اچھا مولانا، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الكلمة لفظ۔ اچھا۔ مصنف رحمہ اللہ، علامہ ابن حاجب؛ انہوں نے بسم اللہ کے بعد الكلمة لفظ کہا۔ جبکہ ہمارے باقی مصنفین کا جو طریقہ ہے، وہ بسم اللہ کے بعد کس کو ذکر کرتے ہیں؟ الحمد للہ کو ذکر کرتے ہیں۔ انہوں نے الحمد للہ کو ذکر نہیں کیا۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ کیونکہ حدیث آتی ہے بسم اللہ کے بارے میں بھی ہے، الحمد للہ کے بارے میں بھی ہے۔ کل امر ذی بال لم يبدأ فيه بسم اللہ فهو أبتر۔ اور اسی طرح کل امر ذی بال لم يبدأ فيه بالحمد للہ فهو أبتر۔ समझ में आया؟ تو یہاں انہوں نے ذکر نہیں کیا بھئی۔ جواب یہ مولانا کہ مصنف رحمہ اللہ نے اگرچہ کتاب میں ذکر نہیں کی، لیکن یقیناً انہوں نے زبان سے ضرور پڑھی ہوگی۔ کیونکہ مصنف جو ہیں بہت بڑے محدث، فقیہ، نحوی، اور بڑے متقی، بہت بڑے ولی اللہ گزرے ہیں؛ تو یقیناً انہوں نے اس پر عمل کیا ہوگا۔ تو الحمد للہ کو کتاب کا جز بنانا ضروری نہیں۔ ہاں بسم اللہ تو شروع میں کتابت بسم اللہ کی ضروری ہے، علماء لکھتے ہیں، لیکن الحمد للہ اگر زبان سے بھی پڑھ لی جائے تو یہ بھی کافی ہے، تو انہوں نے بھی یقیناً کیا کیا ہوگا زبان سے پڑھ لی۔ یا انہوں نے مولانا کہتے ہیں الحمد للہ اس لیے ترک کر دیا، نہیں لکھی شروع میں کہ عاجزی کرتے ہوئے مولانا؛ کہ بھئی ہمارے بزرگ تو بسم اللہ کے بعد الحمد للہ لکھتے ہیں اپنی کتابوں میں، لیکن عاجزی کرتے ہوئے بھئی میرا تو یہ چھوٹا سا رسالہ ہے، پتہ نہیں کسی کام کا ہے یا کسی کام کا نہیں ہے، تو میں اس کے شروع میں الحمد للہ لکھتا لکھوں گا، تو گویا کہ میں نے بھی اپنی کتاب کو کن کی کتابوں کی طرح سمجھ لیا بزرگوں کی کتابوں کی طرح، حالانکہ یہ میرے نزدیک تو کیا ہے بڑی معمولی سی کتاب ہے، اس لیے عاجزی کرتے ہوئے انہوں نے شروع میں الحمد للہ کو کیا کر دیا؟ ترک کر دیا، وہ الگ بات ہے کہ اس کتاب کا بڑا عظیم مقام ہے مولانا، اور سینکڑوں سال سے مدارس دینیہ کے اندر اس کو اولیاء کرام پڑھ رہے ہیں۔ کہتے ہیں الكلمة لفظ۔ وضيع لمعنى مفرد، مفردًا، مفردًا تینوں طرح تینوں اعراب جائز ہیں۔ بھئی آپ نے الف لام کی قسمیں پڑھی تھیں کہ الف لام اسمی ہے اور الف لام حرفی ہے۔ اب آپ مجھے بتائیے الكلمة پر الف لام اسمی ہے یا الف لام حرفی ہے بھئی؟ الف لام حرفی ہے۔ کیونکہ الف لام اسمی تو کس پر آتا ہے اسم فاعل پر اور اسم مفعول پر۔ اب پھر الف لام اسمی کے اندر یہ کون سی قسم ہے بھئی؟ الف لام جنسی ہے یا استغراقی ہے یا عہد ذہنی ہے یا عہد خارجی؟ کون سی قسم بنے گی؟ یہ الف لام جنسی بنے گی۔ وجہ اس کی یہ کہ کلمہ کی تعریف ہو رہی ہے مولانا آگے، اور تعریف جنس اور حقیقت کی ہوتی ہے، ماہیت کی ہوتی ہے، افراد کی نہیں۔ جبکہ استغراقی، عہد ذہنی اور عہد خارجی سے تو کیا مراد ہوتے ہیں؟ افراد مراد ہوتے ہیں۔ اور تعریف کس کی کی جاتی ہے مولانا؟ حقیقت کی کی جاتی ہے، جنس کی کی جاتی ہے اور ماہیت کی کی جاتی ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ تعریف ہو رہی ہے، اس لیے الف لام جنسی ہوا بھئی۔ الف لام جنسی۔ تو کلمہ لفظ ہے، وضعا... یاد رکھو مولانا، نکرہ کے بعد فعل آئے، تو ترکیب کیا کریں گے؟ ما قبل نکرہ کو موصوف بنائیں گے اور وہ فعل جملہ فعلیہ ہو کر اس کے لیے کیا بنے گا؟ صفت بنے گا۔ نکرہ کے بعد کیا آئے بھئی؟ فعل آئے تو کیا بنے گی ترکیب میں بھئی؟ نکرہ کو کیا بنائیں گے؟ موصوف اور اس کے بعد جو فعل ہے وہ جملہ فعلیہ ہو کر اس کے لیے صفت بنے گا۔ صفت بنے گا۔ اسی طرح یاد رکھو نکرہ کے بعد جار مجرور آ جائیں، وہ بھی عموماً اس نکرہ کے لیے کیا بنیں گے؟ صفت بنیں گے۔ جیسے نکرہ کے بعد فعل آئے تو کیا بنتے ہیں؟ جے۔ نکرہ کے بعد فعل آئے تو کیا بنے گا؟ نکرہ موصوف۔ بھئی زبان سے کیوں نہیں پڑھتے آپ لوگ کیوں خاموش بیٹھے ہیں؟ سمجھ میں آیا؟ خاموش نہیں بیٹھنا میرے سبق میں خاموش کسی نے نہیں بیٹھنا۔ چست رہو، چست بیٹھو اور فورا جواب دو جو میں پوچھوں۔ مجھے پتہ ہے ایک دفعہ میں نے بات بتا دی، آپ کو آ گئی، لیکن بار بار میں تکرار کروایا کرتا ہوں، بھئی ذہن میں اچھی طرح بیٹھ جائے اچھی طرح۔ تو لفظ نکرہ ہے اس کے بعد کیا آیا فعل، اس کے بعد فعل آئے گا تو اس کے لیے کیا بنے گا؟ صفت۔ اسی طرح نکرہ کے بعد اگر جار مجرور آ جائے تو بھی کیا بنا کرتے ہیں؟ صفت۔ جے۔ موصوف صفت بنایا کرتے ہیں۔ تو یہاں بھی دیکھیے لفظ نکرہ ہے اور اس کے بعد وضعا فعل آ رہا ہے، تو لفظ کو موصوف بنائیں گے اور وضعا پورا جملہ فعلیہ اس کے لیے کیا بنے گا؟ صفت بنے گا۔ صفت پڑھو، صفت مولانا صفت کیا ہوتا ہے؟ صفت عربی میں گول تا آتی ہے صفت میں۔ تانیث کی۔ اور عربی کے اندر تاۓ تانیث سے ماقبل ہمیشہ آپ تلاش کر لیں آپ کو مفتوح ملے گا۔ صفت، قائمة، ضاربة وغیرہ کوئی بھی آپ مثال دیکھ لیں، تاۓ تانیث سے ماقبل مفتوح ہوگا بھئی۔ صفت۔ تو یہ صفت بنے گی بھئی۔ اور یاد رکھو موصوف صفت کا ترجمہ میں ترجمہ کرتے ہوئے موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ عموماً لے آئیں گے۔ ایسا یا ایسی۔ تو الكلمة لفظ کلمہ ایسا لفظ ہے، لفظ موصوف ہے اس سے میں پہلے میں ایسا لے آیا۔ کلمہ ایسا لفظ ہے وضعا کہ اسے وضع کیا گیا ہو لماعنا کس کے لیے؟ ایک معنی کے لیے، مفردا وہ معنی کیسا ہو؟ مفرد۔ تو اس کو وضع کیا گیا ہو لماعنا مفردا، دیکھو معنا موصوف مفردا اس کی صفت، تو پھر وہی اس کو وضع کیا گیا ہو ایسے معنی کے لیے جو کیا ہو؟ مفرد ہو، مفرد ہو۔ یعنی معلوم ہوا مرکب نہ ہو۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ کیا ترجمہ کریں گے؟ کلمہ ایسا لفظ ہے جسے وضع کیا گیا ہو ایسے معنی کے لیے جو مفرد ہو۔ مفرد کے بارے میں یاد رکھیں مولانا، اس کے تین اعراب پڑھنا جائز ہے۔ مفردًا، مفردًا، مفردًا۔ اگر آپ اس کو پڑھتے ہیں مفردًا، تو پھر یہ صفت بنے گی لفظ کے لیے۔ لفظ کیا تھا؟ مرفوع تھا۔ تو اس کی صفت مفردًا بھی کیا آئے گی؟ مرفوع۔ اور وضعا لماعنا یہ بھی اس کے لیے کیا تھی صفت؟ تو یہ صفت لفظ موصوف، وضعا لماعنا صفت اول اور مفردًا صفت ثانی۔ تو اب ترجمہ یوں کریں مولانا، کلمہ ایسا لفظ ہے جسے وضع کیا گیا ہو معنی کے لیے، اور ایسا لفظ ہے جو مفرد ہو۔ ایسا لفظ ہے جسے وضع کیا گیا ہو معنی کے لیے، اور وہ کیا ہو؟ وہ لفظ مفرد ہو، لفظ یعنی اس مرکب نہ ہو، اس کے اجزا نہ ہوں۔ یعنی جز لفظ، جز معنی پر دلالت نہ کرتا ہو۔ یہ ترکیب سب کو سمجھ میں آئی؟ مفردًا بھی اس کو پڑھ سکتے ہیں، ابھی جیسے میں نے بتایا۔ مفردًا پڑھیں گے تو پھر یہ معنی کی صفت بن جائے گا بھئی۔ معنی پر کیا داخل ہو رہا ہے مولانا؟ لام جارہ، اور لام جار کیا عمل کرتا ہے؟ جار دیتا ہے مولانا، تو معنا موصوف، یہ مجرور ہے، تو مفردًا اس کی صفت بھی کیا ہو جائے گی؟ مجرور ہو جائے گی۔ تو یہ موصوف صفت۔ تو اب عبارت کیوں ہوئی؟ الكلمة لفظ وضع لماعنا مفردًا۔ کلمہ ایسا لفظ ہے جسے وضع کیا گیا ہو ایسے معنی کے لیے جو مفرد ہو۔ اب دیکھو وہ معنی مفرد ہونا چاہیے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ یعنی اس وہ معنی مرکب نہ ہو۔ یہ دوسری ترکیب ہوئی۔ بھئی سوال؛ یہ بتائیے سولہ، یہ ماننا سولہ قسموں میں سے کون سی قسم ہے بھئی؟ बताؤ بھئی! سولہ قسموں میں سے کون سی قسم ہے بھئی؟ اس میں منقوص کس کو کہتے ہیں؟ یا یا ماقبل مقصور ہے۔ معنی ہے کوئی لفظ؟ لفظ تو معنی ہوتا ہے۔ بتاؤ بھئی سولہ قسموں میں کیا ہے؟ بھئی، یہ اسم مقصور ہے۔ یہ کیا ہے؟ اسم مقصور ہے۔ اسم مقصور کس کو کہتے ہیں؟ جس کے آخر میں الف مقصورہ آئے بھئی۔ جس کے آخر میں کیا آئے؟ آپ کہیں گے یہاں تو کوئی الف مقصورہ نہیں ہے، بھئی الف مقصورہ کبھی لفظوں میں ہوتا ہے، کبھی تقدیراً ہوتا ہے، یہاں الف مقصورہ کیا ہے؟ تقدیراً موجود ہے۔ تقدیراً موجود ہے۔ جیسے میں نے کہا موسیٰ۔ موسیٰ میں کیا ہے؟ الف مقصورہ لفظوں میں موجود۔ یہاں معناں مولانا، اصل میں تھا معنی۔ معناں اصل میں کیا تھا؟ مفعول معنایون۔ جے۔ معنایون میں آپ بتائیے، دیکھیے، یا متحرک ہے، معنایون، یا متحرک اور ماقبل کیا آ رہا ہے؟ فتحہ، اور یا متحرک ماقبل فتحہ ہو اس کو کس سے بدلتے ہیں؟ الف سے۔ الف سے بدلتے ہیں یا نہیں بدلتے؟ جی۔ الف مقصورہ آگیا یا نہیں آگیا؟ آ گیا۔ اب لفظ کیا بنا؟ معنان بنا بھئی۔ بھئی نون تنوین ہے یا نہیں آگے؟ تنوین آپ نے پڑھا ہے نون ساکن کو کہتے ہیں، تو پہلے کیا تھا معنایون، اب یہ نون اپنی جگہ ہے، صرف ہم یا پر نظر کر رہے ہیں، یا متحرک تھی ماقبل کیا تھا؟ فتحہ۔ اس کو کس سے بدلا؟ الف سے۔ کیا بنا؟ معنان۔ الف بھی ساکن، نون بھی ساکن، اول مدہ تھا۔ تو اجتماعی ساکن علی غیر حدی آ گیا، تو اول مدہ تھا، اس کو کیا کر دیا؟ گرا دیا۔ کیا بن گیا؟ معنان۔ معنان وہی ہے یہاں پر لیمعنان۔ لیمحنان۔ جے۔ تو یہ میں نے حالت رفیع میں بتلا دیا، اسی طرح آپ حالت جری میں کر لیں اس کی تعلیل۔ تو یہ مولانا اسم مقصور ہے اور یہاں الف کیا ہے؟ تقدیراً موجود ہے۔ الف مقصورہ کیا ہے؟ تقدیراً موجود ہے۔ تو اب آپ کے بہت سے اشکالات حل ہوئے اس سے مولانا۔ فتن، فتن یہ بھی کیا ہے مولانا؟ اس میں مقصور ہے۔ فتن۔ اسی طرح عصا، عصا۔ بھئی اس پر الف لام آئے گا تو آپ پڑھیں گے المعنا۔ اب چونکہ وہ تنوین نہیں ہے نا۔ تو اب وہ الف نہیں گرے گا۔ المعنا۔ المعنا یو تھا۔ پھر کیا ہوا؟ یا کس سے بدلا؟ المعنا رہے گا۔ العصا۔ یہاں بھی اسی طرح ہے، الف لام ہوگا تو پھر عصا کے آخر میں کیا آئے گا؟ الف آئے گا، لیکن الف لام نہ ہو تو پھر یہ الف کیا ہو جائے گا؟ گر جائے گا، العصا کہیں گے بھئی عبارت میں۔ میان۔ اسی طرح الفتا۔ الف لام ہو تو پھر کیا ہوگا؟ الف آئے گا، لیکن اگر الف لام نہیں ہے تو تنوین کی وجہ سے وہ الف کیا ہوگا؟ گر جائے گا۔ صورت سب کو سمجھ میں آئی بھئی؟ تو لیمعنان۔ تو اس پر یہ اسم مقصور ہے، اور اسم مقصور کا اعراب کیا ہوتا ہے تینوں حالتوں میں؟ تقدیری ہوتا ہے۔ تو یہ بھی تقدیراً کیا ہے؟ مجرور۔ کیونکہ لام جارہ داخل ہوا، تو یہ مجرور ہوا، تو اس کی صفت بھی کیا آئی؟ مجرور تو لیمعنان مفردًا۔ اب سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو موصوف کا اعراب ہے تقدیری اور صفت کا اعراب ہے لفظی۔ اس میں لفظوں میں تلفظ کر رہے ہیں ہم کس پر؟ جر پر۔ مشکل بات تو نہیں کر رہا بھئی میں۔ سب کو سمجھ میں آ رہی ہے۔ یہ دو ترکیبیں ہوئیں۔ تیسری کیا ترکیب ہوگی؟ مفردًا پڑھیں گے۔ اس صورت میں یہ حال بنے گا بھئی۔ کیا بنے گا؟ حال بنے گا۔ اور آگے چل کر صاحب قافیہ بتلائیں گے مولانا، صاحب قافیہ کا مذہب یہ ہے کہ حال وہ حالت بتلاتا ہے کس کی؟ فاعل کی یا مفعول کی یا دونوں کی۔ تو جو فاعل یا مفعول کی حالت بیان کرے اسے کیا کہتے ہیں؟ حال کہتے ہیں، اور حال کیا ہوتا ہے اعراب اس کا؟ منصوب، لہٰذا اس کو بھی کیا پڑھیں گے؟ مفردًا۔ اب یہ کس سے حال ہے؟ تو دیکھیے مولانا، ایک وضع کے اندر ہوا ضمیر ہے۔ وضع کے اندر کیا ہے؟ وضع فعل ہے مولانا، ہر فعل کے لیے فاعل یا نائب فاعل چاہیے یا نہیں چاہیے؟ دنیا میں کوئی ایسا فعل آ سکتا ہے جس کا فاعل یا نائب فاعل نہ ہو؟ نہیں، جب بھی فعل آئے گا وہ ہمیشہ کس کو چاہے گا؟ فاعل کو یا اور یہاں پر وضع کے اندر کیا ہے؟ ہوا ضمیر، اور یہ فعل مجہول ہے، تو وہ زمین کیا ہے؟ فاعل ہے یا نائب فاعل؟ شاباش، وہ نائب فاعل ہے۔ تو آپ یہ نائب فاعل جو ہے ہوا، اور وہ ہوا ضمیر کس کو راجع ہے مولانا؟ لفظ کو، کس کو راجع ہے؟ لفظ کو راجع ہے، تو اس ہوا ضمیر جو فاعل ہے، نائب فاعل ہے، اس سے مفردًا کیا واقع ہو رہا ہے؟ حال تو کلمہ... ایسا لفظ ہے جسے وضع کیا گیا ہو اس حال میں کہ وہ کیا ہو؟ مفرد ہو۔ اس حال میں کہ وہ کیا ہو؟ مفرد ہو۔ ایسے معنی او... किस के लिए؟ معنی کے لیے بھئی۔ کس کے لیے وضع کیا گیا ہو؟ معنی کے۔ تو کلمہ ایسا لفظ ہے جس کو معنی کے لیے وضع کیا گیا ہو اس حال میں کہ وہ کیا ہو لفظ؟ مفرد ہو۔ یعنی مرکب نہ ہو، وہ ہو۔ ایک تو یہ ترکیب ہوئی۔ کس سے حال بنایا ہم نے اس کو؟ وضع کی وہ ضمیر سے۔ یا مولانا اس کو حال بنا لیں کس سے؟ معنی سے۔ کس سے حال بنائیں؟ معنی سے۔ معنی سے حال بنا لیں۔ وضع لیمعنًا مفرداً۔ جس کو وضع کیا گیا ہو ایک معنی کے لیے اس حال میں کہ وہ معنی کیا ہو؟ مفرد ہو۔ اس پر آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا۔ کہ ابھی آپ نے بتایا صاحب قافیہ کیا فرماتے ہیں؟ حال کس کی حالت بیان کرتا ہے؟ فاعل یا مفعول کی (یعنی فاعل یا نائب فاعل یا مفعول کی)۔ تو یہ معنًا یہ تو نہ فاعل ہے نہ مفعول ہے، اس سے یہ حال کیسے آ سکتا ہے؟ یہ تو مجرور ہے مولانا۔ فاعل یا نائب فاعل ہوتا تو مرفوع ہوتا، تو ہم اس سے حال بنا لیتے، یا مولانا مفعول ہوتا تو منصوب ہوتا، تو پھر ہم اس سے کیا بنا لیتے؟ حال بنا لیتے، لیکن یہ تو اس وقت مجرور ہے، اس کو کوئی مفعول کہتا ہے؟ نہیں، پھر آپ نے اس سے کیسے بنایا حال؟ تو جواب یہ مولانا یہ مفعول ہی ہے، یہ کیا ہے؟ مفعول ہے۔ یاد رکھو، فعل متعدی کیا کرتا ہے؟ مفعول کو نصب دیا کرتا ہے۔ کیا کرتا ہے؟ نصب دیا کرتا ہے۔ لیکن کبھی کبھی ہم نے ایک فعل کو متعدی کرنا ہوتا ہے ایک مفعول کی طرف، لیکن وہ فعل اس کو براہِ راست نصب نہیں دے سکتا۔ اس لیے کہ وہ فعل لازم ہوتا ہے۔ اب فعل لازم جو ہے اس کا کوئی مفعول آتا ہے؟ نہیں، فعل لازم تو وہ ہے جس کا مفعول نہیں آتا مولانا، جب مفعول نہیں آتا تو یہ مفعول کو اس چاہتا نہیں، مفعول کو نصب بھی نہیں۔ لیکن ایک چیز ہے اس کو ہم اس کا مفعول بنانا چاہتے ہیں۔ مثلاً مرَّ۔ مرَّ کے معنی ہیں گزرنا۔ مرَّ۔ مررتُ میں گزرا۔ یہ فعل لازم ہے، یہ کسی مفعول کو نہیں چاہتا۔ لیکن میں بتلانا چاہتا ہوں کہ میں زید پر گزرا۔ کس کے پاس سے گزرا؟ زید کے۔ زید کے پاس سے گزرا۔ اب میں اس زید کو مفعول بنانا چاہتا ہوں، لیکن مررتُ اس زید کو نصب دے سکتا ہے؟ نہیں دے سکتا۔ کیوں؟ کیوں نہیں دے سکتا؟ کیونکہ یہ فعل لازم ہے، یہ مفعول کو نصب دیا ہی نہیں کرتا۔ تو اب مجبوری بن گئی، میں مفعول بنانا چاہتا ہوں، وہ بن نہیں سکتا براہ راست۔ مررتُ زیداً کہہ نہیں سکتا میں۔ پھر مولانا حروف جارہ کی مدد لیتے ہیں۔ ایسے موقع پر کس کی مدد لیتے ہیں؟ حروف جارہ کی۔ حروف جارہ کی۔ اب ہم ایک حرف جر لے آئے با اور اس کو زید پر داخل کر دیا، بِزید۔ اب مولانا جوڑ دیا۔ مررتُ بزید۔ کیا کہا آپ نے مررتُ بزید؟ بزید۔ میں کس پر سے گزرا؟ زید پر سے۔ استاد۔ میں کس کے پاس سے گزرا؟ زید کے۔ زید کے پاس سے گزرا، زید پر گزرا۔ استاد۔ میں کس کے پاس سے گزرا؟ زید کے۔ زید کے پاس سے گزرا، زید پر گزرا۔ تو اب مولانا یاد رکھو، یہ حروف جارہ جن پر داخل ہوں اور وہ جس فعل وغیرہ سے متعلق ہوں، تو یہ بھی دراصل مفعول ہیں، لیکن کس کے واسطے سے؟ بواسطہ حرف جر۔ جر کے۔ اسی طرح مثال کے طور پر میں کہتا ہوں، میں نے زید کی لاٹھی سے پٹائی کی۔ ضربتُ زیداً۔ میں نے کس کی پٹائی کی؟ زید کی۔ اور کس سے پٹائی کی؟ لاٹھی سے۔ تو اب اس لاٹھی کو بھی میں زید، ضربا کا مفعول بنانا چاہتا ہوں۔ لیکن مفعول تو وہ ایک ہی چاہتی تھا، ضربا متعدی ہے کتنے مفعول کی طرف؟ ایک کی طرف، اور وہ ایک آ چکا ہے، کون؟ زید۔ میں نے کس کی پٹائی کی ہے؟ زید کی۔ لیکن میں عصا کو بھی تو اس کا مفعول بنانا چاہتا ہوں۔ اب کیا کریں بھئی؟ یہ نصب دے نہیں سکتا، ایک کو نصب دیتا تھا اور یہ دے چکا ہے۔ اب میں حرف جر کی مدد لیتا ہوں، با لے آتا ہوں۔ بالعصا ضربتُ زیداً بالعصا۔ تو اب یہ اس کا مفعول بن گیا مولانا، لیکن براہ راستٹ کنا یا بواسطہ حرف جر کے؟ بواسطہ حرف جر۔ کے۔ تو یہ جو جو حروف جارہ کے واسطے سے کسی فعل سے متعلق ہوگا وغیرہ، تو یہ اس کے لیے کیا کہلائے گا؟ مفعول، لیکن مفعول بہ غیر صریح۔ ایک وہ ہے جس پہ بر نصب آ رہا ہے، وہ مفعول بہ صریح ہے، اور ایک یہ مجرور ہے، یہ کیا کہلاتا ہے؟ مفعول بہ غیر صریح کہلاتا ہے۔ سب کو سمجھ میں آئی بات؟ یہ مجرور کیا کہلاتا ہے بھئی؟ مفعول بہ غیر صریح۔ جے۔ مفعول بہ غیر صریح۔ اور جس پر نصب آئے وہ مفعول بہ صریح۔ تو معنًا بھی کیا ہے مولانا، مفعول بہی ہے، البتہ کون سا ہے؟ غیر صریح۔ اور مفعول بہی سے کیا آیا کرتا ہے؟ حال آیا کرتا ہے، تو اس سے بھی مفردًا حال کا آنا صحیح ہوا۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ چلیے مولانا، ہذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔