اچھا مولانا ہم احوالِ اسنادِ خبری پڑھ رہے تھے اور آپ نے پڑھا تھا کہ مخبر کا ارادہ یا تو مخاطب کو فائدہ دینا ہوگا حکم کا یا اپنے عالم ہونے کا۔ اگر وہ حکم کا فائدہ دے رہا ہے تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ فائدة الخبر۔ اور عالم ہونے کا جو فائدہ ہے اسے؟ لازم فائدة الخبر، کیونکہ یہ فائدة الخبر کے ساتھ لازم ہے بھئی کہ جب بھی آپ کو حکم کا فائدہ ہوگا ساتھ ہی یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ متکلم اس پر عالم بھی ہے، جی۔ اور کبھی کبھار انہوں نے بتلایا آپ کو کہ مخاطب جو عالم ہوتا ہے دونوں سے، یعنی اسے فائدة الخبر بھی حاصل ہے اور لازم فائدة الخبر بھی حاصل ہے، ہم اسے کس کے درجے میں اتار لیتے ہیں؟ جاہل کے درجے میں اتار لیتے ہیں، اس لیے کہ وہ اپنے علم کے مقتضیٰ پر عمل نہیں کرتا، عمل نہیں کرتا۔ تو چونکہ مخبر کا ارادہ ہے مخاطب کو فائدہ پہنچانا، تو ضروری ہے کہ مخاطب کے مطابق ہی ترکیب لے کر آئے، اتنے ہی الفاظ لے کر آئے جتنی حاجت ہے اور ضرورت سے زائد نہ لے کر آئے ورنہ کلام کیا ہوگا؟ لغو ہو جائے گا۔ لہٰذا اگر مخاطب خالی الذہن ہے کس چیز سے؟ حکم سے اور تردد فی الحکم سے، نہ اس کے ذہن میں حکم ہے نہ تردد فی الحکم ہے، تو اس کے سامنے ایسا کلام لاؤ جس میں تاکیدات نہ ہوں۔ اور اگر وہ سائل ہے، متردد ہے، طالب ہے، تو پھر اس کے سامنے کیا لے کر آؤ کلام؟ بہتر ہے، استحساناً تاکید کے ساتھ لے آؤ، جی۔ اور اگر مخاطب کیا ہے؟ منکر ہے، تو اس کے سامنے کیا لے کر آؤ؟ تاکید لانا واجب ہے، اور اس کلام کی پہلی قسم کو جو تاکیدات سے خالی ہو اور خالی الذہن کے سامنے لایا جائے، اس کلام کا نام کیا ہے؟ ابتدائی۔ اور طالب اور متردد کے سامنے جو کلام لایا جائے اس کا نام؟ طلبی۔ اور جو انکاری کے سامنے لایا جائے وہ؟ انکاری، جی۔ جیسے مثال انہوں نے ذکر کی کہ اللہ تعالیٰ نے حکایت کی قرآن میں کہ جب عیسیٰ علیہ السلام نے بھیجا تھا اپنے قاصدوں کو انطاکیہ والوں کی طرف، تو انہوں نے جھٹلایا، انکار کیا، تو انہوں نے بھی انکار کی وجہ سے اپنے کلام کو مؤکد ذکر کیا اور کیا کہا: ”إِنَّا إِلَيْكُم مُّرْسَلُونَ“۔ اور پھر دوسری مرتبہ تین کو بھیجا تو اس مرتبہ انکار اشد تھا تو انہوں نے تاکیدات بھی بڑھا دیں اور کیا کہا: ”رَبُّنَا يَعْلَمُ إِنَّا إِلَيْكُمْ لَمُرْسَلُونَ“۔ قسم اٹھائی، یہ یاد رکھو ”رَبُّنَا يَعْلَمُ“ قسم کے درجے میں ہے عربوں کے ہاں۔ تو ”رَبُّنَا يَعْلَمُ“ قسم بھی اٹھائی، ”إِنَّ“ بھی لے کر آئے، جملہ اسمیہ بھی ہے، اور لام بھی لے کر آئے، جی، لام بھی لے کر آئے، جی۔ اور کلام کو کہتے ہیں ان وجوہ پر لے کر آنا ادا کرنا، یعنی خالی الذہن کے سامنے ابتدائی لانا اور متردد کے سامنے طلبی لانا اور منکر کے سامنے کلامِ انکاری لانا، اس کا نام ہے اخراج الکلام علی مقتضی الظاہر، یعنی مقتضائے ظاہر پر آپ کلام لائے ہیں اور اس کو ادا کیا ہے۔ اور کہتے ہیں کہ بسا اوقات کلام کو مقتضائے ظاہر کے خلاف لایا جاتا ہے۔ تو مقتضائے ظاہر جو ہے، ایک ہے مقتضائے ظاہر اور ایک ہے مقتضائے حال۔ مقتضائے ظاہر خاص ہے اور مقتضائے حال عام ہے۔ ظاہرِ حال جو ہے، کیونکہ حال کی دو قسمیں: ایک ہے ظاہر اور ایک خفی۔ تو دونوں قسمیں ہوئیں تو یہ حال مقسم ہوا اور مقسم عام ہوتا ہے اپنی قسموں سے، جیسے کلمہ عام ہے کس سے؟ اسم سے، جی۔ تو ہر مقتضائے ظاہر مقتضائے حال ہے، لیکن ہر مقتضائے حال مقتضائے ظاہر نہیں، جی، کیونکہ ظاہر نہ ہو سکتا ہے خفی ہو۔ تو بسا اوقات کہتے ہیں کلام کو مقتضائے ظاہر کے خلاف لایا جاتا ہے، یعنی مقتضائے حال کے پھر بھی مطابق ہے، مقتضائے حال کے غیر مطابق نہیں بھئی، اس کے خلاف نہیں۔ یعنی حالِ خفی ہے، کیا ہے؟ حالِ خفی کی رعایت رکھی۔ تو مقتضائے ظاہر کے خلاف لایا جاتا ہے کلام کو، پس غیر سائل کو کیا بنا دیا جاتا ہے؟ سائل بنا دیا جاتا ہے، اور اس کے سامنے غیر سائل کے سامنے سائل والا کلام کیا جاتا ہے، جی، سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے کہ پیش کر دیا جائے غیر سائل کے سامنے ایسا کلام جو اشارہ کر رہا ہو کس کی طرف؟ جنسِ خبر کے، آگے خبر کی جنس معلوم ہو جائے، کچھ نہ کچھ خبر کی طرف اشارہ ہو جائے۔ تو وہ بھی انتظار کرنے لگتا ہے جیسے کہ طالبِ متردد دیکھتا ہے انتظار کرتا ہے۔ جیسے اللہ نے کیا فرمایا حضرت نوح علیہ السلام سے: ”وَلَا تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا“ کہ آپ مجھ سے خطاب نہ کیجیے ان لوگوں کے بارے میں جنہوں نے ظلم کیا، یعنی دعا نہ کیجیے ان کی سفارش اور شفاعت نہ کیجیے، تو اس سے اتنا پتہ چل گیا کہ اللہ تعالیٰ ناراض ہیں، اللہ ناراض ہیں۔ معلوم ہوا ان پر عذاب حق ہو چکا ہے۔ لیکن مخاطب متردد ہوا کہ پتہ نہیں اب محکوم علیہم بالغرق ہوئے ہیں یا محکوم علیہم بالغرق نہیں ہوئے، غرق ہونے کا فیصلہ ہو چکا ہے یا نہیں ہو چکا، تو یہ امکان اس کلام سے پیدا ہوا کہ مخاطب کیا ہو جائے گا؟ متردد ہو جائے گا، تو اس امکان کو وجود کے درجے میں اتارا اور کیا اللہ نے فرمایا: ”إِنَّهُم مُّغْرَقُونَ“۔ کلامِ مؤکد لے کر آئے، ”إِنَّ“ بھی ہے، جملہ اسمیہ بھی ہے۔ اور اسی طرح کبھی کبھار غیر منکر کو کس کے درجے میں؟ جب کہ اس پر انکار کی کوئی علامت ظاہر ہو جائے، وہ منکر تو نہیں لیکن اس پر انکار کی علامت ہے کوئی، تو اس انکار کی علامت کی وجہ سے ہم نے اس کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ تو اس سے ہم نے تاکید والا کلام کیا، حالانکہ وہ منکر نہیں تھا، اس کے سامنے تاکید والا کلام لانے کی ضرورت نہیں تھی۔ جیسے شاعر حجل بن نضلہ کہتا ہے: ”جَاءَ شَقِيقٌ عَارِضًا رُمْحَهُ ... إِنَّ بَنِي عَمِّكَ فِيهِمْ رِمَاحُ“ شقیق آیا اس حال میں کہ اس نے چوڑائی میں پکڑا ہوا تھا اپنے نیزے کو، حالانکہ دشمن کی طرف جاتے ہوئے لمبائی میں نیزے کو پکڑنا چاہیے تھا لیکن اس نے چوڑائی میں پکڑا ہوا تھا۔ یہ علامت تھی اس بات کی کہ وہ اس بات سے انکاری ہے کہ دشمن کے پاس کوئی اسلحہ نہیں ہے، کوئی اسلحہ اس سے وہ انکار کر رہا ہے۔ تو اس کے اس حالت کی وجہ سے اس کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ منکر کے درجے میں اتار کر اس کے سامنے منکر والا کلام یعنی تاکید کے ساتھ لایا گیا کلام، حالانکہ تاکید کے بغیر لانا چاہیے تھا، اور اسے کیا کہا گیا: ”إِنَّ بَنِي عَمِّكَ فِيهِمْ رِمَاحُ“۔ اور یہاں میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ علامہ تفتازانی فرماتے ہیں کہ اس سے التفات کے طریقے پر کیا کیا گیا؟ خطاب کیا گیا، خطاب کیا گیا۔ اور میں نے بتایا تھا یہ التفات علمِ بلاغت کی اصطلاح ہے، کلام کے تین طریقے ہیں مولانا: یا تو اس کے اندر تکلم ہوگا، یا خطاب ہوگا، یا غیبت ہوگی۔ تو ایک طریقے سے کلام کرنے کے بعد دوسرے طریقے کی طرف انتقال کیا جائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ التفات۔ جیسے پہلے شقیق کہا، نام لیا اور نام اس میں ظاہر ہے اور اس میں ظاہر کس کے درجے میں ہے؟ غائب کے درجے میں، تو گویا اس کے سامنے نہیں ہے، تو غائب کے درجے میں کیا کہہ رہا ہے: آیا شقیق چوڑائی میں نیزہ تھا، پھر التفات کرتا ہے اور خطاب شروع کر دیتا ہے کہ تیرے جو چچا کے بیٹے ہیں ان کے پاس کیا ہے؟ نیزے ہیں۔ اور امام مرزوقی فرماتے ہیں کہ اس شعر کے اندر بڑا مذاق اڑایا ہے شاعر نے شقیق کا اور گویا کہ وہ اس کو طعنہ دے رہا ہے اور اس کی نسبت کر رہا ہے کہ ضعف اور جبن میں وہ ایسا ضعیف ہے اور بزدل ہے کہ اگر اسے پتہ چل جاتا کہ دشمن کیا ہیں ان کے پاس بھی نیزے ہیں تو وہ میدانِ جنگ کا کبھی رخ ہی نہ کرتا، یہ تو اس لیے چل رہا ہے کہ اس کو پتہ ہی نہیں کہ ان کے پاس نیزے ہیں۔ جیسے کہ ایک اور شاعر نے کیا تھا اسی طریقے پر ہے یہ، ایک اور شاعر نے کس طرح: ”فَقُلْتُ لِمُحْرِزٍ لَمَّا الْتَقَيْنَا ... تَنَكَّبْ لَا يُقَتِّرْكَ الزِّحَامُ“ ”فَقُلْتُ لِمُحْرِزٍ“ میں نے محرز سے کہا، ”لَمَّا الْتَقَيْنَا“ جب ہمارا آمنا سامنا ہوا، ”تَنَكَّبْ“ ایک طرف ہو جا، ”لَا يُقَتِّرْكَ“ یہ جوابِ امر مجزوم، ”لَا يُقَتِّرْكَ الزِّحَامُ“ تجھے ایک طرف نہ ڈال دے یہ ہجوم۔ قتر یقتر تقتیراً کا معنی ایک طرف ڈال دینا، یعنی قدموں تلے کچل کر۔ تو گویا شاعر یہ طعنہ اس کو دے رہا ہے کہ اس نے زمانے کی کوئی سختیاں دیکھی نہیں، سختیوں سے کبھی اس کا سامنا نہیں ہوا، اور کبھی اس نے میدانِ جنگ کی سختیوں کو نہیں دیکھا تو اس پر ڈر رہا ہے کہ کہیں وہ قدموں تلے کچلا نہ جائے، جیسے عورتوں اور بچوں پر ڈرا جاتا ہے، ”لِقِلَّةِ غَنَائِهِ“ بوجہ اس محرز کے نفع کم ہونے کے، ”وَضَعْفِ بَنَائِهِ“ اور اس کے بدن کے ضعف کی وجہ سے۔ یعنی اس کا فائدہ بھی کوئی نہیں، بیکار ہے اور ہے بھی کمزور عورتوں اور بچوں کی طرح ہے، جی۔ ”وَيُجْعَلُ الْمُنْكِرُ كَغَيْرِ الْمُنْكِرِ“، یہ تو بات کیا چل رہی تھی؟ آپ نے غیر منکر کو کس کے درجے میں اتارا؟ منکر کے درجے میں۔ اب اس کا عکس ہے، منکر کو کس کے درجے میں اتارا؟ غیر منکر کے درجے میں۔ اس کی مثال، اور کیا جاتا ہے منکر کو غیر منکر کے درجے میں، ”إِذَا كَانَ مَعَهُ مَا إِنْ تَأَمَّلَهُ ارْتَدَعَ“، ”أَيْ: إِذَا كَانَ مَعَهُ“، ”أَيْ: مَعَ الْمُنْكِرِ“، جب کہ منکر کے پاس ہوں، کیا پاس ہوں؟ ”مَا“ عبارت ہے دلائل اور شواہد سے، آگے آ رہا ہے مولانا۔ منکر کے پاس دلائل اور شواہد ہوں، ”إِنْ تَأَمَّلَهُ“، اگر وہ غور و فکر کر لے ان میں، ”ارْتَدَعَ“، تو وہ کیا کر لے؟ رجوع کر لے اپنے انکار سے، سمجھ میں آیا بھئی؟ منکر کو غیر منکر کے درجے میں ہم نے اتارا، یعنی وہ تو ہے انکاری، اس کے سامنے کلام کون سا چاہیے؟ تاکید والا، کلامِ انکاری چاہیے۔ ہم اس کے سامنے کلام کون سا لا رہے ہیں؟ ہم کلامِ ابتدائی لا رہے ہیں بغیر تاکید کے، کس کے؟ بغیر تاکید کے۔ کیوں؟ کیونکہ اس کے پاس دلائل موجود ہیں مولانا، ان دلائل میں ذرا غور و فکر کر لے تو اس کو پتہ چل جائے گا کہ بات اسی طرح ہے اور وہ اپنے انکار سے کیا کر لے گا؟ رجوع کر لے گا۔ جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”لَا رَيْبَ فِيهِ“۔ اس کتاب میں، قرآن میں کوئی ریب، کوئی شک نہیں ہے۔ اب دیکھو یہ حکم آیا بغیر تاکید کے، حالانکہ خطاب کس کو ہو رہا ہے؟ منکرین کو ہو رہا ہے، کفار کیا کر رہے ہیں؟ انکار کر رہے ہیں۔ تو ان سے خطاب ہو رہا ہے ”لَا رَيْبَ فِيهِ“ بغیر تاکید کے کلام لایا گیا، کیوں؟ کیونکہ ان کے انکار کو لا انکار بنا دیا کہ بھئی تمہارے پاس ایسے واضح دلائل موجود ہیں، ایسے شواہد ہیں جن کو آنکھوں سے دیکھ سکتے ہو، عقل سے سوچ سکتے ہو کہ جب اگر تم ان میں غور و فکر ذرا بھی کر لو تو فوراً اپنے انکار سے کیا آ جاؤ گے؟ رجوع کر لو گے، کہ قرآن کو نہیں دیکھتے کہ قرآن معجزہ ہے، کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا، معلوم ہوا یہ انسانی کلام نہیں بلکہ کس کی طرف سے ہے؟ اللہ، پھر اس شخص کو، اس قرآن کو وہ شخص لے کر آیا ہے جو کیا ہے؟ صادق ہے، کفار بھی ہمیشہ کیا کہتے ہیں؟ صادق ہے، اور اس کی تصدیق کی گئی ہے مولانا۔ تو یہ ایسی چیزیں ہیں کہ واضح دلائل موجود ہیں، اگر وہ ان چیزوں میں ذرا غور و فکر کر لیں تو اپنے انکار سے کیا کر لیں؟ رجوع کر لیں۔ تو ان دلائل کی وجہ سے منکرین کے انکار کو کس کے درجے میں اتار دیا؟ لا انکار کو کس کے درجے میں؟ لا انکار کے درجے میں، یعنی منکر وہ ہے ہی نہیں، منکر ہے ہی نہیں، اور جب منکر نہ ہو، خالی الذہن ہو تو اس کے سامنے کون سا کلام کرتے ہیں؟ تو ”لَا رَيْبَ فِيهِ“ ابتدائی کلام ان کے سامنے کر دیا گیا، حالانکہ کہنا یہ چاہیے تھا مولانا: ”إِنَّهُ لَا رَيْبَ فِيهِ“، ”إِنَّ“ لانا چاہیے تھا بھئی، ”ذَٰلِكَ الْكِتَابُ إِنَّهُ لَا رَيْبَ فِيهِ“۔ اچھا، سمجھ میں آیا بھئی؟ بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ تو کبھی کبھار منکر کو غیر منکر کے درجے میں اتار لیا جاتا ہے: ”إِذَا كَانَ مَعَهُ“، جب کہ اس کے پاس ہوں یعنی منکر کے پاس ہوں، ”مَا“، وہ چیز یعنی وہ دلائل اور شواہد، ”إِنْ تَأَمَّلَهُ“، کہ اگر وہ ان دلائل اور شواہد میں کیا کر لے؟ غور و فکر کر لے، ”ارْتَدَعَ“، تو کیا کر لے؟ رجوع کر لے۔ ”أَيْ: شَيْءٌ مِّنَ الدَّلَائِلِ“، ”شَيْءٌ“ نکال کر بتلا دیا مولانا کہ دلائل میں سے ادنیٰ سی چیز بھی اس کے پاس ہو تو یہ بھی اس کے انکار سے رجوع کرنے کے لیے کیا ہے؟ کافی ہے۔ ادنیٰ ایک ہی دلیل کیوں نہ ہو اس کے پاس، پھر بھی کافی ہے رجوع کرنے کے لیے غور و فکر کے بعد۔ ”أَيْ: شَيْءٌ مِّنَ الدَّلَائِلِ وَالشَّوَاهِدِ“، یعنی شئے کس میں سے؟ دلائل اور شواہد، یعنی جن کا وہ مشاہدہ کرتا ہے، تو دلائل سے مراد عقلی دلیل ہو گئی اور شواہد سے مشاہدہ جس کا ہو حسی دلیل جو آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ تو شواہد بھی موجود، دلائل بھی موجود، ”إِنْ تَأَمَّلَ الْمُنْكِرُ ذَلِكَ الشَّيْءَ“، اگر غور و فکر کر لے منکر اس چیز میں یعنی ان دلائل اور شواہد میں، ”ارْتَدَعَ عَنْ إِنْكَارِهِ“، تو رجوع کر لے گا کس سے؟ اپنے انکار سے۔ اچھا، اب یہاں کیا کہا انہوں نے؟ اگر منکر کے پاس ہوں وہ دلائل، منکر کے پاس ہوں وہ دلائل، تو ”مَعَهُ“ کا لفظ متن میں آیا تھا، علامہ تفتازانی اس کا معنی آپ کو بتلا رہے ہیں کہ منکر کے پاس ہونے کا کیا مطلب دلائل اس کے پاس ہوں؟ ”فَمَعْنَى كَوْنِهِ مَعَهُ“، اور ”مَعَهُ“ کا کیا معنی ہے؟ دلیل کا منکر کے پاس ہونے کا معنی کیا ہے؟ ”أَنْ يَكُونَ مَعْلُومًا لَهُ“، کہ وہ دلیل اس کو کیا ہو؟ معلوم ہو، ”مُشَاهَدًا عِنْدَهُ“، اور اس کے لیے مشاہد ہو مولانا، اس نے اس کا مشاہدہ کیا ہو۔ ”كَمَا تَقُولُ“، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ وہی بات جو... ”كَمَا تَقُولُ لِمُنْكِرِ الْإِسْلَامِ“، جیسے کہ آپ کس کو کہیں؟ منکرِ اسلام کے انکار کرنے والے سے کہیں: ”الْإِسْلَامُ حَقٌّ“، اسلام کیا ہے؟ حق ہے، ”مِنْ غَيْرِ تَأْكِيدٍ“، بغیر کس کے؟ تاکید کے۔ بغیر تاکید کے کیوں کہیں؟ ”لِأَنَّ مَعَ ذَلِكَ الْمُنْكِرِ“، اس لیے کہ اس منکر کے پاس ”دَلَائِلَ“، یہ ”إِنَّ“ کا اسم ہے، ”لِأَنَّ مَعَ ذَلِكَ الْمُنْكِرِ دَلَائِلَ دَالَّةً عَلَى حَقِّيَّةِ الْإِسْلَامِ“، ایسے دلائل ہیں جو دلالت کر رہے ہیں اسلام کے حق ہونے پر بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ حق ہونے پر۔ اس پر اشکال ہوتا ہے: آپ نے منکر کو کیا کہا ”الْإِسْلَامُ حَقٌّ“، اور یہ کلام کیسے لے کر آئے؟ بغیر تاکید کے لے کر آئے، کہتے ہیں بھئی یہ تو جملہ اسمیہ ہے اور جملہ اسمیہ کس پر دلالت کرتا ہے؟ تاکید، آپ تو تاکید لے آئے۔ اور آپ ہمیں کہہ رہے ہیں تاکید نہیں بھئی، پیچھے ابھی تک جتنی آپ نے جگہ جگہ تقریر کی، جگہ جگہ آپ نے کہا کہ جملہ اسمیہ ہے جملہ اسمیہ ہے تاکید ہے، جملہ اسمیہ ہے تاکید ہے، اور اب آپ کیا کہہ رہے ہیں کہ اس میں جملہ اسمیہ ہے اور تاکید اس میں ہے ہی نہیں؟ سمجھ میں آیا؟ بغیر تاکید کے آپ لائے ہیں۔ تو جواب یہ مولانا کہ جملہ اسمیہ میں صلاحیت ہے تاکید کی لیکن ہمیشہ وہ تاکید کا فائدہ نہیں دے گا، بلکہ تاکید کا فائدہ وہاں دے گا جہاں آپ بھی اس کا اعتبار کریں۔ اب ”الْإِسْلَامُ حَقٌّ“ میں آپ تاکید کا اعتبار کرتے ہیں تو تاکید ہے، آپ نہیں کرتے تو تاکید نہیں۔ اور آپ نے اس کا اعتبار نہیں کیا، اس کے سامنے ویسے ہی کہا ”الْإِسْلَامُ حَقٌّ“، تو جب آپ نے اعتبار نہیں کیا تو تاکید آئی نہیں، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ جملہ اسمیہ میں صلاحیت ہے کہ وہ کس چیز کا فائدہ دے؟ تاکید کا فائدہ دے، لیکن یہ وہاں فائدہ دے گا جب آپ کیا کریں؟ آپ اس تاکید کا اعتبار بھی کریں، آپ نے اعتبار کیا تو تاکید ہے، آپ نے اعتبار نہیں کیا تو تاکید نہیں ہے۔ اب مولانا مصنف نے دو چیزیں ذکر کی تھیں: ایک ”مَعَهُ“، ایک ”مَا“۔ ”مَعَهُ“ کا معنی کیا کیا علامہ تفتازانی نے؟ اس کو معلوم اور مشاہد ہوں، معلوم اور مشاہد ہوں۔ اور ”مَا“ کا کیا معنی کیا بھئی؟ دلائل اور شواہد۔ دو چیزیں آئیں بھئی یاد رکھو، اب اسی کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ متن میں ایک ”مَعَهُ“ آیا تھا اس کا تفتازانی نے کیا معنی کیا؟ معلوم ہو اور مشاہد ہو۔ اور دوسرا ”مَا“ آیا تھا، ”مَا“ کا کیا معنی کیا تھا؟ دلائل اور شواہد۔ علامہ تفتازانی کہتے ہیں بعض لوگوں نے ”مَعَهُ“ کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ وہ دلائل واقع میں، نفس الامر میں موجود ہوں۔ وہ دلائل کیا ہیں نفس الامر میں؟ موجود ہوں۔ ہم نے تو کیا کہا؟ مخاطب کو خود معلوم ہیں بھئی، اس کے پاس ہیں، اس کے پاس ہیں۔ اور کسی اور نے کیا کہا؟ ”مَعَهُ“ کا کیا معنی؟ واقع میں موجود ہیں بھئی، اب واقع میں موجود ہیں یہ ان میں غور و فکر کر لے گا تو کیا ہو جائے گی قرآن کی حقانیت اس پر واضح ہو جائے گی۔ علامہ تفتازانی کہتے ہیں نہیں، یہ جو بعضوں نے اس کا معنی نفس الامر میں موجود ہونے کے کیے یہ معنی صحیح نہیں۔ کیوں؟ وجہ یہ کہ ہو سکتا ہے نفس الامر میں ایک دلیل موجود ہے مولانا لیکن اس کو پتہ ہی نہیں، جب پتہ ہی نہیں تو تامل کہاں سے کرے گا؟ اور تامل نہیں کرے گا تو اپنے انکار سے رجوع کہاں سے کرے گا؟ لہٰذا نفس الامر میں موجود ہونا دلیل کا کافی نہیں بلکہ اس مخاطب کو معلوم ہونا ضروری ہے۔ ”وَقِيلَ مَعْنَى كَوْنِهِ مَعَهُ“، اور کہا گیا ہے دلائل کا، دلائل کا اس کے ساتھ اس کے پاس ہونے کا معنی کیا ہے؟ ”أَنْ يَكُونَ مَوْجُودًا فِي نَفْسِ الْأَمْرِ“، کہ دلیل کیا ہو موجود ہو نفس الامر میں واقع میں، ”وَفِيهِ نَظَرٌ“، اس قول میں نظر ہے، ”لِأَنَّ مُجَرَّدَ وُجُودِهِ“، اس لیے کہ صرف دلیل کا وجود ہونا، صرف دلیل کا جو وجود ہے ”لَا يَكْفِي فِي الِارْتِدَاعِ“، وہ کافی نہیں رجوع کرنے کے لیے اپنے انکار سے، ”مَا لَمْ يَكُنْ حَاصِلًا عِنْدَهُ“، جب تک کہ مخاطب کو وہ دلیل حاصل نہ ہو۔ سب کو بات سمجھ میں آئی بھئی؟ ”وَقِيلَ مَعْنَى مَا“، متن میں آیا تھا ”مَا“ بھئی: ”مَا إِنْ تَأَمَّلَهُ“۔ علامہ تفتازانی نے ”مَا“ کا کیا معنی کیا؟ دلائل اور شواہد۔ صاحبِ قیل فرماتے ہیں ”مَا“ سے مراد عقل ہے: ”إِذَا كَانَ مَعَهُ“، ”أَيْ: مَعَ الْمُنْكِرِ“، ”مَا“، ”أَيْ: عَقْلٌ“، جب کہ منکر کے پاس کیا موجود ہو؟ عقل موجود ہو، ”إِنْ تَأَمَّلَهُ“، اس میں غور کر لے، ”ارْتَدَعَ“، تو کیا کر لے؟ رجوع کر لے۔ علامہ تفتازانی فرماتے ہیں کہ نہیں بھئی، یہ ”مَا“ سے مراد عقل نہیں ہو سکتی، اس لیے کہ پھر اس صورت میں یوں کہا جاتا: ”إِنْ تَأَمَّلَ بِهِ“، ”إِنْ تَأَمَّلَهُ“ نہیں کہا جاتا بلکہ کیا کہا جاتا؟ ”إِنْ تَأَمَّلَ بِهِ“، اس لیے کہ عقل میں غور و فکر نہیں ہوتا، عقل کے ذریعے سے غور و فکر ہوتا ہے۔ تو ”إِنْ تَأَمَّلَهُ“ کا معنی تو یہ ہے کہ اس عقل میں غور و فکر کر لے، بلکہ عقل میں غور و فکر نہیں ہوتا بلکہ عقل کے... تو ہونا یوں چاہیے تھا ”إِنْ تَأَمَّلَ بِهِ“، اس کے ذریعے کیا کر لے؟ غور و فکر کر لے۔ تو معلوم ہوا ”مَا“ سے مراد عقل نہیں بلکہ کیا مراد ہے؟ دلائل اور شواہد مراد ہیں بھئی، بات سمجھ میں آئی؟ ”وَقِيلَ مَعْنَى: مَا إِنْ تَأَمَّلَهُ، شَيْءٌ مِّنَ الْعَقْلِ“، اس کا کیا معنی ہے شئے من العقل، ”وَفِيهِ نَظَرٌ“، اور اس میں اشکال ہے، ”لِأَنَّ الْمُنَاسِبَ حِينَئِذٍ أَنْ يُقَالَ: مَا إِنْ تَأَمَّلَ بِهِ“، اس لیے کہ مناسب اس وقت میں یوں کہا جائے ”مَا إِنْ تَأَمَّلَ بِهِ“ کہا جائے، ”لِأَنَّهُ لَا يَتَأَمَّلُ الْعَقْلَ“، اس لیے کہ وہ منکر عقل میں تامل نہیں کرتا، ”بَلْ يَتَأَمَّلُ بِهِ“، ”أَيْ: بِالْعَقْلِ“، عقل کے ذریعے سے، عقل کے سبب سے تامل کرتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ ”لِأَنَّ الْمُنَاسِبَ“ کہا، ”وَفِيهِ نَظَرٌ لِأَنَّ الْمُنَاسِبَ“، بتلایا کہ یہ وجہ بھی صحیح ہو سکتی ہے بھئی، مناسب یہ ہے کہ یوں۔ کیسے؟ کہ اصل میں تھا ”إِنْ تَأَمَّلَ بِهِ“، پھر حذف و ایصال ہوا، حذف و ایصال جانتے ہیں؟ ”إِنْ تَأَمَّلَ بِهِ“، باء کو حذف کر دیا گیا اور اس ہا ضمیر کو فعل کے ساتھ جوڑ دیا گیا، کیا بن گیا؟ حذف و ایصال، سمجھ میں آیا؟ ایصال کا معنی جوڑنا۔ تو ”تَأَمَّلَ بِهِ“، باء کو کیا کیا گیا؟ حذف، پھر کیا رہ گئی؟ وہ ضمیر، تو اس کو فعل کے ساتھ جوڑ دیا گیا، تو فعل پہلے تھا متعدی بواسطہ حرفِ جر کے، اب کیا متعدی ہوا بغیر واسطہ حرفِ جر کے، متعدی کر دیا ہم نے اس کی طرف۔ یا مولانا عقل سے مراد دلائلِ عقلیہ مراد لیے جائیں، تو پھر بات وہی ہو گئی جو علامہ تفتازانی نے کی تھی، علامہ تفتازانی نے بھی ”مَا“ سے مراد دلائل لیے تھے اور یہاں پر بھی عقل سے کیا مراد لے لیے جائیں؟ دلائلِ عقلیہ مراد لے لیے جائیں بھئی۔ ”نَحْوُ: لَا رَيْبَ فِيهِ“، اب توجہ سے سننا مولانا، ذرا مشکل مقام ہے۔ ”نَحْوُ: لَا رَيْبَ فِيهِ“، جیسے کہ قرآن میں کیا آیا ہے مولانا: ”لَا رَيْبَ فِيهِ“۔ شک نہیں ہے، جنسِ ریب نہیں ہے فیہ اس قرآن کے اندر۔ ”ظَاهِرُ هَذَا الْكَلَامِ أَنَّهُ مِثَالٌ لِّجَعْلِ مُنْكِرِ الْحُكْمِ كَغَيْرِهِ“، ظاہر اس کلام کا یہ ہے مولانا، علامہ تفتازانی فرما رہے ہیں کہ یہ مثال ہے منکرِ حکم کو کیا بنانے کی؟ غیر منکر بنانے کی مثال ہے بھئی، کیا ہے؟ بات کیا چل رہی تھی اوپر متن میں؟ ضابطہ کیا بیان ہوا؟ قاعدہ کیا ذکر ہوا کہ کبھی کبھار منکر کو کیا بنا دیا جاتا ہے؟ غیر منکر بنا دیا جاتا ہے، جب کہ اس کے پاس ایسے دلائل اور شواہد موجود ہوں کہ جن میں وہ غور و فکر کر لے تو اپنے انکار سے رجوع کر لے۔ اب کہہ رہے ہیں ”نَحْوُ: لَا رَيْبَ فِيهِ“، جیسے کہ قرآن میں کیا آیا ہے ”لَا رَيْبَ فِيهِ“۔ تو علامہ تفتازانی فرما رہے ہیں کہ اس کلام کا ظاہر یہ ہے کہ یہ منکر کو غیر منکر کی طرح بنانے کی مثال ہے، یہ اس کی کیا ہے؟ مثال ہے، کیوں؟ مثال کیوں ہے؟ اس لیے کہ قاعدے کے بعد ذکر ہوئی اور قاعدے کے بعد کیا ذکر ہوتی ہے؟ مثال۔ نیز ”نَحْوُ“ کے ساتھ اس کو تعبیر کیا گیا اور ”نَحْوُ“ کے ذریعے کیا ذکر کی جاتی ہے؟ مثال ذکر کی جاتی ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو ظاہرِ کلام یہ بتلا رہا ہے کہ یہ اس کی مثال ہے مثال ہے۔ اب جب یہ اس کی مثال ہے تو ضابطہ کیا بیان ہوا مولانا کہ کبھی کبھار منکر کو کیا بنا دیا جاتا ہے؟ منکر کے سامنے آنی چاہیے تھی کلام میں تاکید لیکن تاکید کو ترک کر دیا جاتا ہے، جیسے یہاں پر مولانا کہا گیا قرآن کے اندر جنسِ ریب نہیں شک ہے ہی نہیں سرے سے۔ تو یہاں پر کلام کس سے ہو رہا ہے؟ منکر سے، اور منکر کے سامنے کلام کون سا ہونا چاہیے؟ انکاری، تاکید کے ساتھ، لیکن یہاں پر کون سا کلام ذکر کیا گیا؟ ابتدائی کلام بغیر کسی تاکید کے ذکر کیا گیا بھئی، سمجھ میں آیا؟ بغیر تاکید۔ تو لہٰذا یہ ظاہرِ کلام یہ ہے کہ یہ مثال ہے منکر کو غیر منکر بنانے کی، ”وَتُرِكَ التَّأْكِيدُ لِذَلِكَ“، اور اسی لیے تاکید کو کیا کیا گیا ہے؟ چھوڑ دیا گیا ہے، ہونا تو یوں چاہیے تھا کہ ”إِنَّ الْقُرْآنَ لَا رَيْبَ فِيهِ“ یا ”إِنَّهُ لَا رَيْبَ فِيهِ“، تاکید کے ساتھ ذکر ہونا چاہیے تھا لیکن یہ چونکہ مثال ہے کس کی مولانا؟ منکر کو کس کے درجے میں اتارنے کی؟ غیر منکر کے درجے میں اتارنے کی، اور جب منکر کو غیر منکر کے درجے میں اتار لیا تو اب اس کے سامنے تاکید کو بھی ذکر نہیں کیا جائے گا، اسی لیے اس کلام کے اندر بھی تاکید کو ذکر نہیں کیا گیا۔ جی۔ ”وَبَيَانُهُ“، بیان اس کا یہ: ”أَنَّ مَعْنَى: لَا رَيْبَ فِيهِ“، کہ ”لَا رَيْبَ فِيهِ“ کا معنی کیا ہے مولانا؟ یہ توجہ سے سننا مولانا، ”لَا رَيْبَ فِيهِ“ کا معنی کیا ہے؟ ”لَيْسَ الْقُرْآنُ بِمَظَنَّةٍ لِّلرَّيْبِ“، قرآن جائے گمان نہیں ہے ریب کے لیے۔ ”لَا رَيْبَ فِيهِ“ کا کیا معنی؟ قرآن جائے گمان نہیں ہے کس کے لیے؟ ریب کے لیے۔ یعنی ”وَلَا يَنْبَغِي أَنْ يُرْتَابَ فِيهِ“، اور مناسب نہیں ہے کہ اس کے اندر شک کیا جائے، مناسب نہیں ہے کہ اس کے اندر... یہ اسی کی تفسیر ہو رہی ہے: ”لَيْسَ الْقُرْآنُ بِمَظَنَّةٍ لِّلرَّيْبِ“، آگے اسی کی تفسیر ہے مولانا: ”وَلَا يَنْبَغِي أَنْ يُرْتَابَ فِيهِ“، قرآن میں شک کرنا مناسب نہیں ہے، نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا؟ یعنی اصل میں دیکھیں ”لَا رَيْبَ فِيهِ“ کا معنی کیا بنتا ہے؟ قرآن میں جنسِ ریب نہیں ہے، کیونکہ لائے نفی جنس آ رہا ہے نا، قرآن میں جنسِ ریب ہی نہیں ہے۔ تو علامہ تفتازانی کہتے ہیں یہاں اس کا یہ معنی نہیں ہے، کیونکہ اگر یہ معنی ہم کریں گے تو خرابی لازم آئے گی، بہت بڑی خرابی لازم آئے گی۔ جی، خرابی کیا لازم آئے گی؟ آپ نے کس کو کس کے درجے میں اتارا؟ منکر کو غیر منکر کے درجے میں۔ تو منکر کو جب غیر منکر کے درجے میں اتارا تو ضروری ہے کہ اس کے سامنے آپ جو کلام ذکر کر رہے ہیں وہ واقع کے بھی مطابق ہو، واقع کے بھی مطابق ہو، اور پھر اس پر دلائل بھی موجود ہوں تاکہ وہ دلائل میں غور کرے تو اپنے انکار سے کیا کر لے؟ رجوع کر لے۔ تو معلوم ہوا منکر کے سامنے آپ نے کہا ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، یہ ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ کا کس کے مطابق ہونا ضروری؟ واقع کے مطابق ہونا ضروری ہے مولانا، کیونکہ آپ نے اس منکر کو کس کے درجے میں اتارا؟ غیر منکر کے۔ اور اس پر دلائل بھی ہونے چاہئیں، قیامِ زید پر اس کے پاس دلائل بھی ہوں جن میں وہ غور و فکر کر لے تو پھر کیا کر لے؟ اپنے انکار سے رجوع کر لے۔ جب وہ دلائل ہی اس پر نہیں موجود وہ واقع میں ہی نہیں ہے تو پھر غور و فکر کیسا اور رجوع کیسا؟ اور جب رجوع نہیں آ سکتا تو مولانا منکر کو آپ نے غیر منکر کے درجے میں کیسے اتار لیا؟ بات سمجھ میں آئی؟ جی۔ تو کلام کا یعنی واقع کے مطابق ہونا ضروری، اور اگر ہم یہ معنی لیتے ہیں ”لَا رَيْبَ فِيهِ“ قرآن میں ریب ہے ہی نہیں، ریب واقع ہی نہیں ہوا، یہ تو واقع کے مطابق ہی نہیں ہے۔ اس کی تاکید تو چھوڑیں، یہ تو کلام ہی صحیح نہیں بنتا مولانا، تاکید تو تب لاتے ہیں نا جب پہلے کلام صحیح ہو، اس کے بعد کیا کیا جائے؟ تاکید لائیں۔ کلام اس لیے نہیں کہ آپ کلام کس سے کر رہے ہیں؟ منکر سے، اور منکر کے سامنے جو کلام ہونا چاہیے آپ اس کو غیر منکر کے درجے میں اتارنا چاہتے ہیں تو کیا ہونا چاہیے؟ کلام واقع کے مطابق ہو، اور یہ کلام واقع کے مطابق نہیں کیونکہ ”لَا رَيْبَ فِيهِ“ کا معنی ہے کہ قرآن میں ریب واقع نہیں، حالانکہ ہزاروں لاکھوں لوگ کیا کرتے ہیں؟ قرآن میں شک کرتے ہیں، تو معلوم ہوا قرآن میں ریب واقع ہے، قرآن میں ریب واقع ہے۔ تو یہ بات واقع کے مطابق ہوئی ”لَا رَيْبَ فِيهِ“؟ واقع کے مطابق ہی نہیں، تو پھر آپ کا منکر کو غیر منکر کے درجے میں اتارنا تو ٹھیک ہی نہ ہوا، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ سب کو؟ جی۔ تو اس لیے علامہ تفتازانی محتاج ہوئے، انہوں نے تاویل کی کہ ”لَا رَيْبَ فِيهِ“ کا کیا معنی؟ ”لَيْسَ الْقُرْآنُ بِمَظَنَّةٍ لِّلرَّيْبِ“، قرآن محلِ ریب نہیں ہے بھئی، اس میں ریب کرنا مناسب نہیں ہے، قرآن ایسی کتاب ہے کہ اس میں شک کرنا مناسب نہیں ہے۔ یہ تاویل کر دی، یہ نہیں کہا کہ ریب ہے ہی نہیں بلکہ کیا کہا اس میں ریب کرنا مناسب نہیں ہے۔ سب کو بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اس لیے علامہ تفتازانی فرماتے ہیں کہ اس کی تاویل کرنا پڑے گی اور کیا کہنا پڑے گا کہ قرآن میں شک کرنا مناسب نہیں ہے، ”لَا رَيْبَ فِيهِ“ کا کیا معنی کہ قرآن میں شک کرنا... قرآن محلِ ریب نہیں، قرآن میں شک کرنا مناسب نہیں ہے۔ اور یہ ایسا حکم ہے جو واقع کے مطابق ہے، قرآن میں شک کرنا مناسب نہیں ہے، شک کرنا مناسب نہیں ہے۔ اور اس حکم کا کیا کر رہے ہیں بہت سے لوگ؟ انکار کر رہے ہیں، لیکن ان کے انکار کو کس کے درجے میں اتار دیا گیا؟ لا انکار کے درجے میں اتار دیا گیا کیونکہ ایسے دلائل موجود ہیں جن میں وہ غور و فکر کریں تو اپنے انکار سے رجوع کر لیں اور یہ تسلیم کر لیں کہ قرآن کے اندر شک نہیں کرنا چاہیے، قرآن میں شک کرنا مناسب نہیں ہے۔ چنانچہ تاکید والا کلام نہیں لایا گیا بلکہ بغیر تاکید کے کلام ذکر کیا گیا بھئی، یہ بات سمجھ میں آئی؟ جی۔ ”وَبَيَانُهُ“، دوبارہ سنیں، بیان اس کا یہ ہے: ”أَنَّ مَعْنَى: لَا رَيْبَ فِيهِ“، ”لَا رَيْبَ فِيهِ“ کا معنی یہ کیا ہے: ”لَيْسَ الْقُرْآنُ بِمَظَنَّةٍ لِّلرَّيْبِ“، کہ قرآن محلِ ریب نہیں ہے، ”وَلَا يَنْبَغِي أَنْ يُرْتَابَ فِيهِ“، اور مناسب نہیں ہے کہ اس میں شک کیا جائے، ”وَهَذَا الْحُكْمُ“، اور یہ بات کہ قرآن میں شک نہیں کرنا چاہیے اور قرآن جائے گمان نہیں ہے ریب کی، اس حکم کا: ”مِمَّا يُنْكِرُهُ كَثِيرٌ مِّنَ الْمُخَاطَبِينَ“، یہ ان چیزوں میں سے ہے جس کا انکار کرتے ہیں بہت سے مخاطبین، ”لَكِنْ نُزِّلَ إِنْكَارُهُمْ مَنْزِلَةَ عَدَمِهِ“، لیکن ان کے انکار کو عدمِ انکار کے درجے میں اتار لیا گیا، ”لِمَا مَعَهُمْ مِنَ الدَّلَائِلِ الدَّالَّةِ عَلَى أَنَّهُ لَيْسَ مِمَّا“، ”مَا“ عبارت ہے کس سے مولانا؟ دلائل سے، آگے ”مِنْ“ کے ذریعے اس کا بیان آیا۔ بوجہ ایسے دلائل کے ان کے پاس ہونے کے کہ جو دلالت کر رہے ہیں کہ یہ ان چیزوں میں سے نہیں ہے کہ ”يَنْبَغِي أَنْ يُرْتَابَ فِيهِ“ کہ مناسب ہو اس کے اندر شک کرنا۔ یعنی ان کے پاس ایسے دلائل موجود ہیں جو دلالت کر رہے ہیں اس بات پر کہ یہ قرآن ان چیزوں میں سے نہیں ہے کہ جن کے اندر شک کرنا مناسب ہو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ دوبارہ سنو مولانا، بعد ضابطہ یہ ذکر ہوا علامہ تفتازانی فرماتے ہیں بھئی کہ کبھی متن میں کیا آیا کہ کبھی کبھار منکر کو کس کے درجے میں اتار لیا جاتا ہے؟ غیر منکر کے درجے میں اتار لیا جاتا ہے، جب کہ اس کے پاس ایسے دلائل اور شواہد موجود ہوں کہ جن میں وہ غور و فکر کر لے تو اپنے انکار سے کیا کر لے؟ رجوع کر لے بھئی رجوع کر لے۔ تو جب اس کے پاس ایسے دلائل اور شواہد موجود جن میں غور و فکر سے رجوع ہو سکتا ہے تو ہم نے اس کے انکار کو کس کے درجے میں اتار دیا؟ عدمِ انکار کے درجے میں ہم اتار لیتے ہیں اور اس کے سامنے کلامِ انکاری نہیں لاتے بلکہ کون سا لاتے ہیں؟ کلامِ ابتدائی لاتے ہیں بغیر کسی تاکید کے بھئی، بغیر کسی تاکید کے۔ اس کے بعد مصنف نے فرمایا: ”نَحْوُ: لَا رَيْبَ فِيهِ“، جیسے کہ ”لَا رَيْبَ فِيهِ“ ہے بھئی۔ اب ”لَا رَيْبَ فِيهِ“ یہ علامہ تفتازانی بتلا رہے ہیں کہ یہ ظاہرِ کلام سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ مثال ہے کس کی؟ منکر کو کس کے درجے میں اتارنے کی؟ غیر منکر کے درجے میں اتارنے کی مثال ہے۔ اور کیوں مثال کیوں ہے بھئی؟ ایک تو وجہ یہ کہ یہ قاعدے کے بعد ذکر ہوئی اور قاعدے کے بعد کیا ذکر کی جاتی ہے؟ اس کی مثال۔ نیز اس کو ”نَحْوُ“ کے لفظ سے ذکر کیا اور ”نَحْوُ“ کے ذریعے بھی کس چیز کو بیان کیا جاتا ہے؟ مثال کو۔ تو ظاہرِ کلام یہ بتلا رہا ہے کہ یہ اس کی مثال ہے، تو اس کلام کے ذریعے بھی مولانا یہ کلام ہوا منکر سے، جو انکار کرنے والے ہیں، لیکن ان انکار کرنے والوں کو کس کے درجے میں اتار لیا گیا؟ غیر منکرین کے درجے میں اتار لیا گیا۔ کلام ہو رہا ہے منکرین سے لیکن ان کو اتارا کس کے درجے میں؟ غیر منکرین کے درجے میں اتار لیا گیا، کیونکہ ان کے پاس ایسے دلائل موجود ہیں جن کے اندر وہ غور و فکر کریں تو اپنے انکار سے کیا کر لیں؟ رجوع کر لیں۔ پھر علامہ تفتازانی نے بتلایا کہ ”لَا رَيْبَ فِيهِ“ کا معنی ہے کہ قرآن میں ریب نہیں یعنی اس میں ریب واقع نہیں ہوا، کہتے ہیں یہ اس کا اصل معنی لینا صحیح نہیں بھئی، اس لیے کہ کلام ہو رہا ہے منکرین سے اور منکر کے سامنے کلام کون سا ہونا چاہیے؟ انکاری، اور کلامِ انکاری کس کو کہتے ہیں کہ جس کے اندر کیا آئے مولانا؟ تاکید آئے، کلامِ انکاری جس میں تاکید آئے، تو یہاں پر بھی تاکید لانی چاہیے تھی لیکن تاکید کو کیا کر دیا گیا؟ ترک کر دیا گیا اور کون سا کلام ذکر کیا گیا؟ ابتدائی کلام ذکر کیا گیا، لیکن اور ابتدائی کلام ابتدائی کلام ذکر کیا گیا بھئی۔ لیکن علامہ تفتازانی بتلا رہے ہیں مولانا کہ منکر کو غیر منکر کے درجے میں کب اتارا جائے گا اور اس کے سامنے بغیر تاکید کے کلام کب ذکر کیا جائے گا؟ جب کہ آپ کا کلام واقع کے بھی مطابق ہو، واقع کے بھی تو مطابق ہو، اور پھر اس پر دلائل بھی موجود ہوں مولانا جن کی وجہ سے وہ کیا کر سکے؟ اپنے انکار سے رجوع کر سکے، اور یہ کلام تو واقع کے مطابق نہیں، اس لیے کہ قرآن میں تو ریب واقع ہوا ہے۔ ”لَا رَيْبَ فِيهِ“ کا کیا معنی کیا تھا کہ قرآن میں ریب واقع... حالانکہ قرآن میں تو کیا واقع ہوا ہے؟ ریب واقع ہوا ہے، تو جب یہ کلام واقع کے مطابق نہیں تو پھر اس پر دلائل کہاں سے ہوں گے؟ جب دلائل نہیں ہوں گے تو رجوع کہاں سے ہوگا مولانا؟ جب رجوع نہیں ہوگا تو منکر کو غیر منکر کے درجے میں کیسے اتارا جائے گا؟ سمجھ میں آیا؟ اس لیے وہ تاویل کرتے ہیں کہ ”لَا رَيْبَ فِيهِ“ کا معنی یہ ہے کہ قرآن محلِ ریب نہیں ہے، اس میں شک کرنا مناسب... قرآن میں شک نہیں کرنا چاہیے بھئی، یہ مناسب نہیں ہے کہ قرآن میں کیا کیا جائے؟ یہ معنی مراد ہے یہاں پر، اور تو یہ تاویل کی، کیا کی؟ تاویل کی، اور یہ کلام واقع کے مطابق ہے مولانا، نفس الامر میں بھی کیا ہے؟ قرآن کے اندر شک نہیں کرنا چاہیے، شک کرنا اس میں مناسب نہیں ہے۔ اور اس پر دلائل بھی موجود ہیں مولانا، جب دلائل موجود ہیں تو ان دلائل میں غور و فکر کرے گا تو اپنے انکار سے رجوع کر لیں، چنانچہ جب ایسے دلائل موجود ہیں اور یہ کلام بھی واقع کے مطابق ہوا تو اب مولانا منکر کو کس کے درجے میں اتار لیا گیا؟ غیر منکر کے درجے میں اتارنا صحیح ہوا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اس پر اشکال ہوتا ہے مولانا، کیا کہا کہ ”لَا رَيْبَ فِيهِ“ یہ کون سا کلام ہے مولانا؟ ابتدائی ہے، کیونکہ کلام کس سے ہو رہا ہے؟ منکر سے، اور منکر کے سامنے وجوباً کیا لانی چاہیے؟ تاکید، اور یہاں پر تاکید کو ترک کر دیا گیا۔ تو کہتے ہیں بھئی تاکید ترک کہاں ہے؟ یہاں تو دو تاکیدات موجود ہیں مولانا: ایک جملہ اسمیہ ہے۔ دوسرا لائے نفی جنس ہے مولانا، لائے نفی جنس بھی کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ تاکید کا فائدہ دیتا ہے مولانا، محکوم علیہ کے تمام افراد کا احاطہ کر لیتا ہے۔ قرآن میں جنسِ ریب ہی نہیں ہے تو ریب کے ہر ہر فرد کی کیا ہو گئی مولانا؟ نفی ہو گئی، تو تاکید آئی یا نہیں آئی؟ تو لائے نفی جنس بھی تاکید کا فائدہ دیتا ہے اور جملہ اسمیہ ہے وہ بھی تاکید کا فائدہ دیتا ہے، تو آپ نے تو کیا کہا کہ یہ کلام کون سا ہے؟ ابتدائی، یہ تو ابتدائی نہ رہا اس میں تو تاکیدات آ گئیں۔ تو جواب مولانا ایک بات کا جواب تو پہلے بھی گزر چکا، آپ نے کیا کہا؟ یہ جملہ اسمیہ ہے، میں نے بتلایا کہ جملہ اسمیہ ہمیشہ تاکید پر دلالت نہیں کرتا بلکہ اس میں صلاحیت ہے تاکید کا معنی ادا کرنے کی اور یہ کہاں تاکید کا معنی ادا کرے گا؟ جہاں آپ اس کا اعتبار کریں گے، اگر آپ تاکید کا اعتبار کرتے ہیں تو تاکید ہے، تاکید کا اعتبار نہیں کرتے تو تاکید بھی نہیں ہے۔ دوسرا کیا کہا آپ نے کہ لائے نفی جنس ہے اور وہ بھی کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ تاکید کا، بھئی لائے نفی جنس محکوم علیہ کے اندر تاکید پیدا کرتا ہے اور ہماری بحث اسناد سے چل رہی ہے، محکوم علیہ سے... وہ تو ریب کے اندر تاکید آ گئی کہ جنسِ ریب کے ایک ایک فرد کی کیا ہو گئی؟ نفی ہو گئی، لیکن ہماری بات کس کے اندر چل رہی ہے؟ اسناد کی بات چل رہی ہے، اسناد کے اندر تو لا کی وجہ سے کوئی تاکید نہیں آئی۔ ”وَالْأَحْسَنُ أَنْ يُقَالَ: إِنَّهُ نَظِيرٌ لِّتَنْزِيلِ وُجُودِ الشَّيْءِ مَنْزِلَةَ عَدَمِهِ“، علامہ تفتازانی فرماتے ہیں بہتر یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ ”إِنَّهُ نَظِيرٌ“، کہ یہ کیا ہے؟ نظیر ہے۔ بھئی علامہ تفتازانی نے آپ کو بتلایا کہ ظاہرِ کلام سے تو یہ پتہ چل رہا ہے کہ ”لَا رَيْبَ فِيهِ“ مثال ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ اس کو کیا بنایا جائے؟ نظیر بنایا جائے۔ یاد رکھو مثال ممثل لہ کے افراد میں سے ہوتی ہے لیکن نظیر ممثل لہ کے افراد میں سے نہیں ہوتی بھئی۔ مثال ممثل لہ کے افراد میں سے ہوگی، جب کہ نظیر کا ممثل لہ کے افراد میں سے نہ ہونا ضروری ہے، وہ اس کے افراد میں سے نہیں ہوگی۔ دو وجہ سے اس کو احسن قرار دیا مولانا، نظیر بنانا کیا قرار دیا؟ احسن قرار دیا۔ ایک تو یہ کہ آگے متن میں آ رہا ہے ”وَهَكَذَا اعْتِبَارَاتُ النَّفْيِ“، اور اسی طرح کس کے اعتبارات ہیں؟ بھئی جیسے کلامِ مثبت کے اندر مولانا ایک کلامِ مثبت ہے ایک کلامِ منفی ہے، ابھی تک جتنی بحث چل رہی ہے کس کے بارے میں چل رہی ہے؟ کلامِ مثبت کے بارے میں چل رہی ہے کہ خالی الذہن کے سامنے بغیر تاکید کے لاؤ، متردد کے سامنے استحساناً ایک تاکید کے ساتھ لاؤ، اور منکر کے سامنے وجوباً تاکید کے ساتھ لاؤ۔ تو کیا کلامِ منفی بھی اسی طرح ہوتا ہے یا اس طرح نہیں؟ تو آگے ماتن بتلائیں گے کہ کلامِ منفی بھی اسی طرح ہے، خالی الذہن کے سامنے کیا لاؤ مولانا؟ ابتدائی کلام لاؤ بغیر تاکید کے، متردد کے سامنے کون سا لاؤ؟ طلبی لاؤ مولانا، اور منکر کے سامنے کلامِ انکاری لے کر آؤ۔ تو آگے یہ بتلانا کہ اسی طرح اعتبارات ہیں نفی کے، معلوم ہوا ماقبل میں بات چل رہی ہے اس بات کی، کس کی چل رہی ہے؟ آگے نفی کے اعتبارات آئے تو ماقبل میں کس کے اعتبارات ہیں؟ کلامِ مثبت کے، تو ”لَا رَيْبَ فِيهِ“ اس کو نظیر بنا دیں، کیا بنا دیں؟ بھئی ”لَا رَيْبَ فِيهِ“ مثبت ہے منفی ہے؟ کلامِ منفی ہے، تو اگر اس کو مثال بنا دیں تو ماقبل میں بھی نفی آ گئی، ماقبل میں بھی کیا آ گئی؟ حالانکہ نفی کا حکم تو مصنف کیا کر رہے ہیں؟ بعد میں بیان کر رہے ہیں، کیا کر رہے ہیں؟ بعد میں بیان کر رہے ہیں۔ ہاں نظیر بناؤ تو یہ اشکال نہیں کیونکہ یہ تو اس کے افراد میں سے ہی نہیں ہے۔ اگر آپ مثال بنائیں گے تو پھر کیا خرابی لازم آئے گی؟ ماقبل میں بھی کیا آ جائے گا؟ کلامِ منفی، حالانکہ کلامِ منفی کا حکم تو بعد میں بیان ہو رہا ہے، تو اس کو نظیر بنا دو، جب نظیر بنایا تو یہ ممثل لہ کے افراد میں سے نہیں، تو یہ صرف اس کی نظیر ہوئی مولانا اور نظیر اس کے افراد سے خارج ہوتی ہے، ممثل لہ کے افراد سے، تو یہ بھی اس کے افراد سے خارج ہوئی تو ماقبل میں نفی نہ آئی مولانا۔ دوسرا مولانا دوسری وجہ، دوسری وجہ یہ کہ مثال بنائیں تو تاویل کرنا پڑتی ہے۔ آپ نے تاویل کی یا نہیں؟ ”لَيْسَ الْقُرْآنُ بِمَظَنَّةٍ لِّلرَّيْبِ“، علامہ تفتازانی کو کیا کرنا پڑی؟ تاویل کرنا پڑی، اور نظیر بنائیں تو پھر تاویل کرنے کی ضرورت نہیں۔ نظیر بنائیں، نظیر کس طرح بنے گی؟ تو یہ مولانا اس کی نظیر ہے مولانا یعنی اس جیسی ہے، کس اعتبار سے؟ کہ اس مثال کے اس آیت میں کیا ذکر کیا گیا: ”لَا رَيْبَ فِيهِ“، اس کو اپنے معنی پر اب برقرار رکھو، نظیر بنانے کی صورت میں تاویل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ ”لَا رَيْبَ فِيهِ“ اس کلام کے اندر ریب نہیں اس کتاب کے اندر جنسِ ریب ہی نہیں، ایک ایک فردِ ریب کی کیا کر دی گئی نفی کر دی گئی، تو حالانکہ ریب تو واقع ہے، ریب تو... لیکن اس وجودِ ریب کو کس کے درجے میں اتار دیا گیا؟ عدمِ ریب کے درجے میں اتار دیا گیا، تو جیسے یہاں پر وجودِ شئے کو کس کے درجے میں اتارا گیا؟ عدمِ شئے کے درجے میں، اسی طرح مولانا منکر کو کس کے درجے میں اتارا جاتا ہے؟ غیر منکر کے درجے میں، یعنی اس کے انکار کو بھی کس کے درجے میں اتار لیا جاتا ہے؟ عدمِ انکار کے درجے میں اتار لیا جاتا ہے۔ تو یہ بھی اس کی نظیر ہوئی جیسے مولانا وہاں پر کیا ہوا؟ وجودِ انکار کو کس کے درجے میں اتارا جاتا ہے؟ عدمِ انکار کے درجے میں، یہاں پر بھی ایک وجودِ شئے کو وجودِ ریب کو کس کے درجے میں اتار لیا گیا؟ عدمِ ریب کے درجے میں اتار لیا گیا۔ ”وَالْأَحْسَنُ أَنْ يُقَالَ“، اور بہتر یہ ہے کہ یوں کہا جائے، ”إِنَّهُ نَظِيرٌ“، کہ یہ کیا ہے؟ نظیر ہے، ”لِتَنْزِيلِ“، لام اجلیہ ہے، بوجہ اتارنے، ”وُجُودِ الشَّيْءِ مَنْزِلَةَ عَدَمِهِ“، وجودِ شئے کو مولانا عدمِ شئے کے درجے میں اتارنے کی وجہ سے، ”بِنَاءً عَلَى وُجُودِ مَا يُزِيلُهُ“، بوجہ ایسی دلائل کے وجود کے جو اس کو کیا کر دیں؟ زائل کر دیں بھئی، کیا کر دیں؟ بھئی ریب کو، قرآن میں ریب واقع ہے لیکن اس کو کس کے درجے میں اتار لیا گیا؟ عدمِ ریب کے درجے میں، کیوں؟ ایسے دلائل موجود ہیں مولانا جو اس ریب کو کیا کر دیتے ہیں؟ زائل کر دیتے ہیں۔ ”بِنَاءً عَلَى وُجُودِ مَا“، عبارت ہے دلائل سے، ایسے دلائل کے ”يُزِيلُهُ“ جو اس کیا کر دیتے ہیں؟ اس شئے کو زائل کر دیتے ہیں، یرحمک اللہ۔ ”فَإِنَّهُ نُزِّلَ رَيْبُ الْمُرْتَابِينَ مَنْزِلَةَ عَدَمِهِ“، اس لیے کہ اتار دیا گیا مولانا شک کرنے والوں کے شک کو بمنزلہ عدمِ شک کے، ”تَعْوِيلًا“، ”أَيْ: اعْتِمَادًا عَلَى مَا يُزِيلُهُ“، اعتماد کرتے ہوئے ان دلائل پر جو اس کو کیا کر دیتے ہیں؟ زائل کر دیتے ہیں، ”حَتَّى نُفِيَ الرَّيْبُ عَلَى سَبِيلِ الِاسْتِغْرَاقِ“، یہاں تک کہ نفی کر دی گئی ریب کی کس طریقے پر؟ استغراق کے طریقے پر مولانا، لائے نفی جنس آیا، نکرہ تحت النفی آیا مولانا، کیا فائدہ دیا اس نے؟ استغراق کا فائدہ دیا، ایک ایک فردِ ریب کی نفی ہو گئی، ”كَمَا نُزِّلَ الْإِنْكَارُ مَنْزِلَةَ عَدَمِهِ“، جیسے کہ انکار کو کس کے درجے میں اتارا گیا تھا؟ عدمِ انکار کے درجے میں اتارا گیا تھا، اب یہ اس کے افراد میں سے نہیں مولانا۔ اس لیے کہ وہاں پر تو کیا کہا گیا تھا کہ منکر کو کس کے درجے میں اتارا جائے؟ غیر منکر، اور یہاں تو منکر ہے ہی نہیں، یہ کلام تو عام ہے، منکر سے بھی ہو سکتا ہے، متردد سے بھی ہو سکتا ہے اور خالی الذہن سے بھی۔ منکر ہوگا تو ہم اس کو غیر منکر کے درجے میں اتاریں گے، یہاں تو خطاب منکر سے ہے ہی نہیں۔ تو یہ اس کی مثال نہیں لیکن ہاں اس کی نظیر ہے کہ جیسے وہاں پر انکار کو کس کے درجے میں اتارا گیا تھا؟ عدمِ انکار کے درجے میں، یہاں پر بھی مولانا ریب کو کس کے درجے میں اتارا گیا ہے؟ عدمِ ریب کے درجے میں اتارا گیا ہے۔ ”كَمَا نُزِّلَ الْإِنْكَارُ مَنْزِلَةَ عَدَمِهِ لِذَلِكَ“، جیسے کہ انکار کو عدمِ انکار کے درجے میں اتارا گیا تھا اس اعتماد کی وجہ سے یعنی اس دلیل پر اعتماد کی وجہ سے، ”حَتَّى صَحَّ تَرْكُ التَّأْكِيدِ“، یہاں تک کہ صحیح ہوا کیا؟ تاکید کا ترک کرنا۔ علامہ تفتازانی بتلاتے ہیں بہتر یہ ہے کہ اس کو نظیر بنایا جائے بھئی، نظیر بنایا جائے، مثال نہ بنایا جائے۔ ایک ہوتی ہے مثال مولانا اور ایک نظیر، مثال ممثل لہ کے افراد میں سے ہوتی ہے بھئی اور نظیر ممثل لہ کے افراد سے خارج ہوتی ہے مولانا، ضروری ہے کہ وہ اس کے افراد میں سے نہ ہو۔ اور نظیر بنانا دو وجہ سے بہتر ہے مولانا، وجہ یہ کہ یہ آگے مصنف فرما رہے ہیں: ”وَهَكَذَا اعْتِبَارَاتُ النَّفْيِ“، اسی طرح ہیں نفی کے اعتبارات بھی۔ بھئی جیسے کلامِ مثبت کے اندر خالی الذہن کے سامنے کون سا کلام کیا جاتا تھا؟ ابتدائی، اور متردد کے سامنے طلبی، اور منکر کے سامنے انکاری، یعنی خالی الذہن کے سامنے کوئی تاکید نہ لائی جائے، متردد کے سامنے استحساناً تاکید لائی جائے اور منکر کے سامنے وجوباً تاکید لائی جائے۔ تو اسی طرح کہتے ہیں نفی کے بھی اعتبارات ہیں، یعنی اگر کلامِ منفی کسی کے سامنے ذکر کریں تو وہ خالی الذہن ہو تو بغیر تاکید کے لائیں، وہ متردد ہو تو استحساناً تاکید کے ساتھ لائیں، اور اگر وہ منکر ہو تو پھر کیا کریں؟ وجوباً تاکید کے ساتھ لائیں۔ تو کلامِ منفی کا ذکر بعد میں آ رہا ہے مولانا، کیا ہے؟ معلوم ہوا ماقبل میں کلامِ مثبت کی بات چل رہی تھی ابھی تک، سمجھ میں آیا؟ کلامِ مثبت کی بات چل رہی تھی، لیکن ”لَا رَيْبَ فِيهِ“ یہ تو کلامِ منفی ہے ماقبل۔ تو جب اس کو نظیر بنا دو گے تو یہ ماقبل میں داخل ہی نہیں، یہ تو خارج ہے کیونکہ نظیر کیا ہوتی ہے ممثل لہ کے افراد سے خارج ہوتی ہے، یہ تو صرف بات سمجھانے کے لیے ذکر کی گئی ہے ماقبل کے افراد میں سے، یہ تو ماقبل سے خارج ہے تو ماقبل میں صرف کس کا ذکر آیا؟ کلامِ مثبت کا اور آگے کس کا ذکر آیا؟ کلامِ منفی کا، تو نظیر بنانا کیا ہوا؟ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ اور دوسری وجہ کہ اس صورت میں ہم تاویل کے بھی محتاج نہیں، پہلے تو تاویل کرنا پڑی تھی کہ یوں نہ کہو یہ معنی نہ کرو کلام کا کہ قرآن میں جنسِ ریب ہی نہیں ہے، ریب واقع ہی نہیں ہے بلکہ یوں کہو کہ قرآن محلِ ریب تاویل کرنا پڑی تھی، کہتے ہیں تاویل کی ضرورت بھی نہیں مولانا بلکہ یہ کس معنی میں ہے؟ اسی معنی میں، قرآن میں جنسِ ریب ہی نہیں ہے، اسی معنی میں رکھنا پڑے گا، تو تاویل سے بھی بچ جائیں گے مولانا، کیا ہے؟ تاویل سے بھی بچ جائیں گے۔ تو دیکھو قرآن میں ریب تو ہے لیکن اس ریب کو عدمِ ریب کے درجے میں اتار دیا گیا اس لیے کہ ایسے دلائل موجود ہیں جو اس ریب کو کیا کر دیتے ہیں؟ زائل کر دیتے ہیں۔ نظیر بنا رہا ہوں مولانا، قرآن میں ریب ہے لیکن اس ریب واقع ہے لیکن اس ریب کو کس کے درجے میں اتار لیا گیا؟ عدمِ ریب کے درجے میں اتار لیا گیا، کس وجہ سے؟ کیونکہ ایسے دلائل موجود ہیں جو اس ریب کو کیا کر دیتے ہیں؟ زائل کر دیتے ہیں۔ اسی طرح اس منکر کو بھی غیر منکر کے درجے میں اتار لیا جاتا ہے، یعنی اس کے انکار کو کس کے درجے میں اتار لیا جاتا ہے؟ عدمِ انکار کے درجے میں اتار لیا جاتا ہے کیونکہ ایسے دلائل اس کے پاس ہوتے ہیں کہ جن میں وہ غور و فکر کرے تو اپنے انکار سے کیا کر لے؟ رجوع کر لے تو جیسے وہاں دلائل کی وجہ سے مولانا کیا کرتا ہے؟ ایسے دلائل موجود ہیں جو اس کے انکار کو کیا کر دیتے ہیں؟ زائل کر دیتے ہیں، تو ہم اس کے انکار کو کس کے درجے میں اتار لیتے ہیں؟ عدمِ انکار کے درجے میں، اسی طرح یہاں پر بھی مولانا وجودِ شئے کو یعنی ریب کو کس کے درجے میں اتار لیا گیا؟ عدمِ ریب کے درجے میں اتار لیا گیا، کیوں اتارا گیا؟ کیونکہ یہاں ایسے دلائل موجود ہیں جو اس ریب کو زائل کر دیتے ہیں مولانا، سمجھ میں آیا؟ تو یہ اس کی نظیر ہوئی مولانا، کیا ہوئی؟ جیسے وہاں دلائل کی وجہ سے ایک چیز کو عدم کے درجے میں اتار لیا یہاں بھی ایک چیز کو دلائل کی وجہ سے کس کے درجے میں اتار لیا؟ اور مثال نہیں، کیونکہ مثال تو تب بنے گی کہ یہ کلام منکر کے سامنے ہو۔ بھئی مثال کب بنے گی؟ منکر کو غیر منکر کے درجے میں تب ہی اتارا جاتا نا جب یہ ”لَا رَيْبَ فِيهِ“ کس سے کہا جاتا؟ کسی منکر سے کلام ہوتا، منکرین سے کلام ہوتا، لیکن اس کو عام رکھو مولانا، عام کلام ہے، چاہے خالی الذہن ہو چاہے متردد ہو چاہے منکر ہو ہر ایک سے یہ کلام ہو سکتا ہے۔ اور اس... تو جب یہاں مولانا مخاطب منکر ہے ہی نہیں، یہ تو کلام کیسا ہے؟ عام ہے۔ بھئی منکر کو غیر منکر کے درجے میں تب ہی اتاریں گے نا جب آپ کا مخاطب کیا ہو؟ منکر ہے تو اس کو ہم غیر... اگر آپ کے سامنے منکر ہے ہی نہیں مولانا، وہ مخاطب ہی نہیں آپ کا تو منکر کو غیر منکر کے درجے میں اتارنا ہے ہی نہیں، تو یہاں پر بھی منکر کو غیر منکر کے درجے میں اتارنا ہے ہی نہیں کیونکہ یہاں پر مخاطب منکر ہے ہی نہیں تو یہ معلوم ہوا یہ اس کے افراد میں سے نہیں بلکہ کیا ہے؟ خارج ہے بھئی، سب کو بات سمجھ میں آ گئی؟ ”وَهَكَذَا“، ”أَيْ: مِثْلُ اعْتِبَارَاتِ الْإِثْبَاتِ اعْتِبَارَاتُ النَّفْيِ“، یہاں سے مولانا ابھی تک ہم مثبت مثالیں پڑھ رہے تھے، کیا پڑھ رہے تھے؟ مثبت، بھئی کلام خالی الذہن کے سامنے کہو ”قَامَ زَيْدٌ“ اور کس کے سامنے طلبی کے سامنے کیا کہو ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ یا ”إِنَّ زَيْدًا زَيْدٌ قَائِمٌ“ کہو یا ”إِنَّ زَيْدًا قَائِمٌ“، اور منکر کے سامنے کیا کہو ”إِنَّ زَيْدًا قَائِمٌ“ کہو یا ”إِنَّ زَيْدًا لَقَائِمٌ“ یا ”وَاللهِ إِنَّ زَيْدًا لَقَائِمٌ“ کہو، تو یہ سارے مثبت کلام تھے۔ مصنف بتلا رہے ہیں ”وَهَكَذَا“، ”أَيْ: مِثْلُ اعْتِبَارَاتِ الْإِثْبَاتِ اعْتِبَارَاتُ النَّفْيِ“ بھئی، نفی کے بھی، یعنی وہاں بھی نفی کلامِ منفی میں بھی اسی طرح تاکید بڑھاتے چلے جاؤ جس قدر کیا بڑھتی جائے؟ انکار بڑھتا جائے۔ جی، اور خالی الذہن کے سامنے تاکید نہ لاؤ اور طلبی کے سامنے ایک تاکید لے آؤ استحساناً۔ نفی کر دی گئی، تو حالانکہ ریب تو واقع ہے، ریب تو... لیکن اس وجودِ ریب کو کس کے درجے میں اتار دیا گیا؟ عدمِ ریب کے درجے میں اتار دیا گیا، تو جیسے یہاں پر وجودِ شئے کو کس کے درجے میں اتارا گیا؟ عدمِ شئے کے درجے میں، اسی طرح مولانا منکر کو کس کے درجے میں اتارا جاتا ہے؟ غیر منکر کے درجے میں، یعنی اس کے انکار کو بھی کس کے درجے میں اتار لیا جاتا ہے؟ عدمِ انکار کے درجے میں اتار لیا جاتا ہے۔ تو یہ بھی اس کی نظیر ہوئی جیسے مولانا وہاں پر کیا ہوا؟ وجودِ انکار کو کس کے درجے میں اتارا جاتا ہے؟ عدمِ انکار کے درجے میں، یہاں پر بھی ایک وجودِ شئے کو وجودِ ریب کو کس کے درجے میں اتار لیا گیا؟ عدمِ ریب کے درجے میں اتار لیا گیا۔ ”وَالْأَحْسَنُ أَنْ يُقَالَ“، اور بہتر یہ ہے کہ یوں کہا جائے، ”إِنَّهُ نَظِيرٌ“، کہ یہ کیا ہے؟ نظیر ہے، ”لِتَنْزِيلِ“، لام اجلیہ ہے، بوجہ اتارنے، ”وُجُودِ الشَّيْءِ مَنْزِلَةَ عَدَمِهِ“، وجودِ شئے کو مولانا عدمِ شئے کے درجے میں اتارنے کی وجہ سے، ”بِنَاءً عَلَى وُجُودِ مَا يُزِيلُهُ“، بوجہ ایسی دلائل کے وجود کے جو اس کو کیا کر دیں؟ زائل کر دیں بھئی، کیا کر دیں؟ زائل کر دیں۔ بھئی ریب کو، قرآن میں ریب واقع ہے لیکن اس کو کس کے درجے میں اتار لیا گیا؟ عدمِ ریب کے درجے میں، کیوں؟ ایسے دلائل موجود ہیں مولانا جو اس ریب کو کیا کر دیتے ہیں؟ زائل کر دیتے ہیں۔ ”بِنَاءً عَلَى وُجُودِ مَا“، عبارت ہے دلائل سے، ایسے دلائل کے ”يُزِيلُهُ“ جو اس کیا کر دیتے ہیں؟ اس شئے کو زائل کر دیتے ہیں، یرحمک اللہ۔ ”فَإِنَّهُ نُزِّلَ رَيْبُ الْمُرْتَابِينَ مَنْزِلَةَ عَدَمِهِ“، اس لیے کہ اتار دیا گیا مولانا شک کرنے والوں کے شک کو بمنزلہ عدمِ شک کے، ”تَعْوِيلًا“، ”أَيْ: اعْتِمَادًا عَلَى مَا يُزِيلُهُ“، اعتماد کرتے ہوئے ان دلائل پر جو اس کو کیا کر دیتے ہیں؟ زائل کر دیتے ہیں، ”حَتَّى نُفِيَ الرَّيْبُ عَلَى سَبِيلِ الِاسْتِغْرَاقِ“، یہاں تک کہ نفی کر دی گئی ریب کی کس طریقے پر؟ استغراق کے طریقے پر مولانا، لائے نفی جنس آیا، نکرہ تحت النفی آیا مولانا، کیا فائدہ دیا اس نے؟ استغراق کا فائدہ دیا، ایک ایک فردِ ریب کی نفی ہو گئی، ”كَمَا نُزِّلَ الْإِنْكَارُ مَنْزِلَةَ عَدَمِهِ“، جیسے کہ انکار کو کس کے درجے میں اتارا گیا تھا؟ عدمِ انکار کے درجے میں اتار۔ اب یہ اس کے افراد میں سے نہیں مولانا۔ اس لیے کہ وہاں پر تو کیا کہا گیا تھا کہ منکر کو کس کے درجے میں اتارا جائے؟ غیر منکر، اور یہاں تو منکر ہے ہی نہیں، یہ کلام تو عام ہے، منکر سے بھی ہو سکتا ہے، طلبی سے بھی ہو متردد سے بھی ہو سکتا ہے اور خالی الذہن سے بھی۔ منکر ہوگا تو ہم اس کو غیر منکر کے درجے میں اتاریں گے، یہاں تو خطاب منکر سے ہے ہی نہیں۔ تو یہ اس کی مثال نہیں لیکن ہاں اس کی نظیر ہے کہ جیسے وہاں پر انکار کو کس کے درجے میں اتارا گیا تھا؟ عدمِ انکار کے درجے میں، یہاں پر بھی مولانا ریب کو کس کے درجے میں اتارا گیا ہے؟ عدمِ ریب کے درجے میں اتارا گیا ہے۔ ”كَمَا نُزِّلَ الْإِنْكَارُ مَنْزِلَةَ عَدَمِهِ لِذَلِكَ“، جیسے کہ انکار کو عدمِ انکار کے درجے میں اتارا گیا تھا اس اعتماد کی وجہ سے یعنی اس دلیل پر اعتماد کی وجہ سے، ”حَتَّى صَحَّ تَرْكُ التَّأْكِيدِ“، یہاں تک کہ صحیح ہوا کیا؟ تاکید کا ترک کرنا۔ علامہ تفتازانی بتلاتے ہیں بہتر یہ ہے کہ اس کو نظیر بنایا جائے بھئی، نظیر بنایا جائے، مثال نہ بنایا جائے۔ ایک ہوتی ہے مثال مولانا اور ایک نظیر، مثال ممثل لہ کے افراد میں سے ہوتی ہے بھئی اور نظیر ممثل لہ کے افراد سے خارج ہوتی ہے مولانا، ضروری ہے کہ وہ اس کے افراد میں سے نہ ہو۔ اور نظیر بنانا دو وجہ سے بہتر ہے مولانا، وجہ یہ کہ یہ آگے مصنف فرما رہے ہیں: ”وَهَكَذَا اعْتِبَارَاتُ النَّفْيِ“، اسی طرح ہیں نفی کے اعتبارات بھی۔ بھئی جیسے کلامِ مثبت کے اندر خالی الذہن کے سامنے کون سا کلام کیا جاتا تھا؟ ابتدائی، اور متردد کے سامنے طلبی، اور منکر کے سامنے انکاری، یعنی خالی الذہن کے سامنے کوئی تاکید نہ لائی جائے، متردد کے سامنے استحساناً تاکید لائی جائے اور منکر کے سامنے وجوباً تاکید لائی جائے۔ تو اسی طرح کہتے ہیں نفی کے بھی اعتبارات ہیں، یعنی اگر کلامِ منفی کسی کے سامنے ذکر کریں تو وہ خالی الذہن ہو تو بغیر تاکید کے لائیں، وہ متردد ہو تو استحساناً تاکید کے ساتھ لائیں، اور اگر وہ منکر ہو تو پھر کیا کریں؟ وجوباً تاکید کے ساتھ لائیں۔ تو کلامِ منفی کا ذکر بعد میں آ رہا ہے مولانا، کیا ہے؟ معلوم ہوا ماقبل میں کلامِ مثبت کی بات چل رہی تھی ابھی تک، سمجھ میں آیا؟ کلامِ مثبت کی بات چل رہی تھی، لیکن ”لَا رَيْبَ فِيهِ“ یہ تو کلامِ منفی ہے ماقبل۔ تو جب اس کو نظیر بنا دو گے تو یہ ماقبل میں داخل ہی نہیں، یہ تو خارج ہے کیونکہ نظیر کیا ہوتی ہے ممثل لہ کے افراد سے خارج ہوتی ہے، یہ تو صرف بات سمجھانے کے لیے ذکر کی گئی ہے ماقبل کے افراد میں سے، یہ تو ماقبل سے خارج ہے تو ماقبل میں صرف کس کا ذکر آیا؟ کلامِ مثبت کا اور آگے کس کا ذکر آیا؟ کلامِ منفی کا، تو نظیر بنانا کیا ہوا؟ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ اور دوسری وجہ کہ اس صورت میں ہم تاویل کے بھی محتاج نہیں، پہلے تو تاویل کرنا پڑی تھی کہ یوں نہ کہو یہ معنی نہ کرو کلام کا کہ قرآن میں جنسِ ریب ہی نہیں ہے، ریب واقع ہی نہیں ہے بلکہ یوں کہو کہ کلام قرآن محلِ ریب تاویل کرنا پڑی تھی، کہتے ہیں تاویل کی ضرورت بھی نہیں مولانا بلکہ یہ کس معنی میں ہے؟ اسی معنی میں، قرآن میں جنسِ ریب ہی نہیں ہے، اسی معنی میں رکھنا پڑے گا، تو تاویل سے بھی بچ جائیں گے مولانا، کیا ہے؟ تاویل سے بھی بچ جائیں گے۔ تو دیکھو قرآن میں ریب تو ہے لیکن اس ریب کو عدمِ ریب کے درجے میں اتار دیا گیا اس لیے کہ ایسے دلائل موجود ہیں جو اس ریب کو کیا کر دیتے ہیں؟ زائل کر دیتے ہیں۔ نظیر بنا رہا ہوں مولانا، قرآن میں ریب ہے لیکن اس ریب واقع ہے لیکن اس ریب کو کس کے درجے میں اتار لیا گیا؟ عدمِ ریب کے درجے میں اتار لیا گیا، کس وجہ سے؟ کیونکہ ایسے دلائل موجود ہیں جو اس ریب کو کیا کر دیتے ہیں؟ زائل کر دیتے ہیں۔ اسی طرح اس منکر کو بھی غیر منکر کے درجے میں اتار لیا جاتا ہے، یعنی اس کے انکار کو کس کے درجے میں اتار لیا جاتا ہے؟ عدمِ انکار کے درجے میں اتار لیا جاتا ہے کیونکہ ایسے دلائل اس کے پاس ہوتے ہیں کہ جن میں وہ غور و فکر کرے تو اپنے انکار سے کیا کر لے؟ رجوع کر لے۔ تو جیسے وہاں دلائل کی وجہ سے مولانا کیا کرتا ہے؟ ایسے دلائل موجود ہیں جو اس کے انکار کو کیا کر دیتے ہیں؟ زائل کر دیتے ہیں، تو ہم اس کے انکار کو کس کے درجے میں اتار لیتے ہیں؟ عدمِ انکار کے درجے میں، اسی طرح یہاں پر بھی مولانا وجودِ شئے کو یعنی ریب کو کس کے درجے میں اتار لیا گیا؟ عدمِ شئے کے عدمِ ریب کے درجے میں اتار لیا گیا، کیوں اتارا گیا؟ کیونکہ یہاں ایسے دلائل موجود ہیں جو اس ریب کو زائل کر دیتے ہیں مولانا، سمجھ میں آیا؟ تو یہ اس کی نظیر ہوئی مولانا، کیا ہوئی؟ جیسے وہاں دلائل کی وجہ سے ایک چیز کو عدم کے درجے میں اتار لیا یہاں بھی ایک چیز کو دلائل کی وجہ سے کس کے درجے میں اتار لیا؟ عدم کے درجے میں اتار لیا، اور مثال نہیں کیونکہ مثال تو تب بنے گی کہ یہ کلام منکر کے سامنے ہو۔ بھئی مثال کب بنے گی؟ منکر کو غیر منکر کے درجے میں تب ہی اتارا جاتا نا جب یہ ”لَا رَيْبَ فِيهِ“ کس سے کہا جاتا؟ کسی منکر سے کلام ہوتا، منکرین سے کلام ہوتا، لیکن اس کو عام رکھو مولانا، عام کلام ہے، چاہے خالی الذہن ہو چاہے متردد ہو چاہے منکر ہو ہر ایک سے یہ کلام ہو سکتا ہے۔ اور اس... تو جب یہاں مولانا مخاطب منکر ہے ہی نہیں، یہ تو کلام کیسا ہے؟ عام ہے۔ بھئی منکر کو غیر منکر کے درجے میں تب ہی اتاریں گے نا جب آپ کا مخاطب کیا ہو؟ منکر ہے تو اس کو ہم غیر... اگر آپ کے سامنے منکر ہے ہی نہیں مولانا، وہ مخاطب ہی نہیں آپ کا تو منکر کو غیر منکر کے درجے میں اتارنا ہے ہی نہیں، تو یہاں پر بھی منکر کو غیر منکر کے درجے میں اتارنا ہے ہی نہیں کیونکہ یہاں پر مخاطب منکر ہے ہی نہیں تو یہ معلوم ہوا یہ اس کے افراد میں سے نہیں بلکہ کیا ہے؟ خارج ہے بھئی، سب کو بات سمجھ میں آ گئی؟ ”وَهَكَذَا“، ”أَيْ: مِثْلُ اعْتِبَارَاتِ الْإِثْبَاتِ اعْتِبَارَاتُ النَّفْيِ“، یہاں سے مولانا ابھی تک ہم مثبت مثالیں پڑھ رہے تھے، کیا پڑھ رہے تھے؟ مثبت، بھئی کلام خالی الذہن کے سامنے کہو ”قَامَ زَيْدٌ“ اور کس کے سامنے طلبی کے سامنے کیا کہو ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ یا ”إِنَّ زَيْدًا زَيْدٌ قَائِمٌ“ کہو یا ”إِنَّ زَيْدًا قَائِمٌ“، اور منکر کے سامنے کیا کہو ”إِنَّ زَيْدًا قَائِمٌ“ کہو یا ”إِنَّ زَيْدًا لَقَائِمٌ“ یا ”وَاللهِ إِنَّ زَيْدًا لَقَائِمٌ“ کہو، تو یہ سارے مثبت کلام تھے۔ مصنف بتلا رہے ہیں ”وَهَكَذَا“، ”أَيْ: مِثْلُ اعْتِبَارَاتِ الْإِثْبَاتِ اعْتِبَارَاتُ النَّفْيِ“ بھئی، نفی کے بھی، یعنی وہاں بھی نفی کلامِ منفی میں بھی اسی طرح تاکید بڑھاتے چلے جاؤ جس قدر کیا بڑھتی جائے؟ انکار بڑھتا جائے۔ جی، اور خالی الذہن کے سامنے تاکید نہ لاؤ اور طلبی کے سامنے ایک تاکید لے آؤ استحساناً۔ ”مِنَ التَّجْرِيدِ عَنِ الْمُؤَكِّدَاتِ“، کس طرح خالی ہونا کس سے مولانا؟ مؤکدات سے، ”فِي الِابْتِدَائِيِّ“، کلامِ ابتدائی میں، ”وَتَقْوِيَتِهِ بِمُؤَكِّدٍ“، اور اس کو قوت دینا کس کے ساتھ؟ تاکید کے ساتھ، ”اسْتِحْسَانًا فِي الطَّلَبِيِّ“، طلبی میں، ”وَوُجُوبِ التَّأْكِيدِ بِحَسَبِ الْإِنْكَارِ فِي الْإِنْكَارِيِّ“، کلامِ انکاری میں، ”تَقُولُ لِخَالِي الذِّهْنِ“، خالی الذہن سے آپ کہیں گے: ”مَا زَيْدٌ قَائِمًا“، زید کھڑا نہیں، ”أَوْ: لَيْسَ زَيْدٌ قَائِمًا“، یعنی زید کھڑا نہیں، یہ جملے کہیں گے مولانا، تاکید نہیں، ”وَلِلطَّالِبِ“، اور طالب سے کہیں گے: ”مَا زَيْدٌ بِقَائِمٍ“، باء کو کیا کر دیا؟ بڑھا دیا آپ نے اور اس باء نے کیا فائدہ دیا؟ تاکید کا فائدہ دیا۔ تو طالب کے سامنے ”مَا زَيْدٌ بِقَائِمٍ“ کہا، ”وَلِلْمُنْكِرِ“، منکر کے سامنے کہیں گے: ”وَاللهِ مَا زَيْدٌ بِقَائِمٍ“، تاکید بڑھا دی، ”وَعَلَى هَذَا الْقِيَاسُ“، اور اسی پر کیا ہے؟ قیاس ہے، جی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آئی بھئی؟ جی۔ ”ثُمَّ الْإِسْنَادُ مُطْلَقًا، سَوَاءٌ كَانَ إِنْشَائِيًّا أَوْ إِخْبَارِيًّا“، جی، یہاں سے آپ کو بتلائیں گے کہ اسناد دو قسم پر ہے مولانا: حقیقتِ عقلیہ اور مجازِ عقلی۔ یہ اہم بحث ہے مولانا، اچھی طرح سمجھ لیں بھئی۔ ”ثُمَّ الْإِسْنَادُ مُطْلَقًا، سَوَاءٌ كَانَ إِنْشَائِيًّا أَوْ إِخْبَارِيًّا، مِنْهُ حَقِيقَةٌ عَقْلِيَّةٌ وَلَمْ يَقُلْ“، پھر اسناد مولانا چاہے انشائی ہو چاہے اخباری ہو مولانا۔ تقسیم کر رہے ہیں اسناد کی دو قسمیں آپ کو بتلائیں گے مولانا: ایک حقیقتِ عقلیہ ہے اور ایک مجازِ عقلی ہے بھئی۔ کہتے ہیں ”ثُمَّ الْإِسْنَادُ مُطْلَقًا“، پھر اسناد مطلقاً بھئی، کیا معنی مطلقاً؟ کہتے ہیں ”سَوَاءٌ كَانَ إِنْشَائِيًّا أَوْ إِخْبَارِيًّا“، کہ چاہے انشائی ہو مولانا یا اخباری ہو، ”مِنْهُ حَقِيقَةٌ عَقْلِيَّةٌ“، اس میں سے بعض حقیقتِ عقلیہ ہے، اور آگے آئے گا مولانا ”وَمِنْهُ مَجَازٌ عَقْلِيٌّ“، اور اس میں سے کیا ہے؟ ایک مجازِ عقلی ہے۔ ”حَقِيقَةٌ عَقْلِيَّةٌ“، بھئی ”عَقْلِيَّةٌ“ کیونکہ حقیقت کا لفظ مؤنث تو ”عَقْلِيَّةٌ“ اس کی صفت بھی کیسی لائے؟ اور مجاز کا لفظ مذکر تو ”عَقْلِيٌّ“ اس کی صفت بھی کیسی لائے؟ سمجھ میں آیا بھئی؟ ”حَقِيقَةٌ عَقْلِيَّةٌ“ اس لیے کہا اور ”مَجَازٌ عَقْلِيٌّ“ اس لیے کہا۔ تو مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ کیا فرما رہے ہیں کہ اسناد میں سے بعض حقیقتِ عقلیہ ہیں اور اسناد بعض کیا ہے؟ مجازِ عقلی ہے۔ اب بھئی یہ حقیقتِ عقلیہ کس کو کہتے ہیں؟ مجازِ عقلی کس کو کہتے ہیں؟ دیکھیے متن دیکھیے بھئی: ”وَهِيَ“، ”أَيْ: الْحَقِيقَةُ الْعَقْلِيَّةُ“، حقیقتِ عقلیہ جو ہے، ”إِسْنَادُ الْفِعْلِ أَوْ مَعْنَاهُ“، وہ اسناد کرنا ہے فعل کا یا معنی فعل کا، ”إِلَى مَا هُوَ لَهُ“، اس چیز کی طرف کہ وہ فعل اس چیز کے لیے ہو۔ اسناد کرنا ہے۔ دیکھیے مولانا، فعلِ معروف کا اسناد ہمیشہ کس کی طرف ہوگا؟ فاعل کی طرف، اور فعلِ مجہول کا اسناد ہمیشہ کس کی طرف ہوگا؟ نائب فاعل یعنی مفعول کی طرف ہوگا بھئی۔ میں نے کہا ”ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا“، زید نے پٹائی کی عمرو کی، تو ”ضَرَبَ“ کا اسناد کس کی طرف ہوا؟ زید، اور زید کون ہے؟ فاعل۔ زید کون ہے؟ فاعل، اور فعل کا اسناد بھی فاعل ہی کی طرف ہو رہا ہے، ضرب لگانے والا بھی کون؟ زید ہے، تو فعل کا اسناد اس چیز کی طرف ہوا کہ یہ فعل اس کا اپنا ہے۔ یہ فعل اس کا... یہ ضرب کس کا فعل ہے مولانا؟ زید کا، تو یہ ضرب فعل ہے زید کا اور اس کا اسناد بھی کس کی طرف ہوا؟ زید کی طرف۔ تو یہ دیکھو اسناد ہوا فعل کا ”إِلَى مَا“، اس چیز کی طرف، ”هُوَ لَهُ“، کہ وہ فعل اس کا اپنا ہو۔ وہ فعل اس کا اپنا ہو، سمجھ میں آیا؟ تو فعل کا اسناد ہوا فاعل کی طرف، اور یہ فعل فاعل کا اپنا ہے، فاعل نے خود اس کو سرانجام دیا ہے، تو یہ فعل اس کا اپنا ہوا۔ یا آپ کہتے ہیں مولانا: ”ضُرِبَ عَمْرٌو“، پٹائی کی گئی، تو ”ضُرِبَ“ ہے فعلِ مجہول اور فعلِ مجہول کا اسناد کس کی طرف ہوتا ہے؟ مفعول کی طرف جسے کیا کہا جاتا ہے؟ نائب فاعل، نائب فاعل۔ تو یہ ”ضُرِبَ“ کا اسناد ہوا مولانا نائب فاعل کی طرف، اور یہ مضروبیت کس کی ہے مولانا؟ پہلے جملے کے اندر ضاربیت کس کی تھی؟ کس کا وصف تھا؟ زید کا۔ اور اس جملے میں مضروبیت کس کا وصف ہے؟ عمرو کا، اور اس کا اسناد بھی کس کی طرف ہوا؟ تو اس مضروبیت کا اسناد بھی عمرو کی طرف ہو رہا ہے، تو یہ اسناد ہے فعل کا اس چیز کی طرف کہ یہ مضروبیت اس کی اپنی ہے، کس کی طرف ہو رہا ہے؟ بھئی ضاربیت زید کا وصف ہے اور مضروبیت کس کا وصف ہے؟ عمرو کا، اور ضاربیت کا اسناد کس کی طرف ہوا؟ زید کی طرف، اور مضروبیت کا اسناد کس کی طرف ہوا؟ عمرو کی طرف ہوا، معلوم ہوا یہ ضاربیت زید کی اپنی ہے، تو اسناد ہوا فعل کا اس چیز کی طرف کہ یہ ضاربیت اس کی اپنی ہے، اور ”ضُرِبَ عَمْرٌو“ کے اندر مولانا ”ضُرِبَ“ کا اسناد ہوا کس کی طرف؟ عمرو کی طرف، اور عمرو اور یہ ”ضُرِبَ“ یعنی مضروبیت کس کی ہے؟ عمرو کی اپنی ہے، تو اسناد ہوا فعل کا ”إِلَى مَا“، اس چیز کی طرف کہ وہ فعل کیا ہے؟ اس کا اپنا ہے، یہ ضاربیت اس کی اپنی ہے یا یہ مضروبیت اس کی اپنی ہے، اس کو کیا کہتے ہیں مولانا؟ تو بھئی فعلِ معروف کو وضع کیا گیا ہے کہ اس کا اسناد فاعل کی طرف ہو، تو فعلِ معروف کا اسناد ہو بھی فاعل کی طرف، تو اس کو کہتے ہیں حقیقتِ عقلیہ۔ اور فعلِ مجہول کی بناء اس لیے ہے کہ اس کا اسناد کس کی طرف ہو؟ نائب فاعل کی طرف، اور ہو بھی کس کی طرف رہا ہے؟ نائب فاعل کی طرف، تو یہ اسناد ہو رہا ہے فعلِ مجہول کا کس کی طرف؟ ”إِلَى مَا هُوَ لَهُ“ کی طرف ہو رہا ہے، تو یہ کیا ہے مولانا؟ حقیقتِ عقلیہ ہے، کیا ہے؟ حقیقتِ عقلیہ ہے۔ اس کے مقابلے میں مجازِ عقلی ہے مولانا، کیا ہے؟ مجازِ عقلی ہے۔ مجازِ عقلی اس کو کہتے ہیں مولانا کہ اسناد فعل یا معنی فعل کا ”مَا هُوَ لَهُ“ کی طرف نہ ہو بلکہ غیرِ ”مَا هُوَ لَهُ“ کی طرف ہو۔ یعنی فاعلیت کا اسناد غیر فاعل کی طرف ہو جائے یا مفعولیت کا اسناد غیر مفعول کی طرف ہو جائے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ بھئی پچھلے کلام میں کیا تھا؟ ”ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا“، آپ کو پتہ ہے زید نے عمرو کی پٹائی کی ہے لیکن میں کہتا ہوں ”ضُرِبَ بَكْرٌ“، تو کیا میں نے فعل کا اسناد مضروب کی طرف کیا یا غیر مضروب کی طرف کر دیا؟ غیر مضروب کی طرف، حالانکہ مضروبیت کا اسناد کس کی طرف ہونا چاہیے تھا؟ مضروب کی طرف ہونا چاہیے تھا، ضاربیت کا اسناد کس کی طرف ہونا چاہیے تھا؟ ضارب کی طرف۔ تو اب جب میں نے کہا ”ضُرِبَ بَكْرٌ“ تو میں نے اسناد فعل کا ”مَا هُوَ لَهُ“ کی طرف کیا یا غیرِ ”مَا هُوَ لَهُ“ کی طرف؟ غیرِ ”مَا هُوَ لَهُ“ کی طرف۔ میں بھی جانتا ہوں، میرے علم میں ہے کہ آپ کو پتہ ہے کہ پٹائی تو کس کی ہوئی ہے؟ عمرو کی، لیکن میں اس کو قرینہ بنا دیتا ہوں، آپ کو پتہ چل گیا کہ یہ اسناد کیا ہے؟ ”مَا هُوَ لَهُ“ کی طرف نہیں ہو رہا بلکہ کس کی طرف ہو رہا ہے؟ غیر کی طرف ہو رہا ہے۔ یا جیسے مولانا میں کہتا ہوں ”جَرَى النَّهْرُ“، نہر جاری ہوئی، آپ مجھے بتلائیے نہر جاری ہوتی ہے یا اس میں پانی جاری ہوتا ہے؟ پانی۔ تو ”جَرَى“ کا اسناد فاعل کی طرف ہوا یا غیر فاعل کی طرف ہوا؟ غیر فاعل کی طرف، حالانکہ یہ تو فعلِ معروف ہے، اس کا اسناد کس کی طرف ہونا چاہیے تھا؟ فاعل کی طرف، تو یہ مجازِ عقلی ہے، یہ کیا ہے؟ مجازِ عقلی۔ یا میں کہتا ہوں مولانا: امیر نے شہر تعمیر کیا، بھئی امیر شہر کی تعمیر امیر کرتا ہے یا مزدور کرتے ہیں؟ مزدور کرتے ہیں، تو امیر حکم دینے والا ہے، سبب ہے، تو پچھلے میں دیکھو جب میں نے کہا تھا ”جَرَى النَّهْرُ“، نہر جاری ہوئی، تو میں نے اسناد فاعل کی طرف نہیں کیا بلکہ مکان کی طرف کر دیا، کس کی طرف کر دیا؟ مکان کی طرف، کیونکہ پانی کہاں بہتا ہے؟ نہر میں بہتا ہے، وہ اس کا مکان ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ جیسے میں کہتا ہوں امیر نے شہر بنایا، اب تعمیر تو کون کرتے ہیں؟ مزدور، لیکن میں نے فعل کا اسناد کس کی طرف کر دیا تعمیر کا؟ امیر کی طرف، کیوں؟ کیونکہ امیر سبب ہے، وہ حکم دینے والا ہے۔ تو فعل یا مولانا شبہ فعل کا اسناد کبھی کبھار مولانا کس کی طرف ہوتا ہے؟ کبھی غیرِ ”مَا هُوَ لَهُ“ کی طرف ہوتا ہے، وہ غیر کبھی یعنی زمانہ ہوگا، یا مکان ہوگا مولانا، یا سبب وغیرہ ہوں گے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ اسناد کس کی طرف ہوا؟ غیرِ ما کی طرف، اور یہ کیا کہلاتا ہے؟ مجازِ عقلی کہلاتا ہے۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ فعلِ معروف کو کس لیے وضع کیا گیا ہے کہ اس کا اسناد کس کی طرف ہو؟ فاعل کی طرف، اور اس کا اسناد آپ کریں بھی فاعل کی طرف تو یہ کیا ہے؟ حقیقتِ عقلیہ۔ فعلِ مجہول کا اسناد کس کی طرف ہونا چاہیے؟ نائب فاعل کی طرف، اور آپ اس کا اسناد کرتے بھی نائب فاعل کی طرف ہیں تو یہ کیا ہے؟ حقیقتِ عقلیہ۔ اور اگر فعلِ معروف کا اسناد آپ فاعل کے بجائے زمانے یا مکان کی طرف یا سبب وغیرہ کی طرف کر دیں، تو یہ اسناد کس کی طرف ہوا؟ غیرِ ”مَا هُوَ لَهُ“ کی طرف، تو یہ کیا کہلائے گا؟ مجازِ عقلی۔ اور فعلِ مجہول کا اسناد نائب فاعل کی طرف ہونا چاہیے، آپ نائب فاعل کی طرف نہیں کرتے بلکہ غیر کی طرف کرتے ہیں تو یہ کیا ہے؟ مجازِ عقلی ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو فعل یا شبہ فعل کا اسناد ”مَا هُوَ لَهُ“ کی طرف ہو تو یہ حقیقتِ عقلیہ، اور اگر فعل یا شبہ فعل کا اسناد غیرِ ”مَا هُوَ لَهُ“ کی طرف ہو تو یہ کیا ہے؟ مجازِ عقلی ہے بھئی۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں اسناد چاہے انشائی ہو یا اخباری ہو، اس میں سے بعض حقیقتِ عقلیہ ہیں اور بعض اس میں سے کیا ہیں؟ مجازِ عقلی ہیں۔ ”وَلَمْ يَقُلْ: إِمَّا حَقِيقَةٌ وَإِمَّا مَجَازٌ“، بھئی علامہ سکاکی نے حصر کیا تھا، انہوں نے اپنی کتاب کے اندر، بھئی مفتاح العلوم جہاں سے اخذ کی ہے مصنف نے اپنی یہ تلخیص، اس مفتاح العلوم میں علامہ سکاکی فرماتے ہیں کہ اسناد یا تو کیا ہوگا؟ حقیقت ہوگا یا کیا ہوگا؟ مجاز۔ تو انہوں نے بند کر دیا اسناد کو، یا تو حقیقت ہوگا یا مجاز، ایسا نہیں ہو سکتا اسناد جو نہ حقیقت ہو اور نہ مجاز ہو۔ لیکن مصنف نے ایسا نہیں کیا بھئی۔ کیوں؟ اس لیے کہ علامہ سکاکی کے نزدیک اسناد بند تھا حقیقت میں اور مجاز میں، جب کہ مصنف کے نزدیک اسناد ان دو میں بند ہے ہی نہیں بلکہ ایسا اسناد بھی ہو سکتا ہے جو نہ حقیقت ہو اور نہ مجاز۔ اسی لیے انہوں نے کہا ”مِنْهُ حَقِيقَةٌ عَقْلِيَّةٌ“ کہ اسناد میں سے بعض کیا ہیں؟ حقیقتِ عقلیہ ہے اور بعض کیا ہیں؟ مجازِ عقلی ہیں، معلوم ہوا بعض نہ حقیقتِ عقلیہ ہیں اور نہ مجازِ عقلی ہیں۔ ”وَلَمْ يَقُلْ: إِمَّا حَقِيقَةٌ وَإِمَّا مَجَازٌ“، مصنف نے یہ نہیں کہا، کیوں؟ ”لِأَنَّ بَعْضَ الْإِسْنَادِ عِنْدَهُ لَيْسَ بِحَقِيقَةٍ وَلَا مَجَازٍ“، اس لیے کہ بعضِ اسناد مصنف کے نزدیک نہ تو حقیقت ہیں اور نہ مجاز، ”كَقَوْلِنَا“، جیسے ہمارا یہ کہنا: ”الْحَيَوَانُ جِسْمٌ، وَالْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ“، کہ حیوان کیا ہے؟ جسم، تو دیکھو یہاں مولانا جسم خبر کا اسناد ہے، جسم کا اسناد ہو رہا ہے کس کی طرف؟ حیوان کی طرف۔ حیوان پر کیا حکم لگایا آپ نے؟ جسم ہونے کا۔ ”وَالْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ“، یہ دوسری مثال، انسان کیا ہے؟ حیوان، تو انسان پر کس چیز کا حکم لگایا؟ حیوان ہونے کا۔ اور تو یہ نہ مولانا مجازِ عقلی ہے اور نہ حقیقتِ عقلیہ۔ کیوں؟ کیونکہ حقیقتِ عقلیہ اور مجازِ عقلی میں مصنف نے کیا لگائی؟ تعریف کیا کی؟ ”هِيَ إِسْنَادُ الْفِعْلِ أَوْ مَعْنَى الْفِعْلِ“، اسناد کس کا؟ فعل کا یا معنی فعل کا، اور یہ اسناد جسم، یہ فعل یا معنی فعل ہے؟ نہیں ہے۔ حیوان، یہ فعل یا معنی فعل ہے؟ نہیں ہے۔ تو ان کے نزدیک مسند کا فعل یا معنی فعل ہونا ضروری، پھر دیکھا جائے گا کہ ”مَا هُوَ لَهُ“ کی طرف ہے یا غیرِ ”مَا هُوَ لَهُ“ کی طرف، اور یہ تو فعل یا شبہ فعل ہے ہی نہیں، لہٰذا نہ یہ حقیقتِ عقلیہ ہے اور نہ مجازِ عقلی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے سب کو بھئی؟ ”وَجَعَلَ الْحَقِيقَةَ وَالْمَجَازَ صِفَةَ الْإِسْنَادِ“، جی، علامہ سکاکی نے حقیقت اور مجاز کو کلام کی صفت بنایا تھا، مصنف نے اسناد کی صفت بنایا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کلام یا تو حقیقت ہوگا یا کیا ہوگا؟ مجاز۔ مصنف کیا فرما رہے ہیں کہ اسناد حقیقت ہوگا یا مجاز۔ تو اسناد دیکھو کلام کا جزء ہے مولانا، کلام کے کتنے جزء ہیں مولانا؟ تین: مسند اور مسند الیہ اور اسناد۔ تو انہوں نے کلام کی صفت بنایا اور انہوں نے کس کی صفت بنایا؟ اسناد کی، اس لیے مولانا کہ حقیقت اور مجاز در حقیقت اسناد کی صفت ہیں، کس کی صفت ہیں؟ تو اسناد ”مَا هُوَ لَهُ“ کی طرف ہو تو یہ کیا ہے؟ حقیقتِ عقلیہ۔ اسناد غیرِ ”مَا هُوَ لَهُ“ کی طرف ہو تو یہ کیا ہے؟ مجازِ عقلی۔ اور تو یہ صفت ہیں بلا واسطہ کس کے؟ اسناد کے، اور یہی اسناد جزء ہے کس کا؟ کلام کا، اسناد جزء ہے کلام کا۔ تو جو جزء کا وصف ہوتا ہے وہ کل کا وصف، تو لہٰذا حقیقت اور مجاز جب اسناد کے وصف ہوئے تو کلام کے بھی وصف بن گئے، لیکن اسناد کے وصف ہوئے بلا واسطہ اور کلام کے وصف ہوئے بواسطہ اسناد کے، بواسطہ اسناد کے بھئی، سمجھ میں آئی بات؟ ”وَجَعَلَ الْحَقِيقَةَ وَالْمَجَازَ صِفَةَ الْإِسْنَادِ دُونَ الْكَلَامِ“، اور بنایا مصنف نے حقیقت اور مجاز کو اسناد کی صفت نہ کہ کلام کی، ”لِأَنَّ اتِّصَافَ الْكَلَامِ بِهِمَا إِنَّمَا هُوَ بِاعْتِبَارِ الْإِسْنَادِ“، اس لیے کہ کلام کا ان دونوں سے متصف ہونا وہ کس اعتبار سے ہے؟ اسناد کے اعتبار سے ہے، یہ اسناد کی صفت بنتے ہیں اور اسناد جزء ہے کلام کا تو وہ کلام کی بھی صفت بن جاتے ہیں۔ ”وَأَوْرَدَهُمَا فِي عِلْمِ الْمَعَانِي لِأَنَّهُمَا مِنْ أَحْوَالِ اللَّفْظِ فَيَدْخُلَانِ فِي عِلْمِ الْمَعَانِي“، اور لے کر آئے ہیں مصنف ان دونوں کو، مجازِ عقلی اور حقیقتِ عقلیہ کو، کس کے اندر؟ علمِ معانی میں، ”لِأَنَّهُمَا مِنْ أَحْوَالِ اللَّفْظِ“، اس لیے کہ یہ کیا ہیں؟ لفظ کے احوال ہیں۔ بھئی کلام کے احوال ہوئے یا نہیں ہوئے مولانا یہ؟ اور کلام کس چیز سے عبارت ہے؟ لفظ سے، تو یہ کلام کی صفت ہوئے یعنی لفظ کی صفت ہوئے، لیکن براہِ راست یا بواسطہ اسناد کے؟ بواسطہ اسناد کے۔ تو یہ لفظ کے احوال ہیں، ”فَيَدْخُلَانِ فِي عِلْمِ الْمَعَانِي“، پس یہ دونوں بھی کس میں داخل ہیں؟ علمِ معانی میں، کیونکہ علمِ معانی میں بھی ہم کس سے بحث کرتے ہیں؟ لفظ کے احوال سے مولانا، سمجھ میں آیا؟ لفظ ہی کے مسند کے تو احوال، مسند الیہ وغیرہ کے احوال ذکر ہوں گے یا نہیں کہ مسند کو کبھی معرفہ لائیں گے کبھی نکرہ، مسند الیہ کو بھی اسی طرح کبھی معرفہ لائیں گے کبھی نکرہ لائیں گے، کبھی ضمیر کی صورت میں لائیں گے کبھی اسمِ اشارہ کی صورت میں لائیں گے کبھی اسمِ موصول کی صورت میں لائیں گے، یہ سارے احوال ذکر ہوں گے۔ اور یہ بھی لفظ کے احوال، لہٰذا ان کو بھی کس میں ذکر کر دیا؟ علمِ معانی میں، علمِ معانی میں۔ ”وَهِيَ“، ”أَيْ: الْحَقِيقَةُ الْعَقْلِيَّةُ“، اور وہ اور یعنی حقیقت ضمیر کا مرجع بتلایا یعنی حقیقتِ عقلیہ جو ہے، ”إِسْنَادُ الْفِعْلِ أَوْ مَعْنَاهُ“، وہ اسناد ہے فعل کی ”أَوْ مَعْنَاهُ“، ”أَيْ: مَعْنَى الْفِعْلِ“، یا معنی فعل کی۔ بھئی معنی فعل سے کیا مراد ہے؟ یاد رکھو مولانا، جیسے فعل کے لیے فاعل چاہیے، اسی طرح اسمِ فاعل کے لیے بھی کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے، اسی طرح اسمِ مفعول کے لیے جیسے جی، فاعل چاہیے، مصدر کے لیے بھی کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے، صفتِ مشبہ کے لیے بھی کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے، اسمِ تفضیل کے لیے بھی کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے، ظرف کے لیے بھی فاعل چاہیے۔ سمجھ میں آیا؟ میں کہتا ہوں ”زَيْدٌ قَامَ“، ”زَيْدٌ“ کیا ہوگا؟ مرفوع لفظاً مبتدا، ”قَامَ“ فعل، اور فعل پھر فوراً کس کا تقاضا کرے گا؟ فاعل کا، تو ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر فاعل ہے، سمجھ میں آیا؟ اسی طرح میں کہتا ہوں ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، تو ”زَيْدٌ“ مبتدا، ”قَائِمٌ“ صیغہ اسمِ فاعل، تو یہ اس میں فاعل کا صیغہ آ گیا، اور جیسے فعل فاعل کا تقاضا کرتا ہے، اسمِ فاعل بھی کس کا تقاضا کرتا ہے؟ فاعل کا، تو ”قَائِمٌ“ صیغہ اسمِ فاعل، ”هُوَ“ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، سمجھ میں آیا؟ اسی طرح میں کہتا ہوں: ”زَيْدٌ شَرِيفٌ“، صفتِ مشبہ آ گئی مولانا، ”زَيْدٌ“ مبتدا، ”شَرِيفٌ“ صفتِ مشبہ، تو جیسے فعل فاعل کا تقاضا کرتا تھا، صفتِ مشبہ بھی کس کا تقاضا کرتی ہے؟ فاعل کا تقاضا کرتی ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ”شَرِيفٌ“ صفتِ مشبہ، ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، تو صفتِ مشبہ اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر کیا ہوئی؟ خبر، شبہ جملہ ہو کر خبر۔ ترکیب بھی آتی ہے یا نہیں کچھ مولانا؟ ترکیب تو بہت ضروری ہے بھئی، ترکیب سیکھو۔ اسی طرح آپ کہتے ہیں مولانا اسمِ تفضیل: ”زَيْدٌ أَفْضَلُ مِنِّي“، تو ”زَيْدٌ“ دیکھو مرفوع لفظاً مبتدا، ”أَفْضَلُ“ آیا صیغہ اسمِ تفضیل، اور جیسے فعل فاعل کا تقاضا کرتا ہے، اسمِ تفضیل بھی کس کا تقاضا کرتا ہے؟ فاعل کا، تو ”أَفْضَلُ“ اسمِ تفضیل، ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر فاعل ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ اسی طرح ظرف بھی فاعل کا تقاضا کرتا ہے، آپ کہتے ہیں ”زَيْدٌ فِي الدَّارِ“، ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً مبتدا، ”فِي الدَّارِ“ جار مجرور مل کر کس سے متعلق ہوں گے؟ ”ثَابِتٌ“ سے، اور ”ثَابِتٌ“ کے اندر کیا نکالیں گے؟ ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ ترکیب سمجھ میں آ رہی ہے؟ ”زَيْدٌ فِي الدَّارِ“ کی ترکیب آتی ہے بھئی سب کو؟ کیا ترکیب کریں گے؟ ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً مبتدا، ”فِي“ جارة، ”الدَّارِ“ مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر کس سے متعلق؟ ”ثَابِتٌ“ سے، اور ”ثَابِتٌ“ کون سا صیغہ ہے؟ اسمِ فاعل، اور اسمِ فاعل کس کا تقاضا کرتا ہے؟ فاعل کا، تو ”ثَابِتٌ“ صیغہ اسمِ فاعل، ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر فاعل، اسمِ فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ۔ سمجھ میں... یہ تو آپ کو سمجھانے کے لیے کہا جاتا ہے جار مجرور، بھئی ”ثَابِتٌ“ عبارت میں ہے؟ نہیں، آپ نے محذوف نکالا، کیا کیا؟ یہ آپ کو سمجھانے کے لیے بتایا گیا مولانا، سمجھ میں آیا؟ ورنہ کوئی ”ثَابِتٌ“ یہاں موجود نہیں، ”ثَابِتٌ“ تھا یہاں لیکن ”فِي الدَّارِ“ نے اس کی جگہ پکڑ لی، اس کو ختم کر دیا مولانا۔ اسی لیے اس کو ظرفِ مستقر کہتے ہیں، کیونکہ اس نے قرار پکڑ لیا ہے کس کی جگہ پر؟ اپنے عامل کی جگہ پر۔ ظرفِ مستقر کس کو کہتے ہیں؟ جو اپنے عامل کی جگہ پر قرار پکڑ لے۔ جب اپنے عامل کی جگہ اس نے قرار پکڑ لیا، آ گیا اس کی جگہ پر، تو وہ جو عمل اس کا عامل کر رہا تھا اب وہ عمل یہ کرے گا۔ کیونکہ اس نے اپنے عامل کی جگہ پر کیا کر لیا ہے؟ قرار پکڑ لیا، اور اس کا عامل کیا کر رہا تھا؟ ”هُوَ“ ضمیر کو کیا دے رہا تھا؟ رفع، تو اب وہ رفع یہ دے گا۔ اس نے اس میں سے ضمیر چھپا لی اپنے اندر، ”ثَابِتٌ“ ختم ہوا اور ضمیر کس کے اندر چھپ گئی؟ ”فِي الدَّارِ“ کے اندر مولانا، اب اس ضمیر کو رفع کون دے رہا ہے؟ ”فِي الدَّارِ“ یہ ظرف دے رہا ہے۔ ضمیر کو رفع کون دے رہا ہے؟ ”فِي الدَّارِ“، تو ظرف بھی ہمیشہ کس کا تقاضا کرتا ہے مولانا؟ فاعل کا تقاضا کرتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو؟ تو وہ اسناد کرنا ہے فعل کا یا معنی فعل کا، معنی فعل کی مثالیں: ”كَالْمَصْدَرِ“، جیسے کیا ہے مولانا؟ مصدر ہے، مصدر بھی کس کا تقاضا کرے گا؟ فاعل کا، لیکن عمل میں کمزور ہے، اس کا فاعل کبھی آئے گا عبارت میں اور کبھی نہیں آئے گا، ذکر ہونا ضروری نہیں بھئی۔ ”وَاسْمَيِ الْفَاعِلِ وَالْمَفْعُولِ“، اور جیسے مولانا اسمِ فاعل ہے اور اسمِ مفعول، اسمِ فاعل کس کا تقاضا کرتا ہے؟ فاعل کا، اسمِ مفعول کس کا تقاضا کرتا ہے؟ یہ نائب فاعل کا تقاضا کرے گا۔ سمجھ میں آیا؟ ”وَالصِّفَةِ الْمُشَبَّهَةِ“، اور جیسے صفتِ مشبہ ہے، یہ بھی کس کا تقاضا کرتی ہے؟ فاعل کا، ”وَاسْمِ التَّفْضِيلِ“، اور جیسے اسمِ تفضیل ہے، یہ کس کا تقاضا کرے گا؟ فاعل کا، ”وَالظَّرْفِ“، اور ظرف ہے، یہ بھی کس کا تقاضا کرے گا؟ یہ سب فاعل کا تقاضا کریں گے، تو ان کا اسناد ”مَا هُوَ لَهُ“ کی طرف ہو تو یہ کیا ہے؟ حقیقتِ عقلیہ، اور اگر غیرِ ”مَا هُوَ لَهُ“ کی طرف ہو تو یہ کیا ہے؟ مجازِ عقلی ہے بھئی، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ اچھا جی، ”إِلَى مَا“، عبارت یعنی ”إِلَى شَيْءٍ“، اسناد ہو فعل یا معنی فعل کا ایسی چیز کی طرف، ایسی چیز کی طرف، بتلایا ”مَا“ ”شَيْءٌ“ بھئی، نکرہ نکالا بھئی یعنی ”مَا“ موصوفہ ہے، ایسی چیز کی طرف: ”هُوَ“، ”أَيْ: الْفِعْلُ أَوْ مَعْنَاهُ لَهُ“، ایسی چیز کی طرف کہ ”هُوَ لَهُ“، ”هُوَ“ کی ضمیر کس کو راجع؟ فعل یا معنی فعل کو، کہ وہ فعل یا معنی فعل ”لَهُ“، اس کا ہو یعنی اس کا اپنا ہو۔ فعل یا معنی فعل اس کا... تو اسناد فعل یا معنی فعل کی اس چیز کی طرف کہ وہ فعل یا معنی فعل اس کا اپنا ہو، تو ”ضَرَبَ“ فعل کا اسناد زید کی طرف، یہ کیا ہے مولانا؟ اسناد ہے فعل کا ”مَا هُوَ لَهُ“ کی طرف، کیونکہ یہ ضرب کس کی ہے؟ ضاربیت کس کی ہے؟ زید کی، اسی طرح ”ضُرِبَ عَمْرٌو“ یہ تو یہ ”ضُرِبَ“ کا اسناد عمرو کی طرف، یہ کیا ہے؟ حقیقتِ عقلیہ، کیونکہ یہ مضروبیت کس کی ہے؟ عمرو کی اپنی ہے، تو اس چیز کی طرف کہ وہ فعل اس کا اپنا ہو، ”أَيْ: لِذَلِكَ الشَّيْءِ“، ضمیر کا مرجع بتلایا۔ ”كَالْفَاعِلِ“، جیسے کہ فاعل ہے، ”فِيمَا بُنِيَ لَهُ“، ”مَا“ عبارت فعل سے، اس فعل کے اندر جس کی بناء اس کے لیے ہو مولانا۔ یعنی مبنی للفاعل ہو فعل یعنی فعلِ معروف ہو، یعنی فعلِ معروف ہو اس کا اسناد فاعل کی طرف، ”نَحْوُ: ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا“، پٹائی کی زید نے کس کی؟ عمرو کی، تو دیکھو اسناد ہوا مولانا فعلِ معروف کا کس کی طرف؟ فاعل کی طرف۔ فعلِ معروف کی بناء کس لیے ہوتی ہے؟ اس کا اسناد کس کی طرف ہونا چاہیے؟ فاعل کی طرف، اور اس کا اسناد ہو بھی کس کی طرف رہا ہے؟ فاعل کی طرف، ضرب لگانے والا بھی کون؟ زید۔ ”أَوِ الْمَفْعُولِ بِهِ“، یا اسناد مفعول بہ کی طرف ہو، ”فِيمَا بُنِيَ لَهُ“، اس فعل کے اندر جس کی بناء مفعول ہی کے لیے ہو مولانا۔ یعنی مبنی للمفعول یعنی فعلِ مجہول کا اسناد مولانا کس کی طرف؟ جی، مفعول وہی نائب فاعل کہلائے گا، تو فعلِ مجہول کا اسناد مفعول بہ کی طرف مولانا، یہ کیا ہے؟ اسناد ہے کس کی طرف؟ ”مَا هُوَ لَهُ“ کی طرف۔ ”نَحْوُ: ضُرِبَ عَمْرٌو“، ”فَإِنَّ الضَّارِبِيَّةَ لِزَيْدٍ، وَالْمَضْرُوبِيَّةَ لِعَمْرٍو“، اس لیے کہ ضاربیت زید کے لیے ہے اور مضروبیت کس کے لیے ہے؟ عمرو کے لیے، اور اسناد بھی انہی کی طرف ہوا، تو مولانا یہ ضاربیت زید کی اپنی، یہ مضروبیت عمرو کی اپنی، تو اسناد کس کی طرف ہوا؟ ”مَا هُوَ لَهُ“ کی طرف، تو یہ مولانا حقیقتِ عقلیہ ہے، ”عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ“۔ یہاں مولانا چار صورتیں بنتی ہیں کہ اسناد فعل یا معنی فعل کا کس کی طرف کیا آپ نے؟ ”مَا هُوَ لَهُ“ کی طرف۔ تو یہ واقع میں بھی وہی فاعل ہو اور اعتقاد میں بھی وہی فاعل ہو، جیسے مؤمن کہتا ہے: ”أَنْبَتَ اللهُ الْبَقْلَ“، اللہ نے سبزی اگائی، اللہ نے سبزی پیدا کی، سمجھ میں آیا بھئی؟ ”أَنْبَتَ اللهُ الْبَقْلَ“، تو بقل کا معنی سبزی۔ اردو کے لحاظ سے ہم یوں کر لیتے ہیں جملے کو ذرا بدل لیتے ہیں: اللہ نے سبزہ اگایا۔ اب دیکھیے مولانا اب یہ انبَات فعل ہے، اس کا اسناد کس کی طرف؟ لفظِ اللہ کی طرف ہوا، تو اللہ کی طرف اسناد ہوا اور یہ انبات اگانا ہے بھی کس کا فعل؟ اللہ ہی کا فعل ہے۔ تو اسناد فعل کا ہوا کس کی طرف؟ ”مَا هُوَ لَهُ“ کی طرف، اور مولانا مؤمن نے کہا ہے، واقع میں بھی انبات کس کا فعل؟ اللہ کا، اور مؤمن کا اعتقاد بھی کیا ہے کہ انبات کس کا فعل؟ اللہ کا، تو یہ واقع کے بھی مطابق اور اعتقاد کے بھی مطابق۔ ایک صورت۔ دوسری صورت مولانا جو اعتقاد کے تو مطابق ہو لیکن واقع کے مطابق نہ ہو، جیسے کافر کہتا ہے: ”أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ“، بہار نے سبزی اگائی یا بہار نے سبزہ اگایا۔ اب مولانا یہ بات واقع کے مطابق تو نہیں، اگانے والے تو کون؟ اللہ تعالیٰ، لیکن اس کے اعتقاد کے مطابق ہے، اس کا کیا اعتقاد ہے کہ اگانے والا کون؟ موسمِ بہار ہی ہے۔ تیسری صورت مولانا کہ جو اعتقاد کے تو مطابق نہیں لیکن واقع کے مطابق ہے، چار صورتیں بنتی ہیں نا: جو واقع کے بھی مطابق ہو اعتقاد کے بھی، ایک صورت جو نہ واقع کے مطابق ہو نہ اعتقاد کے، تیسری صورت واقع کے تو مطابق ہے لیکن اعتقاد کے مطابق نہیں، چوتھی صورت واقع کے مطابق تو نہیں لیکن اعتقاد کے مطابق ہے۔ چاروں صورتیں سمجھ میں آئیں بھئی؟ جیسے مولانا معتزلی کی مثال ہے، معتزلی کہتا ہے: ”خَلَقَ اللهُ تَعَالَى الْأَفْعَالَ كُلَّهَا“، اللہ نے تمام افعال کو پیدا کیا، اللہ تمام افعال کے خالق ہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ تمام افعال کے خالق ہیں۔ اب یہ اسناد، یاد رکھو اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک تمام افعال کے خالق اللہ ہیں، بندہ کاسب ہے، بندہ کیا ہے؟ کاسب ہے، کسب کرنے والا، اور خالق کون؟ اللہ تعالیٰ۔ اور معتزلہ ایک گمراہ فرقہ گزرا ہے ان کا عقیدہ یہ ہے کہ بندہ جو افعالِ اختیاریہ سرانجام دیتا ہے ان کا خالق بندہ ہی ہے۔ معتزلہ کیا کہتے ہیں مولانا؟ افعالِ اختیاریہ کا خالق بندہ خود ہے۔ اب وہ ایک شخص معتزلی ہے اس کا عقیدہ تو یہ ہے کہ تمام افعال کا خالق اللہ نہیں لیکن آپ کے سامنے آ کر وہ کیا کہتا ہے؟ تمام افعال کا خالق کون ہے؟ اللہ ہیں، اللہ ہیں: ”خَلَقَ اللهُ تَعَالَى الْأَفْعَالَ كُلَّهَا“۔ اب مولانا یہ بات واقع کے تو مطابق ہے لیکن اس کے اعتقاد کے مطابق نہیں۔ چوتھی صورت مولانا جو نہ واقع کے مطابق ہو اور نہ اس کے اعتقاد کے مطابق، جیسے مولانا زید نہیں آیا اور آپ کو بھی پتہ ہے کہ زید نہیں آیا لیکن پھر سامنے والے شخص کو آپ خبر دیتے ہیں: ”جَاءَ زَيْدٌ“، زید آیا ہے، کیا ہے؟ زید آیا ہے۔ تو کل کتنی صورتیں ہوئیں یہاں پر؟ چار صورتیں ہوئیں۔ پہلی کون سی صورت؟ جو واقع کے بھی مطابق ہو اور اعتقاد کے بھی۔ ایک صورت وہ جو نہ واقع کے مطابق ہو اور نہ اعتقاد کے۔ تیسری صورت کہ واقع کے تو مطابق ہے لیکن اعتقاد کے مطابق نہیں۔ چوتھی صورت اس کا عکس کر لو کہ واقع کے مطابق تو نہیں لیکن اعتقاد کے مطابق ہے۔ اب دیکھیے بھئی، تو کہا اسناد ہو مولانا فعل کا یا معنی فعل کا اس چیز کی طرف کہ وہ فعل اس کا اپنا ہو ”عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ“، کس کے نزدیک؟ متکلم کے نزدیک، یعنی متکلم کا وہ اعتقاد ہو، تو وہ دو صورتیں داخل ہوئیں جو اعتقاد کے مطابق ہیں۔ وہ دو صورتیں داخل ہوئیں جو اعتقاد کے مطابق ہیں۔ چار صورتیں یاد ہیں یا بھول گئے ہو بھئی؟ ان میں دو میں اعتقاد کے ساتھ مطابقت تھی، دو میں اعتقاد کے ساتھ مطابقت نہیں تھی، دو میں واقع کے ساتھ مطابقت تھی، دو میں واقع کے ساتھ مطابقت نہیں تھی۔ تو وہ دو صورتیں داخل ہو گئیں جو اعتقاد کے مطابق ہیں، کیونکہ ”عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ“ متکلم کے نزدیک مولانا، متکلم نے فعل یا کیا کیا ہے؟ فعل یا معنی فعل کا اسناد کس کی طرف کیا ہے؟ اس چیز کی طرف جو اس کے اعتقاد میں ”مَا هُوَ لَهُ“ ہے، وہ فعل اس کا اپنا ہے، سمجھ میں آیا؟ یعنی اس کا یہ اعتقاد ہے کہ یہ اسی کا فعل ہے، تو وہ دو صورتیں جو اس کے اعتقاد کے مطابق ہیں وہ کیا ہوئیں؟ داخل ہوئیں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ متعلق ہے اپنے قول ”لَهُ“ سے، یہ ظرف ہے مولانا اور ظرف کے لیے عامل چاہیے تو یہ بھی کس سے متعلق ہوئے بھئی؟ ”لَهُ“ کے ساتھ، کس سے متعلق ہوئے؟ ”لَهُ“ کے ساتھ۔ ”إِلَى مَا هُوَ لَهُ“، متن میں آیا تھا یا نہیں مولانا؟ تو ”لَهُ“، ”هُوَ“ مبتدا اور ”لَهُ“ اس کی خبر، ”لَهُ“ کیا ہے؟ اس کی خبر۔ ترکیب کیسے کریں گے؟ ”هُوَ“ مرفوع محلاً مبتدا، ”لَهُ“ لام جارة، ”هُ“ ضمیر مجرور، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے کس سے؟ ”ثَابِتٌ“ سے، ”ثَابِتٌ“ سے۔ اور ”عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ“، یہ بھی یہ ظرف ہے، یہ کس کا تقاضا کرتا ہے؟ عامل کا، یہ بھی کس کے لیے ظرف بن جائے گا؟ اسی ”ثَابِتٌ“ کے لیے، کس کے لیے؟ اسی ”ثَابِتٌ“ کے لیے۔ لیکن وہ ”ثَابِتٌ“ تو چلا گیا مولانا، اس ”ثَابِتٌ“ کی جگہ کس نے پکڑ لی؟ ”لَهُ“ نے پکڑ لی، یہ ظرفِ مستقر ہوا، کیا ہوا؟ ظرفِ مستقر۔ اور یہ جو ”ثَابِتٌ“ تھا یہ ”لَهُ“ کے اندر عامل کون تھا؟ ”ثَابِتٌ“۔ بھئی جس سے ظرف متعلق ہوتا ہے وہ دراصل اس میں کیا ہوتا ہے؟ عامل، تو ”لَهُ“ میں عامل کون؟ ”ثَابِتٌ“ بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو ”عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ“ بھی اسی ”ثَابِتٌ“ سے متعلق تھا تو اس ”عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ“ میں بھی عامل کون؟ وہی ”ثَابِتٌ“، اور وہ ”ثَابِتٌ“ تو چلا گیا اس کی جگہ کس نے پکڑ لی؟ ”لَهُ“ نے، تو یہ ظرفِ مستقر ہوا، کیا ہوا؟ ظرفِ مستقر، کیونکہ اس کا متعلق عبارت میں مذکور نہیں۔ جب اس نے اس کی جگہ پکڑ لی تو وہ جو سارے عمل کر رہا تھا وہی اب عمل اب یہ کرے گا، تو وہ ایک فاعل کو رفع دے رہا تھا ”ثَابِتٌ“ کے اندر ”هُوَ“ ضمیر تھی، اب اس ”هُوَ“ ضمیر کو رفع کون دے گا؟ ”لَهُ“ یہ ظرفِ مستقر، سمجھ میں آیا بھئی؟ وہ ضمیر اس نے ”ثَابِتٌ“ تو گیا لیکن اس میں سے ضمیر نکال کر اپنے اندر چھپا لی، اور وہی ”ثَابِتٌ“ عامل تھا ”عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ“ میں بھی، لیکن اب وہ ”ثَابِتٌ“ چلا گیا تو اس ”عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ“ میں عامل کون ہوا؟ ”لَهُ“ ہوا، کون عامل ہوا؟ ”لَهُ“ ہوا، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ اس میں معین عامل ہوا۔ تو یہ ”لَهُ“ سے متعلق ہے، سمجھ میں آیا؟ یعنی وہ اس کے اندر عامل ہے، اور تو لہٰذا ”لَهُ“ تو ہوا ظرفِ مستقر کیونکہ اس کا عامل محذوف، لیکن ”عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ“ اس کے اندر عامل کون؟ ”لَهُ“، اور ”لَهُ“ تو ہے مذکور، اور جب عامل مذکور ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ ظرفِ لغو کہتے ہیں، تو ”لَهُ“ ہوا ظرفِ مستقر اور ”عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ“ کیا ہوا؟ ظرفِ لغو ہوا۔ یہ بات سب کو سمجھ میں آئی؟ چلیے مولانا، ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔