آپ نے پڑھا اسناد کہ بعض اس کی اقسام حقیقتِ عقلیہ کہلاتی ہیں اور بعض اقسام کیا کہلاتی ہیں؟ مجازِ عقلی، مصنف کے نزدیک اور بعض نہ حقیقت ہیں اور نہ مجاز ہیں بھئی۔ حقیقتِ عقلیہ کس کو کہتے ہیں؟ کیا بتلایا مصنف نے کہ اسناد ہو فعل کا یا معنی فعل کا کس کی طرف؟ إِلٰى مَا هُوَ لَهٗ، وہ کہ وہ فعل جس کا وصف ہے اسی کی طرف۔ یعنی فعلِ معروف کا اسناد کس کی طرف ہو؟ فاعل کی طرف، اور فعلِ مجہول کا اسناد کس کی طرف ہو؟ نائب فاعل کی طرف، تو یہ کیا ہے؟ اسناد ہے إِلٰى مَا هُوَ لَهٗ۔ اور مجازِ عقلی بتلایا آپ کو وہ اسناد ہے مولانا فعل کا یا معنی فعل کا کس کی طرف؟ إِلٰى مُلَابِسٍ لَّهٗ بھئی، جو فعل کے ساتھ متعلق ہے مولانا، مصدر ہے، زمانہ ہے، مکان ہے، سبب وغیرہ بھئی۔ فعل کے ساتھ متعلق ہو اس کی طرف اسناد ہو اور وہ غیر ہو کس سے؟ مَا هُوَ لَهٗ سے، یعنی مَا هُوَ لَهٗ نہ ہو بھئی۔ سَوَاءٌ كَانَ ذٰلِكَ الْغَيْرُ غَيْرًا فِي الْوَاقِعِ أَوْ عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ فِي الظَّاهِرِ، وَبِهٰذَا سَقَطَ مَا قِيلَ إِنَّهٗ إِنْ أَرَادَ غَيْرَ مَا هُوَ لَهٗ عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ فِي الظَّاهِرِ فَلَا حَاجَةَ إِلٰى قَوْلِهٖ بِتَأَوُّلٍ۔ اچھا بھئی ذرا متن پہ نظر رکھنا بھئی، یہ جو متن آیا تھا: وَمِنْهُ مَجَازٌ عَقْلِيٌّ وَهُوَ إِسْنَادُ الْفِعْلِ أَوْ مَعْنَاهُ إِلٰى مُلَابِسٍ لَّهٗ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ بِتَأَوُّلٍ بھئی۔ متن دیکھا آپ نے سارا بھئی؟ اسناد میں سے ایک مجازِ عقلی ہے اور وہ اسناد کرنا ہے فعل کا یا معنی فعل کا إِلٰى مُلَابِسٍ لَّهٗ اس کے متعلق کی طرف، ایسا متعلق غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ جو مَا هُوَ لَهٗ سے غیر ہو، اور یہ اسناد بِتَأَوُّلٍ کس کے ساتھ ہو بھئی؟ تاول کے ساتھ ہو مولانا۔ تاول کا معنی ہے تاویل کا پایا جانا۔ مثلاً بھئی کافر آپ کے سامنے کہتا ہے أَنْبَتَ اللّٰهُ الْبَقْلَ اللہ تعالیٰ نے سبزہ اگایا بھئی۔ اب کافر کا تو یہ اعتقاد نہیں ہے وہ یقیناً اس کے اندر تاویل کرتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو معلوم ہوا مجازِ عقلی کے اندر تاویل ضرور ہو گی بھئی۔ اب کافر سے پوچھا جائے گا تو وہ کہے گا بھئی اصل تو سبزہ اگانے والی چیز کیا ہے؟ بہار ہے، اللہ کی طرف نسبت کیوں کی؟ کیونکہ اللہ سبب ہیں مولانا، کافر کے نزدیک بھئی کافر یوں کہتا ہے۔ مثلاً بھئی آپ اپنے ساتھی کو چائے پلاتے ہیں بھئی، تو دراصل یہ نعمت دینے والے تو اللہ ہیں لیکن سبب کون بن گئے؟ آپ بن گئے۔ تو یہاں بھی کافر اسی طرح کہتا ہے کہ سبزہ اگانے والی تو اصل میں بہار ہے لیکن اللہ تعالیٰ کیا ہیں؟ سبب ہیں۔ یا جیسے موت دینے والے تو اللہ تعالیٰ ہیں لیکن کوئی شخص دوسرے کو قتل کر دیتا ہے تو وہ قاتل اس موت کا سبب بن گیا، موت دینے والے کون؟ اللہ اور وہ قاتل کیا ہوا سبب بن گیا۔ تو یہاں بھی کافر یہی کہتے ہیں کہ اصل اگانے والی ہے بہار اور اللہ تعالیٰ کیا ہیں؟ سبب ہیں۔ تو دیکھو وہ اپنے کلام میں تاویل کرتا ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا مجازِ عقلی کا سارا دارومدار کس چیز پر ہے؟ تاویل پر۔ اگر تاویل ہے تو مجازِ عقلی ہے، اگر تاویل نہیں تو مجازِ عقلی بھی نہیں ہے۔ لہٰذا مومن جب کہتا ہے أَنْبَتَ اللّٰهُ الْبَقْلَ اللہ نے سبزہ اگایا بھئی، تو مومن اس میں کوئی تاویل کرتا ہے؟ کوئی تاویل نہیں، وہ تو کہتا ہے میں اسناد کس کی طرف کر رہا ہوں؟ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کر رہا ہوں۔ تو تاویل نہیں اس میں، جب تاویل نہیں تو معلوم ہوا یہ مجازِ عقلی بھی نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو بِتَأَوُّلٍ کا کیا معنی بتلایا میں نے؟ تاویل۔ اب اس تاویل کے لیے کوئی قرینہ بھی تو چاہیے، بغیر قرینے کے پتہ چلے گا کہ متکلم اس میں تاویل کا قائل ہے؟ نہیں، قرینہ ضرور چاہیے۔ تو معنی اس کا یہاں یوں کر لیں فی الحال بھئی کہ قرینے کے ساتھ۔ تو عبارت کس طرح ہوئی بھئی کہ مجازِ عقلی کس کو کہتے ہیں؟ وَهُوَ إِسْنَادُ الْفِعْلِ أَوْ مَعْنَاهُ اسناد ہو فعل یا معنی فعل کا کس کی طرف؟ اس فعل یا معنی فعل کے متعلق کی طرف اور وہ متعلق کس قسم کا ہو؟ جو مَا هُوَ لَهٗ سے غیر ہو، اور یہ اسناد کس طریقے پر ہونا چاہیے؟ بِتَأَوُّلٍ کے ساتھ یعنی اس میں تاویل ہو یعنی کوئی قرینہ ہونا چاہیے، یعنی یہ اسناد ہو ساتھ اس کے کوئی قرینہ بھی ہو۔ یہ ہوئی مجازِ عقلی کی تعریف ساری مولانا۔ معلوم ہوا مجازِ عقلی میں اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف ہے یا غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف؟ غیر کی طرف ہے مَا هُوَ لَهٗ کی طرف اسناد نہیں۔ اب غیر کس اعتبار سے ہے؟ بھئی حقیقتِ عقلیہ میں کیا قید لگائی تھی ماتن نے؟ عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ فِي الظَّاهِرِ کہ اسناد فعل یا معنی فعل کا مَا هُوَ لَهٗ کی طرف ہو کس کے نزدیک؟ متکلم کے نزدیک کس اعتبار سے؟ ظاہر کے اعتبار سے، یعنی متکلم کا ظاہرِ حال بتلا رہا ہو کہ وہ اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کر رہا ہے۔ اگر وہی قید ہم یہاں اعتبار کرتے ہیں تو کلام میں خرابی لازم آتی ہے، بِتَأَوُّلٍ کی قید لغو ہو جاتی ہے۔ دیکھو اسی قید کا ذرا یہاں اعتبار کرو: مجازِ عقلی کس کو کہتے ہیں؟ اسناد فعل کا یا معنی فعل کا کس کی طرف ہے؟ غیر کی طرف ہے، اور یہ غیر کس اعتبار سے ہے؟ عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ فِي الظَّاهِرِ یعنی متکلم کا ظاہرِ حال بتلا رہا ہے وہ اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہیں کر رہا بلکہ کس کی طرف کر رہا ہے؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف۔ جب متکلم کے ظاہرِ حال نے بتلا دیا کہ وہ اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہیں کر رہا بلکہ کس کی طرف کر رہا ہے؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کر رہا ہے، تو اب کسی اور قرینے کی ساتھ ضرورت ہے؟ نہیں! بھئی ایک قرینہ چاہیے تھا جو ہمیں بتا دیتا کہ یہ متکلم اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہیں کر رہا بلکہ کس کی طرف کر رہا ہے غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف، اور وہ قرینہ کیا ہے؟ متکلم کا اپنا ظاہرِ حال، متکلم کی اپنی حالت بتلا رہی ہے جب وہ کافر ہے اور کیا کہتا ہے أَنْبَتَ اللّٰهُ الْبَقْلَ، معلوم ہوا وہ اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہیں کر رہا بلکہ کس کی طرف کر رہا ہے غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف، یہ کس چیز سے پتہ چلا؟ اس کے اپنے حال سے پتہ چل گیا، اس کا ظاہرِ حال یہ بتلا رہا ہے۔ جب ظاہرِ حال یہ بتلا رہا ہے تو اب کسی اور قرینے کی ضرورت ہے؟ کسی قرینے کی ساتھ ضرورت نہیں، معلوم ہوا بِتَأَوُّلٍ کی قید لغو ہوئی! کیونکہ ماتن نے تو قید لگائی کہ یہ اسناد ہو ساتھ اس کے کیا آنا چاہیے؟ ساتھ قرینہ بھی ہو، یعنی متکلم اپنے کلام میں کوئی قرینہ بھی قائم کرے جو کیا بتلائے کہ وہ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف اسناد نہیں کر رہا بلکہ کس کی طرف کر رہا ہے غیر کی طرف کر رہا ہے، تو جب اس کے ظاہرِ حال نے ہی بتلا دیا کہ وہ اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہیں کر رہا بلکہ غیر کی طرف کر رہا ہے تو قرینہ خود بخود یہی قرینہ بن گیا، اب کوئی الگ سے ساتھ قرینہ لانے کی ضرورت ہے؟ الگ سے کوئی قرینہ لانے کی ضرورت نہیں، تو معلوم ہوا بِتَأَوُّلٍ کی قید کیا ہو جاتی ہے؟ لغو ہو جاتی ہے۔ تو خرابی لازم آئی یا نہیں آئی؟ جی۔ اچھا تو اس سے تو خرابی لازم آ رہی ہے، چلو پھر واقع کے اعتبار سے غیر کا اعتبار کر لیتے ہیں۔ یعنی متکلم اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہیں کر رہا بلکہ کس کی طرف کر رہا ہے غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف یعنی غیر کی طرف کر رہا ہے اور یہ غیر کس اعتبار سے ہے؟ واقع کے اعتبار سے، واقع کے اعتبار سے یہ اس کا فاعل نہیں ہے بلکہ کوئی اور ہے۔ تو اب بِتَأَوُّلٍ کی قید صحیح ہو گئی! جب وہ اسناد غیر کی طرف کر رہا ہے اور یہاں متکلم کا ظاہرِ حال قرینہ نہیں ہے بلکہ واقع کے اعتبار سے وہ مَا هُوَ لَهٗ نہیں ہے بلکہ غَيْرُ مَا هُوَ لَهٗ ہے، تو متکلم کو تو پتہ ہے لیکن سامع کو بھی پتہ چلنا چاہیے یا نہیں پتہ چلنا چاہیے؟ سامع سے ہی تو بات ہو رہی ہے، اس کو پتہ کس سے چلے گا؟ قرینے سے۔ اور متکلم کے ظاہرِ حال سے تو اس کا پتہ نہیں چل رہا کیونکہ یہاں عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ فِي الظَّاهِرِ کی قید نہیں ہے بلکہ غیر کس اعتبار سے ہے؟ واقع کے اعتبار سے غیر ہے۔ تو متکلم کا ظاہرِ حال تو قرینہ نہیں لیکن کوئی قرینہ چاہیے یا نہیں چاہیے؟ تو اب بِتَأَوُّلٍ کی قید صحیح ہوئی کہ جب اسناد کرے وہ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف اور یہ غیر واقع کے اعتبار سے ہے تو اب کیا چاہیے ساتھ؟ قرینہ ضرور چاہیے، وہ قرینہ بتلائے گا کہ یہ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف اسناد نہیں کر رہا بلکہ کس کی طرف کر رہا ہے غیر کی طرف، تو اب بِتَأَوُّلٍ کی قید کیا ہو گئی؟ صحیح ہو گئی۔ لیکن اب دوسری خرابی لازم آئی: کافر نے کہا تھا أَنْبَتَ اللّٰهُ الْبَقْلَ اللہ نے سبزہ اگایا، اب مولانا یہ خارج ہو گیا مجاز کی تعریف سے! کیوں خارج ہوا؟ کیونکہ یہاں پر تو مولانا ہم نے کہا وہ غیر ہونا چاہیے کس اعتبار سے؟ واقع کے اعتبار سے، اور واقع کے اعتبار سے وہ اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کر رہا ہے یا غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف؟ وہ اسناد کر رہا ہے واقع کے اعتبار سے مَا هُوَ لَهٗ کی طرف! لیکن کافر سے پوچھو تو وہ اس میں تاویل کرے گا یا نہیں کرے گا؟ وہ کہے گا میں تو اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہیں کر رہا بلکہ میں تو غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف اسناد کر رہا ہوں، تو وہ اس میں تاویل کرے گا۔ معلوم ہوا یہ حقیقتِ عقلیہ تو ہے نہیں یہ تو کیا ہے مجازِ عقلی، تو کافر کا یہ کہنا أَنْبَتَ اللّٰهُ الْبَقْلَ یہ ہے مجاز، اور یہ مجاز سے خارج ہو رہا ہے اگر غیر سے کیا مراد لیں؟ واقع کے اعتبار سے۔ اگر غیر واقع کے اعتبار سے ہے تو پھر یہ تو واقع کے اعتبار سے غیر نہیں ہے یہ تو واقع کے اعتبار سے مَا هُوَ لَهٗ ہی ہے، جب یہ غیر نہیں تو مجازِ عقلی نہیں، لیکن کافر سے پوچھو وہ تو اس میں کیا کرتا ہے؟ تاویل کرتا ہے، معلوم ہوا یہ ہے تو مجاز! خرابی سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا غیر سے اگر مراد لیں عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ فِي الظَّاهِرِ تو پھر بِتَأَوُّلٍ کی قید کیا ہو جاتی ہے؟ لغو، کیونکہ وہاں متکلم کا ظاہرِ حال قرینہ بن گیا اب کسی اور قرینے کے لانے کی ضرورت نہیں۔ اور اگر ہم غیر سے کون سا غیر مراد لیں؟ واقع کے اعتبار سے وہ غیر ہونا چاہیے مَا هُوَ لَهٗ نہیں ہونا چاہیے، تو اس اعتبار سے کافر کا قول أَنْبَتَ اللّٰهُ الْبَقْلَ یہ کیا ہوا مجازِ عقلی سے خارج، حالانکہ یہ مجازِ عقلی سے خارج نہیں ہے بلکہ اس کے اندر داخل ہے کیونکہ کافر اس میں تاویل کرتا ہے۔ تو کون سا غیر مراد لیں؟ علامہ تفتازانی فرماتے ہیں کہ یہاں غیر عام ہے: چاہے واقع کے اعتبار سے غیر ہو چاہے عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ فِي الظَّاهِرِ ہو۔ کہتے ہیں اب دونوں خرابیاں دور ہو گئیں! کیسے دونوں دور ہوئیں؟ دیکھو اگر واقع کے اعتبار سے مراد لیتے تھے تو کیا خرابی لازم آتی تھی؟ أَنْبَتَ اللّٰهُ الْبَقْلَ یہ مجاز سے خارج ہو جاتا تھا، اب مولانا جب ہم نے عام مراد لے لیا تو یہ اب مجاز میں داخل ہے کیونکہ عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ فِي الظَّاهِرِ کی قید سے یہ داخل ہو گیا: کافر نے جب کہا أَنْبَتَ اللّٰهُ الْبَقْلَ اس کا ظاہرِ حال کیا بتلا رہا ہے وہ اسناد کس کی طرف کر رہا ہے؟ غیر کی طرف وہ اسناد کر رہا ہے تو یہ کس میں داخل ہو گیا مجاز میں، یہ خرابی تو دور ہو گئی بھئی۔ اور دوسری خرابی کیا تھی؟ بِتَأَوُّلٍ کی قید لغو ہوتی تھی جب عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ فِي الظَّاهِرِ ہو، لیکن ہم کہتے ہیں وہ قید ہے واقع کے اعتبار سے: جب متکلم واقع کے اعتبار سے اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہیں کر رہا بلکہ کس کی طرف کر رہا ہے غیر کی طرف کر رہا ہے اور اس کا ظاہرِ حال نہیں بتلا رہا تو قرینہ ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے؟ قرینہ ضرور ہونا چاہیے۔ تو بِتَأَوُّلٍ کی قید ہوئی واقع کے اعتبار سے، اور وہ جو کافر کا قول خارج ہو رہا تھا وہ کس وجہ سے داخل ہو گیا؟ عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ فِي الظَّاهِرِ کی قید سے داخل ہو گیا۔ تو ہم نے غیر کو عام رکھا چاہے وہ واقع کے اعتبار سے ہو چاہے عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ فِي الظَّاهِرِ ہو، اور دونوں سے جو جو خرابی لازم آ رہی تھی دوسرے کی وجہ سے وہ خرابی دور ہو گئی مولانا۔ بات بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی بھئی؟ تو کہتے ہیں سَوَاءٌ كَانَ ذٰلِكَ الْغَيْرُ غَيْرًا فِي الْوَاقِعِ أَوْ عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ فِي الظَّاهِرِ برابر ہے کہ وہ غیر، غیر ہو واقع کے اعتبار سے یا عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ فِي الظَّاهِرِ ہو۔ وَبِهٰذَا سَقَطَ مَا قِيلَ اور یہ جو ہم نے تعمیم کر دی اس کے ذریعے ساقط ہو گیا مَا قِيلَ وہ جو کہا گیا ہے کہ إِنَّهٗ إِنْ أَرَادَ غَيْرَ مَا هُوَ لَهٗ عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ فِي الظَّاهِرِ کہ اگر ماتن نے غیر سے کون سا غیر مراد لیا ہے عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ فِي الظَّاهِرِ فَلَا حَاجَةَ إِلٰى قَوْلِهٖ بِتَأَوُّلٍ تو پھر بِتَأَوُّلٍ کی قید کی کوئی ضرورت نہیں یعنی کسی قرینے کے ساتھ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اس کا اپنا ظاہرِ حال کیا بن جاتا ہے قرینہ تو ساتھ مزید کسی اور قرینے کے لانے کی ضرورت نہیں، وَهُوَ ظَاهِرٌ علامہ تفتازانی کہتے ہیں اور یہ بات تو ظاہر ہے کہ اگر غیر سے عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ فِي الظَّاهِرِ مراد لیں تو پھر بِتَأَوُّلٍ کی قید کی ضرورت نہیں ہے، وَإِنْ أَرَادَ غَيْرَ مَا هُوَ لَهٗ فِي الْوَاقِعِ اور اگر غیر سے مراد واقع کے اعتبار سے لیا خَرَجَ عَنْهُ مِثْلُ قَوْلِ الْجَاهِلِ أَنْبَتَ اللّٰهُ الْبَقْلَ مَجَازًا تو اس صورت میں جاہل کا یہ قول خارج ہو جاتا تھا أَنْبَتَ اللّٰهُ الْبَقْلَ اللہ نے سبزہ اگایا اس حال میں کہ یہ تو کیا ہے مَجَازًا مجازِ عقلی ہے بِاعْتِبَارِ الْإِسْنَادِ إِلَى السَّبَبِ بایں اعتبار کہ یہ اسناد ہے کس کی طرف سبب کی طرف کیونکہ کافر تو کہتا ہے یہ میں اسناد سبب کی طرف کر رہا ہوں مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہیں کر رہا۔ بِتَأَوُّلٍ مُتَعَلِّقٌ بِإِسْنَادِهٖ، بِتَأَوُّلٍ جار مجرور ہے جار مجرور کے لیے کوئی متعلق چاہیے کہتے ہیں یہ متعلق ہے إِسْنَادِهٖ سے۔ اسناد مصدر ہے مولانا اور جار مجرور جن آٹھ چیزوں سے متعلق ہوتے ہیں ان میں ایک مصدر بھی آپ نے پڑھا ہے بھئی۔ تو یہ اسناد کس کے ساتھ ہونا چاہیے؟ بِتَأَوُّلٍ تاویل کے ساتھ یعنی قرینے کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اب خود بتلا رہے ہیں مولانا: وَمَعْنَى التَّأَوُّلِ أَنَّكَ تَطَلَّبُ، تَطَلَّبُ پڑھو اس کو مولانا تَفَعُّل باب سے ہے مضارع کا صیغہ، کیسے بنے گا باب بھئی؟ تَطَلَّبَ يَتَطَلَّبُ تَطَلُّبًا، تو یہ اصل میں دو تا تھیں تَتَطَلَّبُ، ایک تا کو کیا کر دیا گیا حذف کر دیا گیا تو تَطَلَّبُ رہ گیا۔ معنی تاول کا یہ ہے کہ أَنَّكَ تَطَلَّبُ مَا يَؤُولُ إِلَيْهِ مِنَ الْحَقِيقَةِ أَوِ الْمَوْضِعَ الَّذِي يَؤُولُ إِلَيْهِ مِنَ الْعَقْلِ۔ یاد رکھیے بھئی شیخ عبدالقاہر جرجانی رَحِمَهُ اللّٰهُ فرماتے ہیں بھئی کہ مجاز دو قسم پر ہے: ایک وہ مجاز جس کی حقیقت ہے، ایک وہ مجاز جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے بھئی۔ ہر مجازِ عقلی کے لیے حقیقتِ عقلیہ کا ہونا ضروری نہیں، یعنی ہر غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کے لیے مَا هُوَ لَهٗ کا ہونا ضروری نہیں۔ مثلاً بھئی مومن نے کہا أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ بہار نے سبزہ اگایا، حالانکہ سبزہ بہار نہیں اگاتی سبزہ اگانے والے اللہ تعالیٰ ہیں، ہاں بہار اس کا موسم ہے وقت ہے اس کا، تو مومن اس میں کیا کرتا ہے تاویل کرتا ہے، کیا کہتا ہے میں نے اسناد کس کی طرف کر دیا؟ زمانے کی طرف کر دیا۔ تو دیکھو مومن نے کہا أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ یہ اسناد وہ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کر رہا ہے لیکن کیا اس کا کوئی مَا هُوَ لَهٗ بھی ہے یا مَا هُوَ لَهٗ نہیں ہے؟ اس کا مَا هُوَ لَهٗ ہے، انبات دراصل کس کا فعل ہے؟ اللہ تعالیٰ کا۔ تو یہ أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ یہ ایسا مجازِ عقلی ہے جس کے لیے حقیقتِ عقلیہ ہے۔ اور بعض اوقات مجازِ عقلی ایسا ہوتا ہے کہ جس کے لیے حقیقتِ عقلیہ نہیں ہوتی۔ مثلاً آپ کہتے ہیں بھئی: دین کی طلب مجھے مدرسے میں لے آئی۔ اب دیکھیے بھئی آپ نے اپنے لانے کی نسبت کس کی طرف کر دی؟ دین کی طلب کی طرف۔ اور دین کی طلب کوئی زندہ ذی روح چیز ہے کہ آپ کو تیار کرے کہ چلو بھئی مدرسے چلو اور آپ اٹھ کر کہاں آ جائیں مدرسے؟ لانے کے فعل کے لیے تو ضروری ہے کوئی زندہ ذی روح چیز ہو وہ آپ کو کیا کرے تیار کرے اور لے کر آئے۔ تو معلوم ہوا آپ نے لانے کی نسبت کی ہے دین کی طلب کی طرف تو یہ اسناد کس کی طرف ہوا؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف ہوا۔ شیخ عبدالقاہر فرماتے ہیں کہ یہ مجازِ عقلی ہے اور یہ ایسا مجازِ عقلی ہے جس کے لیے کوئی حقیقتِ عقلیہ نہیں ہے بھئی۔ کیوں نہیں ہے؟ کہتے ہیں اس لیے کہ یہاں لانے کا فعل ہے ہی نہیں، بلکہ یہاں آپ خود اپنے ارادے سے آئے ہیں بھئی! آپ نے فعل تو لانے کا ذکر کیا لیکن آپ کو کسی نے تیار نہیں کیا، اگر زید لایا ہوتا تو پھر آپ کہتے مجھے زید مدرسے میں لے آیا، لیکن آپ کیا کہہ رہے ہیں مجھے دین کی طلب لے آئی۔ اب اس کے لیے کوئی مَا هُوَ لَهٗ بھی ہے یا نہیں ہے؟ شیخ عبدالقاہر فرماتے ہیں اس کے لیے کوئی مَا هُوَ لَهٗ نہیں ہے، کیوں نہیں ہے مَا هُوَ لَهٗ؟ کہتے ہیں اس لیے کہ یہاں لانے کا فعل ہے ہی نہیں یہاں صرف آنے کا فعل ہے! کوئی آپ کو تیار کر کے لایا ہی نہیں بلکہ آپ خود اپنی مرضی سے اور اپنے ارادے سے آئے ہیں۔ معلوم ہوا یہ ایسا مجازِ عقلی ہے جس کی کوئی حقیقتِ عقلیہ نہیں ہے کیونکہ لانے کا فعل ہی نہیں، جب لانے کا فعل ہی نہیں ہے تو اس کے لیے کوئی مَا هُوَ لَهٗ بھی نہیں ہے۔ صورت سب کو سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا مجازِ عقلی دو قسم پر ہے: ایک وہ جس کے لیے کوئی مَا هُوَ لَهٗ بھی ہو گا، ایک وہ جس کے لیے کوئی مَا هُوَ لَهٗ سرے سے ہو گا ہی نہیں۔ اب کتاب پر دیکھیے: وَمَعْنَى التَّأَوُّلِ اور تاول کا معنی یہ ہے أَنَّكَ تَطَلَّبُ کہ آپ بتکلف طلب کرتے ہیں، تَفَعُّل میں کون سا معنی پایا جاتا ہے؟ تکلف والا، تَمَرَّضَ کا کیا معنی ہوتا ہے؟ بتکلف مریض بننا۔ أَنَّكَ تَطَلَّبُ مَا يَؤُولُ إِلَيْهِ مِنَ الْحَقِيقَةِ کہ آپ بتکلف طلب کرتے ہیں مَا اس چیز کو يَؤُولُ إِلَيْهِ جس کی طرف وہ مجاز لوٹتا ہے مِنَ الْحَقِيقَةِ اس کا بیان آ گیا یعنی کہ حقیقت۔ مَا کی جگہ حقیقت کا لفظ رکھیں اب ترجمہ کریں: کہ آپ بتکلف طلب کرتے ہیں اس حقیقت کو جس کی طرف وہ مجاز لوٹتا ہے۔ یہ کون سے مجاز میں ہو گا؟ جس کی کوئی حقیقت ہو۔ أَوِ الْمَوْضِعَ اس کا عطف مَا پر ہے، یا آپ بتکلف طلب کرتے ہیں اس محل کو الَّذِي يَؤُولُ إِلَيْهِ جس کی طرف وہ مجاز لوٹتا ہے مِنَ الْعَقْلِ، یہ حال ہے مَوْضِع سے، اس حال میں کہ وہ محل عقل سے حاصل ہو رہا ہو أَيْ حَاصِلًا مِّنَ الْعَقْلِ۔ یہ وہ مجاز ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ ایک وہ جس کی حقیقت ہے وہ پہلے بیان کر دیا کہ آپ بتکلف طلب کرتے ہیں یعنی توجہ کرتے ہیں جس کی طرف وہ مجاز لوٹتا ہے اور وہ کیا چیز ہے؟ حقیقت۔ یعنی آپ اسناد تو غیر کی طرف کر رہے ہیں لیکن مَا هُوَ لَهٗ پر بھی آپ کی توجہ ہوتی ہے۔ اور دوسرا مجاز جس کے لیے کوئی حقیقت ہی نہیں لیکن اس کے لیے محل تو ہے، جیسے میں نے کہا مجھے دین کی طلب مدرسے میں لے آئی، لیکن آپ غور کرتے ہیں دیکھتے ہیں کہ بھئی یہاں تو لانے کا فعل ہے ہی نہیں یہاں تو صرف کون سا فعل ہے آنے کا فعل ہے، تو یہاں اس کے لیے کوئی حقیقت تو نہیں لیکن ایک محل تو عقل بتلا رہی ہے کہ لانے کا فعل نہیں ہے بلکہ کون سا فعل ہے آنے کا فعل۔ یہ جو محل حاصل ہوا جس کی طرف مجاز لوٹ رہا ہے یہ کس اعتبار سے حاصل ہو رہا ہے؟ عقل کے۔ تو جب متکلم کی توجہ ہو گی کس کی طرف؟ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف اگر وہ ہو، اگر وہ نہ ہو تو پھر اس محلِ عقلی کی طرف توجہ ہو گی، جب اس کی توجہ ہو گی تو مخاطب کو بھی وہ بتلانا چاہے گا اسے بھی پتہ چل جائے تو اس کے لیے وہ ضرور کیا کرے گا پھر؟ قرینہ قائم کرے گا۔ یہی بات علامہ تفتازانی کر رہے ہیں: وَحَاصِلُهٗ تاول کا حاصل یہ ہے أَنْ تُنْصَبَ قَرِينَةٌ کہ کوئی قرینہ نصب کیا جائے صَارِفَةٌ عَنْ أَنْ يَكُونَ الْإِسْنَادُ إِلٰى مَا هُوَ لَهٗ جو پھیرنے والا ہو اس بات سے کہ اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف ہے، یعنی بتلا دے کہ اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہیں ہے بلکہ کس کی طرف ہے؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف ہے۔ تو تاویل ہے ملزوم اور قرینہ کیا ہے اس کے ساتھ لازم، تو ملزوم بول کر کس کا ارادہ کیا گیا ہے؟ لازم، یعنی تاول بول کر قرینے کا ارادہ کیا گیا ہے یہاں پر۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وَلَهٗ أَيْ لِلْفِعْلِ، آگے متن میں ہے مُلَابَسَاتٌ شَتّٰى بہت سے متعلقات ہیں بھئی۔ وَهٰذَا إِشَارَةٌ إِلٰى تَفْصِيلٍ وَّتَحْقِيقٍ لِّلتَّعْرِيفَيْنِ اور یہ اشارہ ہے مولانا دونوں تعریفوں کی تفصیل اور تحقیق کرنے لگے ہیں اس کی طرف اشارہ ہے۔ مُلَابَسَاتٌ شَتّٰى فعل کے بہت سے ملابسات ہیں یعنی متعلقات ہیں، شَتّٰى کا معنی بتلایا أَيْ مُخْتَلِفَةٌ مختلف بھئی، جَمْعُ شَتِيتٍ اور شَتّٰى جمع ہے کس کی؟ شَتِيتٌ کی كَمَرِيضٍ وَّمَرْضٰى جیسے مَرِيضٌ کی جمع کیا آتی ہے مولانا مَرْضٰى اسی طرح شَتِيتٌ کی جمع بھی شَتّٰى اسی وزن پر ہے۔ يَلَابِسُ الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهٖ وَالْمَصْدَرَ وَالزَّمَانَ وَالْمَكَانَ وَالسَّبَبَ، فعل متعلق ہوتا ہے مولانا فاعل کے ساتھ بھی، مفعول بہ کے ساتھ بھی، مصدر کے ساتھ بھی، زمانے کے ساتھ بھی، مکان کے ساتھ بھی اور سبب کے ساتھ بھی۔ دیکھیے: ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا ضَرْبًا شَدِيدًا يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَمَامَ الْأَمِيرِ، دیکھا کتنی چیزیں آ رہی ہیں یہ سارے متعلق ہیں یا نہیں فعل کے ساتھ؟ ان سب کا فعل سے تعلق ہوتا ہے۔ وَلَمْ يَتَعَرَّضْ لِلْمَفْعُولِ مَعَهٗ اور مصنف مفعول معہ کے درپے نہیں ہوئے۔ مفعول معہ کس کو کہتے ہیں؟ جو واؤ بمعنی مَعَ کے بعد آئے جَاءَ الْبَرْدُ وَالْجُبَّاتِ، تو یہ واؤ بمعنی مَعَ کے بعد آیا تو یہ مفعول معہ ہے لیکن مصنف نے اس کو ذکر نہیں کیا بھئی یہاں پر۔ کیوں نہیں ذکر کیا بھئی یہ بھی تو متعلق ہے فعل کے ساتھ؟ کہتے ہیں اس لیے کہ فعل کا اسناد اس کی طرف نہیں ہوتا، یعنی اس کو فعل کے لیے فاعل یا نائب فاعل نہیں بنا سکتے۔ دیکھو میں نے کہا تھا ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا، اب میں عمرو کی طرف اسناد کرنا چاہتا ہوں تو میں کیا کہوں گا ضُرِبَ عَمْرٌو تو عمرو کی طرف اسناد ہو گیا، مصدر کی طرف میں کرنا چاہتا ہوں ضُرِبَ ضَرْبٌ شَدِيدٌ تو دیکھو مصدر کی طرف اسناد ہو گیا۔ تو ان سب کی طرف اسناد ہو سکتا ہے لیکن مفعول معہ کی طرف اسناد نہیں ہو سکتا اس لیے کہ مفعول معہ وہ ہے جو واؤ بمعنی مَعَ کے بعد آئے اور جب وہ واؤ کے ساتھ آ رہا ہے تو یہ واؤ چاہتا ہے انفصال کو، واؤ کی اصل کیا ہے عطف کے لیے آتا ہے اور عطف مغائرت کا تقاضا کرتا ہے، تو یہ واؤ دلالت کر رہا ہے انفصال پر کہ یہ مابعد ماقبل سے جدا ہے اور فاعل یا نائب فاعل تو کس کی طرح ہوتا ہے فعل کے جز کی طرح ہوتا ہے، تو یہ واؤ کے ہوتے ہوئے ہم اس کو نائب فاعل یا فاعل نہیں بنا سکتے، اور اگر واؤ کو ختم کر دیں پھر تو ہمیں پتہ ہی نہیں چلے گا کہ یہ مفعول معہ ہے یا مفعول معہ نہیں ہے۔ اسی طرح حال وغیرہ ہیں لِأَنَّ الْفِعْلَ لَا يُسْنَدُ إِلَيْهَا اس لیے کہ فعل کا ان کی طرف اسناد نہیں ہوتا۔ فَإِسْنَادُهٗ إِلَى الْفَاعِلِ أَوِ الْمَفْعُولِ بِهٖ إِذَا كَانَ مَبْنِيًّا لَّهٗ أَيْ لِلْفَاعِلِ أَوِ الْمَفْعُولِ بِهٖ، پس اس فعل کا اسناد فاعل کی طرف یا مفعول بہ کی طرف جبکہ وہ مبنی للفاعل ہو یا مبنی للمفعول ہو، حَقِيقَةٌ یہ کیا ہے مولانا حقیقت ہے۔ فعلِ معروف کا اسناد فاعل کی طرف یہ کیا ہے حقیقت، فعلِ مجہول کا اسناد مفعول کی طرف یہ کیا ہے حقیقت ہے، اور غیر کی طرف ہو تو پھر مجاز ہے بھئی۔ تو بتلایا مَبْنِيًّا لَّهٗ أَيْ لِلْفَاعِلِ أَوِ الْمَفْعُولِ بِهٖ کہ یہ ضمیر جو ہے لَهٗ کی یہ فاعل یا مفعول بہ کی طرف راجع ہے۔ تو اس پر اشکال ہو گا کہ وہ تو دو ہو گئے اور ضمیر کون سی راجع ہو رہی ہے مفرد کی، تو جواب یہ کہ ان دونوں میں عطف کس کے ذریعے ہے أَوْ کے ذریعے ہے بھئی، اور أَوْ کے ذریعے جب عطف ہوتا ہے تو مفرد کی ضمیر راجع کرتے ہیں بھئی وہ أَحَدُ الْأَمْرَيْنِ کی تاویل میں ہو جاتا ہے بھئی۔ يَعْنِي أَنَّ إِسْنَادَهٗ إِلَى الْفَاعِلِ إِذَا كَانَ مَبْنِيًّا لَّهٗ أَوْ إِلَى الْمَفْعُولِ بِهٖ إِذَا كَانَ مَبْنِيًّا لَّهٗ حَقِيقَةٌ كَمَا مَرَّ مَا مِنَ الْأَمْثِلَةِ جیسے کہ مثالیں گزر گئیں۔ وَإِسْنَادُهٗ إِلٰى غَيْرِهِمَا أَيْ غَيْرِ الْفَاعِلِ وَالْمَفْعُولِ بِهٖ يَعْنِي غَيْرَ الْفَاعِلِ فِي الْمَبْنِيِّ لِلْفَاعِلِ وَغَيْرَ الْمَفْعُولِ بِهٖ فِي الْمَبْنِيِّ لِلْمَفْعُولِ، اور اس فعل کا اسناد مولانا ان دونوں کے علاوہ کی طرف یعنی غیرِ فاعل کی طرف ہو فعلِ معروف میں اور غیرِ مفعول کی طرف ہو کس میں فعلِ مجہول میں لِلْمُلَابَسَةِ بوجہ مشابہت کے بھئی، يَعْنِي لِأَجْلِ أَنَّ ذٰلِكَ الْغَيْرَ يُشَابِهُ مَا هُوَ لَهٗ فِي مُلَابَسَةِ الْفِعْلِ یعنی اس وجہ سے کہ وہ غیر جو ہے مشابہ ہے کس کے ساتھ مَا هُوَ لَهٗ کے ساتھ کس چیز میں مشابہ ہے؟ فِي مُلَابَسَةِ الْفِعْلِ فعل کے ساتھ تعلق ہونے میں۔ جیسے مولانا فاعل اور مفعول کا تعلق فعل سے ہوتا ہے اسی طرح مصدر کا بھی تو تعلق فعل سے ہوتا ہے، زمانے کا بھی تعلق فعل سے ہے، مکان کا بھی تعلق فعل سے ہے اور سبب وغیرہ کا بھی۔ تو ان کی طرف ہو اسناد مولانا مشابہت کی وجہ سے، مَجَازٌ یہ کیا ہے مولانا مجاز ہے، كَقَوْلِهِمْ جیسے یہ کہنا: عِيشَةٌ رَّاضِيَةٌ، ایسی زندگی جو خوش ہونے والی ہے۔ تو عِيشَةٌ مولانا موصوف، رَاضِيَةٌ صیغہ اسم فاعل، اور اسم فاعل کے لیے کیا چاہیے ہوتا ہے؟ فاعل، تو اس کے اندر هِيَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل اور یہ هِيَ ضمیر کس کو راجع ہے؟ عِيشَةٌ کو راجع ہے۔ تو رَاضِيَةٌ کا اسناد ہوا هِيَ ضمیر کی طرف، تو دیکھا معنی فعل کا اسناد ہو رہا ہے، یہ رَاضِيَةٌ فعل ہے یا معنی فعل ہے؟ معنی فعل، اس معنی فعل کا اسناد ہو رہا ہے کس کی طرف هِيَ ضمیر کی طرف اور یہ هِيَ ضمیر راجع ہے کس کو عِيشَةٌ کو، تو معنی یہ ہوا کہ رَاضِيَةٌ کا اسناد ہو رہا ہے کس کی طرف عِيشَةٌ کی طرف۔ آپ بتلائیے زندگی راضی ہونے والی ہوتی ہے یا صاحبِ عیشہ راضی ہونے والا ہوتا ہے؟ صاحبِ عیشہ کیا ہے راضی ہونے والا ہوتا ہے، زندگی پر صاحبِ عیشہ خوش ہوتا ہے۔ تو دیکھو خوش ہونے والا کون؟ صاحبِ عیش، اور خوش ہوا کس پر؟ عیشہ پر، تو عیشہ کیا ہے مولانا؟ مفعول۔ تو راضی تو ہے صاحبِ عیشہ لیکن راضی کی نسبت کس کی طرف کر دی؟ عیشہ کی طرف کر دی، مفعول بہ کی طرف کر دی، تو یہ اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف ہوا یا غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ۔ فِي مَا بُنِيَ لِلْفَاعِلِ، اس معنی فعل میں بُنِيَ لِلْفَاعِلِ جو مبنی للفاعل ہے وَأُسْنِدَ إِلَى الْمَفْعُولِ بِهٖ اور اسناد کیا گیا ہے اس کا کس کی طرف؟ مفعول بہ کی طرف، إِذِ الْعِيشَةُ مَرْضِيَّةٌ اس لیے کہ زندگی تو کیا ہوتی ہے پسندیدہ، اس پر خوش ہوا جاتا ہے نہ کہ خوش ہونے والی ہوتی ہے۔ وَسَيْلٌ مُّفْعَمٌ، سیلاب بھرا ہوا۔ بھئی بھری ہوئی وادی ہوتی ہے یا سیلاب بھرا ہوا ہوتا ہے؟ وادی بھری ہوئی ہوتی ہے، سیلاب تو بھرنے والا ہے! تو سیلاب ہے فاعل اور بھرا کس کو اس نے؟ وادی کو، تو وادی کیا ہے مفعول۔ اور یہاں پر آیا سَيْلٌ مُّفْعَمٌ، سَيْلٌ موصوف اور مُفْعَمٌ صیغہ اسم مفعول اور اس کے اندر هُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا نائب فاعل اور وہ کس کو راجع ہے؟ سَيْلٌ کو۔ تو یہ مُفْعَمٌ کا اسناد جو هُوَ ضمیر کی طرف ہو رہا ہے یہ مولانا اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف ہے یا غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف، بھئی دیکھو سیلاب بھرا ہوا نہیں بلکہ کیا ہے بھرنے والا ہے تو اس کی طرف تو اسم فاعل کا اسناد ہونا چاہیے تھا نہ کہ اسم مفعول کا۔ فِي عَكْسِهٖ اس کے عکس میں، یعنی پہلے کیا تھا مولانا مبنی للفاعل تھا لیکن اسناد کس کی طرف ہوا تھا؟ مفعول کی طرف عِيشَةٌ رَّاضِيَةٌ میں، اور اب مولانا مبنی للمفعول ہے مُفْعَمٌ اور اسناد کس کی طرف ہو رہا ہے؟ فاعل کی طرف۔ أَعْنِي فِي مَا بُنِيَ لِلْمَفْعُولِ وَأُسْنِدَ إِلَى الْفَاعِلِ، اس معنی فعل یا فعل میں جو مبنی للمفعول ہے اور اس کا اسناد فاعل کی طرف ہو رہا ہے لِأَنَّ السَّيْلَ هُوَ الَّذِي يُفْعِمُ اس لیے کہ سیلاب وہ ہے جو بھرنے والا ہے أَيْ يَمْلَأُ معنی بتلایا بھرنے والا ہے، مِنْ أَفْعَمْتُ الْإِنَاءَ عربی میں یوں کہتے ہیں إِذَا مَلَأْتَهٗ جب آپ برتن کو کیا کر دیں؟ بھر دیں۔ وَشِعْرٌ شَاعِرٌ فِي الْمَصْدَرِ، یہ مولانا مصدر کی مثال بھئی۔ شعر تو آپ جانتے ہیں بھئی وہ دو مصرعے جو آپ نے کہے بھئی۔ اب شِعْرٌ مصدر بھی ہے مولانا، اور شَاعِرٌ، عرب کہتے ہیں مولانا جب کوئی بہت اچھا شعر ہو تو مبالغہ کرتے ہوئے کیا کہتے ہیں یہ شعر ہی شاعر ہے! یعنی اس سے آگے اور اشعار بنتے ہیں اس کو دیکھ کر مولانا۔ تو شِعْرٌ شَاعِرٌ، تو دیکھو شعر ہے مصدر اور شَاعِرٌ آ گیا اسم فاعل اور اس کے اندر هُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع ہے؟ شعر کو۔ تو یہ جو شاعر کا اسناد هُوَ ضمیر کی طرف ہوا یہ اسناد شاعر اسم فاعل ہے تو اس کا اسناد کس کی طرف ہونا چاہیے؟ صاحبِ شعر کی طرف ہونا چاہیے، شعر کہنے والے کی طرف اسناد ہونا چاہیے لیکن اسناد ہو گیا مصدر کی طرف۔ وَالْأَوْلَى التَّمْثِيلُ بِنَحْوِ جَدَّ جِدُّهٗ، کہتے ہیں بھئی ماتن نے شِعْرٌ شَاعِرٌ کی مثال ذکر کی مصدر کے لیے کہ شَاعِرٌ کا اسناد کس کی طرف ہو رہا ہے مصدر کی طرف، کہتے ہیں بھئی یہ مثال صحیح نہیں، بہتر یہ ہے کہ جَدَّ جِدُّهٗ کی مثال ذکر کرتے بھئی۔ اس لیے کہ بتلانا کیا ہے کہ یہاں شَاعِرٌ کا اسناد کس کی طرف ہو رہا ہے شعر کی طرف اور شعر کیا ہے مصدر، کہتے ہیں بھئی شعر مصدر بھی آتا ہے لیکن یہاں پر اس وقت اس سے مفعول مراد ہے، وہ کلامِ منظوم وہ جو دو مصرعوں پر مشتمل تھا وہ مراد ہے اور وہ تو کہا گیا ہے تو وہ کیا ہوا؟ مفعول ہوا۔ تو یہاں اسناد مصدر کی طرف نہ ہوا بلکہ کس کی طرف ہو گیا؟ مفعول کی طرف، اور یہ مثال پہلے بھی گزر چکی ہے رَاضِيَةٌ کے اندر اسناد مفعول کی طرف ہو چکا ہے۔ تو لہٰذا یہ مثال ذکر کرتے جَدَّ جِدُّهٗ، جَدَّ يَجِدُّ کا معنی محنت کرنا کوشش کرنا اور جِدٌّ مصدر ہے، تو جَدَّ جِدُّهٗ محنت کی اس کی کوشش نے۔ اور محنت کوشش کرتی ہے یا صاحبِ کوشش کرتا ہے؟ صاحبِ کوشش، تو اسناد کس کی طرف ہوا مولانا؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف اور یہ مصدر کی طرف ہے مولانا۔ لِأَنَّ الشِّعْرَ هَاهُنَا بِمَعْنَى الْمَفْعُولِ اس لیے کہ شعر جو متن میں آیا وہ کس معنی میں ہے؟ مفعول کے معنی میں ہے وہ منظوم کلام مراد ہے بھئی۔ وَنَهَارُهٗ صَائِمٌ فِي الزَّمَانِ، اور اس کا دن روزہ دار ہے بھئی۔ دن روزہ دار ہوتا ہے یا دن میں روزہ رکھا جاتا ہے مولانا؟ دن میں روزہ رکھا جاتا ہے۔ نَهَارُهٗ مبتدا اور صَائِمٌ کیا ہے مولانا اس کی خبر، اور صَائِمٌ اسم فاعل ہے اور اسم فاعل کے لیے کیا چاہیے مولانا؟ فاعل چاہیے، تو صَائِمٌ کا اسناد ہوا هُوَ ضمیر کی طرف اور هُوَ ضمیر کس کو راجع ہے؟ نَهَار کو راجع ہے، اور صائم نہار ہے یا نہار میں کوئی شخص روزہ رکھتا ہے؟ نہار میں، تو یہ اسناد کس کی طرف ہوا؟ زمانے کی طرف۔ وَنَهْرٌ جَارٍ فِي الْمَكَانِ، بھئی جَارٍ اسم فاعل ہے اس کے اندر هُوَ ضمیر جو کس کو راجع ہے؟ نہر کو۔ جاری نہر ہوتی ہے یا نہر میں پانی جاری ہوتا ہے؟ پانی، تو یہ مکان میں ہے بھئی۔ لِأَنَّ الشَّخْصَ صَائِمٌ فِي النَّهَارِ اس لیے کہ شخص روزہ رکھنے والا ہوتا ہے نہار میں وَالْمَاءَ جَارٍ فِي النَّهْرِ اور پانی جاری ہوتا ہے نہر میں تو نہر مکان ہے۔ وَبَنَى الْأَمِيرُ الْمَدِينَةَ فِي السَّبَبِ، تعمیر کیا امیر نے شہر کو۔ بھئی امیر تعمیر کرتا ہے یا مزدور تعمیر کرتے ہیں؟ مزدور، تو اسناد ہوا امیر کی طرف کیونکہ امیر سبب ہے وہ حکم دینے والا ہے۔ وَيَنْبَغِي أَنْ يُّعْلَمَ أَنَّ الْمَجَازَ الْعَقْلِيَّ يَجْرِي فِي النِّسْبَةِ الْغَيْرِ الْإِسْنَادِيَّةِ أَيْضًا مِنَ الْإِضَافِيَّةِ وَالْإِيقَاعِيَّةِ۔ یہاں سے علامہ تفتازانی مصنف پر اعتراض ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ مصنف نے کیا کہا اسناد جو ہے اس میں سے بعض حقیقتِ عقلیہ ہیں اور بعض کیا ہیں مجازِ عقلیہ ہیں۔ اس سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ حقیقتِ عقلیہ اور مجازِ عقلی، يَرْحَمُكَ اللّٰهُ، یہ صرف اسناد میں جاری ہوتے ہیں یعنی نسبتِ تامہ کے اندر۔ کہتے ہیں نہیں بھئی یہ صرف نسبتِ تامہ کے اندر یہ حقیقتِ عقلیہ اور مجازِ عقلی جاری نہیں ہوتے بلکہ یہ نسبتِ غیرِ تامہ کے اندر بھی جاری ہوتے ہیں جیسے نسبتِ اضافیہ ہے وَالْإِيقَاعِيَّةِ اور اسی طرح نسبتِ ایقاعیہ کے اندر بھی یہ مجازِ عقلی اور حقیقتِ عقلیہ جاری ہوتے ہیں۔ نسبتِ اضافیہ بھئی وہ مضاف مضاف الیہ کے درمیان کیا ہوتی ہے نسبت ہوتی ہے وہ نسبت کیا کہلاتی ہے نسبتِ اضافیہ، کبھی اس میں بھی مجازِ عقلی آ جاتا ہے۔ اور ایقاع کا معنی واقع کرنا: ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا، ضَرَبَ کا اسناد کس کی طرف؟ زید کی طرف، اور ضَرَبَ کا وقوع کس پر ایقاع کس پر؟ عمرو پر۔ اس عمرو کے اندر بھی کبھی کبھی کیا آ جاتا ہے؟ مجازِ عقلی۔ بھئی پٹائی کرنے والا تو زید ہی تھا لیکن پٹائی اس نے کی تھی عمرو کے غلام کی، تو کہنا یوں چاہیے ضَرَبَ زَيْدٌ غُلَامَ عَمْرٍو، لیکن جو غلام کی پٹائی کی تو ہم نے یوں سمجھا گویا کس کی پٹائی کر دی؟ عمرو کی پٹائی کر دی تو کیا کہہ دیا ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا۔ اب آپ بتائیے مولانا اسناد فعل کا مَا هُوَ لَهٗ کی طرف ہے یا غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف؟ پٹائی کس نے کی تھی؟ زید نے، میں نے کس کو فاعل بنایا ہے؟ زید کو ہی بنایا ہے، تو اسناد تو مَا هُوَ لَهٗ کی طرف ہے! ہاں ایقاع کس پر بتلایا؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ پر! اسناد تو مَا هُوَ لَهٗ کی طرف ہی ہے لیکن ایقاع کس پر کہہ دیا غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ پر۔ تو معلوم ہوا کہ یہ مجازِ عقلی نسبتِ ایقاعی میں بھی آ جاتا ہے اور اسی طرح نسبتِ اضافی میں بھی۔ نَحْوُ أَعْجَبَنِي إِنْبَاتُ الرَّبِيعِ البَقْلَ، مجھے تعجب میں ڈالا بہار کے اگانے نے۔ ٹھیک ہے بھئی أَعْجَبَنِي کا اسناد انبات کی طرف یہ تو اسناد کس کی طرف ہوا؟ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف، انبات کسی کو تعجب میں ڈال سکتا ہے انسان حیران ہو گا اس پر بھئی، تو اسناد تو ہے مَا هُوَ لَهٗ کی طرف یہ تو حقیقت ہے۔ لیکن آگے کہا إِنْبَاتُ الرَّبِيعِ اس کا جو مضاف الیہ بنایا بہار کا اگانا، بھئی بہار کا اگانا ہے یا اللہ تعالیٰ کا اگانا ہے؟ اللہ تعالیٰ کا اگانا ہے، تو انبات کی یہ جو اضافت ربیع کی طرف کی یہ نسبتِ اضافی مَا هُوَ لَهٗ کی طرف ہے یا غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف، تو مجازِ عقلی آ گیا اور کس میں آیا؟ نسبتِ اضافیہ میں۔ وَجَرْيُ الْأَنْهَارِ، اس کا اسی پر عطف ہے مولانا انبات پر: أَعْجَبَنِي جَرْيُ الْأَنْهَارِ تعجب میں ڈالا مجھے نہروں کے چلنے نے۔ اب دیکھیے نہروں کا چلنا یہ کسی کو تعجب میں ڈال سکتا ہے تو اسناد تو فعل کا کس کی طرف ہوا مَا هُوَ لَهٗ کی طرف، لیکن آگے جو اضافت کی جَرْيُ الْأَنْهَارِ نہروں کا جاری ہونا، بھئی نہروں کا جاری ہونا ہوتا ہے یا پانی کا جاری ہونا ہو گا؟ پانی کا، تو یہ نسبتِ اضافیہ کے اندر کیا آیا؟ اضافت مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہیں کی بلکہ کس کی طرف کر دی غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کر دی، اضافت پانی کی طرف ہونی چاہیے تھی مکان کی طرف کر دی۔ قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا، اور اگر تم ڈرتے ہو ان میاں بیوی کے بیچ میں جھگڑے سے۔ شِقَاقٌ کہتے ہیں جھگڑے کو، بَيْنِهِمَا کن کے بیچ؟ میاں بیوی کے بیچ۔ اب شقاق کی اضافت ہوئی بَيْنَ کی طرف، جھگڑنا کس کا ہے؟ میاں بیوی کا جھگڑنا ہے، تو اس شقاق کی اضافت ہونی چاہیے تھی کس کی طرف هُمَا ضمیر کی طرف لیکن درمیان میں بَيْنَ آیا اور بَيْنَ ہے ظرفِ مکان، تو یہ جو اضافت ہوئی ہے شقاق کی مکان کی طرف یہ کیا ہے مولانا؟ مجازِ عقلی ہے کیونکہ جھگڑنا میاں بیوی کا ہے مکان کا جھگڑنا نہیں ہے بھئی۔ وَمَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، رات اور دن کا مکر کرنا۔ بھئی رات اور دن مکر کرتے ہیں یا رات اور دن میں مکر کیا جاتا ہے؟ رات اور دن میں مکر کیا جاتا ہے تو یہ تو زمانہ ہے، تو مکر کرنا یہ تو کسی انسان کا ہو گا اس کی طرف اضافت ہونی چاہیے تھی لیکن کس کی طرف اضافت کر دی گئی؟ زمانے کی طرف بھئی۔ یہ تو تھیں مولانا کون سی مثالیں؟ نسبتِ اضافی کی مثالیں جن کے اندر اضافت مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہیں تھی بلکہ کس کی طرف تھی غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف۔ وَنَحْوُ نَوَّمْتُ اللَّيْلَ، یہ اب نسبتِ ایقاعی کی مثالیں آ گئیں کہ ایقاع مَا هُوَ لَهٗ پر نہیں ہو رہا بلکہ کس پر ہو رہا ہے غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ پر۔ نَوَّمْتُ اللَّيْلَ میں نے سلایا رات کو۔ بھئی رات کو سلایا جاتا ہے یا رات میں کسی دوسرے شخص کو سلایا جاتا ہے؟ رات میں کسی دوسرے شخص کو۔ تو نَوَّمْتُ سلایا میں نے، اسناد تو کس کی طرف ہے متکلم کی طرف تو یہ اسناد تو مَا هُوَ لَهٗ کی طرف ہے بھئی، لیکن آگے جو ایقاعِ فعل ہے وہ لیل پر ہوا حالانکہ یہ سلانا رات پر نہیں ہوتا بلکہ کسی شخصِ آخر پر ہو گا بھئی، تو یہ ایقاعِ فعل ہوا مولانا کس پر؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ پر۔ وَأَجْرَيْتُ النَّهْرَ، میں نے نہر کو جاری کیا۔ اب جاری کرنے والا کون؟ متکلم، تو یہ تو اسناد ہے مَا هُوَ لَهٗ کی طرف، لیکن آگے کیا کہا نہر کو جاری کیا، بھئی نہر کو جاری کیا جاتا ہے یا پانی کو جاری کیا جاتا ہے؟ پانی کو۔ تو یہ أَجْرَيْتُ کا اسناد تو مَا هُوَ لَهٗ کی طرف ہی ہے لیکن اس کا وقوع کس پر کر دیا؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ پر بھئی، أَجْرَيْتُ الْمَاءَ ہونا چاہیے تھا لیکن ایقاع کس پر کر دیا مکان پر بھئی۔ قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى اللہ فرماتے ہیں: وَلَا تُطِيعُوا أَمْرَ الْمُسْرِفِينَ، اور تم لوگ اطاعت نہ کرو حد سے گزرنے والوں کے حکم کی۔ بھئی حکم کی اطاعت کی جاتی ہے یا حکم دینے والے کی اطاعت کی جاتی ہے؟ حکم دینے والے کی، حکم پر تو عمل کیا جاتا ہے اطاعت تو حکم دینے والے کی ہے۔ تو یہاں وَلَا تُطِيعُوا تم لوگ اطاعت نہ کرو اسناد ہے فعل کا کس کی طرف ہے؟ مخاطب کی طرف، تو یہ اسناد تو ہے مَا هُوَ لَهٗ کی طرف، لیکن یہ اطاعت کا ایقاع کس پر ہوا؟ أَمْرٌ پر ہوا، امر پر نہیں ہونا چاہیے تھا کس پر ہونا چاہیے تھا؟ مسرفین پر اس کا ایقاع ہونا چاہیے تھا تم اطاعت مسرفین کی نہ کرو۔ تو یہاں نسبتِ ایقاعیہ جو ہے وہ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہیں ہے بلکہ کس کی طرف ہے غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف۔ تو کہتے ہیں دیکھا مثالوں سے ہم نے بات واضح کر دی کہ مجازِ عقلی نسبتِ اضافیہ میں جاری ہوتا ہے اور نسبتِ ایقاعیہ کے اندر بھی جاری ہوتا ہے، وَالتَّعْرِيفُ الْمَذْكُورُ إِنَّمَا هُوَ لِلْإِسْنَادِيِّ اور تعریف جو مصنف نے کی جو مذکور ہے وہ تو صرف کس کی ہے؟ نسبتِ اسنادی کی ہے، انہوں نے باقاعدہ اسناد کا لفظ تعریف میں بھی ذکر کیا اور اسناد تو کس کو کہتے ہیں نسبتِ تامہ کو، اور ابھی ہم نے مثالوں سے بتلایا کہ نسبتِ غیرِ تامہ کے اندر بھی مجازِ عقلی جاری ہوتا ہے تو مصنف کی تعریف سے یہ خارج تھے۔ تو کیا جواب ہے اس کا؟ کہتے ہیں بھئی کوئی جواب نہیں ہے اس کا، اَللّٰهُمَّ کے ذریعے نہایت کمزور جواب ذکر کر رہے ہیں: اَللّٰهُمَّ إِلَّا أَنْ يُّرَادَ بِالْإِسْنَادِ مُطْلَقُ النِّسْبَةِ۔ بھئی میں نے کیا بتلایا تھا کیا ترکیب ہے اصل یہاں؟ اَللّٰهُمَّ لَا مَخْلَصَ لِي عَنْ هٰذَا الِاعْتِرَاضِ کہ اے اللہ میرے لیے اس اعتراض سے چھٹکارا نہیں ہے اس کا کوئی جواب نہیں دیا جا سکتا، إِلَّا مگر یہ کہ وہ جو اسناد آیا تھا لفظ اس سے کیا مراد لیا جائے؟ مُطْلَقُ النِّسْبَةِ مطلقِ نسبت مراد لی جائے۔ اور مطلق نسبت تو دونوں کو شامل ہے: تامہ کو بھی شامل ہے اور غیرِ تامہ کو بھی شامل ہے، تو وہاں اسناد سے مطلق نسبت مراد لے لو اب یہ چیزیں بھی داخل ہو گئیں۔ لیکن یہ ہے جواب بڑا کمزور مولانا اس لیے کہ اسناد نسبتِ تامہ ہی کو کہتے ہیں غیرِ تامہ کو نہیں کہتے۔ وَهَاهُنَا مَبَاحِثُ نَفِيسَةٌ اور یہاں پر بڑی عمدہ مباحث ہیں وَشَّحْنَا بِهَا الشَّرْحَ مزین کیا ہے ہم نے اس کے ساتھ اپنی شرح کو مولانا۔ چلیے هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔