و صحہ تصرف فی الثمن قبل قبضه والحط عنه والمزيد فيه حال قیام المبیع لا بعد هلاكه. کل اپ نے پڑھا تھا کہ ثمن کے اندر تصرف کرنا صحیح ہے قبضے سے پہلے جبکہ مبیع کے اندر قبضے سے پہلے تصرف کرنا صحیح نہیں بھئی۔ جی آج بتلا رہے ہیں آپ کو کہ اسی طرح ثمن کے اندر کمی کرنا یا زیادتی کرنا یہ بھی درست ہے، اسی طرح مبیع کے اندر زیادتی کرنا یہ بھی درست ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ آپ کوئی چیز لینے گئے بھئی، وہ چیز دکان دار نے، بائع نے آپ کو ایک ہزار روپے پر عقد ہوا لیکن پھر اس نے کیا کیا؟ آپ کے لیے پانچ سو کم کر دیے تو یہ درست ہے۔ یا آپ نے چیز ایک ہزار کی خریدی لیکن پھر آپ نے بائع کے لیے کیا کر دیے، ثمن پانچ سو روپے خود ہی زیادہ اس کو دے دیے بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ جی آپ چیز پسند آئی آپ کو، آپ نے پانچ سو روپے مزید دے دیے بھئی۔ تو یہ درست ہے بھئی۔ اسی طرح مبیع کے اندر زیادتی یہ بھی درست ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں والحط عنه ای صح الحط عنه والتصرف عقد ہو رہا ہے، صحیح ہے کمی کرنا عنہ کس سے بھئی؟ ثمن سے، ثمن میں سے کمی کرنا بھی صحیح اور والمزيد فيه مزید مصدر ہیں مولانا، مصدر میمی اور صحیح ہے زیادتی کرنا فیه ای فی الثمن۔ ثمن میں کمی کرنا بھی صحیح ہے اور زیادتی کرنا بھی صحیح ہے۔ حال قیام المبیع اس حال میں کہ جبکہ مبیع قائم ہو لا بعد هلاكه نہ کہ ہلاکت کے بعد، یہ حال ہیں مولانا صرف مزید سے بھئی۔ کس سے حال ہے؟ مزید سے۔ بھئی زیادتی صرف اس صورت میں ہو سکتی ہے ثمن میں جبکہ مبیع قائم ہو ابھی ہلاک نہ ہوا ہو لیکن اگر مبیع ہلاک ہو جائے پھر زیادتی نہیں ہو سکتی کمی کر سکتا ہے البتہ بھئی۔ تو یہ جو حال قیام المبیع لا بعد هلاكه یہ کس سے حال ہے بھئی؟ مزید سے۔ صرف اس کا تعلق ہے، حط سے اس کا تعلق نہیں ہے۔ کمی جو ہے چاہے مبیع قائم ہو، چاہے ہلاک ہو چکا ہو دونوں صورتوں میں ہو سکتی ہے بھئی۔ تو یاد رکھو یہ جو کمی اور زیادتی کی جائے گی، اسی طرح آگے آ رہا ہے مبیع، مبیع میں زیادتی کی جائے گی، کر سکتا ہے بھئی۔ تو یہ اصل عقد کے ساتھ مل جائیں گے۔ بھئی۔ تو آپ نے ایک چیز ایک ہزار روپے میں خریدی لیکن اتنی پسند آئی آپ نے ہزار کے بجائے پندرہ سو روپے دے دیے تو اب یہ نہیں کہیں گے کہ یہ ہزار کی چیز خریدی ہے اور پانچ سو روپے ویسے دیے ہیں بلکہ یوں شمار کیا جائے گا گویا یہ چیز ہی آپ کتنے کی خریدی؟ پندرہ سو کی خریدی ہے۔ اور اسی طرح آپ نے چیز ہزار کی خریدی تھی بھئی، دکان دار نے دیکھا یہ تو طالب علم ہے، اس نے پانچ سو روپے کم کر دیے بھئی، تو اب یہ نہیں کہا جائے گا آپ نے پانچ سو، ہزار کی چیز خریدی ہے اور پانچ سو اس نے ویسے ہی احسان کرتے ہوئے کم کر دیے بلکہ یوں سمجھا جائے گا یہ چیز ہی آپ نے کتنے کی خریدی ہے؟ پانچ سو کی خریدی ہے۔ بھئی تو یہ جو کمی یا زیادتی ہوتی ہے یہ مل جاتی ہے اصل عقد کے ساتھ یہ کوئی الگ نیا احسان شمار نہیں ہوگی بھئی۔ لہذا جب مبیع قائم ہو اس وقت زیادتی تو صحیح، لیکن جب مبیع زیادتی بھی صحیح، کمی بھی صحیح لیکن جب مبیع ہلاک ہو جائے پھر کمی تو ہے کر سکتے ہیں زیادتی نہیں کر سکتے اس لیے کہ مبیع تو ہلاک ہو چکا، تو کس کے عوض میں زیادتی کر رہے ہیں آپ بھئی؟ مبیع تو کیا ہے؟ ثمن میں آپ زیادتی کر رہے ہیں اور ثمن تو ہے عوض مبیع کا تو مبیع تو ہے ہی نہیں تو کس کے عوض میں زیادتی کر رہے ہیں؟ لہذا یہ زیادتی کرنا یہ ہلاک شدہ چیز کے مناسب نہیں بھئی، یہ اس کے مناسب نہیں بھئی ہلاک شدہ چیز کے عوض میں کیسے زیادتی کی جا سکتی ہے؟ لہذا زیادتی نہیں۔ ہاں البتہ ہلاک شدہ چیز کے ثمن میں کمی کی جا سکتی ہے، کمی اس کے مناسب ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو قوله حال قیام المبیع، میں نے کیا بتلایا؟ یہ حال قیام المبیع کا تعلق صرف کس سے ہے؟ یہی بات اب بتلانے لگے ہیں، کہتے ہیں حال قوله متن کا یہ قول جو ہے حال قیام المبیع یتعلق بالمزید، اس کا تعلق صرف مزید سے ہے، فإن الزيادة على الثمن لا يصح بعد هلاك المبیع اس لیے کہ ثمن کے اندر زیادتی کرنا مبیع کے ہلاک ہو جانے کے بعد یہ صحیح نہیں، لیکن الحط يصح لیکن کمی صحیح، جب کمی صحیح ہے تو معلوم ہوا یہ حال قیام المبیع کا تعلق صرف مزید سے ہے بھئی۔ وفي المبیع بھئی۔ ای والمزيد فيه وفي المبیع زیادتی کرنا مبیع کے اندر، یہ بھی صحیح ہے ای صح الزيادة في المبیع مبیع میں زیادتی کرنا صحیح ہے۔ ويتعلّق استحقاقه بالجميع، اور عقد کرنے والے کا استحقاق متعلق ہوگا سارے کے ساتھ۔ عقد کرنے والے کا استحقاق متعلق ہوگا سارے کے ساتھ بھئی۔ یعنی مزید سے بھی متعلق ہوگا، اور مزید علیہ سے بھی۔ بھئی دیکھیے آپ نے ایک چیز ہزار میں خریدی اور پھر وہ چیز اتنی پسند آئی، ساتھ ہی کتنے دے دیے؟ ہزار کے بجائے آپ نے کتنے دے دیے دکان دار کو؟ بائع کو آپ نے پندرہ سو دے دیے بھئی۔ تو مزید کتنے ہوئے؟ پانچ سو۔ اور یہ مزید، یہ زیادتی کی کس پر بھئی؟ ہزار پر وہ مزید علیہ ہوئے۔ وہ کیا ہوئے؟ تو مزید علیہ اور مزید دونوں کے ساتھ آپ کا استحقاق متعلق ہوگا بھئی۔ مثلاً آپ نے گھڑی خریدی تھی ہزار کی لیکن آپ نے کتنے ادا کر دیے؟ پندرہ سو، اب اس پتہ چلا یہ گھڑی جو اس نے آپ کو بیچی یہ تو اس کی ہے ہی نہیں، کسی اور کی نکل آئی بھئی، تو اب آپ کیا کریں گے جب رجوع کریں گے تو صرف ہزار پر رجوع نہیں کریں گے بلکہ کتنے پر رجوع کریں گے؟ پندرہ سو، سارے مزید اور مزید علیہ دونوں کے ساتھ آپ کا استحقاق متعلق ہوگا بھئی۔ یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ بھئی خریدی کتنی دکان دار بائع یہ کہہ دے بھئی ہزار کی تو چیز خریدی ہے اور کوئی چیز کا کوئی اور مالک نکل آیا، لو اب اپنے ہزار واپس لے لو اور پانچ سو تو آپ نے مجھے ویسے دیے تھے بھئی۔ نہیں بھئی! بلکہ یہ کیا ہے؟ مزید اور مزید علیہ دونوں کے ساتھ استحقاق کا تعلق ہوگا، دونوں واپس وصول کریں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی! ويتعلّق استحقاقه بالجميع اور متعلق ہوگا عقد کرنے والے کا استحقاق بالجميع سارے کے ساتھ بھئی۔ يمكن أن يراد به ممکن ہے اس سے یہ مراد ہو کہ أن البائع يكون مستحقا للجميع لجميع الثمن من الزائد والمزيد عليه (یعنی بائع مستحق ہوگا سارے ثمن کا، یعنی زائد اور مزید علیہ، تو زائد اور مزید علیہ دونوں کے ساتھ اس کا وہ مستحق ہو جائے گا بھئی کیونکہ یہ کس سے مل گئے ہیں؟ اصل عقد سے۔ والمشتري يستحق جميع المبیع من الزائد والمزيد عليه، اور مشتری مستحق ہوگا سارے مبیع کا، یعنی زائد کا بھی اور مزید علیہ کا بھی بھئی، یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ جو اس نے چیز زیادہ دی ہے آپ کو وہ کیا ہے؟ احسان ہے الگ بھئی۔ ہے تو احسان ہی لیکن اس عقد اب کیا ہوا ہے؟ عقد کے ساتھ وہ اس کا اس میں داخل ہو گیا بھئی۔ ويمكن أن يراد اور ممکن ہے یہ یہ ارادہ کیا گیا ہو اس عبارت کے ذریعے کہ انہ اذا استحق مستحق أن المبيع اگر کوئی مستحق نکل آیا کس کا؟ المبيع کس کا؟ اگر استحقاق نکل آئے کسی مستحق کا مبیع کا، او الثمن یا ثمن کا، فل استحقاق یتعلق بجمیع ما يقابله من المزيد والمزيد عليه تو استحقاق متعلق ہوگا سارے کے ساتھ، اس سارے کے ساتھ جو اس کے مقابل ہے، مزید اور مزید علیہ میں۔ بھئی دیکھو، صورت میں نے وہی ذکر کر دی، گھڑی آپ نے خریدی ہے اور دیے کتنے تھے آپ نے؟ پندرہ سو تو اب گھڑی کا کوئی اور مالک نکل آیا، پتہ چلا یہ کسی اور کی گھڑی اس نے آپ کو بیچی ہے، تو اب آپ کا استحقاق، آپ کا حق متعلق ہوگا مزید سے بھی اور مزید۔ ہزار بھی لیں گے وہ مزید علیہ اور مزید جو پانچ سو دیے تھے وہ بھی لیں گے بھئی۔ تو یہ اس گھڑی کا مقابل تھا، تو وہ سارا جو اس کے مقابل تھا، مزید اور مزید علیہ میں سے اس سارے سے استحقاق کا تعلق ہوگا، فلا يكون الزائد صلة مبتدأة، پس وہ زائد صلہ کا معنی احسان، مبتدءاً (یعنی ابتدائياً، یعنی الگ الگ) وہ الگ صلہ شمار نہیں ہوگا بھئی، الگ احسان شمار نہیں ہوگا بھئی، اس عقد کے اندر وہ اصل کے ساتھ مل جائے گا۔ كما هو مذهب زفر رحمه الله والشافعي رحمه الله، جیسے کہ مذہب ہے امام زفر اور امام شافعی رحمہ اللہ کا بھئی، وہ فرماتے ہیں نہیں بھئی یہ جو مزید مزید ہے، یہ اصل عقد کے ساتھ نہیں ملے گا، اصل عقد تو اسی پر ہوا ہے جو انہوں نے عقد کرتے ہوئے ذکر کیا، یہ الگ احسان ہے، یہ کیا ہے الگ یہ عقد کے ساتھ نہیں شمار ہوگا بھئی۔ فيبايح ويولِّي على الكل إن زيدا وعلى ما بقي إن حط، لہذا بھئی، اب آپ نے ایک چیز خریدی تھی ایک ہزار کی لیکن آپ نے ادا کتنے کر دیے؟ پندرہ سو، اب آپ اس کی بیع مرابحہ یا تولیہ کرنا چاہتے ہیں، تو کس ثمن پر کریں گے بھئی؟ مزید مع مزید علیہ کے بھئی۔ اور اگر کمی کی تھی بھئی ثمن کے اندر بائع نے آپ کے لیے تو اب بیع مرابحہ یا تولیہ کرنا چاہتے ہیں تو کیا کہیں گے مجھے کتنے کی پڑی ہے جو؟ کمی کے بعد رہ گئے تھے باقی ہزار کی خریدی تھی اس نے آپ کو پانچ سو دے دیے تو کتنے رہ گئے؟ پانچ سو، مرابحہ یا تولیہ پانچ سو پر ہوگا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یعنی آپ یہ کہیں گے مجھے پانچ سو کی پڑی ہے بھئی۔ فيبايح ويولِّي على الكل تو بیع مرابحہ کرے گا بھئی، یا بیع تولیہ کرے گا وہ مشتری علی الكل سارے کے سارے پر إن زيدا اگر کیا کیا گیا تھا؟ زیادتی کی گئی تھی، وعلى ما بقي اور ما بقی پر بیع مرابحہ یا تولیہ کرے گا إن حط اگر کیا کی گئی تھی؟ کمی کی گئی تھی۔ فإن الزيادة والحط التحقا بأصل العقد، اس لیے کہ زیادت اور کمی جو ہے وہ مل گئے ہیں کس کے ساتھ؟ اصل عقد کے ساتھ، تو جب اس نے پانچ سو آپ کو واپس کر دیے تو گویا یہ چیز خریدی آپ نے پانچ سو کی، اب اسی میں مرابحہ یا تولیہ ہوگا بھئی۔ اور اگر آپ نے پندرہ سو ادا کیے ہیں ہزار کے بجائے تو یہ چیز آپ نے گویا خریدی ہی کتنے کی ہے؟ پندرہ سو کی۔ والشفیع يأخذ بالأقل الفصلين، اور شفعہ کرنے والا وہ لے لے گا أقل کے ساتھ دونوں صورتوں میں، دونوں فصلوں میں۔ بھئی آپ کے ساتھ والی زمین بک رہی تھی بھئی۔ جب وہ بکی تو شریعت نے آپ کو شفعہ کا حق دیا، لیکن جس نے وہ زمین خریدی، اس کو وہ زمین اتنی پسند آئی کہ اس نے خریدی کتنے کی تھی؟ دس لاکھ کی، اس نے ایک لاکھ روپے زائد دے دیے بائع کو بھئی، تو اب آپ کتنے میں لیں گے بھئی؟ دس میں یا گیارہ میں؟ کہتے ہیں أقل میں لے گا، دونوں صورتوں میں أقل میں تو کتنے کی لیں گے آپ؟ دس لاکھ جو کم ہیں بھئی اس میں لے گا۔ کیوں؟ دس لاکھ میں کیوں لیں گے؟ اس لیے کہ بھئی عقد دس لاکھ میں ہوا ہے، اور جب عقد ہوا تو اب آپ کو شفعه کا حق مل گیا۔ تو آپ کو شفعه کا حق بھئی اب یہ زمین کتنے میں ملے گی پڑے کتنے میں ملا بھئی؟ دس لاکھ۔ اب وہ ایک لاکھ زائد دے کر آپ کے اس حق کو باطل نہیں کر سکتا بھئی۔ अच्छा! اور دوسری صورت کیا تھی؟ کہ زمین اس نے مشتری نے خریدی تھی کتنے کی؟ دس لاکھ کی بھئی، لیکن اور آپ اس کے پڑوسی ہیں بھئی، تو دس لاکھ کی زمین خریدی لیکن بائع نے دیکھا یہ تو تبلیغی آدمی ہے، نیک آدمی ہے، اس نے ایک لاکھ روپے کم کر دیے بھئی، نو لاکھ وصول کیے، تو کہتے ہیں اب شفعہ بھی یہ کتنے میں کرے گا؟ أقل یعنی نو لاکھ میں کرے گا، اس لیے کہ وہ کمی اصل عقد کے ساتھ مل گئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ والشفیع يأخذ بالأقل الفصلين اور شفیع لے لے گا أقل کے بدلے میں دونوں صورتوں کے اندر، ای في الزيادة على الثمن والحط عنه، ثمن پر زیادتی اور کمی کی صورت میں۔ زیادتی کی صورت اور کمی کی صورت دونوں صورتوں میں کس کے ذریعے؟ یہ فصلین کا بتلا رہے ہیں، دونوں فصلوں سے کیا مراد ہے؟ ایک زیادتی في الثمن ہے، اور ایک حط عن الثمن ہے، ثمن سے کمی۔ تو ثمن پر زیادتی کی صورت میں والحط عنه ای عن الثمن، اور ثمن سے کم دونوں صورتوں میں أقل کے ساتھ لے لے گا۔ اما في الحط بھئی کمی کی صورت میں أقل کے ساتھ کیوں لے گا؟ کہتے ہیں اما في الحط کمی کی صورت میں اس لیے، فإنه التحق بأصل العقد اس لیے کہ کمی کس کے ساتھ مل گئی؟ اصل عقد کے ساتھ۔ و اما في الزيادة اور زیادتی کی صورت میں أقل کے ساتھ کیوں لے گا؟ کہتے ہیں فإنه فلأن حقّه تعلق بالثمن الأولي، اس لیے کہ اس شفیعی کا حق کس سے متعلق ہو گیا ہے؟ ثمن اول سے، بھئی اس سے اس کو شفعہ کا حق مل چکا، فلا يملك الغير إبطال حقّه الثابت لہٰذا کوئی اس بات کا مالک نہیں ہے کہ اس کے اس ثابت حق کو کیا کر دے؟ باطل کر دے۔ فلو قال بع عبدك من زيد بألف على ان على أني ضامن كذا من الثمن سوى الألف، أخذ الألف من زيد والزيادة منه. صورت مسئلہ یہ ہے۔ ایک شخص دوسرے کو کہتا ہے کہ اپنا غلام زید کو ایک ہزار کے بدلے بیچ دو، اس شرط پر کہ میں دو سو کا ضامن ہوں ثمن میں سے۔ کیا کہا اس نے؟ اپنا غلام زید کو ایک ہزار کے بدلے بیچ دو اس شرط پر کہ میں دو سو کا ضامن ہوں، ثمن میں سے، یوں کہنا کہ دو سو کا ضامن ہوں۔ ثمن میں سے دو سو کا ضامن ہوں۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں وہ ہزار وہ غلام زید کو بیچتا ہے تو ہزار تو زید سے وصول کر لے گا اور دو سو اس سے وصول کرے گا۔ اس لیے کیونکہ اس نے کیا کہا تھا کہ میں دو سو کا ضامن ہوں کس میں سے؟ ثمن میں سے معلوم ہوا یہ جو دو سو ہیں یہ بھی کس میں سے ہیں؟ ثمن میں سے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ لیکن اگر وہ من الثمن کی قید نہ لگاتا تو مسئلہ الگ تھا، یوں کہتا اپنا یہ غلام زید کو بیچ دو ایک ہزار کے بدلے اس شرط پر کہ میں دو سو کا ضامن ہوں، کتنے کا ضامن ہو؟ دو سو کا ضامن ہوں۔ تو کہتے ہیں بھئی اب بس، اگر اس نے زید کے ہاتھ فروخت کر دیا تو زید سے اس سے ایک ہزار ملے گا اور اس سے دو دو سو نہیں لے سکتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ یعنی اس پر دو سو واجب نہیں ہے، کیوں نہیں واجب؟ اس لیے صرف وعدہ کیا تھا، میں کتنے کا ضامن ہوں؟ دو سو کا ضامن ہوں اور صرف وعدے سے کسی پر کوئی چیز لازم نہیں ہوتی۔ ہاں پچھلی صورت میں تو اس نے کیا کہا تھا کہ میں دو سو کا ضامن ہوں کس میں سے؟ ثمن میں سے معلوم ہوا یہ دو سو بھی وہ کس میں سے شمار کر رہا ہے؟ ثمن میں سے، اور جب ثمن میں سے کر رہا ہے جب اس نے مبیع دیا ہے تو وہ سارے ثمن کا کیا بن جاتا ہے؟ حقدار بن گیا تو اس پر بھی وہ دو سو دینا لازم ہو گئے۔ فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ فلو قال بع عبدك من زيد بألف اگر کہا کہ بیچ دے اپنے غلام کو من زید، زید پر ب ألف کتنے کے بدلے؟ ایک ہزار کے بدلے علی اس شرط پر انی ضامن کذا من الثمن میں اتنے کا ضامن ہوں ثمن میں سے، مثلاً دو سو کا، سوا الف سوا علاوہ، بھئی سوا الف ہزار کے علاوہ بھی ساتھ کہنا ہے، ہزار کے علاوہ میں کتنے کا ضامن ہوں؟ دو سو کا ضامن ہوں۔ أخذ الألف من زيد والزيادة منه، تو وہ لے لے گا ایک ہزار زید سے اور زائد اس شخص سے لے لے گا ضمانت دینے والے سے۔ ولو لم يقل من الثمن، اگر من الثمن وہ نہ کہتا یہ لفظ نہ کہتا فالف على زيد ولا شَيْءَ عليه تو ایک ہزار زید پر لازم ہوتے اور اس پر کوئی بھی چیز نہ ہوتی۔ وكل دين أُجل إلى أجل معلوم صح إلا القرض، اور ہر ایسا دین بھئی، جس میں جس میں مدت کوئی معلوم مقرر کی جائے صح تو وہ کیا ہے؟ صحیح ہے، الا القرضہ، مگر قرض کہ قرض کے اندر مدت مقرر کرنا صحیح نہیں۔ بھئی ایک تو بیع کسی عقد کی وجہ سے کسی پر کوئی پیسے آتے ہیں اس کو دین کہتے ہیں۔ مثلاً ایک شخص نے آپ سے کوئی چیز خریدی اور اس کے ذمے پیسے آ گئے اس کے اب، تو یہ کیا ہے اس پر دین؟ اور اس میں آپ نے پڑھا مدت مقرر کرنا بھی صحیح، میں چھ مہینے بعد دوں گا وہ کہتا ہے یا سال بعد دوں گا آپ کا منظور کر لیتے ہیں، تو اب یہ دین مؤجل ہو گیا، کب اس پر لازم ہے ادا کرنا جب مدت پوری ہو جائے بھئی۔ اور ایک ہے قرض بھئی، جس میں جو چیز مثلی دی جاتی ہے وہی چیز اتنی ہی پھر اس سے واپس لی جاتی ہے، یہ قرض ہے بھئی۔ قرض بھئی۔ تو قرض کے اندر مدت مقرر کرنا صحیح نہیں بھئی، قرض کے اندر مدت مقرر کرنا صحیح نہیں ہے۔ بھئی، بلکہ قرض تو دیا ہے دوسرے کی ضرورت احسان کرتے ہوئے، نیکی کرتے ہوئے اس آپ نے دیا ہے اور تعلق دیانت سے ہے، تو جب اس کے پاس ہوگا وہ کیا کرے گا آپ کو ادا کر دے گا، تو اس میں اگر مدت مقرر کی بھی تو مقرر نہیں ہوگی، مثلاً ایک شخص آپ سے قرض لیتا ہے کہ میں بھئی ایک مہینے بعد آپ کو دے دوں گا، بھئی آپ شرط لگاتے ہیں ایک مہینے بعد آپ کو کیا کرنا پڑے گا؟ یہ قرض ادا کرنا پڑے گا، تو یہ مدت متعین نہیں ہوتی بھئی۔ آپ اس، یعنی کیا معنی متعین نہیں ہوتی؟ یعنی آپ اس سے پہلے بھی مطالبہ کر سکتے ہیں، کیا کر سکتے ہیں پہلے بھی مطالبہ کر سکتے ہیں، یہ نہیں وہ کہے گا جی ابھی تو یہ وہ وقت ہی پورا نہیں ہوا بھئی، مدت مقرر کرنے سے قرض کے اندر مقرر ہی نہیں ہوتا۔ پھر باقی اس کے اندر بعض علماء فرماتے ہیں کہ مدت مقرر کی تو گنہگار ہوگا بھئی، مدت مقرر کرنی ہی نہیں چاہیے، بعض کہتے ہیں اگر کر بھی دی تو گنہگار نہیں ہوگا، البتہ مدت مقرر ہی نہیں ہوگی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دیکھیے بھئی، وكل دين أُجل إلى أجل معلوم صح اور ہر ایسا دین جو اس کے جس کی کوئی مدت معلوم مدت مقرر کی جائے صحہ یہ کیا ہے؟ تو کسی دین کو کسی معلوم مدت تک اس کی مدت اجل معلوم تک اس کی مدت مقرر کرنا صح یہ صحیح ہے الا القرضہ مگر قرض۔ فإنه يبصیر بيع الدراهم بالدراهم، اس لیے کہ یہ تو کیا بن جائے گی؟ دراہم کے بدلے دراہم کی بیع بن جائے گی بھئی، بیع۔ نسیئتاً ادھار بھئی، دراہم کی دراہم کے بدلے بیع بھئی، یہ نسیئتاً ادھار جائز نہیں۔ آپ نے پڑھا ہے بھئی ایک طرف سے بھی درہم ہے، ثمن ہے، دوسری طرف سے بھی ثمن ہے تو پھر کیا کرنا پڑے گا؟ ہاں ادھار نہیں بھئی، آگے باب ربوا آ رہا ہے وہاں پوری تفصیل آ جائے گی کہ جب دونوں عوضین کس کس میں جنس اور قدر میں اتحاد ہو تو اس صورت کے اندر کمی بیشی بھی نہیں درست اور ادھار بھی درست نہیں ہے بھئی، تو یہاں یہ تو دراہم کے بدلے دراہم کی بیع ادھار بن گئے۔ فلا يجوز، تو یہ جائز نہیں۔ لأنه يصير ربا، اس لیے کہ یہ کیا بن جائے گا؟ ربا۔ بھئی ربا کیسے بن جائے گا بھئی؟ ربا تو کہتے ہیں زیادتی کو بھئی۔ یہاں پر کوئی زیادتی ہے؟ جتنے لیے اتنے ہی دے گا، کہتے ہیں بھئی ہاں زیادتی ہے۔ لأن النقد خير من النسيئتي، اس لیے کہ نقد ادھار سے بہتر ہے۔ ایک چیز نقد مل رہی ہے وہ بہتر ہے یا جو ادھار آپ کو چھ مہینے بعد ملے گی بھئی؟ نقد بہتر ہے۔ نقد بہتر ہے تو زیادتی آ گئی یا نہیں آ گئی بھئی نقد کی؟ ایک کی دوسرے پر بھئی، زیادتی ائی یا نہیں ائی؟ تو ایک میں جو ہے زیادتی آ گئی تو اسی لیے کہا ربا بنے گا، ربا کیسے بنے گا؟ کہتے ہیں لأن النقد خير من النسيئتي، اس لیے کہ نقد بہتر ہے ادھار سے۔ چلیے بس، والله أعلم بحقيقة الكلام.