آگے سبق دیکھیے بھئی متن پہلے دیکھ لیجیے۔ وَالْمَوْضُوعُ إِنْ قُصِدَ بِجُزْئِهِ دَلَالَةٌ عَلَى جُزْءِ مَعْنَاهُ فَمُرَكَّبٌ إِمَّا تَامٌّ خَبَرٌ أَوْ إِنْشَاءٌ وَإِمَّا نَاقِصٌ تَقْيِيدِيٌّ أَوْ غَيْرُهُ وَإِلَّا فَمُفْرَدٌ۔ وَالْمَوْضُوعُ، مَوْضُوعٌ سے مراد ہے لَفْظِ مَوْضُوعٌ۔ یعنی وہ لفظ جس کو وضع کیا گیا ہو، مقرر کیا گیا ہو کسی خاص معنی کے لیے۔ تو کہتے ہیں لَفْظِ مَوْضُوعٌ جو ہے إِنْ قُصِدَ بِجُزْئِهِ دَلَالَةٌ عَلَى جُزْءِ مَعْنَاهُ، اگر ارادہ کیا جائے اس کے جز سے دلالت کا عَلَى جُزْءِ مَعْنَاهُ اس کے معنی کے جز پر فَمُرَكَّبٌ تو وہ مرکب ہے۔ إِمَّا تَامٌّ یا تو وہ تام ہوگا، خَبَرٌ أَوْ إِنْشَاءٌ، خبر ہوگی یا انشاء۔ وَإِمَّا نَاقِصٌ یا وہ مرکب ناقص ہوگا، اور پھر وہ تَقْيِيدِيٌّ أَوْ غَيْرُهُ أَيْ غَيْرُ تَقْيِيدِيٍّ، تو وہ مرکب تقییدی ہوگا یا مرکب غیر تقییدی ہوگا۔ وَإِلَّا اور اگر ایسا نہ ہو، یعنی لفظ کے جز سے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ نہ ہو، فَمُفْرَدٌ تو وہ مفرد ہے۔ بھئی پہلے اس بات کو سمجھ لیں، پھر انشاءاللہ دوبارہ ترجمہ کرتے ہیں تو آپ کو سمجھ میں آئے گا بھئی۔ یاد رکھیے یہاں سے لَفْظِ مَوْضُوعٌ کی تقسیم کر رہے ہیں، وہ لفظ جس کو کسی معنی کے لیے مقرر کیا گیا ہو، لَفْظِ مَوْضُوعٌ۔ تو اس کی تقسیم کر رہے ہیں اور آپ کو بتلائیں گے کہ یہ لَفْظِ مَوْضُوعٌ دو قسم پر ہے، یا وہ مفرد ہوگا یا مرکب ہوگا۔ اب مفرد کسے کہتے ہیں اور مرکب کسے کہتے ہیں، بظاہر تو یوں لگتا ہے مفرد جو ایک لفظ ہو، مرکب جو ایک سے زیادہ لفظ ہوں، لیکن ایسا نہیں ہے۔ منطق کے اندر مفرد اور مرکب کی یہ تعریف نہیں، بلکہ منطق میں مرکب اسے کہتے ہیں کہ لفظ کے جز کے ذریعے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ کیا جائے، تو یہ مرکب ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو وہ مفرد ہے۔ اب مرکب کسے کہتے ہیں یہ سمجھ لیں، انشاءاللہ آپ کو مفرد بھی سمجھ میں آجائے گا۔ سب سے پہلے تو یہ یاد رکھیں، لفظ بھئی۔ لفظ اسم جنس ہے، اس کا اطلاق قلیل اور کثیر سب پر ہوتا ہے۔ زَيْدٌ، یہ بھی کیا ہے؟ لفظ۔ أَنَا عَبْدُ اللّٰهِ، میں اللہ کا بندہ ہوں۔ یہ پورا جملہ ہے لیکن اس کو بھی کہیں گے یہ لفظ ہے۔ أَنَا عَبْدُ اللّٰهِ، اس میں لَفْظِ أَنَا بھی ہے، لَفْظِ عَبْد بھی ہے اور لَفْظِ اللّٰه بھی ہے، لیکن میں نے بتایا کہ لفظ جو ہے وہ اسم جنس ہے اور اسم جنس کا اطلاق قلیل اور کثیر سب پر ہوتا ہے۔ تو تین لفظ آگئے تو اس کو بھی کیا کہیں گے؟ یہ لفظ ہے۔ دس لفظ ہوں تو بھی کہیں گے یہ لفظ ہے۔ بیس لفظ ہوں تو بھی کہیں گے یہ لفظ ہے، کیونکہ اسم جنس کا اطلاق قلیل اور کثیر سب پر ہوتا ہے۔ تو ایک ہو وہ بھی لفظ، ایک سے زیادہ ہوں وہ بھی لفظ۔ جیسے دیکھو مثال سے بات اور اچھی طرح سمجھ میں آئے گی۔ جیسے انسان، انسان اسم جنس ہے، ایک ہو تو بھی کہتے ہیں یہ انسان ہے، دس ہوں تو بھی کہتے ہیں یہ انسان ہیں۔ دیکھا؟ وہی انسان کا لفظ ایک پر بھی بولا جا رہا ہے، دس پر بھی بولا جا رہا ہے۔ ہزار بھی کھڑے ہوں تو آپ کہتے ہیں یہ انسان ہیں۔ دیکھو وہی لفظ ہے، کوئی اس کو آپ نے جمع میں بدلا؟ جی؟ ایک پر بھی کیا بول رہے تھے؟ انسان۔ تو بعض لفظ مفرد، وہاں مفرد اور جمع آپ بناتے ہیں جیسے ایک کتاب پڑھی ہو تو آپ کہتے ہیں یہ کتاب ہے۔ دو یا زیادہ ہوں تو آپ کہتے ہیں یہ کتابیں ہیں، دیکھو جمع لے کر آتے ہیں، کیا لے کر آتے ہیں؟ جمع۔ لیکن یہ جو اسم جنس ہے اس میں جمع کی ضرورت نہیں، یہ قلیل اور کثیر سب پر بولا جاتا ہے جیسے میں نے اس کی مثال دے دی کہ ایک انسان ہو تب بھی کہتے ہیں آپ یہ انسان ہے۔ اور ایک سے زیادہ ہوں چاہے سو ہوں، چاہے ہزار ہوں تب بھی آپ کیا کہتے ہیں؟ یہ انسان ہیں۔ دیکھا؟ وہی لفظ اس پر بول رہے ہیں، کوئی جمع آپ نے نہیں بنائی۔ تو اسم جنس کسے کہتے ہیں؟ جس کا اطلاق قلیل اور کثیر سب پر ہوسکے۔ اسی طرح یہ لفظ ہے، لفظ بھی اسم جنس ہے، اس کا اطلاق بھی قلیل اور کثیر سب پر ہوتا ہے، ایک ہو تو بھی وہ لفظ ہے، دس ہوں تو بھی وہ لفظ ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے، مثلاً میں آپ کے سامنے کہتا ہوں، أَنَا عَبْدُ اللّٰهِ۔ أَنَا عَبْدُ اللّٰهِ۔ دیکھو یہ لفظ، یہ کیا ہے؟ لفظ ہے۔ اور اس لفظ کے تین جز ہیں، أَنَا، عَبْد اور لَفْظِ اللّٰه۔ أَنَا عَبْدُ اللّٰهِ، یہ پورا جملہ، یہ کیا ہے؟ لفظ۔ توجہ ہے؟ یہ پورا کیا ہے؟ لفظ ہے۔ اور اس لفظ کے اندر کتنے الفاظ ہیں؟ تین الفاظ، یعنی یہ اس کے اجزاء ہیں، یہ کیا ہیں اس کے؟ اجزاء ہیں۔ أَنَا عَبْدُ اللّٰهِ، یہ کیا ہے؟ لفظ۔ اور اس کے اندر کتنے جز؟ تین جز۔ ایک أَنَا، ایک لَفْظِ عَبْد اور ایک لَفْظِ اللّٰه۔ أَنَا کا کیا معنی ہوتا ہے؟ أَنَا متکلم کی ضمیر ہے، متکلم اپنے لیے استعمال کرتا ہے، یعنی میں۔ تو أَنَا کا کیا معنی؟ میں، یہ متکلم کے لیے ہے۔ عَبْد، عَبْد کا کیا معنی ہوتا ہے؟ غلام، اور بندہ۔ غلام، بندہ۔ اور لَفْظِ اللّٰه وہ علم ہے ذات باری تعالیٰ کے لیے، جو خالق ہے، جو معبود حقیقی ہے۔ تو ذات باری تعالیٰ کے لیے لَفْظِ اللّٰه علم ہے۔ تو دیکھیے، أَنَا عَبْدُ اللّٰهِ یہ لفظ ہے۔ اور اس لفظ کے اندر کتنے جز؟ تین جز، ایک أَنَا، ایک عَبْد اور ایک لَفْظِ اللّٰه۔ اور دیکھیے ہر جز اپنے معنی پر دلالت کر رہا ہے۔ أَنَا سے یہاں کیا مراد ہے؟ أَنَا کا کیا معنی؟ میں، اور یہاں بھی میں ہی کے معنی میں ہے۔ عَبْد کا کیا معنی؟ بندہ، اور یہاں بھی یہ بندہ ہی کے معنی ادا کر رہا ہے۔ لَفْظِ اللّٰه سے اللہ کی ذات سمجھ میں آرہی ہے۔ تو دیکھیے، أَنَا عَبْدُ اللّٰهِ یہ ایک لفظ ہے، اور اس کے کئی اجزاء ہیں، اور ہر جز کا اپنا معنی ہے، اور ہر جز اپنے معنی پر کیا کر رہا ہے؟ دلالت بھی کر رہا ہے۔ ہر جز سے اس کا اپنا معنی سمجھ میں آ رہا ہے۔ اور بولنے والے نے ہر لفظ سے اس کے جز کے معنی کا ارادہ بھی کیا ہے۔ میں نے جب أَنَا عَبْدُ اللّٰهِ کہا، اور میرا نام عَبْدُ اللّٰهِ نہیں، تو میں نے کیا کہا؟ أَنَا عَبْدُ اللّٰهِ۔ تو میں نے أَنَا کے ذریعے کس معنی کا ارادہ کیا؟ کہ میں یعنی متکلم، اور عَبْد کے ذریعے میں نے کس معنی کا ارادہ کیا؟ کہ بندہ ہوں، غلام۔ اور لَفْظِ اللّٰه کے ذریعے میں نے کس کا ارادہ کیا؟ ذات باری تعالیٰ کا۔ تو میں نے ہر لفظ کے، لفظ کے ہر جز کے ذریعے اس کے معنی کا ارادہ کیا۔ لفظ کیا ہے؟ أَنَا عَبْدُ اللّٰهِ۔ اس کے اجزاء ہیں کہ نہیں؟ جی، کتنے اجزاء؟ تین اجزاء۔ اور ہر جز کا معنی ہے کہ نہیں؟ جی، ہر جز کا معنی بھی ہے۔ اور کیا یہ لفظ کا جز معنی کے جز پر دلالت کر رہا ہے یا نہیں؟ جی کر رہا ہے۔ أَنَا سے أَنَا سمجھ میں آ رہا ہے، عَبْد سے عَبْد اور لَفْظِ اللّٰه سے اللہ کی ذات سمجھ میں آ رہی ہے۔ اور کیا میں نے ہر لفظ سے اس کے جز کے معنی کا ارادہ بھی کیا یا نہیں کیا؟ ارادہ بھی میں نے یہی کیا ہے کہ أَنَا سے میری ذات مراد، عَبْد سے عَبْد کا معنی مراد، لَفْظِ اللّٰه سے اللہ کی ذات مراد۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو أَنَا عَبْدُ اللّٰهِ، یہ کیا ہے؟ ایک یہ لفظ ہے۔ اور لفظ کے کیا ہیں؟ اجزاء ہیں۔ اور اجزاء بھی کیا ہیں؟ ان کا معنی بھی ہے۔ اور وہ اجزاء کیا کر رہے ہیں؟ اپنے معنی پر دلالت بھی کر رہے ہیں۔ اور میں نے اس دلالت کا ارادہ بھی کیا ہے۔ تو اس کو کہتے ہیں مرکب۔ کیا کہتے ہیں؟ مرکب۔ مرکب کسے کہتے ہیں؟ جس میں لفظ کا بھی جز ہو اور اس جز کا معنی بھی، ہر جز کا اپنا معنی ہو، اور جز، ہر جز اپنے معنی پر دلالت کر رہا ہے، اور بولنے والا بھی کیا کرتا ہے اس کا ارادہ بھی کرتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اس کا ارادہ بھی کرتا ہے، تو پھر یہ مرکب ہوا۔ یہ کیا ہوا؟ مرکب۔ تو مرکب میں چار چیزیں پائی جاتی ہیں، چار شرطیں پوری ہوں گی تو وہ مرکب ہے، چار میں سے ایک بھی شرط رہ گئی تو پھر وہ مرکب نہیں، بلکہ پھر وہ مفرد کہلائے گا۔ کتنی شرطیں مرکب میں؟ چار شرطیں۔ پہلی شرط کیا؟ کہ لفظ کا جز ہو۔ دوسری شرط کیا؟ کہ جز کا معنی بھی ہو۔ تیسری شرط کیا؟ وہ اس معنی پر دلالت بھی کرے۔ اور چوتھی شرط کیا؟ کہ اس دلالت کا ارادہ بھی کیا جائے، تو پھر وہ مرکب ہے۔ اگر ارادہ نہ کیا جائے، تو پھر بھی وہ مرکب نہیں کہلائے گا بلکہ کیا کہلائے گا؟ مفرد کہلائے گا۔ بھئی بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ لفظ کا جز ہی نہیں ہوتا، جیسے هَمْزَةُ اسْتِفْهَامٍ۔ عربی میں استفہام کے لیے ہمزہ استعمال ہوتا ہے یا نہیں؟ أَضَرَبَ زَيْدٌ؟ کیا زید نے پٹائی کی ہے؟ دیکھو کیا آیا؟ ہمزہ۔ یا مثلاً آپ کہتے ہیں، أَزَيْدٌ قَائِمٌ؟ کیا زید کھڑا ہے؟ تو یہ ہمزہ کس کے لیے ہے؟ استفہام کے لیے۔ تو یہ ہمزہ ایک حرف ہے، تو لفظ کا جز ہی نہیں۔ یہ تو ایک حرف ہے، کیا ہے؟ ایک حرف۔ تو یہ کیا ہوگا؟ مفرد۔ دوسرا، لفظ کا جز ہو، جیسے مثلاً میں نے مثال ذکر کی تھی، أَنَا عَبْدُ اللّٰهِ، دوسری مثال لے لو۔ لَفْظِ اللّٰه لے لیں۔ پہلا کیا بنایا؟ کہ لفظ کا جز ہی نہ ہو جیسے هَمْزَةُ اسْتِفْهَامٍ، تو یہ بھی کیا ہوگا؟ مفرد۔ کیونکہ لفظ کا جز ہی نہیں ہم نے کیا کہا تھا، مرکب کے لیے کتنی شرطیں ضروری؟ چار شرطیں۔ پہلی شرط کیا؟ لفظ کا جز ہو۔ دوسری شرط؟ معنی کا بھی جز ہو۔ تیسری شرط؟ لفظ کا جز معنی کے جز پر دلالت بھی کر سکتا ہو۔ اور چوتھی شرط؟ اس دلالت کا ارادہ بھی کیا جائے، تو یہ چاروں چیزیں پوری ہوں گی تو وہ مرکب ہے۔ اگر ان میں سے ایک بھی کم ہوگئی تو پھر وہ مرکب نہیں بلکہ کیا کہلائے گا؟ مفرد۔ تو مفرد کی چار صورتیں بن گئیں بھئی۔ ایک ایک شرط ختم کرتے جاؤ، مفرد کی ایک ایک قسم بنتی جائے گی۔ مرکب میں پہلی شرط کیا تھی؟ کہ لفظ کا جز ہو، ذرا اس شرط کو ختم کر دو، لفظ ہو اور اس کا جز کوئی نہ ہو، جیسے هَمْزَةُ اسْتِفْهَامٍ، تو یہ کیا ہوگا؟ مفرد۔ یہ پہلی قسم مفرد کی۔ دوسری قسم مفرد کی، لفظ کا تو جز ہے لیکن معنی کا جز ہی نہیں۔ جیسے لَفْظِ اللّٰه۔ اب یہاں لفظ کا جز تو ہے، الف ہے، لام، لام اور ہا۔ لَفْظِ اللّٰه میں کتنے حروف ہیں؟ چار حروف ہوگئے، الف، لام، لام اور ہا۔ کتابت کے اعتبار سے۔ یا تلفظ کے اعتبار سے لیں، تو اَللّٰه، الف، لام، لام، پھر الف اور پھر ہا۔ اَللّٰه، دوبارہ الف آتا ہے یا نہیں درمیان میں؟ تو لَفْظِ اللّٰه کے جز ہیں۔ لیکن یہاں معنی کا جز نہیں۔ یعنی اللہ کی ذات کا جز نہیں، اللہ کی ذات بسیط ہے، اللہ کی ذات مرکب نہیں، کیونکہ مرکب ہونا محتاج ہونے کی علامت ہے۔ جو مرکب ہوگا وہ محتاج ہوگا۔ اور جو محتاج ہو وہ اللہ نہیں ہوسکتا، وہ معبود نہیں ہوسکتا، کیونکہ وہ تو خود محتاج ہوجائے گا۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ تو اللہ کی ذات بسیط ہے، بسیط کسے کہتے ہیں؟ جس کے اجزاء نہ ہوں۔ تو اللہ کی ذات مرکب نہیں، کیونکہ مرکب ہونا کس چیز کی نشانی ہے؟ محتاج ہونے کی۔ مرکب کا کیا معنی؟ رَكَّبَ يُرَكِّبُ تَرْكِيبٌ کا معنی ہوتا ہے جوڑنا۔ مرکب وہ ہے جس میں اجزاء کو آپس میں جوڑا گیا ہو، جس کے اجزاء ہوں۔ جیسے انسان کے دو اجزاء ہیں، حَيَوَانٌ اور نَاطِقٌ۔ یہ دو چیزیں جب ملیں گی، یہ دو چیزیں جب اکٹھی پائی جائیں گی، تو وہ انسان ہوگا۔ ان میں سے ایک ہو، دوسری نہ ہو تو انسان نہیں ہوسکتا۔ تو انسان ہوا مرکب، اور یہ مرکب ہونا محتاج ہونے کی علامت ہے۔ کیونکہ اس میں کیا کیا گیا ہے؟ دو اجزاء کو جوڑا گیا ہے، تو کوئی جوڑنے والا چاہیے۔ کوئی مُرَكِّبٌ چاہیے۔ یہ تو ہے مُرَكَّبٌ جس کو جوڑا گیا ہے۔ تو یہ حَيَوَانٌ اور نَاطِقٌ خود بخود جڑ جائیں گے؟ یا ان کے لیے کوئی جوڑنے والا چاہیے؟ جوڑنے والا چاہیے۔ تو دیکھا؟ تو ان کے لیے مُرَكِّبٌ چاہیے، تو مرکب ہونا محتاج ہونے کی علامت ہے، وہ کسی مُرَكِّبٌ کا محتاج ہے جو ان اجزاء کو جوڑے، اکٹھا کرے۔ تو اللہ کی ذات مرکب نہیں، ورنہ تو اللہ کی ذات کا محتاج ہونا لازم آئے گا، اور اللہ کی ذات کسی کی محتاج نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو اللہ کی ذات کیا ہے؟ بَسِيطٌ۔ میں مثال ذکر کر رہا تھا مفرد کی، مفرد کی پہلی قسم کیا؟ کہ لفظ کا جز ہی نہ ہو جیسے هَمْزَةُ اسْتِفْهَامٍ۔ دوسری قسم، لفظ کا تو جز ہے لیکن معنی کا کوئی جز نہیں، جیسے لَفْظِ اللّٰه بھئی۔ اب یہاں لَفْظِ اللّٰه کے اجزاء تو ہیں الف، لام، لام، الف اور ہا۔ لفظ کے تو اجزاء ہیں لیکن معنی کے اجزاء نہیں، معنی کیا ہے؟ اللہ کی ذات، اور اللہ کی ذات کے اجزاء نہیں، اللہ کی ذات کیا ہے؟ بَسِيطٌ ہے۔ تیسری صورت، لفظ کے اجزاء ہوں، اور معنی کے بھی اجزاء ہوں، لیکن لفظ کے اجزاء معنی کے اجزاء پر دلالت نہ کریں۔ لفظ کے بھی اجزاء، معنی کے بھی اجزاء، لیکن لفظ کے اجزاء معنی کے اجزاء پر دلالت نہ کریں۔ جیسے، اس کا نام ہے زید۔ اب دیکھو، لفظ کے اجزاء ہیں زا، یا، دال۔ لفظ کے کیا ہیں؟ اجزاء۔ اور جو ذات ہے، زید کی، اس کے بھی اجزاء ہیں، وہ حَيَوَانِ نَاطِقٌ ہے، حَيَوَانٌ بھی جز اور نَاطِقٌ بھی اس کا جز۔ تو لفظ کا بھی جز، اور معنی کا بھی جز۔ لیکن لفظ کا جز معنی کے جز پر دلالت نہیں کر رہا۔ کیا زا سے صرف حَيَوَانٌ مراد ہے؟ یا سے صرف نَاطِقٌ مراد ہے؟ نہیں ایسا نہیں ہے۔ لفظ کا جز بھی ہے، معنی کا بھی جز ہے، لیکن لفظ کا جز معنی کے جز پر دلالت نہیں کر رہا۔ لفظ کا جز کیا؟ زا، یا اور دال۔ اور معنی کا جز کیا؟ حَيَوَانِ نَاطِقٌ ہے تو وہ ایک جز ہوا حَيَوَانٌ، ایک جز ہوا نَاطِقٌ۔ اور کیا لفظ کا جز معنی کے جز پر دلالت کر رہا ہے؟ زا سے صرف حَيَوَانٌ سمجھ میں آ رہا ہے؟ یا سے صرف نَاطِقٌ سمجھ میں آ رہا ہے؟ نہیں، تو لفظ کا جز بھی ہے، معنی کا بھی جز ہے، لیکن لفظ کا جز معنی کے جز پر دلالت نہیں کر رہا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ دوسری مثال لے لو، ایک ساتھی ہے اس کا نام عَبْدُ اللّٰهِ ہے۔ اس کا کیا نام ہے؟ عَبْدُ اللّٰهِ ہے۔ اب دیکھو، لفظ کے بھی جز، ایک لَفْظِ عَبْد اور ایک لَفْظِ اللّٰه۔ پھر عَبْد میں بھی دیکھ لو، عین بھی ہے، با بھی ہے، دال بھی ہے، اور لَفْظِ اللّٰه میں بھی اسی طرح حروف ہیں۔ تو لفظ کا بھی جز ہے، اور معنی کا بھی جز، کیونکہ آپ کے ساتھی کا نام ہے تو اس کے بھی دو جز، ایک حَيَوَانٌ اور ایک نَاطِقٌ۔ تو لفظ کا بھی جز، معنی کا بھی جز۔ لیکن لفظ کا جز معنی کے جز پر دلالت نہیں کر رہا۔ کیا عَبْدُ اللّٰهِ کے عَبْد سے حَيَوَانٌ سمجھ میں آ رہا ہے؟ لَفْظِ اللّٰه سے کوئی نَاطِقٌ سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو لفظ کا جز معنی کے جز پر دلالت نہیں کر رہا۔ تو عَبْدُ اللّٰهِ جب ہم کسی کا نام رکھتے ہیں تو یاد رکھو نام بولتے ہوئے معنی کی طرف ذہن نہیں جاتا۔ آپ کا ایک ساتھی ہے، اس کا نام عَبْدُ اللّٰهِ۔ وہ آیا اور آکر کہنے لگا، أَنَا عَبْدُ اللّٰهِ۔ آپ سے کسی نے پوچھا یہ کیا کہہ رہا ہے؟ آپ کیا کہیں گے؟ یہ کہہ رہا ہے میرا نام عَبْدُ اللّٰهِ ہے۔ أَنَا عَبْدُ اللّٰهِ، میں عَبْدُ اللّٰهِ ہوں۔ دیکھا؟ عَبْدُ اللّٰهِ کا آپ نے ترجمہ نہیں کیا۔ کیوں نہیں کیا؟ کیونکہ ناموں کا ترجمہ نہیں کیا جاتا، نام کے اندر ترجمے کا ارادہ نہیں ہوتا۔ آپ کا ایک ساتھی عَبْدُ اللّٰهِ ہے، کیا آپ جب اس کو آواز دیتے ہیں، عَبْدُ اللّٰهِ، تو کیا مطلب ہوتا ہے؟ اللہ کے بندے؟ نہیں، معنی کا ارادہ ہوتا ہے؟ نہیں، معنی کا ارادہ آپ نہیں کرتے، آپ سیدھا اس کے یہ کہ یہ اس کے لیے علم ہے، یہ سارا اس کی ذات کے لیے مقرر ہے یہ لفظ، تو اس کی ذات مراد لیتے ہیں۔ تو یاد رکھو علم کے اندر معنی کا ارادہ نہیں کیا جاتا۔ یا جیسے آپ کا ایک ساتھی ہے، اس کا نام ہے عَبْدُ الرَّحْمٰنِ۔ تو کیا، جب آپ اسے آواز دیں گے، اے عَبْدُ الرَّحْمٰنِ، تو کیا مطلب ہوگا؟ اے رحمن کے بندے؟ نہیں، رحمن کا بندہ تو ہر ایک ہے پھر۔ بلکہ یہاں معنی کا ارادہ نہیں، تو علم کے اندر معنی کا ارادہ نہیں ہوتا۔ تو لہٰذا جب عَبْدُ اللّٰهِ کسی کا نام ہوا تو یہاں اب اس کا ترجمہ نہیں کریں گے، عَبْد کا معنی غلام کر لیں، اور لَفْظِ اللّٰه سے اللہ کی ذات مراد لے لیں، ایسا نہیں ہے۔ عَبْدُ اللّٰهِ کے جز ہے یا نہیں؟ جی، ایک عَبْد اور ایک لَفْظِ اللّٰه۔ لیکن جب یہ علم ہو تو کیا عَبْد کا معنی بندے کے، اور لَفْظِ اللّٰه سے اللہ کی ذات مراد لیتے ہیں؟ نہیں، تو لفظ کا بھی جز ہے، اور معنی کا بھی جز، معنی میں بھی کیا ہے؟ عَبْد کا الگ معنی، لَفْظِ اللّٰه کا الگ معنی۔ اور لفظ کا جز معنی کے جز پر دلالت بھی کر سکتا ہے، مثلاً کر رہا ہے، اللہ کا بندہ۔ لیکن نام میں کیا یہ دلالت مراد ہوتی ہے؟ نام میں یہ دلالت ارادہ نہیں ہوتا۔ یا یوں کہہ لیں کہ یہاں عَبْدُ اللّٰهِ ساتھی کا نام ہے، اور اس کے جو اجزاء ہیں وہ ہیں حَيَوَانِ نَاطِقٌ، تو یہاں لفظ کا جز معنی کے جز پر دلالت نہیں کر رہا۔ یہاں دونوں صورتیں بن جاتی ہیں، لفظ کا جز معنی کے جز پر دلالت نہیں کر رہا، یا یوں کہیں، لفظ کا جز معنی کے جز پر دلالت کر تو سکتا ہے، حَيَوَانِ نَاطِقٌ کی طرف نہ جائیں، عَبْد کا معنی بندہ کریں، لَفْظِ اللّٰه سے اللہ کی ذات، عَبْدُ اللّٰهِ، اللہ کا بندہ، اس معنی پہ دلالت کر تو سکتا ہے، لفظ کے بھی جز اور معنی کا بھی جز، اور لفظ کا جز معنی کے جز پر دلالت کر بھی سکتا ہے، لیکن علم کے وقت اس کا ارادہ نہیں ہوتا۔ تو لَفْظِ عَبْدُ اللّٰهِ جب کسی کا نام ہو تو یہ بھی مفرد ہے بھئی، کیا ہے؟ مفرد۔ اور جب کسی کا نام نہ ہو تو یہ کیا ہے؟ مرکب ہے، کیونکہ لفظ کا جز معنی کے جز پر دلالت کرتا ہے اور اس کا ارادہ بھی کیا جاتا ہے۔ اور پانچویں صورت، کہ لفظ کا جز ہو، معنی کا بھی جز ہو، اور لفظ کا جز معنی کے جز پر دلالت بھی کر سکتا ہو، لیکن وہ اس کا ارادہ نہ ہو۔ جیسے آپ کا ایک ساتھی ہے، اس کا نام ہی حَيَوَانِ نَاطِقٌ رکھ دیا گیا۔ کیا رکھا گیا؟ حَيَوَانِ نَاطِقٌ۔ اب جو اسے آواز دیتا ہے، کہتا ہے، حَيَوَانِ نَاطِقٌ ادھر آؤ۔ تو کیا یہاں معنی کا ارادہ ہے؟ نہیں، ارادہ نہیں کیونکہ یہ اس کا نام رکھ دیا گیا۔ اور نام کے اندر معنی ملحوظ نہیں ہوتا، میں نے مثال ذکر کر دی۔ ایک ساتھی آپ کا آتا ہے اور آکر کہتا ہے، أَنَا عَبْدُ اللّٰهِ۔ تو آپ عَبْدُ اللّٰهِ کا ترجمہ نہیں کرتے، آپ کہتے ہیں یہ کہہ رہا ہے میں کہ میں عَبْدُ اللّٰهِ ہوں۔ یہ نہیں کہتے کہ یہ کہہ رہا ہے میں اللہ کا بندہ ہوں، کیونکہ نام کا ترجمہ نہیں کیا جاتا۔ تو آپ کے ایک ساتھی کا کیا نام رکھا گیا؟ حَيَوَانِ نَاطِقٌ۔ تو اب دیکھو، حَيَوَانِ نَاطِقٌ، لفظ کا جز ہے یا نہیں؟ جز ہے۔ ایک حَيَوَانٌ اور ایک نَاطِقٌ۔ اور معنی کا بھی جز ہے، جس کا نام رکھا گیا وہ بھی کون ہے؟ حَيَوَانِ نَاطِقٌ ہے۔ اور لفظ کا جز معنی کے جز پر دلالت بھی کر سکتا ہے، حَيَوَانٌ سے حَيَوَانٌ کا ارادہ کرلیں، نَاطِقٌ سے نَاطِقٌ کا، کر سکتا ہے۔ لیکن چونکہ یہ علم ہے، تو یہ ارادہ نہیں۔ جب یہ ارادہ نہیں، تو یہ کس میں داخل ہوا؟ مفرد میں داخل، تو یہ کس کی قسم ہوگئی؟ مفرد کی۔ تو مفرد کی چار صورتیں بن گئیں بھئی۔ پہلی صورت کیا؟ لفظ کا جز ہی نہ ہو۔ دوسری صورت، لفظ کا جز تو ہے لیکن معنی کا جز نہیں۔ تیسری صورت، لفظ کا جز ہے، معنی کا بھی جز ہے، لیکن لفظ کا جز معنی کے جز پر دلالت نہیں کر رہا۔ چوتھی صورت، لفظ کا بھی جز ہے، معنی کا بھی جز ہے، لفظ کا جز معنی کے جز پر دلالت بھی کر سکتا ہے، لیکن اس کا ارادہ نہیں۔ یہ سب صورتیں کس کی ہوئیں؟ مفرد کی۔ تو مرکب میں کتنی شرطیں؟ چار شرطیں۔ لفظ کا جز ہو، اور جز کیا ہو؟ معنی دار بھی ہو، یا یوں کہہ لو معنی کا بھی جز ہو، اور لفظ کا جز معنی کے جز پر دلالت بھی کر سکے، اور لفظ کے جز سے معنی کے جز کا ارادہ بھی ہو۔ تو وہ مرکب ہے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟ اب دیکھیے متن دوبارہ دیکھ لیجیے۔ وَالْمَوْضُوعُ إِنْ قُصِدَ بِجُزْئِهِ، کہ لفظ موضوع جو ہے اگر ارادہ کیا جائے اس کے جز کے ذریعے، اَلدَّلَالَةُ عَلَى جُزْءِ مَعْنَاهُ، اس کے معنی کے جز پر دلالت کا، لفظ کے جز کے ذریعے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ کر لیا جائے، فَمُرَكَّبٌ تو وہ مرکب ہے۔ وَإِلَّا اور اگر ایسا نہ ہو، فَمُفْرَدٌ تو وہ مفرد ہے۔ درمیان میں مرکب کی قسمیں بتا دی تھیں، کہ مرکب دو قسم پر ہے تام ہوگا یا ناقص ہوگا، پھر تام کی دو قسمیں ہیں خبر یا انشاء، اور ناقص کی بھی دو قسمیں ہیں تقییدی اور غیر تقییدی۔ اب آئیے شرح پر بھئی۔ کہتے ہیں قَوْلُهُ وَالْمَوْضُوعُ مصنف کا قول وَالْمَوْضُوعُ جو ہے، أَيِ اللَّفْظُ الْمَوْضُوعُ، اس سے کیا مراد ہے؟ لَفْظِ مَوْضُوعٌ مراد ہے۔ إِنْ أُرِيدَ دَلَالَةُ جُزْءٍ مِنْهُ عَلَى جُزْءِ مَعْنَاهُ، اگر ارادہ کیا جائے اس لفظ کے جز کے ذریعے، معنی کے جز پر دلالت کا، فَهْوَ الْمُرَكَّبُ تو وہ مرکب ہے۔ وَإِلَّا اور اگر ایسا نہ ہو، فَهْوَ الْمُفْرَدُ تو وہ مفرد ہے۔ تو فَالْمُفْرَدُ إِنَّمَا يَتَحَقَّقُ بِأُمُورٍ أَرْبَعَةٍ، تو مفرد جو ہے، إِنَّمَا يَتَحَقَّقُ وہ پایا جاتا ہے، بِأُمُورٍ أَرْبَعَةٍ چار چیزوں کے ذریعے۔ چار چیزیں ہوں گی تو مرکب پایا جائے گا۔ اَلْأَوَّلُ پہلی چیز یہ، أَنْ يَكُونَ لِلَّفْظِ جُزْءٌ کہ لفظ کے لیے جز ہو۔ وَالثَّانِي أَنْ يَكُونَ لِمَعْنَاهُ جُزْءٌ، دوسری چیز یہ، کہ اس کے معنی کا بھی جز ہو۔ وَالثَّالِثُ أَنْ يَدُلَّ جُزْءُ اللَّفْظِ عَلَى جُزْءِ مَعْنَاهُ، تیسری چیز یہ، کہ لفظ کا جز معنی کے جز پر دلالت بھی کرے۔ وَالرَّابِعُ أَنْ تَكُونَ هٰذِهِ الدَّلَالَةُ مُرَادَةً، کہ یہ والی دلالت مراد بھی ہونی چاہیے۔ چوتھی چیز کیا؟ کہ اس دلالت کا ارادہ بھی ہو۔ فَبِانْتِفَاءِ كُلٍّ مِنَ الْقُيُودِ الْأَرْبَعَةِ، چاروں قیدوں میں سے ہر ایک کے نفی ہونے سے، يَتَحَقَّقُ الْمُفْرَدُ کیا پایا جائے گا؟ مفرد، یعنی ان چاروں میں سے کوئی ایک بھی نفی کریں گے تو مفرد پایا جائے گا۔ فَلِلْمُرَكَّبِ قِسْمٌ وَاحِدٌ، تو مرکب کی ایک قسم ہے۔ وَلِلْمُفْرَدِ أَقْسَامٌ أَرْبَعٌ، اور مفرد کی چار قسمیں ہیں۔ اَلْأَوَّلُ مفرد کی پہلی قسم، مَا لَا جُزْءَ لِلَفْظٍ، کہ لفظ کا کوئی جز نہ ہو۔ کہ لفظ کا کوئی جز نہ ہو، نَحْوُ هَمْزَةِ الِاسْتِفْهَامِ جیسے ہمزہ استفہام وَالثَّانِیْ اور دوسری قسم مفرد کی مَا لَا جُزْءَ لِمَعْنَاهُ کہ اس کے معنی کا کوئی جز نہ ہو، لفظ کا تو جز ہے لیکن معنی کا کوئی جز نہیں نَحْوُ لَفْظِ اللّٰهِ جیسے لفظِ اللہ بھئی۔ وَالثَّالِثُ اور تیسری قسم مفرد کی مَا لَا دَلَالَةَ لِجُزْءِ لَفْظِهٖ عَلٰی جُزْءِ مَعْنَاهُ کہ لفظ کے جز کی دلالت معنی کے جز پر نہ ہو، کَزَیْدٍ جیسے کہ زید۔ وَعَبْدِ اللّٰهِ عَلَمًا اور عبداللہ اس حال میں کہ وہ کیا ہو؟ عَلَم ہو۔ جب عبداللہ عَلَم ہو تو اب لفظ کا جز معنی کے جز پر دلالت نہیں کر رہا اگر عَلَم نہ ہو تو پھر دلالت کر رہا ہے۔ وَالرَّابِعُ مَا یَدُلُّ جُزْءُ لَفْظِهٖ عَلٰی جُزْءِ مَعْنَاهُ لٰکِنَّ الدَّلَالَةَ غَیْرُ مَقْصُودَةٍ چوتھی قسم وہ ہے کہ لفظ کا جز معنی کے جز پر دلالت کرے لیکن وہ دلالت مقصود نہ ہو یعنی اس کا ارادہ نہ ہو، کَالْحَیَوَانِ النَّاطِقِ عَلَمًا لِّشَخْصٍ اِنْسَانِیٍّ جیسے کہ حیوانِ ناطق جبکہ وہ عَلَم ہو کسی شخصِ انسانی کے لیے کسی یعنی کسی انسان کے لیے وہ کیا ہو عَلَم ہو بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ لِشَخْصٍ یاد رکھیے شخص جو ہے نا شخص اس کا معنی ہوتا ہے ذات، یہ مذکر، مونث، انسان، غیر انسان سب پر بولا جاتا ہے۔ شخص کا کیا معنی؟ ذات، اور ساتھ کہا اِنْسَانِیٍّ ایسی ذات جو انسانوں کی طرف منسوب ہو۔ لَاهُورِیٌّ کا کیا معنی؟ لاہور والا، تو اِنْسَانِیٌّ کا کیا معنی؟ انسان والا یعنی انسانوں کی طرف جو منسوب ہو ایسی ذات جو انسانوں کی طرف منسوب ہو یعنی انسان ہو۔ کَالْحَیَوَانِ النَّاطِقِ عَلَمًا لِّشَخْصٍ اِنْسَانِیٍّ جیسے کہ حیوان ناطق عَلَم ہونے کی حالت میں کسی انسان کا۔ تو یہ چار مفرد کی اقسام ہو گئیں۔ یہاں تک بحث اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے قَوْلُهٗ اِمَّا تَامٌّ کہ وہ مرکب یا تو کیا ہوگا؟ تام بھئی۔ کیا معنی اِمَّا تَامٌّ؟ کہتے ہیں اَیْ یَصِحُّ السُّکُوتُ عَلَیْهِ یعنی اس پر سکوت کرنا صحیح ہو، خاموش ہونا صحیح ہو کَزَیْدٌ قَائِمٌ جیسے زَیْدٌ قَائِمٌ۔ بھئی مرکب تام وہ ہے جس میں بات پوری ہے، آپ جب اس کو بول کر خاموش ہو گئے تو دوسرے کو بات پوری سمجھ میں آ گئی۔ میں نے کہا زید آپ کا دوست ہے، بات پوری آپ کو سمجھ میں آ گئی یا نہیں؟ اور اگر تام نہ ہوتا میں صرف اتنا کہتا وہ جو آپ کا دوست ہے آپ کہتے بھئی اس کو کیا ہوا بات تو پوری کریں، تو جب بات پوری ہے تو وہ مرکب تام ہے اگر بات پوری نہیں تو وہ مرکب ناقص ہے۔ اسی لیے کہا اَنْ یَّصِحَّ السُّکُوتُ عَلَیْهِ یعنی اس پر خاموش ہونا صحیح ہو کَزَیْدٌ قَائِمٌ جیسے زَیْدٌ قَائِمٌ، زید کھڑا ہے زَیْدٌ مبتدا قَائِمٌ اس کی خبر۔ آپ حیران ہو رہے ہوں گے کہ کاف جارہ داخل ہے پھر بھی میں اس کو زَیْدٌ پڑھ رہا ہوں، یاد رکھو اس کو زَیْدٌ پڑھنا ہے زَیْدٍ نہیں پڑھنا کیونکہ یہ کاف جارہ صرف زَیْدٌ پہ نہیں داخل، یہ زَیْدٌ قَائِمٌ پورے جملے پر حرف جر داخل ہے۔ اور جملہ آپ پڑھ چکے ہیں مبنی ہوتا ہے تو یہ محلاً کیا ہے؟ مجرور ہے۔ محل کے اعتبار سے مجرور ہے یعنی یہاں پر کوئی معرب آجاتا تو پھر اس پر جر ظاہر بھی ہو جاتا۔ تو کاف صرف زید پہ داخل ہے یا پورے جملے پر؟ پورے جملے پر داخل ہے۔ تو یہ لفظ کی تاویل میں ہے کَزَیْدٌ قَائِمٌ اَیْ کَهٰذَا اللَّفْظِ جیسے یہ والا لفظ ہے، کون سا لفظ؟ زَیْدٌ قَائِمٌ۔ قَوْلُهٗ خَبَرٌ مصنف کا قول خبر، کہ مرکب تام کی دو قسمیں ہیں یا خبر ہے یا انشاء۔ خبر کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں اِنِ احْتَمَلَ الصِّدْقَ وَالْکَذِبَ اگر وہ احتمال صدق اور کذب دونوں کا رکھے۔ خبر کسے کہتے ہیں؟ جس میں صدق اور کذب دونوں کا احتمال ہو جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے یعنی اس میں دونوں احتمال ہوں سچ کا بھی احتمال ہو اور جھوٹ کا بھی احتمال ہو۔ اَیْ یَکُونَ مِنْ شَانِهٖ اَنْ یُّوْصَفَ بِهِمَا یعنی اس کی شان یہ ہو، اس کا حال یہ ہو کہ وہ متصف ہو سکے ان دونوں سے بِاَنْ یُّقَالَ لَهٗ صَادِقٌ اَوْ کَاذِبٌ یعنی اس مرکب کو، اس خبر کو صادق یا کاذب کہا جا سکے۔ تو اسے خبر کہتے ہیں اور جسے سچا یا جھوٹا نہ کہا جا سکے اسے انشاء کہتے ہیں جبکہ وہ مرکب تام ہو۔ یہاں ایک اشکال ہوتا ہے۔ اشکال یہ کہ آپ نے ہمیں کیا کہا کہ خبر اسے کہتے ہیں جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے یعنی اس میں دونوں احتمال ہوں سچ کا بھی احتمال ہو اور جھوٹ کا بھی احتمال ہو۔ کوئی شخص آکر آپ کو بتلاتا ہے کہ زید آگیا ہے اب اس میں دونوں احتمال ہو سکتا ہے زید آیا ہو یہ سچ بول رہا ہو ہو سکتا ہے زید نہ آیا ہو اور یہ جھوٹ بول رہا ہو۔ حالانکہ آپ نے تو ہمیں کہا خبر میں سچ اور جھوٹ دونوں کا احتمال ہوتا ہے ہم آپ کو دکھاتے ہیں ایسی خبریں بھی ہیں جن میں سچ ہی سچ ہے جھوٹ کا کوئی احتمال ہی نہیں۔ مثلاً اللہ ہمیں کوئی بات بتلائیں، جب اللہ ہمیں بتلا رہے ہیں قرآن میں اللہ فرما رہے ہیں تو اس میں کیا جھوٹ کا احتمال ہے؟ نہیں وہ تو سچ ہی سچ ہے۔ تو وہ تو خبر نہ ہوئی؟ کیونکہ آپ نے تو ہمیں کہا خبر میں سچ اور جھوٹ دونوں کا احتمال ہوتا ہے۔ یہاں تو سچ ہی سچ ہے جھوٹ کا کوئی احتمال ہی نہیں۔ یا جیسے کوئی بات حضور صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں اب اس میں سچ ہی سچ ہے جھوٹ کا کوئی احتمال نہیں تو یہ تو خبر ہونے سے نکل گئے حالانکہ یہ بھی خبر ہیں۔ اور بعض خبریں ہم آپ کو ایسی دکھاتے ہیں جو جھوٹ ہی جھوٹ ہیں اس میں سچ کا کوئی نہیں جیسے کوئی شخص کہے آسمان نیچے ہے اب یہ کیا ہے؟ جھوٹ ہی جھوٹ ہے اس میں سچ کا احتمال ہی کوئی نہیں ہے۔ تو آپ کی تعریف تو صحیح نہ ہوئی، آپ نے تو کیا کہا خبر میں سچ اور جھوٹ دونوں کا احتمال ہوتا ہے۔ تو جواب اس کا یاد رکھو، جواب یہ کہ آپ خارجی دلیل کو چھوڑ کر نَفْسِ خبر پر نَفْسِ اس کلام میں غور کریں کہ اس میں سچ اور جھوٹ دونوں کا احتمال ہوگا۔ آپ نے کہا اللہ نے فرمایا، ذرا اللہ کے فرمانا یہ جو دلیل ہے اس کو ایک طرف رکھ دیں نَفْسِ الفاظ میں سچ اور جھوٹ دونوں کا احتمال ہوگا۔ خارجی دلیل کو چھوڑ دیں تو اس میں کیا ہوگا؟ دونوں احتمال ہوں گے جب ہی تو کافر نہیں مانتے، وہ کیا کہتے ہیں؟ یہ سچی خبر نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں آپ نے خارجی دلیل کو ساتھ ملا لیا خارجی دلیل کسی کو نہ بتلائیں ویسے کوئی بات کسی کو بتلائیں تو آپ دیکھیں گے اس میں سچ کا بھی احتمال اور جھوٹ کا بھی احتمال نکالے گا۔ اسی طرح آپ نے کہا بعض باتیں جھوٹ ہی جھوٹ ہیں اس میں سچ کوئی نہیں جیسے کوئی کہتا ہے آسمان نیچے ہے حالانکہ آسمان تو نیچے نہیں۔ تو جواب یہ کہ یہاں خارجی دلیل کو ذرا ختم کر دیں خارج میں تو ٹھیک ہے آسمان اوپر ہے لیکن ذرا اس کو ہٹا دیں، مطلق کسی شخص کو کہیں کہ آسمان نیچے ہے تو خارجی دلیل کے بغیر آپ دیکھیں گے اس میں سچ کا بھی احتمال اور جھوٹ کا بھی احتمال ہے۔ قَوْلُهٗ اَوْ اِنْشَاءٌ مصنف کا قول اَوْ اِنْشَاءٌ کہتے ہیں اِنْ لَّمْ یَحْتَمِلْهُمَا اگر وہ ان دونوں کا احتمال نہ رکھے، مرکب تام ہو اور ان دونوں کا یعنی سچ اور جھوٹ کا احتمال نہ رکھے تو وہ کیا ہے؟ انشاء ہے۔ قَوْلُهٗ وَاِمَّا نَاقِصٌ مصنف کا قول اور یا وہ مرکب ناقص ہوگا۔ کہتے ہیں اِنْ لَّمْ یَصِحَّ السُّکُوتُ عَلَیْهِ اگر اس پر سکوت صحیح نہ ہو۔ مرکب ناقص وہ ہے جس پر خاموش ہونا اور سکوت کرنا صحیح نہ ہو کیونکہ وہاں بات پوری نہیں۔ مثلاً میں نے آپ سے کہا زید کا غلام، پھر میں نے کہا زید کا غلام، آپ کہیں گے بھئی بات تو پوری کریں آپ بات کیوں نہیں پوری کر رہے؟ معلوم ہوا یہ مرکب تام نہیں اس لیے اس پر خاموش ہونا صحیح نہیں۔ جب ہی تو سننے والا فوراً پوچھ رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ قَوْلُهٗ تَقْیِیدِیٌّ مصنف کا قول تَقْیِیدِیٌّ اِنْ کَانَ الْجُزْءُ الثَّانِیْ قَیْدًا لِّلْاَوَّلِ نَحْوُ غُلَامِ زَیْدٍ وَرَجُلٍ فَاضِلٍ وَقَائِمٍ فِی الدَّارِ۔ اب مرکب تقییدی کسے کہتے ہیں یہ بھی اچھی طرح سمجھ لیں بھئی۔ مرکب تقییدی اسے کہتے ہیں جو کم از کم دو لفظوں سے بنے گا اور اس میں بات پوری نہیں ہوگی اور پھر یاد رکھیے ہر مرکب کو مرکب تقییدی نہیں کہیں گے جیسے آپ کو یہ بتلائیں گے کہ غُلَامُ زَیْدٍ یہ مرکب تقییدی ہے رَجُلٌ فَاضِلٌ یہ مرکب تقییدی ہے قَائِمٌ فِی الدَّارِ یہ بھی مرکب تقییدی ہے۔ لیکن فِی الدَّارِ اس میں بھی دو لفظ ہیں یا نہیں فِی اور اَلدَّارِ یہ مرکب تقییدی نہیں ہے۔ مرکب تقییدی کسے کہتے ہیں اس کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ میں نے بتایا، مرکب تقییدی وہ ہے تقییدی، قَیَّدَ یُقَیِّدُ تَقْیِیدًا کا معنی ہے قید کرنا، قید بنانا۔ تو مرکب تقییدی وہ ہے جس میں ایک لفظ کو دوسرے لفظ کے لیے قید بنایا جائے، یعنی اس کے ساتھ جوڑ دیا، اور اس دوسرے لفظ نے پہلے لفظ کے معنی میں تبدیلی پیدا کر دی، یہ ضروری بات یاد رکھنا۔ دوسرا لفظ کیا کر دے پہلے لفظ کے معنی میں تبدیلی پیدا کر دے، اس کے مدلول کو بدل دے، تو اس کو مرکب تقییدی کہیں گے اگر وہ اس کے مدلول کو نہیں بدلتا تو اس کو مرکب تقییدی نہیں کہیں گے۔ مرکب تقییدی کسے کہتے ہیں؟ کم از کم کتنے لفظ ہوں؟ دو، اور دوسرا لفظ کیا کرے؟ پہلے کے معنی کو اور مفہوم کو اور مدلول کو بدل دے۔ تو پھر ہے وہ مرکب تقییدی اگر مدلول کو نہیں بدلتا تو یہ مرکب تقییدی نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جیسے مضاف اور مضاف الیہ غُلَامُ زَیْدٍ، غُلَامٌ مضاف، زَیْدٍ مضاف الیہ۔ دیکھو یہ اضافت نے غُلَامٌ کے مدلول ہی کو بدل دیا۔ ذرا غُلَامٌ کو اکیلا لے آؤ غُلَامٌ۔ غُلَامٌ کا کیا معنی؟ کوئی ایک غلام۔ فرض کرو دنیا میں اس وقت ایک کروڑ غلام ہیں فرض کر لو، جب میں نے کہا غُلَامٌ تو ہر غلام پر یہ لفظ صادق آ رہا ہے یا نہیں؟ تو اس میں ایک کروڑ احتمال ہو گئے، ہر غلام پر یہ بولا جا رہا ہے۔ لیکن جب میں نے اس کی اضافت کر دی لفظِ زید کی طرف غُلَامُ زَیْدٍ کیا ترجمہ؟ زید کا غلام اور زید کا فرض کرو ایک ہی غلام ہے۔ دیکھو لفظ کا معنی بدل گیا یا نہیں؟ اب غُلَامُ زَیْدٍ سارے تمام کے تمام ایک کروڑ غلاموں پر صادق آ رہا ہے؟ نہیں اب یہ صرف کتنے پر صادق آ رہا ہے؟ ایک غلام پر، دیکھا لفظ کا مدلول اس کا معنی بدل گیا۔ تو یہ اضافت، یہ مرکب اضافی کیا ہوا؟ مرکب تقییدی۔ بات پوری نہیں، مرکب تام نہیں ہے البتہ دوسرا جز پہلے کے لیے کیا ہے؟ قید ہے۔ تو اس کو کیا کہیں گے؟ مرکب تقییدی۔ یہ تو تھا معرفہ کی طرف ہم نے اضافت کی، نکرہ کی طرف ذرا اضافت کرو۔ غُلَامٌ نکرہ تھا نا اور اس کی زَیْدٍ معرفہ کی طرف ہم نے اضافت کی۔ ذرا اس کی اضافت نکرہ کی طرف کرو غُلَامُ رَجُلٍ کسی مرد کا غلام۔ اب فرض کرو جو ایک کروڑ غلام تھے اس میں سے پچاس لاکھ مردوں کے غلام اور پچاس لاکھ عورتوں کے غلام ہیں۔ جب آپ نے کہا غُلَامُ رَجُلٍ پہلے غُلَامٌ سب پر صادق آ رہا تھا۔ اب جب کہا غُلَامُ رَجُلٍ کسی آدمی کا غلام، تو اب صرف کتنے پر صادق آ رہا ہے؟ صرف پچاس لاکھ پر، دیکھا لفظ کا معنی اور مدلول بدل گیا۔ تو یہ اضافت کیا ہے؟ یہ مرکب اضافی کیا ہوا؟ مرکب تقییدی ہے جس میں دوسرا جز کیا کرتا ہے پہلے جز کے مدلول کو اور معنی کو بدل دیتا ہے۔ اسی طرح صفت بھی ہے بھئی مرکب توصیفی موصوف صفت سے جو مرکب ہو۔ مثلاً میں نے کہا غُلَامٌ شُجَاعٌ صفت لے آیا۔ غُلَامٌ موصوف، شُجَاعٌ اس کی صفت، بہادر غلام۔ اب فرض کرو ان ایک کروڑ غلاموں میں سے صرف دس لاکھ بہادر ہیں باقی بہادر نہیں۔ تو غُلَامٌ اکیلا ایک کروڑ پر بولا جا سکتا تھا۔ ان سب پر صادق آ رہا تھا تو اس میں ایک کروڑ احتمال لیکن جب میں نے صفت ملا دی غُلَامٌ شُجَاعٌ اب یہ صرف کتنے پر بولا جا سکتا ہے؟ صرف دس لاکھ پر، تو دیکھا صفت بھی کیا کرتی ہے؟ لفظ کے مدلول کو بدل دیتی ہے، اس کے معنی کو بدل دیتی ہے۔ تو مرکب توصیفی بھی کون سا مرکب ہے؟ مرکب تقییدی ہے۔ تو یہ تھا مرکب توصیفی اور مرکب اضافی اور مشہور یہی ہے کہ مرکب تقییدی یہی دو ہیں۔ مشہور کیا ہے عام کتابوں میں عام کتابوں میں آپ جب بھی دیکھیں گے مرکب تقییدی کی یہی دو مثالیں عموماً دیتے ہیں ایک مرکب اضافی دیتے ہیں ایک مرکب توصیفی دیتے۔ لیکن یہاں آپ کو بتلائیں گے کہ بھئی مرکب تقییدی صرف یہی نہیں ہے بلکہ آپ خود غور کر لو، جہاں بھی ایک لفظ دوسرے لفظ کے معنی کو بدل رہا ہے، اس کے مدلول کو بدل رہا ہے، اور بات پوری نہیں ہے ادھوری ہے، تو وہ مرکب ناقص ہوا اور کون سا ناقص ہوا؟ تقییدی، جس میں پہلا جس میں دوسرا جز پہلے جز کے معنی کو بدل رہا ہے۔ جیسے مثال دی قَائِمٌ فِی الدَّارِ۔ مثلاً دیکھو، میں کہتا ہوں زَیْدٌ قَائِمٌ، زید کھڑا ہے اور میں کہتا ہوں زَیْدٌ قَائِمٌ فِی الدَّارِ زید کہاں کھڑا ہے؟ گھر میں کھڑا ہے۔ یہ فِی الدَّارِ یہ جار مجرور قَائِمٌ سے جڑ رہے ہیں۔ تو قَائِمٌ اکیلا یہ ہے خبر، یہ کیا ہے؟ خبر، یہ مفرد ہے۔ اور اس کے ساتھ فِی الدَّارِ جڑ گئے تو بھی یہ مفرد کا مفرد ہی رہا یہ سارا مل کر زید کی خبر بن رہا ہے۔ زَیْدٌ قَائِمٌ فِی الدَّارِ، زید گھر میں کھڑا ہے۔ اب ذرا اس زید کو ہٹا دو، قَائِمٌ فِی الدَّارِ اب معنی کیا ہوا؟ گھر میں جو کھڑا ہے، گھر میں جو کھڑا ہے۔ دیکھا اب بات پوری نہیں، بات ادھوری ہے۔ اور فِی الدَّارِ نے قَائِمٌ کے معنی میں تبدیلی پیدا کی یا نہیں کی؟ تبدیلی پیدا کر دی، یہ جب میں نے کہا تھا زَیْدٌ قَائِمٌ زید کھڑا ہے تو ہو سکتا ہے وہ بازار میں کھڑا ہو، ہو سکتا ہے وہ مسجد میں کھڑا ہو، ہو سکتا ہے وہ مدرسے میں کھڑا ہو، ہو سکتا ہے کسی اور جگہ کھڑا ہو کیونکہ اس کے ساتھ کوئی قید نہیں، صرف اتنا ہے، زید کھڑا ہے۔ اگر وہ مسجد میں کھڑا ہو تب بھی میں کہہ سکتا ہوں زَیْدٌ قَائِمٌ اگر وہ گھر میں کھڑا ہے تب بھی کہہ سکتا ہوں زَیْدٌ قَائِمٌ اگر وہ مدرسے میں کھڑا ہے میں تب بھی کہہ سکتا ہوں زَیْدٌ قَائِمٌ لیکن جب اس کے ساتھ فِی الدَّارِ کی قید لگ گئی زَیْدٌ قَائِمٌ فِی الدَّارِ اب جب صرف گھر میں کھڑا ہے تب تو میں کہہ سکتا ہوں زَیْدٌ قَائِمٌ فِی الدَّارِ مسجد میں ہو تو میں نہیں کہہ سکتا، مدرسے میں ہو تو میں نہیں کہہ سکتا، سڑک پر ہو تو میں نہیں کہہ سکتا۔ تو دیکھا قَائِمٌ فِی الدَّارِ اس کے ساتھ کیا جڑا قَائِمٌ کے ساتھ؟ فِی الدَّارِ۔ اس فِی الدَّارِ نے کیا کیا؟ قَائِمٌ کے معنی اور مدلول میں تبدیلی پیدا کر دی، پہلے قائم کا معنی تھا کوئی ذات جو کھڑی ہے وہ کہیں بھی کھڑی ہو وہ سب پر صادق آتا تھا لیکن اب صرف اس قائم پر صادق آ رہی ہے جو کہاں پر قائم ہو؟ گھر میں ہو۔ تو دیکھا دوسرے لفظ نے کیا کیا پہلے لفظ کے معنی اور مدلول کو بدل دیا۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ہے مرکب تقییدی۔ دیکھیے بھئی کتاب پر کہتے ہیں قَوْلُهٗ تَقْیِیدِیٌّ مصنف کا قول تقییدی اِنْ کَانَ الْجُزْءُ الثَّانِیْ قَیْدًا لِّلْاَوَّلِ اگر دوسرا جز پہلے کے لیے قید ہو، کیا معنی قید ہو؟ یعنی اس کے معنی اور مفہوم کو بدل دے، اس کے مدلول کو بدل دے۔ نَحْوُ غُلَامِ زَیْدٍ جیسے زید کا غلام وَرَجُلٍ فَاضِلٍ فاضل آدمی وَقَائِمٍ فِی الدَّارِ تو یہ بھی مرکب تقییدی ہے۔ قَوْلُهٗ اَوْ غَیْرُهٗ اَیْ غَیْرُ تَقْیِیدِیٍّ یا وہ مرکب ناقص کیا ہوگا غیر تقییدی اِنْ لَّمْ یَکُنِ الثَّانِیْ قَیْدًا لِّلْاَوَّلِ اگر ثانی اول کے لیے قید نہ ہو جیسے فِی الدَّارِ قَوْلُهٗ وَاِلَّا فَمُفْرَدٌ مصنف کا قول وَاِلَّا مُفْرَدٌ کیا معنی؟ اَیْ وَاِنْ لَّمْ یُقْصَدْ بِجُزْءٍ مِّنْهُ الدَّلَالَةُ عَلٰی جُزْءِ مَعْنَاهُ یعنی اگر ارادہ نہ کیا جائے اس کے جز کے ذریعے دلالت کا اس کے معنی کے جز پر۔ اگر اس کے معنی کے جز پر لفظ کے جز کے ذریعے دلالت کا ارادہ نہ کیا جائے تو وہ مفرد ہے۔ ھٰذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِحَقِیقَةِ الْکَلَامِ۔