”وَمَنْ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فِي رَمَضَانَ لَمْ يَقْضِ الْيَوْمَ الَّذِي حَدَثَ فِيهِ الْإِغْمَاءُ لِوُجُودِ الصَّوْمِ فِيهِ وَهُوَ الْإِمْسَاكُ الْمَقْرُونُ بِالنِّيَّةِ إِذِ الظَّاهِرُ وُجُودُهَا مِنْهُ، وَقَضَى مَا بَعْدَهُ لِانْعِدَامِ النِّيَّةِ“. ”وَمَنْ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فِي رَمَضَانَ“ صورت مسئلہ یہ: ایک شخص جو ہے اس پر بے ہوشی طاری ہوئی رمضان میں بھئی۔ رمضان میں دن کے وقت جو ہے اس پر بے ہوشی طاری ہو گئی۔ تو یاد رکھیے مسئلہ کہ اس صورت میں وہ دن جس میں اس پر بے ہوشی طاری ہوئی ہے اس کی قضا اس کے ذمے نہیں ہے، اور باقی جتنے دن وہ بے ہوش رہا اس کی قضا اس کے ذمے ہے بھئی۔ جس دن بے ہوش ہوا اس دن کی قضا اس کے ذمے نہیں اس لیے کیونکہ اس دن اس کا روزہ تھا بھئی۔ اور روزہ کس چیز کا نام ہے؟ امساک کا نام ہے، امساک رکنا۔ امساک یعنی رکنا ”مَعَ النِّيَّةِ“ ساتھ کس کے؟ نیت کے۔ تو جب وہ امساک بھی پایا گیا اور نیت بھی موجود تھی تو اس دن کا اس کا روزہ پورا ہو جائے گا۔ لہٰذا اس دن کے روزے کی قضا نہیں ہوگی۔ البتہ باقی دنوں کے روزوں کی قضا کرنا پڑے گی جن میں وہ بے ہوش رہا۔ اس لیے کیونکہ اگرچہ باقی دنوں میں بھی امساک تو پایا گیا لیکن نیت نہیں پائی گئی، اور صرف امساک ہو بغیر نیت کے اس کو روزہ نہیں کہتے بلکہ کیا ضروری ہے اس کے اندر؟ نیت ضروری ہے بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ تو یہی بات بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں ”وَمَنْ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فِي رَمَضَانَ“ اور جس پر بے ہوشی طاری ہو گئی رمضان میں ”لَمْ يَقْضِ الْيَوْمَ الَّذِي حَدَثَ فِيهِ الْإِغْمَاءُ“ تو وہ قضا نہیں کرے گا اس دن کی جس کے اندر پیش آئی ہے بے ہوشی ”لِوُجُودِ الصَّوْمِ فِيهِ“ اس وجہ سے کہ اس دن میں روزہ موجود تھا، اور روزہ کس کو کہتے ہیں؟ کہتے ہیں ”وَهُوَ الْإِمْسَاكُ الْمَقْرُونُ بِالنِّيَّةِ“ وہ امساک جو ملا ہوا ہو نیت کے ساتھ، تو اس دن روزہ موجود ہے، اور روزہ ایسا امساک جو نیت کے ساتھ ملا اس کو کہتے ہیں۔ ”إِذِ الظَّاهِرُ وُجُودُهَا مِنْهُ“ یعنی ”وُجُودُ النِّيَّةِ مِنْهُ“ اس لیے کیونکہ وہ دن کے وقت بے ہوش ہوا ہے تو ظاہر یہی ہے کہ نیت اس کی طرف سے پائی گئی یعنی اس نے نیت کی ہوگی بھئی۔ ظاہر یہی ہے کہ اس نے نیت کی ہوگی، لہٰذا اس دن کا روزہ ادا ہو گیا۔ لیکن اس میں ایک قید یاد رکھنا، ایک تو انہوں نے ذکر کر دیا کہ ظاہر یہی ہے اس نے نیت کی ہوگی، تو نیت کی ہوگی تو اس روزے کی قضا اس کے ذمے نہیں ہے اور باقی دنوں میں چونکہ نیت نہیں پائی گئی وہ بے ہوش تھا تو ان میں اس کی ان کی اسے قضا کرنا پڑے گی۔ اور یہ بھی یاد رکھنا کہ اس بے ہوشی کے دوران اس کے حلق میں کوئی دوا یا پانی وغیرہ نہ ٹپکایا گیا ہو۔ اگر اس کو کوئی دوا پلا دی گئی، دوا ٹپکا دی گئی اس کے حلق میں یا پانی ٹپکا دیا گیا تو پھر اس صورت میں تو ظاہر سی بات ہے اس کا روزہ باقی نہیں رہے گا بھئی۔ اور باقی دنوں کی اس کو قضا کرنا پڑے گی بھئی، اسی لیے کہتے ہیں ”وَقَضَى مَا بَعْدَهُ“ اور اس کے بعد والے دنوں کی قضا کرے گا ”لِانْعِدَامِ النِّيَّةِ“ نیت کے نہ پائے جانے کی وجہ سے۔ ”وَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْهِ أَوَّلَ لَيْلَةٍ مِنْهُ قَضَاهُ كُلَّهُ غَيْرَ يَوْمِ تِلْكَ اللَّيْلَةِ“. دوسری صورت بھئی، پہلی صورت کیا تھی؟ رمضان میں دن کے وقت وہ بے ہوش ہوا تھا تو اس دن کی قضا نہیں، باقی دنوں کی قضا ہے۔ دوسری صورت یہ کہ رمضان کی پہلی رات کو وہ بے ہوش ہو گیا، پہلی رات کو۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں بھی اس رات جو اگلے دن صبح جو روزہ آ رہا ہے وہ اس کا ہو جائے گا، اس لیے کیونکہ وہ رات کو بے ہوش ہوا ہے پہلی رات کو، اور ظاہر یہی ہے کہ اس نے صبح کے روزے کی نیت کی ہوگی۔ جب چاند نظر آ گیا تو ظاہر سی بات ہے اس نے کیا نیت کی ہوگی کہ صبح کیا کرے گا؟ روزہ رکھے گا۔ تو لہٰذا اس دن کا روزہ تو ادا ہو گیا، اور باقی جتنے دن وہ بے ہوش رہا ان سب کی قضا کرنا پڑے گی۔ اور یہ بھی یاد رکھنا یہ وہ صورت ذکر ہو رہی ہے کہ پہلی رات کو بے ہوش ہوا اور پورا رمضان پھر بے ہوش رہا، تو اس پہلے روزے کی قضا اس کے ذمے نہیں اور باقی سارے دنوں کی اس کو قضا کرنا پڑے گی۔ تو کہتے ہیں ”وَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْهِ أَوَّلَ لَيْلَةٍ مِنْهُ“ اور اگر بے ہوشی طاری ہوئی اس شخص پر رمضان کی پہلی رات میں ”قَضَاهُ كُلَّهُ“ تو وہ قضا کرے گا سارے رمضان کی ”غَيْرَ يَوْمِ تِلْكَ اللَّيْلَةِ“ سوائے اس رات کے دن کے، کہ اس رات کا جو دن آئے گا صبح اس دن کے علاوہ باقی تمام رمضان کی وہ قضا کرے گا ”لِمَا قُلْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی۔ اور وہ کیا؟ کہ پہلے دن کی نیت پائی گئی، ظاہر یہی ہے کہ اس نے نیت کی ہوگی وہ روزہ ہو جائے گا، اور باقی روزوں میں چونکہ نیت نہیں پائی گئی وہ نہیں ہوئے تو ان کی قضا کرنا پڑے گی۔ ”وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ جی، امام مالک رحمہ اللہ اس مسئلے میں اختلاف کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ سارے رمضان کے اس کے روزے ادا ہو گئے، کسی دن کی قضا نہیں کرنا پڑے گی۔ اس لیے کیونکہ وہ فرماتے ہیں کہ رمضان کے روزوں کے لیے ایک ہی نیت کافی ہے، اور اس نے بھی ظاہر سی بات ہے شروع میں کیا نیت کی ہوگی کہ سارا رمضان روزے رکھے گا، تو ایک ہی نیت کافی ہو گئی اور سارا رمضان باقی وہ بے ہوش رہا تو سارے روزوں کے اندر وہ امساک پایا گیا، رکنا پایا گیا، لہٰذا روزے ادا ہو گئے۔ جیسے اعتکاف جو ہے، اعتکاف کے اندر ایک ہی نیت کافی ہوتی ہے اور اس سے وہ تمام دنوں کا اعتکاف ادا ہو جاتا ہے، اس میں بار بار نیت کی ضرورت نہیں پڑتی۔ تو ہم کہتے ہیں کہ نہیں، یہاں اعتکاف پر اس کو قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے کیونکہ اعتکاف کا جو زمانہ ہوتا ہے وہ سارے ایام اعتکاف کے، دن بھی اور راتیں بھی کس کی شمار ہوتی ہیں؟ اعتکاف کی۔ جبکہ یہاں پر دن میں تو روزہ ہوتا ہے اور رات کو روزہ نہیں ہوتا، تو بیچ میں ایسا زمانہ بار بار آ رہا ہے جو عبادت نہیں ہے، روزہ نہیں ہے۔ لہٰذا اس میں پھر ہر روزے کے لیے ہمارے نزدیک علیحدہ نیت کرنا ضروری ہے بھئی، اور وہ یہاں پر نہیں پائی گئی۔ پہلے روزے کی تو نیت پائی گئی، باقی دنوں کی نیت نہیں پائی گئی۔ تو کہتے ہیں ”وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللّٰهُ لَا يَقْضِي مَا بَعْدَهُ“ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں بعد والے دنوں کی بھی قضا نہیں کرے گا ”لِأَنَّ صَوْمَ رَمَضَانَ عِنْدَهُ يَتَأَدَّى بِنِيَّةٍ وَاحِدَةٍ بِمَنْزِلَةِ الِاعْتِكَافِ“ اس لیے کیونکہ رمضان کا روزہ ان کے نزدیک ایک ہی نیت سے ادا ہو جاتا ہے ”بِمَنْزِلَةِ الِاعْتِكَافِ“ کس کے درجے میں؟ اعتکاف کے درجے میں، جیسے وہ ایک ہی نیت سے ادا ہو جاتا ہے۔ ”وَعِنْدَنَا لَا بُدَّ مِنَ النِّيَّةِ لِكُلِّ يَوْمٍ“ اور ہمارے نزدیک ہر دن کے لیے نیت کا ہونا ضروری ہے ”لِأَنَّهَا عِبَادَاتٌ مُتَفَرِّقَةٌ“ اس لیے کیونکہ رمضان کے یہ جو روزے ہیں یہ متفرق عبادتیں ہیں، جدا جدا عبادتیں ہیں ”لِأَنَّهُ يَتَخَلَّلُ بَيْنَ كُلِّ يَوْمَيْنِ مَا لَيْسَ بِزَمَانٍ لِهٰذِهِ الْعِبَادَةِ“ اس لیے کیونکہ بیچ میں آتا ہے ہر دو دنوں کے ”مَا“ ایسا زمانہ ایسا وقت، یا یوں کہیں ”مَا“ سے مراد رات لے لیں، رات۔ اس لیے کیونکہ بیچ میں آتی ہے ہر دو دنوں کے وہ رات ”لَيْسَ بِزَمَانٍ لِهٰذِهِ الْعِبَادَةِ“ جو اس عبادت کا زمانہ نہیں ہے۔ تو لہٰذا ہر روزے میں چونکہ ہر روزے کے بعد ایسا زمانہ آ رہا ہے جو روزے کا وقت نہیں ہے تو لہٰذا پھر اگلے روزے کے لیے کیا کرنا پڑے گی؟ نیت کرنا پڑے گی۔ ”بِخِلَافِ الِاعْتِكَافِ“ بخلاف اعتکاف کے، اس میں درمیان میں بیچ میں ایسا زمانہ نہیں آتا، اس لیے وہ تو مسلسل اعتکاف رہتا ہے، دن کو بھی اور رات کو بھی، تو وہاں ایک ہی نیت کافی ہے لیکن یہاں ایک نیت کافی نہیں۔ ”وَمَنْ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فِي رَمَضَانَ كُلِّهِ قَضَاهُ“. اب تیسری صورت بیان کر رہے ہیں کہ ایک شخص بے ہوش ہوا رمضان سے پہلے ہی اور پورا رمضان بے ہوشی کے اندر گزر گیا، تو کیا اس پر اس کی قضا آئے گی یا قضا نہیں آئے گی؟ کہتے ہیں بھئی اس پر سارے رمضان کی قضا آئے گی۔ اب تو ایک روزہ بھی ایسا نہیں جس میں ہم کہہ سکیں اس کی نیت موجود تھی، اس لیے کیونکہ وہ رمضان سے پہلے ہی کیا ہوا ہے؟ بے ہوش ہوا ہے۔ ”وَمَنْ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فِي رَمَضَانَ كُلِّهِ قَضَاهُ“ اور جس شخص پر بے ہوشی طاری ہوئی پورا رمضان ”قَضَاهُ“ تو وہ اس پورے رمضان کی قضا کرے گا۔ بھئی کیوں؟ پورا رمضان مہینہ تو بے ہوش بے ہوش ہی رہا، ہوش میں نہیں تھا۔ کہتے ہیں بھئی یہ جو بے ہوشی ہے، بے ہوشی، اس میں انسان کی صرف قوتیں ضعیف ہو جاتی ہیں، قوتیں ضعیف ہو جاتی ہیں، عقل اس کی زائل نہیں ہوتی۔ قوتیں ضعیف ہو گئیں لہٰذا اس کو کچھ سنائی نہیں دے رہا، اس کو کچھ پتہ نہیں کہ میرے ارد گرد کیا ہو رہا ہے، تو صرف قوتیں ضعیف ہوئی ہیں، عقل زائل نہیں ہوئی۔ اور جب عقل زائل نہیں ہوئی تو لہٰذا اب صرف قوتیں ضعیف ہیں تو یہ اس عبادت کو مؤخر کرنے میں تو کے لیے تو یہ عذر بن جائے گا، قوتوں کا ضعیف ہونا اس عبادت کو مؤخر کرنے کے لیے تو عذر بن جائے گا لیکن اس کو ساقط کرنے کے لیے عذر نہیں بنے گا، کیونکہ عقل کیا ہوتی ہے؟ اس حالت میں بھی زائل نہیں ہوتی بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ نَوْعُ مَرَضٍ يُضْعِفُ الْقُوَى“ اس لیے کیونکہ یہ ایک قسم کا مرض ہے ”يُضْعِفُ الْقُوَى“ جو قوتوں کو کمزور کر دیتا ہے ”وَلَا يُزِيلُ الْحِجَا“ حِجا کہتے ہیں عقل کو، اور یہ عقل کو زائل نہیں کرتا، یہ عقل کو زائل نہیں کرتی یعنی بے ہوشی ”فَيَصِيرُ عُذْرًا فِي التَّأْخِيرِ لَا فِي الْإِسْقَاطِ“ تو یہ مؤخر کرنے کے لیے تو عذر بن جائے گی لیکن ساقط کرنے کے لیے عذر نہیں بنے گی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جیسے گزشتہ سبق میں میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ بے ہوشی جو ہے وہ اگر ایک دن رات سے زائد رہے تو نمازیں تو اس کی وجہ سے ساقط ہوں گی لیکن روزے اس کی وجہ سے ساقط نہیں ہوں گے۔ تو جتنا بھی امتداد آ جائے بے ہوشی کے اندر اس سے روزے ساقط نہیں ہوں گے بھئی۔ وجہ اس کی یہ کہ اتنی اتنا عرصہ بے ہوشی رہے کہ پورا مہینہ ہی گزر جائے، یہ بہت نادر ہے، بہت ہی کم ہے کہ ایسا ہو جائے۔ جب بہت کم ہے تو اس پر اس کی وجہ سے روزے ساقط نہیں ہوں گے۔ جو چیز کثیر الوقوع ہو وہ تو تخفیف کا تقاضا کرتی ہے لیکن جو قلیل الوقوع ہو وہاں پر عبادت کو واجب کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بھئی، تو لہٰذا اس لیے یہاں پر روزے اس پر واجب ہوں گے اور وہ تو اس نے ادا کیے نہیں، تو لہٰذا اس کو قضا کرنا پڑے گی۔ اب جنون کے بارے میں بتلا رہے ہیں: ”وَمَنْ جُنَّ فِي رَمَضَانَ كُلِّهِ لَمْ يَقْضِهِ“ اور جس شخص پر جنون طاری ہوا ”فِي رَمَضَانَ كُلِّهِ“ سارا کا سارا رمضان ”لَمْ يَقْضِهِ“ وہ اس کی قضا نہیں کرے گا۔ بھئی بے ہوشی چاہے کچھ رمضان میں رہے، چاہے سارے رمضان میں رہے، اس میں قضا کرنا پڑے گی۔ اور جنون، جنون میں اگر امتداد ہو یعنی پورے مہینے کا احاطہ کر لے پھر تو وہ روزوں کو ساقط کر دے گا۔ پورا رمضان کوئی پاگل رہے تو رمضان کے روزے اس پر واجب نہیں اور نہ اس کے ذمے قضا ہے۔ کیونکہ اگر سارے رمضان کو اس پر واجب قرار دیا جائے تو اس میں حرج ہے، وہ مشکل میں پڑ جائے گا۔ اور اگر کچھ رمضان اس پر جنون آیا تو پھر اس صورت میں سارے جتنے روزے رہ گئے ہیں ان ساروں کی کیا کرنا پڑے گی؟ قضا کرنا پڑے گی، اس لیے کیونکہ سارا رمضان تو جنون نہیں رہا، کچھ ایام جنون کے آئے ہیں اور ان کی قضا کے اندر کوئی حرج نہیں، کوئی مشکل نہیں، سال بھر کا وقت ہے اس کے پاس، اطمینان سے کیا کر سکتا ہے؟ ان کی قضا کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَمَنْ جُنَّ فِي رَمَضَانَ كُلِّهِ لَمْ يَقْضِهِ“ اور جو مجنون ہوا سارے رمضان وہ اس کی قضا نہیں کرے گا ”خِلَافًا لِمَالِكٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ بخلاف امام مالک رحمہ اللہ کے، وہ فرماتے ہیں قضا کرے گا۔ ”وَهُوَ يَعْتَبِرُهُ بِالْإِغْمَاءِ“ وہ اس جنون کو قیاس کرتے ہیں بے ہوشی پر۔ بے ہوشی سارا مہینہ رہتی تھی تو روزے قضا کرنا پڑتے تھے یا نہیں کرنا پڑتے تھے؟ قضا کرنا پڑتے تھے، تو جنون بھی اگر سارا مہینہ رہے تو اس میں بھی کیا کرنا پڑے گی؟ قضا کرنا پڑے گی۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْمُسْقِطَ هُوَ الْحَرَجُ“ کہ وہ چیز جو روزوں کو ساقط کرنے والی ہے وہ حرج ہے، تو جہاں حرج ہوگا روزوں کو ساقط کیا جائے گا اور جہاں حرج نہیں تو وہاں روزے بھی ساقط نہیں ہوں گے۔ تو ساقط وہ ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْمُسْقِطَ هُوَ الْحَرَجُ“ کہ وہ چیز جو ساقط کرنے والی ہے وجوب کو وہ حرج ہے ”وَالْإِغْمَاءُ لَا يَسْتَوْعِبُ الشَّهْرَ عَادَةً“ اور بے ہوشی عادۃً یعنی عموماً پورے مہینے کو گھیرتی نہیں ہے، پورے مہینے کا احاطہ نہیں کرتی ”فَلَا حَرَجَ“ لہٰذا بے ہوشی کے اندر اگر سارے مہینے کو واجب قرار دے بھی دیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ نہایت ہی نادر ہے کہ ایسی صورت پیش آ جائے ”وَالْجُنُونُ يَسْتَوْعِبُهُ“ جبکہ جنون کیا کرتا ہے؟ سارے مہینے کو گھیر لیتا ہے، تو اس صورت میں اگر وجوب قرار دیا جائے تو پھر تو انسان حرج میں اور مشکل میں پڑ جائے گا اور حرج کو تو شریعت میں دور کیا گیا ہے، اس لیے پورا مہینہ پاگل پن رہا، جنون رہا تو اس پر روزے واجب نہیں۔ تو کہتے ہیں ”وَالْجُنُونُ يَسْتَوْعِبُهُ“ اور جنون جو ہے وہ پورے مہینے کا احاطہ کر لیتا ہے ”فَيَتَحَقَّقُ الْحَرَجُ“ تو حرج پایا جائے گا بھئی، اور جب حرج ہوگا وجوب کے اندر تو روزے ساقط ہو جائیں گے۔ ”وَإِنْ أَفَاقَ الْمَجْنُونُ فِي بَعْضِهِ قَضَى مَا مَضَى“. بھئی مسئلہ کیا ذکر ہوا؟ کہ اگر جنون سارے مہینے کو گھیر لے تو اس کی قضا نہیں، لیکن اگر سارے مہینے کو نہ گھیرے پھر سارے مہینے میں جتنے روزے رہ گئے ہیں سب کی قضا کرنا پڑے گی۔ یعنی ایک شخص پر جنون طاری تھا اور مہینے کے اندر ایک دن بھی اگر اس کو افاقہ ہو گیا یا چند دن بھی اس کو افاقہ ہو گیا اور پھر جنون طاری ہو گیا، تو اس صورت میں جتنے روزے چھوٹ گئے، چاہے پہلے چھوٹے ہیں، چاہے بعد میں چھوٹے ہیں، سب کی کیا کرنا پڑے گی؟ قضا کرنا پڑے گی۔ سب کی قضا کرنا پڑے گی۔ اس لیے کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: ”فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ“ اور جو شخص تم میں سے رمضان کے مہینے کو پا لے، یعنی رمضان کے مہینے میں حاضر ہو، ”فَلْيَصُمْهُ“ اسے چاہیے کہ وہ مہینہ روزے رکھے، اس رمضان کے مہینے میں روزے رکھے۔ قرآن میں کیا آیا؟ ”فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ“ جو تم میں سے حاضر ہو کس میں؟ رمضان کے مہینے میں، اور ”الشَّهْرَ“ سے مراد بعضِ شہر ہے۔ شہر سے مراد بعض، یعنی جو شخص رمضان کے کچھ مہینے میں حاضر ہو جائے یعنی اس کو پا لے، تو اس پر پورے مہینے کے روزے لازم ہیں وہ ان میں روزے رکھے۔ دلیل سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو رمضان کے بعض مہینے کو بھی کوئی پا لے تو اس پر مہینے کے روزے واجب ہو جائیں گے، بعض مہینے کو۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ بعض مہینے کی قید آپ نے کہاں سے لگا دی؟ قرآن میں تو صرف کیا آیا ہے؟ ”شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ“ یہاں بعضِ شہر تو نہیں، ہم کہتے ہیں کہ مراد بعضِ شہر ہے۔ اس لیے کیونکہ اگر پورے مہینے کو یہاں پورا مہینہ مراد لیں تو آیت کا ترجمہ یہ ہو جائے گا کہ جو آدمی پورے رمضان کے مہینے کو پا لے تو اس کو روزے رکھنے چاہییں۔ معلوم ہوا پورے مہینے کو سبب قرار دینا پڑے گا، اور پورا مہینہ سبب کب بنے گا؟ جب پورا مہینہ گزر جائے گا، پھر سبب بنے گا، سمجھ میں آیا؟ کیونکہ حکم ہمیشہ بعد میں آتا ہے، سبب پہلے آتا ہے، تو پورے مہینے کو اگر سبب قرار دیا جائے تو پھر پورا مہینہ گزرے گا اور روزے کب واجب ہوں گے؟ شوال میں جا کر واجب ہوں گے، حالانکہ روزے شوال میں جا کر واجب ہوتے ہیں یا رمضان میں ہی رکھنا پڑتے ہیں؟ رمضان میں ہی رکھنا پڑتے ہیں۔ معلوم ہوا یہاں جو شہر کا لفظ آیا اس سے مراد کیا ہے، کل مہینہ یا بعضِ مہینہ؟ بعض، تو تم میں سے بعض مہینے کو پا لے اس کو اس مہینے میں کیا رکھنے چاہییں؟ روزے رکھنے چاہییں۔ لہٰذا پہلی رات سے ہی وجوب آ گیا، جس نے پہلا حصہ ہی پا لیا اس پر کیا آ گیا؟ روزوں کا، رمضان کے روزوں کا وجوب آ گیا۔ دلیل بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی؟ تو اسی لیے یہاں پر مجنون جو ہے اگر وہ رمضان کے کچھ حصے میں بھی اس کا جنون ختم ہوا تو اس نے بعضِ مہینے کو پا لیا، اور بعض مہینے کو پا لینا یہ روزوں کے وجوب کا سبب ہے تو اس پر روزے واجب ہوں گے، جو گزشتہ ایام جنون کی حالت میں گزرے ان کی بھی قضا کرنا پڑے گی اور اگلے دنوں کی بھی اگر رہ جاتے ہیں ان کی بھی قضا کرنا پڑے گی۔ تو کہتے ہیں ”وَإِنْ أَفَاقَ الْمَجْنُونُ فِي بَعْضِهِ“ اور اگر افاقہ ہو گیا مجنون کو یعنی ہوش میں آ گیا مجنون ”فِي بَعْضِهِ“ بعضِ رمضان میں ”قَضَى مَا مَضَى“ تو وہ قضا کرے گا ان دنوں کی بھی جو گزر چکے ہیں۔ ”خِلَافًا لِزُفَرَ وَالشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ“ بخلاف امام زفر اور امام شافعی رحمہ اللہ کے، وہ فرماتے ہیں نہیں، گزشتہ ایام کی قضا نہیں کرنا پڑے گی۔ ”هُمَا يَقُولَانِ“ وہ فرماتے ہیں ”لَمْ يَجِبْ عَلَيْهِ الْأَدَاءُ“ کہ جو ایام جنون کی حالت میں گزر گئے اس کی ادا اس پر واجب نہیں ”لِانْعِدَامِ الْأَهْلِيَّةِ“ اہلیت معدوم ہونے کی وجہ سے۔ ان دنوں میں تو یہ مجنون تھا، اس میں اہلیت ہی نہیں تھی لہٰذا ان کی ادا واجب نہیں ”وَالْقَضَاءُ يُرَتَّبُ عَلَيْهِ“ اور قضا کیا ہے؟ ادا پر ہی مرتب ہوتی ہے، اور گزشتہ ایام میں تو اہلیت نہیں تھی، اس پر ادا واجب نہیں تھی تو قضا بھی اس پر واجب نہیں، معلوم ہوا گزشتہ ایام کی قضا اس کے ذمے نہیں۔ ”وَصَارَ كَالْمُسْتَوْعِبِ“ اور یہ جو ہے، یہ جنون بھی جنونِ مستوعب کی طرح ہو گیا۔ یہ جنون بھی کس کی طرح ہوا؟ وہ جنون جو پورے مہینے کا احاطہ کر لے، اور آپ نے ابھی متن میں گزشتہ متن میں یہی مسئلہ پڑھا، وہ جنون جو پورے مہینے کا احاطہ کر لے اس کے اندر اس شخص پر بعد میں بھی قضا واجب نہیں۔ تو امام زفر اور امام شافعی رحمہ اللہ یہ جو جنون بعضِ رمضان میں پایا گیا اس کو قیاس کرتے ہیں اس جنون پر جو پورے مہینے کا احاطہ کر لے، وہ فرماتے ہیں جیسے وہاں پر قضا نہیں آتی تھی تو یہاں اس کے اندر بھی قضا نہیں ہے۔ یعنی وہ وہ قیاس کرتے ہیں بعض کو کل پر، جب کل کے اندر جنون پایا جائے تو قضا نہیں ہوتی تو بعض کے اندر جب جنون پایا جائے تو اس میں بھی قضا نہیں آئے گی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے ”وَصَارَ كَالْمُسْتَوْعِبِ“ اور یہ جنون جو بعضِ مہینے میں پایا گیا یہ بھی کس کی طرح ہوا؟ اس جنون کی طرح جو مستوعب تھا، پورے مہینے کو گھیرنے والا تھا۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ السَّبَبَ قَدْ وُجِدَ“ کہ تحقیق سبب پایا گیا ہے۔ روزوں کے وجوب کا سبب پایا گیا ہے ”وَهُوَ الشَّهْرُ“ اور وہ کیا ہے؟ وہ رمضان کا مہینہ ہے، یعنی بعضِ مہینہ ہے، اور اس کو بھی بعضِ مہینے میں افاقہ ہو گیا یا نہیں ہو گیا؟ تو اس نے سبب کو پا لیا یعنی بعضِ مہینے کو۔ اور جو آپ کہتے ہیں اس کے اندر اہلیت نہیں تھی ان دنوں کے اندر، ہم کہتے ہیں اہلیت یہاں ذمے کی وجہ سے ہے، کس کی وجہ سے؟ ذمے، یہ پہلے بھی میں بیان کر چکا ہوں، ذمہ اس مفہوم کا نام ہے جس کی وجہ سے کوئی شخص کسی حق کا مستحق بنتا ہے، کسی حق کا مستحق بنتا ہے اور کسی حق کی ادائیگی کا ذمہ دار بنتا ہے، تو وہ مفہوم وہ چیز جس کی وجہ سے انسان حقوق کا مستحق بنتا ہے اور ان کی ادائیگی کا ذمہ دار بنتا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ ذمہ کہتے ہیں۔ کسے کہتے ہیں ذمہ؟ وہ مفہوم یعنی وہ چیز جس کی وجہ سے انسان اپنے حقوق کا مستحق بنتا ہے اور دوسروں کے حقوق کا ذمہ دار بنتا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ ذمہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ ذمہ کہتے ہیں۔ لہٰذا مجھے آپ بتائیے، آپ پڑھ چکے ہوں گے، اگر مجنون کسی شخص کا مال ضائع کر دے، جلا دے یا ضائع کر دے، تو کیا اس کے مجنون کے مال میں سے اس کو ضمان دیا جائے گا یا نہیں دیا جائے گا؟ اس کو دیا جائے گا، کیا کیا جائے گا؟ اس کا ضمان دیا جائے گا اس کے مال میں سے کیونکہ اس نے دوسرے کا مال ضائع کیا ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ معلوم ہوا اس کا ذمہ موجود ہے، اور یہاں پر بھی اہلیت کس کی وجہ سے ہے؟ ذمے کی وجہ سے ہے۔ یہاں پر بھی اہلیت کس کی وجہ سے ہے؟ ذمے کی وجہ سے ہے، اور ذمہ کی وجہ سے وجوب آ جاتا ہے، تو جب ذمہ موجود ہے تو اس پر روزوں کا وجوب آئے گا بھئی، وہ روزوں کا وجوب آئے گا۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ اگر یہاں وجوب اور اہلیت کس کی وجہ سے ہے؟ ذمے کی وجہ سے ہے، تو پھر ذمہ تو اس کو جب پورا مہینہ جنون رہا، ذمہ تو اس کا اس وقت بھی موجود تھا، اور اس وقت آپ نے کیا کہا؟ اس پر قضا نہیں آئے گی، تو ذمہ تو وہاں بھی موجود ہے، جیسے یہاں پر ذمہ موجود ہے تو وہاں بھی قضا واجب ہونی چاہیے۔ تو جواب یہ کہ بھئی یہ ذمہ جو ہے نا ذمہ، اس کی وجہ سے وجوب آتا ہے۔ لہٰذا جو بچہ ہے بچہ، اس کا بھی ذمہ موجود ہے، اس پر بھی روزے واجب ہونے چاہییں، لیکن چونکہ اس کا جو عذر ہے اس میں امتداد پایا جا رہا ہے، اس کا عذر کیا ہے؟ بچپنا ہے، اور بچپنے میں کیا ہے؟ امتداد ہے، تو وہاں دفعِ حرج کی وجہ سے وجوب کو کیا کر دیا گیا؟ ساقط کر دیا گیا۔ تو یہاں پر بھی جب جنون جنون کے اندر اس کا ذمہ تو موجود، لیکن جب یہ جنون پورے مہینے کا احاطہ کر لے گا تو اب اگر اس پر قضا واجب کی جائے تو کیا لازم آئے گا؟ حرج لازم آئے گا۔ اس لیے وہاں دفعِ حرج کی وجہ سے پورے مہینے کی قضا اس پر واجب قرار نہیں دی گئی، اور یہاں پر تو پورے مہینے کی قضا نہیں ہے اس کے ذمے، یہ تھوڑے سے روزے ہیں دس یا پندرہ جو گزرے ہیں، ان کی ادائیگی تو اس کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ بات دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا یہ وجوب فی الذمہ جو ہے وجوب فی الذمہ، چاہے بچہ ہے چاہے مجنون ہے، ان کے اندر ذمہ موجود ہے، وجوب آنا چاہیے، لیکن بچے کے اندر وجوب کیوں ساقط کر دیا گیا؟ دفعِ حرج کے لیے، کیونکہ امتداد ہے، اور جنون کے اندر بھی جہاں امتداد ہوگا تو دفعِ حرج کے لیے روزوں کو ساقط کر دیا جائے گا، اور جہاں امتداد نہیں وہاں ادائیگی کے اندر چونکہ کوئی حرج نہیں تو اس پر وجوب رہے آئے گا اور اس پر قضا واجب ہوگی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ یہ معنی ہے ”وَلَنَا أَنَّ السَّبَبَ قَدْ وُجِدَ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ روزوں کے وجوب کا جو سبب ہے تحقیق وہ پایا گیا ہے ”وَهُوَ الشَّهْرُ“ اور وہ مہینہ ہے، یعنی بعضِ مہینہ ہے ”وَالْأَهْلِيَّةُ بِالذِّمَّةِ“ اور اہلیت کس کی وجہ سے ہے؟ ذمے کی وجہ سے ہے، تو اس میں اہلیت ہے جب اس کا ذمہ موجود ہے ”وَفِي الْوُجُوبِ فَائِدَةٌ“ اور وجوب کے اندر فائدہ بھی ہے یہاں پر ”وَهُوَ صَيْرُورَتُهُ مَطْلُوبًا عَلَى وَجْهٍ لَا يُحْرَجُ فِي أَدَائِهِ“ وہ روزے کا ہو جانا ہے مطلوب ایسے طریقے پر کہ حرج نہ ہو اس کی ادائیگی میں۔ یہاں پر بھئی روزے کی روزہ جو ہے وہ مطلوب بن جائے گا، روزہ کیا بن جائے گا؟ مطلوب بن جائے گا ایسے طریقے پر کہ اس کی ادائیگی میں حرج نہ ہو، اور یہاں بھی جب چند ایام ہیں تو اس کی ادائیگی میں کوئی حرج نہیں، تو لہٰذا روزہ مطلوب بن جائے گا ایسے طریقے پر کہ اس کی ادائیگی میں حرج نہیں ہوگا ”بِخِلَافِ الْمُسْتَوْعِبِ“ بخلاف وہ جنون جو کیا کر لے؟ پورے مہینے کا احاطہ کر لے ”لِأَنَّهُ يُحْرَجُ فِي الْأَدَاءِ فَلَا فَائِدَةَ“ وہاں پر حرج ہوگا ادائیگی کے اندر لہٰذا کوئی فائدہ نہیں، تو یہاں پر فائدہ ہے کہ ادائیگی میں کوئی حرج نہیں لہٰذا اس کو واجب قرار دیا جائے گا، اور پورے مہینے کو گھیر لے تو وہاں فائدہ نہیں ہے کیونکہ وہ حرج میں پڑ جائے گا وہ آدمی، اس لیے وہاں وجوب بھی نہیں آئے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ آگے صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”وَتَمَامُهُ فِي الْخِلَافِيَّاتِ“ اور یہ پورا مسئلے کی پوری تفصیل جو ہے ”فِي الْخِلَافِيَّاتِ“ خلافیات کے اندر مذکور ہے، یعنی ان کتابوں کے اندر جن میں اختلافی مسائل ذکر ہیں وہاں پر اس مسئلے کی پوری تفصیل مذکور ہے۔ ”ثُمَّ لَا فَرْقَ بَيْنَ الْأَصْلِيِّ وَالْعَارِضِيِّ“ پھر کوئی فرق نہیں ہے جنونِ اصلی اور جنونِ عارضی میں۔ بھئی جنونِ اصلی یہ ہے کہ کوئی شخص بالغ ہوتا ہے حالتِ جنون میں، بالغ ہوتے وقت ہی وہ کیا تھا؟ مجنون تھا، یہ ہے جنونِ اصلی۔ اور ایک صورت یہ کہ بالغ ہوتے وقت تو ٹھیک تھا، بعد میں جنون پیش آیا تو یہ ہے جنونِ عارضی، یہ کیا ہے؟ جنونِ عارضی۔ تو یہاں پر جنونِ اصلی اور عارضی میں کوئی فرق نہیں ہے، چاہے جنون اصلی ہو چاہے عارضی ہو، درمیان میں جب افاقہ ہو گیا تو پچھلے دنوں کی بھی کیا کرنا پڑے گی؟ قضا کرنا پڑے گی۔ تو کہتے ہیں ”ثُمَّ لَا فَرْقَ بَيْنَ الْأَصْلِيِّ وَالْعَارِضِيِّ“ پھر کوئی فرق نہیں ہے جنونِ اصلی اور عارضی میں ”قِيلَ هٰذَا فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ“ اور کہا گیا ہے کہ یہ ظاہرِ روایت میں ہے، ظاہرِ روایت میں کوئی فرق نہیں کیا گیا جنونِ اصلی اور عارضی میں۔ ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ سے ایک روایت یہ ہے ”أَنَّهُ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا“ انہوں نے تفریق کی ہے دونوں کے درمیان یعنی فرق کیا ہے، اس لیے کیونکہ وہ فرماتے ہیں ”لِأَنَّهُ إِذَا بَلَغَ مَجْنُونًا“ کہ جب کوئی شخص بالغ ہی کس حالت میں ہو؟ جنون کی حالت میں یعنی جنونِ اصلی ہو ”الْتَحَقَ بِالصَّبِيِّ“ اس کو انہوں نے ملایا ہے بچے کے ساتھ۔ اس کو کس کے ساتھ ملایا ہے؟ بچے کے ساتھ، اور بچے کے مسئلے میں آپ نے کیا پڑھا پچھلے سبق میں؟ کہ جو گزشتہ ایام ہوتے ہیں ان کی قضا اس کے ذمے ہوتی ہے یا نہیں ہوتی؟ گزشتہ ایام کی قضا اس کے ذمے نہیں ہوتی، تو یہاں پر بھی اگر جنون اصلی ہو تو پچھلے ایام کی قضا نہیں ہوگی، اور اگر جنون عارضی ہو تو گزشتہ ایام کی بھی قضا ہوگی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ ”لِأَنَّهُ إِذَا بَلَغَ مَجْنُونًا الْتَحَقَ بِالصَّبِيِّ“ اس لیے کیونکہ جب کوئی شخص مجنون ہونے کی حالت میں بالغ ہو ”الْتَحَقَ بِالصَّبِيِّ“ تو وہ کس کے ساتھ مل جائے گا؟ بچے کے ساتھ مل جائے گا ”فَانْعَدَمَ الْخِطَابُ“ تو خطاب معدوم ہوگا، خطاب اس کی طرف متوجہ نہیں ہوگا تو اس پر گزشتہ ایام کی قضا بھی نہیں ”بِخِلَافِ مَا إِذَا بَلَغَ عَاقِلًا ثُمَّ جُنَّ“ بخلاف اس کے کہ جب وہ عقل کی حالت میں بالغ ہوا ”ثُمَّ جُنَّ“ پھر وہ مجنون ہوا، اس میں ایسا نہیں ہے، اس میں گزشتہ ایام کی بھی کیا کرنا پڑے گی؟ قضا کرنا پڑے گی۔ ”وَهٰذَا مُخْتَارُ بَعْضِ الْمُتَأَخِّرِينَ“ اور یہی مختار ہے بعض متاخرین کا، بعض متاخرین نے اسی کو کیا کیا ہے؟ پسند کیا ہے اور اس قول کو لیا ہے کہ جنون اصلی ہو تو گزشتہ ایام کی قضا نہیں، اور جنون عارضی ہو تو گزشتہ ایام کی قضا ہے۔ چلیے بس بھئی ”هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“.