گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ مجازِ عقلی کس چیز کو کہتے ہیں؟ اسناد فعل کا یا معنی فعل کا کس کی طرف؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف بھئی۔ اب وہ جو غیر ہے مَا هُوَ لَهٗ سے، یہ غیر ہونا واقع کے اعتبار سے ہے یا عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ فِي الظَّاهِرِ؟ تو یہاں اشکال ہوتا تھا کہ اگر مراد غیر سے غیر ہونا ہے عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ فِي الظَّاهِرِ، تو اگر یہاں غیر ہونا مراد ہے کس لحاظ سے؟ عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ فِي الظَّاهِرِ، یعنی متکلم کا ظاہرِ حال بتلا رہا ہو کہ یہ اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہیں ہو رہا بلکہ کس کی طرف ہو رہا ہے؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف، تو پھر بِتَأَوُّلٍ قید کی ضرورت نہیں بھئی، کیونکہ اس سے مراد کیا ہے مولانا؟ قرینے کا ہونا۔ جب متکلم کا ظاہرِ حال بتلا رہا ہے کہ وہ اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہیں کر رہا بلکہ کس کی طرف کر رہا ہے؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کر رہا ہے، تو پھر کسی قرینے کی ضرورت اور نہیں۔ اور اگر یہ جو غیر ہونا ہے یہ واقع کے اعتبار سے ہے، تو پھر ایک صورت اس کے اندر داخل نہیں ہوتی۔ کون سی صورت؟ جو واقع کے مطابق ہے اگرچہ اعتقاد کے مطابق نہ ہو، مثلاً جاہل کافر کہتا ہے: أَنْبَتَ اللّٰهُ الْبَقْلَ، اللہ نے سبزی اگائی۔ تو اللہ نے سبزہ اگایا، اب یہ واقع کے مطابق ہے لیکن قول کس کا ہے یہ؟ کافر کا، اور اس کا تو یہ عقیدہ نہیں۔ معلوم ہوا وہ اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہیں کر رہا بلکہ کس کی طرف کر رہا ہے؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کر رہا ہے۔ تو یہاں اگر غیر سے غیر ہونا ہے واقع کے اعتبار سے، تو یہ بھی مجازِ عقلی ہے، اس کو بھی مجازِ عقلی میں داخل ہونا چاہیے، لیکن یہ اس سے خارج ہو رہا ہے کیونکہ واقع کے اعتبار سے یہ غیر کی طرف اسناد نہیں ہے بلکہ کس کی طرف اسناد ہے؟ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف اسناد ہے بھئی۔ تو علامہ تفتازانی نے آپ کو بتلایا مولانا کہ غیر ہونا عام ہے، چاہے واقع کے اعتبار سے ہو اور چاہے متکلم کے ظاہرِ حال کے اعتبار سے ہو۔ متکلم کے ظاہرِ حال کے اعتبار سے کہا تو چاروں صورتیں داخل ہو گئیں، اور واقع کے اعتبار سے کہا تو بِتَأَوُّلٍ کی قید لغو بھی نہ ہوئی کیونکہ واقع کے اعتبار سے بِتَأَوُّلٍ کی قید کی ضرورت پڑے گی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ بِتَأَوُّلٍ کا معنی ہے تاویل کے ساتھ بھئی۔ تو کافر نے جو یہ کہا، واقع کے اعتبار سے یہ خارج ہو رہا تھا مولانا: أَنْبَتَ اللّٰهُ الْبَقْلَ۔ آپ نے کیا کہا کہ یہ غیر ہونا کس اعتبار سے ہو گا؟ واقع کے اعتبار سے یہ اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہیں ہو رہا بلکہ کس کی طرف ہو رہا ہے؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف، اور جو کافر نے کہا أَنْبَتَ اللّٰهُ الْبَقْلَ، یہ تو واقع کے اعتبار سے اسناد غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہیں ہو رہا بلکہ کس کی طرف ہو رہا ہے؟ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف۔ جب یہ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف ہوا تو پھر تو یہ کس کے اندر داخل ہو گیا؟ حقیقتِ عقلیہ میں، حالانکہ یہ تو حقیقتِ عقلیہ نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ مجازِ عقلی ہے۔ لیکن جب بِتَأَوُّلٍ کی قید ساتھ لگا دی، اب یہ بھی داخل ہو گیا کیونکہ کافر اپنے اس قول میں تاویل کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میں تو یہ اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہیں کر رہا بلکہ کس کی طرف کر رہا ہوں؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کر رہا ہوں۔ اور کیوں کر رہا ہوں؟ اللہ کی طرف کیوں کی؟ کیونکہ کافر کے نزدیک اللہ سبب ہے، اصل انبات فعل کس کا ہے؟ ربیع کا، لیکن اللہ کیا ہیں؟ سبب ہیں۔ تو بِتَأَوُّلٍ کا کیا معنی کیا؟ تاویل کے ساتھ۔ یہ اہم قید ہے، اس کو یاد رکھنا مولانا، مجازِ عقلی کا دارومدار تاویل پر ہے؛ اگر تاویل ہے تو مجاز ہے، اگر تاویل نہیں تو مجاز نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ اور پھر تاول کا معنی بتلایا تھا بھئی۔ تاول کا کیا معنی؟ کہ آپ بتکلف طلب کرتے ہیں حقیقت کو یا اس محل کو جو عقل کے اعتبار سے ثابت ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ شیخ عبدالقاہر جرجانی رَحِمَهُ اللّٰهُ کے نزدیک مجاز دو قسم پر ہے: ایک وہ مجاز جس کے لیے حقیقتِ عقلیہ ہو گی، ایک وہ مجاز جس کے لیے کوئی حقیقتِ عقلیہ نہیں ہے۔ بھئی مجازِ عقلی کس کو کہتے ہیں؟ اسناد ہوا کس کی طرف؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف، تو اس کے لیے کوئی مَا هُوَ لَهٗ ہو گا یا مَا هُوَ لَهٗ نہیں ہو گا؟ تو ان کے نزدیک کبھی ایسا مجاز ہو گا جس کے لیے حقیقتِ عقلیہ ہو گی یعنی مَا هُوَ لَهٗ ہو گا، اور کبھی ایسا مجاز ہو گا جس کے لیے مَا هُوَ لَهٗ نہیں، جب مَا هُوَ لَهٗ نہیں تو اس کے لیے حقیقتِ عقلیہ بھی نہیں۔ مَا هُوَ لَهٗ جس کے لیے ہو اس کی مثال جیسے کیا کہتا ہے مومن: أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ، بہار نے سبزہ اگایا۔ اب آپ فوراً اس پر کافر ہونے کا فتویٰ لگاتے ہیں کہ یہ تو آپ نے کیا کر دیا، انبات کے فعل کی نسبت کس کی طرف کر دی؟ ربیع کی طرف کر دی۔ تو وہ فوراً اپنے کلام میں تاویل کرے گا مولانا، کیا کہے گا کہ میں بھی جانتا ہوں کہ انبات اللہ کا فعل ہے لیکن ربیع کی طرف میں نے اس لیے نسبت کی کہ ربیع زمانہ ہے۔ تو اس نے دیکھو فوراً اپنے کلام میں کیا کی؟ تاویل کی۔ تو تاول کا معنی کیا بتلایا انہوں نے: أَنَّكَ تَطَلَّبُ مَا يَؤُولُ إِلَيْهِ کہ آپ بتکلف طلب کرتے ہیں اس حقیقت کو جس کی طرف مجاز لوٹتا ہے یا اس محل کو جس کی طرف مجاز لوٹتا ہے، باعتبار کس کے بھئی؟ وہ محل کس اعتبار سے ہے؟ عقل کے اعتبار سے۔ یہ ثانی قسم ہے، وہ مجاز جس کے لیے کوئی حقیقتِ عقلیہ نہ ہو۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: مجھے دین کی طلب مدرسے کے اندر لے آئی بھئی۔ اب اس لانے کے فعل کے لیے، اس کا اسناد آپ نے کس کی طرف کر دیا لانے کے فعل کا؟ دین کی طلب کی طرف کر دیا، تو یہ اسناد ہوا کس کی طرف؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف۔ اب اس کے لیے حقیقت؟ کہتے ہیں اس کے لیے کوئی حقیقت نہیں، اس لیے کہ یہاں پر لانے کا فعل ہے ہی نہیں، یہاں آئے تو آپ خود ہیں، البتہ دین کی طلب سبب ہے۔ تو یہ ایک امرِ موہوم ہے، وہمی امر ہے جس کا آپ نے اعتبار کر لیا۔ تو یہاں اصل فعل ہے آنا، لانے کا فعل ہی نہیں، جب لانے کا فعل ہی نہیں ہے تو اس کے لیے کوئی مَا هُوَ لَهٗ بھی نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اس کے لیے کوئی مَا هُوَ لَهٗ بھی نہیں ہے۔ تو کوئی ایسی چیز نہیں جس نے آپ کو وہاں سے اٹھایا اور اٹھا کر یہاں لا کر بٹھا دیا کھڑا کر دیا، بلکہ آپ خود آئے ہیں۔ تو سمجھ میں آیا، دین کی طلب مجھے لے آئی، اب یہاں لانے کے لیے کوئی حقیقتِ عقلیہ نہیں ہے، البتہ عقل نے ایک محل بتلایا کہ دراصل یہاں لانے کا فعل نہیں ہے بلکہ کون سا فعل ہے؟ آنے کا فعل، اور یہ کس نے سرانجام دیا ہے؟ آپ نے خود سرانجام دیا۔ تو سمجھ میں آیا تاویل ہو گی مولانا، تاویل کے ساتھ ہو گا، اور حاصل یہ ہے کہ قرینہ قائم کیا جائے گا بھئی۔ جب آپ تَطَلُّبٌ کا معنی ہوا بتکلف طلب کرنا یعنی توجہ کرتے ہیں، کس کی طرف توجہ کرتے ہیں؟ حقیقت کی طرف یا اس محل کی طرف۔ جب آپ اس حقیقت اور محل کی طرف توجہ کر رہے ہیں تو پھر اس صورت میں اس کے ساتھ لازم ہے قرینے کا قائم کرنا بھئی۔ آپ ایک فعل کا اسناد کر رہے ہیں کسی چیز کی طرف اور یہ اسناد کس کی طرف ہے؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف۔ جب ایک فعل یا معنی فعل کا آپ اسناد کرنے لگے ہیں غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف اور آپ جانتے ہیں کہ یہ میں اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہیں کر رہا بلکہ کس کی طرف کرنے لگا ہوں؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کرنے لگا ہوں، تو مَا هُوَ لَهٗ کی طرف بھی آپ کی توجہ ہو گی۔ جب آپ کی توجہ ہو گی تو پھر آپ کوئی قرینہ قائم کریں گے تاکہ سننے والے کو بھی پتہ چلے کہ یہ میں مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہیں کر رہا بلکہ کس کی طرف کر رہا ہوں؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کر رہا ہوں۔ سمجھ میں آیا؟ اسی لیے کہا حاصل یہ ہے کہ قرینہ قائم کیا جائے اس لیے کہ اس تاویل کے ساتھ قرینہ لازم ہے، تاویل کا پتہ کس سے چلے گا؟ قرینے سے پتہ چلے گا، قرینہ بتلائے گا کہ یہ آپ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف اسناد نہیں کر رہے بلکہ کس کی طرف کر رہے ہیں؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف اسناد کر رہے ہیں۔ اور بتلایا تھا فعل کے ملابسات مختلف بہت سے ہیں: فاعل بھی ہے، مفعول بہ بھی ہے، مصدر بھی ہے، زمانہ بھی ہے، مکان بھی ہے اور سبب بھی ہے۔ تو جب فعلِ معروف کا اسناد فاعل کی طرف ہو اور فعلِ مجہول کا اسناد نائب فاعل یعنی مفعول کی طرف ہو تو پھر یہ حقیقت ہے، اور ان کے علاوہ کسی اور کی طرف ہو یعنی فعلِ معروف کا اسناد فاعل کے علاوہ کسی اور کی طرف ہو جائے یا فعلِ مجہول کا اسناد نائب فاعل کے علاوہ یعنی مفعول کے علاوہ کسی اور کی طرف ہو جائے بوجہ مشابہت کے، تو پھر یہ کیا کہلاتا ہے؟ مجازِ عقلی کہلاتا ہے۔ جیسے مثال گزری تھی مولانا: عِيشَةٌ رَّاضِيَةٌ بھئی۔ اب رَاضِيَةٌ کا اسناد کس کی طرف ہوا؟ عِيشَةٌ کی طرف، خوش ہونے والی زندگی۔ بھئی زندگی خوش ہوتی ہے یا صاحبِ عیشہ خوش ہوتا ہے؟ صاحبِ عیشہ خوش ہوتا ہے اور زندگی پر خوش ہوتا ہے تو یہ مفعول ہے، تو یہاں پر اسناد رَاضِيَةٌ کا کس کی طرف ہوا؟ مفعول کی طرف ہوا حالانکہ اس کا اسناد کس کی طرف ہونا چاہیے؟ فاعل کی طرف ہونا چاہیے۔ وَسَيْلٌ مُّفْعَمٌ، سیلاب بھرا ہوا۔ بھئی سیلاب تو بھرنے والا ہے اور وادی کیا ہے؟ بھری ہوئی۔ تو سیلاب بھرنے والا ہے اس کی طرف کون سا اسناد ہونا چاہیے تھا؟ مُفْعِمٌ کا اسناد ہونا چاہیے تھا لیکن اس کی طرف کس کا اسناد کیا گیا؟ مُفْعَمٌ کا۔ تو مُفْعَمٌ کا اسناد تو مفعول کی طرف ہونا چاہیے تھا لیکن اس کا اسناد کس کی طرف ہوا؟ فاعل کی طرف، تو یہ کیا ہے اسناد غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف بھئی۔ اور اسی طرح اور کئی مثالیں گزریں۔ پھر آخر میں علامہ تفتازانی نے اعتراض کیا بھئی یہاں پر، یہ بتلایا آپ کو کہ مجازِ عقلی جیسے نسبتِ تامہ کے اندر چلتا ہے اسی طرح نسبتِ غیرِ تامہ کے اندر بھی جاری ہوتا ہے، لیکن مصنف نے تو ذکر کیا اسناد اور اسناد تو کہتے ہیں نسبتِ تامہ کو، تو اس سے یہ وہم پڑتا ہے کہ یہ نسبتِ تامہ ہی میں جاری ہوتا ہے نسبتِ غیرِ تامہ کے اندر جاری نہیں ہوتا۔ حالانکہ کہتے ہیں نسبتِ غیرِ تامہ جیسے نسبتِ اضافیہ ہے اور نسبتِ ایقاعیہ ہے؛ نسبتِ اضافیہ وہ جو نسبت مضاف مضاف الیہ میں ہے، نسبتِ ایقاعیہ وہ جو فعل کا وقوع ہوتا ہے کس پر؟ مفعول پر، ان میں بھی جاری ہوتا ہے۔ اور پھر یہ جواب دیا مولانا کمزور جواب اَللّٰهُمَّ کے ساتھ ذکر کیا کہ بھئی اس اعتراض کا کوئی جواب یہاں نہیں دیا جا سکتا مگر یہ کہ اسناد سے کیا مراد لے لی جائے؟ مطلقِ نسبت۔ حالانکہ اسناد مطلقِ نسبت کو نہیں کہتے بلکہ کس کو کہتے ہیں؟ نسبتِ تامہ کو کہتے ہیں، لیکن یہاں مطلقِ نسبت کے معنی میں لے لیں گے اور پھر یہ نسبتِ تامہ کو بھی شامل ہو جائے گا اور نسبتِ غیرِ تامہ کو بھی شامل ہو جائے گا بھئی۔ وَقَوْلُنَا فِي التَّعْرِيفِ بِتَأَوُّلٍ يُخْرِجُ نَحْوَ مَا مَرَّ مِنْ قَوْلِ الْجَاهِلِ أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ۔ علامہ تفتازانی آپ کو بتلائیں گے بھئی۔ دیکھیے یہاں قید کا فائدہ ذکر کر رہے ہیں مصنف۔ مصنف کیا کہتے ہیں کہ یہ جو ہم نے تعریف میں بِتَأَوُّلٍ کی قید ذکر کی یہ جاہل کے قول أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ، اس جیسے جاہل کے جو اقوال ہیں ان کو نکال دیتا ہے کس سے؟ مجازِ عقلی سے۔ بھئی دیکھو جاہل نے کیا کہا: أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ، بہار نے سبزہ اگایا۔ اب آپ بتلائیے یہ اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف ہے یا غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف ہو رہا ہے، لیکن کیا وہ اس کے اندر کوئی تاویل کرتا ہے؟ جاہل اور کافر تو اس کے اندر کوئی تاویل نہیں کرتا، وہ تو یہ کہتا ہے کہ میں تو کس کی طرف کر رہا ہوں؟ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف۔ جب وہ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کر رہا ہے تو مجازِ عقلی سے خارج ہوا کیونکہ مجازِ عقلی تو کس کو کہتے ہیں کہ اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہ ہو بلکہ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف ہو بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مصنف کہتے ہیں کہ یہ جو بِتَأَوُّلٍ کی قید ہم نے لگائی یہ کافر کے اس قسم کے قول کو مجازِ عقلی سے خارج کر دیتی ہے، تو کافر کا کہنا أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ یہ مجازِ عقلی نہیں بلکہ کیا ہے مولانا؟ حقیقتِ عقلیہ ہے۔ وَقَوْلُنَا فِي التَّعْرِيفِ بِتَأَوُّلٍ اور تعریف میں ہمارا بِتَأَوُّلٍ کہنا يُخْرِجُ وہ نکال دیتا ہے نَحْوَ مَا مَرَّ مثل اس کے جو گزر گیا، وہ کیا؟ یعنی جاہل کا قول أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ، رَائِيًا اس حال میں کہ اس کا اعتقاد یہ ہے، کیا اعتقاد ہے؟ کہ اَلْإِنْبَاتُ مِنَ الرَّبِيعِ کہ انبات کس کی طرف سے ہے؟ ربیع کی طرف سے۔ بھئی کافر کا کیا اعتقاد ہے کہ یہ انبات کس کی جانب سے ہے؟ ربیع کی جانب سے ہے۔ اب اگرچہ یہ بات واقع کے مطابق نہیں لیکن اس کے اعتقاد کے مطابق ہے، جب اعتقاد کے مطابق ہے تو وہ اس میں کوئی تاویل کرتا ہے کوئی تاویل مانتا ہے؟ نہیں، وہ کیا کہتا ہے یہ تو اسناد میں کس کی طرف کر رہا ہوں؟ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف۔ جب اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف ہوا تو پھر یہ مجازِ عقلی ہے یا حقیقتِ عقلیہ؟ حقیقتِ عقلیہ۔ فَإِنَّ هٰذَا الْإِسْنَادَ وَإِنْ كَانَ إِلٰى غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ فِي الْوَاقِعِ اس لیے کہ یہ اسناد اگرچہ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف ہے واقع کے اعتبار سے لٰكِنْ لَا تَأَوُّلَ فِيهِ لیکن اس کے اندر کوئی تاویل نہیں لِأَنَّهٗ مُرَادُهٗ وَمُعْتَقَدُهٗ اس لیے کہ یہ اس کی مراد ہے اور یہی اس کا اعتقاد ہے۔ وَكَذَا شَفَى الطَّبِيبُ الْمَرِيضَ، شفا دی طبیب نے مریض کو، وَنَحْوُ ذٰلِكَ اور اس جیسی مثالیں بھئی۔ کیا معنی؟ کہتے ہیں مِمَّا يُطَابِقُ الِاعْتِقَادَ دُونَ الْوَاقِعِ یعنی کہ جو اعتقاد کے تو مطابق ہوں لیکن واقع کے مطابق نہ ہوں، اس قسم کی مثالیں، تو یہ بھی اس سے خارج ہوئیں۔ دیکھو جاہل نے کافر نے کیا کہا: شَفَى الطَّبِيبُ الْمَرِيضَ، شفا دی طبیب نے مریض کو۔ بھئی شفا طبیب دیتا ہے یا اللہ دیتے ہیں؟ شفا تو اللہ دیتے ہیں، تو واقع کے اعتبار سے یہ اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف ہے یا غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف ہے، لیکن جب کافر نے کہا تو اس کا تو یہی اعتقاد ہے کہ یہ شفا کس نے دی ہے؟ طبیب نے۔ تو وہ اپنے خیال میں مَا هُوَ لَهٗ کی طرف اسناد کر رہا ہے یا غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف؟ وہ اسناد کر رہا ہے مَا هُوَ لَهٗ کی طرف۔ جب مَا هُوَ لَهٗ کی طرف اسناد ہوا تو یہ مجازِ عقلی نہ رہا بلکہ کیا بن گیا؟ حقیقتِ عقلیہ بن گیا۔ فَقَوْلُهٗ بِتَأَوُّلٍ يُخْرِجُ ذٰلِكَ پس بِتَأَوُّلٍ کی قید نکال دیتی ہے اس کو كَمَا يُخْرِجُ الْأَقْوَالَ الْكَاذِبَةَ جیسے کہ یہ اقوالِ کاذبہ کو بھی کیا کر دیتی ہے؟ نکال دیتی ہے۔ بھئی ایک شخص نے آپ کے سامنے کہا جَاءَ زَيْدٌ، زید حالانکہ نہیں آیا۔ اب یہ واقع کے مطابق بھی نہیں اور اس کا اعتقاد بھی یہ ہے کہ زید نہیں آیا، لیکن جھوٹ آپ کے سامنے بولتا ہے اور کہتا ہے جَاءَ زَيْدٌ۔ اب مولانا بِتَأَوُّلٍ کی قید سے، یہ قولِ کاذب ہوا لیکن یہ بھی خارج ہوا مجازِ عقلی سے اور کس میں داخل ہو گیا؟ حقیقتِ عقلیہ میں۔ اس لیے کہ جب وہ جھوٹ بول رہا ہے تو آپ سے چھپا رہا ہے، جب چھپا رہا ہے تو وہ کوئی قرینہ نہیں قائم کرے گا، جب قرینہ نہیں قائم کرے گا تو آپ تو یہ سمجھیں گے کہ اسناد فعل کا کس کی طرف ہو رہا ہے؟ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف ہی ہو رہا ہے غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہیں ہو رہا۔ تو وہ اس میں کوئی تاویل نہیں کرتا کیونکہ وہ کیا کرنا چاہتا ہے؟ آپ کو غلط بات ہی بتلانا چاہتا ہے۔ وَهٰذَا تَعْرِيضٌ بِالسَّكَّاكِيِّ اور یہ تعریض ہے علامہ سکاکی پر بھئی۔ مصنف نے قید کا فائدہ ذکر کیا، علامہ تفتازانی آپ کو بتلائیں گے کہ یہ قید کیوں ذکر کی حالانکہ پوری کتاب میں مصنف کی یہ عادت نہیں، وہ کہیں فوائدِ قیود کو ذکر نہیں کرتے، اس مقام پر قید کا فائدہ کیوں ذکر کیا؟ کس پر تعریض ہے؟ علامہ سکاکی پر۔ تعریض کہتے ہیں کہنا ایک کو سنانا دوسرے کو بھئی۔ آپ بھی بسا اوقات اس طرح کرتے ہیں، بات ایک شخص سے کرتے ہیں اور سنانا کیا ہوتا ہے دوسرے کو مقصد ہوتا ہے۔ تو یہاں پر بھی قید کا فائدہ ذکر کر رہے ہیں لیکن دراصل سنانا کس کو ہے؟ علامہ سکاکی یعنی ان پر اعتراض کرنا ہے۔ علامہ سکاکی نے کہا تھا کہ یہ بِتَأَوُّلٍ کی قید صرف کس کو نکالتی ہے؟ اقوالِ کاذبہ کو نکالتی ہے۔ مصنف نے بتلایا، اقوالِ کاذبہ کو تو ذکر ہی نہیں کیا، صرف یہ ذکر کیا کہ یہ جاہل کا قول جو متن میں آیا تھا بھئی أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ، اس قسم کے اقوال کو بھی کیا کر دیتی ہے یہ قید خارج کر دیتی ہے۔ بات سمجھ میں آئی؟ علامہ سکاکی پر اعتراض مطلوب تھا، انہوں نے صرف کیا کہا تھا کہ کیا نکلتے ہیں اس قید سے؟ صرف اقوالِ کاذبہ نکل جائیں گے مجازِ عقلی سے اور کس میں داخل ہو جائیں گے؟ حقیقتِ عقلیہ میں۔ مصنف نے بتلایا کہ اس کے ساتھ کافر کا أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ جیسے اقوال بھی نکل جائیں گے جو اعتقاد کے تو مطابق ہوں لیکن واقع کے مطابق نہ ہوں، وہ بھی نکل جائیں گے۔ وَهٰذَا تَعْرِيضٌ بِالسَّكَّاكِيِّ اور یہ تعریض ہے علامہ سکاکی پر حَيْثُ جَعَلَ التَّأَوُّلَ لِإِخْرَاجِ الْأَقْوَالِ الْكَاذِبَةِ فَقَطْ اس حیثیت سے کہ انہوں نے بنایا ہے تاول کو صرف اقوالِ کاذبہ کو نکالنے کے لیے۔ انہوں نے کیا کہا؟ تاول کی قید صرف کس کو نکالتی ہے؟ اقوالِ کاذبہ کو۔ وَلِلتَّنْبِيهِ عَلٰى هٰذَا اور اسی بات پر تنبیہ کرنے کے لیے تَعَرَّضَ الْمُصَنِّفُ فِي الْمَتْنِ لِبَيَانِ فَائِدَةِ هٰذَا الْقَيْدِ مصنف درپے ہوئے متن کے اندر اس قید کا فائدہ بیان کرنے کے لیے مَعَ أَنَّهٗ لَيْسَ ذٰلِكَ مِنْ دَأْبِهٖ فِي هٰذَا الْكِتَابِ باوجود اس کے کہ یہ ان کا معمول اور یہ ان کی عادت نہیں ہے اس کتاب کے اندر۔ دَأْبٌ کہتے ہیں معمول اور عادت کو۔ مصنف اس قید کا فائدہ ذکر کر رہے ہیں حالانکہ اس کتاب میں ان کی یہ عادت نہیں، وہ فوائدِ قیود کو ذکر نہیں کیا کرتے۔ وَاقْتَصَرَ عَلٰى بَيَانِ إِخْرَاجِهٖ۔ تو بھئی مولانا بِتَأَوُّلٍ کی قید کے ساتھ دو چیزیں خارج ہو رہی تھیں: ایک اقوالِ کاذبہ اور ایک جاہل کے اس قسم کا قول أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ جو اعتقاد کے تو مطابق ہو لیکن واقع کے مطابق نہ ہو۔ کتنی چیزیں خارج ہوئیں بھئی بِتَأَوُّلٍ کی قید سے؟ دو: ایک کیا اقوالِ کاذبہ اور دوسری کیا جاہل کا اس قسم کا قول جو اعتقاد کے تو مطابق ہو لیکن واقع کے مطابق نہ ہو۔ تو یہ دو خارج ہو رہے تھے لیکن مصنف نے صرف ایک کو ذکر کیا، اقوالِ کاذبہ کو ذکر نہیں کیا، کیوں؟ مقصد یہ تھا کہ کس پر اعتراض کریں؟ علامہ سکاکی پر اعتراض کریں۔ وَاقْتَصَرَ عَلٰى بَيَانِ إِخْرَاجِهٖ اور اکتفا کیا، إِخْرَاجِهٖ ہا ضمیر راجع کریں قید کو، اس قید کا نکالنا، بِنَحْوِ نہیں لِنَحْوِ ہونا چاہیے مولانا لِنَحْوِ قَوْلِ الْجَاهِلِ، قولِ جاہل کو اس قید کے نکالنے کو بیان کرنے پر۔ قولِ جاہل کو نکالا کس نے نکالا مولانا؟ اس قید نے، تو اس قید کا قولِ جاہل کو نکالنے کے بیان پر ہی اکتفا کیا مَعَ أَنَّهٗ يُخْرِجُ الْأَقْوَالَ الْكَاذِبَةَ أَيْضًا اگرچہ یہ اقوالِ کاذبہ کو بھی کیا کر دیتا ہے؟ نکال دیتا ہے۔ تو یہ قید دونوں کو نکالتی ہے لیکن مصنف نے صرف ایک کو بیان کیا دوسرے کو بیان نہیں کیا۔ وَلِهٰذَا متن دیکھیے: وَلِهٰذَا لَمْ يُحْمَلْ نَحْوُ قَوْلِهٖ: أَشَابَ الصَّغِيرَ وَأَفْنَى الْكَبِيرَ كَرُّ الْغَدَاةِ وَمَرُّ الْعَشِيِّ، عَلَى الْمَجَازِ مَا دَامَ لَمْ يُعْلَمْ أَوْ لَمْ يُظَنَّ أَنَّ قَائِلَهٗ لَمْ يَعْتَقِدْ ظَاهِرَهٗ۔ ایک بات آپ کو پتہ چل گئی کہ مجازِ عقلی کا دارومدار کس پر ہے؟ تاویل پر ہے۔ اگر تاویل ہے تو مجازِ عقلی ہے، اگر تاویل نہیں تو مجازِ عقلی نہیں۔ اب مصنف کہتے ہیں اسی وجہ سے کہ تاول کی شرط ہم نے لگائی ہے، اس قسم کا قول جو أَشَابَ الصَّغِيرَ وَأَفْنَى الْكَبِيرَ كَرُّ الْغَدَاةِ وَمَرُّ الْعَشِيِّ، اس کو مجاز پر محمول نہیں کر سکتے بھئی جب تک یہ پتہ نہ چل جائے کہ متکلم جو ہے اس کے ظاہر کا اعتقاد نہیں رکھتا، جب تک یہ پتہ نہ چل جائے۔ دیکھیے پہلے شعر کا ترجمہ کر لیجیے: أَشَابَ الصَّغِيرَ وَأَفْنَى الْكَبِيرَ، جوان کر دیا بچے کو وَأَفْنَى الْكَبِيرَ اور فنا کر دیا بڑے کو كَرُّ الْغَدَاةِ۔ كَرٌّ کہتے ہیں مولانا لوٹنا، پلٹنا۔ غَدَاةٌ کہتے ہیں صبح کو مولانا۔ عَشِيٌّ کہتے ہیں زوال سے لے کر شام تک کے وقت کو، اور شام کو بھی کہتے ہیں عَشِيٌّ۔ تو جوان کر دیا بچے کو وَأَفْنَى الْكَبِيرَ اور فنا کر دیا بڑے کو کس چیز نے؟ كَرُّ الْغَدَاةِ صبح کے پلٹنے لوٹنے نے وَمَرُّ الْعَشِيِّ اور شام کے گزرنے نے۔ صبح اور شام آتے رہتے ہیں، گزرتے چلے جاتے ہیں، بچہ جوان ہو جاتا ہے اور جوان کیا ہو جاتے ہیں؟ بوڑھے ہو جاتے ہیں اور بوڑھے کیا ہیں؟ فنا ہو جاتے ہیں بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا شعر کا؟ اب بتلائیے مولانا یہ بچے کو جوان کرنا اور بوڑھے کو فنا کرنا، یہ دن اور رات کے گزرنے کی وجہ سے ہے یا ان کو فنا کرنے والے اللہ تعالیٰ ہیں بھئی؟ بچے کو جوان کرنے کا یہ فعل کس کا ہے؟ اللہ کا، بوڑھے کو فنا کرنا یہ کس کا فعل ہے؟ اللہ کا، لیکن یہاں اسناد کس کی طرف ہوا؟ صبح اور شام کے گزرنے اور پلٹنے کی طرف۔ تو یہاں مولانا اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف ہوا یا غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف؟ واقع کے اعتبار سے تو یہ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف ہے۔ لیکن وہاں ہم نے قید لگائی تھی تعریف میں بِتَأَوُّلٍ کہ کس کے ساتھ ہو؟ تاویل کے ساتھ ہو۔ اب آپ اس پر مجاز کا حکم نہیں لگا سکتے مولانا، آپ کہیں کہ یہ واقع کے اعتبار سے تو کس کی طرف ہے؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف اسناد ہے، لیکن آپ اس پر مجازِ عقلی کا حکم نہیں لگا سکتے جب تک کہ آپ کو پتہ نہ چل جائے کہ کہنے والے کا یہ اعتقاد نہیں۔ کیونکہ ہو سکتا ہے اس کا یہی اعتقاد ہو اور وہ کیا کہے کہ میں تو اسناد غیر کی طرف نہیں کر رہا بلکہ کس کی طرف کر رہا ہوں؟ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کر رہا ہوں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جب تک کہنے والے کا پتہ نہ چلے، اس کے اعتقاد کا پتہ نہ چلے، اس وقت تک اس جیسے کلام پر مجاز کا حکم آپ نہیں لگا سکتے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اگر اس کا یہی اعتقاد ہوا تو پھر تو وہ اپنے کلام میں کوئی تاویل نہیں کرے گا، اور اگر اس کا یہ اعتقاد نہ ہوا تو پھر وہ کیا کرے گا اپنے کلام میں تاویل کرے گا۔ تو جو تاول کی قید لگائی اس قید کی وجہ سے پتہ چل گیا کہ جب تک تاویل کا پتہ نہیں چلے گا یا تاویل کے نہ ہونے کا پتہ نہیں چلے گا، کلام پر آپ مجاز کا حکم نہیں لگا سکتے۔ تاویل کا پتہ چلے گا کہ تاویل کر رہا ہے اس کا یہ اعتقاد نہیں تو پھر کیا حکم لگا دیں گے؟ مجازِ عقلی، اور اگر ایسا نہیں تو پھر اس کو کیا کریں گے؟ حقیقت پر رکھیں گے، یوں سمجھا جائے گا کہ یہ اسناد کس کی طرف کر رہا ہے؟ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کر رہا ہے۔ وَلِهٰذَا اور اسی وجہ سے أَيْ وَلِأَنَّ مِثْلَ قَوْلِ الْجَاهِلِ خَارِجٌ عَنِ الْمَجَازِ کہ جاہل کے قول کے مثل جو ہے مجاز سے خارج ہے بھئی۔ کس قسم کا قول جاہل کا بھئی؟ جاہل نے جو کہا تھا أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ، بہار نے کیا کیا سبزہ اگایا۔ اب دیکھو واقع کے اعتبار سے یہ اسناد کس کی طرف ہے؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف، لیکن مجاز نہیں کیونکہ وہ کیا کرتا ہے اس میں کوئی تاویل نہیں کرتا اور مجاز کا تو دارومدار کس پر ہے؟ تاویل پر ہے۔ تو یہ چونکہ مجاز سے خارج ہے لِاشْتِرَاطِ التَّأَوُّلِ فِيهِ اس لیے کہ مجاز کے اندر کس چیز کی قید لگائی گئی ہے؟ تاویل کی قید لگائی گئی ہے، لَمْ يُحْمَلْ نَحْوُ قَوْلِهٖ محمول نہیں ہو گا اس قسم کا قول، آگے شعر کے بعد آ رہا ہے عَلَى الْمَجَازِ کس پر؟ مجاز پر۔ اس قسم کا قول یہ جو شعر آ رہا ہے یہ مجاز پر محمول نہیں ہو گا۔ اور شعر کیا ہے: أَشَابَ الصَّغِيرَ وَأَفْنَى الْكَبِيرَ جوان کر دیا بچے کو اور فنا کر دیا بوڑھے کو كَرُّ الْغَدَاةِ وَمَرُّ الْعَشِيِّ صبح کے پلٹنے نے اور شام کے گزرنے نے۔ كَرٌّ کا معنی ہے پلٹنا مولانا، لوٹنا۔ اسی سے ہے حضرت علی رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالٰى عَنْهُ کو حیدرِ کرار کہا کرتے تھے۔ یہ کرار اسی كَرٌّ سے ہے مولانا کیونکہ ان کا خاص جنگ کا طریقہ تھا، پلٹ پلٹ کر حملے کیا کرتے تھے تو حیدرِ کرار بھئی۔ عَلَى الْمَجَازِ مجاز پر أَيْ عَلٰى أَنَّ إِسْنَادَ أَشَابَ وَأَفْنٰى إِلٰى كَرِّ الْغَدَاةِ وَمَرِّ الْعَشِيِّ مَجَازٌ، مجاز پر محمول نہیں ہو گا یعنی اس بات پر کہ یہ جو أَشَابَ اور أَفْنٰى کا اسناد ہوا کس کی طرف؟ كَرُّ الْغَدَاةِ اور مَرُّ الْعَشِيِّ کی طرف یہ مجاز ہے، یہ نہیں کہا جائے گا مَا دَامَ لَمْ يُعْلَمْ جب تک یہ یقین نہ ہو جائے أَوْ لَمْ يُظَنَّ یا یہ غالب گمان نہ ہو جائے کہ أَنَّ قَائِلَهٗ أَيْ قَائِلَ هٰذَا الْقَوْلِ کہ اس قول کا قائل جو ہے لَمْ يَعْتَقِدْ ظَاهِرَهٗ اس کا اعتقاد اس کلام کے ظاہر کا نہیں۔ جب پتہ چلے گا کہ اس کا یہ اعتقاد نہیں تو پھر ہم اس پر کیا حکم لگائیں گے؟ مجاز کا، اور جب تک پتہ ہی نہیں تو اس پر مجاز کا حکم بھی نہیں لگائیں گے، جب مجاز کا حکم نہیں لگائیں گے تو پھر اس کو کیا قرار دیں گے؟ حقیقتِ عقلیہ۔ ظَاهِرَهٗ، ہا ضمیر کا مرجع بتلا رہے ہیں آگے: أَيْ ظَاهِرَ الْإِسْنَادِ ظاہرِ اسناد کا اس کا اعتقاد نہیں، لِانْتِفَاءِ التَّأَوُّلِ بوجہ تاویل کے منتفی ہونے کے۔ تاویل کا پتہ ہی نہیں اور مجاز کا دارومدار تو کس پر تھا؟ تاویل پر، تو جب تاویل منتفی ہے تو مجاز بھی نہیں، اس کو مجاز پر محمول بھی نہیں کریں گے بلکہ کس پر محمول کریں گے؟ حقیقت پر، لِاحْتِمَالِ أَنْ يَّكُونَ هُوَ مُعْتَقِدًا لِّلظَّاهِرِ بوجہ اس احتمال کے کہ ہو سکتا ہے وہ معتقد ہو ظاہر کا فَيَكُونُ مِنْ قَبِيلِ قَوْلِ الْجَاهِلِ أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ، تو اس احتمال کی وجہ سے کہ ہو سکتا ہے اس کا کیا اعتقاد ہو؟ ظاہر ہی کا اعتقاد ہو، تو پھر یہ جاہل کے اس قول کی قبیل سے بن جائے گا جو اس نے کیا کہا تھا أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ۔ اب یہ بھی واقع کے مطابق تو نہیں تھا لیکن اس کے اعتقاد کے مطابق تھا، تو یہاں بھی واقع کے مطابق تو کلام نہیں لیکن ہو سکتا ہے اس کے اعتقاد کے مطابق ہو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اس پر اشکال ہوتا ہے مولانا۔ اشکال یہ ہے کہ ماتن نے کیا کہا: أَشَابَ الصَّغِيرَ اور أَفْنَى الْكَبِيرَ کا جو اسناد ہو رہا ہے كَرُّ الْغَدَاةِ اور مَرُّ الْعَشِيِّ کی طرف اس کو مجاز پر محمول نہیں کریں گے۔ بھئی کہتے ہیں اس کو تو مجاز پر ہی محمول کرنا پڑے گا کیونکہ یہ اشعار کس کے ہیں؟ مومن کے ہیں! اور وہ کس کی طرف اسناد کر رہا ہے؟ كَرُّ الْغَدَاةِ وَمَرُّ الْعَشِيِّ۔ جب وہ كَرُّ الْغَدَاةِ اور مَرُّ الْعَشِيِّ کی طرف اسناد کر رہا ہے حالانکہ یہ فعل کس کا ہے؟ اللہ کا، تو مومن کا یہ کہنا ہی بتلا دیتا ہے کہ وہ اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہیں کر رہا بلکہ کس کی طرف کر رہا ہے؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف۔ جب غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کر رہا ہے تو پھر اس کو کیا کہنا پڑے گا؟ مجاز کہنا پڑے گا، کیونکہ اگلے چند اشعار میں وہ پھر کیا کہتا ہے، ایک شعر وہ یوں کہتا ہے مولانا: فَمِلَّتُنَا أَنَّنَا مُسْلِمُونَ عَلٰى دِينِ صِدِّيقِنَا وَالنَّبِيِّ، ہماری ملت کیا ہے کہ ہم کیا ہیں؟ مسلمان ہیں، کس کے دین پر ہیں؟ عَلٰى دِينِ صِدِّيقِنَا حضرت ابوبکر صدیق کے دین پر وَالنَّبِيِّ اور نبی اکرم صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے دین پر ہیں۔ تو یہ بتلا رہا ہے کہ یہ مومن کا شعر ہے، اور جب مومن کا شعر ہے تو معلوم ہوا یہ اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہیں کر رہا بلکہ کس کی طرف کر رہا ہے؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف۔ جب غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف اسناد ہوا تو اس کو کیا قرار دینا چاہیے؟ مجاز قرار دینا چاہیے، اور آپ کہہ رہے ہیں کہ اس کو مجاز پر محمول نہیں کریں گے۔ جواب یہ ہے مولانا کہ ماتن نے یہ کب کہا کہ یہ مجاز نہیں؟ ماتن نے یہ تو نہیں کہا مجاز نہیں، ماتن صاحبِ کتاب تو یہ بتلا رہے ہیں کہ جب تک آپ کو پتہ نہ چلے آپ اس کو مجاز پر محمول نہیں کریں گے، ہاں جب پتہ چل جائے تو پھر کیا کرو؟ مجاز پر محمول کر لو۔ وہ یہ صرف بتلا رہے ہیں کہ جب تک علم نہ ہو تاول کا آپ مجاز پر محمول نہیں کر سکتے۔ كَمَا اسْتُدِلَّ متن دیکھیے: كَمَا اسْتُدِلَّ عَلٰى جیسے کہ استدلال کیا گیا ہے اس بات پر کہ أَنَّ إِسْنَادَ مَيَّزَ إِلٰى جَذْبِ اللَّيَالِي فِي قَوْلِ أَبِي النَّجْمِ کہ مَيَّزَ کا اسناد جو ہوا ہے جَذْبُ اللَّيَالِي کی طرف ابو النجم کے قول میں بھئی۔ بھئی آگے ایک شعر آ رہا ہے ابو النجم شاعر کا شعر ہے مولانا، اس میں اس نے مَيَّزَ کا اسناد کس کی طرف کر دیا ہے؟ جَذْبُ اللَّيَالِي کی طرف، مَيَّزَ فعل آئے گا اور اس کا اسناد وہ کس کی طرف کرے گا؟ جَذْبُ اللَّيَالِي کی طرف۔ تو یہ اسناد غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف ہے۔ بھئی کیسے پتہ چلا یہ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف ہے؟ کہتے ہیں اگلے شعر خود بتلا دیتے ہیں۔ تو اگلے شعر سے پتہ چل گیا کہ یہ مَيَّزَ کا اسناد جَذْبُ اللَّيَالِي کی جانب جو ہے یہ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہیں ہے بلکہ کس کی طرف ہے؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف۔ جب غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف ہے تو اب حکم لگا دیں گے کہ یہ اسناد کون سی قبیل سے ہے؟ مجازِ عقلی، کیونکہ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہیں ہے بلکہ کس کی طرف ہے؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف۔ دیکھیے شعر سمجھیں گے پورا معنی سمجھ میں آ جائے گا: مَيَّزَ عَنْهُ أَيْ عَنِ الرَّأْسِ جدا کر دیا میرے سر سے قُنْزُعًا عَنْ قُنْزُعٍ۔ قُنْزُعٌ کہتے ہیں مولانا سر کے اطراف میں بالوں کا جو مجموعہ ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قُنْزُعٌ بھئی، سر کے اطراف میں اکٹھے بال مجموعہ بال اس کو کیا کہتے ہیں بھئی؟ قُنْزُعٌ کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے مَيَّزَ عَنْهُ جدا کر دیا میرے سر سے، کس چیز کو جدا کر دیا؟ قُنْزُعًا عَنْ قُنْزُعٍ ایک طرف کے مجموعہ بالوں کو دوسری طرف کے مجموعہ بالوں سے جدا کر دیا۔ کیا معنی؟ شاعر یہ کہنا چاہتا ہے میں بوڑھا ہو گیا، میرا سر درمیان سے گنجا ہو گیا، جب سر درمیان سے گنجا ہوا تو ایک طرف کے بال دوسری طرف کے بالوں سے کیا ہو گئے؟ جدا ہو گئے، درمیان میں فصل آ گیا یا نہیں مولانا؟ فصل آ گیا۔ تو کہتا ہے جدا کر دیا میرے سر کے ایک طرف کے بالوں کو دوسری طرف کے بالوں سے، کس چیز نے جدا کر دیا؟ کہتے ہیں جَذْبُ اللَّيَالِي راتوں کے، یعنی مراد راتوں سے زمانہ ہے، زمانے کے گزرنے نے۔ زمانہ گزر گیا اس زمانے کے گزرنے کی وجہ سے میں بوڑھا ہوا، اس زمانے نے میرے سر کے اطراف کے بالوں کو ایک دوسرے سے کیا کر دیا؟ جدا کر دیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اب دیکھیے جدا کر دیا یعنی بڑھاپا لے آیا کون لے آیا؟ زمانہ۔ اب آپ بتلائیے یہ فعل زمانے کا ہے یا اللہ کا ہے بھئی؟ اللہ کا فعل ہے لیکن اسناد کس کی طرف ہو رہا ہے؟ دن اور رات کے گزرنے کی طرف۔ تو یہ اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف ہے یا غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف؟ واقع کے اعتبار سے غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف ہے، لیکن ابھی بھی آپ اس پر مجاز کا حکم نہیں لگائیں گے جب تک تاویل کا پتہ نہ چلے۔ اور تاویل کا پتہ اگلے شعر سے پتہ چل رہا ہے بِقَوْلِهٖ آگے وہ کہتا ہے: أَفْنَاهُ قِيلُ اللّٰهِ، فنا کر دیا ہے ابو النجم کو یا اس کے سر کے بالوں کو قِيلُ اللّٰهِ کس نے؟ اللہ کے حکم نے لِلشَّمْسِ اطْلُعِي اللہ کے حکم نے جو سورج کو حکم دیا کہ طلوع ہوا کر۔ تو سورج طلوع ہوتا ہے غروب ہوتا ہے زمانہ گزرتا ہے اور اس طرح کیا ہو جاتا ہے انسان بوڑھا ہو جاتا ہے تو اس کے سر کے بال فنا ہو جاتے ہیں مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ تو معلوم ہوا اگلے شعر نے بتلا دیا کہ یہ شخص مومن ہے اور اس کا کیا عقیدہ ہے کہ یہ فعل سرانجام دینے والی ذات کون سی ہے؟ اللہ کی، تو معلوم ہوا یہ جو مَيَّزَ کا اسناد اس نے جَذْبُ اللَّيَالِي کی طرف کیا یہ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہیں کر رہا بلکہ کس کی طرف کر رہا ہے؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کر رہا ہے بھئی۔ سمجھ میں آئی بات بھئی سب کو؟ تو بتلایا تھا کہ جب تک آپ کو یہ پتہ نہ چلے کہ تاویل ہے مجاز کا حکم نہیں لگا سکتے، اور جب آپ کو پتہ چل جائے جیسے ابو النجم کے اگلے شعر سے پتہ چل گیا کہ اس شعر میں تاویل ہے تو پھر کیا حکم لگا سکتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ مجاز ہے۔ اب دیکھیے جی: كَمَا اسْتُدِلَّ جیسے کہ استدلال کیا گیا ہے يَعْنِي مَا لَمْ يُعْلَمْ وَلَمْ يُسْتَدَلَّ بِشَيْءٍ عَلٰى أَنَّهٗ لَمْ يُرِدْ ظَاهِرَهٗ یعنی کہ جب تک یقین نہ ہو جائے اور جب تک استدلال نہ کر لیا جائے کسی چیز کے ساتھ کہ اس نے ظاہر کا ارادہ نہیں کیا، جیسے کہ استدلال کیا گیا ہے عَلٰى أَنَّ اس بات پر کہ إِسْنَادَ مَيَّزَ إِلٰى جَذْبِ اللَّيَالِي کہ یہ جو مَيَّزَ کا اسناد ہو رہا ہے کس کی طرف؟ جَذْبُ اللَّيَالِي کی طرف فِي قَوْلِ أَبِي النَّجْمِ ابو النجم کے قول میں، آگے خبر آ رہی ہے مولانا تین سطریں چھوڑ کر مَجَازٌ یہ کیا ہے؟ مجاز ہے، استدلال کیا گیا ہے بھئی کہ یہ کیا ہے مجاز ہے، آگے آ رہا ہے بِقَوْلِهٖ عَقِيبَهٗ بوجہ اس کے بعد میں یہ کہنے کے۔ بعد میں وہ جو یہ کہہ رہا ہے نا کہ أَفْنَاهُ قِيلُ اللّٰهِ اس سے استدلال کیا گیا کہ یہ اوپر والا شعر کیا ہے؟ مجاز ہے بھئی، اس کے اندر جو اسناد ہے وہ کیا ہے؟ مجاز ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ مَيَّزَ عَنْهُ أَيْ عَنِ الرَّأْسِ جدا کر دیا سر سے، الف لام عوض ہے مضاف الیہ کا رَأْسِي میرے سر سے، جدا کر دیا میرے سر سے قُنْزُعًا عَنْ قُنْزُعٍ ایک مجموعہ بالوں کو دوسرے مجموعہ بالوں سے۔ خود بتلا رہے ہیں بھئی هُوَ الشَّعْرُ الْمُجْتَمِعُ فِي نَوَاحِي الرَّأْسِ وہ مجموعہ بال ہیں سر کے اطراف میں۔ جدا کر دیا ایک مجموعے کو دوسرے مجموعے سے کس چیز نے؟ جَذْبُ اللَّيَالِي أَيْ مُضِيُّهَا وَاخْتِلَافُهَا۔ لیالی سے کیا مراد ہے مولانا میں نے بتلایا؟ راتیں نہیں مطلق زمانہ مراد ہے۔ جَذْبُ اللَّيَالِي أَيْ مُضِيُّهَا راتوں کے گزرنے نے اور ان کے اختلاف نے، یعنی زمانے کے گزرنے نے اور زمانے کے اختلاف نے۔ أَبْطِئِي أَوْ أَسْرِعِي، یہ حال ہے مولانا، امر ہے بابِ افعال سے أَبْطَأَ يُبْطِئُ إِبْطَاءً، تو أَبْطِئِي مونث کا صیغہ، أَسْرِعِي یہ بھی کون سا صیغہ؟ مونث کا صیغہ امر کا بھئی۔ تو یہ حال ہے، خود علامہ تفتازانی بتلا رہے ہیں حَالٌ مِّنَ اللَّيَالِي یہ کیا ہے لیالی سے حال ہے، أَبْطِئِي تو آہستہ گزر أَوْ أَسْرِعِي یا تو تیز گزر۔ تو بھئی یہ حال کیسے بن گیا؟ اشکال ہوا، یہ تو امر ہے اور امر انشاء ہے اور انشاء تو حال واقع نہیں ہوتا۔ تو کہتے ہیں بھئی تاویل کرتے ہیں ایسے موقع پر جب انشاء کیا بن جائے حال، تو پھر اس میں یہ تاویل کرتے ہیں جو علامہ تفتازانی آپ کو بتلانے لگے ہیں: عَلٰى تَقْدِيرِ الْمَقُولِ یہ حال ہے کس تقدیر پر؟ مقول کی تقدیر یہاں نکالیں گے أَيْ مَقُولًا فِيهَا کہا گیا ہے اس کے بارے میں أَبْطِئِي أَوْ أَسْرِعِي کہ تو آہستہ گزر یا تو تیز گزر۔ بھئی جدا کر دیا سر سے بالوں کو کس نے جدا کر دیا؟ زمانے کے گزرنے نے مَقُولًا فِيهَا اس حال میں کہ ان کے بارے میں کیا کہا گیا ہے؟ أَبْطِئِي، لوگ کیا کہتے ہیں اس کے بارے میں؟ تو آہستہ گزر۔ جب خوشی کا موقع ہو تو لوگ اس زمانے کو کیا کہتے ہیں؟ اے زمانے ذرا ٹھہر جا آہستہ گزر خوشی کا وقت ہے، أَوْ أَسْرِعِي یا تکلیف کا وقت ہو تو لوگ کیا کہتے ہیں کہ تو تیزی سے گزر جا تکلیف کا زمانہ ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو اس حال میں کہ کہا گیا ہے اس زمانے کے بارے میں کہ تو آہستہ گزر یا تو تیز گزر۔ یا یہ مقول جو کہا گیا ہے شاعر کی طرف سے ہے، شاعر کہتا ہے کہ اب تو میں بوڑھا ہو گیا، اب تو آہستہ گزر یا تو تیز گزر اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا اب میں بوڑھا ہو گیا۔ سمجھ میں آیا؟ دراصل یہ شاعر کی بیوی تھی ام الخیار بھئی، اور شاعر کہتا ہے کہ میری بیوی ام الخیار جو ہے وہ ہر وقت میرے ساتھ لڑتی جھگڑتی رہتی ہے، میں نے کوئی قصور کیا ہو یا نہ کیا ہو میری خیر نہیں ہوتی، ہر وقت میرے پیچھے پڑی رہتی ہے بھئی کبھی کچھ سنا رہی ہے کبھی کچھ سنا رہی ہے۔ کہتا ہے بات دراصل یہ ہے کہ میرے سر سے بال ختم ہو گئے، میں بوڑھا ہو گیا اور بوڑھے شخص کو تو عورتیں پسند نہیں کرتیں اس لیے وہ میرے ساتھ کیا کرتی ہے لڑتی جھگڑتی ہے۔ تو مولانا یہ مقول کی تقدیر پر ہو گا أَيْ مَقُولًا فِيهَا کہا گیا ہے اس کے بارے میں، وَيَجُوزُ أَنْ يَّكُونَ الْأَمْرُ بِمَعْنَى الْخَبَرِ اور یہ بھی جائز ہے مولانا کہ یہ امر کس معنی میں ہو؟ خبر کے معنی میں ہو، سمجھ میں آیا؟ یعنی امر بمعنی خبر یعنی مضارع کے معنی میں ہو۔ تو ایک دوسرے کی جگہ فعل استعمال ہوتے ہیں بھئی، جیسے مولانا آپ کیا کہتے ہیں رَحِمَهُ اللّٰهُ، ماضی کہہ رہے ہیں حالانکہ یہ دعا ہے یہاں تو کیا ہونا چاہیے؟ اِرْحَمْ، اے اللہ تو رحم فرما۔ تو اِرْحَمْ امر کے صیغے کی جگہ کون سا صیغہ ذکر کر دیا گیا؟ ماضی، تو یہ ماضی ہے لیکن کس معنی میں ہے؟ اِرْحَمْ کے معنی میں ہے۔ تو یہاں پر بھی امر ہے لیکن کس کے معنی میں ہے؟ مضارع کے معنی میں، أَيْ تُبْطِئُ أَوْ تُسْرِعُ۔ أَبْطَأَ يُبْطِئُ تو تُبْطِئُ بنا لیں گے مونث کا صیغہ أَوْ تُسْرِعُ بھی کون سا صیغہ بنا لیں گے؟ مونث کا صیغہ، أَيْ حَالَ كَوْنِهَا تُبْطِئُ أَوْ تُسْرِعُ اس حال میں کہ وہ آہستہ گزرے یا تیز گزرے۔ تو کہتے ہیں جیسے کہ استدلال کیا گیا ہے کہ یہ جو اسناد مَيَّزَ کا ہے جَذْبُ اللَّيَالِي کی طرف مَجَازٌ یہ کیا ہے؟ مجاز ہے۔ خَبَرُ أَنَّ یہ أَنَّ کی خبر، بھئی اوپر متن میں نہیں آیا تھا عَلٰى أَنَّ إِسْنَادَ؟ تو یہ إِسْنَادَ أَنَّ کا اسم اور مَجَازٌ اس کی خبر کہ یہ جو اسناد ہے یہ کیا ہے؟ مجاز ہے۔ أَيِ اسْتُدِلَّ عَلٰى أَنَّ إِسْنَادَ مَيَّزَ إِلٰى جَذْبِ اللَّيَالِي مَجَازٌ، علامہ تفتازانی وہی اوپر والی عبارت آپ کو خود پوری بتلا رہے ہیں یعنی استدلال کیا گیا ہے کہ اسناد مَيَّزَ کا جو ہے جَذْبُ اللَّيَالِي کی طرف مَجَازٌ یہ کیا ہے؟ مجاز ہے۔ تو یہ استدلال کیا گیا ہے مولانا بِقَوْلِهٖ مُتَعَلِّقٌ بِاسْتُدِلَّ یہ کس کے ساتھ متعلق ہے مولانا؟ اُسْتُدِلَّ کے ساتھ متعلق ہے، استدلال کیا گیا ہے اور ہا ضمیر بِقَوْلِهٖ کی کس کو راجع ہے؟ أَيْ بِقَوْلِ أَبِي النَّجْمِ کس کو راجع؟ ابو النجم، ابو النجم کے قول کے ساتھ استدلال کیا گیا ہے عَقِيبَهٗ أَيْ عَقِيبَ قَوْلِهٖ کس کے بعد؟ اس کے قول مَيَّزَ عَنْهُ قُنْزُعًا عَنْ قُنْزُعٍ کے بعد جو اس کا قول آ رہا ہے، اور وہ کیا؟ آگے متن میں آ رہا ہے أَفْنَاهُ قِيلُ اللّٰهِ، اس قول کے ساتھ استدلال کیا گیا ہے کہ یہ مَيَّزَ کا اسناد جَذْبُ اللَّيَالِي کی طرف یہ کیا ہے؟ مجاز ہے۔ أَفْنَاهُ فنا کر دیا اس کو، کس کو؟ ہا ضمیر کا مرجع بتلایا یا تو یہ ابو النجم کو راجع ہے یا اس کے سر کے بالوں کو أَيْ أَبَا النَّجْمِ فنا کر دیا یعنی ابو النجم کو أَوْ شَعْرَ رَأْسِهٖ یا اس کے سر کے بالوں کو قِيلُ اللّٰهِ اللہ کے قول نے أَيْ أَمْرُهٗ وَإِرَادَتُهٗ اس سے کیا مراد ہے؟ اللہ کے امر اور اللہ کے ارادے نے فنا کر دیا اسے، لِلشَّمْسِ اطْلُعِي اللہ کا شمس سے یہ قول کرنا اُطْلُعِي کہ تو کیا ہو؟ اُطْلُعِي ہے اصل میں طَلَعَ يَطْلُعُ کہ تو طلوع ہو، تو سورج طلوع ہوتا ہے اور زمانہ گزرتا ہے اور انسان بوڑھا ہو جاتا ہے۔ فَإِنَّهٗ يَدُلُّ عَلٰى أَنَّهٗ فِعْلُ اللّٰهِ تَعَالٰى اس لیے کہ یہ قول مولانا دلالت کر رہا ہے کہ یہ جو مَيَّزَ کا فعل ہے یہ کس کا ہے؟ یہ فِعْلُ اللّٰهِ اللہ کا فعل ہے وَأَنَّهُ الْمُبْدِئُ وَالْمُعِيدُ اور یہ دلالت کر رہا ہے کہ اللہ ہی کیا ہیں مولانا؟ بغیر مثال کے بنانے والے ہیں پیدا کرنے والے ہیں وَالْمُعِيدُ اور اس کو دوبارہ اس کا اعادہ کرنے والے ہیں۔ مُبْدِئٌ کا معنی ہے بغیر مثال کے بنانے والا۔ اور یہ مولانا عربی میں بَدَأَ يَبْدَأُ تو مستعمل ہے مجرد، أَبْدَأَ يُبْدِئُ بابِ افعال سے مستعمل نہیں اور قرآن میں تو یہ صیغہ آیا ہے مُبْدِئٌ، تو معلوم ہوا جب یہ مستعمل نہیں تو کیا ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کلمہ کیا ہے؟ غیرِ فصیح۔ لیکن مولانا کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ کوئی کلمہ غیرِ فصیح کسی فصیح کلمے کے ساتھ واقع ہونے کی وجہ سے اس کا حسن بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے اور وہ بھی کیا بن جاتا ہے؟ فصیح۔ تو مُبْدِئٌ مُعِيدٌ کے ساتھ جب آ گیا تو پہلے تو غیرِ فصیح تھا لیکن اب مُعِيدٌ کے ساتھ آنے کی وجہ سے یہ بھی کیا بن گیا؟ فصیح بن گیا۔ تو اللہ مُبْدِئٌ اور مُعِيدٌ ہیں وَالْمُنْشِئُ وَالْمُفْنِي پیدا کرنے والے ہیں اور فنا کرنے والے ہیں، فَيَكُونُ الْإِسْنَادُ إِلٰى جَذْبِ اللَّيَالِي بِتَأَوُّلٍ تو اسناد جو جَذْبُ اللَّيَالِي کا ہوا وہ کس کے ساتھ ہے؟ تاویل کے ساتھ ہے عَلٰى أَنَّهٗ زَمَانٌ کہ یہ کیا ہے؟ زمانہ ہے أَوْ سَبَبٌ یا کیا ہے؟ سبب۔ بھئی یہ سبب ہے دن رات کا گزرنا کیا ہے؟ سبب ہے، اور زمانہ کیسے ہے کہ یہ جَذْبٌ ہے صفت اس کی اضافت ہوئی موصوف کی طرف، اصل میں ہے اَللَّيَالِي الْجَاذِبَةِ وہ راتیں جو گزرنے والی ہیں، تو وہ زمانہ ہوا۔ تو یہ زمانہ ہے یا سبب ہے۔ هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔