بسم الله الرحمن الرحيم مصنف علیہ الرحمہ آپ کے سامنے خاتمے کا بیان فرما رہے تھے، اس کے اندر تین چیزوں کا ذکر آ رہا تھا: ابتداء، تخلص اور انتہاء۔ جن میں سے دو کا ذکر پہلے گزر چکا، آج مصنف علیہ الرحمہ انتہاء کا ذکر بیان فرماتے ہیں۔ اور کیا خوب ترتیب ہے کہ ذکر بھی انتہاء کا ہے اور کتاب بھی اپنے انتہاء کو پہنچ رہی ہے۔ اس وجہ سے مناسبت بھی موضوع کی اپنے آخر اخری یعنی کتاب کے ساتھ بالکل واضح ہو رہی ہے۔ آخری اصطلاح ہے انتہاء کی۔ یعنی ان تین اصطلاحوں میں سے کہ جس میں متکلم کو اپنی کلام کو بہتر سے بہتر کرنے کے لیے کوشش کرنی پڑتی ہے ان میں سے ایک انتہاء ہے۔ انتہاء بھی حسن کلام پر مشتمل ہو۔ کلام کی جو انتہاء ہے وہ بھی حسن پر مشتمل ہو تاکہ اگر سابقہ کلام میں، ابتدائے کلام میں کوئی کمی کوتاہی رہ گئی ہے، اس انتہاء کی وجہ سے وہ ساری کی ساری کمی کوتاہیاں ختم ہو جائیں۔ اور اگر معاملہ اس کا برعکس ہو جائے کہ انتہاء جو ہے وہ حسن کلام پر مشتمل نہیں ہے، تو ساری کی ساری ابتدائی خوبیاں بھی ختم ہو جائیں گی۔ اس لیے جس طرح کہ ابتداء، تخلص اس میں حسن کی رعایت رکھی جائے گی، اسی طرح انتہائے کلام، مقطع کلام اور انتہائے کلام میں بھی حسن کی رعایت رکھی جائے گی تاکہ سابقہ اگر کوئی کمی کوتاہی ہے، وہ اس سے پوری ہو جائے، اور اگر معاملہ برعکس کر دیا گیا کہ یعنی اس انتہاء میں حسن کے بجائے غیر حسن آیا، تو سابقہ حسن بھی ختم ہو جائے گا۔ اس لیے انتہاء کے حسن کی طرف خاص توجہ دینی پڑے گی۔ اس کے بعد پھر مصنف علیہ الرحمہ نے یہ فرمایا کہ بسا اوقات انتہاء ایسی ہوتی ہے کہ جس کی وجہ سے یعنی انسان کی ابتدائے کلام ایسی ہوتی ہے جس کی وجہ سے انتہائے کلام کی طرف بھی اشارہ نکل آتا ہے۔ ابتداء سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ انتہائے کلام سے یہ مضمون سامنے آ رہا ہے۔ اگر اس قسم کی تعبیر چلے تو یہ اور خوب ہے۔ یہ بہترین اس میں خوبصورتی آ جاتی ہے کہ جب انسان ایسی کلام کی ابتداء کرے کہ جو مشیر الی الانتہاء ہو۔ اس کی وجہ سے اور اس میں حسن آ جاتا ہے۔ اس کے بعد مصنف علیہ الرحمہ نے ہر ایک کی مثال دینے کے بعد آخری جو مسئلہ بیان فرمایا، وہ یہ ہے کہ قرآن پاک کی تمام سورتوں کی ابتداء اور انتہاء، قرآن پاک کی تمام سورتوں کی ابتداء اور انتہاء وہ سب کی سب انہی کمالات پر مشتمل ہیں۔ یعنی کہ ابتداء میں مضامین ہیں، انتہاء میں مضامین ہیں، ان کا آپس میں ایسا جوڑ ہے اور پھر انتہاء ایسے مضامین پر ہو رہی ہے کہ جس کی وجہ سے حسن ہی حسن آ رہا ہے۔ ہمارے سامنے جس طرح انہوں نے ذکر کیا، لیکن آخری جو لائن میں انہوں نے بات جا کے ذکر کی آخری سطر میں، کہ ہم جیسے لوگوں کے لیے یہ حسن مخفی رہ جاتا ہے۔ اس اخفاء کو دور کرنے کے لیے مختصر المعانی کے تینوں فن یاد ہونے چاہئیں۔ علم المعانی، علم البیان اور علم البدیع، جس طرح آپ کو استاد محترم نے محنت سے پڑھایا ہے، اس طرح آپ کو یاد بھی ہونے چاہئیں، تب تو یہ چیزیں آپ پر مخفی نہیں رہیں گی۔ ورنہ اگر یہ چیزیں آپ کو ملحوظ خاطر نہ رہیں، آپ کے ذہن میں پکی نہ رہیں، تو پھر آپ کو مناسبت ابتداء اور انتہاء کی سمجھ میں نہیں آئے گی۔ یہ ساری کی ساری چیزیں ذہن میں رکھنی ہیں۔ اور یقیناً کلام اللہ جو ہے ان کمالات سے بھرا ہوا ہے، اور کیوں بھرا ہوا نہ ہو، جو خالق کائنات کا کلام ہے۔ جس نے فصاحت کو نازل کیا ہے، اس کی کلام میں کیا خوبیاں ہوں گی وہ بیان سے باہر ہیں۔ لیکن اگر ہم ان خوبیوں کو سمجھنا چاہتے ہیں تو سمجھنے کے لیے یہی ہے کہ ہمیں اس کتاب کے تینوں فن ہمارے سامنے ہوں جس کی وجہ سے، اور خصوصاً ان تینوں فنوں میں بھی، خاص طور پر جو علم المعانی میں جس چیز پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ کلام کا مقتضی الحال کے موافق ہونا ہے۔ مقتضی الحال کے موافق کلام ہو وہ ہے کلام عمدہ، اور ایک کلام ایسا ہے کہ جو کہ مقتضی الحال کے بالکل موافق نہیں ہے، وہ جیسا مرضی حسین و جمیل کلام ہو، علامہ تفتازانی علیہ الرحمہ نے مطول میں فن بدیع کے ابتداء میں یہ فرمایا کہ جو بندہ مقتضی الحال کی رعایت نہیں رکھتا اور یہ محسنات معنویہ کا خیال رکھتا ہے، لفظیہ کا خیال رکھتا ہے، یہ ایسا ہی ہے كَتَعْلِيقِ الدُّرَرِ عَلَى أَعْنَاقِ الْخَنَازِيرِ۔ اصل چیز جو ہے، یہ ہے مقتضی الحال کے مطابق کلام کرنا جس پر سب سے زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔ اور فن اول سب سے زیادہ بڑا بھی اسی وجہ سے ہے، کیونکہ اس میں اس چیز پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ مقتضی الحال کی رعایت رکھتے ہوئے، تشبیہات کو سامنے رکھتے ہوئے، محاسن کلام کو سامنے رکھتے ہوئے جب انسان گفتگو کرے گا، تو پھر سبحان اللہ! کمال ہی کمال اس میں پیدا ہو گا۔ اس لیے کلام اللہ کے اندر یہ تمام تر ربط، انتہاء اور ابتداء میں مناسبت، انتہاء حسن کلام پر مشتمل، ابتداء حسن کلام پر مشتمل، یہ ساری کی ساری چیزیں کلام اللہ کے اندر موجود ہیں لیکن یہ موجود ہونے کے ساتھ ساتھ یہ سمجھ کیسے آئیں گی؟ یہ آپ کو علم الفصاحہ اور علم البلاغہ سے سمجھ آئیں گی۔ دیکھیے آگے: ”ثَالِثُهَا“ أَيْ ثَالِثُ الْمَوَاضِعِ الَّتِي يَنْبَغِي لِلْمُتَكَلِّمِ أَنْ يَتَأَنَّقَ فِيهَا۔ تیسری وہ جگہ کہ جس میں مناسب ہے متکلم کے لیے کہ اس میں بہتری سے بہتری کا معاملہ کرے۔ علامہ تفتازانی علیہ الرحمہ نے يَتَأَنَّقُ کا معنی پہلے ذکر کر دیا ہے، ان میں سے تیسرا موقع انتہاء ہے۔ انتہاء کی وجہ تسمیہ ذکر کرتے ہیں، اس کو انتہاء کیوں کہتے ہیں؟ ”لِأَنَّهُ آخِرُ مَا يَعِيهِ السَّمْعُ“ یہ وہ آخری کلام ہوتا ہے جس کو انسان کی قوت سامعہ محفوظ کرتی ہے۔ وَعَى يَعِي کا معنی ہوتا ہے کسی چیز کو محفوظ کرنا، یاد کرنا۔ ”وَيَرْتَسِمُ فِي النَّفْسِ“ اور وہ نفس کے اندر جگہ پکڑ جاتی ہے۔ ”فَإِنْ كَانَ حُسْنًا مُخْتَارًا“ اگر وہ حسن ایسا ہو جو پسندیدہ ہو، ”تَلَقَّاهُ السَّمْعُ“ تو قوت شنوائی اس کو جلدی سے قبول کرتی ہے، کہ کیا خوب کلام ہے۔ جیسے کہ آپ نے خطیبوں کو بھی سنا ہو گا نا کہ جب انتہاء کو پہنچتے ہیں، اپنے عروج کو پہنچتے ہیں، وہاں جا کے اپنی کلام کو ختم کر کے آخر دعوانا کر دیتے ہیں، تاکہ انتہاء جو ہے نا وہ کمال پہ جا کے ختم ہو۔ ”وَاسْتَلَذَّهُ“ پھر اس کے بعد یہ ہے کہ اس سے انسان کی قوت سماعت لذت حاصل کرتی ہے۔ ”حَتَّى جَبَرَ مَا وَقَعَ فِيمَا سَبَقَهُ مِنَ التَّقْصِيرِ“ یہاں تک کہ وہ تمام ان چیزوں کا جبیرہ بھی ہو سکتی ہے وہ انتہاء جو سابقہ کلام میں بطور کوتاہیوں کے کوئی چیز رہ گئی ہو تو وہ اس کے لیے جبیرہ ہو جائے گی۔ ”وَإِلَّا كَانَ عَلَى الْعَكْسِ“ اور اگر معاملہ اس کا الٹ ہو جائے کہ ابتداء اچھی ہے انتہاء اچھی نہیں ہے تو یقیناً وہ پھر اس کے اوپر یعنی کہ خوبیاں لانے کے بجائے خامیاں ہی لائے گی۔ ”وَإِلَّا كَانَ عَلَى الْعَكْسِ“ اگر معاملہ اس کا برعکس ہو کہ انتہاء حسن کلام پر مشتمل نہ ہو، ”حَتَّى رُبَّمَا أَنْسَاهُ الْمَحَاسِنَ الْمَوْرِدَةَ“ یہاں تک کہ فیما سبق جو سابقہ کلام میں اچھے اچھی چیزیں بھی ذکر کی گئی ہیں انتہاء کے غیر حسن کی وجہ سے وہ بھی انسان کی نظر سے اوجھل ہو جاتی ہیں۔ ”فَالِانْتِهَاءُ الْحَسَنُ“ ابونواس کا شعر پیش کرتے ہیں انتہائے حسن میں: ”وَإِنِّي جَدِيرٌ إِذْ بَلَغْتُكَ بِالْمُنَى ... وَأَنْتَ بِمَا أَمَّلْتُ مِنْكَ جَدِيرُ“ ”فَإِنْ تَوَلَّنِي مِنْكَ الْجَمِيلَ فَأَهْلُهُ ... وَإِلَّا فَإِنِّي عَاذِرٌ وَشَكُورُ“ ابونواس کیا کہتا ہے اپنے ممدوح کو؟ ”وَإِنِّي جَدِيرٌ إِذْ بَلَغْتُكَ بِالْمُنَى“ میں لائق ہوں، جدیر کا معنی ای خلیق، میں لائق ہوں جب میں آپ تک پہنچوں تو میں لائق ہوں آپ کی ان نعمتوں کی کا جن کی میں آپ سے امیدیں میں نے باندھی ہوئی ہیں۔ ”إِنِّي جَدِيرٌ إِذْ بَلَغْتُكَ بِالْمُنَى“ أَيْ جَدِيرٌ بِالْفَوْزِ بِالأَمَانِي یعنی وہ امیدیں جو میں نے آپ سے باندھی ہوئی ہیں ان کی کامیابی کا زیادہ میں حقدار ہوں۔ ”وَأَنْتَ بِمَا أَمَّلْتُ مِنْكَ جَدِيرُ“ اور آپ ان چیزوں کے ساتھ جو میں نے آپ سے امیدیں باندھی ہوئی ہیں آپ اس کے زیادہ لائق ہیں۔ حضور میں آپ سے امیدیں باندھنے والا ہوں اور آپ ہی کی ہستی ایسی ہے کہ آپ ہی سے امیدیں باندھی جائیں۔ ”فَإِنْ تَوَلَّنِي مِنْكَ الْجَمِيلَ فَأَهْلُهُ“ اگر آپ عطایا مجھے عطا کر دیں تو آپ اس کے اہل ہیں، کیوں؟ ”فَأَنْتَ أَهْلُ إِعْطَاءِ ذَلِكَ الْجَمِيلِ“ اس لیے وجہ اس کی ہے اس لیے کہ وہ آپ خوبیاں دینے کے آپ مالک ہیں۔ ”وَإِلَّا“ اور اگر آپ مجھے وہ اچھی چیزیں نہیں دیتے، ”فَإِنِّي عَاذِرٌ وَشَكُورُ“ تو یقیناً میں میں یعنی کہ آپ کو معذور سمجھوں گا اور آپ کا شکر گزار رہوں گا۔ تو یہ ”عَاذِرٌ وَشَكُورُ“ یہ مقام استشہاد ہے۔ یہاں مصنف علیہ الرحمہ یہ شاعر نے اس کلام کو یہاں آ کے ختم کیا ہے اور بتا دیا ہے کہ ممدوح جو ہے اس نے میری بات قبول کر لی ہے۔ کیونکہ آگے خود جو وجہ بتا رہا ہے ”إِنِّي عَاذِرٌ وَشَكُورُ“ کہ حضور اگر آپ میری بات قبول نہیں بھی کریں گے تو کوئی حرج نہیں ہے، اور شکریہ ادا کرنا دلیل ہے اس بات کی کہ ممدوح نے اس کا مطالبہ پورا کر لیا ہے۔ ”لِمَا صَدَرَ عَنْكَ مِنَ الْإِصْغَاءِ إِلَى الْمَدِيحِ“ مِنَ الْعَطَايَا السَّابِقَةِ، شکر اس وجہ سے میں کر رہا ہوں آپ کا، اس لیے کہ آپ نے کم از کم میری مدح تو سن لی نا میں نے جو آپ کی تعریف کی تھی۔ ظاہر ہے تعریف سننے کے بعد بھی تو کچھ موصول ہو گا نا؟ ”لِمَا صَدَرَ عَنْكَ مِنَ الْإِصْغَاءِ إِلَى الْمَدِيحِ“ اس لیے کہ آپ سے صادر ہو رہی ہے وہ توجہ جو میری مدحہ کی طرف متوجہ ہے، ”أَوْ مِنَ الْعَطَايَا السَّابِقَةِ“ یا دوسری وجہ یہ ہے کہ شکر گزار اس وجہ سے ہوں کہ چلیں اگر بالفرض اس موقع پر آپ مجھے نہ بھی دے سکے، تو پہلے آپ کی موصلادھار بارش مجھ پر برستی رہی ہے، اس کی بنیاد پر میں آپ کا شکر گزار ہوں۔ ”وَأَحْسَنُهُ“ أَيْ أَحْسَنُ الِانْتِهَاءِ ”مَا آذَنَ بِانْتِهَاءِ الْكَلَامِ“ اور احسن انتہاء، خوبصورت انتہاء یہ ہوتی ہے کہ ما آذن بانتهاء الكلام کہ کلام کے ابتداء اور درمیان میں ایسی چیزیں آ جائیں جو کہ کلام کی انتہاء کو پہلے سے مطلع کر دیں کہ کلام کی انتہاء ان اس قسم کے مضمون پر جا کے ہونے والی ہے۔ جیسے کہ آپ نے اسی میں خاتمے میں پڑھا براعت الاستہلال کہ مصنفین اپنے خطبوں کے اندر ایسے الفاظ لاتے ہیں جو مشیر الی المقاصد ہوتے ہیں۔ یہ ایک خوبی ہے کلام کی۔ ٹھیک ہے؟ اسی طرح حسن انتہاء یہ ہے کہ کلام کے اندر ایک ایسا یعنی کہ اسلوب اختیار کیا جائے جو کہ انتہاء کی طرف یعنی کہ آگاہی دینے والا ہو ”حَتَّى لَا يَبْقَى لِلنَّفْسِ تَشَوُّفٌ إِلَى مَا وَرَاءَهُ“ یہاں تک کہ نفس کو کوئی انتظار باقی نہ رہے اس کے علاوہ کسی اور چیز کی طرف۔ بس سمجھ میں آ جائے کہ انتہاء اس موضوع پر جا کے ہونے والی ہے۔ ”كَقَوْلِ الشَّاعِرِ: بَقِيتَ بَقَاءَ الدَّهْرِ يَا كَهْفَ أَهْلِهِ ... وَهَذَا دُعَاءٌ لِلْبَرِيَّةِ شَامِلُ“ ”بَقِيتَ“ اے میرے ممدوح! تو باقی رہے ”بَقَاءَ الدَّهْرِ“ جب تک کہ زمانہ باقی رہے اس وقت تک تو بھی باقی رہے۔ ”يَا كَهْفَ أَهْلِهِ“ اے لوگوں کے ماویٰ اور ملجا! کہف اصل میں کہتے ہیں غار کو۔ اے لوگوں کے ماویٰ اور ملجا! تو اس وقت تک باقی رہے جب تک کہ مخلوق جب تک کہ یعنی کہ زمانہ باقی رہے۔ اس سے اس ابتدائے کلام سے یہ سمجھ آ رہا ہے کہ یہ شاعر اپنی انتہائے کلام دعا پر کرے گا۔ ظاہر ہے ابتداء بھی دعا پہ چل رہی ہے، کہ تو باقی رہے جب تک کہ زمانہ باقی رہے۔ ”بَقِيتَ بَقَاءَ الدَّهْرِ يَا كَهْفَ أَهْلِهِ وَهَذَا دُعَاءٌ لِلْبَرِيَّةِ شَامِلُ“ اور یہ دعا ساری کی ساری مخلوق کو شامل ہے۔ اس لیے کہ جب تو زندہ رہے گا نا، تو یقیناً تیری یعنی کہ تیری زندگی کی وجہ سے لوگوں کو عطایا ملیں گی، اور جب لوگوں کو عطایا ملیں گی تو یقیناً لوگ بھی تیرے لیے دعائیں کریں گے۔ وہ ایک قصہ مشہور ہے نا، کہ وزیر خزانہ جو ہے وہ فقراء کو قرض دیا کرتا تھا اور واپسی کی تاریخ یہ طے کرتا تھا کہ جس دن بادشاہ کا انتقال ہو گا اس دن ہم آپ سے قرضہ واپس لیں گے۔ بادشاہ کو اس بات کی خبر ہوئی اس نے کہا حضرت یہ آپ نے کیا کیا؟ کہ یعنی میری موت کے دن کے ساتھ آپ نے قرضے کی واپسی کو مشروط کیا ہے؟ اس نے کہا حضور میں نے آپ کے لیے اس میں بہتری کی ہے۔ میں نے کہا ہے کہ جب بادشاہ سلامت کا انتقال ہو گا تب آپ قرضہ واپس کریں گے۔ اب لوگ تو قرضہ واپس کرتے نہیں، لہٰذا لوگ دعائیں یہ کریں گے کہ اللہ بادشاہ سلامت کی عمر اور بڑا، اور لمبی کر۔ اسی طرح یہ شاعر بھی کہتا ہے کہ آپ کی عمر جب تک کہ زمانے کی گردش چلتی رہے آپ کی عمر چلتی رہے اور ہمیں کچھ نہ کچھ وصولی ہوتی رہے۔ ٹھیک ہے؟ کیوں؟ اس کی دلیل بتا رہے ہیں ”لِأَنَّ بَقَاءَكَ سَبَبٌ لِنِظَامِ أَمْرِهِمْ وَصَلَاحِ حَالِهِمْ“ یہ یعنی آپ کا باقی رہنا یہ لوگوں کے انتظامات چلنے کا سبب ہے اور ان کے حالات کے بہتر ہونے کا سبب ہے۔ یہاں تک دونوں شعر بیان کرنے کے بعد مصنف علیہ الرحمہ درمیان میں بطور جملہ معترضہ کے یہ فرما رہے ہیں کہ خاتمہ کے اندر آپ نے ابتداء، تخلص اور انتہاء، جو تین چیزوں کا تذکرہ پڑھا، اس کے اوپر زیادہ زور متأخرین نے دیا ہے۔ متقدمین اس طرف نہیں گئے۔ انہوں نے اس کام سے تساہل کیا ہے، وہ اس طرف نہیں گئے۔ کہتے ہیں ”وَهَذِهِ الْمَوَاضِعُ الثَّلَاثَةُ يُبَالِغُ الْمُتَأَخِّرُونَ فِي التَّأَنُّقِ فِيهَا“ یہ تین جگہیں ایسی ہیں کہ متأخرین نے اس کو بہتر سے بہتر بنانے میں کوشش کی ہے اور مبالغہ کیا ہے ”أَمَّا الْمُتَقَدِّمُونَ فَقَدْ قَلَّتْ عِنَايَتُهُمْ بِذَلِكَ“ باقی جو متقدمین ہیں ان کی عنایات اور توجہات اس کی طرف بہت کم رہی ہیں۔ ”وَجَمِيعُ فَوَاتِحِ السُّوَرِ وَخَوَاتِيمِهَا وَارِدَةٌ عَلَى أَحْسَنِ الْوُجُوهِ“ اور قرآن پاک کی جو سورتیں ہیں ان کے ابتدائیے اور ان کے انتہاء، ابتداء اور انتہاء وہ سب سے بہترین اسلوب پر وارد ہوئے ہیں۔ ”وَأَكْمَلِهَا مِنَ الْبَلَاغَةِ“ اور بلاغت کے مکمل ترین طریقے سے واقع ہوئے ہیں۔ کیوں؟ اس میں جو خوبیاں ہیں ابتداء اور انتہاء میں، مثال کے طور پر ”لِمَا فِيهَا مِنَ التَّفَنُّنِ“ اس میں تفنن فی العبارات ہیں، بدل بدل کر عبارات۔ ایک چیز ہوتی ہے بدل بدل کے اس کو ذکر، دیکھیں موسیٰ علیہ السلام کا قصہ تقریباً سولہ مرتبہ ذکر ہوا ہے اور بدل بدل کر تعبیر سے ذکر ہو رہا ہے۔ کہیں جناب قسم کے الفاظ ہیں، کہیں خطاب کے الفاظ ہیں، کہیں ہولناکیوں سے ہیں۔ ٹھیک ہے یا نہیں؟ تو یہ تفنن فی العبارات اس میں آتی ہیں ابتداء اور انتہاء میں اور اشارات کی اقسام بھی ہیں، دعائیں بھی ہیں، وصیتیں بھی ہیں، وعظ بھی ہیں، تحمیدات بھی ہیں، ”سَبَّحَ لِلَّهِ“، ”اَلْحَمْدُ لِلَّهِ“ ٹھیک ہے؟ تو تحمیدات بھی ہیں ”مِمَّا وَقَعَ مَوْقِعَهُ“ جو جہاں مناسب تھا وہ وہاں آیا ”وَأَصَابَ مَحَزَّهُ“ اور اپنے مقام تک پہنچا ”بِحَيْثُ تَقْصُرُ عَنْ كُنْهِ وَصْفِهِ الْعِبَارَةُ“ کہ جس کے وصف کی حقیقت سے عبارت قاصر ہے۔ انسانی عبارت اس حقیقت تک نہیں پہنچ سکتی، کہ ہر ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھا جائے ایسا ممکن نہیں ہے۔ کلام اللہ میں یہ چیز ہے۔ کیوں نہ ہو؟ کلام اللہ میں یہ چیز ہو گی اور ضرور ہو گی ”كَيْفَ لَا وَكَلَامُ اللَّهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى فِي الرُّتْبَةِ الْعُلْيَا مِنَ الْبَلَاغَةِ وَالْغَايَةِ الْقُصْوَى مِنَ الْفَصَاحَةِ“ اللہ کا کلام جو ہے وہ بلاغت کے اعلیٰ مرتبے کو پہنچا ہوا ہے اور فصاحت کے انتہائی درجے کو پہنچا ہوا ہے۔ اللہ کا کلام کیوں ان یعنی کمالات پر مشتمل نہیں ہو سکتا؟ اللہ کا کلام ضرور بالضرور مشتمل ہو گا۔ ”وَقَدْ أَعْجَزَ مَصَاقِعَ الْبُلَغَاءِ“ مصاقع مِصْقَع کی جمع ہے، کہ جس نے جس کلام نے آ کر مصاقع، مصقع اس کو کہتے ہیں، اس بلیغ آدمی کو کہتے ہیں جو بلند آواز سے کلام کرنا جانتا ہو۔ یعنی اس کے فصیح اور بلیغ ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ وہ کلام اللہ جس نے بڑے بڑے بولو قسم کے بلغاء کو عاجز کر کے رکھ دیا ہے، ”وَأَخْرَسَ شَقَاشِقَ الْفُصَحَاءِ“ اور جس نے آ کر شقاشق کہتے ہیں اصل میں اونٹ کی وہ مستی کی آواز، جو مستی میں آواز نکالتا ہے، یعنی جو فصحاء ہیں جو اپنے یعنی انتہاء کو جا کے پہنچ کے جو ان کا کلام پہنچتا ہے، ایسے لوگوں کو بھی آ کر قرآن نے عاجز کر دیا۔ وہ مولانا ذکی کیفی رحمۃ اللہ علیہ نے وہ ایک نظم میں کہا ہے نا: اے حق کے پرستارو صداقت کے نقیبو اے منبر و محراب کے پرزور خطیبو اے گرم سخن شاعرو فنکارو ادیبو اب اپنا قلم توڑ کے تلوار بنا لو اے مذہب اسلام کے جانباز جیا لو اب دیکھیں، بڑے بڑے فصیح، لیکن دیکھیں یہ تو اردو کی مثال دی نا، اب عرب میں تو سبحان اللہ! امرؤ القیس ہے، بڑے بڑے شعراء ہیں، آپ نے یعنی متنبی کا کلام پڑھا ہے، آگے چل کے آپ حماسہ میں پڑھیں گے۔ یہ سب کے سب فصحاء کو کلام اللہ نے آ کے عاجز کر دیا ہے۔ تو جب یہ فصحاء اپنی کلام میں اس چیز کا خیال رکھتے ہیں، تو اللہ کی کلام میں کیا خوبیاں ہوں گی؟ سبحان اللہ! ”وَلَمَّا كَانَ هَذَا الْمَعْنَى“ یہ تمہید ہے اگلے متن کی۔ اگلے متن کی تمہید ہے کہ ”وَلَمَّا كَانَ هَذَا الْمَعْنَى مِمَّا يَخْفَى عَلَى بَعْضِ الْأَذْهَانِ“ یہ معنی کہ یہ مناسبت قرآن پاک کی ابتداء اور انتہاء کی خوبیاں، یہ ایسی چیزیں ہیں جو بعض اذہان پر مخفی رہ سکتی ہیں۔ ”لِمَا فِي بَعْضِ الْخَوَاتِيمِ“ وہ مخفی کیسے ہیں؟ ہم جیسے لوگوں کو سمجھ نہیں آتی کہ ابتداء اور انتہاء میں جوڑ کیسے ہے۔ وہ اس وجہ سے کہ بعض انتہاء اور بعض ابتداء، اس میں کہیں ہولناکیوں کا ذکر ہے، کہیں افظاع یعنی کہ ہولناکیوں کا اور کفار کے حالات کا ذکر ہے تو کہیں غضب کا ذکر ہے۔ ہمیں بظاہر آپس میں جوڑ نظر نہیں آتا۔ اس لیے مصنف فرماتے ہیں: ”أَشَارَ إِلَى إِزَالَةِ هَذَا الْخَفَاءِ بِقَوْلِهِ“ اس خفاء کو دور کرنے کے لیے مصنف علیہ الرحمہ نے اپنے متن کے آخری کلمات میں یہ ارشاد فرمایا: ”وَيَظْهَرُ ذَلِكَ بِالتَّأَمُّلِ مَعَ التَّذَكُّرِ لِمَا تَقَدَّمَ“ یہ ابتداء اور انتہاء میں مناسبت کلام اللہ کے اندر، یہ کب ظاہر ہو گی؟ جو آپ نے پیچھے پڑھا ہے وہ سارا کا سارا یاد ہو۔ ”يَظْهَرُ ذَلِكَ بِالتَّأَمُّلِ مَعَ التَّذَكُّرِ لِمَا تَقَدَّمَ“ جو بھی آپ نے پہلے پڑھ لیا ہو، پہلے آپ نے پوری کتاب پڑھی جس کا آپ نے امتحان دینا ہے، ٹھیک ہے نا؟ وہ سارا کا سارا آپ کو ذہن نشین ہو گا، پھر بات آپ کو سمجھ میں آئے گی۔ ”وَاللَّهُ أَعْلَمُ، وَأَحْكَمُ مِنَ الْأُصُولِ وَالْقَوَاعِدِ“ یہ لِمَا کا بیان فرماتے ہیں کہ پہلے آپ نے کیا کچھ پڑھا ہے؟ وہ اصول اور ضوابط جو فنون ثلاثہ میں پڑھے ہیں، ”الَّتِي لَا يُمْكِنُ الِاطِّلَاعُ عَلَى تَفَارِيعِهَا وَتَفَاصِيلِهَا“ اس کی تفریعات اور تفصیلات پر تو کسی انسان کے لیے کے بس میں نہیں ہے کہ وہ مکمل طریقے سے اس پر اطلاع پائے۔ ہاں! اور خصوصاً جو کلام اللہ میں جو تفصیلات آئی ہیں، مناسبات آئی ہیں، اس میں تو کوئی اطلاع پا ہی نہیں سکتا، سوائے ”إِلَّا لِعَلَّامِ الْغُيُوبِ“ سوائے علام الغیوب ذات کے، وہ تو اس بات پر مطلع ہے۔ ”فَإِنَّهُ يَظْهَرُ بِتَذَكُّرِهَا“ ان اصولوں کو یاد کرنے سے یہ بات ظاہر ہو گی ”أَنَّ كُلًّا مِنْ ذَلِكَ وَقَعَ مَوْقِعَهُ بِالنَّظَرِ إِلَى مُقْتَضَيَاتِ الْأَحْوَالِ“ کہ قرآن پاک میں جو جو حالات جہاں جہاں بیان کیے گئے ہیں، وہ اپنی اپنی جگہ پر ہیں اور مقتضی الحال کے موافق ہیں۔ یہ ان اصول کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات سامنے آئے گی۔ دیکھیں بار بار مقتضی الحال کا بتا رہے ہیں، کہ کلام کو مقتضی الحال کے مطابق۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مصری قاری صاحب کو تلاوت کے لیے بلایا گیا، کہیں انتقال ہو گیا، پتہ نہیں بیچارہ عالم نہیں تھا، تو اس نے اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کے بعد کہا: ”خُذُوهُ فَغُلُّوهُ ثُمَّ الْجَحِيمَ صَلُّوهُ“ اس بیچارے مردے کو تو اس نے جہنمی بنا دیا۔ سمجھ آئی کہ نہیں؟ تو اس لیے جو ہے نا کلام کو مقتضی الحال، جو موقع ہے اس کے مطابق کلام کرنا چاہیے۔ اسی پر بار بار زور دیا جا رہا ہے۔ ”وَأَنَّ كُلًّا مِنَ السُّوَرِ بِالنِّسْبَةِ إِلَى الْمَعْنَى الَّذِي تَتَضَمَّنُهُ مُشْتَمِلَةٌ عَلَى لُطْفِ الْفَاتِحَةِ“ تمام کی تمام سورتیں ان کے معنی کی طرف نسبت کرتے ہوئے مشتمل ہیں ابتداء کی خوبی پر ”وَمُنْطَوِيَةٌ عَلَى حُسْنِ الْخَاتِمَةِ“ اور جو مشتمل ہیں بہترین خاتمے پر۔ ابتداء بھی بہترین ہے، انتہاء بھی بہترین ہے لیکن یہ سمجھ آئے گی مختصر المعانی کی وجہ سے۔ ”خَتَمَ اللَّهُ لَنَا بِالْحُسْنَى، وَيَسَّرَ لَنَا الْفَوْزَ بِالدَّرَجَةِ الْقُصْوَى، بِحَقِّ النَّبِيِّ وَآلِهِ الطَّيِّبِينَ الطَّاهِرِينَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ“ اللہ تعالیٰ ہمارا خاتمہ بھی اچھا فرمائے اور ہمارے لیے انتہائی درجے کی کامیابی کو آسان فرمائے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے، آپ کے آل کے وسیلے سے، جو ظاہری بھی پاک ہیں، باطنی بھی پاک ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ان گنت رحمتیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اور تمام صحابہ پر نازل ہوں۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ یہاں تک تو ہوا ختم سبق۔ حضرت انشاءاللہ دعا فرمائیں گے، میرے لیے، آپ سب کے لیے خوش نصیبی ہے اور اس سے بڑھ کر خاص طور پر قابل صد مبارکباد ہیں آپ کے استاد کہ جن کو محض اللہ کی توفیق ہے۔ میں آتے ہوئے مولانا سے بھی ذکر کر رہا تھا کہ ہمارے استاد محترم کا یہ فیض ہے، آپ نے ان کے لیے خاص طور پر دعا کرنی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اور ترقیاں نصیب فرمائے۔ کہ مختصر المعانی کا ختم کرنا کم از کم مجھے تو یاد نہیں پڑتا، کیوں حضرت؟ یہ آج کل کے دور کی ایک کرامت ہے کہ مختصر المعانی کا، اور آپ کے لیے بھی واقعتاً بڑی سعادت ہے۔ آج کل کے دور میں ایسے استاد بہت کم، یا تو مولانا حسن صاحب اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے، یہ بیٹھے ہوئے ہیں، درویش اور قلندر آدمی، جن کا مقصد پڑھانا ہے، دین کی خدمت کرنا ہے، یا پھر اللہ تعالیٰ مولانا زہیر صاحب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ اور خاص طور پر ان کے لیے یہ دعا کرنی ہے، حضرت سے بھی میں درخواست کروں گا کہ ان کے لیے یہ دعا فرمانی ہے آپ نے اور تمام ساتھیوں نے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے والد صاحب کا، ہمارے استاد محترم کا صحیح جانشین بنائے۔ جس طرح حضرت کا سبحان اللہ تبحر علمی تھا، آپ لوگوں نے تو سنا ہو گا نا، ہم نے دیکھا۔ حضرت ماشاءاللہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ حضرت جب دلائل کے میدان میں بحث شروع کرتے تھے نا، یقین سمجھیے یہ مختصر المعانی کے مصنف علامہ سعد الدین تفتازانی، اس وقت یوں سمجھ میں آتا تھا کہ ایک تفتازانی یہ مختصر المعانی والے ہیں اور ایک علامہ تفتازانی رحمہ اللہ ہمارے دور کے یہ علامہ مولانا موسیٰ رحمہ اللہ تعالیٰ موجود تھے۔ سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ نے ان کو علم میں بہت زور دے رکھا تھا۔ اور میں سمجھتا ہوں یہ انہی کی کرامت اور انہی کی برکات اور اخلاص کا نتیجہ ہے کہ آج اللہ کے فضل و کرم سے یہ مختصر المعانی جیسی مغلق کتاب آپ کے سامنے مکمل ہو رہی ہے۔ میں حضرت سے درخواست کرتا ہوں کہ حضرت آپ میرے لیے بھی دعا کریں، مولانا زہیر کے لیے بھی، آپ سب کے لیے خاص دعا ہو۔ اللہ رب العزت کا بہت بڑا فضل اور احسان ہے۔ اللہ رب العزت نے محض اپنے فضل و کرم سے اپنے بندوں کو اپنی اپنے دین کے سیکھنے کے لیے قبول فرما لیا ہے۔ اس کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ ہمارے ایک نیک بڑے استاد ہسپتال میں بیمار ہوئے تو میں ان کی عیادت کے لیے حاضر ہوا۔ تو حضرت استاد فرمانے لگے، فرمایا: مولوی صاحب ساڈا کوئی کمال نہیں، اے رب دا فضل اے اوتھوں چک کے ایتھے بٹھا چھڈیا۔ یہ خاص اللہ پاک کا احسان ہے۔ ہمارے ایک نیک استاد فرمانے لگے، فرمایا: یہ علم دین کی نعمت ہے۔ فرمایا: یہ کسبی نہیں ہے بلکہ وہبی ہے۔ کیونکہ اللہ رب العزت کا ارشاد: ”يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا“ يُؤْتِي یہ ایتاء سے ہے، باب افعال کا صیغہ۔ ایتاء کا معنی ہے دینا۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں: ”يُؤْتِي الْحِكْمَةَ“ کہ جس کو ہم چاہتے ہیں اس کو حکمت عطا کر دیتے ہیں۔ اور حکمت کا معنی آپ جلالین میں پڑھیں گے، حکمت کا معنی ہے: ”الْعِلْمُ النَّافِعُ الْمُؤَدِّي لِلْعَمَلِ“ حکمت اس علم نافع کو کہتے ہیں جو آدمی کو عمل تک پہنچا دے۔ آپ حضرات کا تو بہت بڑا مقام ہے۔ ہمارے استاد حضرت مولانا محمد نبی صاحب مدرسے میں تشریف لائے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مبارک ارشاد پڑھا: ”مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ“ جو طالب علم علم دین کی تلاش کے لیے نکلتا ہے، محض طلب کی برکت سے اللہ پاک اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتے ہیں۔ دیکھو، یہاں پر صرف طلب کا ذکر ہے، کوئی ذہانت کا ذکر نہیں ہے، لیاقت کا ذکر نہیں ہے، بس ایک طلب والی شکل ہو، محنت اور کوشش والی شکل ہو۔ ہاں، پھر اللہ پاک اپنی رحمت سے خود پر لگا دیتے ہیں۔ جب اللہ قبول فرما لیتے ہیں تو پھر اللہ پاک کام لینے کا طریقہ، وہ خود اللہ پاک دل میں القاء کر دیتے ہیں۔ ہمارے مظاہر ایک چھوٹی سی کتاب علامات میں بھی ہم نے وہ واقعہ لکھا، ہمارے بڑے استاد چوہڑجی والے، جب ہم پڑھتے تھے ہدایت النحو، تو اس میں وہ سناتے تھے کہ ایک طالب علم وہ پڑھتا تھا، بہت کمزور، ذہن کے اعتبار سے بیچارہ بہت غبی۔ اس کو سبق کا پتہ نہیں چلتا تھا کہ میں نے کہاں سے پڑھنا ہے۔ تو اس نے وہ سبق کو معلوم کرنے کے لیے وہ کتاب کے اندر ایک نشانی رکھی ہوتی تھی۔ وہ نشانی کے ذریعے پہچانتا تھا کہ یہاں سے میں نے پڑھنا ہے۔ تو طلبہ ہر زمانے میں کچھ نہ کچھ شرارتیں کرنے والے تو ہوتے ہیں، تو وہ طلبہ اس نشانی کو اٹھا کر کبھی وہ آگے جا کر رکھ دیتے اور وہ صبح استاد کی خدمت میں حاضر ہوتا، تو جہاں اس کی نشانی ہوتی وہاں سے وہ سبق کھولتا۔ تو استاد کہتے: بھئی خدا کے بندے! یہ تو آپ نے پڑھا نہیں، یہاں سے آپ نے کھول لیا سبق؟ تو وہ کہتا: استاد جی بس میری نشانی یہاں پر ہے، یہیں سے پڑھائیں۔ تو استاد بھی اللہ والے، وہاں سے پڑھا دیتے۔ پھر کبھی ایسا ہوتا کہ وہ وہ نشانی کو اٹھا کر کہیں شروع میں رکھ دیا، اور صبح گیا تو جہاں نشانی ہوتی وہاں سے وہ سبق کھول لیتے، تو استاد فرماتے: بھئی یہ تو آپ نے ایک مہینہ پہلے پڑھ لیا ہے سبق؟ وہ کہتا: نہیں استاد جی، نشانی یہاں پر ہے، بس یہیں سے پڑھائیں۔ استاد وہاں سے پڑھا دیتے تھے۔ لیکن حضرت استاد فرماتے ہیں، فرمایا کہ اس طالب علم کی محنت کا یہ عالم تھا کہ چارپائی پر یوں کتاب رکھی ہوتی، بس یوں یوں سر جھکائے، یوں بس دونوں ہاتھ یوں رکھے ہوتے اور بس وہ ساری ساری رات کتاب دیکھتا رہتا، بھئی یہ۔ تو بھئی اللہ پاک کی ذات بڑی رحیم و کریم ذات ہے۔ اللہ اپنے بندوں کی محنت کی یہ کوشش اس کے اوپر اللہ اپنی رحمت کا فیصلہ فرمائیں گے۔ بس لگے رہو، اپنی یہ طلب والی شکل یہ بنائے رکھو۔ بس الحمد للہ اس طلب کی برکت سے اللہ پاک کی ذات آپ سے کیا کام لیں گے، یہ اس کا تصور نہیں ہے۔ جیسے ”وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ“ جیسے اللہ پاک رزق معنوی، یہ اللہ پاک اپنے خزانہ غیب سے عطا فرماتے ہیں، آپ کے تصور میں نہیں ہوتی۔ ہمارے ایک مولانا صاحب تھے، بڑے خطیب ہیں، وہ فرمانے لگے کہ تین چیزیں موجود ہیں لیکن کسی کو نظر نہیں آتی۔ فرمایا وہ سانپ کے پاؤں ہوتے ہیں لیکن کسی کو نظر نہیں آتے، اور چیونٹی کی آنکھیں ہوتی ہیں لیکن کسی کو نظر نہیں آتی، فرمایا مولوی کا رزق ہوتا ہے لیکن کسی کو نظر نہیں آتا۔ یہ ہے، ہنسی رہتی ہے بھئی۔ تو جیسے اللہ پاک رزق معنوی، ہمارے حضرت مولانا ادریس صاحب ہوشیار پوری صاحب ہیں، خطبات ہیں سحر الاسلام کے، وہ طلبہ کو خطاب کر رہے ہیں تو بس وہ چٹائی کو اٹھا کر کہتے، فرمایا ان کے فرمایا ان کے نیچے خزانہ چھپا ہوا ہے، ان چٹائیوں کو نہیں چھوڑنا، یہ جو نیٹ مات ہے۔ یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے۔ صبح اللہ پاک کا بہت بڑا فضل و کرم ہے کہ اللہ نے اپنے بندوں کو چن لیا، پھر الحمد للہ ماشاءاللہ بلاغت ہے یہ آپ نے پڑھی ہے۔ جلالین میں تو قرآن پاک کے اعجاز کی جو بڑی وجہ ہے وہ فصاحت اور بلاغت ہے۔ ہمارے حضرت شیخ صاحب نے فصاحت اور بلاغت کے موٹے موٹے لفظوں میں فرمایا بلاغت کسے کہتے ہیں؟ جیسے حضرت استاد جی فرما رہے ہیں کہ موقع محل کی مناسبت سے بات کرنا، یہ بلاغت ہے۔ ”مُطَابَقَةُ الْكَلَامِ لِمُقْتَضَى الْحَالِ“۔ ہمارے مدرسے میں بلوچستان کے ایک وزیر ہیں، اب تو شاید ہیں کہ نہیں، پہلے تھے، لیکن وہ عالم بھی ہیں، بڑے پختہ عالم۔ تو ان کے ساتھ ایک بلوچستان کے کسی مدرسے کے بڑے شیخ الحدیث بھی تھے۔ تو وہ وہ تشریف لا رہے تھے، تو راستے میں اوکاڑہ میں حضرت مولانا میر حسین گیلانی صاحب جمیعت علمائے اسلام پنجاب کے امیر ہیں، وہ ان کے پاس ٹھہرے۔ تو وہاں جو وزیر تھے وہ بھی عالم تھے، تو ان کو فرمایا کہ آپ ذرا بیان کریں یہاں پر۔ اب انہوں نے جب بیان کیا تو بیان ذرا کچھ وہ لمبا کیا بیان، تو وہ شیخ الحدیث صاحب فرمانے لگے، فرمایا کہ ان کا یہ بیان مقتضائے حال کے مطابق نہیں تھا۔ تو وزیر صاحب کہنے لگے، فرمایا کہ وہاں مقتضائے حال آپ نہیں تھے بلکہ عوام تھی، تو چونکہ ان کی مناسبت سے میں نے لمبا کیا بیان۔ تو موقع محل کی مناسبت سے، الحمد للہ! یہ قرآن پاک میں اللہ، الحمد للہ اس بلاغت کا اجراء اب اس کے اوپر تو اللہ کا شکر ہے، تو مستقل اس کے اوپر تفاسیر آ چکی ہیں، قرآن پاک کی بلاغت اور فصاحت کو بیان کرنے کے لیے۔ الحمد للہ آپ حضرات نے مختصر المعانی میں تینوں فن پڑھ لیے، تو ان کا مطالعہ خوب کریں، مطالعہ کرتے رہیں، کوشش کرتے رہیں، آہستہ آہستہ اللہ پاک کھولیں گے، اللہ اپنی رحمت سے کھولیں گے۔ جتنا آپ پڑھیں گے، ہمارے اکٹیک سلسلے میں ہوتے ہیں، حضرت مولانا غفور صاحب دامت برکاتہم العالیہ، حضرت تشریف لائے تو فرمایا کہ ابتداء میں استاد اور شاگرد کے درمیان وہ نسبت تباین کی ہوتی ہے۔ تو استاد کتاب سے ایک مفہوم کو سمجھ رہا ہے، طالب علم بالکل نہیں سمجھ سکتا۔ لیکن فرمایا جب طالب علم محنت کرتا ہے، کوشش کرتا ہے، تو فرمایا آہستہ آہستہ ان کے درمیان، استاد اور شاگرد کے درمیان نسبت عموم و خصوص من وجہ کی ہو جاتی ہے۔ فرمایا پھر ایک وقت آتا ہے کہ استاد اور شاگرد مادہ اجتماعی کے اندر دونوں جمع ہو جاتے ہیں۔ تو جو کتاب سے استاد سمجھ رہے ہیں بالکل ہو بہو وہی شاگرد سمجھ لیتا ہے۔ لیکن کوشش کرنی ہے۔ بعض ساتھی کہتے ہیں ہمیں کچھ سمجھ نہیں آتی، یہ بھی کسر نفسی والا جملہ ہے۔ جو آپ حضرات سالبہ کلیہ استعمال کرتے ہیں نا کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آتی، یہ بھئی یہ آپ کی کسر نفسی تو ہو سکتی ہے، الحمد للہ کتاب کھول کر جب مطالعہ کریں گے تو کچھ نہ کچھ بات ضرور پلے پڑے گی۔ ایک ساتھی میرے پاس آئے کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آتی، میں نے تھوڑی سی عبارت پڑھی: ”فَفَرْضُ الطَّهَارَةِ غَسْلُ الْأَعْضَاءِ الثَّلَاثَةِ وَمَسْحُ الرَّأْسِ“ اب فرض کا معنی کیا ہے؟ طہارت کا، وہ سارے معنی بتلا دیے۔ پھر میں نے عرض کیا کہ بھئی آپ نے یہ کیسے کہہ دیا کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آتی؟ کم از کم حروف جارہ کا معنی تو آپ کو سمجھ میں آئی جائے گا۔ فی کا معنی کیا ہے؟ میں ہے۔ یعنی کتاب کو دیکھنے کی کوشش کریں گے آہستہ آہستہ پھر اللہ اپنی مہربانی فرما دیتے ہیں، لگنے کے ساتھ ساتھ اللہ پاک کی ذات اپنی رحمت سے سلسلے کھولتے ہیں۔ اللہ اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، پھر اپنے اساتذہ کی دعاؤں کے ساتھ، اپنے والدین کی خدمت اور ان کی دعاؤں کے ساتھ، یہ دعائیں پھر یہ اس کے اندر میں آپ کو عرض کر دوں اس کے اندر برکت ڈال دیتی ہیں۔ بعض دفعہ بزرگوں کی کوئی دعا ایسی ہوتی ہے، گھڑی ایسی ہوتی ہے، الحمد للہ وہ صدیوں کا سفر اللہ پاک لمحوں میں طے فرما دیتے ہیں۔ آتا ہے نا؟ جب آدمی لگا رہتا ہے اللہ پاک کی بارگاہ میں، ”مِنْ لَدُنِّي عِلْمًا“ پھر اللہ پاک اپنی طرف سے علم عطا فرماتے ہیں جو کتابوں میں آپ نے پڑھا ہوا نہیں ہو گا لیکن اللہ پاک کھول دیں گے، سینے کو کھول دیں گے۔ تو اللہ پاک کی ذات اللہ ہمارے سب نیک جذبوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ ہمارے حضرت شیخ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ، یہ تو الحمد للہ وہ محتاج تعارف نہیں تھے۔ ان کی شخصیت تو وہ ماشاءاللہ وہ شمس، بلکہ اظہر من الشمس تھی۔ ہمارے شیخ صاحب کا طلبہ کے ساتھ انتہائی شفقت کا معاملہ ہوتا تھا، بہت۔ انتہائی شفقت، محبت، یہ سارا سلسلہ۔ تو جو غریب طلبہ ہوتے ان کے لیے علیحدہ باقاعدہ ان کی خدمت کا سلسلہ ہوتا، کسی ایک ساتھی کو مقرر فرما دیتے تھے۔ میرا خیال ہے جس سال دورے میں میں تھا تو اس سال الحمد للہ اس سال وہ برف کا کام میرے ذمہ ہوتا تھا، طلبہ کو پانی پلانا تو وہ الحمد للہ ہفتے کے بعد حضرت استاد جی میرے خیال کبھی سو روپے، کبھی ڈیڑھ سو روپے اکٹھے دے دیتے۔ تو پھر یہ کام، برف لانی ہے، جو یہ یہاں ہوتی تھی، برف کی جگہ بنی ہوئی تھی وہاں سے لیتے۔ سب تو ایک زمزم کی بوتل حضرت استاد وہ الحمد للہ تقریباً ایک دو ماہ تو چلتی تھی، پھر اس کے بعد اور پانی، یعنی گرمیوں کے موسم میں سب طلبہ زمزم کا پانی پیتے تھے۔ یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے۔ اپنے اب اللہ کا شکر ہے، الحمد للہ اللہ پاک نے ہمارے حضرت بھئی مولانا زہیر صاحب یہ الحمد للہ اللہ پاک کی ذات اللہ ہر قسم یعنی سب بیٹوں کو اللہ اپنی بارگاہ میں خوب برکتوں سے نوازے۔ اساتذہ کی یہ روحانی اور نسبی اولاد، یہ ان کا فیض جاری ہے۔ جاری و ساری رہے گا۔ یعنی اصل ہمارا یہ جو اولاد، بلکہ یہ جو روحانی تعلق ہے یہ ہے اصل یاد رکھیں۔ نسبی اولاد، اللہ ان کو بھی روحانی اولاد میں شامل فرما لے، یہ اس کی برکت سے۔ ہمارے حضرت استاد مولانا عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ، ظاہر پیر والے، وہ تشریف لائے، فرمانے لگے، فرمایا: نسبی اولاد کو دیکھنے سے آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں، روحانی اولاد کو دیکھنے سے آنکھیں بھی ٹھنڈی ہوتی ہیں، دل بھی ٹھنڈا ہوتا ہے۔ اس لیے نسبی اولاد کے لیے بھی دعا یہی کرنی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی روحانی اولاد میں شامل فرما کر اس علم اور اپنے دین کی اشاعت کا اور خدمت کا اللہ ان کو ذریعہ بنائے۔ اور اس میں لگے رہنا، چمٹے رہنا، اس راستے کو نہیں چھوڑنا ہے۔ یہ چٹائیوں والا راستہ ہے اس کو نہیں چھوڑنا ہے۔ یہ راستہ ایسا ہے سیدھا جنت کے دروازے کے اوپر جا رہا ہے۔ اللہ اس کام کی بس تھوڑا بھی ہو، آگے اللہ پاک ساری خوشیاں آگے دکھلائیں گے اس کام میں، اس کی برکت سے۔ اللہ اپنی مہربانی فرمائے، اللہ اپنا فضل شامل حال فرمائے۔ ہمارے والد صاحب کا جو پڑھنے کا عرصہ تھا تقریباً کوئی چالیس سال کا عرصہ ہے۔ ہندوستان سے پڑھنا شروع کیا، اخیر عمر تک پڑھتے ہی رہے نا اس لیے۔ ہمارے بارے میں تو پوچھتے۔ ہم جب پڑھتے تھے کبھی کبھی ایسا ہوتا میں بھی اپنے والد صاحب کے ساتھ اکٹھے ہی ہمارا سفر ہوتا تھا، میں اپنے مدرسے میں چلا جاتا والد صاحب اپنے۔ تو ہمارے بارے میں والد صاحب سے لوگ پوچھتے کہ آپ ان کو کیوں پڑھا رہے ہو یہ؟ دین کیوں پڑھا رہے ہو؟ بس ایک ہی جواب ہوتا تھا کہ اللہ کی رضا کے لیے پڑھا رہے ہیں، بس اور کچھ نہیں۔ تو بس بھئی، یہ جو نیک راستہ ہے اس کی برکت سے ساری بہاریں، ساری خوشیاں اللہ پاک نے اس میں چھپا رکھی ہیں۔ الحمد للہ آپ حضرات سے اللہ کیا کام لیں گے، اس کا تصور نہیں۔ کام تو یہ مقصد تو اللہ پاک کی رضا ہے، چاہے وہ مسجد میں جھاڑو کا کام لے لیں، مسجد کی مؤذنی کا کام لے لیں، مقصد تو ان کی رضا ہے۔ ایک بزرگ فرمانے لگے، فرمایا: اللہ پاک کی ذات بادشاہوں کی بادشاہ ہے۔ بادشاہ کو خوش کرنے کے لیے کوئی خزانہ پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ادا دکھانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کون سی ادا اللہ پاک کی بارگاہ میں پسند آ جائے اور اس کی برکت سے بیڑا پار ہو جائے۔ تو اس نیک راستے میں اپنے آپ کو لگائے رکھنا ہے۔ یہ الحمد للہ انشاءاللہ اللہ کی رحمت سے یہاں بھی اللہ اس کی برکت سے خوشیاں دکھلائیں گے، آگے بھی خوشیوں کا بہت بڑا سلسلہ ہے۔ سارے غم اللہ پاک دور کر دیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم، آپ کے بارے میں جب تسلی دی: ”وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى“ اے میرے محبوب! ہم آپ کو اتنا دیں گے کہ آپ خوش ہو جائیں گے۔ فرمایا آپ کے غلاموں کو بھی اللہ پاک اتنا دیں گے کہ ان سب کو خوش کر دیں گے۔ یہاں چاہے تھوڑے سے حالات بھی آئیں، مصائب بھی آئیں، پریشانی بھی ہو لیکن گھبرانا نہیں۔ بس آخر میں ہمارے مولانا، ایک دفعہ ہمارے مولانا اعظم طارق صاحب شہید رحمہ اللہ تعالیٰ مدرسے میں تشریف لائے، تو وہاں طلباء میں بڑی عمدہ بات کی، فرمایا: یہ دنیا کی ظاہری چیزوں کو دیکھ کر کبھی احساس کمتری کا شکار نہ ہونا کہ ہمارے پاس کیا ہے اور ان کے پاس کیا ہے۔ فرمایا بڑی عمدہ، فرمانے لگے، فرمایا اگر تم دنیا کی ظاہری زیب و زینت کی چیز کو دیکھ کر احساس کمتری کا شکار ہوئے، کہ دولت تو ان کے پاس ہے ہمارے پاس کیا ہے، فرمایا پھر تو فرمایا تمہاری مثال اس طرح ہے کہ ایک آدمی لال قلعے کے برج کے اوپر کھڑا ہو، اور قریب سے ایک گندا نالہ بہہ رہا ہے اور اس میں ایک آدمی تیر رہا ہے، یہ لال قلعے کے برج کے اوپر کھڑا ہونے والا شخص کہے کہ کاش کہ میں اس جیسا ہو جاؤں جو گندے نالے میں تیر رہا ہے۔ اب آپ بتاؤ لوگ کیا کہیں گے؟ یہ کتنی بڑی کم فہمی کی، یہ کم فہمی کی علامت ہے۔ تو بس سمجھو یہی، کہ آپ جس راستے میں لگے ہوئے ہیں، سمجھ لو یہ لال قلعے کے برج سے بھی زیادہ بلند ہے۔ دنیا کی ظاہری زیب و زینت یہ سب عارضی ہے، اس سے آپ نے متاثر نہیں ہونا۔ اس نیک راستے میں اپنے آپ کو لگائے رکھنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، اپنی رضا اور خوشنودی نصیب فرمائے۔ آمین۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ۔ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ وَأَدْخِلْنَا الْجَنَّةَ مَعَ الْأَبْرَارِ يَا عَزِيزُ يَا غَفَّارُ، يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ۔ یا اللہ! یا اللہ! یہ کتاب کا نیک اختتام ہوا ہے، یا اللہ اس کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔ یا اللہ ہمارے جتنے بھی طلباء ہیں سب کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔ یا اللہ ان کے پڑھنے کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔ ان کو شکر کے ساتھ اپنے دین کی خدمت میں لگے رہنے کی توفیق عطا فرما۔ ہر قسم کی آفات اور بلیات سے محفوظ فرما۔ یا اللہ ہمارے حضرت نیک استاد حضرت مولانا زہیر صاحب دامت برکاتہم العالیہ، یا اللہ ان کی عمر میں، اخلاص میں برکت نصیب فرما۔ یا اللہ ان کی اس نیک محنت اور کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔ یا اللہ شکر کے ساتھ اپنے دین کی خدمت میں لگے رہنے کی توفیق عطا فرما۔ یا اللہ ہمارے حضرت شیخ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ، یا اللہ ان کا ان کو صحیح جانشین بنا۔ یا اللہ ان کے نقش قدم پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرما۔ یا اللہ آخری سانس تک اپنے دین کی خدمت میں لگے رہنے کی توفیق عطا فرما۔ یا اللہ ہمارے حضرت استاد حضرت مولانا مفتی محمد زکریا صاحب دامت برکاتہم العالیہ، یا اللہ ان کی عمر میں، صحت میں برکت نصیب فرما۔ یا اللہ ان کے سایہ شفقت میں برکت عطا فرما۔ ان کے اہل خانہ کو خیر و برکت سے مالا مال فرما۔ سب بچوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔ یا اللہ ہمارے جتنے طلباء تشریف فرما ہیں، یا اللہ سب کے اہل خانہ کو خیر و برکت سے مالا مال فرما۔ ہر قسم کی آفات اور بلیات سے محفوظ فرما۔ یا اللہ ان سب کو اپنے والدین کے لیے، اساتذہ کرام کے لیے، سب کے لیے صدقہ جاریہ بنا۔ یا اللہ ان کی دنیا بھی اچھی بنا اور آخرت بھی اچھی بنا۔ آخری سانس تک اپنے دین پر قائم رہنے کی اور اس کی خدمت میں لگے رہنے کی اور اس کے ساتھ چمٹے رہنے کی توفیق نصیب فرما۔ ہر قسم کی آفات اور بلیات سے محفوظ فرما۔ یا اللہ تمام مدارس کی، تمام مکاتب کی، ہمارے تمام اساتذہ اور تمام طلباء کی حفاظت فرما۔ یا اللہ یا اللہ یا اللہ ہر قسم کی پریشانیوں سے محفوظ فرما، ہر قسم کی آفات سے محفوظ فرما۔ غیر ملکی طلباء کے بارے میں پریشانی ہے، یا اللہ اپنے فضل سے اس پریشانی کو دور فرما۔ ان کو اس نیک تعلیم کے سلسلے میں لگے رہنے کی توفیق عطا فرما۔ اور یا اللہ تمام مجاہدین جہاں جہاں اللہ پاک کے دین کی سربلندی کے لیے کوشاں ہیں، یا اللہ ان ان کی نیک مساعی کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما، اپنی مدد و نصرت شامل حال فرما۔ وَصَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَى خَيْرِ خَلْقِهِ مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔ دیوبند کے گلشن کا ہر پھول ہے نرالا دیوبند کے گلشن کا ہر پھول ہے نرالا ظلم و ستم کا جوبن پھر بھی نہ حق چھپایا دیوبند کے گلشن کا انگریز جابروں کی آنکھوں میں ڈالیں آنکھیں انگریز جابروں کی آنکھوں میں ڈالیں آنکھیں جبر و ظلم بھی ان کا ہنس کر گلے لگایا ظلم و ستم کا جوبن پھر بھی نہ حق چھپایا دیوبند کے گلشن کا وہ تھانوی، لاہوری، عبداللہ بہلوی بھی وہ تھانوی، لاہوری، عبداللہ بہلوی بھی ان اولیاء میں حضرت درخواستی بھی آیا ظلم و ستم کا جوبن پھر بھی نہ حق چھپایا دیوبند کے گلشن کا الیاس کی لحد پر ہو رحمتوں کی بارش الیاس کی لحد پر ہو رحمتوں کی بارش جس نے گلی گلی میں، جس نے گلی گلی میں اسلام کو پھیلایا ظلم و ستم کا جوبن پھر بھی نہ حق چھپایا دیوبند کے گلشن کا سید عطاء اللہ بخاری، قاسم نانوتوی بھی سید عطاء اللہ بخاری، قاسم نانوتوی بھی ان اولیاء میں حضرت، ان اولیاء میں حضرت مفتی حسن بھی آیا ان اولیاء میں حضرت مفتی حسن بھی آیا ظلم و ستم کا جوبن پھر بھی نہ حق چھپایا دیوبند کے گلشن کا امین صفدر اوکاڑوی، ادریس کاندھلوی امین صفدر اوکاڑوی، ادریس کاندھلوی ان اولیاء میں حضرت، ان اولیاء میں حضرت شیخ موسیٰ بھی آیا ان اولیاء میں حضرت شیخ موسیٰ بھی آیا ظلم و ستم کا جوبن پھر بھی نہ حق چھپایا دیوبند کے گلشن کا ملا عمر کی یا رب دے عمر میں تو برکت ملا عمر کی یا رب دے عمر میں تو برکت خلفائے راشدین کا، خلفائے راشدین کا پھر رنگ ہے دکھایا ظلم و ستم کا جوبن پھر بھی نہ حق چھپایا دیوبند کے گلشن کا تاریخ دیوبند میں غازی، ولی، مجاہد تاریخ دیوبند میں غازی، ولی، مجاہد شہداء کا رنگ دیکھا، شہداء کا رنگ دیکھا جب ورق ایک اٹھایا ظلم و ستم کا جوبن پھر بھی نہ حق چھپایا دیوبند کے گلشن کا امین صفدر اوکاڑوی، ادریس کاندھلوی امین صفدر اوکاڑوی، ادریس کاندھلوی ان اولیاء میں حضرت، ان اولیاء میں حضرت شیخ موسیٰ بھی آیا ان اولیاء میں حضرت شیخ موسیٰ بھی آیا ظلم و ستم کا جوبن پھر بھی نہ حق چھپایا دیوبند کے گلشن کا یہ طالبان... دعا بھی ہے، ساتھ ساتھ طالبان... اسلام کو بچا لے میرے کریم مولا قرآن کو بچا لے میرے رحیم مولا اسلام کو بچا لے میرے کریم مولا قرآن کو بچا لے میرے رحیم مولا تیرا حکم وہاں پر، تیرے نبی کا فرماں تیرے نبی کی سنت، تیرا وہاں پہ قرآن تیرا حکم وہاں پر، تیرے نبی کا فرماں تیرے نبی کی سنت، تیرا وہاں پہ قرآن قرآن کو بچا لے میرے کریم مولا قرآن کو بچا لے میرے رحیم مولا اسلام تیرا باقی، رہے قرآن تیرا باقی مسلم بھی ہو سلامت، رہے طالبان باقی اسلام تیرا باقی، رہے قرآن تیرا باقی مسلم بھی ہو سلامت، رہے طالبان باقی طالبان کو بچا لے میرے کریم مولا قرآن کو بچا لے میرے رحیم مولا مشکل کبھی نہ آئے، آئے تو پاس کر دے ہمارے دلوں کو مولا ایمان سے تو بھر دے مشکل کبھی نہ آئے، آئے تو پاس کر دے ہمارے دلوں کو مولا ایمان سے تو بھر دے خالد ہمیں بنا دے میرے کریم مولا خالد ہمیں بنا دے میرے رحیم مولا اسلام کو مٹانے جو بھی یہاں پہ آئے جرات ہمیں عطا کر ان کو سبق سکھائیں حیدر ہمیں بنا دے میرے کریم مولا حیدر ہمیں بنا دے میرے کریم مولا دین محمدی کے نغمے سناتے جائیں ہو گولیوں کی بارش تلواروں پہ ہو جائیں مرد میدان بنا دے میرے کریم مولا مرد میدان بنا دے میرے رحیم مولا آئے گی موت اک دن یہ فیصلہ ہے تیرا ہو گا بلند رتبہ ہر اک شہید تیرا شہداء سے تو ملا دے میرے کریم مولا شہداء سے تو ملا دے میرے رحیم مولا اسلام کو بچا لے میرے کریم مولا قرآن کو بچا لے میرے رحیم مولا