”وَعَلَامَتُهُ صِحَّةُ الْإِخْبَارِ عَنْهُ، نَحْوُ: ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، وَالْإِضَافَةُ، نَحْوُ: ”غُلَامُ زَيْدٍ“، وَدُخُولُ لَامِ التَّعْرِيفِ، كَـ”الرَّجُلِ“، وَالْجَرُّ، وَالتَّنْوِينُ، نَحْوُ: ”بِزَيْدٍ“، وَالتَّثْنِيَةُ، وَالْجَمْعُ، وَالنَّعْتُ، وَالتَّصْغِيرُ، وَالنِّدَاءُ، فَإِنَّ كُلَّ هَٰذِهِ خَوَاصُّ الِاسْمِ۔ وَمَعْنَى الْإِخْبَارِ عَنْهُ أَنْ يَكُونَ مَحْكُومًا عَلَيْهِ، لِكَوْنِهِ فَاعِلًا، أَوْ مَفْعُولًا، أَوْ مُبْتَدَأً“۔ گزشتہ سبق کے اندر صاحبِ ہدایت النحو نے آپ کو کلمہ کی تعریف بتلائی، اور بتلایا تھا کہ کلمہ لفظ کا نام ہے بھئی، لفظ کو کیا کہتے ہیں؟ کلمہ۔ ہاں ایک زائد چیز اس میں ہے کہ اس کا کوئی نہ کوئی معنی ہوگا۔ اگر اس کا معنی ہے لفظ کا معنی ہے تو وہ کلمہ کہلائے گا، اگر لفظ کا معنی نہیں تو پھر وہ کلمہ نہیں کہلائے گا۔ اس کے بعد انہوں نے کلمہ کی تین قسمیں آپ کو بتلائی تھیں کہ کلمہ تین قسم پر ہے: اسم ہے، فعل ہے، اور حرف ہے۔ اور وجہِ حصر ذکر کی تھی کہ یہ تین قسمیں کیوں ہیں بھئی کلمہ کی؟ تو بتلایا تھا اس لیے کیونکہ کلمہ کے اندر دو ہی صورتیں ہیں: یا تو وہ اپنے معنی پر خود بخود دلالت کرے گا یا دلالت نہیں کرے گا۔ اگر اپنے معنی پر خود دلالت نہیں کرتا بلکہ اور کلموں کے ساتھ جوڑنے کا محتاج ہے تو وہ حرف ہے۔ اور اگر اپنے معنی پر خود دلالت کرتا ہے تو پھر اس میں دو صورتیں ہیں: اس معنی کے ساتھ کوئی زمانہ ملا ہوگا یا زمانہ نہیں ملا ہوگا۔ اگر زمانہ ملا ہوگا تو وہ فعل ہے، اور اگر زمانہ نہ ملا ہو تو وہ اسم ہے بھئی۔ اور اسی سے آپ کو اسم کی تعریف بھی پتہ چل گئی۔ معلوم ہوا اسم ایسا کلمہ ہے جو اپنے معنی پر خود بخود دلالت کرتا ہے۔ خود بخود دلالت کرنے کا کیا معنی تھا؟ کہ کسی اور کلمے کے ساتھ جوڑنے کا محتاج نہیں۔ جیسے میں نے آپ کو بتلایا بھئی کہ ایک ہے لفظِ ابتداء، ابتداء کا معنی ہے شروع کرنا۔ اور اسی طرح مِنْ بھی آتا ہے، اس کا معنی بھی ہوتا ہے شروع کرنا۔ لیکن ابتداء لفظِ ابتداء میں نے جیسے ہی بولا، آپ کو فوراً اس کا معنی شروع کرنا سمجھ میں آ گیا۔ لیکن مِنْ جب میں نے کہا آپ کو شروع کرنے کا معنی نہیں سمجھ میں آیا۔ ہاں اس کے لیے پھر اور کلمے ساتھ جوڑیں، جس چیز کی ابتداء ہو رہی ہے اس کو ذکر کریں اور جہاں سے ابتداء ہو رہی ہے اس کو ذکر کریں، تو پھر مِنْ کا معنی سمجھ میں آ جائے گا، جیسے مثال میں نے ذکر کی تھی: ”سِرْتُ مِنَ الدَّارِ إِلَى الْمَسْجِدِ“۔ ”سِرْتُ“، سَارَ يَسِيرُ سین کے ساتھ ہے، سار یسیر کے معنی ہیں چلنا۔ ”سِرْتُ“، میں چلا، ”مِنَ الدَّارِ“، کہاں سے؟ گھر سے، ”إِلَى الْمَسْجِدِ“، مسجد تک۔ میں گھر سے مسجد تک گیا۔ اب دیکھیے، اب مِنْ کا معنی شروع کرنا ہمیں سمجھ میں آ رہا ہے، یہ مِنْ سے ہمیں پتہ چل رہا ہے کہ چلنے کی ابتداء گھر سے ہو رہی ہے اور اس کی انتہاء کہاں پر ہو رہی ہے؟ مسجد پر۔ تو یہ جو ابتداء چلنے کی گھر سے ہو رہی ہے، یہ مِنْ نے ہمیں بتایا: ”سِرْتُ مِنَ الدَّارِ“، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو معلوم ہوا مِنْ نے بھی ابتداء والا معنی ادا کیا، اور لفظِ ابتداء بھی یہی ابتداء والا معنی ادا کرتا ہے، لیکن ابتداء کا لفظ وہ خود بخود اپنے معنی پر دلالت کرتا ہے وہاں کسی اور کلمے کو ساتھ جوڑنے کی ضرورت نہیں، لیکن مِنْ کے اندر لفظ کو جوڑنے کی ضرورت ہے کہ کہاں سے آغاز ہو رہا ہے؟ تو مِنْ کے بعد الدار آیا، معلوم ہوا کہ آغاز، ابتداء کہاں سے ہو رہی ہے؟ دار سے۔ اور کس چیز کی ابتداء ہو رہی ہے؟ اس کے لیے ما قبل میں ”سِرْتُ“ آ گیا کہ میں چلا، یعنی چلنے کی ابتداء ہو رہی ہے۔ تو مِنْ بھی ابتداء کا معنی ادا کرتا ہے اور لفظِ ابتداء بھی، لیکن لفظِ ابتداء اپنے ساتھ کسی دوسرے کلمے کو جوڑنے کا محتاج نہیں یہ معنی ادا کرنے کے لیے، وہ خود بخود کیا کر دیتا ہے؟ اس معنی کو ادا کر دیتا ہے اور اس پر دلالت کر دیتا ہے اور وہ سمجھ میں آ جاتا ہے۔ اور مِنْ بھی ابتداء کا معنی ادا کرتا ہے، ابتداء کے معنی کے لیے آتا ہے، لیکن اس سے مِنْ سے ابتداء کا معنی سمجھ میں نہیں آتا جب تک اس کے ساتھ اور کلمے کو نہ جوڑا جائے بھئی۔ جبکہ فعل اور اسم ایسے نہیں ہیں، وہ اپنے معنی پر خود بخود دلالت کرتے ہیں۔ جیسے ہی میں نے کہا، جیسے ہی میں نے کہا: ”زَيْدٌ“، فوراً آپ کے ذہن میں زید کی ذات آ گئی، کسی اور کلمے کو ساتھ جوڑنے کی ضرورت نہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ مثلاً بھئی آپ کا ایک ساتھی ہے، اس کا نام زید ہے۔ میں نے جیسے ہی کہا: زید، فوراً اس کی صورت آپ کے ذہن میں آ گئی، آپ سمجھ گئے میں کس کی بات کر رہا ہوں۔ دیکھو کسی اور کلمے کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت نہیں ہے بھئی۔ اور اسی طرح میں نے کہا: ”ضَرَبَ“، دیکھا فوراً آپ کو اس کا معنی سمجھ میں آ گیا کہ ضرب کا کیا معنی ہے؟ اس نے پٹائی کی زمانۂ ماضی میں، دیکھو کسی اور کلمے کا ساتھ جوڑنے کا محتاج نہیں بھئی۔ اس کے بعد انہوں نے اسم کی دو مثالیں بھی ذکر کی تھیں: ایک رجل اور ایک علم۔ رجل وہ ذات کا نام ہے یعنی جس کی اپنی ذات الگ موجود ہے، اور علم یہ صفت کا نام ہے، اس کا اپنا الگ وجود نہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو رجل ہے تو اس کی صفتِ علم بھی ہے اور اس کو پھر ہم عالم کہیں گے۔ اگر رجل نہیں تو صفتِ علم کا اپنا الگ وجود نہیں، یا جیسے اور مثال سمجھ لیں، جیسے سخاوت ہے: سخاوت کا اپنا الگ وجود نہیں، ہاں کوئی آدمی ہوگا تو اس کی صفت سخاوت ہوگی۔ تو وہ آدمی ہے تو اس کے ساتھ وہ سخاوت کی صفت بھی ہے، وہ آدمی نہیں تو وہ سخاوت کی صفت بھی نہیں ہے۔ تو دو مثالیں ذکر کر دیں: ایک رجل اور ایک علم۔ رجل ذات کی مثال اور علم صفت کی مثال بھئی، تو بہرحال دونوں اسم ہیں بھئی، دونوں اسم۔ اب آگے سبق دیکھیے بھئی: ”وَعَلَامَتُهُ صِحَّةُ الْإِخْبَارِ عَنْهُ، نَحْوُ: ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، وَالْإِضَافَةُ، نَحْوُ: ”غُلَامُ زَيْدٍ“، وَدُخُولُ لَامِ التَّعْرِيفِ، كَـ”الرَّجُلِ“، وَالْجَرُّ، وَالتَّنْوِينُ“۔ بھئی اب علامتیں بتلانے لگے ہیں۔ اسم کی تعریف کر دی، تعریف، بھئی تعریف سے ذہن میں ایک چیز ممتاز ہو جاتی ہے، دوسری چیزوں سے الگ ہو جاتی ہے۔ ممتاز ہونے کا کیا معنی؟ دوسری چیزوں سے الگ ہو جاتی ہے۔ جب میں نے اسم کی تعریف کر دی کہ اسم وہ کلمے کا نام ہے، معلوم ہوا اسم کلمہ ہوگا، اور کلمہ کس چیز کا نام ہے؟ لفظ کا نام ہے، کون سا لفظ؟ جس کا کوئی معنی، معلوم ہوا اسم بھی کیا ہوگا؟ کوئی لفظ ہوگا، کیا ہوگا؟ کوئی لفظ ہوگا اور اس کا کوئی نہ کوئی معنی ہوگا، یا معنی پر وہ دلالت کرے گا، ذات پر وہ دلالت کرے گا۔ اب ذہن میں اسم ممتاز ہو گیا، آپ کو پتہ چل گیا اسم کسے کہتے ہیں، اسم کسے کہتے ہیں۔ آپ کو یہ بھی پتہ چل گیا فعل کسے کہتے ہیں، آپ کو یہ بھی پتہ چل گیا حرف کسے کہتے ہیں، تینوں کی تعریف سمجھ میں آ گئی یا نہیں آ گئی؟ تو ذہن میں اسم ممتاز ہو گیا۔ تو ذہن میں اسم ممتاز ہو گیا، لیکن خارج میں ہم اسم کو کیسے پہچانیں گے کسی لفظ کے؟ تو اس کے لیے علامتیں چاہییں، علامتیں چاہییں۔ یاد رکھیے تعریف کے ذریعے کوئی چیز ذہن میں ممتاز ہوتی ہے، اور علامتوں کے ذریعے خارج میں ممتاز ہوتی ہے، علامت سے خارج میں ممتاز ہوتی ہے۔ مثلاً مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں بھئی کہ دیکھیے دشمن جو ہے، دشمن آپ لوگوں کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے، تو خیال رکھنا کہیں وہ یہاں آ نہ جائے، وہ آپ کو نقصان نہ پہنچائے۔ اب آپ کو اتنا پتہ چل گیا کہ دشمن کون ہے جو آپ کو کیا کرنا چاہتا ہے؟ نقصان دینا چاہتا ہے، ذہن میں تو پتہ چل گیا۔ لیکن اب وہ آپ کہیں گے اس کو پہچانیں گے ہم کیسے؟ اس کی نشانی کیا ہوگی؟ تو وہ نشانی الگ چاہیے، تو تعریف کے ذریعے کیا ہوتی ہے؟ ذہن میں چیز ممتاز ہو جاتی ہے، اور علامت کے ذریعے خارج میں ممتاز ہوتی ہے، باہر اس کو پہچانا جاتا ہے کہ یہ وہ چیز ہے یا وہ چیز نہیں ہے بھئی۔ تو اب علامتیں ذکر کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَعَلَامَتُهُ“، اور اسم کی علامت جو ہے، ”صِحَّةُ الْإِخْبَارِ عَنْهُ“، اس سے اخبار عنہ کا صحیح ہونا۔ ”صِحَّةُ الْإِخْبَارِ عَنْهُ“، اس اسم سے اخبار عنہ کا صحیح ہونا۔ اخبار عنہ یعنی اس کے بارے میں خبر دی جا سکے، اس کے بارے میں خبر دی جا سکے، یعنی یعنی وہ مسند الیہ بن سکتا ہے بھئی۔ یاد رکھیے کلام کے دو حصے ہوتے ہیں: ایک مسند، ایک مسند الیہ۔ مسند الیہ وہ ہوتا ہے جس کے بارے میں بات کی جائے، آسان لفظوں میں سمجھو بھئی، مسند الیہ کسے کہتے ہیں؟ جس کے بارے میں بات کی جائے، اور مسند وہ جو بات کی جائے اس کو مسند کہتے ہیں۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، میں نے کس کے بارے میں بات کی؟ زید کے بارے میں، معلوم ہوا زید مسند الیہ ہے۔ اور کیا بات کی؟ کہ وہ کھڑا ہے، تو یہ قائمٌ کیا ہے؟ مسند ہے۔ تعریف سمجھ میں آ گئی بھئی؟ مسند الیہ کسے کہتے ہیں؟ جس کے بارے میں بات کی جائے، اور مسند وہ جو بات کی جائے بھئی، بات کی جائے۔ تو یاد رکھیے تو کلام کے دو حصے ہوتے ہیں: ایک مسند اور ایک مسند الیہ۔ اسم جو ہے نا اسم، یہ مسند الیہ بھی بن سکتا ہے اور مسند بھی بن سکتا ہے یعنی مسند بہ، مسند الیہ بھی بن سکتا ہے اور مسند بہ بھی۔ کون؟ اسم۔ اور فعل جو ہے وہ مسند بہ تو بن سکتا ہے، مسند الیہ نہیں بن سکتا۔ سمجھ میں آیا؟ اور حرف نہ وہ مسند الیہ بنتا ہے نہ وہ مسند بہ بنتا ہے۔ جی، تو اسم کیا کیا بن سکتا ہے؟ مسند اور مسند الیہ دونوں، مسند الیہ بھی اور مسند بہ بھی۔ اور فعل؟ صرف مسند بہ بن سکتا ہے، اور حرف؟ نہ مسند الیہ بن سکتا ہے نہ مسند بہ بن سکتا ہے بھئی۔ تو لہٰذا معلوم ہوا مسند الیہ بننا صرف خاصہ ہے اسم کا، یہ صرف اسم میں پایا جاتا ہے، وہ مسند الیہ بنتا ہے، فعل بھی مسند الیہ نہیں بنتا اور حرف بھی مسند الیہ نہیں، اسی لیے اس کو ذکر کیا اس میں۔ اس کی علامت یہ ہے، جب کوئی لفظ مسند الیہ بن رہا ہو تو سمجھ جائیں یہ اسم ہے، یہ کیا ہے؟ اسم ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَلَامَتُهُ صِحَّةُ الْإِخْبَارِ عَنْهُ“، اور علامت اسم کی جو ہے وہ اس سے اخبار عنہ کا صحیح ہونا یعنی اس کے مسند الیہ ہونا صحیح ہو، مسند الیہ۔ یاد رکھیے یہ مسند الیہ، مسند الیہ اس کو محکوم علیہ بھی کہتے ہیں، آگے ابھی یہ آگے بتلا دیں گے، چلیے یہ بات آگے آ جائے گی۔ تو پہلی علامت کیا ذکر کی اسم کی؟ کہ وہ مسند الیہ بن سکتا ہے۔ ”نَحْوُ: ”زَيْدٌ قَائِمٌ““، جیسے زید قائم۔ دیکھو زید ہے مسند الیہ، اس کے بارے میں خبر دی جا رہی ہے، اور کیا خبر دی جا رہی ہے؟ قائمٌ، تو یہ مسند بہ ہے بھئی۔ اور میں نے آپ کو بتایا اسم مسند الیہ بھی بن سکتا ہے اور مسند بہ بھی بن سکتا ہے، تو یہاں پر دیکھیے زید مسند الیہ یہ بھی اسم ہے، اور قائم مسند جو ہے مسند بہ یہ بھی کیا ہے؟ اسم ہے۔ ”نَحْوُ: ”زَيْدٌ قَائِمٌ““۔ ”وَالْإِضَافَةُ“، اور علامت اسم کی ایک اضافت ہے، یعنی مضاف ہونا۔ ”نَحْوُ: ”غُلَامُ زَيْدٍ““۔ یہ غلام دیکھو، اس کی بات ہو رہی ہے یہ جو مضاف ہے۔ مضاف مضاف ہونا یہ اسم کا خاصہ ہے، اسم مضاف بنتا ہے، فعل یا حرف مضاف نہیں بنتا۔ جب یہ اسم کا خاصہ ہے تو یہ اس کی علامت ہے، معلوم ہوا کہ یہ کسی اور میں نہیں، جب کوئی لفظ مضاف بن رہا ہو آپ سمجھ جائیں یہ کیا ہے؟ اسم ہے، فعل یا حرف نہیں ہے۔ ”نَحْوُ: ”غُلَامُ زَيْدٍ““، جی۔ ”وَدُخُولُ لَامِ التَّعْرِيفِ“، اور لامِ تعریف کا داخل ہونا، اسم کا خاصہ ہے بھئی، تو یہ علامت ہے اسم کی۔ لامِ تعریف یہ جو الف لام داخل ہوتا ہے اسم پر: رَجُلٌ، اس پر کیا آیا؟ الرَّجُلُ، الرَّجُلُ، یہ الف لام اوپر آ گیا، تو یہ الف لام کس پر آتا ہے؟ اسم پر آتا ہے، یہ اسم کی علامت ہے۔ ”كَـ”الرَّجُلِ““، جیسے رجل بھئی، اس پر الف لام آیا۔ یہ الف لام کا آنا بتلا رہا ہے کہ یہ رجل اسم ہے، یہ رجل کیا ہے؟ اسم ہے۔ ”وَالْجَرُّ“، اور اسی طرح جر کا داخل ہونا، یہ بھی اسم کا خاصہ ہے۔ یاد رکھیے یہ جو جر ہے نا جر، یہ اثر ہوتا ہے حرفِ جر کا۔ جب کسی اسم پر حرفِ جر داخل ہوتا ہے تو وہ اسم مجرور ہو جاتا ہے، اس پر جر آتا ہے، جیسے ”بِزَيْدٍ“، یہ با کیا ہے؟ جارہ، اور اس نے زید کو کیا دے دیا؟ جر دے دیا۔ اور یہ حرفِ جر کا داخل ہونا یہ اسم کا خاصہ ہے، صرف اسم پر حرفِ جر داخل ہوتا ہے۔ جب اسم پر حرفِ جر داخل ہوتا ہے صرف، تو جر بھی صرف ظاہر سی بات ہے کس پر آئے گا؟ اسم پر۔ فعل پر یا حرف پر تو حرفِ جر ہی نہیں داخل ہوتا، جب حرفِ جر نہیں داخل تو جر بھی نہیں آئے گا ان پر بھئی۔ تو جر کا آنا یہ بھی اسم کی علامت ہے۔ ”وَالتَّنْوِينُ“، اور اسی طرح تنوین کا داخل ہونا بھئی، یہ بھی کس کی علامت ہے؟ اسم کی، اسم پر تنوین آئے گی۔ ”نَحْوُ: ”بِزَيْدٍ““، مثال کے طور پر ”بِزَيْدٍ“۔ یہ ”بِزَيْدٍ“ یہ مثال ہے جر کی بھی اور تنوین کی بھی، دیکھو لفظِ زید پر جر بھی آ رہا ہے، یہ مجرور ہے اور تنوین بھی ہے بھئی، تو یہ دونوں کی مثال ہے۔ ”وَالتَّثْنِيَةُ“، اور اسی طرح تثنیہ ہونا، یہ بھی کس کی علامت ہے تثنیہ ہونا؟ اسم کی علامت ہے۔ رَجُلٌ، تثنیہ کیا ائے گی؟ رَجُلَانِ، رَجُلَانِ۔ غُلَامٌ: غُلَامَانِ، كِتَابٌ: كِتَابَانِ۔ یہ جو تثنیہ ہونا ہے یہ اسم کا خاصہ ہے، جب یہ صرف اسم میں پایا جاتا ہے تو معلوم ہوا اسی سے اسم کی پہچان بھی ہو جائے گی تو یہ اس کی علامت بھی ہو گئی بھئی، تو یہ علامت ہے اسم کی۔ آپ کے ذہن میں اشکال ہوگا کہ بھئی فعل بھی تو تثنیہ آتا ہے: ضَرَبَ، ضَرَبَا، دیکھا یہ دوسرا صیغہ کون سا ہے؟ تثنیہ کا۔ يَضْرِبُ، يَضْرِبَانِ، دیکھو یہ دوسرا صیغہ کس کا ہے؟ تثنیہ کا، تو فعل بھی تثنیہ آتا ہے؟ جواب، جواب: نہیں بھئی، فعل نہیں تثنیہ آتا۔ نہ فعل تثنیہ آتا ہے نہ جمع آتا ہے، نہ جمع آتا ہے۔ آپ کہیں گے یہ تثنیہ اور جمع آ تو رہا ہے گردان میں؟ یاد رکھیے نہیں، فعل وہی ہے: ضَرَبَ۔ اسی کے آخر میں الف، یہ ضمیر ہے فاعل کی: ضَرَبَ، ضَرَبَا۔ ضَرَبَ کے اندر ھُوَ ضمیر فاعل کی تھی، اور ضَرَبَا کے اندر یہ الف کیا ہے؟ تثنیہ کی ضمیر ہے، فعل تو وہی ضَرَبَ ہے۔ یہ الف کو ذرا ہٹا دو، کیا رہ گیا؟ ضَرَبَ۔ تو یہ الف تو فاعل کی ضمیر ہے، یہ تو اسم ہے، فعل تو اسی طرح کیا ہے؟ مفرد کا مفرد۔ تو فعل مفرد ہوتا ہے، اس کے ساتھ فاعل جو ہے وہ کبھی مفرد آتا ہے، کبھی تثنیہ آتا ہے اور کبھی جمع آتا ہے۔ معلوم ہوا تثنیہ اور جمع ہونا کس کا خاصہ؟ اسم کا، تو یہ اسم کی علامت ہے۔ فعل کبھی بھی تثنیہ اور جمع نہیں ہوتا، اور اگر کوئی اشکال کرے فعل بھی تثنیہ اور جمع آتا ہے، آپ کیا جواب دیں گے؟ کہ یہ فعل نہیں جمع تثنیہ ہو رہا بلکہ یہ ضمیر بدل رہی ہے اس کے ساتھ، فعل اسی طرح مفرد کا مفرد ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالتَّثْنِيَةُ وَالْجَمْعُ“، اور تثنیہ ہونا اور جمع ہونا۔ ”وَالنَّعْتُ“، نعت صفت کو کہتے ہیں، مراد ہے موصوف ہونا، موصوف ہونا، یعنی صفت کا آنا۔ صفت آ جائے تو سمجھ جاؤ یہ جو موصوف ہے یہ اسم ہے۔ تو صفت آ گئی، کیا پتہ چلا؟ کہ یہ جو موصوف ہے، موصوف صفت کی اپنی بات نہیں کر رہے بلکہ ما قبل میں جب موصوف، بھئی جب کسی لفظ کی صفت آ جائے آگے، معلوم ہوا یہ جو ما قبل میں موصوف گزرا ہے یہ کون ہے؟ اسم ہے، تو یہ صفت جو ہے یہ بھی اسم کی علامت ہے۔ یا جیسے مثال بھئی صفت کی: جیسے بھئی ”رَجُلٌ شُجَاعٌ“، رجل موصوف، شجاع اس کی صفت۔ یہ شجاع آتے ہی آپ کو پتہ چل گیا، کیا پتہ چلا؟ کون اسم ہے؟ رجل، کون اسم ہے؟ رجل۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ صفت صفت کا اسم ہونا ضروری نہیں، ابھی گزشتہ سبق میں تو مثال آئی تھی: ”الْكَلِمَةُ لَفْظٌ وُضِعَ“، لفظٌ موصوف تھا اور ”وُضِعَ“ اس کی صفت، اور وضع فعل ہے دیکھا۔ ہاں لیکن یہ ”وُضِعَ“ صفت جب آئی آپ کو پتہ چل گیا، کیا پتہ چلا؟ کہ لفظٌ کیا ہے؟ اسم ہے، یہ جو موصوف ہے یہ کیا ہے؟ اسم ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ”وَالنَّعْتُ“۔ ”وَالتَّصْغِيرُ“، اور تصغیر کا آنا، تصغیر جو ہے یہ بھی اسم کی علامت ہے۔ جیسے رَجُلٌ، اس کی تصغیر آئے گی: رُجَيْلٌ۔ رجل کا معنی آدمی، رجیل چھوٹا آدمی۔ یا جیسے كِتَابٌ، کتاب کا معنی کتاب، اور كُتَيْبٌ، چھوٹی کتاب یعنی کتابچہ، کتابچہ۔ تو تصغیر کس کی علامت ہے؟ اسم کی۔ ”وَالنِّدَاءُ“، اور نداء، یہ بھی اسم کی علامت ہے بھئی۔ نداء سے مراد ہے منادیٰ: ”يَا زَيْدُ“، یہ زید کیا ہے؟ منادیٰ، جس کو نداء دی جائے۔ یہ نداء یہ جو یا آئی نداء، اس نے بتلا دیا کہ یہ زید کیا ہے؟ اسم ہے۔ مراد کون ہے نداء سے؟ منادیٰ ہے، منادیٰ۔ تو اس کو چونکہ نداء ہوئی ہے، آواز دی گئی ہے تو معلوم ہوا وہ اسم ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اسم کی دیکھو انہوں نے کتنی ہی علامتیں ذکر کر دیں، یہ علامت جس لفظ میں آپ کو مل جائے آپ سمجھ جائیں کہ یہ کیا ہے؟ اسم ہے۔ دوبارہ دیکھ لیجیے: پہلی علامت کیا بتلائی؟ کہ وہ مسند الیہ ہوگا، دوسری علامت مضاف، مضاف آئے وہ بھی اسم ہوگا، لامِ تعریف آ جائے کسی لفظ پر، جر آ جائے کسی لفظ پر، تنوین آ جائے کسی لفظ کے آخر میں، اور تثنیہ آ جائے یا جمع ہو یا اس کی صفت آگے آ جائے یا اس کی تصغیر آتی ہو یا اس کو نداء دی جائے، یہ ساری کس کی علامتیں ہیں؟ اسم کی۔ تو یہ ساری علامتیں ہیں اسم کی: ”فَإِنَّ كُلَّ هَٰذِهِ خَوَاصُّ الِاسْمِ“۔ اس لیے کیونکہ یہ سارے اسم کے خاصے ہیں، کیونکہ یہ سارے کیا ہیں؟ اسم کے خاصے ہیں۔ خاصہ اسے کہتے ہیں جو ایک چیز میں پایا جائے دوسری چیزوں میں نہ پایا جائے، تو یہ چیزیں صرف اسم میں پائی جاتی ہیں۔ جب یہ ساری اسم کے اندر پائی جاتی ہیں تو معلوم ہوا اس کے ذریعے ہم اسم کو پہچان لیں گے، جب یہ اسم کے خاصے ہیں تو یہ اس کی علامت بھی بن گئے۔ ”فَإِنَّ كُلَّ هَٰذِهِ خَوَاصُّ الِاسْمِ“، اس لیے کیونکہ یہ سارے جو ہیں اسم کے خاصے ہیں۔ ”وَمَعْنَى الْإِخْبَارِ عَنْهُ أَنْ يَكُونَ مَحْكُومًا عَلَيْهِ“۔ باقی باتیں تو آسان تھیں، ایک لفظ آیا تھا اخبار عنہ: ”صِحَّةُ الْإِخْبَارِ عَنْهُ“۔ اخبار عنہ کا کیا معنی ہے؟ یہ بات ذرا مشکل تھی۔ میں نے تو آپ کے سامنے بیان کر دیا، اخبار عنہ کا کیا معنی؟ کہ کسی چیز کے بارے میں خبر دی جائے، یعنی وہ مسند الیہ بن سکے، یا دوسرے لفظوں میں وہ کیا ہو؟ محکوم علیہ بن سکے۔ تو اب اسی کو بیان کرنے لگے ہیں صاحبِ کتاب۔ کہتے ہیں: ”وَمَعْنَى الْإِخْبَارِ عَنْهُ“، اخبار عنہ کا معنی یہ ہے: ”أَنْ يَكُونَ مَحْكُومًا عَلَيْهِ“، کہ وہ محکوم علیہ ہو سکے بھئی، محکوم علیہ ہو سکے۔ میں نے آپ کو بتلایا، اخبار عنہ کا کیا معنی؟ مسند الیہ بن سکے، کیا بن سکے؟ مسند الیہ بن سکے۔ اور مسند الیہ میں نے آسان لفظوں میں بتایا، کسے کہتے ہیں؟ جس کے بارے میں بات کی جائے وہ کون ہے؟ مسند الیہ، اور جو بات کی جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ مسند بہ۔ یہ تو تھا آسان لفظوں میں: جس کے بارے میں بات کی جائے وہ ہے مسند الیہ۔ اسی کو علمِ نحو والے کہتے ہیں: جس پر حکم لگایا جائے وہ ہے اسم، اور وہ جو حکم لگایا جائے وہ کیا ہے؟ وہ مسند بہ ہے۔ یعنی میں نے آسان لفظوں میں کیا کہا؟ میں نے کہا ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، زید کھڑا ہے، اردو میں: زید کھڑا ہے۔ کس کے بارے میں بات کی؟ زید کے بارے میں، معلوم ہوا یہ مسند الیہ ہے۔ اور کیا بات کی؟ کہ وہ کھڑا ہے، معلوم ہوا یہ مسند بہ ہے۔ علمِ نحو والے کہیں گے: زید پر حکم لگایا گیا، ہم نے کہا نا بات کی، وہ کیا کہتے ہیں؟ یہ جو آپ کسی کے بارے میں بات کرتے ہیں یہ اس پر حکم لگا دیتے ہیں۔ میں نے کہا: زید کھڑا ہے، میں نے زید پر حکم لگا دیا کھڑے ہونے کا۔ تو کس پر حکم لگایا؟ زید پر، اور کیا حکم لگایا؟ کھڑا ہے۔ اسی کو آسان لفظوں میں کہو: حکم حکم کو بات کہتے ہیں، اردو میں کیا کہتے ہیں؟ بات۔ محکوم علیہ، محکوم علیہ، دیکھو لفظوں پہ غور کر لو: محکوم حکم لگایا گیا ہے، علیہ اس پر، اور جس پر حکم لگایا گیا ہے یعنی اس کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ اور وہ جو حکم لگایا گیا ہے، اس حکم کو آسان زبان میں کیا کہیں گے؟ بات کہیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ہاں، تو بس نحو والے اس کو لفظِ حکم استعمال کر لیتے ہیں، طلبہ پریشان ہو جاتے ہیں یہ حکم لگانے کا پتہ نہیں کیا معنی ہے! حکم کا معنی ہے بات کرنا کسی کے بارے میں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ میں نے کہا: ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، کیا حکم لگایا میں نے؟ توجہ سے، کیا حکم لگایا میں نے؟ کھڑے ہونے کا، اور آسان لفظوں میں کیا کہو؟ کھڑے ہونے کی بات کی، صورت سمجھ میں؟ اور کس کے بارے میں کی؟ زید کے بارے میں بات کی، یا یوں کہو علمِ نحو کی اصطلاح میں: کس پر حکم لگایا؟ زید پر۔ تو کس کے بارے میں بات کی یا کس پر حکم لگایا، دیکھو ایک ہی چیز ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَمَعْنَى الْإِخْبَارِ عَنْهُ أَنْ يَكُونَ مَحْكُومًا عَلَيْهِ“، اور اخبار عنہ کا معنی یہ ہے: ”أَنْ يَكُونَ مَحْكُومًا عَلَيْهِ“ کہ وہ کیا ہو؟ محکوم علیہ ہو، ”لِكَوْنِهِ فَاعِلًا، أَوْ مَفْعُولًا، أَوْ مُبْتَدَأً“، بوجہ اس کے فاعل ہونے یا مفعول ہونے یا مبتدا ہونے کے۔ یعنی وہ فاعل ہے ہوگا یا مفعول ہوگا یا مبتدا۔ یاد رکھیے مفعول سے مراد ہے، نیچے بین السطور دیا بھی ہوا ہے: مفعول ما لم یسم فاعلہ، یعنی نائب الفاعل، نائب الفاعل مراد ہے۔ ”ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا“، پٹائی کی زید نے عمرو کی، پٹائی کرنے والا کون؟ زید، یہ ہے مسند الیہ۔ اور کس کی پٹائی کی؟ عمرو کی۔ لیکن کبھی کبھار فاعل کو حذف کر دیتے ہیں اور مفعول کو اس کا قائم مقام کر دیتے ہیں جبکہ فعلِ مجہول ہو، مثلاً میں یوں کہوں گا: ”ضُرِبَ“، زید کو ختم کر دو کیونکہ فعلِ مجہول آ گیا، اور ”ضُرِبَ عَمْرٌو“، عمرو کی پٹائی کی گئی۔ تو یہ عمرو جو ہے یہ مفعول مفعول ہے ایسے فعل کا لم جس کے فاعل کو ذکر نہیں کیا گیا یعنی نائب الفاعل ہے، یہ فاعل کا قائم مقام ہے۔ یاد رکھو فاعل یہ مسند الیہ ہوتا ہے۔ ”ضَرَبَ زَيْدٌ“، زید نے پٹائی کی، یہ زید فاعل ہے، معلوم ہوا یہ مسند الیہ ہے۔ اسی طرح جو نائب الفاعل ہوتا ہے وہ بھی مسند الیہ ہوتا ہے۔ اسی طرح یاد رکھو جو مبتدا ہوتا ہے وہ بھی کیا ہوتا ہے؟ مسند الیہ ہوتا ہے۔ تو یہ تینوں ذکر کر دیے انہوں نے، کہتے ہیں اخبار عنہ کا معنی یہ ہے کہ وہ اسم جو ہے محکوم علیہ یعنی اسم جو ہے محکوم علیہ ہوگا بوجہ فاعل ہونے کے یا مفعول یعنی نائب الفاعل ہونے کے یا مبتدا یا مبتدا ہونے کی وجہ سے، جی۔ ”وَيُسَمَّى اسْمًا لِسُمُوِّهِ عَلَى قَسِيمَيْهِ“۔ بھئی دیکھیے، اسم کی تعریف بھی کر دی، اسم کی علامتیں بھی ذکر کر دیں، اب اسم کی وجہِ تسمیہ ذکر کر رہے ہیں۔ وجہِ تسمیہ: نام رکھنے کی وجہ، وجہِ تسمیہ نام رکھنے کی وجہ۔ اسم کا نام اسم کیوں رکھا گیا؟ کوئی اور نام کیوں نہیں رکھا گیا؟ تو نام رکھنے کی وجہ کیا ہے، وہ وجہ ذکر کرنے لگے ہیں۔ یاد رکھیے اس میں نحویوں کے دو گروہ ہیں بھئی، بڑے بڑے نحوی حضرات بھئی دو پارٹیاں تھیں، دو جماعتیں تھیں: کچھ بصرہ میں رہتے تھے اور کچھ کوفہ میں رہتے تھے۔ تو یہ دو جماعتیں تھیں: بصرہ والے نحوی اور کوفہ والے نحوی۔ ان میں مختلف مسائل کے اندر اختلافات تھے، تقریباً 110 کے لگ بھگ مسائل ہیں جس کے اندر یہ اختلاف کرتے ہیں، اور ہر ایک کے اپنے اپنے دلائل ہیں، بڑے بڑے بھئی علم کے پہاڑ گزرے ہیں وہاں، تو اختلاف کرتے ہیں بھئی، اختلاف کرتے ہیں۔ تو اسم کو اسم کیوں کہتے ہیں؟ بصرہ والے اور وجہ ذکر کرتے ہیں، کوفہ والے اور وجہ ذکر کرتے ہیں۔ کوفہ والے کہتے ہیں: اسم اپنے معنی پر علامت ہوتا ہے اس لیے اس کو اسم کہتے ہیں۔ کیونکہ علامت، علامت کو عربی میں کہتے ہیں: ”وِسْمٌ“، ”وِسْمٌ“، واؤ کے ساتھ ہے: و، س، م، ”وِسْمٌ“۔ پھر اسی واؤ کو ہمزہ سے بدل دیا تو کیا بن گیا؟ ”اِسْمٌ“۔ تو اصل میں یہ کیا تھا؟ ”وِسْمٌ“، اور وسم کا کیا معنی؟ علامت۔ اچھا بھئی یہ علامت کیسے؟ کہتے ہیں یہ اسم اپنے معنی پر علامت ہے۔ دیکھو آپ کے آٹھ دس دوست ہیں، ان میں سے ایک کا نام زید ہے۔ میں نے جیسے ہی آپ سے کہا: زید کو بلاؤ، آپ فوراً سیدھے گئے اور زید ہی کو بلا کر لائے، عمرو، بکر یا خالد کو نہیں بلایا۔ بھئی کیا وجہ ہے یہ آپ نے باقیوں کو کیوں نہیں بلایا؟ اس لیے کیونکہ میں نے لفظِ زید ذکر کیا تھا، اور زید نے جیسے ہی میں نے لفظِ زید بولا، آپ سمجھ گئے فلاں والے آدمی کی بات ہو رہی ہے، فلاں ساتھی کی جس کا نام کیا ہے؟ زید۔ تو دیکھو یہ لفظِ زید یہ اسم جو ہے، یہ علامت ہے اپنے مسمیٰ پر، اپنے معنی پر، جس کا نام رکھا گیا ہے اس پر علامت۔ زید میں جیسے ہی کہوں آپ کے ذہن میں زید کی صورت اتی ہے، میں عمرو جیسے ہی کہتا ہوں آپ کے ذہن میں آپ کا وہ دوست ا جاتا ہے جس کا نام کیا ہے؟ عمرو ہے۔ میں جیسے ہی بکر کہتا ہوں آپ کے ذہن میں آپ کا وہ دوست ا جاتا ہے جس کا کیا نام ہے؟ بکر ہے۔ معلوم ہوا دیکھا، یہ اسم کیا کر رہا ہے؟ یہ اس پر دلالت کر رہا ہے یعنی یہ اس پر علامت ہے۔ جیسے ہی میں یہ بولتا ہوں وہی ذہن میں اتا ہے کوئی دوسرا نہیں اتا، معلوم ہوا یہ اسم بھی کیا ہوتا ہے؟ اپنے معنی پر علامت ہوتا ہے۔ توجہ ہے؟ اسم کیا ہوتا ہے؟ یا جیسے اور دیکھو مثال: میں نے آپ سے کہا: قلم کدھر ہے؟ آپ نے قلم کی طرف اشارہ کر دیا کہ یہ ہے۔ میں نے کہا: کتاب کدھر ہے؟ آپ نے کتاب کی طرف اشارہ کر دیا۔ تو قلم جب میں نے بولا آپ نے کتاب کی طرف اشارہ نہیں کیا، اور جب کتاب میں نے کہا آپ نے قلم کی طرف اشارہ نہیں کیا، کیونکہ جو لفظ، جو اسم میں نے بولا وہی معنی آپ کے ذہن میں آ گیا۔ تو معلوم ہوا اسم کیا کرتا ہے؟ اپنے معنی پر دلالت کرتا ہے، اس پر علامت ہوتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جب اسم اپنے معنی پر علامت ہے تو لہٰذا معلوم ہوا علامت کو تو عربی میں وسم کہتے ہیں، معلوم ہوا اسم اصل میں کیا تھا؟ وسم تھا، پھر اسی وسم کے شروع سے واؤ کو گرا کر کیا لے آئے؟ ہمزہ لے آئے تو اسم ہو گیا۔ وجہ سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ کوفہ والے کہتے ہیں، کوفہ والے نحوی کہتے ہیں اسم کو اسم اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ اپنے مسمیٰ اور اپنے معنی پر علامت ہوتا ہے اور علامت کو عربی میں وسم کہتے ہیں، تو معلوم ہوا یہ بھی اصل میں وسم تھا۔ جبکہ بصرہ والے نحوی کہتے ہیں کہ اسم اصل میں تھا، اسم اصل میں تھا: ”سِمْوٌ“، ”سِمْوٌ“۔ دیکھو واؤ آخر میں تھا، پھر آخر سے واؤ کو ختم کیا اور شروع میں ہمزہ لے آئے، اسم بن گیا۔ اچھا بھئی یہ کیوں کہتے ہیں کہ اسم اصل میں سموٌ تھا؟ کہتے ہیں بھئی سموٌ کا معنی ہے بلند ہونا، اونچا ہونا، اعلٰی ہونا۔ اسم بھی چونکہ اپنے دو اپنے دو ساتھیوں میں سے اعلٰی ہے، اپنے دو ساتھیوں سے اعلٰی ہے اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ اسم۔ دو ساتھی کون ہیں اس کے؟ فعل اور حرف۔ بھئی کیسے؟ ایک ہے اسم، ایک ہے فعل، ایک ہے حرف۔ ان میں سب سے اعلٰی اسم ہے۔ بھئی سب سے اعلٰی کیسے ہے؟ کہتے ہیں بھئی آپ دیکھتے نہیں، اسم جو ہے وہ مسند الیہ بھی بنتا ہے اور مسند بہ بھی بنتا ہے۔ فعل صرف مسند بہ بنتا ہے، اور حرف نہ مسند الیہ بنتا ہے اور نہ مسند بہ بنتا ہے۔ معلوم ہوا سب سے اعلٰی کون؟ اسم۔ صرف دو اسم بھی ہوں آپ کے پاس، بات پوری ہو جائے گی: ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، زید مبتدا، قائم اس کی خبر اور دونوں اسم ہیں۔ تو صرف اسم سے ہی مل کر بات پوری ہو گئی۔ صرف فعل ہو تو بات پوری نہیں ہوتی، اس کے ساتھ ایک اسم بھی چاہیے۔ اور حرف، حرف تو نہ مسند الیہ بنتا ہے نہ مسند بہ۔ معلوم ہوا سب سے اعلٰی کون؟ اسم ہے۔ تو لہٰذا جب سب سے اعلٰی اسم ہے تو معلوم ہوا یہ اصل میں سموٌ تھا، کیونکہ سموٌ کا معنی ہے اونچا ہونا، اعلٰی ہونا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور پھر کیا کیا؟ سموٌ کے آخر سے واؤ کو حذف کیا اور شروع میں کیا لے آئے؟ ہمزہ۔ یہ تو میں نے مختصر تقریر کی، بڑے دلائل ہیں ان کے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کوفہ والے کیا کہتے ہیں؟ اسم کس سے ہے؟ کوفہ والے: وسم سے، کیونکہ یہ اپنے معنی پر کیا ہے؟ دلالت کرتا ہے، اس لیے اس یہ وسم سے ہے اور وسم کا معنی ہے علامت۔ جبکہ بصرہ والے کیا کہتے ہیں؟ کہ یہ اصل میں سموٌ تھا۔ سموٌ کا کیا معنی؟ بلند ہونا، اونچا ہونا، اعلٰی ہونا۔ تو یہ بھی چونکہ اونچا اور اعلٰی ہے اپنے دو ساتھیوں پر، لہٰذا اس لیے اس کو اسم کہتے ہیں، اصل میں تو تھا یہ سموٌ اعلٰی ہونا۔ پھر واؤ کو آخر سے حذف کیا اور شروع میں کیا لے آئے؟ ہمزہ لے آئے۔ اب یہاں ایک اور بات سمجھ لیں۔ ایک ہوتی ہے قسم، ایک ہوتی ہے قسیم۔ ایک ہوتی ہے قسم اور ایک ہوتی ہے قسیم۔ قسم شے، اس شے کے نیچے ہوتی ہے، جیسے میں کہتا ہوں: کلمہ کی تین قسمیں ہیں، تو یہ تینوں کیا ہیں؟ کلمہ کے تحت ہیں، کلمہ کی تقسیم ہو رہی ہے، کلمہ کی تین قسمیں ہیں۔ کلمہ ان سے اوپر ہے، وہ تینوں کو شامل ہے، تینوں کو کیا ہے؟ شامل۔ تو کلمہ کی قسمیں کیا ہوتی ہیں؟ کسی چیز کے نیچے ہوتی ہیں، اس کے تحت ہوتی ہیں، اس کی تقسیم ہوتی ہے۔ اور ایک ہوتی ہے قسیم، قسیم وہ جو قسیم وہ جو ایک دوسرے کے برابر ہوتی ہے۔ یہ جو اسم، فعل اور حرف یہ کلمہ کے تحت ہیں، یہ کلمہ کی قسمیں ہیں۔ لیکن ایک دوسرے کی طرف نسبت کرتے ہوئے یہ قسیمیں ہیں، قسیمیں ہیں۔ اسم کی دو قسیم ہیں: فعل اور حرف، برابر ہیں نا اس کے برابر میں۔ فعل کے کتنے قسیم؟ فعل کے بھی دو قسیم: کون؟ اسم اور حرف۔ حرف کے کتنے قسیم؟ حرف کے بھی دو قسیم: ایک اسم اور ایک فعل۔ تو یہ جو قسمیں آپس میں ایک دوسرے کی طرف نسبت کرتے ہوئے قسیم کہلاتی ہیں۔ فعل کیا ہے؟ اسم کی قسیم ہے، حرف کیا ہے؟ اسم کی قسیم ہے، یہ سب ایک دوسرے کے قسیم ہیں۔ جبکہ قسم کیا ہوتی ہے؟ کسی چیز کے تحت واقع ہوتی ہے۔ تو یہ اسم کلمہ کی طرف نسبت کرتے ہوئے قسم ہے، اور فعل اور حرف کی طرف نسبت کرتے ہوئے قسیم ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اچھا اب یاد رکھیے، یہ قسیم کا لفظ استعمال کریں گے۔ میں نے تو کہا نا اسم اپنے دو ساتھیوں سے، فعل اور حرف پر کیا ہے؟ پر اعلٰی ہے۔ یہ قسیم ذکر کریں گے کیونکہ ایک دوسرے کی قسیم ہے، ٹھیک ہے بھئی؟ ہاں تو یہ اصطلاح میں ایک دوسرے کے قسیم ہیں، ایک دوسرے کے جو برابر میں ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَيُسَمَّى اسْمًا“، اور اسم کو اسم کہتے ہیں، ”لِسُمُوِّهِ عَلَى قَسِيمَيْهِ“۔ سموٌ لسمو سموٌ کا معنی بھی اونچا ہونا، اسی سموٌ سے ہے۔ ”لِسُمُوِّهِ“، بوجہ اس کے اونچا ہونے کے، ”عَلَى قَسِيمَيْهِ“، اصل میں تھا: ”عَلَى قَسِيمَيْنِهِ“، قسیمین تثنیہ تھا: رَجُلَانِ، رَجُلَيْنِ۔ قَسِيمَانِ، قَسِيمٌ، قسیمٌ کی تثنیہ بناؤ: قَسِيمَانِ، حالتِ نصبی جری میں لے جاؤ: قَسِيمَيْنِ، پھر اس کی اضافت ہو گئی ہا ضمیر کی طرف قسیم تو نون اضافت کی وجہ سے گر گیا، کیا بن گیا؟ ”قَسِيمَيْهِ“۔ ”لِسُمُوِّهِ عَلَى قَسِيمَيْهِ“، اس وجہ سے کہ یہ اسم اونچا ہوتا ہے ”عَلَى قَسِيمَيْهِ“ اپنی دو قسیموں پر، اس وجہ سے اسم کو اسم کہتے ہیں، ”لَا لِكَوْنِهِ وَسْمًا عَلَى الْمَعْنَى“، اپنے معنی پر علامت ہونے کی وجہ سے نہیں۔ اپنے معنی پر؟ علامت ہونے کی وجہ سے نہیں۔ بھئی دراصل یہ صاحبِ ہدایت النحو ترجیح دے رہے ہیں بصرہ والوں کے قول کو۔ میں نے بتایا کوفہ والے کیا کہتے ہیں؟ اسم کو اسم کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ یہ اپنے معنی پر علامت تھا، یہ اصل میں وسم تھا۔ اور بصرہ والے کیا کہتے ہیں؟ اسم کو اسم کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ یہ اپنی قسیمین پر اونچا ہے تو یہ اصل میں سموٌ تھا۔ دو قول آ گئے یا نہیں آ گئے؟ صاحبِ کتاب کس کو ترجیح دے رہے ہیں؟ بصرہ والوں کے قول کو۔ کہتے ہیں اسم کو اسم اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ اپنی قسیمین پر اونچا ہے یعنی اصل میں سموٌ تھا، اس وجہ سے اس کو اسم نہیں کہتے کیونکہ یہ اپنے معنی پر علامت ہوتا ہے۔ تو کس کے قول کو رد کیا؟ کوفہ والوں کے، اور کس کے قول کو ترجیح دی؟ بصرہ والوں کے قول کو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے دوبارہ دیکھیے: ”وَيُسَمَّى اسْمًا لِسُمُوِّهِ عَلَى قَسِيمَيْهِ“، اور اسم کو اسم کہتے ہیں اس وجہ سے کہ یہ اونچا ہوتا ہے اپنی دو قسموں پر، اس وجہ سے اسم کو اسم کہتے ہیں، ”لَا لِكَوْنِهِ وَسْمًا عَلَى الْمَعْنَى“، اس وجہ سے نہیں کہ وہ اپنے معنی پر علامت ہوتا ہے۔ دیکھا، یہ کوفہ والوں کے قول کو رد کر دیا۔ بعض علماء تو بعض علماء کوفہ والوں کے قول کو ترجیح دیتے ہیں، بعض علماء بصرہ والوں کے قول کو ترجیح دیتے ہیں، اور ہر ایک کے اپنے اپنے دلائل موجود ہیں، ان دلائل کی روشنی میں بات کرتے ہیں: ان کے دلائل زیادہ قوی ہیں، بعض کہتے ہیں ان کے دلائل زیادہ قوی ہیں بھئی۔ چلیے، بس کریں، بس بھئی۔ ”هَٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔ کوئی بات ایسی تو نہیں جو سمجھ میں نہ آئی ہو؟ حل ہو گیا؟ چلیے۔