”فَهَٰذَا مُخْتَصَرٌ مَضْبُوطٌ فِي النَّحْوِ، جَمَعْتُ فِيهِ مُهِمَّاتِ النَّحْوِ عَلَىٰ تَرْتِيبِ الْكَافِيَةِ، مُبَوَّبًا وَمُفَصَّلًا، بِعِبَارَةٍ وَاضِحَةٍ، مَعَ إِيرَادِ الْأَمْثِلَةِ فِي جَمِيعِ مَسَائِلِهَا، مِنْ غَيْرِ تَعَرُّضٍ لِلْأَدِلَّةِ وَالْعِلَلِ“۔ آگے مصنف رَحِمَهُ اللَّهُ فرماتے ہیں: ”فَهَٰذَا مُخْتَصَرٌ مَضْبُوطٌ فِي النَّحْوِ“، کہ یہ ایک مختصر کتاب ہے، ”مَضْبُوطٌ فِي النَّحْوِ“۔ مضبوط کا معنی ہے ضبط کی ہوئی، جسے ضبط کیا گیا ہو، تو یہاں یہ مرتب کی گئی کے معنی میں ہے، مرتب کی گئی، مضبوط یعنی مرتب کی گئی۔ ”فَهَٰذَا مُخْتَصَرٌ مَضْبُوطٌ فِي النَّحْوِ“، یہ ایک مختصر کتاب ہے جو مرتب کی گئی ہے فی النحو علمِ نحو کے اندر۔ یعنی اس میں کس کو ذکر کیا گیا ہے؟ کس کا بیان ہے؟ علمِ نحو کا ہے، تو مضبوط کس معنی میں ہوا؟ مرتب کے معنی میں۔ ”جَمَعْتُ فِيهِ مُهِمَّاتِ النَّحْوِ“۔ مہمات جمع ہے مہمۃ کی، اور مہمۃ کہتے ہیں مقصد کو، اہم بات کو، اہم چیز کو۔ ”جَمَعْتُ فِيهِ مُهِمَّاتِ النَّحْوِ“، میں نے اس میں جمع کیے ہیں نحو کے مقاصد، یا علمِ نحو کی اہم باتیں۔ میں نے اس میں علمِ نحو کی اہم باتیں جمع کی ہیں۔ ”عَلَىٰ تَرْتِيبِ الْكَافِيَةِ“، کس ترتیب پر؟ قافیہ کی ترتیب پر۔ یاد رکھیے بھئی! قافیہ جو ہے وہ علامہ ابنِ حاجب کی کتاب ہے، اور علامہ ابنِ حاجب نے علمِ نحو کے اندر قافیہ جیسی عظیم الشان کتاب لکھ کر علمی دنیا میں زلزلہ برپا کر دیا بھئی۔ اتنی عظیم کتاب لکھی، اتنی عظیم کہ انسان حیران رہ جاتا ہے بھئی، اور صدیوں سے یہ کتاب علماء کی توجہ کا مرکز ہے اور مدارس کے اندر اس کو پڑھایا جا رہا ہے، پڑھا جا رہا ہے، اور طلبہ اس کو عموماً زبانی یاد کرتے بھئی۔ اور انہوں نے کمال کیا بھئی کہ اتنی مختصر سی یہ کتاب لکھی اور اس میں پورے علمِ نحو کو سمیٹ کر رکھ دیا، بس یوں سمجھیے گویا دریا کو انہوں نے کوزے میں بند کر دیا۔ قافیہ بھی اتنی ہی ہے جتنی تقریباً یہ ہدایت النحو ہے بھئی، ہدایت النحو۔ اور ہدایت النحو یہ جو آپ کے سامنے ہے، یہ جس طرح تقریباً سوا سو صفحے کے لگ بھگ ہے، اسی طرح وہ بھی سوا سو صفحے کے لگ بھگ، لیکن دیکھیں کہ کتنا موٹا موٹا لکھا ہوا ہے بھئی، کتنا موٹا موٹا! اگر اس کو باریک لکھا جائے تو شاید، شاید آٹھ دس صفحے بھی مشکل سے بنیں بھئی، آٹھ دس صفحے بھی۔ تو دیکھو! پورے علمِ نحو کو آٹھ دس صفحوں کے اندر سمیٹ دینا، انسان حیران رہ جاتا ہے بھئی۔ تو انہوں نے قافیہ کتاب لکھی، لیکن قافیہ جو ہے، صاحبِ قافیہ کے پاس الفاظ کم ہوتے ہیں، وہ لفظ بہت کم استعمال کرتے ہیں، ایک لفظ کو بھی بے کار جانے نہیں دیتے، ایک لفظ بھی لاتے ہیں تو اس کا کوئی لانے کا مقصد ہوتا ہے۔ اور وہاں مثالیں بھی پوری نہیں ہیں، ہر ہر مسئلے کی مثال بھی وہاں انہوں نے ذکر نہیں کی، البتہ ہر مسئلے کی طرف وہ ہر مسئلے کو ذکر کر دیتے ہیں یا اس کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں کہ باقی تقریر استاد طالب علم کے سامنے کر دے گا، میں نے واضح اس بات کی طرف اشارہ کر دیا یا اس کو ذکر کر دیا بھئی۔ اور میں نے بتایا، بہت ایک ایک لفظ وہ سوچ سمجھ کر اپنی کتاب میں لائے ہیں، تو لہٰذا جس کی وجہ سے کتاب میں تھوڑی سی پیچیدگی پیدا ہو گئی، تھوڑی سی مشکل ہو گئی۔ لہٰذا ضرورت تھی کہ اس سے پہلے کوئی اور کتاب ہونی چاہیے جو طالب علم کو پڑھائی جائے، تاکہ اس کی علمِ نحو کے ساتھ مناسبت ذرا اور بڑھ جائے، اس کے بعد پھر جب قافیہ پڑھائی جائے گی تو قافیہ کی ساری باتوں کو وہ اطمینان سے سمجھ سکے گا بھئی۔ اور قافیہ کے اندر چونکہ ہر مسئلے کی مثال وغیرہ بھی نہیں ہے، تو لہٰذا ایک ایسی کتاب قافیہ سے پہلے ہو جس کے اندر ہر ہر مسئلے کی وضاحت کے ساتھ خوب مثالیں بھی ذکر کر دی جائیں، تاکہ طالب علم کو اطمینان ہو جائے بھئی، مثال سے بات اس کو پوری طرح سمجھ میں آ جائے بھئی۔ تو یہ قافیہ کو اللہ نے بڑی مقبولیت نصیب فرمائی بھئی، اور سینکڑوں سال سے یہ مدارس کے اندر پڑھی جا رہی ہے، پڑھائی جا رہی ہے، اور طلبہ اس کو تقریباً زبانی یاد کرتے ہیں، اکثر طلبہ بھئی۔ تو یہ صاحبِ ہدایت النحو فرماتے ہیں کہ یہ کتاب جو ہے مضبوط، یہ ایک مختصر کتاب ہے، ”مَضْبُوطٌ فِي النَّحْوِ“ جو مرتب کی گئی ہے علمِ نحو میں، ”جَمَعْتُ فِيهِ مُهِمَّاتِ النَّحْوِ“ میں نے جمع کیا ہے اس مختصر کے اندر علمِ نحو کی اہم باتوں کو، ”عَلَىٰ تَرْتِيبِ الْكَافِيَةِ“ کس ترتیب پر؟ قافیہ کی ترتیب پر۔ قافیہ کی ترتیب بڑی پیاری ہے بھئی۔ لیکن قافیہ کی ترتیب پر ہونے کا یہ معنی نہیں کہ پوری ہدایت النحو پورے طور پر قافیہ کی ترتیب پر ہے، نہیں نہیں! کہیں تھوڑا بہت فرق آتا ہے، لیکن اکثر ترتیب کس جیسی ہے؟ قافیہ جیسی ہی ہے بھئی۔ اسی لیے کہا: ”عَلَىٰ تَرْتِيبِ الْكَافِيَةِ“، قافیہ کی ترتیب پر۔ ”مُبَوَّبًا وَمُفَصَّلًا“، اس کو ”مُبَوِّبًا“ اس میں فاعل بھی پڑھ سکتے ہیں اور ”مُبَوَّبًا“ واؤ پر زبر پڑھیں اس میں مفعول، اور یا اسی طرح ”مُفَصِّلًا“ اس کو بھی اس میں فاعل بھی پڑھ سکتے ہیں مفصِّلاً اور اس میں مفعول مفصَّلاً بھی پڑھ سکتے ہیں۔ مبوِّب اگر اس کو اسمِ فاعل پڑھیں تو مبوِّب کا معنی ہوا: باب باب بنانے والا، اور اگر اس کو پڑھیں مبوَّب اسمِ مفعول تو پھر اس کا معنی ہوا ہے: باب باب بنایا گیا، باب باب کی گئی بھئی۔ اور اسی طرح مفصِّل اگر اسمِ فاعل پڑھیں تو اس صورت میں اس کا معنی ہوا: فصل فصل بنانے والا، اور مفصَّل پڑھیں تو معنی ہوا وہ جس کو فصل فصل بنایا گیا ہو بھئی۔ معنی، فرق سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ ایک اسمِ فاعل والا معنی ہے اور ایک اسمِ مفعول والا۔ تو مبوِّب بھی پڑھ سکتے ہیں مبوَّب بھی، مفصِّل بھی پڑھ سکتے ہیں اور مفصَّل بھی۔ اگر آپ اس کو مبوِّب پڑھتے ہیں، باب باب بنانے والا اور فصل فصل بنانے والا، تو یہ باب باب اور فصل فصل بنانے والا کون ہے؟ مصنف ہیں، تو لہٰذا یہ جو پیچھے ضمیر آئی: ”جَمَعْتُ“، اس کے اندر یہ جو متکلم کی ضمیر ہے: میں نے جمع کیا، اس سے یہ پھر حال بنے گا۔ میں نے جمع کیا باب باب بناتے ہوئے اور فصل فصل بناتے ہوئے بھئی، فصل بناتے ہوئے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ ”جَمَعْتُ فِيهِ“ میں نے اس میں جمع کیا، اس حال میں کہ ”مُبَوِّبًا وَمُفَصَّلًا“ میں اس میں باب باب بنانے والا تھا اور فصل فصل بنانے والا تھا۔ یہ تو تھا حال والا ترجمہ: اس حال میں کہ میں اس میں باب باب بنانے والا تھا اور فصل فصل بنانے والا تھا۔ تو کس طرح ترجمہ ہوا؟ ”جَمَعْتُ فِيهِ“ میں نے جمع کیا اس مختصر کے اندر علمِ نحو کی اہم باتوں کو قافیہ کی ترتیب پر، اس حال میں کہ میں باب باب اور فصل فصل بنانے والا تھا۔ یا با محاورہ ترجمہ یوں کر لیں بھئی: مبوِّب باب باب کرتے ہوئے، اور مفصِّل فصل فصل کرتے ہوئے، اور اس کو درمیان میں شروع میں لے جائیں تو یوں ترجمہ ہوگا: یہ ایک مختصر کتاب ہے جو مرتب کی گئی ہے علمِ نحو میں، میں نے اس میں علمِ نحو کی اہم باتوں کو باب باب کرتے ہوئے اور فصل فصل کرتے ہوئے جمع کیا قافیہ کی ترتیب پر بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ اور اگر اس کو پڑھیں مبوَّب اور مفصَّل اسمِ مفعول، تو اس صورت میں یہ ”فِيهِ“ کی ہا ضمیر، فیہ کے آخر میں جو ہا ضمیر ہے یہ اس سے حال بنے گا: میں نے جمع کیا اس مختصر میں اس حال میں کہ اس کو باب باب بنایا گیا ہے اور فصل فصل بنایا گیا ہے بھئی۔ یاد رکھیے ہمارے بزرگوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ جب کوئی کتاب وغیرہ لکھتے ہیں عموماً، عام مصنفین اور عام بزرگوں کا طریقہ یہ ہے کہ جب وہ کوئی کتاب وغیرہ لکھتے ہیں تو اس میں مسلسل لکھتے نہیں چلے جاتے بغیر کسی عنوان کے، بلکہ اس کی تقسیم کر دیتے ہیں۔ ایک جیسے مسائل جو ہوتے ہیں ان کو مثلاً ایک باب میں ذکر کر دیا، پھر ایک جیسے اور جو قریبی مسائل ہیں ان کو فصلوں کے اندر ذکر کر دیا۔ تو اس طرح وہ پھر تین قسم کے عنوانات دیتے ہیں: ایک ہے کتاب، ایک ہے باب، اور ایک ہے فصل۔ کتاب، باب اور فصل۔ ان میں سب سے بڑا عنوان کتاب کا ہے۔ کتاب میں ایک جنس کے سارے مسائل آ جائیں گے، ایک جنس کے سارے مسائل بھئی۔ جیسے آپ نے قدوری میں کتاب الطہارۃ پڑھا، تو طہارت سے متعلقہ تمام چیزیں اس میں آ گئیں، تمام چیزیں آ گئیں۔ وضو کا طریقہ، غسل کا طریقہ، اور پانی کون سا پاک ہے وغیرہ، اور یہ ساری چیزیں جو طہارت سے متعلق ہیں ان کو کس میں ذکر کر دیا؟ کتاب میں۔ پھر اس کتاب کے اندر انہوں نے باب بنا دیے، الگ الگ باب: ایک وضو والا مثلاً باب، ایک پانی والا باب وغیرہ، تقسیم کر دیتے ہیں جو بھی ایک جیسے ہوتے ہیں۔ اور پھر باب کے نیچے پھر جو مسائل ایک ہی صنف کے ہوں، ان ساروں کو پھر فصل میں اکٹھا کر دیتے ہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اور جتنے ایک چیز کے قریب مسائل ہو گئے ان کو پھر الگ الگ فصلوں میں ذکر کیا جاتا ہے، تو سب سے بڑا عنوان کون سا دیتے ہیں؟ کتاب، اس کے تحت کئی باب آ جاتے ہیں اور پھر ہر باب کے تحت کئی فصلیں آ جاتی ہیں بھئی۔ تو اس سے یہ آسانی ہو جاتی ہے بھئی کہ مسائل تقسیم ہو جاتے ہیں، ان میں ایک ترتیب بن جاتی ہے، اور طلبہ کے لیے بھی آسانی ہو جاتی ہے یاد کرنے کے اندر کہ جب ایک فصل مکمل ہوتی ہے طالب علم کو خوشی ہوتی ہے کہ آج اتنی فصل ایک فصل ہم نے پڑھ لی، آج دوسری فصل پڑھ لی، آج تیسری فصل پڑھ لی، تو پڑھنے اور پڑھانے میں بھی بڑی سہولت ہو جاتی ہے۔ تو اسی لیے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کو کس طرح بنایا؟ اس میں باب بنائے ہیں اور فصلیں بنائی ہیں بھئی۔ ”بِعِبَارَةٍ وَاضِحَةٍ“، واضح عبارت کے ساتھ۔ ”بِعِبَارَةٍ وَاضِحَةٍ“، واضح عبارت کے ساتھ، یعنی میری اس مختصر کتاب کی عبارت واضح ہوگی، مشکل اور پیچیدہ نہیں ہوگی بھئی۔ میں نے بتلایا قافیہ کی عبارت بڑی مشکل اور پیچیدہ ہے، کیونکہ صاحبِ قافیہ نے تھوڑے لفظوں میں لمبی بات کرنی ہوتی ہے۔ آپ دیکھیں گے، ہدایت النحو پڑھ رہے ہیں آپ دیکھیں گے صاحبِ ہدایت النحو جس مسئلے کو ایک دو صفحوں کے اندر ذکر کرتے ہیں، صاحبِ قافیہ اس کو ایک دو لائنوں میں ذکر کر دیتے ہیں۔ تو دیکھو! پورے ایک دو صفحے کو سمیٹ کر کتنے میں لے آتے ہیں؟ ایک لائن کے اندر، ایک سطر میں یا اس سے بھی کم کے اندر بھئی۔ تو صاحبِ ہدایت النحو بتلا رہے ہیں کہ نہیں، میری کتاب کی عبارت جو ہے وہ قافیہ کی طرح مشکل نہیں ہوگی بلکہ کس قسم کی عبارت ہوگی؟ واضح عبارت ہوگی کہ طالب علم فوراً آسانی سے سمجھ جائے۔ تو کہتے ہیں: ”بِعِبَارَةٍ وَاضِحَةٍ“، واضح عبارت کے ساتھ۔ ”مَعَ إِيرَادِ الْأَمْثِلَةِ فِي جَمِيعِ مَسَائِلِهَا“۔ أَوْرَدَ يُورِدُ إِيرَاد کا معنی ہوتا ہے لانا۔ ”مَعَ إِيرَادِ الْأَمْثِلَةِ“، امثلہ جمع ہے مثال کی، ساتھ لانے مثالوں کے، ”فِي جَمِيعِ مَسَائِلِهَا“ اس کے تمام مسائل میں۔ اس کے تمام مسائل کے اندر میں مثالیں لایا ہوں بھئی۔ میں نے بتلایا قافیہ کے اندر مثالیں بہت کم دی ہیں انہوں نے بھئی، بہت کم دی ہیں۔ جہاں بہت ہی ضرورت تھی وہاں مثال ذکر کی، ورنہ کہیں بھی وہ مثال عموماً ذکر نہیں کرتے بھئی۔ تو بہت کم مثالیں انہوں نے دی ہیں۔ لیکن صاحبِ ہدایت النحو فرما رہے ہیں کہ میں نے ایسا نہیں کیا بلکہ میں نے ہر ہر جگہ پر مسئلے کی خوب وضاحت کے لیے خوب مثالیں ذکر کی ہیں۔ تو یہ معنی ہے: ”مَعَ إِيرَادِ الْأَمْثِلَةِ فِي جَمِيعِ مَسَائِلِهَا“، اس کے تمام مسائل کے اندر مثالیں لاتے ہوئے، اس کے تمام مسائل میں مثالیں لاتے ہوئے، مثالیں ذکر کرتے ہوئے۔ ”مِنْ غَيْرِ تَعَرُّضٍ لِلْأَدِلَّةِ وَالْعِلَلِ“۔ تعرّض کا معنی ہے کسی چیز کے پیچھے پڑنا، پیچھے پڑنا۔ ”مِنْ غَيْرِ تَعَرُّضٍ“، بغیر پیچھے پڑے، ”لِلْأَدِلَّةِ وَالْعِلَلِ“، ادلہ اور علل کے۔ ادلہ جمع ہے دلیل کی، اور علل جمع ہے علت کی۔ یعنی صاحبِ ہدایت النحو فرما رہے ہیں کہ میں نے یہ کتاب لکھی قافیہ کی ترتیب پر ہے، لیکن قافیہ میں باب اور فصلیں نہیں میں نے اس میں کیا ذکر کی ہیں؟ باب اور فصلیں۔ قافیہ کی عبارت پیچیدہ ہے لیکن میں اس کی عبارت واضح لے کر آیا ہوں، اور قافیہ میں مثالیں کم ہیں لیکن میں اس کے تمام مسائل کے اندر مثالیں بیان کروں گا، ”مِنْ غَيْرِ تَعَرُّضٍ لِلْأَدِلَّةِ وَالْعِلَلِ“، دلیلوں اور علتوں کے پیچھے پڑے بغیر۔ دلیلوں اور علتوں کے پیچھے پڑے بغیر۔ علت کا معنی ہوتا ہے سبب، وجہ۔ یعنی میں سبب دلیل نہیں ذکر کروں گا، مسئلہ آپ کو بتا دوں گا کہ مسئلہ یوں ہے: ”الْفَاعِلُ مَرْفُوعٌ“، فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع ہوتا ہے۔ لیکن کیوں مرفوع ہوتا ہے؟ یا یہ ”الْمَفْعُولُ مَنْصُوبٌ“، مفعول منصوب ہوتا ہے، کیوں منصوب ہوتا ہے؟ وہ دلیلوں کے اندر اور وجہوں کے اندر کہ اس کی وجہ میں ذکر کروں کہ ایسا کیوں ہے، اس کے پیچھے میں نہیں پڑوں گا۔ اس لیے کیونکہ یہ مبتدی طالب علم کے لیے یہ کتاب ہے، اور اگر میں اس کے اندر دلیلیں ذکر کرنا شروع کر دوں، میں اس کے اندر علتیں ذکر کرنا شروع کر دوں تو یہ تو مختصر کتاب نہ رہے گی، یہ تو بہت زیادہ پھیل جائے گی، اور طالب علم بیچارہ ابھی شروع کا طالب علم ہے، مبتدی طالب علم ہے، ابھی اس نے علمِ نحو پڑھنا شروع کیا ہے تو اس کے سامنے اگر اتنی تفصیلات اور اتنی پیچیدہ چیزیں رکھنا شروع کر دیں گے ہم تو اس کا تو ذہن تشویش میں پڑ جائے گا اور اس کے پلے کچھ بھی نہیں پڑے گا، اسے کوئی بات سمجھ میں ہی نہیں آئے گی، اتنی مشکل باتیں! تو لہٰذا یہاں میں صرف کیا کروں گا؟ موٹے موٹے مسائل ذکر کروں گا بھئی، موٹے موٹے مسائل ذکر کروں گا۔ تو کہتے ہیں: ”مِنْ غَيْرِ تَعَرُّضٍ لِلْأَدِلَّةِ وَالْعِلَلِ“، بغیر پیچھے پڑے دلیلوں کے اور علتوں کے، یعنی دلیلوں اور سببوں کے پیچھے میں نہیں پڑا کہ اس کا سبب کیا ہے، اس کی وجہ کیا ہے۔ بھئی کیوں نہیں پیچھے پڑنا دلیلوں اور علتوں کے؟ کہتے ہیں: ”لِئَلَّا يُشَوِّشَ ذِهْنَ الْمُبْتَدِي عَنْ فَهْمِ الْمَسَائِلِ“، تاکہ کہیں یہ دلیلوں کے پیچھے پڑنا تشویش میں نہ ڈال دے، ”ذِهْنَ الْمُبْتَدِي“ اس مبتدی طالب علم کے ذہن کو، ”عَنْ فَهْمِ الْمَسَائِلِ“ ان مسائل کے سمجھنے سے۔ کہ اگر میں ان دلیلوں کے اور علتوں کے پیچھے پڑوں گا پھر تو مبتدی طالب علم کا ذہن تشویش میں پڑ جائے گا مسائل کے سمجھنے سے، یعنی اس کو پھر مسائل سمجھ میں نہیں آئیں گے، بات بڑی مشکل ہو جائے گی بھئی۔ اور دیکھیے، اس سے میرے طریقے کی تائید بھی ہو گئی۔ عموماً بھئی عموماً، یہ ہدایت النحو پڑھاتے ہوئے اور اسی طرح قافیہ پڑھاتے ہوئے مدرسین حضرات بڑی لمبی لمبی تقاریر کرتے ہیں، بڑی مشکل اور پیچیدہ باتیں ذکر کرتے ہیں۔ ہدایت النحو میں تو خیر اتنی زیادہ نہیں کرتے، لیکن بہرحال قافیہ کے اندر آپ دیکھیں، قافیہ اتنی مشکل اور اتنی پیچیدہ طریقے سے پڑھائی جاتی ہے، ایک ایک لفظ قافیہ کے شروع کے پہلے ہی لفظ پر دس دس پندرہ پندرہ اعتراضات اور اس کے جوابات طلبہ کو بتلائے جاتے ہیں، ان کو لکھوائے جاتے ہیں۔ اور اسی طرح ہر ہر مسئلے کی علتیں بھی ذکر کرتے ہیں، دلیلیں بھی ذکر کرتے ہیں، حالانکہ قافیہ مختصر کتاب ہے اور اس کے بعد اگلے سال شرح جامی آتی ہے جو رابعہ میں۔ ثالثہ میں قافیہ ہے تو رابعہ میں شرح جامی ہے۔ شرح جامی کے اندر وہ اسی قافیہ کی شرح ہے، اس میں وہ پھر خوب تفصیل کے ساتھ قافیہ کے ایک ایک جملے، ایک ایک لفظ کو ذکر کرتے ہیں اور وجہ بتلاتے ہیں صاحبِ قافیہ یہ لفظ کیوں لائے ہیں، اور اس کے ذریعے کس مسئلے کی طرف اشارہ ہے، اور اس مسئلے سے متعلق اور بھی جو باتیں ہوتی ہیں وہ پھر صاحبِ جامی جو ہیں اپنی کتاب کے اندر ذکر کرتے ہیں۔ وہاں دلیلیں بھی آ جاتی ہیں، وہاں علتیں بھی آ جاتی ہیں، وہاں اعتراض، جواب وغیرہ سب کچھ آ جاتا ہے۔ لیکن عموماً کیا کیا جاتا ہے کہ طریقہ اب یہ بن گیا ہے، تقریباً اکثر مدرسین، تقریباً بلکہ تمام مدرسین اسی طریقے پر پڑھاتے ہیں کہ قافیہ کے اندر خوب اعتراض اور جواب ذکر کیے جاتے ہیں، اور خوب بال کی کھال اتارتے ہیں بھئی، خوب گہرائی میں طالب علم کو لے جاتے ہیں، خوب گہرائی کے اندر۔ اور اتنی تفصیل ذکر کی جاتی ہے، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عموماً کتاب ختم ہی نہیں ہوتی، سال گزر جاتا ہے اور قافیہ آدھے تک بھی نہیں پہنچتے، کیونکہ اتنی تفصیل جب کروائی جا رہی ہے کتاب تو ختم نہیں ہو سکتی۔ اور اگر زور لگا کر کسی طرح آخر میں کتاب کو تیز چلا کر ختم بھی کر لیا جائے، لیکن طالب علم جو ہے وہ اس کا ذہن اور تشویش میں پڑ جاتا ہے اور مطمئن نہیں ہوتا۔ اتنی تفصیلات جب اس کے سامنے آ جاتی ہیں، اس کا ذہن ساروں کو، ساروں کو ضبط کرنے میں بڑی دشواری اور پیچیدگی محسوس کرتا ہے بھئی۔ تو اس کے لیے ان مسائل کو یاد کرنا پھر بڑا مشکل ہو جاتا ہے، اور نتیجہ یہ نکلتا ہے اس کا بڑا نقصان ہوتا ہے، وہ پوری طرح علمِ نحو اس کو یاد نہیں کر پاتا بھئی۔ لیکن میری رائے یہ ہے کہ اس طرح نہیں ہونی چاہیے بھئی قافیہ۔ قافیہ کے اندر بس نفسِ متن حل ہو جائے اور طالب علم کو نفسِ مسئلہ سمجھ میں آ جائے، یا مسئلے سے متعلق کوئی بڑی ہی ایک آدھ کوئی ضروری فنی، نحوی بات ہو وہ ذکر کر دی جائے۔ اس طرح جب قافیہ پڑھائی جائے گی، اطمینان سے سال میں ختم ہو جائے گی، طالب علم کے لیے یاد کرنا بھی آسان ہوگا، اور پھر اگلے سال جو ہے وہ قافیہ کی شرح، شرح جامی آ جائے گی، جو گہری باتیں رہ گئی ہوں وہ آگے شرح جامی کے اندر آ جائیں گی اور طالب علم کے لیے یاد کرنا بہت آسان ہو جائے گا بھئی۔ تو دیکھیے، یہی صاحبِ ہدایت النحو بھی فرما رہے ہیں: ”مِنْ غَيْرِ تَعَرُّضٍ لِلْأَدِلَّةِ وَالْعِلَلِ“، یعنی بغیر پیچھے پڑے دلیلوں اور علتوں کے، یعنی میں ان کے پیچھے نہیں پڑا، ان کے پیچھے نہیں پڑا یعنی ان کو میں نے ذکر نہیں کیا، ”لِئَلَّا يُشَوِّشَ ذِهْنَ الْمُبْتَدِي عَنْ فَهْمِ الْمَسَائِلِ“، تاکہ کہیں مبتدی طالب علم کا ذہن تشویش میں نہ پڑے مسائل کے سمجھنے سے۔ ”وَسَمَّيْتُهُ بِهِدَايَةِ النَّحْوِ“، اور میں نے اس مختصر کا نام ہدایت النحو رکھا۔ اس مختصر کتاب کا نام ہدایت النحو رکھا، ”رَجَاءَ أَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ تَعَالَىٰ بِهِ الطَّالِبِينَ“۔ ”رَجَاءً إِلَىٰ“ ہے آپ کی کتابوں میں؟ ”رَجَاءً إِلَىٰ“ نہیں، ”رَجَاءَ“، اور یہ ”إِلَىٰ“ یہ کتابت کی غلطی ہے، اس کو نہیں ہونا چاہیے۔ ”رَجَاءَ أَنْ يَهْدِيَ“، رجاء پر تنوین بھی نہیں کیونکہ اس کی اضافت ہو رہی ہے ”أَنْ يَهْدِيَ“ کی طرف اور مضاف پر تنوین نہیں آتی بھئی۔ ”رَجَاءَ“، میں نے اس کا نام ہدایت النحو رکھا، کس لیے بھئی؟ کہتے ہیں ”رَجَاءَ“، یہ امید کرتے ہوئے کہ ”أَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ تَعَالَىٰ بِهِ الطَّالِبِينَ“، کہ ہدایت دیں گے اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ طلبہ کو، یعنی علمِ نحو کی طرف طلبہ کو اللہ ہدایت دیں گے اس کتاب کے ذریعے، اسی لیے میں نے اس کا کیا نام رکھا؟ ہدایت النحو رکھا۔ چنانچہ علماء فرماتے ہیں کہ نام اچھا رکھنا چاہیے، اسی لیے انہوں نے اپنی کتاب کا نام کیا رکھا؟ ہدایت النحو۔ نام اچھا رکھنا چاہیے بھئی، کیونکہ نام کا اثر شخصیت پر پڑتا ہے بھئی۔ تو اصل تو کرنے والی ذات اللہ ہی کی ہے، لیکن بہرحال نام میں اللہ نے اثر رکھا ہے، نام کا اثر پڑتا ہے۔ چنانچہ علامہ سیوطی رَحِمَهُ اللَّهُ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جب، جب آپ کو نبوت ملی اور آپ توحید کا پیغام لے کر آئے تو اس وقت آپ کے چار چچا زندہ تھے، چار چچا۔ اور ان چار میں سے دو کے نام اسلامی تھے وہ اسلام لے آئے، اور جو دو کے نام غیر اسلامی تھے وہ اسلام بھی نہیں لائے۔ حمزہ اور عباس، حمزہ اور عباس یہ اسلامی نام ہیں تو یہ دونوں چچا اسلام لے آئے، اور دو چچا ابو طالب اور ابو لہب، یہ اسلام نہیں لائے بھئی، یہ اسلام نہیں لائے۔ ابو طالب کا نام عبد مناف تھا بھئی، عبد مناف۔ مناف بت کا، بت کا نام تھا، تو معنی عبد مناف کا معنی کیا ہوا؟ بت کا بندہ۔ اور اسی طرح ابو لہب کا اصل نام عبد العزیٰ تھا، عبد العزیٰ، اور عزیٰ بھی بت کا نام تھا، تو کیا معنی ہوا عبد العزیٰ کا؟ عزیٰ کا بندہ یعنی بت کا بندہ۔ تو ان دونوں کے نام غیر اسلامی تھے، یہ اسلام نہیں لائے، اور دو کے نام اسلامی تھے یعنی حمزہ اور عباس وہ اسلام لے آئے۔ تو بہرحال کرنے والی ذات تو اللہ ہی کی ہے، لیکن نام کا اثر پڑتا ہے، اللہ نے اس میں اثر رکھا ہے، اس لیے نام اچھا ہونا چاہیے۔ اسی لیے صاحبِ ہدایت النحو نے بھی اپنی کتاب کا نام کیا رکھا؟ ہدایت النحو۔ کہتے ہیں: یہ امید کرتے ہوئے کہ اس کے ذریعے اللہ طلبہ کو ہدایت دیں گے یعنی رہنمائی دیں گے علمِ نحو میں۔ ”وَرَتَّبْتُهُ عَلَىٰ مُقَدِّمَةٍ وَثَلَاثَةِ أَقْسَامٍ وَخَاتِمَةٍ“، اور میں نے اس کو ترتیب دیا ہے ایک مقدمے پر، اور تین اقسام پر، اور ایک خاتمے پر۔ ایک خاتمے پر بھئی، کتاب میں ایک مقدمہ ہے، اور تین اقسام، اور آگے فرما رہے ہیں ایک خاتمہ ہے۔ بھئی یہ خاتمہ جو ہے، یہ خاتمہ یہ کتاب کے اندر موجود نہیں۔ یہ کتاب کا خاتمہ کتاب کے اندر موجود نہیں، معلوم ہوا یہ کسی لکھنے والے کی غلطی سے یہ لفظ کتاب کے اندر آ گیا۔ پہلے زمانے میں کتابیں ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں، تو کسی جس کسی لکھنے والے نے کتاب اس کتاب کو نقل کیا اور یہاں غلطی سے وہ کیا لکھ گیا؟ خاتمہ لکھ گیا بھئی، خاتمہ لکھ گیا۔ اور پھر یہی نسخہ آگے ہم تک پہنچا اور یہی پھیل گیا، تو اس لیے اب اس کتاب یہاں پر تو یہ خاتمہ کا لفظ ملتا ہے، لیکن آگے کتاب کے اندر خاتمہ کا کوئی عنوان نہیں، کتاب کے خاتمے کا عنوان نہیں ہے بھئی۔ تو آپ کے ذہنوں میں اشکال پیدا ہوگا کہ بھئی اگر یہ کسی لکھنے والے کی غلطی ہے تو اس لفظ کو نکال کیوں نہیں دیتے؟ تو جواب یہ کہ نہیں بھئی، یہ کتاب امانت کی طرح ہے، یہ صاحبِ ہدایت النحو کی کتاب ہے، کوئی اور اس میں تبدیلی نہیں کر سکتا، کسی اور کے لیے اس میں تبدیلی کرنا جائز نہیں ہے۔ یہ کتاب ہمیں جس طرح ملی ہے، بطورِ امانت کے ملی ہے اور اس امانت کو اسی طرح یعنی جوں کا توں ہم نے اگلی نسلوں تک پہنچانا ہے۔ اگر آج ہم اس کے اندر یہ خاتمہ کا لفظ نکال دیتے ہیں، کل کوئی اور آدمی آئے گا وہ کہے گا یہاں یہ لفظ نہیں ہونا چاہیے وہ دوسرا نکال دے گا، تیسرا کہے گا یہاں یہ چیز ہونی چاہیے وہ کسی چیز کا اضافہ کر دے گا، تو پھر تو کتاب کی صورت ہی بدل جائے گی! تو سمجھ میں آیا بھئی؟ تو لہٰذا یہ امانت ہے، اس میں تبدیلی نہیں کی جاتی، اس کو اسی طرح اگلی نسلوں کی طرف منتقل کیا جائے گا جیسا صاحبِ ہدایت النحو کی طرف سے ہمیں پہنچی ہے۔ درمیان میں اگر کہیں غلطی ہوئی ہے تو اس کو اسی طرح رکھتے ہیں بھئی۔ جیسے آپ بھئی پڑھیں گے ان شاء اللہ تعالیٰ آگے چل کر مشکوٰۃ میں۔ صاحبِ مشکوٰۃ نے احادیث جمع کی ہیں بھئی اپنی کتاب مشکوٰۃ کے اندر، اور حدیثوں کے بعد پھر وہ آخر میں انہوں نے جگہیں کچھ خالی چھوڑ دیں، حوالہ دیتے ہیں وہاں پر کہ یہ حدیث مثلاً بخاری شریف میں ہے یا یہ حدیث مسلم شریف میں ہے یا ترمذی وغیرہ میں۔ تو وہ حوالہ دیتے ہیں۔ تو انہوں نے وہ جگہیں خالی چھوڑ دی تھیں کہ ان کے اندر میں حوالے لکھوں گا کتاب کے اندر۔ تو کچھ انہوں نے حوالے لکھے تھے اور کچھ ابھی حوالے باقی تھے کہ ان کا انتقال ہو گیا، اور وہ جگہیں خالی رہ گئیں۔ بعد میں علماء آئے اور انہوں نے ساروں کے حوالے نکال لیے کہ یہ بخاری میں ہے، یہ ابو داؤد میں ہے، یہ ترمذی میں ہے، یہ مسلم میں ہے، سارے حوالے نکال لیے، لیکن انہوں نے وہ حوالے ان خالی جگہوں پر نہیں لکھے بھئی! کیونکہ وہ تو صاحبِ مشکوٰۃ کی کتاب ہے، اس میں کوئی اضافہ نہیں کر سکتا، اس کے لیے اضافہ کرنا صحیح نہیں ہے۔ تو چنانچہ پھر محشی حضرات وہاں کیا کرتے ہیں؟ اس خالی جگہ کے اوپر حاشیہ نمبر دے دیتے ہیں کہ اس کا حوالہ آپ حاشیے میں دیکھ لیں، ہمیں اس کا حوالہ مل گیا ہے۔ پھر حاشیے میں حوالہ درج کرتے ہیں، اصل کتاب میں جو خالی جگہ ہے اس کو اسی طرح خالی رکھتے ہیں۔ کیونکہ یہ کتابیں کیا ہیں؟ یہ ان مصنفین کی طرف سے ہمیں امانت ملی ہیں جو ہم نے اگلی نسلوں تک پہنچانی ہیں، تاکہ ان کو پتہ چلے کہ یہ اس مصنف کی کتاب ہے اور اس میں کوئی تبدیلی وغیرہ نہیں کی گئی، یہ انہی کی باتیں ہیں ساری بھئی۔ تو کہتے ہیں بھئی: ”وَرَتَّبْتُهُ عَلَىٰ مُقَدِّمَةٍ وَثَلَاثَةِ أَقْسَامٍ وَخَاتِمَةٍ“، اور میں نے اس کو ترتیب دیا ایک مقدمے پر اور تین اقسام پر اور ایک خاتمے پر، ”بِتَوْفِيقِ الْمَلِكِ الْعَزِيزِ الْعَلَّامِ“۔ الملک: بادشاہ، العزیز: زبردست، العلام: خوب جاننے والا۔ تو میں نے اس کو مرتب کیا ایک مقدمے پر، تین اقسام پر، اور ایک خاتمے پر، ”بِتَوْفِيقِ الْمَلِكِ الْعَزِيزِ الْعَلَّامِ“، اس ذات کی توفیق سے جو بادشاہ ہے، العزیز جو زبردست ہے، العلام جو خوب جاننے والی ہے، یعنی اللہ کی توفیق سے میں نے اس کتاب کی کو ترتیب دیا اس مقدمے اور تین اقسام پر بھئی۔ چلیے، بس بھئی۔ ”هَٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔