كِتَابُ الْوَدِيْعَةِ هِيَ أَمَانَةٌ تُرِكَتْ لِلْحِفْظِ فَلَا يَضْمَنُهَا الْمُوْدَعُ إِنْ هَلَكَتْ أَيْ بِلَا تَعَدٍّ مِنْهُ وَلَهُ حِفْظُهَا بِنَفْسِهِ وَعِيَالِهِ وَالسُّفُورُ بِهَا عِنْدَ عَدَمِ النَّهْيِ وَالْخَوْفِ۔ یہ کِتَابُ الْوَدِيْعَةِ بھئی اس باب میں امانت کے بارے میں اپ کو بتلائیں گے بھئی احکام وغیرہ۔ ودیعت کسے کہتے ہیں؟ هِيَ أَمَانَةٌ یہ امانت ہے تُرِكَتْ لِلْحِفْظِ جس کو چھوڑا گیا جائے لِلْحِفْظِ کس لیے حفاظت کے لیے، ایک شخص دوسرے کے پاس کوئی چیز چھوڑتا ہے بطور حفاظت کے یہ امانت۔ فَلَا يَضْمَنُهَا الْمُوْدَعُ بھئی تو یاد رکھیے جو چیز رکھوانے والا ہے وہ مُوْدِع کہلاتا ہے دال کے کسرے کے ساتھ، اور جس کے پاس رکھوائی جائے وہ چیز امانت وہ کیا کہلاتا ہے مُوْدَع دال کے فتحے کے ساتھ بھئی یہ امین ہے امین بھئی اور جو چیز رکھوائی ہے وہ ودیعت کہلاتی ہے۔ تو ودیعت وہ امانت ہے جس کو چھوڑا گیا ہو حفاظت کے لیے کسی کے پاس۔ فَلَا يَضْمَنُهَا الْمُوْدَعُ إِنْ هَلَكَتْ پس ضامن نہیں ہوگا مُوْدَع، جس کے امین جو ہے جس کے پاس رکھوائی گئی ہے وہ ضامن نہیں ہوگا إِنْ هَلَكَتْ اگر وہ امانت کیا ہو جائے وہ ودیعت اگر ہلاک ہو جائے أَيْ بِلَا تَعَدٍّ مِنْهُ یعنی اس کی طرف سے بغیر تعدی کے، اس کی طرف سے کسی قسم کی زیادتی نہیں ہوئی اور وہ چیز اس کے پاس ہلاک ہو گئی تو اس صورت میں اس پر ضمان کیونکہ امانت کا ضمان نہیں اتا بھئی۔ وَلَهُ حِفْظُهَا بِنَفْسِهِ وَعِيَالِهِ اور اس کے لیے بھئی مُوْدَع کے لیے جائز ہے حفاظت کرنا حِفْظُهَا أَيْ حِفْظُ الْوَدِيْعَةِ حفاظت کرے ودیعت کی بِنَفْسِهِ خود وَعِيَالِهِ اور اپنے اہل و عیال گھر والوں کے ذریعے بیوی بچوں کے ذریعے بھی حفاظت کروا سکتا ہے۔ وَالسُّفُورُ بِهَا اور سفر کرنا أَيْ وَلَهُ السُّفُورُ بِهَا اس کے لیے اس کے ساتھ سفر کرنا بھی جائز ہے أَيْ عِنْدَ عَدَمِ النَّهْيِ جبکہ نہی نہ پائی جائے وَالْخَوْفِ أَيْ عِنْدَ عَدَمِ الْخَوْفِ جب خوف نہ ہو۔ بھئی میں نے اپ کے پاس امانت رکھوائی کوئی چیز، اگر میں نے اپ کو سفر سے منع کیا کہ بھئی اس امانت کو ساتھ لے کر سفر پر نہ نکلنا تو اپ کے لیے سفر پر نکلنا جائز نہیں، اگر اپ سفر پر لے کر نکلے تو اس صورت میں اپ پر ضمان ائے گا لیکن اگر میں نے منع نہیں کیا تو میری طرف سے کسی قسم کی نہی نہیں پائی جا رہی، جب نہی نہیں پائی جا رہی تو اس صورت میں اپ کے لیے اس کو اپنے ساتھ سفر پر لے جانا بھی کہ اپ حفاظت بطور حفاظت کے اپنے ساتھ ہی رکھتے ہیں بھئی ہر وقت سفر میں بھی اپنے ساتھ ہی لے جاتے ہیں تو یہ جائز ہے۔ یہ اسی طرح بھئی جبکہ خوف نہ ہو مولانا تو پھر بھی سفر پر لے جانا جائز ہے لیکن اگر خوف ہے کہ راستے میں میں یہ لے کر جاؤں گا تو یہ چیز لوٹ لی جائے گی مجھ سے تو اب سفر پر لے جانا اس کے لیے جائز نہیں۔ صورت سمجھ میں اگئی؟ یہ معنی ہے وَلَهُ السُّفُورُ بِهَا اس کے لیے سفر کرنا بھی جائز ہے بِهَا أَيْ بِالْوَدِيْعَةِ اس ودیعت کے ساتھ عِنْدَ عَدَمِ النَّهْيِ جبکہ نہی نہ ہو یعنی منع کرنا نہ ہو کس کی طرف سے مالک کی طرف سے وَالْخَوْفِ اور جب خوف نہ ہو۔ بھئی سُفُور کا لفظ استعمال کیا سَفَر کا لفظ استعمال نہیں کیا، کیا وجہ ہے؟ تو اب فرق بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں السُّفُورُ بھئی سین کے ضمہ کے ساتھ پڑھنا سَفُور سین کے فتحے کے ساتھ نہیں بھئی، سَفُور فَعُوْل وزن جو ہے سین کے فتحے کے ساتھ فَعُوْل یہ عربی میں مصادر کے لیے نہایت قلیل ایا ہے، پورے کلام عرب میں ایک دو لفظ ہیں جو ایک دو مصادر ہیں جو فَعُوْل وزن پر ائے ہیں بعض علماء نے بھئی پھر اس میں دو چار کی اور زیادتی کی تو کل پانچ چھ لفظ ائے ہیں جو فَعُوْل وزن پر ہیں باقی جو مصادر ہیں وہ فُعُوْل ہیں فا کے ضمہ کے ساتھ بھئی سمجھ میں ایا؟ اچھا۔ تو فَعُوْل وزن پر صرف چند مصادر ائے ہیں چند ایک، مثلاً قَبُوْل ہے یہ قَبُوْل ایا ہے، اسی طرح ایک وَضُوْ ایا ہے بھئی جی، اسی طرح بعض کہتے ہیں طَهُوْر ایا ہے وغیرہ چند ایک ہیں بس بھئی تو یہ سین کے ضمہ کے ساتھ یہاں اپ پڑھنا۔ تو السُّفُورُ الْخُرُوجُ بھئی یہاں سے بتلا رہے ہیں اپ کو صاحب شرح وقایہ فرماتے ہیں بھئی ماتن نے سَفَر کا لفظ نہیں کہا سُفُور کا لفظ کہا، وجہ اس کی یہ کہ سُفُور مصدر ہے اور سَفَر حاصل بالمصدر ہے بھئی۔ مصدر اور حاصل بالمصدر میں فرق جانتے ہو یا نہیں جانتے؟ دیکھو کوئی فعل جو ہے یہ تو مصدر کہلاتا ہے بھئی مثلاً کھانا پینا سونا جاگنا یہ سارے کیا ہیں مصادر ہیں، بھاگنا اٹھنا بیٹھنا پڑھنا لکھنا، اردو میں علامت ہے اخر میں نا اتی ہے بھئی دیکھو سب لفظوں کے اخر میں نا ارا ہے پڑھنا لکھنا سونا جاگنا مطالعہ کرنا وغیرہ بھئی یہ سارے مصادر ہیں تو یہ مصدر ہے بھئی جس سمجھ میں ایا۔ لیکن اور حاصل بالمصدر جو ہے، مصدر سے حاصل ہونے والی ہیئت کو کہتے ہیں جیسے دیکھو ہنسنا یہ مصدر ہے، اس مصدر اس فعل اس ہنسنے کی وجہ سے جو ہیئت حاصل ہوگی وہ حاصل بالمصدر ہے، ہنسنے کی وجہ سے کیا ہیئت حاصل ہوئی؟ ہنسی۔ تو ہنسی یہ کیا ہے حاصل بالمصدر، دوڑنا مصدر ہے اس سے جو ہیئت حاصل ہوئی دوڑا تو کیا حاصل ہوئی دوڑ، یہ دوڑ کیا ہے حاصل بالمصدر ہے سمجھ میں ایا۔ لکھنا یہ کیا ہے مصدر ہے تو اس سے ہیئت جو حاصل ہوئی لکھائی وہ کیا ہے حاصل بالمصدر ہے۔ صورت سمجھ میں اگئی بھئی۔ تو مصدر کا یاد رکھو خارج میں وجود نہیں ہوتا، خارج میں جو ہم اپ مثلاً دیکھو کھانا پینا سونا جاگنا اپ کو کبھی خارج میں نظر نہیں ائے گا، اپ کہیں گے بھئی ہمیں تو خارج میں مصدر نظر اتا ہے، سونا بھی نظر اتا ہے جاگنا بھی نظر اتا ہے کوئی سو رہا ہو نظر اتا ہے یا نہیں اپ کو؟ تو یہ سونا دیکھنا جاگنا کوئی جاگے تو اپ دیکھ لیتے ہیں بھئی ہنسنا بھی ہمیں نظر اتا ہے، نہیں بھئی یاد رکھو یہ جو ہمیں دکھائی دیتا ہے یہ مصدر نہیں ہے یہ حاصل بالمصدر ہے یہ کیا ہے، مصدر تو ایک فعل ہے اس فعل کی وجہ سے جو ہیئت حاصل ہوئی وہ ہیئت ہمیں نظر ائی ہے مصدر خود ہمیں نظر تو ہنسنا خارج میں ہمیں ہنسنا نہیں نظر اتا خارج میں ہمیں ہنسی وہ جو ہیئت حاصل ہوئی وہ نظر اتی ہے بھئی دوڑنا نہیں نظر اتا بلکہ دوڑ نظر اتی ہے بھئی۔ تو چونکہ سَفَر حاصل بالمصدر تھا اس لیے اس کو استعمال نہیں کیا بلکہ کس کو استعمال کیا سُفُور یعنی مصدر کو، السُّفُورُ الْخُرُوجُ لِلسَّفَرِ سُفُور سفر کے لیے نکلنے کو کہتے ہیں فَالسُّفُورُ مَصْدَرٌ سُفُور مصدر ہے وَالسَّفَرُ سَفَر فا کے فتحے کے ساتھ ہے وَالسَّفَرُ الْحَاصِلُ بِالْمَصْدَرِ اور سَفَر حاصل بالمصدر ہے فَاخْتَارَ الْمَصْدَرَ تو ماتن نے کس کو اختیار کیا مصدر کو۔ وَإِنْ نَهَاهُ عَنِ السَّفَرِ اور اگر مالک نے روکا تھا سفر سے أَوْ كَانَ الطَّرِيقُ مَخُوفًا مَخُوف مَفْعُول وزن ہے مولانا سمجھ میں ایا أَوْ كَانَ الطَّرِيقُ مَخُوفًا یا راستہ خوفناک تھا فَسَافَرَ پھر اس مُوْدَع نے سفر کیا فَهَلَكَ الْمَالُ اور مال ہلاک ہوا ضَمِنَ تو اس صورت میں کیا ہوگا اگر مالک نے منع کیا تو بھی گیا تو ضامن، اگر راستہ خوفناک تھا اور سفر کیا تو بھی ضامن۔ وَلَوْ حَفِظَ بِغَيْرِهِمْ ضَمِنَ جی بھئی میں نے اپ کے پاس امانت رکھوائی تو اسی امانت کی حفاظت اپ بھی کر سکتے ہیں اپنی بیوی کے ذریعے بھی کروا سکتے ہیں اپنے بچوں کے ذریعے بھی کروا سکتے ہیں اپنے غلاموں کے ذریعے بھی کروا سکتے ہیں، لیکن ان کے علاوہ کسی اور کے پاس رکھوا دیتے ہیں، یہ امانت بھئی میں نے اپ کو دی تھی اپ نے زید کے پاس اگے رکھوا دی، نہیں بھئی اس صورت میں بھی اپ ضامن ہوں گے بھئی سمجھ میں ایا؟ کیونکہ میرا اعتماد اپ پر ہے زید پر میرا اعتماد نہیں ہے بھئی، یہ معنی ہے وَلَوْ حَفِظَ بِغَيْرِهِمْ اور اگر حفاظت کروائی ان کے علاوہ کسی اور کے ذریعے یعنی عیال والوں کے علاوہ ضَمِنَ تو اس صورت میں بھی ضامن ہوگا إِلَّا إِذَا خَافَ الْحَرْقَ أَوِ الْغَرَقَ اَوْ ہونا چاہیے بھئی إِلَّا إِذَا خَافَ الْحَرْقَ أَوِ الْغَرَقَ فَوَضَعَهَا۔ صورت مسئلہ یہ ہے بھئی اب یہ انہوں نے کیا مسئلہ بتلایا اپ کو کہ امانت اگر کسی اہل و عیال کے علاوہ کسی اور کے پاس رکھوا دیتا ہے تو اس صورت میں اس پر ضمان، لیکن اگر مجبوری ہو جائے پھر ضمان نہیں ائے گا مثلاً کیا بھئی امانت میں نے گھر میں رکھی تھی اس گھر کو اگ لگ گئی اب میں فورا کیا کیا وہ سارا سامان اٹھایا اور پڑوسی کے حوالے کر دیا کیا کیا بھئی، اب تو ضمان نہیں ائے گا کیوں کیونکہ اگر اس گھر میں پڑا رہتا تو وہ جل جاتا بھئی، یَرْحَمُكَ اللّٰهُ تو اس گھر میں رہتا تو کیا تھا جل جاتا، تو اب مجبوری کی وجہ سے میں نے کس کے حوالے کر دیا پڑوسی کے حوالے کر دیا، یا مولانا کشتی کے اندر امانت میرے پاس تھی بھئی اس کشتی میں سفر کر رہا ہوں کشتی ڈوبنے لگی غرق ہونے لگی میں نے وہ سامان اٹھایا ساتھ والی کشتی میں پھینک دیا ساتھ والوں کے حوالے کیا کسی کے بھئی اب بھی مولانا دوسرے کے پاس میں نے رکھوا دیا لیکن ضمان نہیں کیونکہ اب مجبوری تھی اگر اسی کشتی میں اپنے ساتھ رکھتا تو یہ کیا ہو جاتا غرق ہو جاتا، لیکن اس صورت میں یاد رکھو اس مجبوری کے اثبات کے لیے بَیِّنَہ کا ہونا ضروری ہے بھئی، کیا ہونا بَیِّنَہ سے ثابت کرنا پڑے گا کہ گھر جل رہا تھا اس لیے میں نے کیا کیا بامر مجبوری دیا یا کشتی ڈوب رہی تھی۔ تو یہ ضامن ہوگا إِلَّا مگر اس صورت میں ضامن نہیں ہوگا إِذَا خَافَ الْحَرْقَ جب اس کو خوف ہوا مُوْدَع کو خوف ہوا الْحَرْقَ بھئی جلنے کا أَوِ الْغَرَقَ یا کس کا غرق ہونے کا فَوَضَعَهَا عِنْدَ جَارِهِ تو اس نے اس ودیعت کو رکھوا دیا اپنے پڑوسی کے پاس یہ کس صورت میں ہے جلنے کی صورت میں أَوْ فِي فُلْكٍ آخَرَ یا دوسری کشتی میں رکھوا دیا یہ کس صورت میں ہے غرق کی صورت میں ہے فَإِنْ حَبَسَهَا پس اگر روک لیا اس نے بھئی۔ صورت یہ بھئی امین پر ضمان نہیں اتا جس کے پاس امانت رکھوائی جائے اس کے پاس امانت بغیر تعدی کے ہلاک ہو جائے تو اس پر ضمان، لیکن میں نے امانت رکھوائی تھی اپ کے پاس میں ایا امانت طلب کرنے لاؤ بھئی اپ میری امانت میرے حوالے کر دو اپ قادر بھی تھے کہ میرے حوالے کر دیں اپ نے انکار کر دیا اب فورا ضامن ہو گئے، اب ہلاک ہوئی تو اپ پر کیا ائے گا ضمان بھئی کیونکہ اپ سپرد کرنے پر قادر تھے اور میرے طلب کرنے کے باوجود مالک کے طلب کرنے کے باوجود اپ نے امانت اس کے سپرد نہیں کی۔ یا مولانا یہ تو تھا سپرد کرنے سے انکار کیا تو سرے سے انکار ہی کر دیتا ہے بھئی اپ نے میرے پاس کوئی امانت رکھوائی ہی نہیں تو اس صورت میں بھی کیا ہو جائے گا ضامن ہو جائے گا بھئی کیا ہو جائے گا ضامن ہو جائے گا بعد میں چاہے اقرار بھی کر لے بعد میں بھئی جس نے انکار کیا تھا بھئی وہ تبلیغ میں چلا گیا بھئی اس نے کیا کی توبہ وغیرہ کر لی اب کہتا ہے بھئی میں جاؤں گا تو کیا کروں گا امانت فورا واپس کر دوں گا یا پہلے انکار کیا تھا پہلے دینے سے انکار کیا تھا اب کیا کر رہا ہے کہ دے دوں گا یا پہلے سرے سے انکار کر دیا تھا کہ میرے پاس ہے ہی نہیں اب کیا کہتا ہے جا کر اقرار بعد میں کر لیتا ہے تو نہیں بھئی اس صورت میں ضمان نہیں ہٹے گا جب تک دے نہیں دے گا واپس اس وقت تک ضمان ختم نہیں ہوگا صورت سمجھ میں اگئی۔ یہ معنی ہے فَإِنْ حَبَسَهَا بَعْدَ طَلَبِ رَبِّهَا أَيْ رَبِّ الْوَدِيْعَةِ اگر امانت کے امانت والے یعنی امانت کے مالک کے طلب کرنے کے بعد اس نے روک لیا امانت کو بند کر لیا بعد اس کے کہ امانت والے نے اس کو امانت کے مالک نے اسے طلب کیا تھا قَادِرًا عَلَى التَّسْلِيمِ اس حال میں کہ یہ مُوْدَع کیا تھا سپرد کرنے پر قادر بھی تھا سمجھ میں ایا یہ نہیں کہ اپ نے ایک امانت رکھی ہوئی ہے لاہور میں میں کراچی میں اپ کو کہتا ہوں لاؤ بھئی ابھی میری امانت دو تو اب تو اپ قادر ہی نہیں ہیں سپرد کرنے پر اس وقت تو قادر بھی ہو سپرد کرنے پر ایک صورت أَوْ جَحَدَهَا یا سرے سے ہی کیا کر دیتا ہے امانت کا انکار کر دیتا ہے مَعَهُ أَيْ مَعَ رَبِّ الْوَدِيْعَةِ ہا ضمیر کس کو راجع رَبِّ الْوَدِيْعَةِ رَبِّ الْوَدِيْعَةِ کے سامنے انکار کر دیتا ہے کہ۔ یہ تو بھئی دو صورتیں بنتی ہیں رَبِّ الْوَدِيْعَةِ کے سامنے انکار کرے گا یا کسی اور کے سامنے، اگر کسی اور کے سامنے انکار کرتا ہے یہ نہیں معتبر بھئی، میری امانت اپ کے پاس ہے اپ میرے سامنے کہتے ہیں بھئی اپ نے میرے پاس کوئی ام میں کہتا ہوں امانت دو اپ کہتے ہیں میرے میں نے اپ کی کوئی امانت میرے پاس موجود نہیں، یہ انکار یہ معتبر اب اپ پر ضمان ائے گا، لیکن اگر اپ کیا زید کے پاس بیٹھے ہوئے تھے زید نے کہا بھئی سنا ہے اپ کے پاس فلاں نے امانت رکھوائی ہے گاڑی بھئی اپ کہتے ہیں نہیں نہیں وہ گاڑی تو میری اپنی ہے اس نے کوئی میرے پاس امانت تو اس صورت میں اپ پر ضمان نہیں ائے گا بھئی، کیوں نہیں ائے گا اس صورت میں ضمان کہتے ہیں بھئی یہ تو اپ بلکہ حفاظت کر رہے ہیں اس امانت کی، کیا کر رہے ہیں؟ حفاظت، کیوں اس لیے کہ زید کو اگر پتہ چلے گا یہ فلاں کی چیز ہے تو وہ اس کو کسی طرح لے جانے کی کوشش کر سکتا ہے تو اب اپ اس کو کیا بتلانا چاہتے ہیں یہ فلاں کی نہیں ہے بلکہ میری اپنی ہے صورت سمجھ میں اگئی؟ تو یہ تو حفاظت والے کا طریقہ اختیار کر رہے ہیں اپ لہذا اس صورت میں ضمان نہیں ائے گا صورت سمجھ میں اگئی۔ تو أَوْ جَحَدَهَا اور اگر انکار کر دیا یا انکار کر دیا ودیعت کا مَعَهُ أَيْ مَعَ رَبِّ الْوَدِيْعَةِ امانت کے مالک کے ساتھ سامنے ثُمَّ أَقَرَّ بِهَا پھر چاہے اس کا اقرار کرے أَيْ ثُمَّ أَقَرَّ بِالْوَدِيْعَةِ أَوْ لَا پھر بعد میں اقرار کرے یا اقرار نہ کرے، دونوں صورتوں میں کیا ہوگا اس پر، بعد میں اقرار بھی کر لے کہ ہاں بھئی میں نے اپ کی امانت میرے پاس موجود ہے لیکن جب ایک دفعہ انکار کر دیا یا ایک دفعہ اس کے طلب کرنے پر رد کر دیا تو اس صورت میں اس پر فورا کیا اگی زمان، اب بعد میں بھئی مان بھی لیتا ہے تو جب تک دے گا نہیں اس وقت تک ضمان ہٹے گا نہیں۔ أَيْ جَحَدَهَا مَعَ ضمیر کا مرجع بتلا رہے ہیں مَعَهُ سے کیا مراد ہے أَيْ جَحَدَهَا مَعَ رَبِّ الْوَدِيْعَةِ انکار کرتا ہے ودیعت کے مالک کے سامنے يَضْمَنُ تو ضامن ہوگا سَوَاءٌ أَقَرَّ بِهَا بَعْدَ الْجُحُودِ أَوْ لَا برابر ہے کہ اقرار کرے امانت کا انکار کے بعد أَوْ لَا یا انکار اقرار نہ کرے وَإِنَّمَا قَالَ مَعَ رَبِّ الْوَدِيْعَةِ بھئی ماتن نے یہ قید کیوں لگائی کہ رب المال کے رب الودیعہ کے سامنے کیا کرتا ہے انکار کہتے ہیں لِأَنَّهُ إِنْ جَحَدَهَا مَعَ غَيْرِ الْمَالِكِ اس لیے کہ اگر وہ ودیعت کا انکار کرتا ہے غیر مالک کے علاوہ کے ساتھ لَا يَضْمَنُ اس صورت میں ضامن نہیں ہوگا لِأَنَّ هٰذَا مِنْ بَابِ الْحِفْظِ اس لیے کہ یہ بھی کس میں سے ہے حفاظت کے باب میں سے ہے یہ تو حفاظت کرنا چاہتا ہے کہ کسی اور کی امید طمع کوئی اور نہ کرنے لگے اس کو لینے کی۔ وَإِنْ جَهِلَ الْمُوْدَعُ الْوَدِيْعَةَ عِنْدَ الْمَوْتِ يَصِيْرُ غَاصِبًا۔ بھئی دیکھو بھئی ایک شخص نے دوسرے کے پاس امانت رکھوائی بھئی سمجھ میں امانت رکھوا دی اور مر گیا وہ شخص جس نے امانت رکھوائی تھی اور مُوْدَع نے موت کے بعد بھئی وارثوں کو نہیں بتلایا وارثوں کو تو کہتے ہیں وہ غاصب بن جائے گا، کیونکہ اب وارثوں بیچاروں کو تو پتہ ہی نہیں اور موت کے بعد بھی وہ نہیں بتا رہا بھئی سمجھیں اپنے پاس ہی روک کے رکھی ہوئی ہے تو بس روکتے ہی فورا وہ کیا ہو جائے گا خود بخود غاصب بن جائے گا بھئی سمجھ میں ایا؟ لہذا مُوْدَع کے مرتے ہی اول فرصت میں فورا کیا کرے وارثوں کو اطلاع دے بھئی کہ میرے پاس اس نے یہ امانت رکھوائی ہے یہ بھی ورثے میں شامل ہے یہ چیز۔ یہ معنی ہے وَإِنْ جَهِلَ الْمُوْدَعُ الْوَدِيْعَةَ اگر مجہول رکھی مُوْدَع نے ودیعت کو عِنْدَ الْمَوْتِ مُوْدَع کی موت کے وقت يَصِيْرُ غَاصِبًا تو کیا بن جائے گا غاصب تو پھر ضمان ائے گا اس پر اگر ہلاک ہو گئی أَوْ خَلَطَ بِمَالِهِ حَتّٰى لَا يَتَمَيَّزُ یا ملا دیا اس کو اپنے مال کے ساتھ یہاں تک کہ وہ جدا نہیں ہوتا۔ اچھا دیکھیے بھئی یہ کئی صورتیں چل رہی ہیں پہلی کیا فَإِنْ حَبَسَهَا پہلی صورت شرط یہاں سے شروع ہو رہی ہے سمجھ میں ایا اگر کیا کیا اس کو روک لیا أَوْ جَحَدَهَا یہ کونسی صورت ہے دوسری انکار کر دیا اگے ایا اگے أَوْ خَلَطَ بِمَالِهِ یا کیا کیا ملا دیا اپنے مال کے ساتھ یہ سارا چل رہا ہے نیچے ایک اور متن ا رہا ہے اس متن کے اخری لفظ ہے ضَمِنَ مل گیا بھئی یہ ضَمِنَ جزا ہے اس سارے کی بھئی ان تمام صورتوں میں کیا ہوگا ضامن ہوگا میں ساتھ ساتھ بتلاتا جا رہا ہوں بھئی تو یہ جزا یہ ائے گی بھئی ۔ او ”خَلَطَ بِمَالِهِ“ یہ تیسری صورت ہے۔ بھئی مُودَع نے کیا کیا؟ میں نے آپ کے پاس اپنی گندم رکھوائی تھی، آپ نے اس گندم کو اپنی گندم کے ساتھ ملا دیا بھئی۔ بس، اپنے مال کے ساتھ ملا دے چاہے غیر کے مال کے ساتھ، دونوں صورتوں میں اب واپس ضَمَان آ جائے گا۔ کیا آ جائے گا؟ ضَمَان۔ اب اگر وہ گندم ہلاک ہو گئی تو اب آپ یہ نہیں کہیں گے کہ یہ تو امانت تھی، نہیں بھئی! آپ تو اس کو کیا کر چکے تھے؟ اپنے مال کے ساتھ ملا چکے تھے، لیکن ملانا بھی ایسا ہو کہ پھر جدا نہ ہو سکے۔ میں نے آپ کے پاس درہم رکھوائے تھے، آپ نے اس کو اپنے دیناروں میں ملا دیا، مکس کر دیا؟ نہیں بھئی، کوئی حرج نہیں، درہم اور دینار تو آرام سے ایک دوسرے سے جدا ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ نے ایسے طور پر ملایا کہ جدا کرنا ممکن ہی نہیں جیسے گندم کو گندم کے ساتھ ملا دیا، اب تو جدا کرنا ممکن ہی نہ رہا۔ جی! تو جدا کرنا یا تو ممکن نہ رہے یا ممکن تو ہو لیکن بہت مشکل ہو جائے تو دونوں صورتوں میں یہی حکم ہے بھئی کہ اس پر ضَمَان آئے گا۔ ”أَوْ خَلَطَ بِمَالِهِ“ یا مُودَع نے ملا دیا بھئی امانت کو ”بِمَالِهِ“ کس کے ساتھ؟ اپنے مال کے ساتھ، ”حَتَّى لَا يَتَمَيَّزَ“ یہاں تک کہ اب وہ جدا نہیں ہوتا۔ ”فَإِنَّهُ إِنْ خَلَطَ بِخِلَافِ الْجِنْسِ“ اس لیے کہ اگر اس نے ملایا اس کو خلافِ جنس کے ساتھ، اسی کی جنس کے ساتھ نہیں ملایا، میں نے گندم رکھوائی تھی، آپ نے اس کو اپنی جو کے ساتھ ملا دیا، تو بھی کیا ہوا؟ اب ان کو الگ کرنا مشکل ہے یا آسان ہے؟ مشکل۔ یا بھئی میں نے آپ کے پاس گندم رکھوائی تھی، آپ نے چنے کے ساتھ مکس کر دی بھئی، اب آسان... جدا ہو سکتی ہے؟ نظر تو آ رہی ہے، یہ گندم کا دانہ ہے، یہ چنے کا دانہ ہے، لیکن اب کون اس سارے کو علیحدہ کرے بھئی؟ تو کیا ہو گیا؟ مشکل ہو گیا۔ تو خلاف ”فَإِنَّهُ إِنْ خَلَطَ بِخِلَافِ الْجِنْسِ“ اس لیے کہ اگر اس نے ملا دیا اس کو خلافِ جنس کے ساتھ تو ”يَنْقَطِعُ حَقُّ الْمَالِكِ“ تو مالک کا حق کیا ہو جائے گا اس صورت میں؟ منقطع ہو جائے گا، ”وَيَجِبُ الضَّمَانُ“ اور ضَمَان واجب ہو جائے گا ”اتِّفَاقًا“ بالاتفاق بھئی، ہمارے ائمہ ثلاثہ کے نزدیک، تینوں کے نزدیک کیا ہو گا؟ تینوں صورتوں میں... ان میں ضَمَان واجب ہو گا۔ ”وَكَذَا إِنْ خَلَطَ بِجِنْسِهِ“ اور اسی طرح ہے حکم اگر کس کے ساتھ ملا دے؟ اسی کے جنس یعنی گندم رکھوائی تھی کس کے ساتھ ملا دی؟ گندم کے ساتھ، یا درہم رکھوائے تھے کس کے ساتھ ملا دیے؟ درہم کے ساتھ بھئی، کیونکہ اب تو جدا کرنا ممکن ہی نہ رہا۔ ”عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“ یہ کس کے نزدیک ہے؟ امام صاحب کے نزدیک۔ یاد رکھو بھئی، مسئلہ سمجھ لیں پہلے بھئی، یہاں عبارت بھئی ہدایت سے کچھ اور مفہوم ہوتا ہے مسئلہ اور یہاں عبارت سے کچھ اور مسئلہ مفہوم ہوتا ہے۔ پہلے ہدایت والا سمجھ لیں۔ ہدایت میں ہے بھئی کہ امام صاحب کے نزدیک اگر اس امانت کو اپنے مال میں ملا دے اس طور پر کہ دونوں کا جدا کرنا ممکن نہ رہے یا مشکل ہو جائے تو امام صاحب کے نزدیک فوراً دوسرے پر کیا آ جائے گا؟ ضَمَان آ جائے گا۔ لیکن صاحبین فرماتے ہیں کہ دوسرے کو اختیار ہے، امانت مُودِع کو کیا ہے؟ اختیار ہے، امانت دینے والے رکھوانے والے کو اختیار ہے، چاہے تو ضَمَان لے لے، چاہے تو اس میں شریک ہو جائے۔ میں نے بھئی آپ کے پاس گندم امانت کے طور پر رکھوائی تھی بھئی پانچ من گندم، آپ نے اس کو اپنی گندم کے ساتھ ملا دیا، مکس کر دیا بھئی، اب میں مُودِع مجھے اختیار ہے، صاحبین فرماتے ہیں۔ امام صاحب کے نزدیک تو کیا مسئلہ تھا؟ اب آپ کو ضَمَان دینا پڑے گا، اب ان کی قیمت مجھے دیں گے آپ بھئی۔ لیکن صاحبین فرماتے ہیں اختیار ہے مُودِع کو، چاہے تو ضَمَان لے لے اور چاہے تو اس گندم میں شریک ہو جائے بھئی۔ سمجھ میں آیا کیا ہو جائے؟ جتنی بھی گندم ہے، اس میں سے اتنا حصہ میرا ہے۔ سمجھے؟ مثلاً پانچ من ہی آپ کی تھی، پانچ من میری مل گئی ساتھ، تو اب بھئی نصف نصف کے میں حصہ... نصف آپ کی ہو گئی گندم اور نصف میں شرکت آ جائے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو امام صاحب کے نزدیک صرف کیا لے گا؟ ضَمَان، اور صاحبین کے نزدیک اختیار ہے، چاہے تو شریک ہو جائے اور چاہے تو ضَمَان لے لے، اختیار ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ کس صورت میں ہے؟ اگر اسی کی جنس کے ساتھ ملائے، اگر خلافِ جنس کے ساتھ ملائے وہ تو اوپر بتا دیا بالاتفاق تینوں ائمہ کے نزدیک کیا آئے گا وہاں؟ ضَمَان، لیکن اگر اسی کی جنس کے ساتھ ملائے تو پھر امام صاحب کے نزدیک صرف ضَمَان، اور صاحبین کے نزدیک اختیار، چاہے تو ضَمَان لے لے اور چاہے تو شریک ہو جائے۔ اچھا! لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ بھئی فرماتے ہیں کہ پھر یہ اس صورت میں ہے جبکہ دونوں برابر ہوں۔ دونوں کیا ہوں؟ برابر ہوں۔ مثلاً میری بھی پانچ من گندم تھی اور آپ کی بھی کتنی ہے؟ پانچ، اور اگر ایک زیادہ ہے اور دوسری کم ہے تو پھر اس صورت میں وہ کہتے ہیں اکثر کا اعتبار ہو گا بھئی اور اقل اس کے تابع ہو جائے گی۔ مثلاً میں نے جو گندم رکھوائی تھی وہ دو من تھی، آپ کی گندم جو تھی وہ 15 من تھی۔ تو یہ دو من تھوڑے ہیں، 15 من کیا ہیں؟ زیادہ، تو اس صورت میں اقل تابع ہو جائے گی کس کے؟ اکثر کے، تو یہ ساری گندم اب دوسرے کی ہو گئی، جس کی زیادہ تھی اس کی ہو گئی۔ اور یہ زیادہ کس کی تھی؟ مُودَع کی یا مُودِع کی؟ مُودَع کی زیادہ گندم تھی 15 من بھئی، تو یہ دو من ساتھ ملے، یہ دو من بھی اس کے ہو گئے اور یہ اب اس کو دو من کی قیمت دے گا۔ یعنی وہ فرماتے ہیں کہ اقل ہونے کی صورت میں ضَمَان آئے گا بھئی، پھر اس صورت میں شرکت نہیں، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اگر برابری ہو تو وہ کیا فرماتے ہیں؟ اختیار ہے، چاہے ضَمَان لے اور چاہے شرکت کرے، اور اگر ایک اقل ہے ایک اکثر ہے، تو اقل کس کے تابع ہو جائے گی؟ اکثر کے بھئی، اور صاحبِ اکثر پر ضَمَان آ جائے گا۔ کیا آ جائے گا؟ ضَمَان۔ یا یوں اس کا عکس کریں، میری گندم 15 من تھی اور آپ کی گندم کتنی تھی؟ دو من، اب وہ مکس ہو گئی بھئی، مل گئی، تو اب اکثر کس کا ہے؟ مُودِع کا، تو یہ ساری گندم کس کی ہو گئی؟ مُودِع امانت رکھوانے والے کی ہو گئی اور جس کے پاس امانت رکھوائی تھی اس کو اب ضَمَان دینا... یہ مُودِع اس کو ضَمَان دے گا بھئی، دو من گندم کی قیمت دے دے گا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ جبکہ امام محمد فرماتے ہیں کمی بیشی کا کوئی اعتبار نہیں ہے، بس بھئی جب بھی قلیل ہو یا کثیر... شرکت آئے گی بھئی، کیا ہو گی؟ شرکت ثابت ہو جائے گی بھئی۔ دیکھیے بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ“ اور اسی طرح ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بھی، یعنی جیسے امام صاحب کے نزدیک اپنی جنس سے ملا دو تو بھی ضَمَان آتا تھا، اسی طرح امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہاں بھی کیا آئے گا؟ ضَمَان آئے گا ”إِلَّا“ مگر اس صورت میں ”إِذَا خَلَطَ بِمَا هُوَ أَكْثَرُ مِنْهُ“ جب اس کو ملا دیا اس کے ساتھ جو اس سے زیادہ ہے تو ”يُجْعَلُ الأَقَلُّ تَابِعًا لِلأَكْثَرِ“ تو اقل کو تابع بنا دیں گے کس کا؟ اکثر کا، تو صاحبِ اکثر مالک بن جائے گا اور وہ ضَمَان دے گا دوسرے کو۔ ”لَا بِمَا هُوَ أَقَلُّ“ نہ کہ اس کے ساتھ جو کہ اقل ہو، دیکھا؟ یہ ہے اختلاف ان کے درمیان۔ جی! کیسے؟ یہاں سے جو مفہوم ہو رہا ہے مسئلہ بھئی، دیکھو! یہاں سے یہ مفہوم ہو رہا ہے عبارت دیکھ... پہلے مسئلہ سمجھ لو پھر دیکھنا، ترجمہ یہ اسی طرح ہو گا۔ شرحِ وقایہ سے یہ مفہوم ہو رہا ہے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ امانت یا تو زیادہ ہو گی یا کیا ہو گی؟ کم ہو گی۔ اگر بھئی دیکھو، اگر برابر ہے تو ان کے نزدیک حکم اسی طرح ہے یعنی صرف کیا آئے گا؟ ضَمَان، لیکن اگر امانت ہوئی کم اور اس کو ملایا گیا کس کے ساتھ؟ اکثر کے ساتھ، تو اس صورت میں اقل کس کے تابع ہو جائے گی؟ اکثر کے تابع ہو جائے گی بھئی، کیا ہو جائے گی؟ تابع ہو جائے گی۔ جب اکثر کے تابع ہوئی تو کیا مطلب؟ مالک کون بن گیا؟ مُودَع بھئی! اکثر... امانت اقل تھی ”خَلَطَ بِمَا هُوَ أَكْثَرُ مِنْهُ“ کس کے ساتھ ملا دیا؟ اکثر کے ساتھ، معلوم ہوا امانت دو من تھی اور وہ دوسرا آپ کے پاس کتنا تھا؟ مثلاً 15 من، اس دو من کو 15 من کے ساتھ ملا دیا تو کون کس کے تابع ہوا؟ دو من کس کے تابع ہو گیا؟ 15 من، معلوم ہوا صاحبِ کثیر کیا بن گیا؟ مالک، اور مالک پر کیا آیا کرتا ہے؟ ضَمَان، تو معلوم ہوا اس پر بھی کیا آئے گا؟ ضَمَان۔ تو یہ کیا بات ہوئی؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ یہی تو فرما رہے تھے۔ بھئی ”إِلَّا“ سے پہلے انہوں نے کیا صورت ذکر کی؟ جی؟ ”إِلَّا“ سے پہلے کیا ذکر کی؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا کیا مسلک ہے؟ ”وَكَذَا عِنْدَ أَبِي...“ اسی طرح امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا مسلک ہے کہ اس صورت میں کیا آئے گا؟ ضَمَان آئے گا، اور استثناء میں کیا بتلایا؟ پھر ضَمَان آئے گا بھئی! کوئی فرق ہوا دونوں میں؟ مساوات کی صورت میں بھی یہی تھا اور اکثر کے ساتھ ملا دو پھر بھی یہی حکم ہے۔ سمجھ میں آیا؟ معلوم ہوا یہاں عبارت کچھ درست نہیں ہے بھئی، عبارت درست نہیں ہے بھئی، ورنہ ”إِلَّا“ سے ماقبل بھی ضَمَان کا ذکر ہے اور ”إِلَّا“ کے مابعد بھی کس کا ذکر ہے؟ ضَمَان کا۔ ہاں، آگے بھی عبارت دیکھ لو ذرا۔ جی؟ بھئی وہ میں نے ہدایت کا مسئلہ بتلایا ہے، ہدایت میں ہے صاحبین کو کیا حاصل ہے؟ اختیار، لیکن اس کتاب سے کیا ثابت ہو رہا ہے؟ ضَمَان آئے گا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ میں نے اسی لیے تو پہلے ہدایت کی بات کی، اس کے بعد اب اس کتاب کی بات کر رہا ہوں۔ اور اسی طرح امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک یعنی ان کے نزدیک بھی ضَمَان آئے گا مگر اس صورت میں جبکہ ملا دے امانت کو اکثر کے ساتھ تو اس صورت میں اقل... اقل کون ہے؟ امانت، وہ تابع ہو جائے گی اکثر کے، تو یعنی وہ صاحبِ کثیر مالک بن گیا اور دوسرے کو اس کا کیا دے گا اب؟ ضَمَان۔ ”لَا بِمَا هُوَ أَقَلُّ“ نہ کہ اس چیز کے ساتھ جو اقل ہو۔ اگر امانت کو کس سے ملا دیا؟ اقل، امانت زیادہ تھی اور دوسرا حصہ کیا تھا؟ اقل، میں نے 15 من گندم دی تھی، آپ نے اپنی دو من گندم کے ساتھ ملا دی، تو اس صورت میں ضَمَان نہیں آئے گا، اس صورت میں ضَمَان نہیں آئے گا ”فَإِنَّهُ لَا يَنْقَطِعُ حَقُّ الْمَالِكِ“ اس لیے کہ اس صورت میں مالک کا حق منقطع نہیں ہو گا ”بَلْ تَثْبُتُ الشَّرِكَةُ“ بلکہ کیا ثابت ہو جائے گی؟ شرکت ثابت ہو جائے گی۔ عبارت سے کیا مفہوم ہو رہا ہے؟ اگر امانت زیادہ ہوئی اور اس کو کس کے ساتھ ملا دیا؟ اقل کے ساتھ، میں نے 15 من گندم دی تھی، آپ نے اپنی دو من گندم کے ساتھ ملا دی تو اس صورت میں اقل اکثر کے تابع نہیں ہو گی بلکہ اس صورت میں مالک کا حق منقطع ہی نہیں... بھئی حق منقطع ہوتا تھا تو ضَمَان آ جاتا تھا، اب کہہ رہے ہیں حق منقطع نہیں بلکہ اس صورت میں کیا ثابت ہو جائے گی؟ شرکت ثابت ہو جائے گی، کیا ثابت ہو جائے گی؟ شرکت ثابت ہو جائے گی۔ معلوم ہوا میں نے امانت دی، اگر وہ امانت تھوڑی تھی جس مال کے ساتھ ملائی گئی وہ زیادہ تھا، تو اس صورت میں دوسرے پر ضَمَان آئے گا، اور اگر امانت زیادہ تھی اور مُودَع کا حصہ... مال تھوڑا سا تھا تو اس صورت میں پھر کیا ثابت ہو جائے گی؟ شرکت ثابت ہو جائے گی، صورت سمجھ میں آئی؟ ”وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک ”لَا يَنْقَطِعُ حَقُّ الْمَالِكِ“ مالک کا حق منقطع ہی نہیں ہوتا کسی صورت میں بھی چاہے برابر ہوں چاہے کم زیادہ ہوں ”بَلْ تَثْبُتُ الشَّرِكَةُ“ بلکہ کیا ثابت ہو جاتی ہے؟ شرکت ثابت ہو جاتی ہے ”سَوَاءً كَانَ أَقَلَّ أَوْ أَكْثَرَ“ برابر ہے کہ ودیعت جو ہے یا وہ دوسرے کا مال جو ہے اقل ہو یا اکثر ہو۔ ”أَوْ تَعَدَّى الْمُودَعُ“ یہ چوتھی صورت آئی بھئی، اور اگر یا اگر تعدی کی مُودَع نے ”فَلَبِسَ ثَوْبَهَا“ پس اس ودیعت کے کپڑے کو پہن لیا، میں نے آپ کے پاس کپڑا امانت کے طور پر رکھوایا تھا اور آپ نے اس کو کیا کیا؟ پہن لیا، استعمال کر لیا، ”أَوْ رَكِبَ دَابَّتَهَا“ یا ”أَوْ دَابَّتَهَا“ یہ ضمیر یاد رکھو کس کو راجع ہے؟ ودیعت کو، ”فَلَبِسَ ثَوْبَهَا“ ”أَيْ ثَوْبَ الْوَدِيعَةِ“ ”أَوْ رَكِبَ دَابَّتَهَا“ ”أَيْ رَكِبَ دَابَّةَ الْوَدِيعَةِ“ بھئی میں نے آپ کے پاس بھئی سواری رکھوائی تھی امانت کے طور پر، آپ نے اس پر سواری کر لی، ”أَوْ رَكِبَ دَابَّتَهَا“ یا مُودَع سوار ہو گیا اس ودیعت کے جانور پر ”أَوْ أَنْفَقَ بَعْضَهَا ثُمَّ خَلَطَ مِثْلَهُ بِمَا بَقِيَ“ یا مولانا میں نے آپ کے پاس بھئی دس ہزار روپے رکھوائے تھے، آپ نے اس میں سے ایک ہزار روپے خرچ کر دیے بھئی اور اس میں اتنے ہی ہزار پھر اپنی طرف سے بعد میں ملا دیے، کیا کیے؟ ملا دیے، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ بھئی دیکھو! میں نے آپ کے پاس دس ہزار روپے رکھوائے بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور جی، دراہم کی صورت بنا لو تاکہ ایک جیسے ہوں بھئی، کیونکہ ادھر تو نوٹ مختلف ہو سکتے ہیں پھر بھی تمیز بعض اوقات ممکن ہے، دراہم بھئی! میں نے آپ کے پاس دس ہزار دراہم رکھوائے تھے اور آپ کو ایک دن ضرورت پڑ گئی اور دراہم نہیں تھے، آپ نے اسی امانت والوں میں سے پانچ سو دراہم نکالے اور خرچ کر دیے، بعد میں جب آپ کے اپنے دراہم آئے اب آپ نے کتنے خرچ کیے تھے بھئی؟ پانچ سو، تو اپنے پانچ سو دراہم نکالے اور اس امانت میں شامل کر دیے، اب مولانا آپ پر ضَمَان آ گیا، کیوں ضَمَان آیا؟ جی؟ اس لیے کہ آپ نے امانت میں اپنا مال ملا دیا، کیا کر دیا؟ اپنا مال ملا دیا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اوپر یہی بات تو ذکر ہوئی تھی، اپنے مال کے ساتھ امانت کو ملانا نہیں بھئی، تو ابھی تو اس نے صرف پانچ سو خرچ کیا تھا، چلو پانچ سو کا اس پر ضَمَان آتا آتا، لیکن باقی ساڑھے نو سو تو کیا تھی امانت؟ کتنے... کتنی امانت تھی؟ دس ہزار دراہم، تو باقی تو 9500 دراہم تو مامون تھے، ابھی بھی امانت ان کا ضَمَان نہیں تھا، لیکن اس کے ساتھ اس نے پھر اپنے پانچ سو ملا دیے، تو پھر خلطِ مال آیا یا نہیں آیا؟ اور اب جدائی ہو سکتی ہے؟ جدائی نہیں ہو سکتی، تو لہٰذا اب کیا آ جائے گا؟ ضَمَان، جیسے اوپر مثلاً میں گزرا۔ یہ معنی ہے ”أَوْ أَنْفَقَ بَعْضَهَا“ یا... ”أَيْ بَعْضَ الْوَدِيعَةِ“ یا مُودَع نے خرچ کر دیا بعض ودیعت کو ”ثُمَّ خَلَطَ مِثْلَهُ بِمَا بَقِيَ“ پھر اس نے ملا دیا اسی کے مثل کو، یعنی جتنا خرچ کیا تھا، اسی کے مثل کو ”بِمَا بَقِيَ“ بھئی، کس کے ساتھ؟ ما بقی کے ساتھ۔ ”أَوْ حَفِظَ فِي دَارٍ أُمِرَ بِهِ فِي غَيْرِهَا“ یا مولانا بھئی میں نے آپ کے پاس دس ہزار دراہم امانت کے طور پر رکھوائے، ادھر دیکھو بھئی، میں نے آپ کے پاس کتنے دراہم رکھوائے؟ دس ہزار، لیکن میں نے آپ کو کہا بھئی کہ یہ اپنے گلبرگ والی کوٹھی کے اندر یہ مال رکھنا، سمجھ میں آیا؟ ڈیفنس میں جو کوٹھی ہے اس کے اندر نہیں رکھنا، یا چلو بھئی، منع نہیں کیا کسی سے، ویسے ہی کہا بھئی اس کوٹھی کے اندر گلبرگ والی کوٹھی میں یہ اپنا مال رکھنا بھئی، آپ نے کیا کیا؟ اپنے اس کوٹھی میں رکھنے کے بجائے دوسری جگہ جو ڈیفنس میں آپ کی کوٹھی ہے اس کے اندر آپ نے رکھ لیا مال بھئی اپنا، بھئی اس صورت میں بھی آپ ضامن ہوں گے بھئی، کیونکہ میں اس مال کے گلبرگ کی کوٹھی میں رکھوانے پر تو راضی ہوں، دوسری جگہ رکھوانے پر راضی... بھئی تو اس سے کیا فرق پڑا؟ کہتے ہیں بھئی علاقے علاقے کا فرق ہوتا ہے، ایک علاقہ شریفوں کا محلہ ہے مال محفوظ ہے، ایک جگہ ہے جہاں چوریاں ڈاکے پڑتے رہتے ہیں بھئی، وہاں پر مال محفوظ نہیں ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ معنی ہے ”أَوْ حَفِظَ“ یا مولانا مُودَع نے حفاظت کی ”فِي دَارٍ“ ایسے گھر کے اندر، دیکھو دار نکرہ ہے اس کے بعد فعل آ رہا ہے تو صفت بنے گی، یا حفاظت کی ”فِي دَارٍ“ ایسے گھر کے اندر ”أُمِرَ بِهِ فِي غَيْرِهَا“ کہ اس کو حکم دیا گیا تھا اس حفاظت کرنے کا اس گھر کے علاوہ میں، کسی اور گھر میں، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ”بِهِ“ کی ه ضمیر حفظ کو راجع اور ”غَيْرِهَا“ کی هَا ضمیر دار کو راجع کیونکہ دار مؤنثِ سماعی ہے، ایسے گھر کے اندر کہ جو... اور یا حفاظت کی اس نے ایسے گھر کے اندر کہ حکم دیا گیا تھا اس کو حفاظت کرنے کا اس گھر کے علاوہ میں ”ضَمِنَ“۔ان تمام صورتوں میں کیا ہو گا؟ ضامن ہو گا۔ أَيْ حَفِظَ فِي دَارٍ أُمِرَ... فِي دَارٍ بَيَّ، أَمَرَ الْمُودِعُ بِالْحِفْظِ فِي غَيْرِهَا بَيَّ۔ یعنی حفاظت کی مال کی ایسے گھر کے اندر کہ حکم دیا تھا مودِع نے حکم دیا تھا حفاظت کرنے کا فِي غَيْرِهَا اس گھر کے علاوہ میں۔ فَقَوْلُهُ ضَمِنَ پس ماتن کا قول ”ضَمِنَ“ جو ہے، جَزَاءُ الشَّرْطِ یہ کیا ہے؟ شرط کی جزا ہے۔ بھئی کس شرط کی؟ کہتے ہیں وَهُوَ قَوْلُهُ اور ماتن کا یہ قول ہے ”فَإِنْ حَبَسَهَا“ بھئی، گزشتہ صفحے پر متن آیا تھا یا نہیں بھئی؟ ”فَإِنْ حَبَسَهَا“ کی جزا ہے إِلَى آخِرِهِ۔ وَإِنِ اخْتَلَطَتْ بِلَا فِعْلِهِ اشْتَرَكَا، وَلَوْ أَزَالَ التَّعَدِّيَ زَالَ ضَمَانُهُ۔ بھئی دیکھو! میں نے آپ کے پاس یہ 10,000 دراہم رکھوائے تھے اور اوپر کیا پڑھا آپ نے مسئلہ؟ کہ اگر مالِ مودَع کس کے ساتھ... ودیعت کس کے ساتھ مل جائے؟ مالِ مودَع کے ساتھ مل جائے اس طور پر کہ جدا نہ ہو سکے یا مشکل ہو جائے جدا کرنا، تو اس پر کیا آیا کرتا ہے؟ ضمان۔ کہتے ہیں لیکن اگر اس کے اپنے فعل کا دخل نہ ہو اور مال مل جائے تو ضمان نہیں آئے گا۔ میں نے آپ کو 10,000 درہم دیے تھے تھیلے کے اندر بھئی، آپ نے ان 10,000 درہم کو کہاں رکھا؟ جی؟ آپ لے گئے اور اس کو اپنے دراہم کی جو بوری تھی، اس کے اندر اس تھیلے کو ڈال دیا بھئی، لیکن یہ تھیلا وہاں پھٹ گیا اور درہم کیا ہو گئے؟ مل گئے، مکس ہو گئے، تو اب آپ کے عمل کا دخل ہے ملانے میں؟ جب آپ کے عمل کا دخل نہیں، تو اب آپ پر ضمان بھی نہیں آئے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ہاں، شاباش! انہوں نے کہا کہ نقدی تو متعین نہیں ہوتے، نقود کیا ہوتے ہیں؟ تعیین سے متعین... لیکن وہی آپ کو یہ بھی بتایا تھا کہ امانت میں اور وکالت میں اور وصیت میں یہ کیا ہو جاتے ہیں؟ متعین ہو جاتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ میں نے آپ کو وکیل بنایا، یہ لو بھئی 10,000 درہم، میرے لیے گاڑی لے کر آؤ۔ اب یہ مولانا متعین ہو گئے۔ اسی کے ذریعے کیا کرنی پڑے گی آپ کو؟ گاڑی خریدنی پڑے گی۔ یہ معنی ہے وَإِنِ اخْتَلَطَتْ اور اگر ودیعت مل گئی بھئی، اس کے مال کے ساتھ بِلَا فِعْلِهِ أَيْ بِلَا فِعْلِ الْمُودَعِ مودَع کے فعل کے بغیر ہی اشْتَرَكَا تو دونوں کیا ہو جائیں گے اس میں؟ شریک ہو جائیں گے، اب ضمان نہیں آئے گا۔ وَلَوْ أَزَالَ التَّعَدِّيَ زَالَ ضَمَانُهُ اور اگر اس نے اپنی تعدی کو زائل کر دیا، تو ضمان بھی زائل ہو جائے گا۔ بھئی دیکھو! آپ نے کوئی زیادتی کی ہے، اس تعدی کو اگر دور کر دیں گے، تو ضمان بھی کیا ہو جائے گا؟ ختم۔ بھئی، میں نے آپ کے پاس 10,000 دراہم آپ کو دیے تھے اور کیا کہا تھا، یہ کس کوٹھی میں رکھنا؟ گلبرگ والی کوٹھی میں رکھنا، لیکن آپ نے کسی اور کوٹھی میں رکھے، تو آپ پر کیا آئے گا؟ ضمان۔ یعنی اگر وہ مال وہاں ہلاک ہو گیا، تو آپ کو کیا دینا پڑے گا؟ ضمان۔ لیکن اگر گلبرگ والی کوٹھی میں رکھا اور وہاں ہلاک ہو جائے، تو پھر ضمان نہیں، تو آپ نے اس مال کو دوسری کوٹھی میں رکھا، اب آپ پر کیا آئے گا؟ اگر مال ہلاک ہوا تو ضمان، لیکن آپ نے چند دن ادھر رکھا، پھر اٹھا کر واپس کہاں لے آئے؟ گلبرگ والی کوٹھی میں لے آئے، تو اب مولانا تعدی ختم ہوئی، تو ضمان بھی ختم۔ اب آپ پھر یہ مال کا اب امانت بن گئی، ضمان نہیں آئے گا۔ وَلَوْ أَزَالَ التَّعَدِّيَ اور اگر زائل کر دیا بھئی مودَع نے تعدی، یعنی زیادتی کو، زَالَ ضَمَانُهُ تو اس کا ضمان بھی کیا ہو جائے گا؟ زائل، کیونکہ ضمان کی علت کیا تھی؟ تعدی۔ ضمان کی علت کیا تھی؟ تعدی۔ تو جب تک تعدی ہے، ضمان ہے، تعدی ختم، تو ضمان بھی ختم۔ کَمَا إِذَا وَضَعَهَا دیکھئیے، یہ صورت بتلا رہے ہیں، جیسے کہ اس نے رکھا تھا اس ودیعت کو فِي دَارٍ أُخْرَى کس کے اندر؟ دوسرے گھر کے اندر، ثُمَّ رَدَّهَا پھر اس ودیعت کو واپس لوٹایا إِلَى دَارٍ اس گھر کی طرف أَمَرَ الْمَالِكُ بِالْحِفْظِ فِيهَا جس کے اندر مالک نے حفاظت کرنے کا حکم دیا تھا، پھر اسی میں لے آیا، فَزَالَ الضَّمَانُ تو ضمان کیا ہو جائے گا؟ زائل ہو جائے گا۔ اچھا بھئی! اب یہاں آگے أَيْ إِنْ كَانَتْ بتلانا چاہتے ہیں، توجہ سے سننا!علامہ صدر الشریعہ یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ ضمان آنے سے مراد یہ نہیں ہے کہ حقیقتاً اس پر ضمان آیا تھا، کیا آیا تھا؟ بلکہ مراد تھا امکانِ ضمان، کیا مراد تھا؟ ضمان بول کر امکانِ ضمان مراد تھا، بھئی دیکھو! میں نے آپ کے پاس 10,000 دراہم رکھوائے، آپ کو کیا کہا تھا؟ گلبرگ میں نہیں رکھنے... گلبرگ میں رکھنے ہیں، لیکن آپ نے کہاں رکھے؟ کسی دوسرے کے گھر کے اندر لے جا کر رکھ دیے، دوسری جگہ پہ، تو اس صورت میں آپ پر کیا آ گیا فوراً؟ ضمان۔ لیکن کیا آپ ضمان ادا کرتے ہیں؟ ادا کیا آپ نے ضمان؟ نہیں، پھر آپ اس امانت کو واپس اسی گھر میں لے آئے جس کا میں نے کہا تھا، تو ضمان کیا ہوا؟ بھئی، ضمان تھا ہی نہیں، تو زائل کہاں سے ہوا؟ کہتے ہیں تو بھئی، ضمان آنے اور زائل ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ حقیقتاً آپ پہ ضمان آیا تھا اور پھر ختم ہو گیا، بلکہ کیا معنی تھا؟ امکانِ ضمان تھا کہ اگر وہاں ہلاک ہو جاتا، تو آپ پر کیا آتا؟ ضمان آتا، یہاں ہلاک ہو گئی، تو ضمان نہیں، لیکن وہاں امکانِ ضمان کیا ہوا تھا؟ تو معلوم ہوا ضمان سے مراد یہاں حقیقتاً ضمان نہیں ہے، بلکہ مجازاً ہے، کیا مراد ہے؟ یعنی امکانِ ضمان مراد ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو حقیقتاً ضمان نہیں آتا، بلکہ مجازاً آ جاتا ہے، مجازاً ہم کہتے ہیں ضمان آ گیا، یعنی امکانِ ضمان ہوتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہا نا زَالَ الضَّمَانُ ضمان کیا ہو جائے گا؟ زائل، کیا مراد ہے اس سے؟ حقیقتاً ضمان آیا تھا اور وہ زائل ہو گیا یا امکانِ ضمان تھا، وہ زائل ہو گا؟ ہاں، یہی تفصیل اب کرنا چاہتے ہیں، أَيْ إِنْ كَانَتِ الْوَدِيعَةُ یعنی اگر ودیعت ہوتی بِحَيْثُ اس طور پر لَوْ هَلَكَتْ لَكَانَتْ مَضْمُونَةً اگر وہ ہلاک ہو جاتی، تو کیا آتا؟ تو مضمون ہوتی، ضمان آ... جی، یعنی اگر ودیعت اس طور پر تھی کہ اگر وہ ہلاک ہو جاتی، تو ضمان مضمون ہوتی، فَزَالَ هَذَا الْمَعْنَى تو اس نے اس علت... معنی کا معنی کریں علت بھئی، تو اس نے اس علت کو کیا کر دیا؟ زائل کر دیا۔ بھئی دیکھو! میں نے آپ کو پیسے دیے کہ گلبرگ میں نہیں... گلبرگ میں رکھنے ہیں، آپ نے کہاں رکھے؟ ڈیفنس میں رکھے، تو یہاں پر ودیعت اس طور پر ہے، اگر یہ ہلاک ہو گئی، تو آپ پر کیا آئے گا؟ ضمان، لیکن پھر آپ کیا کرتے ہیں؟ اس علت کو دور کرتے ہیں، کیا علت تھی؟ کہ میں نے کیا حکم دیا تھا کہاں رکھنا؟ آپ نے اس کی مخالفت کی تھی، تو جب آپ اس تعدی کو زائل کر دیں گے، اس علت کو دور کر دیں گے، تو ضمان کیا ہو گا؟ زائل، یعنی امکانِ ضمان زائل ہو جائے گا۔ فَزَالَ هَذَا الْمَعْنَى تو اس نے علت کو دور کر دیا، وَإِنَّمَا قُلْنَا هَذَا کہتے ہیں یہ ہم نے اس لیے کہا لِأَنَّ زَوَالَ الضَّمَانِ حَقِيقَةً غَيْرُ مُمْكِنٍ اس لیے کہ زوالِ ضمان، یہ ایسی حقیقت ہے جو ممکن ہی نہیں ہے۔ زوالِ ضمان، یہاں زوالِ ضمان ہے، حقیقتاً کوئی ضمان آیا تھا؟ نہیں، بلکہ تو ضمان کے زائل ہونے کے لیے تو ضروری ہے پہلے کیا آئے؟ حقیقتاً ضمان آئے، پھر کا کیا ہو جائے؟ ختم۔ تو ایسا تو ہو نہیں سکتا کہ حقیقتاً ضمان آئے اور پھر کیا ہو جائے؟ ختم ہو جائے۔ تو کہتے ہیں یہ مجازی معنی ہم نے اس لیے کہا، ضمان سے کیا مراد میں نے بتلایا؟ امکانِ ضمان، یہ اس لیے لِأَنَّ زَوَالَ الضَّمَانِ حَقِيقَةً غَيْرُ مُمْكِنٍ اس لیے کہ ضمان کا زائل ہو جانا حقیقتاً، یہ ایسی حقیقت ہے غَيْرُ مُمْكِنٍ جو ممکن نہیں، کیوں؟ لِأَنَّ حَقِيقَةَ زَوَالِ الضَّمَانِ اس لیے کہ زوالِ ضمان کی حقیقت جو ہے، بَعْدَ الْهَلَاكِ کس کے بعد ہو گی؟ ہلاکت کے بعد ہی ہو سکتی ہے۔ بھئی، ضمان حقیقتاً کب آئے گا؟ ہلاکت کے بعد، تو پہلے ثبوت تو ہو اور ثبوت کب ہو گا؟ ہلاکت کے بعد، پھر جب ثبوت ہو، اس کے بعد ہم کیا کہتے ہیں، اب زوال ہے، اگر ثبوت ہی نہیں، تو زوال ہو سکتا ہے؟ نہیں، تو پہلے ثبوت چاہیے، ثبوت کے بعد زوال ہو گا اور زوال کس وقت ہو سکتا ہے؟ ہلاکت کے بعد ہی ہو سکتا ہے بھئی، تو کیونکہ ثبوت بھی کس کے بعد ہے؟ ہلاکت کے بعد ہی ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے کہ نہیں بھئی؟ اس لیے کہ زوالِ ضمان کی حقیقت، وہ ہلاکت کے بعد ہی ہو سکتی ہے، وَبَعْدَ الْهَلَاكِ لَا يُمْكِنُ إِزَالَةُ التَّعَدِّي اور ہلاکت کے بعد تو تعدی کا ازالہ کرنا، اس کو دور کرنا ممکن ہی نہیں ہے، بھئی، مال ہلاک ہو گیا، اس نے تو جو تعدی کی تھی، اب اس تعدی کو ختم کیا جا سکتا ہے؟ نہیں بھئی۔ وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى إِنْ أَزَالَ التَّعَدِّيَ لَا يَزُولُ الضَّمَانُ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر ضمان... تعدی کو زائل بھی کر دے، پھر بھی ضمان زائل نہیں ہو گا، وہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ ضمان آ گیا، تو اب وہ زائل نہیں ہو سکتا بھئی، جی، تعدی اس نے کر دی ہے بھئی، تو چاہے اب واپس اس گھر میں لے آئے، پھر بھی ضمان نہیں ہو گا، اگر ادا کرنے سے پہلے پہلے ہی امانت ہلاک ہو گئی، تو اس کو کیا دینا پڑے گا؟ ضمان دینا پڑے گا۔ وَلَا يَدْفَعُ إِلَى أَحَدِ الْمُودِعَيْنِ قِسْطَهُ بِغَيْبَةِ الْآخَرِ۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی، صورتِ مسئلہ، میں نے اور زید نے مل کر آپ کے پاس امانت رکھوائی، تو ہم دو مُودِع ہیں، ہم دو... ہم نے مل کر آپ کے پاس سام... نصِ... گندم رکھوائی بھئی، نصف گندم میری ہے، نصف گندم کس کی ہے؟ ہم نے دونوں نے آپ کے پاس امانت رکھوا دی۔ بھئی، اس کے بعد میں کہیں چلا گیا اور زید اکیلا آپ کے پاس آیا اور کہا: "میرا حصہ مجھے دے دو۔" تو کیا آپ دے سکتے ہیں؟ جائز ہے آپ کے لیے کہ زید کا نصف حصہ اس کو نکال کر دے دیں؟ کہتے ہیں: نہیں بھئی، مُودَع کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ أَحَدُ الْمُودِعَيْنِ کا حصہ کیا کرے اس سے؟ دے دے، اس لیے کیونکہ اس صورت میں تقسیم لازم آتی ہے، کیا لازم آتی ہے؟ بھئی، گندم ہم نے تو یہ ساری اکٹھی رکھوائی تھی اور مُودَع کیا کرے گا؟ تقسیم کرے گا، آدھی اس کو دے دے گا، آدھی میرے لیے رکھ لے گا، حالانکہ مُودَع کو تو تقسیم کرنے کا اختیار نہیں، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور یاد رکھو، یہ اختلاف صا... البتہ صاحبین فرماتے ہیں: جائز ہے، امام صاحب فرماتے ہیں: مُودَع ایک کا حصہ اکیلا آئے تو اس کے حوالے نہیں کر سکتا، صاحبین فرماتے ہیں: کر سکتا ہے۔ اور یہ کہتے ہیں: یہ اختلاف مکیل و موزون میں ہے، کس کے اندر ہے؟ کوئی مکیلات میں سے کوئی چیز ہو یا وزن کی جانے والی چیز، اس لیے کہ تقسیم اسی میں ممکن ہے، باقی چیزوں میں تو تقسیم ممکن... مثلاً: میں نے اور زید نے آپ کے پاس گاڑی رکھوائی تھی، زید اب آ جاتا ہے اپنا حصہ لینے، تو ممکن ہے اس کو آدھی گاڑی دے دی جائے؟ نہیں بھئی، تو یہ اس لیے کہا مکیل و موزون میں اختلاف ہے۔ وَلَا يَدْفَعُ إِلَى أَحَدِ الْمُودِعَيْنِ قِسْطَهُ اور حوالے نہ کرے دو امانت رکھوانے والوں میں سے ایک کے، کیا حوالے نہ کرے؟ قِسْطَهُ اس کا حصہ، بِغَيْبَةِ الْآخَرِ دوسرے کی غیر موجودگی میں، أَمَّا إِذَا كَانَتِ الْوَدِيعَةُ غَيْرَ الْمَكِيلِ وَالْمَوْزُونِ فَبِالِاتِّفَاقِ اگر ودیعت کیا ہو؟ غیر مکیلی ہو، غیر موزونی ہو، تو پھر تو بالاتفاق ایک کا... اکیلا آئے تو اس کو اس کا حصہ نہیں دے گا، وَإِنْ كَانَتْ مِنَ الْمَكِيلِ وَالْمَوْزُونِ فَكَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور اگر مکیل و موزون میں سے ہے، تو اسی طرح ہے مسئلہ امام صاحب کے نزدیک، خِلَافًا لَهُمَا برخلاف صاحبین کے، لِأَنَّهُ یہ امام صاحب کی دلیل ہے مولانا، یاد رکھنا، لِأَنَّهُ لَيْسَ لِلْمُودَعِ وِلَايَةُ الْقِسْمَةِ اس لیے کہ مُودَع کو تقسیم کرنے کی ولایت نہیں بھئی، اگر ایک کا حصہ دیتا ہے بھئی گندم رکھوائی تھی، تو اسے کیا کرنا پڑے گا؟ تقسیم، تو وہ تقسیم کی اسے ولایت حاصل نہیں۔ وَلِأَحَدِ الْمُودَعَيْنِ دَفْعُهُمَا إِلَى الْآخَرِ فِيمَا لَا يُقْسَمُ وَدَفْعُ نِصْفِهَا فَقَطْ فِيمَا يُقْسَمُ۔ بھئی، پہلے مسئلے میں تو تھا مُودِع دو تھے اور مُودَع کیا تھا؟ ایک، اب مُودِع تو ایک ہے، مُودَع دو ہیں۔ بھئی، آپ اور زید ہیں، میں آپ دونوں کے پاس اپنی گندم لے آیا، میں نے کہا: "یہ میں آپ دونوں کے پاس امانت رکھواتا ہوں۔" تو میں نے مُودَع کتنے ہیں یہاں پر؟ دو ہیں، تو اب بھئی، جو چیز امانت رکھوائی گئی ہے، اگر وہ مکیل و موزون میں سے ہے، یعنی تقسیم ہو سکتی ہے، تو پھر دونوں میں سے جائز نہیں کسی ایک کے لیے کہ وہ ساری اپنے پاس رکھ لے۔ میں نے آپ کے پاس 10 من گندم رکھوائی اور آپ دو ہیں مُودَع بھئی، تو آپ ساری کی ساری آپ رکھ لیتے ہیں، زید کہتا ہے: "بھئی، آپ ساری رکھ لیں۔" یا آپ زید کو کہتے ہیں: "ساری کی ساری تم رکھ لو۔" کہتے ہیں: نہیں بھئی، یہ چیز تقسیم ہونے والی ہے اور میں آپ دونوں کی پاس امانت رکھوانے پر تو راضی ہوں، کسی ایک کے پاس امانت رکھوانے پر راضی نہیں ہوں، تو پھر کیا کیا جائے؟ کہتے ہیں بھئی، تقسیم ہونے والی چیز ہے، بس دونوں مُودَع آدھی آدھی تقسیم کر کے اپنے پاس رکھ لیں، 10 من گندم تھی، 5 من ایک مُودَع رکھ لے اور 5 من دوسرا مُودَع رکھ لے، لیکن اگر وہ چیز تقسیم ہونے والی نہیں، میں گاڑی لایا آپ کے پاس کہ آپ دونوں اپنے پاس بطورِ امانت کے رکھیں، اب تو مجبوری ہے، تو ایک کی اجازت سے دوسرا رکھ سکتا ہے، کیا کر سکتا ہے؟ تو ایک مُودَع رکھ لے گا دوسرے کی اجازت سے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ امام صاحب کے نزدیک کہ تقسیم ہونے والی چیز ساری کی ساری دو مُودَع میں سے کوئی ایک نہیں رکھ سکتا، بلکہ دونوں کیا کریں گے؟ نصف نصف رکھیں گے، صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ کوئی ایک بھی رکھ سکتا ہے دوسرے کی اجازت سے، لہٰذا سارے گندم آپ رکھ لیتے ہیں یا سارے گندم آپ زید کے پاس رکھوا دیتے ہیں، تو جائز ہے بھئی، اجازت دوسرے کی ضروری ہے۔ وَلِأَحَدِ الْمُودَعَيْنِ اور دو مُودَع میں سے کسی ایک کے لیے جائز ہے دَفْعُهُمَا کہ وہ حوالے کر دے بھئی... دَفْعُهَا ہونا چاہیے بھئی، دَفْعُهَا ہونا چاہیے مولانا، سمجھ میں آیا؟ امانت کو ضمیر راجع ہے، دَفْعُهَا۔ وَلِأَحَدِ الْمُودَعَيْنِ اور جائز ہے دو مُودَع میں سے کسی ایک کے لیے بھئی، کیا جائز ہے؟ دَفْعُهَا کہ وہ امانت کیا کرے؟ حوالے کر دے إِلَى الْآخَرِ دوسرے کے بھئی، فِيمَا لَا يُقْسَمُ ان چیزوں کے اندر جو تقسیم نہیں ہوتیں، سمجھ میں آیا؟ گاڑی میں نے رکھوائی ہے تو آپ دونوں میں سے ہر ایک کے لیے جائز ہے دوسرے کے پاس رکھوا دیں، وَدَفْعُ نِصْفِهَا فَقَطْ فِيمَا يُقْسَمُ اور مَا يُقْسَمُ کے اندر، وہ چیزیں جو تقسیم ہوتی ہیں، اس میں صرف کتنے کا اختیار ہے دوسرے کے پاس رکھوانے کا؟ نصف دینے کا، یہ معنی ہے وَدَفْعُ نِصْفِهَا اور نصف امانت رکھوانے کا اختیار ہے فَقَطْ فِيمَا يُقْسَمُ ان چیزوں میں جو تقسیم ہوتی ہیں، إِذَا كَانَتِ الْوَدِيعَةُ عِنْدَ رَجُلَيْنِ جب امانت دو آدمیوں کے پاس رکھوائی وَهِيَ مِمَّا لَا يُقْسَمُ اور یہ ان چیزوں میں سے ہے جو تقسیم نہیں ہوتی، يَحْفَظُهَا أَحَدُهُمَا بِإِذْنِ الْآخَرِ تو حفاظت کرے گا دونوں میں سے... بھئی، ایک چیز ہے، وہ تقسیم نہیں ہوتی، گاڑی، تو دونوں میں سے کون حفاظت کرے گا؟ ایک ان دونوں میں سے بِإِذْنِ الْآخَرِ دوسرے کی اجازت سے، کیونکہ یہ تو ہو نہیں سکتا دونوں ہی آدھی آدھی کر لیں، وَإِنْ كَانَتْ مِمَّا يُقْسَمُ اور اگر امانت ان چیزوں میں سے ہے جو تقسیم ہو جاتی ہیں، فَلَا يَجُوزُ لِأَحَدِهِمَا تو جائز نہیں ان دونوں میں سے کسی ایک کے لیے أَنْ يَدْفَعَهَا إِلَى الْآخَرِ کہ وہ کس کو حوالے کر دے؟ دوسرے کے حوالے کر دے لِلْحِفْظِ حفاظت کے لیے، بَلْ يَقْسِمَانِ بلکہ دونوں کیا کریں گے اس کو؟ تقسیم کریں گے، فَيَأْخُذُ كُلُّ وَاحِدٍ نِصْفَهَا تو ان دونوں میں سے ہر ایک کتنے کی حفاظت کرے گا؟ نصف کی، نصف نصف کی حفاظت کرے گا، هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى یہ کس کے نزدیک ہے بھئی؟ امام صاحب کے نزدیک ہے، وَعِنْدَهُمَا يَجُوزُ الدَّفْعُ إِلَى الْآخَرِ فِيمَا يُقْسَمُ اور صاحبین کے نزدیک دے دینا جائز ہے دوسرے کو فِيمَا يُقْسَمُ کس کے اندر؟ جو تقسیم ہوتا ہو۔ وَضَمِنَ الدَّافِعُ الْكُلَّ لَا قَابِضُهُ۔ اچھا بھئی، دیکھو بھئی! میں نے آپ دونوں کے پاس، آپ اور زید کے پاس گندم رکھوائی، امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ مولانا 10 من گندم رکھوائی، تو ساری آپ رکھیں یا ساری زید رکھے، یہ جائز نہیں، کیونکہ یہ تقسیم ہو جاتی ہے، تو 5 من آپ رکھیں گے اور 5 من کون رکھ لے؟ زید رکھ لے، لیکن اگر ساری ایک نے رکھ لی، تو کس پہ ضمان آئے گا؟ کہتے ہیں: ایک ہے دافع، جس نے دی ہے اور ایک ہے قابض، کس پر ضمان آئے گا؟ بھئی، 5 من آپ کو رکھنی چاہیے تھی، 5 من زید کو، لیکن زید نے ساری آپ کے پاس رکھوا دی، تو زید ہوا دافع اور آپ ہوئے قابض، تو کس پر آئے گا ضمان؟ کہتے ہیں: دافع پر ضمان آئے گا، قابض پر ضمان نہیں، یہ معنی ہے وَضَمِنَ الدَّافِعُ الْكُلَّ لَا قَابِضُهُ اور ضامن ہو گا سارے کا دینے والا، نہ کہ سارے پر قبضہ کرنے والا، إِذَا دَفَعَ الْكُلَّ إِلَى الْآخَرِ جب دے دیا سارے کا سارا دوسرے کو فِيمَا يُقْسَمُ ان چیزوں میں جو تقسیم ہوتی ہیں، يَضْمَنُ الدَّافِعُ النِّصْفَ تو دافع ضامن ہو گا کتنے کا؟ نصف کا، وَلَا يَضْمَنُ الْقَابِضُ لیکن قابض ضامن نہیں ہو گا، قابض، لِأَنَّ مُودَعَ الْمُودِعِ لَا يَضْمَنُ اس لیے کہ مُودَع کا مُودَع ضامن نہیں ہوتا عِنْدَهُ امام صاحب کے نزدیک۔ مُودَع کسے کہتے ہیں بھئی؟ دیکھو بھئی۔ ادھر دیکھو بھئی۔ میں نے آپ کے پاس امانت رکھوائی بھئی۔ يَرْحَمُكَ اللهُ۔ میں نے آپ کے پاس امانت رکھوائی بھئی۔ امانت۔ آپ ہوئے مُودَع۔ آپ نے پھر وہ آگے چیز زید کے پاس بطور امانت کے رکھوا دی تو وہ مُودَعُ الْمُودَعِ ہوا۔ وہ کیا ہوا؟ مُودَع کا مُودَع ہوا۔ اب بھئی میں تو آپ کے پاس رکھوانے پر راضی تھا، زید کے پاس رکھوانے پر راضی نہیں تھا۔ تو اب اگر زید کے پاس وہ چیز ہلاک ہو جائے تو کیا زید پر ضَمَان آئے گا یا زید پر ضَمَان نہیں آئے گا صرف؟ تو مُودَعِ ثَانِي پر یہ مُودَع، صرف مُودَع پہ ضَمَان آئے گا یا مُودَعُ الْمُودَعِ دونوں پر کیا آئے گا؟ ضَمَان۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ صرف مُودَع پر یعنی مُودَعِ أَوَّل پر تو ضَمَان آئے گا، مُودَعِ ثَانِي پر ضَمَان نہیں آئے گا۔ صاحبین فرماتے ہیں نہیں دونوں پر، دونوں میں سے جس سے چاہے ضَمَان وصول کر لے۔ چاہے مُودَعِ أَوَّل سے ضَمَان وصول کر لے، چاہے مُودَعِ ثَانِي سے۔ لیکن اگر مُودَعِ أَوَّل سے رجوع کیا، مُودَعِ أَوَّل پر رجوع کیا اور اس سے کیا کیا؟ ضَمَان لے لیا، تو یہ مُودَعِ ثَانِي سے ضَمَان نہیں لے سکتا۔ لیکن اگر مُودَعِ ثَانِي سے ضَمَان لے لیا تو پھر وہ کس پہ رجوع کرے گا؟ مُودَعِ أَوَّل سے ضَمَان لے لے گا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو امام صاحب کے نزدیک مُودَعُ الْمُودَعِ پر ضَمَان نہیں آتا، صاحبین کے نزدیک مُودَعُ الْمُودَعِ پر ضَمَان آتا ہے، لیکن پھر وہ رجوع کس پر کرے گا؟ مُودَعِ أَوَّل پر۔ کیونکہ زیادتی کس نے کی ہے دراصل؟ مُودَعِ أَوَّل نے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہاں پر بھی یہی صورت ہے میں نے بھئی آپ کو گندم دی تھی 10 من، آپ اور زید کو۔ تو پانچ من آپ کو رکھنی چاہیے تھی اور پانچ من زید کو۔ تو پانچ من میں آپ میرے مُودَع ہیں اور پانچ من میں زید میرا مُودَع ہے۔ پھر زید نے وہ پانچ من گندم کس کے پاس رکھوا دی؟ آپ کے پاس رکھوا دی تو آپ اس کے مُودَعُ الْمُودَعِ ہوئے۔ زید ہوا مُودَع اور آپ کیا ہوئے مُودَعُ الْمُودَعِ۔ اور مُودَعُ الْمُودَعِ پر ضَمَان آتا ہے؟ نہیں آتا۔ کس پر آتا ہے صرف مُودَعِ أَوَّل پر اور مُودَعِ أَوَّل کون ہے؟ زید یعنی دَافِع ہے۔ کون ہے؟ دَافِع نہ کہ قَابِض۔ یہ معنی ہے۔ وَلَا يَضْمَنُ الْقَابِضُ قَابِض پر ضَمَان نہیں آئے گا۔ لِأَنَّ مُودَعَ الْمُودَعِ لَا يَضْمَنُ عِنْدَهُ اس لیے کہ مُودَعُ الْمُودَعِ جو ہوتا ہے ضَامِن نہیں ہوتا عِنْدَهُ کس کے نزدیک؟ امام صاحب کے نزدیک۔ فَإِنْ نَهَاهُ عَنِ الدَّفْعِ إِلَى عِيَالِهِ فَدَفَعَ إِلَى مَنْ لَهُ مِنْهُ بُدٌّ ضَمِنَ وَإِلَى مَنْ لَا بُدَّ لَهُ مِنْهُ كَدَفْعِ الدَّابَّةِ إِلَى عَبْدِهِ وَشَيْءٍ يَحْفَظُهُ النِّسَاءُ إِلَى عِرْسِهِ لَا كَمَا لَوْ أَمَرَ بِحِفْظِهِ عِيَالَهُ۔ اچھا بھئی۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی۔ میں نے آپ کے پاس ایک گائے بطور امانت کے رکھوائی بھئی۔ اور آپ کو کہا بھئی، بھئی اس کی حفاظت آپ نے خود کرنی ہے، اپنے گھر والوں اہلِ عیال کے ذریعے حفاظت نہیں کرنی۔ آپ نے وہ گائے اپنے غلام کے سپرد کر دی کہ بھئی اس کی حفاظت کرنا، غلام کے پاس وہ گائے ہلاک ہو گئی، تو کیا آپ پر ضَمَان آئے گا یا ضَمَان نہیں آئے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی آپ پر ضَمَان نہیں آئے گا۔ کیوں؟ کہتے ہیں بھئی میں نے آپ کو منع کیا تھا کہ گھر والوں میں سے کسی کے پاس نہ رکھوانا اور آپ کس کے پاس رکھوا رہے ہیں؟ کہتے ہیں بھئی اب اس کے، اور اس کے سوا چارہ ہی نہیں تھا۔ میں کیا گائے اپنے ساتھ رکھتا سارا دن بھئی؟ گائے وغیرہ جانوروں کی حفاظت کس سے کروائی جاتی ہے؟ غلاموں ہی سے تو کروائی جاتی ہے۔ تو میں نے تو اس کی حفاظت کی صحیح طریقے پر، لہذا اس صورت میں ضَمَان نہیں تعدی نہیں ہے یہ۔ یا میں نے آپ کے پاس مثلاً کیا رکھوایا؟ کوئی ایسی چیز رکھوائی جس کو آدمی گھر میں رکھتا ہے، گھر والوں کے ذریعے حفاظت کرواتا ہے، مثلاً آپ کے پاس میں نے پیسے رکھوائے، مال رکھوایا بھئی۔ آپ اپنے مال کو بھی گھر میں رکھ جاتے ہیں کس کے ذریعے حفاظت کرواتے ہیں؟ بیوی سے حفاظت بھئی گھر میں سارا دن تو مال اپنے ساتھ نہیں رکھیں گے بلکہ کہاں رکھیں گے کچھ نہ کچھ؟ گھر میں بیوی حفاظت کرے گی، تو آپ کے پاس جب میں نے امانت رکھوائی تو میں نے آپ کو کہا بھئی گھر والوں کے ذریعے حفاظت نہیں کروانی بلکہ خود کرنی ہے، لیکن آپ کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں تھا کیونکہ آپ اپنی بھی اس جیسی چیزوں کی حفاظت کس سے کرواتے ہیں؟ بیوی سے۔ تو آپ نے وہ بیوی کے پاس رکھوا دی وہ چیز، تو اس صورت میں بھی آپ پر ضَمَان نہیں بھئی سمجھ میں آیا؟ کیونکہ یہ تعدی، کیونکہ اس کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں تھا بھئی۔ ہاں اگر اس کے سوا بھی کوئی راستہ ہو، چارہ ہو تو پھر اس صورت میں کیا ہوگا؟ ضَمَان آئے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ فَإِنْ نَهَاهُ عَنِ الدَّفْعِ إِلَى عِيَالِهِ اگر منع کر دیا اپنے گھر والوں کے حوالے کرنے سے بھئی مُودَع کو منع کیا، مُودِع نے اپنے گھر والوں کے حوالے کرنے سے، فَدَفَعَ إِلَى مَنْ پس اس نے حوالے کر دیا اس کے لَهُ مِنْهُ بُدٌّ جس سے چھٹکارا، بُدٌّ کا معنی جدائی، چھٹکارا۔ لَا بُدَّ کا کیا ترجمہ کرتے ہیں آپ بھئی؟ ضروری یعنی اس سے چھٹکارا نہیں ہوتا، تو لَا، تو بُدٌّ کا معنی ہے چھٹکارا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جدائی نہیں۔ پس اس نے حوالے کر دیا إِلَى مَنْ اس شخص کے لَهُ مِنْهُ بُدٌّ کہ اس کے سوا بھی چھٹکارا تھا یا اس کے سوا بھی چارہ تھا، اس کے سوا بھی اس کو رکھنا ممکن تھا تو ضَمِنَ اس صورت میں کیا ہوگا ضَامِن ہوگا۔ وَإِلَى مَنْ اور اگر اس نے حوالے کیا اس شخص کے گھر والوں میں سے لَا بُدَّ لَهُ مِنْهُ کہ اس کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں تھا، كَدَفْعِ الدَّابَّةِ إِلَى عَبْدِهِ جیسے کہ اس نے جانور حوالے کر دیا اپنے غلام کے وَشَيْءٍ اور یا اس نے حوالے کر دیا کسی ایسی چیز کو يَحْفَظُهُ النِّسَاءُ جس کی حفاظت کون کرتی ہیں؟ عورتیں کرتی ہیں، إِلَى عِرْسِهِ کہ اس چیز کو کس کے حوالے کر دیا؟ اپنی بیوی کے لَا تو اس صورت میں ضَامِن نہیں ہوگا۔ اس لیے کہ اس کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں تھا بھئی۔ تو لَا يَضْمَنُ یہ جزا ہے بھئی۔ كَمَا لَوْ أَمَرَ اچھا۔ تو جیسے یہاں پر یہ معتبر نہیں بھئی۔ اس صورت میں ضَمَان نہیں، اسی طرح اگلے مسئلے کے اندر بھی ضَمَان نہیں آئے گا۔ دیکھو بھئی۔ میں نے آپ کو بھئی ایک ہزار درہم دیے بطور امانت کے اور کہا بھئی اپنے گھر کے اندر یہ دوسرے کمرے کے اندر رکھنا، تیسرے چوتھے نمبر کمرے میں یا پہلے نمبر کمرے میں نہ رکھنا، فلاں کمرے میں رکھنا بھئی۔ آپ نے اس کو کسی اور کمرے میں رکھ دیا تو بھی آپ پر ضَمَان نہیں۔ کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ گھر کے سارے کمرے حفاظت میں کیا ہوتے ہیں؟ برابر۔ ہاں آگے بتلائیں گے، اگر فرق ہے، تو پھر اس صورت میں آپ ضَامِن ہوں گے۔ مثلاً دوسرا کمرہ محفوظ ہے اس کی کھڑکی باہر کو نہیں کھلتی، جبکہ پہلے کمرے کی کھڑکی کدھر کو کھلتی ہے؟ باہر کو کھلتی ہے، تو اس صورت میں یہ تعدی ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اگر ایسا نہیں تو پھر سارے کمرے برابر ہیں اس نہی کا، اس روکنے کا کوئی اعتبار نہیں۔ كَمَا لَوْ أَمَرَ حِفْظَهَا جیسے کہ مالک نے حکم دیا اس کو اس امانت کی حفاظت کرنے کا فِي بَيْتٍ مُعَيَّنٍ کسی معین کمرے کے اندر مِنْ دَارٍ گھر میں سے۔ گھر میں سے کسی معین کمرے میں حفاظت کا حکم دیا۔ فَحَفِظَ فِي آخَرَ مِنْهَا تو اس نے اس کو محفوظ کیا دوسرے کمرے کے اندر گھر میں سے۔ تو اس صورت میں بھی ضَمَان نہیں آئے گا۔ کیوں؟ لِأَنَّ بُيُوتَ دَارٍ وَاحِدَةٍ لَا يَتَفَاوَتُ بھئی۔ اس لیے کہ ایک گھر کے کمرے جو ہوتے ہیں ان میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ فَلَا فَائِدَةَ فِي التَّعَيُّنِ تو لہذا تعین کے اندر کوئی فائدہ نہیں۔ بِخِلَافِ الدَّارِ بخلاف گھر کے، بھئی گھر میں ایسا نہیں ہے۔ کہ میں نے آپ کو کہا گلبرگ والے گھر میں رکھنا ہے اس امانت کو اور آپ کسی اور گھر میں رکھتے ہیں تو اب حکم ایک جیسا نہیں کیونکہ میں نے بتلایا کہ علاقوں علاقوں کا کیا ہوتا ہے؟ فرق ہوتا ہے۔ بِخِلَافِ الدَّارِ لِأَنَّ دَارَيْنِ يَتَفَاوَتَانِ بخلاف گھر کے اس لیے کہ دو گھر کیا ہوتے ہیں ایک دوسرے سے؟ مختلف ہوتے ہیں۔ فَإِنْ كَانَ لَهُ خَلَلٌ ظَاهِرٌ ضَمِنَ لیکن اگر اس کمرے میں کوئی خللِ ظاہری تھا تو اس صورت میں ضَامِن ہوگا۔ ویسے تو ضَمَان نہیں ہے اس صورت میں لیکن اگر کمرے میں کیا ہوا؟ کوئی خلل ہوا جیسے میں نے مثال ذکر کر دی کہ وہ کمرہ زیادہ محفوظ نہیں ہے، اس کی کھڑکی باہر کو کھلتی ہے، سمجھ میں آیا؟ تو اس صورت میں ضَامِن ہوگا بھئی۔ إِذَا كَانَتْ لِلْبَيْتِ الَّذِي حَفِظَهَا فِيهِ خَلَلٌ ظَاهِرٌ اس لیے کہ اگر وہ گھر جس کے اندر اس نے امانت کی حفاظت کی وہ کمرہ جس کے اندر اس نے حفاظت کی امانت کی، اس میں خللِ ظاہر تھا، وَقَدْ عَيَّنَ بَيْتًا آخَرَ اور تحقیق اس نے کوئی دوسرا کمرہ متعین کیا تھا، میں نے کہا تھا دوسرے کمرے میں رکھنا، اور اس نے کس میں رکھا؟ پہلے میں جس کے اندر کیا تھا؟ خللِ ظاہری تھا۔ اور میں نے دوسرے کمرے کا کہا تھا اسی گھر میں سے، ضَمِنَ تو اس صورت میں کیا ہوگا؟ ضَامِن ہوگا۔ وَلَوْ أَوْدَعَ الْمُودَعُ فَهَلَكَتْ ضَمِنَ الْأَوَّلُ فَقَطْ بھئی وہی مُودَعُ الْمُودَعِ والا مسئلہ آیا۔ آپ کے پاس میں نے 10 ہزار درہم رکھوائے، آپ ہیں مُودَع۔ آپ نے پھر آگے کیا کیے؟ کسی اور کے پاس امانت رکھوا دیے، تو اس صورت میں آپ پر ضَمَان، کیونکہ میرا اعتماد آپ پر تو ہے، اگلے دوسرے شخص پر میرا اعتماد نہیں۔ یہ معنی ہے۔ وَلَوْ أَوْدَعَ الْمُودَعُ اگر مُودَع نے امانت آگے پھر رکھوا دی، وہی چیز، فَهَلَكَتْ پس وہ ہلاک ہو گئی، ضَمِنَ الْأَوَّلُ فَقَطْ تو ضَمَان صرف کس پر آئے گا؟ مُودَعِ أَوَّل پر، مُودَعِ ثَانِي پر ضَمَان نہیں۔ هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى یہ امام صاحب کے نزدیک ہے۔ وَقَالَا رَحِمَهُمَا اللهُ يَضْمَنُ أَيَّهُمَا شَاءَ صاحبین فرماتے ہیں ضَامِن بنائے یا ضَمَان لے لے جس سے چاہے۔ فَإِنْ ضَمِنَ الْآخَرَ اگر دوسرے والے کو ضَامِن بنایا، تو رَجَعَ عَلَى الْأَوَّلِ تو وہ کس پر رجوع کر لے گا؟ اول پر۔ لیکن اگر اول سے ضَمَان لیا تو وہ دوسرے پر رجوع نہیں کرے گا۔ وَلَوْ أَوْدَعَ الْغَاصِبُ ضَمِنَ أَيَّهُمَا شَاءَ صورتِ مسئلہ یہ بھئی، میرے 10 ہزار درہم بھئی، کوئی غصب کر کے لے گیا چھین کر لے گیا۔ تو یہ غاصب ہے شخص بھئی۔ اب اس غاصب نے اس کو امانت کے طور پر کسی اور کے پاس رکھوایا۔ کس کے پاس رکھوایا؟ کسی اور کے پاس۔ تو کیا اس صورت میں ضَمَان غاصب سے ہی لے سکتے ہیں یا غاصب اور مُودَعِ غاصب جس سے مرضی لے سکتے ہیں؟ اس صورت میں امام صاحب بھی فرماتے ہیں، چاہے تو کس سے لے لے؟ غاصب سے، چاہے تو مُودَعِ غاصب سے۔ جبکہ صاحبین نے پچھلے مسئلے میں بھی کہا تھا کہ چاہے مُودَع سے لے لے چاہے مُودَعُ الْمُودَعِ سے۔ تو امام صاحب مُودَعُ الْمُودَعِ سے لینے کی اجازت تو نہیں دیتے، لیکن مُودَعِ غاصب سے لینے کی اجازت دیتے ہیں۔ ان کو اس سے کیوں بھئی؟ تو صاحبین نے دراصل مُودَعُ الْمُودَعِ کو مُودَعِ غاصب پر قیاس کیا تھا کہ جیسے غاصب کے مُودَع سے ضَمَان لینا جائز ہے، اسی طرح مُودَعُ الْمُودَعِ سے لینا بھی جائز ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں دونوں میں فرق ہے بھئی، دونوں میں کیا ہے جی آگے تفصیل آ رہی ہے۔ وَلَوْ أَوْدَعَ الْغَاصِبُ اور اگر امانت رکھوائی کس نے؟ غاصب نے، ضَمِنَ تو ضَامِن ضَمَان لے لے أَيَّهُمَا شَاءَ جس سے بھی چاہے، چاہے غاصب سے ضَمَان لے لے مالک چاہے مُودَعِ غاصب سے۔ هَذَا بِالِاتِّفَاقِ بھئی یہ بالاتفاق ہے۔ فَهُمَا صاحبین جو ہیں قَاسَا انہوں نے قیاس کیا مُودَعُ الْمُودَعِ کو کس پر؟ مُودَعِ غاصب پر۔ فَإِنَّ الْمُودَعَ إِذَا دَفَعَ إِلَى الْأَجْنَبِيِّ صَارَ غَاصِبًا اس لیے کہ مُودَع جب وہ حوالے کرتا ہے کسی اجنبی کے سَارَا غَاصِبًا وہ بھی کیا بن جاتا ہے غاصب۔ بھئی میں نے آپ کے پاس امانت رکھوائی تھی، آپ نے آگے کسی اور کے پاس امانت رکھوائی تو امام صاحب فرماتے ہیں اس صورت میں آپ بھی کیا بن گئے غاصب، اول کیا بن گیا غاصب بھئی۔ وَفَارَقَ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ اور فرق کیا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے بِأَنَّ الْمُودَعَ إِذَا دَفَعَ إِلَى الْغَيْرِ لَا يَضْمَنُ وہ فرماتے ہیں مُودَع اگر کسی اور کے حوالے کر دیتا ہے تو پھر وہ ضَامِن... میں نے آپ کے پاس امانت رکھوائی تھی آپ نے کسی اور کے پاس امانت رکھوائی تو امام صاحب فرماتے ہیں اس صورت میں وہ مُودَعِ أَوَّل ضَامِن نہیں ہوتا مَا لَمْ يُفَارِقْهُ جب تک وہ اس دوسرے شخص سے جدا... وَلَوْ اِدَّعَى كُلٌّ مِنْ رَجُلَيْنِ أَلْفاً مَعَ ثَالِثٍ أَنَّهُ لَهُ اَوْدَعَهُ إِيَّاهُ فَنَقَلَ لَهُمَا فَهَذَا وَأَلْفٌ آخَرُ وَعَلَيْهِمَا۔ صورتِ مسئلہ بھئی! یہ تفصیلی مسئلہ ہے، توجہ سے سنو بھئی! آپ کے پاس ایک ہزار روپے موجود ہیں، زید نے دعویٰ کیا یہ ہزار میرا، بکر نے دعویٰ کیا یہ ہزار میرا۔ زید کہتا ہے یہ وہ ہزار ہے جو میں نے آپ کے پاس بطور امانت کے رکھوایا تھا، بکر بھی کہتا ہے یہ وہ ہزار ہے جو میں نے آپ کے پاس بطور امانت کے رکھوایا تھا۔ اور دونوں میں سے کسی کے پاس بھی گواہ نہیں۔ وہ آپ کو قاضی کے پاس لے گئے۔ قاضی آپ سے قسم لے گا دونوں کے بارے میں۔ کیا کرے گا؟ قسم لے گا کیونکہ بینہ نہیں ہے، وہ مدعی ہیں، مدعی کے پاس بینہ نہیں ہے تو آپ منکر پر کیا آئے گا؟ مدعی علیہ پر کیا آئے گی؟ قسم آئے گی بھئی! اب آپ کو قاضی نے قسم کھلائی تو کہتے ہیں بھئی! اس صورت میں جس کے لیے چاہے مرضی ہے قاضی پہلے قسم آپ کو کھلا دے، چاہے زید کے لیے کہے قسم اٹھاؤ، چاہے بکر کے لیے کہے۔ سمجھ میں آیا؟ اچھا! پھر ایک کے لیے آپ نے قسم اٹھا لی بھئی! کیا کیا؟ ایک کے لیے قسم اٹھا لی تو پھر کیا کریں گے؟ اب دوسرے کے لیے آپ کو قسم دی جائے گی۔ اگر ایک کے لیے آپ نے قسم سے انکار کر دیا، تو فورا فیصلہ نہیں کیا جائے گا بلکہ کیا کیا جائے گا؟ دوسرے کے لیے بھی آپ کو قسم دی جائے گی، اگر دونوں کے لیے آپ نے انکار کر دیا، پہلے کے لیے بھی انکار کر دیا، پھر دوسرے کے لیے قسم دی گئی اِس سے بھی آپ نے کیا کر دیا؟ انکار کر دیا، تو مال دونوں کا دعویٰ ثابت ہو جائے گا، اب قاضی فیصلہ کرے گا، اب وہ جو ایک ہزار آپ کے پاس تھا جس پر جھگڑا چل رہا تھا، وہ دونوں کو نصف نصف دے دیا جائے گا۔ کیا کیا جائے گا؟ نصف نصف وہ دے دیا جائے گا، اور اب سے مزید ہزار لیا جائے گا، کیونکہ دونوں کا دعویٰ کتنے کا ثابت ہوا ہے؟ ہزار، تو وہ جو ہزار آپ کے پاس تھا جس کا جھگڑا تھا، وہ تو نصف نصف ہوا، لیکن دعویٰ کتنے کا ثابت ہوا ہے؟ دونوں کا ہزار ہزار، تو ہزار اور لے کر پھر نصف نصف دونوں کو دے دیا جائے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی اچھی طرح؟ يَهْمَنَ وَالِدِّّعَا اور اگر دعویٰ کیا كُلٌّ مِّنَ الرَّجُلَيْنِ دو آدمیوں میں سے ہر ایک نے دعویٰ کیا أَلْفًا مَّا ثَالِثٍ ایسے ہزار کا جو کس کے پاس ہیں؟ تیسرے کے پاس۔ کیا دعویٰ کیا؟ کہ اَنَّهُ لَهُ کہ یہ کیا ہیں؟ اس کے ہیں، أَوْدَعَهُ إِيَّاهُ جو اس کے پاس اس نے امانتًا رکھوائے تھے، فَنَقَلَ لَهُمَا اور وہ تیسرا کیا کرتا ہے؟ دونوں کے لیے انکار اس نے کر دیا قسم سے، فَهَذَا پس یہ والے ہزار وَأَلْفٌ آخَرُ اور ایک اور ہزار عَلَيْهِ اس تیسرے پر لازم ہوں گے لَهُمَا ان دونوں کے لیے۔ ادَّعَى زَيْدٌ عَلَى أَمْرِ دیکھو، تفصیل سے بتلائیں گے۔ دعویٰ کر دیا زید نے امر پر۔ ادَّعَى زَيْدٌ عَلَى أَمْرِ دعویٰ کر دیا زید نے امر پر کہ اَنَّ الْأَلْفَ الَّذِي فِي يَدِكَ لِي کہ وہ جو ہزار تیرے ہاتھ میں ہیں، لِي وہ میرے ہیں، أَوْدَعْتُهُ إِيَّاكَ وہ میں نے تیرے پاس امانتًا رکھوائے تھے، وَادَّعَى بَكْرٌ عَلَى أَمْرٍ كَذَلِكَ اور بکر نے بھی امر پر اسی طرح کا دعویٰ کر دیا، وَلَا بَيِّنَةَ لِأَحَدٍ کسی ایک کے پاس بھی بینہ نہیں ہے، وَأَمْرٌ مُنْكِرٌ اور امر کیا ہے؟ انکار کرنے والا ہے، فَالْقَاضِي يُحَلِّفُهُ لِكُلِّ وَاحِدٍ عَلَى الِانْفِرَادِ تو قاضی اس کو قسم کھلائے گا، قسم اس سے اٹھوائے گا، دونوں میں سے ہر ایک کے لیے عَلَى الِانْفِرَادِ علیحدہ علیحدہ، وَيَبْدَأُ بِأَيِّهِمَا شَاءَ اور قاضی قسم شروع کرے گا ان دونوں میں سے جس سے بھی چاہے، یعنی بھئی دونوں کے لیے زید کے لیے بھی قسم اٹھانی پڑے گی اور بکر کے لیے بھی، تو جس سے شروع کرے چاہے بکر کے لیے پہلے قسم اٹھوا لے چاہے... سمجھ میں آیا؟ جس کے لیے قاضی کو اختیار ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہتے ہیں کہ قاضی اگر دونوں اصرار کرتے ہیں کہ نہیں پہلے میرے لیے قسم اٹھوائیں، دوسرا کہتے ہیں نہیں پہلے میرے لیے، تو اس صورت میں قاضی قرعہ اندازی کروا دے، کیا کروا دے؟ قرعہ اندازی۔ فَإِنْ تَشَاحَّا، تَشَاحَّا شُحٌّ ہے، شُحٌّ شُحٌّ کہتے ہیں بخیل کو، کس کو؟ بخل کو، اگر دونوں بخل کرتے ہیں، یعنی جھگڑا، مراد یہاں ہے جھگڑا کرنا۔ اب اگر دونوں کیا کرتے ہیں؟ جھگڑا کرنا، ہر ایک چاہتا ہے کہ اپنا حصہ نہ چھوڑے، پہلے وہ قسم اٹھوائے بھئی، ہر ایک یعنی دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ پس اگر دونوں جھگڑا کرتے ہیں فِيهِمَا تو قاضی ان دونوں میں کیا کروا دے؟ قرعہ اندازی کروا دے، فَإِنْ نَكَلَ لِأَحَدِهِمَا پس اگر بھئی منکر علی (یعنی امر نے دونوں میں سے کسی ایک کے لیے انکار کر دیا قسم اٹھانے سے)، يُحَلِّفُهُ لِلْآخَرِ تو قاضی اس کو قسم دلوا دے گا، قسم اس سے اٹھوائے گا، کس کے لیے؟ دوسرے کے لیے، یعنی ایک کے لیے کر اٹھوا لے قسم تو فیصلہ فوراً نہ کرے، بلکہ دوسرے کے لیے بھی۔ فَإِنْ نَكَلَ لَهُ أَيْضًا اگر اس کے لیے بھی انکار کر دیتا ہے قسم اٹھانے سے، فَهَذَا الْأَلْفُ مَعَ الْأَلْفِ الْآخَرِ عَلَيْهِ تو یہ والے ہزار دوسرے ایک ہزار کے ساتھ عَلَيْهِ اس پر کیا ہو جائیں گے؟ لازم، يَكُونُ لَهُمَا کس کے لیے؟ ان دونوں کے لیے بھئی، لِأَنَّهُ أَوْجَبَ الْحَقَّ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا اس لیے کہ اس نے اپنے اوپر حق کو واجب کر لیا ہے، قسم سے انکار کر کے کیا کیا اس نے؟ اپنے اوپر واجب کر لیا ان دونوں میں سے ہر ایک کو ہر ایک کو حق کو۔ سواء بالنقول نہیں والا، نہ یہ کہ نون لکھا ہوا ہے، نسخے کی غلطی، بعض میں بالبضل کے نعرے پر لکھا ہوا ہے۔ بھئی آپ نے پڑھا تھا، یہ انکار عن القسم صاحبین کے نزدیک کس کے درجے میں ہے؟ بھئی میں نے آپ پر ایک دعویٰ کر دیا، آپ نے میرا ایک ہزار روپیہ دینا ہے، قاضی کے پاس میں آپ کو لے گیا، توجہ کرو ادھر۔ بھئی میں آپ کو قاضی کے پاس لے گیا، قاضی صاحب اس نے میرا ایک ہزار دینا ہے، آپ انکار کر رہے ہیں، قاضی مجھے کہے گا بینہ لاؤ، میں کہتا ہوں میرے پاس بینہ نہیں، قاضی آپ کو کہتا ہے قسم اٹھاؤ بھئی، آپ نے قسم سے انکار کر دیا۔ تو میرا دعویٰ معلوم ہوا ثابت، قاضی میرے لیے فیصلہ کر دے گا آپ کے خلاف، آپ کو اب مجھے کتنے دینے پڑیں گے؟ ایک ہزار، لیکن یہ ہزار کس چیز کے دے رہے ہیں آپ؟ صاحبین کے نزدیک یہ اقرار یہ انکار اقرار کے درجے میں ہے، گویا آپ نے کیا کر لیا؟ اقرار کر لیا کہ واقعی میرا دعویٰ صحیح ہے ہزار روپے کا۔ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، یہ اقرار کے درجے میں نہیں ہے، یہ بلکہ یہ بزل کے درجے میں ہے، گویا آپ قسم نہیں کھانا چاہتے ہزار روپے کے لیے، آپ چاہتے ہیں بھئی میں ہزار کے لیے، اگرچہ آپ سچے ہیں، لیکن آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ بس، ہزار روپے کے لیے قسم اٹھانے پر تیار نہیں۔ مال تو خرچ کر رہے ہیں، لیکن قسم نہیں۔ تو یہ آپ قسم کا فدیہ دے رہے ہیں، بھئی قسم کے لیے، قسم سے بچنے کے لیے خرچ کر رہے ہیں। صورت سمجھے؟ تو امام صاحب کے نزدیک یہ ہزار جو دے رہے ہیں، یہ کس کے ہیں؟ بزل کے، اور صاحبین کے نزدیک یہ کس وجہ سے ہے؟ اقرار کی وجہ سے۔ تو یہاں بھی اس نے کیا کیا ہے؟ قسم سے انکار کیا ہے، سَوَاءٌ تو یہ اس نے اپنے اوپر دونوں میں سے ہر ایک کا حق واجب کر لیا، سَوَاءٌ بِالْبَذْلِ وَبِالْإِقْرَارِ چاہے یہ کس کی وجہ سے ہو؟ بزل (یعنی شمار کیا جائے اس کو) چاہے اقرار، تو چاہے بزل کی وجہ سے ہو یا اقرار کی وجہ سے، دونوں صورتوں میں بھئی حق اس نے اپنے اوپر واجب کر لیا۔ وَذَلِكَ حُجَّةٌ فِي حَقِّهِ اور یہ اقرار یا یہ بزل جو ہے، حُجَّةٌ یہ کیا ہے؟ حجت بھئی دلیل ہے فِي حَقِّهِ کس کے حق میں؟ مودع کے حق میں، کس کے حق میں؟ مودع کے حق میں دلیل ہے، اس پر کیا واجب ہو جاتا ہے؟ چاہے بزل ہو، چاہے اقرار ہو، دونوں صورتوں میں اسے کیا دینا پڑے گا؟ مال تو اس کے خلاف ہی حجّت ہے۔ تو کہتے ہیں وَيُصْرَفُ الْأَلْفُ إِلَيْهِمَا اور اس ألف کو پھرا جائے گا ان دونوں مدعیوں کی طرف، کیا کیا جائے گا؟ یعنی دونوں کو نصف نصف دے دیا جائے گا، وَصَارَ قَاضِيًا نِصْفَ حَقِّ كُلِّ مِنْهُمَا اور یہ جو مودع ہے، یا مودع علیہ جو ہے، یہ ہو گیا، کیا ہو گیا؟ قَاضِيًا ادا کرنے والا۔ کیا ادا کرنے والا؟ نِصْفَ حَقِّ كُلِّ مِنْهُمَا ان دونوں میں سے ہر ایک کے نصف، بھئی ہزار جب دیا دونوں کو، ایک کو کتنے ملے؟ پانچ تو دوسرے کو بھی کتنے ملے؟ پانچ، تو ہر ایک کا دعویٰ کتنا تھا؟ ہزار ہزار کا، تو ان کا پورا حصّہ مل گیا یا نصف نصف ملا؟ تو نصف حصہ تو یہ ادا کرنے والا ہو گیا بِنِصْفِ حَقِّ الْآخَرِ۔ دوسرے کے نصف حق کے ساتھ بھئی، پس وہ ادا کرنے والا ہوا دونوں میں سے ہر ایک کے نصف حق کو دوسرے کے نصف حق کے ساتھ، یعنی ایک کا بھی نصف حق ادا کرنے والا ہوا، دوسرے کا بھی نصف حق ادا کرنے والا ہوا، فَيُغْرِمُهُ تو قاضی اب اس کو ضامن بنا دے گا، کتنا کتنا حق رہ گیا دونوں کا؟ آدھا آدھا، پانچ پانچ سو یہ کتنا بن گیا؟ ایک ہزار، تو قاضی اس کو مزید ایک ہزار کا کیا بنا دے گا؟ ضامن بنا دے گا۔ وَاعْلَمْ جان لے تو اَنَّ النُّكُولَ هُنَا يُفَارِقُ الْإِقْرَارَا کہ نکول جو ہے، قسم سے جو انکار ہے، یہاں پر مختلف يُفَارِقُ مختلف ہے (یعنی جدا ہوتی ہے اقرار سے، یعنی اس سے مختلف ہے)۔ اچھا، فرق بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں یہاں اگر اس نے اقرار کر لیا، یہ تو اس وقت صرف قسم سے انکار کر رہا ہے، کیا کر رہا ہے؟ اور اس کی وجہ سے دونوں کا حق واجب ہو رہا ہے، لیکن اگر وہ کسی ایک کے لیے اقرار کر لیتا ہے، تو اقرار اور نکول یہاں ایک حکم نہیں ہے دونوں کا۔ دونوں کا ایک حکم؟ بھئی دیکھو، ایک کے لیے قسم سے انکار کیا تھا، تو دوسرے کے لیے ہم نے قسم دی تھی یا نہیں دی تھی؟ قسم دوسرے کے لیے بھی دی، لیکن اگر اس نے ایک کے لیے اقرار کر لیا، تو دوسرے کے لیے قسم ہی نہیں دی جائے گی، بس وہ ہزار اس کو دے دیا جائے گا۔ جس کے لیے اس نے کیا کیا ہے؟ زید نے بھی دعویٰ کیا یہ ہزار میرا، بکر نے بھی دعویٰ کیا یہ ہزار میرا، ہم نے امانت رکھوائی تھی تمہارے پاس، اس نے اقرار کر لیا یہ ہزار کس کا ہے؟ زید کا بس مولانا ختم! یہ پیسے زید کو دے دے گا اور بکر کے لیے اب قسم بھی نہیں، کیونکہ جھگڑا ہی اسی ایک ہزار میں تھا اور اس کا اس نے اقرار کر لیا، سمجھ میں آیا؟ تو لہٰذا اقرار یہاں پر نکول کی طرح نہیں۔ ہاں، کیونکہ نکول میں تو ایک کیسے انکار کرتا تھا، تو دوسرے کے لیے پھر کیا دی جاتی تھی اسے؟ قسم دی جاتی تھی۔ وَاعْلَمْ اَنَّ النُّكُولَ هُنَا يُفَارِقُ الْإِقْرَارَا جان لے تو کہ نکول جو ہے (یعنی قسم سے انکار جو ہے، یہاں پر یہ جدا ہے اقرار سے، اس سے مختلف ہے)، فَإِنَّهُ إِذَا أَقَرَّ لِأَحَدِهِمَا اس لیے کہ جب ان دونوں میں سے کسی ایک کے لیے اقرار کر لے گا، يُقْضَى لَهُ تو اسی ایک کے لیے کیا کر دیا جائے گا؟ فیصلہ، وَلَا يُحْلَفُ لِلْآخَرِ اور دوسرے کے لیے اس کو اس سے قسم نہیں اٹھوائی جائے گی، لِأَنَّ الْإِقْرَارَ حُجَّةٌ فِي نَفْسِهِ اس لیے کہ اقرار کیا ہے؟ فِي نَفْسِهِ، بھئی اقرار ادھر دیکھو بھئی، اقرار فِي نَفْسِهِ حجت ہے، ایک آدمی کہتا ہے دوسرے کے لیے میرے اوپر ایک ہزار روپے ہیں، تو یہ حجت بن گئی یا نہیں بن گئی؟ اس پر کیا لازم ہو گئے؟ ایک ہزار، لیکن قسم سے انکار یہ حجت نہیں ہے جب تک قاضی فیصلہ نہ کرے، جب تک قاضی فیصلہ، قاضی نے کہا قسم اٹھاؤ، اس نے کہا میں نہیں اٹھاتا، تو کیا پیسے ثابت ہو گئے اس پر؟ نہیں، اب قاضی فیصلہ کرے گا کہ ثابت ہوا تمہارے اوپر دعویٰ صحیح ہے، اب مولانا اب انکار، اب انکار عن القسم اب حجت بنا، جب اس کے ساتھ کیا مل گیا؟ قاضی کا فیصلہ، جبکہ اقرار میں قاضی کے فیصلے کی ضرورت نہیں، تو لہٰذا اقرار کی الگ صورت ہے اور انکار عن القسم کی الگ۔ لِأَنَّ الْإِقْرَارَ حُجَّةٌ فِي نَفْسِهِ اس لیے کہ اقرار فِي نَفْسِهِ حجت ہے، یعنی خود ہی حجت ہے، وَالنُّكُولُ إِنَّمَا يَصِيرُ حُجَّةً بِقَضَاءِ الْقَاضِي اور نکول جو ہے، وہ حجت بنتی ہے بِقَضَاءِ الْقَاضِي قاضی کے فیصلے سے، فجازت تأخیر القضائي لہذا قاضی قضا فیصلے، بھئی دیکھو بھئی، بھئی اقرار جب ایک کے لیے اقرار کر دے گا، تو دوسرے کے لیے قسم دلائی جائے گی یا بس ختم فورا فیصلہ کر دیا جائے گا؟ فیصلہ، لیکن تو کیونکہ اقرار فِي نَفْسِهِ حجت ہے، لیکن اگر وہ قسم سے کیا کرتا ہے؟ ایک کے لیے انکار کرتا ہے، تو فورا فیصلہ نہیں کیا جائے گا بلکہ دوسرے کے لیے بھی قسم دلوائی جائے گی، پھر دونوں کے بارے میں جب وہ انکار کر دے گا، اب قاضی کیا کرے گا؟ فیصلہ کر دے گا۔ تو فجازت تأخير القضاء لہذا جو ہے، جب ایک کے لیے اس نے انکار کر ادھر دیکھو بھئی، زید کا کیا دعویٰ تھا؟ یہ ہزار روپے میرے ہیں، میں نے امانت رکھوائے تھے، اب قاضی نے کہا زید کے لیے قسم اٹھاؤ تم کہ یہ پیسے اس کے نہیں ہیں، بطور امانت کیا آپ کے پاس؟ تو مدعى علیہ کیا کرتا ہے؟ انکار کر دیتا ہے، تو کیا انکار کی وجہ سے یہ پیسے زید کے ثابت ہو گئے؟ نہیں، جب تک قاضی فیصلہ نہ کرے، تو جب یہ پیسے زید کے ثابت نہیں ہوئے ابھی، تو اب فیصلے کو مؤخر کیا جار کرنا جائز ہے، اور بکر کے لیے بھی کیا کھلوا دی جائے؟ قسم اٹھوا دی جائے، سمجھ میں آیا؟ اگر نکول حجت ہوتا، قاضی کے فیصلے کے بغیر ہی، تو جب ایک کے لیے انکار کیا، فوراً تو یہ پیسے کس کے ثابت ہو گئے؟ اس ایک کے ثابت ہو گئے، اب دوسرے کے لیے تو قسم اٹھوانا صحیح نہیں، کیونکہ جھگڑا جن پیسوں کا تھا وہ کس کے ثابت ہو جاتے؟ ایک کے، لیکن وہ قضائے قاضی کے بغیر وہ اس اس وہ بینہ ہی وہ حجت ہی نہیں ہے، لہذا قضا جب تک نہ ملے، وہ حجت نہیں، تو جب وہ حجت نہیں ہے، لہذا اب قضا کو کیا کرنا جائز؟ مؤخر بھی کر لو، وہ کرنا بھی جائز اور مؤخر کیا جائے گا، دوسرے کے لیے بھی قسم اٹھوائی جائے گی، پھر کیا کیا جائے گا؟ صورت بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں۔ جی؟ نہیں آئی سمجھ میں؟ دیکھو، فرق ہے، اقرار فِي نَفْسِهِ حجت ہے، لیکن قسم سے انکار فِي نَفْسِهِ حجت اقرار جب کر لے، تو اب مولانا فورا فیصلہ کر دیا جائے گا، دوسرے کے لیے اب ہم اس سے قسم نہیں اٹھوائیں گے، لیکن قسم سے انکار یہ فِي نَفْسِهِ حجت نہیں، جب تک اس کے ساتھ قاضی کا فیصلہ نہ ملے، لہذا اگر وہ اقرار کر لے، کیا کر لے؟ تو اب دوسرے کے لیے قسم اٹھوائی جائے گی یا فورا فیصلہ کر دیا جائے گا؟ فورا فیصلہ کر دیا جائے گا، کیونکہ اقرار کیا ہے فِي نَفْسِهِ حجت، لیکن اگر اس نے دوسرے ایک کے لیے قسم اٹھانے سے انکار کیا، تو فورا فیصلہ کیا جائے گا؟ نہیں، کیونکہ یہ فِي نَفْسِهِ حجت نہیں۔ لہذا اب جائز ہے کہ فیصلے کو مؤخر کیا جائے اور پہلے کس کے لیے قسم اٹھوا لی جائے؟ دوسرے کے لیے، کیونکہ پہلے کے لیے اس نے اقرار نہیں کیا بلکہ صرف قسم سے انکار اور قسم سے انکار تو فِي نَفْسِهِ حجت نہیں، اس کے ساتھ ابھی تک قاضی کا فیصلہ ملا ہی نہیں، جب یہ فِي نَفْسِهِ حجت نہیں ہے، ابھی ایک کا حق ثابت نہیں ہوا، تو اب کیا کرو؟ دوسرے کے لیے بھی قسم، جب دونوں کے لیے وہ انکار کر دیتا ہے، اب کیا کر دو؟ فیصلہ کر دو، اب مولانا وہ انکار کیا بن جائے گا؟ حجت، اور دونوں کے لیے حجت بنے گا تو دونوں کے ہزار ہزار اس پر کیا ہو جائیں گے؟ ثابت، صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے فجازت تأخير القضاء، تو جائز ہے قضا کو مؤخر کرنا ایک قسم سے انکار کے بعد بھی۔ جی، تاکہ... لِيَحْلِفَ لِلسَّانِي کردیں بھئی اس کو، لِسَّانِي ہونا چاہیے، لِيَحْلِفَ لِسَّانِي جی! یا یوں کر دیں: لِيُحَلَّفَ لِسَّانِي تاکہ قضا کو مؤخر کرنا جائز ہے، تاکہ قاضی اس سے قسم اٹھوا لے لِسَّانِي کس کے لیے؟ یہ ليحلف پڑھیں اگر قسم اٹھوا لے کون اٹھوا لے؟ قاضی، یا لِيُحَلَّفَ پڑھ لیں، تاکہ اس سے قسم اٹھوا لی جائے لِسَّانِي کس کے لیے؟ ثانی کے لیے، یا لِيَحْلِفَ پڑھ لیں، تاکہ وہ قسم اٹھا لے کس کے لیے؟ تینوں ترجمے صحیح ہیں۔ حَتَّى إِذَا نَقَلَ لِأَحَدِهِمَا یہاں تک کہ اگر اس نے کسی ایک کے لیے انکار کیا وَقَضَى الْقَاضِي بِهِ اور پھر قاضی نے کیا کر دیا؟ بھئی فیصلے کی بہتر، بھئی بہتر صورت یہ ہے کہ پہلے دونوں کے لیے قسم اٹھوائے، پھر قاضی فیصلہ کرے، کسی ایک کے سے وہ انکار کرے تو فورا قاضی فیصلہ؟ نہیں، لیکن اگر اس نے ایک کے لیے انکار کر دیا اور قاضی نے فورا فیصلہ کر دیا، قاضی نے کہا تم قسم اٹھاؤ گے کہ تم نے تمہارے پاس یہ بکر نہیں امانت... اا... زید نے تمہارے پاس یہ امانت نہیں رکھوائے تھے؟ اس نے انکار کر دیا کہ میں قسم نہیں اٹھاتا، تو قاضی کو فورا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے تھا بلکہ کیا کرنا چاہیے تھا؟ دوسرے کے لیے بھی قسم اٹھوانی چاہیے اسے، لیکن اگر قاضی نے پہلے سے انکار کرتے ہی فورا کیا کر دیا؟ فیصلہ، تو کیا یہ ہزار اس یہ اس پہلے کے لیے ثابت ہو گئے؟ کہتے ہیں تو اس میں دو روایتیں ہیں، کیا ہیں؟ دو روایتیں ہیں، ایک روایت خرقی اسلام بزذوی رحمہ اللہ کی ہے، اور دوسری امام خصاف رحمہ اللہ کی ہے بھئی۔ پہلی روایت کے مطابق، ایک کے لیے قسم اٹھوانے سے دوسرے کا حق باطل نہیں ہوتا، دوسرے کے لیے بھی پھر قسم اٹھوا لے، تو پہلی قسم سے انکار کی وجہ سے جو قاضی نے فیصلہ کیا، تو وہ ہزار سارے کس کے ثابت ہوئے؟ پہلے کے، لیکن پھر جب دوسرے کے لیے بھی ف... اس نے قسم سے انکار کیا، اب وہ پھر قاضی فیصلہ کرے گا، تو اب دوسرے کا پہلے کے لیے فیصلہ کر دینے سے دوسرے کا حق باطل نہیں، تو اب وہ ہزار ان دونوں میں کیا بن جائے گا؟ مشترکہ ہو جائے گا، کیا ہو جائے گا؟ مشترکہ ہو جائے گا، جبکہ امام خصاف فرماتے ہیں کہ نہیں جب ایک کے لیے قاضی نے فیصلہ کر دیا، تو قسم سے انکار ویسے تو حجت نہیں تھا، لیکن قاضی کا فیصلہ جب مل گیا، تو یہ کیا بن گیا؟ حجت، جب حجت بن گیا، تو جو ہزار جس میں جھگڑا تھا، وہ کس کے ثابت ہو گئے؟ پہلے کے، تو وہی پیسے پیسی وہ تو کس کے ہو گئے؟ پہلے کے، جب پہلے کے ہو گئے، تو اب دوسرے کے لیے قسم کی قسم نہیں اٹھوائی جائے گی۔ حَتَّى إِذَا نَقَلَ لِأَحَدِهِمَا یہاں تک کہ اگر اس نے کسی ایک کے لیے قسم سے انکار کر دیا وَقَضَى الْقَاضِي بِهِ اور قاضی نے اسی ایک پر سے انکار پر فیصلہ کر دیا، فَعَلَى رِوَايَةِ فَخْرِ الْإِسْلَامِ الْبَزْدُوِيِّ رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃ واسعۃ ان کے نزدیک يُحَلَّفُ لِلثَّانِي پھر بھی کیا کی جائے گی؟ اگرچہ فیصلہ کر بھی دے، پھر بھی دوسرے کے لیے قسم اٹھائی جائے گی، فَإِنْ نَكَلا پھر اگر وہ دوسرے کی بھی قسم سے انکار کر دیتا ہے، فَيُقْضَى بَيْنَهُمَا بِهِ تو فیصلہ کر دیا جائے گا ان دونوں کے درمیان یا یقضی یا پھر قاضی فیصلہ کر دے گا ان دونوں کے بیچ بھئی، کیا معنی؟ اس ہزار کا ان دونوں کے بیچ کیا کر دے گا؟ فیصلہ کر کے کہ وہ آدھا آدھا کرو اور اور مزید ہزار بھی لے کر آؤ۔ لِأَنَّ الْقَضَاءَ لِلْأَوَّلِ لَا يُبْطِلُ حَقُّ الثَّانِي؛ اس لیے کہ پہلے کے لیے فیصلہ کر دینا یہ ثانی کے حق کو باطل نہیں کرتا۔ وَعَلَى رِوَايَةِ الْخَصَّافِ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً، اور امام خصاف رحمہ اللہ کے نزدیک لَا يُحَلَّفُ لِلتَّانِي، دوسرے کے لیے قسم نہیں اٹھوائی جائے گی۔ لِأَنَّ الْقَضَاءَ وَقَعَ فِي مُجْتَهَدٍ فِيهِ، اس لیے کہ قاضی کا جو فیصلہ ہے، اس لیے کہ یہ فیصلہ جو ہے، یہ واقع ہوا ہے مجتہد فی مسئلے کے اندر۔ ایسے مسئلے میں جس کے اندر کس کی گنجائش ہے؟ اجتہاد کی گنجائش ہے۔ لِأَنَّ بَعْضَ الْعُلَمَاءِ قَالَ، بھئی اجتہاد کی گنجائش اس طرح بھئی، کہ جیسے اوپر امام فخر الاسلام نے کیا فرمایا؟ کہ ایک کے لیے فیصلہ کرنے سے دوسرے کا حق باطل نہیں ہوتا۔ تو بعض علماء یہ بھی فرماتے ہیں جب ایک کے لیے قسم اٹھوائی، اس نے انکار کیا اور قاضی نے فیصلہ کر دیا، تو اب دوسرے کے لیے قسم نہیں اٹھوائی جائے گی۔ معلوم ہوا یہ مسئلہ کس قسم کا ہے؟ مجتہد اجتہاد کی گنجائش ہے، تو بعضوں نے کہا کہ ثانی کا حق باطل نہیں، بعضوں نے کہا ثانی کا حق ختم۔ سمجھ میں آیا؟ اس لیے کہ فیصلہ جو واقع ہوا ہے وہ مجتہد فی مسئلے میں ہوا ہے، لِأَنَّ بَعْضَ الْعُلَمَاءِ قَالَ۔ اس لیے کہ بعض علماء کرام وہ فرماتے ہیں کہ إِذَا نَقَلَ لِأَحَدِهِمَا، کہ جب اس نے کسی ایک سے کیا کر دیا؟ انکار کر دیا قسم اٹھانے سے، يُقْضَى لَهُ تو اس کے لیے فیصلہ کر دیا جائے گا، وَلَا يُؤَخَّرُ لِتَحْلِيفِ الثَّانِي۔ اور مؤخر نہیں کیا جائے گا دوسرے کے لیے قسم اٹھوانے کے لیے۔ لِأَنَّ النُّكُولَ كَالْإِقْرَارِ۔ اس لیے کہ قسم سے انکار یہ بھی کس کی طرح ہے؟ اقرار ہی کی طرح ہے بھئی۔ وَفِي الْإِقْرَارِ لَا يُؤَخَّرُ۔ اور اقرار میں تو مؤخر نہیں کیا جاتا تھا، تو یہاں پر بھی مؤخر نہیں کیا جائے گا بھئی۔ چلیے ہمارا نہادوال مرام، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔