آگے سبق دیکھیے بھئی۔ ”وَإِنْ قَالَ لِأَمَتِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ، أَوْ بَائِنٌ، أَوْ تَخَمَّرِي، وَنَوَى بِهِ الْعِتْقَ، لَمْ تَعْتِقْ. وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى: تَعْتِقُ إِذَا نَوَى. وَكَذَا عَلَى هَذَا الْخِلَافِ سَائِرُ أَلْفَاظِ الصَّرِيحِ وَالْكِنَايَةِ عَلَى مَا قَالَ مَشَايِخُهُمْ رَحِمَهُمُ اللّٰهُ تَعَالَى.“ بھئی گذشتہ سبق میں مسئلہ چل رہا تھا، صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ اگر آقا اپنے غلام کے بارے میں کہتا ہے: ”هٰذَا ابْنِي“، ”هٰذَا ابْنِي“ کہ یہ میرا بیٹا ہے، اور حال یہ ہے کہ وہ غلام عمر میں آقا کے تقریباً برابر ہے یا آقا سے عمر میں بڑا ہے، یعنی اس جیسا غلام اس جیسے آقا کا بیٹا نہیں ہو سکتا، تو آقا نے اس کے بارے میں کہا: ”هٰذَا ابْنِي“، یہ میرا بیٹا ہے۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں: یہاں حقیقی معنی تو ممکن نہیں ہے، لہٰذا مجازی معنی لیا جائے گا اس کا، اور ”هٰذَا ابْنِي“ کا مجازی معنی ہے: ”هٰذَا حُرٌّ“، کہ یہ آزاد ہے۔ تو غلام آزاد ہو جائے گا، چاہے کہنے والا نیت کرے یا نہ کرے، اس لیے کیونکہ یہاں مجازی معنی ہی متعین ہے۔ جبکہ صاحبین اور امامِ شافعی رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں غلام آزاد نہیں ہوگا، اور آقا کا یہ کلام لغو ہے، باطل ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ جو مجاز ہے، یہ حقیقت کا خلیفہ ہوتا ہے حکم کے اندر، یعنی آسان لفظوں میں کہوں: معنی کے اندر۔ تو مجاز جو ہے وہ حقیقت کا خلیفہ ہے معنی میں۔ حقیقی معنی ممکن ہو لیکن کوئی رکاوٹ آ جائے اور ہم حقیقی معنی نہ کر سکیں، تو پھر مجازی معنی کی طرف جائیں گے۔ توجہ ہے؟ بھئی ہمارے نزدیک لفظ کا حقیقی معنی ممکن ہو تو اسی پر عمل کیا جائے گا، اور جب حقیقی معنی مراد نہ لیا جا سکے پھر مجاز کی طرف جائیں گے۔ تو صاحبین کہتے ہیں کہ مجاز حقیقت کا خلیفہ ہے حکم میں یعنی معنی کے اندر۔ حقیقی معنی ممکن ہو لیکن کوئی مانع آ گیا، کوئی رکاوٹ آ گئی کہ ہم حقیقی معنی مراد نہیں لے سکتے، تو پھر مجازی معنی کی طرف چلے جائیں گے۔ لیکن اگر حقیقی معنی ممکن ہی نہیں ہے، تو پھر مجازی معنی بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے کیونکہ ذہن میں پہلے حقیقی معنی آتا ہے اور پھر اس کے بعد ذہن منتقل ہوتا ہے مجازی معنی کی طرف۔ تو جب حقیقی معنی کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا، وہ ممکن ہی نہیں ہے، تو مجازی معنی کا بھی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اور یہاں آقا نے ایک ایسے غلام کو ”هٰذَا ابْنِي“ کہا ہے کہ اس جیسا غلام اس جیسے آقا کا بیٹا نہیں ہو سکتا۔ تو جب حقیقی معنی ممکن نہیں تو مجازی معنی بھی ممکن نہیں، اور یہ کلام لغو ہوگا اور بیکار ہوگا۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ جو مجاز ہے یہ حقیقت کا خلیفہ ہے تکلم میں یعنی الفاظ کے اندر، اور ”هٰذَا ابْنِي“ یہ عربی اعتبار سے یہ الفاظ بالکل صحیح ہیں۔ ”هٰذَا“ مبتدا ہے اور ”ابْنِي“ اس کی خبر ہے۔ تو جب الفاظ صحیح ہوں اور عقلاً وہ معنی ممکن بھی ہو، تو پھر اس صورت میں حقیقی معنی نہ لیا جا سکے تو مجازی معنی لیا جائے گا۔ تو امام صاحب کے نزدیک مجاز حقیقت کا خلیفہ ہے، اس کا نائب ہے تکلم میں یعنی الفاظ میں، اور ”هٰذَا ابْنِي“ کے الفاظ صحیح ہیں لیکن حقیقی معنی ہم یہاں مراد نہیں لے سکتے تو پھر ہم مجازی معنی مراد لے لیں گے۔ البتہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ حقیقی معنی عقلاً ممکن ہونا چاہیے، اور یہاں پر بھی ”هٰذَا ابْنِي“ کا حقیقی معنی ممکن ہے۔ یہاں صرف رکاوٹ جو آئی وہ مشار الیہ غلام کی وجہ سے آئی۔ ”هٰذَا ابْنِي“ کہہ کر آقا نے جس غلام کی طرف اشارہ کیا تھا، اس کی وجہ سے یہ حقیقی معنی ہم یہاں مراد نہیں لے سکتے کیونکہ یہ غلام عمر میں آقا کے برابر ہے یا اس سے بڑا ہے۔ اگر غلام کم عمر ہوتا تو پھر حقیقی معنی بھی صحیح ہو سکتا تھا۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے ذکر فرمایا کہ صاحبین نے اس مسئلے کو قیاس کیا ہے ایک اور مسئلے پر۔ یہ جو مسئلہ ہے جس میں آقا نے اپنے ہم عمر غلام کو یا اپنے سے بڑی عمر کے غلام کو ”هٰذَا ابْنِي“ کہا، اس مسئلے کو صاحبین قیاس کرتے ہیں ایک اور مسئلے پر کہ مثلاً ایک شخص دوسرے شخص سے کہتا ہے: ”قَطَعْتُ يَدَكَ“، کہ میں نے تمہارا ہاتھ کاٹ دیا، اور اس دوسرے شخص نے اپنے دونوں ہاتھ نکال کر دکھائے تو اس کے دونوں ہاتھ صحیح سلامت تھے۔ تو صاحبین فرماتے ہیں کہ یہاں ”قَطَعْتُ يَدَكَ“ اس کا حقیقی معنی یہ ہے کہ میں نے تمہارا ہاتھ کاٹ دیا، اور مجازی معنی یہ ہے کہ یہ شخص جو ہے نصف دیت کا اقرار کر رہا ہے کہ میں نے آپ کو نصف دیت مال دینا ہے۔ تو مال کا اقرار جو ہے وہ اس کا مجازی معنی ہوا۔ تو ”قَطَعْتُ يَدَكَ“ حقیقی معنی کیا؟ میں نے آپ کا ہاتھ کاٹ دیا۔ اور مجازی معنی کیا؟ کہ وہ شخص مال کا اقرار کر رہا ہے نصف دیت کے برابر۔ اور یہاں پر عربی اعتبار سے یہ الفاظ بالکل صحیح ہیں، اور نیز یہ ہاتھ کا کاٹنا سبب ہوتا ہے نصف دیت کے واجب ہونے کا۔ لہٰذا حقیقی اور مجازی معنی کے درمیان سببیت والا علاقہ اور تعلق بھی موجود ہے۔ لہٰذا امام صاحب کے ضابطے کے مطابق جب یہ الفاظ عربی اعتبار سے صحیح ہیں لیکن حقیقی معنی ممکن نہیں ہے تو پھر اس کا مجازی معنی لینا چاہیے، اور اس کو اقرار بالمال قرار دینا چاہیے، لیکن امام صاحب بھی فرماتے ہیں کہ یہ جو کہنے والے نے لفظ کہے ”قَطَعْتُ يَدَكَ“، یہ الفاظ بیکار ہیں، باطل ہیں، ان کا کوئی اعتبار نہیں۔ یعنی امام صاحب اس کو اقرارِ مال سے مجاز قرار نہیں دیتے۔ حالانکہ امام صاحب کے ضابطے کے مطابق اسے اقرارِ مال سے مجاز قرار دینا چاہیے تھا لیکن امام صاحب اس کو مجاز قرار نہیں دے رہے۔ معلوم ہوا بات وہی ہے جو ہم نے کہی کہ جو مجاز ہے حقیقت کا خلیفہ ہے معنی میں۔ اگر حقیقی معنی ممکن ہو لیکن کوئی مانع آ جائے پھر ہی مجازی معنی کیا جا سکتا ہے، اور اگر حقیقی معنی ممکن ہی نہ ہو تو پھر مجازی معنی بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اور یہاں حقیقی معنی ممکن نہیں کیونکہ اس دوسرے شخص کے تو دونوں ہاتھ صحیح سلامت ہیں تو لہٰذا مجازی معنی بھی نہیں کیا جائے گا، اور امام صاحب بھی یہاں یہی فرما رہے ہیں۔ ورنہ تو ان کے ضابطے کے مطابق مجازی معنی کرنا چاہیے تھا۔ تو اس کا جواب دیا صاحبِ ہدایہ نے کہ نہیں، یہاں پر اس ”قَطَعْتُ يَدَكَ“ اس کو اقرارِ مال سے مجاز قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے کیونکہ اقرارِ مال سے جو مال لازم ہوتا ہے وہ مالِ مطلق ہوتا ہے، جبکہ یہ جو ہاتھ کاٹنے کی وجہ سے جو مال لازم ہوتا ہے وہ مطلق مال نہیں ہے بلکہ مالِ مخصوص ہے یعنی ارش واجب ہوتا ہے۔ میں نے بتایا تھا کہ پورے انسانی جان کے بدل کے طور پر جو مال کسی پر واجب ہوتا ہے اس کو دیت کہتے ہیں، اور دیت ادا کرنے والوں کو اختیار ہے: وہ چاہیں تو سو اونٹ ادا کر دیں، وہ چاہیں تو دس ہزار درہم ادا کر دیں، اور وہ چاہیں تو ہزار دینار ادا کر دیں۔ تو پورے انسانی جان کا جو بدل ہے وہ دیت کہلاتا ہے، البتہ اعضاء کے اندر جو مال واجب ہو اس کو ارش کہتے ہیں۔ مجازاً اس کو بھی دیت کہہ دیتے ہیں لیکن حقیقت میں دیت پوری انسانی جان کے بدل کو کہتے ہیں، اور اعضاء کے اندر جو مال واجب ہو اس کو ارش کہتے ہیں۔ اور ایک ہاتھ کا ارش جو ہے وہ نصفِ دیت ہے، یعنی پچاس اونٹ یا پانچ ہزار درہم یا پانچ سو دینار بھئی، پانچ سو دینار۔ تو صاحبِ ہدایہ جواب دے رہے ہیں امام صاحب کی طرف سے۔ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ ”قَطَعْتُ يَدَكَ“ اس کو اقرارِ مال سے مجاز قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے کیونکہ اقرارِ مال کی وجہ سے جو مال واجب ہوتا ہے وہ مطلق مال ہوتا ہے، جبکہ ہاتھ کاٹنے کی وجہ سے جو مال واجب ہوتا ہے وہ مالِ مخصوص ہے، اور دونوں مالوں کی صفت الگ الگ ہے۔ ارش کی صفت الگ اور مالِ مطلق کی صفت الگ۔ مالِ مطلق جو ہے وہ صرف اقرار کرنے والے پر واجب ہوتا ہے، اسی کو ادا کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً زید نے کہا: میں نے عمرو کے پچاس لاکھ روپے ادا کرنے ہیں، تو یہ پیسے اب زید ہی کو ادا کرنے پڑیں گے، اس کے قبیلے والے اس کے ساتھ ادائیگی میں شریک نہیں ہوں گے۔ جبکہ ارش جو ہوتا ہے وہ سارے قبیلے والوں پر واجب ہوتا ہے، سارے قبیلے والے مل کر اس کو ادا کرتے ہیں۔ تو دونوں مالوں کی صفت ہی الگ الگ ہے۔ قطعِ ید کی وجہ سے جو مال واجب ہوتا ہے وہ ساری عاقلہ پر واجب ہوتا ہے۔ میں نے بتایا کہ ”عَقَلَ يَعْقِلُ“ کا معنی ہوتا ہے: دیت ادا کرنا، تو دیت ادا کرنے والے عاقلہ ہوئے بھئی۔ تو یہ جو ارش ہے یہ ساری عاقلہ کو یعنی سارے قبیلے والوں کو ادا کرنا پڑتا ہے، جبکہ مالِ مطلق صرف اقرار کرنے والے پر واجب ہوتا ہے۔ تو لہٰذا ”قَطَعْتُ يَدَكَ“ اس کو اقرارِ مال سے مجاز قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ ”قَطَعْتُ يَدَكَ“ کی وجہ سے جو مال واجب ہوتا ہے وہ اور قسم کا ہے اور اقرارِ مال کی وجہ سے جو مال واجب ہوتا ہے وہ اور قسم کا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں اقرارِ مال تو ہے نہیں، وہ تو واجب قرار نہیں دیا جا سکتا، اور ”قَطَعْتُ يَدَكَ“ ہے اور اس کی وجہ سے ارش نے واجب ہونا تھا لیکن ارش تو ویسے واجب نہیں ہوتا، وہ تو ہاتھ کاٹنے کی صورت میں واجب ہوتا ہے، اور اس آدمی کے تو دونوں ہاتھ صحیح سلامت ہیں، لہٰذا یہاں ارش بھی واجب نہیں کیا جا سکتا۔ اس پر پھر کوئی معترض اعتراض کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہی بات تو پھر حریت کے اندر بھی ہے۔ آپ نے ”هٰذَا ابْنِي“ کو مجاز قرار دیا ”هٰذَا حُرٌّ“ سے کہ ”هٰذَا ابْنِي“ یہ مجاز ہے کس سے؟ ”هٰذَا حُرٌّ“ سے۔ حالانکہ ”هٰذَا حُرٌّ“ سے مطلق حریت ثابت ہوتی ہے اور ”هٰذَا ابْنِي“ کی وجہ سے جو حریت ثابت ہوتی ہے وہ بطورِ صلہ کے ہے، بطورِ انعام کے ہے۔ شریعت نے ہمیں رشتہ داروں کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دیا ہے تو یہاں جو حریت ثابت ہوگی وہ بطورِ احسان کے اور بطورِ انعام کے ہے بھئی۔ تو ”هٰذَا حُرٌّ“ سے جو حریت ثابت ہوئی وہ مطلق حریت ہے، اور ”هٰذَا ابْنِي“ سے جو حریت ثابت ہوئی وہ بطورِ صلہ کے ہے، تو دونوں حریتیں الگ قسم کی ہیں۔ جیسے ”قَطَعْتُ يَدَكَ“ اس کی وجہ سے مالِ مخصوص واجب ہوتا ہے اور اقرارِ مال کی وجہ سے مطلق مال واجب ہوتا ہے تو وہاں آپ ”قَطَعْتُ يَدَكَ“ اس کو آپ اقرارِ مال سے مجاز قرار نہیں دیتے کیونکہ دونوں مال مختلف قسم کے ہیں، تو یہاں پر بھی ”هٰذَا ابْنِي“ کے اندر جو حریت آئی وہ الگ قسم کی ہے اور ”هٰذَا حُرٌّ“ سے جو حریت آتی ہے وہ الگ قسم کی ہے، تو ”هٰذَا ابْنِي“ کو ”هٰذَا حُرٌّ“ سے مجاز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تو صاحبِ ہدایہ نے اس کا بھی جواب دیا کہ نہیں، دونوں صورتوں میں ایک ہی جیسی حریت آتی ہے۔ ”هٰذَا حُرٌّ“ سے جو حریت آئی اور ”هٰذَا ابْنِي“ سے جو حریت آئی، یہ دونوں حریتیں ذات کے اعتبار سے بھی ایک جیسی ہیں اور حکم کے اعتبار سے بھی ایک جیسی ہیں۔ ذات کے اعتبار سے دونوں حریتیں ایک جیسی ہیں، اس لیے کیونکہ حریت کہتے ہیں زوالِ رقیت کو، غلامی ختم ہو جانا۔ ”هٰذَا حُرٌّ“ کہنے سے بھی غلامی ختم اور ”هٰذَا ابْنِي“ کہنے سے بھی غلامی ختم، تو دیکھو دونوں حریتوں کی ذات ایک جیسی ہے، دونوں میں زوالِ رقیت ہے بھئی۔ اور نیز حکم کے اعتبار سے بھی دونوں حریتیں ایک جیسی ہیں، کیونکہ جب کوئی شخص آزاد ہوتا ہے تو وہ گواہ بن سکتا ہے، اس میں شہادت کی اہلیت آ جاتی ہے، وہ قاضی بن سکتا ہے، اسی طرح وہ چیزوں کا مالک بن سکتا ہے، اسے ولایت حاصل ہو جاتی ہے، وہ اپنا نکاح کر سکتا ہے، وہ تجارت وغیرہ کر سکتا ہے، تو آزادی کی وجہ سے ہر قسم کی ولایتیں بھی حاصل ہو جاتی ہیں اور ہر قسم کی اہلیت بھی انسان کو حاصل ہو جاتی ہے۔ تو جیسے ”هٰذَا حُرٌّ“ کہنے کی وجہ سے یہ احکام ثابت ہوتے ہیں اسی طرح ”هٰذَا ابْنِي“ کہنے سے بھی یہ سارے احکام اس غلام کے لیے ثابت ہو جاتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ ”هٰذَا حُرٌّ“ سے جو آزادی ثابت ہوئی وہ بالکل اسی آزادی کی طرح ہے جو ”هٰذَا ابْنِي“ کی وجہ سے ثابت ہوئی ہے، ذات کے اعتبار سے بھی اور احکام کے اعتبار سے بھی۔ لہٰذا بیٹا ہونے کو حریت سے مجاز قرار دیا جا سکتا ہے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا آپ کو کہ اسی طرح ہے مسئلہ اگر کوئی شخص اپنے غلام کے بارے میں کہے: ”هٰذَا أَبِي“، یا باندی کے بارے میں کہے: ”هٰذِهِ أُمِّي“، اور حال یہ ہے کہ یہ غلام یا باندی جو ہیں اس کے ماں باپ نہیں ہو سکتے۔ یہ غلام یا باندی اس کے ہم عمر ہیں یا اس سے عمر میں کم ہیں، وہ اس کے ماں باپ نہیں ہو سکتے، تو اس صورت میں بھی صاحبین اور امام صاحب کا یہی اختلاف ہے۔ امام صاحب کے نزدیک وہ غلام یا باندی آزاد ہو جائیں گے، جبکہ صاحبین کے نزدیک آزاد نہیں ہوں گے۔ اور اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ اگر کوئی شخص اپنے سے کم عمر غلام کے بارے میں کہے: ”هٰذَا جَدِّي“، یہ میرا دادا ہے، یا یہ میرا نانا ہے، تو بعض فقہاء فرماتے ہیں: اس کے اندر بھی یہی اختلاف ہے امام صاحب اور صاحبین کا، جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ اس صورت میں بالاتفاق یہ غلام آزاد نہیں ہوگا۔ امام صاحب اور صاحبین کا اس میں اتفاق ہے کہ یہ غلام آزاد نہیں ہوگا۔ وجہ یہ کہ غلام کو ”هٰذَا جَدِّي“ کہا اور یہ کہنا اس غلام کے اندر آزادی کا تقاضا کرتا ہے لیکن واسطے کے ساتھ، واسطے کے ساتھ، اور وہ واسطہ باپ ہے اور وہ یہاں کلام کے اندر ذکر نہیں، لہٰذا اس ”هٰذَا جَدِّي“ کو ”هٰذَا حُرٌّ“ سے مجاز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اور اسی طرح اگر آقا نے اپنے غلام کے بارے میں کہا: ”هٰذَا أَخِي“، یہ میرا بھئی ہے، تو ظاہرِ روایت کے مطابق غلام آزاد نہیں ہوگا، اس لیے کیونکہ بھئی کے ساتھ رشتہ ماں باپ کے واسطے سے ہوتا ہے اور وہ واسطہ یہاں پر ذکر نہیں ہے، جبکہ ایک روایت امام صاحب سے ہے کہ ”هٰذَا أَخِي“ کہنے سے بھی غلام آزاد ہو جائے گا، اس لیے کیونکہ مملوک کے اندر جیسے بیٹا ہونا یہ سبب ہے آزادی کا، اسی طرح مملوک کے اندر بھئی ہونے کا وصف بھی ثابت ہو جائے تو یہ بھی سبب ہے آزادی کا، تو وہ آزاد ہو جائے گا بھئی۔ اور اگر آقا نے اپنے غلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ”هٰذِهِ ابْنَتِي“، یہ میری بیٹی ہے۔ اب وہ غلام ہے، مرد ہے، اور آقا اسے کیا کہہ رہا ہے؟ ”هٰذِهِ ابْنَتِي“، تو بیٹی کا لفظ استعمال کر رہا ہے اس کے لیے۔ تو اس صورت میں بھی بعض فقہاء فرماتے ہیں: ہمارے ائمہ کا اس میں اختلاف ہے، اور جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ اس صورت میں بالاتفاق یہ غلام آزاد نہیں ہوگا۔ وجہ یہ کہ یہاں پر اشارہ اور تسمیہ جمع ہو گئے۔ ”هٰذَا“ اس میں اشارہ ہے اور ”ابْنَتِي“ یہ تسمیہ ہے۔ اور جب اشارہ اور تسمیہ جمع ہو جائے تو پھر دیکھا جائے گا کہ مشار الیہ اور مسمیٰ کی جنس ایک ہے یا الگ الگ ہے، اور یہاں پر مشار الیہ اور مسمیٰ کی جنس الگ الگ ہے، کیونکہ مشار الیہ غلام ہے جس کی طرف اشارہ کیا وہ غلام ہے، اور نام کس کا ذکر کیا؟ بیٹی کا، اور وہ مؤنث ہے، تو مشار الیہ جو ہے وہ مذکر ہے اور مسمیٰ جو ہے وہ مؤنث ہے، اور انسانوں کے اندر مرد اور عورت جو ہیں ان کو الگ الگ جنس شمار کیا جاتا ہے۔ دونوں کو الگ الگ جنس شمار کیا جاتا ہے، وجہ یہ کہ مرد اور عورت کی تخلیق کے مقاصد الگ الگ ہیں۔ مرد کی تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ وہ پیغمبر ہو سکے، وہ حاکم اور خلیفہ ہو سکے، اور وہ حدود اور قصاص کے مسئلوں میں گواہ ہو سکے، اسی طرح وہ جمعہ اور عیدین کی نمازیں قائم کر سکے، جبکہ عورت کی تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ وہ گھر کے کام کاج کو سنبھالے اور اسی طرح بچوں کو جنم دے۔ تو مرد کی تخلیق کے مقاصد الگ، عورت کی تخلیق کے مقاصد الگ، تو یہ الگ الگ جنسیں شمار ہوتی ہیں۔ تو یہاں پر بھی آقا نے جب کہا: ”هٰذِهِ ابْنَتِي“، تو مشار الیہ وہ تو مذکر ہے، مرد ہے، اور مسمیٰ یعنی جس کو ذکر کیا وہ تو مؤنث ہے، اور مرد اور عورت دونوں ہیں جو ہیں الگ الگ جنسیں ہیں۔ تو جب مشار الیہ اور مسمیٰ کی جنس الگ الگ ہو تو پھر اس صورت کے اندر مسمیٰ کا اعتبار ہوتا ہے، حکم کا تعلق مسمیٰ سے ہوتا ہے، اور مسمیٰ تو یہاں پر مؤنث ہے اور مؤنث تو یہاں موجود ہی نہیں ہے، لہٰذا آقا کا یہ کلام لغو چلا جائے گا اور یہ غلام آزاد نہیں ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب آئیے آج کے سبق پر: ”وَإِنْ قَالَ لِأَمَتِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ، أَوْ بَائِنٌ، أَوْ تَخَمَّرِي، وَنَوَى بِهِ الْعِتْقَ، لَمْ تَعْتِقْ. وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى: تَعْتِقُ إِذَا نَوَى.“ یاد رکھیے ہمارے نزدیک، ہمارے نزدیک حریت والا لفظ بول کر اس کے ذریعے طلاق کا ارادہ تو صحیح ہے، لیکن اس کا برعکس جائز نہیں ہے کہ آقا جو ہے طلاق والا لفظ ذکر کرے اور ارادہ آزادی کا کرے۔ آزادی والا لفظ بول کر طلاق کا کنایہ کرنا صحیح ہے۔ مثلاً خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ حُرَّةٌ“، تو آزاد ہے، اور طلاق کی نیت کرتا ہے تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ کہنے سے طلاق واقع ہو جائے گی جب خاوند جو ہے اس میں طلاق کی نیت کرے۔ لیکن اگر اس کا برعکس معاملہ ہو، آقا نے اپنی باندی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ“، اور نیت کر رہا ہے حریت کی کہ تو آزاد ہے، تو یاد رکھیے اس صورت میں آقا نیت کر بھی لے پھر بھی باندی آزاد نہیں ہوگی۔ وجہ یہ کہ یہ جو طلاق کا لفظ ہے یہ آزادی کا احتمال رکھتا ہی نہیں۔ جب ایک لفظ کے اندر ایک معنی کا احتمال ہی نہیں ہے تو آپ نیت کر بھی لیں وہ معنی ثابت نہیں ہوگا۔ کسی لفظ میں ایک معنی کا احتمال ہو تو پھر نیت کرنے سے وہ معنی ثابت ہو جاتا ہے، جیسے میں نے آپ کو بتایا: ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ کے ذریعے طلاق کا ارادہ صحیح ہے، وجہ یہ کہ ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ کے اندر طلاق کا احتمال موجود ہے۔ ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ کا معنی: تو آزاد ہے، اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ تو کام کاج سے آزاد ہے، آج سے تمہیں کام کرنے کی ضرورت نہیں، اور ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ تو میرے نکاح سے آزاد ہے۔ توجہ ہے؟ تو دیکھو یہاں پر طلاق کے معنی کا احتمال ہے ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ کے اندر۔ لہٰذا خاوند اپنی بیوی سے ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ کہتا ہے اور طلاق کی نیت کرتا ہے اور طلاق کے معنی کا یہاں احتمال بھی تھا، تو خاوند کے نیت کرنے سے وہ معنی ثابت ہو جائے گا اور بیوی کو طلاق ہو جائے گی۔ لیکن اس کا برعکس، آقا اپنی باندی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ“، اب ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے اندر تو ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ کے معنی کا کوئی احتمال نہیں ہے، لہٰذا آقا اپنی باندی سے کہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ“، اور نیت کرے ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ کہ تو آزاد ہے، تو یہ نیت لغو ہے، بیکار ہے، باندی آزاد نہیں ہوگی کیونکہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے اندر حریت والے معنی کا احتمال ہی نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور یاد رکھنا یہی حکم ہے طلاق کے کنایات کا بھی، طلاق کے کنایات کا بھی۔ جیسے طلاق کے صریح الفاظ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے ذریعے حریت کی نیت کرنا صحیح نہیں، اسی طرح طلاق کے جو کنایات ہیں ”أَنْتِ بَائِنٌ“ یا ”تَخَمَّرِي“ وغیرہ، ان کے ذریعے بھی آزادی کی نیت کی جائے تو آزادی ثابت نہیں ہوگی بھئی۔ جبکہ شوافع اختلاف کرتے ہیں ہم سے۔ وہ کہتے ہیں کہ جیسے ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ کے ذریعے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کی نیت صحیح ہے اسی طرح ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے ذریعے ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ کی نیت بھی صحیح ہے۔ تو وہ دونوں طرف سے مجاز کو صحیح قرار دیتے ہیں۔ یعنی حریت والے لفظ کو طلاق کے لیے استعمال کیا جائے تو بھی یہ صحیح، اور طلاق والے لفظ کو حریت کے لیے استعمال کر لیا جائے تو یہ بھی صحیح ہے۔ جبکہ ہمارے نزدیک حریت والے لفظ کو تو طلاق کے لیے مجازاً استعمال کیا جا سکتا ہے کیونکہ حریت کے اندر طلاق کے معنی کا احتمال ہے، لیکن طلاق والے لفظ کو مجازاً حریت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا کیونکہ طلاق کے لفظ میں حریت کا احتمال نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں دیکھیے بھئی کتاب پر: ”وَإِنْ قَالَ لِأَمَتِهِ“، اور اگر آقا نے اپنی باندی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ“، تجھے طلاق ہے، یہ طلاق کا صریح لفظ ذکر کر دیا، ”أَوْ بَائِنٌ، أَوْ تَخَمَّرِي“، یہ کنائے ذکر کر دیے۔ ”أَنْتِ بَائِنٌ“، تو جدا ہے، یہ طلاق سے کنایہ ہے بھئی۔ مثلاً خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ بَائِنٌ“، تو جدا ہے، یعنی میں تجھے طلاق دے چکا ہوں، تو مجھ سے جدا ہے۔ اور اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے: ”أَنْتِ بَائِنٌ“، تو جدا ہے یعنی اور عورتوں سے تو جدا ہے اپنی عادتوں میں یا اپنے حسن و جمال میں، تو دونوں معنی ہو سکتے ہیں، تو یہ کنایہ ہے طلاق سے۔ یا اسی طرح ”تَخَمَّرِي“، تخمر جو ہے یہ خمار سے ہے۔ خمار یعنی دوپٹہ، اوڑھنی بھئی۔ ”تَخَمَّرِي“، تو دوپٹہ اوڑھ لے، تو یہ بھی طلاق سے کنایہ ہے بھئی۔ اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ تو دوپٹہ اوڑھ لے، مجھ سے پردہ کر لے، میں نے تجھے طلاق دے دی ہے۔ اور اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ تو دوپٹہ اوڑھ لے اور میرے ساتھ طلاق وغیرہ کی بحث نہ کر بلکہ معزز عورتوں کی طرح دوپٹہ اوڑھ لے۔ تو لہٰذا یہ بھی کنایہ ہے۔ تو آقا نے اپنی باندی سے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہا یعنی طلاق کا صریح لفظ ذکر کیا، یا ”أَنْتِ بَائِنٌ“ یا ”تَخَمَّرِي“ کہا یعنی طلاق کا کنایہ لفظ ذکر کیا، تو عند الاحناف دونوں صورتوں میں آزادی واقع نہیں ہوگی چاہے آقا آزادی کی نیت ہی کیوں نہ کر لے۔ جبکہ شوافع کے نزدیک دونوں صورتوں میں آزادی ثابت ہو جائے گی اور وہ باندی آزاد ہو جائے گی۔ یہ طلاق کے الفاظ میں ان کے نزدیک آقا کا آزادی کی نیت کرنا صحیح ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ قَالَ لِأَمَتِهِ“، اور اگر آقا نے اپنی باندی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ“، کہ تجھے طلاق ہے، ”أَوْ بَائِنٌ“، کہ تو جدا ہے، ”أَوْ تَخَمَّرِي“، کہ تو دوپٹہ اوڑھ لے، ”وَنَوَى بِهِ الْعِتْقَ“، اور اس کے ذریعے آقا نے آزادی کی نیت کی، ”لَمْ تَعْتِقْ“، یہ باندی آزاد نہیں ہوگی۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ: تَعْتِقُ إِذَا نَوَى“، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ باندی آزاد ہو جائے گی ”إِذَا نَوَى“ جب آقا آزادی کی نیت کرے۔ تو ان کے نزدیک طلاق کے الفاظ سے بھی آزادی واقع ہو جائے گی جب آقا اس کی نیت کرے۔ ”وَكَذَا عَلَى هَذَا الْخِلَافِ سَائِرُ أَلْفَاظِ الصَّرِيحِ وَالْكِنَايَةِ“، اور اسی طرح اسی اختلاف پر ہیں ”سَائِرُ أَلْفَاظِ الصَّرِيحِ وَالْكِنَايَةِ“، باقی الفاظ صریح اور کنایہ کے۔ یعنی طلاق کے جو باقی الفاظ ہیں چاہے وہ صریح ہیں چاہے وہ کنایہ ہیں، ان کے اندر بھی ہمارا اور شوافع کا اسی طرح اختلاف ہے۔ ہمارے نزدیک ان کو آزادی کے لیے مجازاً استعمال نہیں کیا جا سکتا، اس سے آزادی ثابت نہیں ہوگی، جبکہ ان کے نزدیک ان کو مجازاً آزادی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس سے آزادی ثابت ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا عَلَى هَذَا الْخِلَافِ“، اور اسی طرح اسی اختلاف پر ہیں، ”سَائِرُ أَلْفَاظِ الصَّرِيحِ وَالْكِنَايَةِ“، باقی الفاظ صریح اور کنایہ کے، ”عَلَى مَا قَالَ مَشَايِخُهُمْ رَحِمَهُمُ اللّٰهُ“، بوجہ اس کے جو ان شوافع کے فقہاء نے کہا ہے۔ ”عَلَى“، میں نے بتایا کہ ”عَلَى“ علت بیان کرنے کے لیے آتا ہے تو یہاں علت والا معنی، کہ اسی اختلاف پر ہے صریح اور کنایہ کے باقی الفاظ بھی، ”عَلَى مَا قَالَ مَشَايِخُهُمْ رَحِمَهُمُ اللّٰهُ“، بوجہ اس کے جو شوافع کے فقہاء نے فرمایا ہے۔ یاد رکھو امام شافعی رحمہ اللہ سے صرف ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے بارے میں منقول ہے، وہ فرماتے ہیں ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کو مجازاً ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن طلاق کے باقی الفاظ کے بارے میں ان سے کوئی بات ذکر نہیں، لیکن شوافع کے باقی فقہاء فرماتے ہیں کہ طلاق کے تمام الفاظ کا یہی حکم ہے چاہے وہ صریح ہوں چاہے کنایہ۔ اپنی باندی کے لیے آقا جب ان الفاظ کو استعمال کرے اور آزادی کی نیت کرے تو اس سے آزادی ثابت ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا عَلَى هَذَا الْخِلَافِ سَائِرُ أَلْفَاظِ الصَّرِيحِ وَالْكِنَايَةِ“، اور اسی طرح اسی اختلاف پر ہیں صریح اور کنایہ کے باقی الفاظ، ”عَلَى مَا قَالَ مَشَايِخُهُمْ رَحِمَهُمُ اللّٰهُ“، بوجہ اس کے جو ان شوافع کے فقہاء نے فرمایا ہے۔ ”لَهُ أَنَّهُ نَوَى“، ہاں جی، اب آگے امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل آ رہی ہے۔ دلیل سنیں امام شافعی رحمہ اللہ کی: ”لَهُ“، امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے: ”أَنَّهُ نَوَى مَا يَحْتَمِلُهُ لَفْظُهُ“، کہ آقا نے نیت کی ہے ”مَا“ اس معنی کی ”يَحْتَمِلُهُ لَفْظُهُ“ کہ جس کا یہ لفظ احتمال رکھتا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آقا نے طلاق کا لفظ ذکر کیا ہے اور اس کے اندر آزادی کی نیت کی ہے، اور طلاق کا لفظ آزادی کا احتمال رکھتا ہے۔ ہم نے تو کہا کہ طلاق کا لفظ آزادی کا احتمال نہیں رکھتا لیکن امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق کا لفظ آزادی کا احتمال رکھتا ہے بھئی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”أَنْتِ طَالِقٌ“ یہ ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ کا احتمال رکھتا ہے، اس کے اندر اس معنی کا بھی احتمال ہے۔ ”لَهُ“، امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ نَوَى مَا يَحْتَمِلُهُ لَفْظُهُ“، کہ آقا نے اس معنی کی نیت کی ہے کہ جس کا اس لفظ میں احتمال ہے۔ بھئی یاد رکھو، آپ پڑھ چکے ہیں، ایک لفظ میں ایک معنی کا احتمال ہو تو اس کی نیت کی جا سکتی ہے۔ اگر ایک معنی کا احتمال ہی نہیں ہے اس کی نیت بھی نہیں کی جا سکتی، جیسے کوئی شخص بکری کہتا ہے اور ہاتھی کا ارادہ کرتا ہے، بھئی بکری کے لفظ کے اندر تو ہاتھی کے معنی کا کوئی احتمال نہیں ہے، لہٰذا آپ ہاتھی کی نیت بھی نہیں کر سکتے۔ تو کہتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آقا نے اس معنی کی نیت کی ہے جس کا یہ لفظ احتمال بھی رکھتا ہے، ”لِأَنَّ بَيْنَ الْمِلْكَيْنِ مُوَافَقَةً“، اس لیے کیونکہ دونوں ملکیتوں کے درمیان موافقت ہے۔ بھئی ایک ہے غلام کا یا باندی کا مالک ہونا، تو اس میں ملکِ یمین حاصل ہوتی ہے، اس کی ذات کا مالک ہوتا ہے انسان، اور نکاح کے اندر ملکِ نکاح حاصل ہوتی ہے انسان کو یعنی بیوی کے منافع کا مالک ہوتا ہے انسان، کہ بیوی سے وہ صحبت کر سکتا ہے۔ تو نکاح کس چیز کا نام ہے؟ نکاح منافع کی ملکیت کا نام ہے، اور ملکِ یمین وہ ذات کی ملکیت، اس میں انسان دوسرے کی ذات کا مالک ہوتا ہے۔ لیکن امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دونوں ملکیتیں ایک جیسی ہیں، دونوں ملکیتیں ایک جیسی ہیں۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے دونوں ملکیتیں ایک جیسی کیسے ہیں؟ ایک میں ایک شخص دوسری چیز کی پوری ذات کا مالک ہے اور ایک میں صرف منافع کا مالک ہے۔ مثلاً ایک مکان ہے آپ کا، تو آپ اس مکان کے مالک ہیں، ذات کے اس کے مالک ہیں، اور ایک ہے آپ کرائے پر مکان لے کر رہتے ہیں تو یہاں صرف آپ منافع کے مالک ہیں، مکان کے مالک نہیں، تو منافع کا مالک ہونا یہ اور چیز ہوتی ہے اور ذات کا مالک ہونا اور چیز ہوتی ہے۔ لیکن امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہیں، یہ دونوں ملکیتیں ایک دوسرے جیسی ہیں۔ کس طرح؟ وہ دیکھیے بیان فرمائیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ بَيْنَ الْمِلْكَيْنِ مُوَافَقَةً“، اس لیے کیونکہ دونوں ملکیتوں کے درمیان موافقت ہے، ایک ملکِ نکاح اور ایک ملکِ یمین بھئی۔ ”إِذْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِلْكُ عَيْنٍ“، اس لیے کیونکہ ان دونوں میں سے ہر ایک جو ہے ”مِلْكُ عَيْنٍ“، وہ ذات کی ملکیت ہے۔ عین کہتے ہیں ذات کو۔ دونوں میں سے ہر ایک وہ ذات کی ملکیت ہے۔ بھئی کیسے ذات کی ملکیت ہے؟ ملکِ یمین تو ذات کی ملکیت ہے اور ملکِ نکاح تو صرف منافع کی ملکیت ہے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہیں، یہ ملکِ نکاح بھی ملکِ یمین کی طرح ہے حکم کے اعتبار سے، یعنی اس پر بھی ملکِ عین والا ہی حکم لگا دیا جائے گا۔ اس پر بھی ملکِ عین والا ہی حکم لگا دیا جائے گا۔ توجہ ہے؟ یعنی حقیقت کے اعتبار سے تو ملکِ نکاح ملکِ عین نہیں لیکن اس پر بھی ملکِ عین والا ہی حکم لگا دیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”إِذْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِلْكُ عَيْنٍ“، اس لیے کیونکہ ان دونوں میں سے ہر ایک جو ہے وہ ذات کی ملکیت ہے، ”أَمَّا مِلْكُ الْيَمِينِ فَظَاهِرٌ“، تو ملکِ یمین جو ہے وہ تو ظاہر ہے، ملکِ یمین میں تو انسان ذات کا مالک ہوتا ہے، غلام یا باندی کی ذات کا مالک ہوتا ہے، ”وَكَذَا مِلْكُ النِّكَاحِ فِي حُكْمِ مِلْكِ الْعَيْنِ“، اور اسی طرح ملکِ نکاح جو ہے یہ بھی ملکِ عین کے حکم میں ہے، ”حَتَّى كَانَ التَّأْبِيدُ مِنْ شَرْطِهِ“، یہاں تک کہ مؤبد ہونا یہ اس کی شرط میں سے ہے، ”وَالتَّوْقِيتُ مُبْطِلًا لَهُ“، اور وقت مقرر کرنا وہ اس کو باطل کر دیتا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ملکِ یمین میں انسان غلام یا باندی کی ذات کا مالک بن جاتا ہے، اور چند دن کے لیے بنا یا ہمیشہ کے لیے بنا؟ ہمیشہ کے لیے مالک ہے، جب تک وہ آقا ان کو بیچتا نہیں ہے وہ آقا کی ملک سے نہیں نکلیں گے۔ اسی طرح ملکِ نکاح بھی جو انسان کو حاصل ہوتی ہے وہ بھی ہمیشہ کے لیے حاصل ہوتی ہے۔ ایک شخص ایک عورت سے نکاح کرتا ہے تو وہ نکاح ہمیشہ کے لیے ہونا چاہیے۔ اگر آپ اس میں مدت کی قید لگا دیتے ہیں کہ میں چھ ماہ کے لیے نکاح کرتا ہوں یا سال کے لیے، تو یہ نکاح باطل ہے، یہ تو نکاحِ متعہ بن جائے گا بھئی اور وہ شرعاً باطل ہے۔ تو معلوم ہوا جیسے ملکِ یمین ہمیشہ کے لیے ہوتی ہے، ملکِ نکاح کا بھی ہمیشہ کے لیے ہونا ضروری ہے۔ اگر آپ اس میں وقت کی قید لگائیں گے تو وہ نکاح ہی باطل ہے۔ تو معلوم ہوا ملکِ نکاح بھی ملکِ یمین کی طرح ہے۔ جیسے ملکِ یمین میں مؤبد ملکیت حاصل ہوتی ہے اسی طرح ملکِ نکاح میں بھی مؤبد ملکیت حاصل ہوتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”حَتَّى كَانَ التَّأْبِيدُ مِنْ شَرْطِهِ“، یہاں تک کہ مؤبد ہونا یعنی ہمیشہ کے لیے ہونا ”مِنْ شَرْطِهِ“، یہ نکاح کی شرط میں سے ہے، ”وَالتَّوْقِيتُ مُبْطِلًا لَهُ“، اور وقت کا لگانا اس کو باطل کرنے والا ہے۔ سبق یہیں تک رہنے دیجیے۔ ”وَالتَّوْقِيْتُ مُبْطِلٌ لَهُ“ ”وَقَّتَ يُوَقِّتُ تَوْقِيْت“ کا معنی ہے وقت مقرر کرنا۔ ”وَالتَّوْقِيْتُ مُبْطِلٌ لَهُ“ اور وقت مقرر کرنا یہ اس کو باطل کرنے والا ہے۔ ”وَعَمَلُ اللَّفْظَيْنِ فِي إِسْقَاطِ مَا هُوَ حَقُّهُ“ اب امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اتنا تو ہم نے بتلا دیا کہ مِلکِ یمین اور مِلکِ نکاح دونوں ایک دوسرے جیسی ہیں، اور مِلکِ یمین جو ہے اس کو آزادی کے لفظ کے ساتھ ساقط کیا جاتا ہے۔ جی۔ آقا اپنی باندی سے کہے گا ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ تو وہ باندی آزاد ہو جائے گی اور مِلکِ یمین ساقط ہو جائے گی۔ اسی طرح خاوند جو ہے اس کو مِلکِ نکاح حاصل ہے بیوی پر، تو خاوند جب بیوی سے کہے گا ”أَنْتِ طَالِقٌ“ تو اس کے ذریعے خاوند نے اپنی ملکیت کو ساقط کر دیا۔ معلوم ہوا آزاد کرنا یہ بھی اسقاطِ ملکیت کا نام ہے، اور طلاق دینا یہ بھی اسقاطِ ملکیت کا نام ہے۔ جی۔ آقا اپنی باندی کو آزاد کرے گا تو مِلکِ یمین ساقط ہو جائے گی، اور اسی طرح خاوند اپنی بیوی کو طلاق دے گا تو مِلکِ نکاح ساقط ہو جائے گی۔ معلوم ہوا طلاق بھی اسقاطِ ملکیت کا نام ہے اور آزاد کرنا یعنی اعتاق جو ہے وہ بھی اسقاطِ ملکیت کا نام ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں ”وَعَمَلُ اللَّفْظَيْنِ“ اور یہ دونوں لفظوں کا عمل، کون سے دونوں لفظ؟ ایک طلاق والا اور ایک حریت والا، کہتے ہیں ”وَعَمَلُ اللَّفْظَيْنِ فِي إِسْقَاطِ مَا هُوَ حَقُّهُ“ اور دونوں لفظوں کا عمل جو ہے ”فِي إِسْقَاطِ مَا“ اس چیز کے ساقط کرنے میں ہے ”هُوَ حَقُّهُ“ جو اس کہنے والے کا حق ہے۔ جی۔ ان دونوں لفظوں کا عمل کیا ہے؟ کہ یہ اس کہنے والے کے حق کو ساقط کر دیتی ہیں، ”وَهُوَ الْمِلْكُ“ اور وہ اس کی ملکیت ہے۔ طلاق کا لفظ خاوند کہے گا تو خاوند کا جو حقِ ملکیت تھا یعنی مِلکِ نکاح وہ ساقط ہو جائے گا، اور آقا اپنی باندی سے کہے گا ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ تو اس ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ کی وجہ سے آقا کا جو حقِ ملکیت تھا یعنی مِلکِ یمین وہ ملکیت ساقط ہو جائے گی۔ تو چاہے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہہ لیں، چاہے ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ کہہ دیں، دونوں میں اسقاطِ ملکیت ہے۔ کہنے والا اپنے حق کو دوسرے پر سے ساقط کر رہا ہے، اس کو ختم کر رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں ”وَعَمَلُ اللَّفْظَيْنِ“ اور دونوں لفظوں کا عمل جو ہے ”فِي إِسْقَاطِ مَا“ اس چیز کے ساقط کرنے میں ہے ”هُوَ حَقُّهُ“ جو اس کہنے والے کا حق ہے ”وَهُوَ الْمِلْكُ“ اور وہ اس کی ملکیت ہے، تو ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ یہ بھی اسقاطِ ملکیت کا نام ہے اور ”أَنْتِ طَالِقٌ“ یہ بھی اسقاطِ ملکیت کا نام ہے۔ چنانچہ اسی لیے ان کی تعلیق بھی صحیح ہے۔ یاد رکھو! اسقاط کو معلق کیا جا سکتا ہے۔ جی۔ کس کو؟ اسقاط کو۔ ایک ہے اسقاط ایک ہے اثبات۔ اسقاط میں ایک چیز کو آپ ساقط کرتے ہیں ختم کرتے ہیں، اور اثبات میں آپ ایک چیز کو ثابت کرتے ہیں۔ مثلاً آپ نے ایک آدمی سے بیع کی، مثلاً آپ نے اس سے کتاب خریدی کہ یہ کتاب میں نے آپ سے پانچ سو روپے میں خرید لی، وہ کہتا ہے مجھے منظور ہے۔ تو بیع کرتے ہی اب اس کتاب میں آپ کی ملکیت ثابت ہو گئی، آپ اس کتاب کے مالک بن گئے۔ جی۔ تو بیع کس چیز کا نام ہے؟ اثبات کا نام ہے۔ جی۔ اور اسی طرح نکاح کرتا ہے، ایک آدمی ایک عورت سے نکاح کرتا ہے تو جیسے ہی ایجاب و قبول ہوا یہ دونوں میاں بیوی بن گئے، خاوند کی ملکیت بیوی میں ثابت ہو گئی۔ جی۔ تو نکاح بھی اثباتِ ملکیت کا نام، بیع بھی اثباتِ ملکیت کا نام، جب کہ طلاق اور آزادی یہ اسقاط کا نام ہے۔ اور یاد رکھو فقہ کا ضابطہ ہے کہ یہ جو اسقاط ہوتے ہیں یہ تعلیق کو قبول کر لیتے ہیں۔ آپ اسقاط کو معلق کر سکتے ہیں کسی شرط یا ملکیت کے ساتھ، جب کہ جو اثبات ہوتا ہے وہ تعلیق کو قبول نہیں کرتا، وہاں آپ نکاح یا بیع وغیرہ کو معلق نہیں کر سکتے۔ جی۔ مثلاً ایک آدمی دوسرے شخص سے عقد کرتا ہے کہ اگر تم نے یہ کام کر دیا تو میرے اور تمہارے درمیان یہ بیع ہو گئی، یہ تو آپ اثبات کو معلق کر رہے ہیں، اثبات کو معلق نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ جی۔ کیونکہ یہ تو جوئے جیسی صورت بن گئی، پتہ نہیں وہ کام ہوتا ہے یا نہیں ہوتا، نفع ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ جوئے جیسی صورت بن گئی، تو جو اثبات ہے وہ تعلیق کو قبول نہیں کرتا، اس کو کسی شرط کے ساتھ معلق نہیں کیا جا سکتا، جب کہ جو اسقاط ہے وہ تعلیق کو قبول کر لیتا ہے، آپ اس کو شرط یا ملکیت کے ساتھ معلق کر سکتے ہیں۔ جی۔ مثلاً ایک آدمی بیوی سے کہتا ہے کہ اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، تو طلاق اسقاط کا نام ہے۔ تو دیکھو یہاں تعلیق ہو گئی، یہ طلاق معلق ہو گئی، یہ عورت اس گھر میں جائے گی تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ یا آقا اپنے غلام سے کہتا ہے کہ اگر تو اس گھر میں گیا تو تو آزاد ہے، تو یہاں پر بھی دیکھو یہ آزادی یہ اسقاط کا نام ہے، اسی لیے یہ تعلیق کو قبول کر لیتا ہے، غلام اس گھر میں جائے گا تو آزاد ہو جائے گا۔ جی۔ تو حاصل کلام یہ کہ جو اسقاط ہے وہ تعلیق کو قبول کر لیتے ہیں، اور جو اثبات ہے وہ تعلیق کو قبول نہیں کرتا۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق بھی اسقاط کا نام ہے اور یہ آزادی یہ بھی اسقاط کا نام ہے، اسی لیے دونوں تعلیق کو قبول کر لیتے ہیں۔ دیکھیے بھئی کتاب پر! کہتے ہیں: ”وَعَمَلُ اللَّفْظَيْنِ فِي إِسْقَاطِ مَا هُوَ حَقُّهُ“ اور یہ دونوں لفظوں کا عمل جو ہے ”فِي إِسْقَاطِ“ اس چیز کے ساقط کرنے میں ہے ”مَا هُوَ حَقُّهُ“ جو اس کہنے والے کا حق ہے۔ یہ دونوں لفظ بھئی، کون سے دونوں لفظ؟ ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ اور ”أَنْتِ طَالِقٌ“۔ جی۔ ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ سے بھی آقا کا اپنا حق باندی سے ساقط ہو جاتا ہے، ملکیت ساقط ہو جاتی ہے۔ اور اسی طرح خاوند جب اپنی بیوی سے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہتا ہے تو اس کے اندر بھی خاوند کا حق بیوی پر سے ساقط ہو جاتا ہے، مِلکِ نکاح ختم ہو جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَعَمَلُ اللَّفْظَيْنِ“ اور ان دونوں لفظوں کا عمل جو ہے ”فِي إِسْقَاطِ مَا هُوَ حَقُّهُ“ یہ اس چیز کے ساقط کرنے میں ہے جو اس کہنے والے کا حق ہے ”وَهُوَ الْمِلْكُ“ اور وہ اس کی ملکیت ہے، وہ ساقط ہو جائے گی، ”وَلِهَذَا يَصِحُّ التَّعْلِيقُ فِيهِ بِالشَّرْطِ“ اور اسی لیے اس کے ساتھ تعلیق بالشرط صحیح ہے۔ جی۔ طلاق اور اعتاق دونوں کس چیز کا نام ہیں؟ اسقاط کا نام ہیں، اسی لیے ان کے درمیان تعلیق بالشرط بھی صحیح ہے، ان کو شرط کے ساتھ معلق کرنا صحیح ہے بھئی۔ ”أَمَّا الْأَحْكَامُ فَتَثْبُتُ بِسَبَبٍ سَابِقٍ وَهُوَ كَوْنُهُ مُكَلَّفًا، وَلِهَذَا يَصْلُحُ لَفْظَةُ الْعِتْقِ وَالتَّحْرِيرِ كِنَايَةً عَنِ الطَّلَاقِ فَكَذَا عَكْسُهُ“ بھئی دیکھیے! ایک سطر بعد ہماری دلیل آ رہی ہے، پہلے تھوڑا سا اس کو دیکھ لیں، پھر یہیں سے دوبارہ ہم امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل پڑھیں گے بھئی۔ نیچے ایک سطر بعد ہے: ”وَلَنَا: أَنَّهُ نَوَى مَا لَا يَحْتَمِلُهُ لَفْظُهُ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ اس آقا نے اس چیز کی نیت کی ہے کہ جس کا احتمال وہ لفظ نہیں رکھتا۔ جی۔ آقا نے اپنی باندی سے کہا ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ اور نیت کس کی کر رہا ہے؟ آزادی کی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے اندر آزادی کا احتمال ہے، لہٰذا آقا کی نیت صحیح ہے، باندی آزاد ہو جائے گی۔ جب کہ ہمارے نزدیک ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے اندر آزادی کا احتمال ہی نہیں ہے، جب ایک چیز کا احتمال ہی نہیں ہے تو اس کی نیت بھی نہیں کی جا سکتی۔ جی۔ تو کہتے ہیں ”وَلَنَا“ ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ نَوَى مَا لَا يَحْتَمِلُهُ لَفْظُهُ“ کہ آقا نے اس اعتاق کی نیت کی ہے کہ طلاق کا لفظ اس کا احتمال نہیں رکھتا۔ جی۔ ”لِأَنَّ الْإِعْتَاقَ لُغَةً“ اس لیے کیونکہ اعتاق جو ہے لغۃً عربی زبان کے اعتبار سے ”إِثْبَاتُ الْقُوَّةِ“ وہ قوت کو ثابت کرنا ہے۔ ایک چیز میں قوت نہ ہو اس میں قوت ثابت کر دی جائے اس کو اعتاق کہتے ہیں۔ جی۔ اس کو؟ اعتاق۔ چنانچہ عربی زبان میں کہتے ہیں جب پرندے کا بچہ پرندے کا بچہ بڑا ہوا، طاقتور ہو گیا اور گھونسلے سے اڑنے کے قابل ہو گیا تو عربی میں کہتے ہیں ”عَتَقَ الطَّائِرُ“۔ جی۔ ”عَتَقَ الطَّائِرُ“ پرندہ طاقت والا ہو گیا، یعنی اب یہ اڑنے کے قابل ہو گیا۔ تو ”عَتَقَ“ کا معنی طاقت والا ہونا، تو اسی کو باب افعال میں لے جاؤ ”أَعْتَقَ“، تو ”أَعْتَقَ“ کا معنی ہے قوت دینا، قوت ثابت کرنا۔ جی۔ ”عَتَقَ“ کا معنی خود طاقتور ہونا اور ”أَعْتَقَ“ کا معنی دوسرے کو قوت دینا، دوسرے میں قوت ثابت کرنا۔ اور غلام بھی دیکھو، غلام جب تک غلام تھا وہ تو بے جان چیزوں کی طرح تھا، اس کو تو بے جان چیزوں کی طرح بیچا جاتا ہے اور اس کو کسی چیز کا اختیار نہیں ہوتا، وہ اپنی مرضی سے نکاح نہیں کر سکتا، وہ اپنی مرضی سے بیع و شراء نہیں کر سکتا، وہ کسی چیز کا مالک نہیں بن سکتا۔ تو غلام تو بے جان چیزوں کی طرح تھا، لیکن جب آقا اس کو آزاد کرے گا تو آقا نے اس کو قوت دے دی، آقا نے اس کے اندر قوت ثابت کر دی، اب اس کو یہ ساری ولایتیں حاصل ہو گئیں۔ وہ شادی بھی اپنی مرضی سے کر سکتا ہے، وہ تجارت بھی کر سکتا ہے، وہ اہل شہادت بھی ہو گیا بھئی، وہ چیزوں کا مالک بھی اب بن سکتا ہے۔ تو آقا نے اس میں قوت ثابت کر دی۔ یہ قوت پہلے غلام میں نہیں تھی۔ جی۔ تو اعتاق کس چیز کا نام ہے؟ اثباتِ قوت کا نام ہے، ایک چیز میں قوت ثابت کرنا جو پہلے نہیں تھی۔ جی۔ جب کہ اس کے مقابلے میں طلاق جو ہے طلاق کا معنی ہے ”رَفْعُ الْقَيْدِ“۔ جی۔ قید یعنی بندش کو دور کر دینا، جی، رکاوٹ کو دور کر دینا، اس کو کہتے ہیں طلاق بھئی۔ جی۔ بندش کو دور کر دینا، رکاوٹ کو دور کر دینا، کیونکہ طلاق کا لفظ ماخوذ ہے عربوں کے اس قول سے، عرب جب کسی اونٹ کو رسی سے کھول دیتے تو کہتے ”أَطْلَقْتُ الْبَعِيرَ“۔ جی۔ میں نے اونٹ کو آزاد چھوڑ دیا، میں نے اونٹ کو کھلا چھوڑ دیا۔ جی۔ تو ”أَطْلَقَ الْبَعِيرَ“ کا کیا معنی؟ اونٹ کو کھلا چھوڑنا یعنی رکاوٹ کو اور بندش اور رسی کو دور کر دینا۔ جی۔ اور اسی سے طلاق کا لفظ بھی ہے، معلوم ہوا طلاق کا معنی ہے رکاوٹ کو دور کرنا، بندش کو دور کرنا۔ جی۔ مجھے بتائیے! جب مالک نے اونٹ کی رسی کھول دی تو کیا رسی کھولنے کی وجہ سے اونٹ میں چلنے کی طاقت آ گئی یا اونٹ میں پہلے سے ہی چلنے کی طاقت موجود تھی؟ پہلے سے اونٹ میں چلنے کی طاقت موجود تھی، ہاں صرف ایک مانع تھا، ایک رکاوٹ تھی کہ وہ باندھا ہوا تھا۔ تو جب اس کو کھول دیا تو آپ نے قید کھول دی تو وہ اب چل پڑا، اب وہ آزادی سے گھومتا چرتا پھرے گا بھئی۔ جی۔ تو طلاق اثباتِ قوت کا نام نہیں ہے، جی، بلکہ طلاق رفعِ قید کا نام ہے، قید کو اٹھانا، بندش کو اٹھا دینا۔ قوت وہاں پہلے سے ہی موجود تھی۔ جی۔ اور اعتاق کس چیز کا نام ہے؟ اثباتِ قوت کا نام ہے، وہاں پہلے سے قوت موجود نہیں تھی۔ تو دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔ ایک اثباتِ قوت کا نام ہے جو پہلے موجود نہیں تھی، اور دوسرا جو ہے وہ صرف رفعِ قید کا نام ہے جہاں پہلے سے قوت موجود تھی، صرف ایک رکاوٹ تھی اس رکاوٹ کو دور کر دیا گیا بھئی۔ تو جب دونوں الگ الگ چیزیں ہیں تو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ بول کر ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ کا ارادہ نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کا معنی ہے میں نے رکاوٹ دور کر دی، اور ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ کا معنی تو یہ ہے میں نے آپ کو قوت دے دی۔ جی۔ تو لہٰذا یہاں ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کو ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ سے مجاز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تو حاصل یہ، حاصل یہ کہ ہمارے نزدیک اعتاق نام ہے اثباتِ قوت کا، قوت ثابت کرنا، قوت دینا، کیونکہ غلام کے اندر پہلے نہ گواہی دینے کی اہلیت تھی، نہ مالک بننے کی اہلیت تھی، نہ وہ اپنی مرضی سے نکاح وغیرہ کا تصرف کر سکتا تھا، لیکن اب آقا جب اس کو آزاد کرے گا تو یہ اس میں قوت ثابت ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب پھر آئیے ذرا امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل پر۔ جی۔ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی تھی، وہ فرماتے ہیں کہ اعتاق وہ بھی اسقاط کا نام ہے اور طلاق جو ہے وہ بھی اسقاط کا نام ہے، اور دونوں ملکیتوں میں بھی موافقت ہے، دونوں ملکیتیں بھی ایک جیسی ہیں، لہٰذا ایک لفظ کو دوسرے لفظ کی جگہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے نزدیک اعتاق وہ اثباتِ قوت کا نام ہے، وہ اسقاط کا نام نہیں بلکہ اثبات کا نام ہے۔ چنانچہ اسی لیے غلام کے اندر پہلے شہادت کی اہلیت نہیں تھی، اس کے اندر چیزوں کا مالک بننے کی اہلیت نہیں تھی، اس میں اپنا نکاح اپنی مرضی سے کرنے کی اہلیت نہیں تھی۔ توجہ ہے؟ لیکن جب وہ آزاد ہو گیا تو ان چیزوں کی اہلیت اس میں آ گئی۔ تو معلوم ہوا اعتاق وہ اثبات کا نام ہے، اسقاط کا نام نہیں ہے۔ جی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں! یہ جو اعتاق ہے یہ اثباتِ قوت کا نام نہیں ہے، یہ اسقاطِ ملکیت کا نام ہے، ہم نے آپ کو بتلا دیا۔ ہم نے آپ کو بتلا دیا کہ ایک ہے مِلکِ نکاح، ایک ہے مِلکِ یمین، دونوں ملکیتوں کے اندر موافقت ہے، مناسبت ہے۔ یہ دونوں مِلکِ عین کے درجے میں ہیں، مِلکِ یمین کا تو مِلکِ عین ہونا ظاہر ہے، اور جو مِلکِ نکاح ہے وہ بھی مِلکِ عین کے حکم میں ہے، اس لیے کیونکہ اس کے اندر بھی تابید شرط ہے، اس کا مؤبد ہونا شرط ہے، اور توقیت جو ہے وہ اس کو باطل کرنے والی ہے بھئی۔ تو یہ دونوں ملکیتوں میں مناسبت ہے، اور یہ جو دونوں لفظ ہیں ایک طلاق والا، ایک حریت والا، یہ دونوں لفظ ان ملکیتوں کو ساقط کرتے ہیں۔ تو معلوم ہوا طلاق اور اعتاق یہ اسقاطِ ملکیت کا فائدہ دیتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے اس اعتاق کے اندر بھی شرط کے ذریعے تعلیق صحیح ہے، اس کو شرط کے ذریعے معلق کرنا صحیح ہے، کیونکہ اسقاط جو ہے اس کو تو معلق کیا جا سکتا ہے، لیکن اثباتِ ملکیت جو ہے کہ ملکیت ثابت کرنا اس کو تو شرط کے ساتھ معلق نہیں کیا جا سکتا۔ تو اے احناف! آپ کے نزدیک بھی اعتاق جو ہے اس کو شرط کے ساتھ معلق کیا جا سکتا ہے، معلوم ہوا یہ اسقاط کی قبیل سے ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں ”وَلِهَذَا يَصِحُّ التَّعْلِيقُ فِيهِ بِالشَّرْطِ“ اور اسی لیے اعتاق کے اندر تعلیق بالشرط صحیح ہے، اور اسی وجہ سے اعتاق کو شرط کے ساتھ معلق کرنا صحیح ہے۔ ”أَمَّا الْأَحْكَامُ فَتَثْبُتُ بِسَبَبٍ سَابِقٍ وَهُوَ كَوْنُهُ مُكَلَّفًا“ ہم نے کہا تھا اعتاق جو ہے اثباتِ قوت کا نام ہے۔ جی۔ چنانچہ اسی لیے غلام جو ہے اس سے پہلے اس میں شہادت کی اہلیت نہیں تھی، آزاد ہو گا اس میں شہادت کی اہلیت آ جائے گی، وہ قاضی بن سکتا ہے، وہ چیزوں کا مالک بن سکتا ہے، وہ بیع و شراء اور تجارت کر سکتا ہے، جب کہ یہ قوت اس میں پہلے موجود نہیں تھی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں! اعتاق جو ہے وہ اثباتِ قوت کا نام نہیں ہے، یہ اسقاطِ ملکیت کا نام ہے، اور یہ جو غلام کے اندر ان چیزوں کی قوت آ گئی، کہتے ہیں یہ قوت اس کے اندر پہلے سے ثابت تھی۔ جی۔ کیونکہ وہ انسان ہے، عاقل ہے، بالغ ہے، مکلف ہے۔ تو یہ جو چیزیں تھیں ان کی قوت اس کے اندر پہلے سے ہی ثابت تھی، ہاں صرف ایک مانع موجود تھا کہ وہ غلام تھا۔ اس لیے وہ گواہ نہیں بن سکتا تھا۔ ہاں اگرچہ گواہ بننے کی صلاحیت اس میں پہلے تھی، کیونکہ وہ مکلف ہے۔ مکلف کا کیا معنی؟ ذمہ دار بھئی، انسان کو اللہ تعالیٰ نے ذمہ دار بنایا ہے، اس پر شرعی احکام لاگو ہوتے ہیں بھئی۔ تو یہ جو غلام ہے یہ انسان ہے، عاقل ہے، بالغ ہے، مکلف ہے، لہٰذا اس کے اندر گواہی کی بھی اہلیت تھی، اس کے اندر بیع و شراء کی بھی اہلیت تھی، اور اس کے اندر اپنا نکاح کرنے کی بھی اہلیت تھی، لیکن ایک مانع آ گیا تھا، ایک رکاوٹ آ گئی تھی کہ یہ غلام تھا بھئی، اور اب جب آقا نے اس کو آزاد کر دیا، آقا نے اس پر سے ملکیت ساقط کر دی تو اب وہ جو قوت تھی وہ ظاہر ہو گئی۔ جی۔ پہلے وہ قوت کیا تھی؟ چھپی ہوئی تھی، اب ظاہر ہو گئی۔ تو اے احناف! آپ کا یہ کہنا کہ اعتاق کی وجہ سے غلام میں یہ قوت ثابت ہو گئی یہ ہمیں قبول نہیں، بلکہ اعتاق کی وجہ سے یہ قوت ظاہر ہوئی ہے، یہ قوت اس میں پہلے سے ہی موجود تھی عاقل، بالغ، انسان ہونے کی وجہ سے۔ تو کہتے ہیں ”أَمَّا الْأَحْكَامُ فَتَثْبُتُ بِسَبَبٍ سَابِقٍ“ اور باقی جو احکام ہیں یعنی آزادی کے جو احکام ہیں ”تَثْبُتُ بِسَبَبٍ سَابِقٍ“ وہ تو ثابت ہوتے ہیں سابقہ سبب کی وجہ سے ”وَهُوَ كَوْنُهُ مُكَلَّفًا“ اور وہ اس غلام کا مکلف ہونا ہے، ذمہ دار ہونا ہے کہ یہ عاقل بالغ ہے بھئی، یہ ذمہ دار ہے، اللہ نے اس کو ذمہ دار بنایا ہے، اس پر شرعی احکام لاگو ہوتے ہیں، البتہ صرف ایک مانع آ گیا تھا جس کی وجہ سے یہ قوت اس کی ظاہر نہیں ہو رہی تھی، اب یہ قوت ظاہر ہو گئی۔ معلوم ہوا اعتاق جو ہے وہ اثباتِ قوت کا نام نہیں ہے بلکہ یہ اسقاطِ ملکیت کا نام ہے، اور جب ملکیت ساقط ہو گی تو قوت جو پہلے سے موجود تھی وہ ظاہر ہو جائے گی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں ”أَمَّا الْأَحْكَامُ فَتَثْبُتُ بِسَبَبٍ سَابِقٍ“ تو یہ جو آزادی کے احکام ہیں یہ سابقہ سبب کی وجہ سے ثابت ہوتے ہیں ”وَهُوَ كَوْنُهُ مُكَلَّفًا“ اور وہ اس غلام کا مکلف ہونا ہے، ذمہ دار ہونا ہے۔ ”وَلِهَذَا يَصْلُحُ لَفْظَةُ الْعِتْقِ وَالتَّحْرِيرِ كِنَايَةً عَنِ الطَّلَاقِ فَكَذَا عَكْسُهُ“ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، توجہ سے سنیے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس دلیل کے آغاز میں ذکر فرمایا کہ یہ جو طلاق کا لفظ ہے یہ آزادی کا احتمال رکھتا ہے۔ جی۔ ہم نے تو کیا کہا؟ کہ طلاق کا لفظ آزادی کا احتمال نہیں رکھتا، لیکن امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق کا لفظ آزادی کا احتمال رکھتا ہے، اور پھر امام شافعی رحمہ اللہ نے وجہ ذکر فرمائی، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ دونوں ملکیتوں کے اندر مناسبت ہے، ایک مِلکِ یمین اور ایک مِلکِ نکاح، اور نیز یہ جو طلاق اور آزادی کے لفظ ہیں یہ ان ملکیتوں کو ساقط کر دیتے ہیں، یہ دونوں اسقاط کا نام ہیں۔ اسی لیے تو جس طرح طلاق کے اندر تعلیق صحیح ہے اسی طرح اعتاق کے اندر بھی شرط کے ذریعے تعلیق صحیح ہے۔ اگر اعتاق اسقاط کا نام نہ ہوتا تو پھر اس میں تو تعلیق ہی صحیح نہیں ہونی تھی، لیکن اس کے اندر تعلیق بھی صحیح ہے۔ معلوم ہوا اعتاق اور طلاق دونوں میں مناسبت ہے۔ اسی لیے تو اے احناف! آپ کے نزدیک بھی اعتاق والا لفظ بول کر طلاق کا ارادہ کرنا صحیح ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا خاوند اگر اپنی بیوی سے کہتا ہے ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ تو آزاد ہے، اور نیت کرتا ہے طلاق کی تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ جی۔ تو طلاق واقع ہو جائے گی، کیونکہ یہ کنایہ ہے، اور کنائے کے اندر اور معنی کا بھی احتمال ہوتا ہے، تو ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ تو کام کاج سے آزاد ہے تجھے آج سے کام کاج کرنے کی ضرورت نہیں ہے، میں تمہارے لیے کسی ملازمہ وغیرہ کا بندوبست کر دوں گا، اور اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ تو آزاد ہے یعنی میرے نکاح سے آزاد ہے میں نے تجھے طلاق دے دی ہے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اے احناف! آپ کے نزدیک حریت والا لفظ یعنی اعتاق والا لفظ بول کر طلاق کی نیت صحیح ہے، معلوم ہوا اعتاق کی مناسبت ہے طلاق کے ساتھ۔ اعتاق کی مناسبت ہے طلاق کے ساتھ، اگر مناسبت نہ ہوتی تو پھر آپ اعتاق کو تو طلاق میں استعمال نہیں کر سکتے تھے۔ تو دونوں لفظوں کے اندر مناسبت موجود ہے اسی لیے اعتاق والا لفظ بول کر طلاق کا ارادہ صحیح ہے۔ جب اعتاق والا لفظ بول کر طلاق کا ارادہ صحیح ہے تو طلاق والا لفظ بول کر اعتاق کا ارادہ بھی صحیح ہو گا، کیونکہ دونوں میں مناسبت پائی جا رہی ہے۔ مناسبت مناسبت دیکھو باب مفاعلہ ہے، ”نَاسَبَ يُنَاسِبُ مُنَاسَبَةً“، اور باب مفاعلہ جانبین سے فعل چاہتا ہے۔ جب میں کہتا ہوں کہ زید عمرو جیسا ہے تو اس کا مطلب ہے عمرو بھی زید جیسا ہے، دونوں طرف سے مناسبت موجود ہے۔ تو اے احناف! آپ کے نزدیک اعتاق بول کر طلاق کا ارادہ صحیح کیونکہ دونوں میں مناسبت ہے، جب اعتاق کی طرف سے مناسبت موجود ہے تو طلاق کی طرف سے بھی اعتاق کے ساتھ مناسبت موجود ہے، لہٰذا طلاق کا لفظ بول کر بھی اعتاق کا ارادہ کیا جا سکتا ہے۔ جی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ”وَلِهَذَا“ اور اسی وجہ سے، ”وَلِهَذَا“ اسی وجہ سے کیا معنی؟ یعنی کہ جو طلاق کا لفظ ہے یہ اعتاق کا احتمال رکھتا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل جہاں شروع ہوئی تھی ذرا وہاں دیکھیے، ”لَهُ“ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ نَوَى مَا يَحْتَمِلُهُ لَفْظُهُ“ کہ آقا نے اس اعتاق کی نیت کی ہے کہ طلاق کا لفظ اس کا احتمال رکھتا ہے۔ جی۔ طلاق کا لفظ اس کا احتمال رکھتا ہے، اور پھر امام شافعی رحمہ اللہ نے دونوں ملکیتوں میں مناسبت ذکر کر دی، اور پھر امام شافعی رحمہ اللہ نے بتلایا کہ یہ طلاق اور اعتاق دونوں اسقاط کا نام ہے، معلوم ہوا دونوں کے درمیان مناسبت موجود ہے، اور جب دونوں کے اندر مناسبت موجود ہے تو معلوم ہوا طلاق کے اندر اعتاق کا احتمال ہے۔ طلاق کے اندر اعتاق کا احتمال ہے، جب اس کا احتمال ہے تو اس کی نیت کرنا بھی صحیح ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَلِهَذَا“ اور اسی وجہ سے کہ طلاق کا لفظ اعتاق کا احتمال رکھتا ہے، اسی وجہ سے ”يَصْلُحُ لَفْظَةُ الْعِتْقِ وَالتَّحْرِيرِ“ کہ عتق اور تحریر، عتق کا معنی بھی آزادی، تحریر کا معنی آزاد کرنا، ”وَلِهَذَا يَصْلُحُ لَفْظَةُ الْعِتْقِ وَالتَّحْرِيرِ“ اور اسی وجہ سے عتق اور تحریر کا جو لفظ ہے وہ صلاحیت رکھتا ہے ”كِنَايَةً عَنِ الطَّلَاقِ“ طلاق سے کنایہ ہونے کا۔ جی۔ کہ اعتاق والا لفظ خاوند بولے اور کنایہ کس سے کرے؟ طلاق سے، خاوند اپنی بیوی سے کہے ”أَنْتِ حُرَّةٌ“ اور ارادہ کس کا کرتا ہے؟ طلاق کا، تو اے احناف! آپ کے نزدیک بھی طلاق واقع ہو جائے گی۔ معلوم ہوا ان دونوں میں کیا ہے؟ مناسبت ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَلِهَذَا يَصْلُحُ لَفْظَةُ الْعِتْقِ وَالتَّحْرِيرِ كِنَايَةً عَنِ الطَّلَاقِ“ اور اسی وجہ سے عتق اور تحریر کا جو لفظ ہے یہ صلاحیت رکھتا ہے طلاق سے کنایہ ہونے کی ”فَكَذَا عَكْسُهُ“ تو اسی طرح اس کا برعکس بھی ہو گا، یعنی طلاق کا لفظ جو ہے وہ بھی صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ عتق اور تحریر سے کنایہ ہو جائے۔ جی۔ کیونکہ مناسبت صرف ایک طرف سے نہیں ہوتی، مناسبت دونوں طرف سے ہوتی ہے۔ جب میں نے کہا زید کی عمرو کے ساتھ مناسبت ہے، تو اس کا مطلب ہے عمرو کی بھی زید کے ساتھ مناسبت ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا صرف زید کی تو عمرو سے مناسبت ہو اور عمرو کی زید کے ساتھ مناسبت نہ ہو، مناسبت دونوں طرف سے ہوتی ہے۔ جی۔ مثلاً زید کی عمرو کے ساتھ مناسبت ہے، کس چیز میں؟ سخاوت میں، زید کے اندر بھی سخاوت ہے اور عمرو کے اندر بھی سخاوت، تو جب زید کی عمرو کے ساتھ مناسبت ہے سخاوت کے اندر تو عمرو کی بھی سخاوت میں زید کے ساتھ مناسبت ہے۔ تو یہ مناسبت دونوں جانب سے ہوتی ہے۔ تو جب اعتاق جو ہے اس کو طلاق کے لیے بطورِ کنایہ استعمال کیا جا سکتا ہے، تو طلاق کو بھی اعتاق کے لیے بطورِ کنایہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں ”وَلِهَذَا يَصْلُحُ لَفْظَةُ الْعِتْقِ وَالتَّحْرِيرِ كِنَايَةً عَنِ الطَّلَاقِ“ اور اسی لیے عتق اور تحریر کا جو لفظ ہے یہ صلاحیت رکھتا ہے طلاق سے کنایہ ہونے کی ”فَكَذَا عَكْسُهُ“ تو اسی طرح اس کا برعکس بھی ہو گا یعنی طلاق کا لفظ جو ہے وہ بھی صلاحیت رکھتا ہے کہ عتق اور تحریر سے کنایہ ہو جائے۔ جی۔ آگے دیکھیے، آگے ہماری دلیل آ رہی ہے: ”وَلَنَا: أَنَّهُ نَوَى مَا لَا يَحْتَمِلُهُ لَفْظُهُ“ اور ہماری دلیل یہ ہے۔ ہماری دلیل کیا تھی؟ کہ طلاق کا لفظ اعتاق کا احتمال نہیں رکھتا۔ جی۔ اعتاق کا لفظ تو طلاق کا احتمال رکھتا ہے، لیکن طلاق کا لفظ اعتاق کا احتمال نہیں رکھتا، اور ہم نے بتلایا تھا کہ اعتاق جو ہے وہ اثباتِ قوت کا نام ہے، قوت ثابت کرنا، اور طلاق جو ہے وہ رفعِ قید کا نام ہے۔ دیکھیے بھئی صاحبِ ہدایہ اس سب کو اب بیان فرمائیں گے۔ ”وَلَنَا: أَنَّهُ نَوَى مَا لَا يَحْتَمِلُهُ لَفْظُهُ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ اس آقا نے اس اعتاق کی نیت کی ہے ”لَا يَحْتَمِلُهُ لَفْظُهُ“ کہ طلاق کا لفظ اس کا احتمال نہیں رکھتا، ”لِأَنَّ الْإِعْتَاقَ لُغَةً إِثْبَاتُ الْقُوَّةِ“ اس لیے کیونکہ اعتاق جو ہے وہ عربی زبان کے اعتبار سے قوت کو ثابت کرنا ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اعتاق کا لفظ ”عَتَقَ الطَّائِرُ“ سے ماخوذ ہے۔ عربی زبان میں کہتے ہیں جب کوئی پرندے کا بچہ طاقتور ہو جائے اور اڑنے کے قابل ہو جائے تو عربی زبان میں کہتے ہیں ”عَتَقَ الطَّائِرُ“ پرندہ طاقتور ہو گیا۔ جی۔ تو ”عَتَقَ“ مجرد سے ہے، اس کا معنی ہے طاقت والا ہونا۔ اسی کو باب افعال میں لے گئے ”أَعْتَقَ يُعْتِقُ إِعْتَاق“ اس کا معنی ہے دوسرے کو طاقت دینا۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ الْإِعْتَاقَ لُغَةً إِثْبَاتُ الْقُوَّةِ“ اس لیے کیونکہ اعتاق جو ہے عربی زبان کے اعتبار سے وہ قوت کو ثابت کرنا ہے، ”وَالطَّلَاقُ رَفْعُ الْقَيْدِ“ اور طلاق جو ہے وہ قید کو اٹھانا ہے، یعنی عربی زبان کے اعتبار سے۔ جی۔ میں نے بتلایا آپ کو کہ طلاق کا لفظ جو ہے وہ ”أَطْلَقَ الْبَعِيرَ“ سے ماخوذ ہے۔ عربی زبان میں کہتے ہیں جب کوئی شخص اونٹ کو آزاد چھوڑ دے تو کہتا ہے ”أَطْلَقْتُ الْبَعِيرَ“ میں نے اونٹ کو آزاد چھوڑ دیا، میں نے اونٹ کو کھلا چھوڑ دیا، یعنی قید اور بندش کو دور کر دیا، رسی کو دور کر دیا، اور دیکھیے اونٹ کے اندر چلنے کی قوت پہلے سے موجود تھی صرف ایک بندش اور رکاوٹ اور رسی موجود تھی جو اس کو چلنے نہیں دے رہی تھی، اب جب وہ بندش اور رکاوٹ دور ہو گئی تو اونٹ اب آزادی سے گھوم پھر سکتا ہے۔ جی۔ تو کہتے ہیں ”وَالطَّلَاقُ رَفْعُ الْقَيْدِ“ اور طلاق جو ہے وہ قید کو اٹھانا ہے، وہ بندش کو دور کرنا ہے عربی زبان کے اعتبار سے، ”وَهَذَا لِأَنَّ الْعَبْدَ أُلْحِقَ بِالْجَمَادَاتِ“ اور یہ اس لیے کیونکہ غلام بھئی یہ اعتاق اثباتِ قوت کا نام ہے، جی، اعتاق اثباتِ قوت کا نام ہے، کس طرح اثباتِ قوت ہے؟ تفصیل میں نے بیان کر دی تھی کہ غلامی کے دوران غلام کو کسی قسم کی ولایت حاصل نہیں ہوتی، لیکن جب آزاد ہوتا ہے تو اس میں قوت آ گئی، وہ اب ہر طرح کی ولایت اور اہلیت اس میں ثابت ہو گئی۔ تو بایں اعتبار غلام کے اندر قوت ثابت کر دی آقا نے بھئی۔ جی۔ تو کہتے ہیں ”وَهَذَا“ اور یہ اس وجہ سے ”لِأَنَّ الْعَبْدَ أُلْحِقَ بِالْجَمَادَاتِ“ کہ غلام جو ہے اس کو ملایا گیا ہے جمادات کے ساتھ یعنی بے جان چیزوں کے ساتھ، غلام تو بے جان چیزوں کی طرح ہے، اس کی بیع و شراء کی جاتی ہے، اس کو کسی قسم کا اختیار نہیں ہوتا۔ تو کہتے ہیں ”وَهَذَا لِأَنَّ الْعَبْدَ أُلْحِقَ بِالْجَمَادَاتِ“ اور یہ اس وجہ سے کہ غلام جو ہے اس کو بے جان چیزوں کے ساتھ ملایا گیا ہے یعنی وہ بے جان چیزوں جیسا ہے، ”وَبِالْإِعْتَاقِ يَحْيَا فَيَقْدِرُ“ ”حَيِيَ يَحْيَا“ کا معنی ہے زندہ ہونا، اور اعتاق کی وجہ سے یہ غلام زندہ ہو جاتا ہے ”فَيَقْدِرُ“ تو قادر ہو جاتا ہے۔ جی۔ اب وہ شہادت دینے پر بھی قادر اور ہر قسم کی ولایت پر بھی قادر ہوا وہ اس کو حاصل ہو گئی۔ تو کہتے ہیں ”وَبِالْإِعْتَاقِ يَحْيَا فَيَقْدِرُ“ اور اعتاق کی وجہ سے وہ زندہ ہو جاتا ہے تو وہ قادر ہو جاتا ہے ان تمام تصرفات پر، ”وَلَا كَذَلِكَ الْمَنْكُوحَةُ فَإِنَّهَا قَادِرَةٌ“ اچھا بھئی! تو معلوم ہوا اعتاق اثباتِ قوت کا نام ہے یعنی وہ قوت جو غلام میں پہلے موجود نہیں تھی اب وہ قوت اس کے لیے ثابت کر دی گئی۔ جی۔ اور جب کہ اس کے مقابلے میں طلاق رفعِ قید کا نام ہے، چنانچہ جو عورت ہے عورت منکوحہ جو ہے، منکوحہ جس کا نکاح ہو گیا اس میں ہر قسم کے تصرفات کی پہلے سے ہی قوت موجود ہے، وہ آزاد ہے، عاقلہ ہے، بالغہ ہے، تو منکوحہ میں ہر قسم کے تصرفات کی اہلیت پہلے سے موجود ہے۔ ہاں نکاح کی وجہ سے کچھ پابندیاں اس پر آ گئیں، مثلاً وہ اب آگے کسی اور سے نکاح نہیں کر سکتی کیونکہ وہ پہلے سے ہی کسی ایک شخص کی منکوحہ ہے بھئی۔ تو یہ عورت پر پابندی آ گئی، رکاوٹ آ گئی نکاح کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ نکاح کی وجہ سے رکاوٹ آ گئی، قدرت اور صلاحیت عورت میں موجود ہے لیکن نکاح کی وجہ سے رکاوٹ ہے۔ جب خاوند طلاق دے دے گا تو یہ رکاوٹ بھی ختم ہو جائے گی، پھر عورت عدت کے بعد جہاں چاہے نکاح بھی کر سکتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا اعتاق کے اندر غلام میں قوت ثابت کی جاتی ہے، جب کہ طلاق کے اندر عورت میں قوت ثابت نہیں ہوتی بلکہ وہاں رکاوٹ اور بندش دور ہو جاتی ہے یعنی رفعِ قید ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَلَا كَذَلِكَ الْمَنْكُوحَةُ“ اور منکوحہ عورت جو ہے وہ ایسی نہیں ہے ”فَإِنَّهَا قَادِرَةٌ“ کیونکہ وہ تو ہر طرح کے تصرفات پر قادر ہوتی ہے ”إِلَّا أَنَّ قَيْدَ النِّكَاحِ مَانِعٌ“ مگر یہ کہ نکاح کی جو قید ہے نکاح کی جو بندش ہے ”مَانِعٌ“ وہ مانع بن جاتی ہے، بعض تصرفات سے مانع بن جاتی ہے، وہ اب عورت کسی اور سے نکاح نہیں کر سکتی، ”وَبِالطَّلَاقِ يَرْتَفِعُ الْمَانِعُ“ اور طلاق کی وجہ سے وہ مانع بھی اٹھ جاتا ہے۔ جی۔ تو طلاق جو ہے وہ رفعِ قید کا نام ہے، اس سے بندش دور ہو جاتی ہے قوت ثابت نہیں ہوتی۔ بندش اور رکاوٹ دور ہوتی ہے، اس کی وجہ سے کوئی نئی قوت عورت میں ثابت نہیں ہوتی بھئی، قوت اس میں پہلے سے موجود تھی۔ تو کہتے ہیں: ”وَبِالطَّلَاقِ يَرْتَفِعُ الْمَانِعُ“، اور طلاق کی وجہ سے وہ مانع بھی اٹھ جاتا ہے، ”فَيَظْهَرُ الْقُوَّةُ“، تو قوت ظاہر ہو جاتی ہے۔ عورت کے اندر قوت پہلے سے موجود تھی۔ مثلاً نکاح کرنے کی قوت اس میں پہلے سے تھی لیکن اب جب ایک جگہ نکاح کر لیا تو اب مانع آگیا، اب یہ آگے نکاح نہیں کر سکتی۔ لیکن جب خاوند طلاق دے دے گا اب یہ مانع بھی چلا گیا، تو عورت میں قوت ثابت نہیں ہوئی بلکہ وہ جو قوت تھی وہ ظاہر ہو گئی، وہ قوت ظاہر ہو گئی۔ تو یوں کہو کہ اعتاق وہ اثباتِ قوت کا نام ہے، قوت ثابت کرنا، اور طلاق جو ہے وہ اظہارِ قوت کا نام ہے، اس میں قوت ظاہر ہو جاتی ہے، ظاہر کر دی جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَبِالطَّلَاقِ يَرْتَفِعُ الْمَانِعُ“، اور طلاق کی وجہ سے وہ مانع جو ہے وہ اٹھ جاتا ہے، ”فَيَظْهَرُ الْقُوَّةُ“، تو قوت ظاہر ہو جاتی ہے، اب وہ عورت آگے نکاح کر سکتی ہے۔ ”وَلَا خَفَاءَ أَنَّ الْأَوَّلَ أَقْوَى“، اور اس بات میں کوئی خفا نہیں کہ پہلا جو ہے وہ زیادہ قوی ہے۔ پہلا زیادہ قوی ہے۔ بھئی دیکھو، اعتاق کس چیز کا نام ہے؟ اثباتِ قوت، قوت ثابت کرنا۔ اور طلاق جو ہے وہ رفعِ قید کا نام ہے، قید اور بندش کو دور کر دینا، یعنی اس میں اظہارِ قوت ہوتا ہے، قوت کو ظاہر کرنا۔ یعنی قوت پہلے سے تھی لیکن صرف اس کو ظاہر کیا گیا، اور ظاہر سی بات ہے اثباتِ قوت یہ اعلیٰ ہے کس کے مقابلے میں؟ اظہارِ قوت کے مقابلے میں۔ یعنی اثباتِ قوت وہ زیادہ قوی ہے کس کے مقابلے میں؟ اظہارِ قوت کے مقابلے میں۔ اور یاد رکھنا، صاحبِ ہدایہ بھی آپ کو آگے بتلائیں گے کہ ایک ہے لفظ کا حقیقی معنی اور ایک ہے مجازی معنی۔ آپ ایک لفظ کو ایک مجازی معنی میں استعمال کرنا چاہتے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ وہ مجازی معنی قوت کے اندر، قوت کے اندر حقیقی معنی سے بڑھ کر نہ ہو، حقیقی معنی سے زیادہ نہ ہو بھئی۔ مثلاً زید بھی بہادر ہے، شیر بھی بہادر ہے۔ اب آپ شیر کا لفظ زید کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو آپ کر سکتے ہیں، اس لیے کیونکہ شیر بہادری میں زید سے بڑھ کر ہے بھئی۔ تو وہ شیر کا لفظ آپ زید کے لیے جو بہادری میں شیر سے کم ہے اس کے لیے آپ استعمال کر سکتے ہیں لیکن اگر زید بہادری میں شیر سے بھی زیادہ ہے تو اب آپ شیر کا لفظ زید کے لیے استعمال نہیں کر سکتے، یہ تو آپ زید کے درجہ کم کر رہے ہیں بڑھانے کے بجائے بھئی۔ تو لہٰذا جب بھی ایک لفظ کو مجازی معنی میں استعمال کیا جائے تو ضروری ہے کہ وہ مجازی معنی حقیقی معنی سے قوت میں زیادہ نہ ہو بھئی، یہ شرط ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ کیا ضابطہ ہوا؟ کہ لفظ کو جب بھی کسی مجازی معنی میں استعمال کرنا ہو یہ ضروری ہے کہ وہ مجازی معنی حقیقی معنی سے قوت کے اندر بڑھا ہوا نہ ہو بھئی۔ تو اب یہاں پر بھی صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ اعتاق جو ہے وہ اثباتِ قوت کا نام ہے، قوت ثابت کرنا، اور طلاق جو ہے وہ رفعِ قید یعنی اظہارِ قوت کا نام ہے، اور ظاہر سی بات ہے اثباتِ قوت وہ زیادہ قوی ہے، اس میں قوت ثابت کر دی جو پہلے موجود ہی نہیں تھی، اور طلاق کے اندر یہ صرف صرف مانع کو دور کیا گیا ہے، قوت صرف ظاہر کی گئی ہے وہ پہلے سے موجود تھی۔ تو قوت میں کون زیادہ؟ اثباتِ قوت جو ہے وہ زیادہ ہے، اس میں قوت ثابت کی جاتی ہے جو پہلے سے موجود ہی نہیں تھی۔ تو معلوم ہوا اعتاق وہ قوت کے اندر بڑھ کر ہے اور طلاق قوت کے اندر کم درجے کی ہے، تو طلاق کا لفظ اعلیٰ یعنی اعتاق کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا، دلیل سمجھ میں آئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَلَا خَفَاءَ أَنَّ الْأَوَّلَ أَقْوَى“، اور اس بات میں کوئی خفا نہیں ہے کہ اول یعنی اعتاق جو ہے اقویٰ وہ زیادہ قوت والا ہے طلاق کے مقابلے میں۔ لہٰذا طلاق کا لفظ اعتاق کے لیے مجازاً استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ”وَلِأَنَّ“، یہاں سے دوسرا جواب دے رہے ہیں۔ بھئی دیکھیے، صاحبِ ہدایہ نے جو پہلا جواب دیا وہ منعی تھا اور دوسرا جواب تسلیمی دیں گے۔ جوابِ منعی جس میں مخالف کی بات کا انکار کیا جاتا ہے۔ جوابِ تسلیمی جس میں مخالف کی بات کو تسلیم کیا جاتا ہے اور پھر جواب دیا جاتا ہے۔ تو پہلا جواب منعی تھا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے اعتاق جو ہے وہ اسقاطِ ملکیت کا نام ہے، ملکیت کو ساقط کرنا۔ ہم نے کہا نہیں، اعتاق اسقاطِ ملکیت کا نام نہیں ہے بلکہ وہ اثباتِ قوت کا نام ہے، اسقاط کا نام نہیں بلکہ اثبات یعنی ثابت کرنے کا نام ہے، تو پہلا جواب انکاری تھا، پہلا جواب منعی تھا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اب دوسرا جواب تسلیمی دیں گے کہ ہمیں تسلیم ہے اعتاق بھی اسقاط کا نام ہے، اعتاق بھی اسقاط کا نام ہے، ساقط کرنے کا نام ہے۔ تو کہتے ہیں، جوابِ تسلیمی اب دے رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ مِلْكَ الْيَمِينِ فَوْقَ مِلْكِ النِّكَاحِ“، اور اس لیے کیونکہ ملکِ یمین جو ہے وہ ملکِ نکاح سے بڑھ کر ہے۔ ملکِ یمین ملکِ نکاح سے بڑھ کر ہے بھئی۔ بھئی دیکھیے، جب کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرتا ہے تو خاوند کو ملکِ متعہ حاصل ہو جاتی ہے، خاوند کے لیے اس عورت سے صحبت کرنا جائز ہو جاتا ہے۔ اسی طرح جب کوئی شخص کسی باندی کو خریدتا ہے تو خریدنے کی وجہ سے اس کو ملکِ یمین حاصل ہوئی اور اس ملکِ یمین کی وجہ سے اس کو ملکِ متعہ بھی حاصل ہو گئی۔ ملکِ متعہ بھی حاصل ہو گئی، معلوم ہوا ملکِ یمین کے ضمن میں ملکِ متعہ بھی حاصل ہو جاتی ہے، ملکِ یمین کے ضمن میں ملکِ متعہ بھی حاصل ہو جاتی ہے لیکن ایسی کوئی صورت نہیں ہے کہ ملکِ نکاح کے ضمن میں ملکِ یمین حاصل ہو جائے۔ ایک آدمی ایک عورت سے نکاح کرے اور آدمی اس کا مالک بن جائے، نہیں بھئی، ملکِ نکاح کے ضمن میں کبھی انسان اس عورت کا مالک نہیں بنتا صرف اس کے لیے ملکِ متعہ حاصل ہوتی ہے۔ تو ملکِ نکاح کے ضمن میں ملکِ یمین کبھی بھی حاصل نہیں ہو سکتی لیکن ملکِ یمین کے ضمن میں ملکِ متعہ حاصل ہو سکتی ہے، معلوم ہوا ملکِ یمین ملکِ نکاح سے بڑھ کر ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ مِلْكَ الْيَمِينِ فَوْقَ مِلْكِ النِّكَاحِ“، اور اس لیے کیونکہ ملکِ یمین جو ہے وہ ملکِ نکاح سے بڑھ کر ہے، ”فَكَانَ إِسْقَاطُهُ أَقْوَى وَاللَّفْظُ يَصْلُحُ مَجَازًا عَمَّا هُوَ دُونَ حَقِيقَتِهِ“. صاحبِ ہدایہ جوابِ تسلیمی ذکر فرما رہے ہیں بھئی، کہ ہمیں بھی تسلیم ہے اعتاق بھی اسقاطِ ملکیت کا نام ہے، یعنی ملکیت کو ساقط کرنا، ملکیت کو ختم کرنا۔ لیکن ملکِ یمین وہ اعلیٰ ہے کس کے مقابلے میں؟ ملکِ نکاح کے مقابلے میں۔ ملکِ یمین کے ضمن میں ملکِ متعہ حاصل ہو جاتی ہے لیکن ملکِ نکاح کے ضمن میں کبھی بھی ملکِ یمین حاصل نہیں ہوتی، معلوم ہوا ملکِ یمین اقویٰ ہے کس کے مقابلے میں؟ ملکِ نکاح کے مقابلے میں۔ جب ملکِ یمین اقویٰ ہے تو اس کا اسقاط بھی اقویٰ ہوگا، تو اس کا اسقاط بھی اقویٰ ہوگا ملکِ نکاح کے اسقاط کے مقابلے میں۔ معلوم ہوا ملکِ یمین کا اسقاط اقویٰ ہے اور ملکِ نکاح کا اسقاط ادنیٰ ہے، لہٰذا معلوم ہوا طلاق کے اندر ادنیٰ درجے کا اسقاط ہے اور اعتاق کے اندر اعلیٰ درجے کا اسقاط ہے، لہٰذا طلاق جو ادنیٰ درجے کا اسقاط ہے اس کو مجازاً اعتاق کے لیے جو اس سے اسقاط میں بڑھ کر ہے اس کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ وہی بات بھئی کہ ایک لفظ کو آپ مجازی معنی میں استعمال کرنا چاہتے ہیں تو وہ مجازی معنی حقیقی معنی سے قوت میں بڑھا ہوا نہیں ہونا چاہیے، اور یہاں پر اسقاطِ ملکِ نکاح جو ہے یعنی طلاق وہ ادنیٰ ہے اور اسقاطِ ملکِ یمین یعنی اعتاق وہ اعلیٰ ہے، تو ادنیٰ یعنی طلاق کو اعلیٰ یعنی اعتاق کے لیے مجازاً استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ مِلْكَ الْيَمِينِ فَوْقَ مِلْكِ النِّكَاحِ“، اور اس لیے کیونکہ ملکِ یمین جو ہے وہ ملکِ نکاح سے بڑھ کر ہے، ”فَكَانَ إِسْقَاطُهُ أَقْوَى“، تو ملکِ یمین کا اسقاط جو ہے وہ بھی زیادہ قوی ہوگا ملکِ نکاح کے اسقاط کے مقابلے میں، ”وَاللَّفْظُ يَصْلُحُ مَجَازًا عَمَّا هُوَ دُونَ حَقِيقَتِهِ“، اور لفظ جو ہے وہ صلاحیت رکھتا ہے مجاز ہونے کی عما هو دون حقيقته، اس معنی سے جو اس کی حقیقت سے کم درجے کا ہو۔ لفظ جو ہے وہ مجاز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے اس معنی سے جو اس کی حقیقت سے یعنی اس کے حقیقی معنی سے کم درجے کا ہو۔ توجہ ہے؟ تو کہتے ہیں: ”وَاللَّفْظُ يَصْلُحُ مَجَازًا عَمَّا هُوَ دُونَ حَقِيقَتِهِ“، اور لفظ جو ہے وہ صلاحیت رکھتا ہے مجاز ہونے کی اس معنی سے جو اس کی حقیقت سے کم درجے کا ہو، ”لَا عَمَّا هُوَ فَوْقَهُ“، نہ کہ اس معنی سے جو اس کی حقیقت سے بڑھ کر ہو، ”فَلِهَذَا امْتَنَعَ فِي الْمُتَنَازَعِ فِيهِ وَانْصَاغَ فِي عَكْسِهِ“. متنازع فیہ بھئی، تنازع کا معنی ہے جھگڑا، جھگڑا۔ تو تنازع کا معنی ہے جھگڑا، اور ہمارا اور شوافع کا جھگڑا کس چیز میں ہے؟ ہمارے نزدیک اعتاق والا لفظ بول کر طلاق کا ارادہ تو صحیح ہے لیکن طلاق والا لفظ بول کر اعتاق کا ارادہ صحیح نہیں، اور جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک دونوں صورتیں جائز ہیں، اعتاق بول کر طلاق کا ارادہ بھی صحیح اور طلاق بول کر اعتاق کا ارادہ بھی صحیح۔ معلوم ہوا ہمارا اور ان کا جھگڑا اس بات میں ہے کہ طلاق کا لفظ اعتاق کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ طلاق کا لفظ اعتاق کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ تو اس میں جھگڑا ہے، یہ ہے متنازع فیہ۔ تو یہ جو متنازع فیہ ہے اس کے اندر طلاق کا لفظ اعتاق کے لیے مجازاً استعمال نہیں کیا جا سکتا، ہم کہتے ہیں۔ اس میں طلاق کا لفظ اعتاق کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہم نے بتلا دیا کہ جیسے طلاق اسقاطِ ملکیت کا نام ہے اسی طرح اعتاق بھی اسقاطِ ملکیت کا نام ہے لیکن اعتاق سے جو اسقاط آتا ہے وہ اقویٰ ہے اور جو طلاق سے اسقاط آتا ہے وہ ادنیٰ ہے، اور ادنیٰ کو اعلیٰ کے لیے مجازاً استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”وَاللَّفْظُ يَصْلُحُ مَجَازًا عَمَّا هُوَ دُونَ حَقِيقَتِهِ لَا عَمَّا هُوَ فَوْقَهُ“، اور لفظ جو ہے وہ مجاز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے اس معنی سے جو اس کی حقیقت سے کم درجے کا ہو، نہ کہ اس معنی سے جو اس کی حقیقت سے بڑھ کر ہو، ”فَلِهَذَا امْتَنَعَ فِي الْمُتَنَازَعِ فِيهِ“، اور اسی لیے مجاز ممتنع ہوگا متنازع فیہ مسئلے میں، اس میں مجاز ممتنع ہوگا، ”وَانْصَاغَ فِي عَكْسِهِ“، انصاغ ینصاغ انصیاغاً کا معنی ہے جائز ہونا۔ تو طلاق، ادھر دیکھیے، طلاق بول کر اعتاق کا ارادہ کرنا یہ تو جائز نہیں لیکن اعتاق بول کر طلاق کا ارادہ جائز ہے کیونکہ اعتاق ہے اعلیٰ درجے کا اور طلاق ہے ادنیٰ درجے کی، اور اعلیٰ کا لفظ ادنیٰ کے لیے مجازاً استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ معنی ہے ”وَانْصَاغَ فِي عَكْسِهِ“، اور جائز ہوگا اس کے برعکس صورت میں۔ بات سمجھ میں آگئی؟ آگے دیکھیے، کہتے ہیں: ”وَإِذَا قَالَ لِعَبْدِهِ: أَنْتَ مِثْلُ الْحُرِّ، لَمْ يَعْتِقْ“. آقا نے اپنے غلام سے کہا کہ تو آزاد آدمی جیسا ہے، ”أَنْتَ مِثْلُ الْحُرِّ“، تو آزاد آدمی جیسا ہے، آقا نے اپنے غلام سے کہا۔ تو فقہاء فرماتے ہیں یہ آزاد نہیں ہوگا۔ وجہ یہ، صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے، وجہ یہ کہ یہ جو مثل کا لفظ ہے یہ عام لوگوں میں استعمال ہوتا ہے بعض صفات میں مشارکت بیان کرنے کے لیے۔ جب کہا جائے زید عمرو جیسا ہے تو کہنے والے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ زید ہر چیز میں عمرو جیسا ہے بلکہ مطلب ہوتا ہے بعض صفات کے اندر زید عمرو جیسا ہے۔ مثلاً جیسے عمرو سخی ہے اسی طرح زید بھی سخی ہے، یا جیسے عمرو بہادر ہے زید بھی بہادر ہے۔ تو لہٰذا یہ جو مثل کا لفظ ہے بعض صفات کے اندر مشارکت کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے عرف میں یعنی عام لوگوں کی عادت میں۔ تو یہاں پر بھی آقا نے اپنے غلام سے کیا کہا ہے؟ ”أَنْتَ مِثْلُ الْحُرِّ“، تو آزاد آدمی جیسا ہے، مثل کا لفظ ذکر کیا، اور مثل کا لفظ تو بعض صفات میں مشارکت کے لیے ذکر کیا جاتا ہے۔ تو اب اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ اے غلام تو آزاد آدمی کی طرح ہے بہادری میں، یا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ اے غلام تو آزاد آدمی کی طرح ہے عقلمندی کے اندر، اور اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے تو آزاد آدمی کی طرح ہے آزادی میں۔ آزادی بھی تو ایک صفت ہے۔ تو لہٰذا مثل کا لفظ استعمال کیا اور مثل کا لفظ بعض صفات میں مشارکت کے لیے آتا ہے تمام صفات میں مشارکت کے لیے نہیں آتا، لہٰذا اب کس صفت میں مشارکت ذکر کی جا رہی ہے وہ یہاں ذکر نہیں، یہ بھی احتمال ہے آزادی میں مشارکت بیان کی جا رہی ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عقلمندی کے اندر مشارکت بیان کی جا رہی ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آزادی کے اندر مشارکت بیان کی جا رہی ہو، تو لہٰذا آزادی میں شک آگیا، کیونکہ اگر آزادی میں مشارکت بیان کرے گا پھر تو غلام آزاد ہو جائے گا لیکن وہ تو یہاں پر یقینی نہیں، صفت تو اس نے ذکر نہیں کی کہ کس صفت میں تو آزاد کی طرح ہے، تو لہٰذا یہ غلام کے آزاد ہونے میں شک آگیا۔ شک آیا تو یہ غلام آزاد نہیں ہوگا۔ تو یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ الْمِثْلَ يُسْتَعْمَلُ لِلْمُشَارَكَةِ فِي بَعْضِ الْمَعَانِي عُرْفًا“، اس لیے کیونکہ مثل کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے للمشاركة في بعض المعاني، بعض معانی یعنی بعض صفات کے اندر مشارکت بیان کرنے کے لیے، عرفاً عرف کے اعتبار سے یعنی عام لوگوں کی عادت یہ ہے کہ مثل کا لفظ بعض صفات میں مشارکت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تمام صفات میں نہیں۔ اگر تمام صفات کے لیے استعمال ہوتا تو پھر تو معنی یہ تھا ”أَنْتَ مِثْلُ الْحُرِّ“، اے غلام تو آزاد کی طرح ہے تمام صفات میں، جب تمام صفات میں آزاد کی طرح ہے تو معلوم ہوا آزادی کی صفت میں بھی تو آزاد کی طرح ہے تو اس صورت میں اس نے آزاد ہو جانا تھا، لیکن مثل کا لفظ تو تمام صفات میں مشارکت کے لیے استعمال نہیں ہوتا بعض صفات میں مشارکت کے لیے استعمال ہوتا ہے اور وہ بعض صفت تو یہاں ذکر نہیں، لہٰذا غلام کی آزادی میں شک آگیا کہ پتہ نہیں آزادی میں مشارکت بیان کر رہا ہے کہ تو بھی آزاد آدمی کی طرح آزاد ہے، یا بہادری وغیرہ میں مشارکت بیان کر رہا ہے کہ تو بھی آزاد آدمیوں کی طرح بہادر ہے، تو آزادی میں شک آگیا، اور شک کی وجہ سے غلام آزاد نہیں ہوگا، کیونکہ غلام کا غلام ہونا تو یقینی اور آزاد ہونے میں شک آیا۔ حالانکہ فقہ کا ضابطہ ہے: ”اَلْيَقِينُ لَا يَزُولُ إِلَّا بِالْيَقِينِ“، یقین یقین ہی کے ذریعے ختم ہو سکتا ہے۔ تو غلام ہونا یقینی، غلام ہے نا، آقا اپنے غلام سے کہہ رہا ہے، اور آزادی میں کیا آگیا؟ شک آگیا، اور شک کی وجہ سے یقینی چیز ختم نہیں ہو سکتی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْمِثْلَ يُسْتَعْمَلُ لِلْمُشَارَكَةِ فِي بَعْضِ الْمَعَانِي عُرْفًا“، اس لیے کیونکہ مثل کا لفظ وہ بعض صفات کے اندر مشارکت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے عرفاً عرف کے اعتبار سے، ”فَوَقَعَ الشَّكُّ فِي الْحُرِّيَّةِ“، لہٰذا غلام کے آزاد ہونے میں شک آگیا تو وہ آزاد نہیں ہوگا۔ شارحین فرماتے ہیں کہ یہ وہ صورت ہے جب آقا نے نیت نہ کی ہو آزادی کی۔ اگر آقا نے آزادی کی نیت کی ہے اور پھر کہا ہے ”أَنْتَ مِثْلُ الْحُرِّ“، تو آزاد جیسا ہے، تو اب تو آزادی کی نیت کر لی مطلب آقا کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تو آزادی کی صفت میں آزاد جیسا ہے یعنی میں نے تجھے آزاد کر دیا ہے، تو اس صورت میں پھر غلام آزاد ہو جائے گا۔ ”أَنْتَ مِثْلُ الْحُرِّ“، آقا نیت نہ کرے تو غلام آزاد نہیں اور آقا نیت کرے گا تو غلام آزاد ہو جائے گا۔ ”وَلَوْ قَالَ: مَا أَنْتَ إِلَّا حُرٌّ، عَتَقَ“. آقا نے اپنے غلام سے کہا: ”مَا أَنْتَ إِلَّا حُرٌّ“، تو نہیں ہے الا حر مگر آزاد۔ یہ تو تھا ما اور الا کے ساتھ ترجمہ، تو نہیں ہے مگر آزاد۔ با محاورہ ترجمہ کیسے کریں گے؟ تو آزاد ہی ہے۔ با محاورہ ترجمہ کیا ہوگا؟ تو آزاد ہی ہے۔ تو یاد رکھو اس کے اندر تو اور زیادہ زور آگیا۔ ایک صورت یہ ہے آقا اپنے غلام سے کہتا ہے تو آزاد ہے، اس میں بھی غلام آزاد ہوگا، اور ایک آقا یوں کہتا ہے تو آزاد ہی ہے، تو اس کے اندر تو اور زیادہ زور آگیا بات کے اندر، اس کے اندر تاکید آگئی تو اس میں بطریقِ اولیٰ غلام آزاد ہو جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ“، اور اگر آقا نے کہا: ”مَا أَنْتَ إِلَّا حُرٌّ“، کہ تو آزاد ہی ہے، ”عَتَقَ“، غلام آزاد ہو جائے گا، ”لِأَنَّ الِاسْتِثْنَاءَ مِنَ النَّفْيِ إِثْبَاتٌ عَلَى وَجْهِ التَّأْكِيدِ“، اس لیے کیونکہ نفی سے جو استثناء ہوتا ہے اثبات على وجه التأكيد، وہ اثبات ہوتا ہے تاکید کے طریقے پر۔ نفی آئی نا، ”مَا أَنْتَ“، یہ ما کس لیے ہے؟ نفی کے لیے، اور آگے الا کے ذریعے استثناء کیا گیا: ”مَا أَنْتَ إِلَّا حُرٌّ“، تو نفی سے جو استثناء ہوتا ہے وہ اثبات ہے۔ الا کیا کرتا ہے؟ نفی کو آکر توڑ دیتا ہے، تو تاکید کے طریقے پر اثبات آگیا بھئی، تاکید آگئی، زور آگیا کلام کے اندر۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الِاسْتِثْنَاءَ مِنَ النَّفْيِ إِثْبَاتٌ عَلَى وَجْهِ التَّأْكِيدِ“، اس لیے کیونکہ نفی سے استثناء جو ہوتا ہے وہ تاکید کے طریقے پر اثبات ہوتا ہے، ”كَمَا فِي كَلِمَةِ الشَّهَادَةِ“، جیسے کہ کلمۂ شہادت میں ہے: ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ“، کوئی معبود نہیں ہے سوائے اللہ کے۔ تو دیکھو یہاں نفی کے بعد استثناء آیا، کوئی معبود نہیں ہے سوائے اللہ کے۔ اس کا با محاورہ ترجمہ کیسے کریں گے؟ کہ معبود اللہ ہی ہے۔ معبود اللہ ہی ہے۔ ایک کہا جائے معبود اللہ ہے اور ایک ہے کہ معبود اللہ ہی ہے، اس کے اندر تو اور زیادہ زور اور تاکید آگئی، باقی سب سے معبود ہونے کی نفی بھی ہو گئی۔ تو کہتے ہیں: ”كَمَا فِي كَلِمَةِ الشَّهَادَةِ“، جیسے کہ کلمۂ شہادت کے اندر ہے، ”وَلَوْ قَالَ: رَأْسُكَ رَأْسُ حُرٍّ“. صورت یہ، آقا نے اپنے غلام سے کہا: ”رَأْسُكَ رَأْسُ حُرٍّ“، تیرا سر رأس حر، آزاد آدمی کا سر ہے۔ تیرا سر آزاد آدمی کا سر ہے، تو کہتے ہیں اس صورت میں بھی غلام آزاد نہیں ہوگا۔ اس لیے کیونکہ یہاں پر حرفِ تشبیہ محذوف ہے۔ کلام اس نے کیا ذکر کیا؟ ”رَأْسُكَ رَأْسُ حُرٍّ“، تیرا سر آزاد کا سر ہے، اصل کلام یوں ہے: ”رَأْسُكَ كَرَأْسِ حُرٍّ“، تیرا سر آزاد کے سر جیسا ہے، آزاد کے سر کے مثل ہے، اور مثل والا مسئلہ ابھی پیچھے ذکر ہوا تھا، ”أَنْتَ مِثْلُ الْحُرِّ“، اس صورت میں غلام آزاد نہیں ہوتا تھا، تو یہاں پر بھی ”رَأْسُكَ كَرَأْسِ حُرٍّ“ یا ”مِثْلُ رَأْسِ حُرٍّ“، یہ کہنے سے بھی غلام آزاد نہیں ہوگا۔ کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ: رَأْسُكَ رَأْسُ حُرٍّ“، اور اگر آقا نے کہا تیرا سر آزاد کا سر ہے، ”لَا يَعْتِقُ“، تو غلام آزاد نہیں ہوگا، ”لِأَنَّهُ تَشْبِيهٌ بِحَذْفِ حَرْفِهِ“، اس لیے کیونکہ یہ حرفِ تشبیہ کے حذف کے ساتھ تشبیہ ہے۔ ”لِأَنَّهُ تَشْبِيهٌ بِحَذْفِ حَرْفِهِ“، اس لیے کیونکہ یہ تشبیہ ہے حرفِ تشبیہ کے حذف کے ساتھ۔ ”وَلَوْ قَالَ: رَأْسُكَ رَأْسٌ حُرٌّ“. بھئی پہلے کیا کہا تھا؟ ”رَأْسُكَ رَأْسُ حُرٍّ“، رأس کی اضافت کی تھی حر کی طرف، تیرا سر آزاد کا سر ہے۔ اور اب اضافت کے بغیر کہتا ہے: ”رَأْسُكَ رَأْسٌ حُرٌّ“، یعنی حر کو رأس کی صفت بنا دیا، تیرا سر جو ہے، رأسک تیرا سر جو ہے رأس حر آزاد سر ہے، تیرا سر آزاد سر ہے، تو کہتے ہیں اس صورت میں غلام آزاد ہو جائے گا۔ وجہ یہ کہ رأس کا لفظ عربی زبان میں پوری ذات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، کسی قوم کا سردار آئے تو عربی میں کہتے ہیں: ”جَاءَ رَأْسُ الْقَوْمِ“، اس قوم کا سردار آیا ہے۔ تو یہاں پر بھی حریت کو کس کی صفت بنا رہا ہے؟ رأس کی، اور رأس سے پوری ذات مراد ہے تو وہ غلام آزاد ہو جائے گا۔ ”وَلَوْ قَالَ: رَأْسُكَ رَأْسٌ حُرٌّ“، اور اگر آقا نے کہا کہ تیرا سر جو ہے وہ آزاد سر ہے، ”عَتَقَ“، غلام آزاد ہو جائے گا، ”لِأَنَّهُ إِثْبَاتُ الْحُرِّيَّةِ فِيهِ إِذِ الرَّأْسُ يُعَبَّرُ بِهِ عَنْ جَمِيعِ الْبَدَنِ“، اس لیے کیونکہ اس کے اندر حریت کا ثابت کرنا ہے، اس لیے کیونکہ سر جو ہے اس کے ذریعے تعبیر کیا جاتا ہے پورے بدن سے۔ رأس کا لفظ جو ہے عربی زبان میں اس کے ذریعے پورے بدن کو تعبیر کیا جاتا ہے۔ آگے دیکھیے: ”فَصْلٌ: وَمَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ عَتَقَ عَلَيْهِ“. بھئی یہاں تک اعتاق کے مسائل ذکر کیے، آقا اپنے غلام کو آزاد کرتا ہے اپنے اختیار سے۔ اب غیر اختیاری آزادی کو ذکر فرمائیں گے، کوئی اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا مالک بنے تو وہ اس پر فوراً آزاد ہو جاتا ہے، آپ پڑھ چکے ہیں تو یہ آزادی غیر اختیاری ہے۔ تو اب غیر اختیاری آزادی سے متعلق مسائل ذکر کریں گے اس فصل میں۔ ”فَصْلٌ: وَمَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ عَتَقَ عَلَيْهِ“، اور جو شخص مالک ہوا ذا رحم رشتہ دار کا محرم منہ جو اس کا محرم بھی ہو عتق علیہ تو وہ اس پر آزاد ہو جائے گا۔ تو دو چیزیں ذکر ہیں حدیث میں، رشتہ دار بھی ہو اور ایسا رشتہ دار ہو کہ محرم بھی ہو۔ توجہ ہے؟ تو یہ دونوں صفتیں جب پائی جائیں گی، کوئی بھی شخص ایسے غلام کا مالک بنے جو اس کا رشتہ دار بھی ہے اور محرم بھی ہے تو فوراً آزاد ہو جائے گا۔ مثلاً ایک بھئی نے اپنے بھئی کو خریدا تو بھئی اس کا قریبی محرم رشتہ دار ہے، تو خریدتے ہی جس لمحے میں ایجاب و قبول کرے گا، بیع کرے گا، خریدے گا، اگلے ہی لمحے کے اندر وہ آزاد ہو جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ عَتَقَ عَلَيْهِ“، اور جو شخص مالک ہوا ایسے رشتہ دار کا جو اس کا محرم بھی ہو وہ اس پر آزاد ہو جائے گا، ”وَهَذَا اللَّفْظُ مَرْوِيٌّ عَنِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“، اور یہ والے لفظ جو ہیں یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیے گئے ہیں۔ صاحبِ ہدایہ بتلانا چاہتے ہیں یہ حدیث ہے۔ یہ جو الفاظ ذکر کیے متن میں یہ کس کے الفاظ ہیں؟ حدیث کے، کہ ”مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ عَتَقَ عَلَيْهِ“. تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا اللَّفْظُ مَرْوِيٌّ عَنِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“، اور یہ والا لفظ روایت کیا گیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، ”وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ فَهُوَ حُرٌّ“، یہ دوسری حدیث ذکر کر رہے ہیں، بعض احادیث کی کتابوں میں یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ ذکر ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“، اور سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ“، کہ جو شخص اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا مالک بنا، ”فَهُوَ حُرٌّ“، تو وہ آزاد ہے۔ ”وَاللَّفْظُ بِعُمُومِهِ يَنْتَظِمُ كُلَّ قَرَابَةٍ مُؤَيَّدَةٍ بِالْمَحْرَمِيَّةِ وِلَادًا أَوْ غَيْرَهُ“. بھئی یاد رکھو، دو قسم کی قرابتیں ہیں، ایک قرابتِ ولاد ہے ایک قرابتِ غیر ولاد ہے۔ ولاد یعنی ولادت، ولادت، یعنی پیدائش والا رشتہ ہو، جیسے کوئی شخص اپنے بیٹے کا مالک بنتا ہے تو بیٹا فوراً آزاد ہو گیا کیونکہ باپ بیٹے میں پیدائش والا رشتہ ہے، یہ ماں باپ جو ہیں انہوں نے اس بیٹے کو جنم دیا ہے تو ان میں کون سا رشتہ ہے؟ ولادت والا رشتہ ہے۔ تو ولادت والا رشتہ یعنی جو اصول اور فروع کے درمیان ہوتا ہے۔ ایک آدمی ہے اس کے نیچے بیٹے، پوتے، پوتیاں، نواسے، نواسیاں وغیرہ اور اسی طرح اوپر کی طرف ایک آدمی کے کہ وہ یعنی وہ بچے کے دادا، دادی، نانا، نانی وغیرہ اوپر تک، ان سب میں پیدائش والا رشتہ ہے، ان سب میں پیدائش والا رشتہ ہے۔ تو آگے چل کے صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب پیدائش والا رشتہ ہو پھر اس قسم کے غلام کو کوئی خریدے گا تو وہ آزاد ہوگا، اور رشتہ داروں کو خریدے گا تو آزاد نہیں ہوگا۔ لہٰذا ایک آدمی اپنے بھئی کو خریدتا ہے، دو بھائیوں کے درمیان تو ولادت والا رشتہ نہیں ہے لہٰذا وہ بھئی آزاد نہیں ہوگا۔ ہاں لیکن باپ اپنے بیٹے کو خریدتا ہے یا باپ اپنے پوتے یا نواسے وغیرہ کو خریدتا ہے یا یا بیٹا اپنے باپ یا دادا وغیرہ کو خریدتا ہے تو ان ساروں میں کون سا رشتہ ہے؟ پیدائش والا رشتہ ہے، لہٰذا اس صورت کے اندر یہ سب آزاد ہو جائیں گے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک کوئی اپنے ایسے رشتہ دار کا مالک بنے کہ جن کے درمیان پیدائش والا رشتہ ہے تو وہ فوراً آزاد ہو جائے گا لیکن جن میں پیدائش والا رشتہ نہیں ہے جیسے بھئی کے ساتھ رشتہ ہے یا چچا کے ساتھ رشتہ ہے یا ماموں کے ساتھ رشتہ ہے یہ ایک دوسرے کے مالک بنیں گے تو آزاد نہیں ہوں گے۔ جبکہ ہمارے نزدیک، ہمارے نزدیک پیدائش کے رشتے کو نہیں دیکھا جائے گا بلکہ قریبی رشتہ دار بھی ہو اور اس رشتے کی وجہ سے محرم بھی ہوں ایک دوسرے کے، یعنی ایسی رشتہ داری ہو کہ وہ ایک دوسرے کے محرم بھی ہوں، اسی رشتہ داری کی وجہ سے محرم بن رہا ہو کسی اور وجہ سے نہیں، اسی رشتہ داری کی وجہ سے محرم بن رہا ہو تو پھر اس قسم کے رشتہ دار کا جو بھی مالک بنے گا وہ اس پر آزاد ہو جائے گا۔ لہٰذا کسی نے اپنے بھئی کو خریدا یا ماموں کو خریدا یا چچا کو خریدا تو قریبی رشتہ دار بھی ہیں اور ایک دوسرے کے محرم بھی ہیں لہٰذا فوراً آزاد ہو جائیں گے۔ اس میں وہ رشتہ دار بھی آگئے جن کے ساتھ ولادت والا تعلق ہے، پیدائش والا تعلق ہے، اور ان کے علاوہ اور رشتہ دار بھی آگئے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جن میں صرف پیدائش والا رشتہ ہے صرف وہ آزاد ہوں گے باقی آزاد نہیں ہوں گے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَاللَّفْظُ بِعُمُومِهِ يَنْتَظِمُ كُلَّ“، اچھا، بات چل رہی تھی یہ حدیث کی۔ میں نے بتلایا امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں کہ پیدائش والا رشتہ ہو تو پھر ہی وہ رشتہ دار آزاد ہوگا ویسے آزاد نہیں، ہم کہتے ہیں نہیں، یہ جو حدیث آگئی ”مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ عَتَقَ عَلَيْهِ“، یہ جو دوسری حدیث ہے ”مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ فَهُوَ حُرٌّ“، ان دونوں کے اندر دو چیزیں ذکر ہیں کہ قریبی رشتہ دار بھی ہو اور محرم بھی ہو، لہٰذا ان دو چیزوں کو دیکھا جائے گا چاہے ولادت ہو یا ولادت نہ ہو، دونوں صورتیں اس میں داخل ہو جائیں گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَاللَّفْظُ بِعُمُومِهِ“، اور یہ لفظ، یہ جو حدیث کا لفظ ہے، ”بِعُمُومِهِ“، اپنے عموم کے ذریعے، ”يَنْتَظِمُ“، یہ شامل ہے، دیکھو حدیث کے لفظ عام ہیں، قریبی رشتہ دار بھی ہو اور محرم بھی ہو، اس میں ولادت والے بھی آگئے، غیر ولادت والے بھی آگئے، تو حدیث کے الفاظ عام ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَاللَّفْظُ بِعُمُومِهِ“، اور یہ حدیث کے الفاظ جو ہیں اپنے عموم کے ذریعے، ”يَنْتَظِمُ كُلَّ قَرَابَةٍ مُؤَيَّدَةٍ بِالْمَحْرَمِيَّةِ“، یہ شامل ہے ہر ایسی رشتہ داری کو جو مؤید ہو، جس کو قوت دی گئی ہو محرم ہونے کے ذریعے، ”وِلَادًا أَوْ غَيْرَهُ“، چاہے وہ رشتہ داری ولادت والی ہو یا غیر ولادت والی۔ ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے؟ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، ہم کہتے ہیں یہ جو حدیث آئی تھی، حدیث کے اندر دو چیزیں ذکر تھیں، تو کہتے ہیں: ”وَاللَّفْظُ بِعُمُومِهِ“، یہ حدیث کا جو لفظ ہے اپنے عموم کے ذریعے، ”يَنْتَظِمُ كُلَّ قَرَابَةٍ مُؤَيَّدَةٍ بِالْمَحْرَمِيَّةِ“، یہ شامل ہے ہر ایسی رشتہ داری کو جس کو قوت دی گئی ہو محرمیت کے ساتھ، محرم ہونے کے ذریعے، ”وِلَادًا أَوْ غَيْرَهُ“، چاہے وہ رشتہ داری ولادت والی ہو یا غیر ولادت والی۔ ”وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى يُخَالِفُنَا فِي غَيْرِهِ“، اور امام شافعی رحمہ اللہ ہماری مخالفت کرتے ہیں ولادت کے علاوہ میں، ولادت کے اندر وہ ہمارے ساتھ متفق ہیں کہ جب ولادت والا رشتہ ہو تو ایسے رشتہ دار کا جب کوئی شخص مالک بنے گا وہ فوراً آزاد ہو جائے گا لیکن ولادت کے علاوہ ہو تو پھر وہ آزاد نہیں ہوگا۔ تو ”وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى يُخَالِفُنَا فِي غَيْرِهِ“، اور امام شافعی رحمہ اللہ ہماری مخالفت کرتے ہیں ولادت کے علاوہ کے اندر، ”لَهُ: أَنَّ ثُبُوتَ الْعِتْقِ مِنْ غَيْرِ مَرْضَاةِ الْمَالِكِ“، ان کی دلیل یہ ہے کہ ”أَنَّ ثُبُوتَ الْعِتْقِ“، کہ آزادی کا ثابت ہونا، ”مِنْ غَيْرِ مَرْضَاةِ الْمَالِكِ“، مالک کی مرضی کے بغیر، وہ فرماتے ہیں آزادی کا ثابت ہونا مالک کی مرضی کے بغیر... ثابت ہونا مالک کی مرضی کے بغیر یَنْفِیہِ الْقِیَاسُ قیاس اس کی نفی کرتا ہے، أَوْ لَا یَقْتَضِیہِ یا قیاس اس کا تقاضا نہیں کرتا۔ یہ جگہ ذرا مشکل ہے، اچھی طرح سمجھ لیجیے۔ بھئی دیکھیے، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ولادت والا رشتہ ہوگا تو اس قسم کے غلام کا جیسے ہی کوئی مالک بنے گا وہ آزاد ہو جائے گا۔ اور پیچھے ذکر آیا تھا بھئی، پیچھے ایک صفحہ قبل ایک مسئلہ ذکر آیا تھا کسی نے آقا نے اپنے غلام سے کہا: ”هَذَا ابْنِي“ یہ میرا بیٹا ہے، اور اس جیسا غلام اس جیسے آقا کا بیٹا نہیں ہو سکتا۔ یعنی یہ غلام آقا کے عمر میں برابر ہے یا عمر میں اس سے بڑا ہے۔ اور وہاں آپ کو بتلایا تھا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی دلیل ذکر کی تھی صاحبِ ہدایہ نے کہ مملوک کے اندر جب بیٹا ہونے کا وصف ثابت ہو جائے تو یہ سبب بنتا ہے آزادی کا۔ کیوں بنتا ہے آزادی کا سبب؟ إِمَّا إِجْمَاعًا أَوْ صِلَةً لِلْقَرَابَةِ یا تو اس وجہ سے کہ اس پر اجماع ہے کہ ساری امت کا اس پر اجماع ہے کہ جیسے ہی کوئی شخص اپنے بیٹے کا مالک بنے گا وہ آزاد ہو جائے گا۔ مثلاً مثلاً ایک آدمی ہے، اس کی باندی نے بچے کو جنم دیا۔ اور پھر اس آدمی نے، آقا نے کہہ دیا یہ میرا بچہ ہے۔ تو جیسے ہی اس غلام کے اندر اس کے بیٹا ہونے کا وصف ثابت ہوگا، ساتھ ہی آزادی بھی ثابت ہو جائے گی، اس پر اجماع ہے بھئی کہ مملوک کے اندر جب بیٹا ہونے کا وصف ثابت ہوگا تو وہ آزاد ہو جائے گا۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بیٹا ہونے کے اندر تو ساری امت کا اجماع ہے کہ کوئی شخص اپنے بیٹے کا مالک بنے گا تو وہ اس پر آزاد ہو جائے گا۔ کیونکہ دونوں میں ولادت والا رشتہ ہے۔ تو ولادت کا رشتہ ہونا چاہیے بھئی، پھر ہی ایسا مملوک خود بخود آزاد ہو جائے گا بھئی۔ وہ فرماتے ہیں کہ دیکھو، جب کوئی شخص ایسے غلام کا مالک بنتا ہے کہ اس غلام میں اور اس آدمی کے درمیان ولادت والا رشتہ ہے تو یہ غلام آزاد ہو جاتا ہے۔ اور یہ جو غلام کا آزاد ہونا ہے یہ آقا کی مرضی کے بغیر ہے، وہ چاہے یا نہ چاہے، ہر حال میں اس غلام نے آزاد ہونا ہے۔ تو غلام کا آقا کی مرضی کے بغیر آزاد ہونا یہ خلافِ قیاس ہے۔ عقل تو یہ تقاضا کرتی ہے اس کو آزاد نہیں ہونا چاہیے، اس نے اس کو خریدا ہے، یہ اس کا مالک ہے۔ تو یہ جو غلام آزاد ہوتا ہے یہ خلافِ قیاس ہے۔ اور جو چیز خلافِ قیاس ہو اس پر اور چیزوں کو قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ غلام کا آقا کی مرضی کے بغیر ہی آزاد ہو جانا یہ خلافِ قیاس ہے، عقل اس کا تقاضا نہیں کرتی بھئی۔ اور جو چیز خلافِ قیاس ہو اس پر اور چیزوں کو قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ تو کون سی صورت میں غلام آزاد ہوگا؟ جب پیدائش والا رشتہ ہو۔ تو غیرِ پیدائش والے رشتوں کو اس پر قیاس نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ رشتے اس سے کم درجے کے ہیں۔ وہ رشتے اس سے کم درجے... پیدائش والا رشتہ تو سب سے قوی رشتہ ہے، اور جو بھئی بہن کے ساتھ رشتہ ہے یا چچا یا ماموں کے ساتھ رشتہ ہے وہ پیدائش والا رشتہ نہیں ہے، وہ کم درجے کا رشتہ ہے۔ تو ایک جیسی چیزوں کو ایک دوسرے پر قیاس کیا جاتا ہے، مختلف چیزوں کو ایک دوسرے پر قیاس نہیں کیا جاتا۔ پھر دیکھیے امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل: لَهُ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے: أَنَّ ثُبُوتَ الْعِتْقِ مِنْ غَیْرِ مَرْضَاةِ الْمَالِكِ کہ آزادی کا ثابت ہونا مالک کی مرضی کے بغیر یَنْفِیہِ الْقِیَاسُ قیاس اس کی نفی کرتا ہے، أَوْ لَا یَقْتَضِیہِ یا قیاس اس کا تقاضا نہیں کرتا۔ یا قیاس اس کا تقاضا نہیں کرتا، کہتے ہیں اس کے ذریعے اشارہ ہے دلالۃ النص کی طرف۔ کس کی طرف؟ دلالۃ النص، یعنی دلالۃ النص کے ذریعے بھی ایک چیز کو یہاں دوسری چیز کے ساتھ نہیں ملایا جا سکتا۔ بھئی دیکھیے، دلالۃ النص کسے کہتے ہیں اچھی طرح سمجھ لیجیے۔ دلالۃ النص اس علت کو کہتے ہیں جو عبارت النص سے سمجھ میں آئے بغیر اجتہاد اور استنباط کے، صرف عربی زبان جاننے والا ہی اس علت کو سمجھ لے، وہاں کسی قسم کے اجتہاد کے اور غور و فکر کی ضرورت نہیں۔ ہر عربی زبان جاننے والا اس کو سمجھ لے، اس کو کہتے ہیں دلالۃ النص۔ ایک حکم آیا اللہ کی طرف سے، اس حکم کی علت عربی زبان جاننے والا ہی سمجھ لیتا ہے کہ اس کی علت یہ ہے، اس کی وجہ یہ ہے، تو اس کو کہتے ہیں دلالۃ النص۔ تو جب اس چیز کا یہ حکم ہے تو جہاں جہاں یہ علت پائی جائے گی اس کا بھی یہی حکم ہوگا۔ مثلاً قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا﴾ قرآن میں اللہ والدین کے بارے میں فرماتے ہیں کہ والدین کو اف بھی نہ کہو، ﴿وَلَا تَنْهَرْهُمَا﴾ اور نہ ان کو جھڑکو، نہ ان کو ڈانٹو۔ تو والدین کو اف کہنے سے بھی منع کیا گیا، اور اف وہ کلمہ ہے جو عربی زبان میں جب انسان کسی بات سے تنگ آ جائے تو اس وقت یہ اف کلمہ بولتا ہے۔ تو اف کلمہ انسان جب کسی بات سے تنگ آ جائے تو اس وقت اف کلمہ کہتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے والدین کو اف کہنے سے بھی منع کیا ہے۔ اور عربی زبان جاننے والا بھی سمجھ لیتا ہے کہ یہ اف کہنے سے کیوں منع کیا گیا؟ کیونکہ اس سے والدین کو تکلیف ہوگی۔ یہ تو کوئی آدمی کسی بات سے تنگ آ جائے تب اف کہتا ہے، تو اس سے والدین کو تکلیف ہوگی۔ یہاں کسی استنباط اور اجتہاد کی ضرورت نہیں ہے۔ عربی زبان جاننے والا ہر ایک سمجھ لیتا ہے کہ یہاں اس حکم کی علت کیا ہے کہ اس سے والدین کو تکلیف ہوگی۔ تو یہ ہے دلالۃ النص۔ جہاں جہاں اب یہ علت پائی جائے گی وہ سب کام ممنوع ہو جائیں گے۔ تو جب والدین کو اف کہنا منع ہے تو گالی دینا ان کو یا ان کو مارنا، اس میں تو اور زیادہ تکلیف ہوگی، لہٰذا یہ بطریقِ اولیٰ منع ہوں گے بھئی۔ کسی استنباط کی ضرورت نہیں۔ کسی قسم کے اجتہاد کی یہاں ضرورت نہیں۔ عربی زبان جاننے والا بھی اس بات کو سمجھتا ہے بھئی۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالۃ النص۔ تو دلالۃ النص اس علت کا نام ہے جو عربی زبان کے اعتبار سے حکم سے سمجھ میں آئے، اور حکم کا مدار اس علت پر ہوتا ہے۔ جہاں جہاں یہ علت ہوگی وہاں وہی حکم آ جائے گا۔ جیسے اف کہنا منع ہے کیونکہ تکلیف ہے، تو گالی دینا اور مارنا وہ بھی بطریقِ اولیٰ منع ہوگا کیونکہ اس میں بھی تکلیف ہے ان کے لیے۔ تو حکم کا مدار علت پر ہوگا۔ چنانچہ اسی لیے علماء فرماتے ہیں: اگر کوئی ایسی قوم ہے ان کی ایسی زبان ہے کہ ان کے ہاں اف کا لفظ تعظیم کے طور پر کہتے ہیں، اف کا لفظ کس لیے کہتے ہیں؟ بطورِ تعظیم کے کہتے ہیں، تو ان کے لیے اف کہنا منع نہیں ہوگا بھئی کیونکہ اف کہنے سے منع کرنے کی علت کیا تھی؟ والدین کی تکلیف تھی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو جہاں یہ عزت والا لفظ ہے وہاں تکلیف نہیں، جب تکلیف نہیں تو یہ حکم بھی نہیں ہوگا اور وہ اف کہہ سکتے ہیں۔ نیز یہ اسی طرح ہے جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن یَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَیْعَ﴾ اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے ندا دی جائے، اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کے لیے کوشش کرو، اور بیع کو چھوڑ دو۔ اب یہاں عربی زبان جاننے والا بھی سمجھتا ہے یہ بیع کو چھوڑنے کا حکم کیوں دیا؟ کیونکہ اس کی وجہ سے سعی الی الجمعہ میں خلل آئے گا، جمعہ کی طرف تیاری کرنے میں اور پہنچنے میں خلل آئے گا۔ لہٰذا جہاں خلل آئے گا وہاں وہ بیع ممنوع ہوگی۔ اور جہاں خلل نہیں آئے گا وہاں بیع بھی جائز ہو جائے گی۔ مثلاً ایک آدمی کشتی میں جا رہا ہے جمعہ کی نماز کے لیے، اور کشتی میں بیٹھے بیٹھے وہ بیع کرتا ہے تو یہ بیع جائز ہے بھئی۔ یا ایک آدمی گاڑی میں یا بس کے اندر جمعہ کی نماز کے لیے جا رہا ہے اور گاڑی میں یا بس کے اندر بیٹھے بیٹھے وہ بیع کرتا ہے، تو دیکھو اس میں سعی الی الجمعہ میں کوئی خلل نہیں آ رہا۔ تو وہ گاڑی تو چل رہی ہے، لہٰذا جمعہ کی سعی میں کوئی خلل نہیں آیا تو یہ بیع جائز ہوگی۔ تو دلالۃ النص کسے کہتے ہیں؟ وہ جو حکم کی علت ہمیں سمجھ میں آئے عربی زبان کے اعتبار سے، بغیر اجتہاد اور بغیر استنباط کے اس کو دلالۃ النص کہتے ہیں، اور اسی پر حکم کا مدار ہوتا ہے۔ جہاں وہ علت ہوگی وہ حکم بھی ہوگا، جہاں وہ علت نہیں وہاں وہ حکم بھی نہیں ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں پر بھی دیکھو، دلالۃ النص کے اندر دلالۃ النص کے اندر بھی ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔ جیسے اف کہنے سے منع کیا گیا ہے تو والدین کو گالی دینا یا والدین کو مارنا بطریقِ اولیٰ منع ہوگا۔ تو لہٰذا جہاں وہ علت ہوگی وہاں وہ حکم بھی ہوگا۔ اور دلالۃ النص میں ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ ملایا جاتا ہے، تو دوسری چیز جس کو آپ ملا رہے ہیں اس کا پہلی چیز جیسا ہونا ضروری ہے، یا اس سے بڑھ کر ہو یا اسی جیسی ہو، اس سے کم درجے کی ہو تو اس کو آپ وہ حکم نہیں دے سکتے۔ تو یہی یہاں بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: أَنَّ ثُبُوتَ الْعِتْقِ مِنْ غَیْرِ مَرْضَاةِ الْمَالِكِ یَنْفِیہِ الْقِیَاسُ کہ آزادی کا ثبوت مالک کی مرضی کے بغیر قیاس اس کی نفی کرتا ہے، یعنی یہ خلافِ قیاس ہے، لہٰذا اور چیزوں کو اس پر قیاس نہیں کر سکتے، أَوْ لَا یَقْتَضِیہِ یا یہ کہ قیاس اس کا تقاضا نہیں کرتا۔ مالک کی مرضی کے بغیر آزادی یہ خلافِ قیاس ہے یا قیاس اس کا تقاضا نہیں کرتا۔ قیاس اس کا تقاضا نہیں کرتا، کہتے ہیں اس کے ذریعے اشارہ ہے دلالۃ النص کی طرف۔ اس کے ذریعے صاحبِ ہدایہ کس کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں؟ دلالۃ النص، یعنی دلالۃ النص کے ذریعے بھی یہاں آپ ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ نہیں ملا سکتے۔ اس لیے کیونکہ جس چیز کو آپ دوسری کے ساتھ ملانا چاہتے ہیں دونوں کا ایک جیسا ہونا ضروری ہے۔ لیکن آپ یہاں غیرِ ولاد والوں کو ولاد والوں کے ساتھ ملانا چاہتے ہیں حالانکہ ولاد والوں کے ساتھ جو رشتہ ہے وہ قوی درجے کا ہے اور غیرِ ولاد والوں کے ساتھ جو رشتہ ہے وہ کم درجے کا ہے، لہٰذا آپ اس کم درجے والے کو وہی والا حکم نہیں دے سکتے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَالْأُخُوَّةُ وَمَا یُضَاهِیهَا نَازِلَةٌ عَنْ قَرَابَةِ الْوِلَادِ، وَالْأُخُوَّةُ اور بھئی ہونا، وَمَا یُضَاهِیهَا، ضَاهَىٰ يُضَاهِي مُضَاهَاةً، ضَاهَىٰ يُضَاهِي مُضَاهَاةً کا معنی ہے مشابہ ہونا، تو کہتے ہیں: وَالْأُخُوَّةُ اور بھئی ہونا، وَمَا یُضَاهِیهَا اور جو اس کے مشابہ اور رشتے ہیں، نَازِلَةٌ وہ کم درجے کے ہیں، وہ ادنیٰ درجے کے ہیں، عَنْ قَرَابَةِ الْوِلَادِ ولادت کے رشتے سے۔ ولادت کے رشتے کا حکم کیا ہے کہ اس قسم کے غلام کے مالک بنتے ہی وہ آزاد ہو جائے گا۔ تو غیرِ ولاد تو اس سے کم درجے کا ہے، اس کا یہ حکم نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: وَالْأُخُوَّةُ وَمَا یُضَاهِیهَا نَازِلَةٌ عَنْ قَرَابَةِ الْوِلَادِ اور بھئی ہونا اور اس کے مشابہ اور جو رشتے ہیں وہ ولادت کے رشتوں سے کم درجے کے ہیں، فَامْتَنَعَ الْإِلْحَاقُ وَالِاسْتِدْلَالُ تو الحاق اور استدلال ممتنع ہوگا۔ الحاق اور استدلال ممتنع ہوگا، پھر وہی اشارہ، الحاق کے ذریعے اشارہ ہے قیاس کی طرف، اور استدلال کے ذریعے اشارہ ہے دلالۃ النص کی طرف۔ بھئی ادھر دیکھیے، ایک ہے ولادت والا رشتہ، ایک ہے بھئی وغیرہ کا رشتہ۔ بھئی وغیرہ کا رشتہ یہ ولادت کے رشتے سے کم درجے کا ہے۔ لہٰذا آپ اس رشتے کو، یہ بھئی والے رشتے کو ولادت والے رشتے کے ساتھ قیاس کے ذریعے بھی نہیں ملا سکتے، اور دلالۃ النص کے ذریعے بھی نہیں ملا سکتے کیونکہ دلالۃ النص کے اندر اسی جیسی یا اس سے بڑھ کر جو چیز ہے اس علت میں اس کو ملایا جاتا ہے، کم درجے والی کو اس کے ساتھ نہیں ملایا جاتا۔ تو کہتے ہیں: فَامْتَنَعَ الْإِلْحَاقُ تو لہٰذا ان رشتوں کو ملانا، کون سے رشتے؟ بھئی وغیرہ والے رشتے جو کم درجے کے ہیں، ان کو ملانا کس کے ساتھ؟ ولادت والے رشتوں کے ساتھ، یہ ممتنع ہوگا۔ یہ معنی ہے: فَامْتَنَعَ الْإِلْحَاقُ، أَلْحَقَ يُلْحِقُ إِلْحَاقًا کا کیا معنی ہے؟ ملانا۔ اور استدلال کا معنی؟ دلیل بنانا۔ تو لہٰذا فَامْتَنَعَ الْإِلْحَاقُ لہٰذا ان رشتوں کو قیاس کے ذریعے ملانا بھی ممتنع ہوگا، وَالِاسْتِدْلَالُ اور دلالۃ النص کے ذریعے استدلال بھی ممتنع ہوگا بھئی۔ وَلِهَذَا امْتَنَعَ التَّكَاتُبُ عَلَى الْمُكَاتَبِ فِي غَیْرِ الْوِلَادِ وَلَمْ یَمْتَنِعْ فِیهِ، بھئی دیکھیے، مکاتب وہ غلام ہے جسے آقا نے کہا کہ اگر تم دو سال میں بیس لاکھ روپے مثلاً لے آؤ تو تم آزاد ہو، اور غلام نے اس کو قبول کر لیا، تو یہ جو آقا اور غلام کے درمیان عقد ہوا اس کو عقدِ کتابت کہتے ہیں۔ اور آپ کو میں نے بتلایا تھا کہ یہ جو مکاتب ہے یہ آزاد آدمی کی طرح ہو گیا۔ یہ آزاد آدمی کی طرح ہو گیا، آقا اس سے جبراً خدمت نہیں لے سکتا۔ یہ جائے گا اور پیسے کمائے گا اور اپنے آپ کو آزاد کروائے گا۔ تو اگر اس نے ادائیگی کر دی تو یہ آزاد ہو جائے گا، اور اگر یہ ادائیگی سے عاجز آ گیا تو پھر یہ پہلے کی طرح عام غلام بن جائے گا۔ اب صورت یہ ہے: آقا نے اپنے غلام کے ساتھ عقدِ کتابت کر لیا، اس مکاتب نے تجارت شروع کر دی اور پیسے کمانے لگ پڑا، اور پھر اس نے غلاموں کی تجارت شروع کر دی، اور پھر اس نے اپنے باپ یا بیٹے کو خریدا، تو یاد رکھو، یہ جو باپ اور بیٹا ہیں ان کے ساتھ اس مکاتب کا ولادت والا رشتہ ہے۔ لہٰذا یہ بھی اس کے ساتھ ہی مکاتب بن جائیں گے۔ یہ باپ اور بیٹا بھی اس مکاتب کے ساتھ مکاتب بن جائیں گے، اور آپ جانتے ہیں آقا کے لیے مکاتب کو بیچنا جائز نہیں ہوتا۔ آقا کے لیے مکاتب کو بیچنا جائز نہیں کیونکہ مکاتب نے پیسے کما کر دینے ہیں، اپنے آپ کو آزاد کروانا ہے۔ اگر یہ آقا اس کو کسی اور کے ہاتھ بیچ دے گا تو اس بیچارے غلام کا حقِ آزادی ضائع ہو جائے گا۔ آزادی تو بہت بڑی نعمت ہے، کوئی غلام تصور نہیں کر سکتا کہ اس کو آزادی مل جائے بھئی۔ تو یہاں یہ مکاتب ہے، اس کے آزادی کا موقع بن رہا ہے، یہ پیسے کما کر لا کر دے رہا ہے، تو یہ جو غلام ہے اس نے اپنے آقا کے ساتھ عقدِ کتابت کر لیا اور اب اس کے امکان ہے آزاد ہونے کا، لہٰذا آقا کے لیے جائز نہیں ہے، وہ اس کو بیچ نہیں سکتا۔ وہ اس کو بیچ نہیں سکتا، اسی طرح یاد رکھو جب مکاتب جو تجارت کر رہا ہے اس نے اپنے باپ یا بیٹے وغیرہ کو خرید لیا جن کے ساتھ اس کا ولادت والا رشتہ ہے تو یہ باپ اور بیٹا بھی اس کے ساتھ عقدِ کتابت میں داخل ہو جائیں گے۔ اب ان کو آگے بیچا نہیں جا سکتا۔ یہ مکاتب بھی اب ان کو آگے نہیں بیچ سکتا کیونکہ یہ بھی اس کے ساتھ مکاتب بن گئے، جس دن مکاتب اپنے سارے پیسے ادا کر دے گا وہ مکاتب بھی آزاد ہو جائے گا اور اس کا باپ بیٹا بھی ساتھ ہی آزاد ہو جائیں گے۔ ان کے لیے کوئی الگ پیسے نہیں دینے پڑیں گے، یہ وہی پیسوں کی ادائیگی کے ساتھ وہ بھی آزاد ہو جائیں گے۔ تو مکاتب جب اپنے کسی ایسے رشتہ دار کو خریدے جس کے ساتھ پیدائش والا رشتہ ہے وہ بھی اس کے ساتھ ہی مکاتب بن جاتا ہے۔ لیکن اگر بھئی وغیرہ کو خریدے مکاتب تو وہ اس کے ساتھ مکاتب نہیں بنتا۔ وہ اس کے ساتھ مکاتب نہیں بنتا۔ دلیل چل رہی ہے امام شافعی رحمہ اللہ کی، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آقا کی مرضی کے بغیر اس کے غلام کا آزاد ہونا یہ خلافِ قیاس ہے۔ یہ خلافِ قیاس ہے، تو یہ صرف ولادت والے رشتوں کے اندر جس پر امت کا اجماع ہے اس صورت میں تو آزادی آئے گی، لیکن اور کم درجے کے رشتوں کو اس پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا اسی لیے وہ فرماتے ہیں اگر ایک مکاتب وہ اپنے بھئی یا بہن کو خریدے گا تو وہ مکاتب نہیں بنیں گے، یہ ان کو آگے بیچ سکتا ہے۔ یہ مکاتب ان کو آگے بیچ سکتا ہے، وہ نہیں کہ عقدِ کتابت میں داخل، لیکن اگر اپنے اصول و فروع میں سے یعنی باپ بیٹوں وغیرہ میں سے کسی کو اگر مکاتب خریدے گا تو وہ بھی اس کے ساتھ عقدِ کتابت میں داخل ہو جائیں گے، اب اس مکاتب کے لیے ان کو بیچنا جائز نہیں۔ ان کو بیچنا جائز نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے کہ اے احناف! آپ کے نزدیک بھی مکاتب اپنے اصول اور فروع کو خریدے تو وہ اس کے ساتھ عقدِ کتابت میں داخل ہوتے ہیں، بھئی وغیرہ اس کے ساتھ عقدِ کتابت میں داخل نہیں ہوتے۔ ورنہ تو اگر یہ دونوں کا درجہ ایک جیسا ہوتا تو آپ کو یہ کہنا چاہیے تھا کہ بھئی بھی عقدِ کتابت میں داخل ہو گئے، لیکن وہاں آپ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ بھئی جو ہے وہ عقدِ کتابت میں داخل نہیں ہوگا اور وجہ وہی جو ہم نے ذکر کر دی کہ یہاں ولادت والا رشتہ نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: وَلِهَذَا اور اسی وجہ سے، توجہ ہے؟ وَلِهَذَا اور اسی وجہ سے، امْتَنَعَ التَّكَاتُبُ مکاتب بننا ممتنع ہے، عَلَى الْمُكَاتَبِ مکاتب پر، فِي غَیْرِ الْوِلَادِ ولاد کے علاوہ میں۔ ولاد کے علاوہ میں اور رشتہ داروں کا مکاتب پر مکاتب بننا ممتنع ہے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: وَلِهَذَا اور اسی وجہ سے کہ ولادت اور غیرِ ولادت میں فرق ہے، اسی وجہ سے امْتَنَعَ التَّكَاتُبُ عَلَى الْمُكَاتَبِ فِي غَیْرِ الْوِلَادِ کہ مکاتب پر مکاتب بننا ممتنع ہے ولادت کے علاوہ میں، وَلَمْ یَمْتَنِعْ فِیهِ اور ولادت کے اندر ممتنع نہیں۔ جن کے ساتھ ولادت والا رشتہ ہے وہ مکاتب پر مکاتب بن جائیں گے، وہاں مکاتب بننا ممتنع نہیں ہے۔ یہ تھی امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل۔ اب ہماری دلیل آ گئی۔ وَلَنَا اور ہماری دلیل جو ہے: مَا رَوَيْنَا وہ حدیث ہے جو ہم نے روایت کر دی، اوپر متن میں آئی تھی: ”وَمَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ عَتَقَ عَلَيْهِ“۔ اس حدیث کے اندر دو چیزیں ذکر ہیں کہ قریبی رشتہ دار ہو اور محرم ہو، یہاں ولادت کی قید موجود نہیں۔ چاہے ولادت ہو یا نہ ہو، جس رشتہ دار میں بھی یہ دو شرطیں پائی جائیں گی اس کا مالک بنتے ہی وہ آزاد ہو جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَنَا مَا رَوَيْنَا اور ہماری دلیل جو ہے وہ حدیث ہے جس کو ہم نے روایت کر دیا، وَلِأَنَّهُ مَلَكَ قَرِیبَهُ قَرَابَةً مُؤَثِّرَةً فِي الْمَحْرَمِیَّةِ، وَلِأَنَّهُ اور اس لیے کیونکہ یہ جو آقا ہے مَلَكَ قَرِیبَهُ یہ اپنے قریبی رشتہ دار کا مالک بنا ہے، قَرَابَةً مُؤَثِّرَةً فِي الْمَحْرَمِیَّةِ اور یہ ایسی رشتہ داری ہے جو محرم ہونے میں موثر ہے۔ ایک شخص نے اپنے قریبی رشتہ دار کو خریدا جو اس کا محرم بھی ہے، تو یہ غلام کس قسم کا ہے؟ اس کے ساتھ اس کی قریبی رشتہ داری بھی ہے، اور یہ قریبی رشتہ داری موثر ہے، اسی کی وجہ سے یہ محرم بھی ہے اس کا۔ یہ اس کا محرم بھی ہے، مثلاً ایک شخص نے اپنے بھئی کو خریدا یا بہن کو خریدا، یہ اس کا قریبی رشتہ دار بھی ہے اور محرم بھی ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ بھئی نے بھئی کو خریدا تو محرم ہے، آپ کہیں گے یہ تو دونوں مذکر ہیں، بھئی دونوں میں سے ایک کو مؤنث فرض کر کے دیکھ لیا کریں۔ دونوں میں سے ہر ایک کو باری باری مؤنث فرض کریں تو بہن بھئی کا رشتہ بنتا ہے تو محرمیت ہے یہاں پر۔ تو ہماری دلیل چل رہی ہے، صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے قریبی محرم رشتہ دار کو خریدتا ہے تو یہ مالک بن گیا ایک ایسے قریبی رشتہ دار کا کہ یہ رشتہ محرم ہونے میں بھی موثر ہے، اس کی وجہ سے وہ محرم بھی بن رہا ہے اس کا۔ وہ محرم بھی بن رہا ہے، فَيَعْتِقُ عَلَيْهِ تو یہ اس پر آزاد ہو جائے گا۔ قریبی رشتہ دار بھی ہے اور محرم بھی۔ اور محرم کسی اور وجہ سے نہیں ہونا چاہیے، اسی رشتے کی وجہ سے محرم ہونا چاہیے، یہ جو قریبی رشتہ دار ہے۔ آگے مسئلہ ذکر فرمائیں گے صاحبِ ہدایہ: ایک شخص نے اپنے چچا کی بیٹی کو خریدا، اب چچا کی بیٹی وہ قریبی رشتہ دار تو ہے لیکن محرم نہیں، چچا کی بیٹی سے تو نکاح جائز ہوتا ہے۔ توجہ ہے؟ تو ایک آدمی نے اپنے چچا کی بیٹی کو خریدا، تو یہ خریدے گا تو آزاد نہیں ہوگی کیونکہ قریبی رشتہ دار تو ہے لیکن محرم نہیں۔ دوسری صورت بنا لیں: ایک شخص نے اپنے چچا کی بیٹی کو خریدا لیکن وہ چچا کی بیٹی اس کی رضاعی بہن بھی ہے، ان دونوں نے بچپن میں ایک ہی عورت کا دودھ پیا تھا۔ اب یہ چچا کی بیٹی بھی ہے اور محرم بھی ہے، اس کو اس آدمی نے خریدا، پھر بھی آزاد نہیں ہوگی۔ بھئی کیوں نہیں آزاد ہوگی؟ یہ قریبی رشتہ دار بھی ہے اور محرم بھی ہے، کہتے ہیں بھئی یہ جو محرمیت ہے وہ اس قریبی رشتے کی وجہ سے آنی چاہیے، کسی اور وجہ سے نہیں۔ یہاں جو محرمیت آئی ہے وہ رضاعت کی وجہ سے آئی ہے، اس قریبی رشتے کی وجہ سے محرمیت نہیں آئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو محرم ہو لیکن کسی اور وجہ سے محرم نہ ہو، اپنے اسی قریبی رشتے کی وجہ سے محرم ہو تو پھر وہ شخص آزاد ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّهُ مَلَكَ قَرِیبَهُ قَرَابَةً مُؤَثِّرَةً فِي الْمَحْرَمِیَّةِ اور اس لیے کیونکہ یہ شخص اپنے ایسے قریبی رشتہ دار کا مالک بنا ہے کہ وہ قرابت موثر ہے محرم ہونے میں بھی، فَيَعْتِقُ عَلَيْهِ تو یہ اس پر آزاد ہو جائے گا، وَهَذَا هُوَ الْمُؤَثِّرُ فِي الْأَصْلِ اور یہی جو ہے یعنی یہ جو محرمیت والی قرابت ہے، وَهَذَا هُوَ الْمُؤَثِّرُ فِي الْأَصْلِ اور یہ جو محرمیت والی قرابت ہے یہی موثر ہے فی الاصل اصل میں۔ اصل میں یہی قرابت موثر ہے، وَالْوِلَادُ مُلْغًى اور ولاد جو ہے وہ باطل ہے۔ یعنی اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ ملغیٰ کا ترجمہ کیا کر لیں؟ غیر معتبر۔ وَالْوِلَادُ مُلْغًى اور ولاد یعنی پیدائش والا رشتہ غیر معتبر ہے، اس کا اعتبار نہیں ہے بلکہ ایسی رشتہ داری جو محرمیت کا سبب ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَهَذَا هُوَ الْمُؤَثِّرُ فِي الْأَصْلِ اور یہ قریبی محرمیت والی رشتہ داری ہی اصل میں موثر ہے اس آزادی میں، وَالْوِلَادُ مُلْغًى اور یہ جو پیدائش والا رشتہ ہے ملغًى یہ غیر معتبر ہے، یہ غیر موثر ہے، لِأَنَّهَا هِيَ الَّتِي یَفْتَرِضُ وَصْلُهَا وَیَحْرُمُ قَطْعُهَا اس لیے کیونکہ یہی وہ رشتہ داری ہے کہ فرض ہے اس کا جوڑنا اور حرام ہے اس کو توڑنا۔ بھئی شریعت نے ہمیں رشتہ جوڑنے کا حکم دیا ہے اور شریعت نے ہمیں رشتہ توڑنے سے منع کیا ہے، تو ہم کہتے ہیں کہ یہ قریبی محرمیت والی رشتہ داری ہی ہے جس کی شریعت نے ہم پر فرض کیا ہے اس کو جوڑنا اور ہم پر حرام کیا ہے اس کو توڑنا، صرف پیدائش والا رشتہ نہیں بلکہ قریبی محرمیت والے رشتے سب کا یہی حکم ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهَا هِيَ الَّتِي یَفْتَرِضُ وَصْلُهَا، وصل کا معنی؟ جوڑنا۔ لِأَنَّهَا هِيَ الَّتِي یَفْتَرِضُ وَصْلُهَا اس لیے کیونکہ یہ جو قریبی محرمیت والا رشتہ ہے یہی وہ رشتہ ہے الَّتِي یَفْتَرِضُ وَصْلُهَا کہ جس کا ملانا اور جس کا جوڑنا فرض ہے، وَیَحْرُمُ قَطْعُهَا اور جس کا کاٹنا حرام ہے، حَتَّى وَجَبَتِ النَّفَقَةُ وَحَرُمَ النِّكَاحُ یہاں تک کہ اس کی وجہ سے نفقہ واجب ہوتا ہے اور نکاح حرام ہوتا ہے۔ یہ قریبی محرمیت اسی کی وجہ سے نفقہ بھی واجب ہوتا ہے اور اسی کی وجہ سے نکاح بھی حرام ہوتا ہے۔ آپ نے باب النفقات پیچھے پڑھا، آپ نے پڑھا کہ کوئی قریبی محرم رشتہ دار ہو تو ضرورتوں کے موقع پر اس کا نفقہ انسان پر واجب ہوگا۔ وہ قریبی محرم رشتہ دار اگر نابالغ ہے، چاہے مذکر ہے چاہے مؤنث، اور اگر بالغ ہے اور مؤنث ہے، اور اگر مرد ہے تو وہ مثلاً اپاہج ہے یا معذور ہے تو پھر ان تمام صورتوں میں اس کا نفقہ بھی اس مالدار رشتہ دار پر واجب ہوگا۔ یہ قریبی محرم رشتہ داری جو ہے یہی وہ رشتہ داری ہے کہ جس کو شریعت نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اور جس کے توڑنے سے شریعت نے منع کیا ہے، اور اسی کی وجہ سے نفقہ بھی واجب ہوتا ہے اور اسی کی وجہ سے نکاح بھی حرام ہوتا ہے۔ معلوم ہوا یہی محرمیت والی قرابت ہی موثر ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: حَتَّى وَجَبَتِ النَّفَقَةُ وَحَرُمَ النِّكَاحُ یہاں تک کہ اس کی وجہ سے نفقہ بھی واجب ہوتا ہے اور نکاح بھی حرام ہوتا ہے، وَلَا فَرْقَ بَیْنَهُمَا إِذَا كَانَ الْمَالِكُ مُسْلِمًا أَوْ كَافِرًا فِي دَارِ الْإِسْلَامِ اور اس بات میں کوئی فرق نہیں ہے کہ جب وہ مالک جو ہے وہ مسلمان ہو یا کافر ہو فی دار الاسلام دار الاسلام میں۔ بھئی یاد رکھو، یاد رکھو شارحین فرماتے ہیں یہ جو عبارت آئی: وَلَا فَرْقَ بَیْنَهُمَا إِذَا كَانَ الْمَالِكُ مُسْلِمًا أَوْ كَافِرًا کہ اس میں کوئی فرق نہیں ہے کہ وہ جو مالک ہے وہ مسلمان ہے یا کافر ہے، فِي دَارِ الْإِسْلَامِ کس جگہ پر؟ دار الاسلام میں۔ تو شارحین فرماتے ہیں کہ یہ ”فِي دَارِ الْإِسْلَامِ“ کا تعلق دونوں سے ہے۔ وہ مالک جو مسلمان ہے یا وہ مالک جو کافر ہے، دونوں کے ساتھ اس کا تعلق ہے۔ یاد رکھو، مسلمان جو ہے دار الحرب کے اندر اگر حربی غلام کا مالک بنا تو مسلمان اس کو آزاد کرے بھی تو وہ آزاد نہیں ہوگا۔ مسلمان دار الحرب میں کس کا مالک بنا؟ حربی غلام کا مالک بنا، تو وہ آزاد کرے بھی تو وہ آزاد نہیں ہوگا۔ بھئی کیوں نہیں آزاد ہوگا؟ بھئی آپ پڑھ چکے پیچھے صاحبِ ہدایہ نے ذکر فرمایا تھا، نفقات کے باب میں ذکر کیا تھا صاحبِ ہدایہ نے کہ اگر اپنے اصول اور فروع جو ہیں وہ دار الاسلام میں ہیں تو ان کا نفقہ واجب ہوگا چاہے دین الگ ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن اگر وہ دار الحرب میں ہیں تو پھر ان کا نفقہ واجب نہیں کیونکہ حربیوں کے ساتھ اللہ نے احسان کرنے سے منع فرمایا ہے۔ وہ لوگ جو تمہارے ساتھ دین کے معاملے میں لڑتے ہیں ان کے ساتھ اللہ نے احسان کرنے سے منع فرمایا ہے، تو لہٰذا مسلمان دار الحرب کے اندر حربی غلام کا مالک بنا، یہ مسلمان مالک اس کو آزاد کرے بھی تو وہ آزاد نہیں ہوگا کیونکہ مسلمان کو حربیوں کے ساتھ احسان کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اسی طرح یاد رکھو اگر کوئی کافر جو ہے دار الحرب کے اندر وہ اپنے کسی حربی کا مالک بنتا ہے وہ بھی آزاد کرے گا تو آزاد نہیں ہوگا۔ تو جب مسلمان اور کافر کے دار الحرب کے اندر حربی کو آزاد کرنے سے بھی وہ آزاد نہیں ہوتا تو وہاں پر اگر وہ اپنے حربی قریبی رشتہ دار کے مالک بنیں گے تو وہ بھی آزاد نہیں ہوگا۔ جب عام حربی کو وہ آزاد کریں بھی تو آزاد ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ حربیوں کے ساتھ اللہ نے احسان کرنے سے منع فرمایا ہے، وہ آزاد ہوں گے یہ تو ان کے ساتھ احسان ہو جائے گا بھئی، لہٰذا چاہے مسلمان وہاں پر قریبی محرم رشتہ دار کا مالک بنے لیکن ہے وہ حربی، وہ قریبی رشتہ دار کیا ہے؟ حربی ہے، مثلاً ایک شخص تو مسلمان ہو کر دار الاسلام آ گیا تھا لیکن اس کا بھئی وہیں پر تھا اور وہ کافر ہے، وہ حربی ہے بھئی، تو مسلمان گیا اور اس نے جا کر اپنے حربی بھئی غلام تھا اس کو خرید لیا تو یہ آزاد نہیں ہوگا۔ تو دار الاسلام میں ہونا ضروری ہے، چاہے مسلمان ہو چاہے ذمی ہو۔ جب قریبی محرم رشتہ دار کا مالک بنے گا وہ آزاد ہو جائے گا۔ مسلمان بھی اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا مالک بنا وہ آزاد ہو جائے گا، اور اگر ذمی بھی دار الاسلام کے اندر اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا مالک بنا تو وہ آزاد ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَلَا فَرْقَ بَیْنَهُمَا إِذَا كَانَ الْمَالِكُ مُسْلِمًا أَوْ كَافِرًا فِي دَارِ الْإِسْلَامِ اور کوئی فرق نہیں ہے اس میں کہ جب مالک وہ مسلمان ہو یا کافر ہو دار الاسلام میں، لِعُمُومِ الْعِلَّةِ علت کے عام ہونے کی وجہ سے۔ کیونکہ علت پائی جا رہی ہے، اور علت کیا کہ قریبی محرم رشتہ دار کا مالک بن رہا ہے، لہٰذا وہ آزاد ہو جائے گا۔ وَالْمُكَاتَبُ إِذَا اشْتَرَى أَخَاهُ اب جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ امام شافعی رحمہ اللہ کو۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک ہے ولادت والی رشتہ داری، ایک ہے غیرِ ولادت والی رشتہ داری، دونوں میں فرق ہے۔ چنانچہ اسی لیے مکاتب اپنے بھئی کو خریدے گا تو وہ غیرِ ولادت والی رشتہ داری ہے، لہٰذا اس کا یہ بھئی اس پر مکاتب نہیں بنے گا۔ لیکن مکاتب اپنے ماں باپ کو یا اپنے بیٹے کو خریدے گا تو ان میں ولادت والی رشتہ داری ہے، لہٰذا یہ بھی اس کے ساتھ عقدِ کتابت میں داخل ہو جائے گا، یہ بھی مکاتب بن جائے گا۔ تو اب اس کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ کہتے ہیں: وَالْمُكَاتَبُ إِذَا اشْتَرَى أَخَاهُ اور مکاتب جب اس نے اپنے بھئی کو خریدا، وَمَنْ یَجْرِي مَجْرَاهُ یا جو بھئی کے قائم مقام ہے یعنی اور ولادت کے علاوہ کوئی اور قریبی محرم رشتہ دار ہے جیسے چچا ہے یا ماموں ہے، لَا یَتَكَاتَبُ عَلَيْهِ تو یہ بھئی اس پر مکاتب نہیں بنے گا، لِأَنَّهُ لَيْسَ لَهُ مِلْكٌ تَامٌّ اس لیے کیونکہ مکاتب کے لیے ملکِ تام نہیں ہے۔ مکاتب نے پیسے کما کر لانے ہیں، آقا کو دینے ہیں۔ تو مکاتب کو پیسے کمانے کی تو اجازت ہے، پیسے اجاڑنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ لہٰذا مکاتب کو اپنی چیزوں میں پوری ملکیت حاصل ہی نہیں ہے۔ شریعت نے جو اس کو آزادی دی ہے کہ آقا کی خدمت نہ کرو، جاؤ جا کر پیسے کما کر لے کر آؤ، وہ صرف اس کی آزادی کی وجہ سے دی ہے، لہٰذا وہ جو تجارت کر رہا ہے ان میں اس کی ملکیتِ تام نہیں ہے، کامل نہیں ہے۔ اس کی ملکیت تام نہیں ہے، کامل نہیں ہے، لہٰذا مکاتب اعتاق پر قادر ہی نہیں ہے۔ مکاتب ایک غلام خریدتا ہے اور اس کو آزاد کرنا چاہتا ہے، نہیں بھئی، آپ آزاد کر ہی نہیں سکتے، آپ کو کامل ملکیت ہی حاصل نہیں ہے۔ کیونکہ آپ کو شریعت نے جو کاروبار کی اجازت دی ہے وہ وہ اپنی آزادی کے لیے دی ہے، اس طرح مال اڑانے کے لیے اجازت نہیں دی، تو مکاتب کو کامل ملکیت حاصل نہیں ہوتی، وہ غلام کو آزاد کرے بھی تو غلام آزاد نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس لیے اس کا بھئی بھی اس پر آزاد نہیں ہوگا کیونکہ مکاتب میں آزاد کرنے کی اہلیت ہی نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: وَالْمُكَاتَبُ إِذَا اشْتَرَى أَخَاهُ وَمَنْ یَجْرِي مَجْرَاهُ لَا یَتَكَاتَبُ عَلَيْهِ اور مکاتب نے جب اپنے بھئی کو خریدا یا جو بھئی کے قائم مقام ہو اس کو خریدا تو وہ اس پر مکاتب نہیں بنے گا، لِأَنَّهُ لَيْسَ لَهُ مِلْكٌ تَامٌّ اس لیے کیونکہ مکاتب کی ایسی کامل ملکیت نہیں ہے يُقْدِرُهُ عَلَى الْإِعْتَاقِ، اس کو أَقْدَرَ يُقْدِرُ بھی پڑھ سکتے ہیں اور قَدَّرَ يُقَدِّرُ بھی، معنی ہے قادر بنانا، لِأَنَّهُ لَيْسَ لَهُ مِلْكٌ تَامٌّ اس لیے کیونکہ مکاتب کی ایسی کامل ملکیت نہیں ہے يُقْدِرُهُ عَلَى الْإِعْتَاقِ جو اس کو قادر بنائے اعتاق پر۔ ایسی کامل ملکیت نہیں ہے ”يُقْدِرُهُ عَلَى الْإِعْتَاقِ“ جو اس کو آزاد کرنے پر قادر بنا دے۔ مکاتب کو ایسی ملکیت حاصل نہیں ہے۔ ”وَالِافْتِرَاضُ عِنْدَ الْقُدْرَةِ“ اور فرض کرنا تو قدرت کے وقت میں ہے۔ یعنی یہ جو مسئلہ فرض کیا گیا ہے یہ تو وہ صورت فرض کی گئی ہے کہ جب وہ آدمی آزاد کرنے پر قادر ہو، اور مکاتب تو آزاد کرنے پر قادر ہی نہیں ہے، لہٰذا اس مکاتب کے مسئلے کو لے کر آپ اعتراض نہیں کر سکتے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالِافْتِرَاضُ عِنْدَ الْقُدْرَةِ“ اور یہ جو مسئلہ فرض کیا گیا یہ تو قدرت کے وقت میں ہے یعنی اس آدمی میں آزاد کرنے کی قدرت ہو۔ ”بِخِلَافِ الْوِلَادِ“ بخلاف ولادت کے۔ بھئی امام شافعی رحمہ اللہ نے ہم پر کیا اعتراض کیا تھا کہ اگر مکاتب اپنے اصول و فروع کو خریدے گا جن میں ولادت والا رشتہ ہے تو وہ عقدِ کتابت میں داخل ہوں گے اور بھئی داخل نہیں ہوگا، تو ہم نے بتا دیا کہ بھئی اس لیے داخل نہیں ہوگا کہ مکاتب جو ہے وہ آزاد کرنے کا اہل ہی نہیں ہے۔ بھئی اس پر آزاد نہیں ہوگا کیونکہ مکاتب آزاد کرنے کا اہل ہی نہیں ہے، اور نیز باقی جو اصول و فروع ہیں وہ اس پر مکاتب بن جائیں گے۔ وہ اس پر مکاتب بن جائیں گے، وجہ یہ کہ اصول اور فروع کا عقدِ کتابت میں داخل ہونا یہ کتابت کے مقاصد میں سے ہے۔ یہ عقدِ کتابت کے مقاصد میں سے ہے۔ غلام عقدِ کتابت کیوں کرتا ہے؟ کیونکہ غلامی جو ہے وہ عار ہے۔ غلامی کیا ہے؟ عار اور شرم کا باعث ہے، تو وہ آزادی چاہتا ہے۔ اور جس طرح اپنی ذات کے اندر غلامی عیب اور شرم والی بات ہے اسی طرح اپنے اصول اور فروع کے اندر بھی غلامی ہو تو یہ بھی آدمی کے لیے عار کا باعث ہے، شرم کا باعث ہے بھئی۔ تو لہٰذا جیسے آدمی اپنے آپ کو آزاد کروانا چاہتا ہے اسی طرح وہ اپنے اصول اور فروع کو بھی آزاد کروانا چاہتا ہے تاکہ آئندہ اس کے لیے یہ عار کا باعث نہ بنے۔ جبکہ بھئی کا معاملہ ایسا نہیں ہے، بھئی اگر غلام ہے تو یہ دوسرے بھئی کے لیے عار کا باعث نہیں ہے، لیکن اپنے ہی اصول اور فروع کا غلام ہونا یہ آدمی کے لیے عار کا باعث ہے۔ تو لہٰذا اصول اور فروع کا کتابت میں داخل ہونا اس وجہ سے ہے کہ یہ کتابت کے مقاصد میں سے ہے۔ کتابت کا مقصد کیا؟ اپنے آپ کو غلامی سے نجات دینا، یعنی اس عار اور شرم کو ختم کرنا اپنے لیے کہ وہ غلام ہے۔ تو اپنے اصول اور فروع کے اندر بھی غلامی آدمی کے لیے عار کا باعث ہے، لہٰذا وہ بھی اس کتابت کے اندر خود بخود داخل ہو جائیں گے کیونکہ یہ کتابت کے مقاصد میں سے ہے، لیکن اپنا بھئی جو ہے اس کا غلام ہونا عار اور شرم کا باعث نہیں لہٰذا وہ عقدِ کتابت میں داخل نہیں ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الْوِلَادِ“ بخلاف ولادت والے رشتے کے ”لِأَنَّ الْعِتْقَ فِيهِ مِنْ مَقَاصِدِ الْكِتَابَةِ“ اس لیے کیونکہ ان کے اندر جو آزادی ہے وہ کتابت کے مقاصد میں سے ہے ”فَامْتَنَعَ الْبَيْعُ“ تو بیچنا منع ہوگا۔ یہ جو اپنے اصول اور فروع کو خرید لے گا اب ان کو نہیں بیچ سکتا، یہ بھی کیا بن گئے؟ مکاتب بن گئے، اگر مکاتب نہ بنتے تو پھر تو بیچ سکتا تھا۔ تو یہ معنی ہے: ”فَامْتَنَعَ الْبَيْعُ“ تو ان کا بیچنا ممتنع ہو جائے گا ”فَيَعْتِقُ“ تو یہ بھی آزاد ہوں گے، جب مکاتب آزاد ہوگا اپنے پیسے ادا کر دے گا یہ بھی ساتھ ہی آزاد ہو جائیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”فَيَعْتِقُ“ تو یہ بھی آزاد ہو جائے گا ”تَحْقِيقًا لِمَقْصُودِ الْعَقْدِ“ مقصودِ عقد کو ثابت کرنے کے لیے، اس عقدِ کتابت کا جو مقصد ہے اس کو ثابت کرنے کے لیے۔ اس کا مقصد کیا تھا؟ اپنے آپ سے عار کو دور کرنا۔ آگے دیکھیے: ”وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور امام صاحب سے اب دوسرا جواب دیں گے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے کیا ذکر کیا تھا کہ ولادت والے اور غیرِ ولادت والے رشتے میں فرق ہے، ولادت والے رشتہ دار کو مکاتب خریدے گا تو وہ مکاتب بن جائے گا لیکن غیرِ ولادت والے رشتہ دار کو مکاتب خریدے گا تو وہ مکاتب نہیں بنے گا۔ تو ایک تو جواب دے دیا کہ اس لیے نہیں بنے گا کہ مکاتب جو ہے وہ آزاد کرنے کا اہل نہیں ہے، اور ولادت والے رشتہ دار عقدِ کتابت میں اس لیے داخل ہو جائیں گے کیونکہ یہ کتابت کے مقاصد میں سے ہے۔ کتابت کا مقصد کیا ہے؟ اپنے آپ سے عار کو دور کرنا، اور انسان جیسے اپنی غلامی کے ذریعے عار محسوس کرتا ہے اسی طرح اپنے اصول اور فروع کی غلامی کے ذریعے بھی عار محسوس کرتا ہے۔ تو اصول اور فروع کا عقدِ کتابت میں داخل ہونا یہ کتابت کے مقاصد میں سے ہے اس لیے داخل ہو جائیں گے۔ اور اب جوابِ انکاری دے رہے ہیں۔ جوابِ انکاری یہ کہ ہمیں آپ کی یہ بات تسلیم ہی نہیں ہے، ہمیں آپ کی یہ بات تسلیم ہی نہیں ہے کہ مکاتب ولادت والے رشتہ داروں کو خریدے تو وہ کتابت میں داخل ہوں گے اور غیرِ ولادت والے قریبی محرم رشتہ دار کو خریدے تو وہ کتابت میں داخل نہیں ہوں گے۔ نہیں، ہم کہتے ہیں وہ بھی داخل ہو جائیں گے، بھئی بھی عقدِ کتابت میں داخل ہو جائے گا۔ وہ بھی مکاتب بن جائے گا، اس کو بھی آگے بیچنا جائز نہیں ہوگا، تو ہمیں اے امام شافعی رحمہ اللہ! ہمیں آپ کا اعتراض قبول نہیں۔ کیونکہ ہمارے نزدیک دونوں مکاتب بن جائیں گے چاہے ولادت والا رشتہ ہو چاہے غیرِ ولادت والا رشتہ ہو۔ تو وہ اب جواب دے رہے ہیں۔ ”وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور امام صاحب سے روایت ہے ”أَنَّهُ يَتَكَاتَبُ عَلَى الْأَخِ أَيْضًا“ کہ یہ بھئی پر بھی مکاتب بن جائے گا، ایک بھئی دوسرے بھئی پر بھی مکاتب بن جائے گا ”وَهُوَ قَوْلُهُمَا“ اور یہی قول ہے صاحبین کا بھی ”فَلَنَا أَنْ نَمْنَعَ“ تو ہمارے لیے جائز ہے کہ ہم انکار کریں۔ ہم امام شافعی رحمہ اللہ کی بات کا انکار کریں، انہوں نے کہا تھا ولادت والا جو ہے وہ مکاتب بنے گا غیرِ ولادت والا مکاتب نہیں بنے گا، تو ہمارے لیے جائز ہے ہم انکار کر سکتے ہیں کیونکہ صاحبین بھی فرماتے ہیں بھئی جو ہے وہ بھئی پر مکاتب بنے گا اور امام صاحب سے بھی ایک روایت یہی ہے۔ ”فَلَنَا أَنْ نَمْنَعَ“ تو ہمارے لیے جائز ہے کہ ہم امام شافعی رحمہ اللہ کی بات کا انکار کریں ”وَهٰذَا بِخِلَافِ مَا إِذَا مَلَكَ ابْنَةَ عَمِّهِ“ اور یہ مسئلہ بخلاف اس صورت کے ہے جب ایک شخص مالک بن گیا ”ابْنَةَ عَمِّهِ“ اپنے چچا کی بیٹی کا، ایک شخص اپنے چچا کی بیٹی کا مالک بنا اور یہ چچا کی بیٹی اس کی رضاعی بہن بھی ہے، دونوں نے بچپن میں ایک ہی عورت کا دودھ پیا تھا۔ تو آپ مجھے بتائیے، یہ چچا کی بیٹی آزاد ہوگی؟ یہ آزاد نہیں ہوگی۔ بھئی یہ چچا کی بیٹی قریبی رشتہ دار بھی ہے اور محرم بھی ہے، لیکن یہ جو محرمیت یہاں پر آ رہی ہے وہ اس قریبی رشتے کی وجہ سے نہیں آ رہی، وہ تو رضاعت کی وجہ سے آ رہی ہے۔ ہم نے کیا کہا تھا؟ ایسا قریبی رشتہ ہو کہ وہ رشتہ محرم ہونے میں مؤثر ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَهٰذَا بِخِلَافِ مَا إِذَا مَلَكَ ابْنَةَ عَمِّهِ“ اور یہ مسئلہ بخلاف اس صورت کے ہے کہ جب کوئی شخص اپنے چچا کی بیٹی کا مالک بنا ”وَهِيَ أُخْتُهُ مِنَ الرَّضَاعِ“ اس حال میں کہ یہ اس کی رضاعی بہن ہے تو اس میں بھی وہ آزاد نہیں ہوگی ”لِأَنَّ الْمَحْرَمِيَّةَ مَا ثَبَتَتْ بِالْقَرَابَةِ“ اس لیے کیونکہ یہ محرمیت رشتہ داری کی وجہ سے ثابت نہیں ہوئی۔ ”وَالصَّبِيُّ جُعِلَ أَهْلًا لِهٰذَا الْعِتْقِ“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلا رہے ہیں کہ بچہ اور مجنون بھی اس آزادی کے اہل ہیں۔ بچہ اور مجنون بھی اس آزادی کے اہل ہیں، بچہ اور مجنون اگر وہ مالک بن گئے ایسے قریبی رشتہ دار کے جو ان کا محرم بھی ہے تو وہ ان پر آزاد ہو جائے گا۔ حالانکہ بچہ تو آزادی کا اہل نہیں ہے، مجنون تو آزادی کا اہل نہیں ہے، بچہ یا مجنون اپنے غلام کو آزاد کریں تو وہ آزاد نہیں ہوگا، لیکن کہتے ہیں یہاں پر یہ بچہ جو ہے یا مجنون جو ہے وہ بھی اس آزادی کے اہل ہیں۔ چنانچہ ایک شخص نے وصیت کر دی میرے مرنے کے بعد میرا یہ غلام فلاں بچے کو دے دینا اور وہ اس بچے کا قریبی محرم رشتہ دار ہے، تو جب وہ آدمی مرے گا بچہ اس کا مالک بنے گا اور ساتھ ہی وہ آزاد ہو جائے گا۔ یا اسی طرح مجنون کے بارے میں یہ وصیت کی تھی کسی نے، اور وہ غلام مجنون کو جیسے ہی ملے گا جو اس کا قریبی محرم رشتہ دار ہے وہ فوراً آزاد ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَالصَّبِيُّ جُعِلَ أَهْلًا لِهٰذَا الْعِتْقِ“ اور بچہ جو ہے اس کو اہل قرار دیا گیا ہے اس آزادی کے لیے ”وَكَذَا الْمَجْنُونُ“ اور اسی طرح مجنون بھی ہے ”حَتَّى عَتَقَ الْقَرِيبُ عَلَيْهِمَا عِنْدَ الْمِلْكِ“ یہاں تک کہ ان کا قریبی رشتہ دار ان پر آزاد ہو جائے گا عند الملک، مالک ہوتے وقت بھئی ”لِأَنَّهُ تَعَلَّقَ بِهِ حَقُّ الْعَبْدِ“ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اس آزادی کے ساتھ بندے کا حق متعلق ہے۔ یہ اس کے ساتھ بندے کا حق متعلق ہے، یہ قریبی رشتہ دار ہے، اس کے ساتھ شریعت نے احسان کرنے کا حکم دیا ہے، تو لہٰذا بندے کا حق متعلق ہوا لہٰذا وہ آزاد ہو جائے گا۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ تَعَلَّقَ بِهِ حَقُّ الْعَبْدِ“ اس لیے کیونکہ اس آزادی کے ساتھ بندے کا حق متعلق ہے ”فَشَابَهَ النَّفَقَةَ“ تو یہ نفقہ کے مشابہ ہوا، یہ نفقہ کے مشابہ ہوا اور کوئی قریبی محرم رشتہ دار ہے اور وہ غریب ہے، غریب ہے مثلاً عورت ہے اور یہ بچہ یا مجنون ان کے پاس مال موجود ہے، تو وہ اس قریبی محرم رشتہ دار عورت کا نفقہ ان پر واجب ہوگا بھئی۔ کیوں؟ کیونکہ وہ حق العبد ہے بھئی، حق العبد وہ بچے کے مال میں سے بھی ادا کیا جائے گا اور مجنون کے مال میں سے بھی ادا کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ تَعَلَّقَ بِهِ حَقُّ الْعَبْدِ“ اس لیے کیونکہ اس آزادی کے ساتھ بندے کے حق کا تعلق ہے ”فَشَابَهَ النَّفَقَةَ“ تو یہ آزادی جو ہے یہ نفقے کے مشابہ ہو گئی۔ ”وَمَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا لِوَجْهِ اللّٰهِ تَعَالَى أَوْ لِلشَّيْطَانِ أَوْ لِلصَّنَمِ عَتَقَ“ صورتِ مسئلہ یہ: ایک آدمی نے اپنے غلام کو آزاد کیا اور یوں کہا میں تجھے اللہ کے لیے آزاد کرتا ہوں، یا ایک آدمی ہے اس نے اپنے غلام سے کہا میں تجھے شیطان کے لیے آزاد کرتا ہوں، یا ایک آدمی ہے وہ ایک بت کی عبادت کرتا ہے تو وہ اپنے غلام سے کہتا ہے میں نے تجھے اپنے اس بت کے لیے آزاد کر دیا، تو یاد رکھو، فقہاء فرماتے ہیں تمام صورتوں میں غلام آزاد ہو جائے گا۔ ہاں البتہ دو صورتوں میں یہ گناہگار ہوگا، حرام کام کر رہا ہے، کس کے نام پر آزاد کر رہا ہے؟ شیطان یا بت کے نام پر، تو وہ گناہ اپنی جگہ پر لیکن بہرحال بات چل رہی ہے کہ غلام آزاد ہوگا یا نہیں، تو فقہاء فرماتے ہیں غلام آزاد ہو جائے گا۔ وجہ یہ کہ یہ آزاد کرنے والا اہل ہے۔ غلام یا باندی کو کون آزاد کر سکتا ہے؟ باب کے شروع میں آیا تھا، آزاد، عاقل، بالغ، اپنے غلام کو آزاد کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ آزاد بھی ہونا چاہیے، عاقل بھی ہو اور بالغ بھی ہو اور وہ غلام یا باندی اس کے مملوک ہوں۔ تو یہاں پر بھی یہ جو آزاد کرنے والا ہے یہ آزاد عاقل بالغ ہے بھئی، اور اس نے آزادی کی نسبت اپنی ملکیت یعنی اپنے غلام یا باندی کی طرف کی ہے لہٰذا یہ آزادی واقع ہو جائے گی۔ اور باقی جو اس نے پہلی صورت کہی کہ میں تجھے آزاد کرتا ہوں اللہ کے لیے، بھئی اللہ کے لیے نہ بھی کہتا تو بھی غلام نے آزاد ہو جانا تھا۔ تو اس میں جو اللہ کے لیے لفظ بڑھا دیا یہ ایک زائد قید ہے، آزادی اس کے بغیر بھی ہو جاتی ہے، آزادی اس کے بغیر بھی ہو جاتی ہے تو لہٰذا باقیوں کے اندر اگرچہ اس نے شیطان اور بت کو ذکر کیا ہے، اللہ کو ذکر نہیں کیا لیکن اللہ کا ذکر تو ہم نے بتا دیا وہ زائد تھا اس کے بغیر بھی آزادی ہو جانی تھی۔ تو لہٰذا باقی لفظوں میں بھی آزادی واقع ہو جائے گی۔ ”وَمَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا لِوَجْهِ اللّٰهِ تَعَالَى“ اور جس نے کسی غلام کو آزاد کیا اللہ کی رضا کے لیے ”أَوْ لِلشَّيْطَانِ“ یا شیطان کے لیے ”أَوْ لِلصَّنَمِ“ یا بت کے لیے ”عَتَقَ“ تو غلام آزاد ہو جائے گا ”لِوُجُودِ رُكْنِ الْإِعْتَاقِ مِنْ أَهْلِهِ فِي مَحَلِّهِ“ اس لیے کیونکہ اعتاق کا رکن پایا گیا، اعتاق کا رکن پایا گیا یعنی اس نے کہا ہے میں نے تجھے کیا کیا ہے؟ آزاد کیا ہے۔ اور ”مِنْ أَهْلِهِ“ اور یہ اعتاق کا رکن کس کی طرف سے ہے؟ اہل اعتاق کی طرف سے ہے، وہ جو مالک ہے وہ آزاد ہے عاقل بالغ ہے بھئی، اور ”فِي مَحَلِّهِ“ اور یہ رکن کس میں پایا گیا ہے؟ اپنے محل میں۔ اعتاق کا محل کیا چیز ہے؟ غلام یا باندی یعنی وہ جو مملوک ہے، تو مملوک کی طرف نسبت کر کے آقا نے کہا ہے۔ تو ”مِنْ أَهْلِهِ“ یعنی اہل اعتاق سے، اہل اعتاق کون ہے؟ مالک، اور ”فِي مَحَلِّهِ“ محل اعتاق کیا ہے؟ وہ مملوک ہے، غلام یا باندی ہے۔ کہتے ہیں: ”لِوُجُودِ رُكْنِ الْإِعْتَاقِ مِنْ أَهْلِهِ فِي مَحَلِّهِ“ اس لیے کیونکہ اعتاق کا رکن پایا گیا اہل اعتاق کی طرف سے محل اعتاق میں ”وَوَصْفُ الْقُرْبَةِ فِي اللَّفْظِ الْأَوَّلِ زِيَادَةٌ“ اور یہ جو قربت کا وصف ہے پہلے لفظ میں یہ زائد ہے، ”لِوَجْهِ اللّٰهِ تَعَالَى“ میں اللہ کی رضا کے لیے غلام کو آزاد کرتا ہوں، یہ اللہ کی رضا والے الفاظ زائد ہیں ان کو نہ بھی ذکر کرتا غلام نے آزاد ہو جانا تھا۔ تو کہتے ہیں: ”وَوَصْفُ الْقُرْبَةِ“ قربت، قریب ہونا، اللہ کی رضا مقصود ہے، اللہ کا قرب مقصود ہے، بندہ اللہ کے قریب ہونا چاہتا ہے۔ کہتے ہیں: ”وَوَصْفُ الْقُرْبَةِ فِي اللَّفْظِ الْأَوَّلِ“ اور پہلے لفظ کے اندر قربت کا جو وصف ذکر کیا گیا ”زِيَادَةٌ“ یہ زائد ہے ”فَلَا يَخْتَلُّ الْعِتْقُ بِعَدَمِهِ فِي اللَّفْظَيْنِ الْآخَرَيْنِ“ اور لہٰذا آزادی میں خلل نہیں آئے گا اس وصف کے نہ ہونے سے باقی دو لفظوں میں، باقی دو لفظوں میں یہ قربت والا وصف نہیں ہے اس سے کوئی خرابی نہیں کیونکہ یہ وصف تو ویسے ہی زائد ہے بھئی۔ ”وَعِتْقُ الْمُكْرَهِ وَالسَّكْرَانِ وَاقِعٌ“ مکرہ بھئی جس پر زبردستی کی گئی۔ ایک شخص دوسرے شخص کے پاس آیا اور تلوار نکالی اور کہا کہ اپنے غلام یا باندی کو آزاد کرو نہیں تو میں تمہیں قتل کرتا ہوں یا تمہارا ہاتھ پاؤں کاٹتا ہوں، اس نے غلام یا باندی کو آزاد کر دیا، تو یاد رکھو یہ جو مکرہ ہے یہ غلام یا باندی کو آزاد کرے گا تو وہ آزاد ہو جائیں گے۔ اور یہ بات طلاق میں بھی گزری تھی کہ ایک شخص دوسرے شخص پر زبردستی کرتا ہے کہ میں تمہیں قتل کر دوں گا یا تمہارا ہاتھ پاؤں کاٹ دوں گا تم اپنی بیوی کو طلاق دو، تو اس نے طلاق دی تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ وجہ یہ کہ وہ شخص اپنے اختیار سے طلاق دے رہا ہے، ایک طرف اس کی جان جا رہی تھی یا اس کا ہاتھ پاؤں جا رہا تھا اور دوسری طرف بیوی جا رہی تھی، اس نے اپنے اختیار سے ہلکی تکلیف کو اختیار کر لیا، لہٰذا بیوی کو طلاق دی تو واقع ہو جائے گی۔ یہاں پر بھی، یہاں پر بھی ایک طرف غلام یا باندی ہاتھ سے جا رہا ہے تو دوسری طرف اس کی جان جا رہی ہے یا اس کا ہاتھ پاؤں جا رہا ہے اور اس نے اپنے اختیار سے جو کم درجے کی مصیبت تھی اس کو اختیار کر لیا تو لہٰذا یہ غلام یا باندی کو اس نے آزاد کیا مکرہ نے تو وہ آزاد ہو جائیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”وَعِتْقُ الْمُكْرَهِ وَالسَّكْرَانِ وَاقِعٌ“ اور مکرہ یعنی جس پر زبردستی کی گئی اس کی آزادی ”وَالسَّكْرَانِ“ اور وہ جو مدہوش ہے، جو نشے میں ہے اس کی آزادی ”وَاقِعٌ“ وہ واقع ہوتی ہے۔ بھئی نشے میں ایک آدمی مدہوش ہے، اتنا نشے میں مدہوش ہے کہ اسے زمین اور آسمان کا بھی پتہ نہیں چل رہا، تو اس صورت کے اندر بھی اگر وہ غلام یا باندی کو آزاد کرے گا تو وہ آزاد ہو جائیں گے۔ اور یہ مسئلہ بھی پیچھے طلاق میں گزرا تھا، ایک آدمی نشے میں خوب مدہوش ہے اس نے اتنا نشہ کر لیا اسے کسی چیز کا پتہ نہیں چل رہا اور اس نے اپنی بیوی کو طلاق دی تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ بھئی سوال: بھئی اس کی تو عقل ہی نہیں ہے، جب عقل ہی نہیں ہے تو طلاق تو واقع نہیں ہونی چاہیے، طلاق کے لیے تو ضروری ہے اختیار بھی ہو اور عقل بھی ہو بھئی، تو جواب وہاں گزر چکا کہ بھئی یہ جو اس نے نشہ کیا ہے یہ اس کی اپنی غلطی ہے بھئی، لہٰذا بطور ڈانٹ کے یہ طلاق واقع ہو جائے گی، بطور ڈانٹ کے تاکہ آئندہ کبھی ایسا نہ کرے بھئی۔ ورنہ تو جس شخص کی عقل زائل ہو جائے اس کی تو طلاق واقع نہیں ہوتی بھئی، اور اسی طرح وہ غلام یا باندی کو آزاد کرے تو وہ آزاد بھی نہیں ہوں گے بھئی، لیکن یہاں پر وہ مدہوش ہے اس نے خود نشہ کیا ہے بھئی۔ بطور ڈانٹ کے یعنی بطور سزا کے، کہ اس نے خود نشہ کیا ہے تو سزا کے طور پر شریعت جو ہے اس کے اس تصرف کو نافذ قرار دے دیتی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَعِتْقُ الْمُكْرَهِ وَالسَّكْرَانِ وَاقِعٌ“ اور مجبور اور مدہوش جو ہے ان کی آزادی واقع ہوگی ”لِصُدُورِ الرُّكْنِ مِنَ الْأَهْلِ فِي الْمَحَلِّ“ اس لیے کیونکہ رکنِ اعتاق صادر ہوا ہے، رکنِ اعتاق پیش آیا ہے اہل اعتاق سے محل اعتاق میں ”كَمَا فِي الطَّلَاقِ“ جیسے کہ طلاق میں ہے ”وَقَدْ بَيَّنَّاهُ مِنْ قَبْلُ“ اور تحقیق اس کو ہم نے پہلے بیان کیا تھا۔ ”وَإِنْ أَضَافَ الْعِتْقَ إِلَى مِلْكٍ أَوْ شَرْطٍ صَحَّ كَمَا فِي الطَّلَاقِ“ بھئی آپ نے طلاق کے مسئلے میں پڑھا تھا کہ طلاق جو ہے اس کو شرط کے ساتھ معلق کرنا ٹھیک ہے۔ خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، تو طلاق معلق ہو گئی، یہ عورت جب اس گھر میں جائے گی طلاق واقع ہو جائے گی۔ اسی طرح اعتاق جو ہے اس کو بھی شرط کے ساتھ معلق کرنا ٹھیک ہے۔ ایک آدمی اپنے غلام سے کہتا ہے اگر تو نے یہ کام کیا یا مثلاً تو اس گھر میں گیا تو تو آزاد ہے، تو یہ غلام جیسے ہی اس گھر میں جائے گا وہ آزاد ہو جائے گا۔ اسی طرح طلاق کو ملکیت کے ساتھ معلق کرنا بھی صحیح ہے، طلاق کو ایک آدمی ایک اجنبیہ عورت سے کہتا ہے: ”إِنْ نَكَحْتُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ اگر میں نے تجھ سے نکاح کیا تو تجھے طلاق ہے۔ اب یہ اجنبیہ ہے، یہ اس کی بیوی تو نہیں لیکن اس نے طلاق کی نسبت ملکیت کی طرف کی ہے کہ اگر میں نے تجھ سے نکاح کیا، تیرا مالک بنا، تجھ پر مجھے ملکِ نکاح حاصل ہوئی تو پھر تجھے طلاق ہے، تو عند الاحناف یہ تعلیق بھی صحیح ہے، اور یہ شخص جس وقت اس عورت سے نکاح کرے گا اسی لمحے اگلے ہی لمحے میں اس عورت کو طلاق بھی ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی، معلوم ہوا طلاق کو شرط کے ساتھ معلق کرنا بھی صحیح اور طلاق کو ملکیت کے ساتھ معلق کرنا بھی صحیح ہے بھئی۔ اسی طرح اعتاق بھی یاد رکھو، اس کو شرط کے ساتھ معلق کرنا بھی صحیح اور ملکیت کے ساتھ معلق کرنا بھی صحیح ہے، شرط کی مثال تو میں نے ذکر کر دی۔ اعتاق کو شرط کے ساتھ معلق کیا، غلام سے کہا اگر تو اس گھر میں گیا تو تو آزاد ہے، تو وہ جیسے ہی اس گھر میں جائے گا وہ آزاد ہو جائے گا۔ اور ملکیت کے ساتھ بھی اعتاق کو معلق کر سکتا ہے، غلام یا باندی سے کہتا ہے اگر میں تیرا مالک بنا تو تو آزاد ہے، تو جیسے ہی مالک بنے گا جس طرح بھی مالک بن جائے چاہے کوئی تحفے میں اس کو یہ غلام یا باندی دے دے، چاہے وہ اس کو خرید لے، چاہے وراثت میں مل جائے، جس وقت یہ اس کا مالک بنے گا اگلے ہی لمحے کے اندر وہ غلام یا باندی آزاد ہو جائیں گے۔ معلوم ہوا اعتاق اور طلاق دونوں کو شرط کے ساتھ معلق کرنا بھی صحیح اور ملکیت کے ساتھ معلق کرنا بھی صحیح ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَإِنْ أَضَافَ الْعِتْقَ إِلَى مِلْكٍ أَوْ شَرْطٍ صَحَّ“ اور اگر نسبت کر دی آزادی کی ملکیت کی طرف یا شرط کی طرف ”صَحَّ“ تو یہ صحیح ہے ”كَمَا فِي الطَّلَاقِ“ جیسے کہ طلاق میں ہے ”أَمَّا الْإِضَافَةُ إِلَى الْمِلْكِ فَفِيهِ خِلَافُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ باقی ملکیت کی طرف جو نسبت ہے تو اس میں امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے۔ بھئی ملکیت کی طرف طلاق کی نسبت کی یا اعتاق کی تو اس میں ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے۔ آپ نے پڑھا تھا، آپ نے پڑھا تھا کہ ہمارے نزدیک معلق بالشرط وہ حکم کا سبب بنتا ہے عند وجود الشرط، جب شرط پائی جائے گی۔ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، تو خاوند نے طلاق کو معلق کر دیا ہے اور ہمارے نزدیک معلق جو ہے وہ حکم کا یعنی طلاق کا سبب اس وقت نہیں بنے گا، جب شرط پائی جائے گی تب سبب بنے گا، یعنی یوں سمجھو اس وقت یہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ ہے ہی نہیں۔ اس وقت ”أَنْتِ طَالِقٌ“ ہے ہی نہیں، جب عورت اس گھر میں جائے گی جس وقت شرط پائی جائے گی وہ شرط پوری کرے گی اسی وقت ”أَنْتِ طَالِقٌ“ آئے گا اور ساتھ ہی طلاق واقع ہو جائے گی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ معلق جو ہوتا ہے وہ سبب بنتا ہے عند التکلم، جس وقت بات کی جائے اسی وقت سبب بنتا ہے۔ لہٰذا خاوند نے اپنی بیوی سے کہا اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس وقت ہی ”أَنْتِ طَالِقٌ“ طلاق کا سبب بن رہا ہے لیکن ایک رکاوٹ آ گئی ہے، ”أَنْتِ طَالِقٌ“ تو چاہتا ہے طلاق ہو جائے، یہ ابھی سبب بننا چاہتا ہے لیکن ایک رکاوٹ آ گئی کہ یہ طلاق معلق ہے گھر میں جانے کے ساتھ، تو لہٰذا جب گھر میں جائے گی تو اب وہ رکاوٹ دور ہو گئی تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو عند الاحناف معلق جو ہوتا ہے وہ سبب بنتا ہے اس وقت جب شرط پائی جائے، اور عند الشوافع معلق جو ہے وہ سبب بنتا ہے عند التکلم جب تکلم کیا جائے۔ لہٰذا یہاں تو خاوند نے اپنی بیوی سے کہا اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، جب وہ اس گھر میں جائے گی طلاق واقع ہو جائے گی ہمارے نزدیک بھی اور شوافع کے نزدیک بھی، البتہ ہمارے نزدیک ”أَنْتِ طَالِقٌ“ جب وہ گھر میں گئی اس وقت ”أَنْتِ طَالِقٌ“ آیا اور طلاق کا سبب بنا، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک جس وقت کہا تھا اس وقت ہی ”أَنْتِ طَالِقٌ“ طلاق کا سبب بن رہا تھا صرف ایک رکاوٹ تھی وہ رکاوٹ دور ہو گئی، وہ شرط پوری ہو گئی۔ لیکن اگر ایک شخص ایک اجنبیہ عورت سے کہتا ہے: ”إِنْ نَكَحْتُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ اگر میں نے تجھ سے نکاح کیا تو تجھے طلاق ہے، تو ہمارے نزدیک یہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ معلق ہے۔ یہ جب شرط پائی جائے گی تب ”أَنْتِ طَالِقٌ“ آئے گا اور اس وقت تو نکاح ہوا ہے، جیسے ہی نکاح ہوگا ساتھ ہی طلاق آ جائے گی کیونکہ اس وقت ”أَنْتِ طَالِقٌ“ ہے ہی نہیں یوں سمجھو۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ”إِنْ نَكَحْتُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ یہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ اس وقت طلاق کا سبب بننا چاہتا ہے اور اس وقت تو یہ عورت اجنبیہ ہے یہ تو اس کی بیوی نہیں ہے، لہٰذا ان کے نزدیک یہ کلام لغو چلا گیا۔ بعد میں نکاح کرے گا بھی تو وہ کلام ایک دفعہ باطل ہو چکا تھا دوبارہ صحیح نہیں ہو سکتا، وہ اب طلاق واقع نہیں ہوگی۔ اسی طرح ایک آدمی کسی دوسرے کے غلام سے کہتا ہے: ”إِنْ مَلَكْتُكَ فَأَنْتَ حُرٌّ“ اگر میں تیرا مالک بنا تو تو آزاد، ہمارے نزدیک یہ ”فَأَنْتَ حُرٌّ“ یہ آزادی کا سبب بنے گا جب یہ مالک بنے گا، تو اس وقت آزاد ہو جائے گا۔ لیکن امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ ”فَأَنْتَ حُرٌّ“ نے ابھی سبب بننا ہے، یہ معلق ہے اور یہ عند التکلم ہی سبب بنے گا جس وقت یہ لفظ ادا کر رہا ہے اور اس وقت تو یہ اس کا مالک ہی نہیں ہے، لہٰذا یہ کلام لغو چلا گیا اور جب ایک دفعہ کلام لغو ہو گیا بعد میں جب مالک بنے گا بھی تو یہ کلام دوبارہ صحیح ہو کر واپس نہیں آ سکتا لہٰذا آزاد نہیں ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا طلاق کو شرط کے ساتھ معلق کرنا اس میں تو امام شافعی رحمہ اللہ ہمارے ساتھ ہیں، لیکن طلاق کو ملکیت کے ساتھ معلق کرنا اس میں ہمارے ساتھ امام شافعی رحمہ اللہ اختلاف کرتے ہیں، اسی طرح اعتاق میں بھی ہے، اعتاق کو بھی ملکیت کے ساتھ معلق کریں تو امام شافعی رحمہ اللہ ہم سے اختلاف کرتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”أَمَّا الْإِضَافَةُ إِلَى الْمِلْكِ فَفِيهِ خِلَافُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور باقی ملکیت کی طرف جو نسبت ہو تو اس میں امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے ”وَقَدْ بَيَّنَّاهُ فِي كِتَابِ الطَّلَاقِ“ اور تحقیق ہم نے اس کو کتاب الطلاق میں بیان کیا تھا ”وَأَمَّا التَّعْلِيقُ بِالشَّرْطِ فَلِأَنَّهُ إِسْقَاطٌ“ اور باقی شرط کے ساتھ معلق کرنا، یہ ہماری دلیل چل رہی ہے۔ ہماری دلیل کیا؟ کہ اعتاق کو ملکیت کے ساتھ بھی معلق کیا جا سکتا ہے اور شرط کے ساتھ بھی، تو اب وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ شرط کے ساتھ کیوں معلق کر سکتے ہیں؟ تو جواب دیں گے کیونکہ اعتاق وہ اسقاط کا نام ہے۔ پیچھے بات گزر گئی کہ جیسے طلاق جو ہے وہ اسقاط کا نام ہے اسی طرح اعتاق بھی اسقاطِ ملکیت کا نام ہے اور اسقاطِ ملکیت کو شرط کے ساتھ معلق کرنا جائز ہے۔ اثباتِ ملکیت، ملکیت کو ثابت کرنا، اس کو تو شرط کے ساتھ معلق نہیں کیا جا سکتا لیکن اسقاطِ ملکیت کو تو معلق کیا جا سکتا ہے۔ کہتے ہیں: ”وَأَمَّا التَّعْلِيقُ بِالشَّرْطِ فَلِأَنَّهُ إِسْقَاطٌ“ اور باقی اس اعتاق کو شرط کے ساتھ معلق کرنا اس لیے کیونکہ یہ جو اعتاق ہے یہ اسقاط کا نام ہے یعنی ساقط کرنا، ملکیت کو ساقط کرنا ”فَيَجْرِي فِيهِ التَّعْلِيقُ“ لہٰذا اس اعتاق کے اندر بھی تعلیق جاری ہوگی ”بِخِلَافِ التَّمْلِيكَاتِ“ بخلاف تملیکات کے۔ تملیک کے اندر تعلیق جاری نہیں ہوتی۔ ایک آدمی ایک دوسرے آدمی سے کہتا ہے اگر تو نے یہ کام کیا تو میرے اور تمہارے درمیان بیع ہو گئی، بیع میں کیا ہوتا ہے؟ مشتری مبیع کا مالک بنتا ہے، تو تملیکات کے اندر تعلیق جاری نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ تو جوئے جیسی صورت بن گئی، کس جیسی؟ جوئے جیسی صورت بن گئی کہ پتہ نہیں وہ یہ کام کرتا ہے یا نہیں، ہوتا ہے یا نہیں، اور فائدہ ہوتا ہے یا فائدہ نہیں ہوتا۔ یا اسی طرح ایک آدمی ایک عورت سے کہتا ہے اگر تو نے یہ کام کر لیا تو تیرا میرا نکاح ہے، تو یہ نکاح بھی کیا ہے؟ اس میں خاوند کو ملکِ نکاح حاصل ہوتی ہے، تو تملیکات جو ہیں ان کو تو معلق کرنا صحیح نہیں لیکن ملکیت کو ساقط کرنا اس کو معلق کرنا صحیح ہے۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ التَّمْلِيكَاتِ عَلَى مَا عُرِفَ فِي مَوْضِعِهِ“ بخلاف مالک بنانے کے، بوجہ اس کے جو جانا گیا ہے اپنے مقام میں یعنی اصول فقہ کے اندر آپ پڑھ چکے ہیں کہ جو چیز اسقاط کی قبیل سے ہو یعنی ساقط کرنے کی قبیل سے اس کو معلق کیا جا سکتا ہے اور جو اثبات کی قبیل سے ہو یعنی جسے ثابت کرنا ہے، یعنی جس میں مالک بنانا ہے اس کو معلق نہیں کیا جا سکتا۔ یہ معنی ہے: ”عَلَى مَا عُرِفَ فِي مَوْضِعِهِ“ اس وجہ سے جو جانا گیا ہے اپنے مقام میں یعنی اصول فقہ میں۔ ”وَإِذَا خَرَجَ عَبْدُ الْحَرْبِيِّ إِلَيْنَا مُسْلِمًا عَتَقَ“ صورتِ مسئلہ یہ: ایک حربی غلام تھا، وہ مسلمان ہو کر دار الحرب سے دار الاسلام آ گیا تو یاد رکھو جیسے ہی وہ دار الاسلام میں داخل ہوگا وہ آزاد ہو جائے گا۔ وہ آزاد ہو جائے گا۔ دلیل اس کی کہتے ہیں یہ ہے کہ حضور علیہ السلام نے طائف والوں کا محاصرہ کیا ہوا تھا اور وہاں سے کچھ غلام جو ہے وہ مسلمان ہو کر بھاگ کر آ گئے تو حضور علیہ السلام نے ان سب کو آزاد قرار دیا۔ حضور نے ان سب کو آزاد قرار دیا اور حضور نے فرمایا: ”هُمْ عُتَقَاءُ اللّٰهِ“ یہ اللہ کے آزاد کردہ ہیں۔ یہ اللہ کے آزاد کردہ ہیں، معلوم ہوا جب بھی کوئی حربی غلام مسلمان ہو کر دار الاسلام کی طرف نکلے گا وہ آزاد ہو جائے گا۔ کہتے ہیں: ”وَإِذَا خَرَجَ عَبْدُ الْحَرْبِيِّ إِلَيْنَا مُسْلِمًا عَتَقَ“ اور جب کسی حربی کا غلام نکل آیا ہماری طرف مسلمان ہو کر تو وہ آزاد ہو جائے گا ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي عَبِيدِ الطَّائِفِ حِينَ خَرَجُوا إِلَيْهِ مُسْلِمِينَ: هُمْ عُتَقَاءُ اللّٰهِ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے فرمانِ مبارک کے جو آپ نے طائف کے غلاموں کے بارے میں فرمایا جس وقت وہ غلام مسلمان ہو کر ان کی طرف نکلے، حضور نے فرمایا: ”هُمْ عُتَقَاءُ اللّٰهِ“ یہ اللہ کے آزاد کردہ ہیں۔ ”وَلِأَنَّهُ أَحْرَزَ نَفْسَهُ وَهُوَ مُسْلِمٌ“ ایک تو یہ نقلی دلیل کہ حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو عتقاء اللہ فرمایا، اللہ کے آزاد کردہ، اور نیز نقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ بھئی جب یہ مسلمان ہو گئے تو اس نے اپنے آپ کو محفوظ کر لیا اور ابتداءً مسلمان کو غلام نہیں بنایا جا سکتا۔ ابتداءً مسلمان قبضے میں آئے اور آپ اس کو کیا کرنا چاہتے ہیں؟ غلام بنانا چاہتے ہیں؟ نہیں، ہاں ایک دفعہ غلام بنا لیا اس کے بعد مسلمان ہو جائے تو پھر وہ غلام رہے گا کیونکہ اب وہ بقاءً مسلمان ہے، ابتداءً مسلمان نہیں تھا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ أَحْرَزَ نَفْسَهُ وَهُوَ مُسْلِمٌ“ اَحْرَزَ يُحْرِزُ اِحْرَاز کا معنی ہے محفوظ کرنا، ”وَلِأَنَّهُ أَحْرَزَ نَفْسَهُ وَهُوَ مُسْلِمٌ“ اس لیے کیونکہ اس نے اپنی ذات کو محفوظ کر لیا اس حال میں کہ یہ مسلمان ہے، یا با محاورہ ترجمہ یوں کر لیں: اور اس لیے کیونکہ اس نے مسلمان ہو کر اپنی ذات کو محفوظ کر لیا ”وَلَا اسْتِرْقَاقَ عَلَى الْمُسْلِمِ ابْتِدَاءً“ استرقاق کا معنی ہے مالک بننا، ”وَلَا اسْتِرْقَاقَ عَلَى الْمُسْلِمِ ابْتِدَاءً“ اور مسلمان پر ابتداءً مالک نہیں بنا جا سکتا یعنی اس کو غلام نہیں بنایا جا سکتا۔ بعد میں بقاءً وہ مسلمان ہو جائے، ایک غلام کافر تھا اور مسلمانوں کا غلام ہے بعد میں وہ مسلمان ہو جائے تو غلام ہی رہے گا، لیکن ابتداءً ہی مسلمان تھا دوسرے مسلمان اس کو غلام اپنا بنانا چاہتے ہیں؟ نہیں، مسلمان کو غلام نہیں بنایا جا سکتا۔ آگے دیکھیے بھئی: ”وَإِنْ أَعْتَقَ حَامِلًا عَتَقَ حَمْلُهَا تَبَعًا لَهَا إِذْ هُوَ مُتَّصِلٌ بِهَا“ ”وَلَوْ أَعْتَقَ الْحَمْلَ خَاصَّةً عَتَقَ دُونَهَا“ بھئی یاد رکھیے، اگر آقا نے اپنی باندی کو آزاد کیا اور وہ حاملہ ہے تو باندی کے تابع ہو کر اس کا حمل بھی آزاد ہو جائے گا، کیونکہ حمل باندی کے تابع ہے، حمل اس کے جسم کے ایک حصے کی طرح ہے تو باندی آزاد تو اس کا حمل بھی آزاد۔ لیکن اگر اس کا برعکس ہوا، آقا نے حمل کو آزاد کیا ہے تو اس صورت میں صرف حمل آزاد ہوگا، باندی آزاد نہیں ہوگی۔ کہتے ہیں: ”وَإِنْ أَعْتَقَ حَامِلًا عَتَقَ حَمْلُهَا تَبَعًا لَهَا“ اور اگر آقا نے حاملہ باندی کو آزاد کیا تو اس باندی کا حمل بھی آزاد ہو جائے گا اس باندی کے تابع ہو کر ”إِذْ هُوَ مُتَّصِلٌ بِهَا“ اس لیے کیونکہ حمل اس کے ساتھ جڑا ہوا ہے ”وَلَوْ أَعْتَقَ الْحَمْلَ خَاصَّةً عَتَقَ دُونَھَا“ اور اگر آقا نے خاص طور پر صرف حمل کو آزاد کیا تو وہ حمل آزاد ہو جائے گا دونھا یعنی دون الحامل حاملہ کے بغیر ہی، حاملہ باندی آزاد نہیں ہوگی صرف حمل آزاد ہوگا ”لِأَنَّهُ لَا وَجْهَ“ اچھا بھئی کیا وجہ ہے؟ جب باندی کو آزاد کرتے تھے تو حمل آزاد ہوتا تھا اور حمل کو آزاد کرتے ہیں تو باندی اس کے تابع ہو کر آزاد نہیں؟ کہتے ہیں بھئی وجہ ہم نے ذکر کر دی کہ یہ حمل باندی کے تابع ہے، یہ حمل باندی کے جسم کے ٹکڑے کی طرح ہے تو جب باندی آزاد تو حمل بھی آزاد، لیکن حمل کو جب آزاد کیا جائے تو باندی کو اس کے تابع قرار نہیں دیا جا سکتا اس لیے کیونکہ اس صورت میں تو قلب الموضوع لازم آئے گا۔ ایک چیز کہ حمل جو ہے وہ باندی کے تابع ہوتا ہے، باندی حمل کے تابع نہیں ہوتی۔ لہٰذا یہاں پر آقا نے باندی کو خود صراحتاً آزاد بھی نہیں کیا اور نیز باندی کو حمل کے تابع بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پھر دیکھیے، کہتے ہیں: ”وَلَوْ أَعْتَقَ الْحَمْلَ خَاصَّةً عَتَقَ دُونَهَا“ اور اگر خاص طور پر حمل کو آقا نے آزاد کیا تو وہ حاملہ کے بغیر ہی آزاد ہوگا۔ ”لِأَنَّهُ لَا وَجْهَ إِلَى إِعْتَاقِهَا مَقْصُودًا“ اس لیے کیونکہ باندی کے آزاد ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے مقصوداً، باعتبار مقصود ہونے کے۔ اس کو مقصود قرار نہیں دیا جا سکتا جب آقا نے صرف حمل کو آزاد کیا ہے، باندی کو تو اس نے آزاد ہی نہیں کیا۔ تو باندی کو اعتاق کا مقصود قرار دے کر آزاد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ”لِأَنَّهُ لَا وَجْهَ إِلَى إِعْتَاقِهَا مَقْصُودًا“ اس لیے کیونکہ باندی کو آزاد قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے مقصوداً، باعتبار مقصود ہونے کے، کہ باندی کے اعتاق کو بھی مقصودی قرار دے کر آزاد قرار دے دیا جائے اس کی کوئی وجہ نہیں۔ ”لِعَدَمِ الْإِضَافَةِ إِلَيْهَا“ اس لیے کیونکہ آقا نے اعتاق کی نسبت اس باندی کی طرف نہیں کی۔ اس نے باندی کے بارے میں نہیں کہا کہ یہ آزاد ہے، بلکہ اس نے تو صرف حمل کے بارے میں کہا ہے۔ تو باندی کو مقصوداً بھی آزاد قرار نہیں دیا جا سکتا کہ جس کا قصد کیا گیا ہو، جس کا ارادہ کیا گیا ہو۔ اور نیز باندی کو حمل کے تابع کرتے ہوئے بھی آزاد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”لِأَنَّهُ لَا وَجْهَ إِلَى إِعْتَاقِهَا مَقْصُودًا“ اس لیے کیونکہ باندی کو آزاد قرار دینا باعتبار مقصود ہوتے ہوئے اس کی کوئی وجہ نہیں ہے ”لِعَدَمِ الْإِضَافَةِ إِلَيْهَا“ اس لیے کیونکہ اس حاملہ کی طرف آزادی کی نسبت نہیں ہے ”وَلَا إِلَيْهِ تَبَعًا“ اور نیز اعتاق کی نسبت باندی کی طرف تبعاً بھی نہیں کی جا سکتی ”لِمَا فِيهِ مِنْ قَلْبِ الْمَوْضُوعِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر قلبِ موضوع ہے۔ وضع کا معنی ہے مقرر کرنا۔ قلبِ موضوع ہے، موضوع کو پلٹ دینا ہے، الٹا دینا ہے۔ بھئی حمل جو ہوتا ہے وہ حاملہ کے تابع ہوتا ہے، نہ کہ ایسا کہ حاملہ جو ہے وہ حمل کے تابع ہو۔ لہٰذا ”وَلَا إِلَيْهِ تَبَعًا“ اور اعتاق کی نسبت باندی کی طرف تبعاً بھی قرار نہیں دی جا سکتی ”لِمَا فِيهِ مِنْ قَلْبِ الْمَوْضُوعِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر موضوع کا پلٹنا ہے، کیونکہ اس میں آپ کو تابع کو متبوع بنانا پڑے گا اور متبوع کو تابع بنانا پڑے گا اور یہ درست نہیں ہے۔ ”ثُمَّ إِعْتَاقُ الْحَمْلِ صَحِيحٌ“ پھر حمل کو آزاد کرنا صحیح ہے ”وَلَا يَصِحُّ بَيْعُهُ وَهِبَتُهُ“ اور اس کو بیچنا اور اس کو ہبہ کرنا صحیح نہیں۔ یاد رکھو حمل کو آزاد کرنا تو صحیح ہے۔ حمل کو آزاد کرنا صحیح، لیکن حمل کو بیچنا یا حمل کو ہبہ کرنا، کسی کو تحفے کے طور پر دینا یہ جائز نہیں۔ بھئی کیوں نہیں جائز؟ کہتے ہیں وجہ یہ کہ ہبہ کے اندر قبضہ ضروری ہے۔ آپ ایک آدمی کو کوئی چیز تحفے کے طور پر دیتے ہیں، جب تک وہ اس پر قبضہ نہیں کرے گا، ہبہ تام نہیں، وہ اس چیز کا مالک ہی نہیں بنے گا۔ اور یہاں پر حمل پر قبضہ ممکن ہی نہیں ہے۔ قبضے کے لیے کیا ضروری ہے؟ کہ وہ حمل اس آدمی کے سپرد کیا جائے اور حمل کو تو سپرد نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ حمل کو تو سپرد نہیں کیا جا سکتا اور نیز اسی طرح حمل کی بیع بھی نہیں جائز۔ عرب بعض اوقات حمل کی بیع کرتے تھے مثلاً ان کے ہاں گھوڑے کم ہوتے تھے تو وہ گھوڑوں کے حمل ہی کی بیع کر لیا کرتے تھے تو یہ حمل کی بھی بیع جائز نہیں۔ ایک تو یہ وجہ کہ پتا نہیں حمل ہے بھی یا نہیں۔ جانور کا پیٹ ویسے پھولا ہوا ہے یا حمل ہے، یہ یقینی نہیں۔ اور نیز اس لیے کیونکہ بیع اس چیز کی جائز ہے کہ انسان اس کے سپرد کرنے پر قادر ہو اور حمل کے سپرد کرنے پر تو انسان قادر ہی نہیں ہے۔ مثلاً فضا میں پرندے اڑتے ہوئے جا رہے ہیں اور ایک آدمی دوسرے کو کہتا ہے یہ پرندے میں نے آپ کو دس ہزار روپے میں بیچ دیے۔ بھئی تم تو ان پرندوں کے حوالے کرنے پر قادر ہی نہیں ہو، بیچتے کیسے ہو بھئی؟ یا جنگل کے اندر کہتا ہے یہ جو ہرن ہے یہ میں نے آپ کو ایک لاکھ روپے میں بیچ دیے۔ نہیں بھئی، یہ بیع نہیں جائز، آپ ہرن کے سپرد کرنے پر قادر ہی نہیں ہیں۔ یا ایک آدمی کہتا ہے یہ دریا کے اندر مچھلیاں ہیں یہ میں نے آپ کو ایک لاکھ روپے میں بیچ دیں۔ بھئی آپ ان کے سپرد کرنے پر قادر ہی نہیں ہیں۔ تو جس چیز کے سپرد کرنے پر انسان قادر ہو اس کی بیع جائز ہے۔ تو ہبہ، ہبہ کے اندر سپرد کرنا ضروری ہے اور بیع کے اندر سپرد کرنے پر قدرت ضروری ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”ثُمَّ إِعْتَاقُ الْحَمْلِ صَحِيحٌ“ پھر حمل کو آزاد کرنا صحیح ہے ”وَلَا يَصِحُّ بَيْعُهُ وَهِبَتُهُ“ اور حمل کو بیچنا اور اس کو ہبہ کرنا یعنی تحفے کے طور پر دینا صحیح نہیں ہے ”لِأَنَّ تَسْلِيمَ نَفْسِهِ شَرْطٌ فِي الْهِبَةِ“ اس لیے کیونکہ اس چیز کی ذات کو سپرد کرنا یہ شرط ہے ہبہ میں ”وَالْقُدْرَةَ عَلَيْهِ فِي الْبَيْعِ“ اور سپرد کرنے پر قدرت کا ہونا یہ شرط ہے فی البیع، بیع کے اندر ”وَلَمْ يُوجَدْ ذَلِكَ بِالْإِضَافَةِ إِلَى الْجَنِينِ“ اور یہ چیز تو نہیں پائی گئی جنین کی طرف نسبت کرتے ہوئے، جنین بھئی وہ جو ماں کے پیٹ میں جو بچہ ہے، جو حمل ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ جنین بھئی۔ تو جنین کی طرف بیع کی نسبت بھی کی جائے تو بیع صحیح نہیں کیونکہ انسان اس کے سپرد کرنے پر قادر نہیں۔ اور جنین کی طرف ہبہ کی نسبت کی جائے تو ہبہ بھی صحیح نہیں کیونکہ ہبہ کے اندر قبضہ ضروری ہے اور قبضہ نہیں ہو سکتا۔ تو کہتے ہیں ”وَلَمْ يُوجَدْ ذَلِكَ“ اور وہ سپرد کرنا تو نہیں پایا گیا یا اس کی قدرت تو نہیں پائی گئی ”بِالْإِضَافَةِ إِلَى الْجَنِينِ“ اس حمل کی طرف نسبت کرتے ہوئے ”وَشَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ لَيْسَ بِشَرْطٍ فِي الْإِعْتَاقِ“ اور اعتاق کے اندر ان میں سے کوئی چیز شرط نہیں۔ اعتاق میں سپرد کرنا بھی شرط نہیں اور سپرد کرنے پر قدرت بھی شرط نہیں۔ لہٰذا حمل کا اعتاق ہو جائے گا، البتہ حمل کی بیع اور ہبہ نہیں ہو سکتی۔ تو کہتے ہیں ”وَشَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ لَيْسَ بِشَرْطٍ فِي الْإِعْتَاقِ“ اور ان میں سے کوئی چیز شرط نہیں ہے اعتاق کے اندر ”فَافْتَرَقَا“ تو یہ دونوں جدا ہو گئے۔ یعنی اعتاق جو ہے بیع اور ہبہ سے جدا ہو گیا۔ ”وَلَوْ أَعْتَقَ الْحَمْلَ عَلَى مَالٍ صَحَّ وَلَا يَجِبُ الْمَالُ“ صورتِ مسئلہ یہ کہ آقا نے حمل کو آزاد کر دیا مال کی شرط پر کہ میں اس حمل کو آزاد کرتا ہوں دس لاکھ روپے کے عوض۔ تو آپ نے عام غلاموں اور باندیوں میں پڑھا تھا کہ مثلاً آقا اپنے غلام یا باندی سے کہتا ہے: میں نے تمہیں دس لاکھ روپے کے عوض یا دس لاکھ روپے کی شرط پر آزاد کر دیا، تو اس میں ان کا قبول کرنا ضروری ہے کیونکہ ان کے ذمے مال آئے گا۔ آقا ویسے نہیں آزاد کرنا چاہ رہا بلکہ عوض لینا چاہتا ہے اور ان پر عوض ویسے نہیں لازم کیا جا سکتا جب تک وہ قبول نہ کریں۔ تو غلام یا باندی نے کہہ دیا ہمیں قبول ہے، تو قبول ہے کہتے ہی وہ آزاد ہو جائیں گے لیکن اب ان کے ذمے مال آ گیا، وہ مال ان کو ادا کرنا پڑے گا۔ اب یہی صورت حمل کے اندر بھی ہے۔ آقا نے کہا: میں نے اس حمل کو دس لاکھ کی شرط پر یا دس لاکھ کے عوض پر آزاد کر دیا، تو ہمارے فقہاء فرماتے ہیں کہ اس صورت میں حمل آزاد ہو جائے گا اور حمل کے ذمے مال بھی نہیں لازم۔ بھئی مال کیوں نہیں لازم؟ کہتے ہیں مال تو قبول کرنے کی صورت میں لازم ہوتا ہے اور حمل میں تو قبول کرنے کی اہلیت ہی نہیں ہے۔ حمل میں تو قبول کرنے کی اہلیت ہی نہیں ہے، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ عام غلاموں کے اندر تو جب آقا اس طرح کہے وہاں مال لازم ہوتا ہے اور یہاں آپ مال کو لازم قرار نہیں دے رہے، بغیر مال کے ہی آزادی کا حکم دے رہے ہیں، تو اس کا جواب دیتے ہیں فقہاء کہ بھئی اس آدمی کو بھی پتا ہے کہ یہ حمل قبول کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا، اس پر مال لازم نہیں کیا جا سکتا، پھر بھی وہ یہ بات کر رہا ہے کہ میں نے اس کو دس لاکھ کے عوض آزاد کیا۔ معلوم ہوا وہ اس کو آزاد کرنا چاہتا ہے۔ لہٰذا اس کے کلام کو لغو ہونے سے بچانے کے لیے کیا کہا جائے گا کہ اس نے اس حمل کو ویسے ہی آزاد کر دیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں ”وَلَوْ أَعْتَقَ الْحَمْلَ عَلَى مَالٍ صَحَّ“ اور اگر کسی نے حمل کو آزاد کیا علی مالٍ، علیٰ آپ جانتے ہیں شرط کے لیے آتا ہے، تو کہتے ہیں ”وَلَوْ أَعْتَقَ الْحَمْلَ عَلَى مَالٍ“ اور اگر کسی نے حمل کو آزاد کیا مال کی شرط پر ”صَحَّ“ تو یہ آزاد کرنا صحیح ہے ”وَلَا يَجِبُ الْمَالُ“ اور مال واجب نہیں ہوگا ”إِذْ لَا وَجْهَ إِلَى إِلْزَامِ الْمَالِ عَلَى الْجَنِينِ“ اس لیے کیونکہ کوئی وجہ نہیں ہے کہ مال کو لازم قرار دیا جائے علی الجنین، اس جنین، وہ جو ماں کے پیٹ میں بچہ ہے یعنی حمل جو ہے، کہ کوئی وجہ نہیں ہے کہ اس حمل پر مال کو لازم قرار دیا جائے ”لِعَدَمِ الْوِلَايَةِ عَلَيْهِ“ کیونکہ آقا کو اس پر ولایت حاصل نہیں۔ آقا کو یہ ولایت حاصل نہیں کہ حمل پر مال کو لازم کر سکے۔ ”وَلَا إِلَى إِلْزَامِهِ الْأُمَّ“ اور کوئی وجہ نہیں ہے کہ مال کو اس کی ماں پر لازم قرار دیا جائے ”لِأَنَّهُ فِي حَقِّ الْعِتْقِ نَفْسٌ عَلَى حِدَةٍ“ اس لیے کیونکہ یہ جو حمل ہے یہ آزادی کے حق میں علیحدہ نفس شمار ہوتا ہے۔ حمل ایک الگ ذات شمار ہوتی ہے، تو آقا آزاد کر رہا ہے حمل کو اور مال کو لازم قرار دیا جائے اس کی ماں پر، تو ماں تو اس سے الگ شمار ہوتی ہے اور حمل الگ شمار ہوتا ہے، ماں الگ ذات ہے اور حمل اس کو الگ ذات شمار کیا جاتا ہے، تو ایک شخص کی آزادی کے لیے دوسرے پر مال کو لازم قرار نہیں دیا جا سکتا، لہٰذا حمل کی ماں جو ہے وہ جو حاملہ باندی ہے اس پر بھی یہ مال لازم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں ”وَلَا إِلَى إِلْزَامِهِ الْأُمَّ“ اور کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہ مال لازم قرار دیا جائے اس کی ماں پر ”لِأَنَّهُ فِي حَقِّ الْعِتْقِ نَفْسٌ عَلَى حِدَةٍ“ اس لیے کیونکہ یہ جو حمل ہے یہ آزادی کے حق میں ”نَفْسٌ عَلَى حِدَةٍ“ یہ الگ ذات ہے ”وَاشْتِرَاطُ بَدَلِ الْعِتْقِ عَلَى غَيْرِ الْمُعْتَقِ لَا يَجُوزُ“ اور بدلِ عتق کی شرط لگانا علی غیر المعتق لا یجوز، غیرِ معتق پر یہ جائز نہیں۔ بھئی ایک آدمی ہے ایک غلام کو آزاد کرنا چاہتا ہے اور اس غلام کو کہتا ہے کہ میں تمہیں آزاد کرتا ہوں لیکن شرط یہ ہے کہ وہ جو آدمی ہے وہ دس لاکھ روپے ادا کرے، تو بدلِ عتق کس پر لازم کیا جا رہا ہے؟ کسی دوسرے آدمی پر، معتق جو غلام ہے جس کو آزاد کیا جا رہا ہے اس پر شرط نہیں لگائی جا رہی، اس پر یہ عوض لازم نہیں کیا جا رہا بلکہ غیرِ معتق پر بدلِ عتق کو لازم کیا جا رہا ہے، یاد رکھو یہ جائز نہیں۔ خلع کے اندر یہ جائز ہے۔ خلع کے اندر جائز ہے، بیوی خاوند سے خلع کرنا چاہتی ہے تو خاوند کہتا ہے کہ میں تم سے خلع کرتا ہوں، شرط یہ ہے کہ فلاں آدمی اتنے لاکھ روپے مجھے دے دے۔ تو بدلِ خلع کی شرط عورت کے علاوہ کسی اور پر لگانا یہ تو جائز ہے، لیکن بدلِ عتق کی شرط معتق کے علاوہ کسی اور پر یہ جائز نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں ”وَاشْتِرَاطُ بَدَلِ الْعِتْقِ عَلَى غَيْرِ الْمُعْتَقِ لَا يَجُوزُ“ اور بدلِ عتق کی شرط لگانا معتق کے علاوہ کسی اور پر لا یجوز یہ جائز نہیں ”عَلَى مَا مَرَّ فِي الْخُلْعِ“ اس وجہ سے جو خلع میں گزر گئی۔ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ آزادی کا بدل، آزادی کا عوض معتق کے علاوہ کسی اور آدمی پر لازم کرنا یہ جائز نہیں ہے اس وجہ سے جو خلع کے باب میں گزر گئی۔ شارحین فرماتے ہیں کہ صاحبِ ہدایہ نے خلع میں ایسی کوئی بات ذکر نہیں کی۔ صاحبِ ہدایہ نے خلع کے باب میں ایسی کوئی بات ذکر نہیں کی۔ شاید وجہ یہ، صاحبِ ہدایہ سے تسامح ہوا، وجہ یہ کہ شاید انہوں نے کفایۃ المنتہی کے اندر یہ بات ذکر کی ہو۔ آپ نے کتاب کے شروع میں پڑھا تھا کہ صاحبِ ہدایہ نے ابتدا میں جب یہ شرح لکھی تو یہ اسی (80) جلدوں پر مشتمل تھی۔ لیکن وہ بہت طویل ہو گئی تھی، تو پھر صاحبِ ہدایہ نے چار جلدوں میں ان اسی جلدوں کا خلاصہ نکالا اور اس کا نام ہدایہ رکھا۔ یعنی گویا ہدایہ کی ہر جلد کفایۃ المنتہی کی تقریباً بیس جلدوں کا خلاصہ ہے بھئی۔ تو شارحین فرماتے ہیں کہ شاید کفایۃ المنتہی میں یہ بات صاحبِ ہدایہ نے ذکر کی ہو اور ہدایہ میں اس کو ذکر کرنا بھول گئے ہوں بھئی۔ تو لیکن پھر شارحین وجہ بیان فرماتے ہیں کہ خلع کے اندر اجنبی پر بدل کو شرط قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن اعتاق کے اندر اجنبی پر یا غیرِ معتق پر بدلِ اعتاق کو لازم قرار نہیں دیا جا سکتا، اس کی وجہ کیا ہے؟ کہتے ہیں وجہ یہ کہ خلع کے اندر عورت کو جب جان چھوٹ گئی خاوند سے تو عورت کو کوئی چیز حاصل نہ ہوئی۔ اور خلع کی شرط لگائی ایک اجنبی پر، تو وہ اجنبی جو ہے وہ بھی اس عورت کی طرح ہے، جیسے اس عورت کو کچھ حاصل نہیں ہوا اس خلع سے، اسی طرح اس اجنبی کو بھی کچھ حاصل نہیں ہوا۔ عورت سے صرف پابندیاں ہٹ گئیں، نکاح کی پابندیاں اور رکاوٹیں ہٹ گئیں، کوئی نئی چیز عورت کو حاصل نہیں ہوئی۔ تو جیسے اس عورت کو کچھ نہیں حاصل ہوا اس اجنبی کو بھی کچھ نہیں حاصل ہوا، تو وہ اجنبی اس عورت کی طرح ہے اور بدلِ خلع جیسے عورت پر لازم ہو سکتا ہے تو اجنبی جب اس کی طرح ہے اس پر بھی لازم ہو سکتا ہے۔ جبکہ اعتاق جو ہے، اعتاق کے اندر غلام کو قوت حاصل ہو جاتی ہے، اس میں اہلیت آ جاتی ہے، وہ اہل شہادت ہو جاتا ہے، وہ اہل قضا ہو جاتا ہے، وہ ہر چیز کا مالک بن سکتا ہے، اس کو ہر طرح کی ولایتیں حاصل ہو جاتی ہیں، تو اعتاق کے اندر غلام کو قوت حاصل ہو رہی ہے۔ لہٰذا یہاں پر اجنبی جو ہے اس پر بدلِ عتق کو لازم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اجنبی کو تو کچھ بھی نہیں ملے گا اور غلام کو تو کچھ مل رہا ہے، قوت مل رہی ہے، تو اجنبی غلام جیسا نہیں۔ جب غلام جیسا نہیں تو اس اجنبی پر مال کو بھی لازم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں ”وَاشْتِرَاطُ بَدَلِ الْعِتْقِ عَلَى غَيْرِ الْمُعْتَقِ لَا يَجُوزُ عَلَى مَا مَرَّ فِي الْخُلْعِ“ اور بدلِ عتق کی شرط لگانا غیرِ معتق پر یہ جائز نہیں ہے اس وجہ سے جو خلع کے اندر گزر گئی۔ ”وَإِنَّمَا يُعْرَفُ قِيَامُ الْحَبَلِ وَقْتَ الْعِتْقِ إِذَا جَاءَتْ بِهِ“ اچھا بھئی، ہمیں پتا کیسے چلے گا کہ وہ باندی حاملہ ہے یا نہیں؟ آقا نے کیا کہا: تیرے پیٹ میں جو حمل ہے وہ آزاد ہے۔ کہتے ہیں جس وقت آقا نے یہ کہا، اس کہنے کے بعد چھ ماہ سے کم کے اندر اس باندی نے بچے کو جنم دیا تو معلوم ہوا اس وقت جب آقا نے آزادی کی بات کی تھی یہ حمل موجود تھا۔ اور اگر چھ ماہ سے زیادہ گزرنے کے بعد باندی نے بچے کو جنم دیا پھر تو یہ اتنی مدت ہے کہ اس میں نیا حمل بھی قرار پا سکتا ہے، تو اب یقینی نہیں کہ اس وقت یہ حاملہ تھی یا نہیں تھی، لہٰذا اس صورت میں وہ بچہ آزاد نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں ”وَإِنَّمَا يُعْرَفُ قِيَامُ الْحَبَلِ“ حَبَل حمل کو کہتے ہیں، اور حمل کا موجود ہونا اس کو جانا جائے گا ”وَقْتَ الْعِتْقِ“ آزادی کے وقت کہ جب آقا نے آزاد کیا تھا اس وقت حمل تھا یا نہیں، اس کو جانا جائے گا ”إِذَا جَاءَتْ بِهِ لِأَقَلَّ مِنْ سِتَّةِ أَشْهُرٍ مِنْهُ“ جب وہ باندی لے آئی بچے کو چھ ماہ سے کم کے اندر منہ اس وقت سے، اس آزادی کے وقت سے، اس آزادی سے، اس آزادی کے بعد چھ ماہ سے کم وقت کے اندر باندی جو ہے اگر بچے کو لے آئی یعنی اس نے بچے کو جنم دیا تو معلوم ہوا اس وقت یہ حاملہ تھی بھئی۔ ”لِأَنَّهُ أَدْنَى مُدَّةِ الْحَمْلِ“ اس لیے کیونکہ یہ حمل کی کم سے کم مدت ہے بھئی، یہ چھ مہینے حمل کی کم سے کم مدت ہے۔ اور اگر اس سے زائد مدت ہوئی پھر تو ہو سکتا ہے بعد میں یہ حمل ٹھہرا ہو بھئی۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَوَلَدُ الْأَمَةِ مِنْ مَوْلَاهَا حُرٌّ“ اور باندی کا جو بچہ ہے وہ من مولاها اس کے آقا سے حُرٌّ وہ آزاد ہے۔ باندی بچے کو جنم دے اور آقا کہہ دے یہ میرا بچہ ہے تو وہ بچہ آزاد ہوتا ہے۔ وجہ اس کی کیا ہے؟ وہ وجہ صاحبِ ہدایہ بیان فرمائیں گے۔ قال، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَوَلَدُ الْأَمَةِ مِنْ مَوْلَاهَا حُرٌّ“ اور باندی کی جو اولاد ہے اس کے آقا سے حرٌّ وہ آزاد ہے ”لِأَنَّهُ مَخْلُوقٌ مِنْ مَائِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ اولاد پیدا ہوئی ہے مماۂِ آقا کے نطفے سے، یہ آقا کے پانی سے پیدا ہوئی ہے ”فَيَعْتِقُ عَلَيْهِ“ تو یہ آقا پر آزاد ہو جائے گی ”هَذَا هُوَ الْأَصْلُ“ یہی ضابطہ ہے۔ یہی ضابطہ ہے کہ بچہ جو ہے وہ باپ کے نطفے سے پیدا ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں ”هَذَا هُوَ الْأَصْلُ“ یہی ضابطہ ہے ”وَلَا مُعَارِضَ لَهُ فِيهِ“ اور اس میں اس کا کوئی معارض بھی نہیں ہے۔ یہاں پر دیکھو یہ جو بچہ پیدا ہوتا ہے مرد کا نطفہ ملا عورت کے نطفے کے ساتھ، تو یہ مرد کے نطفے سے بچہ پیدا ہوا ہے اور باندی کا نطفہ بھی ہے لیکن باندی بھی تو آقا ہی کی مملوک ہے۔ لہٰذا یہاں کوئی معارض اور مقابل نہیں ہے، ہر اعتبار سے یہ بچہ آقا ہی کا شمار ہوگا۔ یہاں کوئی اور چیز نہیں ہے جو تقاضا کرے کہ یہ کسی اور کا بچہ ہونا چاہیے، کیونکہ ایک طرف آقا کا نطفہ ہے اپنا تو دوسری طرف باندی کا نطفہ ہے اور باندی بھی اسی آقا کی مملوکہ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَلَا مُعَارِضَ لَهُ فِيهِ“ اور اس کے اندر آقا کا کوئی مقابل بھی نہیں ہے ”لِأَنَّ وَلَدَ الْأَمَةِ لِمَوْلَاهَا“ اس لیے کیونکہ باندی کا جو بچہ ہوتا ہے وہ اس کے آقا کا ہوتا ہے۔ ”وَوَلَدُهَا مِنْ زَوْجِهَا مَمْلُوكٌ لِسَيِّدِهَا“ صورتِ مسئلہ یہ: آقا نے اپنی باندی کا نکاح کروا دیا تھا اور اس باندی نے ایک بچے کو جنم دیا اس نکاح سے، تو میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو باندی کی جو اولاد ہوتی ہے وہ آقا کے مملوک ہوتے ہیں۔ بچے تو خاوند کے ہیں لیکن آقا کے مملوک ہیں۔ اب اس کی وجہ ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَوَلَدُهَا مِنْ زَوْجِهَا“ اور باندی کی جو اولاد ہے اس کے خاوند سے ”مَمْلُوكٌ لِسَيِّدِهَا“ وہ اس باندی کے آقا کی مملوک ہے ”لِتَرَجُّحِ جَانِبِ الْأُمِّ“ ماں کی جانب راجح ہونے کی وجہ سے۔ ماں کی جانب راجح ہے ”بِاعْتِبَارِ الْحِضَانَةِ“ حضانت کہتے ہیں پرورش اور تربیت کو، پرورش کے اعتبار سے۔ بھئی آپ پڑھ چکے ہیں کہ بچے کی پرورش ماں کا حق ہے۔ تو کہتے ہیں ”لِتَرَجُّحِ جَانِبِ الْأُمِّ“ ماں کی جانب کے راجح ہونے کی وجہ سے ”بِاعْتِبَارِ الْحِضَانَةِ“ پرورش کے اعتبار سے ”أَوْ لِاسْتِهْلَاكِ مَائِهِ بِمَائِهَا“ یا اس وجہ سے کہ باپ کا نطفہ جو ہے وہ ماں کے نطفے کے ساتھ ہلاک ہو گیا، یعنی یوں سمجھیں باپ کا نطفہ ماں کے نطفے کے مقابلے میں ختم ہو گیا، کیونکہ یہ بچہ ماں کے پیٹ میں ہے، ماں کا نطفہ اپنی جگہ پر ہے اور باپ کا نطفہ تو منتقل ہوا تھا۔ لہٰذا یہاں پرورش کا حق بھی ماں کو ہے اور نیز باپ کا نطفہ ماں کی طرف منتقل ہوا ہے اور ماں کا نطفہ اپنی جگہ پر ہے تو ماں کا نطفہ غالب آیا، یوں سمجھو ماں ہی کا نطفہ ہے باپ کا نطفہ ہے ہی نہیں یوں سمجھو۔ وجہِ ترجیح ذکر کر رہے ہیں نا! اور نیز یہ جو حمل ہوتا ہے یہ ماں کا جز شمار ہوتا ہے، باپ کا جز شمار نہیں ہوتا، لہٰذا یہ ماں کے تابع ہوگا۔ اور ماں تو اس کی باندی ہے لہٰذا یہ بچہ بھی اس کے آقا کا مملوک شمار ہوگا بھئی۔ یہ معنی ہے ”أَوْ لِاسْتِهْلَاكِ مَائِهِ بِمَائِهَا“ یا اس وجہ سے کہ خاوند کا جو نطفہ ہے وہ ہلاک ہو گیا، وہ ختم ہو گیا بماۂا ماں کے نطفے کی وجہ سے ”وَالْمُنَافَاةُ مُتَحَقِّقَةٌ“ اور منافات پائی جا رہی ہے۔ بھئی دیکھو نا، باندی کا نکاح ہوا ہے ایک آزاد آدمی سے اور بچہ پیدا ہوا، تو ایک طرف یہ آزاد آدمی ہے، یہ اس آزاد آدمی کا نطفہ ہے، یہ تقاضا کر رہا ہے کہ یہ بچہ آقا کا مملوک نہیں ہونا چاہیے، یہ خاوند کا بچہ ہے نا اور خاوند تو آقا کا مملوک نہیں، لہٰذا یہ خاوند کے نطفے کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ تقاضا کر رہا ہے اس کو اس باندی کے آقا کا مملوک نہیں ہونا چاہیے، اور باندی کا بھی نطفہ ہے، باندی تو آقا کی مملوک ہے تو یہ باندی کا نطفہ ہونا تقاضا کر رہا ہے کہ اس باندی کا نطفہ اور حمل بھی آقا کا مملوک ہونا چاہیے۔ تو لہٰذا یہاں پر منافات پائی جا رہی ہے، لہٰذا ایک جانب کو ترجیح دینا پڑے گی۔ خاوند کا بھی نطفہ ہے ماں کا بھی نطفہ ہے، خاوند کے نطفہ ہونے کو دیکھیں تو یہ تقاضا کر رہا ہے کہ یہ اس کو باندی کے آقا کا مملوک نہیں ہونا چاہیے اور باندی کا نطفہ بھی ہے تو یہ تقاضا کر رہا ہے کہ اس کو باندی کے مالک کا مملوک ہونا چاہیے، تو یہاں منافات پائی جا رہی ہے لہٰذا ایک جانب کو ترجیح دینا پڑے گی۔ دونوں پر تو عمل ہو نہیں سکتا اور جب ترجیح دینے کی بات آئی تو ہم نے دیکھا کہ باپ کا نطفہ ماں کی طرف منتقل ہوا ہے اور ماں کا نطفہ اپنی جگہ پر ہے لہٰذا ماں کے نطفے کو ترجیح دی گئی، یوں سمجھو ماں ہی کے نطفے سے پیدا ہوا ہے باپ کا نطفہ ختم ہو چکا، اور نیز پرورش کا حق بھی ماں کو ہوتا ہے تو اس اعتبار سے بھی ہم نے ماں کی جانب کو ترجیح دے دی۔ پھر دیکھ لیجیے ترجمہ، کہتے ہیں ”لِتَرَجُّحِ جَانِبِ الْأُمِّ بِاعْتِبَارِ الْحِضَانَةِ“ ماں کی جانب کے راجح ہونے کی وجہ سے پرورش کے اعتبار سے ”أَوْ لِاسْتِهْلَاكِ مَائِهِ بِمَائِهَا“ یا اس وجہ سے کہ باپ کا نطفہ جو ہے وہ ختم ہو چکا ہے ماں کے نطفے کی وجہ سے ”وَالْمُنَافَاةُ مُتَحَقِّقَةٌ“ اور منافات پائی جا رہی ہے کہ باپ کا نطفہ ہونا اور تقاضا کر رہا ہے، ماں کا نطفہ ہونا اور تقاضا کر رہا ہے، تو منافات جو ہے وہ یعنی تعارض پایا جا رہا ہے ”وَالزَّوْجُ قَدْ رَضِيَ بِهِ“ اور خاوند بھی تحقیق اس پر راضی ہے۔ خاوند بھی اس بچے کے مملوک ہونے پر راضی ہے۔ بھئی کیوں، خاوند کیسے راضی ہے؟ کہتے ہیں بھئی کہ اولاد آزادی اور غلامی میں ماں کے تابع ہے تو باندی کی اولاد اس کے آقا کے مملوک ہوا کرتی ہے اور جب اس آدمی نے خود باندی سے نکاح کیا ہے، حالانکہ اس کو بھی پتا ہے کہ باندی سے جو اولاد ہوگی وہ اس کے آقا کی مملوک ہوگی، معلوم ہوا خاوند خود اس بات پر راضی ہے، اپنے بچوں کے مملوک ہونے پر خود راضی ہے۔ یہ معنی ہے ”وَالزَّوْجُ قَدْ رَضِيَ بِهِ“ اور تحقیق خاوند بھی اس پر راضی ہے ”بِخِلَافِ وَلَدِ الْمَغْرُورِ“ بخلاف مغرور کی اولاد کے۔ غرّ یغرّ غرّاً و غروراً کا معنی ہے دھوکا دینا۔ مغرور وہ شخص ہے جس کو دھوکا دیا گیا ہے۔ ایک آدمی ہے اس کا ایک عورت سے نکاح کروایا گیا کہ یہ آزاد عورت ہے، لیکن بعد میں پتا چلا یہ عورت تو باندی تھی اور اس سے جو اولاد پیدا ہوگی اب وہ اس باندی کے آقا کی مملوک ہوگی، تو اس صورت میں اب شریعت نے یہ حکم دیا کہ اس باندی کی جو اولاد ہوگی وہ آزاد ہوگی اور خاوند کو اس کے بدلے میں اس کی قیمت دینا پڑے گی باندی کے مالک کو۔ اب اس میں دونوں کی رعایت ہو گئی: یہ جس شخص کو دھوکا دیا گیا اس کی بھی رعایت ہو گئی، اس کے بچے آزاد ہیں کسی کے مملوک نہیں، اور آقا کی بھی رعایت ہو گئی کہ اس کو بچوں کی قیمت مل گئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ کہتے ہیں ”بِخِلَافِ وَلَدِ الْمَغْرُورِ“ بخلاف مغرور کی اولاد کے، یعنی وہ آدمی جس کو دھوکا دیا گیا اس کی اولاد کے ”لِأَنَّ الْوَالِدَ مَا رَضِيَ بِهِ“ اس لیے کیونکہ وہاں پر والد اس پر راضی نہیں ہے کہ یہ اس کی بیوی کے آقا کی مملوک ہوں بھئی، وہ ان کے بچوں کے مملوک ہونے پر راضی نہیں، اس کو تو دھوکا دیا گیا تھا نکاح کے اندر۔ ”وَوَلَدُ الْحُرَّةِ حُرٌّ عَلَى كُلِّ حَالٍ“ ”وَوَلَدُ الْحُرَّةِ“ اور آزاد عورت کی جو اولاد ہے ”حُرٌّ عَلَى كُلِّ حَالٍ“ وہ آزاد ہے ہر حال میں، چاہے اس کا خاوند آزاد ہو چاہے غلام ہو لیکن آزاد عورت کی اولاد آزاد ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَوَلَدُ الْحُرَّةِ حُرٌّ عَلَى كُلِّ حَالٍ“ اور آزاد عورت کی جو اولاد ہے وہ ہر حال میں آزاد ہے ”لِأَنَّ جَانِبَهَا رَاجِحٌ“ اس لیے کیونکہ ماں کی جانب راجح ہے۔ ابھی ہم نے بتایا ماں کی جانب راجح ہے اور ماں تو آزاد ہے تو اس کا حمل بھی آزاد ہوگا۔ کہتے ہیں ”لِأَنَّ جَانِبَهَا رَاجِحٌ“ اس لیے کیونکہ ماں کی جانب راجح ہے ”فَيَتْبَعُهَا فِي وَصْفِ الْحُرِّيَّةِ“ تو بچہ جو ہے وہ بھی ماں کے تابع ہوگا آزادی کے وصف میں ”كَمَا يَتْبَعُهَا فِي الْمَمْلُوكِيَّةِ وَالْمَرْقُوقِيَّةِ وَالتَّدْبِيرِ وَأُمُومِيَّةِ الْوَلَدِ وَالْكِتَابَةِ“ ”كَمَا يَتْبَعُهَا“ جیسے کہ بچہ تابع ہوتا ہے ماں کے ”فِي الْمَمْلُوكِيَّةِ“ مملوک ہونے میں ”وَالْمَرْقُوقِيَّةِ“ اور غلام ہونے میں ”وَالتَّدْبِيرِ“ اور مدبر ہونے میں ”وَأُمُومِيَّةِ الْوَلَدِ“ اور ام ولد ہونے میں ”وَالْكِتَابَةِ“ اور مکاتب ہونے میں۔ بھئی دیکھیے صاحبِ ہدایہ نے دو لفظ ذکر کیے: مملوکیت اور مرقوقیت۔ مملوکیت کا کیا معنی؟ مملوک ہونا، اور مرقوقیت؟ مرقوق ہونا یعنی غلام ہونا۔ اور یاد رکھو ان دونوں چیزوں میں فرق ہے۔ مملوکیت اور مرقوقیت میں فرق ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ غلام جو ہے وہ غلام تو کامل ہے لیکن کامل مملوک نہیں۔ اور بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ مملوک تو کامل ہوتا ہے لیکن غلام کامل نہیں۔ تو دونوں میں فرق ہے۔ مثلاً دیکھو مدبر اور ام ولد، مدبر وہ غلام ہے جسے آقا نے کہہ دیا: میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے، اور ام ولد وہ باندی جس نے بچے کو جنم دیا اور آقا نے کہہ دیا: یہ میرا بچہ ہے۔ تو یہ جو ام ولد ہیں اور مدبر ہیں یاد رکھو آقا کے مرتے ہی یہ آزاد ہو جائیں گے۔ اب آزادی ان کا حق بن گیا، اب کسی صورت ان کے حقِ آزادی کو فسخ نہیں کیا جا سکتا۔ معلوم ہوا ان دونوں میں غلامی ناقص ہو گئی۔ ان دونوں میں غلامی ناقص ہو گئی، انہوں نے ہر حال میں آزاد ہونا ہے۔ ہاں ملکیت نہیں ناقص، ملکیت اسی طرح ہے یہ اسی طرح جب تک ان کا آقا زندہ ہے یہ اس کی خدمت کرتے رہیں گے۔ آقا کی پوری ملکیت ہے۔ تو مدبر اور ام ولد میں رقیت ناقص ہو جاتی ہے، البتہ ملکیت کامل ہے۔ جبکہ مکاتب جو ہے، مکاتب کے اندر ملکیت ناقص ہو جاتی ہے، رقیت کامل ہے۔ ملکیت ناقص ہو گئی، ملکیت کم ہو گئی، اب آقا اس سے جبراً خدمت نہیں لے سکتا، وہ جگہ جگہ جا کر پیسے کما کر لائے گا، تو ملکیت ناقص ہو گئی۔ البتہ غلامی کامل ہی ہے کیونکہ اس کا آزاد ہونا یقینی نہیں۔ اس کا آزاد ہونا یقینی نہیں، اگر یہ عاجز آ گیا تو یہ پھر پہلے جیسا غلام بن جائے گا۔ تو معلوم ہوا ام ولد اور مدبر ان میں رقیت ناقص ہے، اور مکاتب کے اندر ملکیت ناقص ہے، البتہ رقیت کامل ہے۔ تو اس لیے صاحبِ ہدایہ نے دونوں لفظ ذکر کیے کہ مملوکیت کو بھی ذکر کیا اور مرقوقیت کو بھی۔ تو کہتے ہیں پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں ”فَيَتْبَعُهَا فِي وَصْفِ الْحُرِّيَّةِ“ بچہ جو ہے وہ ماں کے تابع ہوگا آزادی کے وصف میں ”كَمَا يَتْبَعُهَا فِي الْمَمْلُوكِيَّةِ وَالْمَرْقُوقِيَّةِ“ جیسے کہ بچہ ماں کے تابع ہوتا ہے مملوک ہونے میں اور مرقوق یعنی غلام ہونے میں ”وَالتَّدْبِيرِ وَأُمُومِيَّةِ الْوَلَدِ وَالْكِتَابَةِ“ دیکھیے بھئی یہ عبارت پہ ذرا غور کیجیے: ”كَمَا يَتْبَعُهَا فِي الْمَمْلُوكِيَّةِ وَالْمَرْقُوقِيَّةِ وَالتَّدْبِيرِ وَأُمُومِيَّةِ الْوَلَدِ وَالْكِتَابَةِ“ کہ بچہ آزادی میں ماں کے تابع ہوتا ہے ”كَمَا يَتْبَعُهَا فِي الْمَمْلُوكِيَّةِ وَالْمَرْقُوقِيَّةِ“ جیسے کہ بچہ ماں کے تابع ہوتا ہے مملوک ہونے میں اور مرقوق یعنی غلام ہونے میں۔ یہ جو آگے ذکر ہو رہا ہے ”وَالتَّدْبِيرِ وَأُمُومِيَّةِ الْوَلَدِ وَالْكِتَابَةِ“ یہ جو تین الفاظ ہیں یہ ماقبل کے لیے عطفِ تفسیری کے درجے میں ہیں۔ عطفِ تفسیری اسے کہتے ہیں کہ جس میں معطوف جو ہے وہ معطوف علیہ کی تفسیر کرتا ہے۔ تو یہ جو تدبیر ہے، امومیت الولد ہے اور کتابت ہیں یہ تفسیر بیان کر رہے ہیں مملوکیت اور مرقوقیت کی۔ اس لیے کیونکہ مدبر اور ام ولد میں رقیت ناقص ہوتی ہے انہوں نے ہر حال میں آزاد ہونا ہے، اور مکاتب کے اندر ملکیت ناقص ہو جاتی ہے کیونکہ وہ اپنے تصرفات کا مالک بن جاتا ہے، وہ تجارت وغیرہ کر سکتا ہے۔ تو لہٰذا بچہ جو ہے مملوکیت اور مرقوقیت میں اپنے ماں کے تابع ہوتا ہے اور آگے اس کی تفسیر کر دی جیسے مدبر ہونا، ام ولد ہونا اور مکاتب ہونا۔ مدبر ہونے اور ام ولد ہونے میں رقیت ناقص ہے تو بچہ بھی اسی طرح ہوگا۔ اور مکاتب کے اندر ملکیت ناقص ہے تو بچہ بھی اسی طرح ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ تدبیر، امومیت الولد اور کتابت یہ عطفِ تفسیری ہیں مملوکیت اور مرقوقیت کے لیے۔ بھئی یاد رکھو، ادھر دیکھیے، یاد رکھیے، آقا نے اپنی باندی کو مدبرہ بنا دیا کہ تو میرے مرنے کے بعد آزاد ہے، بعد میں اس باندی نے ایک بچے کو جنم دیا، آقا نے نہیں کہا یہ میرا بچہ ہے۔ آقا اگر کہہ دے گا یہ میرا بچہ ہے تو بچہ اسی وقت آزاد ہو جائے گا۔ تو اس مدبرہ نے بچے کو جنم دیا یاد رکھو، یا آقا نے اس مدبرہ کا کسی آدمی سے نکاح کروا دیا اور اس آدمی سے اس مدبرہ کی اولاد ہو گئی، تو یاد رکھو یہ بچہ بھی ماں کے تابع ہے، یہ بچہ بھی مدبر ہے، جب آقا مرے گا تو باندی اپنے بچوں سمیت آزاد ہو جائے گی۔ یا اسی طرح ایک باندی نے بچے کو جنم دیا، آقا نے کہا: یہ میرا بچہ ہے، یہ آقا کی ام ولد بن گئی۔ بعد میں آقا نے اس باندی کا کسی اور سے نکاح کروا دیا اور باندی نے اور بچوں کو جنم دیا، تو جیسے یہ باندی ام ولد ہے، آقا کے مرنے کے بعد آزاد ہوگی، اس کے جو بچے ہوں گے اس نئے خاوند سے وہ بھی آقا کے مرنے کے بعد سارے آزاد ہو جائیں گے۔ تو معلوم ہوا بچہ آزادی اور غلامی میں ماں کے تابع ہے، ماں میں رقیت ناقص تو بچے میں بھی رقیت ناقص۔ اور اسی طرح اگر آقا نے آقا نے اپنی باندی کو مکاتبہ بنایا ہے تو اس کے اصول و فروع ہیں وہ بھی عقدِ کتابت میں داخل ہو جائیں گے۔ معلوم ہوا بچے بچے غلامی اور ملکیت کے اندر ماں کے تابع ہوتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے ”كَمَا يَتْبَعُهَا فِي الْمَمْلُوكِيَّةِ وَالْمَرْقُوقِيَّةِ“ جیسے کہ بچہ ماں کے تابع ہوتا ہے مملوک ہونے میں اور غلام ہونے میں ”وَالتَّدْبِيرِ“ اور مدبر ہونے میں ”وَأُمُومِيَّةِ الْوَلَدِ“ اور ام ولد ہونے میں ”وَالْكِتَابَةِ“ اور مکاتب ہونے میں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔