”وَمَنْ دَخَلَ فِي صَلَاةِ التَّطَوُّعِ أَوْ فِي صَوْمِ التَّطَوُّعِ ثُمَّ أَفْسَدَهُ قَضَاهُ خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ، لَهُ أَنَّهُ تَبَرَّعَ بِالْمُؤَدَّى فَلَا يَلْزَمُهُ مَا لَمْ يَتَبَرَّعْ بِهِ“. بھئی یہ وہی مسئلہ ہے جو پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ ہمارے نزدیک نفل جب تک شروع نہیں کیے وہ نفل ہیں، لیکن جب ایک دفعہ شروع کر دیے چاہے نفلی نماز ہے چاہے نفلی روزہ ہے، جب ایک دفعہ شروع کر دیے تو یہ واجب ہو گئے۔ لہٰذا اب ان کو پورا کرنا ضروری ہے اور اگر ان کو درمیان میں کسی وجہ سے توڑنا پڑا تو پھر ان کی قضا کرنا پڑے گی بھئی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، یہ نفل ہیں تو یہ نفل ہی رہیں گے، یہ واجب نہیں ہوتے شروع کرنے سے بھی، جب واجب نہیں ہوتے تو ان کی قضا بھی لازم نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَمَنْ دَخَلَ فِي صَلَاةِ التَّطَوُّعِ أَوْ فِي صَوْمِ التَّطَوُّعِ ثُمَّ أَفْسَدَهُ قَضَاهُ“ اور جو شخص داخل ہوا نفلی نماز میں یعنی جس نے نفلی نماز شروع کی ”أَوْ فِي صَوْمِ التَّطَوُّعِ“ یا نفلی روزے کے اندر ”ثُمَّ أَفْسَدَهُ“ پھر اس کو فاسد کر دیا ”قَضَاهُ“ تو اس کی قضا کرے گا ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے۔ ”لَهُ“ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ تَبَرَّعَ بِالْمُؤَدَّى فَلَا يَلْزَمُهُ مَا لَمْ يَتَبَرَّعْ بِهِ“۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دیکھیے ایک شخص اگر نفل شروع کرتا ہے اور درمیان میں توڑ دیتا ہے، بلکہ پہلے پوری پورے کی صورت بنا لیں۔ ایک شخص نفل شروع کرتا ہے اور اختتام تک پہنچا دیتا ہے تو کیا کہیں گے؟ اس نے نفل پڑھے ہیں یا اس نے واجب ادا کیا ہے؟ اس نے نفل پڑھے ہیں۔ تو جب پورا بھی کر دے تو وہ نفل ہی کہلاتے ہیں۔ اسی طرح اگر درمیان میں کچھ حصہ ابھی ادا کیا ہے تو جو حصہ گزر چکا وہ کیا ہے؟ وہ نفل ہی ہے۔ جب وہ حصہ نفل ہے وہ اس پر واجب نہیں تو جو حصہ ابھی اس نے ادا ہی نہیں کیا جس کا اس نے تبرع ہی نہیں کیا وہ تو بطریق اولیٰ اس پر لازم نہیں۔ تو تبرع کا معنی ہوتا ہے اپنی طرف سے کوئی چیز دینا۔ تبرع کا کیا معنی؟ اپنی طرف سے کوئی چیز دینا جو کسی شخص پر لازم نہ ہو، مثلاً آپ فقیر کو صدقہ یا خیرات وغیرہ دیتے ہیں تو دیکھیے یہ آپ اپنی طرف سے دے رہے ہیں، آپ پر لازم نہیں تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تبرع کہتے ہیں۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نفل درمیان میں اگر کوئی نفلوں کو فاسد بھی کرتا ہے تو جو حصہ اس نے ادا کر دیا ہے وہ کیا ہے؟ وہ تو نفل ہے، جو حصہ درمیان میں نفل فاسد کیے ہیں نا، تو جو حصہ اب تک ادا کر چکا تھا وہ کیا تھے؟ وہ نفل تھے، تو جو حصہ ابھی اس نے ادا ہی نہیں کیا یعنی دوبارہ بلکہ یوں کہیں، جو حصہ اس نے ادا کر دیا ہے اس میں یہ متبرع تھا، تو جس حصے کا اس نے ابھی تبرع بھی نہیں کیا، جس کو ابھی اس نے ادا بھی نہیں کیا وہ اس پر کیسے لازم ہو سکتا ہے؟ وہ تو بطریق اولیٰ اس پر لازم نہیں۔ جب جو حصہ ادا کیا ہے وہ کیا ہے؟ تبرع۔ تو جس حصے کا تبرع بھی ابھی نہیں کیا وہ اس پر کیسے لازم قرار دیا جا سکتا ہے؟ دلیل سمجھ میں آ رہی ہے؟ جو حصہ ادا کیا وہ بھی اس پر واجب نہیں تھا، وہ بھی کیا تھا؟ وہ تبرع تھا، تو جب وہ تبرع ہے جس کو وہ ادا کر چکا ہے، تو جو حصہ ابھی اس نے ادا کیا ہی نہیں، جس کا اس نے ابھی تبرع بھی نہیں کیا وہ اس پر کیسے لازم قرار دیا جا سکتا ہے؟ لہٰذا وہ بھی اس پر لازم نہیں ہے بھئی۔ دلیل ان کی سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے ”لَهُ“ ان کی دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ تَبَرَّعَ بِالْمُؤَدَّى“ کہ اس نفل پڑھنے والے نے تبرع کیا ہے ادا کیے ہوئے حصے کے اندر یعنی وہ نفل ہے جو ادا کر چکا ہے حصہ ”فَلَا يَلْزَمُهُ مَا لَمْ يَتَبَرَّعْ بِهِ“ تو اس پر لازم بھی نہیں ہوگا وہ حصہ جس کا اس نے ابھی تبرع بھی نہیں کیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے، ہم کہتے ہیں کہ جو حصہ یہ ادا کر چکا ہے نفل کا مثلاً ادھی رکعت پڑھی ہے رکوع کے بعد پہنچا ہے اور یہاں آکر وہ کیا کرنا چاہتا ہے؟ نفل کو فاسد کرنا چاہتا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ جو حصہ ادا کر چکا ہے وہ عبادت ہے یا عبادت نہیں؟ یقینی بات ہے وہ کیا ہے؟ عبادت ہے اور ایک عمل ہے اور قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ﴾ تم لوگ اپنے عملوں کو باطل نہ کرو اور یہ جو حصہ ادا کر چکا ہے وہ بھی کیا تھا؟ ایک عمل ہے، معلوم ہوا اس کو بھی باطل نہیں کیا جائے گا اور اس کو باطل ہونے سے بچانا ضروری ہے اور اس کو باطل ہونے سے بچانے کی کیا صورت ہے؟ کہ اس پر عمل کو جاری رکھا جائے اور اختتام تک پہنچا دیا جائے۔ اگر اختتام تک پہنچا دیں گے تو نفل پورے ہو جائیں گے اور وہ بچ جائے گا، اگر اختتام تک نہیں پہنچائیں گے تو یہ تو آپ نے اپنے عمل کو کیا کر دیا؟ درمیان میں ہی باطل کر دیا حالانکہ اللہ تعالیٰ کیا فرما رہے ہیں؟ ﴿وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ﴾ تم اپنے عملوں کو باطل نہ کرو۔ معلوم ہوا جو شخص نفل کو درمیان میں فاسد کرتا ہے حالانکہ اس شخص پر تو اس پر عمل کو جاری رکھنا واجب تھا کیونکہ قرآن میں آگیا، تو اس پر تو کیا ضروری تھا؟ اس کو باطل ہونے سے بچانا ضروری تھا اور باطل ہونے سے بچانے کی کیا صورت تھی؟ کہ انسان اس پر عمل کرتا چلا جائے کہاں تک؟ اختتام تک پہنچا دے۔ تو معلوم ہوا اس پر عمل کو جاری رکھنا اور اس پر چلتے رہنا یہ اس شخص پر واجب ہوا اور جو اس کو چھوڑ دے گا درمیان میں فاسد کر دیتا ہے تو اس پر تو عمل کو جاری رکھنا واجب تھا، اس نے واجب کو کیا کر دیا؟ چھوڑ دیا اور واجب کو چھوڑ دیا جائے تو اس کی وجہ سے کیا آتی ہے؟ قضا آتی ہے لہٰذا اس کو بھی کیا کرنا پڑے گی؟ اب اس کی قضا کرنا پڑے گی۔ تو یہ معنی ہے ”وَلَنَا أَنَّ الْمُؤَدَّى قُرْبَةٌ وَعَمَلٌ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ وہ جو ادا کر دیا گیا جو حصہ وہ قربت ہے یعنی عبادت ہے ”وَعَمَلٌ“ اور عمل ہے ”فَتَجِبُ صِيَانَتُهُ بِالْمُضِيِّ عَنِ الْإِبْطَالِ“ پس واجب ہے اس کو بچانا ”عَنِ الْإِبْطَالِ“ کس چیز سے؟ باطل ہونے سے، تو اس کو باطل کرنے سے بچانا ضروری ہوا ”بِالْمُضِيِّ“ مضی کا معنی جاری رہنا، چلتے رہنا، تو اس کو باطل کرنے سے بچانا واجب ہوا ”بِالْمُضِيِّ“ اس پر چلنے کے ذریعے کہ اس پر چلا جائے اس پر جاری رہا جائے، معلوم ہوا اس پر چلنا واجب ہوا۔ ”وَإِذَا وَجَبَ الْمُضِيُّ وَجَبَ الْقَضَاءُ بِتَرْكِهِ“ اور جب اس پر چلنا واجب ہوا اس پر جاری رہنا واجب ہوا ”وَجَبَ الْقَضَاءُ“ تو قضا بھی واجب ہوگی ”بِتَرْكِهِ“ اس مضی کو چھوڑنے سے۔ یہ مضی یعنی اس پر چلتے رہنا اس پر واجب ہے اور جب اس چلتے رہنے کو وہ چھوڑ دے گا تو اس پر قضا واجب ہوگی کیونکہ چلتے رہنا اس پر واجب تھا اور اس نے واجب کو چھوڑ دیا اور واجب کو چھوڑنے سے کیا واجب ہوتی ہے؟ قضا واجب ہوتی ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ والد صاحب رحمہ اللہ اس کی عجیب مثال سے وضاحت فرمایا کرتے تھے بھئی کہ یہ نفل شروع کرنے کے بعد لازم کیوں ہو جاتے ہیں، کیوں ہو جاتے ہیں۔ وہ فرماتے دیکھیے مثلاً دو دوست ہیں، دو ساتھی ہیں زید اور عمرو۔ تو زید عمرو کو چائے پلاتا ہے بطور دوستی اور محبت کے اور چائے لا کر دیتا ہے عمرو کو اور عمرو اس میں سے جب ایک دو گھونٹ چائے پی لیتا ہے تو زید اس سے چائے واپس لے لیتا ہے کہ لاؤ بھئی میری چائے واپس دے دو مجھے۔ تو اب دیکھیے بھئی وہ عمرو اس بات پر ناراض ہوگا اور سارے لوگ بھی اس کو برا کہیں گے زید کو برا کہیں گے کہ اس نے بڑا غلط کام کیا۔ یا تو یہ چائے اس کو پلاتا نہ اور اگر پلا دی تھی تو پھر درمیان میں واپس نہ لیتا۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے، نفل نہیں ادا کرنا تھا تو ادا نہ کرتا، اب شروع کر دیے ہیں تو درمیان میں باطل نہ کرے ورنہ اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی۔ ”ثُمَّ عِنْدَنَا لَا يُبَاحُ الْإِفْطَارُ فِيهِ بِغَيْرِ عُذْرٍ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ لِمَا بَيَّنَّا“۔ اب بھئی نفل جو ہیں نفل، ان میں عذر کے بغیر کیا نفلی روزے کے اندر افطار کرنا جائز ہے یا جائز نہیں بغیر عذر کے؟ تو اس میں صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ دو روایتیں ہیں اس بارے میں کہ نفل کو بغیر عذر کے نفلی روزے کو بغیر عذر کے افطار کرنا جائز ہے یا جائز نہیں، دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت یہ کہ افطار کرنا بغیر عذر کے بھی جائز ہے کیونکہ نفل ہیں البتہ یہ بعد میں کیا کرنا پڑے گی؟ قضا کرنا پڑے گی، جبکہ دوسری روایت کہتے ہیں یہ ہے جو ہم نے بیان کر دی کہ بغیر عذر کے افطار جائز نہیں۔ کیوں نہیں جائز؟ کیونکہ اس پر چلتے رہنا واجب ہے، اس پر چلتے رہنا واجب ہے، اختتام تک پہنچانا واجب ہے، معلوم ہوا بغیر عذر کے توڑ نہیں سکتے اس کو، توڑ نہیں سکتے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”ثُمَّ عِنْدَنَا لَا يُبَاحُ الْإِفْطَارُ فِيهِ بِغَيْرِ عُذْرٍ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ لِمَا بَيَّنَّا“ پھر ہمارے نزدیک مباح نہیں ہے افطار کرنا اس میں بغیر کسی عذر کے، دو روایتوں میں سے ایک کے مطابق ”لِمَا بَيَّنَّا“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی کہ اس پر چلتے رہنا اس پر واجب ہو چکا ہے۔ ”وَيُبَاحُ بِعُذْرٍ“ اور عذر کی وجہ سے افطار کرنا مباح ہے جائز ہے۔ ”وَالضِّيَافَةُ عُذْرٌ“ اور باقی دعوت جو ہے وہ عذر ہے بھئی۔ کوئی شخص کسی کو دعوت پر دعوت دے کھانے کی تو یہ عذر ہے۔ لہٰذا علماء فرماتے ہیں بھئی اگر کوئی شخص کسی کو کھانے کی دعوت دے اور اس کا نفلی روزہ ہے تو اگر اس کو علم ہے کہ اگر میں کھانا نہیں کھاؤں گا تو یہ شخص اس کی دل شکنی ہوگی تو اس کو چاہیے کہ روزہ وہ نفلی روزہ توڑ دے اور پھر بعد میں کسی دن کیا کر لے اس کی؟ قضا کر لے۔ تو یہی ذکر کر رہے ہیں کہتے ہیں ”وَالضِّيَافَةُ عُذْرٌ“ اور دعوت جو ہے وہ عذر ہے ”لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے، آپ نے فرمایا: ”أَفْطِرْ وَاقْضِ يَوْمًا مَكَانَهُ“۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک دعوت پر موجود تھے، آپ نے دیکھا کہ صحابہ میں سے ایک جو ہیں وہ کھا پی نہیں رہے، وہ شخص کہنے لگا کہ میرا روزہ ہے، تو حضور علیہ السلام ان سے فرمانے لگے کہ ”أَفْطِرْ“ روزہ کیا کرو؟ توڑ دو ”وَاقْضِ يَوْمًا مَكَانَهُ“ اور قضا کر لو ایک دن اس کی جگہ پر، یعنی ایک دن پھر اس کی جگہ اس کی قضا کر لینا بھئی۔ ”وَإِذَا بَلَغَ الصَّبِيُّ أَوْ أَسْلَمَ الْكَافِرُ فِي رَمَضَانَ أَمْسَكَا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمَا“۔ بھئی یاد رکھیے کہ کوئی شخص ہو جس میں ابتدائے دن کے اندر روزے کی اہلیت نہ ہو یعنی اس پر روزے کا وجوب نہیں آیا اولِ دن میں اس میں اہلیت نہیں تھی یا کوئی مانع موجود تھا، تو باقی دن کے اندر جب اس میں اہلیت آجائے یا وہ مانع چلا جائے تو اب اس شخص پر واجب ہے کہ وہ روزہ داروں کی مشابہت اختیار کرے۔ رمضان کے اندر اس پر کیا واجب ہے؟ بھئی اولِ دن میں تو اس پر اہلیت نہیں تھی یا کوئی مانع وغیرہ موجود تھا تو وہ روزہ تو نہیں رکھ سکا، روزہ تو وہ نہیں رکھ سکا اور درمیان میں اب اہلیت پیدا ہوگئی، اب تو روزہ رکھا نہیں جا سکتا کیونکہ روزہ تو صبح صادق سے ہوتا ہے درمیانِ دن سے نہیں ہوتا، تو روزہ تو نہیں رکھ سکتا لیکن کم از کم پھر کیا کر لے؟ روزہ داروں کی مشابہت اختیار کر لے اس وقت کے حق کو ادا کرنے کے لیے کیونکہ یہ رمضان کا وقت ہے، نہایت عظمت والا وقت ہے تو اس وقت کا حق ادا کرنے کے لیے وہ روزہ تو نہیں رکھ سکا لیکن کم از کم کیا کرے اب؟ روزہ داروں کی مشابہت اختیار کر لے گا یعنی کھانے پینے وغیرہ چیزوں سے اب شام تک یہ رکا رہے گا اور یہ اس پر واجب ہے بھئی، یہ اس پر واجب ہے بھئی۔ تو یہی مسئلہ ذکر کر رہے ہیں ”وَإِذَا بَلَغَ الصَّبِيُّ أَوْ أَسْلَمَ الْكَافِرُ فِي رَمَضَانَ“ اور جب بالغ ہو جائے کوئی بچہ یا مسلمان ہو جائے کافر رمضان میں، مثلاً کس وقت بالغ ہوا یا کس وقت مسلمان ہوا؟ دن کے وقت، ”أَمْسَكَا“ تو یہ دونوں رکے رہیں گے ”بَقِيَّةَ يَوْمِهِمَا“ اپنا باقی دن بھئی، باقی دن یہ کھانے پینے سے رکے رہیں گے یعنی امساک کریں گے ”قَضَاءً لِحَقِّ الْوَقْتِ“ وقت کے حق کو ادا کرنے کے لیے کیونکہ یہ بڑی عظمت والا وقت ہے، تو یہ وقت کے حق کو ادا کرنے کے لیے ”بِالتَّشَبُّهِ“ مشابہت کے ذریعے یعنی روزہ داروں کی مشابہت اختیار کریں گے۔ ”وَلَوْ أَفْطَرَا فِيهِ لَا قَضَاءَ عَلَيْهِمَا“۔ بھئی اگر یہ دونوں مشابہت اختیار نہیں کرتے اور کھاتے پیتے وغیرہ ہیں تو پھر کیا ان پر قضا آئے گی؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، قضا پھر بھی ان پر نہیں آئے گی اگرچہ انہوں نے گناہ والا کام کیا لیکن قضا نہیں آئے گی، اس لیے کیونکہ قضا آتی ہے روزے کی اور روزہ تو ان پر واجب ہی نہیں تھا کیونکہ اولِ نہار میں یعنی دن کے پہلے حصے میں ان میں روزے کی اہلیت ہی نہیں تھی بھئی۔ یہ معنی ہے ”وَلَوْ أَفْطَرَا فِيهِ“ اور اگر ان دونوں نے افطار کر لیا اس دن کے اندر ”لَا قَضَاءَ عَلَيْهِمَا“ تو ان پر قضا نہیں ہے ”لِأَنَّ الصَّوْمَ غَيْرُ وَاجِبٍ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ روزہ جو ہے ان پر اس دن کے اندر واجب نہیں تھا بلکہ صرف روزہ داروں کی مشابہت لازم تھی روزہ واجب نہیں تھا اور جب روزہ واجب نہیں تھا تو پھر قضا بھی نہیں آئے گی کیونکہ قضا تو روزے کی آتی ہے۔ ”وَصَامَا مَا بَعْدَهُ“ اور یہ دونوں روزہ رکھیں گے اس کے بعد، یعنی اس دن تو یہ روزہ نہیں رکھ سکتے کیونکہ اولِ نہار میں ان میں اہلیت نہیں تھی، لیکن بعد والے دنوں میں یہ کیا کریں گے؟ رمضان کے باقی دنوں میں یہ روزہ رکھیں گے ”لِتَحَقُّقِ السَّبَبِ وَالْأَهْلِيَّةِ“ سبب اور اہلیت پائے جانے کی وجہ سے، کیونکہ اب سبب بھی پایا جا رہا ہے اور وہ شہودِ شہرِ رمضان ہے اور نیز اہلیت بھی ان میں پیدا ہو چکی ہے۔ پہلے تو نابالغ تھا اب کیا ہو چکا؟ بالغ اور پہلے تو غیر مسلم تھا اب کیا ہو چکا؟ مسلمان ہو چکا۔ ”وَلَمْ يَقْضِيَا يَوْمَهُمَا“ اور دونوں قضا نہیں کریں گے اپنے اس دن کی، بھئی سوال پیدا ہوتا ہے پیچھے بھی آیا تھا ”لَا قَضَاءَ عَلَيْهِمَا“ تو یاد رکھیے وہ تو آیا تھا کہ اگر یہ دونوں کیا کر لیں؟ اس دن کھا پی لیں تو پھر ان پر قضا نہیں ہے۔ اب ویسے بتلا رہے ہیں اگر یہ مشابہت اختیار کر لیتے ہیں یعنی کچھ نہیں کھاتے پیتے تو کیا پھر بعد میں اس روزے کی قضا کریں گے؟ کیونکہ روزہ تو اس دن کا نہیں ہوا، بے شک انہوں نے مشابہت اختیار کر لی لیکن روزہ تو نہیں ہوا تو کیا بعد میں اس دن کی قضا کریں گے دونوں؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، قضا نہیں کریں گے، اس لیے کیونکہ اولِ نہار کے اندر ان کے اندر اہلیت ہی نہیں تھی لہٰذا اس دن کے روزے کا وجوب ان پر آیا ہی نہیں ہے، جب وجوب نہیں آیا تو ان پر قضا بھی نہیں۔ یہ معنی ہے ”وَلَمْ يَقْضِيَا يَوْمَهُمَا“ اور یہ دونوں قضا نہیں کریں گے اپنے دن کی ”وَلَا مَا مَضَى“ اور نہ ان دنوں کی جو گزر چکے ہیں۔ یعنی بچہ جس دن بالغ ہوا ہے اس سے گزشتہ ایام جو رمضان کے گزر چکے ہیں ان کی وہ قضا نہیں اس کے ذمہ، ہاں اگلے روزے وہ رکھنا پڑیں گے اس کو۔ اسی طرح درمیان میں کوئی مسلمان ہوا ہے تو جو دن گزر چکے ہیں ان دنوں کی بھی قضا اس کے ذمہ نہیں ہے۔ یہ معنی ہے ”وَلَا مَا مَضَى“ اور نہ ان دنوں کی جو گزر چکے ہیں ”لِعَدَمِ الْخِطَابِ“ اس لیے کیونکہ خطاب معدوم ہے یعنی اللہ کی طرف سے خطاب ان کی طرف متوجہ نہیں ہے کہ تم لوگ روزے رکھو، یہ خطاب بچے کی طرف اور کافر کی طرف متوجہ نہیں۔ ہاں اب کافر مسلمان ہو گیا یا بچہ بالغ ہو گیا اب خطاب ان کی طرف متوجہ ہے تو اگلے ایام کے روزے رکھیں گے لیکن ان ایام میں چونکہ خطاب ان کی طرف متوجہ نہیں تھا لہٰذا ان کی قضا بھی ان پر لازم نہیں۔ ”وَهَذَا بِخِلَافِ الصَّلَاةِ“ یہاں سے بتلا رہے ہیں یہ تو روزے کے مسئلے میں ضروری ہے کہ اولِ نہار سے اگر اہلیت ہے تو روزہ واجب ہوگا، اگر اولِ نہار سے اہلیت نہیں تو اس دن کا روزہ بھی واجب نہیں۔ لیکن نماز کے مسئلے میں ایسا نہیں ہے، نماز کے وقت کے بیچ میں بھی اگر کوئی شخص کوئی بچہ بالغ ہو جاتا ہے یا کوئی کافر مسلمان ہو جاتا ہے تو ان پر وہ نماز واجب ہو جائے گی بھئی اور اگر اس وقت کے اندر ادا نہ کی تو پھر ان کی پھر اس کی قضا ان کے ذمہ واجب ہو گی بھئی۔ اس لیے وجہ اس کی یہ فرق یہ روزے اور رمضان میں کہ روزے کے اندر وجوب کا سبب اولِ نہار ہے یعنی صبح صادق ہے، اس وقت اہلیت ہونی چاہیے، اگر اس وقت اہلیت نہیں تو روزہ بھی واجب نہیں۔ جبکہ نماز کے وجوب کا سبب جو ہے وہ اولِ وقت نہیں ہوتا بلکہ وہ لمحہ ہوتا ہے جو ادا کے ساتھ متصل ہوتا ہے، جو ادا کے ساتھ متصل ہوتا ہے۔ ظہر کی نماز ہے مثلاً ظہر کا وقت فرض کریں ساڑھے بارہ شروع ہوتا ہے تو ساڑھے بارہ کا اولِ وقت کیا ہے؟ اگر اسی میں وہ نماز ادا کرتا ہے تو جو پہلا جز اس کے ساتھ متصل تھا وہ کیا ہے وجوب کا سبب، اگر یہ مؤخر کرتا چلا گیا یہ ڈھائی بجے جا کر نماز ادا کرتا ہے تو یہ نہیں کہیں گے کہ وہ ساڑھے بارہ بجے والا جز وجوب کا سبب ہے بلکہ کیا کہیں گے وجوب کا سبب کون سا ہے؟ یہ جو ڈھائی بجے اس کی نماز کے عین متصل ساتھ لمحہ ملا ہوا تھا یہ ہے وجوب کا سبب۔ تو نماز میں وجوب کا سبب اولِ وقت نہیں ہوتا بلکہ وہ جز ہوتا ہے جو ادا کے ساتھ ملا ہوا ہو، تو وہ منتقل ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ آخر اخری جز اخری حصے تک بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَهَذَا بِخِلَافِ الصَّلَاةِ“ اور یہ نماز کے مسئلے کے خلاف ہے ”لِأَنَّ السَّبَبَ فِيهَا الْجُزْءُ الْمُتَّصِلُ بِالْأَدَاءِ“ اس لیے کیونکہ نماز کے اندر جو سبب ہوتا ہے وجوب کا وہ وہ جز ہوتا ہے جو ملا ہوا ہوتا ہے ”بِالْأَدَاءِ“ کس کے ساتھ؟ ادا کے ساتھ، ”فَوُجِدَتِ الْأَهْلِيَّةُ عِنْدَهُ“ تو اس کے وقت تو اہلیت پائی گئی، وہ جز جو ادا کے ساتھ متصل ہے اس وقت تو اہلیت پائی گئی۔ یہ بچہ بالغ ہوا ہے مثلاً ڈھائی بجے تو یہ بھی کون سی نماز کا وقت ہے؟ ظہر کی نماز کا وقت ہے تو وہ اس وقت اس میں اہلیت موجود ہے اس پر وجوب آئے گا۔ اسی طرح کافر مسلمان ہوتا ہے تو یہ بھی ظہر کی نماز کا وقت ہے لہٰذا اس پر ظہر کی نماز کا وجوب آئے گا۔ یہ معنی ہے ”فَوُجِدَتِ الْأَهْلِيَّةُ عِنْدَهُ“ تو اس وقت تو اہلیت پائی گئی بھئی، اہلیت آ چکی ہے ان کے اندر تو اب وجوب آئے گا۔ ”وَفِي الصَّوْمِ الْجُزْءُ الْأَوَّلُ“ اور روزے کے اندر وجوب کا سبب کیا ہوتا ہے؟ جز اول ہوتا ہے ”وَالْأَهْلِيَّةُ مُنْعَدِمَةٌ عِنْدَهُ“ اور اس وقت تو اہلیت معدوم تھی، جز اول کے اندر بچہ ابھی بالغ نہیں ہوا تھا اور وہ شخص ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا تو اہلیت معدوم تھی۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ إِذَا زَالَ الْكُفْرُ أَوِ الصِّبَا قَبْلَ الزَّوَالِ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ“۔ صبا کہتے ہیں بچپنے کو، بچپنے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے ایک روایت یہ ہے کہ جب کفر زائل ہو جائے یعنی ختم ہو جائے اور وہ شخص مسلمان ہو جائے ”أَوِ الصِّبَا“ یا بچپنا جب زائل ہو جائے ”قَبْلَ الزَّوَالِ“ زوال سے پہلے پہلے ہی ”فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ“ تو ان پر قضا ہے، اس بچے پر بھی قضا ہے اور اس یہ جو مسلمان ہوا ہے اس پر بھی قضا ہے۔ یہ کون فرما رہے ہیں؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ۔ جب یہ کب بالغ ہوا یا کب مسلمان ہوا؟ زوال سے پہلے، تو اس صورت میں ان پر قضا ہے ”لِأَنَّهُ أَدْرَكَ وَقْتَ النِّيَّةِ“ اس لیے کیونکہ اس نے نیت کے وقت کو پا لیا، یہ وقت زوال سے پہلے کیا کر سکتا تھا؟ نیت کر سکتا تھا تو لہٰذا اس لیے ان پر اس کا وجوب آئے گا۔ ”وَوَجْهُ الظَّاهِرِ“ ظاہرِ روایت کی وجہ یہ ہے، متن میں آیا تھا نا ”وَلَمْ يَقْضِيَا يَوْمَهُمَا“ کہ یہ دونوں قضا نہیں کریں گے اس دن کی تو یہ ظاہرِ روایت ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ جو آیا کہ قضا ان پر نہیں آئے گی اس کی وجہ یہ ہے ”أَنَّ الصَّوْمَ لَا يَتَجَزَّأُ وُجُوبًا“ کہ روزہ جو ہے وہ تقسیم نہیں ہوتا باعتبار وجوب کے۔ یعنی روزے میں تقسیم نہیں ہے، ایسا نہیں ہے کہ کچھ حصہ تو واجب قرار دیا جائے اور کچھ حصہ واجب قرار نہ دیا جائے، اگر اس طرح کیا جائے کچھ حصے کو واجب قرار دیا جائے اور کچھ حصے کو واجب قرار نہ دیا جائے یہ تو وجوب کی تقسیم آ گئی حالانکہ روزے کے اندر وجوب میں تقسیم نہیں بلکہ ایک ہی وجوب آتا ہے یا تو ائے گا سارے روزے کا وجوب یا سارے روزے کا وجوب سرے سے نہیں ائے گا، یہاں دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں یہاں تقسیم نہیں ہو سکتی، جب تقسیم نہیں ہو سکتی تو اول جز کے اندر جب اہلیت نہیں تھی تو روزے کا وجوب نہیں، جب اول جز میں وجوب نہیں تو باقی پھر کسی جز میں بھی وجوب نہیں ا سکتا کیونکہ وجوب کی یہاں تقسیم نہیں ہو سکتی۔ مسئلہ سمجھ میں ایا؟ تو کہتے ہیں ”وَوَجْهُ الظَّاهِرِ أَنَّ الصَّوْمَ لَا يَتَجَزَّأُ وُجُوبًا“ ظاہرِ روایت کی وجہ یہ ہے کہ روزہ جو ہے وہ تقسیم نہیں ہوتا باعتبار وجوب کے ”وَأَهْلِيَّةُ الْوُجُوبِ مُنْعَدِمَةٌ فِي أَوَّلِهِ“ اور وجوب کی اہلیت تو معدوم تھی اولِ اولِ صوم کے اندر یا اولِ یوم کے اندر، دن کے اول حصے میں وجوب کی اہلیت نہیں تھی تو جب اس وقت وجوب کی اہلیت نہیں تو بعد میں بھی وجوب نہیں آ سکتا ورنہ تو وجوب کی تقسیم لازم آئے گی حالانکہ وجوب کی تقسیم نہیں ہے کہ کچھ حصے میں وجوب ہو اور کچھ میں نہ ہو ایسا نہیں ہے۔ ”إِلَّا أَنَّ لِلصَّبِيِّ أَنْ يَنْوِيَ لِلتَّطَوُّعِ“۔ یہاں سے فرق بیان کر رہے ہیں بچے اور کافر کے حکم کے اندر۔ کہتے ہیں ہاں مگر یہ بات ہے ”أَنَّ لِلصَّبِيِّ أَنْ يَنْوِيَ لِلتَّطَوُّعِ فِي هَذِهِ الصُّورَةِ“ کہ بچے کے لیے اس صورت میں جائز ہے کہ وہ نفل کی نیت کر لے ”فِي هَذِهِ الصُّورَةِ“ اس صورت میں ”دُونَ الْكَافِرِ“ کافر نفل کی بھی نیت نہیں کر سکتا۔ تو کہتے ہیں بچہ اس صورت میں نفل کی نیت اس کے لیے جائز ہے ”دُونَ الْكَافِرِ“ نہ کہ کافر کے لیے ”عَلَى مَا قَالُوا“ بوجہ اس کے جو فقہاء نے فرمایا ہے ”لِأَنَّ الْكَافِرَ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ التَّطَوُّعِ أَيْضًا وَالصَّبِيُّ أَهْلٌ لَهُ“ اس لیے کیونکہ کافر جو ہے وہ اہل تطوع میں سے بھی نہیں ہے جبکہ بچہ اس کا اہل ہے، یعنی کافر میں تو نفل کی بھی صلاحیت اور اہلیت نہیں ہے کیونکہ اولِ یوم کے اندر وہ کافر تھا تو کافر کے اندر تو نفل کی بھی اہلیت نہیں ہے کیونکہ نفل وہ بھی کیا ہے؟ عبادت ہے اور کافر کے اندر تو عبادت کی اہلیت ہاں بچہ اب بالغ ہو گیا ہے، اولِ نہار میں وہ نابالغ تھا لیکن نابالغ بھی نفل عبادت کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا؟ نابالغ تو نفل عبادت کر سکتا ہے، لہٰذا اس میں اولِ نہار کے اندر بھی اہلیتِ نفل تھی، جب اہلیتِ نفل تھی اور اس نے کچھ کھایا پیا نہیں ابھی تک تو وہ نفلی روزے کی بھی نیت کر سکتا ہے۔ ”وَإِذَا نَوَى الْمُسَافِرُ الْإِفْطَارَ ثُمَّ قَدِمَ الْمِصْرَ قَبْلَ الزَّوَالِ فَنَوَى الصَّوْمَ أَجْزَأَهُ لِأَنَّ السَّفَرَ لَا يُنَافِي أَهْلِيَّةَ الْوُجُوبِ وَلَا صِحَّةَ الشُُّرُوعِ“۔ بھئی یاد رکھیے کہ عذر جو ہیں نا عذر، وہ چار قسم کے ہیں عذر بھئی، چار قسم کے۔ ایک تو عذر وہ ہے بھئی یہ آپ کے حاشیے میں دیا ہوا ہے اگلے صفحے پر ہے، لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تو یاد رکھیے یہ جو عذر ہیں یہ چار قسم کے ہیں بھئی۔ ایک تو وہ عذر ہے جس میں امتداد نہیں ہوتا، وہ عذر لمبا نہیں ہے یعنی ایک دن رات عموماً نہیں پایا جاتا بلکہ کم ہی پایا جاتا ہے جیسے نیند ہے، نیند سونا بھئی۔ تو یہ نیند یہ یاد رکھیے یہ چونکہ اس میں امتداد ہے ہی نہیں، یہ لمبی ہوتی نہیں ہے تو لہٰذا یہ عبادات میں سے کوئی چیز اس کی وجہ سے ساقط نہیں ہوگی کیونکہ اس میں زیادہ امتداد نہیں ہے، امتداد زیادہ نہیں ہے تو اس کو عذر نہیں قرار دیا جائے گا اور عبادات میں سے کوئی چیز ساقط نہیں ہوگی، سمجھ میں ایا؟ عبادات میں سے کوئی چیز ساقط نہیں ہوگی کیونکہ اس کی وجہ سے کوئی حرج لازم نہیں آتا۔ اور بعض عذر وہ ہیں جو خلقۃً جن میں جو لمبے ہیں یعنی ان میں طول پایا جاتا ہے جیسے بچپنا ہے جیسے بچپنا ہے، تو وہ جو ہے وہ ہر عبادت کو ساقط کر دیتا ہے دفعاً للحرج، حرج کو دور کرنے کے لیے۔ اب جیسے بچپنا یہ تو ایک لمبا عرصہ ہوتا ہے تو اگر اس کے اندر بچے پر عبادات کو واجب کیا جائے تو وہ تو مشکل میں پڑ جائے گا بھئی۔ تو لہٰذا اس کو عذر قرار دیا گیا کیونکہ اس کے اندر امتداد ہے اور علت وہی ہے، کیوں اس کو عذر قرار دیا گیا؟ دفعِ حرج کے لیے بھئی، دفعِ حرج کے لیے۔ اور ایک عذر ہے اغماء، اغماء یعنی بے ہوشی۔ تو اغماء اس کے اندر یہ اگر اس میں اگر امتداد ہو یعنی بے ہوشی کچھ لمبی ہو تو پھر نمازوں کے اندر تو اس کو عذر قرار دیا جائے گا۔ نمازوں کے مسئلے میں عذر قرار دیا جائے گا جبکہ یہ کتنی ایک دن اور ایک رات سے زائد بے ہوشی طاری رہے تو ان نمازوں کی قضا بھی نہیں اس بے ہوش ادمی کے ذمہ۔ ہاں البتہ روزے کے اندر اس کو عذر قرار نہیں دیا جائے گا بھئی، روزے کے اندر اس کو عذر قرار نہیں دیا جائے گا۔ اور ایک وہ عذر ہے جس میں کبھی طول ہوتا ہے کبھی لمبا کبھی امتداد ہوگا اور کبھی امتداد نہیں ہوگا جیسے جنون ہے، پاگل پن بھئی۔ پاگل پن اگر یہ اس کے اندر امتداد ہو یعنی یہ لمبا ہو تو پھر اس صورت میں اس کو بچپنے کے ساتھ لاحق کیا جائے گا اور یہ وجوب کو ساقط کر دے گا اور اگر اس کے اندر امتداد نہ ہو یعنی طول نہ ہو تو پھر اس کو اغماء یعنی بے ہوشی کے ساتھ ملایا جائے گا اور بے ہوشی تو روزے کو ساقط نہیں کرتی لہٰذا یہ جنون جس میں امتداد نہیں یہ بھی روزے کو ساقط نہیں کرے گا۔ بات سمجھ میں اگئی؟ تو عذر کتنی قسم کے ہوئے؟ چار قسم کے۔ ایک وہ جس کے اندر امتداد ہوتا ہی نہیں ہے جیسے نیند ہے تو لہٰذا اس کو عذر قرار نہیں دیا جائے گا، اس کی وجہ سے کوئی عبادت ساقط نہیں ہوگی اور ایک عذر وہ ہے جس کے اندر امتداد ہوتا ہے جیسے بچپنا ہے، اس کو عذر قرار دیا جائے گا نماز کے مسئلے میں بھی اور عبادت وغیرہ کے مسئلے میں بھی دفعاً للحرج، حرج کو دور کرنے کے لیے اور ایک بے ہوشی ہے اس کے اندر بھی عموماً امتداد ہوتا نہیں، جب امتداد اس کے اندر نہیں ہوتا تو لہٰذا وہ روزے کے اندر روزے کے اندر وہ اس کی قضا کو ساقط نہیں کرے گی، ہاں البتہ اگر اتنا امتداد ا جائے اس کے اندر کہ ایک دن رات سے وہ بے ہوشی بڑھ جائے تو پھر نمازوں کو کیا کر دے گی؟ ساقط کر دے گی، جبکہ جنون جو ہے جنون اس میں ہاں اس میں کبھی امتداد ہوتا ہے اور کبھی امتداد نہیں ہوتا، تو اگر اس کے اندر امتداد نہیں تو اس کو بے ہوشی کے ساتھ ملایا جائے گا اور بے ہوشی کی وجہ سے تو روزہ ساقط نہیں ہوتا لہٰذا جنون کی وجہ سے بھی روزہ ساقط نہیں ہو اور اگر اس کے اندر امتداد ا جائے تو پھر اس کو بچپنے کے ساتھ ملایا جائے گا اور اس صورت میں یہ روزوں کی قضا کو ساقط کر دے گا۔ بات سمجھ میں اگئی؟ اب دیکھیے اگے اسی پر اسی کے مطابق کئی مسائل ا رہے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں ”وَإِذَا نَوَى الْمُسَافِرُ الْإِفْطَارَ ثُمَّ قَدِمَ الْمِصْرَ قَبْلَ الزَّوَالِ فَنَوَى الصَّوْمَ أَجْزَأَهُ“ اور جب نیت کر لی مسافر نے افطار کی، ایک شخص ہے سفر میں ہے اور اس نے افطار کی نیت کر لی کہ کل میں روزہ نہیں رکھوں گا، روزہ نہیں رکھوں گا، ”ثُمَّ قَدِمَ الْمِصْرَ“ پھر وہ شہر پہنچ گیا ”قَبْلَ الزَّوَالِ“ زوال سے پہلے زوال سے پہلے ہی ”فَنَوَى الصَّوْمَ“ تو پھر اس نے روزے کی نیت کر لی تو کیا اس کا یہ روزہ ہوگا یا نہیں؟ کہتے ہیں ”أَجْزَأَهُ“ یہ اس کے روزے کے لیے کافی ہو جائے گا یعنی اس کا روزہ ہو جائے گا بھئی۔ یہ غیر رمضان کی بات ہو رہی ہے کیونکہ رمضان کا مسئلہ اسی مسافر میں رمضان کے اندر کیا حکم ہے وہ اگے بیان ہو رہا ہے۔ ایک شخص ہے سفر میں اس نے نیت نہیں کی ہے روزے کی اور کہاں اب پہنچ گیا زوال سے پہلے ہی شہر پہنچ گیا، مقیم ہو گیا مقیم ہو گیا، تو کیا یہ روزہ باقی دن میں نیت کرکے روزہ رکھ سکتا ہے یا نہیں رکھ سکتا؟ کہتے ہیں بھئی زوال سے پہلے نیت جائز ہے، جب نیت جائز ہے تو یہ بھی کیا کر سکتا ہے؟ نیت کرکے روزہ رکھ سکتا ہے۔ اس لیے کہ ٹھیک ہے سفر اول حصے میں سفر تھا سفر، لیکن سفر اہلیت کو نہیں ختم کرتا، سفر میں رخصت تو ا جاتی ہے البتہ اہلیت باقی ہے اسی طرح بھئی، اسی وجہ سے مسافر پر وجوب بھی اتا ہے۔ چنانچہ اگر وہ سفر میں رخصت پر عمل کرتا ہے تو بعد میں قضا کرنا پڑے گی یا نہیں کرنا پڑے گی؟ قضا کرنا پڑے گی، معلوم ہوا اس میں وجوب کی اہلیت بھی ہے اور وہ روزے کو رکھ بھی سکتا ہے شروع بھی کر سکتا ہے، تو معلوم ہوا سفر سفر ایسا عذر ہے جو وجوب کی اہلیت کے جو وجوب کے بھی منافی نہیں اور شروع کرنے کے بھی منافی نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَإِذَا نَوَى الْمُسَافِرُ الْإِفْطَارَ ثُمَّ قَدِمَ الْمِصْرَ قَبْلَ الزَّوَالِ فَنَوَى الصَّوْمَ أَجْزَأَهُ“ اور جب نیت کی مسافر نے افطار کی یعنی یہ نیت کی کہ میں روزہ نہیں رکھوں گا ”ثُمَّ قَدِمَ الْمِصْرَ“ پھر وہ شہر پہنچ گیا ”قَبْلَ الزَّوَالِ“ زوال سے پہلے ہی ”فَنَوَى الصَّوْمَ أَجْزَأَهُ“ تو پھر اس نے روزے کی نیت کر لی ”أَجْزَأَهُ“ تو یہ اس کے لیے کافی ہے ”لِأَنَّ السَّفَرَ لَا يُنَافِي أَهْلِيَّةَ الْوُجُوبِ“ اس لیے کیونکہ سفر جو ہے اہلیتِ وجوب کے منافی نہیں ہے، اہلیتِ وجوب کے منافی نہیں ہے اس میں وجوب بھی اتا ہے اور اسی طرح ”وَلَا صِحَّةَ الشُُّرُوعِ“ اور صحتِ شروع کے بھی منافی نہیں سفر۔ روزہ شروع کرنا سفر میں شروع کیا جا سکتا ہے یا نہیں کیا جا سکتا؟ تو شروع کے صحیح ہونے کے منافی بھی نہیں ہے سفر، تو لہٰذا وہ رکھ سکتا ہے۔ دلیل سمجھ میں ارہی ہے؟ اول حصے میں کیا تھا؟ سفر تھا، بعد میں مقیم بنا ہے تو روزہ رکھنا چاہتا ہے تو سفر تھا شروع میں اول حصے میں لیکن سفر تو کوئی وجوب کی اہلیت کے منافی نہیں اس پر روزہ واجب ہو سکتا ہے اور نیز اول حصے میں مسافر تھا یعنی سفر کا عذر تھا لیکن سفر کا عذر پایا جائے پھر بھی اس روزے کو شروع کرنے کے منافی نہیں ہے روزہ رکھا جا سکتا ہے، تو لہٰذا اس جب اول نہار میں اس میں اہلیت وغیرہ سب کچھ موجود تھی تو اب یہ روزہ اس کا درست ہو جائے گا۔ سمجھ میں ایا بھئی؟ ”وَإِنْ كَانَ فِي رَمَضَانَ“ اور اگر یہ مسافر رمضان میں تھا جس نے کس کی نیت کی ہے؟ افطار کی نیت کی، اگر یہ رمضان میں تھا ”فَعَلَيْهِ أَنْ يَصُومَ لِزَوَالِ الْمُرَخِّصِ“ تو اس پر واجب ہے کہ وہ روزہ رکھے ”لِزَوَالِ الْمُرَخِّصِ“ اس لیے کیونکہ وہ مرخص زائل ہو گیا، مرخص رخصت دینے والی چیز یعنی وہ عذر اور وہ کیا تھا؟ سفر۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص رمضان کے اندر اولِ نہار میں مسافر تھا اور اس نے رات سے یہ نیت کی تھی کہ میں روزہ نہیں رکھوں گا لیکن زوال سے پہلے پہلے وہ شہر پہنچ گیا، شہر پہنچ گیا۔ تو کہتے ہیں کیا اب یہ روزہ رکھ سکتا ہے یا روزہ نہیں رکھ سکتا جبکہ ابھی اس نے کچھ کھایا پیا نہیں ہے؟ تو اپ کو بتلائیں گے کہ اس پر روزہ رکھنا واجب ہے، اس شخص پر روزہ رکھنا واجب ہے، اس لیے کیونکہ اولِ نہار میں بے شک عذر موجود تھا لیکن زوال سے پہلے پہلے وہ عذر ختم ہو گیا اور زوال سے پہلے کیا کیا جا سکتا ہے؟ روزے کی نیت کی جا سکتی ہے تو لہٰذا اس پر روزہ رکھنا اب واجب ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَإِنْ كَانَ فِي رَمَضَانَ فَعَلَيْهِ أَنْ يَصُومَ“ اور اگر وہ شخص جو تھا وہ رمضان میں تھا ”فَعَلَيْهِ أَنْ يَصُومَ“ تو اس پر واجب ہے روزہ رکھنا ”لِزَوَالِ الْمُرَخِّصِ“ اس لیے کیونکہ وہ مرخص یعنی وہ رخصت دینے والی چیز یعنی جو اس کا عذر تھا سفر کا وہ زائل ہو گیا ختم ہو گیا ”فِي وَقْتِ النِّيَّةِ“ کس وقت میں؟ نیت کے وقت میں۔ ”أَلَا تَرَى أَنَّهُ لَوْ كَانَ مُقِيمًا فِي أَوَّلِ الْيَوْمِ“ صاحبِ ہدایہ یہاں سے بتلا رہے ہیں کہ متن میں کیا ایا؟ اول حصے میں مسافر تھا اور پھر کیا بن گیا؟ مقیم بن گیا، تو اس پر روزہ رکھنا واجب ہے۔ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کیا اپ دیکھتے نہیں اگر معاملہ اس کے برعکس ہوتا، اولِ نہار میں ایک شخص مقیم ہوتا اور پھر بعد میں نکلتا وہ سفر پر، دن کے اندر پھر وہ سفر پر نکلتا تو اس شخص کے لیے اس شخص کے لیے فطر مباح نہیں، اس پر کیا واجب ہے جو اول حصے میں مقیم تھا؟ اس پر روزہ واجب ہے، روزہ واجب ہے تو اب کہتے ہیں دیکھیے اب دو صورتیں بن گئیں۔ ایک صورت وہ ہے کہ پہلے مسافر تھا کیا بن گیا؟ مقیم بن گیا اور ایک صورت یہ ہے اول مقیم تھا پھر کیا بن گیا؟ مسافر۔ تو جو اول مقیم تھا بعد میں مسافر بن گیا اس کے حق میں مرخص موجود ہے اس وقت جب یہ سفر پر نکل گیا، جب سفر پر چل پڑا تو مرخص اگیا یعنی رخصت دینے والی چیز اگئی یا نہیں؟ اگئی، لیکن اس کے باوجود مرخص اس وقت موجود ہے لیکن اس کو افطار کی اجازت نہیں، جب اس کے وہ شخص جس کے لیے مرخص موجود ہے اس کو افطار کی اجازت نہیں ہے تو وہ پچھلے مسئلے کے اندر جس کا مرخص ہی ختم ہو چکا ہے کیونکہ کیا بن گیا؟ مقیم بن گیا، اس میں تو بطریقِ اولیٰ اس کو افطار کی اجازت نہیں ہوگی۔ یہ معنی ہے ”أَلَا تَرَى أَنَّهُ لَوْ كَانَ مُقِيمًا فِي أَوَّلِ الْيَوْمِ ثُمَّ سَافَرَ لَا يُبَاحُ لَهُ الْفِطْرُ تَرْجِيحًا لِجَانِبِ الْإِقَامَةِ“ کیا اپ دیکھتے نہیں اگر یہ شخص مقیم ہوتا دن کے پہلے حصے میں ”ثُمَّ سَافَرَ“ پھر سفر کرتا ”لَا يُبَاحُ لَهُ الْفِطْرُ“ تو اس کے لیے فطر جائز نہ ہوتا ”تَرْجِيحًا لِجَانِبِ الْإِقَامَةِ“ اقامت کی جانب کو ترجیح دیتے ہوئے، جب اس کے لیے فطر مباح نہیں ہے ”فَهَذَا أَوْلَى“ تو اس کے اندر یہ جو متن میں پہلی صورت ائی اس میں بطریقِ اولیٰ اجازت نہیں۔ دلیل بھی سمجھ میں ائی کہ نہیں ائی؟ متن میں جو صورت ائی اس میں تو مرخص کیا ہو چکا؟ ختم ہو چکا اور دوسری صورت میں جب مرخص موجود ہے اس کو فطر کی اجازت نہیں ہے تو جس کے حق میں مرخص ختم ہو چکا ہے اس کو بطریقِ اولیٰ فطر کی اجازت نہیں ہوگی۔ تو جیسے یہ شخص جو اول حصے میں مقیم تھا اور بعد میں کیا بن گیا ہے؟ مسافر، اس کے لیے جب افطار کی اجازت نہیں ہے حالانکہ اس وقت مرخص موجود ہے، اخری حالت کون سی ہے اس کی؟ سفر کی ہے تو اس وقت مرخص موجود ہے، اس وقت جب اس کے لیے افطار کی اجازت نہیں تو جو پچھلے مسئلے کے اندر جو تھا اس کے اندر اخری حالت کون سی تھی؟ اقامت والی، وہاں تو مرخص ہی ختم ہو چکا تھا تو وہاں بطریقِ اولیٰ اس کو افطار کی اجازت نہیں ہوگی۔ مسئلہ سمجھ میں اگیا؟ ”إِلَّا أَنَّهُ إِذَا أَفْطَرَ فِي الْمَسْأَلَتَيْنِ لَا تَلْزَمُهُ الْكَفَّارَةُ لِقِيَامِ شُبْهَةِ الْمُبِيحِ“ مگر یہ بات ہے کہ اگر افطار کر لیا ان دونوں مسئلوں کے اندر اس شخص نے، روزہ نہیں رکھا دونوں صورتوں میں، اولِ نہار میں مسافر تھا بعد میں کیا بنا؟ مقیم، یا اولِ نہار میں مقیم تھا بعد میں کیا بنا؟ مسافر، دونوں صورتوں میں اس کے لیے اجازت نہیں افطار کی لیکن اگر وہ افطار اس نے کر لیا ”لَا تَلْزَمُهُ الْكَفَّارَةُ“ تو اس پر کفارہ لازم نہیں ہوگا، قضا تو ائے گی لیکن کفارہ لازم نہیں ”لِقِيَامِ شُبْهَةِ الْمُبِيحِ“ اس لیے کیونکہ مبیح کا شبہ پایا گیا وہ موجود ہے یعنی وہ چیز مبیح، اباحت مباح کرنے والی یعنی جو افطار کو مباح کرنے والی چیز ہے وہ اس کا شبہ پایا گیا یعنی وہ سفر، وہ کیا چیز ہے؟ افطار کو مباح کرنے والی چیز کیا ہے اس ادمی کے لیے؟ سفر ہے تو یہ اس پر کفارہ نہیں ائے گا اس لیے کیونکہ وہ مبیح موجود ہے چاہے پہلی صورت میں اولِ نہار میں مبیح موجود ہے اور دوسری صورت میں اخرِ نہار میں مبیح موجود ہے، جب مبیح موجود ہے تو اس کے اس شخص پر کفارہ انے میں شبہ اگیا کیونکہ اس کا تو عذر موجود ہے چاہے دن کے کسی بھی حصے میں ہو اور یہ کفارہ جو ہے یہ شبہے کی وجہ سے ساقط ہو جایا کرتا ہے۔ یہ معنی ہے ”لَا تَلْزَمُهُ الْكَفَّارَةُ لِقِيَامِ شُبْهَةِ الْمُبِيحِ“ اس پر کفارہ لازم نہیں ایک مبیح چیز کا ایک مباح کر دینے والی چیز کا شبہ قائم ہونے کی وجہ سے۔ بات سمجھ میں اگئی؟ چلیے بس بھئی ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔