آگے سبق دیکھیے بھئی: ”وَمَنْ زُفَّتْ إِلَيْهِ غَيْرُ امْرَأَتِهِ، وَقَالَتِ النِّسَاءُ: إِنَّهَا زَوْجَتُكَ فَوَطِئَهَا، لَا حَدَّ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِ الْمَهْرُ، قَضَى بِذَلِكَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ وَبِالْعِدَّةِ، وَلِأَنَّهُ اعْتَمَدَ دَلِيلًا وَهُوَ الْإِخْبَارُ فِي مَوْضِعِ الِاشْتِبَاهِ“۔ بھئی گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر عورت کو رجم کرتے ہوئے اس کے لیے گڑھا کھود لیا جائے تو یہ بہتر ہے۔ اور پھر یہ بھی بتلایا تھا کہ آقا جو ہے وہ اپنے غلام پر حد قائم نہیں کر سکتا مگر اپنے امام کی اجازت سے۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے احصانِ رجم کی شرائط ذکر فرمائی تھیں۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا: ایک ہے احصانِ رجم اور ایک ہے احصانِ قذف، دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔ احصانِ رجم میں سات شرطیں ہیں اور احصانِ قذف میں پانچ شرطیں ہیں۔ احصانِ رجم کی سات شرطیں یہ ہیں: کہ وہ شخص جس نے زنا کیا ہے وہ عاقل ہو، بالغ ہو، آزاد ہو، مسلمان ہو، اس نے نکاحِ صحیح کیا ہو، اور اس کے بعد اس نے اپنی بیوی سے صحبت بھی کی ہو، اور ساتویں شرط یہ ہے کہ میاں بیوی دونوں صفتِ احصان پر ہوں۔ جبکہ احصانِ قذف کے اندر پانچ شرطیں ہیں، پہلی چار شرطیں تو یہی ہیں کہ وہ آزاد ہو، عاقل ہو، بالغ ہو، مسلمان ہو۔ اور پانچویں شرط یہ ہے کہ وہ زنا سے پاک دامن ہو۔ تو پھر ہی اس پر کوئی زنا کی تہمت لگائے گا تو اس پر حدِ قذف لگائی جائے گی، اگر اس کے اندر ان پانچ شرطوں میں سے کسی ایک شرط کی بھی کمی ہوئی تو پھر اس پر اگر کوئی زنا کا الزام لگائے تو اس پر حدِ قذف جاری نہیں کی جائے گی۔ اسی طرح احصانِ رجم کی یہ سات شرطیں جس میں موجود ہوں گی تو زنا کی حد کے طور پر اسے رجم کیا جائے گا، اور جس کے اندر ان سات شرطوں میں سے کوئی ایک شرط بھی کم ہو گئی تو پھر وہ محسن نہیں، جب محسن نہیں تو اس کو رجم نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کو سزا کے طور پر، حد کے طور پر کوڑے لگائے جائیں گے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے وجہ بتلائی تھی کہ عاقل بالغ ہونا تو اس لیے ضروری ہے کیونکہ عاقل بالغ ہی مکلف ہوتا ہے اور اسی کی وجہ سے وہ سزا کا اہل بھی ہوتا ہے۔ جبکہ اس کے علاوہ جتنی باقی شرطیں ہیں وہ ساری بڑی بڑی نعمتیں ہیں، اور بڑی بڑی نعمتوں کے ہوتے وقت جب ناشکری کی جائے تو وہ ناشکری بھی بڑے درجے کی ہے، وہ جرم بھی بڑے درجے کا ہے، لہٰذا سزا بھی سخت درجے کی ہونی چاہیے تو اس لیے اس کو رجم کیا جائے گا۔ اور دوسری دلیل یہ ذکر کی تھی کہ عقل اور بلوغ کے علاوہ یہ جو باقی پانچ شرطیں ہیں یعنی آزاد ہونا، مسلمان ہونا، نکاحِ صحیح کا ہونا، بیوی کے ساتھ صحبت کا کرنا اور میاں بیوی دونوں کا محسن ہونا، یہ ساری چیزیں جو ہیں یہ زنا سے روکنے والی ہیں، کیونکہ جب یہ آزاد ہے تو یہ اپنی مرضی سے نکاح کر سکتا ہے، لہٰذا آزادی زنا سے روکنے والی ہے۔ جب یہ آزاد ہے تو یہ نکاحِ صحیح کر سکتا ہے، جب نکاحِ صحیح کر سکتا ہے تو یہ چیز اسے زنا سے روکنے والی ہے۔ پھر جب نکاحِ صحیح کے بعد جب وہ بیوی سے صحبت کر لیتا ہے تو اس کے ذریعے اس کی خواہش پوری ہو گئی، لہٰذا یہ صحبت بھی اب اس کو زنا سے روکنے والی ہے۔ اور اسی طرح اسلام جو ہے، اسلام کی وجہ سے وہ مسلمان عورت کے ساتھ نکاح پر قادر ہوتا ہے تو یہ بھی اسے زنا سے روکنے والا ہے۔ نیز زنا کی وجہ سے نکاح کی حرمت کا اور بھی زیادہ پکا اعتقاد ہو گا اس کا۔ تو معلوم ہوا یہ سب چیزیں جو ہیں نکاح سے روکنے کا ذریعہ ہیں، نکاح سے روکنے کا سبب ہیں۔ تو جب اتنے سارے اسباب موجود ہیں زنا سے روکنے کے اور پھر بھی کوئی شخص زنا کرتا ہے تو یہ بڑا جرم ہے، لہٰذا اس کی سزا بھی سخت درجے کی ہونی چاہیے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ اسلام کے اندر ہماری مخالفت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ احصانِ رجم کے اندر اسلام کی شرط نہیں ہے، اسلام نہ ہو پھر بھی رجم کیا جائے گا کیونکہ حضور علیہ السلام نے دو یہودیوں کو رجم فرمایا تھا جنہوں نے زنا کیا تھا۔ تو ہم جواب دیتے ہیں کہ یہ جو حضور علیہ السلام نے رجم فرمایا تھا یہ تورات کے حکم سے تھا، چنانچہ حضور علیہ السلام نے ان سے پوچھا تھا ان یہودیوں سے کہ تورات میں زنا کی کیا سزا ہے؟ لیکن بعد میں یہ منسوخ کر دیا گیا اور حضور علیہ السلام کو ہر مقام پر قرآن ہی کے ذریعے فیصلہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ دونوں کا محسن ہونا بھی ضروری ہے، اس لیے کیونکہ اس کے ذریعے نعمت کامل ہوتی ہے۔ اگر خاوند یا بیوی دونوں میں سے ایک کے اندر آزادی یا اسلام یا نکاحِ صحیح وغیرہ ان میں سے کوئی شرط نہ پائی جائے تو پھر نعمت کامل نہیں، جب نعمت کامل نہیں تو پھر سزا بھی کامل درجے کی نہیں دی جائے گی بھئی۔ اور اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ زنا کی حد کے طور پر رجم اور کوڑے لگانا ان دونوں کو جمع نہیں کیا جا سکتا۔ زنا کی حد یا تو صرف رجم ہے یا صرف کوڑے ہیں، دونوں کو جمع نہیں کیا جا سکتا۔ اور نیز اسی طرح کوڑے لگانے کے ساتھ جلاوطنی کو جمع نہیں کیا جا سکتا، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غیر شادی شدہ اگر وہ زنا کرے تو اس کو کوڑے لگانے کے ساتھ ساتھ اس کو جلاوطن بھی کیا جائے گا، لیکن ہم کہتے ہیں: نہیں، یہ جلاوطنی جو ہے یہ حد کا حصہ نہیں ہے، یہ حاکم کے اختیار میں ہے، وہ بطورِ سیاست کے تو کر سکتا ہے۔ میں نے بتلایا تھا سیاست کہتے ہیں: ملکی معاملات چلانے کی تدبیر اور انتظام جو ہے اس کو سیاست کہتے ہیں، ملکی نظام چلانے کے لیے جو حکمتِ عملی اپنائی جائے اس کو سیاست کہتے ہیں۔ تو امیر جو ہے اگر وہ اس کو بہتر سمجھتا ہے کہ اس سے زیادہ اثر پڑے گا لوگوں کو یا اس شخص کو، تو پھر سیاسۃً وہ جلاوطن بھی کر سکتا ہے۔ لیکن یہ جلاوطن کرنا سیاسۃً ہے، یہ حد کا حصہ نہیں ہے کیونکہ حد جو ہے قرآن کے اندر وہ صرف سو کوڑے ذکر ہیں۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ“ تو یہاں صرف سو کوڑے ذکر ہیں، لہٰذا یہی حد ہے بھئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ اگر مریض زنا کر لے اور اس پر حد ثابت ہو جائے تو پھر کیا اسی مرض کی حالت میں اس پر حد جاری کی جائے گی یا تندرست ہونے کا انتظار کیا جائے گا؟ تو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ اگر اس مریض کی حد جو ہے وہ کوڑے ہیں تو پھر اس کے تندرست ہونے کا انتظار کیا جائے گا کیونکہ اگر ہم نے بیماری میں اس کو کوڑے لگائے پھر تو یہ ہلاک ہو جائے گا، حالانکہ یہ ہلاکت کا مستحق نہیں ہے۔ لیکن اگر اس کی حد جو ہے وہ رجم ہے پھر بیماری کے اندر ہی رجم کر دیا جائے گا کیونکہ رجم نے بھی اس کو موت تک ہی پہنچانا ہے بھئی۔ اور اگر زنا کرنے والی حاملہ ہے تو پھر انتظار کیا جائے گا وضعِ حمل کا یہاں تک کہ وہ بچے کو جنم دے دے، اس کے بعد اس پر حد جاری کی جائے گی۔ اور اگر اس حاملہ کی حد جو ہے وہ کوڑے لگانا ہے تو پھر بچے کی پیدائش کے فوراً بعد کوڑے نہیں لگائیں گے بلکہ نفاس کے گزرنے کا انتظار کریں گے کیونکہ نفاس بھی ایک قسم کی بیماری ہے، اس کے بعد کوڑے لگائیں گے۔ اور اگر اس عورت کی حد جو ہے وہ رجم ہے تو پھر نفاس کے گزرنے کا انتظار نہیں کیا جائے گا۔ جبکہ امام صاحب سے روایت ہے کہ اس عورت کے رجم کو مؤخر کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ بچہ جو ہے وہ اپنے افعال خود سرانجام دینے لگے، وہ ماں سے بے نیاز ہو جائے، تو پھر اس کے بعد اس عورت کو رجم کیا جائے گا، اس سے پہلے رجم نہیں کیا جائے گا بھئی۔ اور پھر اس کے بعد ہم نے ”باب الوطء الذي يوجب الحد والذي لا يوجبه“ شروع کیا تھا کہ کس وطی کی وجہ سے حد واجب ہو گی اور کس وطی کی وجہ سے حد واجب نہیں ہو گی۔ تو صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ وہ وطی جس کی وجہ سے حد واجب ہوتی ہے وہ زنا ہے۔ اور شریعت میں اور اہلِ لسان یعنی عرب کے ہاں زنا اس کو کہتے ہیں کہ کوئی مرد عورت کے اگلے مقام میں وطی کرے جہاں نہ اس کی ملکیت ہو اور نہ شبہۂ ملکیت ہو۔ کوئی مرد کسی عورت کے اگلے مقام میں وطی کرے جہاں پر نہ ملکیت ہے، نہ شبہۂ ملکیت ہے۔ ملکیت نہیں ہے یعنی اس آدمی کے لیے اس عورت میں نہ ملکِ نکاح ہے اور نہ ملکِ یمین ہے، یعنی نہ اس کی منکوحہ ہے اور نہ اس کی باندی ہے۔ اور نیز شبہۂ ملک بھی نہیں ہے یعنی کسی قسم کا وہاں ملکیت کا شبہ بھی نہیں ہے بھئی۔ تو گویا معلوم ہوا زنا کے اندر تین قیدیں معتبر ہیں: پہلی قید تو یہ ہے کہ وطی کرنے والا مرد ہو۔ دوسری قید یہ ہے کہ عورت کے اگلے مقام میں وطی کی جائے۔ اور تیسری قید یہ ہے کہ وہاں پر نہ ملکیت ہو اور نہ شبہۂ ملکیت ہو۔ تو یہ تین قیدیں معتبر ہیں، یہ تینوں قیدیں پائی جائیں گی تو پھر اس کو زنا کہیں گے بھئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا: شبہۂ ملکیت سے بھی اس عورت کو خالی ہونا چاہیے، وجہ یہ ہے کہ یہ جو حد ہے یہ انتہا درجے کی سزا ہے اور معمولی سے شک اور شبہے سے بھی یہ ساقط ہو جاتی ہے۔ چنانچہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ادْرَءُوا الْحُدُودَ بِالشُّبُهَاتِ“ کہ تم حدود کو چھوڑ دیا کرو شبہوں کی وجہ سے۔ تو لہٰذا جہاں ملکیت کا شبہ بھی آئے گا تو حد ساقط ہو جائے گی۔ اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ یہ جو شبہ ہے یہ دو قسم پر ہے: ایک شبہ فی الفعل ہے اور ایک شبہ فی المحل ہے۔ شبہ فی الفعل وہ ہے کہ جو کسی اشتباہ کی وجہ سے پیدا ہو جائے، وہاں کوئی شرعی دلیل نہیں، یعنی اس آدمی کو فعل میں شبہ لگ گیا، وہ سمجھا میرے لیے یہ وطی حلال ہے، حالانکہ وہ وطی تو اس کے لیے حلال نہیں، تو اس شبہ فی الفعل کو شبہۂ اشتباہ بھی کہتے ہیں بھئی۔ اور یہ آدمی کے گمان کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے شاید میرے لیے یہ وطی حلال ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ حلال نہیں ہوتی۔ جبکہ دوسرا شبہ فی المحل ہے یعنی وہ جو محل ہے جس سے جہاں وہ وطی کر رہا ہے، یعنی وہ جو موطوءہ ہے وہ عورت جو ہے، اس عورت کے اندر ہی شبہ آ گیا، تو یہ شبہ فی المحل ہے، اس محل میں شبہ آ گیا۔ اور اس کو شبہ فی الملک بھی کہتے ہیں یعنی ملکیت کا شبہ۔ یہاں باقاعدہ ملکیت کا شبہ آتا ہے ایک شرعی دلیل کی وجہ سے، تو باقاعدہ شرعی دلیل کی وجہ سے ملکیت کا شبہ آتا ہے اس لیے اس کو شبہ فی الملک کہتے ہیں یا شبہ فی المحل کہتے ہیں، اور نیز اس کو شبہۂ حکمیہ کہتے ہیں یعنی یہاں حلال ہونے کے حکم کا شبہ ہوتا ہے کہ شاید یہ حلال ہے۔ تو حلال ہونے کا حکم، اس کا شبہ ہوتا ہے، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ شبہۂ حکمیہ کہتے ہیں۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ شبہ فی الفعل جو ہے وہ بندے کے اشتباہ کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے تو وہاں بندے کے گمان کا دخل ہے۔ اگر بندے کا گمان ہے کہ یہ وطی میرے لیے حلال تھی تو حد نہیں آئے گی، اور اگر اس آدمی کا یہ گمان ہے کہ یہ وطی میرے لیے حرام تھی تو پھر تو کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں، خود اس کے گمان کی وجہ سے شبہے نے آنا تھا، وہ شبہ بھی یہاں پر نہیں ہے، تو لہٰذا اس صورت کے اندر اس پر حد جاری ہو گی جب وہ آدمی کہتا ہے کہ میں جانتا تھا یہ وطی میرے لیے حرام ہے۔ جبکہ شبہ فی المحل وہ ایک شرعی دلیل کی وجہ سے آتا ہے لہٰذا وہاں پر بندے کی رائے اور گمان کا کوئی دخل نہیں، وطی کرنے والا بے شک کہے: میں جانتا تھا میرے لیے یہ وطی حرام ہے پھر بھی میں نے وطی کر لی، پھر بھی وہاں پر حد نہیں آئے گی کیونکہ یہاں پر شبہ اس کے گمان کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ یہاں شبہ ایک شرعی دلیل کی وجہ سے ہے۔ تو حاصلِ کلام یہ کہ شبہ فی الفعل کے اندر وطی کرنے والے کی رائے کا دخل ہے اور شبہ فی المحل کے اندر وطی کرنے والے کی رائے کا کوئی دخل نہیں۔ اور پھر میں نے یہ بھی بتلایا تھا کہ شبہ فی الفعل میں بندے کی رائے کا دخل ہے لہٰذا یہ وہیں پر معتبر ہو گا جو شبہے کا محل بھی ہے، جہاں شبہ آ بھی سکتا ہے۔ جہاں شبہ ہی نہیں آ سکتا، وہاں کوئی کہتے رہے مجھے شبہ ہوا تھا، اس کے اس شبہے کا کوئی اعتبار نہیں۔ جیسے مثلاً بیٹا جو ہے باپ کی باندی سے یا ماں کی باندی سے یا کوئی خاوند اپنی بیوی کی باندی سے صحبت کر لے تو یہ سب شبہے کے محل ہیں بھئی، کیونکہ ان سب کے اندر مال کے اندر بے تکلفی ہوتی ہے، بیٹا اور باپ ایک دوسرے کا مال استعمال کرتے ہیں، ماں اور بیٹا ایک دوسرے کا مال استعمال کرتے ہیں، خاوند اور بیوی ایک دوسرے کا مال استعمال کرتے ہیں، تو یہاں کسی کو شبہ لگ سکتا ہے۔ لہٰذا اگر وہ کہتا ہے کہ میرا تو خیال تھا کہ یہ باندی میرے لیے حلال ہے تو حد ساقط ہو جائے گی کیونکہ یہ محلِ شبہ ہے۔ لیکن اگر وہ کہتا ہے: میں جانتا تھا یہ وطی میرے لیے حرام ہے میں نے پھر بھی وطی کر لی تو پھر حد جاری کی جائے گی۔ تو معلوم ہوا شبہ فعل اسی مقام پر معتبر ہے جو شبہے کا محل ہو، اگر شبہے کا محل ہی نہیں تو پھر وہاں شبہ فی الفعل کا کوئی اعتبار نہیں۔ مثلاً ایک آدمی اپنے بھئی کی باندی سے صحبت کر لیتا ہے یا اپنے چچا کی باندی سے صحبت کر لیتا ہے تو دو بھائیوں کے درمیان یا چچا اور بھتیجے کے درمیان تو مال کے اندر اتنی بے تکلفی نہیں ہوتی، ایک دوسرے کا مال بے تکلفی سے استعمال نہیں کرتے، لہٰذا یہ شبہے کا محل نہیں، تو بے شک وہ کہتا رہے: میں تو سمجھا تھا میرے لیے حلال ہے، لیکن یہ تو شبہے کا محل ہی نہیں، تو لہٰذا حد جاری کی جائے گی بھئی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا تھا کہ شبہ فی الفعل جو ہے وہ تو محض زنا ہی ہے لہٰذا اس کی وجہ سے نسب ثابت نہیں ہو گا، جبکہ شبہ فی المحل وہ تو باقاعدہ ایک شرعی دلیل سے پیدا ہوا ہے لہٰذا اس کی وجہ سے نسب بھی ثابت ہو جائے گا اگر وطی کرنے والا نسب کا دعویٰ کرے۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے وہ جگہیں شمار کروائی تھیں جہاں پر شبہ فی الفعل آتا ہے اور جہاں شبہ فی المحل آتا ہے، اور آپ کو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ شبہ فی الفعل جو ہے وہ آٹھ جگہوں میں آتا ہے: آٹھ جگہیں، پہلا مقام ہے باپ کی باندی، دوسرا مقام ہے ماں کی باندی، تیسرا مقام ہے بیوی کی باندی، چوتھا مقام ہے وہ مطلقہ جسے تین طلاقیں دی گئی ہیں اور ابھی وہ عدت میں ہے، اور پانچواں مقام ہے وہ مطلقہ جسے طلاقِ بائن دی گئی ہے مال کے عوض میں، مال کے عوض میں اور وہ ابھی عدت میں ہے، اور چھٹا مقام جو ہے وہ امِ ولد ہے جسے اس کا آقا زندگی میں ہی آزاد کر دے اور ابھی وہ عدت میں ہے بھئی، اور ساتواں مقام جو ہے وہ آقا کی باندی اسی آقا کے غلام کے لیے، اور آٹھواں مقام جو ہے وہ مرہونہ باندی ہے مرتہن کے حق میں۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو مرہونہ باندی ہے مرتہن کے حق میں، اس کے اندر شبہ فی الفعل ہے یا شبہ فی المحل ہے تو اس کے بارے میں امام محمد رحمہ اللہ سے دو روایتیں ہیں: کتاب الحدود کی روایت کے مطابق مرتہن مرہونہ باندی سے صحبت کر لے تو یہ شبہ فی الفعل کے قبیل سے ہے، اور کتاب الرہن کی روایت کے مطابق یہ شبہ فی المحل کے قبیل سے ہے بھئی۔ اور علماء نے، فقہاء نے کتاب الحدود کی روایت کو زیادہ صحیح قرار دیا ہے، کتاب الرہن کی روایت بھی صحیح ہے لیکن کتاب الحدود کی روایت زیادہ صحیح ہے۔ اور میں نے تفصیل بھی بیان کی تھی کہ شبہ فی المحل کس طرح ہے اور شبہ فی الفعل کس طرح ہے اس کے اندر؟ شبہ فی المحل اس طرح ہے کہ اس کے پاس جب مرہونہ باندی ہے تو اگر مرہونہ باندی اس مرتہن کے پاس ہلاک ہو جائے تو یوں سمجھا جائے گا اس نے اپنا دین وصول کر لیا، اور یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ اس نے ابھی وصول کیا ہے بلکہ جس وقت اس نے اس رہن پر قبضہ کیا تھا اس وقت سے ہی اس کی ملکیت شمار کی جائے گی۔ تو معلوم ہوا جس وقت سے مرتہن نے رہن پر قبضہ کیا ہے اس وقت سے ہی اس کی ملکیت شمار ہو گی، تو اس اعتبار سے تو گویا باندی کے اندر اس کی فی الحال بھی ملکیت ثابت ہے۔ جب فی الحال بھی ملکیت ثابت ہے تو لہٰذا اس کے لیے وطی جائز ہونی چاہیے۔ یہ شرعی دلیل سے یہ شبہ آ رہا ہے کیونکہ یہ ملکیت جو ثابت ہوتی ہے مرتہن کے لیے ہلاک شدہ رہن کے اندر، وہ کس وقت سے ثابت ہوتی ہے؟ جب سے اس نے رہن پر قبضہ کیا تھا۔ تو یہ شرعی دلیل بتلا رہی ہے کہ فی الحال بھی مرہونہ باندی میں اس کی ملکیت ہے بھئی۔ جبکہ کتاب الحدود کی روایت سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں پر شبہ فی الفعل ہے بھئی، اور وہ اس طرح کہ اس باندی کے ہلاک ہونے کے بعد مرتہن کے لیے اس میں ملکیت ثابت ہو گی، تو چیز کی ہلاکت کے بعد ملکیت نے ثابت ہونا ہے بے شک منسوب ہو کر ثابت ہو گی ماضی کی طرف، لیکن اس چیز کے ہلاک ہونے کے بعد وہ ملکیت ثابت ہو گی تو جب تک وہ چیز ہلاک نہیں ہے تو لہٰذا اس دوران ملکیت بھی نہیں، جب ملکیت نہیں ہے تو اس کے لیے اس باندی سے نفع اٹھانا بھی جائز نہیں ہے بھئی، تو یہ جو اس نے مرہونہ باندی کے ساتھ صحبت کی ہے معلوم ہوا یہ صرف اس کا اپنا گمان تھا حلال ہونے کا، یہاں کوئی شرعی دلیل موجود نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اس شبہ فی الفعل کو علماء نے ترجیح دی ہے بھئی۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ شبہ فی الفعل کے اندر آدمی کے گمان کا دخل ہے کیونکہ آدمی کے گمان کی وجہ سے یہ شبہ ثابت ہوتا ہے، اس لیے ان آٹھ جگہوں کے اندر، یہ جو شبہ فی الفعل کی آٹھ جگہیں ذکر ہوئیں، ان میں وہ وطی کرنے والا کہتا ہے کہ میرا تو خیال تھا یہ وطی میرے لیے حلال ہے تو پھر حد ساقط ہو جائے گی، اور اگر وہ یہ کہتا ہے کہ میرا تو یہ گمان تھا کہ یہ وطی میرے لیے حرام ہے میں نے پھر بھی وطی کر لی تو پھر اب اس پر حد جاری کی جائے گی۔ جبکہ شبہ فی المحل جو ہے وہ چھ جگہیں ہیں بھئی، وہ چھ جگہیں ہیں: ایک تو بیٹے کی باندی، کیونکہ حضور علیہ السلام نے ایک صحابی سے فرمایا: ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“ تو اس شرعی دلیل کی وجہ سے شبہ آتا ہے کہ باپ کے لیے بیٹے کی باندی سے صحبت جائز ہے بھئی۔ اور اسی طرح وہ مطلقہ جسے کنایات کے ذریعے طلاقِ بائن دی گئی ہے اس کے ساتھ بھی اگر عدت کے اندر کوئی صحبت کر لیتا ہے تو یہ بھی شبہ فی المحل کے قبیل سے ہے کیونکہ اس کے اندر صحابہ کا ہی اختلاف تھا، بعض صحابہ فرماتے تھے کہ کنایات کے ذریعے ہمیشہ طلاقِ بائن ہوتی ہے اور بعض فرماتے تھے کہ کنایات کے ذریعے ہمیشہ طلاقِ رجعی ہوتی ہے، اور طلاقِ رجعی کے بعد تو عدت کے اندر خاوند کے لیے صحبت جائز ہوتی ہے اور خاوند صحبت کر لیتا ہے تو رجوع ہو جاتا ہے۔ تو لہٰذا وہ مطلقہ جسے کنایات کے ذریعے طلاقِ بائن دی گئی ہے اس کے ساتھ عدت کے اندر خاوند صحبت کر لے تو یہ شبہ فی المحل ہے، یہ ایک شرعی دلیل کی وجہ سے آیا ہے اور وہ یہ کہ بعض صحابہ کے نزدیک ابھی بھی یہ خاوند کے لیے حلال ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اور تیسرا مقام تھا وہ باندی جسے بائع نے بیچ دیا اور مشتری کے سپرد کرنے سے پہلے بائع نے اس باندی کے ساتھ صحبت کر لی، بائع نے باندی کے ساتھ صحبت کر لی تو یہ بھی شبہ فی المحل ہے۔ بھئی آپ کہیں گے کہ بائع نے جب باندی کو بیچ دیا تو بیع ہوتے ہی مشتری مبیع کا مالک بن گیا، جب مشتری مبیع کا مالک بن گیا تو اس باندی کے اندر بائع کی ملکیت نہیں، جب بائع کی ملکیت نہیں تو اس کے لیے صحبت بھی جائز نہیں، تو جواب یہ کہ ہاں اس مبیع کا مالک مشتری بن چکا ہے، بائع کے لیے اس کے ساتھ صحبت جائز نہیں، لیکن ایک اور دلیل موجود ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ بائع کی ملکیت ابھی بھی اس کے اندر باقی ہے۔ اور وہ یہ کہ مبیع سپرد کرنے سے پہلے اگر ہلاک ہو جائے تو بیع ہی ختم ہو جاتی ہے، معلوم ہوا مبیع حوالے کرنے سے پہلے اگر مبیع مر گیا تو بائع کی چیز ہلاک ہو گئی، اب مشتری کو ثمن نہیں دینے پڑیں گے کیونکہ بیع ہی ختم ہو گئی۔ تو جب مبیع حوالے کرنے سے پہلے ہلاک ہو جائے تو یوں سمجھا جاتا ہے بائع ہی کی چیز ہلاک ہوئی ہے، معلوم ہوا ابھی بھی بائع کی ملکیت تھی اسی لیے تو یہ شمار کیا گیا کہ بائع کی چیز ہلاک ہوئی ہے۔ تو اس دلیل سے شبہ پیدا ہو گیا اور یہ شبہ ایک شرعی دلیل کی وجہ سے آیا اور وہ شرعی دلیل جو میں نے ذکر کر دی کہ بائع کے سپرد کرنے سے پہلے مبیع اگر اس کے پاس ہلاک ہو جائے تو شرعاً وہ بیع ختم ہو جاتی ہے، تو معلوم ہوا یہاں ایک شرعی دلیل موجود ہے بائع کی ملکیت پر بھئی، جس سے شبہ ہوتا ہے شاید یہ باندی ابھی بھی اس کے لیے حلال ہے بھئی۔ اور چوتھا مقام تھا وہ باندی جسے خاوند نے مہر مقرر کیا ہے کسی عورت کے ساتھ نکاح کے اندر، تو اس باندی کو بیوی کے سپرد کرنے سے پہلے خاوند اس کے ساتھ صحبت کر لے تو یہ بھی شبہ فی المحل ہے، تو اس صورت میں بھی خاوند پر حد واجب نہیں ہو گی بھئی۔ وجہ یہ کہ یہ جو نکاح ہے یہ عقدِ معاوضہ ہے لیکن مال خاوند کی طرف سے آتا ہے، بیوی کی طرف سے منافع کا مالک بنتا ہے خاوند، تو لہٰذا ایک طرف سے مال ہے دوسری طرف سے مال نہیں تو شبہ ہوتا ہے کہ یہ تو عقدِ معاوضہ ہے ہی نہیں، یہ تو ہبہ ہے، یہ تو ہبہ ہے، خاوند اپنی طرف سے ویسے ہی مہر اس عورت کو دے رہا ہے اور ہبہ کے اندر تو دوسرا جب قبضہ کرتا ہے تب مالک بنتا ہے، تو جب تک خاوند نے یہ باندی اس عورت کے سپرد نہیں کی ابھی عورت اس کی مالکن بنی ہی نہیں ہے، تو اس شبہے کی وجہ سے خاوند نے حوالے کرنے سے پہلے صحبت کر لی اس باندی کے ساتھ تو حد ثابت نہیں ہو گی بھئی۔ اور پانچواں مقام جو ہے شبہ فی المحل کا وہ باندی ہے جو دو یا زیادہ افراد کے درمیان مشترک ہو۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا جب باندی دو یا زیادہ افراد کے درمیان مشترکہ ہو تو کسی ایک کے لیے بھی اس کے ساتھ صحبت جائز نہیں ہے، لیکن اگر ان میں سے کسی ایک نے صحبت کر لی تو اس پر حد جاری نہیں ہو گی، وجہ یہ کہ اس کی ملکیت موجود ہے باندی کے اندر بھئی، اور ملکیت جو ہے وہ تو وطی کے حلال ہونے کی دلیل ہوتی ہے تو یہاں پر حلال ہونے کی باقاعدہ ایک شرعی دلیل موجود ہے بھئی۔ اور چھٹا مقام جو ہے وہی مرہونہ باندی ہے مرتہن کے حق میں کتاب الرہن کی روایت کے مطابق۔ تو یہ مقامات ہیں شبہ فی المحل کے، لہٰذا ان مقامات میں کوئی شخص وطی کر لے گا تو اس پر حد جاری نہیں ہو گی اگرچہ وہ یہ کہے کہ میں جانتا تھا یہ میرے لیے حرام ہے، کیونکہ اس کے اندر بندے کے گمان کا دخل نہیں ہے، یہ شبہ ایک شرعی دلیل کی وجہ سے آیا ہے بھئی۔ اور پھر اس کے بعد بتلایا تھا کہ امام صاحب کے نزدیک عقد کی وجہ سے بھی شبہ فی المحل ثابت ہو جاتا ہے، چاہے وہ ایسا مقام ہی کیوں نہ ہو کہ اس عقد کے حرام ہونے پر تمام متفق ہوں، پھر بھی جب عقد کیا ہے تو شبہ آ گیا، جب شبہ آ گیا تو اب حد ساقط ہو جائے گی بھئی۔ اور اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے ان شبہوں سے متعلقہ بعض مسائل ذکر فرمانا شروع کیے تھے، مثلاً ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں اور پھر عدت کے اندر اس سے وطی کر لی تو یہ شبہ فی الفعل ہے، لہٰذا اگر یہ کہتا ہے کہ میں جانتا تھا یہ میرے لیے حرام ہے تو حد واجب ہو گی، اور اگر یہ کہتا ہے کہ میں تو سمجھتا تھا یہ میرے لیے حلال ہے کیونکہ رہائش بھی میں نے دی ہوئی ہے، خرچہ بھی میں دے رہا ہوں اور گھر سے نکلنے سے بھی میں منع کر سکتا ہوں، تو پھر اس صورت میں یہ شبہے کا محل ہے تو جب یہ اس کو حلال سمجھ رہا تھا تو شبہ آ گیا لہٰذا حد ساقط ہو جائے گی بھئی۔ اور اسی طرح اگر کسی نے کنایات کے ساتھ طلاق دی ہے تو پھر اس صورت میں یہ شبہ فی المحل ہے بھئی۔ اور اسی طرح ایک شخص نے اپنی اولاد کی باندی سے یا اولاد کی اولاد کی باندی سے صحبت کر لی تو اس شخص پر حد واجب نہیں ہو گی کیونکہ یہ شبہ فی المحل ہے کیونکہ حضور علیہ السلام نے ایک صحابی سے فرمایا تھا: ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“۔ اور اگر کسی شخص نے اپنے باپ کی باندی سے یا ماں کی باندی سے یا بیوی کی باندی سے صحبت کر لی تو پھر یہ شبہ فی الفعل ہے، تو اگر وہ کہتا ہے: میرا گمان تھا یہ میرے لیے حلال ہے تو حد نہیں آئے گی، اور اگر وہ کہتا ہے: میں جانتا تھا میرے لیے حرام ہے میں نے پھر بھی وطی کر لی تو پھر حد ثابت ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب آئیے آج کے سبق پر: ”وَمَنْ زُفَّتْ إِلَيْهِ غَيْرُ امْرَأَتِهِ، وَقَالَتِ النِّسَاءُ: إِنَّهَا زَوْجَتُكَ فَوَطِئَهَا، لَا حَدَّ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِ الْمَهْرُ“ بھئی صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص کا نکاح ہوا ہے اور اس نے اپنی بیوی کو دیکھا نہیں ہوا، اسے جانتا نہیں ہے، اور اس کے پاس کسی اور عورت کو بھیج دیا گیا اور عورتوں نے اس کو کہا کہ یہ ہے تمہاری بیوی، اور اس نے اس عورت کے ساتھ صحبت کر لی تو یاد رکھو اس صورت میں اس آدمی پر حد واجب نہیں ہو گی، البتہ اس کو مہر دینا پڑے گا بھئی۔ کیونکہ آپ کو میں نے بتلایا تھا کہ مملکتِ اسلامیہ کے اندر جو بھی وطی کی جائے وہ دو چیزوں سے خالی نہیں: یا تو وہاں حد آئے گی یا وہاں مہر آئے گا۔ تو یہاں پر حد تو نہیں آئے گی کیونکہ اس آدمی نے خبر پر اعتماد کرتے ہوئے یہی سمجھا کہ یہ میری بیوی ہے، تو یہ اشتباہ کا مقام تھا، جب کسی نے اس کو بتلا دیا یہ آپ کی بیوی ہے تو یہ شبہے کا محل ہے، اس خبر دینے کی وجہ سے کسی کو شبہ لگ سکتا ہے، تو لہٰذا اس پر حد نہیں آئے گی، البتہ اس عورت کا پورا مہرِ مثل اس کو دینا پڑے گا اور اس عورت پر عدت بھی واجب ہو گی بھئی۔ اور ایک اور بات بھی یاد رکھنا، اب یہ شخص محسن نہ رہا، حد تو اس پر جاری نہیں ہوئی، حد تو اس پر جاری نہیں ہوئی لیکن یہ فعل محض زنا ہے، یہاں کسی قسم کی نہ ملکیت ہے اور نہ شبہۂ ملکیت ہے، ہاں خبر کی وجہ سے اس کو شبہ لگا ہے لیکن حقیقت میں یہاں کوئی شبہۂ ملکیت نہیں ہے، لہٰذا اس کا یہ فعل محض زنا ہے، اب یہ محسن نہ رہا۔ یہ محسن نہ رہا یعنی اب اس پر کوئی زنا کا الزام لگاتا ہے یا کوئی اس کو زانی کہتا ہے تو اس پر حدِ قذف جاری نہیں ہو گی کیونکہ یہ زنا سے پاک دامن نہ رہا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ زُفَّتْ إِلَيْهِ غَيْرُ امْرَأَتِهِ“ ”زَفَّ يَزُفُّ زِفَافًا“ کا معنی ہے کہ بیوی کو خاوند کے پاس بھیجنا یعنی عورت کی رخصتی کرنا۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ زُفَّتْ إِلَيْهِ غَيْرُ امْرَأَتِهِ“ اور جس شخص کے پاس اس کی بیوی کے علاوہ کو بھیج دیا گیا، ”وَقَالَتِ النِّسَاءُ: إِنَّهَا زَوْجَتُكَ“ اور عورتوں نے کہا کہ یہ تیری بیوی ہے، ”فَوَطِئَهَا“ اس نے اس عورت سے وطی کر لی، ”لَا حَدَّ عَلَيْهِ“ تو اس آدمی پر حد نہیں ہے، ”وَعَلَيْهِ الْمَهْرُ“ اور اس پر مہر واجب ہے، ”قَضَى بِذَلِكَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ وَبِالْعِدَّةِ“ اس کا فیصلہ فرمایا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اور عدت کا بھی۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس مہر کا بھی فیصلہ فرمایا اور عدت کا بھی فیصلہ فرمایا بھئی۔ ”وَلِأَنَّهُ اعْتَمَدَ دَلِيلًا“ اور اس لیے کیونکہ یہ جو وطی کرنے والا تھا اس نے اعتماد کیا ایک دلیل پر، ”وَهُوَ الْإِخْبَارُ فِي مَوْضِعِ الِاشْتِبَاهِ“ اور وہ خبر دینا ہے اشتباہ کے مقام میں، اشتباہ کے مقام میں خبر ہے اس پر اس نے اعتماد کیا ہے، ”إِذِ الْإِنْسَانُ لَا يُمَيِّزُ بَيْنَ امْرَأَتِهِ وَبَيْنَ غَيْرِهَا فِي أَوَّلِ الْوَهْلَةِ“، ”إِذِ الْإِنْسَانُ لَا يُمَيِّزُ“ اس لیے کیونکہ انسان فرق نہیں کر سکتا ”بَيْنَ امْرَأَتِهِ وَبَيْنَ غَيْرِهَا“ اپنی بیوی اور غیر کے درمیان ”فِي أَوَّلِ الْوَهْلَةِ“، ”أَوَّلِ وَهْلَةٍ“ کا معنی ہے پہلے پہل یعنی بالکل ابتداء میں۔ یعنی اس نے پہلے بیوی کو دیکھا ہی نہیں ہوا، پہلی دفعہ بیوی کے پاس جا رہا ہے تو یہ اوّلِ وہلہ ہے، تو اوّلِ وہلہ کے اندر انسان بیوی اور غیرِ بیوی میں فرق نہیں کر سکتا، اور پھر عورتوں نے خبر دی اس کو کہ یہ تمہاری بیوی ہے تو اس خبر کی وجہ سے اس کو اشتباہ لگ گیا کیونکہ یہ محلِ اشتباہ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”إِذِ الْإِنْسَانُ لَا يُمَيِّزُ بَيْنَ امْرَأَتِهِ وَبَيْنَ غَيْرِهَا“ اس لیے کیونکہ انسان فرق نہیں کر سکتا اپنی بیوی میں اور غیر کے درمیان ”فِي أَوَّلِ الْوَهْلَةِ“ پہلے پہل یعنی ابتداء میں، ”فَصَارَ كَالْمَغْرُورِ“ تو یہ شخص مغرور کی طرح ہو گیا۔ مغرور بھئی وہ شخص جسے دھوکا دیا گیا ہے، ایک آدمی نے ایک باندی خریدی اور باندی کے ساتھ اس نے صحبت کر لی، بعد میں کوئی اور شخص نے باندی کو دیکھا اس نے کہا: یہ تو میری باندی ہے، قاضی کے پاس اس نے دعویٰ کر دیا اور گواہوں کے ذریعے ثابت کر دیا کہ یہ اسی کی باندی تھی، بیچنے والے نے دھوکا دیا تھا، تو اس صورت میں اب دیکھو اس شخص نے اس باندی سے جو صحبت کی تھی اس کا تو خیال تھا: میں مالک بن چکا ہوں اس باندی کا کیونکہ میں نے خریدی ہے، لیکن پتہ چلا کہ نہیں، بیچنے والا تو اس کا مالک ہی نہیں تھا لہٰذا یہ خریدار بھی اس کا مالک نہیں ہے، تو غیرِ ملکیت کے اندر اس شخص نے صحبت کی ہے تو اس شخص کو مغرور کہتے ہیں یعنی جس کو دھوکا دیا گیا ہے۔ تو یہ جو مغرور ہے اس پر حد واجب نہیں ہے بھئی کیونکہ اس کو اشتباہ ہو گیا تھا، اس کا تو خیال تھا کہ یہ باندی میری مملوکہ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَصَارَ كَالْمَغْرُورِ“ تو یہ اس شخص کی طرح ہو گیا جس کو دھوکا دیا گیا ہو، ”وَلَا يُحَدُّ قَاذِفُهُ“ اور اس پر زنا کی تہمت لگانے والے پر حد بھی نہیں لگائی جائے گی۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ یہ شخص اب محسن نہیں رہا، یہ شخص جس کے پاس غیرِ بیوی کو بھیجا گیا اور عورتوں نے کہا کہ یہ تمہاری بیوی ہے تو یہ اب محسن نہیں رہا، لہٰذا اس پر کوئی زنا کا الزام لگائے گا تو اس پر حدِ قذف نہیں لگائی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُحَدُّ قَاذِفُهُ“ اور اس پر زنا کی تہمت لگانے والے کو حد نہیں لگائی جائے گی، ”إِلَّا فِي رِوَايَةٍ عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ مگر ایک روایت میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے، یعنی امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے ایک روایت ہے۔ کہ اس وطی کی وجہ سے اس کا محسن ہونا ختم نہیں، اس کا محسن ہونا ختم نہیں، یہ ابھی بھی محسن ہے، جب یہ محسن ہے تو زنا کا الزام لگانے والے پر حد قذف جاری کی جائے گی، لیکن ظاہر روایت کے مطابق اس پر زنا کا الزام لگانے والے پر حد قذف جاری نہیں کی جائے گی، اور کیوں حد قذف جاری نہیں کی جائے گی؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْمِلْكَ مُنْعَدِمٌ حَقِيقَةً“ اس لیے کیونکہ یہاں پر حقیقتاً ملکیت معدوم ہے۔ اس شخص نے جس عورت سے صحبت کی ہے بیوی سمجھ کر وہاں کسی قسم کی ملکیت بھی نہیں اور شبہ ملکیت بھی نہیں ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے ”لِأَنَّ الْمِلْكَ مُنْعَدِمٌ حَقِيقَةً“ اس لیے کیونکہ اس عورت کے اندر ملکیت حقیقتاً معدوم ہے اس شخص کے لیے۔ آگے دیکھیے: ”وَمَنْ وَجَدَ امْرَأَةً عَلَى فِرَاشِهِ فَوَطِئَهَا فَعَلَيْهِ الْحَدُّ“ بھئی صورت مسئلہ یہ، ایک شخص گھر آیا، اس نے اپنے بچھونے پر ایک عورت کو لیٹا ہوا سویا ہوا پایا، اس نے اس کے ساتھ وطی کر لی، اور بعد میں پتہ چلا کہ یہ تو اس کی بیوی نہیں ہے، تو کہتے ہیں اس صورت میں اس شخص پر حد واجب ہو گی۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے بھئی یہ عورت اس کے بچھونے پر سوئی ہوئی تھی اس کو شبہ پڑ گیا؟ کہتے ہیں نہیں، بیوی کے ساتھ اتنا عرصہ گزارنے کے بعد ایک شخص بیوی کو فوراً پہچان لیتا ہے، اور اگر اس کو شبہ تھا تو یہ سوال پوچھ سکتا تھا، تو لہٰذا یہاں کسی قسم کا شبہ موجود نہیں، لہٰذا اس شخص کو حد لگائی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ وَجَدَ امْرَأَةً عَلَى فِرَاشِهِ“ اور جس شخص نے کسی عورت کو اپنے بچھونے پر پایا ”فَوَطِئَهَا“ تو اس نے اسے وطی کر لی ”فَعَلَيْهِ الْحَدُّ“ تو اس آدمی پر حد واجب ہو گی ”لِأَنَّهُ لَا اشْتِبَاهَ بَعْدَ طُولِ الصُّحْبَةِ“ صحبت کا معنی ہے ساتھ رہنا۔ ”لِأَنَّهُ لَا اشْتِبَاهَ بَعْدَ طُولِ الصُّحْبَةِ“ اس لیے کیونکہ طویل عرصے تک ساتھ رہنے کے بعد اشتباہ نہیں ہو سکتا ”فَلَمْ يَكُنِ الظَّنُّ مُسْتَنِدًا إِلَى دَلِيلٍ“ تو اس کا یہ جو گمان ہے یہ منسوب نہیں ہے کسی دلیل کی طرف۔ اس کے اس گمان کا اعتماد کسی دلیل پر نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَمْ يَكُنِ الظَّنُّ مُسْتَنِدًا إِلَى دَلِيلٍ“ تو اس آدمی کا یہ جو گمان ہے اس کی نسبت نہیں ہو رہی کسی دلیل کی طرف ”وَهَذَا“ اور یہ اس وجہ سے ”لِأَنَّهُ قَدْ يَنَامُ عَلَى فِرَاشِهَا غَيْرُهَا مِنَ الْمَحَارِمِ الَّتِي فِي بَيْتِهَا“ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ گھر کے اندر اور محرم عورتیں ہوتی ہیں وہ بھی کبھی آدمی کے بستر پر سو جاتی ہیں، تو لہٰذا یہ شبہے کا محل ہی نہیں تھا، یہ اس عورت سے پوچھ سکتا تھا بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَهَذَا“ اور یہ عدم اشتباہ اس لیے ہے ”لِأَنَّهُ قَدْ يَنَامُ عَلَى فِرَاشِهَا“ اس لیے کیونکہ کبھی کبھار اس کے بستر پر سو جاتی ہیں ”غَيْرُهَا مِنَ الْمَحَارِمِ“ اس کی بیوی کے علاوہ اور جو محرم عورتیں ہیں ”الَّتِي فِي بَيْتِهَا“ جو اس کے گھر میں ہوتی ہیں۔ ”وَكَذَا إِذَا كَانَ أَعْمَى“ اور اسی طرح ہے مسئلہ جب وہ شخص اندھا ہو۔ اندھا ہے گھر آیا اور اس نے اپنے بستر پر ایک عورت کو پایا اور اس نے اس کے ساتھ صحبت کر لی تو اندھے پر بھی حد جاری ہو گی بھئی۔ اس لیے کیونکہ یہ اشتباہ کا مقام نہیں، یہ اس سے سوال کر سکتا تھا۔ ہاں اگر اندھے نے سوال کیا اور اس عورت نے کہا ہاں میں تمہاری بیوی ہوں اور اندھے کو پتہ نہیں چلا آواز سے کہ یہ تو کسی اور کی آواز ہے، مثلاً اس نے آہستہ آواز میں کہا، تو پھر اس صورت میں اندھے پر حد نہیں آئے گی کیونکہ اس نے خبر دینے پر اعتماد کیا۔ لیکن یہ وہ صورت ہے جب اندھے کو پتہ نہ چلا ہو بھئی۔ اگر اندھے کو آواز سے ہی پتہ چل گیا ہے تو پھر یاد رکھو اس صورت میں بے شک قاضی کی طرف سے اس پر حد جاری نہ ہو لیکن عند اللہ یہ مجرم ہے اس نے زنا کیا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا كَانَ أَعْمَى“ اور اسی طرح اگر وطی کرنے والا وہ اندھا ہو ”لِأَنَّهُ يُمْكِنُهُ التَّمْيِيزُ“ اس لیے کیونکہ اس کے لیے فرق کرنا ممکن ہے ”بِالسُّؤَالِ وَغَيْرِهِ“ سوال وغیرہ کے ذریعے، سوال وغیرہ کے ذریعے کہ سوال اور علامتوں کے ذریعے وہ فرق کر لے، ”إِلَّا إِذَا كَانَ دَعَاهَا“ مگر یہ کہ اندھے نے اس کو بلایا ”فَأَجَابَتْهُ أَجْنَبِيَّةٌ“ تو اس کو اس اجنبیہ عورت نے جواب دیا ”وَقَالَتْ أَنَا زَوْجَتُكَ“ کہ میں تمہاری بیوی ہوں ”فَوَاقَعَهَا“ پھر اس اندھے نے اس سے صحبت کر لی، تو پھر اس صورت میں حد نہیں آئے گی ”لِأَنَّ الْإِخْبَارَ دَلِيلٌ“ کیونکہ خبر دینا دلیل ہے، مقام اشتباہ میں خبر دلیل ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَمَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً لَا يَحِلُّ لَهُ نِكَاحُهَا فَوَطِئَهَا لَا يَجِبُ عَلَيْهِ الْحَدُّ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ بھئی اب وہی وہ شبہ آ گیا جو عقد کی وجہ سے آئے۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عقد کی وجہ سے بھی شبہ آ جاتا ہے حتیٰ کہ اگر کوئی شخص اپنی محرم کے ساتھ مثلاً رضاعی بہن ہے وہ محرم ہے اس کے ساتھ ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہے، اس کے ساتھ بھی عقد کر لیتا ہے باقاعدہ اور پھر اس کے ساتھ صحبت کر لیتا ہے تو حد نہیں آئے گی۔ تو حد واجب نہیں ہو گی اگرچہ وہ کہے میں جانتا تھا یہ میرے لیے حرام ہے، لیکن یہاں شبہ ایک شرعی دلیل کی وجہ سے ہے اور وہ شرعی دلیل یہ کہ اس نے باقاعدہ عقد کیا ہے۔ تو یہ شبہ فی المحل عقد کی وجہ سے بھی ثابت ہو جاتا ہے۔ آگے دیکھیے صاحب ہدایہ خوب تفصیل بیان فرمائیں گے اس مسئلے کی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً“ اور جس شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا مثلاً کسی محرم سے نکاح کیا ”لَا يَحِلُّ لَهُ نِكَاحُهَا“ ایسی عورت کہ اس کے لیے اس کے ساتھ نکاح حلال نہیں تھا۔ دیکھو ”امْرَأَةً“ نکرہ آیا اور ”لَا يَحِلُّ“ اس کے بعد فعل آیا اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ عموماً اس کے لیے صفت بنتا ہے، اور موصوف صفت کا ترجمہ کیسے کرتے ہیں؟ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لاتے ہیں، اب پھر ترجمہ دیکھیے: ”وَمَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً“ اور جس شخص نے ایسی عورت سے نکاح کیا ”لَا يَحِلُّ لَهُ نِكَاحُهَا“ کہ اس آدمی کے لیے اس عورت سے نکاح جائز نہیں تھا ”فَوَطِئَهَا“ اس نے اس عورت سے صحبت کر لی ”لَا يَجِبُ عَلَيْهِ الْحَدُّ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو امام صاحب کے نزدیک اس آدمی پر حد واجب نہیں ہو گی ”لَكِنَّهُ يُوجَعُ عُقُوبَةً“ لیکن اس کو تکلیف دی جائے گی باعتبار سزا کے۔ اوجع یوجع کا معنی ہے تکلیف دینا۔ ”لَكِنَّهُ يُوجَعُ عُقُوبَةً“ لیکن اس کو تکلیف دی جائے گی باعتبار سزا کے، یعنی اس کو تکلیف دینے والی تعزیر دی جائے گی بھئی، یعنی سخت سزا دی جائے گی، یعنی حد تو نہیں آئے گی لیکن سخت سزا دی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”لَكِنَّهُ يُوجَعُ عُقُوبَةً“ لیکن اس کو تکلیف دی جائے گی سزا کے اعتبار سے ”إِذَا كَانَ عَالِمًا بِذَلِكَ“ جب اس کو اس بات کا علم ہو کہ یہ میرے لیے حرام ہے پھر بھی اس نے نکاح کیا ہے اور وطی کی ہے تو پھر اس صورت میں سخت سزا دی جائے گی بھئی۔ ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى: عَلَيْهِ الْحَدُّ إِذَا كَانَ عَالِمًا بِذَلِكَ“ اور صاحبین اور امام شافعی رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ اس شخص پر حد واجب ہو گی جب وہ اس بات کو جانتا ہو کہ یہ عورت میرے لیے حرام ہے تو پھر اس پر حد واجب ہو گی ”لِأَنَّهُ عَقْدٌ لَمْ يُصَادِفْ مَحَلَّهُ“ اس لیے کیونکہ یہ ایسا عقد ہے جس نے اپنے محل سے ملاقات نہیں کی ”فَيَلْغُو“ تو یہ عقد لغو ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ صاحبین اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس نے عقد کیا ہے ایسے محل میں کہ وہ عقد کا محل ہی نہیں ہے۔ اس نے ایسی عورت سے نکاح کیا ہے کہ اس کے ساتھ اس کا نکاح ہو ہی نہیں سکتا، تو عقد نے ایسی عورت سے ایسے محل سے ملاقات کی ہے جو محل عقد ہی نہیں ہے، لہٰذا اس عقد کا کوئی اعتبار نہیں، جب عقد کا کوئی اعتبار نہیں تو اس نے وطی کی ہے تو یہ زنا ہے لہٰذا اس پر حد جاری ہو گی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ عَقْدٌ لَمْ يُصَادِفْ مَحَلَّهُ“ اس لیے کیونکہ یہ ایسا عقد ہے جس نے اپنے محل سے ملاقات نہیں کی ”فَيَلْغُو“ تو لہٰذا یہ عقد لغو ہو گا ”كَمَا إِذَا أُضِيفَ إِلَى الذُّكُورِ“ جیسے کہ عقد کی نسبت کی جائے مذکر کی طرف۔ بھئی جیسے عقد نکاح کی نسبت مذکر کی طرف کی جائے، مرد جو ہے مرد کے ساتھ نکاح کرے تو یہ مرد تو نکاح کا محل ہی نہیں ہے، لہٰذا یہ عقد بھی لغو ہوتا ہے، اسی طرح یہاں پر محرم کے ساتھ اس نے نکاح کیا ہے اور محرم تو نکاح کا محل ہی نہیں ہے لہٰذا یہ عقد لغو ہے۔ جیسے مرد سے نکاح کرنا لغو ہے اسی طرح محرم سے نکاح کرنا بھی لغو ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”كَمَا إِذَا أُضِيفَ إِلَى الذُّكُورِ“ تو یہ ایسے ہی ہے جیسے عقد کی نسبت کی جائے مذکر کی طرف ”وَهَذَا“ اور یہ اس وجہ سے۔ اب تفصیل بیان کر رہے ہیں کہ عقد نے اپنے محل سے کیوں ملاقات نہیں کی، یہ عقد کا محل کیوں نہیں ہے؟ کہتے ہیں بھئی وجہ یہ ہے کہ عقد کا محل وہ عورت ہے جو عقد کی وجہ سے حلال بھی ہو سکے، اور یہ تو محرم ہے یہ تو عقد کی وجہ سے بھی حلال نہیں ہو سکتی، تو جہاں پر عقد کا حکم نہیں آ سکتا وہاں عقد بھی نہیں ہو سکتا۔ جہاں عقد کا حکم نہیں آ سکتا وہاں عقد بھی نہیں ہو سکتا۔ عقد کا کیا حکم ہے؟ نکاح کیا جائے تو بیوی خاوند کے لیے حلال ہو جاتی ہے لیکن یہ تو محرم ہے یہ تو حلال نہیں ہو سکتی، تو یہ ایسی عورت ہے جہاں عقد کا حکم یعنی حلال ہونا نہیں آ رہا عقد کی وجہ سے تو معلوم ہوا یہ عقد کا محل ہی نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَهَذَا“ اور یہ اس لیے ”لِأَنَّ مَحَلَّ التَّصَرُّفِ“ اس لیے کیونکہ اس تصرف کا یہ جو عقد کیا ہے نکاح کیا ہے، تو تصرف سے کیا مراد ہے؟ عقد۔ ”لِأَنَّ مَحَلَّ التَّصَرُّفِ“ اس لیے کیونکہ اس عقد کا جو محل ہے ”مَا يَكُونُ مَحَلًّا لِحُكْمِهِ“ وہ عورت ہے جو اس کے حکم کا بھی محل ہو ”وَحُكْمُهُ الْحِلُّ“ اور اس عقد کا حکم تو حلال ہونا ہے۔ اس عقد کا حکم تو حلال ہونا ہے، جو عورت عقد کی وجہ سے حلال ہو سکتی ہے وہ ہے عقد کا محل بھئی، اور یہ تو محرم ہے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”وَهَذَا لِأَنَّ مَحَلَّ التَّصَرُّفِ“ اور یہ اس لیے کیونکہ اس تصرف کا جو محل ہے ”مَا يَكُونُ مَحَلًّا لِحُكْمِهِ“ وہ ہے جو اس کے حکم کا بھی محل ہو ”وَحُكْمُهُ الْحِلُّ“ اور اس تصرف کا حکم جو ہے وہ تو حلال ہونا ہے ”وَهِيَ مِنَ الْمُحَرَّمَاتِ“ اور حال یہ ہے کہ یہ عورت تو محرمات میں سے ہے، یہ محرم عورتوں میں سے ہے۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اب امام صاحب کی دلیل آ گئی۔ صاحبین اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے یہ عقد لغو ہے اس کا اعتبار ہی نہیں لہٰذا حد جاری ہو گی۔ اب امام صاحب کی دلیل آ گئی۔ امام صاحب کی دلیل سمجھ لیجیے، ادھر دیکھیے بھئی، امام صاحب فرماتے ہیں کہ عقد نے اپنے محل سے ملاقات کی ہے۔ صاحبین اور امام شافعی رحمہ اللہ تو کیا فرماتے تھے؟ عقد نے اپنے محل سے ملاقات ہی نہیں کی کیونکہ عقد کا محل وہ عورت ہوتی ہے جہاں عقد کی وجہ سے حلت بھی آ جائے، جو خاوند کے لیے حلال بھی ہو جائے اور یہ تو محرم تھی یہ تو حلال ہو نہیں سکتی لہٰذا یہ عقد کا محل ہی نہیں۔ جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عقد نے اپنے محل سے ملاقات کی ہے، بھئی کس طرح عقد نے اپنے محل سے ملاقات کی ہے؟ کہتے ہیں اس لیے کہ محل عقد وہ ہوتا ہے جو مقصود عقد کو قبول کر لے۔ توجہ ہے؟ محل عقد، محل عقد وہ ہے جو مقصود عقد کو قبول کر لے اور مقصود عقد کیا ہے؟ نکاح کا مقصد کیا ہے؟ نسل بڑھانا، اولاد کا پیدا کرنا، اور یہ جس کے ساتھ نکاح کر رہا ہے بے شک اس کی محرم ہے لیکن ہے تو مؤنث، ہے تو عورت، اور عورتیں ہی محل عقد ہوا کرتی ہیں کیونکہ عورتوں سے نکاح کا مقصد پورا ہو سکتا ہے اور نکاح کا مقصد کیا ہے؟ اولاد کا پیدا کرنا، نسل کا بڑھانا۔ تو لہٰذا اس شخص نے جس عورت سے نکاح کیا ہے وہ اگرچہ اس کی محرم ہے لیکن ہے تو مؤنث، ہے تو عورت، اور عورت جو ہے وہ محل عقد ہے۔ عورت کیا ہے؟ محل عقد ہے کیونکہ اس کے ذریعے اولاد پیدا ہو سکتی ہے، نسل کا سلسلہ چل سکتا ہے۔ پھر سنو دلیل امام صاحب کی، امام صاحب فرماتے ہیں اس نے اس عورت سے جو نکاح کیا ہے تو اس نے نکاح کیا ہے محل عقد کے اندر ہی، عورت کے ساتھ ہی نکاح کیا ہے اور یہ عورت محل عقد ہے۔ یعنی اس آدمی کو نہ دیکھو قطع نظر یہ جو اس کا محرم آدمی ہے جس نے اس سے نکاح کیا ہے اس کے علاوہ کوئی اور آدمی اس عورت سے نکاح کرتا تو نکاح ہو جاتا یا نہ ہوتا؟ وہ نکاح ہو جاتا، معلوم ہوا یہ محل عقد ہے۔ تو البتہ اس آدمی کے سلسلے میں، یہ جو اس آدمی نے اس عورت سے نکاح کیا ہے یہ آدمی تو اس کا محرم ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ یہ آدمی تو اس کا محرم ہے تو یہاں جو ممانعت آئی ہے وہ خاص اس آدمی کی وجہ سے آئی ہے، اگر یہ والا آدمی نہ ہوتا کوئی اجنبی ہوتا تو اس کا نکاح ہو جانا تھا۔ معلوم ہوا یہ عورت کیا ہے؟ محل عقد ہے۔ البتہ جو ممانعت آ گئی ہے وہ اس خاص عقد کرنے والے آدمی کی وجہ سے آئی کہ یہ آدمی اس کا محرم ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ورنہ فی ذاتہٖ یہ عورت محل عقد ہے بھئی۔ تو لہٰذا یہ عورت محل عقد ہے لیکن اس خاص آدمی کی وجہ سے ممانعت آ گئی۔ عقد کے بعد حلت نے آنا تھا، اس عورت نے حلال ہو جانا تھا خاوند کے لیے لیکن یہاں پر یہ حلال نہیں ہو گی کیونکہ اور نصوص ثابت ہیں، قرآن اور حدیث کی اور نصوص سے اس عورت کے حرام ہونے کا پتہ چلتا ہے کہ یہ اس کی محرم ہے اس کے ساتھ نکاح کی کوئی صورت ہی نہیں ہے۔ توجہ ہے؟ تو یہ جو اس نے عقد کیا ہے کہاں پر کیا ہے؟ محل عقد میں، لیکن حلت نہیں آئی یعنی عقد کا حکم نہیں آیا۔ تو لہٰذا عقد تو اس نے اپنے محل میں کیا، بے شک حلال ہونا نہیں پایا گیا لیکن شبہ تو آ گیا کیونکہ عقد تو اس نے اپنے محل میں کیا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ اب دیکھیے کتاب پر: ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْعَقْدَ صَادَفَ مَحَلَّهُ“ کہ اس عقد نے ملاقات کی ہے اپنے محل سے، یعنی قطع نظر اس آدمی کے کوئی اور یہاں نکاح کرتا تو نکاح ہو جاتا، معلوم ہوا عقد کیا ہے اپنے محل میں ہے کہ ایک مؤنث کے ساتھ نکاح کیا جا رہا ہے۔ تو کہتے ہیں امام صاحب فرماتے ہیں ”أَنَّ الْعَقْدَ صَادَفَ مَحَلَّهُ“ کہ عقد نے اپنے محل سے ملاقات کی ہے ”لِأَنَّ مَحَلَّ التَّصَرُّفِ“ اس لیے کیونکہ محل تصرف جو ہے یعنی محل عقد جو ہے ”مَا يَقْبَلُ مَقْصُودَهُ“ وہ ہے جو اس عقد کے اس تصرف کے مقصد کو قبول کر لے، تصرف سے مراد عقد ہے، عقد بھی تو ایک تصرف کیا جا رہا ہے نا، تو محل تصرف وہ عورت ہے جو اس عقد کے مقصد کو قبول کر لے، جہاں مقصد پورا ہو سکے اور مقصد کیا ہے نکاح کا؟ نسل کا بڑھانا، اولاد کا پیدا کرنا، اور یہ بھی عورت ہے یہ اس مقصد کو قبول کر رہی ہے بھئی، یہاں سے یہ مقصد ہو سکتا ہے۔ یہ جو نکاح کرنے والا آدمی ہے اس سے قطع نظر اگر کوئی اور نکاح کرنے والا ہوتا تو یہ عورت نکاح کا محل ہے اس سے بچوں کی پیدائش ہو سکتی ہے یہ مؤنث ہے یہ محل عقد ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ مَحَلَّ التَّصَرُّفِ“ اس لیے کیونکہ اس تصرف کا محل جو ہے یعنی اس عقد کا جو محل ہے ”مَا يَقْبَلُ مَقْصُودَهُ“ جو اس تصرف کے مقصد کو قبول کر لے جہاں سے اس عقد کا مقصد حاصل ہو سکے ”وَالْأُنْثَى مِنْ بَنَاتِ بَنِي آدَمَ“ اور وہ مؤنث یعنی بنی آدم کی جو بیٹیاں ہیں ”قَابِلَةٌ لِلتَّوَالُدِ“ یہ نسل بڑھانے کے قابل ہیں، وہ نسل بڑھانے کے قابل ہیں وہ نسل بڑھانے کو قبول کرتی ہیں ”وَهُوَ الْمَقْصُودُ“ اور یہی تو مقصد ہوتا ہے یعنی نکاح کے ذریعے، یہی تو نکاح کے ذریعے مقصد ہوتا ہے ”فَكَانَ يَنْبَغِي أَنْ يَنْعَقِدَ فِي حَقِّ جَمِيعِ الْأَحْكَامِ“ تو مناسب تو یہ تھا کہ یہ عقد منعقد ہونا چاہیے تھا سارے احکام کے ساتھ کیونکہ یہ محل عقد ہے، جب یہ محل عقد ہے تو یہ عقد منعقد ہونا چاہیے تھا اور سارے احکام آ جانے چاہیے تھے اس نکاح کے لیکن عقد کے اور احکام نہیں آئے خاص طور پر اس عقد کرنے والے کی طرف نظر کرتے ہوئے کیونکہ قرآن و حدیث کی نصوص کے اندر اس نکاح کی ممانعت ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”فَكَانَ يَنْبَغِي أَنْ يَنْعَقِدَ فِي حَقِّ جَمِيعِ الْأَحْكَامِ“ تو مناسب یہ تھا کہ یہ نکاح منعقد ہو جاتا تمام احکام کے حق میں ”إِلَّا أَنَّهُ تَقَاعَدَ“ تقاعد کا معنی یہاں کر لیں رک گیا ”إِلَّا أَنَّهُ تَقَاعَدَ“ مگر یہ عقد رک گیا ”عَنْ إِفَادَةِ حَقِيقَةِ الْحِلِّ“ حقیقت میں حلال ہونے کا فائدہ دینے سے۔ یہ عقد رک گیا حقیقت میں حلال ہونے کا فائدہ دینے سے یعنی اس نے حقیقت میں اس عورت کو اس محرم مرد کے لیے حلال نہیں کیا۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّهُ تَقَاعَدَ عَنْ إِفَادَةِ حَقِيقَةِ الْحِلِّ“ مگر یہ عقد جو ہے یہ رک گیا، یہ نکاح جو ہے یہ رک گیا حلال ہونے کی حقیقت کا فائدہ دینے سے، یعنی یوں کہو آسان لفظوں میں یہ عقد حلال ہونے کا فائدہ دینے سے رک گیا، اس نے حلال ہونے کا فائدہ نہیں دیا ”فَيُورِثُ الشُّبْهَةَ“ تو اس عقد نے شبہ پیدا کر دیا۔ اس کے احکام تو نہیں ثابت ہوئے لیکن یہ عقد ہوا تو اپنے محل میں ہے لہٰذا اس نے شبہ پیدا کر دیا تو یہ معنی ہے ”فَيُورِثُ الشُّبْهَةَ“ تو اس عقد نے شبہ پیدا کر دیا ”لِأَنَّ الشُّبْهَةَ مَا يُشْبِهُ الثَّابِتَ“ اس لیے کیونکہ شبہ وہ ہوتا ہے جو ثابت کے مشابہ ہوتا ہے ”لَا نَفْسُ الثَّابِتِ“ لیکن ثابت نہیں ہوتا۔ تو یہ عقد بھی ثابت نکاح کے مشابہ تو ہے لیکن ثابت نکاح نہیں ہے تو اس نے شبہ پیدا کر دیا۔ یہ نکاح ثابت تو نہیں لیکن ثابت کے مشابہ ہے تو اس کی وجہ سے شبہ آ گیا۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ الشُّبْهَةَ مَا يُشْبِهُ الثَّابِتَ لَا نَفْسُ الثَّابِتِ“ اس لیے کیونکہ شبہ وہ ہے جو ثابت کے مشابہ ہو لا نفس الثابت خود ثابت نہ ہو، تو یہ عقد بھی ثابت شدہ عقد کے مشابہ تو ہے لیکن ثابت شدہ عقد نہیں ہے تو لہٰذا یہ شبہ ہے اور جب شبہ ہے تو اس کی وجہ سے حد جاری نہیں ہو گی ”إِلَّا أَنَّهُ ارْتَكَبَ جَرِيمَةً“ مگر یہ کہ اس شخص نے ایک جرم کا ارتکاب کیا ہے کہ ایک محرم عورت سے نکاح کر کے اس کے ساتھ صحبت کر لی ہے تو اس نے ایک جرم کا ارتکاب کیا ہے ”وَلَيْسَ فِيهَا حَدٌّ مُقَدَّرٌ“ اور اس کے اندر کوئی مقررہ حد نہیں ہے ”فَيُعَزَّرُ“ تو اس کو تعزیر کی جائے گی اس کو سخت سزا دی جائے گی، بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: ”وَمَنْ وَطِئَ أَجْنَبِيَّةً فِيمَا دُونَ الْفَرْجِ“ صورت یہ: ایک شخص نے ایک اجنبیہ عورت سے شرمگاہ کے علاوہ کے اندر وطی کر لی، یعنی اس کے رانوں پر یا اس کے پیٹ پر تو پھر یاد رکھو اس صورت میں یہ زنا نہیں ہے اگرچہ یہ حرام فعل کیا اس نے قبیح فعل کیا لیکن یہ زنا نہیں ہے تو حد تو جاری نہیں ہو سکتی اور جب حد جاری نہیں ہو سکتی تو پھر اس پر تعزیر جاری کی جائے گی، قاضی اس کو سخت سزا دے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ وَطِئَ أَجْنَبِيَّةً“ اور جس شخص نے کسی اجنبیہ سے وطی کی ”فِيمَا دُونَ الْفَرْجِ“ اس کی شرمگاہ کے علاوہ میں ”يُعَزَّرُ“ تو اس شخص کو تعزیر کی جائے گی ”لِأَنَّهُ مُنْكَرٌ لَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ مُقَدَّرٌ“ منکر بھئی ناپسندیدہ چیز قبیح چیز، اور منکر نکرہ ہے اور اس کے بعد ”لَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ مُقَدَّرٌ“ جملہ آ رہا ہے تو یہ اس کے لیے صفت بنے گا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ مُنْكَرٌ“ اس لیے کیونکہ یہ ایسی ناپسندیدہ چیز ہے ”لَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ مُقَدَّرٌ“ کہ جس کے اندر کوئی مقررہ چیز نہیں یعنی کوئی مقررہ سزا نہیں ہے۔ جب بھی کوئی جرم پایا جائے ناپسندیدہ کام پایا جائے لیکن شرعاً اس کی کوئی حد مقرر نہ ہو تو وہاں تعزیر آ جاتی ہے۔ تو یہ جو متن میں آیا نا ”يُعَزَّرُ“ اس کو تعزیر کی جائے گی اس کی علت ذکر کر رہے ہیں۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں ”يُعَزَّرُ“ اس کو تعزیر کی جائے گی ”لِأَنَّهُ مُنْكَرٌ لَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ مُقَدَّرٌ“ اس لیے کیونکہ یہ ایسا ناپسندیدہ فعل ہے جس کے اندر کوئی چیز مقررہ نہیں ہے یعنی شریعت کی طرف سے۔ ”وَمَنْ أَتَى امْرَأَةً فِي الْمَوْضِعِ الْمَكْرُوهِ“ اور جو شخص کسی عورت کے پاس آیا فی الموضع المکروہ ناپسندیدہ مقام میں، یعنی جس شخص نے عورت کے پچھلے مقام میں وطی کی ”أَوْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ“ یا وہ شخص جس نے قوم لوط والا عمل کیا، قوم لوط والا عمل کیا یعنی کسی مرد کے ساتھ اس نے بدکاری کی، تو کسی نے اگر عورت کے ساتھ پچھلے مقام میں بدکاری کی یا کسی مرد کے ساتھ بدکاری کی ان دونوں کا حکم آگے بیان فرمائیں گے کہ ان پر حد نہیں ہے۔ امام صاحب کے نزدیک ان پر حد نہیں ہے جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ بھی زنا کی طرح ہے لہٰذا اس میں حد جاری ہو گی۔ اور یہ بھی یاد رکھنا یہ جو آیا نا ”وَمَنْ أَتَى امْرَأَةً فِي الْمَوْضِعِ الْمَكْرُوهِ“ کہ جس شخص نے عورت کے ناپسندیدہ مقام میں صحبت کی، اس سے مراد اجنبیہ عورت ہے۔ اجنبیہ عورت کے بارے میں امام صاحب فرماتے ہیں اس پر حد نہیں ہے اور صاحبین فرماتے ہیں حد ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ پچھلے مقام میں وطی کرتا ہے تو یاد رکھو اس میں حد نہیں ہے، یہ اس نے حرام فعل کیا، انتہائی قبیح فعل کیا، حتیٰ کہ حدیث کے اندر آتا ہے کہ جو شخص اپنی عورت کے پاس پچھلے مقام میں آتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت نہیں فرماتے۔ تو دیکھو کتنی بڑی وعید ہے کہ حضور علیہ السلام فرما رہے ہیں کہ اللہ اس کی طرف نظر رحمت ہی نہیں فرماتے، تو لہٰذا اپنی بیوی کے ساتھ ایسا کرنا وہ حرام ہے لیکن بہرحال اس کی وجہ سے حد جاری نہیں ہو گی۔ تو یہ جو ذکر ہوا کتاب کے اندر اس سے مراد اجنبیہ ہے بھئی۔ تو جس شخص نے کسی عورت سے بدکاری کی پچھلے مقام میں ”أَوْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ“ یا اس نے قوم لوط والا عمل کیا یعنی کسی مرد کے ساتھ بدکاری کی ”فَلَا حَدَّ عَلَيْهِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو اس پر حد نہیں ہے امام صاحب کے نزدیک ”وَيُعَزَّرُ“ اور اس کو تعزیر کی جائے گی۔ اس کو تعزیر کی جائے گی چنانچہ آگے بتلائیں گے کہ صحابہ کے اندر بھی اس کے اندر اختلاف تھا، بعض فرماتے تھے اس کو آگ میں جلایا جائے، مراد یہ ہے اس کو قتل کرنے کے بعد آگ میں جلا دیا جائے کیونکہ زندہ کو تو آگ میں جلانا جائز نہیں تو مطلب یہ تھا اس کو قتل کر دیا جائے اور پھر جلا دیا جائے، اور بعض فرماتے تھے کہ اس کو دیوار کے نیچے کھڑا کر کے اس کے اوپر دیوار گرا دی جائے تاکہ یہ مر جائے بھئی، اور بعض کہتے تھے کہ اس کو کسی اونچی جگہ سے اوندھے منہ نیچے گرایا جائے الٹا نیچے کی طرف گرایا جائے اور پھر اوپر سے اس پر پتھر وغیرہ گرائے جائیں تاکہ یہ ختم ہو جائے بھئی۔ تو اس کو تعزیر دی جائے گی اس قسم کی کوئی سزا دی جائے گی اور محشی حضرات لکھتے ہیں کہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ اس کو کوڑوں کی سزا دی جائے، اس کو کوڑوں کی سزا دی جائے، سخت تعزیر اس کو کی جائے، لیکن بہرحال بات یہ چل رہی ہے کہ اس پر حد ہے یا حد نہیں، امام صاحب فرماتے ہیں اس پر حد نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”فَلَا حَدَّ عَلَيْهِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَيُعَزَّرُ“ تو اس پر حد نہیں ہے امام صاحب کے نزدیک اور اس کو تعزیر کی جائے گی ”وَقَالَ فِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ: وَيُودَعُ فِي السِّجْنِ“ اور امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں کہ اس کو جیل میں رکھا جائے گا یہاں تک کہ توبہ کر لے یا وہیں مر جائے بھئی، تو امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں ”وَيُودَعُ فِي السِّجْنِ“ کہ اس کو جیل میں رکھا جائے گا۔ ”وَقَالَا: هُوَ كَالزِّنَا“ اور صاحبین فرماتے ہیں یہ زنا کی طرح ہے، یعنی کسی اجنبیہ عورت کے ساتھ بدکاری کرنا پچھلے مقام میں یا کسی مرد کے ساتھ بدکاری کرنا یہ کس کی طرح ہے؟ زنا کی طرح ہے ”فَيُحَدُّ“ تو اس کو حد لگائی جائے گی۔ تو کہتے ہیں ”وَقَالَا: هُوَ كَالزِّنَا فَيُحَدُّ“ اور صاحبین فرماتے ہیں یہ زنا کی طرح ہے تو اس کو حد لگائی جائے گی ”وَهُوَ أَحَدُ قَوْلَيِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى“ اور یہی امام شافعی رحمہ اللہ کے دو قولوں میں سے ایک قول ہے ”وَقَالَ فِي قَوْلٍ: يُقْتَلَانِ بِكُلِّ حَالٍ“ اور ایک قول میں وہ فرماتے ہیں کہ ان کو قتل کیا جائے گا ہر حال میں، ان کو ہر حال میں قتل کیا جائے گا یعنی چاہے محسن ہوں یا محسن نہ ہوں ان کو قتل کیا جائے گا۔ اور دلیل دیتے ہیں ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے کہ آپ نے فرمایا: ”اقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ“ کہ فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو، فاعل جو وطی کرنے والا ہے مفعول جس کے ساتھ وطی کی گئی تو حدیث میں کیا آیا ”اقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ“ کہ فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو ”وَيُرْوَى: ”فَارْجُمُوا الْأَعْلَى وَالْأَسْفَلَ““ اور یہ بھی روایت کیا گیا ہے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اوپر والے کو بھی رجم کر دو اور نیچے والے کو بھی رجم کر دو یعنی فاعل اور مفعول دونوں کو رجم کر دو۔ یہ تو امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل تھی، ان کے ایک قول کے مطابق قتل کیا جائے گا اور ان کی دلیل یہ حدیثیں ہیں بھئی۔ ”وَلَهُمَا أَنَّهُ فِي مَعْنَى الزِّنَا“ اور صاحبین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک جو ہے وہ زنا کے معنی میں ہے، یہ چاہے عورت سے اس طرح فعل کیا چاہے مرد سے، یہ دونوں فعل زنا کے معنی میں ہیں ”لِأَنَّهُ قَضَاءُ الشَّهْوَةِ“ توجہ سے سنو بھئی یہ ذرا مشکل مقام ہے۔ کہتے ہیں ”أَنَّهُ فِي مَعْنَى الزِّنَا“ یہ جو فعل ہے یہ زنا کے معنی میں ہے، یہ فعل زنا جیسا ہے ”لِأَنَّهُ قَضَاءُ الشَّهْوَةِ فِي مَحَلٍّ مُشْتَهًى عَلَى سَبِيلِ الْكَمَالِ عَلَى وَجْهٍ تَمَحَّضَ حَرَامًا لِقَصْدِ سَفْحِ الْمَاءِ“ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ قَضَاءُ الشَّهْوَةِ“ اس لیے کیونکہ یہ شہوت کو پورا کرنا ہے ”فِي مَحَلٍّ مُشْتَهًى“ ایسے مقام میں جو قابل شہوت ہے، یہ شہوت کو پورا کرنا ہے ایسے محل میں ایسے مقام میں، مشتهى جو قابل شہوت ہے ”عَلَى سَبِيلِ الْكَمَالِ“ کامل طریقے پر، یہ شہوت کو پورا کرنا ہے ایسے مقام میں جو کامل طریقے پر قابل شہوت ہے بھئی، ”عَلَى وَجْهٍ“ ایسے طریقے پر ”تَمَحَّضَ حَرَامًا“ کہ یہ محض حرام ہے اور یہ شہوت کو پورا کرنا ہے کس لیے؟ ”لِقَصْدِ سَفْحِ الْمَاءِ“ سفح يسفح سفحاً کا معنی ہے پانی وغیرہ کا بہا دینا، تو ”لِقَصْدِ سَفْحِ الْمَاءِ“ پانی بہانے کے ارادے سے، یعنی مراد ہے شہوت پوری کرنا۔ توجہ ہے؟ پھر سنو، صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ جو عورت کے ساتھ اس طرح بدکاری کی یا مرد کے ساتھ اس طرح بدکاری کی یہ بھی زنا کے معنی میں ہے اس لیے کیونکہ اس کے اندر شہوت کو پورا کیا جاتا ہے ایسے محل میں جو کامل طریقے پر قابل شہوت ہے، اور یہ فعل جو ہے محض حرام ہے، اور یہاں مقصد صرف اپنی شہوت کو پورا کرنا ہے اور کوئی مقصد نہیں، اور کوئی مقصد نہیں بھئی۔ بیوی کے ساتھ انسان صحبت کرتا ہے وہاں تو مقصد اولاد ہوتی ہے لیکن یہاں پر کوئی مقصد نہیں۔ تو لہٰذا یہ فعل بھی زنا کے معنی میں ہے۔ زنا میں بھی یہی کچھ ہوتا ہے، وہاں زنا کے اندر بھی اب مقصد کیا ہوتا ہے؟ شہوت کو پورا کرنا اور ایسے محل میں جو کامل طریقے سے شہوت کے قابل ہوتا ہے اور وہ فعل محض حرام ہوتا ہے اور وہاں مقصد صرف شہوت کا پورا کرنا ہوتا ہے اور کوئی مقصد نہیں ہوتا۔ یعنی زنا جس چیز کا نام تھا وہ ساری چیزیں ان دونوں میں بھی ہیں یعنی عورت کے ساتھ اس طرح بدکاری کرے یا مرد کے ساتھ اس طرح بدکاری کرے اس میں بھی یہ ساری چیزیں ہیں۔ اس میں بھی شہوت کا پورا کرنا ہے، ایسے محل میں شہوت کا پورا کرنا ہے جو کامل طریقے سے شہوت کے قابل ہے اور نیز یہ فعل بھی محض حرام ہی ہے اور نیز یہاں پر بھی صرف شہوت کا پورا کرنا ہی مقصد ہے جیسے زنا کے اندر شہوت کا پورا کرنا ہی مقصد ہوتا ہے، تو لہٰذا یہ زنا کے معنی میں ہیں۔ جب یہ زنا کے معنی میں ہیں تو زنا کی وجہ سے تو حد جاری کی جاتی ہے لہٰذا ان افعال کی وجہ سے بھی حد جاری کی جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اس پر صاحبین پر اشکال ہوتا ہے کہ یہ تو آپ قیاس کے ذریعے زنا ثابت کر رہے ہیں حالانکہ آپ ہمیں خود بتا چکے ہیں کہ حدود کا معاملہ بڑا نازک ہے ادنیٰ شبہے سے بھی حد ساقط ہو جاتی ہے تو قیاس کے ذریعے تو حد کو ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ تو فقہاء جواب دیتے ہیں کہ صاحبین یہاں قیاس کے ذریعے حد ثابت نہیں کر رہے بلکہ دلالۃ النص کے ذریعے حد ثابت کر رہے ہیں۔ قیاس کے ذریعے واقعی حد کو ثابت نہیں کیا جا سکتا کیونکہ قیاس کے اندر تو شبہ ہوتا ہے، آپ نے عقل کے ذریعے ایک چیز کی علت نکالی ہے اور اس کے اوپر دوسرے کو قیاس کر رہے ہیں تو اس کے اندر تو فقہاء آپس میں اختلاف بھی کرتے ہیں بھئی، کیونکہ وہاں کوئی قطعی بات نہیں ہوتی، آپ ایک چیز کی ایک علت بیان کرتے ہیں دوسرا فقیہ دوسری علت بیان کرتا ہے تو قیاس کے اندر تو شبہ ہوتا ہے تو قیاس کے ذریعے تو حد کو ثابت نہیں کیا جا سکتا، تو پھر صاحبین نے کیسے یہ ثابت کیا؟ تو میں نے بتلایا فقہاء اور علماء کیا فرماتے ہیں کہ صاحبین نے دلالۃ النص کے ذریعے اس حد کو ثابت کیا ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا دلالۃ النص اس علت کو کہتے ہیں جس کو ہر اہل زبان جان لیتا ہے۔ دلالۃ النص اس علت کو کہتے ہیں جس کو ہر اہل زبان جان لیتا ہے وہاں کسی غور و فکر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مثلاً قرآن میں اللہ فرماتے ہیں والدین کے بارے میں: ﴿فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ﴾ والدین کو اف بھی نہ کہو، اب عربی زبان جاننے والا ہر آدمی سمجھ لیتا ہے کہ یہاں اف کہنے سے کیوں منع کیا گیا ہے؟ کیونکہ اس سے والدین کو تکلیف ہو گی، لہٰذا یہ تو عبارت النص ہے، یہ کیا ہے؟ عبارت النص ہے، اف کہنے سے منع کیا جا رہا ہے لیکن اسی عبارت نے دلالت کر دی، اسی نص نے دلالت کر دی کہ ہر وہ فعل ممنوع ہو گا جس سے والدین کو تکلیف ہو، لہٰذا جب والدین کو اف کہنے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ اس سے ان کو تکلیف ہوتی ہے تو گالی دینا یا والدین کو مارنا وہ بطریق اولیٰ منع ہو گا کیونکہ اس میں تو اس اف کہنے سے بھی زیادہ تکلیف ہو گی انہیں، بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر سمجھو ایک ہے عبارت النص، عبارت النص وہ ہے جس کے لیے کلام لایا گیا ہے اور دلالۃ النص وہ مفہوم ہے جو زبان کا ہر جاننے والا اس سے بلا تکلف سمجھ لیتا ہے۔ جس کے لیے نص کو چلایا گیا ہے، جو اس کے اندر بات بیان کی جا رہی ہے۔ جی۔ جیسے ﴿فَلَا تَقُلْ لَّهُمَآ أُفٍّ﴾ والدین کو اف بھی نہ کہو، یہ ہے عبارۃ النص۔ یہ نص اس لیے چلائی گئی ہے کہ اف کہنے سے بھی روکا جا رہا ہے۔ لیکن اسی نص نے دلالت کر دی کہ اس کی علت کیا ہے؟ کہ اس سے والدین کو تکلیف ہوتی ہے اور ہر عربی زبان جاننے والا اس معنی کو سمجھ لیتا ہے۔ یہاں کسی غور و فکر کی ضرورت نہیں۔ دلالۃ النص اس علت کو کہتے ہیں جس کو ہر اہل زبان جان لیتا ہے، وہاں کسی غور و فکر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تو یہاں پر بھی صاحبین نے یہ جو عورت کے ساتھ پچھلے مقام میں بدکاری کی یا مرد کے ساتھ بدکاری کی، اس کے لیے بھی حد ثابت کی، وہ قیاس کے ذریعے نہیں بلکہ دلالۃ النص کے ذریعے۔ جی۔ کس کے ذریعے؟ دلالۃ النص کے ذریعے، کہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ﴾ تو یہاں پر دیکھو، زنا کرنے والے مرد اور زنا کرنے والی عورت کے لیے سزا ذکر کی جا رہی ہے اور زنا کسے کہتے ہیں؟ کہ شہوت کو پورا کرنا ایسے محل میں جو کامل طریقے پر قابل شہوت ہو اور وہ فعل محض حرام ہو، نہ وہاں ملکیت ہو نہ شبۂ ملکیت ہو اور نیز وہاں مقصد بھی صرف شہوت کا پورا کرنا ہو اور کوئی مقصد اولاد وغیرہ کا کوئی مقصد نہ ہو، تو یہ ساری چیزیں اس کے اندر بھی پائی جا رہی ہیں۔ تو جب عبارۃ النص سے زنا کے لیے حد ثابت ہو رہی تھی، تو دلالۃ النص سے یہ مرد اور عورت کے ساتھ جو اس طرح کی بدکاری کی ہے، اس کے لیے بھی حد ثابت ہو جائے گی کیونکہ وہ بھی اسی کی طرح ہے۔ جی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ لیکن بہرحال صاحبین پر اعتراض ہوتا ہے کہ دلالۃ النص تو اس علت کو کہتے ہیں جسے ہر اہل زبان جان لیتا ہے اور آپ نے یہ جو تفصیل بیان کی، یہ تو ہر اہل لغت نہیں جانتا۔ چنانچہ اسی لیے صحابہ نے ان کو زنا قرار نہیں دیا۔ انہوں نے بعضوں نے کہا اس کو قتل کر کے جلا دیا جائے، بعضوں نے کہا کہ اس کو اس کے اوپر دیوار گرا دی جائے، بعضوں نے کہا کہ اس کو اونچی جگہ سے الٹا گرا دیا جائے، تو معلوم ہوا صحابہ کے نزدیک نہ یہ زنا ہے اور نہ زنا کے معنی میں ہے بھئی۔ جی۔ اور دلالۃ النص تو وہ ہے جسے ہر اہل لغت جان لیتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَهُمَا: أَنَّهُ فِيْ مَعْنَى الزِّنَا“ اور صاحبین کی دلیل یہ ہے کہ یہ جو لواطت والا فعل ہے یا اسی طرح عورت کے ساتھ پچھلے مقام میں وطی کرنا، یہ دونوں زنا کے معنی میں ہیں ”لِأَنَّهُ قَضَاءُ الشَّهْوَةِ فِيْ مَحَلٍّ مُشْتَهًى عَلَى سَبِيْلِ الْكَمَالِ“ اس لیے کیونکہ یہ شہوت کو پورا کرنا ہے ایسے محل میں جو کامل طریقے پر شہوت کے قابل ہے ”عَلَى وَجْهٍ تَمَحَّضَ حَرَامًا“ ایسے طریقے پر کہ یہ فعل جو ہے محض حرام ہے ”لِقَصْدِ سَفْحِ الْمَاءِ“ پانی بہانے کے ارادے سے، یعنی شہوت کے پورا کرنے کے ارادے سے یہ فعل کیا جائے بھئی۔ اب امام صاحب کی دلیل آ گئی۔ ”وَلَهُ: أَنَّهُ لَيْسَ بِزِنًى“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ یہ فعل جو ہے یہ زنا نہیں ہے ”لِاخْتِلَافِ الصَّحَابَةِ فِيْ مُوْجَبِهِ“ اس وجہ سے کہ صحابہ کے اندر اختلاف تھا اس کے حکم کے بارے میں ”مِنَ الْإِحْرَاقِ بِالنَّارِ“ اب وہ حکم میں جو اختلاف ہے اس کی تفصیل بیان فرما رہے ہیں: ”مِنَ الْإِحْرَاقِ بِالنَّارِ“ یعنی آگ کے اندر جلانا، اور میں نے بتایا آگ کے اندر جلانے سے کیا مراد ہے؟ کہ پہلے اس کو فاعل و مفعول کو قتل کیا جائے اور پھر آگ میں جلایا جائے ”وَهَدْمِ الْجِدَارِ“ اور اسی طرح اس کے اوپر دیوار کا گرا دینا ”وَالتَّنْكِيْسِ مِنْ مَّكَانٍ مُّرْتَفِعٍ“ نَکَّسَ یُنَکِّسُ تَنْکِیْس کا معنی ہے اوندھے منہ گرانا ”وَالتَّنْكِيْسِ مِنْ مَّكَانٍ مُّرْتَفِعٍ“ اور اونچی جگہ سے اوندھے منہ گرا دینا یعنی الٹا کر کے گرا دینا ”بِإِتْبَاعِ الْأَحْجَارِ وَغَيْرِ ذٰلِكَ“ اس کے پیچھے پتھر وغیرہ لگاتے ہوئے۔ جی۔ یعنی اس کو اونچی جگہ سے گرایا جائے اور پھر اس کے پیچھے پتھر بھی گرائے جائیں ”بِإِتْبَاعِ الْأَحْجَارِ وَغَيْرِ ذٰلِكَ“ پتھروں وغیرہ کو اس کے پیچھے لگاتے ہوئے۔ ”وَلَا هُوَ فِيْ مَعْنَى الزِّنَا“ امام صاحب کی دلیل چل رہی ہے، فرماتے ہیں کہ یہ زنا بھی نہیں ہے، اسی لیے صحابہ نے اس کے حکم کے بارے میں اختلاف کیا ”وَلَا هُوَ فِيْ مَعْنَى الزِّنَا“ اور نیز یہ زنا کے معنی میں بھی نہیں ہے ”لِأَنَّهُ لَيْسَ فِيْهِ إِضَاعَةُ الْوَلَدِ وَاشْتِبَاهُ الْأَنْسَابِ“ بھئی دیکھیے، زنا کے اندر اضاعۃ الولد ہوتی ہے۔ جی۔ زنا کے اندر اضاعۃ الولد، اولاد کا ضائع کرنا۔ بھئی کس طرح اولاد کا ضائع کرنا؟ بھئی ظاہر سی بات ہے، زنا سے جو بچہ پیدا ہوگا اس کا نسب نہیں ثابت۔ جب اس کا نسب ثابت نہیں ہے تو کوئی اس کی تربیت کرنے والا نہیں ہے، تو وہ بچہ تو ہلاک ہو جائے گا، یہ تو ضائع ہو جائے گا بھئی، تو لہٰذا معلوم ہوا زنا کے اندر بچے کا ضائع کرنا ہے۔ اور نیز زنا کی وجہ سے نسب مشتبہ ہو جاتا ہے۔ ایک شخص کی بیوی ہے اس کے ساتھ اگر کوئی زنا کر لے گا تو اب جو بچہ پیدا ہو گیا اس کا نسب تو مشتبہ ہو گیا بھئی، یا اسی طرح ایک شخص کی بیوی ہے اس کے ساتھ کوئی شخص زنا کرے گا تو اس نے تو اس شخص کے فراش کو فاسد کر دیا بھئی۔ یہ بیوی تو اس خاوند کی منکوحہ تھی، اس کا فراش تھی، لیکن اس نے اس کے ساتھ زنا کر کے اس کے فراش کو فاسد کر دیا۔ تو معلوم ہوا زنا کے اندر اولاد کا ضائع کرنا ہے اور اسی طرح زنا کے اندر نسب کو مشتبہ بنانا ہے اور اسی طرح زنا کے اندر فراش کو فاسد کرنا ہے۔ جی۔ لیکن یہ جو مرد کے ساتھ بدکاری کی ہے اس کے اندر تو اضاعتِ ولد بھی نہیں، اس کے اندر تو اشتباہِ نسب بھی نہیں اور اس کے اندر افسادِ فراش بھی نہیں ہے، لہٰذا یہ زنا کے معنی میں بھی نہیں ہے۔ یہ امام صاحب نے فرق بیان کر دیا۔ صاحبین نے کہا تھا یہ فعل بھی زنا کے معنی میں ہے، امام صاحب نے فرق بیان فرما دیا کہ نہیں، زنا کے اندر اضاعتِ ولد ہوتا ہے لیکن اس کے اندر یہاں اضاعتِ ولد نہیں۔ زنا کے اندر اشتباہِ انساب ہوتا ہے، نسب مشتبہ ہو جاتے ہیں لیکن یہاں پر اشتباہِ انساب نہیں ہے اور نیز زنا کے اندر فراش فاسد ہوتا ہے اور یہاں پر فراش کا فاسد کرنا نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا هُوَ فِيْ مَعْنَى الزِّنَا“ اور یہ فعل جو ہے زنا کے معنی میں بھی نہیں ہے ”لِأَنَّهُ لَيْسَ فِيْهِ إِضَاعَةُ الْوَلَدِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر اولاد کا ضائع کرنا نہیں ہے ”وَاشْتِبَاهُ الْأَنْسَابِ“ اور اس کے اندر نسب کا مشتبہ کرنا نہیں ہے ”وَكَذَا هُوَ أَنْدَرُ وُقُوْعًا“ اور اسی طرح یہ نادر الوقوع ہے۔ أَنْدَر، أَنْدَر یہ اسم تفضیل ہے نَادِر سے، تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ جو اس قسم کی بدکاری ہے، یہ زنا کے مقابلے میں نادر ہے بھئی۔ جی۔ یہ کیا ہے؟ نادر ہے، قلیل ہے، اس لیے کیونکہ اس کے اندر داعی جو ہے ایک جانب سے ہوتا ہے جبکہ زنا کے اندر داعی دونوں طرف سے ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا هُوَ أَنْدَرُ وُقُوْعًا“ اور اسی طرح یہ جو ہے زیادہ نادر ہے وقوعاً واقع ہونے کے اعتبار سے۔ یہ زیادہ نادر ہے واقع ہونے کے اعتبار سے ”لِانْعِدَامِ الدَّاعِي فِيْ أَحَدِ الْجَانِبَيْنِ“ اس وجہ سے کہ داعی معدوم ہے دو جانبوں میں سے ایک کے اندر۔ بھئی یاد رکھو، زنا کے اندر داعی دونوں طرف سے ہوتا ہے، مرد کے اندر بھی شہوت ہے، عورت کے اندر بھی شہوت ہے تو دونوں کی شہوت داعی ہوتی ہے زنا کی طرف، ان دونوں کو زنا کی طرف لے جانے والی ہے۔ جبکہ مرد جب مرد کے ساتھ بدکاری کرتا ہے تو وہاں پر داعی صرف فاعل کی طرف سے ہوتا ہے، فاعل کی طرف سے شہوت ہوتی ہے جبکہ مفعول کی طرف سے شہوت نہیں، تو لہٰذا یہاں پر داعی صرف ایک طرف سے ہے۔ امام صاحب کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ یہ بدکاری کرنا یہ جو ہے زنا کی طرح نہیں ہے، ایک تو اس وجہ سے کہ زنا کے اندر جو ہے اضاعۃ الولد ہوتا ہے اور اشتباہ الانساب ہوتا ہے اور افساد الفراش ہوتا ہے جبکہ اس بدکاری کے اندر یہ نہیں ہے اور نیز زنا جو ہے وہ زیادہ ہوتا ہے جبکہ یہ بدکاری اس کے مقابلے میں کم ہوتی ہے، اس لیے کیونکہ اس کے اندر داعی دونوں طرف سے نہیں ہوتا بلکہ داعی صرف ایک جانب سے یعنی صرف فاعل کی طرف سے ہوتا ہے بھئی۔ جی۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا هُوَ أَنْدَرُ وُقُوْعًا“ اور اسی طرح یہ زیادہ نادر ہے واقع ہونے کے اعتبار سے ”لِانْعِدَامِ الدَّاعِي فِيْ أَحَدِ الْجَانِبَيْنِ“ اس لیے کیونکہ داعی معدوم ہے دو جانبوں میں سے ایک کے اندر ”وَالدَّاعِي إِلَى الزِّنَا مِنَ الْجَانِبَيْنِ“ اور زنا کا داعی جو ہے وہ دونوں جانب میں ہوتا ہے ”وَمَا رَوَاهُ مَحْمُوْلٌ عَلَى السِّيَاسَةِ أَوْ عَلَى الْمُسْتَحِلِّ“ بھئی امام شافعی رحمہ اللہ نے دلیل ذکر فرمائی تھی کہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”اقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ“ یا دوسری حدیث میں آتا ہے: ”فَارْجُمُوا الْأَعْلَى وَالْأَسْفَلَ“ تو اس کا بھی اب جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَمَا رَوَاهُ مَحْمُوْلٌ عَلَى السِّيَاسَةِ“ اور وہ حدیث جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کیا وہ سیاست پر محمول ہے، یعنی یعنی اگر حاکم سیاسۃً مناسب سمجھے تو ان کو قتل کروا سکتا ہے بھئی۔ جی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَا رَوَاهُ مَحْمُوْلٌ عَلَى السِّيَاسَةِ“ اور وہ حدیث جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کیا وہ سیاست پر محمول ہے ”أَوْ عَلَى الْمُسْتَحِلِّ“ یا یہ حدیث محمول ہے حلال سمجھنے والے پر۔ یعنی جو اس فعلِ لواطت کو حلال سمجھتا ہے تو وہ تو کافر ہو گیا بھئی، جب کافر ہو گیا وہ تو واجب القتل ہوا بھئی، تو اس کے بارے میں یہ حدیث ہے۔ تو کہتے ہیں یہ حدیث محمول ہے سیاست پر ”أَوْ عَلَى الْمُسْتَحِلِّ“ یا اس شخص پر جو اس کو حلال سمجھتا ہے ”إِلَّا أَنَّهُ يُعَزَّرُ عِنْدَهُ“ مگر یہ کہ اس کو تعزیر کی جائے گی امام صاحب کے نزدیک۔ تو امام صاحب کے نزدیک یہ جو فعل ہے یہ زنا بھی نہیں ہے اور معنیٔ زنا میں بھی نہیں ہے تو پھر اس کے اندر تعزیر کی جائے گی امام صاحب کے نزدیک ”لِمَا بَيَّنَّاهُ“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ جو ناپسندیدہ فعل ہو لیکن شریعت نے کوئی سزا مقرر نہیں کی تو وہاں پھر تعزیر دی جاتی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اچھا بھئی، یہاں پر یاد رکھنا ایک تو متن تھا اور آگے اس کی شرح کے اندر صاحبِ ہدایہ نے دلائل ذکر فرمائے۔ متن کیا تھا؟ ”وَمَنْ أَتَى امْرَأَةً فِي الْمَوْضِعِ الْمَكْرُوهِ أَوْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ فَلَا حَدَّ عَلَيْهِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى وَيُعَزَّرُ، وَقَالَ فِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ: وَيُودَعُ فِي السِّجْنِ، وَقَالَا: هُوَ كَالزِّنَا فَيُحَدُّ“ یہ جو متن تھا، اس متن کے اندر دو فعل ذکر ہیں بھئی۔ ایک عورت کے ساتھ پچھلے مقام میں بدکاری کرنا اور ایک ہے مرد کے ساتھ بدکاری کرنا اور آگے جتنے دلائل ذکر ہوئے، یاد رکھو یہ سارے دلائل متعلق ہیں لواطت سے۔ جی۔ یہ سارے دلائل متعلق ہیں لواطت سے یعنی مرد کے ساتھ اگر کوئی بدکاری کرے تو پھر اس کا یہ حکم ہے لیکن بہرحال دونوں کا حکم ایک ہی ہے بھئی۔ دونوں قسم کے جرموں کا حکم ایک ہی ہے، چنانچہ اسی لیے میں نے یہ جو اوپر صاحبین کی دلیل آئی تھی: ”وَلَهُمَا: أَنَّهُ فِيْ مَعْنَى الزِّنَا“ یہ أَنَّهُ کی ہا ضمیر میں نے ان دونوں فعلوں کی طرف راجع کی تھی، أَيْ كُلُّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا، ان دونوں میں سے ہر ایک، تو کُلُّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا کی تاویل میں۔ اسی طرح امام صاحب کی دلیل آئی: ”وَلَهُ: أَنَّهُ لَيْسَ بِزِنًى“ یہ أَنَّهُ کی ہا ضمیر بھی میں نے دونوں کی طرف راجع کی، أَيْ كُلُّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا، ان دونوں میں سے ہر فعل جو ہے وہ مراد ہے۔ اور اگر آپ چاہیں تو أَنَّهُ کی ضمیر جو ہے دونوں جگہ پر آپ فعلِ لواطت کو بھی لوٹا سکتے ہیں۔ شارحین بھی دونوں طرف گئے ہیں، بعضوں نے یہ أَنَّهُ کی ہا ضمیر دونوں کی طرف لوٹائی ہے اور بعضوں نے فعلِ لواطت کی طرف یہ ضمیر لوٹائی ہے۔ لیکن بہرحال مآل دونوں کا ایک ہی ہے۔ لواطت کے حکم کے دلائل اور اس کی سزا کا جب پتہ چل گیا تو عورت کے ساتھ پچھلے مقام کے اندر وطی کرنا وہ بھی اسی کے مثل ہے، اس کا بھی یہی حکم ہے۔ تو آپ چاہیں تو یہ أَنَّهُ کی ہا ضمیر دونوں کو راجع کر دیں اور آپ چاہیں تو یہ أَنَّهُ کی ضمیر صرف فعلِ لواطت کو راجع کر دیں، تو مآل بہرحال دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے۔ اور میں نے بتایا شارحین بھی دونوں طرف گئے ہیں، بعضوں نے یہ ضمیریں دونوں کی طرف لوٹائی ہیں اور بعضوں نے ضمیر ایک کی طرف لوٹائی ہے۔ حتی کہ بعض شارحین نے تو یہ بھی لکھا ہے کہ یہ جو صاحبین کی دلیل آئی ہے: ”وَلَهُمَا: أَنَّهُ فِيْ مَعْنَى الزِّنَا“ وہ بعض شارحین فرماتے ہیں کہ ہدایہ کے بعض نسخوں میں یہاں أَنَّهُ کی جگہ ”أَنَّهُمَا“ کی ضمیر ہے یعنی تثنیہ کی ضمیر ہے تو اس صورت میں تو صراحۃً ان دونوں فعلوں کی طرف ضمیر لوٹ رہی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو آپ چاہیں دونوں کی طرف ان ضمیروں کو لوٹائیں، چاہے کسی ایک کی طرف، مآل ایک ہی ہے، دونوں کی سزا ایک ہی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: ”وَمَنْ وَطِئَ بَهِيمَةً فَلَا حَدَّ عَلَيْهِ“ بہیمہ کہتے ہیں چوپائے کو بھئی، ”وَمَنْ وَطِئَ بَهِيمَةً“ اور جس نے کسی چوپائے سے وطی کر لی ”فَلَا حَدَّ عَلَيْهِ“ تو اس پر حد نہیں ہے ”لِأَنَّهُ لَيْسَ فِيْ مَعْنَى الزِّنَا“ اس لیے کیونکہ چوپائے کے ساتھ جو وطی ہے، یہ زنا کے معنی میں نہیں ہے ”فِيْ كَوْنِهِ جِنَايَةً“ جنایت یعنی جرم ہونے میں بھی ”وَفِيْ وُجُوْدِ الدَّاعِي“ اور داعی کے پائے جانے میں بھی۔ جی۔ چوپائے کے ساتھ جو وطی ہے وہ زنا کے معنی میں نہیں ہے جرم ہونے کے اعتبار سے بھی اور داعی کے اعتبار سے بھی۔ جرم ہونے کے اعتبار سے بھی یہ زنا کی طرح نہیں ہے کیونکہ زنا کے اندر تو اپنی شہوت کو پورا کیا جاتا ہے ایسے محل میں جو کامل طور پر قابل شہوت ہوتا ہے جبکہ یہاں پر ایسا نہیں ہے بھئی، اور نیز نیز زنا کے اندر داعی دونوں جانب سے ہوتا ہے جبکہ یہاں پر بھی داعی صرف ایک جانب سے ہے، تو لہٰذا یہ چوپائے کے ساتھ جو وطی ہے یہ زنا کے معنی میں نہیں ہے جرم ہونے کے اعتبار سے بھی اور داعی کے پائے جانے کے اعتبار سے بھی۔ تو یہ معنی ہے ”لِأَنَّهُ لَيْسَ فِيْ مَعْنَى الزِّنَا“ تو یہ جو چوپائے کے ساتھ وطی ہے یہ زنا کے معنی میں نہیں ہے ”فِيْ كَوْنِهِ جِنَايَةً“ جنایت یعنی جرم ہونے میں ”وَفِيْ وُجُوْدِ الدَّاعِي“ اور داعی کے پائے جانے میں۔ جب یہ زنا کے معنی میں نہیں ہے تو زنا والا حکم بھی یہاں نہیں آئے گا، یہاں حد نہیں لگائی جائے گی بلکہ تعزیر کی جائے گی ”لِأَنَّ الطَّبْعَ السَّلِيْمَ يُنَفِّرُ عَنْهُ“ اس لیے کیونکہ طبعِ سلیم اس سے نفرت کرتی ہے۔ انسان کی طبیعتِ سلیمہ، جی، طبیعتِ سلیمہ وہ طبیعت جس پر انسان کو اللہ نے پیدا فرمایا ہے۔ جی۔ یعنی جس میں کسی قسم کا مرض اور خرابی نہیں ہے، وہ جو طبیعت ہے اس کو طبیعتِ سلیمہ کہتے ہیں، تو طبیعتِ سلیمہ جو ہے وہ اس کو ناپسند کرتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الطَّبْعَ السَّلِيْمَ يُنَفِّرُ عَنْهُ“ اس لیے کیونکہ انسان کی طبیعتِ سلیمہ اس سے نفرت کرتی ہے ”وَالْحَامِلُ عَلَيْهِ نِهَايَةُ السَّفَهِ أَوْ فَرْطُ الشَّبَقِ“ ”وَالْحَامِلُ عَلَيْهِ“ اور وہ چیز جو اس پر ابھارنے والی ہے، جی، کوئی شخص کسی چوپائے سے وطی کرتا ہے تو جو چیز اس پر ابھارنے والی ہے وہ ”نِهَايَةُ السَّفَهِ“ سَفَہٌ کہتے ہیں حماقت اور بے وقوفی کو، وہ انتہا درجے کی حماقت ہے، تو کہتے ہیں: ”وَالْحَامِلُ عَلَيْهِ نِهَايَةُ السَّفَهِ“ اور وہ چیز جو اس پر ابھارنے والی ہے وہ انتہا درجے کی حماقت اور بے وقوفی ہے ”أَوْ فَرْطُ الشَّبَقِ“ شَبَق بھئی شہوت کو کہتے ہیں ”أَوْ فَرْطُ الشَّبَقِ“ یا وہ شہوت کی زیادتی ہے، یعنی بے انتہا زیادہ شہوت اس قسم کے احمقانہ فعل پر کسی کو ابھار سکتی ہے۔ ”وَلِهٰذَا لَا يَجِبُ سَتْرُهُ“ اور اسی لیے جانور کی شرمگاہ کا چھپانا واجب نہیں۔ جی۔ اسی لیے جانور کی شرمگاہ کا چھپانا واجب نہیں، اگر جانور کی شرمگاہ قابلِ شہوت ہوتی تو شریعت اسے بھی چھپانے کا حکم دیتی لیکن وہ قابلِ شہوت ہے ہی نہیں، اس کی طرف کسی کی طبیعت متوجہ ہی نہیں ہو سکتی سوائے اس کے کوئی حد درجے کم عقل ہو یا اس کی حد سے زیادہ بڑھی ہوئی شہوت ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِهٰذَا لَا يَجِبُ سَتْرُهُ“ اور اسی لیے جانور کی شرمگاہ کو چھپانا واجب نہیں ہے ”إِلَّا أَنَّهُ يُعَزَّرُ“ مگر یہ کہ اس قسم کے آدمی کو تعزیر کی جائے گی اس کو سزا دی جائے گی ”لِمَا بَيَّنَّاهُ“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی کہ جو ناپسندیدہ فعل ہو لیکن شریعت کی طرف سے حد نہ ہو تو وہاں تعزیر آتی ہے بھئی۔ ”وَالَّذِيْ يُرْوَى أَنَّهُ تُذْبَحُ الْبَهِيْمَةُ وَتُحْرَقُ“ کہتے ہیں بھئی بعض روایات میں آتا ہے کہ اس قسم کے حیوان کو ذبح کر دیا جائے گا اور پھر اس کو جلا دیا جائے گا۔ جی۔ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ وہ جو بعض روایات میں یہ ذکر آتا ہے وہ واجب نہیں ہے، وہ صرف اس لیے ہے تاکہ اس کے بارے میں باتیں ختم ہو جائیں، اس لیے کیونکہ وہ حیوان پھر جب بھی لوگوں کے سامنے آئے گا لوگ بتلائیں گے ایک دوسرے کو یہ ہے وہ حیوان بھئی، تو جس کی وجہ سے لوگوں کی اس کی طرف توجہ ہو گی اور نیز وہ جانور کے مالک کو عار دلایا جائے گا اس کی وجہ سے، تو اس لیے بعض روایات میں آیا ہے کہ اس حیوان کو ذبح کر دیا جائے اور جلا دیا جائے تاکہ بات ہی ختم ہو جائے بھئی۔ جی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالَّذِيْ يُرْوَى“ اور وہ جو روایت کیا گیا ہے ”أَنَّهُ تُذْبَحُ الْبَهِيْمَةُ وَتُحْرَقُ“ کہ اس چوپائے کو ذبح کر دیا جائے اور اس کو جلا دیا جائے ”فَذٰلِكَ لِقَطْعِ التَّحَدُّثِ بِهِ“ تو وہ اس کے بارے میں بات چیت کو کاٹنے کے لیے ہے ”وَلَيْسَ بِوَاجِبٍ“ اور یہ واجب نہیں ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَمَنْ زَنَى فِيْ دَارِ الْحَرْبِ“ بھئی یاد رکھو، یاد رکھو، یہاں سے اجرائے حد کی پانچ شرائط ذکر فرمائیں گے صاحبِ ہدایہ، مختلف مسائل کے ضمن میں۔ جی۔ اجرائے حد کے لیے پانچ شرطیں ہیں، حد کے جاری کرنے کے لیے پانچ شرطیں ہیں۔ پہلی شرط یہ ہے کہ دار الاسلام ہونا چاہیے، دار الحرب میں کوئی زنا کرے تو اس پر حد واجب نہیں۔ دوسری شرط یہ ہے کہ وہ شخص یعنی وہ جو مرد ہے یعنی وہ جو زنا کرنے والا ہے وہ مکلف ہونا چاہیے یعنی عاقل بالغ ہونا چاہیے۔ لہٰذا اگر بچہ جو ہے وہ زنا کرتا ہے تو یہ حقیقت میں زنا ہے ہی نہیں۔ جی۔ یہ حقیقت میں زنا ہے ہی نہیں کیونکہ یہ بچہ ہے نابالغ ہے اور زنا کی آپ نے تعریف پڑھی تھی، کیا تعریف کی تھی صاحبِ ہدایہ نے؟ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا: ”وَطْءُ الرَّجُلِ الْمَرْأَةَ فِي الْقُبُلِ فِي غَيْرِ الْمِلْكِ وَشُبْهَةِ الْمِلْكِ“ یہاں دیکھو رجل کی قید ہے اور بچہ جو ہے وہ تو رجل نہیں ہے بھئی، تو بچے کا جو فعل ہے اگر وہ اس طرح کی وطی کرتا ہے وہ زنا نہیں ہے بھئی۔ تو اجرائے حد کے لیے میں پانچ شرائط ذکر کر رہا تھا، پہلی شرط یہ ہے کہ دار الاسلام ہونا چاہیے پھر ہی حد واجب ہوگی، دوسری شرط یہ ہے کہ وہ زنا کرنے والا جو مذکر ہے وہ مکلف ہونا چاہیے یعنی عاقل بالغ ہونا چاہیے بھئی۔ تیسری شرط یہ ہے کہ زنا کے اندر رضامندی ہو بھئی، زنا کے اندر رضامندی ہو، اگر کسی سے زبردستی زنا کروایا جائے گا تو پھر اس پر حد جاری نہیں ہوگی بھئی۔ اور چوتھی شرط یہ ہے کہ دونوں جانب متفق ہوں اس کے زنا ہونے پر، عورت بھی کہے یہ زنا ہے اور مرد بھی کہے یہ زنا ہے، لہٰذا آگے چل کے ایک مسئلہ بتائیں گے، مرد تو کہتا ہے میں نے زنا کیا، عورت کہتی ہے ہم نے نکاح کیا ہے، یا مرد کہتا ہے ہم نے نکاح کیا ہے، عورت کہتی ہے ہم نے زنا کیا ہے، تو یہاں دونوں کا زنا کے اندر اتفاق نہیں، لہٰذا شبہ آ گیا اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جائے گی۔ اور پانچویں شرط یہ ہے کہ امیر پایا جائے بھئی، حد کون قائم کرے گا؟ امیر یا امیر کا نائب قائم کرے گا، کوئی اور قائم نہیں کر سکتا۔ تو حد کے جاری کرنے کے لیے پانچ شرطیں ہیں بھئی، اجرائے حد کے لیے پانچ شرطیں ہیں: پہلی شرط کیا؟ دار الاسلام ہو۔ دوسری شرط یہ کہ وہ مذکر جو ہے وہ مکلف و عاقل بالغ ہو۔ تیسری شرط یہ ہے کہ زنا اپنی رضامندی سے کیا ہو۔ چوتھی شرط یہ ہے کہ وہ مرد اور عورت اس کو زنا کہنے پر متفق ہوں۔ اور پانچویں شرط یہ ہے کہ جو حد قائم کرنے والا ہو وہ امیر ہو یا اس کا نائب ہو بھئی، یعنی قاضی وغیرہ۔ تو دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ”وَمَنْ زَنَى فِيْ دَارِ الْحَرْبِ“ دیکھا، دار الحرب آ گیا، اب آپ مجھے بتائیے دار الحرب میں حد واجب ہوگی یا نہیں اگر کوئی زنا کر لے؟ دار الحرب میں واجب نہیں کیونکہ پہلی شرط دار الاسلام ہے بھئی۔ جی۔ کہتے ہیں: ”وَمَنْ زَنَى فِيْ دَارِ الْحَرْبِ“ اور جس شخص نے دار الحرب میں زنا کیا ”أَوْ فِيْ دَارِ الْبَغْيِ“ یا باغیوں کے علاقے میں، دار البغی باغیوں کا علاقہ، یعنی بعض لوگوں نے خلیفہ سے بغاوت کر دی ہے اور کسی علاقے پر قبضہ کر لیا ہے، وہاں بھی اگر کوئی زنا کرے گا تو اس پر حد واجب نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ زَنَى فِيْ دَارِ الْحَرْبِ أَوْ فِيْ دَارِ الْبَغْيِ“ اور جس نے زنا کیا دار الحرب میں یا باغیوں کے علاقے میں ”ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا“ پھر ہماری طرف نکل کر آ گیا، اور یہاں آ کر وہ اقرار بھی کر لیتا ہے کہ وہاں میں نے زنا کیا تھا، پھر بھی حد جاری نہیں ہوگی کیونکہ اجرائے حد کی شرط پوری نہیں ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ”ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا“ پھر وہ ہماری طرف نکل آیا ”لَا يُقَامُ عَلَيْهِ الْحَدُّ“ اس پر حد قائم نہیں کی جائے گی ”وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى يُحَدُّ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اس پر حد جاری کی جائے گی ”لِأَنَّهُ الْتَزَمَ بِإِسْلَامِهِ أَحْكَامَهُ“ اس لیے کیونکہ اس نے التزام کیا ہے اپنے اسلام کے ذریعے احکامہ اسلام کے احکام کا۔ مثلاً دار الحرب سے کوئی مسلمان ہو کر آ گیا یا باغیوں کے علاقے سے کوئی مسلمان ہو کر آ گیا تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے اسلام قبول کر کے اپنے اوپر اسلام کے احکام کو لازم کر دیا ہے، اس نے خود اسلام کے احکام کا التزام کر لیا ہے تو اس پر حد جاری کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں حد لگائی جائے گی ”لِأَنَّهُ الْتَزَمَ بِإِسْلَامِهِ“ اس لیے کیونکہ اس نے اپنے اسلام کی وجہ سے التزام کر لیا ہے ”أَحْكَامَهُ“ اسلام کے احکام کا ”أَيْنَمَا كَانَ مُقَامُهُ“ جہاں کہیں پر بھی اس کی رہائش ہو، جہاں کہیں پر بھی اس کی اقامت ہو، جی، جہاں کہیں پر بھی یہ رہتا ہو جب یہ مسلمان ہو گیا ہے تو اس نے اسلامی احکام کو اپنے اوپر لازم کر لیا ہے، لہٰذا اس پر حد لگائیں گے۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل جو ہے ”قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: ”لَا يُقَامُ الْحُدُوْدُ فِيْ دَارِ الْحَرْبِ“ دار الحرب میں حدود قائم نہیں کی جائیں گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: دار الحرب میں حدود قائم نہیں کی جائیں گی۔ جی۔ دار الحرب جو کفار کا علاقہ ہے، ویسے تو دار الحرب اسے کہتے ہیں جس کے ساتھ مسلمان حالتِ جنگ میں ہوں لیکن یہاں مطلقاً کفار کا وطن مراد ہے۔ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں دار الحرب یعنی کفار کا جو وطن ہے وہاں پر حد قائم نہیں کی جائے گی، اور فقہاء فرماتے ہیں کہ یہاں حد قائم کرنے سے مراد یہ ہے کہ حد واجب نہیں ہوگی۔ جی۔ حدیث میں تو کیا آیا؟ دار الحرب میں حد قائم نہیں کی جائے گی، لیکن مراد یہ ہے دار الحرب میں حد واجب نہیں ہوگی۔ بھئی یہ کیسا معنی آپ کر رہے ہیں؟ حدیث میں ہے حد قائم نہیں کی جائے گی اور آپ کہہ رہے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے حد واجب نہیں ہوگی۔ کہتے ہیں بھئی یہ بات تو ظاہر سی ہے کیونکہ دار الحرب کے اندر تو ہمارے خلیفہ کی حکومت ہی نہیں ہے، وہاں تو وہ حد جاری کر ہی نہیں سکتا بھئی، تو پھر بھی حضور فرما رہے ہیں کہ دار الحرب میں حد جاری نہ کی جائے، معلوم ہوا مراد یہ ہے کہ دار الحرب میں حد واجب ہی نہیں ہوگی بھئی۔ جی۔ تو یہ معنی ہے کہ حضور فرماتے ہیں: ”لَا يُقَامُ الْحُدُوْدُ فِيْ دَارِ الْحَرْبِ“ کہ دار الحرب کے اندر حد واجب نہیں ہوگی۔ ”وَلِأَنَّ الْمَقْصُوْدَ هُوَ الِانْزِجَارُ“ یہاں سے عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ دار الحرب میں یا باغیوں کے علاقے میں حد واجب نہیں ہوگی، کہتے ہیں وجہ یہ کہ حد کے ذریعے جو مقصود ہوتا ہے وہ انزجار ہوتا ہے کہ وہ جرم کرنے والا اور وہ جو لوگ ہیں اس جرم سے رک جائیں، باز آ جائیں۔ جی۔ اور یہ رکنا اور باز آنا یہ تو تب ہوگا جب آپ وہاں حد جاری بھی کریں، اور دار الحرب میں تو حد ہم جاری کر ہی نہیں سکتے، تو حد کا وجوب آ جائے اور جاری آپ نہیں کر سکیں تو اس کا تو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ جی۔ توجہ ہے؟ آپ یہ کہیں حد واجب ہوئی ہے اور حد کے واجب کرنے کا کیا مقصد ہے؟ تاکہ لوگ اس جرم سے رک جائیں، تو وہ رکنا تو تب پایا جائے گا جب آپ حد کو جاری بھی کریں اور آپ دار الحرب میں حد کو جاری ہی نہیں کر سکتے تو واجب کرنے کا تو کوئی فائدہ ہی نہ ہوا، لہٰذا واجب کرنے کا جب کوئی فائدہ ہی نہیں ہے تو حد واجب بھی قرار نہیں دی جائے گی دار الحرب میں بھئی۔ تو یہ معنی ہے ”وَلِأَنَّ الْمَقْصُوْدَ هُوَ الِانْزِجَارُ“ انزجار کا معنی میں نے بتلایا رک جانا، باز آ جانا، کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْمَقْصُوْدَ هُوَ الِانْزِجَارُ“ اور اس لیے کیونکہ حد کے ذریعے جو مقصود ہوتا ہے وہ رک جانا اور باز آ جانا ہوتا ہے کہ لوگ بھی رک جائیں اور وہ مجرم بھی رک جائے ”وَوِلَايَةُ الْإِمَامِ مُنْقَطِعَةٌ فِيْهِمَا“ اور ہمارے امام کی ولایت تو منقطع ہے دار الحرب سے بھی اور دار البغی سے بھی، وہ وہاں اپنا حکم جاری نہیں کر سکتا ”فَيَعْرَى الْوُجُوْبُ عَنِ الْفَائِدَةِ“ تو حد کا وجوب فائدے سے خالی ہوگا، صرف وجوب کا کوئی فائدہ نہیں جب تک اس کو جاری نہ کیا جائے۔ ”وَلَا يُقَامُ بَعْدَ مَا خَرَجَ“ اور حد قائم نہیں کی جا سکتی بعد اس کے جب وہ نکل آئے، جب دار الحرب سے نکل آئے تو اب بھی حد قائم نہیں کی جا سکتی۔ بھئی اب کیوں نہیں حد قائم کی جا سکتی؟ اب تو وہ ہمارے علاقے میں آ گیا ہے، یہاں تو ہمارے خلیفہ کی حکومت ہے، یہاں تو حد کا اجراء ہو سکتا ہے، کہتے ہیں بھئی جب تک یہ دار الحرب میں تھا تو یہ زنا حد کو واجب نہیں کر رہا تھا اور اب یہاں آ گیا تو وہی زنا اب حد کو واجب کرنے والا بن جائے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ پہلے وہی زنا حد کو واجب نہیں کر رہا تھا اور اب پلٹ کر کیا بن جائے؟ حد کو واجب کرنے والا بن جائے، ایسا نہیں ہو سکتا۔ جب وہ شروع میں حد کو واجب کرنے والا نہیں ہے تو بعد میں بھی وہ حد کو واجب کرنے والا نہیں بن سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُقَامُ بَعْدَ مَا خَرَجَ“ اور حد قائم نہیں کی جا سکتی بعد اس کے جب وہ شخص نکل آیا وہاں سے ”لِأَنَّهَا لَمْ تَنْعَقِدْ مُوْجِبَةً“ اس لیے کیونکہ یہ زنا منعقد نہیں ہوا موجبۃً حد کو واجب کرتے ہوئے، جی، موجب، واجب کرنے والا، ”لِأَنَّهَا“ ہا ضمیر راجع ہے اس فاحشۂ زنا کو، زنا تو مذکر ہے لیکن فاحشۃ الزنا، تو زنا ایک فحش کام ہے تو ہا ضمیر فاحشۃ الزنا کی تاویل میں زنا کو راجع ہے، ”لِأَنَّهَا لَمْ تَنْعَقِدْ مُوْجِبَةً“ اس لیے کیونکہ زنا کا فعل منعقد نہیں ہوا اس حال میں کہ یہ حد کو واجب کرنے والا ہو ”فَلَا تَنْقَلِبُ مُوْجِبَةً“ لہٰذا زنا کا فعل پلٹے گا نہیں اس حال میں کہ وہ حد کو واجب کرنے والا ہو جائے، ایسا نہیں ہوگا۔ یہ حد کو پہلے واجب نہیں کر رہا تھا اور اب حد کو واجب کرنے والا ہو جائے، ایسا نہیں ہو سکتا۔ ترجمہ پھر دیکھ لیجیے: ”لِأَنَّهَا لَمْ تَنْعَقِدْ مُوْجِبَةً“ اس لیے کیونکہ یہ زنا منعقد نہیں ہوا اس حال میں کہ یہ حد کو واجب کرنے والا ہو ”فَلَا تَنْقَلِبُ مُوْجِبَةً“ تو لہٰذا یہ زنا پلٹے گا نہیں اس حال میں کہ یہ زنا کو واجب کرنے والا ہو جائے۔ ”وَلَوْ غَزَا مَنْ لَّهُ وِلَايَةُ الْإِقَامَةِ بِنَفْسِهِ“ بھئی صورتِ مسئلہ یہ کہ بادشاہ یا اس کا نائب کوئی گورنر وغیرہ وہ جہاد کے لیے نکلا، تو یاد رکھو اس صورت میں اگر اس بادشاہ کے لشکر میں کوئی زنا کرتا ہے تو بادشاہ اس پر حد قائم کر سکتا ہے، کیونکہ حد قائم کرنا کس کا کام ہے؟ بادشاہ کا، یا گورنر ہے کسی شہر کا گورنر ہے وہ نکلا ہے جہاد پر تو اس کے لشکر میں کوئی زنا کرتا ہے تو یہ گورنر جو ہے اس پر حد قائم کرے گا۔ لیکن اگر بادشاہ یا گورنر نہیں نکلے، انہوں نے کسی اور کو لشکر کے ساتھ بھیجا ہے اور وہ ایسا شخص ہے کہ خلیفہ نے اس کو حد قائم کرنے کی اجازت نہیں دی تو یہ شخص حد قائم نہیں کر سکتا۔ جی۔ اگر خلیفہ نے اس کو حد قائم کرنے کی اجازت دی ہے کہ اگر لشکر میں کوئی زنا کرے تو اس پر حد قائم کرنا تو پھر تو یہ حد قائم کر سکتا ہے ورنہ خود اپنی طرف سے یہ حد قائم نہیں کر سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ غَزَا مَنْ لَّهُ وِلَايَةُ الْإِقَامَةِ بِنَفْسِهِ“ غَزَا یَغْزُوْ کا معنی ہے جہاد پر نکلنا، ”وَلَوْ غَزَا“ اور اگر جہاد پر نکلا ”مَنْ لَّهُ وِلَايَةُ الْإِقَامَةِ بِنَفْسِهِ“ جس کو خود حد قائم کرنے کی ولایت حاصل ہے ”كَالْخَلِيْفَةِ“ جیسے کہ خلیفہ ہے ”وَأَمِيْرِ الْمِصْرِ“ اور شہر کا جو امیر ہے یعنی گورنر ہے ”يُقِيْمُ الْحَدَّ“ تو وہ حد قائم کرے گا ”عَلَى مَنْ زَنَى فِيْ مُعَسْكَرِهِ“ اس شخص پر جو زنا کرے فی معسکرہ، معسکر کہتے ہیں وہ جو فوج نے پڑاؤ ڈالا ہوتا ہے یعنی وہ جو فوجی کیمپ ہے، فوجی چھاؤنی ہے، اس کے اندر اگر کوئی زنا کرتا ہے تو یہ اس پر حد قائم کر سکتا ہے تو یہ اس پر حد قائم کرے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”يُقِيْمُ الْحَدَّ عَلَى مَنْ زَنَى فِيْ مُعَسْكَرِهِ“ تو یہ حد قائم کرے گا اس شخص پر جو اس کی فوجی کیمپ کے اندر زنا کرے گا ”لِأَنَّهُ تَحْتَ يَدِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ فوجی کیمپ یا یہ جو فوجی چھاؤنی ہے تحت یدہ یہ اس کے قبضے کے تحت ہے ”بِخِلَافِ أَمِيْرِ الْعَسْكَرِ وَالسَّرِيَّةِ“ عسکر کہتے ہیں بڑے لشکر کو، سریہ کہتے ہیں چھوٹا فوجی دستہ بھئی، چھوٹا فوجی دستہ ہو پانچ سے لے کر چار سو تک افراد پر مشتمل یہ جو فوجی دستہ ہے اس کو سریۃٌ کہتے ہیں، اور یہ سَرٰی یَسْرِی سے ہے، سری یسری کا معنی ہے رات کو چلنا، تو چونکہ یہ دستہ بھی اس میں افراد کم ہوتے ہیں تو یہ دشمن سے چھپنے کے لیے رات کو چلتا ہے، رات کو یہ سفر کرتا ہے اور دن کو چھپ جاتا ہے بھئی، تو اس کو اس لیے سریہ کہتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ أَمِيْرِ الْعَسْكَرِ وَالسَّرِيَّةِ“ بخلاف بڑے لشکر کا امیر ہے یا چھوٹے دستے کا کوئی امیر ہے کہ وہ حد قائم نہیں کر سکتے ”لِأَنَّهُ لَمْ يُفَوِّضْ إِلَيْهِمَا الْإِقَامَةَ“ اس لیے کیونکہ امیر نے حد قائم کرنا ان کے سپرد نہیں کیا بھئی۔ جی۔ امیر نے ان کے سپرد حد قائم کرنا نہیں کیا، امیر نے صرف ان کو جہاد کے لیے لڑنے کے لیے بھیجا ہے تو حد قائم کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ہاں اگر امیر نے خود اجازت دے دی تو پھر اس صورت میں یہ حد قائم کریں گے بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی: ”وَإِذَا دَخَلَ حَرْبِيٌّ دَارَنَا بِأَمَانٍ فَزَنَى بِذِمِّيَّةٍ أَوْ زَنَى ذِمِّيٌّ بِحَرْبِيَّةٍ يُحَدُّ الذِّمِّيُّ وَلَا يُحَدُّ الْحَرْبِيُّ“ ”يُحَدُّ الذِّمِّيُّ وَالذِّمِّيَّةُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى، وَلَا يُحَدُّ الْحَرْبِيُّ وَالْحَرْبِيَّةُ، وَهُوَ قَوْلُ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى فِي الذِّمِّيِّ“۔ بھئی یہ مشکل مسئلہ ہے اور طویل مسئلہ ہے۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ ایک حربی امان لے کر دار الاسلام میں آیا اور اس نے کسی ذمیہ کے ساتھ زنا کر لیا۔ دوسری صورت: ایک حربیہ امان لے کر دار الاسلام میں آئی اور اس کے ساتھ کسی ذمی مرد نے زنا کر لیا۔ توجہ ہے؟ تو دو صورتیں ہیں، دونوں کو ہم اکٹھا لے کر چلیں گے۔ ایک صورت یہ ہے کہ آنے والا حربی وہ مرد ہے اور اس نے کسی ذمیہ عورت کے ساتھ زنا کیا، دوسری صورت اس کے برعکس ہے کہ آنے والی حربیہ عورت ہے اور اس کے ساتھ ذمی مرد نے زنا کیا ہے۔ تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو حربی مرد یا حربی عورت ہیں، ان پر تو حد جاری نہیں ہو گی جبکہ ذمی مرد اور عورت پر حد جاری ہو گی۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صرف یہ ذمی مرد پر حد جاری ہو گی باقی تینوں میں سے کسی پر حد جاری نہیں ہو گی، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چاروں پر حد جاری ہو گی۔ چاروں پر حد جاری ہو گی۔ پھر صورت دیکھ لیجیے، ایک صورت کیا ہے کہ دار الحرب سے آنے والا حربی مرد ہے اور اس نے ذمیہ عورت کے ساتھ زنا کیا ہے، دوسری صورت یہ ہے کہ دار الحرب سے آنے والی حربیہ عورت ہے اور اس کے ساتھ کسی ذمی مرد نے زنا کیا ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چاروں پر حد جاری کی جائے گی، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں صرف ذمی مرد اور ذمی عورت پر حد جاری ہو گی حربی مرد اور حربی عورت پر حد جاری نہیں ہو گی، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں صرف ذمی مرد پر حد جاری ہو گی نہ ذمی عورت پر حد جاری ہو گی اور نہ حربی مرد اور عورت پر حد جاری ہو گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ پھر دہرا لیں۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا کیا مذہب؟ چاروں پر حد۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا کیا مذہب؟ صرف ذمی مرد اور عورت پر حد ہے، حربی مرد اور عورت پر حد نہیں، اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صرف ذمی مرد پر حد ہے باقی تینوں میں سے کسی پر حد نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا دَخَلَ حَرْبِيٌّ دَارَنَا بِأَمَانٍ“ اور جب داخل ہوا کوئی حربی ہمارے دار الاسلام میں امان کے ساتھ، ”فَزَنَى بِذِمِّيَّةٍ“ پھر اس حربی مرد نے زنا کر لیا کسی ذمیہ عورت سے، ”أَوْ زَنَى ذِمِّيٌّ بِحَرْبِيَّةٍ“ یا کسی ذمی مرد نے زنا کر لیا حربیہ عورت سے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ایسی حربیہ عورت ہے جو امان لے کر دار الاسلام میں آئی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”يُحَدُّ الذِّمِّيُّ وَالذِّمِّيَّةُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“ تو ذمی مرد اور ذمی عورت پر حد جاری کی جائے گی امام صاحب کے نزدیک، ”وَلَا يُحَدُّ الْحَرْبِيُّ وَالْحَرْبِيَّةُ“ اور حربی مرد اور حربی عورت پر حد جاری نہیں کی جائے گی، ”وَهُوَ قَوْلُ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى فِي الذِّمِّيِّ“ اور یہی قول ہے امام محمد رحمہ اللہ کا ذمی کے بارے میں، یعنی ذمی پر حد لگائی جائے گی۔ امام صاحب نے تو کیا کہا تھا؟ ذمی مرد اور عورت دونوں پر حد لگائی جائے گی، اور امام محمد رحمہ اللہ کا یہ قول ذمی کے بارے میں ہے کہ صرف ذمی پر حد لگائی جائے گی۔ یہ معنی ہے: ”وَهُوَ قَوْلُ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى فِي الذِّمِّيِّ“ اور یہ قول ہے امام محمد رحمہ اللہ کا ذمی کے بارے میں یعنی صرف اسی کو حد لگائیں گے، ”يَعْنِي: إِذَا زَنَى بِحَرْبِيَّةٍ“ یعنی جب یہ ذمی کسی حربیہ کے ساتھ زنا کرے دار الاسلام میں، ”فَأَمَّا إِذَا زَنَى الْحَرْبِيُّ بِذِمِّيَّةٍ“ باقی جب حربی نے زنا کیا ہے ذمیہ عورت کے ساتھ دار الاسلام میں، ”فَلَا يُحَدَّانِ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ“ تو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک دونوں کو ہی حد نہیں لگائی جائے گی، ”وَهُوَ قَوْلُ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى أَوَّلًا“ اور یہی قول ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا اولاً پہلا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا بھی پہلا قول یہی تھا کہ صرف ذمی مرد جو ہے اس کو حد لگائی جائے گی، پھر بعد میں رجوع کیا اور فرمایا کہ چاروں کو حد لگائی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَهُوَ قَوْلُ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ أَوَّلًا، وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ: يُحَدُّونَ كُلُّهُمْ، وَهُوَ قَوْلُهُ الْآخِرُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان سب کو حد لگائی جائے گی اور یہی آخری قول ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا۔ ”لِأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ“ اب دیکھو یہاں تین مذاہب ہیں۔ صاحبِ ہدایہ ہر ایک کی دلیل ذکر کریں گے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ وہ اختلاف کرتے ہیں طرفین سے، طرفین سے۔ حربی مرد کے بارے میں بھی اور حربی عورت کے بارے میں بھی۔ طرفین کہتے ہیں حربی مرد اور عورت جو ہے ان پر حد نہیں، امام ابو یوسف فرماتے ہیں حربی مرد اور عورت پر بھی حد ہو گی۔ تو پہلی دلیل ان کی ذکر کریں گے، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حربی مرد اور عورت دونوں پر حد ہو گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ“ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے، ”أَنَّ الْمُسْتَأْمَنَ الْتَزَمَ أَحْكَامَنَا مُدَّةَ مُقَامِهِ فِي دَارِنَا فِي الْمُعَامَلَاتِ“ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مستأمن جو ہے، مستأمن آپ جانتے ہیں وہ حربی مرد یا عورت جو امان لے کر دار الاسلام میں آئے، امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ مستأمن جو ہے یعنی حربی مرد اور عورت جو ہیں، انہوں نے التزام کیا ہے ہمارے احکام کا، اس کی اقامت کی مدت میں یعنی جب تک یہ دار الاسلام میں اس کی اقامت ہے تو اس نے ہمارے احکام کا التزام کیا ہے ”مُدَّةَ مُقَامِهِ فِي دَارِنَا فِي الْمُعَامَلَاتِ“ جب تک کہ یہ ہمارے دار کے اندر اس کی اقامت ہے معاملات کے اندر۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حربی مرد اور عورت جب یہ امان لے کر ہمارے وطن میں آ گئے، دار الاسلام میں یہ آ گئے تو انہوں نے ہمارے احکام کا التزام کر لیا، ہمارے احکام کو اپنے اوپر لازم کر لیا جب تک کہ یہ ہمارے دار الاسلام میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”لِأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّ الْمُسْتَأْمَنَ الْتَزَمَ أَحْكَامَنَا مُدَّةَ مُقَامِهِ فِي دَارِنَا فِي الْمُعَامَلَاتِ“ کہ مستأمن نے ہمارے احکام کا اپنے اوپر التزام کیا ہے جب تک کہ یہ ہمارے دار کے اندر ٹھہرا ہوا ہے معاملات کے اندر۔ اس نے معاملات کے اندر ہمارے احکام کا اپنے اوپر التزام کیا ہے، ”كَمَا أَنَّ الذِّمِّيَّ الْتَزَمَهَا مُدَّةَ عُمُرِهِ“ کہتے ہیں یہ اس وقت ذمی کی طرح ہی ہو گیا لیکن فرق اتنا ہے کہ ذمی جو دار الاسلام میں رہنے والا غیر مسلم ہے اس نے اپنی ساری زندگی کے لیے ہمارے احکام کو اپنے اوپر لازم کیا ہے، لیکن مستأمن نے جب تک وہ ہمارے دار میں ٹھہرا ہوا ہے اس وقت تک ہمارے احکام کو اپنے اوپر لازم کیا ہے۔ اور ذمی جو ہے ذمی مرد ہو یا عورت، وہ زنا کریں تو بالاتفاق ان پر حد جاری کی جاتی ہے، تو یہ حربی جب ہمارے دار میں کچھ عرصے کے لیے آ گئے اور ہمارے احکام کو تسلیم کر لیا تو یہ بھی ان ذمیوں کی طرح ہو گئے اس مدت کے دوران، لہٰذا یہ بھی زنا کریں گے تو ان پر بھی حد جاری ہو گی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”كَمَا أَنَّ الذِّمِّيَّ الْتَزَمَهَا مُدَّةَ عُمُرِهِ، وَلِهَذَا يُحَدُّ حَدَّ الْقَذْفِ وَيُقْتَلُ قِصَاصًا“ اور اسی لیے یہ جو مستأمن ہے اس کو حدِ قذف بھی لگائی جاتی ہے اور اس کو قصاص میں قتل بھی کیا جاتا ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے کہ مستأمن جو ہے وہ حربی مرد اور عورت جو امان لے کر ہمارے وطن میں آئے ہیں، انہوں نے ہمارے احکام کو اپنے اوپر لازم کر لیا ہے، اسی لیے ان کو حدِ قذف بھی لگائی جاتی ہے۔ اگر یہ کسی مسلمان مرد یا عورت پر زنا کی تہمت لگا دیں تو ان پر بالاتفاق حدِ قذف لگائی جائے گی، طرفین بھی یہ تسلیم کرتے ہیں۔ اسی طرح اگر اس مستأمن نے کسی مسلمان یا ذمی کو قتل کر دیا تو بالاتفاق قصاص کے اندر اس مستأمن کو بھی قتل کیا جائے گا کیونکہ اس نے ہمارے احکام کا اپنے لیے التزام کیا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَلِهَذَا يُحَدُّ حَدَّ الْقَذْفِ وَيُقْتَلُ قِصَاصًا“ اور اسی وجہ سے اس مستأمن کو حدِ قذف بھی لگائی جاتی ہے اور اس کو قصاص کے اندر قتل بھی کیا جاتا ہے، ”بِخِلَافِ حَدِّ الشُّرْبِ“ ہاں یہاں ایک اعتراض ہوتا ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ پر کہ یہ اگر شراب پییں تو ان پر حدِ شربِ خمر جاری نہیں کی جاتی، تو اگر انہوں نے ہمارے احکام کا التزام کیا ہے تو شراب پینے پر بھی ان کو حد لگانی چاہیے، تو اس کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی طرف سے کہ ان پر حدِ شربِ خمر اس لیے جاری نہیں کی جاتی کیونکہ یہ شراب کو مباح سمجھتے ہیں۔ ان کا عقیدہ کیا ہے کہ شراب حرام نہیں ہے بھئی، تو ان کو ان کے عقیدے پر چھوڑ دیا جائے گا اور اس میں تعرض نہیں کیا جائے گا، اس لیے شراب پینے کی وجہ سے ان پر حد لازم نہیں ہو گی۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ حَدِّ الشُّرْبِ؛ لِأَنَّهُ يَعْتَقِدُ إِبَاحَتَهُ“ بخلاف شراب پینے کی جو حد ہے، اس لیے کیونکہ یہ اس کے مباح ہونے کا اعتقاد رکھتے ہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل گزر گئی جس میں انہوں نے بتلایا کہ مستأمن بھی ذمی کی طرح ہیں اور جب ذمی کی طرح ہیں تو ذمی پر تو حد آتی ہے تو مستأمن یعنی حربی مرد اور عورت پر بھی حد آئے گی۔ اب دلیل آ گئی طرفین کی، طرفین کی۔ طرفین کا خود بھی آپس میں اختلاف ہے۔ طرفین امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے بھی اختلاف کرتے ہیں اور خود پھر آپس میں بھی اختلاف کرتے ہیں۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے اختلاف کرتے ہیں حربی مرد اور عورت میں، طرفین کے نزدیک حربی مرد یا عورت پر حد نہیں آئے گی، تو پہلے اب اس کو بیان کرنے لگے ہیں۔ یہ طرفین کی دلیل ہے کس چیز کے بارے میں کہ حربی مرد یا عورت پر حد نہیں آئے گی۔ کہتے ہیں: ”وَلَهُمَا: أَنَّهُ مَا دَخَلَ لِلْقَرَارِ بَلْ لِحَاجَةٍ كَالتِّجَارَةِ وَنَحْوِهَا فَلَمْ يَصِرْ مِنْ أَهْلِ دَارِنَا“ اور طرفین کی دلیل یہ ہے کہ یہ جو مستأمن داخل ہوا ہے یہ ٹھہرنے کے لیے داخل نہیں ہوا بلکہ یہ کسی حاجت اور ضرورت کی وجہ سے داخل ہوا ہے جیسے کہ تجارت وغیرہ ہے، لہٰذا یہ ہمارے اہل دار میں سے نہیں ہوا یعنی یہ ذمیوں کی طرح نہیں ہوا۔ یہ ضرورت اور حاجت کی وجہ سے آیا ہے، کوئی ٹھہرنے کے لیے نہیں آیا جبکہ ذمی تو یہیں ٹھہرا ہوا ہے بھئی۔ تو لہٰذا یہ ذمیوں کی طرح نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَمْ يَصِرْ مِنْ أَهْلِ دَارِنَا“ تو یہ ہمارے دار الاسلام والے لوگوں میں سے نہیں ہوا، ”وَلِهَذَا تَمَكَّنَ مِنَ الرُّجُوعِ إِلَى دَارِ الْحَرْبِ“ اور اسی لیے یہ قادر ہے دار الحرب واپس جانے پر، یعنی اس کو قدرت دی جائے گی دار الحرب واپس جانے کی اسی وجہ سے کہ یہ یہاں ٹھہرنے کے لیے نہیں آیا بھئی۔ ”وَلَا يُقْتَلُ الْمُسْلِمُ وَلَا الذِّمِّيُّ بِهِ“ اور اسی وجہ سے مسلمان اور ذمی کو اس کی وجہ سے قتل نہیں کیا جائے گا۔ بھئی یاد رکھو اگر مستأمن جو ہے وہ مسلمان یا ذمی کو قتل کرتا ہے تو مستأمن کو بھی قصاص میں قتل کیا جائے گا، وہ جو حربی مرد یا عورت ہے۔ لیکن اگر اس کا برعکس ہوتا ہے، کوئی مسلمان اس حربی مستأمن کو قتل کر دیتا ہے یا کوئی ذمی جو ہے وہ اس حربی مستأمن کو قتل کر دیتا ہے تو پھر مسلمان اور ذمی کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ مسلمان اور ذمی کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ کیوں نہیں قتل کیا جائے گا؟ وجہ یہ کہ یہ جو حربی ہے یہ محفوظ الدم نہیں ہے، اس کا خون محفوظ نہیں ہے، ان کے ساتھ تو ہم حالتِ جنگ میں ہیں۔ یہ ابھی ہم نے عارضی طور پر اس کو تھوڑی دیر کے لیے امان دی ہے، یہ آیا ہے تجارت وغیرہ کا اپنا کام پورا کرے گا اور واپس چلا جائے گا، تو یہ تھوڑی مدت کے لیے تو محفوظ الدم ہوا ہے لیکن محفوظ الدم علی التابید نہیں ہے، ہمیشہ کے لیے اس کی جان محفوظ نہیں ہے۔ یہ جب دار الحرب چلا جائے اب اس کی جان محفوظ نہیں، تو جب یہ محفوظ الدم نہیں ہے ہمیشہ کے لیے تو پھر اس کی وجہ سے کسی مسلمان یا ذمی کو قتل نہیں کریں گے کیونکہ مسلمان اور ذمی وہ تو ہمیشہ کے لیے محفوظ الدم ہیں، وہ تو دار الاسلام کے اندر رہتے ہیں اور یہ ہمیشہ کے لیے محفوظ الدم نہیں۔ لہٰذا مسلمان یا ذمی اس حربی کو قتل کر دیں تو پھر مسلمان یا ذمی کو قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُقْتَلُ الْمُسْلِمُ وَلَا الذِّمِّيُّ بِهِ، فَإِنَّمَا الْتَزَمَ مِنَ الْحُكْمِ مَا يَرْجِعُ إِلَى تَحْصِيلِ مَقْصُودِهِ“ اور مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا اس کی وجہ سے اور نہ ذمی کو، اور پھر اوپر امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ اس نے ہمارے احکام کو اپنے اوپر لازم کر لیا ہے، ہم جواب دیتے ہیں کہ اس نے ہمارے تمام احکام کو اپنے اوپر لازم نہیں کیا صرف ان احکام کو اپنے اوپر لازم کیا ہے جس سے اس کا مقصود حاصل ہو جائے اور وہ حقوق العباد ہیں۔ جس سے اس کا مقصود حاصل ہو جائے اور وہ حقوق العباد ہیں یعنی جب یہ آیا تو اس نے گویا لازم کر لیا اپنے اوپر کہ میں آپ لوگوں کے حقوق کا خیال رکھوں گا، آپ بھی میرے حقوق کا خیال رکھنا۔ تو اس نے گویا صرف کس چیز کا التزام کیا ہے؟ حقوق العباد کا التزام کیا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِنَّمَا الْتَزَمَ مِنَ الْحُكْمِ مَا يَرْجِعُ إِلَى تَحْصِيلِ مَقْصُودِهِ وَهُوَ حُقُوقُ الْعِبَادِ“ کہ اس نے التزام کیا ہے حکم میں سے وہ جو لوٹ رہے ہیں اس کے مقصود کو حاصل کرنے کی طرف، جس سے اس کا مقصود حاصل ہو رہا ہے اور وہ حقوق العباد ہیں۔ اس نے صرف ان احکام کا التزام کیا ہے جن کا تعلق اس کے مقصود کے ساتھ ہے اور وہ حقوق العباد ہیں، ان کا تعلق اس کے مقصود کے ساتھ ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَهُوَ حُقُوقُ الْعِبَادِ؛ لِأَنَّهُ لَمَّا طَمِعَ فِي الْإِنْصَافِ يَلْتَزِمُ الِانْتِصَافَ“ انصاف بھئی، أَنْصَفَ يُنْصِفُ انصاف کا معنی ہے دوسرے کے ساتھ انصاف کرنا، اور اِنْتَصَفَ يَنْتَصِفُ انتصاف کا معنی ہے انصاف چاہنا۔ تو انصاف کا معنی انصاف کرنا اور انتصاف کا معنی انصاف چاہنا۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَمَّا طَمِعَ فِي الْإِنْصَافِ يَلْتَزِمُ الِانْتِصَافَ“ اس لیے کیونکہ جب اس نے امید کی ہے انصاف کرنے کی، تو اس نے انصاف چاہنے کا بھی التزام کیا ہے۔ یعنی جب اس نے امید کی ہے کہ اس کی وجہ سے دوسروں کے ساتھ انصاف کیا جائے گا تو اس نے اس بات کی بھی امید کی ہے کہ دوسروں کے معاملے میں اس کے ساتھ بھی انصاف کیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ”وَالْقِصَاصُ وَحَدُّ الْقَذْفِ مِنْ حُقُوقِهِمْ“ بھئی امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ انہوں نے ہمارے احکام کا التزام کیا ہے اسی لیے حربی مرد یا عورت ان پر حدِ قذف بھی جاری کی جا سکتی ہے اور ان کو قصاصاً قتل بھی کیا جا سکتا ہے، تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں کہ حدِ قذف یہ بھی حقوق العباد میں سے ہے اور قصاص جو ہے یہ بھی حقوق العباد میں سے ہے اور اس نے تو حقوق العباد کا التزام کیا تھا اس لیے اس پر حدِ قذف بھی جاری ہو گی اور قصاص بھی جاری ہو گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْقِصَاصُ وَحَدُّ الْقَذْفِ مِنْ حُقُوقِهِمْ، أَمَّا حَدُّ الزِّنَا حَقُّ الشَّرْعِ“ اور قصاص اور حدِ قذف جو ہیں یہ تو بندوں کے حقوق میں سے ہیں، باقی حدِ زنا وہ تو حقِ شرع ہے، وہ تو حقِ شرع ہے اور وہ اس پر نافذ نہیں کی جا سکتی اس لیے کیونکہ اس نے ہمارے تمام احکام کا التزام نہیں کیا بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَلِمُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى وَهُوَ الْفَرْقُ“ بھئی یہاں تک امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا مذہب بھی ذکر ہوا اور ان کی دلیل بھی، اور پھر طرفین کی طرف سے جواب بھی ہو گیا کہ حربی مرد اور عورت پر حدِ زنا جاری نہیں ہو گی کیونکہ انہوں نے ہمارے تمام احکام کا التزام نہیں کیا۔ اب طرفین کے اندر آپس میں بھی اختلاف تھا۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ذمی مرد اور ذمی عورت دونوں پر حد جاری کی جائے گی، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں صرف ذمی مرد پر حد جاری کی جائے گی ذمیہ عورت پر حد جاری نہیں کی جائے گی، تو اس فرق کی وجہ کیا ہے؟ امام محمد رحمہ اللہ نے ذمی مرد اور عورت میں فرق کیوں کیا ہے؟ تو اب وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَلِمُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل جو ہے، ”وَهُوَ الْفَرْقُ“ اور وہی فرق بھی ہے ذمی مرد اور ذمی عورت کے اندر، اور وہی فرق بھی ہے، ”أَنَّ الْأَصْلَ فِي بَابِ الزِّنَا فِعْلُ الرَّجُلِ“ بھئی یہاں سے آپ کو بتلائیں گے، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زنا اصل کے اندر مرد کا فعل ہے۔ زنا اصل کے اندر مرد کا فعل ہے اور عورت جو ہے وہ زنا پر قدرت دیتی ہے۔ عورت زنا پر قدرت دیتی ہے تو معلوم ہوا زنا کے اندر اصل مرد ہے اور عورت اس کے تابع ہے بھئی۔ تو اگر اصل پر سے حد ساقط ہو گئی یعنی مرد پر سے، تو عورت اس کے تابع ہے لہٰذا عورت پر سے بھی حد ساقط ہو جائے گی لیکن اس کا برعکس نہیں ہے۔ عورت پر سے اگر حد ساقط ہو جائے تو پھر مرد یعنی اصل پر سے حد ساقط نہیں ہو گی۔ کیا ضابطہ ہوا کہ زنا کے اندر اصل مرد ہے اور عورت اس کے تابع ہے اور مرد پر سے حد ساقط ہو جائے تو تابع پر سے بھی حد ساقط ہو جائے گی، لیکن تابع پر سے اگر حد ساقط ہو جائے تو اصل پر سے حد ساقط نہیں ہو گی۔ لہٰذا، لہٰذا امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک حربی مرد اور حربی عورت پر حد نہیں۔ حربی مرد اور سب سے پہلے حربی مرد والا مسئلہ دیکھیں، حربی مرد ہے اور اس نے زنا کیا ہے ذمیہ عورت سے، تو حربی مرد پر حد نہیں آئی کیونکہ یہ حربی ہے اس نے ہمارے تمام احکام کا التزام نہیں کیا، تو جب اصل کے اوپر حد نہیں آئی تو اس کے جو تابع ہے یعنی ذمیہ عورت اس پر بھی حد نہیں آئے گی۔ اب دوسری صورت میں آ جاؤ کہ زنا کرنے والا ذمی ہے، مرد ہے، اور جس سے زنا کیا ہے وہ حربیہ ہے۔ تو یہاں پر حربیہ پر حد نہیں آئی، لیکن حربیہ تو تابع ہے، تابع پر حد نہ آئے تو اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ اصل پر بھی حد نہیں آئے گی، تو ذمی مرد پر حد آ جائے گی۔ تو امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے: ”وَهُوَ الْفَرْقُ أَنَّ الْأَصْلَ فِي بَابِ الزِّنَا فِعْلُ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةُ تَابِعَةٌ لَهُ عَلَى مَا نَذْكُرُهُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى“ اور یہی فرق بھی ہے کہ اصل جو ہے زنا کے باب میں وہ مرد کا فعل ہے اور عورت اس کے تابع ہے، اس وجہ سے جو ہم ان شاء اللہ تعالیٰ ذکر کریں گے، یہ دو چار سطروں کے بعد پانچ سطروں کے بعد صاحبِ ہدایہ مسئلہ ذکر فرمائیں گے وہاں تفصیل سے بیان فرمائیں گے کہ زنا کے اندر مرد اصل ہے اور عورت اس کے تابع ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں زنا کے اندر مرد کا فعل اصل ہے، ”وَالْمَرْأَةُ تَابِعَةٌ لَهُ عَلَى مَا نَذْكُرُهُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى“ اور عورت مرد کے تابع ہے اس وجہ سے جو ہم ان شاء اللہ تعالیٰ ذکر کریں گے، ”فَامْتِنَاعُ الْحَدِّ فِي حَقِّ الْأَصْلِ يُوجِبُ امْتِنَاعَهُ فِي حَقِّ التَّبَعِ“ تو حد کا ممتنع ہو جانا اصل کے حق میں یعنی مرد کے حق میں حد کا ممتنع ہو جانا یہ ثابت کرتا ہے حد کے ممتنع ہونے کو تابع کے حق میں بھی۔ مرد پر حد نہیں تو عورت پر بھی حد نہیں آئے گی۔ ”أَمَّا الِامْتِنَاعُ فِي حَقِّ التَّبَعِ لَا يُوجِبُ الِامْتِنَاعَ فِي حَقِّ الْأَصْلِ“ اور باقی حد کا ممتنع ہونا تابع کے حق میں یعنی عورت کے حق میں یہ حد کے امتناع کو ثابت نہیں کرتا اصل کے حق میں یعنی مرد کے حق میں۔ عورت پر حد نہ آئے تو اس کا یہ معنی نہیں کہ مرد پر بھی حد نہیں آئے گی۔ ”نَظِيرُهُ: إِذَا زَنَى الْبَالِغُ بِصَبِيَّةٍ أَوْ مَجْنُونَةٍ“ اس کی نظیر جو ہے، یاد رکھو اگر کوئی بالغ مرد کسی نابالغہ لڑکی سے یا کسی مجنونہ کے ساتھ زنا کر لے، اب یہاں پر یہ نابالغہ لڑکی اور مجنونہ ان پر حد نہیں آئے گی لیکن وہ تو تابع ہیں، تابع سے حد ساقط ہو جائے تو اصل یعنی مرد سے حد ساقط نہیں ہو گی تو اس بالغ مرد پر جس نے زنا کیا ہے اس پر حد آئے گی اور یہ بالاتفاق ہے۔ ہمارے تمام ائمہ کے نزدیک بالاتفاق اس بالغ مرد پر جس نے نابالغہ سے یا مجنونہ سے زنا کیا ہے، اس بالغ مرد پر حد واجب ہو گی۔ تو یہ نظیر ہے اس کی کہ تابع سے حد ساقط ہو جائے تو اصل سے حد ساقط نہیں ہوتی۔ تو کہتے ہیں: ”نَظِيرُهُ: إِذَا زَنَى الْبَالِغُ بِصَبِيَّةٍ أَوْ مَجْنُونَةٍ، وَتَمْكِينُ الْبَالِغَةِ مِنَ الصَّبِيِّ وَالْمَجْنُونِ“ اور اس کی نظیر جو ہے جب بالغ مرد جو ہے وہ زنا کر لے کسی نابالغہ سے یا مجنونہ سے، دوسرے کی نظیر بھئی: تمکین کا معنی ہے قدرت دینا، ایک بالغہ عورت قدرت دیتی ہے بچے یا مجنون کو اپنے ساتھ زنا پر، یہاں پر بھی یاد رکھو بالاتفاق کسی پر بھی حد نہیں آئے گی۔ وہ بچہ یا مجنون ان پر تو حد نہیں آئے گی اور یہ بالغہ عورت جس نے ان کو قدرت دی تھی اس پر بھی حد نہیں آئے گی کیونکہ امام محمد رحمہ اللہ کا کیا ضابطہ ہے کہ جب اصل یعنی مرد پر حد نہ آئے تو تابع پر بھی حد نہیں آتی، تو یہاں بچے یا مجنون پر حد نہیں ہے تو جو تابع جو عورت ہے وہ اگرچہ بالغہ ہے لیکن اس پر بھی حد نہیں آئے گی۔ تو یہ معنی ہے: ”وَتَمْكِينُ الْبَالِغَةِ مِنَ الصَّبِيِّ وَالْمَجْنُونِ“ اور بالغہ عورت کا قدرت دینا بچے اور مجنون کو۔ تو یہ نظیر ہے اس، یہ جو ضابطہ انہوں نے ذکر کیا اس کی نظیریں ہیں بھئی۔ اب امام صاحب کا مذہب آ گیا۔ امام صاحب کیا فرماتے ہیں کہ ذمی مرد ہو یا ذمیہ عورت ہو، دونوں پر حد آئے گی، اب اس کی دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى فِيهِ: أَنَّ فِعْلَ الْحَرْبِيِّ الْمُسْتَأْمَنِ زِنًى“ اور امام صاحب کی دلیل اس کے اندر وہ یہ ہے کہ یہ جو حربی مستأمن نے ذمیہ کے ساتھ جو وطی کی ہے یہ زنا ہے بھئی، یہ زنا ہے۔ یاد رکھو، یاد رکھو آپ کو آگے بتلائیں گے کہ زنا اس فعل کو کہتے ہیں جس سے روکا ہو شریعت نے اور اس کے کرنے پر آدمی گناہگار ہوتا ہو۔ زنا کیا ہے؟ زنا کے کرنے سے شریعت نے روکا ہے اور اس کے کرنے پر آدمی گناہگار ہوتا ہے، اور یہ جو حربی ہے یہ یاد رکھو، شرعی احکام تین قسم کے ہیں: کچھ کو عبادات کہتے ہیں، کچھ کو معاملات کہتے ہیں، کچھ کو حرمات کہتے ہیں۔ عبادات میں عبادات کے کرنے کا حکم ہے، معاملات جن کا تعلق حقوق العباد وغیرہ سے ہے اور حرمات وہ ہیں جن سے شریعت نے منع کیا ہے۔ جن چیزوں سے شریعت نے منع کیا ہے جنہیں حرام قرار دیا ہے یہ کیا ہیں؟ حرمات۔ تو یاد رکھو، کفار جو ہیں وہ معاملات کے مخاطب بھی نہیں ہیں، وہ عبادات کے مخاطب بھی نہیں ہیں، لیکن وہ حرمات کے مخاطب ہیں یعنی جن چیزوں کے کرنے کو اللہ نے مسلمانوں کے لیے حرام قرار دیا ہے یہ چیزیں کافروں کے لیے بھی حرام ہیں۔ یہ چیزیں کافروں کے لیے بھی حرام ہیں۔ معلوم ہوا زنا کو مسلمانوں کے لیے اللہ نے حرام قرار دیا ہے تو یہ کافروں کے لیے بھی حرام ہے۔ جب کافروں کے لیے بھی حرام ہے تو حربی نے بھی زنا کیا تو یہ زنا ہی ہے کیونکہ اس سے شریعت نے روکا ہے اور اس کا کرنے والا گناہگار ہوتا ہے۔ توجہ ہے؟ تو معلوم ہوا حربی نے بھی ذمیہ کے ساتھ جو وطی کی ہے یہ زنا ہے بھئی، لیکن حربی پر حد نہیں آئے گی، کیوں نہیں حد آئے گی؟ کیونکہ اس نے ہمارے تمام احکام کا التزام نہیں کیا، لیکن ذمیہ نے کس چیز پر قدرت دی ہے حربی کو؟ زنا پر، تو ذمیہ جو ہے اس نے تو زنا پر قدرت دے دی، لہٰذا اس پر حد آ جائے گی بھئی۔ دلیل سمجھ میں آئی؟ تو امام محمد رحمہ اللہ نے ضابطہ ذکر فرمایا تھا، امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے کہ اصل یعنی مرد پر سے اگر حد ساقط ہو جائے تو تابع یعنی عورت پر سے بھی حد ساقط ہو جاتی ہے اور اگر تابع یعنی عورت پر سے حد ساقط ہو جائے تو مرد پر سے حد ساقط نہیں ہو گی۔ امام صاحب فرماتے ہیں ضابطہ اسی طرح ہے لیکن کچھ تفصیل ہے اس کے اندر۔ ضابطہ یہ ہے، ضابطہ یہ ہے کہ جب مرد پر حد نہ آئے تو عورت پر بھی حد نہیں آتی، عورت پر بھی حد نہیں آتی، لیکن اگر مرد پر حد آ جائے لیکن کوئی عارض پیش آ جائے اور وہ حد ساقط ہو جائے تو اس صورت میں عورت سے حد ساقط نہیں ہو گی۔ توجہ ہے؟ امام محمد رحمہ اللہ تو کیا فرماتے تھے مرد سے حد ساقط ہو جائے تو عورت سے بھی حد ساقط، امام صاحب فرماتے ہیں نہیں اس ضابطے میں تفصیل ہے کہ مرد سے حد ساقط ہوئی ہے، پہلے یہ دیکھیں گے کہ اس پر حد آئی بھی کہ نہیں؟ اگر مرد پر حد آئی ہی نہیں تو پھر تو عورت پر بھی حد نہیں آئے گی، لیکن اگر مرد پر حد آئی لیکن کسی عارض کی وجہ سے پھر ساقط ہو گئی تو پھر عورت سے ساقط نہیں ہو گی۔ تو یہاں حربی نے ذمیہ سے زنا کیا ہے اور حربی کی یہ وطی بھی کیا ہے؟ زنا ہے، شریعت نے اسے منع کیا ہے، زنا ہے، تو لہٰذا حربی پر بھی حد آئی، حربی پر بھی حد آئی، لیکن پھر وہ حد کیا ہو گئی؟ ساقط ہو گئی کیونکہ یہ حربی ہے۔ یہ حربی ہے اس لیے حد ساقط ہوئی ورنہ تو یہ فعلِ زنا تھا اور فعلِ زنا سے حد آتی ہے، تو یہاں بھی ابتداءً حد آئی اس حربی کے اوپر لیکن پھر اس کے حربی ہونے کے عارض کی وجہ سے حد ساقط ہو گئی، تو لہٰذا حربی سے تو اس کے عارض کی وجہ سے ساقط ہو جائے گی لیکن اس ذمیہ سے یہ حد ساقط نہیں ہو گی، اس کو بھی حد لگائیں گے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى فِيهِ: أَنَّ فِعْلَ الْحَرْبِيِّ الْمُسْتَأْمَنِ زِنًى؛ لِأَنَّهُ مُخَاطَبٌ بِالْحُرُمَاتِ“ اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی دلیل اس کے اندر یعنی جب حربی نے ذمیہ سے زنا کیا ہو اس کے اندر امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ حربی مستأمن کا جو فعل ہے یہ بھی زنا ہے، اس لیے کیونکہ یہ حربی بھی مخاطب ہے حرمات کا، حرام چیزوں سے رکنے کا اسے بھی شریعت نے حکم دیا ہے۔ بھئی یہ کیوں؟ یہ مخاطب بالحرمات کیوں ہیں؟ کہتے ہیں وجہ یہ تاکہ ان کی سزا اور عذاب دگنا ہو جائے۔ ایک تو کفر کا عذاب ہو گا اور پھر یہ جو حرام کام کر رہے ہیں اس کا بھی ان کو عذاب دیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ مُخَاطَبٌ بِالْحُرُمَاتِ عَلَى مَا هُوَ الصَّحِيحُ“ اس لیے کیونکہ یہ حربی مستأمن جو ہے یہ بھی حرمات کا مخاطب ہے بنا بر صحیح مذہب کے، صحیح مذہب یہی ہے کہ یہ حرمات کے مخاطب ہیں جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ تمام شرعی احکام کے مخاطب ہیں چاہے عبادات ہیں چاہے معاملات ہیں اور چاہے حرمات ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ مُخَاطَبٌ بِالْحُرُمَاتِ عَلَى مَا هُوَ الصَّحِيحُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مُخَاطَبًا بِالشَّرَائِعِ عَلَى أَصْلِنَا“ اس لیے کیونکہ یہ حربی مستأمن جو ہے یہ بھی حرمات کا مخاطب ہے بنا بر صحیح مذہب کے اگرچہ اور شرعی احکام کے مخاطب نہیں ہیں ہمارے ضابطے کے مطابق، ہمارے ضابطے پر یعنی ہمارے ضابطے کے مطابق صرف یہ حرمات کے مخاطب ہیں معاملات اور عبادات کے مخاطب نہیں ہیں بھئی۔ ”وَالتَّمْكِينُ مِنْ فِعْلٍ هُوَ زِنًى مُوجِبٌ لِلْحَدِّ عَلَيْهَا“ اور قدرت دینا ایسے فعل کی کہ وہ زنا ہے، یہ حد کو واجب کرنے والا ہے اس ذمیہ پر۔ یہ ذمیہ زنا پر قدرت دے رہی ہے تو یہ اس پر حد کو واجب کرتا ہے، ”بِخِلَافِ الصَّبِيِّ وَالْمَجْنُونِ؛ لِأَنَّهُمَا لَا يُخَاطَبَانِ“ بخلاف بچے اور مجنون کے، اس لیے کیونکہ وہ مخاطب نہیں ہیں۔ بچہ اور مجنون تو مکلف ہی نہیں ہیں لہٰذا اگر وہ ایک عورت کے ساتھ وطی بھی کر لیں تو یہ زنا نہیں کیونکہ زنا اصل میں کس کا فعل ہے؟ مرد کا، تو یہاں بچہ اور مجنون جو فعل کر رہے ہیں یہ زنا ہے ہی نہیں، لہٰذا وہ جو بالغہ عورت نے بچے اور مجنون کو اپنے اوپر قدرت دی تھی تو نہ بچے اور بالغ پر حد آئی تھی نہ عورت پر حد آئی تھی، وجہ یہ کہ بچے اور مجنون کا فعل تو زنا ہی نہیں ہے تو بالغہ نے قدرت دی ہے وہ زنا پر قدرت دی ہے یا غیرِ زنا پر قدرت دی ہے؟ غیرِ زنا پر اس نے قدرت دی ہے لہٰذا اس لیے اس پر بھی وہاں حد نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الصَّبِيِّ وَالْمَجْنُونِ؛ لِأَنَّهُمَا لَا يُخَاطَبَانِ“ بخلاف بچے اور مجنون کے، اس لیے کیونکہ یہ تو مخاطب ہی نہیں ہیں۔ ”وَنَظِيرُ هَذَا الِاخْتِلَافِ: إِذَا زَنَى الْمُكْرَهُ بِالْمُطَاوِعَةِ تُحَدُّ الْمُطَاوِعَةُ عِنْدَهُ“ اور اس اختلاف کی جو نظیر ہے، بھئی اس اختلاف کی نظیر جو ہے ایک شخص ہے اس کو زبردستی اس سے زنا کروایا گیا، ایک دوسرے شخص نے تلوار نکالی ہے کہ میں تمہیں قتل کر دوں گا کہ زنا کرو اس عورت سے، اور وہ عورت وہ اپنی رضامندی سے زنا کر رہی ہے۔ تو مرد ہوا مکرہ اور عورت ہوئی مطاوعہ، مطاوعہ یعنی ساتھ دینے والی یعنی اپنی رضامندی سے کام کرنے والی۔ تو مرد ہوا مکرہ جس کو مجبور کیا گیا ہے اور عورت ہے مطاوعہ۔ تو ایک مکرہ نے مطاوعہ سے زنا کیا تو امام صاحب کے نزدیک یہ جو مکرہ کا فعل ہے یہ زنا ہے اور مطاوعہ نے زنا پر قدرت دی ہے لہٰذا، تو لہٰذا عورت پر حد آئے گی لیکن مکرہ کے اندر ایک عارض موجود تھا کہ اس پر اکراہ کیا جا رہا تھا، اس عارض کی وجہ سے اس سے حد ساقط ہو گئی۔ تو اصل کے فعل کو دیکھا جائے گا اور اصل کا فعل تو زنا ہے اور وہاں حد بھی آئی لیکن عارض کی وجہ سے حد ساقط ہو گئی، تو لہٰذا اس اصل سے عارض کی وجہ سے جب حد ساقط ہو جائے تو تابع سے حد ساقط نہیں ہو گی تو اس عورت پر حد آئے گی، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کے ضابطے کے مطابق اصل پر جب حد نہ آئے تو تابع پر بھی حد نہیں آتی تو ان کے نزدیک اس مطاوعہ پر حد نہیں آئے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَنَظِيرُ هَذَا الِاخْتِلَافِ: إِذَا زَنَى الْمُكْرَهُ بِالْمُطَاوِعَةِ تُحَدُّ الْمُطَاوِعَةُ عِنْدَهُ“ اور اس اختلاف کی جو نظیر ہے جب مکرہ نے زنا کیا مطاوعہ کے ساتھ یعنی رضامندی کے ساتھ زنا میں ساتھ دینے والی، ”تُحَدُّ الْمُطَاوِعَةُ عِنْدَهُ“ تو حد لگائی جائے گی مطاوعہ کو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک، ”وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى لَا تُحَدُّ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک مطاوعہ کو بھی حد نہیں لگائی جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔