گزشتہ سبق میں مولانا آپ نے پڑھا تھا کہ کبھی کبھار منکر کو غیرِ منکر بنا دیا جاتا ہے اور اس کے سامنے کلامِ ابتدائی کو ذکر کیا جاتا ہے۔ یہ کب ہوتا ہے؟ جب کہ منکر کے پاس ایسے دلائل ہوں کہ اگر جن میں وہ غور و فکر کر لے تو کیا کر سکے؟ رجوع کر سکے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو اس کے پاس ہونے کا کیا معنی؟ مَعَهٗ کا کیا معنی؟ علامہ تفتازانی نے بتلایا تھا اس کے پاس ہونے کا معنی یہ ہے کہ اس کو معلوم ہوں مولانا، مشاہد ہوں اس کے نزدیک۔ جیسے مولانا منکرِ اسلام ہے ایک شخص آپ اس کو کیا کہتے ہیں؟ اَلْإِسْلَامُ حَقٌّ۔ اب کہنا تو کلامِ انکاری لانا چاہیے تھا تاکیدات کے ساتھ لیکن آپ بغیر تاکید کے کلام لاتے ہیں بھئی۔ اس لیے کیونکہ اس منکر کے پاس ایسے دلائل موجود ہیں جن میں وہ غور و فکر کرے تو کیا کر لے اپنے انکار سے؟ رجوع کر لے گا بھئی۔ اس پر میں نے بتایا تھا اشکال ہوتا ہے کہ آپ نے کہا اَلْإِسْلَامُ حَقٌّ، یہ کیا ہے کلام بغیر تاکید کے ہے، حالانکہ یہ تو جملہ اسمیہ ہے اور آپ نے کہا تھا جملہ اسمیہ تاکید کا فائدہ دیتا ہے اور آج آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ تاکید کا فائدہ نہیں دیتا۔ تو میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جملہ اسمیہ ہمیشہ تاکید پر دلالت نہیں کرتا، ہاں اس میں صلاحیت ہوتی ہے تاکید کا فائدہ دینے کی۔ تو جب آپ اعتبار کریں گے تاکید کا تو اس میں تاکید ہو گی، اگر آپ اعتبار نہیں کرتے تو اس میں تاکید نہیں ہے بھئی۔ بعض علماء نے مَعَهٗ کا اور معنی کیا تھا اسے علامہ تفتازانی نے رد کیا تھا بھئی۔ علامہ تفتازانی نے مَعَهٗ کا کیا معنی کیا؟ کہ اس منکر کو کیا ہوں وہ دلائل معلوم ہوں، مشاہد ہوں۔ بعضوں نے کہا کہ مَعَهٗ ہونے کا یہ معنی کہ وہ دلائل نفس الامر اور واقع میں موجود ہوں بھئی۔ علامہ تفتازانی کہتے ہیں نہیں بھئی یہ درست نہیں ہے، کیونکہ واقع اور نفس الامر میں ہونے سے لازم نہیں کہ اس کو بھی معلوم ہوں، اور جب اس کو معلوم نہیں ہوں گے تو اس کا رجوع نہیں، جب رجوع نہیں ہے تو اس منکر کو ہم غیرِ منکر کے درجے میں بھی نہیں اتار سکتے بھئی۔ اور متن میں مَا آیا تھا، علامہ تفتازانی نے بتلایا تھا اس مَا سے مراد ہے دلائل، دلائل و شواہد۔ اور بعض علماء نے اس کا معنی عقل کے کیے بھئی، علامہ تفتازانی نے اس کو بھی رد کیا۔ اس لیے کہ متن میں ہے مَا إِنْ تَأَمَّلَهٗ، کیا معنی کیا تھا انہوں نے؟ وہ ایسے دلائل کہ جن میں وہ کیا کر لے غور و فکر کر لے۔ اور اگر مَا سے مراد عقل ہو تو منکر کے پاس عقل ہو کہ اس عقل میں غور کر لے، تو تَأَمَّلَهٗ آ رہا ہے، علامہ تفتازانی کہتے ہیں اگر مَا سے مراد عقل ہوتی تو پھر تَأَمَّلَهٗ نہ کہتے بلکہ تَأَمَّلَ بِهٖ کہتے، عقل میں غور نہیں کیا جاتا عقل کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے غور و فکر کیا جاتا ہے بھئی۔ لیکن مُنَاسِبٌ کے ذریعے بتلا دیا کہ یہ کلام بھی صحیح ہو سکتا ہے کہ کیا یہ مبنی ہو حذف و ایصال پر بھئی، تو اصل میں تو یوں ہی تھا مَا إِنْ تَأَمَّلَ بِهٖ، پھر حذف و ایصال ہوا۔ حذف و ایصال کس طرح بھئی؟ باء کو حذف کر دیا اور اس مجرور کو کیا کر دیا؟ فعل کے ساتھ ملا دیا، تو پہلے متعدی تھا بواسطہ حرفِ جر کے اب بغیر واسطہ حرفِ جر کے آپ نے اس کو کیا کر دیا متعدی کر دیا بھئی۔ یا عقل سے مراد دلائلِ عقلیہ مراد لے لیں مولانا، اسی لیے علامہ تفتازانی نے مُنَاسِبٌ کے ساتھ ذکر کیا بھئی۔ جی اس کے بعد کہا: نَحْوُ لَا رَيْبَ فِيهِ بھئی۔ علامہ تفتازانی نے بتلایا کہ ظاہرِ کلام یہ بتلا رہا ہے کہ یہ مثال ہے کس چیز کی؟ منکر کو غیرِ منکر بنانے کی مثال ہے، اس کے درجے میں اتارنے کی مثال ہے بھئی۔ اور اسی لیے تاکید کو ترک کیا گیا، لَا رَيْبَ فِيهِ کہا گیا کسی تاکید کو ذکر نہیں کیا، ورنہ تو کیا کہنا چاہیے تھا؟ إِنَّهٗ لَا رَيْبَ فِيهِ تاکید کے ساتھ کہنا چاہیے تھا، یہاں تاکید کو ترک کیا گیا۔ تو ظاہر یہ ہے مولانا کہ یہ کیا ہے؟ مثال ہے، کیونکہ کس کے بعد ذکر ہو رہی ہے؟ قاعدے کے بعد ذکر ہو رہی ہے اور کس لفظ کے ساتھ ذکر ہو رہی ہے؟ نَحْوُ کے ساتھ۔ اور قاعدے کے بعد کس کو ذکر کیا جاتا ہے؟ مثال کو، اور نَحْوُ کے ساتھ کس کو ذکر کیا جاتا ہے؟ مثال کو۔ تو ظاہرِ کلام یہ بتلا رہا ہے کہ یہ مثال ہے بھئی۔ لیکن آگے آپ کو بتلائیں گے کہ بہتر ہے اس کو نظیر بنانا بھئی، نظیر بنانا بہتر ہے وہ آگے وجہ بتلائیں گے۔ اور بتلایا کہ لَا رَيْبَ فِيهِ کس معنی میں ہے کہ لَيْسَ الْقُرْآنُ بِمَظِنَّةٍ لِّلرَّيْبِ، قرآن جائے گمان نہیں ہے ریب کی، یعنی قرآن ریب کرنے کی جگہ نہیں ہے، اس میں شک نہیں کرنا چاہیے، یہ تاویل کی بھئی۔ لَا رَيْبَ فِيهِ کا کیا معنی؟ قرآن میں شک واقع نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں بھئی یہ اپنے اصل معنی پر نہیں، اصل معنی پر رکھیں گے تو بڑی خرابی لازم آئے گی، بلکہ اس میں کیا تاویل کرنا پڑے گی کہ قرآن محلِ ریب نہیں ہے۔ خرابی یہ لازم آئے گی مولانا کہ جب کہا قرآن میں ریب واقع نہیں ہے، اور یہ مثال ہے کس چیز کی مولانا؟ منکر کو کس کے درجے میں اتارا ہے؟ غیرِ منکر کے درجے میں۔ اور منکر کو غیرِ منکر کے درجے میں اسی وقت آپ اتار سکتے ہیں جب کلام آپ کا واقع کے مطابق ہو اور اس پر دلائل بھی موجود ہوں تاکہ ان دلائل میں وہ غور و فکر کر کے کیا کر لے؟ اس کا رجوع کرنا بھی ممکن ہو۔ جب رجوع کرنا ممکن ہو گا تو پھر ہم اس منکر کو کس کے درجے میں اتاریں گے؟ غیرِ منکر کے۔ جب اس کا رجوع کرنا ہی نہیں ثابت تو پھر اس منکر کو غیرِ منکر کے درجے میں اتار سکتے ہیں؟ نہیں اتار سکتے بھئی، انکار سے رجوع ہی نہیں تو غیرِ منکر کہاں سے بنائیں گے آپ بھئی؟ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اصل معنی پر اس کو رکھیں تو پھر تو کلام واقع کے مطابق ہی نہیں ہے، جب واقع کے مطابق نہیں تو اس پر دلائل بھی نہیں موجود، جب دلائل نہیں موجود تو منکر اس انکار سے رجوع بھی نہیں کر سکتا، جب رجوع نہیں کر سکتا اس انکار سے تو پھر ہم اس کو غیرِ منکر کے درجے میں بھی نہیں اتار سکتے۔ یہ کلام واقع کے مطابق اس لیے نہیں کہ کیا معنی بنتا ہے اس کا؟ کہ قرآن میں ریب واقع نہیں ہے، حالانکہ قرآن میں تو ہزاروں لاکھوں لوگوں نے ریب کیا ہے شک کیا ہے۔ تو یہ کلام تو واقع کے مطابق نہیں کہ قرآن میں ریب واقع نہیں، قرآن میں تو ریب واقع ہے بھئی ہزاروں لوگوں نے ریب اس میں کیا لاکھوں لوگوں نے۔ سمجھ میں آیا؟ تو لہٰذا تاویل کرنا پڑے گی، یوں کہنا پڑے گا کہ قرآن محلِ ریب نہیں ہے یعنی اس میں شک نہیں کرنا چاہیے، اور یہ کلام واقع کے مطابق ہے واقعی قرآن کے اندر شک نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن اس کا انکار کرتے ہیں مولانا بہت سے لوگ، وہ کیا کرتے ہیں؟ قرآن تو محلِ ریب نہیں اس میں شک نہیں کرنا چاہیے لیکن لوگ کیا کرتے ہیں؟ وہ شک کرتے ہیں، کہتے ہیں یہ محلِ ریب ہے۔ تو اب یہ کلام واقع کے مطابق ہوا کہ قرآن محلِ ریب نہیں، اور اس پر دلائل موجود ہیں مولانا، اور ان دلائل میں اگر وہ غور و فکر کر لے منکر تو کیا کر لے گا؟ رجوع کر لے گا، تو اس کا رجوع ممکن ہوا تو اب اس منکر کو بھی کس کے درجے میں اتارنا ممکن ہوا؟ غیرِ منکر کے درجے میں اتارنا ممکن ہوا۔ علامہ تفتازانی بتلاتے ہیں بہتر یہ ہے کہ اس کو نظیر بنایا جائے بھئی، مثال نہ بنایا جائے۔ ایک ہوتی ہے مثال مولانا اور ایک نظیر۔ مثال ممثل لہ کے افراد میں سے ہوتی ہے بھئی، اور نظیر ممثل لہ کے افراد سے خارج ہوتی ہے مولانا، ضروری ہے کہ وہ اس کے افراد میں سے نہ ہو۔ اور نظیر بنانا دو وجہ سے بہتر ہے مولانا: پہلی وجہ یہ کہ آگے مصنف فرما رہے ہیں وَهٰكَذَا اعْتِبَارَاتُ النَّفْيِ اسی طرح ہیں نفی کے اعتبارات بھی۔ بھئی جیسے کلامِ مثبت کے اندر خالی الذہن کے سامنے کون سا کلام کیا جاتا تھا؟ ابتدائی، اور متردد کے سامنے؟ طلبی، اور منکر کے سامنے؟ انکاری۔ یعنی خالی الذہن کے سامنے کوئی تاکید نہ لائی جائے، متردد کے سامنے استحساناً تاکید لائی جائے، اور منکر کے سامنے وجوباً تاکید لائی جائے۔ تو اسی طرح کہتے ہیں نفی کے بھی اعتبارات ہیں، یعنی اگر کلامِ منفی کسی کے سامنے ذکر کریں تو وہ خالی الذہن ہو تو بغیر تاکید کے لائیں، وہ متردد ہو تو استحساناً تاکید کے ساتھ لائیں، اور اگر وہ منکر ہو تو پھر کیا کریں؟ وجوباً تاکید کے ساتھ لائیں۔ تو کلامِ منفی کا ذکر بعد میں آ رہا ہے مولانا، معلوم ہوا ماقبل میں کلامِ مثبت کی بات چل رہی تھی ابھی تک۔ سمجھ میں آیا؟ کلامِ مثبت کی بات چل رہی تھی لیکن لَا رَيْبَ فِيهِ یہ تو کلامِ منفی ہے ماقبل میں! تو جب اس کو نظیر بنا دو گے تو یہ ماقبل میں داخل ہی نہیں یہ تو خارج ہے کیونکہ نظیر کیا ہوتی ہے ممثل لہ کے افراد سے خارج ہوتی ہے، یہ تو صرف بات سمجھانے کے لیے ذکر کی گئی ہے ماقبل کے افراد میں سے نہیں یہ تو ماقبل سے خارج ہے، تو ماقبل میں صرف کس کا ذکر آیا؟ کلامِ مثبت کا اور آگے کس کا ذکر آیا؟ کلامِ منفی کا، تو نظیر بنانا کیا ہوا؟ بہتر ہوا۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ اور دوسری وجہ کہ اس صورت میں ہم تاویل کے بھی محتاج نہیں۔ پہلے تو تاویل کرنا پڑتی تھی کہ یہ معنی نہ کرو کلام کا کہ قرآن میں جنسِ ریب ہی نہیں ہے ریب واقع ہی نہیں ہے، بلکہ یوں کہو کہ قرآن محلِ ریب نہیں ہے، تاویل کرنا پڑی تھی۔ کہتے ہیں اب تاویل کی ضرورت بھی نہیں مولانا، بلکہ یہ کس معنی میں ہے؟ اسی معنی میں کہ قرآن میں جنسِ ریب ہی نہیں ہے، اسی معنی میں رکھنا پڑے گا، تو تاویل سے بھی بچ جائیں گے مولانا۔ تو دیکھو قرآن میں ریب تو ہے لیکن اس ریب کو عدمِ ریب کے درجے میں اتار لیا گیا اس لیے کہ ایسے دلائل موجود ہیں جو اس ریب کو کیا کر دیتے ہیں؟ زائل کر دیتے ہیں۔ نظیر بنا رہا ہوں مولانا: قرآن میں ریب واقع ہے لیکن اس ریب کو کس کے درجے میں اتار لیا گیا؟ عدمِ ریب کے درجے میں اتار لیا گیا، کس وجہ سے؟ کیونکہ ایسے دلائل موجود ہیں جو اس ریب کو کیا کر دیتے ہیں؟ زائل کر دیتے ہیں۔ اسی طرح اس منکر کو بھی غیرِ منکر کے درجے میں اتار لیا جاتا ہے یعنی اس کے انکار کو کس کے درجے میں اتار لیا جاتا ہے؟ عدمِ انکار کے درجے میں اتار لیا جاتا ہے کیونکہ ایسے دلائل اس کے پاس ہوتے ہیں کہ جن میں وہ غور و فکر کرے تو اپنے انکار سے کیا کر لے؟ رجوع کر لے۔ تو جیسے وہاں دلائل کی وجہ سے مولانا ایسے دلائل موجود ہیں جو اس کے انکار کو کیا کر دیتے ہیں؟ زائل کر دیتے ہیں تو ہم اس کے انکار کو کس کے درجے میں اتار لیتے ہیں؟ عدمِ انکار کے درجے میں، اسی طرح یہاں پر بھی مولانا وجودِ شے کو یعنی ریب کو کس کے درجے میں اتار لیا گیا؟ عدمِ ریب کے درجے میں اتار لیا گیا، کیوں اتارا گیا؟ کیونکہ یہاں ایسے دلائل موجود ہیں جو اس ریب کو زائل کر دیتے ہیں مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ اس کی نظیر ہوئی مولانا، جیسے وہاں دلائل کی وجہ سے ایک چیز کو عدم کے درجے میں اتار لیا یہاں بھی ایک چیز کو دلائل کی وجہ سے کس کے درجے میں اتار لیا؟ عدم کے۔ اور مثال نہیں، کیونکہ مثال تو تب بنے گی کہ یہ کلام منکر کے سامنے ہو۔ بھئی مثال کب بنے گی؟ منکر کو غیرِ منکر کے درجے میں تب ہی اتارا جاتا نا جب یہ لَا رَيْبَ فِيهِ کس سے کہا جاتا؟ کسی منکر سے کلام ہوتا، منکرین سے کلام ہوتا۔ لیکن اس کو عام رکھو مولانا، عام کلام ہے، چاہے خالی الذہن ہو چاہے متردد ہو چاہے منکر ہو ہر ایک سے یہ کلام ہو سکتا ہے۔ تو جب یہاں مولانا مخاطب منکر ہے ہی نہیں یہ تو کلام کیسا ہے؟ عام ہے۔ بھئی منکر کو غیرِ منکر کے درجے میں تب ہی اتاریں گے نا جب آپ کا مخاطب کیا ہو؟ منکر ہے تو اس کو ہم غیرِ منکر کے درجے میں اتاریں، اگر آپ کے سامنے منکر ہے ہی نہیں مولانا وہ مخاطب ہی نہیں آپ کا تو منکر کو غیرِ منکر کے درجے میں اتارنا ہے ہی نہیں۔ تو یہاں پر بھی منکر کو غیرِ منکر کے درجے میں اتارنا ہے ہی نہیں کیونکہ یہاں پر مخاطب منکر ہے ہی نہیں، تو معلوم ہوا یہ اس کے افراد میں سے نہیں بلکہ کیا ہے؟ خارج ہے بھئی۔ سب کو بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اسناد مولانا آپ نے پڑھا کہ مطلقاً چاہے انشائی ہو یا اخباری ہو یا تو وہ حقیقتِ عقلیہ ہو گا یا وہ مجازِ عقلی ہو گا بھئی۔ بھئی فعل دو قسم پر ہے: فعلِ معروف اور فعلِ مجہول۔ فعلِ معروف کو وضع کیا گیا ہے کہ اس کا اسناد کس کی طرف کیا جائے؟ فاعل کی طرف، اور فعلِ مجہول کو وضع کیا گیا ہے کہ اس کا اسناد کس کی طرف ہو؟ نائب فاعل کی طرف ہو۔ تو فعلِ معروف کا اسناد فاعل کی طرف اور فعلِ مجہول کا اسناد نائب فاعل کی طرف ہی ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ حقیقتِ عقلیہ۔ فعلِ معروف کو کس کے لیے وضع کیا گیا ہے؟ فاعل کے لیے اور اسناد بھی فاعل ہی کی طرف ہو تو اس کو کیا کہیں گے؟ حقیقتِ عقلیہ۔ فعلِ مجہول کو وضع کیا گیا ہے کہ اس کا اسناد کس کی طرف ہو؟ یعنی وہ جو مفعول تھا پہلے، مفعول کی طرف ہو اور اس کا اسناد کیا بھی مفعول ہی کی طرف جائے تو پھر یہ کیا کہلاتا ہے؟ حقیقتِ عقلیہ کہلاتا ہے۔ اور اگر ان کا اسناد مولانا، فعلِ معروف کا اسناد فاعل کی طرف نہ ہو بلکہ آپ زمانے کی طرف کر دیں یا مصدر کی طرف کر دیں یا مکان کی طرف کر دیں یا سبب کی طرف کر دیں تو یہ کیا ہے؟ مجازِ عقلی ہے، کیونکہ اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہیں کیا آپ نے بلکہ کس کی طرف کیا ہے؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کیا ہے۔ اسی طرح فعلِ مجہول کا اسناد نائب فاعل کے بجائے مصدر کی طرف یا زمانے یا مکان کی طرف یا سبب کی طرف کر دیں تو یہ اسناد ہے فعل کا کس کی طرف؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف، تو یہ کیا کہلائے گا؟ مجازِ عقلی کہلائے گا۔ تو فعلِ معروف کو وضع کیا گیا ہے کہ اس کا اسناد فاعل کی طرف ہو تو یہ فعل اس کا اپنا ہے۔ ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا، پٹائی کرنے والا کون؟ زید ہے، اور آپ نے بھی جملے میں ضَرَبَ کا اسناد کس کی طرف کیا؟ زید ہی کی طرف کیا۔ تو یہ ضرب لگانا کس کا وصف ہے؟ زید کا، اور آپ نے اس وصف کو ثابت بھی کس کے لیے کیا؟ زید ہی کے لیے کیا۔ تو ضاربیت وصف ہے زید کا اور آپ نے اسناد بھی کس کی طرف کیا؟ زید ہی کی طرف، یہ کیا ہے؟ حقیقتِ عقلیہ۔ یا مولانا پٹائی ہوئی کس کی؟ عمرو کی، اور آپ کہتے ہیں ضُرِبَ عَمْرٌو، تو مضروبیت وصف تھا کس کا؟ عمرو کا، اور آپ نے اس کو ثابت بھی کس کے لیے کیا، اسناد بھی کس کی طرف کیا؟ عمرو ہی کی طرف۔ تو یہ اسناد ہوا کس کی طرف؟ مَا هُوَ لَهٗ اس چیز کی طرف کہ یہ فعل اس کا اپنا ہے، یہ فعل اس کا اپنا وصف ہے اسی کی طرف کیا بھئی۔ پھر اس کے بعد مولانا علامہ تفتازانی نے آپ کو بتلایا تھا کہ مصنف نے مِنْهُ حَقِيقَةٌ عَقْلِيَّةٌ کہا وَمِنْهُ مَجَازٌ عَقْلِيٌّ کہا، یہ نہیں کہا کہ اسناد إِمَّا حَقِيقَةٌ وَإِمَّا مَجَازٌ، حصر نہیں کیا جیسے کہ علامہ سکاکی نے کیا ہے۔ وجہ یہ کہ علامہ سکاکی کے نزدیک اسناد بند ہے: یا تو وہ حقیقتِ عقلیہ ہو گا یا وہ مجازِ عقلی ہو گا، ایسا نہیں ہو سکتا کوئی اسناد جو نہ حقیقتِ عقلیہ ہو اور نہ مجازِ عقلی، لیکن مصنف کے نزدیک چونکہ ہر اسناد کا حقیقتِ عقلیہ یا مجازِ عقلی ہونا ضروری نہیں، ایسا اسناد بھی ہو سکتا ہے جو نہ حقیقتِ عقلیہ ہو اور نہ مجازِ عقلی، اسی لیے انہوں نے مِنْهُ کے ساتھ ذکر کیا کہ بعض اسناد وہ حقیقتِ عقلیہ ہیں اور بعض اسناد وہ مجازِ عقلی ہیں، معلوم ہوا کہ بعض اسناد ایسے ہیں جو نہ حقیقتِ عقلیہ ہیں اور نہ مجازِ عقلی ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ علامہ سکاکی نے کیا کہا تھا حقیقتِ عقلیہ کس کو کہتے ہیں؟ کہ وہ اسناد کرنا ہے کسی چیز کا، اور مصنف نے کیا کہا حقیقتِ عقلیہ کس کو کہتے ہیں؟ وہ اسناد کرنا ہے فعل کا یا معنی فعل کا۔ معلوم ہوا علامہ سکاکی کے نزدیک مسند عام ہے کوئی بھی چیز ہو: فعل ہو، معنی فعل ہو یا ان کے علاوہ ہو، جبکہ مصنف کے نزدیک مسند کا فعل یا معنی فعل ہونا ضروری ہے، معلوم ہوا جہاں مسند فعل یا معنی فعل نہیں تو وہ حقیقتِ عقلیہ یا مجازِ عقلی نہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ میں نے کہا قَامَ زَيْدٌ، یہاں پر مسند کون ہے؟ قَامَ، اور مسند الیہ کون؟ زید۔ تو مصنف کے نزدیک مسند فعل یا معنی فعل ہو گا تو پھر یہ کیا کہلائے گا حقیقتِ عقلیہ یا مجازِ عقلی، لیکن اس کے بجائے اگر مسند فعل یا معنی فعل نہیں ہوتا مثلاً میں نے کہا اَلْحَيَوَانُ جِسْمٌ، تو یہاں پر اَلْحَيَوَانُ مبتدا ہے جِسْمٌ اس کی خبر، اَلْحَيَوَانُ مسند الیہ اور جِسْمٌ کیا ہے مسند، اور مسند کیا ہے؟ نہ یہ فعل ہے اور نہ معنی فعل ہے، تو نہ یہ حقیقتِ عقلیہ ہے ان کے نزدیک اور نہ مجازِ عقلی، کیونکہ حقیقتِ عقلیہ اور مجازِ عقلی دونوں کے اندر مسند کا فعل یا معنی فعل ہونا ضروری ہے۔ عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ فِي الظَّاهِرِ۔ بھئی یہاں چار صورتیں بنتی ہیں، دو چیزیں یاد رکھو: ایک ہے واقع، ایک ہے اعتقاد۔ تو متکلم جو کلام کرتا ہے یا تو وہ دونوں کے مطابق ہو گا: واقع کے بھی مطابق ہو گا اور اعتقاد کے بھی مطابق۔ یا دونوں کے ساتھ مطابقت نہیں ہو گی: واقع کے مطابق بھی نہیں اور اعتقاد کے مطابق بھی نہیں۔ یا ان دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ مطابقت ہو گی: واقع کے تو مطابق ہو گا لیکن اعتقاد کے مطابق نہیں ہو گا، یا واقع کے مطابق تو نہیں ہو گا لیکن اعتقاد کے مطابق ہو گا۔ تو کل کتنی صورتیں بنیں؟ چار صورتیں بنیں: دو میں اعتقاد کے ساتھ مطابقت ہے اور دو میں اعتقاد کے ساتھ مطابقت نہیں ہے۔ تو انہوں نے تعریف کی کہ حقیقتِ عقلیہ کس کو کہتے ہیں؟ اسناد فعل کا یا معنی فعل کا کس کی طرف؟ إِلٰى مَا هُوَ لَهٗ کی طرف فعل یا معنی فعل کا اسناد ہو تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ حقیقتِ عقلیہ۔ اب یہ اسناد جو کیا مَا هُوَ لَهٗ کہ فعل اس چیز کا کیا ہو وصف ہو، یہ واقع کے اعتبار سے ہے یا متکلم کے اعتبار سے؟ تو مصنف نے بتلایا متکلم کے اعتبار سے، عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ۔ یہ فعل کا اسناد ہو رہا ہے کس کی طرف؟ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف، تو یہ مَا هُوَ لَهٗ واقع میں ہے یا کس کے نزدیک ہے؟ متکلم کے نزدیک، تو بتلایا متکلم کے نزدیک یعنی متکلم کا یہ اعتقاد ہے کہ میں فعل کا اسناد یا معنی فعل کا اسناد کس کی طرف کر رہا ہوں؟ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کر رہا ہوں، یہ فعل ہے بھی اسی کا جس کی طرف میں اسناد کر رہا ہوں۔ تو اس میں وہ دو صورتیں داخل ہو گئیں جن میں اعتقاد کے ساتھ مطابقت تھی۔ متکلم کے نزدیک یعنی اس کا یہ اعتقاد ہے کہ میں اسناد کس کی طرف کر رہا ہوں؟ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کر رہا ہوں غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہیں کر رہا، تو وہ دو صورتیں داخل ہو گئیں جن میں کیا تھا اعتقاد کے ساتھ مطابقت تھی۔ اعتقاد کے ساتھ مطابقت کی دو صورتیں کون سی تھیں؟ واقع کے بھی مطابق ہو اور اعتقاد کے بھی مطابق، دوسرا واقع کے مطابق تو نہ ہو لیکن اعتقاد کے مطابق ہو، تو یہ دونوں صورتیں داخل ہوئیں۔ تو متکلم یہ اعتقاد کرتا ہے کہ میں کیا کر رہا ہوں اسناد کس کی طرف کر رہا ہوں؟ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کر رہا ہوں، یہ فعل اسی کا وصف ہے میں جس کی طرف اس کا اسناد کر رہا ہوں۔ مُتَعَلِّقٌ بِقَوْلِهٖ لَهٗ، یہ متعلق ہے مولانا لَهٗ کے ساتھ۔ بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ لَهٗ کیا ہے؟ ظرفِ مستقر، اور عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ یہ کیا ہے اس کے لیے؟ ظرفِ لغو ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی تھی کل؟ کہ ظرفِ مستقر اصل میں کیا تھا؟ هُوَ لَهٗ أَيْ هُوَ ثَابِتٌ لَّهٗ بھئی۔ تو ثَابِتٌ عامل تھا لَهٗ کے اندر، ثَابِتٌ کو حذف کیا اور لَهٗ کو اس کی جگہ رکھ دیا تو اب اس نے اس کی جگہ قرار پکڑ لیا مولانا تو یہ کیا ہوا؟ ظرفِ مستقر۔ جب اس کی جگہ قرار پکڑ لیا تو جو عمل وہ کر رہا تھا وہی سارے عمل اب یہ بھی کرے گا: وہ ایک فاعل کو رفع دے رہا تھا ضمیر کو، اب وہ ضمیر اس کے اندر چھپ گئی تو اب اس ضمیر کو رفع کون دے گا؟ پہلے ثَابِتٌ دے رہا تھا اب کون رفع دے گا؟ یہ لَهٗ رفع دے گا۔ اور پہلے وہی ثَابِتٌ عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ کے اندر بھی عامل تھا لیکن اب اس عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ ظرف کے اندر عامل کون؟ لَهٗ عامل ہے۔ تو لَهٗ کا اپنا عامل محذوف تو یہ ہے ظرفِ مستقر، اور عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ میں عامل کون ہوا؟ لَهٗ، تو یہ کیا ہوا ظرفِ لغو ہوا۔ وَبِهٰذَا اور اس قید کے ساتھ دَخَلَ فِيهِ داخل ہو گیا مولانا اس کے اندر مَا يُطَابِقُ الِاعْتِقَادَ دُونَ الْوَاقِعِ وہ جو مطابق ہو اعتقاد کے نہ کہ واقع کے۔ تو اعتقاد کے مطابق کتنی صورتیں تھیں؟ دو صورتیں وہ دونوں داخل ہوئیں۔ فِي الظَّاهِرِ، کس میں؟ ظاہر میں، یعنی أَيْ فِي ظَاهِرِ حَالِهٖ متکلم کے ظاہرِ حال میں۔ اس سے باقی دو صورتیں بھی داخل ہو گئیں بھئی۔ عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ سے داخل ہوئی تھیں وہ صورتیں جو اس کے اعتقاد کے مطابق ہیں، اور فِي الظَّاهِرِ سے باقی دو صورتیں بھی اس میں داخل ہوئیں تو یہ چاروں صورتیں اس میں آ گئیں بھئی۔ کس طرح چاروں صورتیں آئیں؟ دیکھو بھئی چار صورتیں یہ ہیں: ایک صورت مولانا مومن کہتا ہے أَنْبَتَ اللّٰهُ الْبَقْلَ اللہ نے سبزی اگائی، ترجمہ اس کا کیا کر لیں بھئی اردو میں میں نے بتلایا؟ اللہ نے سبزہ اگایا، یوں کر لیں ذرا مناسب بن جاتا ہے اردو میں۔ اللہ نے سبزہ اگایا، اب یہ کلام واقع کے بھی مطابق ہے اور مومن کہہ رہا ہے اس لیے اس کے اعتقاد کے بھی مطابق ہے۔ دوسری صورت مولانا کافر کہتا ہے أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ بہار نے سبزہ اگایا، اب یہ بات واقع کے مطابق تو نہیں لیکن اس کے اعتقاد کے مطابق ہے۔ تو یہ دو صورتیں عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ کی قید سے داخل ہو گئی تھیں کیونکہ یہ دونوں کیا ہیں اعتقاد کے مطابق ہیں اور مصنف نے بھی یہی کہا کہ اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف ہو کس کے نزدیک؟ متکلم کے یعنی اس کے اعتقاد کے مطابق۔ تیسری صورت مولانا معتزلی کہتا ہے، معتزلہ کا کیا مذہب ہے کہ افعالِ اختیاریہ کا خالق بندہ خود ہے بھئی، اور اہلِ سنت والجماعت کا کیا مذہب ہے کہ تمام افعال کے خالق اللہ تعالیٰ ہیں بھئی۔ اب وہ معتزلی اپنے مذہب کو آپ سے چھپانا چاہتا ہے، چنانچہ آپ کے سامنے آ کر وہ کہتا ہے: خَلَقَ اللّٰهُ تَعَالَى الْأَفْعَالَ كُلَّهَا اللہ نے تمام افعال کو پیدا کیا۔ اب یہ بات واقع کے تو مطابق ہے لیکن اس کے اعتقاد کے مطابق نہیں، لیکن اس کا ظاہرِ حال کیا بتلا رہا ہے متکلم کا کہ وہ اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کر رہا ہے یا غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف؟ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کر رہا ہے! وہ تو چھپا رہا ہے آپ سے اس نے کوئی بتایا آپ کو کہ میں معتزلی ہوں؟ نہیں، اس کا ظاہرِ حال یہ بتلا رہا ہے کہ وہ اسناد کس کی طرف کر رہا ہے؟ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کہ جس کا فعل ہے اسی کی طرف اس کی نسبت بھی کر رہا ہے، اور یہ افعال کا پیدا کرنا کس کا فعل ہے؟ اللہ تعالیٰ کا اور وہ اسناد بھی کس کی طرف کر رہا ہے؟ اللہ تعالیٰ کی طرف کر رہا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو اب یہ بات اس کے اعتقاد کے مطابق تو نہیں لیکن واقع کے مطابق ہے، اور متکلم کا ظاہرِ حال کیا بتلا رہا ہے کہ یہ اسناد وہ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کر رہا ہے، تو یہ صورت بھی اس کے اندر فِي الظَّاهِرِ کی قید سے داخل ہو گئی۔ اسی طرح چوتھی صورت ہے مولانا آگے متن میں آ رہا ہے: جَاءَ زَيْدٌ، آپ نے کیا کہا زید آیا اور آپ کو پتہ ہے کہ زید نہیں آیا۔ زید آیا نہیں، ایک شخص اپنی طرف سے جھوٹی خبر دوسرے کو دیتا ہے کہ زید آ گیا، اب جھوٹی خبر دے رہا ہے۔ اب آپ بتلائیے یہ مجیئت کا فعل زید کرتا ہے یا نہیں کرتا مولانا؟ بھئی فی الحال تو نہیں آیا لیکن ویسے کرتا ہے یا نہیں کرتا؟ مجیئت کا فعل وہ سرانجام دیتا ہے۔ تو اب متکلم آپ سے جھوٹ بول رہا ہے لیکن آپ کو پتہ نہیں ہے، تو اب جب اس نے کہا جَاءَ زَيْدٌ تو اس کا ظاہرِ حال کیا بتلا رہا ہے کہ وہ اسناد فعل کا مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کر رہا ہے یا غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کر رہا ہے؟ مَا هُوَ لَهٗ، آپ تو یہی سمجھیں گے کہ زید کیا ہے آ گیا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو اب یہ کلام نہ اس کے اعتقاد کے مطابق ہے نہ واقع کے مطابق ہے لیکن اس کا ظاہرِ حال یہ بتلا رہا ہے کہ وہ اسناد فعل کا کس کی طرف کر رہا ہے؟ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کر رہا ہے۔ ہاں اگر آپ کو پتہ ہے کہ زید نہیں آیا پھر وہ آپ سے کہہ رہا ہے کہ زید آ گیا ہے، پھر وہ الگ صورت بنے گی اس کا ذکر نہیں مولانا۔ یہاں تو آپ کو پتہ نہیں ہے صرف متکلم کو پتہ ہے کہ زید نہیں آیا لیکن پھر وہ آپ سے کیا کہہ رہا ہے زید آ گیا، جب اس نے آپ سے کہا جَاءَ زَيْدٌ تو آپ اس کے ظاہرِ حال سے کیا سمجھ رہے ہیں کہ وہ اسناد کس کی طرف کر رہا ہے؟ مَا هُوَ لَهٗ ہی کی طرف کر رہا ہے غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہیں کر رہا کیونکہ یہ جَاءَ کا فعل قائم بھی کس کے ساتھ ہوتا ہے؟ زید کے ساتھ مجیئت قائم بھی ہوتی ہے یہ اس کا وصف بنتی ہے۔ سمجھ میں آیا کیسے داخل ہوئے باقی دو فِي الظَّاهِرِ کی قید سے؟ جی۔ فِي الظَّاهِرِ وَهُوَ أَيْضًا مُتَعَلِّقٌ بِقَوْلِهٖ لَهٗ یہ بھی مولانا ماتن کے قول لَهٗ جو گزرا اسی کے ساتھ متعلق ہے یعنی یہ بھی اس کے لیے ظرفِ لغو ہے۔ وَبِهٖ يَدْخُلُ فِيهِ مَا لَا يُطَابِقُ الِاعْتِقَادَ اور اس قید سے مولانا داخل ہو جائے گی اس میں وہ صورت بھی جو اعتقاد کے مطابق نہ ہو۔ پہلے دو صورتیں تھیں جو اعتقاد کے مطابق وہ عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ کی قید سے داخل ہوئیں اور وہ دو صورتیں جو اعتقاد کے مطابق نہیں وہ کس سے داخل ہوئیں؟ فِي الظَّاهِرِ کی قید سے۔ وَالْمَعْنٰى معنی یہ ہے مولانا کلام کا کہ إِسْنَادُ الْفِعْلِ أَوْ مَعْنَاهُ إِلٰى مَا يَكُونُ هُوَ لَهٗ کہ فعل یا معنی فعل کا اسناد ہو اس چیز کی طرف کہ وہ فعل لَهٗ اس کا اپنا ہو۔ میں نے کہا جَاءَ زَيْدٌ تو یہ مجیئت کس کا فعل ہے؟ زید کا اپنا فعل ہے۔ تو اس چیز کی طرف هُوَ لَهٗ کہ وہ فعل اس کا ہو یعنی اس کا وصف ہو عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ کس کے نزدیک؟ متکلم کے نزدیک فِيمَا ہونا چاہیے مولانا فِيهَا درست نہیں ہے بھئی یہ کتابت کی غلطی ہے، فِيمَا يُفْهَمُ مِنْ ظَاهِرِ حَالِهٖ وہ جو سمجھا جاتا ہے اس کے ظاہرِ حال سے۔ بھئی فِي الظَّاهِرِ کا معنی بیان کر دیا مولانا کہ اس سے جو سمجھ میں آیا متکلم کے ظاہرِ حال سے، متکلم کے ظاہرِ حال نے کیا بتلایا تھا آپ کو کہ وہ اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کر رہا ہے یا غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف؟ اس کے ظاہرِ حال سے تو یہی سمجھ میں آتا ہے کہ وہ اسناد کس کی طرف کر رہا ہے؟ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کر رہا ہے اگرچہ واقع میں کذب ہی کیوں نہ ہو۔ بھئی یہ کیوں سمجھ میں آتا ہے؟ کہتے ہیں وَذٰلِكَ بِأَنْ لَّا يَنْصِبَ قَرِينَةً دَالَّةً عَلٰى أَنَّهٗ غَيْرُ مَا هُوَ لَهٗ فِي اعْتِقَادِهٖ، اور وہ بایں صورت ہے کہ وہ نصب نہیں کرتا کوئی ایسا قرینہ جو دلالت کر رہا ہو کہ یہ غَيْرُ مَا هُوَ لَهٗ ہے فِي اعْتِقَادِهٖ اس کے اعتقاد میں۔ بھئی معتزلی نے کیا کہا خَلَقَ اللّٰهُ تَعَالَى الْأَفْعَالَ كُلَّهَا اللہ نے تمام افعال کو پیدا کیا ہے، کیا اس نے کوئی قرینہ قائم کیا جس سے پتہ چلتا کہ یہ اس کا اعتقاد نہیں ہے؟ اس نے تو کوئی ایسی بات کوئی ایسا اشارہ نہیں کیا جس سے آپ کو پتہ چلتا کہ یہ جو زبان سے کہہ رہا ہے یہ اس کے دل میں نہیں ہے، ظاہرِ حال نے تو یہی بتلایا کہ وہ کس کی طرف کر رہا ہے إِلٰى مَا هُوَ لَهٗ، کوئی ایسا قرینہ نہیں جو ہمیں بتلا دیتا کہ یہ اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہیں کر رہا بلکہ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کر رہا ہے۔ اسی طرح جب اس نے آپ کے سامنے کہا جَاءَ زَيْدٌ تو اس نے کوئی قرینہ قائم نہیں کیا جس سے پتہ چلتا کہ زید آیا نہیں وہ جھوٹ بول رہا ہے، ظاہرِ حال تو یہی بتلاتا ہے کہ وہ اسناد کس کی طرف کر رہا ہے؟ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کر رہا ہے۔ وَذٰلِكَ اور یہ بایں صورت ہے کہ وہ قائم نہیں کرتا کوئی ایسا قرینہ جو دلالت کر رہا ہو عَلٰى أَنَّهٗ غَيْرُ مَا هُوَ لَهٗ کہ یہ جو مسند الیہ ہے یہ غَيْرُ مَا هُوَ لَهٗ ہے فِي اعْتِقَادِهٖ اس کے اعتقاد میں۔ وَمَعْنٰى كَوْنِهٖ لَهٗ أَنَّ مَعْنَاهُ قَائِمٌ بِهٖ، اور اس کے لیے ہونے کا کیا معنی؟ اوپر آیا تھا متن میں مَا هُوَ لَهٗ اس چیز کی طرف کہ فعل اس کا یا معنی فعل اس کا اپنا ہو، یہ اپنا ہونے کا کیا معنی؟ کہتے ہیں اپنا ہونے کا یہ معنی کہ یہ فعل اس کے ساتھ قائم ہو مولانا۔ ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا یہ ضرب کس کے ساتھ قائم ہے؟ زید کے، زید ہے تو یہ ضرب ہے زید نہیں تو یہ ضرب بھی نہیں۔ یا مولانا ضُرِبَ عَمْرٌو یہ ضُرِبَ کس کے ساتھ قائم ہے کس پر واقع ہوئی ہے؟ عمرو پر، عمرو ہے تو یہ مضروبیت ہے عمرو نہیں تو مضروبیت بھی نہیں۔ تو مضروبیت وصف ہے کس کا؟ عمرو کا، اور ضاربیت وصف ہے کس کا؟ زید کا۔ یہ معنی ہے کہ اس کا اپنا ہونے کا یہ معنی کہ أَنَّ مَعْنَاهُ قَائِمٌ بِهٖ کہ یہ اس کے ساتھ قائم ہے وَوَصْفٌ لَّهٗ اور اس کا وصف ہے وَحَقُّهٗ أَنْ يُسْنَدَ إِلَيْهِ اور حق یہ ہے کہ اس کا اسناد اسی کی طرف کیا جائے کیونکہ جب یہ اسی کا وصف ہے تو حق یہ ہے کہ اسی کی طرف اسناد ہو، سَوَاءٌ كَانَ مَخْلُوقًا لِّلّٰهِ تَعَالٰى أَوْ لِغَيْرِهٖ برابر ہے کہ چاہے یہ فعل مخلوق ہو اللہ کے لیے یعنی اللہ اس کے خالق ہوں أَوْ لِغَيْرِهٖ یا کس کے لیے مخلوق ہو غیر اللہ کے لیے یعنی غیر اللہ اس کا کیا ہو خالق ہو۔ تو یہ مولانا اشارہ کر دیا مذہبِ معتزلہ کی طرف بھی۔ سمجھ میں آیا؟ میں نے بتلایا تھا بھئی معتزلہ ایک گمراہ فرقہ گزرا ہے بھئی، ابتدائے اسلام کے زمانے میں بھئی دوسری صدی کے آخر میں یہ آیا جب فلسفے کا علم جو ہے پھیلتا چلا گیا مسلمانوں میں بھئی۔ تو فلسفہ اور منطق آہستہ آہستہ آئے اور اتنی پھیل گئیں کہ ان معتزلہ نے منطق اور فلسفہ کو ہی اصل ٹھہرا لیا اور قرآن اور حدیث کو اس کے تابع کر دیا۔ منطق اور فلسفہ میں کوئی بات آتی اس کو اٹل سمجھتے تھے اس میں کوئی تاویل نہیں کرتے تھے کہ ایسا تو قطعی طور پر ہے، قرآن اور حدیث کا جہاں ان سے ٹکراؤ آتا تھا تو وہ قرآن اور حدیث میں تاویل کرتے تھے لیکن منطق اور فلسفے کے قوانین کو کیا سمجھتے تھے؟ اٹل سمجھتے تھے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا قرآن اور حدیث کی بات کو اٹل سمجھا جائے اور منطق اور فلسفے میں کیا کی جائے اس کے مطابق تبدیلی کی جائے لیکن وہ ایسا نہیں کرتے تھے۔ تو یہ سارے بڑے بڑے علماء تھے مولانا اس میں لیکن گمراہ ہو گئے کثرتِ علم کی وجہ سے، تو کبھی کبھار کثرتِ علم بھی گمراہی کا سبب بن جایا کرتی ہے بھئی۔ چنانچہ میں نے آپ کو بتلایا تھا پہلے بھی کہ منطق اور فلسفے میں ہے کہ زمین کے گرد ایک کرۂ نار ہے، ایک آگ کا کرہ ہے دائرہ گولا ہے، اس دائرے میں سے کوئی چیز نکل نہیں سکتی۔ تو چنانچہ جب معراج کا ذکر آتا ہے تو وہ معراجِ جسمانی کو نہیں مانتے بلکہ وہاں تاویل کرتے ہیں فوراً۔ کیوں؟ کہتے ہیں بھئی معراجِ جسمانی ممکن ہی نہیں ہے اس لیے کہ زمین کے گرد ایک کرۂ نار ہے اور حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جب آسمانوں پر جائیں گے تو اس کرۂ نار میں سے تو گزرنا پڑے گا اس کے بغیر تو ممکن ہی نہیں، جب گزرنا پڑے گا اس میں سے تو جسم گزر نہیں سکتا، جو بھی جسم گزرے گا وہ آگ کیا کر دے گی اس کو؟ جلا دے گی ختم کر دے گی، معلوم ہوا جسمانی معراج نہیں ہوئی بلکہ معراج کون سی تھی؟ صرف روحانی تھی بھئی۔ جبکہ اہلِ سنت والجماعت کیا کہتے ہیں؟ معراج جسمانی تھی۔ اور آج سائنس نے بھی ثابت کر دیا آپ دیکھتے ہیں خلاباز جا رہے ہیں خلا میں اور آ رہے ہیں، کوئی کرۂ نار نہیں ہے مولانا، کسی کو جلایا نہیں سب آ رہے ہیں جا رہے ہیں بھئی، معلوم ہوا کہ فلسفے کے قوانین اٹل نہیں مولانا لیکن انہوں نے ان کو کیا سمجھ لیا تھا؟ اٹل سمجھ لیا تھا۔ اسی طرح مولانا ان کا عقیدہ یہ تھا معتزلہ کا کہ بندے کے افعالِ اختیاریہ جو ہیں ان کا خالق بندہ خود ہے۔ اہلِ سنت والجماعت تو یہ کہتے ہیں مولانا تمام افعال کے خالق کون؟ اللہ تعالیٰ، بندہ کاسب ہے خالق نہیں، خالق اللہ البتہ کاسب کون؟ بندہ۔ جبکہ معتزلہ کہتے ہیں نہیں خالق بھی بندہ ہے۔ کیوں؟ دلیل دیتے ہیں مولانا، کہتے ہیں دیکھو اگر آپ بندے کے افعالِ اختیاریہ کا خالق اللہ کو مانتے ہیں تو بندے کے افعال تو افعالِ خیر بھی ہیں اور افعالِ شر بھی ہیں، اچھے کام بھی کرتا ہے اور برے کام بھی کرتا ہے، تو اگر ہم ان افعال کا خالق اللہ کو مانیں گے تو عیب کی نسبت اللہ کی طرف لازم آئے گا۔ کس چیز کی نسبت آئے گی؟ عیب کی، کیونکہ افعالِ شر کی نسبت بھی کس کی طرف کرنا پڑے گی؟ اللہ کی طرف کہ اللہ ان کے خالق ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو لہٰذا اللہ کی طرف عیب کی نسبت کرنا تو صحیح نہیں، لہٰذا وہ کہتے ہیں بندے ہی کو ان افعال کا خالق قرار دے دیا جائے تو اس سے کیا ہو گا؟ اللہ کی طرف عیب کی نسبت کرنا لازم نہیں ہو گا، تو افعالِ اختیاریہ کا خالق بندہ خود ہے وہ کہتے ہیں۔ اہلِ سنت والجماعت جواب دیتے ہیں بھئی کہ آپ ایک خرابی سے بچنے کے لیے اس سے بھی بڑی خرابی کے اندر واقع ہو گئے بھئی۔ یہ تو اسی طرح ہے: فَرَّ مِنَ الْمَطَرِ وَقَامَ تَحْتَ الْمِيزَابِ، بارش سے بچنے کے لیے بھاگے اور پرنالے کے نیچے جا کے کھڑے ہو گئے۔ تو یہ تو بڑی خرابی لازم آئی جب آپ نے کہا بندہ اپنے افعال کا خالق ہے! ہمارے قول کے مطابق تو خالق ایک ہی ہے کون؟ اللہ تعالیٰ، اور آپ کا قول مان لیا جائے تو ہر بندہ اپنے افعالِ اختیاریہ کا خالق خود ہے تو دیکھو کروڑوں اربوں خالق ماننا لازم آئے گا، تو تعدد آ گیا کس کے اندر؟ خالق کے اندر بھئی، تو بڑی خرابی لازم آئی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو ہم کہتے ہیں کہ بندے کے افعالِ اختیاریہ ان کے خالق تو اللہ ہی ہیں البتہ کاسب کون ہے؟ بندہ۔ اور تخلیقِ شر عیب نہیں ہے البتہ کسبِ شر کیا ہے؟ عیب ہے۔ اور بندہ کسب کرتا ہے وہ عیب ہے اور جو تخلیق اللہ نے کی ہے وہ کوئی عیب نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں سَوَاءٌ كَانَ مَخْلُوقًا لِّلّٰهِ تَعَالٰى چاہے وہ افعال مخلوق للہ ہوں جیسے اہلِ سنت والجماعت کا مذہب ہے أَوْ لِغَيْرِهٖ یا مخلوق ہوں غیر اللہ کے لیے جیسے کہ کس کا مذہب ہے؟ معتزلہ کا مذہب بھئی۔ یا مولانا اس کو اہلِ سنت ہی کے مذہب پر رکھیں دونوں صورتوں میں: چاہے وہ افعال مخلوق للہ ہوں یا وہ افعال لِغَيْرِهٖ کس کے لیے ہوں؟ غیر اللہ کے لیے ہوں بطریقِ کسب کے، اب صرف اہلِ سنت ہی کا مذہب مراد ہوا۔ وَسَوَاءٌ كَانَ صَادِرًا عَنْهُ بِاخْتِيَارِهٖ اور برابر ہے کہ چاہے وہ صادر ہوں مولانا غیر اللہ سے بِاخْتِيَارِهٖ اس کے اختیار کے ساتھ صادر ہوں كَضَرَبَ أَوْ لَا یا اختیار سے صادر نہ ہوں كَمَرِضَ وَمَاتَ۔ بھئی ضَرَبَ ضرب لگائی ایک شخص نے، تو یہ اپنے اختیار سے ضرب لگائے گا یا غیر اختیاری طور پر ضرب صادر ہو گی؟ اپنے اختیار سے لگائے گا۔ لیکن ایک شخص مریض ہوتا ہے، يَرْحَمُكَ اللّٰهُ، ایک شخص مریض ہوتا ہے تو یہ مریض ہونا کیا اپنے اختیار سے ہے؟ نہیں۔ یا ایک شخص مرتا ہے تو کیا یہ مرنا اپنے اختیار سے ہے؟ نہیں، اپنے اختیار سے مرنا نہیں۔ تو چاہے اس فعل کا صدور اس سے اس کے اختیار کے ساتھ ہو جیسے ضَرَبَ ہے یا صدور اختیار سے نہ ہو كَمَرِضَ وَمَاتَ۔ فَأَقْسَامُ الْحَقِيقَةِ الْعَقْلِيَّةِ عَلٰى مَا يَشْمَلُهُ التَّعْرِيفُ أَرْبَعَةٌ: پس حقیقتِ عقلیہ کی اقسام بنا بر اس کے جس کو تعریف شامل ہے کتنی ہوئیں بھئی؟ چار: اَلْأَوَّلُ مَا يُطَابِقُ الْوَاقِعَ وَالِاعْتِقَادَ جَمِيعًا، اول وہ جو واقع کے بھی مطابق ہو اور اعتقاد کے بھی مطابق ہو كَقَوْلِ الْمُؤْمِنِ أَنْبَتَ اللّٰهُ الْبَقْلَ جیسے مومن کا کہنا اللہ نے سبزی اگائی۔ وَالثَّانِي مَا يُطَابِقُ الِاعْتِقَادَ فَقَطْ، اور ثانی وہ ہے جو صرف اعتقاد کے مطابق ہو یعنی واقع کے مطابق نہ ہو نَحْوُ قَوْلِ الْجَاهِلِ أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ جیسے کہ کافر کا کہنا ربیع نے بہار نے سبزی اگائی۔ تو یہ بات اس کے اعتقاد کے تو مطابق ہے لیکن واقع کے مطابق نہیں۔ جاہل کا ترجمہ کافر کے کیے کیونکہ یہ بمقابلہ مومن کے آ رہا ہے، معلوم ہوا جاہل سے کیا مراد ہے؟ کافر مراد ہے۔ وَالثَّالِثُ تیسری صورت مَا يُطَابِقُ الْوَاقِعَ فَقَطْ جو صرف واقع کے مطابق ہو اعتقاد کے مطابق نہ ہو كَقَوْلِ الْمُعْتَزِلِيِّ لِمَنْ لَّا يَعْرِفُ حَالَهٗ وَهُوَ يُخْفِيهَا خَلَقَ اللّٰهُ تَعَالَى الْأَفْعَالَ كُلَّهَا، جیسے معتزلی کہتا ہے اس شخص سے جو اس کے حال کو نہیں جانتا، دوسرے شخص کو نہیں پتہ یہ معتزلی ہے، اور اس حال میں کہ یہ اس سے اپنے حال کو کیا کرتا ہے چھپاتا ہے، معتزلی اسے کہتا ہے: خَلَقَ اللّٰهُ تَعَالَى الْأَفْعَالَ كُلَّهَا اللہ نے پیدا کیا ہے تمام افعال کو۔ تو اب یہ مولانا واقع کے تو مطابق ہے لیکن اعتقاد کے مطابق نہیں، لیکن اس کا ظاہرِ حال کیا بتلا رہا ہے کہ وہ اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کر رہا ہے یا غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف؟ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف۔ وَهٰذَا الْمِثَالُ مَتْرُوكٌ فِي الْمَتْنِ اور یہ مثال متروک ہے متن میں ذکر نہیں۔ متن میں مصنف نے تین مثالیں ذکر کیں: پہلی أَنْبَتَ اللّٰهُ الْبَقْلَ، دوسری أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ، اور تیسری آگے آ رہی ہے جَاءَ زَيْدٌ، تین مثالیں۔ چوتھی مثال جو واقع کے تو مطابق تھی لیکن اعتقاد کے مطابق نہیں اس کو مصنف نے ذکر نہیں کیا، پڑھنے والوں کے حوالے کر دیا کہ وہ خود بنا سکیں گے بھئی۔ وَالرَّابِعُ اور چوتھی صورت مَا لَا يُطَابِقُ الْوَاقِعَ وَلَا الِاعْتِقَادَ جَمِيعًا جو نہ واقع کے مطابق ہو اور نہ اعتقاد دونوں کے، نَحْوُ قَوْلِكَ جیسے آپ کا کہنا جَاءَ زَيْدٌ زید آ گیا وَأَنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهٗ لَمْ يَجِئْ اور آپ ہی خاص طور پر جانتے ہیں کہ وہ نہیں آیا، یعنی سننے والے کو اس بات کا پتہ نہیں۔ جب اس کو پتہ نہیں تو وہ کیا سمجھے گا کہ آپ اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف کر رہے ہیں یا غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف؟ وہ ظاہرِ حال سے تو یہی سمجھے گا کہ اسناد کس کی طرف ہو رہا ہے؟ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف ہو رہا ہے۔ وَأَنْتَ أَيْ وَالْحَالُ، یہاں سے علامہ تفتازانی نے بتلا دیا کہ أَنْتَ سے پہلے واؤ جو ہے یہ واؤ حالیہ ہے اور یہ جملہ کیا بنے گا؟ حال بنے گا۔ اور حال یہ أَنَّكَ خَاصَّةً کہ آپ خاص طور پر۔ بھئی خَاصَّةً کیوں کہا؟ بھئی آپ نے پڑھا تھا وہاں جہاں بحث آئی تھی خطبے کے اندر وَأَنَا أَسْأَلُ اللّٰهَ، وہاں بحث ہوئی تھی کہ یہ أَسْأَلُ پر أَنَا کو کیوں مقدم کیا؟ أَسْأَلُ کے اندر تو خود أَنَا موجود ہے۔ میں کہتا ہوں أَضْرِبُ، أَضْرِبُ کے اندر کیا موجود؟ أَنَا، تو پھر اس أَنَا کو مقدم کر کے میں یوں کہتا ہوں أَنَا أَضْرِبُ، تو یہ أَنَا کو کیوں مقدم کیا بھئی؟ تو یہ مولانا أَضْرِبُ کے اندر أَنَا ہے اور یہ أَنَا کیا ہے فاعل اور فاعل کیا ہوتا ہے مسند الیہ، اور مسند کیا ہے مولانا؟ أَضْرِبُ اور أَضْرِبُ ہے فعل۔ تو جب مسندِ فعلی پر مسند الیہ کو مقدم کیا جائے، میں اس أَنَا کو اٹھا کر مقدم کر دیتا ہوں کیا بن گیا أَنَا أَضْرِبُ، تو مسند الیہ کو میں نے مقدم کر دیا کس پر؟ مسندِ فعلی پر، اور اس پر کوئی حرفِ نفی بھی داخل نہ ہو مولانا، تو اس صورت میں یا یہ تاکید کا فائدہ دیتا ہے یا تخصیص کا فائدہ دیتا ہے۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے: تَعْلَمُ کے اندر أَنْتَ ضمیر مسند الیہ کی تھی، اس مسند الیہ کو کیا کر دیا گیا مولانا؟ مسندِ فعلی پر مقدم کر دیا گیا وَأَنْتَ تَعْلَمُ، اور کوئی حرفِ نفی بھی نہیں تو کس چیز کا فائدہ دے گا؟ تخصیص یا تاکید کا فائدہ دے گا، اور یہاں بتلایا کس چیز کا فائدہ دے رہا ہے؟ تخصیص کا فائدہ دے رہا ہے، خَاصَّةً کے ذریعے یہ بتلایا بھئی۔ اور حال یہ ہے کہ خاص طور پر آپ ہی جانتے ہیں أَنَّهٗ لَمْ يَجِئْ کہ وہ زید آیا نہیں دُونَ الْمُخَاطَبِ نہ کہ مخاطب، مخاطب نہیں جانتا بھئی۔ إِذْ لَوْ عَلِمَهُ الْمُخَاطَبُ أَيْضًا اگر مخاطب کو بھی اس بات کا پتہ ہو کہ زید نہیں آیا لَمَا تَعَيَّنَ كَوْنُهٗ حَقِيقَةً تو پھر اس کا حقیقت ہونا متعین نہیں، لِجَوَازِ أَنْ يَكُونَ الْمُتَكَلِّمُ قَدْ جَعَلَ عِلْمَ السَّامِعِ بِأَنَّهٗ لَمْ يَجِئْ قَرِينَةً عَلٰى أَنَّهٗ لَمْ يُرِدْ ظَاهِرَهٗ اس لیے کہ بھئی آپ جانتے ہیں کہ زید نہیں آیا، میں پھر آپ کے سامنے کہتا ہوں جَاءَ زَيْدٌ، تو معلوم ہوا آپ کے جاننے کو میں نے قرینہ بنا دیا کہ میرا کلام کے ظاہر کا ارادہ نہیں ہے کوئی اور ارادہ ہے۔ سمجھ میں آیا؟ لِجَوَازِ أَنْ يَكُونَ الْمُتَكَلِّمُ بوجہ جائز ہونے اس بات کے کہ متکلم جو ہے قَدْ جَعَلَ عِلْمَ السَّامِعِ اس نے تحقیق بنا دیا ہے کس چیز کو؟ سامع کے جاننے کو، سامع کا کیا جاننا بِأَنَّهٗ لَمْ يَجِئْ کہ وہ زید نہیں آیا، اس کو کیا بنایا ہے؟ قَرِينَةً قرینہ بنایا ہے عَلٰى أَنَّهٗ لَمْ يُرِدْ ظَاهِرَهٗ کہ اس نے اس کلام سے ظاہر کا ارادہ نہیں کیا، فَلَا يَكُونُ الْإِسْنَادُ إِلٰى مَا هُوَ لَهٗ عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ فِي الظَّاهِرِ پس اسناد نہیں ہو گا مَا هُوَ لَهٗ کی طرف متکلم کے نزدیک اس کے ظاہرِ حال میں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ بھئی یہاں تک یہ تقریر ہوئی کہ اس کی چار صورتیں ہیں، ان چار میں سے تین صاحبِ کتاب نے متن میں ذکر کیں اور چوتھی مثال کو کیا کر دیا؟ چھوڑ دیا، علامہ تفتازانی نے آپ کو بتلایا کہ وَهٰذَا الْمِثَالُ مَتْرُوكٌ فِي الْمَتْنِ یہ مثال متن میں متروک ہے۔ ملا عبدالحکیم سیالکوٹی مولانا بڑے محقق گزرے ہیں، ملا عبدالحکیم سیالکوٹی بھی لکھتے ہیں ان کو اور ملا عبدالحکیم لاہوری بھی ان کو لکھتے ہیں، بڑے محقق گزرے ہیں جن پر بجا طور پر پنجاب کی سرزمین فخر کر سکتی ہے، انہوں نے عجیب تقریر کی: کہتے ہیں چاروں مثالیں متن میں ہیں! علامہ تفتازانی فرما رہے ہیں تین دی ہیں، تین نہیں چاروں مثالیں متن میں ہیں، کس طرح؟ کہتے ہیں یہ تیسری مثال جو دی جَاءَ زَيْدٌ وَأَنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهٗ لَمْ يَجِئْ یہ دراصل دو کے قائم مقام ہے۔ وہ اس طرح کہ تَعْلَمُ کا معنی جاننے کے نہ کریں، تَعْلَمُ کا معنی کریں یقین کے، اعتقاد کے۔ کون سی مثال متن میں نہیں ہے؟ جو واقع کے تو مطابق ہو لیکن اعتقاد کے مطابق نہ ہو، یہ مثال انہوں نے کہا متن میں نہیں، اور یہ جو مثال متن میں آئی ہے یہ نہ واقع کے مطابق ہے اور نہ اعتقاد کے مطابق ہے۔ اب اس کو ہم مثال بنائیں گے دونوں صورتیں بن جائیں گی: اعتقاد کے ساتھ تو دونوں میں عدمِ مطابقت ہے، البتہ ایک میں واقع کے ساتھ مطابقت ہے دوسرے میں واقع کے ساتھ مطابقت نہیں، ہم اسی ایک کو ایسا بنا دیں گے کہ اس کی واقع کے ساتھ مطابقت ہو گی بھی اور نہیں بھی۔ کس طرح؟ ترجمہ یوں کرو: زید آیا اور خاص طور پر آپ کو یقین ہے کہ زید نہیں آیا۔ تو بتلائیے مولانا آپ کے کسی چیز کے بارے میں یقین کرنے یا نہ کرنے سے اس چیز پر اثر پڑتا ہے؟ آپ کو یقین ہے زید نہیں آیا تو کیا ضروری ہے زید نہ آیا ہو؟ بھئی کتنے کلام آپ کرتے ہیں کہ مجھے یقین ہے ایسا ہے لیکن پھر آپ دیکھتے ہیں اس کے مخالف ہوتا ہے، تو یقین کے ہونے سے کسی چیز کا ہونا یا نہ ہونا لازم نہیں۔ تو آپ کو یقین ہے کہ زید نہیں آیا لیکن واقع میں ہو سکتا ہے زید آیا ہو اور ہو سکتا ہے زید نہ آیا ہو، تو دونوں صورتیں آ گئیں: واقع کے ساتھ مطابقت بھی آ گئی کہ ہو سکتا ہے زید آیا ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ زید نہ آیا ہو تو واقع کے ساتھ کیا آ جائے گی عدمِ مطابقت۔ تو آپ نے کہا جَاءَ زَيْدٌ آپ کو یقین ہے کہ زید نہیں آیا، ہو سکتا ہے زید آیا ہو تو یہ کون سی صورت بن گئی؟ اعتقاد کے مطابق تو نہیں لیکن واقع کے مطابق، اور ہو سکتا ہے وہ واقع میں آیا بھی نہ ہو تو یہ مولانا اعتقاد کے بھی مطابق نہیں اور واقع کے مطابق بھی نہیں۔ تو یہ کتنے کے قائم مقام ہو گئی یہ مثال؟ دو کے، تو اس میں دونوں صورتیں بن جاتی ہیں بھئی۔ وَمِنْهُ أَيْ مِنَ الْإِسْنَادِ اور اسناد میں سے بعض جو ہیں مَجَازٌ عَقْلِيٌّ مجازِ عقلی ہے، وَيُسَمّٰى مَجَازًا حُكْمِيًّا وَمَجَازًا فِي الْإِثْبَاتِ وَإِسْنَادًا مَجَازِيًّا اور اس مجازِ عقلی کا اور کیا نام ہے بھئی؟ اس کو مجازِ حکمی بھی کہتے ہیں، مجاز فی الاثبات بھی کہتے ہیں اور اسنادِ مجازی بھی کہتے ہیں۔ وَهُوَ إِسْنَادُهٗ أَيْ إِسْنَادُ الْفِعْلِ أَوْ مَعْنَاهُ إِلٰى مُلَابِسٍ لَّهٗ وہ اسناد ہے مولانا فعل کا یا معنی فعل کا۔ بھئی میں نے کیا بتلایا تھا اسناد فعلِ معروف کا فاعل کی طرف ہو تو یہ کیا ہے حقیقتِ عقلیہ، اور اسناد فعلِ مجہول کا نائب فاعل کی طرف ہو یعنی مفعول کی طرف تو یہ کیا ہے حقیقتِ عقلیہ، لیکن اگر فاعل کی طرف نہ ہو کسی اور کی طرف مثلاً زمانے کی طرف، مکان کی طرف، مصدر کی طرف یا سبب کی طرف تو یہ سارے کیا ہیں؟ یہ مجازِ عقلی ہیں کیونکہ اسناد مَا هُوَ لَهٗ کی طرف نہیں ہو رہا بلکہ کس کی طرف ہو رہا ہے؟ غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ کی طرف۔ اور یہ زمانہ، مکان، یہ سارے فعل کے متعلقات ہیں: فعل کسی زمانے میں ہو گا، فعل کسی مکان میں ہو گا، اور مصدر بھی فعل کا جز ہے وغیرہ، تو یہ سارے فعل کے متعلقات ہیں۔ اب مثلاً میں کہتا ہوں جَرَى النَّهْرُ نہر کیا ہوئی جاری ہوئی۔ اب نہر جاری ہوتی ہے یا پانی جاری ہوتا ہے؟ پانی جاری ہوتا ہے، تو جَرٰى فعل کی نسبت فاعل کی طرف یعنی مَاءٌ کی طرف نہیں کی بلکہ کس کی طرف کر دی؟ مکان کی طرف! پانی جاری ہوتا ہے نہر جاری نہیں ہوتی بلکہ نہر میں پانی جاری ہوتا ہے تو نہر کیا ہے اس کا مکان ہے۔ تو میں نے اسناد فاعل کی طرف نہیں کیا بلکہ کس کی طرف کر دیا؟ مکان کی طرف کر دیا، تو یہ مَا هُوَ لَهٗ نہیں بلکہ کیا ہے غَيْرُ مَا هُوَ لَهٗ اور یہ فعل کا متعلق ہے۔ تو اسناد فاعل کی طرف کرنے یا مفعول کی طرف کرنے کے بجائے کسی اور متعلق کی طرف کر دینا یہ کیا ہے؟ مجازِ عقلی ہے۔ وہ اسناد ہے فعل یا معنی فعل کا إِلٰى مُلَابِسٍ یا مُلَابَسٍ دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں لَهٗ أَيْ لِلْفِعْلِ أَوْ مَعْنَاهُ، ہا ضمیر کا مرجع بتلا دیا کہ لَهٗ میں ہا ضمیر کس کو راجع ہے فعل کو یا معنی فعل کو، اس کے کسی متعلق کی طرف، ایسا متعلق غَيْرِ مَا هُوَ لَهٗ جو مَا هُوَ لَهٗ سے غیر ہو، أَيْ غَيْرِ الْمُلَابِسِ الَّذِي ذٰلِكَ الْفِعْلُ أَوْ مَعْنَاهُ مَبْنِيٌّ لَّهٗ یعنی غیر ہو اس سے کہ جس کے لیے وہ فعل یا معنی فعل اس کی بنا کی گئی ہے۔ فعلِ معروف کی بنا کس کے لیے کی گئی ہے؟ فاعل کے لیے اور یہ اس سے غیر ہو فاعل نہ ہو، اور فعلِ مجہول کی بنا کس کے لیے کی گئی ہے؟ مفعول کے لیے اور اس کا اسناد مفعول کی طرف نہ ہو بلکہ کس کی طرف ہو غیر کی طرف۔ يَعْنِي غَيْرَ الْفَاعِلِ فِي الْمَبْنِيِّ لِلْفَاعِلِ وَغَيْرَ الْمَفْعُولِ بِهٖ فِي الْمَبْنِيِّ لِلْمَفْعُولِ، یعنی غیرِ فاعل کی طرف ہو مبنی للفاعل میں اور غیرِ مفعول کی طرف ہو مبنی للمفعول میں، سَوَاءٌ كَانَ ذٰلِكَ الْغَيْرُ غَيْرًا فِي الْوَاقِعِ أَوْ عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ فِي الظَّاهِرِ برابر ہے چاہے کہ وہ غیر، غیر ہو واقع کے اندر أَوْ عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ فِي الظَّاهِرِ۔ استاد آ گئے ہیں بھئی؟ چلیے مولانا، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔