آگے سبق دیکھیے بھئی، متن دیکھیے۔ خاتمة: أجزاء العلوم ثلاثة: الموضوعات وهي التي يطلب في العلم عن أعراضها الذاتية، والمبادي وهي حدود الموضوعات وأجزائها وأعراضها، ومقدمات بينة أو مأخوذة يبتني عليها قياسات العلم، والمسائل وهي قضايا تطلب في العلم. اچھا تو یہ کتاب کا آخری حصہ ہے بھئی۔ اس کا عنوان مصنف نے خاتمہ رکھا، خاتمہ۔ اور اس کے اندر یاد رکھیے وہ اجزائے علوم کو بیان کریں گے کہ علوم کن چیزوں سے مرکب ہوتا ہے، کیا کیا چیزیں علم کے اندر داخل ہوتی ہیں۔ تو آپ کو بتلائیں گے کہ اجزائے علوم جو ہیں وہ تین ہیں: موضوعات، مبادی اور مسائل۔ اجزائے علوم کتنے ہیں؟ تین۔ ہر علم کے اجزا جو ہیں وہ تین ہیں: موضوعات، مبادی اور مسائل۔ علوم سے مراد علوم مدونہ ہیں بھئی، وہ علوم جن کو مدون کیا گیا، جن کو جمع کیا گیا، جن کو قلم بند کیا گیا۔ تو وہ علوم جن کو جمع کیا گیا کتابی صورت میں، وہ علوم جو ہیں ان کے اجزا تین ہیں: موضوعات، مبادی اور مسائل۔ دہرائیں بھئی، کتنی چیزیں ہیں؟ تین۔ اجزائے علوم تین چیزیں ہیں: موضوعات، مبادی اور اس علم کے مسائل بھئی۔ موضوعات کسے کہتے ہیں؟ یہ آپ کو بتلائیں گے کہ موضوعات کسی علم کے وہ امور ہوتے ہیں جن کے اعراض ذاتیہ سے کسی علم میں بحث کی جائے۔ توجہ ہے؟ کسی علم کے موضوعات وہ امور ہوتے ہیں، وہ چیزیں ہوتی ہیں جن کے اعراض ذاتیہ سے اس علم کے اندر بحث کی جائے، وہ اس علم کا موضوع کہلاتا ہے۔ جیسے علم نحو کا موضوع کلمہ اور کلام ہے، کلمہ اور کلام کے احوال سے اس علم میں بحث کی جاتی ہے کہ کلمہ کبھی معرب ہوگا، کبھی مبنی ہوگا، کبھی اسم ہوگا، کبھی فعل ہوگا، کبھی حرف ہوگا، کبھی مرفوع ہوگا، کبھی منصوب ہوگا، کبھی مجرور ہوگا، تو کلمہ کے مختلف احوال سے علم نحو میں بحث کی جاتی ہے۔ تو اسی طرح علم منطق جو ہے اس کا موضوع معرف اور حجت ہیں یعنی وہ معلوم تصورات جو ہمیں مجهول تصور تک پہنچا دیں اور اسی طرح وہ معلوم تصدیقات جو ہمیں مجهول تصدیق تک پہنچا دیں وہ علم منطق کا موضوع ہیں۔ تو کسی علم کا موضوع وہ امور ہوتے ہیں، وہ چیزیں ہوتی ہیں جن کے عوارض ذاتیہ سے اس علم میں بحث کی جائے۔ عوارض ذاتیہ یعنی اس چیز کے جو مخصوص احوال ہوتے ہیں یعنی وہ احوال جو اس چیز کے ساتھ خاص ہوتے ہیں۔ وہ احوال جو اس چیز کے ساتھ خاص ہوتے ہیں وہ اس کے عوارض ذاتیہ ہیں۔ تو کسی علم کا موضوع کسے کہتے ہیں؟ جس کے عوارض ذاتیہ سے اس علم میں بحث کی جائے۔ پھر یاد رکھنا یہ عوارض دو قسم پر ہیں بھئی: عوارض ذاتیہ اور عوارض غریبہ۔ پہلے تفصیل سمجھ لیں بھئی، یہ باتیں میں پہلے بھی کتاب کے شروع میں ذکر کر چکا ہوں دوبارہ سمجھ لیں۔ یاد رکھیے ایک ہے جوہر اور ایک ہے صفت۔ جوہر وہ ہے جس کا اپنا الگ وجود ہو جیسے زید ہے اس کا اپنا الگ خارج میں وجود ہے، تو زید کیا ہے؟ جوہر۔ تو یہ جو چیزیں آپ کو نظر آتی ہیں یہ سب جوہر ہیں، یہ زید یہ بھی جوہر ہے اس کا اپنا الگ وجود ہے۔ اس کو کہیں گے قائم بذات یعنی خود اپنی ذات کے اعتبار سے یہ قائم ہے اس کا وجود ہے، یہ اپنے وجود میں کسی اور چیز کا محتاج نہیں یا جیسے اسی طرح درخت ہے درخت کا اپنا ایک الگ وجود ہے، پتھر ہے اس کا اپنا ایک الگ وجود ہے، اسی طرح یہ جو جو کچھ آپ کو دکھائی دیتا ہے ہر چیز کا اپنا الگ وجود ہے ان کو کہتے ہیں جوہر۔ یہ اپنے وجود میں کسی دوسری چیز یعنی کسی محل کے محتاج نہیں۔ جبکہ کچھ چیزیں جو ہیں وہ صفات ہوتی ہیں ان کا اپنا الگ وجود نہیں ہوتا وہ اپنے وجود میں محل کی محتاج ہوتی ہیں جیسے سخاوت ہے۔ دیکھو زید سخی ہے تو یہ سخاوت زید کی صفت ہے، زید ہے تو اس سخاوت کا بھی وجود ہے، زید نہیں تو اس سخاوت کا بھی وجود نہیں ہے۔ یا جیسے شجاعت، بہادری۔ بہادری جو ہے جرات یہ زید کی صفت ہے، زید ہے تو زید کی شجاعت بھی ہے، زید نہیں تو زید کی شجاعت بھی نہیں۔ تو زید جو ہے وہ قائم بذات ہے اس کا اپنا الگ وجود ہے جبکہ صفت اس کا اپنا الگ وجود نہیں ہوتا اس کے لیے کوئی موصوف چاہیے جس کے ساتھ وہ قائم ہو، موصوف کے بغیر اس کا اپنا الگ وجود نہیں ہو سکتا۔ یا جیسے یہ رنگ ہیں چیزوں کے، سفید، سرخ، نیلا، پیلا، مختلف چیزوں کے مختلف رنگ ہیں، یاد رکھو یہ رنگ جو ہیں یہ صفت ہیں۔ یہ کپڑا سفید ہے، یہ سفیدی اس کی صفت ہے۔ یہ دیوار سفید ہے، یہ سفیدی اس کی صفت ہے۔ کوئی پھول ہے وہ سفید ہے، سفیدی اس کی صفت ہے بھئی۔ تو پھول ہے یا وہ دیوار ہے تو وہ سفیدی بھی ہے جو اس کے ساتھ قائم ہے اور اگر وہ جوہر نہیں، وہ چیز نہیں تو اس صفت کا بھی اپنا الگ کوئی وجود نہیں ہے۔ مثلاً کپڑا ہے آپ کپڑے کو جلا دیں، کپڑا ختم ہو جائے گا تو اس کی جو سفیدی صفت تھی وہ بھی ختم ہو گئی۔ آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ کپڑے کو جلا دیں اور اس کی سفیدی الگ باہر رہ جائے؟ یا ایسا ہوتا ہے زید مر جائے اور اس کی سخاوت الگ ہو کر باقی رہ جائے؟ نہیں، یہ صفت جو ہوتی ہے اس کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں ہوتا، اس کے لیے کوئی محل چاہیے۔ یہ جو موصوف ہے اس کو اس کا محل کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ محل یعنی وہ محل، وہ جگہ جس کے ساتھ یہ قائم ہے جس کی یہ صفت ہے، وہ محل ہے تو صفت بھی ہے، وہ محل نہیں تو صفت بھی نہیں جیسے زید کی صفت ہے شجاعت اور سخاوت تو زید اس سخاوت کا محل ہے، یہ محل ہے تو یہ والی سخاوت بھی ہے، یہ محل نہیں تو یہ سخاوت بھی نہیں ہے۔ تو وہ چیزیں جن کا اپنا الگ وجود ہوتا ہے ان کو جوہر کہتے ہیں اور وہ قائم بذات ہوتی ہیں، وہ اپنے وجود میں کسی محل کی محتاج نہیں، جبکہ دوسری قسم جو ہے وہ صفات ہیں صفات کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں ہوتا وہ اپنے وجود میں محل کی محتاج ہیں، کوئی محل ہے جس کے ساتھ وہ قائم ہیں تو ان صفات کا بھی وجود ہے، اگر وہ محل نہیں تو ان صفات کا بھی کوئی وجود نہیں ہے۔ تو یہ جو محل ہے اس کو کہتے ہیں معروض اور یہ جو صفت ہے اس کو کہتے ہیں عارض۔ عارض کا معنی؟ جو کسی چیز کے ساتھ کو پیش آ جائے، کسی چیز کے ساتھ لگ جائے۔ دیکھو یہ جو سخاوت ہے یہ زید کے ساتھ لاحق ہے، جڑی ہوئی ہے تو وہ چیز جس کے ساتھ جڑے اس کو کیا کہتے ہیں؟ یعنی موصوف اس کو موصوف کو کیا کہتے ہیں؟ معروض اور صفت کو کیا کہتے ہیں؟ عارض، عارض یا عرض بھئی۔ عرض یعنی صفت، را پر فتحہ ہے عرض بھئی۔ تو ایک ہے معروض اور ایک ہے عارض، معروض جو ہے اس کا اپنا الگ وجود ہوتا ہے وہ اپنے وجود میں کسی محل کا محتاج نہیں جبکہ عرض جو ہے وہ اپنے وجود میں محل کی محتاج ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر اس کے بعد یاد رکھنا یہ جو عارض جو ہے کسی معروض کو جو لاحق ہوتی ہے اس میں بعض اوقات کوئی واسطہ ہوگا اور بعض اوقات کوئی واسطہ نہیں ہوگا، کوئی واسطہ نہیں ہوگا۔ مثلاً دیکھو آپ کشتی میں بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ کشتی چل رہی ہے تو کشتی متحرک ہوئی اور کشتی کے واسطے سے جو اس میں بیٹھا ہوا انسان ہے وہ بھی متحرک ہے۔ تو وہ انسان بھی متحرک ہے تو حرکت اس انسان کی صفت ہوئی لیکن کس کے واسطے سے؟ کشتی کے واسطے سے۔ یا کوئی شخص گاڑی میں بیٹھا ہوا ہے، گاڑی چل رہی ہے تو وہ انسان تو ساکن ہے لیکن اس وقت حرکت اس کی صفت ہے کس کے واسطے سے؟ گاڑی کے واسطے سے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کبھی کبھار یہ عارض جو ہے معروض کو جو لاحق ہوتا ہے درمیان میں واسطہ آتا ہے جیسے اس مثال کے اندر جو کشتی اور گاڑی کا واسطہ آیا اور اس کے واسطے سے وہ انسان بھی متحرک ہے۔ یا دوسری مثال لے لیں جیسے آپ چابی تالے میں گھماتے ہیں تو چابی حرکت کرتی ہے اور کس کے واسطے سے؟ ہاتھ کے واسطے سے، ہاتھ حرکت کرتا ہے ہاتھ اس چابی کو گھماتا ہے تو چابی بھی گھوم جاتی ہے۔ تو یہ حرکت چابی کی صفت ہوئی کس کے واسطے سے؟ ہاتھ کے واسطے سے، ہاتھ حرکت کر رہا ہے تو چابی بھی حرکت کر رہی ہے۔ تو یہ جو عارض معروض کو لاحق ہوتا ہے اس کی صفت بنتا ہے اس میں کبھی واسطہ ہوگا اور کبھی واسطہ نہیں ہوگا۔ کبھی واسطہ نہیں ہوتا جیسے سخاوت زید کی صفت ہے بھئی، سخاوت زید کی صفت ہے اور درمیان میں کوئی واسطہ نہیں اور کبھی درمیان میں واسطہ ہوتا ہے جیسے گاڑی کے اندر کوئی شخص بیٹھا ہوا ہے اور گاڑی کی حرکت کی وجہ سے وہ بھی متحرک ہے یا جیسے چابی کو آپ گھماتے ہیں تو وہ ہاتھ کی حرکت کی وجہ سے چابی بھی متحرک ہے بھئی۔ پھر یہ جو واسطہ ہے کبھی خود بھی اس صفت کے ساتھ موصوف ہوتا ہے اور کبھی خود اس صفت کے ساتھ موصوف نہیں ہوتا۔ جیسے جیسے آپ گاڑی میں بیٹھیں یا کشتی میں بیٹھیں اور کشتی چل رہی ہے، گاڑی چل رہی ہے تو کشتی میں بیٹھا ہوا انسان بھی متحرک ہے۔ تو یہ حرکت اس انسان کی صفت ہے کس کے واسطے سے؟ کشتی اور گاڑی کے واسطے سے اور وہ واسطہ خود بھی اس صفت کے ساتھ موصوف ہو رہا ہے، وہ گاڑی اور کشتی وہ بھی کیا ہے اس وقت؟ متحرک ہے۔ تو وہ صفت معروض کے ساتھ ساتھ جو واسطہ ہے اس سے بھی لاحق ہوتی ہے وہ بھی اس صفت کے ساتھ موصوف ہوتا ہے۔ یا جیسے آپ نے چابی کو حرکت دی تو حرکت چابی کی صفت بنی کس کے واسطے سے؟ ہاتھ کے واسطے سے اور ہاتھ بھی دیکھو حرکت کے ساتھ موصوف ہے، حرکت اس کی بھی صفت ہے تو کبھی وہ واسطہ بھی صفت کے ساتھ موصوف ہوتا ہے اور کبھی وہ واسطہ صفت کے ساتھ موصوف نہیں ہوتا جیسے رنگ ریز ہے، یاد رکھو ایک ہے رنگ ساز، ایک ہے رنگ ریز۔ رنگ ساز وہ ہے جو رنگ بناتا ہے، رنگ ریز وہ ہے جو چیزوں پر رنگ چڑھاتا ہے۔ مثلاً آپ بازار میں کپڑا لے جاتے ہیں اور وہ کپڑا رنگنے والا رنگ ریز جو ہے وہ اس کو مختلف رنگ دیتا ہے جو رنگ آپ اس سے کہتے ہیں، تو وہ شخص کیا ہے جو کپڑے پر رنگ چڑھانے والا ہے؟ رنگ ریز بھئی۔ اب دیکھو، دیکھو کپڑا آپ سفید کپڑا اس کے پاس لے گئے اور آپ نے کہا اس کو سرخ رنگ دو، اس نے اس کپڑے کو سرخ رنگ دیا تو یہ دیکھو سرخ رنگ اس کپڑے کی صفت بن گیا اور کس کے واسطے سے؟ رنگ ریز کے واسطے سے لیکن رنگ ریز خود اس صفت کے ساتھ موصوف نہیں، خود وہ سرخ رنگ کا نہیں ہوا، اس پر یہ سرخ رنگ نہیں چڑھا۔ تو کبھی جو ہے واسطہ اس صفت کے ساتھ موصوف ہوگا اور کبھی خود واسطہ اس صفت کے ساتھ موصوف نہیں ہوگا۔ تو اس اعتبار سے علمائے منطق جو ہیں وہ عارض اور معروض کے درمیان واسطہ ہوگا یا واسطہ نہیں ہوگا اس کی کئی قسمیں بناتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ دو قسم کی صفات ہیں: کچھ عوارض ذاتیہ ہیں اور کچھ عوارض غریبہ ہیں بھئی، عوارض ذاتیہ اور کچھ عوارض غریبہ ہیں بھئی۔ یہ آپ لکھ لیجیے یہ آپ کے کام آئے گا بھئی، یہ میں شروع میں بھی لکھوا چکا ہوں لیکن وہاں ذرا اور انداز میں لکھوایا تھا یہاں ذرا اور انداز میں لکھ لیں، بات انشاء اللہ اور واضح ہو جائے گی۔ جی سب سے اوپر لکھیے بھئی: موضوعات موضوعات کسی علم کے موضوعات کسی علم کے موضوعات وہ امور ہوتے ہیں وہ امور ہوتے ہیں کسی علم کے موضوعات وہ امور ہوتے ہیں جن کے اعراض ذاتیہ سے جن کے اعراض ذاتیہ سے جن کے اعراض ذاتیہ سے یعنی مخصوص احوال سے یعنی مخصوص احوال سے اس علم میں بحث کی جائے۔ اس علم میں بحث کی جائے۔ لکھ لیا؟ پھر سن لیں: موضوعات: کسی علم کے موضوعات وہ امور ہوتے ہیں جن کے اعراض ذاتیہ یعنی مخصوص احوال سے اس علم میں بحث کی جائے۔ نیچے الگ بھئی عنوان دیں: عوارض ذاتیہ عوارض ذاتیہ وہ عوارض ہیں عوارض ذاتیہ وہ عوارض ہیں جو اپنے معروض کو جو اپنے معروض کو بلا واسطہ بلا واسطہ یا اس کے یا اس کے امر مساوی کے واسطے سے امر مساوی کے واسطے سے لاحق ہوں لاحق ہوں بات سمجھ میں آ گئی؟ عوارض ذاتیہ کسے کہتے ہیں؟ وہ عوارض جو اپنے معروض کو بلا واسطہ یعنی درمیان میں کوئی واسطہ نہ آئے، بلا واسطہ لاحق ہوں یا کسی امر مساوی کے واسطے سے لاحق ہوں بھئی۔ جی آگے الگ سطر میں لکھیے: عارض بلا واسطہ عارض بلا واسطہ اس کو عارض بالذات عارض بلا واسطہ عنوان تھا بھئی، اس سے آگے لکھیں: اس کو عارض بالذات اس کو عارض بالذات اور عرض اولی بھی کہتے ہیں اور عرض اولی بھی کہتے ہیں جیسے تعجب عارض ہے جیسے تعجب عارض ہے انسان کو بلا واسطہ جیسے تعجب عارض ہے انسان کو بلا واسطہ کیونکہ اللہ نے انسان کو متعجب بنایا ہے کیونکہ اللہ نے انسان کو متعجب بنایا ہے۔ نیچے لکھیے، الگ سطر: عارض بواسطة مساوی کی عارض بواسطة مساوی کی دو قسمیں ہیں دو قسمیں ہیں۔ لکھ لیا؟ عارض بواسطة مساوی کی دو قسمیں ہیں۔ نمبر ایک: عارض بواسطة جزء مساوی عارض بواسطة جزء مساوی عارض بواسطة جزء مساوی جیسے نطق، نون طاء بھئی طاء ظاء اور قاف دو نقطوں والا، جیسے نطق انسان کی صفت ہے جیسے نطق انسان کی صفت ہے بواسطہ اس کے جزء ناطق کے بواسطہ اس کے جزء ناطق کے اور یہ جزء انسان کا امر مساوی ہے اور یہ جزء انسان کا امر مساوی ہے یعنی جس پر ناطق صادق آتا ہے یعنی جس پر ناطق صادق آتا ہے اس پر انسان صادق آتا ہے اس پر انسان صادق آتا ہے اور جس پر انسان صادق آتا ہے اور جس پر انسان صادق آتا ہے اس پر ناطق صادق آتا ہے اس پر ناطق صادق آتا ہے۔ نمبر دو بھئی الگ سطر: نمبر دو: عارض بواسطة خارج مساوی عارض بواسطة خارج مساوی جیسے ضحک بھئی، ضحک ضاد حاء اور چھوٹا کاف، جیسے ضحک انسان کی صفت ہے انسان کی صفت ہے بواسطہ متعجب کے بواسطہ متعجب کے اور متعجب انسان کا امر مساوی ہے اور متعجب انسان کا امر مساوی ہے اور متعجب انسان کا امر مساوی ہے اور انسان کی حقیقت و ماہیت سے خارج ہے۔ اور انسان کی حقیقت و ماہیت سے خارج ہے۔ آگے الگ عنوان دیجیے: عوارض غریبہ عوارض غریبہ وہ عوارض وہ عوارض جو اپنے معروض کو جو اپنے معروض کو اولاً اور بالذات اولاً اور بالذات یا امر مساوی کے واسطے سے یا امر مساوی کے واسطے سے لاحق نہ ہوں لاحق نہ ہوں۔ آگے لکھیے: عوارض غریبہ کی چار صورتیں ہیں عوارض غریبہ کی چار صورتیں ہیں، یا یوں لکھ لیں چار قسمیں ہیں۔ نمبر ایک: عارض بواسطة جزء اعم نمبر ایک: عارض بواسطة جزء اعم لکھ لیا؟ عارض بواسطة جزء اعم، جیسے ماشی جیسے ماشی انسان کی صفت ہے انسان کی صفت ہے بواسطہ حیوان کے بواسطہ حیوان کے جو انسان کا جزء اعم ہے جو انسان کا جزء اعم ہے یعنی یہ جزء اور حیوانات میں بھی پایا جاتا ہے یعنی یہ جزء اور حیوانات میں بھی پایا جاتا ہے۔ نمبر دو: عارض بواسطة خارج اعم عارض بواسطة خارج اعم عارض بواسطة خارج اعم جیسے حرکت عارض ہوتی ہے ابیض کو جیسے حرکت عارض ہوتی ہے ابیض کو بواسطہ جسم کے بواسطہ جسم کے اور جسم ابیض کی حقیقت سے خارج ہے اور جسم ابیض کی حقیقت سے خارج ہے۔ نمبر تین: عارض بواسطة خارج اخص بھئی، اخص صاد کے ساتھ ہے عارض بواسطة خارج اخص لکھ لیا؟ عارض بواسطة خارج اخص جیسے ضحک اور نطق جیسے ضحک اور نطق لاحق ہوتے ہیں حیوان کو لاحق ہوتے ہیں حیوان کو بواسطہ انسان کے بواسطہ انسان کے اور انسان اخص ہے اور انسان اخص ہے اور حیوان کی حقیقت سے خارج ہے اخص ہے اور حیوان کی حقیقت سے خارج ہے۔ نمبر چار: عارض بواسطة خارج مباین عارض بواسطة خارج مباین عارض بواسطة خارج مباین جیسے حرارت عارض ہوتی ہے پانی کو جیسے حرارت عارض ہوتی ہے پانی کو بواسطہ آگ کے بواسطہ آگ کے یعنی نار کے۔ آگے الگ سطر لکھیے: بعض متاخرین نے بعض متاخرین نے عارض بواسطة جزء اعم عارض بواسطة جزء اعم کو بھی عارض بواسطة جزء اعم کو بھی عوارض ذاتیہ میں شمار کیا ہے کو عوارض ذاتیہ میں شمار کیا ہے مگر حق یہ ہے مگر حق یہ ہے کہ یہ عوارض غریبہ میں سے ہے مگر حق یہ ہے کہ یہ عوارض غریبہ میں سے ہے۔ بحث مکمل ہوئی بھئی، اب دیکھیے اس کو سمجھ لیجیے بھئی۔ سب سے پہلے اس میں میں نے آپ کو بتلایا کہ کسی علم کے موضوعات وہ امور ہوتے ہیں جن کے عوارض ذاتیہ یا یوں کہیں احوال مخصوصہ سے کسی علم میں بحث کی جائے۔ توجہ ہے؟ وہ احوال جو اسی چیز کے ساتھ خاص ہیں ان سے اس علم میں بحث کی جاتی ہے، ایسے احوال سے بحث نہیں کی جاتی جو اس میں بھی پائے جاتے ہیں اور چیزوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ تو کسی علم میں جو موضوع ہو اس کے عوارض ذاتیہ یعنی مخصوص احوال کے بارے میں بحث کی جاتی ہے۔ اب عوارض ذاتیہ کسے کہتے ہیں میں نے آپ کو بتلایا، عوارض ذاتیہ وہ ہیں جو کسی چیز کو عارض ہوتے ہیں بلا واسطہ یا کسی امر مساوی کے واسطے سے۔ درمیان میں کوئی واسطہ نہ ہو جیسے تعجب انسان کو لاحق ہوتا ہے بلا واسطہ، انسان کی انسان کو اللہ نے متعجب بنایا ہے، انسان کو اللہ نے متعجب بنایا ہے۔ یاد رکھیے انسان مدرک ہے اللہ نے اس کو مدرک بنایا ہے، مدرک ادراک کا کیا معنی؟ علم، علم۔ ادراک کا معنی جاننا، وہ ادراک کرتا ہے چیزوں کا، چیزوں کا علم اس کو حاصل ہوتا ہے تو اس کا ادراک کبھی تصور ہوتا ہے اور کبھی تصدیق۔ اگر اس ادراک کے اندر حکم نہ ہو تو وہ تصور ہے، اگر اس ادراک کے اندر اذعان نہ ہو تو وہ تصور ہے اور اگر اذعان ہو تو وہ تصدیق ہے۔ تو تفصیل میں نے بیان کی تھی، بتلایا تھا کہ ادراک اور علم کا ایک ہی معنی ہے، علم کا معنی بھی جاننا، ادراک کا معنی بھی جاننا۔ تو ہم جو چیزیں جانتے ہیں یعنی جو چیزیں ہمارے ذہن میں آتی ہیں، ہمارے عقل میں آتی ہیں کبھی تو ان میں کوئی نسبت ہوتی ہی نہیں، مثلاً صرف زید کا تصور یا بکر کا تصور اور کبھی ایک ہی چیز ہوگی، کبھی زیادہ چیزیں لیکن درمیان میں کوئی نسبت نہیں جیسے زید، عمر، بکر سب کا آپ نے تصور کیا اور درمیان میں کوئی نسبت نہیں ہے اور کبھی نسبت ہوتی ہے لیکن بات پوری نہیں ہوتی نسبت تقییدی ہوتی ہے نسبت تامہ نہیں ہوتی جیسے مرکب توصیفی میں ہوتا ہے اور مرکب اضافی کے اندر ہوتا ہے اور کبھی نسبت تامہ ہوتی ہے لیکن کلام کیا ہوتا ہے؟ انشائی، وہ بھی کس کی قسم میں سے؟ تصور کی قسم میں سے اور کبھی نسبت تامہ خبری ہوتی ہے لیکن وہ وهم، شک یا تخییل کے قبیل سے ہوتا ہے، وہ بھی تصور ہے۔ جبکہ ظن جو ہے وہ تصدیق کی قسم ہے تو تصدیق کے اندر اذعان ہوتا ہے، انسان ایک چیز کو مان لیتا ہے کہ ایسا ہے یا اس کا غالب گمان ہوتا ہے کہ ایسا ہے تو یہ تصدیق ہے۔ تو تصور اور تصدیق کس کی قسمیں؟ ادراک، تو اللہ نے انسان کو مدرک پیدا کیا ہے، وہ چیزوں کا ادراک کرتا ہے، جب مختلف چیزوں کا ادراک کرتا ہے تو انوکھی اور عجیب چیزوں کا بھی ادراک کرتا ہے اور جب کوئی انوکھی اور عجیب چیز دیکھتا ہے تو اس کو تعجب لاحق ہوتا ہے اور پھر اس تعجب کی وجہ سے اس کو ہنسی آ جاتی ہے جسے ضحک کہتے ہیں، تو انسان کیا ہے؟ ضاحک ہے، ہنسنے والا ہے، اس کو ہنسی آتی ہے لیکن یہ ہنستا کیوں ہے؟ کس کی وجہ سے؟ تعجب کی وجہ سے، وہ جب کسی امر غریب کا ادراک کرتا ہے اس کو تعجب لاحق ہوتا ہے اور اس تعجب کی وجہ سے اسے پھر ہنسی آ جاتی ہے۔ تو انسان کو اللہ نے متعجب بنایا ہے کہ کسی امر غریب کا ادراک کرے گا تو اس کو کیا لاحق ہوگا؟ تعجب، تو یہ تعجب انسان کی صفت ہے بلا واسطہ۔ انسان کو اللہ نے بنایا ہی کیا ہے؟ متعجب ہے، وہ جب کسی امر غریب کا ادراک کرتا ہے تو اسے تعجب لاحق ہوتا ہے اور یہ تعجب انسان کو لاحق ہوتا ہے بغیر کسی واسطے کے، درمیان میں کوئی واسطہ نہیں ہے، تو یہ تو یہ وہ عارض ہے جو بلا واسطہ انسان کو عارض ہوتا ہے اور یہ بھی میں نے آپ کو بتلایا کہ وہ عرض جو بلا واسطہ کسی چیز کو عارض ہو اس کو عارض بالذات اور عرض اولی بھی کہتے ہیں۔ یہ تعجب انسان کو کیا ہے؟ انسان کے لیے عارض ہے بالذات بھئی، انسان کی ذات کو ہی یہ عارض ہوتا ہے درمیان میں کوئی واسطہ نہیں، نیز اس کو عرض اولی بھی کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ عرض اولی، کیونکہ اس میں کوئی واسطہ ہی نہیں ہے تو گویا وہ عرض اولاً ہی آ کر اس کو لاحق ہوا ہے، اس کو عارض ہوا ہے، درمیان میں کوئی واسطہ نہیں تو عارض بالذات کہہ لیں یا عارض اولاً کہہ لیں ایک ہی بات ہے۔ توجہ ہے؟ تو یہ جو عارض ہو بلا واسطہ کے اس کو کیا کہتے ہیں؟ عارض بالذات یا اسی طرح عرض اولی اس کو کہتے ہیں تو درمیان میں کوئی واسطہ نہیں، وہ جو عرض ہے بالذات اسی چیز کو لاحق ہو رہا ہے یا یوں کہیں اولاً اسی کو عارض ہو رہا ہے درمیان میں کوئی واسطہ نہیں اور کبھی درمیان میں واسطہ ہوتا ہے اور وہ پھر واسطہ یا وہ امر مساوی ہوگا یا امر اخص ہوگا یا اعم ہوگا یا مباین ہوگا، توجہ ہے؟ جی تو عوارض ذاتیہ کی بات میں کر رہا تھا، عوارض ذاتیہ وہ ہیں جو کسی چیز کو لاحق ہوں بلا واسطہ یا کسی امر مساوی کے واسطے سے۔ تو جیسے تعجب جو ہے انسان کو لاحق ہوتا ہے بلا واسطہ تو اس کو کیا کہیں گے؟ عارض بالذات اور عرض اولی کہیں گے اور کبھی درمیان میں واسطہ آئے گا لیکن وہ واسطہ امر مساوی ہوگا۔ اچھا، امر مساوی کا کیا معنی؟ یعنی وہ معروض اور وہ چیز مساوی ہیں، جس پر معروض صادق آتا ہے اس پر وہ واسطہ بھی صادق آتا ہے اور جس پر واسطہ صادق آتا ہے اس پر معروض بھی صادق آتا ہے، جیسے جیسے انسان اور متعجب، ہر انسان کیا ہے؟ متعجب ہے تو جو انسان ہے وہ متعجب بھی ہے اور جو متعجب ہے وہ انسان بھی ہے، جس پر انسان صادق آئے گا اس پر متعجب بھی صادق آئے گا اور جس پر متعجب صادق آئے گا اس پر انسان بھی صادق آئے گا تو یہ مساوی ہیں ایک دوسرے کے۔ اور یہ متعجب دیکھو انسان کی حقیقت سے خارج ہے، انسان کی حقیقت تو حیوان ناطق ہے اس کے اندر تعجب کی کوئی قید ذکر نہیں، یہ تو تعجب واسطہ بنتا ہے اور اس کے واسطے سے دیکھو ضحک انسان کی صفت بن گئی۔ تو ضحک انسان کو لاحق ہوتا ہے کس کے واسطے سے؟ متعجب ہونے کے واسطے سے اور یہ متعجب ہونا انسان کی حقیقت سے خارج ہے اور امر مساوی ہے، متعجب کیا ہے انسان کے؟ امر مساوی ہے، جو انسان ہے وہ متعجب ہے اور جو متعجب ہے وہ انسان ہے تو ضحک انسان کو لاحق ہوتا ہے کس کے واسطے سے؟ تعجب کے واسطے سے اور تعجب کیا ہے انسان کے لیے امر مساوی ہے یعنی متعجب انسان کے لیے امر مساوی ہے۔ اور کبھی وہ امر مساوی جو ہوتا ہے جزء ہوتا ہے، متعجب تو انسان کی حقیقت سے خارج تھا لیکن کبھی وہ امر مساوی اس چیز کی حقیقت میں داخل ہوتا ہے جیسے نطق صفت بنتی ہے انسان کی ناطق کے واسطے سے، نطق کا معنی ہے بولنا، بولنا یا یوں کہیں کلیات کا ادراک کرنا۔ انسان ناطق ہے یہ بولنا بھی اس میں داخل اور مدرک کلیات ہے، انسان کیا کرتا ہے؟ کلیات کا ادراک کرتا ہے، تو بہرحال یہاں نطق کا معنی کر لیں بولنا، گفتگو کرنا۔ انسان کو اللہ نے ناطق بنایا ہے تو نطق انسان کی صفت ہے، نطق کیا ہے؟ انسان کی صفت ہے اور کس کے واسطے سے؟ ناطق کے واسطے سے، انسان ناطق ہے اس لیے نطق اس کی صفت بنی تو نطق انسان کی صفت ہے کس کے واسطے سے؟ ناطق کے واسطے سے اور یہ ناطق انسان کا جزء ہے اور اس کا امر مساوی ہے۔ انسان کی حقیقت کیا؟ حیوان ناطق، تو دیکھو ناطق انسان کا جزء ہے اور انسان کا امر مساوی ہے، اور کوئی چیز ناطق نہیں، جو انسان ہے وہ ناطق اور جو بھی ناطق ہوگا وہ کیا ہوگا؟ انسان ہوگا۔ تو جو امر مساوی ہے کبھی وہ جزء ہوتا ہے اور کبھی خارج، تو وہ عرض جو کسی چیز کو لاحق ہو امر مساوی کے واسطے سے وہ بھی عوارض ذاتیہ میں داخل ہے اور وہ امر مساوی کبھی داخل ہوتا ہے یعنی جزء ہوتا ہے ایک شئے کا اور کبھی اس سے خارج ہوتا ہے، جزء کی مثال جیسے نطق صفت ہے انسان کی کس کے واسطے سے؟ ناطق کے واسطے سے اور ناطق انسان کی حقیقت میں داخل ہے اور کبھی وہ امر مساوی معروض کی حقیقت سے خارج ہوتا ہے جیسے ضحک انسان کی صفت بنتا ہے تعجب کے واسطے سے اور تعجب کیا ہے انسان کی حقیقت اور ماہیت سے خارج ہے۔ جبکہ اس کے علاوہ باقی عوارض جو ہیں وہ عوارض غریبہ کہلاتے ہیں اور عوارض غریبہ وہ ہیں جو کسی چیز کو یعنی یوں کہیں معروض کو لاحق ہوتے ہیں بواسطة اعم کے یا اخص کے یا مباین کے، توجہ ہے؟ کتنی صورتیں؟ تین صورتیں ہیں بھئی، پھر اس تین میں پھر پھر سنیں۔ عوارض غریبہ وہ ہیں جو معروض کو لاحق ہوتے ہیں کسی اعم کے واسطے سے یا اخص کے واسطے سے یا مباین کے واسطے سے، اور پھر اعم کے واسطے سے جو لاحق ہوتے ہیں جو عوارض وہ پھر دو قسم پر ہیں، وہ واسطہ یا تو داخل ہوگا یعنی جزء ہوگا یا خارج ہوگا۔ توجہ ہے؟ تو چار صورتیں یہاں بن جاتی ہیں۔ تو عوارض غریبہ کی تعریف میں نے آپ کو کیا لکھوائی کہ عوارض غریبہ وہ عوارض ہیں جو کسی چیز کو عارض ہوتے ہیں کس کے واسطے سے؟ عوارض غریبہ جو کسی چیز کو اولاً اور بالذات اور کسی امر مساوی کے واسطے سے عارض اور لاحق نہ ہوں، وہ ہیں عوارض غریبہ اور وہ کتنی قسم پر؟ چار قسم پر، کیونکہ وہ عارض ہوں گے یا تو بواسطة اعم کے یا بواسطة اخص کے یا بواسطة مباین کے، اور جو بواسطة اعم کے عارض ہوتے ہیں وہ پھر دو قسم پر ہیں، یا وہ اعم یا تو جزء ہوگا یا خارج ہوگا تو کل چار قسمیں بن گئیں۔ تو وہ عارض جو بواسطة جزء اعم کے ہو وہ عارض جو بواسطة جزء بھی ہے اور اعم بھی ہے جیسے کہ ماشی انسان کی صفت ہے حیوان ہونے کے واسطے سے، انسان ماشی ہے اپنے پیروں پر چلتا ہے یا یوں کہیں انسان متحرک بالارادہ ہے۔ انسان کیا ہے؟ متحرک بالارادہ ہے اور یہ حیوان کے واسطے سے کیونکہ انسان کی حقیقت کیا ہے؟ حیوان ناطق، تو اس کا ایک جزء حیوان ہے اور حیوان کسے کہتے ہیں؟ جسم نام حساس متحرک بالارادہ، جسم بھی ہو، نامی ہو یعنی بڑھنے والا ہو، حساس ہو چیزوں کو محسوس کرتا ہے اور متحرک بالارادہ ہو۔ تو یہ چار چیزیں حیوان میں ہوتی ہیں تو ان میں ایک چیز کیا ہے؟ متحرک بالارادہ، معلوم ہوا جو بھی حیوان ہوگا وہ متحرک بالارادہ اور انسان کی حقیقت کیا؟ حیوان ناطق، تو انسان کا ایک جزء کیا ہوا؟ حیوان اور ہر حیوان کیا ہوتا ہے؟ متحرک بالارادہ، تو انسان بھی متحرک بالارادہ ہے اور یہ متحرک بالارادہ انسان کس کے واسطے سے ہے؟ حیوان کے واسطے سے اور یہ حیوان کیا ہے؟ انسان کا جزء اعم ہے۔ یعنی صرف انسان میں نہیں پایا جاتا، یہ جزء اور حیوانات میں بھی پایا جاتا ہے۔ ایک جزء ہے انسان کا ناطق وہ انسان کا امر مساوی ہے اور دوسرا جزء ہے حیوان اور یہ انسان کا جزء اعم ہے جو انسان کے علاوہ اور حیوانات میں بھی پایا جاتا ہے۔ تو وہ عارض جو بواسطة جزء اعم کے ہو جیسے حرکت بالارادہ انسان کو یہ صفت عارض ہوتی ہے حیوان کے واسطے سے جو انسان کا جزء اعم ہے۔ اور کبھی کبھی جو عارض ہوگی وہ بواسطة خارج اعم کے ہوگی، وہ صفت عارض ہوگی کس کے واسطے سے؟ خارج اعم کے واسطے سے، جیسے جیسے حرکت لاحق ہوتی ہے ابیض کو بواسطة جسم ہونے کے۔ یاد رکھو ہر جسم جو ہے وہ قابل حرکت اور قابل سکون ہے یعنی وہ حرکت کو بھی قبول کر لیتا ہے اور سکون کو بھی قبول کر لیتا ہے یعنی ساکن ہو جاتا ہے۔ تو ہر جسم کیا ہے؟ قابل حرکت بھی ہے اور قابل سکون بھی ہے۔ تو لہٰذا ابیض، ابیض کوئی چیز جو سفید ہو، سفید ہو اور ابھی میں نے بتایا کہ یہ جو رنگ ہیں ان کا اپنا الگ وجود نہیں یہ کسی چیز کی صفت بنتے ہیں تو ابیض کوئی چیز ہوگی اس کی صفت سفیدی ہوگی تو ابیض جو ہے ابیض اس کا جسم ہوگا، کیا ہوگا؟ جسم ہوگا، جب اس کا جسم ہے اور ہر جسم کیا ہے؟ قابلِ حرکت حرکت و سکون ہے، تو یہ حرکت ابیض یعنی سفید چیز کی صفت بنی، کس کے واسطے سے؟ جسم ہونے کے واسطے سے۔ اور جسم، یہ ابیض سے اعم ہے۔ جسم صرف سفید ہوتا ہے یا ہر رنگ کا ہو سکتا ہے؟ ہر رنگ کا جسم ہو سکتا ہے، تو جسم اعم ہے۔ جسم کیا ہے، ابیض سے اعم ہے، تو یہ دیکھو، ابیض کی صفت بنی حرکت۔ ایک یاد رکھو، ایک ہے حرکت بالارادہ، ایک ہے ویسے حرکت۔ حیوانات جو ہیں، وہ متحرک بالارادہ ہوتے ہیں، یعنی اپنے ارادے سے حرکت کرتے ہیں۔ اپ جس طرف اپ کا دل کرتا ہے، اپ اس طرف چلتے ہیں، یا اپنے ہاتھ کو حرکت دیتے ہیں۔ تو انسان اور حیوانات وہ متحرک بالارادہ ہیں، اور ایک صرف حرکت ہے، وہ عام چیزوں میں بھی ہو سکتی ہے۔ مثلاً اپ پتھر کو حرکت دیتے ہیں، تو وہ حرکت کرے گا۔ تو یہ حرکت تو ہے، لیکن حرکت بالارادہ نہیں ہے بھئی۔ تو لہٰذا ابیض وہ متحرک ہوتا ہے، حرکت اس کی صفت بنتی ہے، لیکن کس کے واسطے سے؟ جسم کے واسطے سے، اور یہ جسم کیا ہے، ابیض سے اعم ہے، اور اس کی حقیقت سے خارج ہے بھئی۔ اس کی حقیقت سے خارج ہے۔ تو یہ عارض ہے بواسطة خارج اعم کے۔ اور کبھی کوئی صفت عارض ہوگی بواسطة بواسطة خارج اخص کے۔ بواسطة خارج اخص کے، جیسے دیکھو، ضحک اور نطق صفت بنتی ہے حیوان کی۔ انسان ضاحک بھی ہے اور ناطق بھی ہے۔ اور انسان حیوان بھی ہے، تو گویا یوں کہو کہ بعض حیوان ناطق بھی ہیں اور ضاحک بھی ہیں۔ تو حیوان کی صفت نطق اور ضحک بن گئے، لیکن کس کے واسطے سے؟ انسان کے واسطے سے بھئی، اور انسان کیا ہے، حیوان سے اخص ہے بھئی۔ اور حیوان کی حقیقت سے خارج ہے بھئی۔ کیا حیوان کی جب تعریف کرتے ہیں، تو اس میں انسان کی، انسان کا ذکر اتا ہے؟ حیوان کی تعریف تو کیا ہے، جِسْمٌ نَامٍ حَسَّاسٌ مُتَحَرِّكٌ بِالْإِرَادَةِ۔ دیکھو، اس میں کوئی انسان کی حقیقت اس کے اندر نہیں اتی بھئی۔ تو نطق اور ضحک حیوان کی صفت بنتی ہے، کس کے واسطے سے؟ انسان کے واسطے سے۔ تو یہ عارض ہے بواسطة، بواسطة خارج اخص کے۔ اور کبھی عارض ہوگا بواسطة خارج مباین کے، یعنی امر مباین کے ذریعے۔ جیسے حرارت صفت بنتی ہے پانی کی اگ کے واسطے سے۔ پانی کو اگ پر گرم کریں، تو وہ پانی گرم ہو جاتا ہے۔ تو حرارت پانی کی صفت بن گئی، لیکن کس کے واسطے سے؟ اگ کے واسطے سے، اور اگ اور پانی، یہ دونوں ایک دوسرے کے مباین ہیں۔ جو پانی ہے، وہ اگ نہیں، اور جو اگ ہے، وہ پانی نہیں۔ کسی جگہ یہ دونوں جمع ہوتے ہیں؟ ایک ہی چیز پانی بھی اس کو کہیں اور اگ بھی کہیں، ایسا ہے؟ نہیں، تو یہ دونوں ایک دوسرے کے مباین ہیں۔ تو دیکھا، کبھی جو واسطہ ہوگا، وہ اعم ہوتا ہے، کبھی اخص ہوتا ہے، اور کبھی مباین ہوتا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں اگئی؟ اب یاد رکھنا، کسی علم کے اندر موضوع کے عوارض ذاتیہ سے بحث کی جاتی ہے۔ اور عوارض ذاتیہ وہ ہیں، جو کسی چیز کو عارض ہوتے ہیں بلا واسطہ یا کسی امر مساوی کے ذریعے۔ تو یہ اس کے مخصوص احوال ہیں۔ ان کے بارے میں اس علم میں بحث کی جائے گی، اور باقی جو عوارض غریبہ ہیں، یاد رکھو، یہ حقیقت، یہ دیکھنے میں تو یوں لگتا ہے، شاید یہ معروض کے احوال ہیں، لیکن اپ غور کریں، تو اپ کو علم ہوگا، یہ دراصل واسطے کے احوال ہیں، معروض کے احوال نہیں۔ تو یہ جو عوارض غریبہ جو ہوتے ہیں، یہ دراصل اس واسطے کے احوال ہوتے ہیں۔ اس کے اعراض ہوتے ہیں، وہ معروض کے احوال نہیں ہوتے۔ تو عوارض ذاتیہ کیا ہوتے ہیں؟ اس کے معروض کے احوال ہوتے ہیں، اس لیے ان سے اس علم میں بحث کی جاتی ہے۔ اس یوں کہیں، عوارض ذاتیہ موضوع کے مخصوص احوال ہوتے ہیں، یعنی اسی کے ساتھ جو خاص ہوتے ہیں، اور کسی علم کے اندر بھی موضوع کے احوالِ مخصوصہ سے بحث کی جاتی ہے۔ اور احوالِ عامہ کے ساتھ بحث نہیں کی جاتی، وہ تو اور چیزوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ اور یہ جو عوارض غریبہ ہوتے ہیں، یہ دراصل اس موضوع کے احوال نہیں ہیں، بلکہ واسطے کے احوال ہیں۔ تو وہ واسطہ جس علم کا موضوع ہوگا، وہاں تو ان احوال کو ذکر کریں گے، یہاں پر ذکر نہیں کریں گے۔ بات سمجھ میں اگئی؟ مثلاً مثلاً ایک علم کا موضوع ہے ابیض۔ ایک علم کا موضوع کیا، ابیض۔ اس علم کے اندر اپ ابیض کی صفتِ ابیض کی صفت کہ وہ متحرک بھی ہے، تو اس متحرک ہونے کو بحث کی بحث نہیں کریں گے۔ کیونکہ متحرک ہونا، یہ دراصل ابیض کی صفت نہیں ہے، بلکہ کس کی صفت ہے؟ وہ جو واسطہ ہے، یعنی جسم جو ہے، ہر جسم کیا ہوتا ہے، قابلِ حرکت اور قابلِ سکون۔ لہٰذا جس علم کا موضوع جسم ہوگا، اس میں تو حرکت کے بارے میں بحث کی جائے گی۔ کیونکہ حرکت جسم کی صفت ہے، بات سمجھ میں اگئی؟ لیکن جس علم کا موضوع ابیض ہو، اس میں حرکت کے بارے میں بحث نہیں ہوگی۔ اچھا، تو یہ تھے بھئی عوارض ذاتیہ اور عوارض غریبہ۔ اب دیکھیے بھئی کتاب پر۔ کہتے ہیں، خَاتِمَةٌ، أَيْ هٰذِهِ خَاتِمَةٌ، اس کو خبر بنا سکتے ہیں اپ مبتدا کے لیے۔ مبتدا هٰذِهِ ہے، اور خَاتِمَةٌ کیا ہے؟ خبر ہے۔ یا اپ اس کو مفعول بنا لیں اِقْرَأْ فعل کے لیے۔ اس صورت میں اس پر نصب پڑھیں گے، اِقْرَأْ خَاتِمَةً، خاتمہ پڑھیے، مفعول بنے گا۔ یا تیسری صورت ہے کہ کوئی ترکیب نہیں بھئی، یہ عنوان ہے۔ یہ کیا ہے؟ عنوان ہے، کوئی ترکیب نہیں، لہٰذا نہ اس پر رفع پڑھ سکتے ہیں، نہ نصب اور نہ جر بھئی۔ کہتے ہیں، أَجْزَاءُ الْعُلُومِ ثَلَاثَةٌ، علوم کے اجزاء تین ہیں۔ اَلْمَوْضُوعَاتُ، ایک موضوعات ہیں، وَهِيَ الَّتِي يُطْلَبُ فِي الْعِلْمِ، میری کتاب میں يُطْلَبُ ہے بھئی، يُطْلَبُ نہیں، يُبْحَثُ ہونا چاہیے بھئی، يُبْحَثُ۔ کہتے ہیں، موضوعات جو ہیں، وَهِيَ الَّتِي يُبْحَثُ فِي الْعِلْمِ عَنْ أَعْرَاضِهَا الذَّاتِيَّةِ، موضوعات وہ ہوتے ہیں کہ بحث کی جاتی ہے اس علم میں ان کے اعراضِ ذاتیہ سے۔ کسی علم کے موضوعات وہ چیزیں ہیں، جن کے اعراضِ ذاتیہ سے اس علم میں بحث کی جاتی ہے۔ جن کے اعراضِ ذاتیہ سے اس علم میں بحث کی جاتی ہو، وہ اس علم کے موضوعات ہیں بھئی، موضوعات۔ جیسے میں نے بتایا، علمِ نحو کا موضوع کیا ہے؟ کلمہ اور کلام۔ علمِ منطق کا موضوع کیا ہے؟ معرف اور حجت۔ علمِ طب جو ہے، یعنی جو ڈاکٹری کا علم ہے، اس کا موضوع ہے بدنِ انسانی۔ یا جیسے تفسیر کا موضوع ہے قرآن۔ اور یا جیسے علمِ حدیث کا موضوع جو ہے، وہ حضور علیہ السلام کے اقوال، افعال اور تقریرات ہیں بھئی۔ اور جیسے علمِ حساب کا موضوع جو ہے، وہ عدد ہے، عدد۔ اور جیسے علمِ ہندسہ جو ہے، علمِ ہندسہ کا موضوع جو ہے، وہ مقدار ہے بھئی، مقدار۔ مقدارِ متصل بھئی۔ بات سمجھ میں ارہی ہے؟ ایک ہے مقدارِ متصل، ایک ہے منفصل۔ مقدارِ متصل وہ علمِ ہندسہ کا موضوع ہے، اور مقدارِ منفصل یعنی عدد، عدد وہ علمِ حساب کا موضوع ہے۔ تو علوم کے اجزاء جو ہیں، تین ہیں بھئی۔ اور وہ ہیں موضوعات، مبادی اور مسائل۔ اور میں نے بتایا، علوم سے مراد وہ علوم ہیں جو مدون ہیں، جن کی تدوین کی گئی ہے، یعنی جن کو کتابی صورت میں جمع کیا گیا ہے، یعنی قلمبند کیا گیا ہے۔ تمام علوم مراد نہیں، تو ان علوم کے تین اجزاء ہیں بھئی، موضوعات، مبادی اور مسائل بھئی۔ موضوعات جمع لے کر آئے بھئی، اپ کہیں گے علم کا موضوع تو ایک چیز ہوتی ہے۔ نہیں، ایک چیز تو ضروری نہیں، جیسے دیکھو، علمِ نحو کا موضوع کیا ہے؟ کلمہ اور کلام۔ اسی طرح منطق کا موضوع کیا ہے؟ معرف اور حجت۔ تو موضوعات لے کر آئے، اور جبکہ بعض علوم کا موضوع ایک ہوتا ہے، یا کبھی مرکب ہوتا ہے۔ تو جمع لے کر آئے، تاکہ اس علم کا موضوع اور اسی طرح اس کے مسائل کا جو موضوع ہے، وہ بھی اس میں شامل ہو جائے۔ جو آگے مسائل آئیں گے بھئی، اس علم کے مسائل ہوتے ہیں، اور اپ کو بتائیں گے مسائل ان قضایا کا نام ہے، جو آگے ذکر ہوں گے۔ اس علم کے اندر جو قضیے ذکر ہوں گے، وہ اس علم کے مسائل ہیں، جو اس علم میں مطلوب ہوتے ہیں۔ اور قضیہ اپ جانتے ہیں، اس میں ایک موضوع ہوتا ہے اور ایک محمول۔ زَيْدٌ قَائِمٌ، زَيْدٌ کیا ہے، موضوع، اور قَائِمٌ محمول۔ تو اس علم کے جو مسائل ہیں، وہ قضایا جو اس علم میں مطلوب ہوتے ہیں، جن کی خاطر وہ فن اور علم پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے۔ تو علم کے مسائل کن چیز کا نام ہے؟ ان قضایا کا نام ہے، اور ان کے بھی موضوع ہوں گے اور محمول۔ تو یہاں موضوعات جمع کا لفظ لے کر آئے، تاکہ یہ شامل ہو جائے اس علم کا جو موضوع ہے، اور اس کے مسائل کا جو موضوع ہے سب کو بھئی۔ اس علم کا موضوع ہو، یا اس علم کے مسائل کا موضوع، سب کو شامل ہوا کہ اس علم کے اندر یہ ان کے اعراضِ ذاتیہ سے بحث کی جاتی ہے۔ یا جمع اس لیے لے کر آئے، کیونکہ موضوعات سے مراد ہے، مَا يَصْدُقُ عَلَيْهِ مَوْضُوعُ الْعِلْمِ۔ موضوعات سے کیا مراد ہے؟ توجہ سے بھئی، مَا يَصْدُقُ عَلَيْهِ مَوْضُوعُ الْعِلْمِ، جس پر علم کا موضوع صادق آئے، اور وہ چیزیں تو جمع ہیں، ظاہر سی بات ہے۔ جیسے علمِ نحو کا موضوع کیا؟ کلمہ اور کلام۔ جی، زید بھی کیا ہے؟ کلمہ۔ اور بكر بھی کیا ہے؟ کلمہ۔ اور اسی طرح مثلاً اسم بھی کیا ہے؟ کلمہ۔ فعل بھی کیا ہے؟ کلمہ۔ یہ جو عربی کے جتنے الفاظ ہیں، وہ کیا ہیں؟ کلمات ہیں، اور یہ سب علمِ نحو کا موضوع ہیں۔ جیسے منطق کا موضوع کیا؟ معرف اور حجت۔ معرف کس کو کہتے ہیں؟ وہ معلوم تصورات جو ہمیں کہاں تک پہنچائیں؟ مجہول تصور تک۔ تو دیکھو، معلوم تصورات، جمع ہے یا نہیں؟ تو ان میں سے ہر ایک کیا ہے، اس علم کا موضوع ہے۔ تو موضوع ہوا یا موضوعات ہو گئے؟ ہر معلوم تصور علمِ منطق کا موضوع ہے اس حیثیت سے کہ وہ کہاں تک پہنچائے؟ مجہول تصور تک۔ اسی طرح تمام معلوم تصدیقات وہ کیا ہوئیں، علمِ منطق کا موضوع ہوئیں اس حیثیت سے کہ وہ کہاں تک پہنچانے والی ہوں؟ مجہول تصدیق تک بھئی۔ تو تمام معلوم تصورات اور تمام معلوم تصدیقات، یہ کیا ہوئیں علمِ منطق کا موضوع۔ اور یہ ایک چیز ہوئی یا زیادہ ہو گئیں؟ زیادہ ہو گئیں، تو اس لیے کہا موضوعات، یعنی مَا يَصْدُقُ عَلَيْهِ مَوْضُوعُ الْعِلْمِ۔ جس پر موضوعُ العلم صادق ا سکے۔ بائی دیکھو، یہ ادھر دیکھیے۔ یہ دیکھو، یہ دو تصور ہیں معلوم، یہ ہمیں ایک مجہول تصور تک پہنچا رہے ہیں۔ تو یہ کیا ہیں، علمِ منطق کا موضوع۔ پھر اسی طرح یہ دو اور تصور ہیں، یہ بھی ہمیں مجہول تصور تک پہنچا رہے ہیں، یہ بھی کیا ہیں، علمِ منطق کا موضوع۔ یہ دو اور تصورات ہیں، یہ بھی کہاں تک پہنچا رہے ہیں؟ مجہول تک، یہ بھی کیا ہے، علمِ منطق کا موضوع۔ تو ان سب پر منطق کا موضوع ہونا صادق اتا ہے، اس لیے موضوعات لے کر آئے۔ یہ ایک تصور ہے یا زیادہ ہیں؟ زیادہ ہیں۔ موضوعات سے کیا مراد؟ دو باتیں میں نے ذکر کر دیں۔ جمع لائے دو وجہ سے۔ یا تو موضوعات جمع اس لیے لائے، تاکہ اس علم کے موضوع کو بھی شامل ہو، اور اس علم کے جو آگے مسائل ذکر ہوں گے، ان مسائل کے اندر جو موضوعات ہو ذکر ہوں گے، اور جن کے بارے میں بات کی جائے گی، وہ بھی اس میں شامل ہوں۔ تو موضوع عام ہے، اس علم کا موضوع بھی، اور اس علم کے مسائل کا بھی موضوع، تو یہ جمع۔ یا موضوعات سے کیا مراد ہے؟ مَا يَصْدُقُ عَلَيْهِ مَوْضُوعُ الْعِلْمِ، جس پر علم کا موضوع صادق ا سکے، اور ہر معلوم تصور پر صادق اتا ہے، وہ کیا ہے، علمِ منطق کا موضوع ہے جب وہ مجہول تک پہنچائے بھئی۔ تو اس اعتبار سے یہ جمع بن گئی۔ تو کہتے ہیں، کسی علم کے موضوعات وہ امور ہوتے ہیں کہ جن کے اعراضِ ذاتیہ سے اس علم میں بحث کی جائے۔ دوسری چیز ہے مبادی، مبادی۔ یاد رکھو، مبادی وہ چیزیں ہیں، جن پر کسی علم کے مسائل جو ہیں، موقوف ہوتے ہیں۔ توجہ ہے؟ مبادی وہ چیزیں ہیں، جن پر کسی علم کے مسائل موقوف ہوتے ہیں۔ وہ چیزیں اپ کو سمجھ میں آئیں گی، تو اس علم کے مسائل بھی سمجھ میں آئیں گے۔ اگر وہ چیزیں نہیں سمجھ میں آئیں گی، تو علم کے مسائل بھی سمجھ میں نہیں آئیں گے۔ توجہ ہے؟ مبادی کسے کہتے ہیں؟ وہ چیزیں جن پر کسی علم کے مسائل موقوف ہوتے ہیں۔ اور یاد رکھنا، یہ مبادی تصور کی قبیل سے بھی ہو سکتے ہیں اور تصدیق کی قبیل سے بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ مبادی تصور کی قبیل سے ہوئے، تو ان کو مبادیِ تصوریہ کہیں گے، اور اگر یہ تصدیق کی قبیل سے ہوئے، تو ان کو مبادیِ تصدیقیہ کہیں گے۔ مبادیِ تصوریہ بھئی یاد رکھو، وہ تعریفات کا نام ہے۔ کس کا نام ہے؟ تعریف بھئی، اپ جانتے ہیں معرف۔ معرف کس کو کہتے ہیں؟ وہ معلوم تصورات جو ہمیں کہاں تک پہنچائیں؟ مجہول تک، معلوم ہوا معرف ہمیشہ کیا ہوگا؟ تصور ہوگا، کیا ہوگا؟ تصور ہوگا بھئی۔ تو مبادیِ تصوریہ جو ہیں، وہ تعریفات کا نام ہے۔ کس چیز کی تعریفات؟ آگے اپ کو بتلائیں گے۔ کہ موضوعات کی تعریف، اور اگر موضوعات مرکب ہوں، تو ان کے اجزاء کی تعریف، اور اسی طرح ان کے اعراض جو ان کی صفات ہیں، ان کی تعریف، یہ سب مبادیِ تصوریہ میں داخل ہیں۔ کس کے اندر داخل ہیں؟ مبادیِ تصوریہ میں داخل ہیں۔ پھر سنو۔ کسی علم کے اجزاء تین چیزیں ہیں، نمبر ایک: موضوعات، اور نمبر دو: مبادی، اور نمبر تین: مسائل۔ موضوعات کے بارے میں بتلا دیا کہ موضوعات وہ امور ہیں جن کے عوارضِ ذاتیہ سے کسی علم میں بحث کی جائے۔ اور مبادی میں نے بتایا وہ چیزیں ہیں جن پر کسی علم کے مسائل موقوف ہوتے ہیں۔ یہ مبادی سمجھ میں آئیں گے، تو مسائل سمجھ میں آئیں گے، یہ مبادی سمجھ میں نہیں آئیں گے، تو مسائل بھی سمجھ میں نہیں آئیں گے۔ اور یہ مبادی جو ہیں، یہ تصور بھی ہو سکتے ہیں اور تصدیق بھی ہو سکتے ہیں۔ تصور ہوں، تو جیسے اس علم کے موضوعات کی تعریف کہ وہ کہتے کسے ہیں، ان کی تعریف کی جاتی ہے۔ اگر وہ علم کے موضوع مرکب ہے، تو اس کے اجزاء کی تعریف کی جاتی ہے۔ اور اس کے اسی طرح اس کے اعراض کی تعریف کی جاتی ہے۔ اس کی جو صفات ہوتے ہیں، عوارض ہوتے ہیں، ان کی تعریف کی جاتی ہے۔ اور معرف اور تعریف، یہ کس قبیل سے ہیں؟ تصور کی قبیل سے، تو یہ مبادیِ تصوریہ ہوئے۔ اور کچھ مبادیِ تصدیقیہ ہیں، جن پر علم کے دلائل کی بنیاد ہوتی ہے۔ دیکھیے، یہ آگے خود ذکر کر رہے ہیں۔ دیکھیے کتاب پر۔ کہتے ہیں، وَالْمَبَادِئُ وَهِيَ حُدُودُ الْمَوْضُوعَاتِ، اور مبادی جو ہیں، یہ موضوعات کی تعریفیں ہیں۔ حدود کا اصل سے مراد ہے تعریف بھئی۔ معرف بھئی۔ بھئی اپ کو علمِ نحو میں بتایا جائے گا، اَلْكَلِمَةُ إِمَّا اسْمٌ أَوْ فِعْلٌ أَوْ حَرْفٌ، کہ کلمہ یا اسم ہوگا، یا فعل ہوگا، یا حرف۔ تو دیکھو، یہ ایک قضیہ ہے، یہ ایک قضیہ ہے۔ اس کے اندر اَلْكَلِمَةُ ہے موضوع۔ اور اسْمٌ أَوْ فِعْلٌ أَوْ حَرْفٌ، یہ کیا ہے، محمول ہے۔ توجہ ہے؟ ایک جملہ میں اپ کے سامنے ذکر کرتا ہوں، مثلاً علمِ نحو میں اپ کو بتلایا جاتا ہے، اَلْكَلِمَةُ إِمَّا اسْمٌ أَوْ فِعْلٌ أَوْ حَرْفٌ۔ اَلْكَلِمَةُ ہوا مبتدا، اور آگے پوری کیا ہے، خبر۔ یعنی اَلْكَلِمَةُ ہوا موضوع، اور آگے محمول ہے۔ تو اَلْكَلِمَةُ ہوا موضوع۔ تو کلمہ اسم ہوگا، یا فعل ہوگا، یا حرف ہوگا۔ بھئی پہلے ہمیں کلمے کے بارے میں بھی بتائیں کہ کلمہ کہتے کس کو ہیں؟ تو کلمہ کی تعریف کرنی پڑے گی یا نہیں کرنی پڑے گی؟ تو یہ ہے حُدُودُ الْمَوْضُوعَاتِ۔ موضوعات کی تعریف کی جاتی ہے جو اس علم کا موضوع ہوتا ہے، یا اس علم کے مسائل کے جو موضوعات ہوتے ہیں، ان کی تعریف کی جاتی ہے۔ جب تعریف اس کی پہچان ہوگی، اس کی پہچان ہوگی، تو آگے اور اس کے بارے میں جو بات کی جائے گی، وہ بھی اپ کو سمجھ میں آئے گی۔ اپ کو اَلْكَلِمَةُ کا پتہ ہوگا، تبھی اپ کو یہ بھی سمجھ میں آئے گا کہ وہ اسم بھی ہو سکتا ہے، فعل بھی ہو سکتا ہے، اور حرف بھی ہو سکتا ہے۔ اگر اپ کو کلمہ کا پتہ ہی نہیں ہے، اور اپ کو کہا جائے کہ اَلْكَلِمَةُ اسْمٌ أَوْ فِعْلٌ أَوْ حَرْفٌ، تو بات اپ کو سمجھ میں نہیں آئے گی۔ لہٰذا مبادی کے اندر کیا کیا جاتا ہے؟ اس علم کے موضوع یا اس کے مسائل کے جو موضوع ہیں، ان کی تعریفات کی جاتی ہیں، ان کی پہچان کروائی جاتی ہے۔ تعریف کا کیا فائدہ ہوتا ہے؟ ایک تصورِ مجہول جو تھا پہلے، اب وہ اپ کو معلوم ہو گیا۔ اپ کو پتہ نہیں تھا کہ کلمہ کسے کہتے ہیں، نحو میں تعریف کی گئی، اَلْكَلِمَةُ لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ۔ یہ تعریف کی گئی، اب اپ کو پتہ چل گیا، اچھا، کلمہ کس کا نام ہے؟ ایسا لفظ ہے جس میں وضع ہوگی، جس کو کسی معنی کے لیے مقرر کیا گیا ہوگا، اور وہ مفرد ہوگا بھئی۔ اَلْكَلِمَةُ لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ، تو کلمہ اپ کو تب کلمہ سمجھ میں آیا۔ کیا کیا چیزیں ملائیں؟ لفظ کو ملایا، وضع کو ملایا، معنی کو ملایا، اور مفرد۔ یہ چار تصورات کو ملایا، تو اپ کو کلمہ کا تصور حاصل ہو گیا۔ کلمہ کی اپ کو پہچان ہو گئی۔ اب جب پہچان ہو گئی، اب آگے چل کر اپ کو بتاتے ہیں، اَلْكَلِمَةُ اسْمٌ أَوْ فِعْلٌ أَوْ حَرْفٌ۔ اب یہ بات بھی اپ کو سمجھ میں آئے گی۔ تو لہٰذا کیا کیا جاتا ہے مبادی کے اندر؟ اس علم کے جو موضوعات ہوتے ہیں، ان کی تعریف کی جاتی ہے۔ اور اگر ان کے کوئی اجزاء ہوں، تو ان کی بھی تعریف کی جاتی ہے۔ کبھی کبھی موضوع مرکب ہوتا ہے۔ کبھی کسی علم کا موضوع مرکب ہوتا ہے، جیسے علمِ منطق کا موضوع کیا ہے؟ معرف اور حجت۔ دیکھو، یہ دو چیزیں ہیں، دونوں چیزیں علمِ منطق کا موضوع ہیں۔ تو معرف کی الگ تعریف کرنی پڑے گی، اور حجت کی الگ تعریف کرنا پڑے گی۔ تو موضوعات کی تعریف کی جاتی ہے مبادی کے اندر۔ اسی طرح ان کے اجزاء کی بھی تعریف کی جاتی ہے، یا دوسری مثال لے لیں، جیسے علمِ اصولِ فقہ۔ علمِ اصولِ فقہ جو ہے، اس کا موضوع ادلہ شرعیہ ہیں۔ شرعی دلیلیں بھئی، اور شرعی ادلہ اپ جانتے ہیں چار چیزیں ہیں، کتاب اللہ، سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، اجماع اور قیاس۔ یہ چار ہیں ادلہ شرعیہ بھئی۔ تو دیکھو، علمِ اصولِ فقہ کا موضوع جو ہے، وہ مرکب ہے۔ وہ مرکب ہے چار چیزوں سے، تو ان میں سے ہر ایک کی علیحدہ علیحدہ تعریف کرتے ہیں۔ اصولِ فقہ میں اپ پڑھتے ہیں یا نہیں؟ کتاب اللہ کی الگ تعریف کرتے ہیں، سنت کی الگ تعریف کرتے ہیں، اجماع کی الگ تعریف کرتے ہیں، اور قیاس کی الگ تعریف کرتے ہیں۔ تو مبادیِ تصوریہ میں اس علم کے موضوعات کی بھی تعریف کی جاتی ہے، اور اگر اس موضوعات مرکب ہیں، ان کے اجزاء ہیں، تو اجزاء کی بھی کیا کی جاتی ہے، ان مبادی کے اندر ان کی تعریف کی جاتی ہے، ان کی پہچان کروائی جاتی ہے۔ اور اسی طرح ان کے اعراض کی بھی پہچان کروائی جاتی ہے۔ ان کی بھی تعریف کی جاتی ہے۔ کہ کلمہ کبھی کیا ہوگا؟ مرفوع ہوگا، کبھی منصوب ہوگا، اور کبھی مجرور ہوگا۔ تو بتلاتے ہیں کہ رفع کس کو کہتے ہیں، نصب کسے کہتے ہیں، اور جر کسے کہتے ہیں۔ دیکھو، کلمہ کی صفت ہے، کبھی وہ کیا ہوگا؟ مرفوع، کبھی منصوب، کبھی مجرور۔ تو رفع، نصب، جر، یہ کلمہ کے عوارض ہیں، اعراض ہیں بھئی، اعراضِ ذاتیہ۔ توجہ ہے؟ یہ کلمہ کے اعراضِ ذاتیہ ہیں بھئی، اور ان کی بھی تعریف کی جاتی ہے بھئی۔ یا اسی طرح علمِ منطق کا موضوع ہے معرف اور حجت۔ اور معرف کس سے مرکب ہوتا ہے؟ تصورات سے، اور حجت کس سے مرکب ہوتی ہے؟ تصدیقات سے۔ اور یہ تصور اور تصدیق جو ہیں، یہ پھر دو قسم پر ہیں۔ کبھی یہ بدیہی ہوں گے اور کبھی نظری ہوں گے۔ تو بدیہی اور نظری ہونا، یہ دیکھو تصور اور تصدیق کے عوارض میں سے ہے۔ کس میں سے ہے؟ عوارض میں سے ہے۔ تو اپ کو وہاں علمِ منطق میں بتاتے ہیں، بدیہی کسے کہتے ہیں اور نظری کسے کہتے ہیں۔ تو مبادی کے اندر مبادیِ تصوریہ جو ہیں، اس علم کے موضوعات کی بھی تعریف کی جاتی ہے تاکہ ان کا تصور اپ کو حاصل ہو جائے۔ اور اگر وہ موضوعات مرکب ہیں، تو ان کے اجزاء کی تعریف کی جاتی ہے۔ اور اسی طرح ان کے اعراض کی بھی تعریف کی جاتی ہے، کیونکہ آگے مسائل میں انہی کے بارے میں بحث کرنی ہے۔ انہی کو موضوع وغیرہ بنانا ہے۔ اگر اپ کو ان چیزوں کا تصور حاصل ہوگا، تو پھر ہی اپ کو وہ مسائل بھی سمجھ میں آئیں گے۔ اگر اپ کو رفع، نصب، جر کا پتہ ہوگا، تو آگے مسائل میں جا کر اپ کو بتلائیں گے، مثلاً کہ رفع جو ہے، کبھی ضمہ کے ساتھ اتا ہے، کبھی رفع الف کے ساتھ اتا ہے، کبھی رفع واؤ کے ساتھ اتا ہے۔ دیکھو، یہ دیکھو، رفع، یہ موضوع ہے، اور اس کے آگے تفصیل بیان ہو رہی ہے۔ تو رفعے کا پتہ ہوگا، تو آگے اپ کو باقی باتیں بھی سمجھ میں آئیں گی بھئی۔ تو مبادی وہ باتیں جن پر اس علم کے مسائل کا دارومدار ہوتا ہے۔ یعنی ان پر علم کے مسائل موقوف ہوتے ہیں۔ مبادی سمجھ میں آئیں گے، تو علم کے مسائل سمجھ میں آئیں گے۔ اور وہ مبادی دو قسم کے، یا وہ مبادی تصور ہوں گے یا تصدیق۔ تصور ہوں، تو اس میں کیا کیا شامل؟ اس علم کے موضوعات کی تعریف، اور ان موضوعات کے اگر اجزاء ہیں، تو ان اجزاء کی تعریف، اور ان کے اعراضِ ذاتیہ کی تعریف بھئی۔ بات سمجھ میں اگئی؟ دیکھیے کتاب پر، کہتے ہیں، وَالْمَبَادِئُ وَهِيَ حُدُودُ الْمَوْضُوعَاتِ، مبادی جو ہیں، وہ موضوعات کی تعریفیں ہیں۔ وَأَجْزَائِهَا، یہ أَجْزَائِهَا اور اسی طرح آگے ہے وَأَعْرَاضِهَا۔ ان دونوں کا عطف ہے موضوعات پر۔ وَهِيَ حُدُودُ الْمَوْضُوعَاتِ، دونوں کا عطف اس الْمَوْضُوعَاتِ پر ہے، اور الْمَوْضُوعَاتِ پر حدود کا لفظ داخل ہو رہا ہے مضاف۔ تو یہ سب بھی گویا حدود کے تحت اگئے۔ تو گویا کلام یوں ہے، سنو بھئی۔ وَالْمَبَادِئُ وَهِيَ حُدُودُ الْمَوْضُوعَاتِ وَحُدُودُ أَجْزَائِهَا وَحُدُودُ أَعْرَاضِهَا، اور یہ جو مبادی ہوتے ہیں، یہ اس علم کے موضوعات کی تعریفیں، اور اسی طرح ان موضوعات کے اجزاء کی تعریفیں، وَأَعْرَاضِهَا، اور ان موضوعات کے جو اعراض ہیں، جو ان کی صفات ہیں، ان کی تعریفیں ہوتی ہیں۔ وَمُقَدَّمَاتٌ، اور کچھ مقدمات ہوتے ہیں۔ مبادی تصور بھی ہو سکتے ہیں اور تصدیق بھی۔ تصور بھی ہو سکتے ہیں، مثلاً موضوعات کی تعریفیں یا ان کے اجزاء کی تعریفیں یا ان کے اعراض کی تعریفیں۔ اور نیز یہ مبادی تصدیق بھی ہو سکتے ہیں، تو تصدیق ہوں، تو وہ کیا ہوں گے؟ وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ وَمُقَدَّمَاتٌ، اور یہ مبادی کچھ مقدمات ہوتے ہیں۔ دیکھو، یہ مقدمات کا عطف ہے حُدُودُ الْمَوْضُوعَاتِ پر۔ کس پر؟ تو کہتے ہیں، عبارت گویا یوں بن گئی، وَالْمَبَادِئُ وَهِيَ حُدُودُ الْمَوْضُوعَاتِ وَالْمَبَادِئُ وَهِيَ مُقَدَّمَاتٌ، اور مبادی جو ہیں، وہ کچھ مقدمات ہوتے ہیں، بَيِّنَةٌ أَوْ مَأْخُوذَةٌ، ایسے مقدمات جو بین ہوتے ہیں، واضح ہوتے ہیں، یعنی بدیہی ہوتے ہیں۔ ایسے مقدمات، یعنی ایسی تصدیقات جو کیا ہوتی ہیں؟ بدیہی ہوتی ہیں، أَوْ مَأْخُوذَةٌ، یا اخذ کی گئی ہوتی ہیں۔ یعنی کہ دلائل سے۔ کس سے اخذ کی گئی ہوتی ہیں؟ دلائل سے، مراد ہے نظری ہوتی ہیں۔ دلائل سے اسی چیز کو اخذ کیا جائے گا جو نظری ہوگی، بدیہی کے لیے دلیل کی ضرورت نہیں۔ تو ماخوذہ سے کیا مراد؟ وہ مقدمات جو نظری ہوں، اور بینہ سے کون سے مقدمات مراد جو بدیہی ہوں۔ تو کہتے ہیں، مبادی، وہ مُقَدَّمَاتٌ، کچھ ایسے مقدمات ہوتے ہیں، بَيِّنَةٌ أَوْ مَأْخُوذَةٌ، جو بدیہی ہوتے ہیں یا نظری ہوتے ہیں، يَبْتَنِي عَلَيْهَا قِيَاسَاتُ الْعِلْمِ، بنیاد ہوتی ہے ان پر علم کے دلائل کی۔ قِيَاسَاتُ الْعِلْمِ، أَيْ دَلَائِلُ الْعِلْمِ، قیاس کس کا نام ہے؟ دلیل کا نام ہے۔ قیاس کس کا نام؟ دلیل کا نام ہے۔ وہ دلیل ہے، اس کو مانیں گے، تو اپ کو اس کا نتیجہ بھی ماننا پڑے گا۔ تو مبادی ایسے مقدمات کا نام ہے جو بدیہی یا نظری ہوتے ہیں، وَيَبْتَنِي عَلَيْهَا قِيَاسَاتُ الْعِلْمِ، اور اس پر بنیاد ہوتی ہے علم کے دلائل کی۔ یعنی علم کے دلائل ان پر موقوف۔ علم کے دلائل ان پر موقوف ہوتے ہیں۔ یعنی ان سے علم کے مسائل، علم کے دلائل ان سے مرکب ہوتے ہیں۔ یہ مقدمات کیا بنتے ہیں؟ اس علم کے دلائل بنتے ہیں، جن کے ذریعے اس علم کے مسائل کو پھر ثابت کیا جاتا ہے۔ توجہ ہے؟ تو مبادی کس کا نام؟ وہ کچھ تصورات ہیں اور کچھ تصدیقات۔ تصورات کیا ہیں؟ اس علم کے موضوعات اور ان کے اجزاء اور ان کے اعراض کی تعریفات۔ اور کچھ تصدیقات ہیں، وہ تصدیقات کیا ہیں؟ کچھ مقدمات ہوتے ہیں جو بدیہی بھی ہوتے ہیں اور نظری بھی، اور ان پر اس علم کے دلائل کی بنیاد ہوتی ہے۔ کیا معنی دلائل کی بنیاد ہوتی ہے؟ یعنی ان سے علم کے دلائل مرکب ہوتے ہیں، انہی سے علم کے دلائل بنتے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں اگئی؟ آگے دیکھیے، وَالْمَسَائِلُ، اور تیسری چیز جو علم کے اجزاء میں داخل ہے، وہ مسائل ہیں۔ وَهِيَ قَضَايَا تُطْلَبُ فِي الْعِلْمِ، یہ ایسے قضیے ہیں، دیکھو قضایا نکرہ آیا، اور تُطْلَبُ اس کے بعد فعل ہے۔ تو فعل نکرہ کے بعد آئے، تو اس کی صفت بنتا ہے۔ وَهِيَ قَضَايَا، اور یہ جو مسائلِ علم ہوتے ہیں، هِيَ قَضَايَا، یہ ایسے قضیے ہوتے ہیں، تُطْلَبُ فِي الْعِلْمِ، جو مطلوب ہوتے ہیں علم میں۔ جو علم میں کیا ہوتے ہیں؟ مطلوب ہوتے ہیں، یعنی ان کو دلائل سے ثابت کیا جاتا ہے اس علم کے اندر۔ بھئی میں نے بتلایا تھا، نتیجے کا ایک نام کیا ہے؟ مطلوب ہے، کیونکہ اس کا اثبات مطلوب ہوتا ہے۔ اس کے لیے دلیل پیش کی جاتی ہے۔ تو مسائلِ علم کیا ہوتے ہیں؟ جو اس علم کے، وہ ایسے قضیے ہیں جو اس علم میں مطلوب ہوتے ہیں، یعنی جن کو دلائل سے ثابت کیا جاتا ہے۔ ان پر دلیلیں پیش کی جاتی ہیں اس علم کے اندر بھئی۔ اور انہی کے لیے اس علم کو پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے۔ یوں کہو، جو مسائل ہوتے ہیں اس علم کے، وہ مقصود ہوتے ہیں۔ وہ کیا ہوتے ہیں؟ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے مقصود ہوتے ہیں۔ وہ فن اور وہ علم اسی کے لیے پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے کہ ان مسائل کو ماننا جائے، ثابت کیا جائے بھئی۔ تو کہتے ہیں، وَالْمَسَائِلُ، میری کتاب میں اَلْمَسَائِلُ ہے بھئی، یہاں واؤ ہونا چاہیے بھئی، وَالْمَسَائِلُ، کیونکہ یہ تیسری چیز ہے بھئی۔ پہلی کیا؟ موضوعات، نمبر دو: وَالْمَبَادِئُ، اور نمبر تین: وَالْمَسَائِلُ۔ تو کہتے ہیں، وَالْمَسَائِلُ وَهِيَ قَضَايَا تُطْلَبُ فِي الْعِلْمِ، اور تیسری چیز جو ہے علم کے اجزاء میں سے، وہ مسائل ہیں۔ وَهِيَ قَضَايَا تُطْلَبُ فِي الْعِلْمِ، اور وہ ایسے قضیے ہوتے ہیں جو اس علم میں مطلوب ہوتے ہیں۔ یعنی مقصود بالذات ہوتے ہیں، اور انہی کی خاطر فن کو پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے، اور انہی پر دلائل پیش کر کے ان کو ثابت کیا جاتا ہے۔ اب انہوں نے کیا کہا؟ علم کے مسائل کس کا نام؟ قضیوں کا نام ہے۔ کس کا نام؟ قضیہ، اور قضیہ کے لیے ایک موضوع چاہیے اور ایک محمول چاہیے بھئی۔ موضوع چاہیے اور ایک محمول چاہیے، پھر ہی بات پوری ہوگی۔ اپ نے پڑھا تھا، قضیہ کس کو کہتے ہیں؟ جو صدق اور کذب کا احتمال رکھتا ہو۔ اور اس کے اندر جو محکوم علیہ ہے، اس کو موضوع کہتے ہیں، اور جو محکوم بہی ہوتا ہے، اس کو محمول کہتے ہیں۔ زَيْدٌ قَائِمٌ، زَيْدٌ کیا ہے؟ موضوع، اور قَائِمٌ کیا ہے؟ محمول۔ تو یہ جو علم کے مسائل ہیں، یہ بھی قضیہ ہوتے ہیں۔ اور آگے بتائیں گے، ان کا موضوع یہ یہ چیزیں بن سکتی، یہ یہ چیزیں ہوں گی، اور اس کا محمول یہ یہ چیزیں ہوں گی۔ بات سمجھ میں اگئی؟ تو یہ قضیوں کے موضوع کیا کیا چیزیں ہوں گی؟ یہ ذرا کاپی پر لکھ لیجیے، پھر ہی اپ کو بات سمجھ میں آئے گی بھئی۔ لکھیے بھئی، مسائلِ علم کے موضوعات۔ مسائلِ علم کے موضوعات۔ مسائلِ علم کس کا نام؟ ابھی بتایا، قضایا کا نام ہے۔ تو مسائلِ علم کے موضوعات، یعنی ان قضایا کے جو موضوعات ہیں۔ لکھ لیا؟ مسائلِ علم کے موضوعات پانچ قسم کے ہو سکتے ہیں۔ پانچ قسم کے ہو سکتے ہیں۔ مسائلِ علم کے موضوعات پانچ قسم کے ہو سکتے ہیں۔ نمبر ایک: نمبر ایک: اس علم کا موضوع اس علم کا موضوع وہی موضوع ہوگا ان مسائل کا وہی موضوع ہوگا اس علم کا موضوع وہی موضوع ہوگا ان مسائل، یعنی ان قضایا کا۔ ان مسائل، یعنی ان قضایا کا۔ جیسے اَلْكَلِمَةُ جیسے اَلْكَلِمَةُ إِمَّا اسْمٌ أَوْ فِعْلٌ أَوْ حَرْفٌ اَلْكَلِمَةُ إِمَّا اسْمٌ أَوْ فِعْلٌ أَوْ حَرْفٌ یا دوسری مثال بھی لکھ لیں، یا جیسے یا جیسے اَلْكَلِمَةُ یا جیسے اَلْكَلِمَةُ إِمَّا مُعْرَبٌ أَوْ مَبْنِيٌّ اَلْكَلِمَةُ إِمَّا مُعْرَبٌ أَوْ مَبْنِيٌّ نمبر دو: نمبر دو: موضوعِ علم کی موضوعِ علم کی کوئی خاص نوع جو ہے کوئی خاص نوع یعنی کوئی خاص قسم یعنی کوئی خاص قسم ان مسائل کا موضوع ہوگی۔ ان مسائل کا موضوع ہوگی۔ جیسے جیسے اَلِاسْمُ إِمَّا مُعْرَبٌ أَوْ مَبْنِيٌّ اَلِاسْمُ إِمَّا مُعْرَبٌ أَوْ مَبْنِيٌّ یا جیسے، دوسری مثال بھی لکھ لیں، یا جیسے اَلِاسْمُ إِمَّا مَرْفُوعٌ أَوْ مَنْصُوبٌ أَوْ مَجْرُورٌ اَلِاسْمُ إِمَّا مَرْفُوعٌ أَوْ مَنْصُوبٌ أَوْ مَجْرُورٌ نمبر تین: موضوعِ علم کا موضوعِ علم کا کوئی عرضِ ذاتی موضوعِ علم کا کوئی عرضِ ذاتی ان مسائل کا موضوع ہوگا۔ ان مسائل کا موضوع ہوگا۔ جیسے اَلْإِعْرَابُ إِمَّا اَلْإِعْرَابُ إِمَّا لَفْظِيٌّ لَفْظِيٌّ أَوْ تَقْدِيرِيٌّ أَوْ تَقْدِيرِيٌّ أَوْ مَحَلِّيٌّ أَوْ مَحَلِّيٌّ اَلْإِعْرَابُ إِمَّا لَفْظِيٌّ أَوْ تَقْدِيرِيٌّ أَوْ مَحَلِّيٌّ یا جیسے یا جیسے، دوسری مثال بھی لکھ لیں، یا جیسے اَلرَّفْعُ اَلرَّفْعُ إِمَّا بِالْحَرَكَةِ إِمَّا بِالْحَرَكَةِ أَوْ بِالْحَرْفِ أَوْ بِالْحَرْفِ جی، نمبر چار لکھیے آگے، چار نمبر۔ چار نمبر: اس علم کا موضوع اس علم کا موضوع جو مرکب ہو جو مرکب ہو اپنی کسی عرضِ ذاتی کے ساتھ اپنی کسی عرضِ ذاتی کے ساتھ وہ اس فن کے مسائل کا موضوع ہوگا۔ وہ اس فن کے مسائل کا موضوع ہوگا۔ جیسے كُلُّ كَلِمَةٍ مُعْرَبَةٍ كُلُّ كَلِمَةٍ مُعْرَبَةٍ إِمَّا مُنْصَرِفَةٌ أَوْ غَيْرُ مُنْصَرِفَةٍ إِمَّا مُنْصَرِفَةٌ، ص کے ساتھ ہے منصرفہ بھئی۔ إِمَّا مُنْصَرِفَةٌ أَوْ غَيْرُ مُنْصَرِفَةٍ، لکھ لیا؟ كُلُّ كَلِمَةٍ مُعْرَبَةٍ إِمَّا مُنْصَرِفَةٌ أَوْ غَيْرُ مُنْصَرِفَةٍ نمبر پانچ: نمبر پانچ: موضوعِ علم کی کوئی خاص قسم موضوعِ علم کی کوئی خاص قسم جو مرکب ہو اپنے عرضِ ذاتی کے ساتھ جو مرکب ہو اپنے عرضِ ذاتی کے ساتھ وہ موضوع ہوگی وہ موضوع ہوگی اس علم کے مسائل کا۔ اس علم کے مسائل کا۔ جیسے كُلُّ اسْمٍ جیسے كُلُّ اسْمٍ مُعْرَبٍ كُلُّ اسْمٍ مُعْرَبٍ إِمَّا مَرْفُوعٌ إِمَّا مَرْفُوعٌ أَوْ مَنْصُوبٌ أَوْ مَنْصُوبٌ، ص کے ساتھ ہے، أَوْ مَجْرُورٌ۔ أَوْ مَجْرُورٌ كُلُّ اسْمٍ مُعْرَبٍ إِمَّا مَرْفُوعٌ أَوْ مَنْصُوبٌ أَوْ مَجْرُورٌ، یا جیسے، دوسری مثال بھی لکھ لیں، یا جیسے كُلُّ اسْمٍ مُعْرَبٍ كُلُّ اسْمٍ مُعْرَبٍ إِمَّا مُنْصَرِفٌ أَوْ غَيْرُ مُنْصَرِفٍ إِمَّا مُنْصَرِفٌ أَوْ غَيْرُ مُنْصَرِفٍ لکھ لیا؟ جی، بحث مکمل ہوئی۔ ادھر دیکھیے، اب اس کو ذرا سمجھ لیں بھئی۔ علم کے مسائل کی بات آئی۔ انہوں نے بتلایا کہ علم کے مسائل کس کا نام ہے؟ وہ ایسے قضیے ہیں جو اس علم میں مطلوب ہوتے ہیں، یعنی جن پر دلائل پیش کر کے ان کو ثابت کیا جاتا ہے۔ اور وہ اس علم کا مقصود ہوتے ہیں، یعنی انہی کے لیے اس علم کو پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے۔ تو وہ قضیوں کا نام ہے، اور قضیے میں ایک موضوع ہوتا ہے اور ایک محمول۔ تو یہ جو علم کے مسائل ہیں، ان کا موضوع کیا کیا چیزیں ہو سکتی ہیں؟ تو اپ کو میں نے بتلایا کہ اس کا موضوع جو ہے، ان مسائل کا موضوع پانچ قسم کی چیزیں ہو سکتی ہیں۔ یا تو ان مسائل کا موضوع وہ اسی علم کا موضوع جو ہے، وہ ان کا بھی موضوع ہوگا۔ اس علم کا جو موضوع ہے، وہی ان قضیوں کا بھی موضوع ہوگا۔ یا اس علم کے موضوع کی کوئی خاص قسم جو ہے، وہ ان قضیوں کا موضوع ہوگی۔ یا اس علم کے موضوع کی کوئی عرضِ ذاتی جو ہے، وہ ان کا موضوع ہوگی۔ توجہ ہے؟ ان مسائل کا موضوع کیا کیا ہو سکتے ہیں؟ وہی جو علم کا موضوع ہے، وہ ان مسائل کا بھی موضوع۔ یا اس موضوعِ علم کی کوئی خاص قسم، وہ ان مسائل کا موضوع ہوگی۔ یا اس موضوعِ علم کی کوئی عرضی جو ہے، کوئی عرضِ ذاتی جو ہے، وہ ان مسائل کا موضوع ہوگی۔ یا یا وہ موضوع مرکب ہوگا۔ وہ موضوع کس چیز سے؟ اس علم کے موضوع اور اس کی کسی عرضِ ذاتی سے۔ اس علم کے موضوع اور کسی عرضِ ذاتی سے مرکب چیز جو ہوگی، وہ موضوع بنے گی ان مسائل کا۔ یا پانچویں قسم، کہ وہ موضوع مرکب ہوگا کس سے؟ اس علم کے موضوع کی کوئی خاص قسم، جو مرکب ہوگی کس کے ساتھ؟ اپنی عرض ذاتی کے ساتھ۔ توجہ ہے؟ پھر دہرائیں۔ کہ مسائل کا موضوع کتنی چیزیں ہو سکتی ہیں؟ پانچ۔ یا تو مسائل کا موضوع، وہی اس علم کا بھی موضوع ہے۔ یا مسائل کا موضوع، اس علم کے موضوع کی کوئی خاص قسم۔ یا مسائل کا موضوع جو ہے، اس علم کے موضوع کی کوئی عرض ذاتی ہوگی۔ یا مسائل کا موضوع جو ہے، اس علم کا موضوع جو مرکب ہوگا اپنی کسی عرض ذاتی کے ساتھ، یعنی کسی صفت کے ساتھ۔ یا اس موضوع، یا موضوع کیا ہوگا؟ اس علم کے موضوع کی کوئی خاص قسم، جو مرکب ہوگی اپنی، اپنی عرض ذاتی کے ساتھ۔ دیکھو، مثالوں سے اور وضاحت ہوگی جو میں نے مثالیں لکھوا دیں۔ پہلی قسم کیا؟ کہ اس علم کا موضوع ہی کیا ہوگا؟ ان مسائل کا بھی موضوع۔ مثلاً، علم نحو میں آپ کو بتلاتے ہیں: "اَلْكَلِمَةُ إِمَّا اسْمٌ أَوْ فِعْلٌ أَوْ حَرْفٌ"۔ دیکھو یہ مسئلہ آپ کو بتلاتے ہیں۔ اور اس کا موضوع کیا؟ الکلمہ، اور الکلمہ دیکھو اس علم کا بھی موضوع ہے۔ تو مسائل کا موضوع کیا بنا؟ جو اس علم کا موضوع۔ یا جیسے آپ کو بتلایا جاتا ہے: "اَلْكَلِمَةُ إِمَّا مُعْرَبٌ أَوْ مَبْنِيٌّ"۔ دیکھا؟ اس میں بھی موضوع کیا ہے؟ الکلمہ ہے، جو اس علم کا موضوع۔ تو مسائل کا جو قضیہ ہے، اس کے اندر موضوع کون بنا؟ جو اس علم کا موضوع۔ کبھی موضوع جو ہوتا ہے ان مسائل کا، وہ اس علم کے موضوع کی کوئی خاص قسم ہوتا ہے۔ جیسے کیا مثال میں نے لکھوائی؟ "اَلِاسْمُ إِمَّا مُعْرَبٌ أَوْ مَبْنِيٌّ"۔ دیکھا؟ اسم کلمہ کی خاص قسم ہے۔ اور کلمہ کیا ہے؟ اس علم کا موضوع۔ تو اس علم کے موضوع کی کوئی خاص قسم، کوئی خاص نوع جو ہے، وہ ان کا موضوع بنے گی ان قضیوں کا، ان مسائل کا۔ تو اسم کیا ہے؟ موضوع بن رہا ہے یہاں پر، اور کیا ہے اسم؟ اس علم کے موضوع کی ایک خاص قسم ہے، بھئی۔ اور یا تیسری صورت یہ ہے، کہ اس علم کے موضوع کا جو ہے، کوئی خاص عرض ذاتی وہ موضوع بنے گا۔ اس علم کے موضوع کی کوئی عرض ذاتی، وہ کیا بنے گی؟ ان مسائل کا موضوع بنے گی۔ اس کی کیا مثال میں نے لکھوائی؟ "اَلْإِعْرَابُ إِمَّا لَفْظِيٌّ أَوْ تَقْدِيرِيٌّ أَوْ مَحَلِّيٌّ"۔ اس میں موضوع کیا؟ الإعراب، اور اعراب کیا ہے؟ اس علم کا جو موضوع ہے کلمہ، یہ اس کی عرض ذاتی ہے۔ اس کی صفت ہے۔ اعراب کس پر آتے ہیں؟ کلمے پر آتے ہیں۔ تو یہ اس کی عرض ذاتی ہے، اور یہ موضوع بن رہی ہے۔ اور بتلایا جا رہا ہے کہ اعراب جو ہے وہ لفظی ہوتا ہے، یا تقدیری ہوتا ہے، یا محلی ہوتا ہے۔ چوتھی صورت کیا ہے؟ کہ ان مسائل کا موضوع کیا ہوگا؟ وہ مرکب ہوگا اس علم کے موضوع اور اس کی کسی عرض ذاتی سے۔ جیسے اس کی مثال میں نے لکھوائی: "كُلُّ كَلِمَةٍ مُعْرَبَةٍ إِمَّا مُنْصَرِفَةٌ أَوْ غَيْرُ مُنْصَرِفَةٍ"۔ موضوع کیا؟ کل کلمۃ معربۃ، یہ ہے موضوع۔ کل تو سور ہے، سور ہے جو کلیت کو بیان کر رہا ہے۔ تو کلمہ معربہ، یہ کیا ہوا؟ موضوع۔ تو دیکھو، کلمہ اور ساتھ اس کی ایک صفت بھی ہے، کیا؟ معرب۔ اور معرب ہونا یہ کلمہ کی عرض ذاتی ہے، اس کی ذاتی صفت ہے۔ تو اس مسئلے کا موضوع کیا؟ کلمہ معربہ، اور کلمہ معربہ کیا ہے؟ یہ مرکب ہے، کس سے؟ اس علم کا موضوع دیکھو کلمہ بھی ہے اور ساتھ اس کی ایک عرض ذاتی بھی ہے۔ تو اس کا موضوع اس علم کے موضوع اور اس کی ایک عرض ذاتی سے مرکب ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور پانچویں صورت یہ ہے، کہ ان مسائل کا جو موضوع ہے، وہ اس علم کے موضوع کی کوئی قسم، جو مرکب ہوگی اپنی عرض ذاتی کے ساتھ۔ جیسے اس کی میں نے مثال لکھوائی کہ: "كُلُّ اسْمٍ مُعْرَبٍ إِمَّا مَرْفُوعٌ أَوْ مَنْصُوبٌ أَوْ مَجْرُورٌ"۔ ہر اسم معرب، دیکھو اس کا موضوع کیا؟ اسم معرب۔ اور اسم کیا ہے؟ اس علم کے موضوع کی خاص قسم ہے۔ اور ساتھ اس کی ایک صفت بھی ہے، کون سی صفت؟ معرب والی، اور یہ اس کی کیا ہے؟ عرض ذاتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کسی علم کے مسائل کا موضوع کتنی چیزیں بن سکتی ہیں؟ پانچ چیزیں بن سکتی ہیں۔ یا تو وہ اس علم کا موضوع جو ہے، وہ بھی وہی یہاں موضوع بنے گا۔ یا اس موضوع کی کوئی قسم، وہ موضوع بنے گی۔ یا اس موضوع کی کوئی عرض ذاتی، وہ موضوع بنے گی۔ یا وہ موضوع جو ہے، وہ اس علم کے موضوع اور اس کی عرض ذاتی سے مرکب ہوگا۔ یا اس علم کے موضوع کی کوئی خاص قسم، جو مرکب ہوگی اپنے، اپنے عرض ذاتی سے، وہ موضوع بنے گی۔ جی، دیکھیے بھئی کتاب پر۔ تو کہتے ہیں: "وَالْمَسَائِلُ وَهِيَ قَضَايَا تُطْلَبُ فِي الْعِلْمِ"، اور تیسری چیز جو ہے، علم کے اجزا میں، وہ علم کے مسائل ہیں۔ "وَهِيَ قَضَايَا تُطْلَبُ فِي الْعِلْمِ"، اور یہ ایسے قضیے ہیں جو اس علم میں مطلوب ہوتے ہیں۔ "وَمَوْضُوعَاتُهَا"، اور ان مسائل کے جو موضوع ہیں، "إِمَّا مَوْضُوعُ الْعِلْمِ بِعَيْنِهِ"، یا تو بعینہ اس علم کا موضوع ہوتا ہے۔ جو اس علم کا موضوع ہوتا ہے، وہ ان مسائل کا بھی موضوع ہوتا ہے۔ "أَوْ نَوْعٌ مِنْهُ"، یا اس علم کے موضوع کی کوئی نوع، کوئی قسم جو ہوتی ہے، وہ موضوع ہوتی ہے ان میں۔ "أَوْ عَرَضٌ ذَاتِيٌّ لَهُ"، یا اس علم کے موضوع کی کوئی عرض ذاتی جو ہے، وہ ان مسائل کا موضوع ہوتی ہے۔ "أَوْ مُرَكَّبٌ"، یا اس، ان مسائل کا موضوع مرکب ہوتا ہے، کس سے؟ اس علم کے موضوع اور اس کے عرض ذاتی سے، یا اس علم کے موضوع کی کوئی قسم اور اس کی عرض ذاتی سے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ "وَمَحْمُولَاتُهَا أُمُورٌ خَارِجَةٌ عَنْهَا لَاحِقَةٌ لَهَا لِذَوَاتِهَا"۔ اچھا، یہ تو قضایا کے موضوعات کی بات آ گئی، مسائل کے موضوعات۔ اور محمولات کیا ہوں گے؟ قضیے میں ایک موضوع ہوتا ہے اور ایک محمول۔ موضوعات تو آپ نے ہمیں بتا دیے، محمولات کیا ہوں گے؟ تو وہ محمولات آپ کو بتلائیں گے، وہ ان کے اعراض ذاتیہ ہوں گے۔ کیا ہوں گے؟ اعراض ذاتیہ ہوں گے، بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَمَحْمُولَاتُهَا"، اور ان مسائل کے جو محمولات ہوں گے، "أُمُورٌ خَارِجَةٌ عَنْهَا"، ایسے امور ہوں گے "خَارِجَةٌ عَنْهَا" جو ان کی حقیقت سے خارج ہوں گے۔ عوارض ہیں نا، ذات میں تو نہیں داخل، صفات ہیں، بھئی! بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ ایسے امور ہوں گے "خَارِجَةٌ عَنْهَا" جو ان سے خارج ہوں گے۔ "لَاحِقَةٌ لَهَا" اور ان کے ساتھ لاحق ہوں گے۔ یعنی ان کو عارض ہوں گے، ان کو پیش آئے ہوں گے۔ "لِذَوَاتِهَا" کس کے اعتبار سے؟ ان کی ذات کے اعتبار سے۔ توجہ ہے؟ محمولات کیا ہوں گے ان مسائل کے؟ ایسے امور جو ان موضوعات کی حقیقت سے خارج ہوں گے۔ توجہ ہے؟ ان موضوعات کی حقیقت سے خارج ہوں گے، یعنی ان کی حقیقت کا جز نہیں ہوں گے، یعنی ان کی صفات ہوں گی۔ تو ایسے امور، جو ان علوم کے موضوعات کی حقیقت سے خارج ہوں گے اور ان کے ساتھ لاحق ہوں گے، یعنی ان کے ساتھ عارض ہوں گے، ان کی صفات ہوں گے "لِذَوَاتِهَا"، کس اعتبار سے؟ ذات کے اعتبار سے۔ توجہ ہے؟ پھر ترجمہ دیکھو: "وَمَحْمُولَاتُهَا أُمُورٌ خَارِجَةٌ عَنْهَا لَاحِقَةٌ لَهَا لِذَوَاتِهَا"۔ اور ان کے جو محمولات ہوں گے، وہ ایسے امور ہوں گے "خَارِجَةٌ عَنْهَا" جو ان کی حقیقت سے خارج ہوں گے۔ دیکھیے بھئی، مثلاً میں نے آپ کو کیا لکھوایا؟ "اَلْكَلِمَةُ إِمَّا مُعْرَبَةٌ أَوْ مَبْنِيٌّ"۔ مجھے بتاؤ، معرب اور مبنی ہونا، کیا یہ کلمہ کی حقیقت میں داخل ہے؟ نہیں، یہ تو اس کی صفت ہے۔ تو الکلمہ ہوا موضوع، اور معربۃ او مبنی یہ کیا ہے؟ محمول ہے۔ یہ کیا ہے؟ محمول، اور یہ محمول کلمے کو عارض ہوتا ہے اس کی ذات کے اعتبار سے۔ یعنی اس کی صفت بنتا ہے، اس کی حقیقت میں داخل نہیں ہے، بھئی۔ تو یہ جتنی میں نے مثالیں لکھوائیں، آپ ان میں غور کر لیجیے گا۔ یہ جتنے بھی محمول آئے، یہ ان کی حقیقت سے، موضوع کی حقیقت سے خارج ہیں، اور ان کی صفات ہیں، بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَمَحْمُولَاتُهَا أُمُورٌ خَارِجَةٌ عَنْهَا"، اور ان کے جو محمولات ہیں ان مسائل کے، وہ ایسے امور ہیں جو ان موضوعات سے خارج ہوتے ہیں۔ "لَاحِقَةٌ لَهَا" اور ان موضوعات کو لاحق ہوتے ہیں، یعنی ان کو عارض ہوتے ہیں، "لِذَوَاتِهَا" ان کی ذات کے اعتبار سے۔ ان کی ذات کے اعتبار سے ان کو لاحق ہوتے ہیں۔ توجہ ہے؟ یہاں اشکال ہوتا ہے، کہ آپ نے ہمیں کیا بتایا؟ کہ یہ ان کو لاحق ہوتے ہیں کس اعتبار سے؟ ذات کے اعتبار سے۔ حالانکہ اعراض ذاتیہ، اعراض ذاتیہ جن کو کہتے ہیں، جو ایک چیز کو ذات کے اعتبار سے لاحق ہوں ان کو بھی کہتے ہیں، اور جو امر مساوی کے واسطے سے لاحق ہوں، ان کو بھی عوارض ذاتیہ کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور یہاں انہوں نے صرف کیا کہا؟ جو ان کو لاحق ہوتے ہیں ان کی ذات کے اعتبار سے۔ مجھے بتائیے، ضحک انسان کو عارض ہے، اس کی ذات کے اعتبار سے یا تعجب کے واسطے سے؟ تعجب کے واسطے سے۔ تو اس میں تو وہ دونوں قسمیں داخل نہیں ہوئیں، بھئی۔ اعراض ذاتیہ جن کو کہتے ہیں، جو معروض کو عارض ہوتے ہیں بلا واسطہ یا امر مساوی کے واسطے سے۔ اور انہوں نے کیا کہا؟ کہ وہ ان کو لاحق ہوتے ہیں ان کی ذات کے اعتبار سے۔ معلوم ہوا اس میں تو جو امر مساوی کے واسطے سے عارض ہو، وہ عوارض نکل گئے، بھئی۔ اشکال سمجھ میں آ رہا ہے؟ پھر سنو اشکال: انہوں نے کیا کہا کہ ان مسائل کے جو محمولات ہوتے ہیں، وہ ان موضوعات کو عارض ہوتے ہیں ان کی ذات کے اعتبار سے۔ بھئی ذات کے اعتبار سے تو وہ عوارض آ گئے صرف جو بلا واسطہ ہوں، جن کو عارض بذات اور عرض اولی کہتے ہیں، وہ صرف داخل ہوئے۔ اور وہ عوارض جو امر مساوی کے ذریعے لاحق ہوتے ہیں، وہ بھی تو عوارض ذاتیہ میں داخل ہیں۔ ان کو بھی تو شامل کرنا چاہیے تھا، ان کو یہاں ذکر نہیں کیا۔ اشکال سمجھ میں آیا؟ تو چنانچہ شارحین پھر اس، یہاں یہ اعتراض اٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں، کہ یا تو ایک اور قید کا بھی اعتبار کر لو: "لِذَوَاتِهَا أَوْ لِمَا يُسَاوِيهَا"۔ محمول وہ ہے جو موضوع کو لاحق ہوتا ہے اس کی ذات کے اعتبار سے، "أَوْ لِمَا يُسَاوِيهَا" یا ایسی چیز کے واسطے سے جو اس موضوع کے مساوی ہو، بھئی۔ جبکہ بعضوں نے کہا، کہ اسی کے اندر "لِذَوَاتِهَا" سے پہلے مضاف محذوف نکال لیں: "أَيْ لِاسْتِعْدَادِ ذَوَاتِهَا"۔ "لِاسْتِعْدَادِ"، یہ جو، یعنی وہ محمولات وہ ہیں جو ان کو لاحق ہوتے ہیں موضوعات کو "لِاسْتِعْدَادِ ذَوَاتِهَا"، اس وجہ سے کہ ان کی ذات میں ان کی استعداد ہوتی ہے۔ کیا ہوتی ہے؟ تو "لِذَوَاتِهَا" سے کیا مراد؟ "لِاسْتِعْدَادِ ذَوَاتِهَا"، اور استعداد سے بھی استعداد مخصوص، خاص استعداد مراد ہے، عام استعداد نہیں۔ بھئی دیکھیے، عوارض ذاتیہ ہیں، کسی چیز کی صفت بنتے ہیں بلا واسطہ یا امر مساوی کے واسطے سے۔ یہ اس چیز کے عوارض ذاتیہ کہتے ہیں۔ اور یہ صرف اس چیز کی ذات میں یہ استعداد ہے کہ یہ ان کی صفت بن سکتے ہیں، اور چیزوں میں یہ استعداد نہیں ہے۔ جیسے نطق انسان کے اندر استعداد ہے، نطق اس کی صفت بن سکتا ہے۔ توجہ ہے؟ تعجب انسان کی صفت بنتا ہے بلا واسطہ۔ ضحک انسان کی صفت بنتا ہے، امر مساوی یعنی تعجب کے واسطے سے۔ نطق انسان کی صفت بنتا ہے امر مساوی یعنی ناطق کے واسطے سے۔ توجہ ہے؟ پھر سنو! تعجب انسان کی صفت بنتا ہے بلا واسطہ۔ اور نطق انسان کی صفت بنتا ہے ناطق کے واسطے سے۔ اور ضحک انسان کی صفت بنتا ہے تعجب کے واسطے سے۔ تو انسان کی ذات میں استعداد ہے اس کی۔ یعنی وہ خاص استعداد، وہ صرف انسان میں موجود ہے، کہ تعجب صرف اس کی صفت بنتا ہے اور کسی حیوان کی صفت نہیں بنتا۔ اسی طرح یہ ضحک اور نطق، یہ انسان کی ذات میں اس کی خاص استعداد ہے اور کسی میں یہ استعداد نہیں ہے۔ تو جب یہاں استعداد کا لفظ لے آئیں گے "لِاسْتِعْدَادِ ذَوَاتِهَا"، اس وجہ سے ان کی، کیونکہ ان کی ذات میں استعداد ہوتی ہے، اور استعداد بھی کون سی مراد ہے؟ خاص استعداد۔ کیا ہے؟ یعنی ان کی ذات میں وہ مخصوص استعداد ہوتی ہے، اور چیزوں میں وہ استعداد نہیں ہوتی۔ اب اس کے اندر عوارض بلا واسطہ بھی داخل ہو گئے، اور عوارض بالواسطہ بالامر المساوی بھی داخل ہو گئے۔ انسان کو عارض بالذات کیا ہے؟ تعجب۔ تو گویا انسان کی ذات میں صلاحیت ہے اور کسی چیز میں یہ صلاحیت نہیں، تو انسان کے عوارض ذاتیہ میں سے ہے۔ اسی طرح انسان کی صفت کیا بنتی ہے؟ نطق، اور انسان کی صفت کیا بنتی ہے؟ ضحک، اور کسی چیز کی صفت نہیں بنتی۔ معلوم ہوا یہ مخصوص استعداد صرف کس کے اندر ہے؟ انسان کے اندر ہے اور کسی کے اندر نہیں۔ تو جب "لِذَوَاتِهَا" سے کیا مراد؟ "لِاسْتِعْدَادٍ مَخْصُوصٍ لِذَوَاتِهَا"، ایسی مخصوص استعداد جو ان کی ذات میں ہوتی ہے، اب اس کے اندر دونوں داخل ہو گئے۔ عوارض بلا واسطہ، اس کے بھی صرف اسی میں استعداد ہے۔ اور عوارض بواسطة الامر المساوی، وہ بھی داخل، کیونکہ اس کی بھی صرف اسی میں استعداد ہے اور کسی چیز میں استعداد نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: "وَمَحْمُولَاتُهَا أُمُورٌ خَارِجَةٌ عَنْهَا لَاحِقَةٌ لَهَا لِذَوَاتِهَا"۔ اور ان مسائل کے جو محمولات ہوتے ہیں، وہ ایسے امور ہوتے ہیں جو ان موضوعات سے خارج ہوتے ہیں، اور ان موضوعات کو لاحق ہوتے ہیں ان کی ذات کے اعتبار سے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حاصل کلام یہاں تک کیا ہوا؟ کہ علوم مدونہ کے اجزا کتنے ہیں؟ تین: موضوعات، مبادی، اور مسائل۔ موضوعات کیا ہیں؟ جن کے عوارض ذاتیہ سے ان علوم میں بحث کی جائے۔ اور مبادی کیا ہیں؟ وہ کچھ چیزیں جن پر اس علم کے مسائل موقوف ہوتے ہیں۔ یہ مبادی آپ کو سمجھ میں آئیں گے، تو مسائل بھی سمجھ میں آئیں گے۔ یہ مبادی سمجھ میں نہیں آئیں گے، تو مسائل بھی سمجھ میں نہیں آئیں گے۔ اور یہ مبادی دو قسم کے ہو سکتے ہیں: تصور بھی ہو سکتے ہیں اور تصدیق بھی۔ اگر یہ تصور کے قبیل سے ہو، تو ان کو مبادی تصوریہ کہتے ہیں۔ اور اگر یہ تصدیق کے قبیل سے ہو، تو ان کو مبادی تصدیقیہ کہتے ہیں۔ اور مبادی تصوریہ میں کیا بیان ہوتا ہے؟ اس علم کے موضوعات کی تعریف، اور اگر موضوعات مرکب ہیں، تو ان کے اجزا کی تعریف۔ اگر موضوعات مرکب نہیں ہیں، تو پھر اجزا کی تعریف بھی نہیں ہوگی، کیونکہ اجزا ہی نہیں ہیں۔ تو مبادی تصوریہ میں کیا ذکر ہوگا؟ موضوعات کی تعریف، اور موضوعات کے اجزا کی تعریف، اور اسی طرح موضوعات کے اعراض، یعنی صفات ذاتیہ کی تعریف، بھئی۔ اور مبادی تصدیقیہ، وہ کس کو کہتے ہیں؟ وہ کچھ خاص مقدمات ہوتے ہیں، بدیہی بھی ہو سکتے ہیں اور نظری بھی ہو سکتے ہیں، جن پر اس علم کے دلائل موقوف ہوتے ہیں۔ یعنی انہی سے اس علم کے دلائل بنتے ہیں۔ اگر وہ سمجھ میں آئیں گے، تو علم کے دلائل سمجھ میں آئیں گے اور مسائل اس سے ثابت ہوں گے۔ اور تیسری چیز ہے علم کے مسائل، اور علم کے جو مسائل ہیں، وہ کچھ ایسے قضایا ہیں جو اس علم میں مطلوب ہوتے ہیں، جن کی خاطر اس فن کو، اس علم کو پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے، بھئی۔ اور یہاں، یہاں یہ قیمتی بات بھی یاد رکھنا، یہ جو مبادی کا یہاں ذکر آیا، یہ جو چاہے مبادی تصوریہ ہیں، چاہے مبادی تصدیقیہ ہیں، یہ دونوں علم کے اندر داخل ہوتے ہیں۔ کس کے اندر؟ یہ علم کے اندر داخل ہیں، علم کے اجزا ہیں۔ اس لیے کیونکہ مبادی تصوریہ کس کا نام تھا؟ علم کے موضوعات کی تعریف، ان کے اجزا کی تعریف، اور ان کے اعراض کی تعریف ہے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: "اَلْكَلِمَةُ إِمَّا اسْمٌ أَوْ فِعْلٌ أَوْ حَرْفٌ"۔ مسائل میں یہ ذکر ہوگا یا نہیں؟ "اَلْكَلِمَةُ إِمَّا اسْمٌ أَوْ فِعْلٌ أَوْ حَرْفٌ"۔ وہاں اگر آپ کو الکلمہ کا ہی پتہ نہیں ہوگا، تو آپ کو یہ بات سمجھ میں آئے گی؟ نہیں، یہ بات سمجھ میں نہیں آئے گی۔ یا آگے چل کر ذکر ہوگا: "اَلِاسْمُ إِمَّا مُعْرَبٌ أَوْ مَبْنِيٌّ"۔ تو وہاں الاسم کا ہی آپ کو نہیں پتہ، تو یہ بات آپ کو سمجھ میں آئے گی؟ لہٰذا یہ جو تعریفیں کی جاتی ہیں، یہ تعریفات اس کے اندر داخل ہیں۔ تو یہ تعریفات اس علم کے اندر داخل ہیں، کیونکہ علم کے مسائل کا سمجھنا ان پر موقوف ہے۔ اگر یہ سمجھ میں آئیں گی، تو علم کے مسائل سمجھ میں آئیں گے ورنہ تو سمجھ میں ہی نہیں آئیں گے۔ اگر آپ کو کہہ دیا جائے: "اَلِاسْمُ إِمَّا مُعْرَبٌ أَوْ مَبْنِيٌّ"، اور آپ کو اسم کا ہی پتہ نہ ہو، تو یہ بات آپ کو قطعی طور پر سمجھ میں نہیں آئے گی۔ تو لہٰذا یہ جو مبادی تصدیقیہ اور تصوریہ ہیں، یہ اس علم میں داخل ہوتے ہیں۔ ان کا تصور آپ کو ہوگا، تو آگے مسائل کے اندر جب یہ موضوع وغیرہ بنیں گے، تو آپ کو بات سمجھ میں آئے گی۔ اور یا موضوع بنیں گے يا محمول بنیں گے، تو آپ کو ان کی سمجھ میں آئے گی۔ اور نیز مبادی تصدیقیہ، کچھ ایسے مقدمات ہوتے ہیں جو بدیہی بھی ہو سکتے ہیں اور نظری بھی ہو سکتے ہیں، جن پر موقوف ہوتے ہیں علم کے دلائل، بھئی۔ یعنی علم کے دلائل ان سے مرکب ہوتے ہیں۔ تو جب علم کے دلائل ان سے مرکب ہوتے ہیں، انہی سے بنتے ہیں، تو معلوم ہوا یہ بھی علم کے اندر داخل ہوتے ہیں، بھئی۔ تو یہ مبادی جو ذکر ہوئے، یہ علم کے اندر داخل ہوتے ہیں، بھئی۔ آگے دیکھیے متن، بھئی: "وَقَدْ يُقَالُ الْمَبَادِئُ لِمَا يُبْدَأُ بِهِ قَبْلَ الْمَقْصُودِ، وَالْمُقَدِّمَاتُ لِمَا يَتَوَقَّفُ عَلَيْهِ الشُّرُوعُ بِوَجْهِ الْبَصِيرَةِ وَفَرْطِ الرَّغْبَةِ كَتَعْرِيفِ الْعِلْمِ وَبَيَانِ غَايَتِهِ وَمَوْضُوعِهِ"۔ یہاں سے مبادی کی ایک اور تعریف کر رہے ہیں۔ بعض علماء نے مبادی کی اور تعریف کی، بھئی۔ مبادی کی اور تعریف کی، جیسے یہ آپ کو بتلائیں گے کہ علامہ ابن حاجب جو مصنف ہیں کافیہ کے، انہوں نے مبادی کی اور تعریف کی ہے، بھئی۔ وہ فرماتے ہیں کہ مبادی ان چیزوں کا نام ہے جو مقصود سے پہلے ذکر کی جائیں۔ مبادی کس کا نام؟ وہ چیزیں جو مقصود سے پہلے ذکر کی جائیں۔ اور اسی طرح مقدمات جو ہیں، وہ چیزیں ہیں جن پر علم کو شروع کرنا موقوف ہوتا ہے "بِوَجْهِ الْبَصِيرَةِ" اور شوق کے ساتھ۔ علم کا شروع کرنا "بِوَجْهِ الْبَصِيرَةِ" اور شوق کے ساتھ شروع کرنا، یہ ان پر موقوف ہوتا ہے۔ توجہ ہے؟ علامہ ابن حاجب نے مبادی کی اور تعریف کی۔ وہ فرماتے ہیں کہ مبادی کچھ وہ باتیں جن کو مقصود سے، یعنی مسائل سے پہلے ذکر کیا جائے۔ تو یہ عام تعریف کر دی۔ یہ مبادی علم کے اندر ہو سکتا ہے داخل ہوں، ہو سکتا ہے داخل نہ ہوں۔ بس کچھ ابتدائی باتیں ہیں جو مقصود سے، جو مسائل سے پہلے ذکر کی جائیں، ان کو مبادی کہتے ہیں۔ یعنی ابتدائی باتیں۔ ابتدائی باتیں، اور یہ عام ہے، ہو سکتا ہے یہ ابتدائی باتیں ایسی ہوں جو علم کے اندر داخل ہوں، اور ہو سکتا ہے داخل نہ ہوں۔ تو بس آسان لفظوں میں انہوں نے کہا، جو ابتدائی باتیں کسی علم کے اندر ذکر کی جاتی ہیں، وہ مبادی ہیں۔ انہوں نے تو بتایا تھا مبادی وہ تعریفات کا نام ہے، اور کچھ وہ مقدمات ہیں جن سے دلائل بنتے ہیں۔ لیکن علامہ ابن حاجب کیا فرماتے ہیں؟ کہ مبادی وہ ابتدا میں جو بھی باتیں ذکر کر دی جائیں، ان کو مبادی کہتے ہیں۔ اور وہ عام ہیں، ہو سکتا ہے علم میں داخل ہوں، ہو سکتا ہے علم میں داخل نہ ہوں۔ اور نیز مقدمات انہوں نے بتایا، مقدمات وہ ہیں جو پیچھے انہوں نے بتایا مقدمات کس کا نام ہے؟ جن پر اس علم کے دلائل موقوف ہوتے ہیں، یعنی انہی سے علم کے دلائل بنتے ہیں۔ جبکہ علامہ ابن حاجب فرماتے ہیں کہ مقدمات وہ تصدیقات ہیں کہ جن کو آپ سمجھ لیں گے، جن کو آپ جان لیں گے، تو آپ کو علم میں پوری بصیرت حاصل ہوگی۔ اور آپ کو پورا شوق ہوگا اس علم کا۔ اور وہ، وہ اس علم کی تعریف، موضوع اور غرض و غایت ہے۔ آپ کو شروع میں علم کی تعریف بتلائی جاتی ہے کہ یہ علم ہے، بھئی! جیسے منطق میں بتلاتے ہیں آپ کو کہ منطق وہ علم ہے جو نظر و فکر میں غلطی سے ہماری حفاظت کرتا ہے۔ اور پھر بتلاتے ہیں منطق کا موضوع معرف اور حجت ہیں۔ اور پھر آپ کو بتلاتے ہیں کہ اس کا غایہ اور مقصود کیا ہے؟ کہ نظر و فکر میں غلطی سے حفاظت ہو۔ تو یہ چیزیں جب طالب علم جان لیتا ہے، تو پھر اس علم میں اس کو پوری بصیرت ہوتی ہے، دل مطمئن ہوتا ہے، اور خوب شوق ہوتا ہے اور اس کا فائدہ اس کے سامنے آ جاتا ہے کہ یہ ہمیں کیا کرے گا؟ نظر و فکر میں غلطی سے بچائے گا، بھئی۔ تو علامہ ابن حاجب کیا فرماتے ہیں؟ کہ مقدمات ان تین چیزوں کا نام ہے: علم کی تعریف، موضوع، اور غرض و غایت، یعنی اس کا مقصد، بھئی۔ تو یہاں مبادی کی دوسری تعریف آ گئی کہ مبادی کس کو کہتے ہیں؟ وہ ابتدائی باتیں جو مقصود سے پہلے ذکر کی جائیں، وہ سب مبادی ہیں۔ اور وہ عام ہے، ہو سکتا ہے علم میں داخل ہوں، ہو سکتا ہے علم سے خارج ہوں، بھئی۔ اور مقدمات، مقدمات سے مراد وہ باتیں ہیں جن کو جاننے کے بعد طالب علم کو علم کے شروع میں پوری بصیرت حاصل ہوتی ہے۔ علم شروع کرنے میں پوری بصیرت حاصل ہوتی ہے، اور اس میں شوق ہوتا ہے۔ اور وہ مقدمات کیا ہیں؟ اس علم کی تعریف، موضوع، اور غرض و غایت۔ جب طالب علم کو علم کی تعریف کا پتہ ہوگا کہ یہ کیا علم ہے بھئی، جب یہ پتہ ہوگا اس کا موضوع کیا ہے، کس بارے میں یہاں باتیں ہوں گی، اور جب اس کے فائدے کا اور اس کے مقصد کا اس کو پتہ ہوگا، اس کو علم کو شروع کرنے میں بصیرت حاصل ہوگی اور نیز اس کو پورا کامل شوق ہوگا۔ اور اگر یہ چیزیں نہیں ہوں گی، تو کامل شوق نہیں ہوگا، پوری بصیرت نہیں ہوگی۔ آپ نے اس کو ایک علم پڑھانا شروع کر دیا، نہ اس کو اس علم کی تعریف کا پتہ، نہ اس کو موضوع کا پتہ، نہ اس کے غرض و غایت کا پتہ ہے، تو وہ پوری بصیرت اس کو حاصل نہیں، وہ چلتا تو رہے گا، لیکن اس کو پوری بصیرت حاصل نہیں ہے، اور نیز اس کو پورا شوق بھی نہیں ہوگا۔ جب ایک چیز کے فائدے کا اور مقصد کا ہی اس کو نہیں پتہ، تو شوق کس طرح اس کے دل میں پیدا ہوگا، بھئی؟ دیکھیے: "وَقَدْ يُقَالُ الْمَبَادِئُ لِمَا يُبْدَأُ بِهِ قَبْلَ الْمَقْصُودِ"، اور تحقیق مبادی کہا جاتا ہے ان چیزوں کو جن سے ابتدا کی جاتی ہے مقصود سے پہلے۔ "وَالْمُقَدِّمَاتُ"، یہ مقدمات کا عطف ہے مبادی پر: "وَقَدْ يُقَالُ الْمَبَادِئُ، وَقَدْ يُقَالُ الْمُقَدِّمَاتُ"۔ "وَالْمُقَدِّمَاتُ لِمَا يَتَوَقَّفُ عَلَيْهِ الشُّرُوعُ بِوَجْهِ الْبَصِيرَةِ وَفَرْطِ الرَّغْبَةِ"، اور مقدمات جو ہے وہ کہا جاتا ہے "لِمَا" ان چیزوں کو "يَتَوَقَّفُ عَلَيْهِ الشُّرُوعُ" جن پر موقوف ہو شروع کرنا "بِوَجْهِ الْبَصِيرَةِ" بصیرت کے طریقے پر، یعنی پوری سمجھ حاصل ہو، "وَفَرْطِ الرَّغْبَةِ"، فرط کا معنی زیادتی، رغبت کا معنی شوق۔ "وَفَرْطِ الرَّغْبَةِ" اور شوق کی زیادتی کے ساتھ۔ "بِوَجْهِ الْبَصِيرَةِ وَفَرْطِ الرَّغْبَةِ"، بصیرت کے طریقے پر اور شوق کی زیادتی کے ساتھ۔ اور یہ، یہ متعلق ہے الشروع سے۔ "بِوَجْهِ الْبَصِيرَةِ وَفَرْطِ الرَّغْبَةِ"، یہ فرط الرغبت کا عطف کس پر ہے؟ وجہ البصیرت پر، اور ان پر با داخل، اور یہ جار مجرور مل کر متعلق ہیں شروع سے۔ شروع مصدر ہے نا! دیکھو: "وَالْمُقَدِّمَاتُ لِمَا يَتَوَقَّفُ عَلَيْهِ الشُّرُوعُ بِوَجْهِ الْبَصِيرَةِ وَفَرْطِ الرَّغْبَةِ"۔ اور مقدمات وہ چیزیں ہیں جن پر موقوف ہے، کیا چیز موقوف ہے؟ ترجمہ آخر سے کریں گے: خوب شوق اور بصیرت کے طریقے پر شروع کرنا۔ ادھر دیکھیے! خوب شوق اور بصیرت کے طریقے پر شروع کرنا ان مقدمات پر موقوف ہے۔ شروع کرنا نہیں موقوف، شروع تو ویسے بھی کر سکتے ہیں۔ شروع کرنا کس کے ساتھ؟ بصیرت کے ساتھ اور شوق کے ساتھ۔ شوق اور بصیرت کے ساتھ شروع کرنا وہ اس مقدمات پر موقوف ہوتا ہے۔ "كَتَعْرِيفِ الْعِلْمِ" جیسے کہ اس علم کی تعریف ہے، "وَبَيَانِ غَايَتِهِ" اور جو اس علم کا غایہ اور مقصد ہوتا ہے، "وَمَوْضُوعِهِ" اور اس علم کا موضوع جو ہے۔ تو گویا مبادی کی دو تعریفیں آپ کے سامنے آ گئیں۔ پہلے جو مبادی ذکر ہوئے، وہ علم کے اندر داخل ہیں، کیونکہ ان پر علم کے مسائل موقوف ہیں۔ اور یہ جو مبادی آئے، یہ وہ ابتدائی باتیں جو شروع میں ذکر کی جائیں، یہ عام ہے۔ ہو سکتا ہے علم کے اندر داخل ہوں، کیونکہ ہو سکتا ہے اس میں ایسی باتیں ذکر کی جائیں کہ یہ علم کے اندر داخل ہوں، اور ہو سکتا ہے اس میں ایسی باتیں ذکر کی جائیں جو علم کے اندر داخل نہ ہوں۔ اور مقدمات انہوں نے بتلایا تھا پیچھے کہ مقدمات وہ ہیں جن پر اس علم کے دلائل موقوف ہوتے ہیں، یعنی انہی سے علم کے دلائل بنتے ہیں، انہی سے مرکب ہوتے ہیں۔ اور یہاں بتلایا کہ نہیں، یہ مقدمات جو ہیں، یہ اس علم کی تعریف، موضوع، اور غرض و غایت کو کہتے ہیں، کہ جن پر موقوف ہے اس علم کو خوب شوق اور بصیرت کے ساتھ شروع کرنا۔ اس علم کو خوب شوق اور بصیرت کے ساتھ شروع کرنا موقوف ہوتا ہے ان چیزوں پر۔ اور یاد رکھیے، یہ مقدمات علم سے خارج ہیں۔ کسی علم کی تعریف، موضوع، اور غرض و غایت، وہ اس علم سے خارج ہے، بھئی! خارج ہے۔ علماء فرماتے ہیں، یہ جو موضوع اور مبادی وغیرہ ان کو بھی علوم کے اجزا قرار دیا، تو کہتے ہیں یہ صرف ایک ظاہری بات ہے۔ حقیقت میں علم کا موضوع جو ہے اس کے مسائل ہوتے ہیں۔ یعنی مسائل کے مجموعے کا نام علم ہے۔ کیونکہ یہ جو مبادی ہوتے ہیں، کہتے ہیں یہ وسائل ہوتے ہیں۔ یہ اس علم تک پہنچاتے ہیں۔ اور وسیلۂ شئے جو ہے، وہ شئے سے خارج ہوتا ہے۔ اور موضوع، موضوع تو وہ اس کا نفسِ موضوع مراد، نفسِ موضوع، وہ تو خود آگے علم کے جو مسائل ذکر ہوں گے، وہاں وہ موضوع اس کے اندر آ گیا، بھئی، ذکر ہو گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، بات اچھی طرح ساری سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا سارا؟ چلیے بس بھئی، ہَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔