اچھا جی مولانا! خبر کے صدق اور کذب کی بحث گزر گئی۔ پہلے آپ نے پڑھا اس میں کہ اس کے بارے میں دو مذاہب ہیں اولاً بھئی۔ ایک جمہور کا مذہب ہے، ایک جاحظ کا۔ جمہور کیا کہتے ہیں کہ کلامِ خبری بند ہے کس میں؟ صدق اور کذب میں۔ اور جاحظ کہتا ہے کہ نہیں، کلامِ خبری صدق اور کذب میں بند نہیں بلکہ ایسا کلامِ خبری بھی ممکن ہے جو نہ صادق ہو اور نہ کاذب ہو۔ پھر جمہور کے اندر اختلاف ہوا مولانا، اہلِ سنت والجماعت کا نظام معتزلی کے ساتھ جو جاحظ کے استاذ ہیں۔ جمہور کہتے ہیں کہ کلامِ صادق وہ ہے جو واقع کے مطابق ہو، کلامِ کاذب وہ ہے جو واقع کے مطابق نہ ہو۔ نظام معتزلی کہتے ہیں نہیں، واقع کا تعلق نہیں بلکہ تعلق اعتقاد کا ہے، اگر کلام اعتقاد کے مطابق ہو تو صادق ہے اور اگر اعتقاد کے مطابق نہ ہو تو کاذب ہے، چاہے غلط ہی کیوں نہ ہو، واقع کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اور دلیل انہوں نے پیش کی قران سے ذکر کی: ﴿إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ﴾۔ اللہ نے فرمایا اور منافقین نے حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے پاس آ کر وہ کیا کہا کرتے تھے: ﴿نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللّٰهِ﴾، تو ﴿إِنَّكَ لَرَسُولُ اللّٰهِ﴾ کے اعتبار سے کہتے ہیں دیکھو ان پر ﴿لَكَاذِبُونَ﴾ کا اطلاق ہوا، حالانکہ حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کا پیغمبر ہونا یہ کیا تھا؟ واقع کے مطابق تھا بھئی، لیکن چونکہ ان کے اعتقاد کے موافق نہیں تھا اس لیے ان پر کیا اطلاق آیا؟ کاذب کا۔ اگر واقع کے ساتھ تعلق ہوتا تو کیا کہنا چاہیے تھا؟ صادقون کہنا چاہیے تھا۔ تو معلوم ہوا اصل تعلق کس کا ہے؟ اعتقاد کا ہے۔ تو جواب دیا اس کا مصنف نے دو جوابات ذکر کیے: ایک منعی اور ایک تسلیمی، اور منعی کے طرق کتنے تھے؟ دو تھے۔ منعی جواب یہ تھا، پہلے تو دعویٰ نظام معتزلی نے کیا کہا کہ ﴿إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ﴾، یہ کاذبون کا اطلاق کس اعتبار سے ہے؟ ﴿إِنَّكَ لَرَسُولُ اللّٰهِ﴾ کی وجہ سے ان کو کاذبون کہا گیا۔ ہم نے کہا نہیں، لَا نُسَلِّمُ، منعی جواب: ہمیں تسلیم نہیں کہ ﴿إِنَّكَ لَرَسُولُ اللّٰهِ﴾ کی وجہ سے ان کو کاذبون کہا گیا، بلکہ ان کو ایک جملہ ضمنیہ کی وجہ سے کیا کہا گیا؟ کاذب کہا گیا۔ جملہ ضمنیہ معلوم ہوا تھا تین تاکیدات سے، اپنے کلام میں تین تاکیدات لا کر گویا وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ یہ کلام کیا ہے ہمارے دل کے موافق ہے، ہمارے دل اور زبان ایک ہیں، دل کی گہرائی سے ہم یہ بات کہہ رہے ہیں۔ اس شہادت کے اندر انہوں نے جو تین تاکیدات ذکر کیں اس کے اعتبار سے ان کو کیا کہا گیا؟ کاذب کہا گیا۔ دوسرا منعی جواب یہ دیا مولانا کہ اس کا نام انہوں نے شہادت رکھا، اور اس کا نام شہادت رکھنا اس میں یہ کیا ہیں؟ جھوٹے ہیں، کیونکہ شہادت اس کو کہتے ہیں جس میں قلب اور زبان ایک ہوں اور یہاں قلب اور زبان ایک نہیں۔ اور جوابِ تسلیمی دیا کہ ہم چلیں آپ کی بات تسلیم کرتے ہیں کہ منافقین پر اطلاق ہوا ﴿لَكَاذِبُونَ﴾ کا کس اعتبار سے؟ مشہود بہ کے اعتبار سے، یعنی ﴿إِنَّكَ لَرَسُولُ اللّٰهِ﴾، لیکن ان کے اپنے گمان کے مطابق مولانا۔ انہوں نے خود آ کر کہا ﴿إِنَّكَ لَرَسُولُ اللّٰهِ﴾ اور منافقین کا کیا گمان تھا کہ ہمارا یہ کلام واقع کے مطابق نہیں، تو دیکھا واقع کے ساتھ عدمِ مطابقت کی وجہ سے۔ پھر اس کے بعد مولانا اختلاف تھا مولانا جمہور کا کس کے ساتھ؟ جاحظ کے ساتھ۔ جاحظ نے کیا کہا بھئی؟ جاحظ نے کہا تھا دونوں چیزوں کا اعتبار ہو گا: واقع کا بھی اعتبار ہو گا اور اعتقاد کا بھی۔ تو ایک کلام ہے واقع کے بھی مطابق ہے اور اعتقاد کے بھی موافق ہے تو اس کو ہم کیا کہیں گے؟ صادق کہیں گے۔ اور اگر واقع کے بھی خلاف ہے اور اعتقاد کے بھی خلاف ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ کاذب کہیں گے۔ اور اس کے علاوہ جو صورتیں بنیں گی وہ سارے واسطے ہیں، نہ صدق ہے وہ اور نہ کذب ہے۔ تو کل صورتیں بنتی تھیں چھ، چھ میں سے ایک صورت صدق کی، ایک صورت کذب کی اور چار صورتیں واسطے کی۔ واسطے کی چار صورتیں کس طرح؟ واقع کے مطابق ہو گا یا نہیں۔ تو واقع کے اعتبار سے دو حالتیں ہوئیں: واقع کے مطابق ہو گا کلام یا واقع کے مطابق نہیں۔ اعتقاد کے اعتبار سے تین حالتیں ہوئیں: یا تو اعتقاد کے مطابق ہو گا (ایک)، یا اعتقاد کے مطابق نہیں ہو گا (دو)، یا سرے سے کوئی اعتقاد ہی نہ ہو گا۔ تو اب ان دو میں سے ہر ایک کے ساتھ یہ تین تین حالتیں جوڑ دیں، کتنی بن گئیں؟ چھ صورتیں۔ پہلی صورت چھ میں سے کیا تھی؟ واقع کے بھی مطابق ہو، اعتقاد کے بھی مطابق ہو، جیسے مومن کا کیا کہنا: اَللّٰهُ وَاحِدٌ، واقع کے بھی مطابق اور اعتقاد کے بھی مطابق۔ اور ایک جو نہ واقع کے مطابق ہو اور نہ اعتقاد کے مطابق ہو، جیسے مومن کہتا ہے: اَللّٰهُ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ، اللہ تین میں سے ایک، نہ تو یہ واقع کے مطابق اور نہ اعتقاد کے مطابق۔ اور چار صورتیں، ان میں سے ایک کہ واقع کے مطابق نہ ہو اور اعتقاد کے مطابق ہو، جیسے عیسائی کا کہنا: اَللّٰهُ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ، واقع کے مطابق نہیں لیکن اعتقاد کے مطابق ہے۔ دوسرا کہ واقع کے مطابق نہیں اور سرے سے اعتقاد ہی کوئی نہیں، جیسے مجنون کا کہنا: اَللّٰهُ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ، اب یہ واقع کے بھی مطابق نہیں اور اس کا سرے سے کوئی اعتقاد ہی نہیں۔ تیسری صورت کہ واقع کے مطابق ہو لیکن اعتقاد کے مطابق نہ ہو، جیسے عیسائی کا کہنا: اَللّٰهُ وَاحِدٌ، یہ واقع کے مطابق تو ہے لیکن اس کے اعتقاد کے مطابق نہیں۔ اور چوتھی صورت کہ واقع کے مطابق تو ہو لیکن اعتقاد ہی نہ ہو، جیسے مجنون کا کہنا: اَللّٰهُ وَاحِدٌ، یہ واقع کے مطابق تو ہے لیکن اس کا سرے سے کوئی اعتقاد ہی نہیں۔ تو کہتے ہیں مولانا کہ یہ جاحظ کی جو تفسیر ہے یہ خاص ہے گزشتہ دونوں تفسیروں سے: صدق اور کذب۔ تو کذب کی ایک تفسیر جاحظ نے کی ایک پہلے کی تھی انہوں نے، تو پہلی تفسیر عام ہے، اس میں ایک قید تھی اور اس میں کتنی قیدیں ہیں؟ دو۔ کہتے ہیں اس لیے کہ انہوں نے اعتبار کیا صدق کے اندر مُطَابَقَةُ الْوَاقِعِ اور اعتقاد دونوں کا، یعنی مُطَابَقَةُ الْوَاقِعِ کا بھی اور مُطَابَقَةُ الِاعْتِقَادِ کا بھی۔ اور کذب کے اندر انہوں نے اعتبار کس کا کیا؟ عَدَمُ مُطَابَقَةِ الْوَاقِعِ اور عَدَمُ مُطَابَقَةِ الِاعْتِقَادِ کا۔ تو صدق میں کس کا اعتبار کیا؟ مُطَابَقَةُ الْوَاقِعِ اور مُطَابَقَةُ الِاعْتِقَادِ۔ اس پر اشکال ہوا بھئی، انہوں نے مُطَابَقَةُ الْوَاقِعِ تو کہا بھئی، دیکھئے مُطَابَقَتُهُ لِلْوَاقِعِ، یہ تو بات انہوں نے کہی، لیکن مُطَابَقَةُ الِاعْتِقَادِ نہیں کہا بلکہ اعْتِقَادُ الْمُطَابَقَةِ کہا ہے، اعْتِقَادُ الْمُطَابَقَةِ کہا ہے۔ تو جواب انہوں نے دیا تھا بھئی کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں، کب؟ جبکہ خبر واقع کے مطابق ہو۔ مثلاً آپ نے کہا: زَيْدٌ قَائِمٌ بھئی، اور اعتقادِ مطابقت تھا، آپ کے ذہن میں کیا بات تھی؟ اعتقاد کیا تھا کہ یہ واقع کے مطابق ہے۔ تو اعتقاد تھا آپ کو مولانا کس چیز کا؟ مطابقت کا، تو اعتقادِ مطابقت تھا آپ کو مولانا کہ یہ زَيْدٌ قَائِمٌ کیا ہے؟ واقع کے مطابق ہے، اور تھا بھی ایسا ہی کیونکہ کلام سچا ہے واقع کے مطابق تھا، تو جب واقع کے مطابق ہوا اور اعتقاد بھی کیا تھا کہ مطابق ہے، تو واقعہ اور اعتقاد کیا ہوئے؟ موافق ہو گئے، اور جب دونوں آپس میں موافق ہو گئے تو جو چیز ایک کے مطابق ہو گی وہ دوسرے کے بھی مطابق ہو گی، جو ایک کے مطابق نہیں وہ دوسرے کے بھی مطابق نہیں۔ تو مُطَابَقَةُ الْوَاقِعِ کے ساتھ کیا آ جائے گا؟ مُطَابَقَةُ الِاعْتِقَادِ۔ تو دیکھا، اعْتِقَادُ الْمُطَابَقَةِ سے ہم چلے تھے اور مُطَابَقَةُ الِاعْتِقَادِ پر پہنچ گئے بھئی۔ معلوم ہوا یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں جبکہ صدق یا کذب کا مسئلہ ہو۔ اچھا، جاحظ نے دلیل دی تھی، جاحظ کہتا ہے ایسا کلامِ خبری بھی ممکن ہے جو نہ صادق ہو اور نہ کاذب ہو۔ کہتے ہیں دیکھو میں قران سے دلیل دیتا ہوں: حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے کفار کو دعوت دی، دین کی طرف بلایا، اور ان کو بتلایا کہ انسان جب ختم ہو جائے پھر بھی ایک دن آئے گا کہ اللہ اس کو کیا کریں گے؟ پھر پیدا فرمائیں گے۔ تو کفار کہنے لگے: ﴿أَفْتَرَى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا أَمْ بِهِ جِنَّةٌ﴾، یہ کیسی عجیب بات کی! یا تو اس نے جھوٹ گھڑا ہے اللہ پر ﴿أَمْ بِهِ جِنَّةٌ﴾ یا اس کو کیا ہے؟ جنون ہے، یعنی اس نے جنون کی حالت میں خبر دی ہے۔ تو یا تو اس نے اللہ پر جھوٹ گھڑا ہے یا اس نے جنون کی حالت میں خبر دی ہے۔ اب جاحظ کہتا ہے یہ جو اخبار حال الجنون ہے، جنون کے حال میں جو خبر دی ہے، کفار نے کلام کیا یہ والا، یہ کلام نہ تو صدق میں داخل ہے اور نہ کذب میں داخل ہے۔ اور اگر ہم یہ ثابت کر دیں کہ یہ نہ صدق میں داخل ہے اور نہ کذب میں داخل ہے تو کیا ماننا لازم آئے گا؟ واسطہ، اور جب بس واسطہ ثابت ہو گیا تو میرا مدعا ثابت ہو جائے گا کہ کلامِ خبری ضروری نہیں کہ صرف صادق اور کاذب ہی ہو۔ تو دلیل ان کی یہ کہتے ہیں دیکھو اس سے پہلے کیا آیا: ﴿أَفْتَرَى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا﴾، گھڑا ہے اللہ پر جھوٹ۔ تو اس سے پیچھے جھوٹ ذکر تھا اور یہ اس کے بعد اس کے مقابلے میں ذکر ہے: یا تو جھوٹ گھڑا ہے یا اس نے خبر دی ہے حالِ جنون میں۔ تو معلوم ہوا یہ دونوں ایک دوسرے کی قسیم ہیں، یا تو یہ ہے یا تو یہ ہے، تو معلوم ہوا دونوں ایک دوسرے کی قسیم ہیں۔ اور جب پیچھے کذب آ گیا معلوم ہوا اب اخبار حال الجنون کذب نہیں، یہ کذب نہیں کیونکہ یہ تو اس کے مقابلے میں آ رہا ہے، مقابلے میں آ رہا ہے۔ اور کہتے ہیں اس سے صدق بھی مراد نہیں، کیونکہ کفار کا اعتقاد نہیں تھا کہ حضور کیا ہیں؟ سچے ہیں۔ بھئی اگر اس سے ہم سچ مراد لے لیں تو کلام یوں ہو گیا: یا تو پیغمبر جھوٹ گھڑتے ہیں یا سچے ہیں۔ تو معلوم ہوا اس سے صدق بھی مراد نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں دیکھا، نہ اس سے کذب مراد ہوا نہ اس سے صدق مراد ہوا۔ اب لازم ہوا کہ آپ ایک ایسا کلام بھی مانیں جو کیا ہونا چاہیے؟ نہ کاذب ہو اور نہ صادق، یعنی واسطے کو ماننا ہی پڑے گا، اور واسطہ اس لیے ماننا پڑے گا تاکہ یہ کلام بھی اسی کے قبیل سے ہو جائے۔ جو انہوں نے کلام کیا ہے نہ صادق ہے نہ کاذب ہے تو لازمی بات ہے یہ کس قبیل سے ہے؟ جو نہ صادق ہے اور نہ کاذب، اس کلام کے قبیل سے، یعنی اس واسطے کے قبیل سے۔ تو جواب ہم نے دیا مولانا، جمہور جواب دیتے ہیں کہ علامہ صاحب! آپ سے غلطی ہوئی، آپ نے اخبار حال الجنون کو قسیم بنایا کس کی؟ کذب کی! آپ نے کذب کی اس کو قسیم بنا دیا، یہاں غلطی ہوئی آپ سے، اور آپ نے کذبِ مطلق کی قسیم بنایا۔ کذبِ مطلق کی قسیم بنایا پھر کہا نہ یہ کذب ہو سکتا ہے کیونکہ یہ قسیم ہے اور صدق بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ صدق تو مراد نہیں۔ بھئی یہ اصل میں کذبِ مطلق کی قسیم نہیں بلکہ یہ کذبِ مطلق کی تقسیم ہے! یعنی یہ پیغمبر، وہ کہنا یہ چاہتے ہیں ہر حال میں جھوٹا ہے، اور جھوٹ دو قسم پر ہے: یا تو آدمی اپنے ارادے سے بولے گا یا اپنے ارادے سے نہیں بولے گا۔ تو دیکھا، انحصار کر دیا پیغمبر کے کلام کا انہوں نے کس چیز میں؟ کذب ہی میں! یا تو یہ اپنے ارادے سے جھوٹ بول رہا ہے یا اپنے ارادے سے جھوٹ نہیں بول رہا، اور یہ دونوں کس میں داخل؟ جھوٹ میں داخل، کیونکہ جھوٹ دو قسم پر ہو گیا: ایک وہ جس میں ارادہ ہو گا، ایک جس میں ارادہ نہیں ہو گا۔ تو یہ مولانا افتراء اور عدمِ افتراء ہے: ایک طرف افتراء ہے تو دوسری طرف ﴿أَمْ بِهِ جِنَّةٌ﴾ سے کیا مراد ہے؟ عدمِ افتراء۔ اور افتراء اور عدمِ افتراء دونوں داخل ہیں کس کے اندر؟ کذب کے اندر۔ کذب کبھی افتراء کے ساتھ ہو گا کبھی عدمِ افتراء کے ساتھ۔ تو یہ مولانا کذبِ خاص کی قسیم ہوئی، آپ نے اس کو کس کی قسیم بنایا تھا؟ کذبِ مطلق کی۔ تو یہ کذبِ خاص تھا، ایک خاص کذب یعنی ارادے سے، دوسرا خاص کذب تھا یعنی بغیر ارادے کے، اور یہ دونوں داخل ہیں مطلقِ کذب میں۔ تو اس کو تعبیر کر دیا عدمِ افتراء کو ﴿أَمْ بِهِ جِنَّةٌ﴾ کے ساتھ کہ کیا ہے ان کو؟ جنون ہے، کیونکہ مجنون کا بھی کیا ہوتا ہے؟ ارادہ نہیں ہوتا، افتراء نہیں ہوتا۔ پھر علامہ تفتازانی نے یہاں ایک بات کی تھی: ﴿وَلَوْ قَالَ لِأَنَّهُمُ اعْتَقَدُوا عَدَمَ صِدْقِهِ لَكَانَ أَظْهَرَ﴾، یہ اگر کہہ دیتے تو زیادہ بہتر تھا کس کے بجائے؟ ﴿لِأَنَّهُمْ لَمْ يَعْتَقِدُوا صِدْقَهُ﴾۔ کیوں؟ دیکھو بھئی دیکھو، متن پہ نظر رکھو: غَيْرُ الصِّدْقِ، یہ سچ نہیں ہے، یہ عدمِ صدق ہے، یہ دعویٰ ہے۔ دلیل ﴿لِأَنَّهُمْ لَمْ يَعْتَقِدُوا﴾ سے ذکر کر رہے ہیں نا، کیونکہ ان کو سچ کا یقین نہیں تھا۔ بھئی غیرِ صدق یعنی عدمِ صدق ہوا نا، اور ﴿لِأَنَّهُمْ لَمْ يَعْتَقِدُوهُ﴾، ہو ضمیر بھی کس کو راجع؟ صدق کو۔ تو یہ صدق بھی نہیں کیوں؟ کیونکہ ان کا اعتقاد صدق کا نہیں تھا، انہیں صدق کا یقین نہیں تھا۔ بھئی یہ دلیل دعوے کے مطابق نہیں بن رہی بھئی۔ کیوں؟ بھئی ایک چیز کا یقین نہ ہو تو اس چیز کا نہ ہونا لازم آئے گا؟ آپ کہہ رہے ہیں انہیں صدق کا یقین نہیں تھا اس لیے یہ صدق نہیں، یہ بات نہیں بنتی مولانا، صدق کی گنجائش اب بھی باقی رہتی ہے کہ ایک آدمی کو یقین ہو عدمِ صدق کا پھر بھی امکان کس چیز کا ہے؟ صدق کا ہے۔ ماتن کہتے ہیں بھئی نہیں، عدمِ صدق نہیں بلکہ عدمِ ارادۂ صدق مراد ہے، یہاں کیا مراد ہے؟ عدمِ ارادۂ صدق۔ پیچھے دیکھیں: اَلْمُرَادُ بِالثَّانِي غَيْرُ الصِّدْقِ، مراد غیرِ صدق ہے یعنی عدمِ ارادۂ صدق مراد ہے۔ اب ذرا دیکھو دلیل دعوے کے مطابق ہے یا نہیں: صدق کا ارادہ بھی نہیں کیونکہ انہیں صدق کا یقین نہیں تھا۔ اب بات بن گئی مولانا: صدق کا یقین نہیں اس لیے صدق کا ارادہ بھی نہیں ہے، اب دعویٰ اور دلیل اس کے مطابق ہو گئے۔ تو اسی وجہ سے علامہ تفتازانی کہتے ہیں اگر ﴿لَمْ يَعْتَقِدُوهُ﴾ کی جگہ کیا کہہ دیتے کہ ﴿لِأَنَّهُمُ اعْتَقَدُوا عَدَمَ صِدْقِهِ﴾ کیونکہ انہیں یقین تھا ان کے عدمِ صدق کا، تو بات زیادہ واضح ہو جاتی مولانا، صدق کی جو گنجائش نکلتی تھی وہ بھی ختم ہو جاتی کیونکہ انہیں یقین تھا کس چیز کا؟ عدمِ صدق کا۔ جب عدمِ صدق کا یقین ہوا تو صدق کیا ہوا؟ ختم ہوا۔ ﴿وَهُمْ عُقَلَاءُ﴾، یہاں سے ایک اعتراض کا جواب دیا تھا بھئی۔ اعتراض یہ ہوتا تھا کہ کفار ہیں، انہوں نے ﴿أَمْ بِهِ جِنَّةٌ﴾ کہہ دیا تو کیا ہوا؟ صدق اور کذب سے کلام خارج ہوا تو کیا ہوا؟ کفار کی باتوں کا اعتبار نہیں۔ ہم نے کہا بھئی بات لغت کی چل رہی ہے، وہ اہلِ لغت تھے اور لغت میں ان کی بات کفار کی معتبر ہے۔ تو وہ عقلاء تھے، اہلِ لسان تھے، جانتے تھے لغت کو، پس واجب ہوا ان کے اس کلام سے: ﴿أَنْ يَكُونَ مِنَ الْخَبَرِ مَا لَيْسَ بِصَادِقٍ وَلَا كَاذِبٍ﴾، کہ خبر میں سے ایسی چیز کا ہونا جو نہ سچی ہو اور نہ جھوٹی ہو۔ یہ کلام ﴿أَمْ بِهِ جِنَّةٌ﴾ نہ صادق ہے نہ کاذب ہے، ماننا پڑے گا کلامِ خبری ایسا بھی ہوتا ہے جو نہ صادق ہوتا ہے اور نہ کاذب، واسطہ ماننا ہی پڑے گا ﴿حَتَّى يَكُونَ هٰذَا مِنْهُ بِزَعْمِهِمْ﴾ تاکہ یہ ﴿أَمْ بِهِ جِنَّةٌ﴾ بھی اس میں داخل ہو جائے، ایک واسطہ ماننا پڑے گا تاکہ پھر کہیں یہ بھی اسی قبیل سے ہے۔ اس پر مولانا ایک اشکال کیا تھا مولانا علامہ خلخالی نے، وہی جو بات میں نے واضح کر دی پہلے کہ غَيْرُ الصِّدْقِ ﴿لِأَنَّهُمْ لَمْ يَعْتَقِدُوهُ﴾، صدق بھی نہیں کیونکہ صدق کا ان کو یقین نہیں تھا۔ انہوں نے وہی اعتراض کیا کہ بھئی صدق کے یقین نہ ہونے سے عدمِ صدق لازم نہیں آتا۔ ہم نے کہا بھئی عدمِ صدق کی دلیل نہیں ذکر کر رہے بلکہ عدمِ ارادۂ صدق کی دلیل کر رہے ہیں اور اس کے مطابق ہے کہ جب صدق کا یقین نہیں تو اس کا ارادہ بھی نہیں ہے۔ ﴿وَرُدَّ هٰذَا الِاسْتِدْلَالُ﴾، اور رد کر دیا گیا اس استدلال کو، ﴿بِأَنَّ الْمَعْنَى﴾ یعنی معنی ﴿أَمْ بِهِ جِنَّةٌ﴾ کا معنی یہ ہے: ﴿أَمْ لَمْ يَفْتَرِ﴾ یعنی افتراء نہیں کیا۔ ﴿فَعُبِّرَ عَنْهُ﴾ پس تعبیر کر دیا گیا عدمِ افتراء سے کس کے ساتھ؟ ﴿بِالْجِنَّةِ﴾، مجازاً بھئی یہ کہہ دیا گیا، ﴿لِأَنَّ الْمَجْنُونَ لَا افْتِرَاءَ لَهُ﴾ اس لیے کہ مجنون جو ہوتا ہے اس کے لیے بھی افتراء نہیں ہوتا، ﴿لِأَنَّهُ الْكَذِبُ عَنْ عَمْدٍ﴾ اس لیے کہ افتراء کیا ہے؟ ارادے سے جھوٹ بولنا ہے، ﴿وَلَا عَمْدَ لِلْمَجْنُونِ﴾ اور مجنون کے لیے کوئی ارادہ نہیں ہوتا۔ ﴿فَالثَّانِي لَيْسَ قَسِيمًا لِلْكَذِبِ مُطْلَقًا﴾، پس ثانی جو ہے یعنی اخبار حال الجنون یہ مطلقِ کذب کی قسیم نہیں ہے، ﴿بَلْ لِمَا هُوَ أَخَصُّ مِنْهُ﴾ بلکہ یہ قسیم ہے اس چیز کی جو کہ خاص ہے کذبِ مطلق سے، اور کذبِ مطلق سے خاص کیا بتلایا انہوں نے؟ ﴿أَعْنِي الِافْتِرَاءَ﴾ یعنی کہ افتراء، کیونکہ بھئی کذبِ مطلق ہے اس کی تقسیم کی: کذب ایک کیا ہے عن عمد اور ایک کیا ہے عن غیر عمد، یعنی ایک افتراء اور ایک عدمِ افتراء۔ تو مولانا کذبِ مطلق عام ہے اور افتراء کیا ہے؟ خاص ہے کیونکہ اس کی قسم ہے، جیسے کلمہ عام ہے اسم، فعل، حرف تینوں پر بولا جائے گا لیکن اسم کیا ہے اس کی قسم ہونے کی وجہ سے خاص ہے۔ ﴿فَيَكُونُ هٰذَا حَصْرًا لِلْخَبَرِ الْكَاذِبِ بِزَعْمِهِمْ فِي نَوْعَيْهِ أَعْنِي الْكَذِبَ عَنْ عَمْدٍ وَالْكَذِبَ لَا عَنْ عَمْدٍ﴾، پس یہ تو حصر ہے خبرِ کاذب کا کفار کے گمان میں اس کے دو انواع کے اندر: یعنی کذب عن عمد میں اور کذب لا عن عمد میں۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ کوئی بات اس سبق میں نہ سمجھ میں آئی ہو بھئی؟ تکرار کیا ہے بھئی؟ جواب اس کا یہ ہوا مولانا کہ علامہ جاحظ نے اس کو بنایا کیا کہا کہ اخبار حال الجنون یہ قسیم ہے کس کی؟ مطلقِ کذب کی۔ تو جب مطلقِ کذب کی قسیم ہوئی تو کہتے ہیں اس سے کذب مراد نہیں ہوا، جب کذب مراد نہیں ہوا تو اس سے کیا مراد لیں گے ہم؟ صدق۔ کہتے ہیں صدق بھی نہیں لے سکتے کیونکہ صدق کا کفار کا اعتقاد نہیں، معلوم ہوا واسطہ ثابت ہوا، تو انہوں نے قسیم بنایا تھا مطلقِ کذب کی، مطلقِ کذب کی۔ ہم نے کہا مطلقِ کذب کی قسیم نہیں بلکہ یہ کذبِ خاص کی کیا ہے؟ قسیم ہے، اور یہ دونوں حصے داخل ہیں کس کے اندر؟ کذبِ مطلق میں داخل ہیں، یعنی ہر حال میں وہ پیغمبر کے کس چیز کے قائل تھے؟ کذب ہی کے قائل تھے۔ کوئی بات نہ سمجھ میں آئی ہو اور بھئی کسی کو؟ سب کو سمجھ میں آ گیا گزشتہ سبق بھئی؟ مشکل باتیں سب حل ہوئیں؟ اچھا جی۔ کوئی بات رہ جائے بھئی بتا دیا کرو، پوچھ لیا کرو بھئی۔ أَحْوَالُ الْإِسْنَادِ الْخَبَرِيِّ، ابھی تو سبق شروع ہوا ہے مولانا، ابھی ہم نے پڑھنا ہے اج سات، آٹھ، دس صفحے انشاءاللہ پڑھیں گے انشاءاللہ۔ ﴿أَحْوَالُ الْإِسْنَادِ الْخَبَرِيِّ﴾ یہ احوال ہیں مولانا کس کے؟ اسنادِ خبری کے، یہ بابِ اول احوالِ اسنادِ خبری میں ہے۔ ﴿وَهُوَ ضَمُّ كَلِمَةٍ أَوْ مَا يَجْرِي مَجْرَاهَا﴾۔ مخبر جب کوئی خبر دیتا ہے تو مخاطب کو فائدہ دینا چاہتا ہے۔ کس چیز کا؟ یا تو حکم کا فائدہ دینا چاہتا ہے یا اپنے عالم ہونے کا فائدہ دینا چاہتا ہے۔ اگر حکم کا فائدہ دینا چاہے تو اس کو کہتے ہیں فائدۃ الخبر جو اس سے حاصل ہوا۔ اور اگر کس کا فائدہ دے؟ عالم ہونے کا جو فائدہ حاصل ہو اس فائدے کا کیا نام ہے؟ لازمِ فائدۃ الخبر۔ مثلاً مولانا میں آپ کے سامنے کلامِ خبری کہتا ہوں، آپ کو خبر دیتا ہوں: عید کے موقع پر چار ہفتے کی چھٹیاں ہو رہی ہیں۔ اچھا جی، عید پر چار ہفتے کی چھٹیاں ہو رہی ہیں، اس سے آپ کو فائدہ حاصل ہوا۔ تو اس سے آپ کو فائدہ حاصل ہوا کس چیز کا؟ چار ہفتے کی چھٹیوں کے ہونے کا، چار ہفتے کی چھٹیوں کے ہونے کا، یہ مولانا اس کو کہتے ہیں فائدۃ الخبر، یعنی اس حکم کا آپ کو فائدہ ہوا کہ چھٹیاں کتنی ہو رہی ہیں؟ چار ہفتے۔ یعنی اس بات کا پتہ چلا، حکم کا کیا معنی؟ بات کا۔ بات کا پتہ چلا مولانا تو یہ بات جس کی خبر ہوئی آپ کو، یہ حکم جو آپ کو حاصل ہوا اس کو کیا کہتے ہیں؟ فائدۃ الخبر، خبر نے یہ فائدہ دیا۔ لیکن اس کے ساتھ آپ کو ایک اور بات بھی پتہ چل گئی کہ جس نے خبر دی یعنی میں، مجھے بھی پتہ ہے کہ کتنے ہفتے کی چھٹیاں ہو رہی ہیں؟ چار ہفتے کی۔ تو اس حکم پر میرے عالم ہونے کا بھی آپ کو پتہ چل گیا کہ مجھے بھی علم ہے چار ہفتے کی چھٹیوں کا۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ لازمِ فائدۃ الخبر۔ آپ کے ساتھی نے آپ سے کہا آ کر: زید حج پر گیا ہے۔ تو آپ کو کیا فائدہ حاصل ہوا؟ زید کے حج پر جانے کا، اور دوسرا کیا پتہ چلا کہ بتانے والے کو بھی اس بات کا علم ہے۔ یہ ہو سکتا ہے اس کو نہ پتہ ہو اور وہ آپ کو بتا رہا ہو؟ اچھا، معلوم ہوا آپ کو دو فائدے حاصل ہوئے: ایک فائدۃ الخبر جو حکم کا فائدہ، اور ایک متکلم کے اس حکم پر عالم ہونے کا پتہ چلا، اس کو کہتے ہیں لازمِ فائدۃ الخبر بھئی۔ تو اس کو لازمِ فائدۃ الخبر اس لیے کہتے ہیں کہ یہ فائدۃ الخبر کے ساتھ لازم ہے۔ جب بھی کوئی خبر دے گا اس کے ساتھ کیا لازم ہے؟ کہ اس کے عالم ہونے کا بھی پتہ چل جائے گا۔ جب بھی کوئی کلام آپ کے سامنے کوئی شخص آپ کو خبر دے گا آپ کو یہ بھی ساتھ ساتھ پتہ چل جائے گا کہ وہ بھی جانتا ہے اس بات کو، تو یہ اس کے ساتھ لازم ہے۔ دیکھئے مولانا، متن متن صرف دیکھئے: ﴿لَا شَكَّ أَنَّ قَصْدَ الْمُخْبِرِ﴾، کوئی شک نہیں اس میں کہ مخبر یعنی خبر دینے والے کا ارادہ ﴿بِخَبَرِهِ﴾ اپنی خبر کے ذریعے اس کا ارادہ ہوتا ہے ﴿إِفَادَةُ الْمُخَاطَبِ﴾ مخاطب کو فائدہ دینے کا، ﴿إِمَّا الْحُكْمَ﴾ یا تو حکم کا فائدہ دے گا، ﴿أَوْ كَوْنَهُ عَالِمًا بِهِ﴾ یا اپنے عالم ہونے کا فائدہ دے گا۔ ﴿وَيُسَمَّى الْأَوَّلُ فَائِدَةَ الْخَبَرِ وَالثَّانِي لَازِمَ الْفَائِدَةِ﴾، پہلے کو کیا کہتے ہیں فائدۃ الخبر اور ثانی کو کیا کہتے ہیں لازمِ فائدۃ الخبر۔ تو یہ اس کے ساتھ لازم ہے، فائدۃ الخبر ملزوم اور یہ اس کے ساتھ لازم بھئی۔ تو ملزوم لازم کے بغیر نہیں آ سکتا لیکن لازم ملزوم کے بغیر آ سکتا ہے۔ ﴿وَقَدْ يُنَزَّلُ﴾، یہاں سے بتلا رہے ہیں آپ کو کہ ایک شخص مخاطب جو ہے اس کے سامنے میں جب بھی کوئی کلامِ خبر دوں گا اس کو دونوں فائدے حاصل ہوں گے۔ مثلاً میں نے آپ کے سامنے کیا کہا: چار ہفتے کی چھٹیاں، آپ کو دونوں فائدے حاصل ہوئے: ایک چار ہفتے کی چھٹیوں کا فائدہ ہونے کا کہ ہو رہی ہیں، اور دوسرا میرے اس پر مطلع ہونے کا پتہ چلا، دو فائدے ہوئے۔ اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ خبر پہلے سے معلوم ہوتی ہے، تو آپ کو چھٹی کا پہلے سے ہی پتہ تھا، پھر آپ کو میں نے آ کر کیا کہا کہ چار ہفتے کی چھٹیاں ہو رہی ہیں، تو اب آپ کو مولانا فائدۃ الخبر حاصل ہوا؟ نہیں، وہ تو آپ کو پہلے سے ہی پتہ تھا۔ ہاں کیا فائدہ ہوا؟ لازمِ فائدۃ الخبر۔ تو دیکھا، لازم پایا گیا مولانا ملزوم کے بغیر، تو کبھی ایسا بھی ہوتا ہے۔ بھئی کبھی ایک شخص کو دونوں فائدے حاصل ہوتے ہیں: آپ کو یہ بھی پتہ ہے چار ہفتے کی چھٹیاں ہو رہی ہیں اور آپ کو یہ بھی پتہ ہے کہ مجھے بھی پتہ ہے، پھر مولانا میں آپ کے سامنے کیا کہتا ہوں کہ چار ہفتے کی چھٹیاں ہو رہی ہیں۔ تو کہتے ہیں مولانا کبھی دونوں فائدوں کا مخاطب کو پتہ ہوتا ہے پھر اس کے سامنے اس کو خبر دی جاتی ہے کلام کی، کہتے ہیں یہ اس وقت کہ اس وقت ہم دراصل اس کو جاہل کے درجے میں اتار لیتے ہیں، یعنی اس کو اس خبر کا گویا پتہ ہی نہیں، کیونکہ اس نے اس خبر کے مقتضا پر عمل نہیں کیا، مقتضا پر عمل نہیں کیا۔ مثلاً ایک شخص ہے نماز نہیں پڑھتا، عالم ہے، پتہ ہے اس کو کہ نماز فرض ہے لیکن نماز نہیں پڑھتا۔ اب آپ نے اس کو کیا کہا: اَلصَّلَاةُ وَاجِبَةٌ، نماز کیا ہے؟ فرض ہے۔ تو کیا اس کو پتہ نہیں تھا فرض ہے؟ پتہ تھا، اور کیا اس کو یہ نہیں تھا پتہ کہ آپ بھی جانتے ہیں کہ نماز کیا ہے؟ تو نہ دیکھیں فائدۃ الخبر ہوا اور نہ لازمِ فائدۃ الخبر، تو کہتے ہیں بھئی ایسا کیا جاتا ہے عموماً جبکہ مخاطب کو کس کے درجے میں اتار لیا جائے؟ جاہل کے، کیونکہ اس نے اپنے علم کے مقتضا پر عمل نہیں کیا۔ علم کیا تھا کہ نماز واجب ہے، اس کا مقتضا یہ کیا تقاضا کرتا ہے کہ نماز کو پڑھا جائے، علم پر عمل کیا جائے، تو اس نے عمل نہیں کیا تو وہ اور جاہل برابر ہوئے۔ جاہل کا بھی عمل نہیں، اس عالم کا عمل بھی نہیں، لہٰذا تو مقتضائے علم پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے اس کو جاہل کے مرتبے میں اتار کر پھر اس کو خبر دی جاتی ہے۔ پس کہتے ہیں مناسب ہے چونکہ خبر دیں گے، خبر دینا فائدہ دینا چاہتا ہے، لہٰذا مناسب ہے کہ وہ اکتفاء کرے، متکلم اکتفاء کرے بھئی مولانا ترکیب میں ﴿عَلَى قَدْرِ الْحَاجَةِ﴾ جتنی حاجت ہو اتنا کلام لائے بھئی، زائد بے کار کلام نہ لائے۔ اگر مخاطب کیا تھا؟ خالی الذہن تھا، نہ تو اس کے ذہن میں حکم تھا اور نہ ہی اس کے بارے میں کوئی تردد تھا، بالکل خالی الذہن ہے مولانا، تو اس کے سامنے کیا کریں؟ جیسے مولانا آپ خالی الذہن تھے آپ کے سامنے میں نے صرف یہ کہا چار ہفتے کی کیا ہو رہی ہیں؟ چھٹیاں ہو رہی ہیں۔ میں نے کوئی تاکیدات بڑھائیں؟ واللہ، باللہ، تاللہ، کوئی قسم کھائی بھئی؟ نہیں، کوئی تاکید نہیں ذکر کی۔ تو خالی الذہن کے سامنے کلام کیسے لانا چاہیے؟ بغیر تاکید کے۔ تو اگر مخاطب خالی الذہن تھا حکم سے اور تردد سے تو مولانا وہ مستغنی ہوا کس سے مولانا؟ مؤکداتِ حکم سے، اِنَّ وغیرہ سے۔ اور اگر اس کو شک تھا مولانا، اس کو کچھ تردد تھا حکم میں اور وہ اس کو طلب کر رہا تھا تو بہتر ہے حکم کے لیے کیا لے آؤ؟ کوئی تاکید لے آؤ۔ اور اگر وہ منکر تھا حکم کا تو پھر تاکید کا لانا واجب ہے، واجب ہے۔ تو قسمِ اول کلام جو خالی الذہن کے سامنے کیا جائے وہ کہلاتا ہے ابتدائی، کیا کہلاتا ہے؟ ابتدائی۔ اور قسمِ ثانی جو متردد کے سامنے کیا جائے وہ کہلاتا ہے طلبی۔ اور وہ کلام جو منکر کے سامنے کیا جائے وہ کیا کہلاتا ہے؟ انکاری۔ تو کلام کی تین قسمیں: ابتدائی، طلبی اور انکاری۔ ابتدائی کلام کس کے سامنے ہو گا؟ خالی الذہن کے۔ اور طلبی کلام کس کے سامنے ہو گا؟ متردد کے۔ اور انکاری؟ منکر کے۔ تو کتنی قسمیں ہوئیں کلام کی؟ اول ابتدائی، ثانی طلبی، ثالث انکاری، اور تینوں کے مواقع بتلا دیے۔ چلیے بھئی، دیکھئے اب علامہ تفتازانی تشریح کریں گے اس کی۔ دیکھئے آسان ہے مولانا۔ ﴿أَحْوَالُ الْإِسْنَادِ الْخَبَرِيِّ﴾ أَيْ أَيْ اَلْبَابُ الْأَوَّلُ أَحْوَالُ الْإِسْنَادِ الْخَبَرِيِّ ﴿وَهُوَ ضَمُّ كَلِمَةٍ أَوْ مَا يَجْرِي مَجْرَاهَا إِلَى أُخْرَى بِحَيْثُ يُفِيدُ الْمُخَاطَبَ أَنَّ مَفْهُومَ أَحَدِهِمَا ثَابِتٌ لِمَفْهُومِ الْأُخْرَى﴾، یہ ملانا ہے مولانا کلمے کا یا قائم مقام کلمے کے، یا تو کلمے کو ملائیں گے دوسرے کلمے سے یا قائم مقام کلمے کو ملائیں گے دوسرے سے۔ قائم مقام کلمہ کیا؟ پورا مسند یا مسند الیہ بھئی، کبھی مسند، مسند الیہ مفرد ہوتے ہیں: زَيْدٌ قَائِمٌ، دونوں مفرد ہیں۔ اور کبھی ایک مفرد نہیں ہوتا مرکب ہوتا ہے: زَيْدٌ قَائِمٌ أَبُوهُ فِي الْمَسْجِدِ، تو قَائِمٌ أَبُوهُ فِي الْمَسْجِدِ یہ سارا مل کر اس کو آپ ملا رہے ہیں کس سے؟ زَيْدٌ سے، تو یہ کلمہ ہے یا قائم مقامِ کلمہ ہے؟ قائم مقامِ کلمہ ہے۔ یہ معنی ہے ملانا کلمے کو یا قائم مقامِ کلمے کو دوسرے کے ساتھ اس حیثیت سے کہ فائدہ دے مخاطب کو، کس چیز کا فائدہ؟ کہ ان دونوں میں سے ایک کا مفہوم ثابت ہے دوسرے کلمے کے لیے۔ یعنی زید کے لیے کیا ثابت ہے مولانا؟ قیام ثابت ہے، زَيْدٌ قَائِمٌ میں زید کے لیے کیا ثابت ہے؟ قیام۔ یہ معنی ہے دو کلموں کو ملانا اس حیثیت سے کہ پتہ چلے ایک کا مفہوم ثابت ہے دوسرے کے لیے، ﴿أَوْ مَنْفِيٌّ عَنْهُ﴾ یا اس سے کیا ہے؟ منفی ہے، جیسے آپ کہتے ہیں: لَيْسَ زَيْدٌ قَائِمًا، زید کھڑا نہیں ہے۔ تو کیا ہوا قَائِمٌ کا زید کے لیے اثبات ہوا یا نفی ہوئی؟ نفی ہوئی، یہ معنی ہے ﴿أَوْ مَنْفِيٌّ عَنْهُ﴾ کا کہ یا اس سے منفی ہے۔ ﴿وَإِنَّمَا قَدَّمَ بَحْثَ الْخَبَرِ﴾، بحثِ خبر کو مقدم کیوں کیا مولانا؟ انشاء کو کیوں نہیں پہلے لے کر آئے؟ جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں: ﴿لِعِظَمِ شَأْنِهِ﴾، خبر کی عظمتِ شان کی وجہ سے، یہ بڑی عظیم الشان ہے مولانا، اتنی عظیم ہے کہ تمام عقائد کا تعلق اس سے ہے: اَللّٰهُ وَاحِدٌ، اللہ ایک ہے مولانا، قیامت آئے گی، محمد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللہ کے آخری رسول ہیں، فرشتے ہیں، آسمان ہیں، جنت ہے، دوزخ ہے، یہ سارے کیا ہیں؟ خبر ہیں، یہ سارے کیا ہیں؟ خبر ہیں۔ ﴿وَكَثْرَةِ مَبَاحِثِهِ﴾ اور خبر کے مباحث بھی کثیر ہیں مولانا، اس لیے اس کو مقدم کیا۔ ﴿ثُمَّ قَدَّمَ أَحْوَالَ الْإِسْنَادِ﴾، یہ ایک اور اشکال کا جواب ہے۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ آپ نے کس کو مقدم کیا؟ اسناد کو۔ کلام کے تین ارکان ہیں مولانا: ایک مسند الیہ، ایک مسند اور ایک اسناد۔ پہلے مسند اور مسند الیہ ہوں گے تو اسناد آئے گا بھئی، یہ ہو سکتا ہے ان دونوں میں سے کوئی نہ ہو اور اسناد آ جائے؟ یہ ہوں گے تو اسناد، تو یہ دونوں مقدم ہیں، لہٰذا آپ کو بھی پہلے ان دونوں کو ذکر کرنا چاہیے تھا اور اس کے بعد کس کو؟ اسناد کو، آپ نے اسناد کو پہلے کیوں ذکر کیا؟ جواب دیں گے مولانا کہ مسند اور مسند الیہ جو آپ نے کہا وہ دو کیا ہیں؟ کلمے ہیں، تو ان کا مقدم ہونا جو ہے نا وہ ذات کے اعتبار سے ہے اور ہم نے ان کی ذات سے بحث نہیں ہماری، بلکہ ہماری ان کی بحث ہے مسند الیہ ہونے کی حیثیت سے یا مسند۔ بھئی زَيْدٌ آپ کے پاس پہلے سے موجود، قَائِمٌ آپ کے پاس پہلے سے موجود، لیکن ہماری بحث ذاتِ زَيْدٌ یا ذاتِ قَائِمٌ سے نہیں ہے، بلکہ ہماری بحث زَيْدٌ سے اس حال میں ہے کہ جب یہ کیا ہو؟ مسند الیہ ہو، اور قَائِمٌ سے کس حالت سے ہے؟ جب یہ کیا ہو؟ مسند ہو، اور زَيْدٌ مسند الیہ اس وقت بنے گا جب دونوں میں اسناد پائی جائے اور قَائِمٌ مسند اس وقت بنے گا جب دونوں میں اسناد پائی جائے۔ تو پہلے دونوں میں اسناد آئے گی تو پھر زَيْدٌ کیا کہلائے گا؟ مسند الیہ، زَيْدٌ ویسے مسند الیہ کہلائے گا؟ نہیں۔ جب اسناد آ جائے گی اب زَيْدٌ کیا کہلائے گا؟ مسند الیہ، اور قَائِمٌ کیا کہلائے گا؟ مسند۔ تو چونکہ مسند الیہ ہونا یہ وصف بعد کس کے بعد آتا ہے؟ اسناد کے بعد، تو اسناد مقدم ہوئی، اسناد کیا ہوئی؟ مقدم ہوئی۔ یہ اسی طرح ہے مولانا جیسے مثلاً اِسرار ہے اور ایک طرف ہے مثلاً فاطمہ ہے، ان کی ذات پہلے سے ہے۔ اب جب ان دونوں کے درمیان عقد آئے گا تو پھر یہ کیا کہلائیں گے؟ میاں بیوی۔ تو عقد سے پہلے میاں بیوی کہلا سکتے ہیں؟ نہیں، تو آپ کو کہیں میاں پر مضمون لکھ کر آئیں آپ اِسرار صاحب پر مضمون لکھ کے لے جائیں، بھئی یہ ہو سکتا ہے؟ نہیں بھئی یہ نہیں، جب تک عقد نہیں آئے گا میاں بیوی کے درمیان اس وقت تک یہ میاں ہی نہیں کہلائے گا، جب میاں ہی نہیں کہلائے گا تو اس پہ بحث ہی نہیں۔ یا اسی طرح آپ کو کسی نے کہا بھئی باپ پر مضمون لکھ کر لاؤ، آپ نے اِسرار صاحب پر مضمون لکھ دیا۔ بھئی ماں اور باپ ذات کے اعتبار سے مقدم ہیں لیکن وصف کے اعتبار سے بیٹے سے مؤخر ہیں، بیٹا آئے گا تو دونوں ماں باپ کہلائیں گے، بیٹا نہیں اولاد نہیں تو ماں باپ بھی نہیں۔ تو ذات ان کی مقدم لیکن وصف ان کا مؤخر۔ ﴿ثُمَّ قَدَّمَ أَحْوَالَ الْإِسْنَادِ عَلَى أَحْوَالِ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ وَالْمُسْنَدِ مَعَ تَأَخُّرِ النِّسْبَةِ عَنِ الطَّرَفَيْنِ﴾، پھر مقدم کیا اسناد کے احوال کو مسند الیہ اور مسند کے احوال پر باوجود نسبت کے مؤخر ہونے کے طرفین سے، یعنی طرفین مقدم ہیں پھر نسبت ہے۔ کیوں کیا ایسا؟ کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ الْبَحْثَ هُنَا إِنَّمَا هُوَ عَنْ أَحْوَالِ اللَّفْظِ الْمَوْصُوفِ بِكَوْنِهِ مُسْنَدًا إِلَيْهِ أَوْ مُسْنَدًا﴾ اس لیے کہ بحث یہاں پر لفظ کے احوال سے ہے وہ لفظ جو موصوف ہے مسند الیہ ہونے کے ساتھ یا مسند ہونے کے ساتھ، ﴿وَهٰذَا الْوَصْفُ إِنَّمَا يَتَحَقَّقُ بَعْدَ تَحَقُّقِ الْإِسْنَادِ﴾ اور یہ وصف یعنی مسند ہونا یا مسند الیہ ہونا یہ پایا جائے گا جب اسناد پائی جائے، ﴿وَالْمُتَقَدِّمُ عَلَى النِّسْبَةِ إِنَّمَا هُوَ ذَاتُ الطَّرَفَيْنِ وَلَا بَحْثَ لَنَا عَنْهَا﴾ اور وہ جو مقدم تھا نسبت پر وہ تو صرف ذاتِ طرفین تھی، صرف زَيْدٌ اور صرف قَائِمٌ تھا اور ہماری بحث ان کی ذات سے نہیں بلکہ موصوف ہونے کے اعتبار سے ہے۔ ﴿لَا شَكَّ أَنَّ قَصْدَ الْمُخْبِرِ﴾، کوئی شک نہیں کہ مخبر کا ارادہ ﴿أَيْ مَنْ يَكُونُ بِصَدَدِ الْإِخْبَارِ وَالْإِعْلَامِ﴾، صَدَد کا معنی ہے درپے ہونا، وہ جو کہ درپے ہو مولانا کس کے؟ اخبار خبر دینے کے اور اعلام اطلاع دینے کے، جو اطلاع دینے اور خبر دینے کے درپے ہو وہ مخبر ہے، وہ کیا ہے؟ مخبر ہے۔ علامہ تفتازانی نے مخبر کا معنی کیا، کہنا یہ چاہتے ہیں کہ جو شخص بھی آپ کے سامنے کلامِ خبری پیش کرے وہ مراد نہیں ہے مخبر سے، بلکہ وہ مراد ہے جو کیا کرتا ہے؟ خبر یا اطلاع دینا چاہتا ہے، اس لیے کہ ہر کلامِ خبری کہنے والا مخبر نہیں، خبر دینا اس کا مقصد نہیں۔ کبھی کلامِ خبری ذکر ہوتا ہے اور اس کے ذریعے خبر دینا مقصد نہیں ہوتا۔ جیسے مولانا مثال دیتے ہیں، بڑی پیاری مثال ذکر کی مولانا، جیسے امرأۃِ عمران نے فرمایا: ﴿رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنْثَى﴾، کہا تھا کہ اے اللہ مجھے بیٹا دے دے تو میں اس کو بیت المقدس کی خدمت کے لیے کیا کروں گی؟ وقف کر دوں گی، وہ اس کی خدمت کرے گا۔ لیکن جب پیدائش ہوئی دیکھا تو بیٹی ہے بیٹا نہیں، تو انہوں نے کیا کہا: ﴿رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنْثَى﴾، اے اللہ میں نے تو کس کو جنم دیا ہے؟ بیٹی کو جنم دیا ہے۔ اب دیکھو مولانا، یہاں خبر دینے کا ارادہ ہے؟ کس سے کلام ہو رہا ہے؟ اللہ سے، اللہ کو پہلے سے علم ہے۔ اچھا فائدۃ الخبر معلوم ہونے، لازمِ فائدۃ الخبر بتلانا مقصود ہو گا؟ لازمِ فائدۃ الخبر کیا تھا؟ اپنے علم ہونے کا بتلانا، اور اللہ کو دونوں باتیں پہلے ہی سے معلوم ہیں، تو یہاں پر مولانا دیکھا کلامِ خبری تو آیا لیکن نہ مقصد فائدۃ الخبر ہے اور نہ لازمِ فائدۃ الخبر، بلکہ صرف غم کا اظہار ہے، تو کلامِ خبری کبھی کس لیے لایا جاتا ہے؟ اظہارِ غم کے لیے لایا جاتا ہے۔ یا کبھی مولانا صرف خوشی کے لیے لایا جاتا ہے، مثلاً میرے جانے کے بعد آپ کا ایک ساتھی آپ کو کہتا ہے: بھئی چار ہفتے کی چھٹیاں ہو رہی ہیں، تو مولانا دیکھئے آپ کو فائدۃ الخبر بھی حاصل ہے اور لازمِ فائدۃ الخبر بھی، بتلانا کیا ہے؟ وہ خوشی کا بتلانا ہے جو چھپائے نہیں چھپ رہی کسی طرح۔ ﴿وَإِلَّا فَالْجُمْلَةُ الْخَبَرِيَّةُ كَثِيرًا مَا تُورَدُ لِأَغْرَاضٍ أُخَرَ غَيْرِ إِفَادَةِ الْحُكْمِ أَوْ لَازِمِهِ﴾، ورنہ تو جملہ خبریہ بسا اوقات لایا جاتا ہے دوسری غرضوں کے لیے بھی، افادۂ حکم کے علاوہ یا افادۂ لازمِ حکم کے علاوہ، ﴿مِثْلِ التَّحَزُّنِ وَالتَّحَسُّرِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى حِكَايَةً عَنِ امْرَأَةِ عِمْرَانَ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنْثَى وَمَا أَشْبَهَ ذٰلِكَ﴾ مثال کے طور پر غم اور حسرت بتلانے کے لیے اللہ کے اس قول میں جس میں حکایت ہے امرأۃِ عمران سے: ﴿رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنْثَى﴾ اور جو اس کے مشابہ ہیں، یعنی اس قسم کا اور بھی کلام لائے جاتے ہیں تو مختلف غرضوں کے لیے لائے جاتے ہیں۔ ﴿بِخَبَرِهِ مُتَعَلِّقٌ بِقَصْدٍ﴾، یہ ترکیب بتلا رہے ہیں کہ ﴿بِخَبَرِهِ﴾ متعلق کس سے ہے؟ قصد سے، یعنی قصد کرتا ہے اپنی خبر کے ساتھ، ﴿إِفَادَةُ الْمُخَاطَبِ خَبَرُ أَنَّ﴾ یہ ترکیب بتلائی مولانا، یہ أَنَّ کی خبر ہے مرفوع ہو گی۔ ﴿إِمَّا الْحُكْمَ مَفْعُولُ الْإِفَادَةِ﴾ یہ مفعول ہے افادہ کا، تو افادہ دینا۔ افادہ دینا مخاطب کو، کس چیز کا افادہ دینا؟ فائدہ دینا حکم کا۔ یا تو کیا ارادہ ہوتا ہے؟ مخاطب کو فائدہ دینا ہوتا ہے حکم کا، ﴿أَوْ كَوْنَهُ﴾ أَيْ كَوْنَ الْمُخْبِرِ ﴿عَالِمًا بِهِ﴾ یا فائدہ دینا ہوتا ہے کس چیز کا کہ مخبر بھی عالم ہے أَيْ بِالْحُكْمِ، کس پر عالم ہے؟ حکم پر۔ ﴿وَالْمُرَادُ بِالْحُكْمِ هَاهُنَا وُقُوعُ النِّسْبَةِ أَوْ لَا وُقُوعُهَا﴾ اور حکم سے مراد یہاں وقوعِ نسبت ہے یا لا وقوعِ نسبت ہے، حکم کے کئی معانی آتے ہیں بتلایا یہاں وقوعِ نسبت یا لا وقوعِ نسبت کہ یہ مولانا نسبت زَيْدٌ قَائِمٌ یہ نسبت کیا ہے؟ واقع ہے یا نہیں۔ ﴿وَكَوْنُهُ مَقْصُودًا لِلْمُخْبِرِ بِخَبَرِهِ لَا يَسْتَلْزِمُ تَحَقُّقَهُ فِي الْوَاقِعِ﴾، اور یہ حکم جو ہے مقصود بھی ہے کس کے لیے؟ مخبر کے لیے، کس کے ساتھ؟ اس کی خبر کے ساتھ، مخبر اپنی خبر کے ساتھ اس کا ارادہ بھی کرتا ہے، اس کے ساتھ یہ لازم نہیں ہے کہ یہ حکم واقع میں بھی پایا جائے۔ مثلاً بھئی جی، میں نے آپ کو کیا کہا: چار ہفتے کی چھٹیاں ہو رہی ہیں، میں نے کیا کہا؟ تو وقوعِ نسبت میرے مقصود ہے کہ چار ہفتے کی چھٹیاں کیا ہیں؟ ہو رہی ہیں، تو میرا ارادہ کیا تھا کہ یہ خبر ثابت ہے یعنی مبتدا خبر کی صورت ہو تو خبر ثابت ہے کس کے لیے؟ مبتدا کے لیے۔ سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں: ﴿لَا يَسْتَلْزِمُ تَحَقُّقَهُ فِي الْوَاقِعِ﴾ اس کے ساتھ لازم نہیں ہے کہ اس کا تحقق واقع میں بھی ہو، واقع میں بھی چار ہفتے کی چھٹیاں ہو رہی ہوں یہ لازم نہیں ہے، کیا ہے؟ لازم نہیں ہے۔ تو اس حکم کا مقصود ہونے سے اس کا واقع میں ہونا لازم نہیں ہے، ﴿لَا يَسْتَلْزِمُ تَحَقُّقَهُ فِي الْوَاقِعِ﴾ تو یہ لازم نہیں ہے کس کے ساتھ؟ اس حکم کے تحقق فی الواقع کے ساتھ۔ ﴿وَهٰذَا مُرَادُ مَنْ قَالَ إِنَّ الْخَبَرَ لَا يَدُلُّ عَلَى ثُبُوتِ الْمَعْنَى وَانْتِفَائِهِ﴾ اور یہی مراد ہے اس شخص کی جس نے یہ کہا قدماء کہ خبر دلالت نہیں کرتی ثبوتِ معنی پر اور نہ انتفائے معنی پر۔ بھئی کیا معنی خبر دلالت نہیں کرتی ثبوتِ معنی اور انتفائے معنی پر؟ آپ نے کہا: زَيْدٌ قَائِمٌ، یہ دلالت کر رہا ہے کہ زید کیا ہے؟ کھڑا ہے، آپ نے کہا: مَا زَيْدٌ بِقَائِمٍ، زید کھڑا نہیں ہے، تو دیکھو اس نے اس بات پر دلالت کی اور دوسرے نے اس پر دلالت کی، پھر اس کلام کا کیا معنی کہ خبر دلالت نہیں کرتی ثبوتِ معنی پر اور نہ انتفائے معنی پر؟ کہتے ہیں مراد یہ ہے کہ واقع میں مولانا، کس میں؟ واقع میں۔ آپ نے کہا: زَيْدٌ قَائِمٌ، تو واقع میں ضروری نہیں کہ زید کیا ہو؟ کھڑا ہو، یا واقع میں ضروری نہیں کہ زید نہ کھڑا ہو، یہ معنی ہے سمجھ میں آیا؟ یعنی واقع میں تحقق اس کے ساتھ لازم نہیں۔ یہ مراد ہے جس شخص نے جو یہ کہا گیا ہے کہ ﴿إِنَّ الْخَبَرَ لَا يَدُلُّ عَلَى ثُبُوتِ الْمَعْنَى﴾ کہ خبر دلالت نہیں کرتی ثبوتِ معنی پر اور نہ انتفائے معنی پر، یعنی کہ اس کے ساتھ مستلزم نہیں ہے کیا؟ واقع میں تحقق۔ ﴿وَإِلَّا فَلَا يَخْفَى أَنَّ مَدْلُولَ قَوْلِنَا زَيْدٌ قَائِمٌ وَمَفْهُومَهُ أَنَّ الْقِيَامَ ثَابِتٌ لِزَيْدٍ﴾ اور اگر ایسا نہ ہو تو پس مخفی نہیں ہے کہ ہمارے اس قول زَيْدٌ قَائِمٌ کا مدلول اور اس کا مفہوم کیا ہے کہ قیام کیا ہے؟ ثابت ہے زید کے لیے، یہ اس کا مدلول ہے یہ اس پر دلالت کر رہا ہے لیکن واقع میں اس کا تحقق ضروری نہیں۔ ﴿وَعَدَمُ ثُبُوتِهِ لَهُ احْتِمَالٌ عَقْلِيٌّ لَا مَدْلُولُ اللَّفْظِ وَلَا مَفْهُومُهُ﴾ اور قیام کا عدمِ ثبوت زید کے لیے یعنی قیام اگر زید کے لیے ثابت نہیں کہتے ہیں یہ تو ایک احتمالِ عقلی ہے کلام کا مدلول نہیں نہ اس کا مفہوم۔ بھئی میں نے کہا: زَيْدٌ قَائِمٌ، یہ کس معنی پر دلالت کر رہا ہے کہ قیام زید کے لیے ثابت ہے، لیکن ایک بات عقل میں آئی کہ ہو سکتا ہے زید کھڑا نہ ہو، لیکن کہتے ہیں یہ جو آپ کی عقل میں یہ بات آئی کہ زید کھڑا نہ ہو یہ کلام اس پر دلالت نہیں کر رہا یہ ایک محض عقلی احتمال ہے، کیا ہے؟ عقلی احتمال ہے، زَيْدٌ قَائِمٌ کے لفظ اس پر دلالت نہیں کر رہے اور نہ یہ اس کا مفہوم ہے۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ ﴿فَلْيُفْهَمْ﴾ اچھی طرح کہتے ہیں اس کو سمجھیں۔ ﴿وَيُسَمَّى الْأَوَّلُ أَيِ الْحُكْمُ الَّذِي يُقْصَدُ بِالْخَبَرِ إِفَادَتُهُ فَائِدَةَ الْخَبَرِ﴾ اور اول یعنی وہ حکم جس کے افادے کا قصد کیا جائے خبر کے ساتھ اس کو کیا کہتے ہیں؟ فائدۃ الخبر۔ ﴿وَالثَّانِي أَيْ كَوْنُ الْمُخْبِرِ عَالِمًا بِهِ لَازِمَهَا أَيْ لَازِمَ فَائِدَةِ الْخَبَرِ﴾ اور ثانی یعنی مخبر کا اس پر عالم ہونا اس کو کیا کہتے ہیں؟ لازمِ فائدۃ الخبر۔ ﴿لِأَنَّهُ كُلَّمَا أَفَادَ الْحُكْمَ أَفَادَ أَنَّهُ عَالِمٌ بِهِ﴾ اس لیے کہ متکلم نے جب بھی حکم کا فائدہ دے گا تو یہ فائدہ بھی دے گا کہ وہ اس پر کیا ہے؟ عالم ہے۔ ﴿وَلَيْسَ كُلَّمَا أَفَادَ أَنَّهُ عَالِمٌ بِالْحُكْمِ أَفَادَ نَفْسَ الْحُكْمِ لِجَوَازِ أَنْ يَكُونَ الْحُكْمُ مَعْلُومًا قَبْلَ الْإِخْبَارِ﴾ لیکن یہ ضروری نہیں کہ جب بھی اپنے عالم ہونے کی خبر دے تو نفسِ حکم کا بھی فائدہ دے، ہو سکتا ہے آپ کو پہلے سے وہ بات معلوم ہو۔ ﴿كَمَا فِي قَوْلِنَا لِمَنْ حَفِظَ التَّوْرَاةَ قَدْ حَفِظْتَ التَّوْرَاةَ﴾ جیسے ہمارے اس قول کے اندر اس شخص کے لیے جس نے تورات کو حفظ کیا تھا آپ نے کیا کہا اس سے: ﴿قَدْ حَفِظْتَ التَّوْرَاةَ﴾، تو نے کیا کی؟ تورات حفظ کی۔ تو کیا یہ اس کو فائدۃ الخبر ہو رہا ہے؟ نہیں، یہ تو اس کو پہلے سے ہی معلوم ہے، ہاں لازمِ فائدۃ الخبر اس کو حاصل ہوا، اس کو یہ پتہ چل گیا کہ اس کے حفظِ تورات کا پتہ متکلم کو بھی ہے۔ ﴿وَتَسْمِيَةُ مِثْلِ هٰذَا الْحُكْمِ فَائِدَةَ الْخَبَرِ بِنَاءً عَلَى أَنَّهُ مِنْ شَأْنِهِ أَنْ يُقْصَدَ بِالْخَبَرِ وَيُسْتَفَادَ مِنْهُ﴾، یہ ایک اشکال کا جواب دے رہے ہیں مولانا۔ اشکال یہ ہوتا ہے: بھئی میں نے آپ سے کیا کہا: ﴿قَدْ حَفِظْتَ الْقُرْآنَ﴾، آپ نے قرآن کو کیا کر لیا؟ یاد کر لیا، تو کیا یہاں آپ کو فائدۃ الخبر حاصل ہوا؟ لہٰذا اب اس کو فائدۃ الخبر تو نہیں کہنا چاہیے، فائدۃ الخبر وہ ہے جو خبر سے جس کا فائدہ ہو اور یہاں سے حفظِ قرآن کی خبر کا آپ کو فائدہ ہوا؟ وہ تو آپ کو پہلے سے ہی معلوم تھا، تو کم از کم وہ جگہ جہاں پر وہ فائدہ حاصل نہیں ہو رہا وہاں تو اس کو فائدۃ الخبر نہیں کہنا چاہیے؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، فائدۃ الخبر بالفعل ہونا ضروری نہیں کہ جہاں فائدہ ہو تو اس کو فائدۃ الخبر کہیں گے جہاں فائدہ نہ ہو تو اس کو فائدۃ الخبر نہیں کہیں گے، بلکہ اس میں صلاحیت ہونی چاہیے کہ اس کے ذریعے خبر دی جا سکے۔ وہ اس قابل ہو وہ بات کہ دوسرے کو بتلائی جا سکے، بس اس میں صلاحیت ہے تو اس کو ہم کیا کہیں گے؟ فائدۃ الخبر، یعنی بالقوہ وہ فائدۃ الخبر ہو بالفعل فائدۃ الخبر ہونا ضروری نہیں۔ ﴿وَتَسْمِيَةُ مِثْلِ هٰذَا الْحُكْمِ فَائِدَةَ الْخَبَرِ بِنَاءً عَلَى أَنَّهُ مِنْ شَأْنِهِ أَنْ يُقْصَدَ بِالْخَبَرِ وَيُسْتَفَادَ مِنْهُ﴾ اور نام رکھنا اس قسم کے حکم کا فائدۃ الخبر یہ بنا بر اس کے ہے کہ اس کی شان یہ ہونی چاہیے، اس کا حال یہ ہونا چاہیے مولانا کہ ارادہ کیا جائے اس کا خبر کے ساتھ، اس کے ذریعے خبر دی جا سکے اور اس سے حاصل ہو سکے۔ ﴿وَالْمُرَادُ بِكَوْنِهِ عَالِمًا بِالْحُكْمِ حُصُولُ صُورَةِ الْحُكْمِ فِي ذِهْنِهِ﴾، اچھا، یہ ایک اور اشکال کا جواب۔ اشکال یہ ہوتا ہے: آپ نے کیا کہا کہ جب بھی فائدۃ الخبر آئے گا اس کے ساتھ کیا لازم ہے؟ لازمِ فائدۃ الخبر۔ جب بھی آپ کو خبر کا فائدہ ملے گا ساتھ ہی متکلم کے عالم ہونے کا فائدہ بھی ملے گا، کہتے ہیں ہم تسلیم نہیں کرتے۔ بھئی ایک شخص کو شک ہے، مجھے شک ہے پتہ نہیں چار ہفتے کی چھٹیاں ہو رہی ہیں یا نہیں بھئی، مجھے شک ہے۔ لیکن میں نے آپ کے سامنے کیا کہہ دیا مثلاً: چار ہفتے کی چھٹیاں ہو رہی ہیں۔ اب مجھے شک ہے میں متردد ہوں، تو لازمِ فائدۃ الخبر بھی حاصل نہیں ہو رہا کیونکہ متکلم کو خود شک ہے، جب شک ہے تو اس کے عالم ہونا بھی نہیں پایا گیا۔ کہتے ہیں مولانا حکم کا اصل میں ہم نے معنی یقین کے نہیں کیے بلکہ حکم کا معنی ہے کسی چیز کا صورت کا ذہن میں آنا، اور متکلم جب بھی کوئی کلام کرتا ہے اس کی ایک صورت، تصور وہ کر لیتا ہے، ذہن میں اس کی صورت حاصل ہو جاتی ہے، یہ ضروری نہیں کہ واقع میں بھی ایسا ہو، واقع میں بھی یقین ہو۔ مثلاً واقع میں ہو سکتا ہے تین دن کی چھٹی ہو رہی ہو، لیکن جب میں کہہ رہا ہوں کہ چار ہفتے کی چھٹی ہو رہی ہے تو میں نے چار ہفتے کی چھٹی کا تصور پہلے ذہن میں کیا پھر اس پر کیا کیا آپ کے سامنے جملہ ذکر کیا، تو ہر ایک جو بھی کلام کرتا ہے چاہے اس پر عالم ہو یا عالم نہ ہو، چاہے وہ وہم کر رہا ہو، شک ہو، کوئی بھی صورت آپ بنا لیں یعنی یقین نہ ہو لیکن وہ کیا کرے گا؟ اس کلام کا پہلے ذہن میں تصور کرے گا اس کی صورت لائے گا، لہٰذا اس کو یقین ہونا ضروری نہیں۔ ﴿وَالْمُرَادُ بِكَوْنِهِ عَالِمًا بِالْحُكْمِ حُصُولُ صُورَةِ الْحُكْمِ فِي ذِهْنِهِ﴾ اور مراد اس کے عالم بالحکم ہونے سے کیا مراد ہے؟ حکم کی صورت کا ذہن میں حاصل ہونا ہے۔ ﴿وَهَاهُنَا أَبْحَاثٌ شَرِيفَةٌ سَمَحْنَا بِهَا فِي الشَّرْحِ﴾، علامہ تفتازانی کہتے ہیں بھئی آپ تحقیق کے متوالے ہیں اور تحقیقات آپ کو بڑی پسند آتی ہیں تو اگر مزید شوق ہے آپ کو تو کہتے ہیں یہاں بڑی اچھی اچھی بحثیں ہیں: ﴿سَمَحْنَا بِهَا فِي الشَّرْحِ﴾ سخاوت کی ہے ان کی ہم نے اپنی شرح میں، یعنی خوب سخاوت کے ساتھ ان کو ذکر کیا ہے، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ شرحِ مطول کی طرف رجوع کریں بھئی۔ ﴿وَقَدْ يُنَزَّلُ الْمُخَاطَبُ الْعَالِمُ بِهِمَا﴾ اور کبھی کبھار اتارا جاتا ہے اس مخاطب کو جو عالم ہوتا ہے دونوں سے، کس چیز سے عالم ہوتا ہے بھئی؟ فائدۃ الخبر بھی اس کو حاصل ہوتا ہے لازمِ فائدۃ الخبر بھی ہوتا ہے، اس کو اتارا جاتا ہے ﴿مَنْزِلَةَ الْجَاهِلِ فَيُلْقَى إِلَيْهِ الْخَبَرُ﴾ جاہل کے درجے میں پس پیش کی جاتی ہے اس کے سامنے خبر۔ اگرچہ اس کو دونوں فائدے حاصل ہیں پھر بھی خبر اس کے سامنے پیش کی جاتی ہے، ﴿وَإِنْ كَانَ عَالِمًا بِالْفَائِدَتَيْنِ لِعَدَمِ جَرْيِهِ عَلَى مُوجَبِ الْعِلْمِ﴾ اگرچہ وہ عالم ہوتا ہے دونوں فائدوں سے، کیوں؟ بوجہ نہ چلنے کے علم کے مقتضا پر، موجب کا کیا معنی؟ مقتضا۔ بوجہ نہ چلنے کے اس کے علم کے مقتضا پر، ﴿فَإِنَّ مَنْ لَا يَجْرِي عَلَى مُقْتَضَى عِلْمِهِ هُوَ وَالْجَاهِلُ سَوَاءٌ﴾ اس لیے کہ وہ شخص جو نہیں چلتا علم کے مقتضا پر وہ اور جاہل برابر ہیں۔ اللہ ہمیں اپنے علم کے مقتضا پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ ﴿كَمَا تَقُولُ لِلْعَالِمِ التَّارِكِ لِلصَّلَاةِ الصَّلَاةُ وَاجِبَةٌ﴾ جیسے کہ آپ کہیں ایسے عالم کو جو نماز کو چھوڑنے والا ہے، عالم سے عالمِ اصطلاحی نہیں مراد مولانا، عالم سے مراد ہے جاننے والا۔ کوئی بھی شخص مسلمان جو جاننے والا ہے نماز کو چھوڑنے والا اس سے آپ کہتے ہیں: ﴿الصَّلَاةُ وَاجِبَةٌ﴾ نماز واجب ہے۔ ﴿وَتَنْزِيلُ الْعَالِمِ بِالشَّيْءِ مَنْزِلَةَ الْجَاهِلِ لِاعْتِبَارَاتٍ خِطَابِيَّةٍ كَثِيرٌ فِي الْكَلَامِ﴾، اور اتارنا ایک چیز کو جاننے والے کو جاہل کے درجے میں اتارنا اعتباراتِ خطابیہ کی وجہ سے کثیر ہے کلام کے اندر۔ کلامِ خطابی وہ کلام کہلاتا ہے جو مظنون اور مقبول باتوں پر مشتمل ہو، یعنی جو ظن کا فائدہ دے، کس چیز کا فائدہ دے؟ ظن کا فائدہ دے بھئی۔ یقین کا فائدہ نہیں، کس چیز کا فائدہ دے؟ ظن کا فائدہ دے، مقبول بات، یعنی جس کو عوام قبول کر لیتے ہیں، مسلم ہوں یا مسلم نہ ہوں۔ جیسے مثلاً مشرف کہتا ہے کہ میں اللہ کا مقبول بندہ ہوں کیونکہ میں بیت اللہ کے اندر داخل ہو چکا ہوں، میں کیا ہوں بیت اللہ میں داخل ہوا ہوں اس لیے میں اللہ کا مقبول بندہ ہوں، عوام اس بات کو قبول کر لیں گے تو یہ مقبول کلام ہوا، لیکن کیا بیت اللہ میں داخل ہونے سے اس کا عند اللہ مقبول ہونا لازم آتا ہے؟ نہیں بھئی، ادھر تو ابو جہل بھی کئی مرتبہ گھسا ہو گا مولانا، وہ بدبخت بھی اس نے بلکہ ساری عمر وہاں گزاری بھئی، تو بیت اللہ میں داخل ہونا یا وہاں رہنا کوئی عند اللہ مقبول ہونے کی علامت نہیں ہے۔ تو بہت سے اعتباراتِ خطابیہ کی وجہ سے کیا کر لیا جاتا ہے مولانا؟ عالم بالشئ کو کس کے درجے میں اتار لیا جاتا ہے؟ جاہل کے درجے میں۔ ﴿مِنْهُ قَوْلُهُ تَعَالَى﴾ اسی سے اللہ کا یہ قول ہے: ﴿وَلَقَدْ عَلِمُوا﴾ اور تحقیق جانتے ہیں، عَلِمُوا میں واؤ ضمیر جمع کی یہ راجع ہے یہود کو مولانا، جانتے ہیں یہود ﴿لَمَنِ اشْتَرَاهُ﴾ کہ البتہ جس نے خریدا، ہا ضمیر راجع ہے مولانا کتابِ سحر کو، جادو کی کتاب، کس کے بدلے میں خریدا؟ دینی کتاب کے بدلے میں، یعنی تورات کے بدلے میں۔ تحقیق جانتے ہیں یہود کہ البتہ جس نے جادو کی کتاب کو خریدا تورات کے بدلے میں، یہ تو لفظی ترجمہ ہوا، مراد ہے اختیار کیا، دین کے بدلے میں کس کو اختیار کر لیا؟ جادو کو۔ ﴿مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ﴾، یہ مَا نافیہ ہے، نہیں ہے اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ بھئی، آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔ ﴿وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنْفُسَهُمْ﴾ اور بڑی ہی بری ہے وہ چیز کہ بیچا اس کے بدلے میں، با کس پر داخل ہوتی ہے مولانا؟ ثمن پر، جس کے بدلے میں بیچ دیا انہوں نے اپنے نفسوں کو، یعنی اپنے نفسوں کے حصوں کو بیچ دیا، آخرت میں کیا تھا ان کا بڑا حصہ تھا وہ ایک پیغمبر پر ایمان لانے والے اور اللہ کو ماننے والے اور اس کے احکام پر چلنے والے، لیکن جب یہ کام انہوں نے کیا تو آخرت میں جو حصہ تھا اس کو انہوں نے اس کے بدلے میں بیچ دیا۔ ﴿لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ﴾، کاش کہ وہ جانتے! کاش کہ وہ جانتے! تو دیکھو، آیت کے شروع میں آیا ﴿وَلَقَدْ عَلِمُوا﴾ تحقیق وہ جانتے ہیں، اور آخر میں آیا ﴿لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ﴾ کاش کہ وہ جانتے! شروع میں بتلا دیا وہ جاننے والے ہیں لیکن آخر میں ان کو کس کے مرتبے میں اتار دیا؟ جاہل کے مرتبے میں اتار دیا، پہلے کہا وہ عالم ہیں پھر کیا کہا کہ وہ کیا ہیں؟ جاہل ہیں، کاش وہ جانتے، معلوم ہوا ان کو علم نہیں۔ کیوں ان کو جاہل کے مرتبے میں کیوں اتارا؟ اس لیے کہ وہ اپنے علم کے مقتضا پر عمل نہیں کیا انہوں نے، تو ان کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ جاہل کے۔ جب ان کو پتہ ہے کہ اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے جو ایسا کرے گا تو ہونا یہ چاہیے تھا کہ وہ دین کو اختیار کرتے، جادو وغیرہ سے دور رہتے، لیکن انہوں نے دین کے بجائے کس کو اختیار کیا؟ جادو کو اختیار کیا، تو لہٰذا ان کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ جاہل کے، انہوں نے اپنے علم کے مقتضا پر عمل نہیں کیا۔ بلکہ کہتے ہیں اس سے بھی زیادہ، یہاں تو صرف کیا ہوا عالم بالشئ کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ جاہل کے درجے میں، کہتے ہیں بلکہ بسا اوقات ایک موجود چیز کو معدوم کے درجے میں اتار لیا جاتا ہے مولانا، دیکھئے: ﴿بَلْ تَنْزِيلُ وُجُودِ الشَّيْءِ مَنْزِلَةَ عَدَمِهِ كَثِيرٌ﴾ بلکہ وجودِ شے کو اتارنا عدم کے درجے میں یہ بھی بہت زیادہ ہے، ﴿مِنْهُ قَوْلُهُ تَعَالَى وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ﴾ اسی سے اللہ کا یہ قول ہے: اور آپ نے نہیں پھینکا اے پیغمبر جب آپ نے پھینکا۔ غزوہ بدر میں مولانا حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے ایک مٹھی ریت وغیرہ کی اٹھائی اور کفار کی طرف یہ پڑھتے ہوئے، یہ کہتے ہوئے پھینک دی: شَاهَتِ الْوُجُوهُ، چہرے بگڑ جائیں، وہ ایک مٹھی ریت پورے کفار کے لشکر کے ہر ہر کافر کی آنکھوں میں پہنچ گئی بھئی، یہ حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کا معجزہ تھا۔ تو حضور نے مٹی پھینکی یا نہیں پھینکی مولانا ریت؟ پھینکی، لیکن اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَمَا رَمَيْتَ﴾ آپ نے نہیں پھینکی، تو وجودِ شے کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ عدمِ شے کے درجے میں اتار لیا۔ کیوں اتارا وجودِ شے کو عدمِ شے کے درجے میں؟ اس لیے کہ اس ریت کے پھینکنے پر جو نتیجہ مرتب ہوا مولانا وہ بڑا عظیم الشان تھا، کسی انسان کے بس کی بات نہیں تھی کہ ایک مٹھی ریت کی ایسی پھینکے جو مخالف پورے لشکر کے ہر ہر فرد کی آنکھوں میں پہنچ جائے، معلوم ہوا یہ انسان کے بس سے باہر ہے، یہ کام کس کا ہے صرف؟ اللہ کا ہے، تو یہ آپ نے نہیں پھینکا گویا کس نے پھینکا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے۔ ﴿وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ﴾ اور نہیں پھینکا آپ نے جب آپ نے پھینکا اے پیغمبر۔ ﴿فَيَنْبَغِي إِذَا كَانَ قَصْدُ الْمُخْبِرِ بِخَبَرِهِ إِفَادَةَ الْمُخَاطَبِ أَنْ يَقْتَصِرَ مِنَ التَّرْكِيبِ عَلَى قَدْرِ الْحَاجَةِ حَذَرًا عَنِ اللَّغْوِ﴾، پس مناسب یہ ہے کہ جب مخبر کا ارادہ ہو اپنی خبر کے ساتھ مخاطب کو فائدہ دینے کا تو مناسب یہ ہے کہ وہ اکتفاء کرے ترکیب میں سے بقدرِ حاجت لغو سے بچتے ہوئے، زائد کرے گا تو وہ لغو کلام ہو گا تو اس سے بچتے ہوئے اکتفاء کرے بقدرِ ضرورت پر۔ ﴿فَإِنْ كَانَ الْمُخَاطَبُ خَالِيَ الذِّهْنِ مِنَ الْحُكْمِ وَالتَّرَدُّدِ فِيهِ﴾ اگر مخاطب خالی الذہن تھا حکم سے بھی خالی الذہن تھا اور تردد فی الحکم سے بھی خالی الذہن تھا، ﴿أَيْ لَا يَكُونُ عَالِمًا بِوُقُوعِ النِّسْبَةِ أَوْ لَا وُقُوعِهَا﴾ یعنی وہ عالم بھی نہیں تھا وقوعِ نسبت کا اور لا وقوع کا۔ بھئی بتلا رہے ہیں، بعضوں نے اشکال کیا تھا کہ جب مخاطب خالی الذہن ہوا حکم سے، جب حکم اس کے ذہن میں ہی نہیں ہے تو پھر یہ آگے تردد کہنے کی کیا ضرورت تھی؟ آپ نے کیا کہا مصنف نے کہ حکم سے بھی خالی ہو ذہن اور تردد فی الحکم سے بھی، جب حکم ہی نہیں ہے تو تردد فی الحکم کہاں سے آ گیا؟ لہٰذا اس کو ذکر کرنے کی ضرورت نہیں، یہ زائد ہے۔ علامہ تفتازانی بتلا رہے ہیں مولانا کہ نہیں یہ ضروری نہیں، حکم بمعنی ہم کرتے ہیں یہاں یقین کے یعنی تصدیق کے معنی میں، تو جب ایک چیز کا یقین ہو تو معلوم ہوا تردد نہیں، اور جب تردد ہے تو یقین نہیں، تو دونوں آپس میں ضدین ہیں۔ تو جب آپ نے کہا کہ مخاطب کے ذہن میں یقین نہیں تو کیا تردد کی بھی نفی ہو گئی؟ تردد کی نفی نہیں ہوئی، لہٰذا اس لیے اس کو الگ ذکر کیا۔ ﴿أَيْ لَا يَكُونُ عَالِمًا بِوُقُوعِ النِّسْبَةِ أَوْ لَا وُقُوعِهَا﴾ یعنی وہ عالم نہ ہو وقوعِ نسبت کا یا لا وقوعِ نسبت کا، یہ حکم کی تفسیر۔ ﴿وَلَا مُتَرَدِّدًا فِي أَنَّ النِّسْبَةَ هَلْ هِيَ وَاقِعَةٌ أَمْ لَا﴾ اور نہ ہی وہ متردد ہو کہ یہ نسبت واقع بھی ہے یا واقع نہیں، قیام زید کے لیے ثابت ہے یا ثابت نہیں، تردد۔ ﴿وَبِهٰذَا تَبَيَّنَ فَسَادُ مَا قِيلَ إِنَّ الْخُلُوَّ عَنِ الْحُكْمِ يَسْتَلْزِمُ الْخُلُوَّ عَنِ التَّرَدُّدِ فِيهِ فَلَا حَاجَةَ إِلَى ذِكْرِهِ﴾ اور ہماری اس تقریر سے ظاہر ہو گیا اس چیز کا فساد جو کہا گیا ہے کہ حکم سے خالی ہونا مستلزم ہے تردد فی الحکم سے خالی ہونے کو لہٰذا اس تردد کے ذکر کی کوئی حاجت نہیں تھی، ﴿بَلِ التَّحْقِيقُ أَنَّ الْحُكْمَ وَالتَّرَدُّدَ فِيهِ مُتَنَافِيَانِ﴾ بلکہ تحقیق یہ ہے کہ حکم اور تردد فی الحکم آپس میں کیا ہیں؟ متنافی ہیں، جمع ہی نہیں ہوتے۔ چلیے مولانا، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔