌ شعر مولانا، دیکھیے مولانا، یہ شعر بھئی کہا گیا ہے۔ وَمَانِعُ حَقِّ الرُّجُوعِ إِلَى الْهِبَةِ، اور ہبہ سے رجوع کے حق کا مانع کیا ہے؟ يَا صَاحِبَيَّ، یا صَاحِبِي، یا صَاحِبَيَّ اے میرے دو ساتھیو! حُرُوفٌ دَمْعٌ خَزَقَهُ، کون سے حروف ہیں؟ دَمْعٌ خَزْقَهْ کے حروف ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ بھئی پہلے مصرعے کے اوپر نون لگا ہوا ہے بھئی، یعنی یہ ایک نسخے میں یوں آیا، کچھ نسخوں میں یوں ہے، اور بعض نسخوں میں یہ حاشیے میں لکھا ہوا ہے۔ پہلا مصرع اور طرح آیا، وہ یوں آیا بھئی، وَمَانِعٌ عَنِ الرُّجُوعِ فِي الْهِبَةِ، اور ہبہ میں رجوع سے مانع جو ہیں يَا صَاحِبَيَّ اے میرے دو ساتھیو! حُرُوفُ دَمْعٌ خَزْقَهْ ہیں، یہ حروف ہیں مولانا۔ اب بتلا رہے ہیں ایک ایک حرف کے بارے میں یہ کس سے ہے؟ فَالدَّالُ الزِّيَادَةُ، دال کیا ہے؟ زیادت، دال سے کیا مراد ہے؟ زیادتی، اوپر آیا تھا نا مَنَعَهُ الزِّيَادَةُ، تو دال سے زیادتی مراد ہے۔ وَالْمِيمُ الْمَوْتُ، اور موت میم سے کیا مراد ہے؟ موت، یعنی دونوں میں سے کسی ایک کا مر جانا۔ وَالْعَيْنُ الْعِوَضُ، اور عین کیا ہے؟ عوض، بھئی ہبہ کا اگر عوض لے لے تو پھر بھی رجوع نہیں ہو سکتا۔ وَالْخَاءُ الْخُرُوجُ، اور خا کیا ہے؟ خروج، بھئی موہوب اگر موہوب لہ کی ملک سے خارج ہو جائے تو بھی رجوع نہیں ہو سکتا۔ وَالزَّاءُ الزَّوْجِيَّةُ، اور زا سے زوجیت مراد ہے، کیونکہ زوجیت والا رشتہ ہو تو بھی رجوع نہیں ہو سکتا۔ وَالْقَافُ الْقَرَابَةُ، اور قاف سے کیا مراد ہے؟ قرابت بھئی، موہوب لہ اور واہب میں قرابت محرمیت والا رشتہ ہو تو بھی رجوع نہیں ہو سکتا۔ وَالْهَاءُ الْهَلَاكُ، اور ہا ہلاک سے ہے، بھئی موہوب اگر ہلاک ہو جائے تو بھی رجوع نہیں ہو سکتا، یہ بھئی حروف ہیں۔ تو یہ حروف یاد رکھیے بھئی، تو مثلاً اگر امتحان میں سوال آ جائے کہ ہبہ سے رجوع کے موانع کون کون سے ہیں؟ تو آپ آسانی سے اسے حل کر سکتے ہیں۔ وَرَجَعَ فِي اسْتِحْقَاقِ نِصْفِ الْهِبَةِ بِنِصْفِ عِوَضِهَا لَا فِي اسْتِحْقَاقِ نِصْفِ الْعِوَضِ حَتَّى يَرُدَّ مَا بَقِيَ۔ صورت مسئلہ یہ ہے بھئی، آپ کو میں نے ایک مکان ہبہ کیا بھئی تحفے کے طور پر دے دیا، آپ نے کہا بھئی آپ نے چونکہ مکان مجھے تحفے کے طور پر دیا ہے، تو بدلے کے طور پر میری طرف سے یہ چار کتابیں آپ رکھیے۔ تو آپ نے مجھے ہبہ کا عوض دے دیا۔ اب میں ہبہ میں رجوع کر سکتا ہوں؟ ہبہ میں رجوع نہیں کر سکتا، کیونکہ یہ بیع کی صورت بن گئی بھئی۔ اب بھئی، میں نے جو مکان آپ کو دیا تھا، اس میں نصف کا کوئی اور مستحق نکل آیا۔ مثلاً نصف مکان کسی اور کا نکلا، تو آپ نے مجھے پورے مکان کے بدلے کتنی کتابیں دی تھیں؟ چار کتابیں، تو نصف مکان تو کسی اور کا مستحق ہو گیا، کسی اور کی ملکیت نکل آئی، تو اس کا عوض کتنی کتابیں بنی؟ دو کتابیں، تو میں آدھے عوض کے اندر کیا کروں گا؟ تو آپ دو میں رجوع کر سکتے ہیں، آئیں گے اور آ کر کہہ سکتے ہیں بھئی میری دو کتابیں دے دو کیونکہ یہ دو کس کے عوض میں تھی؟ نصف مکان کے عوض میں، اور وہ نصف تو کسی کا نکل آیا، لہٰذا یہ عوض مجھے واپس لوٹا دو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لیکن اگر اس کا عکس ہوا مولانا، پہلے تو تھا کہ ہبہ کے اندر کوئی مستحق نکل آیا۔ اب ہے جو عوض ہے، اس میں کوئی مستحق نکل آتا ہے۔ آپ نے مجھے چار کتابیں دی تھیں، اور یہ چار کتابیں عوض ہیں کس چیز کا؟ مکان کا۔ ان کتابوں میں سے کچھ کا مستحق نکل آتا ہے، مثلاً دو کتابوں کا کوئی اور مستحق نکل آیا۔ پتہ لگا یہ کسی اور کی تھیں، وہ مجھ سے آ کر لے جاتا ہے مولانا۔ تو میرا نصف عوض چلا گیا، تو کیا اب میں نصف مکان میں رجوع کر سکتا ہوں یا نہیں کر سکتا؟ بھئی جب عوض لیا تھا میرا تو حق رجوع ختم ہو گیا تھا، لیکن جب عوض کا کوئی مستحق نکل آیا، اور وہ عوض کچھ میرے ہاتھ سے نکل جائے، تو کیا اب میں اتنے حصے میں رجوع کر سکتا ہوں یا نہیں کر سکتا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی اب رجوع نہیں کر سکتا۔ پہلے یہ صورت تھی کہ چار کتابیں پورے مکان کا عوض سمجھی جا رہی تھیں، اب یہ سمجھا جائے گا اس نے مکان کے عوض میں کتنی کتابیں دی ہیں؟ دو دی ہیں صرف بھئی۔ ہاں، ایک صورت میں میں رجوع کر سکتا ہوں، کہ میں یہ دو کتابیں بھی آپ کو واپس کر دوں، اور اب کیا کر لوں؟ پورے مکان میں رجوع کر لوں۔ یہ اختیار مجھے ہے۔ سمجھ میں آیا؟ کیوں؟ اس لیے کہ ہبہ میں رجوع کا حق ساقط ہوا تھا، اس شرط پر ساقط ہوتا تھا کہ عوض میرے لیے سلامت رہے۔ عوض میرے لیے سلامت رہا نہیں، وہ تو نصف کوئی لے گیا، تو اب مجھے شرع نے حق دیا بھئی، میں یہ بھی باقی واپس کر کے پورے ہبہ میں رجوع کر سکتا ہوں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو خلاصہ بحث کیا ہوا؟ کہ ہبہ کے اندر کوئی مستحق نکل آئے، تو عوض میں رجوع ہو سکتا ہے۔اسی کے بقدر ۔ لیکن اگر عوض میں کوئی مستحق نکل آئے تو پھر اسی کے بقدر رجوع نہیں ہوسکتا البتہ اختیار ہے کہ باقی عوض بھی واپس کر کے پورے ہبہ میں کیا کر لے؟ رجوع کر لے، یہ معنی ہے۔ وَرَجَعَ اور رجوع کرے گا بھئی مَوْهُوب لَہُ۔ کون رجوع کرے گا؟ مَوْهُوب لَہُ بھئی، رجوع کرے گا مَوْهُوب لَہُ فِی اسْتِحْقَاقِ نِصْفِ الْهِبَةِ۔ کس صورت میں؟ جبکہ نصف ہبہ کا استحقاق نکل آئے بھئی، یعنی اس کا کوئی مستحق نکل آئے۔ کتنے میں رجوع کرے گا؟ بِنِصْفِ عِوَضِھَا اس کے نصف عوض جو اس نے دیا تھا اس میں رجوع کر لے گا، لے لے گا۔ اِلَّا فِی اسْتِحْقَاقِ نِصْفِ الْعِوَضِ مگر، نہیں لا، لا فِی اسْتِحْقَاقِ نِصْفِ الْعِوَضِ مگر اگر نصف عوض کا استحقاق نکل آئے اس صورت میں رجوع نہیں کر سکتا حَتَّیٰ یَرُدَّ مَا بَقِيَ یہاں تک کہ ما بقیہ کو بھی کیا کر دے؟ واپس لوٹا دے۔ ھٰذَا عِنْدَنا یہ ہمارے نزدیک ہے، وَعِنْدَ زُفَرَ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی اور امام زُفَرَ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یَرْجِعُ بِالنِّصْفِ بھئی کہ یہاں پر بھی رجوع بالنصف کر سکتا ہے۔ ہبہ میں آدھے کا کوئی مستحق نکل آتا تھا، تو عوض میں کیا ہوتا تھا؟ رجوع ہوتا تھا اسی کے بقدر بھئی۔ اور اگر عوض کا کوئی مستحق نکل آئے، تو اسی کے بقدر ہبہ میں بھی کیا ہو سکتا ہے؟ مطلب دو کتابیں کسی اور کی نکل آئیں، تو یہ دو کتابیں کتنے کا عوض تھیں؟ نصف دار کا۔ تو امام زُفَرَ فرماتے ہیں: کہ نصف دار میں واحد کیا کر سکتا ہے؟ رجوع کر سکتا ہے۔ تو وہ فرماتے ہیں: یَرْجِعُ بِالنِّصْفِ، رجوع بالنصف کر سکتا ہے اِعْتِبَارًا بِالْعِوَضِ الْآخَرِ اعتبار کرتے ہوئے، قیاس کرتے ہوئے دوسرے عوض پر۔ جیسے ہبہ کے اندر مولانا کوئی مستحق نکل آتا تھا، تو ہم کہتے تھے کہ اب عوض کے اندر وہ کیا کر سکتا ہے؟ رجوع کر سکتا ہے اسی کے بقدر، تو اگر عوض میں کوئی مستحق نکل آئے، تو ہبہ کے اندر بھی اسی کے بقدر کیا کر سکتا ہے؟ رجوع، کیونکہ دونوں ایک دوسرے کا عوض ہیں، وَلَنَا یہ امام زُفَرَ کی دلیل تھی، وَلَنَا اور ہماری دلیل یہ ہے: اَنَّهُ ظَهَرَ بِالِاسْتِحْقَاقِ کہ استحقاق سے یہ بات ظاہر ہو گئی کہ اَنَّ الْعِوَضَ هُوَ الْبَاقِي فَقَطْ کہ عوض تو صرف باقی ہی ہے۔ چار کتابیں نہیں تھیں، چار میں سے کتنے کا کوئی مستحق نکل آیا؟ دو کا، تو کتنی باقی رہ گئیں؟ دو، تو معلوم ہوا استحقاق سے پتہ لگا کہ عوض صرف دو کتابیں تھیں، چار تھی ہی نہیں بھئی، یعنی یہ دو ہی کل کا عوض ہو جائیں گی۔ فَمَا لَمْ يَرُدَّهُ لَا يَرْجِعُ بِالْهِبَةِ تو جب تک اس باقی کو واپس نہیں کر دیتا، تو ہبہ میں رجوع نہیں کر سکتا، وَإِنَّمَا يَكُونُ لَهُ حَقُّ الرَّدِّ بھئی اس کا اچھا یہ باقی دو کتابیں واپس کرنے کا حق آپ نے اسے کیوں دیا؟ کہ باقی دو بھی واپس کر کے پورے ہبہ میں کیا کر سکتا ہے؟ رجوع۔ کہتے ہیں اس لیے وَإِنَّمَا يَكُونُ لَهُ حَقُّ الرَّدِّ اس کو واپس یہ باقی کا بھی واپس کرنے کا حق ہے لِأَنَّهُ لَمْ يَسْقُطْ حَقُّ الرُّجُوعِ اس لیے کہ اس کا ہم نے کیا تھا بھئی؟ رجوع کا حق کیا ہوا تھا؟ ساقط، تو رجوع کا حق ساقط نہیں ہوا تھا اِلَّا أَنْ يَسْلَمَ لَهُ كُلُّ الْعِوَضِ مگر یہ کہ اس کے لیے سلامت رہے سارا عوض۔ سلامت رہے سارا عوض۔ بھئی میں نے آپ کو مکان دیا، آپ نے مجھے کتابیں دیں، تو شریعت نے کیا حکم دیا؟ کہ رجوع کا حق ساقط ہو گیا، تو یہ شریعت نے یہ رجوع کا حق کیوں ساقط کیا؟ کیونکہ میں نے عوض لے لیا، تو یہ رجوع کا حق ساقط ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ عوض پورا تو رہے اب، اب وہ پورا جب نہیں رہا، تو لہٰذا اب اس باقی کو واپس کر کے مجھے پھر رجوع کرنے کا حق مل جائے گا۔ اگر وہ پورا عوض میرے پاس رہتا، پھر تو رجوع کا حق نہیں تھا، جب پورا رہا نہیں میرے پاس، سلامت نہ رہا میرے لیے، تو اب اور سلامتی تو ضروری تھی، کیونکہ سلامتی کی صورت میں ہی تو کیا تھا؟ میرا رجوع کا حق کیا ہو رہا تھا؟ ساقط، تو جب وہ سلامت نہیں رہا، پورا نہیں رہا، تو شریعت نے مجھے پھر کیا حق دے دیا؟ کہ ما بقیہ کو بھی واپس کر کے آپ پورا مکان واپس لے لو۔ سمجھ میں آیا؟ تو چار کتابیں میں نے لی تھیں، تو میرا حق ساقط ہو گیا تھا رجوع کا، اور جب تک یہ چار میرے لیے سلامت رہتی ہیں، یہ چاروں میرے پاس رہتی ہیں، مجھے شریعت حق رجوع کا نہیں دیتی، لیکن جب یہ عوض میرے پاس سلامت نہیں رہا، تو شریعت نے پھر مجھے کیا دے دیا؟ کہ آپ کا حق رجوع کیوں گرا تھا؟ کہ آپ نے چار چیز کتابیں لی تھیں، اب وہ چار جب تک آپ کے پاس ہیں، سالم ہیں، آپ کے لیے سلامت ہیں، آپ رجوع آپ عوض لے چکے ہیں، لیکن جب آپ کے پاس یہ چار سلامت نہیں رہیں، تو اب وہ جو حق ہم نے آپ کا ساقط کیا تھا، اس میں ہم پھر آپ کو رجوع کا حق دے دیں گے بشرطیکہ بقیہ بھی کیا کر دیں آپ؟ واپس کر دیں۔ لِأَنَّهُ لَمْ يَسْقُطْ حَقُّ الرُّجُوعِ اس لیے کہ ہر رجوع کا حق ساقط نہیں ہوا تھا، اِلَّا أَنْ يَسْلَمَ لَهُ كُلُّ الْعِوَضِ مگر یہ کہ سلامت رہے مَوْهُوب لَہُ کے لیے سارا عوض۔ نہیں مَوْهُوب لَہُ نہیں واہِب بھئی، واہِب کے لیے سلامت رہے سارا عوض وَلَمْ يَسْلَمْ اور سارا عوض تو سلامت نہیں رہا، تو لہٰذا اب واپس کر کے رجوع کر سکتا ہے۔ وَلَوْ عُوِّضَ نِصْفُهَا رَجَعَ بِمَا لَمْ يُعَوَضْ صورت مسئلہ یہ ہے، ادھر دیکھو بھئی! میں نے آپ کو مکان دیا، آپ نے مجھے ایک قلم عوض کے طور پر دیا، لیکن کیا کہا آپ نے؟ آپ نے کہا بھئی یہ نصف مکان کا عوض کے طور پر میں یہ قلم آپ کو دیتا ہوں۔ کس کے طور پر؟ تو آپ نے اضافت کی کل کی عوض کی طرف کل کی طرف یا نصف کی طرف؟ تو نصف کے اندر رجوع ساقط اور نصف کے اندر اب بھی میں کیا کر سکتا ہوں؟ رجوع کر سکتا ہوں۔ کیونکہ اس کا عوض نہیں آیا، یہ معنی ہے، وَلَوْ عُوِّضَ نِصْفُهَا اگر عوض دے دیا گیا نصف ہبہ کا، تو رَجَعَ بِمَا لَمْ يُعَوَضْ تو رجوع کرے گا اس کے ساتھ جس کا عوض نہیں دیا گیا۔ فَلَوْ بَاعَ ادھر دیکھیے بھئی، صورت مسئلہ یہ ہے: میں نے آپ کو مکان ہبہ کیا تھا، آپ نے نصف مکان آگے بیچ دیا، تو وہ تو آپ کی ملک سے خارج ہوا، تو اس میں تو رجوع نہیں ہو سکتا، نصف ابھی آپ کے پاس ہے، کیا اس میں رجوع ہو سکتا ہے یا نہیں؟ کہتے ہیں ہاں اس کے اندر کیا ہو سکتا ہے؟ رجوع ہو سکتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ پورے مکان میں مجھے رجوع کا حق تھا مولانا، اب نصف ہے تو ہو نہیں سکتا وہ آپ کی ملک سے خارج، لیکن نصف ابھی بھی کیا ہے؟ آپ کی ملک میں، تو اس میں رجوع کر سکتا ہوں بھئی۔ یا مولانا آپ نے آگے بیچا کوئی نہیں، سارا مکان ابھی بھی آپ کے پاس ہے، لیکن میں صرف نصف میں رجوع کرتا ہوں یا صرف ثلث میں رجوع کرتا ہوں، تو کیا پورے میں رجوع کرنا ضروری ہے یا نصف اور ثلث میں بھی رجوع ہو سکتا ہے؟ کہتے ہیں نصف اور ثلث میں یا جتنے میں رجوع کرنا چاہے رجوع کر، کیونکہ جب سارے میں رجوع کا حق ہے، تو نصف میں بطریق اولی کیا ہے؟ رجوع کا حق ہے۔ یہ معنی ہے، فَلَوْ بَاعَ نِصْفَهَا اگر مَوْهُوب لَہُ نے بیچ دیا نصف ہبہ کو، وَلَمْ يَبِعْ يَا وَلَمْ يَبِعْ شَيْئًا یا بیچا تو کچھ بھی نہیں ہے اس میں سے، رَجَعَ فِي النِّصْفِ تو بھی واہِب کو حق ہے کہ نصف میں کیا کر سکتا ہے؟ دونوں صورتوں میں۔ یعنی ان باء المَوْهُوب لَہُ نصف الهبةِ اگر بیچ دیا بھئی مَوْهُوب لَہُ نے نصف ہبہ کو، فَلِلْوَاهِبِ تو واہِب کے لیے جائز ہے اَنْ يَرْجِعَ فِي النِّصْفِ الْبَاقِي کہ وہ نصف باقی میں کیا کر لے؟ رجوع کر لے، وَكَذَا اِذَا لَمْ يَبِعْ شَيْئًا اسی طرح اگر اس نے کچھ بھی نہیں بیچا تھا، فَلِلْوَاهِبِ حَقُّ الرُّجُوعِ فِي النِّصْفِ تو واہِب کو رجوع کرنے کا حق ہے نصف کے اندر، لِأَنَّ لَهُ بھئی نصف میں کر رہا ہے صرف باقی میں رجوع نہیں کر رہا کیوں صحیح ہے؟ کہتے ہیں لِأَنَّ لَهُ الرُّجُوعَ فِي الْكُلِّ اس لیے کہ اس کے لیے رجوع کرنا جائز ہے سارے میں، وَفِی النِّصْفِ أَوْلٰی تو نصف کے اندر بطریق اولیٰ جائز ہے۔ وَلَا يَصِحُّ إِلَّا بِطَرَاضٍ أَوْ حُكْمِ قَاضٍ بھئی صورت دیکھو بھئی، میں نے آپ کو مکان ہبہ کیا تھا، اب مجھے شریعت نے رجوع کرنے کا حق دیا ہے، میں کیا کر سکتا ہوں؟ ہبہ کے اندر رجوع کر سکتا ہوں، لیکن کیا میں اس میں مستقل ہوں؟ میں کہہ دیتا ہوں لاؤ بھئی میرا مکان واپس کرو، لے سکتا ہوں ایسے یا نہیں؟ کہتے ہیں نہیں ایسے نہیں لے سکتے، اب مَوْهُوب لَہُ کی رضامندی بھی ضروری ہے، اگر وہ بھی تیار ہو جاتا ہے، تو آپ اس سے کیا کر لیں؟ ہبہ میں رجوع کر لیں، اور اگر وہ تیار نہیں ہوتا، تو پھر اس صورت میں قضا قاضی کی ضرورت پڑے گی، آپ کس کے پاس جائیں گے؟ قاضی کے پاس، اور قاضی آپ کا مکان آپ کو واپس دلوا دے گا۔ تو معلوم ہوا دو چیزوں میں سے ایک ضروری، یا تو مَوْهُوب لَہُ کی رضامندی ہو جائے یا قضائے قاضی، پھر رجوع ہو سکتا ہے۔ یہ معنی ہے، وَلَا يَصِحُّ اور رجوع ہبہ کے اندر صحیح نہیں، إِلَّا بِطَرَاضٍ مگر دونوں کی باہمی رضامندی سے، أَوْ حُكْمِ قَاضٍ یا قاضی کے فیصلے سے۔ بھئی میں نے آپ کو ایک غلام ہبہ کیا تھا، آپ کو ایک غلام ہبہ کیا تھا، بعد میں میں نے ہبہ میں رجوع کرنا چاہا، میں نے کہا لاؤ بھئی میرا غلام مجھے واپس کر دو، آپ نے انکار کر دیا نہیں بھئی میں غلام واپس نہیں کروں گا، میں قاضی کے پاس چلا گیا ابھی فیصلہ نہیں ہوا تھا، آپ نے دیکھا غلام ہاتھ سے نکلنے لگا ہے، آپ نے فورا کہا جاؤ بھئی میں نے تجھے آزاد کیا، تو کیا غلام آزاد آپ کر سکتے ہیں اور آپ پر کوئی ضمان آئے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی آپ پر کوئی زَمَن غلام آزاد کرنا صحیح اور آپ پر ضمان بھی نہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ ابھی رجوع ہوا نہیں مولانا، اور جب میں نے آپ کو مالک بنا دیا تھا، تو اب آپ کیا کر سکتے تھے؟ آزاد کر سکتے ہیں، اور یہ جو ہبہ پر قبضہ ہے یہ مضمون ہے یا غیر مضمون؟ غیر، آپ کو میں نے غلام دیا، غلام کبھی مر جائے تو بھی ضمان آئے گا؟ میں نے تو دے دی چیز بھئی اس میں ضمان نہیں آیا کرتا بھئی، بات سمجھ میں آئی؟ یہ معنی ہے، وَلَوْ أَعْتَقَ الْمَوْهُوبَ وَلَوْ أَعْتَقَ الْمَوْهُوبَ اگر آزاد کر دیا مَوْهُوب غلام کو، بَعْدَ الرُّجُوعِ کس کے بعد؟ رجوع کے بعد آزاد کرتا ہے، قَبْلَ الْقَضَا لیکن قضائے قاضی سے پہلے، صَحَّ حِیح ہے یہ آزاد کرنا صحیح، اَيْ أَعْتَقَ الْمَوْهُوبَ لَهُ اَمَوْهُوب لَهُ آزاد کر دیا مَوْهُوب لَہُ نے، کسے آزاد کیا؟ الْمَوْهُوبَ، مَوْهُوب غلام یا باندی کو، وَلَوْ مَنَعَهُ فَهَلَكَ لَمْ يَضْمَنْ اچھا صورت یہ، آپ کو میں نے غلام دیا تھا، میں نے بعد میں کہا لاؤ بھئی میرا غلام مجھے واپس کر دو، آپ نے انکار کر دیا، کہ نہیں بھئی میں غلام واپس نہیں دوں گا، پھر غلام آپ کے پاس ہلاک ہوا، تو کیا آپ پر ضمان آئے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی ضمان نہیں بھئی کیونکہ میں نے خود ہبہ تک کیا تھا اور ہبہ عقد کس قسم کا ہے؟ غیر مضمون اور ابھی تک قاضی کا فیصلہ نہیں آیا بھئی۔ یہ معنی ہے وَلَوْ مَنَعَهُ اگر مَوْهُوب لَہُ نے روک لیا اس کو، فَهَلَكَ پس وہ ہلاک ہو گیا ہبہ لَمْ يَضْمَن تو اس صورت میں اس پر وہ ضامن نہیں ہو گا، اَيْ مَنَعَ الْمَوْهُوبَ لَهُ منع کیا مَوْهُوب لَہُ نے مَوْهُوب کو، عَنِ الْوَاهِبِ کس سے روکا؟ واہِب سے روک لیا، بَعْدَ مَا رَجَعَ بعد اس کے کہ اس نے رجوع کر لیا تھا، لَكِنْ لَمْ يَقْضِ الْقَاضِي لیکن قاضی نے ابھی فیصلہ نہیں کیا تھا، فَهَلَكَ الْمَوْهُوبُ فِي يَدِ الْمَوْهُوبِ لَهُ تو پس ہلاک ہوا مَوْهُوب مَوْھوب لَہُ کے قبضے میں، لَا يَضْمَنُ تو وہ ضامن نہیں ہوگا۔ تیسری صورت بھئی، قاضی نے فیصلہ بھی کر دیا، قاضی کے پاس میں چلا گیا کہ میرا غلام مجھے واپس دلوایا جائے قاضی نے فیصلہ کر دیا، قاضی کے فیصلے کے بعد ابھی غلام میں نے آپ کو آپ نے مجھے واپس نہیں کیا کہ اپ کے ہاں غلام ہلاک ہوا، تو کہتے ہیں اس صورت میں بھی ضمان نہیں آئے گا بھئی۔ وَكَذَا إِنْ هَلَكَ فِي يَدِهِ بَعْدَ قَضَاءِ الْقَاضِي اسی طرح اگر وہ ہبہ ہلاک ہو جائے کس کے قبضے میں؟ مَوْهُوب لَہُ کے قبضے میں بَعْدَ قَضَاءِ الْقَاضِي قاضی کے فیصلے کے بعد، تو اس صورت میں بھی ضمان نہیں آئے گا، لِأَنَّ يَدَهُ غَيْرُ مَضْمُونَةٍ اس لیے کہ اس کا قبضہ کس قسم کا ہے؟ غیر مضمون ہے۔ ہاں! قاضی نے فیصلہ کر دیا کہ اس کو غلام کیا کرو؟ واپس کرو، اب میں نے آپ سے کہا لاؤ بھئی میرا غلام مجھے دو، اور اب آپ غلام دینے پر اس وقت قادر بھی ہیں، غلام آپ کے قریب ہی ہے، آپ میرے حوالے اس کو کر سکتے ہیں، سمجھ میں آیا؟ یا آپ گھر کے پاس ہیں، غلام گھر کے اندر ہے، آپ ملا کر میرے حوالے کر سکتے ہیں، تو تسلیم پر آپ قادر بھی ہیں، قاضی کا بھی فیصلہ ہو چکا، اور میں نے آپ سے طلب کیا، اور اب آپ تسلیم پر قادر بھی ہیں، اور پھر آپ انکار کرتے ہیں، نہیں بھئی میں تو نہیں دیتا، اب غلام ہلاک ہوا، تو اب کیا آئے گا؟ ضمان آئے گا بھئی، کیونکہ آپ غاصب بن گئے۔ إِلَّا إِذَا طَلَبَهُ مگر یہ کہ جب وہ طلب کرے، فَمَنَعَهُ پھر منع وہ اس کو روکتا ہے، مَعَ الْقُدْرَةِ عَلَى التَّسْلِيمِ سات سپرد کرنے کی قدرت کے، یہ بھی قدرت بھی ہے، پھر تو اس صورت میں ضمان آئے گا۔ وَهُوَ مَعَ أَحَدِهِمَا جِی آگے متن ہے: فَسْخٌ مِنَ الْأَصْلِ فَسْخٌ مِنَ الْ وَهُوَ اور وہ ان دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ یہ فسخ ہے اصل سے، بھئی کون ان دونوں کے ساتھ؟ یہ ضمیریں کس کو راجع ہیں؟ بتلا رہے ہیں۔ متن میں کون سی ضمیر آئی؟ ہوا، کہتے ہیں ہوا کس کو راجع؟ اَی الرُّجُوعُ، کس کو راجع؟ رجوع کو، اور احدھما یہ ہما ضمیر کس کو راجع؟ کہتے ہیں ترازی اور قضائے قاضی مع التراضی او قضاء القاضی ان دو کو راجع ہے، ضمیر کا مرجع بتلاتا ہے: وَهُوَ مَعَ أَحَدِهِمَا اور وہ ان دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ، یعنی اَی الرُّجُوعُ مَعَ التَّرَاضِي اَوْ قَضَاءِ الْقَاضِي یعنی رجوع کس کے ساتھ؟ باہمی رضامندی کے ساتھ اور قَضَاءِ الْقَاضِي یا کس کے ساتھ؟ قاضئے قاضی کے ساتھ جب رجوع پایا جائے، تو فَسْخٌ مِنَ الْأَصْلِ یہ کیا ہے؟ فسخ ہے اصل سے، سرے سے ہی فسخ یعنی تو تو دیکھیے بھئی! میں نے آپ کو غلام دیا تھا، اب وہ غلام میں نے آپ سے واپس لے لیا، آپ کی رضامندی سے لے لیا یا قضائے قاضی سے لے لیا، تو اب غلام آپ مجھے واپس دیتے ہیں، تو یہ غلام مجھے واپس دے رہے ہیں، یہ ہبہ جدید نہیں شمار ہوگا، بلکہ یہ وہی کہ اسی ہبہ کو ہم نے کیا کر دیا؟ فسخ کر دیا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو لہٰذا اگر ہبہ جدید ہوتا، دیکھو بھئی! ہبہ جدید ہوتا، تو ہبہ تو کس سے تام ہوتا ہے؟ قبضے سے، کس سے؟ قبضے سے، لیکن یہ ہبہ جدید نہیں، لہٰذا جب یہ فسخ من الاصل ہوا، تو بغیر قبضے ہی کے رجوع کیا ہو گیا؟ تام ہو گیا، قضا، اس میں قبضے کی ضرورت، ہاں اگر یہ ہبہ جدید ہوتا پھر تو کیا ضرورت ہوتی؟ قبضے کی ضرورت ہوتی، اس کے بغیر تام نہ ہوتا بھئی۔ یہ معنی ہے وَهُوَ کی فَسْخٌ مِنَ الْأَصْلِ یہ سرے سے ہی فسخ ہے، لَا هِبَةٌ لِلْوَاهِبِ یہ واہِب کے لیے کوئی ہبہ نہیں ہے، یعنی کہ اب آپ نے پھر واہِب کو کیا کر دیا یہ؟ ہبہ کر دیا، فَلَمْ يُشْتَرْطْ قَبْضُهُ لہٰذا اس پر قبضے کی شرط بھی نہیں لگائی گئی بھئی، نہیں لگائی جائے گی۔ وَصَحَّ فِي الْمُشَاعِ، صَحَّ اَیْ رُجُوعٌ اَیْ صَحَّ الرُّجُوعُ فِي الْمُشَاعِ، صحیح ہے رجوع کرنا مشاع چیز کے اندر بھئی۔ کس کے اندر؟ مشاع چیز کے اندر بھی رجوع کرنا صحیح ہے بھئی۔ کیوں صحیح ہے؟ بھئی مشاع چیز کا ہبہ تو صحیح نہیں تھا، لیکن مشاع چیز کے اندر رجوع کرنا صحیح ہے، کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ یہ رجوع نئے ہبہ کے حکم میں، بھئی ہبہ اگر یہ نئے ہبہ کے حکم میں ہوتا، تو ہبہ تو مشاع کے اندر جائز نہیں تھا، تو رجوع بھی مشاع کے اندر جائز نہیں ہونا چاہیے تھا، لیکن چونکہ یہ فسخ ہے، تو مشاع چیز کے اندر بھی جائز۔ مشاع چیز میں کیسے ہے مثلاً؟ دیکھو مولانا، مَسْلاً بھئی، میں نے آپ کو ایک گھر دیا، اور پھر بعد میں میں نصف دار میں رجوع کر لیتا ہوں، میں کہتا ہوں بھئی میں نے نصف میں رجوع کر لیا، نصف گھر میرے ہ مجھے نصف گھر مجھے واپس کر دو، آپ نے مجھے آپ نے کیا کیا؟ قبول کر لیا، تو اب وہ گھر آپ کا میرا مشترکہ ہو گیا، کوئی حد بندی نہیں کی تھی کہ کہاں سے کہاں تک میرا ہے، سمجھ میں آیا نصف مشاع میں میں نے رجوع کیا، تو یہ کیا ہے؟ رجوع صحیح ہے، تو دیکھو پہلے گھر وہ تھا میرا، میں نے پھر دے دیا آپ کو، پھر نصف میں کیا کر لیا؟ رجوع کر لیا، تو اب وہ گھر نصف آپ کا اور نصف میرا ہو گیا، تو دیکھو رجوع ہوا اور کس چیز میں ہوا؟ مشاع میں، صورت سمجھ میں آگئی؟ یا اور صورت بنا لو مولانا، میں نے ایک مکان آپ دو ساتھیوں کو ہبہ کیا، یہ صاحبین کے قول کے مطابق، کس کے قول کے مطابق؟ یوں تو امام صاحب کے نزدیک تو یہ جائز نہیں۔ میں نے ایک مکان دو آدمیوں کو کیا کیا؟ ہبہ کیا، تو اب نصف ایک کا ہوا، نصف دوسرے کا ہوا، مشاع ہو گیا، صاحبین کے نزدیک یہ جائز ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ اب اس مشاع میں سے ایک کے حصے میں میں کیا کر لیتا ہوں؟ ایک آدمی کے حصے میں رجوع کرتا ہوں کہ تمہیں جو حصہ مکان کا ملا ہے، میں اس میں کیا کرتا ہوں؟ اس نے قبول کر لیا، تو اب مشاع میں رجوع صحیح ہو گیا، صورت سمجھ میں آئی؟ تو یہ ہبہ جدید نہیں، ورنہ تو مشاع کے اندر رجوع نہیں ہو سکتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یا ایک صورت اور بنا لو مولانا، دیکھو بھئی! میں نے ایک مکان آپ کو ہبہ کیا بھئی، یہ آپ کا ہو گیا، بعد میں اس نصف مکان کا کوئی اور مستحق نکل آیا، تو وہ نصف مکان اس کا ہوا، اور نصف مَوْهُوب لَہُ آپ کا ہو گیا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ آپ کا، تو اب مکان مشاع ہے، مشترکہ ہے، تو اب آپ کے پاس نصف مکان باقی، اور وہ مشاع ہے، اور میں اس میں رجوع کرنا چاہوں، تو کیا کر سکتا ہوں؟ رجوع کر سکتا ہوں، کیونکہ یہ ہبہ جدید نہیں ہے۔ یہ معنی ہے وَصَحَّ فِي الْمُشَاعِ اور صحیح ہے رجوع کرنا مشاع کے اندر بھئی، فَإِنْ طَلَقَ الْمَوْهُوبُ اگر طلق ہو گیا مَوْهُوب بھئی، صورت مسئلہ یہ ہے بھئی، میں نے آپ کو مکان ہبہ کیا تھا یا یوں کہو گاڑی بنا لو مثال۔ میں نے آپ کو ایک گاڑی ہبہ کی مولانا۔ وہ گاڑی آپ کے پاس ہلاک ہو گئی۔ بعد میں پتہ چلا بھئی کہ وہ گاڑی تو میری نہیں تھی بلکہ کس کی تھی؟ زید کی تھی کوئی اور مستحق نکل آیا۔ اس نے آ کر آپ پر دعویٰ کر دیا کہ میری گاڑی آپ کے پاس چونکہ ہلاک ہوئی ہے مجھے زمان دو۔ آپ نے اس کو زمان دے دیا تو کیا اب آپ واہب پر رجوع کریں گے؟ کہتے ہیں نہیں بھئی۔ مَوْهُوبٌ لَهُ اگر اس کو زمان دینا پڑ جائے اس ہبے کا مستحق نکلنے کی صورت میں تو وہ واہب پر رجوع نہیں کر سکتا۔ کیوں نہیں رجوع کر سکتا؟ کہتے ہیں اس لیے کہ ہبہ کوئی عَقْدُ مُعَاوَضَةٍ نہیں ہے بلکہ یہ تو عَقْدُ تَبَرُّعٍ احسان کا ہے مولانا تو اس میں لہٰذا وہ رجوع نہیں۔ یہ عَقْدُ تَبَرُّعٍ، عَقْدُ مُعَاوَضَةٍ ہوتا تو پھر ضروری تھا کہ میں کس قسم کی چیز دوں آپ کو؟ جو سلامت ہو بھئی، کسی اور کی سالم چیز آپ کو دوں بھئی، آپ کو کسی اور کی نہ ہو۔ عَقْدُ مُعَاوَضَةٍ میں ایسا ضروری ہے، عَقْدُ تَبَرُّعٍ کے اندر نہیں بھئی تو اس میں ضمان نہیں ہے۔ فَإِنْ تَلِفَ الْمَوْهُوبُ اگر مَوْهُوب شے تلف ہو گئی، أَيْ فِي يَدِ الْمَوْهُوبِ لَهُ کس کے قبضے میں تلف ہوئی؟ مَوْهُوبٌ لَهُ کے قبضے میں تلف ہوئی۔ فَاسْتُحِقَّ پھر کیا ہوا؟ کوئی اس کا استحقاق نکل آیا یعنی کوئی مستحق نکل آیا۔ فَضَمَّنَ الْمَوْهُوبَ لَهُ اس نے ضامن بنایا کس کو؟ مَوْهُوبٌ لَهُ کو۔ لَمْ يَرْجِعْ عَلَى واهِبِهِ تو اب مَوْهُوبٌ لَهُ واہب پر رجوع نہیں کر سکتا۔ لِأَنَّ الْهِبَةَ اس لیے کہ ہبہ جو ہے عَقْدُ تَبَرُّعٍ یہ عَقْدُ تَبَرُّعٍ ہے مولانا۔ فَلَا يَسْتَحِقُّ فِيهَا السَّلَامَةَ لہٰذا اس میں وہ سلامت سلامتی کا مستحق نہیں۔ بھئی عَقْدُ مُعَاوَضَةٍ ہو تو عوض لینے والا اس کا حق ہوتا ہے اس کو کس قسم کی چیز دی جائے؟ سالم چیز سلامت چیز دی جائے لیکن یہ عَقْدُ تَبَرُّعٍ ہے اس میں اس کا یہ حق نہیں ہے بھئی۔ میں نے کوئی عوض تو نہیں لیا میں نے تو آپ کو ویسے گاڑی دی تھی بھئی۔ وَهِيَ بِشَرْطِ الْعِوَضِ هِبَةٌ ابْتِدَاءً فَيُشْتَرَطُ قَبْضُهُمَا وَتَبْطُلُ بِالشُّيُوعِ۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی۔ صورتِ مسئلہ، بھئی میں نے آپ کو ایک مکان ہبہ کیا لیکن ساتھ شرط لگا دی کہ آپ بھی مجھے عوض دیں گے۔ میں نے کہا بھئی یہ مکان میں آپ کو ہبہ کرتا ہوں اس شرط پر کہ آپ اپنا فلاں مکان مجھے دے دیں گے۔ آپ فلاں مکان مجھے ہبہ کریں گے۔ تو میں ہبہ کر رہا ہوں اور کس شرط پر ہبہ کر رہا ہوں؟ عوض کی شرط پر۔ تو کہتے ہیں یہ صحیح ہے۔ یہ کیا ہے؟ صحیح ہے۔ لیکن ضروری ہے کہ اسی مجلس میں کیا ہو؟ قبضہ کیا جائے، کیا کیا جائے؟ قبضہ کیا جائے اور شُيُوع بھی نہیں ہونا چاہیے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ یوں بناؤ بھئی میں نے آپ کو ایک قلم ہبہ کیا، میں نے کہا بھئی یہ قلم میں آپ کو ہبہ کرتا ہوں اس شرط پر کہ یہ آپ اپنی کتاب مجھے ہبہ کر دیں گے۔ تو مولانا اسی مجلس میں عَوَضَيْنِ پر قبضہ ضروری ہے اور نیس شُيُوع بھی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ شُيُوع کے ساتھ تو ہبہ صحیح نہیں ہے۔ اچھا! کہتے ہیں بھئی یہ جو ہے، یہ جو عقد ہوا دونوں کے درمیان، یہ کیا ہے؟ یہ ہبہ کہلائے گا یا بیع کہلائے گا؟ سمجھ میں آیا؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بیع ہے۔ یہ نام تو ہبہ کا لے رہے ہیں لیکن دراصل کیا ہے؟ بیع کیونکہ دونوں طرف سے عوض آ رہا ہے۔ جب ابتداء تو ان کے نزدیک ابتداءً بھی بیع اور انتہاءً بھی بیع۔ ہمارے نزدیک ابتداءً ہبہ، انتہاءً بیع۔ یہ عقد کس قسم کا ہے؟ ابتداء کے اعتبار سے یہ ہبہ ہے، انتہاء کے اعتبار سے یہ بیع ہے۔ تو احناف نے دونوں چیزوں کی رعایت رکھی کیونکہ لفظ انہوں نے کون سے استعمال کیے تھے؟ ہبہ والے، تو لفظوں کے حکم بھی برقرار رکھا۔ تو ابتداء میں اس کو کیا قرار دیا؟ ہبہ، اور معنی کی بھی رعایت رکھی کہ معنی کے اعتبار سے دیکھا جائے تو دونوں طرف سے عوض آ رہا ہے جو کس میں آیا کرتا ہے؟ بیع کے اندر، تو انتہاء کے اعتبار سے ہم نے اسے کون سا حکم دیا؟ بیع والا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اچھی طرح سب کو دیکھ کے بھئی۔ وَهِيَ اور ہبہ جو ہے بِشَرْطِ الْعِوَضِ بھئی عوض کی شرط کے ساتھ ہِبَةٌ یہ کیا ہے؟ ہبہ ہے ابْتِدَاءً کس اعتبار سے؟ ابتداء کے اعتبار سے ہبہ ہے۔ جب ہبہ ہے ابتداء کے اعتبار سے، تو ہبہ کی شرائط اس میں ہوں گی فَيُشْتَرَطُ قَبْضُهُمَا وَتَبْطُلُ بِالشُّيُوعِ بھئی تو شرط لگائی جائے گی ان دونوں چیزوں پر قبضے کی۔ بھئی ہبہ کے اندر قبضہ ضروری ہوتا ہے یا ضروری نہیں ہوتا؟ تو ہبہ کی شرائط رکھیں گے یہاں، لہٰذا ان دونوں کا فرقبضہ بھی ضروری وَتَبْطُلُ بِالشُّيُوعِ اور شُيُوع کی وجہ سے بھی یہ کیا ہوگا؟ باطل کیونکہ یہ ابتدان ہبہ ہے اور ہبہ شُيُوع میں جاری شُيُوع کی صورت میں جاری نہیں ہوتا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اب بھئی متن میں لفظ آیا تھا قَبْضُهُمَا ان دونوں کا قبضہ کرنا، اس سے کیا مراد ہے؟ ہما ضمیر کس کو راجع ہے؟ علامہ صدر الشریعہ بتائیں گے، یہ ضمیر آپ فاعلوں کو بھی راجع فاعل کو بھی راجع کر سکتے ہیں اور مفعول کو بھی راجع کر سکتے ہیں۔ اگر فاعل کی طرف ضمیر راجع کریں تو مصدر کی اضافت ہوئی فاعل کی طرف اور اگر مفعول کی طرف یہ ضمیر راجع کریں تو قبض مصدر کی اضافت کس کی طرف ہوئی؟ مفعول کی طرف۔ سمجھ میں صورت سمجھ میں آگئی؟ فَيُشْتَرَطُ دیکھو بھئی پہلے متن پہ ہی نظر رکھو، فَيُشْتَرَطُ قَبْضُهُمَا ہما ضمیر ہم پہلے کس کو لوٹاتے ہیں؟ فاعل کو، تو شرط لگائی جائے گی ان دونوں کے قبضہ کرنے کی، کن دونوں کے؟ واہِب اور مَوْهُوبٌ لَهُ کیونکہ وہ فاعل ہیں، قبضہ کرنے والے یہ دونوں ہیں تو یہ فاعل ہیں۔ اچھا، اور اگر بھئی مفعول کی طرف ضمیر لوٹائیں تو کون سی چیزیں ہیں جن پہ قبضہ ہوگا؟ ہبہ اور عوض۔ ہبہ اور عوض، تو اس صورت میں معنی یہ ہوگا فَيُشْتَرَطُ قَبْضُهُمَا تو شرط لگائی جائے گی عوض اور ہبہ پر قبضہ کرنے کی۔ عوض اور ہبہ پر قبضہ کرنے کی، اگر فاعل کی طرف لوٹائیں تو پھر کیا معنی ہوگا؟ شرط لگائی جائے گی واہب اور مَوْهُوبٌ لَهُ کے قبضہ کرنے کی۔ تو کہتے ہیں يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ قَبْضُهُمَا مِنْ بَابِ إِضَافَةِ الْمَصْدَرِ إِلَى الْفَاعِلِ جائز ہے کہ قَبْضُهُمَا میں کس بات سے ہو؟ إِضَافَةِ الْمَصْدَرِ إِلَى الْفَاعِلِ کہ فاعل جو ہے جس کی اضافت مصدر کی تر, جی! مصدر جو ہے جس کی اضافت کس کی طرف ہو رہی ہے؟ فاعل کی طرف اس کے باب سے بنا لیں یعنی ضمیر فاعل کو لوٹا دیں تو کہتے ہیں وَالْمَعْلُومُ مَفْعُولٌ مَحْذُوفٌ اور تو اس صورت میں مفعول کیا ہوگا؟ محذوف ہوگا لِلدَّلَالَةِ بموجب دلالت کیونکہ کلام اس سے دلالت کر رہا ہے بھئی کہ وہ کیا ہیں مفعول بھئی ہبہ اور عوض اس کا۔ وَيَجُوزُ أَنْ يَكُونَ عَلَى الْعَكْسِ اور یہ بھی جائز ہے کہ اس کا عکس ہو کہ مصدر کی اضافت کس کی طرف ہو جائے؟ مفعول کی طرف بھئی۔ وَبَيْعٌ انْتِهَاءً تو اور یہ بیع ہے انْتِهَاءً بھئی ہِبَةٌ بِشَرْطِ الْعِوَضِ ابْتِدَاءً تو ہبہ اور انْتِهَاءً بیع ہے، جب بیع ہے تو بیع کی شرائط کا بھی اس میں لحاظ رکھنا پڑے گا بیع کی جی بیع کی فَتُرَدُّ بِالْعَيْبِ تو بیع کے اندر کیا خیال ملتا ہے دوسرے کو بھئی اگر مبیع میں عیب نکل آئے تو لوٹا سکتا ہے اور اگر دیکھا نہ ہو پہلے اور دیکھنے کے بعد پسند نہ آئے تو واپس بھی کر سکتا ہے تو بیع میں خیار عیب بھی ملا کرتا ہے اور خیار رویت بھی، تو وہ بھی یہاں ثابت ہو جائے گا بھئی، یہ معنی ہے۔ فَتُرَدُّ بِالْعَيْبِ وَخِيَارِ الرُّؤْيَةِ تو رد کیا جا سکتا ہے عیب کی وجہ سے بھی اور خیار رویت کی وجہ سے بھی، وَتَثْبُتُ الشُّفْعَةُ اور شفعہ بھی کیا ہو جائے گا؟ ثابت ہو جائے گا مولانا۔ یہ تَسْثْبُتُ مولانا دیکھیے کتابت یہ ایک دندان زیادہ ہے۔ بھئی رسم الخط بھی آنا چاہیے آپ طلباء کو بھئی سمجھ میں آیا۔ لفظ لکھتے ہیں دندان ڈالتے ہیں آپ ہر ہر حرف کا اس کے مطابق دندان آئے گا زائد دندان نہیں ہونا چاہیے، دیکھو تَسْثْبُتُ میں ایک دندان تا کا ہونا چاہیے، ایک سا کا اور ایک با کا اور آپ دیکھیے بھئی اور ایک اگلی تا کا چلیں تو کتنے ہو گئے؟ چار ہونے چاہیے اور آپ ذرا گنے کتنے ہیں؟ پانچ ہیں معلوم ہوا ایک دندان کیا ہے؟ زائد۔ اسی طرح سین ہوتا ہے، سین کے کتنے دندان؟ تین بھئی تو جب بھی آپ تحریر لکھیں دندان حساب کتاب سے ڈالا کریں بھئی، بعض بے حساب ہی دندان ڈال دیتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں ایسا نہیں بھئی۔ اسی طرح صاد اور ضاد کا اپنا ایک دندان ہوتا ہے وہ یاد رکھنا جب بھی آپ لکھیں مثلاً آپ کیا لکھتے ہیں؟ قبہ، قبہ، ضاد با الف بھئی تو کتنے دندان ڈالیں گے؟ صاد کا ایک دندان اور با کا بھی ایک تو دو دندان آئیں گے۔ ضاد کا دندان نہیں ہوتا بھئی سمجھ میں آیا؟ ہاں ض و لکھو ضبہ ضبہ اب ضاد کا دندان نہیں ہوگا بھئی۔ ضاد ضو تو جب آپ لکھتے بھی ہیں اس کا سر پہلے اوپر کی طرف لے جاتے ہیں اور پھر نیچے آتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو رسم الخط کا بھی خیال رکھو دندان جب لکھو کسی چیز کے حساب سے جتنے حروف ہیں اتنے دندان زائد نہیں بھئی۔ بہت کم لوگ اس کا خیال رکھتے ہیں بھئی، اصل میں کتابت کے کتابت کے ضوابط کا علم نہیں ہوتا۔ اچھا تو شفعہ بھی مولانا ثابت ہو جائے گا، کیا ہو جائے گا؟ اگر مکان کیا ہے؟ وہ عوض یا ہبہ مکان ہے، تو اس صورت میں اس پر بیع انتہاءً یہ بیع ہوئی اور مکان کی بیع کی صورت میں اس پر کس چیز کا حق ملتا ہے پڑوسی اور شریکوں کو؟ تو یہاں بھی پڑوسیوں کو شفعہ کا حق ملے گا۔ هَذَا عِنْدَنَا یہ ہمارے نزدیک ہے یعنی ابْتِدَاءً ہبہ اور انْتِهَاءً بیع بھئی۔ وَعِنْدَ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَالشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام زُفَر اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ بيعٌ ابْتِدَاءً وَانْتِهَاءً یہ بیع ہے مولانا! ابْتِدَاءً بھی اور انْتِهَاءً بھی۔ تو کہتے ہیں هِيَ بَيْعٌ ابْتِدَاءً وَانْتِهَاءً یہ بیع ہے مولانا ابْتِدَاءً بھی اور انْتِهَاءً بھی لِأَنَّ لِلِاعْتِبَارِ لِلْمَعَانِي اس لیے کہ اعتبار کس چیز کا ہے؟ بھئی امام زُفَر امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل آگئی بھئی وہ فرماتے ہیں اعتبار معانی کا ہے، لفظوں کا اعتبار نہیں کیا جاتا بھئی لفظوں میں اگرچہ وہ ہبہ کہہ رہے ہیں دونوں لیکن معنی کے اعتبار سے دیکھو تو دونوں طرف سے مال آ رہا ہے مبادلۃ المال بالمال آیا تو یہ کیا ہے؟ بیع ہے بھئی۔ قلنا ہم جواب دیتے ہیں مولانا احناف نے دونوں کی رعایت رکھی ہے معنی کی بھی اور لفظ کی بھی استعمال چونکہ انہوں نے لفظ کیے ہیں تو لفظ کا بھی کچھ نہ کچھ لحاظ ہے بھئی اور معنی کے اعتبار سے یہ بیع ہے تو اس کا بھی لحاظ تو ہم کہتے ہیں قُلْنَا يَشْمَلُ عَلَى الْمَعْنَيَيْنِ کہ یہ جو ہبہ بِشَرْطِ الْعِوَضِ ہے یہ شامل ہے دونوں معنی کو یعنی ہبہ کو بھی شامل ہے اور بیع کو بھی۔ لفظوں کے اعتبار سے تو ہبہ کیونکہ لفظوں میں یہ کیا کہہ رہے ہیں وہبُتُ وغیرہ کہہ رہے ہیں اور معنی کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ تو یہ دونوں معنی کو شامل ہے فَيُجْمَعُ بَيْنَهُمَا تو ان دونوں کے بیچ جمع کیا جائے گا ان کو بھئی ما امکن جس قدر ممکن ہو سکے۔ جس قدر تو اِن قُلْتَ یہاں سے اعتراض دو اعتراض اور اس کے آگے پھر جوابات ذکر کریں گے۔ اعتراض یہ کرتے ہیں بھئی دیکھیے بھئی، آسان ہے مسن دیکھتے جائیے بھئی۔ فَاِن قُلْتَ اگر آپ یہ اعتراض کریں الْهِبَةُ تَمْلِيكُ الْعَيْنِ بِلَا عِوَضٍ کہ ہبہ تو کس چیز کا نام ہے؟ تَمْلِيكُ الْعَيْنِ ایک چیز کا مالک بنانا ہے بغیر عوض کے۔ وَالْبَيْعُ تَمْلِيكٌ بِعِوَضٍ اور بیع تو کیا ہے؟ مالک بنانا ہے عوض کے ساتھ فکیف يُجْمَعُ بَيْنَهُمَا تو ان دونوں کو جمع کیسے یہ دونوں تو ایک دوسرے کی ضد ہیں مولانا! ہبہ ہے بِلَا عِوَض کے مالک بنانا اور بیع ہے عَوَض کے ساتھ تو ان دونوں کو آپ کیسے جمع کر سکتے ہیں۔ وَأَيْضاً دوسرا اعتراض التَّمْلِيكُ لَا يَجْرِي فِيهِ شَرْطٍ کہ تَمْلِيك جو ہے اس کے اندر تو شرط جاری آپ نے پڑھا ہے یا نہیں بھئی تَمْلِيك کے اندر شرط جاری نہیں ہوتی ایک آدمی دوسرے کو کوئی چیز بیچتا ہے اور کوئی شرط لگاتا ہے تو یہ تَمْلِيك ہوئی بشَرطٍ جو کہ جائز افت آپ نے پڑھا ہے بھئی بیع کیا ہو جاتی ہے؟ فاسد ہو جاتی ہے بھئی۔ فَقَوْلُهُ پس تو کہنے ایک شخص کا یہ کہنا وَهَبْتُ لَكَ هَذَا میں نے یہ چیز تجھے ہبہ کی عَلَى اس شرط پر أَنْ تَهَبَ لِي ذَالِكَ کہ تو وہ چیز مجھے کیا کر دے؟ ہبہ کر دے صَارَ بِمَعَانٍ تو یہ اس معنی میں ہو گیا مَلَّقْتُك هَذَا بِذَالِكَ میں نے تجھے اس چیز کا مالک بنا دیا اس چیز کے بدلے میں بھئی۔ اس چیز کے بدلے میں قُلْتُ اس سے اب جواب دے رہے ہیں دو اعتراض ہوئے، پہلا اعتراض کیا؟ کہ دونوں کو آپ نے کیسے جمع کردیا حالانکہ یہ تو ایک دوسرے کی ضد ہیں مولانا اور ضدیں تو جمع نہیں ہو سکتی بھئی ایک عوض کے ساتھ تملیک ہے ایک بِلَا عِوَض تملیک ہے۔ دوسری بات یہ کہ بھئی تَمْلِيك کے اندر تو شرط جاری نہیں ہوتی اور یہاں تو ہبہ بِشَرْطِ الْعِوَض ہے شرط آ گئی بھئی۔ جواب ہم دیتے ہیں قُلْتُ کہتے ہیں جو ہم میں جواب دے میں کہتا ہوں يُحْمَلُ عَلَى الْمَعْنَيَيْنِ فِي الْحَالَيْنِ کہ دو معنی پر محمول کیا جائے گا اس عقد کو فِي الْحَالَيْنِ کتنی حالتوں میں؟ دو حالتوں میں۔ بھئی ہم کہتے ہیں آپ نے پہلا اعتراض کیا کیا تھا کہ یہ دونوں ضدیں ہیں ان کو جمع نہیں کیا جا سکتا۔ کہتے ہیں ہم نے کب جمع کیا ہے ایک حالت میں، ہم دو الگ الگ حالتوں میں ان کا اعتبار کرتے ہیں۔ ایک ہی وقت کے اندر ایک ہی حالت میں ہم یہ نہیں کہتے ہبہ بھی ہے اور بیع بھی ہے بلکہ ہم نے دو حالتیں الگ الگ بنا لیں، ایک ابتداء والی اس وقت صرف ہبہ ہے اور ایک انتہاء والی اس وقت صرف بیع ہے تو متضادین جمع ہوئے یا الگ الگ حالتوں میں ہیں؟ الگ الگ حالتوں میں ہیں بھئی اب کوئی خرابی لازم نہیں ہے تو یہ معنی يُحْمَلُ عَلَى الْمَعْنَيَيْنِ کہ اس کو محمول کیا جائے گا دو الگ معنوں پر فِي الْحَالَيْنِ دو حالتوں میں كَالِابْتِدَائِيِّ وَالْبَقَائِيِّ جیسے کہ ابتداء اور بقاء تو ابتداءً ہبہ اور بقاءً بیع ہے۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ جی۔ آج دوسرے سوال کا جواب بھئی کیا شرط لگائی کیا بات ذکر کی اعتراض کیا تھا کہ شرط لگا دی اور شرط تملیک میں لگا دیں تو وہ کیا ہو جاتی ہے عقد فاسد ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں وَالتَّمْلِيكُ لَا يَجْرِيهِ فِي فِيْهِ شَرْطٍ کہتے ہیں اور وہ تَمْلِيك جو ہے اس کے اندر جاری نہیں ہوتی ایسی شرط يَصِيرُ بِهِ قِمَارًا جس سے وہ تَمْلِيك کیا بن جائے؟ قمار جوا بن جائے کیا بن جائے؟ جوا بن جائے تو تَمْلِيك بھئی بیع کے اندر آپ نے کیا پڑھا ہر شرط لگانے سے بیع فاسد ہوتی ہے یا جو مقتضائے عقد کے خلاف ہو؟ جو مقتضائے عقد خلاف خلاف ہو معلوم ہوا آپ کا یہ کہنا کہ تَمْلِيك کے اندر شرط جاری ہوتی ہے یہ درست نہیں ہے۔ ہاں یوں کہیں ہر شرط جاری نہیں ہوتی تو ہم نے کب کہا ہے کہ ہر شرط جاری ہو سکتی ہے سمجھ میں آیا؟ تو یہ جو شرط لگا رہا ہے یہ بظاہر تو شرط ہے لیکن نتیجے کے طور پر مآل کے طور پر دیکھیں تو یہ تو عوض کی بات ہو رہی ہے پھر آپ کس کی بات ہو رہی ہے؟ عوض ہے وہ عوض ہے شرط نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں تَمْلِيكُ لَا يَجْرِي فِيهِ شَرْطُ اس کے اندر جاری نہیں ہوتی ایسی شرط يَسِيرُ بِهِ قِمَارًا جس کی وجہ سے وہ تَمْلِيك کیا بن جائے؟ جوا بن جائے فَمَا الشَّرْطُ الَّذِي يَسِيرُ بِهِ فِي الْمَآلِ عَوَضًا صَحِيحًا فَتَمْلِيكُ لَا يُنَافِيهِ باقی وہ شرط جس کی وجہ سے تَمْلِيك کیا بن جاتی ہے؟ في الْمَآلِ کس میں؟ جی۔ مآل کے اعتبار سے آلہ یا اولو کے معنی ہوتے ہیں لوٹنا۔ مآل یعنی نتیجتاً کہہ لیں نتیجتاً بھئی سمجھ میں آیا؟ نچی, نتیجے کے اعتبار سے وہ تَمْلِيك کیا بن جاتی ہے؟ وہ شرط کیا بن جاتی ہے؟ عَوَضًا صَحِيحًا کیا بنتی ہے؟ صحیح عوض بن جاتی ہے فَتَمْلِيكُ لَا يُنَافِيهِ تَمْلِيك اس کے منافی نہیں ہے سمجھ میں آیا؟ تو تَمْلِيك ایسی شرط کے منافی ہے جس کی وجہ سے وہ جوا بن جاتی ہو اور ایسی شرط نہ ہو بلکہ وہ عوض بن جاتی ہو تو پھر تَمْلِيك اس کے منافی نہیں ہے۔ فَيَكُونُ تو یہ جو ہبہ بِشَرْطِ الْعِوَضِ ہے شَرْطًا ابْتِدَائً شَرْطًا ابْتِدَائً یہ کیا ہے؟ شرط ہے ابتداءً اعْتِبَارًا لِلْعِبَارَةِ کس کا اعتبار کرتے ہوئے؟ عبارت کا اعتبار کرتے ہوئے (یعنی عبارت کے اعتبار سے تو اس نے کیا لگائی ہے؟ لفظوں کو دیکھا جائے تو اس سے اعتبار سے یہ کیا ہے؟ شرط ہے تو لفظوں کے اعتبار سے یہ ہبہ بِشَرْطِ الْعِوَضِ شرط ہے حَتَّى لَا يَصِيرَ كَالْبَيْعِ لَازِمًا یہاں تک کہ یہ جو ہبہ بِشَرْطِ الْعِوَضِ ہے یہ بیع کی طرح لازم نہیں ہوگا بھئی۔ بیع کی طرح لازم بھئی بیع کے اندر تو کیا تھا؟ صرف عقد کرتے ہی وہ لازم ہو جاتی ہے یا نہیں؟ اور ہبہ صرف عقد سے لازم ہوتا ہے یا قبض یا اس میں قبضہ آئے گا پھر تام ہوگا بھئی؟ قبضہ آئے گا تو تام ہوگا سمجھ میں آیا؟ تو لہٰذا تو اس وجہ سے لَا يَصِحُّ الْبَيْعُ لَازِمًا قَبْلَ الْقَبْضِ، تو یہ بائع کی طرح لازم بھی نہیں ہوگا قبضے سے پہلے، لَكِنَّهُ شَرْطٌ بِمَعْنَى الْعِوَضِ، لیکن یہ شرط ہے عوض کے معنی کے لحاظ سے، لیکن یہ شرط ہے جو کس کے معنی میں ہے؟ بمعنی العوض، لیکن یہ شرط ہے جو کس کے معنی میں ہے؟ عوض کے معنی میں ہے، اعْتِبَارًا بِمَا يَؤُولُ إِلَيْهِ، اعتبار کرتے ہوئے ما یئول کی طرف یعنی جس کی طرف یہ لوٹے گی یعنی نتیجے کی طرف۔ نتیجے کے اعتبار سے یہ کیا ہے؟ عوض ہے حَتَّى يَتَرَتَّبَ عَلَيْهِ أَحْكَامُ الْبَيْعِ حَالَةَ الْبَقَاءِ لَا فِي الِابْتِدَاءِ، یہاں تک کہ مرتب ہوں گے اس پر بیع کے احکام بھئی۔ مرتب ہوں گے بیع کے احکام مرتب ہوں گے حالت البقاء کس حالت میں؟ بقاء کی حالت میں، لَا فِي الِابْتِدَاءِ نہ کہ ابتدا کی حالت میں۔ وَمَنْ وَهَبَ أَمَةً إِلَّا حَمْلَهَا أَوْ عَلَى أَنْ يَرُدَّهَا عَلَيْهِ أَوْ يَعْتِقَهَا أَوْ يُسْتَوْلِدَهَا أَوْ وَهَبَ دَارًا أَوْ تَصَدَّقَ بِهَا عَلَى أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا مِنْهَا أَوْ يُعَوِّضَهُ شَيْئًا مِنْهَا صَحَّ وَبَطَلَ الِاسْتِثْنَاؤُهُ وَشَرْطُهُ۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی۔ ایک شخص نے دوسرے کو باندی ہبہ کی حاملہ باندی، لیکن اس کے حمل کا استثنا کر لیا کہ یہ باندی تو آپ کی ہوئی لیکن اس کا حمل آپ کا نہیں۔ کہتے ہیں یہ استثنا صحیح نہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ اس لیے کہ اس حمل کا جو ہے اکیلا عقد صحیح نہیں تو اس کا استثنا بھی صحیح نہیں بھئی۔ تو یہ باندی کے تابع ہے اور جو چیز کسی کے تابع ہو اس کا استثنا کرنا صحیح نہیں بھئی۔ وَمَنْ وَهَبَ أَمَةً إِلَّا حَمْلَهَا اور جس نے ہبہ کیا باندی کو مگر اس کے حمل کے، کہ اسے ہبہ نہیں کیا، اس کا یعنی استثنا کر دیا یا علی یا جس نے ہبہ کیا اس شرط پر أَنْ يَرُدَّهَا عَلَيْهِ کہ وہ اس باندی کو اس پر واپس لوٹا دے گا أَوْ يَعْتِقَهَا یا اس شرط پر کہ وہ اسے آزاد کر دے گا یا اس شرط پر کہ وہ اسے ام ولد بنا لے گا، صورت سمجھ میں آئی؟ یا والا نا، کسی نے کسی کو گھر ہبہ کیا یا کسی نے کسی کو گھر صدقہ کیا اس شرط پر، گھر ہبہ کیا یا گھر صدقہ کیا اس شرط پر کہ اس میں سے کچھ حصہ مجھے واپس کر دو گے، کچھ حصہ واپس کر دو گے یا کچھ کا مجھے عوض دے دو گے سارے کا نہیں بلکہ کچھ کا۔ نہیں کچھ کا، کچھ واپس کر دو گے یا کوئی چیز، بھئی کوئی چیز مجھے کیا کرو گے؟ اس کے عوض کے طور پر دے دو گے بھئی، یہ مسئلہ ہے۔ تو اس صورت میں ہبہ کہتے ہیں صحیح ہو جائے گا اور شرطیں کیا ہو جائیں گی؟ باطل ہو جائیں گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے! یا جس نے ہبہ کی باندی بھئی اس کے علاوہ اس کے حمل کے، اور علی یا اس شرط پر کہ أَنْ يَرُدَّهَا عَلَيْهِ کہ وہ اس باندی کو اس پر واہب پر کیا کر دے گا؟ واپس لوٹا دے گا، أَوْ يَعْتِقَهَا یا بھئی موہوب لہ اس باندی کو کیا کر دے گا؟ اس شرط پر کہ وہ اسے آزاد کرے گا، أَوْ يَسْتَوْلِدَهَا یا اس شرط پر کہ وہ موہوب لہ اس باندی کو کیا بنا دے گا؟ اپنے ام ولد بنا لے گا، أَوْ وَهَبَ دَارًا یا جس نے کسی کو گھر ہبہ کیا، أَوْ تَصَدَّقَ بِهَا أَيْ تَصَدَّقَ بِالدَّارِ یا جس نے کسی پر کسی کی چیز ہبہ کیا، صدقہ کیا، گھر کا صدقہ کیا، گھر صدقہ کیا یا گھر ہبہ میں دیا، عَلَى هَذَا الشَّرْطِ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا مِنْهَا کہ اس میں سے کچھ کچھ کیا کر دو گے؟ واپس کر دو گے، أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِ إِذْ شَرْطٍ پر کہ واپس کر دے گا دینے والے پر شَيْئًا مِنْهَا اس میں سے کچھ بھئی، تھوڑا تھوڑی سی چیز، أَوْ يُعْوِّضَهُ یا اس شرط پر گھر ہبہ کیا یا صدقہ کیا کہ وہ موہوب لہ کیا کرے گا؟ واہب کو عوض دے دے گا شَيْئًا مِنْهَا بھئی کوئی چیز، کوئی چیز بھئی اس میں سے، کوئی چیز بھئی اس گھر کے عوض میں کوئی چیز دے دے گا۔ صَحَّ مولانا اس صورت میں ہبہ تو کیا ہوا؟ صحیح، وَبَطَلَ اسْتِثْنَاؤُهُ اور وہ جو پہلی صورت میں استثنا کیا تھا وہ باطل، وَشَرْطُهُ اور باقی صورتوں میں جو شرطیں تھیں وہ باطل ہوئیں، تو استثنا اور شرط باطل ہوئی۔ رَأَيْتُ فِي بَعْضِ الْحَوَاشِي، علامہ صدر الشریعہ فرماتے ہیں کہ میں نے بعض حواشی کے اندر یہ عبارت دیکھی کہ ما کہ ان قوله کہ ماتن کا یہ جو قول آیا أَوْ يُعْوِّضَهُ شَيْئًا مِنْهَا کہ اس کے عوض میں کوئی چیز دے دے گا اس میں بھئی کیا آیا تھا؟ کہ عوض میں کوئی چیز دے دے گا بھئی، میں نے اس کا تعلق کس سے بنایا بھئی متن میں؟ ہبہ سے بھی اور ہبہِ دار سے بھی اور صدقہِ دار سے بھی، لیکن کہتے ہیں بعض محاشین نے اس کا تعلق صرف صدقے سے جوڑا، کس سے؟ کسی نے کسی کو گھر صدقہ کیا اس شرط پر کہ تم مجھے اس کا عوض کوئی چیز دو گے، تو اس صورت میں شرط باطل اور صدقہ صحیح ہے، سمجھ میں آیا؟ علامہ صدر الشریعہ فرماتے ہیں کہ اس کو صرف صدقے کی طرف لوٹانا صحیح نہیں۔ وہ بعض محاشین تو کہتے تھے بھئی، ابھی آپ نے ما قبل میں پڑھا بھئی کہ ہبہ بشرط العوض صحیح ہے، پڑھا یا نہیں پڑھا؟ کہ ہبہ بشرط العوض صحیح، تو لہذا یہ جو عوض کی شرط لگائی اس میں یہ شرط کس صورت میں باطل ہوگی؟ صدقے کی صورت میں شرط باطل ہوگی اور ہبہ کیا ہو گا؟ صحیح ہو جائے، صدقہ کیا ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ بھئی دیکھو! میں نے متن کا جب ترجمہ کیا تو اس عوض دینے کی جوڑا کس کے ساتھ؟ ہبہ کے ساتھ بھی اور صدقے کے ساتھ بھی، تو اگر کوئی ہبہ کرتے ہوئے یہ شرط لگا دے کہ تم مجھے اس ہبہ کے عوض میں کوئی چیز، کوئی چیز دو گے، تو میں نے بتلایا کہ شرط باطل اور ہبہ صحیح، یا اسی طرح کسی نے کسی کو مکان صدقہ کیا اس شرط پر کہ تم مجھے اس مکان کا کوئی عوض دو گے تو شرط باطل اور صدقہ یہ متن میں آیا تھا۔ علامہ صدر الشریعہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ اس عوض کا تعلق ہبہِ دار اور صدقہِ دار دونوں صورتوں سے ہے، ہاں بعض حاشیے والوں نے یہ لکھا کہ اس کا تعلق صرف صدقے والی صورت سے ہے، صرف صدقے والی صورت سے کیوں انہوں نے جوڑا؟ کہتے ہیں اس لیے کہ ما قبل متن میں آیا تھا کہ ہبہ بشرط العوض صحیح ہے، ہبہ بشرط العوض تو یہاں بھی عوض کی شرط لگا رہا ہے اور ہبہ تو شرط عوض کی شرط کے ساتھ صحیح ہوتا ہے، معلوم ہوا اس کا تعلق صرف کس سے ہے؟ صدقے کے ساتھ، اگر صدقہ کیا اور اس کے عوض کی شرط لگا دی تو شرط باطل اور صدقہ صحیح۔ تقریر سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ بعض محاشین کی تقریر تھی۔ فَرَأَيْتُ فِي بَعْضِ الْحَوَاشِي، تو کہتے ہیں فرأيت في بعض الحواشي میں نے بعض حواشیوں کے اندر دیکھا کہ ان قوله کہ ماتن کا قول جو ہے أَوْ يُعْوِّضَهُ شَيْئًا مِنْهَا يَرْجِعُ إِلَى التَّصَدُّقِ بِشَرْطِ الْعِوَض یہ کس کی طرف لوٹتا ہے؟ صدقہ بشرط العوض کی طرف لوٹتا ہے، فَإِنَّهُ إِذَا تَصَدَّقَ بَطَلَ الشَّرْطُ اس لیے کہ اگر کسی نے صدقہ کیا تو شرط کیا ہو جائے گی؟ باطل اور صدقہ صحیح ہو جائے گا، وَإِذَا وَهَبَ بِشَرْطِ الْعِوَضِ لیکن اگر کسی نے ہبہ کیا بشرط العوض فَالشَّرْطُ صَحِيحٌ پھر تو شرط کیا ہے؟ صحیح ہے، آپ نے پڑھا یا نہیں پڑھا بھئی؟ یہ بعض محاشین نے تقریر کی۔ أَقُولُ علامہ صدر الشریعہ فرماتے ہیں: میں کہتا ہوں إِذَا وَهَبَ بِشَرْطِ أَنْ يُعَوِّضَ شَيْئًا فَالشَّرْطُ بَاطِلٌ، اگر ہبہ کیا اس شرط کے ساتھ کہ عوض میں وہ کوئی چیز دے گا، دیکھا شَيْئًا نکرہ ہے، کوئی چیز دے گا فَالشَّرْطُ بَاطِلٌ بھئی، تو شرط کیا ہو گئی؟ باطل ہو گئی۔ بھئی شرط تو صحیح ہوتی تھی، کہتے ہیں وَشَرْطُ الْعِوَضِ إِنَّمَا يَصِحُّ العِوَضِ کی شرط اس وقت صحیح ہوتی تھی إِذَا كَانَ مَعْلُومًا جب عوض کیا ہوتا تھا؟ معلوم ہوتا تھا، فَعُلِمَ پس میرے اس جواب سے پتہ چل گیا، جان لیا گیا أَنَّ قَوْلَهُ کہ ماتن کا یہ جو قول ہے أَوْ يُعْوِّضَهُ يَرْجِعُ إِلَى الْهِبَةِ وَالصَّدَقَةِ تو یہ ہبہ صدقہ دونوں کو راجع ہے۔ وَلَوْ أَعْتَقَ الْحَمْلَ ثُمَّ وَهَبَهَا صَحَّ، صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی، اے میرے پاس ایک باندی تھی حاملہ بھئی، میں نے کہا اس باندی کا حمل جو ہے میں اسے آزاد کرتا ہوں، میں نے اسے آزاد کر دیا، تو حمل تو ہوا مولانا آزاد، اب وہ باندی میں کسی کو ہبہ کرتا ہوں، تو کیا یہ ہبہ صحیح ہے یا ہبہ صحیح؟ کہتے ہیں ہبہ صحیح ہے، باندی اس کی ہو جائے گی اور جو حمل ہوگا وہ آزاد رہے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے۔ وَلَوْ أَعْتَقَ الْحَمْلَ اگر کسی شخص نے حمل کو آزاد کر دیا، ثُمَّ وَهَبَهَا پھر اس باندی کو کیا کر دیا؟ ہبہ کر دیا، صَحَّ تو یہ ہبہ صحیح ہے۔ صَحَّ أَيِ الْهِبَةُ ضمیر کا مرجع بتلایا، صحیح ہے کیا چیز؟ یعنی ہبہ، کیوں؟ کہتے ہیں لِأَنَّ الْحَمْلَ لَمْ يَبْقَ مِلْكًا، اس لیے کہ حمل اب ملک ہی نہ رہا، وہ تو کیا بن گیا؟ آزاد ہو گیا، وہ آزاد، فَإِذَا وَهَبَ الْأُمَّ، پس جب اس کی ماں کو ہبہ کیا، صَارَ كَأَنَّهُ وَهَبَهَا، گویا کہ اس نے صرف اس کی ماں کو ہبہ کیا ہے، وَاسْتَثْنَى الْحَمْلَ، اور حمل کا کیا کر لیا ہے؟ استثنا کر لیا ہے، فَالْهِبَةُ جَائِزٌ، تو ہبہ کیا ہے؟ جائز ہے، تو حمل کا استثنا ہوا، حمل کا کیا ہوا؟ آپ کہیں گے ابھی بتایا استثنا حمل کا جائز نہیں، بھئی اس نے استثنا کیا نہیں ہے، استثنا ہو گیا ہے، بھئی استثنا کیا ہے؟ جس طرح بھئی استثنا کہتے کس کو ہیں؟ یہ استثنا کی طرح ہوا۔ اس نے کوئی استثنا کیا؟ نہیں، بلکہ استثنا خود بخود ہو جائے گا یہاں پر، کیوں ہو جائے گا؟ کہتے ہیں استثنا کہتے کس کو ہیں؟ میں نے کہا جَاءَنِي طَلَبَةٌ إِلَّا زَيْدًا، میرے پاس کون آئے؟ طلبہ آئے لیکن زید نہیں آیا، تو ما قبل إِلَّا سے ما قبل کیا حکم ذکر ہو رہا تھا؟ مجيء کا، کس چیز کا؟ مَجِیْء طلبہ کے آنے کا ذکر ہے، لیکن کیا اس آنے میں زید داخل ہے؟ نہیں، تو استثنا کیا بتلاتا ہے؟ کہ یہ جو مستثنی ہے، یہ ما قبل کے حکم میں داخل نہیں۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، اس نے ہبہ کی ہے باندی، تو استثنا کا معنی یہ، یعنی اس وَهَبْتُ کے اندر حمل داخل نہیں ہے۔ استثنا بھئی جا، میں کہتا ہوں، جَاءَنِي الطَّلَبَةُ إِلَّا زَيْدًا، کیا پتہ لگا اس عبارت سے؟ زید آنے والوں میں داخل ہے یا داخل نہیں؟ آنے والوں میں داخل نہیں۔ تو اس جیسے مستث استثنا میں، استثنا بتلاتا ہے کہ مستثنی کیا ہوتا ہے؟ صدرِ کلام سے خارج ہوتا ہے، یعنی صدرِ حکم سے کیا ہوتا ہے؟ خارج ہوتا ہے، تو یہاں پر بھی یہ یہ ہبہ استثنا کی طرح ہے، یعنی حمل مستثنی کی طرح خارج ہے، جیسے مستثنی صدرِ حکم سے خارج ہوتا ہے، تو یہاں پر بھی حمل وہ صدرِ کلام سے یعنی وَهَبْتُ جو اس نے کہا نا کہ میں تجھے یہ باندی ہبہ کرتا ہوں، تو حمل بھی اس سے کیا ہوا؟ ہبہ سے خارج، کیوں خارج ہوا؟ کیونکہ وہ ملک ہی نہیں ہے بھئی، تو استثنا جیسے استثنا مستثنی کو خارج کر دیتا ہے، یہاں پر بھی حمل کیا ہے؟ وَهَبْتُ سے خارج ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ وَلَوْ دَبَّرَهُ ثُمَّ وَهَبَهَا لَا، بھئی اگر حمل کو مدبر بنا دیا کسی نے بھئی، ایک شخص ہے اس کی حاملہ باندی ہے اس کے پاس، اس نے کہا اس کا جو حمل ہے میں اسے مدبر بناتا ہوں، میرے مرنے کے بعد یہ کیا ہوگا؟ آزاد تو مدبر بن گیا، اب وہ باندی کیا کرتا ہے؟ کسی کو ہبہ کرتا ہے، کیا کرتا ہے؟ ہبہ کرتا ہے، تو کیا یہ ہبہ صحیح ہے؟ کہتے ہیں یہ ہبہ صحیح نہیں۔ کیوں نہیں ہبہ صحیح؟ کہتے ہیں اس لیے کہ مدبر آزاد ہوتا ہے یا ابھی بھی مملوک ہے؟ مملوک۔ مدبر ابھی بھی مملوک ہے، تو گویا وہ باندی دے رہا ہے اور اور مدبر کی بیع جائز ہے کہ جائز نہیں؟ بیع مدبر کی تو بیع وغیرہ یا ہبہ جائز ہی نہیں ہے، سمجھ میں آیا؟ کسی اور کو اس کا مالک نہیں بنایا جا سکتا، تو گویا یہ اسی طرح ہوا جب باندی ہبہ کی، تو گویا اس نے باندی ہبہ کر دی اور حمل کا استثنا کر لیا اپنے لیے، اور یہ صورت تو آپ نے پڑھی تھی جائز نہیں بھئی، تو باندی تو اس دوسرے کی ہو جائے گی اور مدبر اس کی ملک سے نکل نہیں سکتا، اور یہ صورت تو جائز نہیں بنتی کہ حمل کا گویا اس وہ استثنا کر رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جبکہ ما قبل والی صورت میں، وہ جو حمل تھا وہ آزاد تھا، اس کی ملک میں نہیں تھا بھئی۔ یہ معنی ہے۔ وَلَوْ دَبَّرَهُ، اور اگر حمل کو مدبر بنا دیا ثُمَّ وَهَبَهَا، پھر وہ باندی ہبہ کر دی، لَا، تو اب ہبہ صحیح نہیں۔ لِأَنَّ الْحَمْلَ بَقِيَ عَلَى مِلْكِهِ مولانا، اس لیے کہ حمل جو ہے وہ باقی ہے اس کی ملکیت میں، فَلَمْ يَكُنْ كَالِاسْتِثْنَاءِ، یہ استثنا کی طرح نہ ہوا بھئی۔ وَلَا يَنْفُذُ الْهِبَةُ فِي الْحَمْلِ، تو ہبہ نافذ نہیں ہوگا کس کے اندر؟ حمل کے اندر، کیونکہ حمل تو مدبر ہے، اس کے تو تملیک جائز نہیں، فَبَقِيَ هِبَةُ شَيْءٍ مَشْغُولٍ بِمِلْكِ الْوَاهِبِ، تو باقی ہوا ہبہ ایسی شے کا جو مشغول ہے واہب کی ملکیت کے ساتھ بھئی۔ باندی ہبہ کر دی اور اس کے پیٹ میں بچہ کس کا ہے؟ واہب کا ہے، تو دیکھو ایک چیز ہے جو مالک واہب کی ملک کے ساتھ مشغول ہو، اور ایسی چیز کا ہبہ تو صحیح نہیں تھا، وَهِبَةُ الْمُشَاعِ، یا باقی رہا ایک مشاع چیز کا ہبہ، مشاع چیز کا ہبہ باقی رہا، لہذا صحیح نہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ کہ باندی اس کی ہے اور حمل دوسرے کا ہو جائے تو یہ تو مشاع ہوا، لہذا صحیح نہیں۔ وَمَنْ قَالَ لِغَرِيمِهِ، إِذَا جَاءَ غَدُنْ، غَدًا صحیح نہیں ہے مولانا غدُنْ۔ غَرِيم یاد رکھو مولانا! قرضا کو بھی کہتے ہیں، مقروض کو بھی کہتے ہیں، دونوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے، دائِن کو بھی کہتے ہیں اور مدیون کو بھی کہتے ہیں۔ ایک آدمی کا دوسرے پر دین تھا بھئی، اس میں جی تو وہ دائِن مدیون کو کہتا ہے کہ اگر جب کل کا دن آئے گا، اگر کل کا دن آئے گا یا جب کل کا دن آئے گا تو تو وہ دین تمہیں معاف ہے۔ کل کا دن آئے گا تو وہ دین تمہیں معاف ہے۔ جِی تو مَوْلَانَا اس صورت میں کہتے ہیں، یہ إِبْرَاء صحیح نہیں مولانا! یہ إِبْرَاء صحیح کیوں؟ اس لیے کہ آپ ضابطہ پڑھ چکے ہیں کہ إِبْرَاء جو ہے إِبْرَاء کے اندر تَعْلِيق صَرِيح جائز نہیں۔ ضابطہ پڑھا تھا یا نہیں آپ نے؟ کہ إِبْرَاء کے اندر کیا ہے؟ تَعْلِيق بھی ہے اور تَمْلِيك بھی ہے اور إِسْقَاط بھی ہے۔ تَمْلِيك کے اندر تو شرط لگائی جا سکتی ہے، لیکن إِسْقَاط کے ساتھ شرط نہیں۔ تو لہذا ضِمْناً جو شرط آتی تھی، اس کو ہم جائز قرار دیتے تھے، لیکن صَرَاحَةً جو شرط آ جائے وہ جائز؟ تو إِبْرَاء کو معلق کرنا صریح شرط کے ساتھ جائز نہیں۔ ہاں! ضِمْناً شرط کے ساتھ وہ معلق ہو جائے تو یہ جائز ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہاں صریح شرط وہ لا رہا ہے: إِذَا جَاءَ غَدٌ جب کل کا دن آئے گا فَهُوَ لَكَ تو وہ دین کس کا ہے؟ تیرا ہے۔ وَمَنْ قَالَ لِغَرِيمِهِ اور جس نے اپنے مقروض سے کہا: إِذَا جَاءَ غَدٌ فَهُوَ لَكَ جب کل کا دن آئے گا تو وہ دین تیرا ہے، أَوْ أَنْتَ مِنْهُ بَرِيءٌ اور تو اس سے بری ہے، فَهُوَ بَاطِلٌ تو یہ إِبْرَاء کیا ہے؟ باطل۔ کیوں؟ لِمَا مَرَّ بِوُجُوهِهِ اس کے جو گزر گئے، أَنَّ تَعْلِيقَ الصَّرِيحِ فِي الْإِبْرَاءِ لَا يَصِحُّ اس لیے کہ صریح تعلیق إِبْرَاء کے اندر صحیح نہیں۔ وَجَازَ الْعُمْرَى لِلْمُعَمَّرِ لَهُ حَالَ حَيَاتِهِ وَلِوَرَثَتِهِ بَعْدَهُ اور عُمْرَى — بھئی عُمْرَى کس کو کہتے تھے بھئی؟ مدت عمر کے لیے کسی کو کوئی چیز — بھئی عرب کے اندر یہ تھا کسی کو مدت عمر کے لیے کوئی چیز دے دیتے اور کہتے تھے تیرے مرنے کے بعد یہ چیز پھر تیرے وارثوں کو نہیں ملے گی بلکہ میرے پاس واپس آجائے گی، اس کو عُمْرَى کہتے تھے سمجھ آیا بھئی؟ تو یہ عُمْرَى، تو شریعت نے اس کو جائز قرار دیا، لیکن اس میں یہ وہ جو واپسی کی شرط تھی ختم کردی کہ اب چیز واپس نہیں آئے گی، بلکہ جس کو چیز ہِبَة کی ہے اسی کے وارثوں کی ہوجائے گی اس کے مرنے کے بعد۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یہ معنی ہے، تو کہتے ہیں: الْعُمْرَى لِلْمُعَمَّرِ لَهُ عُمْرَى مُعَمَّر لَهُ کے لیے ہے حَالَ حَيَاتِهِ اس کی زندگی میں وَلِوَرَثَتِهِ اور اس کے وارثوں کے لیے ہے بَعْدَهُ اس کی موت کے بعد۔ وَهِيَ — بھئی عُمْرَى کہتے کسے ہیں؟ کہتے ہیں: وَهِيَ جَعْلُ دَارِهِ لَهُ مُدَّةَ عُمْرِهِ وہ کر دینا ہے اس شخص کا اپنے گھر کا مُعَمَّر لَهُ کے لیے اس کی عمر بھر کے لیے، اس کی مدت عمر یعنی عمر بھر کے لیے۔ فَإِذَا مَاتَ پس جب وہ مُعَمَّر لَهُ مر جائے گا، لَا تُرَدُّ عَلَيْهِ — لا ہونا چاہیے، مولانا کتابت کی غلطی ہے — پس جب وہ مُعَمَّر لَهُ کیا ہو جائے گا؟ جی ٹھہریے! ہاں ٹھیک ہے بھئی، لا نہیں ہونا چاہیے! یہ اصل عُمْرَى کی تفسیر کر رہے ہیں، عُمْرَى تھا کیا بھئی؟ کہتے کسے تھے؟ پہلے کس کو کہتے تھے؟ کس کو کہتے تھے؟ لا نہ لکھیں بھئی، لا نہیں ہونا چاہیے! کہ واہب کسی کو کیا دیتا تھا؟ اپنا گھر عمر بھر کے لیے، فَإِذَا مَاتَ تُرَدُّ عَلَيْهِ اور جب وہ مُعَمَّر لَهُ جب مر جائے گا تو وہ گھر کیا ہو جائے گا؟ واہب پر واپس ہو جائے گا۔ میں نے بتایا کہ یہ شرط — واپس ہونے کی شرط کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی بھئی۔ الْعُمْرَى جَعْلُ الدَّارِ لَهُ مُدَّةَ عُمْرِهِ عُمْرَى کہتے ہیں کہ گھر کو قرار دینا مُعَمَّر لَهُ کے لیے اس کی ساری زندگی میں، مَعَ شَرْطِ ساتھ اس شرط کے کہ أَنَّ الْمُعَمَّرَ لَهُ إِذَا مَاتَ تُرَدُّ عَلَى الْوَاهِبِ کہ مُعَمَّر لَهُ جب مر جائے گا تو وہ گھر کس پر واپس آجائے گا؟ واہب پر۔ وَهَذَا شَرْطٌ بَاطِلٌ اور یہ شرط کیا ہے؟ باطل ہے۔ كَمَا جَاءَ بِهِ الْحَدِيثُ جیسے کہ اس کے ساتھ حديث آئی ہے بھئی، آپ پڑھ چکے ہیں ما قبل میں مسئلہ بھئی۔ وَبَطَلَ الرُّقْبَى اور رُقْبَى باطل ہے بھئی۔ رُقْبَى کیا ہے؟ اچھا ما قبل میں آیا وَجَازَ الْعُمْرَى مولانا، عُمْرَى کیا ہے؟ جائز ہے مولانا، شرط باطل ہو جائے گی اور عُمْرَى صحیح۔ وَبَطَلَ الرُّقْبَى اور رُقْبَى کیا ہے؟ باطل ہے۔ بھئی یاد رکھو، رُقْبَى رُقُوب سے ہے، رُقُوب کا معنی انتظار کرنا۔ رُقْبَى اس کو کہتے تھے، ایک آدمی دوسرے کو اپنی کوئی چیز دے دیتا مثلا مکان دے دیا، یہ کیا ہے؟ بطور رُقْبَى کے ہے آپ کے لیے۔ یعنی اگر دینے والا پہلے مر گیا، تو وہ چیز کس کی ہو جائے گی؟ موہوب لہ کی، اور اگر موہوب لہ پہلے مر گیا، تو وہ چیز کس کے پاس واپس آجائے گی؟ واہب کے پاس۔ تو رُقْبَى رُقُوب سے، انتظار کرنا، تو اس میں بھی گویا دونوں ایک دوسرے کی موت کا انتظار کر رہے ہیں بھئی، جو پہلے مر گیا چیز دوسرے کی ہو گئی، سمجھ میں آیا؟ تو اس لیے بھئی، تو یہ چونکہ اس میں تَمْلِيك کو معلق کردیا خطرے کے، لہذا یہ جائز نہیں بھئی۔ وَبَطَلَ الرُّقْبَى اور رُقْبَى باطل ہے، وَهِيَ وہ کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: وَهِيَ هِيَ إِنْ مُتُّ قَبْلَكَ اگر میں تجھ سے پہلے مر گیا فَهُوَ لَكَ تو وہ تیرا ہے، وہ چیز کیا ہے؟ تیری ہے۔ الرُّقْبَى اسْمٌ مِنَ الرُّقُوبِ رُقْبَى اسم ہے رُقُوب سے، اور رُقُوب کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: هُوَ الِانْتِظَارُ رُقُوب وہ انتظار ہے، فَكَأَنَّهُ يَنْتَظِرُ گویا کہ وہ شخص انتظار کرتا ہے، یعنی موہوب لہ انتظار کرتا ہے إِلَى أَنْ يَمُوتَ الْمَالِكُ بھئی یہاں تک کہ کون مر جائے؟ مالک مر جائے، وَهِيَ بَاطِلٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ اور یہ طرفین رحمہ اللہ کے نزدیک باطل ہے، لِأَنَّهُ تَعْلِيقُ التَّمْلِيكِ بِخَطَرٍ اس لیے کہ یہ تَمْلِيك کو معلق کرنا ہے بخطر کس کے ساتھ؟ خطرے کے ساتھ، خطرے کے ساتھ ایک چیز کی تَمْلِيك کو معلق کردیا جو درست — بھئی کس چیز کا خطرہ ہے؟ کہ مالک کی اس سے، مالک اس سے پہلے مر جائے بھئی، مالک اس سے پہلے مر جائے۔ وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک يَصِحُّ رُقْبَى کیا ہے؟ صحیح۔ بھئی یہ اختلاف ہے صاحبین طرفین کا اور امام ابو یوسف کا، اصل میں تفسیرِ رُقْبَى میں اختلاف ہے، اس بنا پر یہ اختلاف ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک رُقْبَى عُمْرَى ایک ہی چیز ہے، رُقْبَى اور عُمْرَى کیا ہیں؟ ہاں، رُقْبَى میں ایک شرط زیادہ ہوتی ہے کہ وہ کہتا ہے میں تیری موت کا انتظار کروں گا تاکہ یہ چیز میرے پاس واپس آجائے۔ مالک کیا کہتا ہے؟ یہ مکان میں نے آپ کو دے دیا رُقْبَى کے طور پر، یا یہ مکان میں نے آپ کو دے دیا آپ کا ہوا، اس شرط پر کہ میں انتظار کروں گا آپ کی موت کا تاکہ آپ کی موت پر یہ گھر پھر میرے پاس واپس آجائے۔ وہ فرماتے ہیں یہ دراصل عُمْرَى ہی ہے اور ساتھ ایک شرط زائد ہے، تو عُمْرَى تو اوپر آپ پڑھ چکے ہیں جائز ہے، تو یہ بھی جائز اور شرط کیا ہے؟ باطل ہے، پورا سمجھ میں آگیا۔ وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک يَصِحُّ رُقْبَى صحيح ہے، لِأَنَّ قَوْلَهُ دَارِي لَكَ رُقْبَى اس لیے کہ ہِبَة کرنے والے کا یہ کہنا میرا گھر تیرا ہے بطور رُقْبَى کے، أَيْ دَارِي لَكَ میرا گھر تیرا ہے وَأَنَا أَنْتَظِرُ مَوْتَكَ اور میں انتظار کروں گا تیری موت کا، لِتَعُودَ إِلَيَّ تاکہ یہ گھر میرے پاس یہ چیز میرے پاس واپس آجائے، فَيَصِحُّ تو یہ تَمْلِيك تو صحیح ہے، وَيَبْطُلُ الشَّرْطُ اور شرط یعنی انتظار رجوع جو ہے، رجوع کا جو انتظار کی شرط ہے وہ باطل ہے، كَالْعُمْرَى جیسے کہ عُمْرَى ہے۔ فَالِخْتِلَافُ مَبْنِيٌّ عَلَى تَفْسِيرِهَا فص اختلاف جو ہے یہ بنا پر کس کے ہے؟ رُقْبَى کی تفسیر کے ہے، سمجھ میں آیا؟ تو طرفین کے نزدیک یہ جائز نہیں اس لیے کہ یہ تَعْلِيقُ التَّمْلِيكِ بِخَطَرٍ ہے، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک یہ وہی عُمْرَى ہے ایک شرط اس میں زائد ہے اور عُمْرَى تو جائز تھا تو یہ بھی جائز اور شرط کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی۔ وَصَدَقَتُهُ كَهِبَتِهِ اور کسی چیز کا صدقہ اس کے ہِبَة ہی کی طرح ہے، یا کسی کا صدقہ کرنا اس کے ہِبَة کرنے کی طرح ہے بھئی۔ مَفْعُول کی ضمیر بنا لیں بھئی، کسی چیز کا صدقہ کرنا كَهِبَتِهِ اس کے یعنی صدقہ اور ہِبَة ایک دوسرے کی مثل ہیں، تو جیسے ہِبَة صحیح نہیں تھا بغیر قبضے کے، صدقہ بھی صحیح نہیں بغیر قبضے کے، اور جیسے ہِبَة صحیح نہیں تھا مُشَاع میں، قبضہ بھی — صدقہ بھی صحیح نہیں مُشَاع میں۔ ہاں ایک فرق ہے، ہِبَة میں رجوع ہو سکتا تھا، صدقہ میں رجوع نہیں ہو سکتا، تو دیکھیے کہتے ہیں: وَصَدَقَتُهُ كَهِبَتِهِ کسی چیز کا صدقہ کرنا اس کے ہِبَة کرنے کی طرح ہے، لَا تَصِحُّ إِلَّا بِقَبْضِهِ تو صدقہ صحیح نہیں ہے مگر اس چیز کے اوپر قبضہ کرنے سے جیسے ہِبَة میں قبضہ ہوتا تھا، وَلَا فِي شَايٍ يُقْسَمُ اور اسی طرح صدقہ صحیح نہیں ہے ایسی شائے چیز کے اندر جو تقسیم ہو سکتی ہے بھئی۔ ایک مُشَاع تو تھا نا جس میں تقسیم ہو سکتی تھی، جس میں تقسیم — جس میں تقسیم ہو سکتی تھی، اس میں تو ہِبَة صحیح مُشَاع میں صحیح نہیں تھا، لیکن جس میں تقسیم ہی نہیں ہو سکتی تھی اس میں تو ہِبَة صحیح ہوتا تھا، تو اسی لیے کہا صدقہ بھی اسی طرح ہے، ایسی مُشَاع چیز میں جو تقسیم ہو جاتی ہے اس میں صدقہ بھی نہیں صحیح ہِبَة کی طرح۔ إِذَا تَصَدَّقَ بِنِصْفِ الدَّارِ جب کسی نے صدقہ کیا نصف دار کا، لَا يَصِحُّ یہ صحیح نہیں کیونکہ مُشَاع ہے، بِخِلَافِ مَا إِذَا تَصَدَّقَ بِشَيْءٍ عَلَى فَقِيرَيْنِ بخلاف اس کے کہ جب صدقہ کرے کسی چیز کا کس پر؟ دو فقیروں پر، تو یہ صحیح ہے كَمَا مَرَّ جیسے کہ گزر گیا۔ وَلَا عَوْدَ فِيهَا اور صدقے کے اندر رجوع بھی نہیں ہے، وَالْفَرْقُ بَيْنَهُمَا فرق کیا ہے یہاں پر کہ ہِبَة میں رجوع ہو سکتا ہے صدقے میں نہیں؟ کہتے ہیں: وَالْفَرْقُ بَيْنَهُمَا فرق ان دونوں کے بیچ یہ ہے کہ أَنَّ الرُّجُوعَ لَا يَصِحُّ فِي الصَّدَقَةِ کہ صدقہ کے اندر رجوع صحیح نہیں ہے، لِأَنَّهُ وَصَلَ إِلَيْهِ الْعِوَضُ اس لیے کہ اس کو کیا پہنچ چکا ہے؟ واہب کو اس کا عِوَض پہنچ چکا ہے، وَهُوَ الصَّوَابُ اور وہ کیا ہے؟ صواب۔ تو عِوَض جب مل جائے اس کے بعد رجوع ہو سکتا تھا، رجوع ہِبَة میں نہیں ہو سکتا تھا، تو یہاں بھی صواب جب عِوَض مل گیا تو اب رجوع نہیں ہو سکتا۔ چلیے مولانا! ھَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ.