کتاب پر اگلا سبق دیکھیے بھئی۔ سبق ہشتم: استقراء اور تمثیل کا بیان۔ کسی کلی کی جزئیات میں ہماری جستجو کے موافق ہر ہر جزئی میں جب کوئی خاص بات ہم کو ملے، پھر اس خاص بات کا حکم ہم اس کلی کے تمام افراد پر کر دیں، تو یہ استقراء کہلاتا ہے۔ اگرچہ کوئی جزئی ایسی بھی ہونا ممکن ہو کہ اس میں وہ خاص بات نہ ہو۔ جیسے دہلی کا رہنے والا ایک کلی ہے، اس کی جزئیات وہ ہیں جو دہلی میں آدمی رہتے ہیں۔ ان میں ہم نے اپنی جستجو کے مطابق دیکھا کہ ہر ایک میں عقل ہے۔ اس کے بعد سے حکم عقلمند ہونے کا اس کلی کے تمام افراد پر کر دیا اور یہ کہا کہ دہلی کے سب رہنے والے عاقل ہیں۔ استقراء یقین کا فائدہ نہیں دیتا، اس لیے کہ ممکن ہے کہ کوئی آدمی دہلی کا رہنے والا ایسا بھی ہو کہ تمہاری تلاش میں نہ آیا ہو اور اس میں عقل نہ ہو۔ اچھا بھئی، آج ہم استقراء اور تمثیل کے بارے میں پڑھیں گے۔ آپ نے پڑھا تھا کہ حجت تین قسم پر ہے: قیاس، استقراء اور تمثیل۔ قیاس کے بارے میں آپ نے پڑھ لیا کہ قیاس وہ قول ہے جو دو یا زیادہ ایسے قضیوں سے مرکب ہو کہ اگر ان قضیوں کو مان لیا جائے، تو ایک تیسرا قضیہ بھی آپ کو ماننا پڑے گا اور اسے نتیجۂ قیاس کہتے ہیں۔ پھر آپ نے یہ بھی پڑھا کہ قیاس کی دو قسمیں ہیں: ایک قیاسِ اقترانی اور ایک قیاسِ استثنائی۔ قیاسِ اقترانی تو وہ ہے جس میں حدِ اوسط آتا ہے صغریٰ کے اندر بھی اور کبریٰ کے اندر بھی، اور پھر اس حدِ اوسط کو گرا کر اصغر اور اکبر کو آپس میں ملایا جاتا ہے تو نتیجہ نکل آتا ہے۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قیاسِ اقترانی۔ اقتران کا معنی ہے ملنا، تو چونکہ اس میں اصغر اور اکبر حدِ اوسط کے ساتھ ملے ہوتے ہیں اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ قیاسِ اقترانی۔ اور دوسرا قیاسِ استثنائی ہے جس میں حرفِ استثناء "لیکن" استعمال ہوتا ہے۔ اور قیاسِ استثنائی میں آپ نے پڑھا کہ اس میں دو مقدمے ہوں گے، پہلا مقدمہ شرطیہ ہوگا اور دوسرا مقدمہ قضیہ حملیہ ہوگا، اور دونوں کے درمیان حرفِ "لیکن" آئے گا۔ اور حرفِ "لیکن" کو حرفِ استثناء کہتے ہیں عربی زبان میں، اسی لیے اس قیاس کا کیا نام رکھا؟ قیاسِ استثنائی بھئی۔ تو قیاس کی بحث مکمل انہوں نے ذکر کر دی، آج کے سبق میں ہم استقراء اور تمثیل کے بارے میں پڑھیں گے بھئی۔ یہ آسان ہے بھئی۔ استقراء کا معنی ہے تلاش اور جستجو، تلاش اور جستجو اور کوشش بھئی، کوشش۔ اور استقراء اس چیز کا نام ہے کہ کسی چیز کے بارے میں آپ نے تلاش اور جستجو کی اور اس کے کچھ افراد میں آپ کو ایک بات معلوم ہوئی تو آپ نے تمام افراد پر وہی حکم لگا دیا۔ استقراء کا کیا معنی ہے؟ تلاش اور جستجو کرنا، کوشش کرنا۔ تو آپ نے تلاش اور جستجو کی کسی چیز کے بارے میں اور اس چیز کے افراد میں آپ کو ایک بات معلوم ہوئی، تو آپ نے اس بات کی نسبت اس کے تمام افراد کی طرف کر دی۔ اس کو کہتے ہیں استقراء۔ دیکھو مثال سے بات سمجھ میں آئے گی۔ مثلاً آپ نے اس مدرسے کے درجہ اولیٰ کے طلباء کے بارے میں تلاش اور جستجو کی اور ان میں سے بعض طلباء سے آپ ملے اور آپ نے ان کو جانچا اور پرکھا، تو آپ کو پتہ چلا کہ ان میں سے ہر ایک بڑا منطقی ہے۔ تمام طلباء کو تو نہیں پرکھا لیکن اکثر کو یا بعض کو کیا کیا آپ نے؟ پرکھ لیا۔ تو پرکھا آپ نے بعض کو ہے، تلاش اور جستجو بعض میں کی ہے لیکن حکم آپ ساروں پہ لگا دیتے ہیں اور کہتے ہیں درجہ اولیٰ والے تمام طلباء بڑے منطقی ہیں۔ تو دیکھا آپ نے تلاش اور جستجو کے بعد ایک حکم لگایا۔ یاد رکھیے یہ استقراء یقین کا فائدہ نہیں دیتا، اس لیے کیونکہ ہو سکتا ہے کوئی ایک طالب علم ایسا بھی ہو جس کو آپ نے پرکھا نہیں اور وہ ہو سکتا ہے منطقی نہ ہو بھئی۔ تو یہ یقین کا فائدہ نہیں دیتا۔ یقین کا فائدہ نہیں دیتا یعنی اس میں بات پکی نہیں ہوتی، ہاں غالب گمان ہوتا ہے کہ ایسا ہی ہے۔ ہم نے اکثر کو دیکھا اور پرکھا تو کیا معلوم ہوا کہ وہ جو ہیں بڑے ان میں سے ہر ایک بڑا منطقی ہے، تو باقیوں پر پرکھے بغیر ہی ہم نے حکم سب پہ لگا دیا کہ درجہ اولیٰ والے تو تمام طلباء ہی بڑے منطقی ہیں۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ استقراء۔ تو دیکھا پہلی مثال میں آپ نے استقراء کیا، تلاش اور جستجو کی، اور تمام طلباء میں کی یا بعض طلباء میں؟ بعض طلباء میں، چاہے آدھے میں کی چاہے آدھے سے بھی زیادہ کر دی لیکن تمام میں تو نہیں کی۔ تو یہ بعض میں آپ نے جستجو کی اور حکم کس پر لگا دیا آپ نے؟ تمام پر حکم لگا دیا، تو ہو سکتا ہے کوئی ایک آدھ طالب علم بعض طلباء ایسے بھی ہوں جو منطقی نہ ہوں، تو دیکھا استقراء یقین کا فائدہ نہیں دیتا۔ استقراء یقین کا فائدہ نہیں دیتا۔ یا یہ بھی ہو سکتا ہے آپ نے تو تمام طلباء کو پرکھا اور ہر ایک کو منطقی پایا، اب آپ کہیں درجہ اولیٰ والے تمام طلباء بڑے منطقی ہیں، لیکن ہو سکتا ہے کوئی ایک آدھ طالب علم رہ گیا ہو، آپ کو پتہ ہی نہیں چلا اور وہ رہ گیا۔ ہو سکتا ہے یا نہیں ہو سکتا؟ یا یوں کہیں دوسری مثال لے لیں بھئی اور وضاحت ہو جائے گی۔ جیسے نحوی حضرات ہیں، انہوں نے عربی زبان کے الفاظ میں سے ایک ایک کے بارے میں کوشش کی اور غور کیا اور تمام الفاظ کو پرکھنے کے بعد انہوں نے کہا کہ عربی زبان کے الفاظ تین قسم کے ہیں: یا اسم ہوگا یا فعل ہوگا یا حرف۔ اور دلیل کیا ہے؟ استقراء، تلاش۔ ہم نے تلاش کیا ہمیں یہی تین قسم کے الفاظ ملے، چوتھی قسم کا کوئی لفظ ملا ہی نہیں چوتھی قسم کا۔ لیکن پھر بھی احتمال ہے ہو سکتا ہے کوئی لفظ رہ گیا ہو، ان کی نظر میں نہ آیا ہو، احتمال ہے یا نہیں؟ لہٰذا استقراء یقین کا فائدہ نہیں دیتا، ہاں غالب گمان کا فائدہ دیتا ہے کہ ایسا ہی ہوگا، کیا ہے؟ ایسا ہی ہوگا۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ یا جیسے انہوں نے کتاب کے اندر مثال دی کہ آپ نے دہلی شہر کے رہنے والے ان لوگوں کے بارے میں غور کیا تو آپ نے دیکھا ان میں سے ہر ایک بڑا عقلمند ہے۔ تو آپ نے اکثر کے بارے میں غور کیا، ہر ایک کو آپ نے بڑا عقلمند پایا، تو آپ نے سب پر حکم لگا دیا کہ سارے دہلی والے بڑے عقلمند ہیں۔ آپ نے بعض میں تلاش اور جستجو کی، یا ہو سکتا ہے آپ نے ساروں میں ہی کر دی ہو اور آپ نے پھر تمام میں جستجو کرنے کے بعد کہا: دہلی کے تمام لوگ بڑے عقلمند ہیں، لیکن پھر بھی احتمال ہے یا نہیں؟ ہو سکتا ہے کوئی ایک آدھ رہ گیا ہو جس سے آپ کی ملاقات ہی نہ ہوئی ہو اور وہ عقلمند نہ ہو۔ تو لہٰذا معلوم ہوا استقراء وہ یقین کا فائدہ نہیں دیتا۔ یقین کا فائدہ نہیں دیتا یعنی اس میں بات پکی نہیں ہوتی، یقینی نہیں ہوتی، ہاں غالب گمان ہوتا ہے کہ بات اسی طرح ہوگی، ہم نے اپنی تلاش اور جستجو کی، ہم نے اپنی پوری کوشش کی اور جہاں تک ہماری کوشش تھی اس میں یہی معلوم ہوا۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ اچھی طرح؟ ہاں، بس یہ ہے استقراء بھئی۔ دیکھیے بھئی اب پھر ذرا آپ کتاب پر دیکھ لیں۔ کسی کلی کی جزئیات میں، کسی کلی کی جزئیات میں یعنی افراد میں۔ دیکھو درجہ اولیٰ والے، درجہ اولیٰ والے یہ کلی ہے نا، زید بھی درجہ اولیٰ میں پڑھتا ہے، بکر، خالد، جو بھی ہیں، درجہ اولیٰ والے یہ کیا ہے؟ کلی، اور اس کے افراد میں آپ جستجو کرتے ہیں۔ کیا کرتے ہیں؟ دہلی والے، دیکھو کلی ہے یا نہیں؟ دیکھو ہر دہلی والا آدمی اس کے اندر آگیا۔ عربی زبان کے الفاظ، دیکھو ہر لفظ اس کے اندر آگیا، تو یہ کلی ہے۔ تو کسی کلی کی جزئیات میں ہماری جستجو کے موافق، یعنی ہماری جستجو کے مطابق، ہر ہر جزئی میں جب کوئی خاص بات ہم کو ملے، ہر ہر جزئی میں یعنی ہر ہر فرد میں ہمیں خاص بات ملی۔ درجہ اولیٰ کے ہر طالب علم میں ہمیں کیا خاص بات ملی؟ کہ وہ بڑا منطقی ہے۔ دہلی کے ہر آدمی ہمیں کیا خاص بات ملی؟ کہ وہ بڑا عقل والا ہے۔ عربی زبان کے الفاظ میں ہمیں کیا بات ملی؟ کہ یا وہ اسم ہے یا فعل ہے یا حرف ہے۔ تو جب بھی ہر ہر جزئی میں جب کوئی خاص بات ہم کو ملے، پھر اس خاص بات کا حکم ہم اس کلی کے تمام افراد پر کر دیں تو یہ استقراء کہلاتا ہے۔ اگرچہ کوئی جزئی ایسی بھی ہونا ممکن ہو کہ اس میں وہ خاص بات نہ ہو، احتمال ہے یا نہیں؟ ہو سکتا ہے کوئی ایک رہ گیا ہو۔ جیسے دہلی کا رہنے والا ایک کلی ہے، اس کی جزئیات وہ ہیں جو دہلی میں آدمی رہتے ہیں۔ دہلی کا رہنے والا کس کو کہیں گے؟ جو بھی دہلی میں آدمی رہتا ہو، اس کو کیا کہیں گے؟ دہلی کا رہنے والا۔ تو یہ کلی ہے یا جزئی؟ کلی، اور دہلی میں رہنے والا ہر آدمی اس کی جزئی ہے۔ دہلی میں رہنے والے میں سے ہر آدمی وہ کیا ہے؟ اس کی جزئی ہے۔ جیسے دہلی کا رہنے والا ایک کلی ہے، اس کی جزئیات وہ ہیں جو دہلی میں آدمی رہتے ہیں۔ ان میں ہم نے اپنی جستجو کے مطابق دیکھا کہ ہر ایک میں عقل ہے، یعنی ہر ایک عقلمند ہے۔ اس کے بعد سے حکم عقلمند ہونے کا اس کلی کے تمام افراد پر کر دیا اور یہ کہا کہ دہلی کے سب رہنے والے عاقل ہیں۔ تو یہ ہے استقراء بھئی۔ یہ حکم استقراء سے ہم نے لگایا، کس سے؟ تلاش اور جستجو سے۔ آگے بتلا رہے ہیں کہ استقراء یقین کا فائدہ نہیں دیتا، اس لیے کہ ممکن ہے کہ کوئی آدمی دہلی کا رہنے والا ایسا بھی ہو کہ تمہاری تلاش میں نہ آیا ہو، یعنی تمہاری تلاش اور جستجو میں نہیں آیا، اور اس میں عقل نہ ہو، تو یہ بھی احتمال ہے۔ یا کسی جزئی خاص میں ہم نے کوئی بات دیکھی، یہ ہے تمثیل کی بات شروع ہونے لگی۔ کتاب کے اندر دیکھ رہے ہیں بھئی؟ یا کسی جزئی خاص میں ہم نے کوئی بات دیکھی، پھر ہم نے اس بات کی علت تلاش کی، یعنی یہ سوچا کہ یہ بات اس شئے خاص میں کیوں ہے، اور سوچنے سے تم کو اس کی وجہ، علت مل گئی، پھر وہی علت ایک دوسری شئے میں ہم کو ملی۔ اچھا بھئی ادھر دیکھیے، یہ ہے تمثیل، تمثیل۔ تمثیل مثل سے ہے۔ کوئی چیز دوسری چیز جیسی ہو تو اس کو اس کا مثل کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ مثل۔ مثلاً زید بھی بڑا محنتی اور بکر بھی بڑا محنتی، تو آپ کہتے ہیں بکر زید کے مثل ہے، بکر زید جیسا ہے، تو مثل کا معنی جیسا، جیسا۔ اور اسی سے تمثیل ہے، باب تفعیل: مَثَّلَ یُمَثِّلُ تَمْثِیْلًا۔ تمثیل کا معنی ہے مثل قرار دینا، ایک چیز کو دوسری چیز کے مثل قرار دینا۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ تمثیل کا کیا معنی؟ ایک چیز کو دوسری چیز کے مثل، یعنی ایک چیز کو دوسری چیز جیسا قرار دینا، یہ ہے تمثیل۔ ایک چیز کو دوسری چیز جیسا قرار دینا۔ تمثیل میں ہوتا یہ ہے کہ ایک چیز کے بارے میں ایک حکم آپ کو پتہ ہوتا ہے۔ ایک چیز کے بارے میں ایک حکم کا آپ کو پتہ ہے۔ آپ پھر اس میں غور کرتے ہیں کہ یہ حکم اس کا کیوں ہے، اور آپ کو اس کی کوئی وجہ ملتی ہے۔ اس وجہ کو کہتے ہیں علت، کیا کہتے ہیں؟ علت۔ پھر آپ کو وہی علت کسی اور چیز میں ملی، تو آپ اس پر بھی وہی حکم لگا دیتے ہیں۔ مثلاً دیکھو شراب حرام ہے۔ شراب کیا ہے؟ حرام۔ تو شراب کا حکم کیا ہوا؟ حرام۔ شریعت نے کیا حکم دیا ہے شراب کے بارے میں؟ حرام۔ تو شراب ایک چیز ہے اور اس کا حکم کیا؟ حرام ہے۔ آپ نے شراب میں غور کیا کہ اس کا یہ حکم کیوں ہے، یہ حرام کیوں ہے، اس حکم کی علت کیا ہے، وجہ کیا ہے، سبب کیا ہے؟ علت کا کیا معنی؟ وجہ اور سبب۔ اس حکم کی علت کیا ہے، اس کا سبب کیا ہے؟ آپ نے غور کیا تو پتہ چلا کہ اس کی وجہ نشہ ہے، کیونکہ شراب میں چونکہ نشہ ہے، اس کو جب کوئی پی لیتا ہے اس کو کوئی ہوش نہیں رہتا کہ وہ کیا بول رہا ہے، کیا کہہ رہا ہے، کیا کر رہا ہے، یہ عقل کو بالکل ختم کر دیتی ہے۔ تو آپ کو کیا علت معلوم ہوئی کہ شراب حرام کیوں ہے؟ کیونکہ یہ نشہ آور ہے، یہ نشہ دیتی ہے، یہ نشہ آور ہے بھئی۔ تو شراب کا حکم کیا ہوا؟ حرام ہونا، اور اس حکم کی علت اور وجہ کیا سمجھ میں آئی آپ کو؟ نشہ۔ تو وہی نشہ آپ کو بھنگ میں ملا، تو آپ نے کہا کہ یہ بھنگ بھی شراب جیسی ہے، کیونکہ اس میں بھی وہی چیز موجود ہے کہ یہ بھی کیا دیتی ہے؟ نشہ دیتی ہے۔ تو آپ نے وہی شراب والا حکم اب اس پر بھی لگا دیا اور کیا کہا؟ کہ یہ بھی حرام۔ تو دیکھا جب وہی علت آپ کو بھنگ میں ملی تو آپ نے بھنگ کو شراب کا مثل قرار دے دیا کہ یہ کس کی طرح ہے؟ شراب کی طرح، اور جب یہ شراب کی طرح ہے تو شراب کا تو حکم کیا تھا؟ حرام، تو یہ بھی کیا ہے؟ حرام ہے۔ یا دوسری مثال لے لو، آپ نے ہیروئن میں غور کیا، آپ نے دیکھا کہ ہیروئن یہ بھی اس میں بھی نشہ ہے، تو معلوم ہوا یہ بھی کس کے مثل ہوئی؟ شراب کے مثل، اور شراب کا حکم تو کیا ہے؟ حرام، تو وہی حکم اب اس پر بھی لگے گا، کیونکہ جب یہ اس جیسی ہے تو وہی حکم اس پر بھی لگنا چاہیے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اس کو کہتے ہیں تمثیل۔ دیکھو اس میں بھنگ اور ہیروئن کو کس کے مثل قرار دیا گیا؟ شراب کے، اور وہ شراب کا جو حکم تھا وہی حکم ان پر بھی لگا دیا گیا۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ تمثیل: ایک چیز کو دوسری چیز جیسا قرار دینا۔ کیوں قرار دینا؟ تاکہ اس کا حکم کیا کیا جائے؟ اس پر بھی لگا دیا جائے۔ اور پھر یاد رکھیے، یہ جو تمثیل ہے نا تمثیل، یہاں چار چیزیں ہوں گی، ادھر دیکھیے بھئی۔ تمثیل میں کتنی چیزیں ہوں گی؟ چار۔ ایک وہ چیز جس کے بارے میں حکم آپ کو معلوم تھا، اور مثلاً وہ چیز کیا ہے؟ شراب، اور اس کا حکم بھی آپ کو معلوم تھا کہ شراب کیا ہے؟ حرام۔ تو یاد رکھیے یہ جو چیز جس کا حکم آپ کو معلوم ہے، اس چیز کو کہیں گے مقیس علیہ: مَقِیْسٌ عَلَیْہِ، یعنی جس پر قیاس کیا گیا۔ کیا کیا گیا؟ جس پر قیاس کیا گیا۔ تو شراب کیا ہوئی؟ مقیس علیہ۔ اور اس کا حکم، دوسری چیز ہوگی اس کا حکم، حکم کیا ہے شراب کا؟ حرام۔ تیسری چیز ہے اس حکم کی علت، وجہ، اس کا سبب، آپ نے غور کیا اس کا سبب کیا ہے؟ نشہ۔ اور چوتھی چیز ہوگی مقیس، یعنی آپ نے کس چیز کو کیا کیا ہے؟ شراب پر قیاس کیا ہے۔ کس کو قیاس کیا؟ بھنگ کو اور کس کو؟ ہیروئن کو، تو ہیروئن ہوئی مقیس، شراب ہوئی مقیس علیہ، اور حکم کیا ہوا؟ حرام ہونا، اور علت کیا ہوئی؟ نشہ۔ یا اسی طرح بھنگ کیا ہے؟ مقیس، بھنگ کیا ہے؟ مقیس، اور مقیس علیہ کون؟ شراب، اور حکم کیا؟ حرام ہونا، اور علت کیا؟ نشہ ہے۔ تو جہاں پر بھی تمثیل ہوگی وہاں چار چیزیں ہوں گی: ایک مقیس علیہ، اور اسی مقیس علیہ کو اصل بھی کہتے ہیں۔ یہ اصل ہے نا، اسی کے اوپر تو حکم شریعت نے بتلایا ہے کہ شراب کیا ہے؟ حرام ہے، تو اصل میں اس کا حکم تو ہمیں معلوم ہے، یہ ہے اصل، اس کے اوپر حکم لگایا ہے شریعت نے۔ باقی بھنگ اور ہیروئن، قرآن اور حدیث میں اس کا حکم ہمیں نہیں ملتا تو پھر ہم کیا کرتے ہیں؟ تو پھر ہم کیا کرتے ہیں؟ اس کو قیاس کرتے ہیں، قیاس کے ذریعے اس کے حکم کا پتہ چلاتے ہیں۔ شراب کا حکم تو آپ کو معلوم ہے بھئی، شریعت نے شراب کو حرام قرار دیا ہے، لیکن بھنگ یا ہیروئن اس کا حکم آپ کو معلوم نہیں تھا تو پھر آپ قیاس کے ذریعے ان کا حکم معلوم کرتے ہیں۔ اور قیاس کس طرح کیا؟ کہ آپ نے دیکھا کہ شراب پر حرام ہونے کا حکم کیوں لگا ہے؟ کیونکہ اس کے اندر کیا ہے؟ نشہ۔ اور تو اس حکم کی علت نشہ آپ نے معلوم کی، اور پھر یہی علت آپ کو کس میں ملی؟ ہیروئن اور بھنگ کے اندر بھی، تو آپ نے وہی حکم اس پر بھی لگا دیا کہ وہ حرام تھی تو یہ بھی کیا ہے؟ حرام ہے۔ تو لہٰذا یہ جو شراب ہے اس کو کہیں گے مقیس علیہ اور اصل بھی کہیں گے۔ کیا کہیں گے؟ اصل، اصل۔ اصل کا معنی عربی، اصل عربی میں کہتے ہیں جڑ کو، جڑ کو۔ اور وہ جو مقیس ہے نا اس کو کہیں گے فرع، فرع شاخ کو کہتے ہیں۔ شاخیں کس سے نکلتی ہیں؟ وہی جڑ سے نا، جڑ سے تنا نکلے گا اور اس سے پھر آگے شاخیں بنیں گی۔ تو اصل کس کو کہتے ہیں؟ جڑ کو۔ تو لہٰذا یہاں پر آپ کو بھنگ اور شراب کے حکم کا پتہ چلا، کس سے پتہ چلا؟ شراب سے، تو شراب ہوئی اصل اور یہ بھنگ اور ہیروئن کیا ہوئیں؟ فرع۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو لہٰذا شراب کو کیا کہیں گے؟ اصل، اور کیا نام ہے اس کا؟ مقیس علیہ۔ شراب کو کیا کہیں گے؟ اصل اور مقیس علیہ، یعنی وہ کوئی بھی چیز یہاں اس مثال میں تو شراب ہے، اور بھی کوئی چیز ہو سکتی ہے۔ آپ ایک چیز کا حکم معلوم کرنا چاہتے ہیں، قرآن اور حدیث میں اس کا حکم آپ کو نہیں ملتا تو آپ کس کی مدد لیتے ہیں؟ قیاس کی مدد لیتے ہیں، اور دیکھتے ہیں کہ اس جیسی اور کوئی چیز موجود ہے جس کا حکم شریعت نے بتلایا ہو؟ اور جب اس کا حکم آپ کو پتہ چل جاتا ہے تو وہی حکم آپ اس پر بھی لگا دیتے ہیں کہ یہ بھی اس چیز جیسی ہے لہٰذا اس کا بھی یہی حکم ہے۔ تو ہیروئن اور بھنگ کا حکم تو پتہ نہیں تھا، لہٰذا ہم نے دیکھا اس جیسی کوئی اور چیز ہے؟ ہمیں پتہ چلا شراب ان جیسی ہے، کیونکہ یہ جیسے نشہ دیتی ہیں اسی طرح شراب بھی کیا دیتی ہے؟ نشہ، اور شراب کا حکم تو شریعت نے ہمیں بتلایا ہوا ہے کہ شراب کیا ہے؟ حرام، تو وہی حکم اب آپ نے کس پر لگا دیا؟ ہیروئن اور بھنگ پر بھی لگا دیا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو لہٰذا جس کا حکم پہلے سے معلوم ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مقیس علیہ اور اصل۔ اور جس کے حکم کا پتہ لگانا ہے اور جس کو اس پر قیاس کرتے ہیں اس کو کیا کہتے ہیں؟ مقیس کہتے ہیں۔ اور وہ جو مقیس علیہ کا حکم ہے، اس کے لیے ہم کیا دیکھتے ہیں، کیا تلاش کرتے ہیں؟ علت تلاش کرتے ہیں، کیا تلاش کرتے ہیں؟ علت۔ جب ہمیں علت پتہ چل جاتی ہے تو ہم غور کرتے ہیں کہ مقیس میں بھی وہ علت موجود ہے یا موجود نہیں، اگر ہمیں وہاں وہی علت ملے تو اس پر بھی ہم وہی حکم لگا دیتے ہیں۔ تو کتنی چیزیں یہاں ہوں گی؟ چار: ایک اصل اور مقیس علیہ یعنی شراب، دوسرا اس کا حکم یعنی حرام ہونا، اور تیسرا اس کی علت یعنی کہ نشہ، اور چوتھی چیز مقیس جس کو آپ قیاس کر رہے ہیں، جس کے حکم کا پتہ چلانا چاہتے ہیں۔ اور یہ بھی یاد رکھیے، یہ جو تمثیل ہے نا تمثیل، یہ بھی یقین کا فائدہ نہیں دیتی، اس میں بھی بات پکی نہیں ہوتی، ہاں غالب گمان ہوتا ہے۔ جیسے استقراء میں غالب گمان ہوتا ہے کہ بات ایسی ہی ہوگی، آپ نے تلاش اور جستجو کی ہے تو اب بات ایسی ہی ہوگی۔ غالب گمان تو ہے لیکن یقین نہیں، کیونکہ ہو سکتا ہے کوئی فرد رہ گیا ہو۔ اسی طرح تمثیل میں بھی جب آپ ایک چیز کا حکم دوسری چیز پر لگاتے ہیں، وہ بھی یقین کا فائدہ نہیں دیتی، یعنی پکی بات نہیں ہوتی، ہاں غالب گمان ہوتا ہے کہ حکم ایسا ہی ہوگا۔ یقینی بات کا پتہ نہیں چل سکتا۔ بھئی کیوں؟ یقینی بات کا پتہ کیوں نہیں چل سکتا؟ وجہ یہ: آپ کو مقیس علیہ اور اس کے حکم کا تو پتہ تھا کہ شراب کیا ہے؟ حرام ہے، لیکن اس حرام ہونے کی علت کیا ہے، وہ علت تو آپ نے نکالی ہے خود غور و فکر کرکے کہ شراب کیوں حرام قرار دی ہے شریعت نے؟ نشہ آور ہونے کی وجہ سے۔ تو یہ علت آپ نے نکالی یا شریعت نے آپ کو بتائی؟ یہ، یہ علت ہم نے نکالی، یہ علت ہم نے نکالی، اور جب علت ہم نے نکالی ہے تو اس میں غلطی ہونے کا احتمال ہے یا نہیں؟ ہو سکتا ہے ہم ایک چیز کو علت سمجھ رہے ہوں، علت کوئی اور چیز ہو۔ ہم نے تو اپنی عقل دوڑائی تو اپنی عقل کے مطابق ہمیں یہی علت نظر آئی، ہم نے اس کو علت قرار دیا، لیکن کیا ہماری عقل جو فیصلہ کر دے وہ قطعی اور یقینی ہوگا؟ نہیں، ہو سکتا ہے، ہو سکتا ہے اس کی علت کوئی اور چیز ہو۔ لیکن بہرحال غالب گمان کا فائدہ دیتی ہے کیونکہ بظاہر یہی ہے کہ شراب کو حرام کیوں قرار دیا ہے شریعت نے؟ کیونکہ وہ نشہ آور ہے بھئی۔ اب دیکھیے کتاب پر: یا کسی جزئی خاص میں ہم نے کوئی بات دیکھی، کسی جزئی خاص میں ہم نے؟ مثلاً شراب میں حرمت دیکھی، حرام ہونا دیکھا۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ یہ کس کا بیان ہو رہا ہے؟ تمثیل کا نا؟ تو جزئی خاص سے کیا مراد؟ شراب، اور اس میں کوئی بات دیکھی، کیا دیکھا؟ یعنی اس کا حکم دیکھا۔ اچھا اب دیکھیے کتاب پر: یا کسی جزئی خاص میں ہم نے کوئی بات دیکھی، پھر ہم نے اس بات کی علت تلاش کی، یعنی یہ سوچا کہ یہ بات اس شئے خاص میں کیوں ہے، یعنی شراب کو حرام کیوں قرار دیا ہے، اور سوچنے سے تم کو اس کی وجہ، علت مل گئی، پھر وہی علت ایک دوسری شئے میں ہم کو ملی تو اس میں بھی ہم نے اس بات کو ثابت کر دیا، یعنی اس پر بھی وہ حکم سا لگا دیا، اس کو تمثیل کہتے ہیں، جیسے شراب کے اندر ہم نے دیکھا کہ یہ حرام ہے تو ہم نے اس کے حرام ہونے کی وجہ سوچی، تلاش کرنے سے پتہ چلا کہ اس کی وجہ نشہ ہے، پھر یہی نشہ ہم نے دیکھا کہ بھنگ میں بھی ہے تو وہی بات یعنی حرام ہونے کا حکم ہم نے اس پر بھی لگا دیا۔ اب یہاں چار چیزیں ہوئیں: ایک وہ شئے جس کے اندر اصل میں وہ بات ہے، ایک وہ شئے جس کے اندر؟ کیا معنی؟ وہ شئے یعنی شراب جس میں وہ بات ہے یعنی وہ حرام ہونے والا حکم۔ شراب میں ہم نے کیا دیکھا؟ حرام ہونے والا حکم، یہی بیان۔ ایک تو یعنی ایک وہ شئے جس کے اندر اصل میں وہ بات ہے، اس شئے کو اصل اور مقیس علیہ کہتے ہیں۔ دوسری وہ بات جو اصل کے اندر موجود ہے، وہ حکم کہلاتا ہے۔ تیسری اس کی وجہ جو ہم نے تلاش کرکے نکالی ہے، وہ علت کہلاتی ہے۔ چوتھی شئے وہ جس کے اندر ہم نے علت دیکھی اور حکم اس میں بھی جاری کیا، اس کا نام مقیس اور فرع ہے۔ تو مقیس علیہ کو اصل بھی کہتے ہیں اور مقیس کو فرع بھی کہتے ہیں۔ کہتے ہیں نقشہ ذیل سے خوب سمجھ لو: مقیس علیہ یا اصل، وہ کیا ہے؟ شراب۔ حکم کیا ہے؟ حرام ہونا۔ علت کیا ہے؟ نشہ۔ مقیس یا فرع کیا ہے؟ بھنگ ہے۔ آگے کہتے ہیں: تمثیل سے بھی یقین کا فائدہ حاصل نہیں ہوتا، اس لیے کہ جو مقیس علیہ کی علت ہم نے نکالی ہے ممکن ہے وہ اس حکم کی علت نہ ہو۔ ہمیں شریعت کے اس حکم کا تو پتہ تھا کہ شراب کیا ہے؟ حرام، تو شراب کے حرام ہونے کا تو ہمیں پتہ، لیکن اس کی جو علت ہے وہ ہم نے خود سوچ کر نکالی اور اس میں کیا ہے؟ غلطی کا بھی احتمال، ہو سکتا ہے اس کی علت وہ نہ ہو جو ہم نے نکالی ہو، کسی اور وجہ سے شریعت نے اس کو حرام قرار دیا ہو۔ تو لہٰذا اس علت کا علت ہونا یقینی نہیں، جب علت کا علت ہونا یقینی نہیں تو آپ نے تو بھنگ اور ہیروئن کو اسی علت کی وجہ سے حرام قرار دیا ہے، تو جب وہ علت اس علت کی وجہ سے شراب حرام ہے ہی نہیں تو معلوم ہوا بھنگ اور ہیروئن پر جو حرام ہونے کا حکم لگایا وہ بھی یقینی نہیں، وہ بھی درست نہ رہے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو بہرحال غالب گمان، کہ غالب گمان یہی ہے کہ بات اسی طرح ہوگی، بات؟ تو یہ تمثیل غالب گمان کا فائدہ دیتی ہے، یقین کا اور پکی بات ہونے کا فائدہ نہیں۔ تو کہتے ہیں دیکھیے دوبارہ: تمثیل سے بھی یقین کا فائدہ حاصل نہیں ہوتا، اس لیے کہ جو مقیس علیہ کی علت ہم نے نکالی ہے ممکن ہے وہ اس حکم کی علت نہ ہو۔ بات سمجھ میں آگئی؟ حاصل کلام آخر میں پھر سمجھ لو۔ آج ہم نے استقراء اور تمثیل کے بارے میں پڑھا۔ آپ نے پڑھا تھا کہ حجت کی تین قسمیں ہیں: قیاس، استقراء اور تمثیل۔ آج ہم نے استقراء اور تمثیل کے بارے میں پڑھا۔ استقراء کا معنی ہے تلاش اور جستجو، تو استقراء اس کو کہتے ہیں کہ آپ کسی کلی کی بعض جزئیات کے اندر کوئی خاص بات دیکھتے ہیں، تو آپ پھر اس کلی کے تمام افراد پر وہی حکم لگا دیتے ہیں۔ جیسے اس کی مثال آئی کہ آپ نے درجہ اولیٰ والے چند طلباء میں تحقیق کی تو آپ کو پتہ چلا کہ وہ سب بڑے منطقی ہیں، تو آپ نے تمام درجہ اولیٰ والے طلباء پر یہ حکم لگا دیا کہ درجہ اولیٰ والے تمام طلباء بڑے منطقی ہیں۔ تو اس کو کہیں گے استقراء، کیا کہیں گے؟ استقراء۔ اور استقراء آپ نے پڑھا یقین کا فائدہ نہیں دیتا، اس لیے کیونکہ ہو سکتا ہے کوئی ایسا طالب علم بھی ہو جو آپ کی تلاش میں نہ آیا ہو اور وہ بڑا منطقی نہ ہو بھئی۔ تو استقراء یقین کا فائدہ نہیں دیتا، یعنی اس سے کوئی پکی بات ثابت نہیں ہوتی۔ اور دوسرا آپ نے تمثیل کے بارے میں پڑھا بھئی۔ تمثیل: مَثَّلَ یُمَثِّلُ تَمْثِیْلًا کا معنی ہے ایک چیز کو دوسری چیز کے مثل قرار دینا، ایک چیز کو دوسری چیز جیسا قرار دینا تاکہ اس پہلی چیز کا جو حکم ہے وہی حکم اس پر بھی لگایا جا سکے، اور اس کے لیے علت کو تلاش کیا جاتا ہے۔ مثلاً آپ نے دیکھا کہ شراب جو ہے اس کا حکم ہمیں معلوم ہے، شریعت نے بتلایا ہے کہ شراب حرام ہے۔ اب یہ حرام کیوں ہے، اس کی علت اور وجہ کیا ہے؟ ہم نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ اس کی وجہ نشہ ہے، کہ شراب چونکہ نشہ آور ہے اس لیے شریعت نے اسے حرام قرار دیا ہے۔ تو یہی علت ہمیں بھنگ کے اندر بھی مل گئی بھئی، تو ہم نے بھنگ کو بھی شراب جیسا قرار دے دیا اور وہ جو حکم شراب کا تھا، یعنی حرام ہونے کا، وہی حکم کس پر لگا دیا؟ بھنگ پر بھی، کہ بھنگ بھی حرام ہے۔ تو یہاں چار چیزیں ہوتی ہیں: ایک جس کو اصل اور مقیس علیہ کہتے ہیں، یعنی جس پر قیاس کیا، یعنی شراب، وہ کیا ہے؟ اصل اور مقیس علیہ، اس کو اصل بھی کہتے ہیں اور مقیس علیہ۔ اور جس چیز کو قیاس کیا اس کو کہتے ہیں مقیس، تو اس مثال میں بھنگ کیا ہے؟ مقیس ہے۔ اور تیسرا وہ جو حکم ہے جو پہلی چیز کا معلوم تھا اور دوسری پر آپ نے لگا دیا، یعنی حرام ہونا، وہ کیا ہے؟ حکم۔ اور چوتھی چیز علت ہے کہ جو علت آپ کو شراب میں معلوم ہوئی تھی وہی علت آپ کو کس میں نظر آئی؟ بھنگ میں بھی نظر آئی۔ تو ہمیں، تو یہاں قیاس کے اندر ہمیشہ چار چیزیں ہوتی ہیں: ایک اصل اور مقیس علیہ، دوسرا حکم، تیسری علت، اور چوتھا مقیس جس پر آپ وہ حکم لگاتے ہیں بھئی۔ تو اس کو تمثیل کہتے ہیں۔ اور تمثیل بھی یقین کا فائدہ نہیں دیتی، اس لیے کیونکہ مقیس علیہ کے اندر حکم کی جو علت ہے وہ ہم نے نکالی ہے، تو ہو سکتا ہے ہم تو ایک چیز کو علت سمجھ رہے ہوں اور حقیقت کے اندر وہ علت نہ ہو بلکہ علت کوئی اور ہو بھئی۔ لہٰذا معلوم ہوا تمثیل جو ہے وہ بھی یقین کا فائدہ نہیں دیتی۔ اس کی ایک اور مثال بھی انہوں نے حاشیے میں دی ہے۔ مثلاً آپ جانتے ہیں کہ شریعتِ اسلامی میں چور کی سزا یہ ہے کہ اس کا ہاتھ کاٹا جائے بھئی۔ چور کی سزا کیا ہے؟ اس کا ہاتھ کاٹا جائے۔ کسی شخص نے اس کی علت میں غور کیا اور پھر کہا کہ کہ چوری میں ہاتھ کاٹا جاتا ہے، وجہ اس کی یہ ہے کہ اس میں چور دوسرے کا مال بغیر رضامندی کے لے لیتا ہے، کیا کرتا ہے؟ بغیر اس کی رضامندی کے لے لیتا ہے اس لیے اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ اور یہی علت غاصب میں بھی موجود ہے۔ وہ جو شخص قیاس کر رہا ہے وہ کیا کہتا ہے؟ یہی علت کس میں موجود ہے؟ غاصب۔ غاصب: غین، الف، صاد، با، غاصب، غصب سے ہے۔ غصب کہتے ہیں دوسرے سے مال زبردستی چھین لینا۔ زبردستی چھین لینا۔ ڈاکو کی بات نہیں ہو رہی، ڈاکو نہیں۔ کوئی بس اپنی طاقت کی وجہ سے کیا کر لے؟ دوسرے سے مال چھین لے، جیسے آپ دیکھتے بھی ہیں کوئی کسی کی زمین پہ قبضہ کر لیتا ہے، کوئی کسی کی چیز اس سے چھین لیتا ہے کہ اب مجھ سے واپس لے کر دکھاؤ، یہ تو دیکھتے ہیں یا نہیں دیکھتے آپ؟ تو ڈاکہ اور چیز ہوتی ہے اور یہ چھیننا اور قبضہ کرنا اور چیز۔ تو یہ جو چھیننے والا ہے اور قبضہ کرنے والا ہے اس کو کہتے ہیں غاصب۔ تو وہ شخص کہتا ہے کہ چور کے ہاتھ کاٹنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ دوسرے کا مال اس کی رضامندی کے بغیر لے لیتا ہے اور یہی علت غاصب میں بھی موجود ہے، وہ بھی دوسرے کا مال اس کی رضامندی کے بغیر لے لیتا ہے، لہٰذا وہی چور والا حکم اس پر بھی لگنا چاہیے اور اس کا بھی ہاتھ کاٹا جانا چاہیے۔ قیاس سمجھ میں آیا؟ تو مقیس علیہ کون ہے؟ چور، اور حکم کیا تھا؟ ہاتھ کا کاٹنا، اور علت کیا نکالی؟ رضامندی کے بغیر کسی کا مال لینا، اور مقیس کیا ہے اور فرع کیا ہے؟ غاصب بھئی، غصب، دوسرے کا مال چھیننے والا۔ تو آپ جواب میں اس کو کہتے ہیں کہ نہیں بھئی، یہ جو آپ نے علت نکالی ہے یہ علت ٹھیک نہیں ہے۔ چور کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے اس حکم کی علت یہ نہیں ہے کہ دوسرے کا مال اس کی بغیر رضامندی کے لے، بلکہ پوری علت یہ ہے: کسی دوسرے کا مال اس کی رضامندی کے بغیر چھپ کر لینا، خفیہ طور پہ لینا۔ کسی دوسرے کا مال اس کی رضامندی کے بغیر خفیہ طور پر لینا، یہ ہے حکم کی علت۔ اور یہ علت تو غاصب میں نہیں ہے، غاصب کوئی خفیہ طور پہ تو نہیں لیتا، وہ تو سامنے لیتا ہے بھئی۔ لہٰذا یہ علت اس میں نہیں پائی گئی لہٰذا اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ تو دیکھا، آپ نے بتلایا اس شخص کو کہ آپ نے جو علت نکالی حکم کی وہ علت درست نہیں، تو معلوم ہوا کہ یہ جو علت ہم نکالتے ہیں اس کا علت ہونا یقینی نہیں۔ ہم تو اپنی عقل کے مطابق پوری کوشش کر لیتے ہیں لیکن نکالی تو ہم نے، تو اس میں بہرحال احتمال ہے ہو سکتا ہے علت یہ چیز نہ ہو کوئی اور چیز ہو۔ جب علت یہ چیز نہیں ہوگی تو پھر آپ کا حکم لگانا بھی صحیح نہیں ہوگا بھئی۔ تو اس لیے انہوں نے کہا کہ تمثیل سے یقین کا فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ چلیے بس بھئی، ھٰذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔