وَالْكُلِّيَّاتُ خَمْسٌ: الْأَوَّلُ الْجِنْسُ وَهُوَ الْمَقُولُ عَلَى كَثِيرِينَ مُخْتَلِفِينَ بِالْحَقَائِقِ فِي جَوَابِ مَا هُوَ، فَإِنْ كَانَ الْجَوَابُ عَنِ الْمَاهِيَّةِ وَعَنْ بَعْضِ مُشَارِكَاتِهَا هُوَ الْجَوَابَ عَنْهَا وَعَنِ الْكُلِّ فَقَرِيبٌ كَالْحَيَوَانِ، وَإِلَّا فَبَعِيدٌ كَالْجِسْمِ النَّامِي. اچھا بھئی آگے سبق دیکھیے، متن دیکھیے پہلے۔ آج ہم كُلِّيَّاتِ خَمْسَة کے بارے میں پڑھیں گے بھئی۔ انہوں نے صاحب کتاب نے آپ کو بتلایا تھا کہ منطق کا موضوع وہ معرف اور حجت ہیں بھئی۔ معرف کسے کہتے تھے؟ وہ معلوم تصورات جو ہمیں کہاں تک پہنچا دیں؟ مجہول تصور تک، ان معلوم تصورات کو معرف بھی کہتے ہیں اور تعریف بھی کہتے ہیں اور قول شارح یا موصوف صفت ہیں۔ ایسا قول جو شرح کرنے والا ہو۔ بات سمجھ میں آئی؟ قول شارح کا یہ معنی نہیں شارح سے انسان مراد ہو۔ ایسا قول جو شرح کرنے والا ہو۔ دیکھو تعریف بھی کیا کرتی ہے؟ ایک چیز کی شرح کرتی ہے اس کی تفسیر بیان کرتی ہے۔ تو منطق کا موضوع معرف اور حجت ہیں۔ معرف یعنی وہ معلوم تصورات جو مجہول تصور تک پہنچائیں، اور اسی طرح حجت یعنی وہ معلوم تصدیقات جو ہمیں مجہول تصدیق تک پہنچائیں۔ تو جو معلوم تصدیقات ہمیں مجہول تصدیق تک پہنچائیں ان معلوم تصدیقات کو حجت بھی کہتے ہیں اور دلیل بھی کہتے ہیں اور شاہد بھی بھئی۔ تو منطق کا موضوع معرف اور حجت ہیں۔ اور انہوں نے آپ کو بتلایا تھا وہ معلوم تصورات جو ہمیں مجہول تصور تک پہنچائیں گے، وہ ہمیشہ کلی ہوں گے۔ کلی جو ہے اس کے ذریعے دوسری کلی کو حاصل کیا جا سکتا ہے، جبکہ جزئی کے ذریعے دوسری جزئی کو حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ کلی کے ذریعے دوسری کلی کو حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن جزئی کے ذریعے دوسری جزئی حاصل نہیں ہو سکتی۔ تو کلی کاسب بھی ہے اور مکتسب بھی۔ کاسب یعنی جس کے ذریعے دوسروں کو حاصل کیا جائے، مکتسب یعنی جس کو حاصل کیا جائے۔ تو معرف کسے کہتے تھے؟ معلوم تصورات کو جوڑا اور کس کو حاصل کیا؟ مجہول تصور کو۔ یاد رکھو یہ جو معلوم تصور جن کے ذریعے ہم حاصل کر رہے ہیں، یہ بھی کلی ہونے چاہیے، اور وہ جو مجہول تصور جس کو حاصل کیا وہ بھی کیا ہوگا؟ کلی ہوگا۔ تو کلی کے ذریعے کلی کو تو حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن جزئی کے ذریعے جزئی کو حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ دو یا تین جزئی آپ ملائیں اور اس کے ذریعے آپ کو چوتھی جزئی جو مجہول ہے وہ حاصل ہو جائے، ایسا نہیں ہو سکتا۔ جزئی نہ کاسب ہے، نہ مکتسب۔ کاسب نہیں یعنی اس کے ذریعے دوسری جزئی کو حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اور مکتسب بھی نہیں یعنی ان کو حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے ذریعے بھی حاصل نہیں کر سکتے اور ان کو بھی حاصل نہیں کر سکتے۔ معلوم ہوا معرف ہمیشہ کیا ہوگا؟ ہمیشہ کلی ہوگی۔ اور جو مجہول تصور حاصل ہوگا وہ بھی کیا ہوگا؟ کلی ہوگا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اسی لیے انہوں نے چند سبق پیشتر کلی اور جزئی کی بحث شروع کی تھی اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ منطق کے مقاصد کا بیان شروع ہو گیا کیونکہ منطق کا مقصد کیا ہے؟ منطق بحث کس کے بارے میں کرتی ہے؟ معرف اور حجت کے بارے میں۔ اور معرف وہ ہمیشہ کیا ہوں گی؟ کلیات ہوں گی۔ تو لہذا انہوں نے آپ کو بتلانا شروع کیا کہ کلی کسے کہتے ہیں اور جزئی کسے کہتے ہیں۔ دو تین سطریں قبل آیا تھا، فَصْلٌ الْمَفْهُومُ إِنِ امْتَنَعَ فَرْضُ صِدْقِهِ عَلَى كَثِيرِينَ فَجُزْئِيٌّ وَإِلَّا فَكُلِّيٌّ۔ تو انہوں نے آپ کو کلی اور جزئی کی پہچان کروائی کہ کلی کسے کہتے ہیں اور جزئی کسے کہتے ہیں۔ جزئی کسے کہتے ہیں کہ عقل اس کے کثیرین پر صادق آنے کو جائز نہ سمجھے۔ اور کلی کسے کہتے ہیں کہ عقل اس کے کثیرین پر صادق آنے کو جائز سمجھے۔ یہ آسان لفظوں میں یوں کہو کہ جزئی وہ ہے جو کثیرین پر صادق نہ آئے اور کلی وہ ہے جو کثیرین پر صادق آئے۔ تو انہوں نے آپ کو معرف اور حجت کے بارے میں چونکہ اب بحث کرنا چاہتے تھے لہذا آپ کو پہلے کلی اور جزئی کی پہچان کروا دی۔ اب وہ معرف کا پتہ ان كُلِّيَّاتِ خَمْسَة کے ذریعے چلتا ہے جن کا آگے بیان آ رہا ہے، جنس، نوع، فصل، خاصہ اور عرض عام۔ یہ كُلِّيَّاتِ خَمْسَة کا بھی اب آگے بیان کرنے لگے ہیں کیونکہ جو تعریف ہوتی ہے یا یوں کہو جو معرف ہوتا ہے وہ ان كُلِّيَّاتِ خَمْسَة کے ذریعے ہوتی ہے۔ ان کے ذریعے دوسری چیزوں کی پہچان کروائی جاتی ہے۔ تو اس لیے اب كُلِّيَّاتِ خَمْسَة کا بیان شروع کر دیا۔ لہذا اب وہ كُلِّيَّاتِ خَمْسَة کی پہچان آپ کو کروائیں گے۔ وجہ سمجھ میں آ گئی؟ یہ كُلِّيَّاتِ خَمْسَة کیوں لے کر آئے؟ کیونکہ معرف یعنی جو تعریف ہوگی وہ کس کے ذریعے ہوتی ہے ہمیشہ ان كُلِّيَّاتِ خَمْسَة کے ذریعے ہوتی ہے بھئی۔ ان کے ذریعے دوسری چیزوں کی پہچان کروائی جاتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اس لیے اب كُلِّيَّاتِ خَمْسَة کا بیان شروع کر دیا۔ اور كُلِّيَّاتِ خَمْسَة، نام سے پتہ چل رہا ہے، پانچ کلیات ہیں بھئی، پانچ کلیات۔ اور نام میں نے ذکر کر دیے جنس، نوع، فصل، خاصہ اور عرض عام۔ اس میں تفصیل یاد رکھیے کہ کلی یا تو ذاتی ہوگی یا عرضی ہوگی۔ کلی ذاتی وہ ہے جو اپنے افراد کی پوری حقیقت ہو یا حقیقت کا جز ہو۔ اس کو کلی ذاتی کہتے ہیں۔ ذاتی کا کیا معنی؟ ذات والا، ذات کی طرف جو منسوب، یہ کلی بھی اپنے افراد کی ذات کی طرف منسوب ہوتی ہے، یہ ان کی حقیقت اور ماہیت کے بارے میں ہمیں بتلاتی ہے، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ کلی ذاتی۔ تو کلی ذاتی وہ ہے جو اپنے افراد کی پوری حقیقت ہو یا حقیقت کا جز ہو۔ اور اس کے مقابلے میں کلی عرضی ہے۔ کلی عرضی وہ ہے جو اپنے افراد کی حقیقت سے خارج ہو۔ توجہ ہے؟ کلی ذاتی کسے کہتے ہیں؟ جو اپنے افراد کی پوری حقیقت ہو یا حقیقت کا جز ہو۔ اور کلی عرضی کسے کہتے ہیں جو اپنے افراد کی حقیقت سے خارج ہو۔ تو کلی دو قسم پر ہو گئی۔ ایک کلی ذاتی اور ایک کلی عرضی۔ کلی ذاتی کے اندر جنس، نوع اور فصل، یہ تین داخل ہیں۔ جنس، نوع اور فصل۔ اور کلی عرضی اس کے اندر خاصہ اور عرض عام داخل ہیں۔ توجہ ہے؟ کلی کتنی قسم پر؟ دو قسم پر۔ یا وہ ذاتی ہوگی یا عرضی۔ کلی ذاتی کسے کہتے ہیں؟ جو اپنے افراد کی پوری حقیقت ہو یا حقیقت کا جز ہو۔ اور وہ کتنی کلیاں ہیں؟ تین ہیں۔ جنس، نوع اور فصل۔ جبکہ کلی عرضی وہ ہے جو اپنے افراد کی حقیقت سے خارج ہو۔ اور وہ دو کلیاں ہیں، ایک ہے خاصہ اور ایک ہے عرض عام۔ ان کو سمجھ لیں بھئی۔ دیکھو نوع جو ہے نوع وہ کلی ہے جو اپنے افراد کی پوری حقیقت ہوتی ہے۔ نوع وہ کلی ہے جو ایک حقیقت والے افراد پر بولی جاتی ہے۔ توجہ ہے؟ نوع وہ کلی ہے جو ایک حقیقت والے افراد پر بولی جاتی ہے۔ جیسے انسان۔ انسان کے افراد کون ہیں؟ زید ہے، عمرو ہے، بکر ہے، خالد وغیرہ جتنے بھی افراد ہیں۔ دیکھو ان سب کی حقیقت ایک ہی ہے۔ سب کی حقیقت کیا ہے؟ حَيَوَانٌ نَاطِقٌ۔ تو یہ جو نوع ہوتی ہے، یہ ایک حقیقت والے افراد پر بولی جاتی ہے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ نوع۔ اور جنس وہ ہے جو مختلف حقیقت کے افراد پر بولی جاتی ہے اور ان کی حقیقت کا جز ہوتی ہے۔ جیسے حیوان۔ دیکھو حیوان جو ہے، یہ انسان بھی کیا ہے حیوان، گائے بیل بھی کیا ہیں حیوان، بکری بھی کیا ہے حیوان، بلی بھی کیا ہے حیوان، ہاتھی بھی کیا ہے حیوان۔ تو حیوان ایسی کلی ہے جو ایسے افراد پر بولی جاتی ہے جن کی حقیقتیں الگ الگ ہیں۔ توجہ ہے؟ انسان کی حقیقت اور ہے، گائے بیل کی حقیقت اور ہے، بکری کی حقیقت اور ہے، ہاتھی کی حقیقت اور ہے۔ تو یہ مختلف حقیقتوں کے افراد پر جو کلی بولی جاتی ہے اور ان کی حقیقت کا جز ہوتی ہے اس کو جنس کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ جنس۔ یہ جو نوع ہوتی ہے، یہ اپنے افراد کی پوری حقیقت ہوتی ہے۔ کیا بیان کرتی ہے؟ پوری حقیقت بیان کرتی ہے۔ جیسے زید، عمرو، بکر وغیرہ۔ یہ سب کیا ہیں؟ انسان، ان کی پوری حقیقت کیا ہے؟ یہ انسان ہیں۔ جبکہ حیوان، حیوان کے جو افراد ہیں، ان کی حقیقتیں الگ الگ ہیں۔ حیوان کے تحت انسان بھی، انسان کی حقیقت کیا حَيَوَانٌ نَاطِقٌ، دیکھا ایک جز حیوان ہے تو دوسرا جز ناطق۔ حیوان اور ناطق دو جز ملے تو انسان کا وجود ہوا۔ اگر یہ دونوں جز نہیں ہوں گے تو انسان کا وجود نہیں ہو سکتا۔ تو انسان کی حقیقت ہے حَيَوَانٌ نَاطِقٌ۔ اور اسی طرح مثلاً گھوڑا ہے، گھوڑے کی حقیقت کیا ہے؟ حَيَوَانٌ صَاهِلٌ۔ صاہل وہ جو ہنہناتا ہے گھوڑے کی وہ جو مخصوص آواز ہے، تو اس مخصوص آواز کی وجہ سے اس کو حَيَوَانٌ صَاهِلٌ کہتے ہیں، یعنی ہنہنانے والا حیوان، حَيَوَانٌ صَاهِلٌ۔ اور اسی طرح گدھا ہے، گدھے کی اپنی مخصوص آواز ہے، تو اس اعتبار سے اس کا نام کیا ہے؟ حَيَوَانٌ نَاهِقٌ بھئی۔ وہ مخصوص گدھے کی آواز جس کو اردو میں کہتے ہیں رینکنا، گدھا رینک رہا ہے۔ تو وہ حَيَوَانٌ نَاهِقٌ ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ تو دیکھو حیوان ان سب پر بولا جاتا ہے اور سب کی حقیقتیں الگ الگ ہیں۔ تو وہ کلی جو مختلف حقیقتوں والے افراد پر بولی جائے اور ان کی حقیقت میں داخل ہو، اس کو جنس کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ جنس۔ ایک ہے نوع، نوع کس پر بولی جاتی ہے؟ ایک حقیقت والے افراد پر بولی جاتی ہے۔ اور جنس مختلف حقیقت والے افراد پر بولی جاتی ہے۔ تو نوع جو ہے وہ پوری حقیقت بیان کرتی ہے۔ زید، عمرو، بکر، ان کی پوری حقیقت کیا ہے؟ یہ انسان ہیں۔ انسان کا کیا معنی؟ حَيَوَانٌ نَاطِقٌ ہیں۔ تو دیکھو انسان کہہ دیا تو پوری حقیقت پتہ چل گئی کہ یہ کیا ہیں حَيَوَانٌ نَاطِقٌ ہیں۔ تو یہ جو نوع ہوتی ہے، یہ پوری حقیقت بیان کرتی ہے۔ جبکہ جنس، یہ حقیقت کا جز ہوتی ہے۔ جنس کیا ہوتی ہے؟ مختلف حقیقت کے افراد پر بولی جاتی ہے اور ان کی حقیقت کا جز ہوتی ہے۔ انسان کی حقیقت کیا؟ حَيَوَانٌ نَاطِقٌ، دیکھو اس کا ایک جز حیوان ہے۔ گھوڑے کی حقیقت کیا؟ حَيَوَانٌ صَاهِلٌ، دیکھو اس کا ایک جز حیوان ہے اور دوسرا جز صاہل ہے۔ اسی طرح گدھے کو کیا کہتے ہیں؟ حَيَوَانٌ نَاهِقٌ، اس کا بھی ایک جز کیا ہے حیوان۔ تو جنس جو ہوتی ہے وہ اپنے افراد کی پوری حقیقت نہیں ہوتی بلکہ حقیقت کا جز ہوتی ہے۔ جبکہ نوع اپنے افراد کی پوری حقیقت ہوتی ہے۔ اور اسی طرح اگر کلی اپنے افراد کی حقیقت کا جز ہے، اور وہ ایک ہی حقیقت والے افراد پر بولی جاتی ہے اور کسی پر نہیں، تو اس کو فصل کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ فصل۔ جیسے حَيَوَانٌ نَاطِقٌ۔ اس کا ایک جز تو حیوان ہے، وہ ہے جنس۔ اور دوسرا جز ناطق ہے، اس ناطق کو فصل کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں فصل۔ یہ دیکھو اس کی حقیقت میں داخل ہے، اس کی حقیقت کا جز ہے، اور ایک ہی حقیقت والے افراد پر یہ بولا جاتا ہے، زید، وہ بھی کیا ہے ناطق، بکر، وہ بھی ناطق، خالد، وہ بھی ناطق، دیکھو سب کی حقیقت ایک ہے۔ اگر کلی اب وہ اپنے افراد کی حقیقت کا جز ہو اور ایک ہی حقیقت والے افراد پر بولی جائے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ فصل کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ فصل۔ یہ بیان تھا کلی ذاتی کا۔ کلی ذاتی کسے کہتے ہیں؟ جو اپنے افراد کی پوری حقیقت ہو یا حقیقت کا جز ہو۔ اگر پوری حقیقت ہے وہ کیا ہے؟ نوع۔ اور اگر کلی اپنے افراد کی حقیقت کا جز ہے تو پھر یہ جو افراد ہوں گے جن کی حقیقت کا یہ جز ہے، ان سب کی حقیقت ایک ہی ہوگی یا ان کی حقیقتیں الگ الگ۔ کلی اگر اپنے افراد کی حقیقت کا جز ہے اور ان افراد کی حقیقت بھی ایک ہی ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ فصل۔ اور اگر کلی اپنے افراد کی حقیقت کا جز ہے اور ان افراد کی حقیقتیں الگ الگ ہیں تو اس کو کیا کہیں گے؟ جنس کہیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو جنس وہ حقیقت کا جز ہوتی ہے اور مختلف الحقیقت افراد پر بولی جاتی ہے۔ اور فصل، وہ کلی ذاتی ہے جو حقیقت کا جز ہوتی ہے، لیکن متفق الحقیقت افراد پر بولی جاتی ہے۔ جنس کس پر بولی جاتی ہے؟ مختلف الحقیقت افراد پر۔ اور فصل متفق الحقیقت افراد پر۔ جبکہ دوسری قسم تھی وہ کلی عرضی۔ کلی عرضی جو ہے اس میں خاصہ اور عرض عام شامل ہیں۔ اور کلی عرضی کس کو کہتے تھے؟ جو اپنے افراد کی حقیقت سے خارج ہو۔ جیسے انسان کا ضاحک ہونا، ہنسنے والا۔ انسان کو اللہ نے ضحک کا خاصہ نصیب فرمایا ہے۔ انسان کو اللہ نے مختلف چیزوں کا ادراک کرنے والا بنایا ہے۔ تو جب مختلف چیزوں کا ادراک کرتا ہے تو انوکھی چیزوں کا بھی وہ ادراک کرے گا، عام چیزوں کا بھی ادراک کرے گا اور انوکھی چیزوں کا بھی۔ تو جب وہ کسی انوکھی چیز کا ادراک کرتا ہے، تو اس کو تعجب لاحق ہوتا ہے۔ وہ حیران ہوتا ہے۔ اور اس تعجب کی وجہ سے اس کو ہنسی آ جاتی ہے، یعنی اس کو ضحک آ جاتا ہے۔ تو انسان کیا ہے؟ ضَاحِكٌ۔ کیوں؟ ضاحک کیوں بنتا ہے وہ؟ تعجب کی وجہ سے۔ جیسے آپ کو کوئی لطیفہ سناتا ہے اور آپ کو عجیب لگتا ہے اور آپ کو پھر ہنسی آ جاتی ہے۔ تو یہ کیا ہے؟ آپ کو ضحک کیوں آیا، ہنسی کیوں آئی؟ کیونکہ وہ آپ کو عجیب لگا، اس میں ایسی بات تھی جو انوکھی تھی بھئی، عام طور پر ایسا آپ دیکھتے یا سوچتے نہیں۔ ایک عجیب سی بات آ گئی۔ تو انسان کا خاصہ کیا ہے وہ ضاحک ہے بھئی ضاحک۔ اور دیکھو یہ ضاحک ہونا یہ انسان کی حقیقت میں داخل نہیں۔ انسان کی صفت تو ہے، وہ ضاحک ہے۔ لیکن یہ اس کی حقیقت میں داخل نہیں۔ انسان کی حقیقت تو کیا ہے؟ حَيَوَانٌ نَاطِقٌ ہے۔ تو ضاحک ایک کلی ہے جو انسان کے افراد پر بولی جاتی ہے اور ان کی حقیقت میں داخل نہیں ہے، حقیقت سے خارج ہے۔ اسی طرح انسان ماشی ہے، ماشی یعنی چلنا، انسان اپنے قدموں پر چلتا ہے۔ لیکن یہ ماشی ہونا یہ صرف انسان کی صفت نہیں ہے، بلکہ گائے بیل، بکری، گھوڑا، گدھا، اونٹ، ہاتھی، یہ سب حیوانات بھی چلتے ہیں، یہ سب بھی ماشی ہیں۔ تو یہ جو ماشی ہے یہ بھی انسان کی صفت، یہ ضاحک یہ بھی انسان کی صفت، لیکن ضاحک ایسی صفت ہے جو انسان کے ساتھ خاص ہے، یعنی ایک ہی حقیقت والے افراد پر بولی جاتی ہے، لہذا اس کو کہیں گے خاصہ۔ اور وہ صفت جو مختلف الحقیقت افراد پر بولی جائے جیسے ماشی، اس کو کہیں گے عرض عام۔ کیا کہیں گے؟ عرض عام۔ تو یہ جو خاصہ اور عرض عام ہوتے ہیں، یہ صفت ہوتی ہے۔ یہ ان کی حقیقت میں داخل نہیں۔ یہ حقیقت نہیں ہے ان کی۔ یہ ان چیزوں کی صفت ہوتی ہے۔ لیکن فرق صرف اتنا ہے، خاصہ جو ہے، ایک ہی حقیقت والے افراد پر بولا جائے گا، ان پر صادق آئے گا۔ اور جو عرض عام ہے، وہ مختلف الحقائق افراد پر صادق آئے گا یا ان پر بولا جائے گا۔ جیسے وہاں کلی ذاتی کے اندر جنس کن پر بولی جاتی تھی؟ مختلف الحقیقت افراد پر، یہاں پر اسی طرح مختلف الحقیقت افراد پر جو صفت صادق آئے اس کو کیا کہتے ہیں؟ عرض عام۔ اور وہاں پر جیسے ایک حقیقت والے افراد کا جز ہوتی تھی، اس کا نام کیا تھا؟ فصل۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور یہاں پر عرضی کے اندر، وہ کلی عرضی جو ایک حقیقت والے افراد پر بولی جائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ خاصہ۔ یعنی یہ ان کے ساتھ خاص ہے۔ اور ماشی، یہ مختلف حقیقت والے افراد پر بولی جاتی ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ عرض عام۔ اور عرض عام اس لیے کہتے ہیں کیونکہ عرض کا معنی ہے صفت۔ اور یہ صفت ایک ہی نوع کے ساتھ خاص ہے یا مختلف حقیقت والے افراد پر بولی جاتی ہے؟ اس لیے اس کو عرض عام کہتے ہیں، یہ عام صفت ہے یعنی ایک حقیقت والوں کے ساتھ خاص نہیں۔ جو ایک حقیقت والوں پر بولی جاتی ہے ان افراد پر صادق آتی ہے جن کی حقیقت ایک ہوتی ہے، اور کلی عرضی ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ خاصہ۔ اور جو مختلف الحقیقت افراد پر صادق آئے اور ان کی صفت ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ عرض عام۔ وجہ حصر سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ پانچ قسمیں ہیں بھئی، پانچ قسمیں۔ اب یہاں ایک اور بات سمجھ لیں، مَا هُوَ اور أَيُّ شَيْءٍ هُوَ، یاد رکھو، مَا هُوَ کے ذریعے بھی سوال کیا جاتا ہے، اور أَيُّ شَيْءٍ هُوَ کے ذریعے بھی سوال کیا جاتا ہے۔ مَا هُوَ کے ذریعے کسی چیز کی حقیقت کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ اور مَا هُوَ کے جواب میں جنس بھی آ سکتی ہے، نوع بھی آ سکتی ہے اور حد تام بھی۔ جبکہ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ اس کے جواب میں فصل بھی آتی ہے اور خاصہ بھی۔ فصل بھی ایک حقیقت والے افراد کے ساتھ خاص تھا، اور خاصہ بھی ایک حقیقت والے افراد کے ساتھ خاص ہے۔ فرق صرف اتنا ہے، فصل وہ کلی ذاتی ہے اور خاصہ وہ کلی عرضی ہے۔ تو مَا هُوَ کے ذریعے حقیقت کے بارے میں سوال ہوتا ہے۔ تو سوال میں ایک ہی چیز ذکر ہوگی یا ایک سے زیادہ۔ اگر ایک چیز ذکر ہے تو پھر وہ یا تو جزئی ہوگی یا کلی۔ مثلاً وہ زید کے بارے میں سوال کرتا ہے، زَيْدٌ مَا هُوَ؟ زید کیا چیز ہے؟ ایک جزئی حقیقی کے بارے میں اس نے سوال کیا۔ یا وہ کلی کے بارے میں سوال کرے گا، الْإِنْسَانُ مَا هُوَ؟ انسان کیا ہے؟ اور اگر کئی چیزوں کے بارے میں سوال کیا ہے تو وہ ساری چیزیں یا تو متفق الحقیقت ہوں گی یا مختلف الحقیقت ہوں گی۔ تو چار صورتیں بنتی ہیں۔ پہلی صورت کیا؟ ایک چیز کے بارے میں سوال ہو اور وہ کیا ہو؟ جزئی۔ دوسری صورت، ایک چیز کے بارے میں سوال ہو لیکن وہ کیا ہو؟ کلی۔ تیسری صورت، کئی چیزوں کے بارے میں سوال ہے لیکن وہ متفق الحقیقت ہیں۔ چوتھی صورت، کئی چیزوں کے بارے میں سوال ہے لیکن وہ مختلف الحقیقت ہیں۔ چار صورتیں بنتی ہیں۔ اگر سوال ایک چیز کے بارے میں ہو اور وہ چیز جزئی ہے، تو یاد رکھو جواب میں نوع آئے گی۔ جیسے آپ سے کسی نے پوچھا زَيْدٌ مَا هُوَ؟ زید کیا چیز ہے؟ یعنی اس کی حقیقت کیا ہے؟ آپ جواب میں کہیں گے إِنْسَانٌ کہ وہ کیا ہے؟ انسان ہے۔ تو دیکھو جواب میں نوع آ گئی۔ اور اگر ایک چیز کے بارے میں سوال کیا اور وہ چیز کلی ہے، تو یاد رکھو اس صورت میں حد تام جواب میں آئے گی۔ جیسے الْإِنْسَانُ مَا هُوَ؟ انسان کیا چیز ہے؟ تو جواب میں کہیں گے حَيَوَانٌ نَاطِقٌ، یہ حد تام ہے۔ تو جب ایک چیز کے بارے میں سوال کیا جائے اور وہ کلی ہو تو جواب میں کیا آئے گی؟ حد تام، جامع مانع تعریف۔ اور اگر کئی چیزوں کے بارے میں سوال کیا ہے، اور ان کی حقیقتیں ایک جیسی ہیں، جیسے زَيْدٌ وَعَمْرٌو وَبَكْرٌ مَا هُمْ؟ یہ کیا ہیں؟ تو جواب میں کیا کہیں گے؟ إِنْسَانٌ۔ ایک جزئی کے بارے میں پوچھا تھا تو بھی جواب میں نوع، اور متفق الحقیقت کئی افراد کے بارے میں پوچھا تو بھی جواب میں نوع۔ اور اگر مختلف الحقیقت افراد کے بارے میں پوچھا جائے، جیسے الْإِنْسَانُ وَالْبَقَرُ وَالْحِمَارُ وَالْفَرَسُ مَا هُمْ؟ یہ کیا ہیں؟ تو جواب میں جنس آئے گی۔ کیا کہیں گے؟ حَيَوَانٌ۔ تو مَا هُوَ کے جواب میں کتنی چیزیں آ سکتی ہیں؟ تین چیزیں۔ جنس، نوع اور حد تام۔ اگر ایک چیز کے بارے میں سوال ہے اور وہ جزئی ہے تو جواب میں نوع آئے گی۔ اور اگر وہ کلی ہے تو جواب میں حد تام آئے گی۔ اور اگر متعدد چیزیں ہیں تو پھر وہ متفق الحقیقت ہوں گی یا مختلف الحقیقت۔ اگر متفق الحقیقت ہیں تو نوع جواب میں آئے گی، اور اگر مختلف الحقیقت ہیں تو جواب میں جنس آئے گی۔ جبکہ اسی طرح أَيُّ شَيْءٍ هُوَ، اس کے ذریعے ایسی چیز کو طلب کیا جاتا ہے جس کے ذریعے وہ چیز دوسری چیزوں سے ممتاز ہو جائے، جدا ہو جائے۔ اور پھر یہ جو أَيُّ شَيْءٍ هُوَ ہے، اس کے ذریعے کبھی ذاتی کو طلب کیا جاتا ہے اور کبھی عرضی کو۔ اگر ذاتی طلب کی جائے تو جواب میں فصل آئے گی، کیونکہ فصل کیا ہے کلی ذاتی ہے۔ اور اگر کلی عرضی کو طلب کیا جائے تو جواب میں خاصہ آئے گا۔ جیسے الْإِنْسَانُ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ؟ انسان اپنی ذات کے اعتبار سے کیا چیز ہے؟ تو یہ ذات کے اعتبار سے پوچھا یا عرض کے اعتبار سے؟ ذات کے اعتبار سے، تو جواب میں فصل آئے گی، یعنی کہیں گے نَاطِقٌ۔ انسان اپنی ذات کے اعتبار سے کیا ہے؟ آپ جواب میں کیا کہیں گے؟ نَاطِقٌ، دیکھا اس ناطق نے اس کو باقی چیزوں سے جدا کر دیا۔ اور اس نے کیا کہا تھا؟ ذات کے اعتبار سے۔ تو جواب میں آپ بھی کیا لائے کلی ذاتی لے کر آئے۔ اور اگر وہ یوں کہے الْإِنْسَانُ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي عَرَضِهِ؟ انسان اپنے عرض کے اعتبار سے کیا چیز ہے؟ تو آپ جواب میں خاصہ لائیں گے، اور انسان کا خاصہ کیا ہے؟ ضَاحِكٌ۔ انسان کیا ہے؟ ضاحک ہے۔ تو أَيُّ شَيْءٍ هُوَ کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ ایسی چیز کا سوال کیا جاتا ہے جو اس کو دوسرے افراد سے، دوسری چیزوں سے جدا کر دے۔ اور پھر وہ ذاتی بھی طلب کی جا سکتی ہے اور عرضی بھی۔ اگر ذاتی طلب کی جائے تو جواب میں فصل، اور اگر عرضی طلب کی جائے تو جواب میں خاصہ آئے گا۔ جنس کس کے جواب میں آتی ہے؟ مَا هُوَ کے جواب میں۔ كُلِّيَّاتِ خَمْسَة کون کون سی ہیں؟ جنس، نوع، فصل، خاصہ اور عرض عام۔ جنس کس کے جواب میں آتی ہے؟ مَا هُوَ کے جواب میں۔ نوع یعنی انسان یہ کس کے جواب میں آتا ہے؟ یہ بھی مَا هُوَ کے جواب میں۔ فصل یہ کس کے جواب میں آتی ہے؟ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ کے جواب میں۔ اور خاصہ یعنی ضاحک یہ کس کے جواب میں آتا ہے؟ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي عَرَضِهِ کے جواب میں۔ اور باقی رہ گیا عرض عام، وہ کسی کے جواب میں نہیں آتا۔ نہ وہ مَا هُوَ کے جواب میں آتا ہے اور نہ أَيُّ شَيْءٍ کے جواب میں آتا ہے۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے کتاب پر بھئی۔ کہتے ہیں وَالْكُلِّيَّاتُ خَمْسٌ اور کلیات پانچ ہیں۔ الْأَوَّلُ الْجِنْسُ پہلی کلی جنس ہے۔ وَهُوَ الْمَقُولُ عَلَى كَثِيرِينَ مُخْتَلِفِينَ بِالْحَقَائِقِ فِي جَوَابِ مَا هُوَ اور وہ کلی ہے، مقول وہ بولی جاتی ہے، ایسے کثیرین پر جن کی حقیقتیں مختلف ہوں، مَا هُوَ کے جواب میں۔ مَا هُوَ کے ذریعے جب آپ متعدد چیزوں کا سوال کریں اور ان کی حقیقتیں مختلف ہوں تو جواب میں جنس ہی بولی جاتی ہے، کوئی اور چیز نہیں بولی جاتی۔ تو یہاں اگر حصر بھی تسلیم کر لیا جائے تو بھی معنی بہترین رہتا ہے۔ تو جنس بولی جاتی ہے ایسے بہت سے افراد پر جن کی حقیقتیں مختلف ہوں، مَا هُوَ کے جواب میں۔ فَإِنْ كَانَ الْجَوَابُ عَنِ الْمَاهِيَّةِ وَعَنْ بَعْضِ مُشَارِكَاتِهَا هُوَ الْجَوَابَ عَنْهَا وَعَنِ الْكُلِّ فَقَرِيبٌ كَالْحَيَوَانِ وَإِلَّا فَبَعِيدٌ كَالْجِسْمِ النَّامِي۔ یہاں سے جنس قریب اور جنس بعید کو بیان کرنا چاہتے ہیں۔ مختلف الحقیقت افراد پر بولی جاتی ہے۔ پھر حیوان سے اوپر ہے جسم نامی یعنی وہ چیزیں جن کا بڑھنے والا جسم ہے۔ نامی کا معنی بڑھنے والا اور اس میں حیوانات بھی اگئے سارے اور اس میں درخت اور پودے بھی اگئے وہ بھی بڑھتے ہیں پہلے چھوٹے ہوتے ہیں پھر آہستہ آہستہ بڑے ہوتے ہیں۔ تو جسم نامی کے اندر حیوان بھی اگئے اور درخت اور پودے بھی اگئے۔ اس سے اوپر پھر جسم مطلق ہے جسم مطلق میں جسم نامی بھی اگئے اور جسم غیر نامی بھی اگئے۔ جسم نامی میں کیا کیا تھے؟ تمام حیوانات اور درخت اور پودے اور جسم غیر نامی میں باقی ساری چیزیں یہ پتھر ہے پہاڑ ہے یہ جو باقی چیزیں جو بڑھتی نہیں ہیں۔ تو یہ ان سب کا بھی جسم ہے۔ تو یہ جسم غیر نامی۔ تو جسم مطلق کے اندر یہ سب اگئے نامی بھی اور غیر نامی بھی۔ اور پھر جسم مطلق کس کے تحت ہے؟ جوہر کے تحت ہے۔ تو انسان کے اوپر حیوان بھی جنس ہے۔ انسان کے اوپر جسم نامی بھی جنس ہے کیونکہ انسان کیا ہے اس کے افراد میں سے ہے کہ نہیں؟ جسم نامی ہے انسان کہ نہیں ہے؟ جسم نامی انسان کا بھی ہے، بقر کا بھی ہے، حمار کا بھی ہے، فرس کا بھی ہے، اور اسی طرح درخت کا بھی ہے اور پودوں کا بھی ہے۔ تو یہ جنس ہے جو مختلف الحقیقت افراد پر بولی جاتی ہے۔ تو انسان کے اوپر جنس کیا ہے؟ حیوان۔ حیوان سے اوپر جنس کیا ہے؟ جسم نامی۔ جسم نامی سے اوپر کیا ہے؟ جسم مطلق۔ دیکھو انسان کا جسم ہے کہ نہیں؟ انسان کا بھی جسم۔ پتھر کا بھی جسم۔ درخت کا بھی جسم۔ اور گائے بیل کا بھی جسم۔ تو یہ سب جسم کے تحت بھی ہیں اور پھر جسم کس کے تحت ہے؟ جوہر کے تحت ہے۔ تو لہٰذا انسان کے اوپر مختلف جنسیں ہیں۔ اب ان میں سے بعض کو جنس قریب کہیں گے اور بعض کو جنس بعید کہیں گے۔ اس کا پتہ کیسے چلے گا؟ کہ آپ اس جنس کے اندر ایک ماہیت کو لے لیں کسی ایک ماہیت کو اور پھر اس جنس کے اندر جتنے افراد ہیں مختلف افراد کے ساتھ ملا ملا کر اس کے بارے میں سوال کیا جائے۔ یعنی اس جنس کے اندر جو بھی اس کے مشارکات ہیں اس کے ساتھ شریک ہیں۔ مثلاً حیوان کے اندر انسان کے ساتھ اور کون کون شریک ہیں؟ بقر بھی ہے، حمار بھی ہے، فرس بھی ہے وغیرہ۔ تو اب اس انسان کے ساتھ ایک ایک فرد کو لے کر سوال کرتے جائیں۔ اَلْإِنْسَانُ وَالْبَقَرُ مَا هُمَا پھر اَلْإِنْسَانُ وَالْفَرَسُ مَا هُمَا اَلْإِنْسَانُ وَالْحِمَارُ مَا هُمَا تو مختلف سوال کرتے جائیں مختلف افراد کے ساتھ۔ اگر جواب میں وہی جنس ائے ہر مرتبہ تو سمجھ جائیں یہ جنس قریب ہے۔ یہ کیا ہے؟ مثلاً میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ یہ جو حیوان ہے یہ انسان کے لیے جنس قریب ہے یا جنس بعید ہے۔ کس کے لیے؟ انسان کے لیے۔ تو میں نے انسان اس ماہیت کو لیا اور اس کے ساتھ جو حیوان میں جو جو افراد ہیں ایک ایک کو لے کر سوال کرتا جا رہا ہوں۔ میں نے اپ سے پوچھا اَلْإِنْسَانُ وَالْحِمَارُ مَا هُمَا اپ جواب میں کیا کہیں گے؟ حیوان۔ دیکھا مختلف الحقیقت دو چیزوں کے بارے میں سوال کیا تو جواب میں کیا ائی؟ جنس ائی۔ اَلْإِنْسَانُ وَالْحِمَارُ مَا هُمَا جواب میں کیا کہیں گے؟ حیوان پھر میں نے دوسری چیز کو لیا اَلْإِنْسَانُ وَالْبَقَرُ مَا هُمَا پھر بھی جواب میں حیوان ایا۔ پھر میں نے پوچھا اَلْإِنْسَانُ وَالْفَرَسُ مَا هُمَا پھر بھی جواب میں کیا ایا؟ حیوان ایا۔ دیکھا اس ماہیت کے ساتھ جتنے بھی مشارکات ہیں جتنے بھی یعنی جو اس جنس میں اس کے ساتھ شریک ہیں ہم دیکھنا یہ چاہتے ہیں کہ یہ جو انسان ہے یہ جو ماہیت ہے اس کے اوپر یہ جو حیوان کی جنس ہے یہ اس کے لیے جنس قریب ہے یا جنس بعید؟ تو حیوان کے اندر انسان کے ساتھ ساتھ جو جو مشارکات ہیں کون کون مشارکات ہیں انسان کے ساتھ بقر بھی ہے فرس ہے حمار وغیرہ سب حیوانات اس کے اندر اگئے۔ تو یہ سب کیا ہیں انسان کے مشارک ہیں کس چیز کے اندر؟ حیوان کے اندر۔ تو ان مشارکات میں سے ایک ایک کو لے کر انسان کے ساتھ سوال کرتے جائیں مَا هُوَ کے ذریعے۔ اگر سب کے جواب میں یہی جنس ا رہی ہے بار بار تو سمجھ جائیں یہ کیا ہے؟ جنس قریب ہے۔ جنس قریب۔ اور اگر سب کے جواب میں یہ جنس نہ ائے کبھی تو وہ جنس جواب میں اتی ہے اور کبھی دوسری جنس تو سمجھ جائیں یہ جنس بعید ہے۔ مثلاً میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ انسان کے اوپر ایک جنس ہے جسم نامی کیا ہے؟ یہ جسم نامی انسان کے لیے جنس قریب ہے یا جنس بعید۔ تو انسان کے ساتھ جسم نامی میں کون کون شریک درخت بھی شریک ہے، گائے بھی شریک ہے، اور گھوڑا بھی گدھا وغیرہ حیوانات سب کیا ہیں؟ شریک۔ اب انسان کے ساتھ میں نے ایک مشارک کو لیا میں نے پوچھا اَلْإِنْسَانُ وَالشَّجَرُ مَا هُمَا جواب میں کیا ایا؟ جسم نامی۔ انسان کے ساتھ جسم نامی میں کون کون مشارک تھے؟ فرس اب میں دوسرا فرد لے لیتا ہوں اَلْإِنْسَانُ وَالْفَرَسُ مَا هُمَا اب جواب میں ایا حیوان۔ دیکھا پہلے ایک مشارک کو لے کر سوال کیا تھا اَلْإِنْسَانُ وَالشَّجَرُ مَا هُمَا انسان اور درخت کیا چیز ہیں تو جواب میں کیا ایا تھا؟ جسم نامی اور اب دوسرا مشارک لیا اَلْإِنْسَانُ وَالْفَرَسُ مَا هُمَا تو جواب میں جسم نامی نہیں ایا بلکہ کیا ایا حیوان ایا معلوم ہوا جسم نامی انسان کے لیے جنس بعید ہے۔ بات سمجھ میں اگئی؟ حاصل کلام کیا ہوا؟ کہ کسی ماہیت کے اوپر ایک جنس ہے اپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ جنس قریب ہے یا جنس بعید تو مثلاً انسان کے اوپر حیوان ایک جنس ہے اپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ جنس قریب ہے یا بعید تو انسان کے ساتھ اس حیوان ہونے میں جو جو شریک ہیں ایک ایک مشارک کو انسان کے ساتھ اس ماہیت کے ساتھ لے کر سوال کرتے جائیں اگر جواب میں ہمیشہ وہی جنس ائے تو سمجھ جائیں یہ کیا ہے جنس قریب اور اگر جواب میں کبھی وہ جنس ائے اور کبھی دوسری جنس ائے تو سمجھ جائیں وہ کیا ہے جنس بعید ہے۔ بات سمجھ میں اگئی؟ یہی بیان کر رہے ہیں فَإِنْ كَانَ الْجَوَابُ عَنِ الْمَاهِيَّةِ وَعَنْ بَعْضِ مُشَارَكَاتِهَا هُوَ الْجَوَابَ عَنْهَا وَعَنِ الْكُلِّ فَقَرِيبٌ یہ ذرا ترجمہ مشکل ہے فَإِنْ كَانَ الْجَوَابُ عَنِ الْمَاهِيَّةِ وَعَنْ بَعْضِ مُشَارَكَاتِهَا اگر جواب اس ماہیت کے بارے میں وَعَنْ بَعْضِ مُشَارَكَاتِهَا اور اس کے بعض مشارکات یعنی جو اس کے ساتھ شریک ہیں اس جنس میں هُوَ الْجَوَابَ عَنْهَا وہ جنس ائے جواب میں وَعَنِ الْكُلِّ اور سب کے بارے میں بھی جواب میں وہی جنس ائے فَقَرِيبٌ تو وہ کیا ہے جنس قریب ہے۔ توجہ ہے؟ دیکھو پھر سنو فَإِنْ كَانَ الْجَوَابُ عَنِ الْمَاهِيَّةِ وَعَنْ بَعْضِ مُشَارَكَاتِهَا اگر وہ جو جواب ہے اس ماہیت سے اور اس کے بعض مشارکات سے وہی جواب ہے اس ماہیت سے بھی وَعَنِ الْكُلِّ اور سب سے تمام مشارکات سے فَقَرِيبٌ تو وہ کیا ہے قریب۔ نہیں سمجھ میں ایا میرا خیال ترجمہ۔ دیکھو بھئی دیکھو ادھر دیکھو یہ ایک ماہیت ہے مثلاً انسان حیوان کے بارے میں میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ یہ حیوان انسان کے لیے جنس قریب ہے یا جنس بعید میں نے اس ماہیت یعنی انسان کو لیا اور اس کے بعض مشارکات کو اس کے ساتھ ملایا بعض مشارکات کوئی کوئی ایک ملا لیں اَلْإِنْسَانُ وَالْفَرَسُ مَا هُمَا اَلْإِنْسَانُ وَالْفَرَسُ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ انسان کے لیے یہ حیوان جنس قریب ہے یا جنس بعید ہے تو میں نے انسان جو ماہیت ہے اس کے ساتھ بعض مشارکات کو ملایا بعض مشارکات کوئی ایک کوئی ایک چاہے ایک ہو یا دو ہوں کسی ایک کو ملا لیں کس کو ملاتے ہیں مثلاً فرس کو اَلْإِنْسَانُ وَالْفَرَسُ مَا هُمَا تو جواب میں کیا ایا؟ حیوان۔ تو وہ جو جواب تھا کس سے کس کے بارے میں یہ تھا جواب؟ ماہیت اور بعض مشارکات۔ ماہیت اور بعض مشارکات کے بارے میں جو جواب ایا اگر وہی جواب ہے اس ماہیت اور تمام مشارکات کے بارے میں تو وہ قریب ہے۔ بات سمجھ میں ائی؟ میں اصل میں عبارت حل کروانا چاہ رہا ہوں بات تو اپ سمجھ گئے ہیں۔ دیکھو یہ كَانَ جو ہے ایک اسم چاہتا ہے اور ایک خبر یہ اَلْجَوَابُ جو كَانَ کے فوراً بعد ایا یہ ہے كَانَ کا اسم۔ اور اگے ا رہا ہے هُوَ الْجَوَابَ عَنْهَا یہ جو جواب ہے نا یہ ہے كَانَ کی خبر۔ عبارت اصل میں یوں ہے فَإِنْ كَانَ الْجَوَابُ الْجَوَابَ اور كَانَ کا اسم کیا اَلْجَوَابُ اور كَانَ کی خبر کیا اَلْجَوَابَ تو كَانَ کا اسم اَلْجَوَابُ معرفہ اور اگے كَانَ کی خبر اَلْجَوَابَ وہ بھی معرفہ اور جب مسند اور مسند الیہ دونوں معرفہ ہوں تو درمیان میں کبھی فصل لاتے ہیں تو یہ هُوَ فصل ہے۔ یہ کیا ہے؟ ضمیر جیسی صورت ہے لیکن یہ ضمیر نہیں یہ فصل کے لیے ہے۔ یہ بتلانے کے لیے ہے کہ اگلا اَلْجَوَابَ پہلے اَلْجَوَابُ کی صفت نہیں ہے۔ یاد رکھو جب مبتدا کے ساتھ ساتھ خبر بھی معرفہ ا جائے تو پھر ان میں موصوف صفت کا شبہ ہوتا ہے تو پھر درمیان میں فصل لے کر اتے ہیں ایک ضمیر جیسا صیغہ درمیان میں لے اتے ہیں اس کو فصل کہتے ہیں کیا کہتے ہیں؟ دیکھو جیسے مثلاً میں کہتا ہوں زَيْدٌ اَلْقَائِمُ زید مبتدا ہے اور اَلْقَائِمُ اس کی خبر ہے۔ اور خبر تو ویسے نکرہ ہوتی ہے لیکن یہاں اَلْقَائِمُ خبر میں معرفہ لے ایا۔ میں کیا لے ایا؟ معرفہ تو زید بھی معرفہ اور اَلْقَائِمُ بھی معرفہ تو سننے والے کو شبہ ہو سکتا ہے کہ یہ شاید موصوف صفت ہیں۔ تو ایسے موقع پر موصوف صفت کا شبہ پڑتا ہے۔ لہٰذا پھر درمیان میں فصل لے اتے ہیں زَيْدٌ اَلْقَائِمُ اگر میں اسی طرح بولوں تو کیا شبہ ہوگا یہ اپس میں موصوف صفت ہیں تو درمیان میں پھر فصل لے اتے ہیں زَيْدٌ هُوَ اَلْقَائِمُ یہ هُوَ کیا ہے؟ یہ ضمیر جیسی صورت ہے لیکن ضمیر نہیں ہے۔ اب جب درمیان میں هُوَ اگئی اب اَلْقَائِمُ کے بارے میں صفت ہونے کا شبہ ختم ہو گیا۔ کیونکہ موصوف صفت کے درمیان تو فصل نہیں اتا جدائی نہیں اتی یہاں درمیان میں اور لفظ اگیا معلوم ہوا کہ اَلْقَائِمُ وہ زید کی صفت نہیں ہے۔ تو خبر جب معرفہ ا جائے مبتدا تو ہوتا ہی اکثر معرفہ ہے خبر بھی اگر معرفہ ا جائے تو پھر درمیان میں ایک ضمیر جیسی صورت والا ایک صیغہ لے اتے ہیں اس کو فصل کہتے ہیں۔ اور یہ ضمیر نہیں ضمیر جیسی صرف صورت ہوتی ہے اس کی اس کو فصل کہتے ہیں۔ لیکن یہ لانا واجب نہیں ہے بھئی۔ اکثر شروحات میں اج کل کی اردو شروحات اپ دیکھیں گے اس میں اپ کو ملے گا کہ جب خبر بھی معرفہ ہو تو فصل کا لانا واجب ہے۔ واجب نہیں ہے بھئی واجب نہیں ہے۔ ہاں کبھی لے اتے ہیں اور کبھی نہیں لاتے۔ جیسے اپ نے زَادُ الطَّالِبِينَ کے اندر حدیث پڑھی ہوگی اَلدِّينُ النَّصِيحَةُ تو اَلدِّينُ ہے مبتدا النَّصِيحَةُ کیا ہے؟ خبر ہے اور درمیان میں فصل ہے؟ درمیان میں کوئی فصل نہیں فصل کا لانا واجب نہیں ہے بھئی۔ فصل کا لانا واجب نہیں ہے مُخْتَصَرُ الْمَعَانِي وغیرہ کے اندر علامہ تفتازانی تفصیل سے اس کو بیان فرماتے ہیں۔ تو کبھی لے اتے ہیں اور کبھی نہیں لے کر اتے۔ اور یہ عموماً حصر کے لیے ایسا کرتے ہیں کلام میں حصر پیدا کرنے کے لیے اگر میں صرف یوں کہوں زَيْدٌ قَائِمٌ تو معنی ہوگا زید کھڑا ہے۔ اور اگر میں کہوں زَيْدٌ اَلْقَائِمُ خبر کو بھی معرفہ لے اؤں تو پھر معنی ہوگا زید ہی کھڑا ہے۔ مثلاً سننے والے کا خیال تھا کہ زید بھی کھڑا ہے اور عمرو بھی کھڑا ہے۔ تو میں حصر کرتا ہوں کہ زَيْدٌ اَلْقَائِمُ زید ہی کھڑا ہے۔ معلوم ہوا قیام صرف زید کے لیے ہے عمرو کے لیے نہیں ہے۔ اس کو کہتے ہیں حصر بھئی۔ جیسے اوپر ایا وَهُوَ الْمَقُولُ اور یہی بولی جاتی ہے۔ دیکھا یہاں بھی کیا ایا تھا؟ حصر بھئی حصر۔ یہاں تک بات سمجھ میں اگئی؟ تو میں نے کیا بتلایا کہ یہ هُوَ الْجَوَابَ عَنْهَا یہ هُوَ کیا ہے؟ فصل اور یہ اَلْجَوَابَ عَنْهَا اَلْجَوَابَ اس پر نصب پڑھنا کیونکہ یہ كَانَ کی خبر ہے اور كَانَ کی خبر منصوب ہوتی ہے۔ تو اصل عبارت یوں ہے فَإِنْ كَانَ الْجَوَابُ اگر وہ جو جواب ہے اَلْجَوَابَ وہی یہی جواب باقی اب لفظ اور جڑیں گے پورا معنی واضح ہو جائے گا۔ کہتے ہیں فَإِنْ كَانَ الْجَوَابُ عَنِ الْمَاهِيَّةِ وَعَنْ بَعْضِ مُشَارَكَاتِهَا پس اگر وہ جو جواب ہے اس ماہیت اور اس کے بعض مشارکات سے هُوَ الْجَوَابَ عَنْهَا وَعَنِ الْكُلِّ وہی جواب ہے اس ماہیت اور تمام مشارکات سے بھی فَقَرِيبٌ تو وہ جنس قریب ہے كَالْحَيَوَانِ جیسے حیوان ہے وَإِلَّا اور اگر ایسا نہ ہو۔ میں نے بتایا تھا إِلَّا سے پہلے وَ ا جائے تو یہ حرف استثناء نہیں ہے بلکہ یہ إِنْ اور لَا سے مرکب اور اگر ایسا نہ ہو یعنی وہی جواب نہ ائے فَبَعِيدٌ تو پھر وہ جنس بعید ہے كَالْجِسْمِ النَّامِي جیسے کہ جسم نامی۔ مثلاً میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ انسان کے لیے ایک ماہیت کو لینا پڑے گا پھر اس کے اوپر ایک جنس کو لینا پڑے گا پھر ہی پتہ چلے گا کہ یہ اس ماہیت کے لیے جنس قریب ہے یا نہیں تو ماہیت کیا لی؟ انسان اور اس کے اوپر جنس کیا لی؟ جسم نامی اب اس کے بعض مشارکات سے لے کر میں نے سوال کیا مثلاً اَلْإِنْسَانُ وَالشَّجَرُ مَا هُمَا جواب میں کیا ایا؟ جسم نامی پھر میں نے دوسرے مشارک کو لیا اَلْإِنْسَانُ وَالْبَقَرُ مَا هُمَا تو جواب میں کیا ایا؟ حیوان۔ دیکھا وہی جواب نہیں ایا معلوم ہوا یہ جسم نامی انسان کے لیے جنس قریب نہیں ہے بلکہ جنس بعید ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں اگئی؟ چلیے بس بھئی هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔